ب۔ آسمان کے نیچے حکمت اور دانش (باب ۸)
۸:۱ مسائل حل کرنے میں اِنسانی حکمت کی ناکامی کے باوجود سلیمان ’’دانش مند‘‘ یعنی صاحبِ حکمت آدمی کی سب سے زیادہ تعریف کرتا ہے۔ کوئی دوسرا آدمی باتوں کے پوشیدہ معانی کو کھوج نکالنے کا اِتنا اہل نہیں۔ جہاں تک اِس بادشاہ اور واعظ کا تعلق ہے ’’حکمت‘‘ اِنسان کے جسمانی سراپا سے منعکس ہوتی ہے۔ ’’اُس کے چہرے کو روشن کرتی ہے‘‘ اور سخت چہرہ نرم ہو جاتا ہے۔
۸:۲ حکمت اِنسان کو سکھاتی ہے کہ بادشاہ کے حضور اپنا طرزِ عمل کیسا رکھنا چاہئے۔ یہاں ’’بادشاہ‘‘ کے معانی ’’خدا‘‘ لئے جائیں خواہ ’’زمینی حکمران‘‘ کے، حکمت سب سے پہلے فرماں برداری کرنا سکھاتی ہے۔
یہاں ’’قسم‘‘ سے مراد حکومت کے ساتھ وفاداری کا حلف یا خدا کی قسم ہو سکتی ہے جس سے وہ بادشاہوں کو حکمرانی کا اِختیار دیتا ہے (مثلاً دیکھئے زبور ۸۹:۳۵)۔
۸:۳ ہم اِس آیت کو نصیحت یا مشورہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ناخوشگوار صورتِ حال پیدا ہو جائے تو بادشاہ کے حضور سے چلے جانے میں جلدی کرنی چاہئے۔ یا یہ مشورہ بھی ہو سکتا ہے کہ غصہ، نافرمانی، گستاخی سے یا ملازمت چھوڑ کر نکل جانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔
بہر صورت اِس عبارت میں زور اِس بات پر ہے کہ بادشاہ کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اُسے وسیع اِختیار حاصل ہوتا ہے ’’کیونکہ وہ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے۔‘‘
۸:۴ بادشاہ جب بھی کچھ کہتا ہے اِس کے پیچھے اِختیار اور طاقت ہوتی ہے۔ وہ سب سے بالاتر ہوتا ہے اور اُس کی رعیت میں سے کوئی بھی اُسے چیلنج نہیں کر سکتا۔
۸:۵ جو بادشاہ کا ’’حکم‘‘ مانتے ہیں اُنہیں شاہی عتاب کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔ حکمت سکھاتی ہے کہ شاہی فرمان ماننے کے لئے کون سا وقت اور طریقہ مناسب اور موزوں ہے۔
۸:۶ کچھ بھی کرنے کا دُرست طریقہ یا ’’قاعدہ‘‘ اور غلط طریقہ ہوتا ہے۔ اِسی طرح دُرست وقت یا ’’موقع‘‘ اور غلط وقت ہوتا ہے۔ اِنسان کی بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ اِن موزوں لمحات کو پہچان نہیں سکتا۔
۸:۷ بہت سی باتیں ہیں جو اِنسان کو ’’معلوم نہیں‘‘ یا کر نہیں سکتا۔ وہ مستقبل کو نہیں جان سکتا __کہ کیا ہو گا اور ’’کیونکر ہو گا۔‘‘
۸:۸ وہ اپنی ’’روح‘‘ کو نکل جانے سے نہیں روک سکتا اور نہ اُسے اپنی موت کے وقت پر کچھ اِختیار ہے۔ وہ ’’اِس لڑائی‘‘ سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا __ یعنی وہ لڑائی جو موت اُس کے خلاف متواتر اور بے رحمی سے لڑ رہی ہے۔ وہ کسی بھی قسم کی ’’شرارت‘‘ سے موت نہ ملتوی کرا سکتا ہے نہ ٹال سکتا ہے۔
۸:۹ ’’دُنیا میں‘‘ زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے واعظ نے بعض باتیں دیکھیں کہ ’’ایک شخص‘‘ دوسرے کو پاؤں تلے کچل دیتا ہے اور دوسرے کو نقصان پہنچانے سے ’’اپنے اُوپر بلا لاتا ہے۔‘‘
۸:۱۰ زندگی کا بہت بڑا حصہ سطحی ہے۔ ’’شریر‘‘ مر گیا اور دفن کر دیا گیا۔ وہ کبھی کبھی عبادت خانہ میں جایا کرتا تھا۔ اُس کے رِحلت کر جانے کے بعد لوگ اُسی ’’شہر‘‘ میں اُس کی دین داری کی تعریفیں کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے شرارت کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا کرتا تھا۔ دین داری بددیانتی اور بدنیتی کو چھپانے کا پردہ ہو سکتی ہے۔ یہ سب کچھ بالکل کھوکھلا اور بے معانی ہے۔
۸:۱۱ مجرموں پر مقدمہ چلانے اور سزا دینے میں بار بار کی تاخیر لاقانونیت کی حوصلہ افزائی کرتی اور نظامِ عدل کے لئے نفرت پیدا کرتی ہے۔ اِس بات کی ضمانت دینا ضروری ہے کہ ہر مُدَّعا علیہ کو صفائی کا پورا پورا موقع ملنا چاہئے، کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ مظلوم کا نقصان ہو اور مجرم کو ضرورت سے زیادہ تحفظ دیا جائے۔ غیر جانب دارانہ اور فوری اِنصاف جرائم کو روکتا ہے۔ اِس کے برعکس اِنصاف میں طویل تاخیر مجرموں کو شَہ دیتی ہے اور قانون شکنی میں پکا کر دیتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ہم بچ جائیں گے یا زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ ہلکی سی سزا ہو جائے گی۔
۸:۱۲ اگرچہ سلیمان نے بعض معاملات دیکھے تھے جو اِستثنائی معلوم ہوتے تھے، مگر اُسے یقین تھا کہ ’’جو خدا ترس ہیں‘‘ آخر میں ’’اُن ہی کا بھلا ہو گا۔‘‘ بے شک کوئی عادی مجرم یا گنہگار لمبی عمر پائے تو بھی یہ حقیقت غلط ثابت نہیں ہوتی کہ بالآخر راست بازی کو اجر ملتا ہے اور خطاکار کی راہ مشکل ہوتی ہے۔
۸:۱۳ واعظ کو یقین ہے کہ ’’گنہگار‘‘ آخر گھاٹے میں رہتا ہے۔ اِس لئے کہ وہ ’’خدا کے حضور نہیں کانپتا‘‘ اِس لئے اپنی زندگی کوتاہ کر لیتا ہے۔ اُس کی عمر ’’سایہ کی مانند‘‘ عارضی ہوتی ہے۔
۸:۱۴ معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان کبھی عام اصول اور کبھی اِستثنائی صورتِ حال پیش کرتا ہے۔ بعض اوقات ’’نیکوکار‘‘ لوگوں کو ایسے سزا مل جاتی ہے جیسے وہ ’’بدکردار‘‘ ہوں۔ اور ’’شریر‘‘ لوگوں کو ایسے اجر ملتا ہے جیسے وہ شائستہ اور ’’نیکوکار‘‘ ہوں۔ جائز اور مناسب باتوں سے اِنحراف نے فلسفی بادشاہ کو زندگی کے ’’بطلان‘‘ سے دل برداشتہ کر دیا۔
۸:۱۵ جہاں تک سلیمان کا تعلق ہے وہ سمجھتا ہے کہ واحد منطقی حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب تک اور جہاں تک ہو سکے زندگی کا لطف اُٹھایا جائے۔ ’’دُنیا میں اِنسان کے لئے کوئی چیز اِس سے بہتر نہیں کہ کھائے اور پئے اور خوش رہے۔‘‘ یہ لطف اور خوشی ہے جو ’’اُس کی محنت کے دوران‘‘ زندگی بھر ’’جو خدا نے دُنیا میں اُسے بخشی اُس کے ساتھ رہے گی۔‘‘ سلیمان کے لئے یہ کوئی اَنہونا فلسفہ نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ مجھے جو کچھ ملنا ہے اِسی دُنیا میں اور ابھی مل جائے۔
۸:۱۶ چنانچہ واعظ سارے جواب تلاش کرنے میں لگ گیا۔ اُس نے اپنا دل و دماغ فلسفہ کا مطالعہ کرنے میں لگایا تاکہ زندگی کی سرگرمیوں کی تہہ تک پہنچ سکے۔ یہ ایسا کام ہے جس میں ’’نہ رات کو نیند آتی ہے نہ دن کو‘‘۔
۸:۱۷ ’’تب‘‘ اُس کو معلوم ہوا کہ خدا نے ایسا بندوبست کیا ہے کہ اِنسان اِس چیستان (معما) کے سارے ٹکڑوں کو ترتیب سے یکجا نہیں کر سکتا۔ وہ کتنی بھی محنت کرے ناکام ہی رہے گا۔ وہ کتنا بھی عقل مند اور ہوشیار ہو وہ سارے سوالوں کے جواب ’’دریافت نہیں کر سکتا۔‘‘
مقدس کتاب
۱ دانش مند کے برابر کون ہے ؟ اور کسی بات کی تفسیر کرنا کون جانتا ہے؟ انسان کی حکمت اُس کے چہرہ کو روشن کرتی ہے اور اُس کے چہرہ کی سختی اُس سے بدل جاتی ہے۔
۲ میں تُجھے صلاح دیتا ہُوں کہ تو بادشاہ کے حُکم کو خُدا کی قسم کے سبب سے مانتا رہ۔
۳ تو جلا بازی کر کے اُس کے حضُور سے غائب نہ ہو اور کسی بُری بات پر اسرار نہ کر کیونکہ وہ جو کُچھ چاہتا ہے کرتا ہے۔
۴ اس لے کہ بادشاہ کا حُکم با اختیار ہے اور اُس سے کون کہے گا کہ تو یہ کیا کرتا ہے؟۔
۵ جو کوئی حُکم مانتا ہے بُرائی کو نہ دیکھے گا اور دانش مند کا دل موقع اور انصاف کو سمجھتا ہے۔
۶ اس لے کہ ہرامر کا موقع اور قاعدہ ہے لیکن انسان کی مُصیبت اُس پر بھاری ہے۔
۷ کیونکہ جو کُچھ ہوگا اُس کو معلُوم نہیں اور کون اُسے بتا سکتا ہے کہ کیونکر ہوگا؟۔
۸ کسی آدمی کو روح پر اختیار نہیں کہ اُسے روک سکے اور مرنے کا دن بھی اُس کے اختیار سے باہر ہے اور اُس لڑائی سے چُھٹی نہیں ملتی اور نہ شرارت اُس کو جو اُس میں غرق ہے چُھڑائے گی۔
۹ یہ سب میں نے دیکھا اور اپنا دل سارے کام پر جو دُنیا میں کیا جاتا ہے لگایا۔ ایسا وقت ہے جس میں ایک شخص دُوسرے پر حکومت کر کے اپنے اُوپر بلالاتا ہے ۔
۱۰ اس کے علاوہ میں نے دیکھا کہ شریر گاڑےگے۔ اور لوگ بھی آئے اور راست باز پاک مقام سے نکلے اور اپنے شہر میں فراموش ہو گے۔ یہ بھی بُطلان ہے۔
۱۱ چُونکہ بُرے کام پر سزا کا فورا حکُم نہیں دیا جاتا اس لے بنی آدم کا دل اُن میں بدی پر بہ شدت مائل ہے۔
۱۲ اگرچہ گُہنگار سو بار بُرائی کرے اور اُس کی عمر دراز ہو تو بھی یقینا جانتا ہُوں کہ اُن ہی کا بھلا ہوگا جو خُدا ترس ہیں اور اُس کے حضُور کانپتے ہیں۔
۱۳ لیکن گُہنگار کا بھلا کبھی نہ ہو گا اور نہ وہ اپنے دنوں کو سایہ کی مانند بڑھائے گا اس لے کہ وہ خُدا کے حضُور کانپتا نہیں۔
۱۴ ایک بطالت ہے جو زمین پر وقوع میں آتی ہے کہ نیکوکار لوگ ہیں جن کو وہ کُچھ پیش آتا ہے جو تھا کہ بد کردارں کو پیش آتا اور شریر لوگ ہیں جن کو وہ کُچھ ملتا ہے جو تھا کہ نیکوکاروں کو ملتا ۔ میں نے کہا کہ یہ بھی بُطلان ہے۔
۱۵ تب میں نے خُرّمی کی تعریف کی کیونکہ دُنیا میں انسان کے لے کوئی چیز اس سے بہتر نہیں کہ کھائے اور پئے اور خُوش رہے کیونکہ یہ اُس کی محنت کے دوران میں اس کی زندگی کے تمام ایّام میں جو خُدا نے دُنیا میں اُسے بخشی اُس کے ساتھ رہے گی۔
۱۶ جب میں نے اپنا دل لگایا کی حکمت سیکھوں اور اس کام کاج کو جو زمین پر کیا جاتا ہے دیکھوں ( کیونکہ کوئی ایسا بھی ہے جس کی آنکھوں میں نہ رات کو نیند آتی ہے نہ دن کو) ۔
۱۷ تب میں نے خُدا کے سارے کام پر نگاہ کی اور جانا کہ انسان اُس کام کو جو دُنیا میں کیا جاتا ہے دریافت نہیں کر سکتا۔ اگرچہ انسان کتنی ہی محنت سے اُس کی تلاش کرے پر کُچھ دریافت نہ کرے گا بلکہ ہر چند دانش مند کو گُمان ہو کہ اُس کو معلوم کر لے پر وہ کبھی اُس کو دریافت نہیں کرے گا۔