ہ۔ آسمان کے نیچے نیکی پھیلانا (۱۱:۱۔۱۲:۸)
۱۱:۱ یہاں ’’روٹی‘‘ مجازی معنوں میں استعمال ہوئی ہے اور اُس اناج (دانوں) کو ظاہر کرتی ہے جس سے بنائی جاتی ہے۔ ’’اپنی روٹی پانی میں ڈال دے‘‘ کا اشارہ غالباً اُن علاقوں میں بیج بونے کی طرف ہے جہاں سیلابی پانی کھڑا ہو جاتا ہے یا سمندر کے راستے تجارت کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ بہر صورت خیال یہ ہے کہ وسیع علاقے میں اور تھوک کے حساب سے نیکی کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کٹائی کے وقت کثرت سے حاصل ملے گا۔
یہ آیت اِنجیل کی خوش خبری پر بہت صادق آتی ہے۔ ہم زندگی کی روٹی تقسیم کرتے ہیں تو شاید فوری نتائج حاصل نہ ہوں، لیکن بالآخر بھرپور فصل پیدا ہونا یقینی ہے۔
۱۱:۲ ’’سات کو بلکہ آٹھ کو حصہ دے۔‘‘ اِس سے دو معانی سامنے آتے ہیں __ کھلے ہاتھ سے سخاوت یا طرح طرح کے کاروبار کرنا۔ پہلی صورت میں مفہوم یہ ہے کہ جب تک ہو سکے ہم بے حساب مہربانی اور خیرات کریں کیونکہ ممکن ہے مصیبت اور بدحالی کا وقت آ جائے اور ہم ایسا نہ کر سکیں۔ بہت سے لوگ بُرے وقت کے لئے بچت کرتے ہیں۔ یہ آیت مشورہ دیتی ہے کہ بے روک خیرات کرنے کی روح اِختیار کریں کیونکہ زندگی کی کوئی بات بھی یقینی نہیں ہوتی۔
خیال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہ رکھیں۔ مختلف کاروباروں میں سرمایہ کاری کریں تاکہ ایک بیٹھ جائے تو بھی کام چلتا رہے۔
۱۱:۳ اِس آیت کا خیال پچھلی آیت سے وابستہ ہے خصوصاً زمین پر اَنجانی آفت آنے کے حوالے سے۔ کہا گیا ہے زندگی میں آنے والی آفتیں اٹل اور قطعی ہوتی ہیں۔ جیسے پانی سے بھرے ہوئے بادل ’’زمین پر برس کر خالی ہو جاتے ہیں‘‘ اِسی طور سے بنی آدم پر مصیبتیں اور آزمائشیں آتی ہیں۔
اِس آیت کا وسیع تر اطلاق ذیل کی نظم میں ملتا ہے:
درخت جیسے گرتا ہے ویسے ہی پڑا رہتا ہے،
اِسی طرح اِنسان جیسے جیتا ہے ویسے ہی مرتا ہے،
اور جیسے مرتا ہے اُسے ویسے ہی رہنا پڑتا ہے،
ابدیت کے سارے برسوں میں ویسے ہی رہتا ہے۔
(جان رے)
۱۱:۴ عین ممکن ہے کہ اِنسان حد سے زیادہ محتاط ہو۔ جو حالات کے بالکل سازگار ہونے کا اِنتظار کرتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ کچھ ’’ہوا‘‘ اور کچھ ’’بادل‘‘ تو عموماً ہوتے ہی ہیں۔ اگر آپ ہوا کے بالکل بند ہونے کا اِنتظار کرتے رہیں گے تو کھیت میں بیج کبھی نہیں ڈالیں گے۔ اگر آپ بارش کے خطرے کے بالکل نہ ہونے کا اِنتظار کرتے رہیں گے تو فصل نہیں کاٹیں گے اور وہ کھیت میں کھڑی کھڑی خراب ہو جائے گی۔ جو شخص یقینی حالات کا اِنتظار کرتا ہے وہ ہمیشہ تک اِنتظار کرتا رہے گا۔
۱۱:۵ چونکہ ہمیں ساری باتوں کا علم نہیں ہے اِس لئے جو تھوڑا سا علم ہے ہمیں اُسی سے اُوٹ پٹانگ کام چلانا پڑتا ہے۔ ہم ’’ہوا‘‘ کی گردش کو نہیں جانتے اور نہ یہ کہ حاملہ عورت کے ’’رحم میں ہڈیاں کیونکر بنتی ہیں۔‘‘ ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ ’’خدا‘‘ کیا کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے۔
۱۱:۶ چونکہ ہم اِن باتوں کو نہیں جانتے اِس لئے بہترین حکمتِ عملی یہ ہے کہ دن بھر تعمیری کام کرتے رہیں۔ ہمارے پاس جاننے کا کوئی طریقہ نہیں کہ ہمارے کون سے کام نتیجہ خیز ہوں گے۔ ہو سکتا ہے سارے ہی کام کامیابی سے ہمکنار ہو جائیں۔
خدا کا کلام پھیلانے میں کامیابی یقینی ہے۔ تو بھی یہ بات سچ ہے کہ بعض طریقے دوسروں کی نسبت زیادہ پھل دار ہوتے ہیں۔ اِس لئے ہمیں مسیحی خدمت میں اَن تھک، ہنرمند، ہوشیار، دیانت دار اور ہر ممکن طریقہ استعمال کرنے والا ہونا چاہئے۔
علاوہ ازیں ہمیں زندگی کی ’’صبح کو‘‘ بیج بونا چاہئے اور سُستی سے ’’شام‘‘ ہونے کی راہ نہیں دیکھنی چاہئے۔ ہماری بلاہٹ یہ ہے کہ متواتر اور بلاناغہ خدمت کرتے رہیں۔
۱۱:۷،۸ یہاں ’’نور‘‘ سے مراد جوانی کے روشن ایام ہو سکتی ہے۔ جوان، توانا، چُست اور زندہ دل ہونا کیسا اچھا ہوتا ہے۔ لیکن صحت مندی اور خوش حالی کے کتنے ہی برسوں کا لطف اُٹھائے تو بھی اِنسان کو آگاہ رہنا چاہئے کہ ’’تاریکی کے دن‘‘ ضرور آئیں گے۔ بڑھاپے کے درد اٹل ہیں۔ یہ زندگی کا خالی اور بے رونق دَور ہے۔
۱۱:۹ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیت ۹ مخلصانہ نصیحت ہے یا کسی خبطی بوڑھے کی خشک مزاجی جس کی ساری غلط فہمیاں دُور ہو گئی ہیں۔ جو جی چاہے کرو اور جو کچھ دیکھ سکو دیکھو۔ لیکن یاد رکھو کہ آخر کو ’’اِن سب باتوں کے لئے خدا تجھ کو عدالت میں لائے گا۔‘‘ مراد ہے بڑھاپے کی عدالت جو سلیمان کو جوانی کے ایام کے گناہوں کی سزا یا بدلہ معلوم ہوتا ہے۔
۱۱:۱۰ جب تک جوانی ہے زیادہ سے زیادہ لطف اُٹھا لو اور غم کو دُور رکھو۔ (یہاں ’’بدی‘‘ سے مراد غالباً گناہ نہیں بلکہ مشکل یا پریشانی ہے)۔ ’’لڑکپن اور جوانی دونوں باطل ہیں‘‘ کیونکہ دونوں عارضی ہیں۔
پورے اَدب میں بڑھاپے کا ایسا اعلیٰ اور کلاسیکی بیان نہیں ملتا جیسا باب ۱۲ کے نصف اوّل میں ہے۔ الفاظ کے ظاہری معانی میں مفہوم واضح نہیں ہیں کیونکہ تمثیلی انداز استعمال ہوا ہے۔ لیکن چند ہی جملوں کے بعد ہمارے سامنے ایک بوڑھے شخص کی تصویر اُبھر آتی ہے جو بڑھاپے کے علاج معالجوں کا عجائب گھر معلوم ہوتا ہے اور لرزتے، لڑکھڑاتے قدموں سے قبر کی اٹل راہ پر چل رہا ہے۔
مقدس کتاب
۱ اپنی روٹی پانی میں ڈال دے کیونکہ تو بُہت دنوں کے بعد اُسے پائیں گا۔
۲ سات کو بلکہ آٹھ کو حصہ دے کیونکہ تو نہیں جانتا کہ زمین پر کیا بلا آئے گی۔
۳ جب بادل پانی سے بھرے ہوتے ہیں تو زمین پر برس کر خالی ہوجاتے ہیں اور اگر درخت جنوب کی طرف یا شمال کی طرف گرے تو جہاں درخت گرتا ہے وہیں پڑا رہتا ہے۔
۴ جو ہوا کا رُخ دیکھتا رہتا ہے وہ بوتا نہیں اور جو بادلوں کو دیکھتا ہے وہ کاٹتا نہیں ۔
۵ جیسا تو نہیں جانتا ہے کہ ہوا کی کیا راہ ہے اور حاملہ کی رحم میں ہڈیاں کیوں کر بڑھتی ہیں ویسا ہی تو خُدا کے کاموں کو جو سب کچھ کرتا ہے نہیں جانے گا۔
۶ صُبح کو اپنا بیج بو اور شام کو بھی اپنا ہاتھ ڈھیلا نہ ہونے دے کیونکہ تو نہیں جانتا کہ اُن میں سے کون سا بارور ہو گا۔ یہ یاوہ یا دونوں کے دونوں برابر برومند ہوں گے۔
۷ نُور شیرین ہے اور آفتاب کو دیکھنا آنکھوں کو اچھا لگتا ہے۔
۸ ہاں اگر آدمی برسوں زندہ رہے تو اُن میں خُوشی کرے لیکن تاریکی کے دنوں ک یاد رکھے کیونکہ وہ بُہت ہوں گے۔ سب کُچھ جو آتا ہے بُطلان ہے۔
۹ اے جوان تو اپنی جوانی میں خُوش ہو اور اُس کے ایّام میں اپنا جی بہلا اور اپنے دل کی راہوں میں اور اپنی آنکھوں کی منظوری میں چل لیکن یاد رکھ کہ ان سب باتوں کے لے خُدا تجھ کو عدالت میں لائے گا۔
۱۰ پس غم کو اپنے دل سے دُور کر اور بدی اپنے جسم سے نکال ڈال کیونکہ لڑکپن اور جوانی دونوں باطل ہیں۔