۶: ۱۔۴ دشمنوں نے یہودیوں کے کام میں دیگر طریقوں سے رکاوٹیں ڈالنے سے ناکامی کے بعد نحمیاہ کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ چار دفعہ سنبلط اور جشم عربی نے کوشش کی کہ نحمیاہ اُنہیں اونو کے میدان میں ملے۔ چاروں دفعہ نحمیاہ نے اِنکار کر دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اِتنے بڑے کام کو موقوف نہیں کیا جا سکتا تھا۔
۶: ۵۔۹ ابھی تک اپنے آپ کو نحمیاہ کا حامی ظاہر کرتے ہوئے سنبلط نے ایک خط میں اُس پر الزام لگایا کہ شاہِ فارس کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو یہوداہ کا بادشاہ بنانا چاہتا ہے۔ سنبلط نے یہ ظاہر کیا کہ وہ نحمیاہ کی مدد کرنا چاہتا ہے تاکہ بادشاہ کی طرف سے اُسے کسی طرح کا نقصان نہ پہنچے، اِس لئے وہ اِس معاملے پر باہم گفتگو کرنا چاہتا ہے۔ لیکن نحمیاہ نے اِنکار کر دیا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ سنبلط کے دل کے عزائم اچھے نہیں۔ علاوہ ازیں اُس کی طرف سے بہتان تراشی میں کسی طرح کی حقیقت نہیں تھی۔ نحمیاہ کی وفاداری اِس کا بہترین ثبوت تھا۔
۶: ۱۰۔۱۴ بلاشبہ نحمیاہ ایک پُرخلوص شخص تھا۔ وہ خداوند کی شریعت سے ڈرتا تھا۔ چنانچہ جھوٹے نبیوں کو اُجرت پر بلایا گیا کہ اُسے چالاکی اور فریب سے گناہ میں پھنسائیں تاکہ خدا اُس سے ناراض ہو جائے۔ سمعیاہ نامی ایک یہودی دشمن کا خفیہ جاسوس تھا۔ اُس نے نحمیاہ کو خبردار کیا کہ اُس کی جان لینے کے لئے سازِش تیار ہو رہی ہے اور اُس نے مشورہ دیا کہ وہ اپنے تحفظ کے لئے اُس کے ساتھ ہیکل میں چھپ جائے۔ لیکن نحمیاہ نے اُس کی چال کو سمجھ لیا۔ خدا نے سوائے کاہن کے ہر شخص کو ہیکل میں داخل ہونے سے منع کیا تھا۔ نحمیاہ نے شریعت کو توڑنے کے بجائے جان سے ہاتھ دھونے کو ترجیح دی۔ یوں سنبلط کی تیسری چال بھی ناکام ہو کر رہ گئی۔
آیات ۹ اور ۱۴ کی سی مختصر دعائیں نحمیاہ کی زندگی کا خاصہ ہیں (دیکھیں ۲:۴؛ ۴:۹؛ ۵:۱۹)۔ یہ اُس کی عادت تھی کہ بحرانی لمحات میں وہ خدا کی طرف رجوع کرتا تھا۔ میتھیو ہنری (Matthew Henry) یوں تفسیر پیش کرتا ہے:
’’اُس کے دشمن اپنے بغض اور کینے سے اُسے خائف کرنا چاہتے تھے تاکہ یوں اُس کے ہاتھوں کو کمزور کر دیں لیکن اُن کی شکایت کرتے ہوئے اُس نے مختصر سی دعا میں آسمان کی طرف دل سے رجوع کیا۔ ’’اے خدا! تُو میرے ہاتھ کو زور بخش۔‘‘ یہ نیک لوگوں کے لئے کس قدر اِطمینان اور حمایت کی بات ہے کہ اُن کی مشکلات اور کمزوری میں اُن کا ایک بھلا خدا ہے جس سے وہ رجوع کر سکتے ہیں اور ایمان اور دعا سے وہ اُس فضل کو حاصل کر سکتے ہیں جو اُن کے خوف کو دُور کرے اور اُن کے ہاتھوں کو زور بخشے۔ جب ہم اپنے مسیحی کام اور جنگ میں تصادم سے دوچار ہوں تو یہ ہمارے لئے بہت اچھی دعا ہے۔ ’’مجھے ایک ایسی ذمہ داری کو نباہنا ہے اور ایک ایسی آزمائش کا مقابلہ کرنا ہے اِس لئے اے خداوند! تُو میرے ہاتھوں کو زور بخش۔‘‘
۶: ۱۵۔۱۹ مسلسل مخالفت کے باوجود شہرپناہ باون دنوں میں مکمل ہو گئی۔ یہ نہایت ہی شان دار کارنامہ تھا۔ اِلٰہی بخشش کی اِس شہادت نے یہوداہ کے دشمنوں کے حوصلے پست کر دیئے۔ جب دیواریں تعمیر ہو رہی تھیں تو نحمیاہ کو ایک اَور دُکھ سے دوچار ہونا پڑا جس کا ذکر آیات ۱۷۔۱۹ میں ہے۔ یروشلیم کے بہت سے اُمرا کے شریر طوبیاہ سے دوستانہ تعلقات قائم رہے کیونکہ اُن کی اُس کے ساتھ رشتہ داری تھی (طوبیاہ عمونیوں کا حاکم تھا ۲:۱۰)۔ یہ اُمرا ایک طرف تو نحمیاہ کی باتیں طوبیاہ کو بتاتے تھے اور نحمیاہ کی باتیں سن کر طوبیاہ کی تعریف کرتے تھے۔ باب ۱۳ میں ہمارا پھر طوبیاہ سے واسطہ پڑتا ہے۔
گو شہرپناہ کا کام تو باون دِنوں میں ختم ہو گیا۔ لیکن حاکم کی حیثیت سے نحمیاہ کو دیگر ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے بارہ یا اِس سے زائد برس لگے۔
مقدس کتاب
۱ جب سنبلط اور طوبیاہ اور حبشم عربی اور ہمارے باقی دُشمنوں نے سُنا کہ میں شہر پناہ کو بنا چُکا اور اُس میں کوئی رخنہ باقی نہیں رہا (اگرچہ اُس وقت تک میں نے پھاٹکوں میں کواڑے نہیں لگائے تھے)۔
۲ تو سنبلط اور حبشم نے مجھے یہ کہلا بھیجا کہ آہم اونو کے میدان کے کسی گاؤں میں باہم مُلاقات کریں پر وہ مجھ سے بدی کرنے کی فکر میں تھے۔
۳ سو میں نے اُنکے پاس قاصدوں سے کہلابھیجا کہ میں بڑے کام میں لگاہوں اور آ نہیں سکتا ۔میرے اِسے چھوڑ کر تمہارے پاس آنے سے یہ کام کیوں موقوف رہے؟۔
۴ اُنہوں نے چار بار میرے پاس اَیسا ہی پیغام بھیجا اور میں نے اُنکو اِسی طرح کا جواب دِیا۔
۵ پھر سنبلط نے پانچویں بار اُسی طرح سے اپنے نوکر کو میرے پاس ہاتھ میں کُھلی چھٹی لئے ہوئے بھیجا ۔
۶ جِس میں لکھا تھاکہ اور قوموں میں یہ افواہ ہے اور جشمو یہی کہتا ہے کہ تیرا اور یہودیوں کا اِرادہ بغاوت کرنے کا ہے ۔اِسی سبب سے تو شہر پناہ بناتا ہے ۔
۷ اور تو نے نبیوں کو بھی مُقرر کیا کہ یروشیلم میں تیرے حق میں منادی کریں اور کہیں کہ یہوداہ میں ایک بادشاہ ہے پس اِن باتوں کے مطابق بادشاہ کو اِطلاع کی جائیگی ۔ سو اب آہم باہم مشورہ کریں۔
۸ تب میں نے اُسکے پاس کہلا بھیجا جو تو کہتا ہے اِس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ تو یہ باتیں اپنے ہی دِل سے بناتا ہے۔
۹ وہ سب تو ہمکو ڈراناچا ہتے تھے اور کہتے تھے کہ اِس کام میں اُنکے ہاتھ اَیسے ڈھیلے پڑجائینگے کہ وہ ہونے ہی کا نہیں پر اب اَے خدا تو میرے ہاتھوں کو زور بخش ۔
۱۰ پھر میں سمعیا ہ بن دِلایاہ بن مُہیطبیل کے گھر گیا ۔وہ گھر میں بند تھا ۔ اُس نے کہا ہم خدا کے گھر میں ہیکل کے اند ر ملیں اور ہیکل کے دروازوں کو بند کرلیں کیونکہ وہ تجھے قتل کرنے کو آئینگے ۔ وہ ضُرور رات کو تجھے قتل کرنے کو آئینگے۔
۱۱ میں نے کہا کیا مجھ سا آدمی بھا گے ؟اور کون ہے جو مجھ سا ہو اور اپنی جان بچانے کو ہیکل میں گھسے ؟ میں اند ر نہیں جانے کا۔
۱۲ اور میں نے معلوم کر لیا کہ خدا نے اُسے نہیں بھیجا تھا لیکن اُس نے میرے خلاف پیشینگوئی کی بلکہ سنبلط اور طوبیاہ نے اُسے اُجرت پر رکھا تھا۔
۱۳ اور اُسکو اسلئے اُجرت دی گئی تاکہ میں ڈر جاؤں اور ایسا کام کرکے خطاکار ٹھہروں اور اُنکو بُری خبر پھیلانے کا مضمون مل جائے تاکہ مجھے ملامت کریں۔
۱۴ اَے میرے خدا طوبیاہ اور سنبلط کو اُنکے اِن کاموں کے لحاظ سے اور نوعید یاہ نبیہ کو بھی اور باقی نبیوں کو جو مجھے ڈرانا چاہتے تھے یاد رکھ۔
۱۵ غرض باون دِن میں الول مہینے کی پچیسویں تاریخ کو شہر پناہ بن چکی ۔
۱۶ جب ہمارے سب دُشمنوں نے یہ سُنا تو ہمارے آس پاس کی سب قومیں ڈرنے لگیں اور اپنی ہی نظر میں خود ذلیل ہوگئیں کیونکہ اُنہوں نے جان لیا کہ یہ کام ہمارے خدا کی طرف سے ہوا۔
۱۷ اِسکے سوا اُن دِنوں میں یہوداہ میں بہت لوگوں نے اُس سے قول وقرار کیا تھا اِسلئے کہ وہ سکنیاہ بن ارخ کا داماد تھا اور اُسکے بیٹے یہوحانان نے مُسلام بن برکیا ہ کی بیٹی کوبیاہ لیاتھا ۔
۱۸
۱۹ اور وہ میرے آگے اُسکی نیکیوں کا بیان بھی کرتے تھے اور میری باتیں اُسے سُناتے تھے اور طوبیاہ مجھے ڈرانے کو چٹھیاں بھیجا کرتا تھا۔