نحمیاہ ۱۳

۲۔ نحمیاہ کا دوسری بار یروشلیم میں آنا اور یروشلیم کی اِصلاح (‏باب ۱۳)‏

الف۔ طوبیاہ کو ہیکل سے باہر نکالنا (‏۱۳:‏ ۱۔۹)‏

۱۳:‏ ۱۔۳ یروشلیم میں بارہ سال تک خدمت کرنے کے بعد نحمیاہ ۴۳۳ ق م میں بابل کو غیر معینہ مدت کے لئے واپس چلا گیا۔ یروشلیم جانے کے لئے اُس نے پھر اِجازت حاصل کی۔ اِس بار آنے کا اُس کا یہ مقصد تھا کہ بُرائیوں کی درستی کرے (‏آیت ۱)‏۔ ممکن ہے کہ ’’اُس دن‘‘ کا گذشتہ باب سے تعلق ہو یا اُس کا نحمیاہ کی غیر حاضری میں کسی اَور دن سے تعلق ہو (‏آیت ۶)‏۔ بہر کیف خدا کے کلام کی تلاوت کی گئی اور کلام کا وہ حصہ بھی پڑھا گیا جس کے مطابق موآبیوں اور عمونیوں کو جماعت میں شامل ہونے کی اِجازت نہیں ہے۔ اِن کنعانیوں نے نہ صرف خدا کے لوگوں کو روٹی اور پانی دینے سے اِنکار کیا تھا بلکہ بلعام کو اُجرت پر بلایا تھا کہ وہ اُن پر لعنت کرے۔ لیکن خدا نے لعنت کو برکت میں تبدیل کر دیا۔ وہ کس قدر عظیم خدا ہے! لوگوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اِسرائیل سے ملی جلی بھیڑ کو علیٰحدہ کر دیا۔ 

۱۳:‏ ۴‏، ۵ غیر قوموں کو جماعت سے خارج کرنے سے اُنہوں نے اُس کام کو مکمل کیا جس کا اُنہوں نے ۹:‏۲ میں آغاز کیا تھا۔ الیاسب کاہن نے شریر طوبیاہ کے لئے خدا کے گھر میں ایک کوٹھڑی مخصوص کر رکھی تھی جو خدا کے گھر میں پہلے سٹور کے طور پر استعمال ہوتی تھی جسے لاویوں اور کاہنوں کے لئے دہ یکیوں سے بھرا ہونا چاہئے تھا۔ 

۱۳:‏ ۶۔۹ جب نحمیاہ واپس آیا تو وہ فوراً حالات کو بہتر بنانے لگا۔ اُس کی عدم موجودگی میں دیگر مسائل بھی پیدا ہو گئے۔ نحمیاہ نے برہم ہو کر فوراً اِن برائیوں کو ختم کرنے کی مہم شروع کی۔ 

ب۔ لاویوں کے لئے دہ یکی کی بحالی (‏۱۳:‏ ۱۰۔۱۴)‏

نحمیاہ نے اُن عہدے داروں کو بُرا بھلا کہا جنہوں نے لاویوں کو نظر انداز کرنے سے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ وہ لاوی جو اپنی گزر اوقات کے لئے کھیتوں میں کام کرنے کے لئے مجبور ہو گئے تھے‏، اُنہیں پھر سے اکٹھا کیا گیا اور دیانت دار لوگوں کو مقرر کیا گیا کہ وہ اُن میں دہ یکیوں کو تقسیم کریں۔ اِس نیک کام کے لئے نحمیاہ نے اپنے خدا سے التجا کی کہ وہ اُسے یاد رکھے (‏آیت ۱۴)‏۔

ج۔ سبت کے دن غیر شرعی سرگرمیوں کا خاتمہ (‏۱۳:‏ ۱۵۔۲۲)‏

نحمیاہ نے اُمرا کو ملامت کی جنہوں نے لوگوں کو سبت کے دن کام کرنے کی اِجازت دے رکھی تھی۔ اگر ضرورت پڑے تو زبردستی سبت کا احترام کرایا جائے۔ لوگوں کو پھاٹکوں پر نگرانی کے لئے مقرر کیا گیا‏، اور لالچی تاجر جو شہر کے باہر ٹِک جاتے تھے‏، اُنہیں تشدد کے خوف سے بھگا دیا گیا۔ غیر شرعی سرگرمیاں فوری طور پر ختم ہو گئیں۔ اِس کے لئے بھی نحمیاہ نے التجا کی کہ خداوند اُسے یاد رکھے (‏آیت ۳۱)‏۔

د۔ مخلوط شادیوں کو ختم کرنا (‏۱۳:‏ ۲۳۔۳۱)‏

کئی سال قبل غیرقوم بیویوں کو عزرا کے حکم پر چھوڑ دیا گیا تھا (‏عزرا ۱۰ باب)‏۔ اُس وقت سے لوگوں نے یہ عہد کر لیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو غیر قوموں سے الگ رکھیں گے (‏باب ۱۰)‏۔ کسی حد تک وہ اپنے اِس عہد پر کار بند بھی رہے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر اہلِ یہود اشدودی‏، عمونی اور موآبی عورتوں سے شادی کرنے لگے‏، حتیٰ کہ کاہنوں نے بھی یہ حرکت کی۔ اِسی بدی میں ملوث بعض لوگوں کو تو جسمانی طور پر سزا دی گئی اور دیگروں کو جماعت سے خارج کر دیا گیا۔ سردار کاہن کے ایک پوتے کو بھگا دیا گیا۔ غیر قوموں کو نکال دیا گیا۔ اور خدا سے اِلتجا کی گئی کہ جن لوگوں نے اپنے عہدے کو ناپاک کیا ہے‏، اُنہیں سزا دے۔ ایک بار پھر نحمیاہ نے خدا سے دعا کی کہ اُسے یاد رکھے۔ 

کلیسیا میں‏، مختلف نسلی گروہوں کے مابین شادی کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے‏، کیونکہ مسیحیت ایک ایسا مذہب ہے جس میں تمام قوموں اور قبیلوں کو قبول کیا جاتا ہے۔ تاہم عہد عتیق میں اِس پابندی کی سب سے بڑی وجہ غیر اقوام کے جھوٹے اور بُرے مذاہب تھے۔ 

کیمبل (‏Campbell)‏ مسیحیت میں مخلوط شادیوں کے بارے میں اپنے تاثرات یوں بیان کرتا ہے:‏

’’عہد جدید میں ایمان داروں اور بے ایمانوں کے مابین شادی کے خلاف مسلسل شہادت دی گئی ہے۔ پولس نے ایمان داروں کو ہدایت کی کہ وہ صرف اُن سے شادی کریں جو مسیح میں ہوں۔ گذشتہ زمانوں کی طرح آج بھی بعض ایک ایمان دار یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ اپنے بے ایمان شریکِ حیات کو خداوند کے پاس لے آئیں گے۔ لیکن شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے بلکہ اِس کے برعکس بچے اکثر غیر نجات یافتہ باپ یا ماں کی راہوں پر چلتے ہیں۔‘‘ 

نحمیاہ ہمیشہ عمل کا قائل تھا۔ یہاں واضح ہے کہ خداوند کی باتوں کی غیرت اُسے کھا گئی (‏زبور ۶۹:‏۹)‏۔ چونکہ وہ کسی کی رعایت نہیں کرتا تھا اِس لئے جو خداوند کی شریعت کی خلاف ورزی کرتے تھے اُن سب کو اُس نے تنبیہ کی‏، خبردار کیا‏، سرزنش کی‏، مارا‏، بالوں کو نوچا اور عموماً بے دینوں کے لئے مشکلات پیدا کر دیں۔ وہ ایک دلیر شخص تھا۔ وہ بدی کے خلاف جنگ میں اگلی صفوں میں ایک مضبوط جرنیل تھا۔ وہ ایک اَن تھک کارکن اور خدا کا ایک عظیم معمار تھا۔ 

اِس باب کے ساتھ عہد عتیق کی تاریخ اِختتام پذیر ہوتی ہے۔ جو کتابیں بائبل کی ترتیب میں نحمیاہ کی کتاب کے بعد آتی ہیں اُن کا دَور نحمیاہ کے دَور سے پہلے کا ہے (‏سوائے ملاکی کی کتاب کے جو نحمیاہ کی ہم عصر تھی)‏۔

چارلس سوِنڈل (‏Swindoll)‏ نحمیاہ پر اپنی تفسیر کو اِن الفاظ کے ساتھ ختم کرتا ہے:‏ ’’مجھے ایک اَور اینٹ دیجئے۔‘‘ اور یہ ہم سب کے لئے ایک چیلنج ہے۔ 

’’میرا خیال ہے کہ یہ اَمر نہایت معانی خیز ہے کہ نحمیاہ کی کتاب کے آخری باب میں اُس کی یہ تصویر پیش کی گئی ہے کہ وہ گھٹنوں کے بل خدا سے فضل مانگ رہا ہے۔ سچائی کے لئے اُس نے سخت جدوجہد کی‏، لیکن خداوند کے سامنے اُس کا دل نرم تھا۔ قیادت کا کس قدر شان دار نمونہ ہے! اِس شخص میں دیانت داری‏، یقینِ محکم اور خلوص تھا۔‘‘

مقدس کتاب

۱ اُ س دن انہوں نے لوگوں کو موسیٰ کی کتاب میں سے پڑھکر سُنایا اور اُس میں یہ لکھا ملا کہ عمونی اور موآبی خدا کی جماعت میں کبھی نہ آنے پائیں۔
۲ اِسلئے کہ وہ روٹی اور پانی لیکر بنی اِسرائیل کے استقبال کو نہ نکلے بلکہ بلعام کو اُنکے خلاف اُجرت پر بُلایا تا کہ اُن پر لعنت کرے پر ہمارے خدا نے اُس لعنت کو برکت سے بدل دیا۔
۳ اور ایسا ہوا کہ شریعت کو سُنکر اُنہوں نے ساری ملی جلی بھیڑ کو اِسرائیل سے جدا کر دیا۔
۴ اس سے پہلے اِلیاسب کاہن نے جو ہمارے خدا کے گھر کی کوٹھریوں کا مختار تھا طوبیاہ کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے۔
۵ اُسکے لئے ایک بڑی کوٹھری تیار کی تھی جہاں پہلے نذر کی قربانیاں اور لُبان اور برتن اور اناج کی اور مے کی اورتیل کی دہ یکیاں جو حکم کے مطابق لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں کو دی جاتی تھیں اور کاہنوں کے لئے اُٹھائی ہوئی قربانیاں بھی رکھی جاتی تھیں۔
۶ پر ان ایام میں میں یروشیلم میں نہ تھا کیونکہ شاہ بابل ارتخششتا کے بتیسویں برس میں بادشاہ کے پاس گیا تھا اور کچھ دنوں کے بعد میں نے بادشاہ سے رُخصت کی درخواست کی۔
۷ اور میں یروشیلم میںآیا اور معلوم کیا کہ خدا کے گھر کے صحنوں میں طوبیاہ کے واسطے ایک کو ٹھری تیار کرنے سے الیاسب نے کیسی خرابی کی ہے۔
۸ اِس سے میں نہایت رنجیدہ ہوا اِسلئے میں نے طوبیاہ کے سب خانگی سامان کو اُس کوٹھری سے باہر پھینکدیا۔
۹ پھر میں نے حکم دیا اور انہوں نے ان کوٹھریوں کو صاف کیا اور میں خدا کے گھر کے برتنوں اور نذر کی قر بانیوں اور لبان کو پھر وہیں لے آیا۔
۱۰ پھر مجھے معلوم ہوا کہ لاویوں کے حصے اُن کو نہیں دئے گئے اِسلئے خدمتگذار لاوی اورگانے والے اپنے اپنے کھیت کو بھاگ گئے ہیں۔
۱۱ تب میں نے حاکموں سے جھگڑا کر کہا کہ خدا کا گھر کیوں چھوڑ دیا گیا ہے ؟ اور میں نے اُنکو اِکٹھا کرکے اُنکو اُنکی جگہ پر مقرر کیا ۔
۱۲ تب سب اہل یہوداہ نے اناج اور مے اور تیل کا دسواں حصہ خزانوں میں داخل کیا۔
۱۳ اور میں نے سلمیاہ کاہن اور صدوق فقیہ اور لاویو ں میں سے فد ایاہ کو خزانوں کے خزانچی مقرر کیا اور حنان بن زکور بن متنیاہ اُنکے ساتھ تھا کیونکہ وہ دیانتدار مانے جاتے تھے اور اپنے بھائیوں میں بانٹ دینا انکا کام تھا۔
۱۴ اَے میرے خدا اِسکے لئے مجھے یا د کر اور میرے نیک کاموں کو جو میں نے اپنے خدا کے گھر اور اسکی رسوم کے لئے کئے مٹا نہ ڈال۔
۱۵ ان ہی دنوں میں میں نے یہوادہ میں بعض کو دیکھا جو سبت کے دن حوضوں میں پاؤں سے انگور کچل رہے تھے اور پولے لاکر اُنکو گدھوں پر لادتے تھے ۔اسی طرح مے اور انگور اور انجیر اور ہر قسم کے بو جھ سبت کو یروشیلم میں لاتے تھے اور جس دن وہ کھانے کی چیزیں بیچنے لگے میں نے انکوٹوکا۔
۱۶ اور وہاں صور کے لوگ بھی رہتے تھے جو مچھلی اور ہر طرح کا سامان لا کر سبت کے دن یروشیلم میں یہوداہ کے لوگوں کے ہاتھ بیچتے تھے۔
۱۷ تب میں نے یہوادہ کے اُمرا سے جھگڑا کر کہا یہ کیا بُرا کام ہے جو تم کرتے اور سبت کے دن کی بے حرمتی کرتے ہو ؟۔
۱۸ کیا تمہارے باپ دادا نے ایسا ہی نہیں کیا یہ کیا ہمارا خدا ہم پر اور اس شہر پر سب آفتیں نہیں لایا؟ تو بھی تم سبت کی بے حرمتی کرکے اِسرائیل پر زیادہ غضب لاتے ہو۔
۱۹ سو جب سبت سے پہلے یروشیلم کے پھاٹکوں کے پاس اندھیرا ہونے لگا تو میں نے حکم دیا کہ پھاٹک بند کر دئے جائیں اور حکم دے دیا کہ جب تک سبت گذر نہ جائے وہ نہ کھلیں اور میں نے اپنے چند نوکروں کو پھاٹکوں پر رکھا کہ سبت کے دن کوئی بوجھ اندر آنے نہ پائے۔
۲۰ سو بیوپاری اور طرح طرح کے مال کے بیچنے والے ایک یاد وبار یروشیلم کے باہر ٹکے۔
۲۱ تب میں نے اُ نکو ٹوکا اور اُن سے کہا کہ تم دیوار کے نزدیک کیوں ٹک جاتے ہو؟اگر پھر ایسا کیا تو میں تم کو گرفتار کر لونگا۔ اس وقت سے وہ سبت کو پھر نہ آئے۔
۲۲ اور میں نے لاویوں کو حکم کیا کہ اپنے آپ کو پاک کریں اور سبت کے دن کی تقدیس کی غرض سے آکر پھاٹکوں کی رکھوالی کریں۔ اَے میرے خدا اِسے بھی میرے حق میں یا د کر اور اپنی بڑی ر حمت کے مطابق مجھ پر ترس کھا۔
۲۳ اُن ہی دنوں میں میں نے اُن یہودیوں کو بھی دیکھا جنہوں نے اشدُودی اور عمونیااور موآبی عورتیں بیاہ لی تھیں۔
۲۴ اور انکے بچوں کی زبان آدھی اشدُودی تھی اور وہ یہودی زبان میں بات نہیں کر سکتے تھے بلکہ ہر قوم کی بولی کے مطابق بولتے تھے۔
۲۵ سو میں نے اُن سے جھگڑا کر اُنکو لعنت کی اور اُن میں سے بعض کو مارا اور اُنکے بال نوچ ڈالے اور انکو خدا کی قسم کھلائی کہ تم اپنی بیٹیاں اُنکے بیٹوں کو نہ دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لئے اور نہ اپنے لئے اُنکی بیٹیاں لینا۔
۲۶ کیا شاہِ اِسرائیل سُلیمان نے اِن باتوں سے گناہ نہیں کیا؟ اگر چہ اکثر قوموں میں اُسکی مانند کوئی بادشاہ نہ تھا اور وہ اپنے خدا کا پیارا تھا اور خدا نے اُسے سارے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا تو بھی اجنبی عورتوں نے اُسے بھی گناہ میں پھنسایا۔
۲۷ سو کیا ہم تمہاری سُنکر اَیسی بڑی بُرائی کریں کہ اجنبی عورتوں کو بیاہ کر اپنے خدا کا گناہ کریں؟۔
۲۸ اور اِلیاسب سردار کاہن کے بیٹے یویدع کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا حورونی سنبلط کا داماد تھا اِسلئے میں نے اُسکو اپنے پاس سے بھگا دیا۔
۲۹ اَے میرے خدا اُنکو یاد کر اِسلئے کہ اُنہوں نے کہانت کو اور کہانت اور لاویوں کے عہد کو ناپاک کیا ہے۔
۳۰ یوں ہی میں نے اُنکو کل اجنبیوں سے پاک کیا اور کاہنوں اور لاویوں کے لئے اُنکی خدمت کے مطابق۔
۳۱ اور مُقررہ وقتوں پر لکڑی کے ہدئے اور پہلے پھلو ں کے لئے حلقے مُقرر کرے دِئے ۔اَے میرے خدا بھلائی کے لئے مجھے یاد کر۔