رُوت ۳

۴۔ روت کا چھڑانے والا رشتے دار (‏باب ۳)‏

۳:‏۱۔۵ نعومی فکر مند تھی کہ روت کو تحفظ ملے‏، یعنی اُسے شوہر اور گھر ملے۔ چنانچہ وہ خود شادی اور جائیداد کے دعوے سے دست بردار ہو گئی اور روت کو مشورہ دیا کہ روت کے وقت کھلیان میں جائے جہاں بوعز جَو پھٹکے گا۔

’’روت ایک پردیسی کی حیثیت سے اِسرائیلی روایات سے واقف نہیں تھی‏، اِس لئے اُسے تفصیلاً بتانے کی ضرورت تھی کہ وہ تحفظ اور شادی کے لئے اپنے قرابتی سے کیسے اپیل کرے۔‘‘ (‏Scripture Union Daily Notes)‏

۳:‏۶‏،۷ جب بوعز کام ختم کر کے‏، کھانا کھانے کے بعد لیٹ گیا‏، تو رُوت اُس کے کمبل کے نیچے اُس کے پاؤں کے پاس لیٹ گئی۔ گو یہ ہمارے معاشرے کے مطابق درست معلوم نہ ہو‏، تاہم یہ اُس دَور میں ایک مُسلَّمہ روایت تھی (‏دیکھیں حزقی ایل ۱۶:‏۸)‏۔ تاہم اِس میں ایسی کوئی بُرائی یا معانی خیز بات نہ تھی۔

۳:‏۸۔۱۱ آدھی رات کے وقت جب بوعز جاگا تو اُس نے دیکھا کہ روت اُس کے پاؤں کے پاس لیٹی ہے۔ جب اُس نے اُس سے کہا کہ وہ چھڑانے والے قرابتی کا حق ادا کرے تو اُس نے اُسے بالکل نہیں جھِڑکا بلکہ اُسے برکت دی۔ جس لفظ کا ترجمہ ۲:‏۱۲ میں ’’پَر‘‘ کیا گیا ہے‏، اِسی کا ترجمہ یہاں ’’دامن‘‘ کیا گیا ہے۔ بوعز نے رُوت کی تعریف کی تھی کہ اُس نے یہوواہ کے پَروں کے نیچے پناہ لی ہے‏، اِس لئے وہ یہوواہ کی شریعت کے مطابق اُسے پناہ دینے سے کیونکر اِنکار کر سکتا تھا! علاوہ ازیں وہ پاک دامن عورت تھی جس کی قیمت مرجان سے بھی بڑھ کر ہے (‏اَمثال ۳۱:‏۱۰)‏۔ اُس نے اُس کی وفاداری کی تعریف کی اور کہا کہ آخر میں اُس کی مہربانی (‏اُس کی ذات سے شخصی محبت اور عقیدت)‏ اُس کی پہلی مہربانی (‏اپنے گھر اور خاندان کو چھوڑ کر نعومی کے ساتھ چلے آنا)‏ سے زیادہ ہے۔ 

موسوی شریعت کے مطابق جب کوئی شخص بے اولاد مر جاتا تو قریبی رشتہ دار بیوہ سے شادی کرتا (‏اِستثنا ۲۵:‏ ۵۔۱۰)‏‏، تاکہ خاندان کے نام کو زندہ رکھے اور جائیداد کو بھی خاندان میں رکھے۔ خاص طور پر یہ اُس وقت ضروری تھا جب کوئی شخص اولادِ نرینہ کے بغیر مَر جاتا‏، تو لازم تھا کہ کوئی دوسرا بیوہ سے شادی کرے‏، تاکہ بیٹا پیدا ہو اور مرحوم کا نام زندہ رہے۔ 

روت بے اولاد تھی۔ چونکہ بوعز‏، الی مَلِک کا رشتے دار تھا اِس لئے وہ اُس سے شادی کر کے چھڑانے والے رِشتے دار کا حق رکھتا تھا۔ وہ نہ صرف اِس کا حق دار تھا‏، بلکہ وہ اِس کے لئے رضا مند بھی تھا۔ 

۳:‏۱۲‏،۱۳ لیکن ابھی ایک قانونی پیچیدگی تھی۔ ایک اَور رشتے دار اُس کی نسبت زیادہ قریبی تھا۔ اُس شخص کا پہلا حق تھا۔ اگر یہ زیادہ قریبی رشتے دار چھڑانے والے کا حق ادا نہ کرے تو پھر بوعز ایسا کرنے کو تیار تھا۔ یہ معاملہ صبح کو طے پانا تھا۔ 

۳:‏۱۴۔۱۸ پَو پھٹنے تک روت بوعز کے پاؤں کے پاس لیٹی رہی۔ صبح کو اُٹھ کر بوعز نے رُوت کی چادر میں چھے پیمانے جَو ڈال دیئے (‏تقریباً ۴۰ کلوگرام)‏۔ اِس سے روت کو اُس کی گہری محبت کی یقین دہانی ہوئی اور نعومی کے لئے یہ ثبوت تھا کہ بوعز بہت جلد معاملہ طے کرے گا۔ 

روت ایک شریف خاتون تھی۔ وہ بوعز کی مہربانی اور محبت کی مستحق تھی‏، لیکن ہم تو گنہگار تھے اور کسی طرح کی مہربانی کے مستحق نہ تھے تاہم خداوند نے جیسے ہم تھے‏، ہمیں اپنے پروں کے نیچے لے لیا۔ اُس نے ہمیں انعام دیئے ہیں اور شادی کی تکمیل کے لئے دوبارہ واپس آنے کا وعدہ دے کر ہماری حوصلہ افزائی کی ہے۔ ہماری نجات کا معاملہ طے پا چکا ہے اور یہ کام مکمل ہو چکا ہے۔ لیکن ہم دُولھا کی واپسی پر اُس سے یگانگت کی کامل خوشی میں داخل ہونے کے منتظر ہیں۔ 

جو کچھ وقوع پذیر ہوا تھا جب نعومی نے اِس کے بارے میں سنا تو اُس نے روت سے کہا کہ وہ چپ چاپ بیٹھی رہے اور ان پیچیدہ معاملات کے نتیجے کا اِنتظار کرے۔

اکثر ایمان کا یہ مشکل ترین حصہ ہوتا ہے۔ جب کہ کسی مزید عمل کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صبر سے اِنتظار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ خداوند اپنی مرضی کو ظاہر کرے۔ اِن لمحات میں شکوک پیدا ہوتے ہیں اور پریشانیاں جنم لیتی ہیں۔

مقدس کتاب

۱ پھر اسکی ساس نعومی نے اس سے کہا میری بیٹی کیا میں تیرے آرام کی طالب نہ بنوں جس سے تیری بھلائی ہو ؟ ۔
۲ اور کیا بوعز ہمارا رشتہ دار نہیں جسکی چھوکریوں کے ساتھ تو تھی ؟ دیکھ وہ آج کی رات کھلیہان میں جو پھٹکیگا ۔
۳ سو تو نہا دھو کر خوشبو لگا اور اپنی پوشاک پہن اور کھلیہان کو جا اور جب تک وہ مرد کھا پی نہ چکے تب تک تو اپنی تئیں اس پر ظاہر نہ کرنا۔
۴ جب وہ لیٹ جائے تو اسکے لیٹنے کی جگہ کو دیکھ لینا تب تو اندر جا کر اسکے پاؤں کھول کر لیٹ جانا اور جو کچھ تجھ کو کرنا مناسب ہے وہ تجھ کو بتائیگا۔
۵ اس نے اپنی ساس سے کہا جو کچھ تو مجھ سے کہتی ہے میں کرونگی ۔
۶ سو وہ کھلیہان کو گئی اور جو کچھ اسکی ساس نے حکم دیا تھا وہ سب کیا۔
۸ اور جب بوعز کھا پی چکا اور اسکا دل خوش ہوا تو وہ غلے کے ڈھیر کے ایک طرف جا کر لیٹ گیا۔ تب وہ چپکے چپکے آئی اور اسکے پاؤں کھولکر لیٹ گئی ۔
۷ اور آدھی رات کو ایسا ہوا کہ وہ مرد ڈر گیا اور اس نے کروٹ لی اور دیکھا کہ ایک عورت اسکے پاؤں کے پاس پڑی ہے۔
۹ تب اس نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں تیری لونڈی روت ہوں ۔ سو تو اپنی لونڈی پر اپنا دامن پھیلا دے کیونکہ تو نزدیک کا قرابتی ہے۔
۱۰ اس نے کہا تو خداوند کی طرف سے مبارک ہو اے میری بیٹی تو نے شروع کی نسبت آخر میں زیادہ مہربانی کر دکھائی اس لیے کہ تو نے جوانوں کا خواہ امیر ہوں یا غریب پیچھا نہ کیا۔
۱۱ اب اے میری بیٹی مت ڈر ۔ میں سب کچھ جو تو کہتی ہے تجھ سے کرونگا کیونکہ میری قوم کا تمام شہر جانتا ہے کہ تو پاک دامن عورت ہے۔
۱۲ اور یہ سچ ہے کہ میں نزدیک کا قرابتی ہوں لیکن ایک اور بھی ہے جو قرابت میں مجھ سے زیادہ نزدیک ہے ۔
۱۳ اس رات تو ٹھہری رہ اور صبح کو اگر وہ قرابت کا حق ادا کرنا چاہے تو خیر وہ قرابت کا حق ادا کرے اور اگر وہ تیرے ساتھ قرابت کا حق ادا کرنا نہ چاہے تو زندہ خدا کی قسم میں تیرے ساتھ قرابت کا حق ادا کرونگا ۔ صبح تک تو تو لیٹی رہ۔
۱۴ سو وہ صبح تک اسکے پاؤں کے پاس لیٹی رہی اور پیشتر اس سے کہ کوئی ایک دوسرے کو پہچان سکے اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ اس نے کہہ دیا تھا کہ یہ ظاہر نہ ہونے پائے کہ کھلیہان میں یہ عورت آئی تھی۔
۱۵ پھر اس نے کہا اس چادر کو جو تیرے اوپر ہے لا اور تھامے رہ ۔ جب اس نے تھاما تو اس نے جو کے چھ پیمانہ ناپ کر اس پر لاد دئیے پھر وہ شہر کو چلا گیا۔
۱۶ جب وہ اپنی ساس کے پاس آئی تو اس نے کہا اے میری بیٹی تو کون ہے ؟ تب اس نے سب کچھ جو اس مرد نے اس کے ساتھ کیا تھا اسے بتایا ۔
۱۸ اور کہنے لگی کہ مجھ کو اس نے یہ چھ پیمانہ جو کے دئیے کیونکہ اس نے کہا کہ تو اپنی ساس کے پاس خالی ہاتھ نہ جا۔
۱۷ تب اس نے کہا اے میری بیٹی جب تک اس بات کے انجام کا تجھے پتا نہ لگے تو چپ چاپ بیٹھی رہ اس لیے کہ اس شخص کو چین نہ ملے گا جب تک وہ اس کام کو آج ہی تمام نہ کر لے۔