واعظ ۹

ج۔ آسمان کے نیچے زندگی سے لطف اُٹھانا (‏باب ۹)‏

۹:‏۱ باب ۹ میں واعظ ’’اِن سب باتوں پر دل سے غور‘‘ کرتا ہے اور ممکنہ حد تک وسیع اور جامع منظر پیش کرتا ہے۔ اُس نے دیکھا کہ نیک لوگ اور ’’دانش مند‘‘ لوگ اور اُن کے کام سب ’’خدا کے ہاتھ میں ہیں۔‘‘ لیکن جو کچھ اُن پر گزرتا ہے اُس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ یہ خدا کی ’’محبت‘‘ کا نشان ہے یا ’’عداوت‘‘ ہے۔ پورے کا پورا مستقبل نہ تو معلوم ہے نہ معلوم ہو سکتا ہے اور کچھ بھی واقع ہو سکتا ہے۔ 

۹:‏۲ لیکن کس چیز نے اُسے ایسا پیچیدہ معما بنا رکھا ہے کہ ’’صادق اور شریر پر‏، نیکوکار اور پاک اور ناپاک پر‘‘‏، عبادت گزار اور بے عبادت پر ’’ایک ہی حادثہ واقع ہوتا ہے۔‘‘ یعنی سب کا انجام قبر ہے۔ جہاں تک موت سے بچ نکلنے کا تعلق ہے ’’نیکوکار‘‘ کو ’’گنہگار‘‘ پر کچھ برتری حاصل نہیں۔ ’’جو قسم کھاتا ہے‘‘ اور ’’جو قسم کھانے سے ڈرتا ہے‘‘ دونوں ایک سی ناخوشگوار صورتِ حال سے دوچار ہوتے ہیں اور اُنہیں سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں۔ 

۹:‏۳ یہ زندگی کی سب سے بڑی آفت ہے __ کہ آخر کار موت ہر طبقے اور ہر قسم کے اِنسانوں پر قبضہ کر لیتی ہے۔ لوگ اخلاق سوز‏، مجنونانہ اور احمقانہ زندگیاں گزاریں (‏یا اس کے برعکس)‏ اور اِس کے بعد __ موت۔ اگر سب کا انجام موت ہی ہے تو کیا یہ بھاری اور زبردست بے اِنصافی نہیں؟

۹:‏۴ جب تک اِنسان جیتا ہے ’’اُمید‘‘ رہتی ہے یعنی وہ کسی بات کا اِنتظار کر سکتا ہے۔ اِس مفہوم میں ’’زندہ کتا مُردہ شیر سے بہتر ہے۔‘‘ یہاں کتے کا ذکر اِنسان کے بہترین دوست کی حیثیت سے نہیں بلکہ دُنیائے حیوانات میں سب سے رذیل اور ذلیل جانور کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ ’’شیر‘‘ حیوانات کا بادشاہ ہے‏، نہایت طاقتور اور شاندار جانور ہے۔ 

۹:‏۵ ’’زندہ‘‘ اِنسان کم سے کم یہ تو جانتے ہیں کہ ہم ’’مریں گے‘‘ مگر مُردے کچھ بھی نہیں جانتے کہ دُنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ 

جھوٹے اُستاد اِس آیت کو ہمیشہ استعمال کرتے اور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مُردوں کی جانیں نیند کی حالت میں رہتی ہیں۔ آخری سانس کے ساتھ ہی ہوش اور جاننے کی حالت ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اِس آیت اور اِس کتاب کی بنیاد پر کوئی عقیدہ قائم کرنا بے معانی ہے۔ بار بار زور دیا گیا ہے کہ واعظ کی کتاب اِنسانی تحقیق کے نتائج کی نمائندگی کرتی ہے جو اُس نے ’’دُنیا میں‘‘ سوالات کے جواب کی تلاش میں کی ہے۔ یہ الٰہی مکاشفہ پر نہیں بلکہ مشاہدہ اور منطق پر مبنی اخذ کردہ نتائج کو پیش کرتی ہے۔ اِس میں وہ باتیں ہیں کہ جن پر کوئی دانش مند آدمی اِس صورت میں غور کرتا جب اُس کے پاس بائبل مقدس نہ ہوتی۔ 

اگر آپ کسی شخص کو مرتے ہوئے اور اُس کی لاش کو قبر میں اُتارتے ہوئے دیکھیں تو کیا سوچیں گے جبکہ آپ جانتے ہیں کہ بالآخر خاک میں مل جائے گی؟ شاید آپ سوچیں کہ بس یہی اخیر ہے۔ اب میرا دوست کچھ نہیں جانتا۔ جو کچھ ہو رہا ہے اَب وہ اُس سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ وہ سب کچھ بھول گیا اور بہت جلد خود بھی بھُلا دیا جائے گا۔

۹:‏۶ سلیمان نے بھی یہی سوچا۔ اِنسان مر گیا تو ’’محبت اور عداوت و حسد‘‘ اور سارے اِنسانی جذبات ختم ہو گئے۔ اب دُنیا کے کاموں اور تجربات میں اُس کا ’’کوئی بخرہ نہیں‘‘ رہا۔ 

۹:‏۷ یوں واعظ گھوم پھر کر اپنے بنیادی نتیجے پر واپس آ جاتا ہے __ زندگی گزارو‏، موج کرو‏، کھاؤ اور ’’خوش دِلی سے اپنی مے‘‘ پیو۔ جو کچھ بھی کرتے ہو ’’خدا اُسے قبول کر چکا ہے۔‘‘ یہ اُس کے نزدیک قابلِ اعتراض نہیں۔ 

۹:‏۸ ماتمی لباس نہیں بلکہ شوخ لباس پہنو۔ اپنے سر پر راکھ نہیں بلکہ خوشبو دار تیل لگاؤ۔ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ دُنیا موج میلے اور کھیل تماشے کے لئے بنائی گئی ہے۔ اور سلیمان کا بھی یہی خیال ہے۔ 

۹:‏۹ جب تک ہو سکے ازدواجی زندگی کی خوشیوں سے بھی بھرپور اِستفادہ کرنا چاہئے۔ یوں تو زندگی کھوکھلی ہے‏، بطلان ہے اِس لئے جس قدر ہو سکے اِس کا لطف اُٹھا لینا چاہئے۔ ایک ایک دن کا مزہ لو کیونکہ تمہاری ساری محنت اور مشقت کا حاصل صرف یہی ہے۔ 

آیات ۷۔۹ گِلگامیش کی رزمیہ نظم (‏مسوپتامیہ کی تہذیب میں زمانۂ قبل از تاریخ کی ایک داستان)‏ کے مندرجہ ذیل شعروں سے حیرت ناک مشابہت رکھتی ہیں۔ بابل کی اِس قدیم نظم میں لافانیت اور طوفانِ عظیم کا بیان ہے:‏

دیوتاؤں نے اِنسان کو خلق کیا ہے
اور انسان کے لئے موت مقرر کر دی‏،
زندگی کو وہ اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں‏،
اے گلگامیش! تُو اپنا پیٹ بھر۔
اور رات دن خوش باش رہ‏،
ہر روز خوشی اور عیش کر‏،
رات دن زور مار اور شادمانی کر
تیری پوشاک شوخ رنگ ہو‏،
سر کو پانی سے دھو اور پاک کر۔
بال بچوں کی آرزو کر جو تیری ملکیت ہوں۔
اور اپنی جوانی کے دِنوں میں بیوی کے ساتھ عیش کر۔

یہاں اہمیت اِس بات کو نہیں کہ ایک بیان دوسرے سے نقل کیا گیا بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ’’دنیا میں‘‘ اِنسان کی حکمت ایک ہی نتیجے پر پہنچتی ہے۔

۹:‏۱۰ یہ اِس کتاب کے مشہور ترین مقولوں میں سے ایک ہے اور ایمان دار اِسے مسیحی خدمت میں حوصلہ افزائی‏، ولولہ اور جاں فشانی اُبھارنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اپنے سیاق و سباق میں اِس کا مطلب ہے کہ ہر ممکنہ خوشی اور عیش کے موقعے کو کسی صورت ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے کیونکہ ’’پاتال‘‘ یعنی قبر میں جہاں ہم جانے کو ہیں اور جہاں سے واپس نہیں آئیں گے‏، وہاں نہ کوئی کام کر سکیں گے‏، نہ کوئی ایجاد‏، نہ کچھ سوچ سکیں گے نہ جان سکیں گے۔ 

اِس آیت میں دی گئی نصیحت بہت عمدہ ہے‏، مگر وجہ نہایت بُری ہے۔ علاوہ ازیں یہ نصیحت اُن سرگرمیوں تک محدود رکھنی چاہئے جو جائز‏، روا‏، مفید اور ترقی دینے والی ہوں۔

۹:‏۱۱ ایک اَور بات جس کا واعظ نے مشاہدہ کیا یہ ہے کہ زندگی میں اِتفاق اور قسمت بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ ’’دوڑ‘‘ ہمیشہ سب سے ’’تیز‘‘ دوڑنے والا نہیں جیتتا۔ اور سب سے بہادر سپاہی ہمیشہ جنگ نہیں جیتتے۔ اور سب سے زیادہ ’’دانش مند‘‘ کو لذیذ ترین کھانا نہیں ملتا اور نہ ’’دولت عقل مندوں کو‘‘ ملتی ہے۔ اور نہ سب سے قابل شخص صدارت کے عہدے تک پہنچتا ہے۔ بدقسمتی ہر شخص کی راہ روکتی ہے۔ ’’وقت اور حادثہ‘‘ کامیابی اور ناکامی میں اہم حصہ ادا کرتے ہیں۔

۹:‏۱۲ اور کسی کو معلوم نہیں خوش قسمتی کب ہاتھ پکڑ لے۔ جیسے ’’مچھلیاں … جال میں‘‘ اور ’’چڑیاں پھندے میں‘‘ پھنس جاتی ہیں اُسی طرح بدقسمتی بلکہ موت بھی اِنسان پر آ پڑتی ہے۔ اُسے کبھی معلوم نہیں ہوتا کہ کون سی گولی پر میرا نام لکھا ہوا ہے۔ 

۹:‏۱۳۔۱۵ زندگی میں ایک اَور پریشانی یہ ہے کہ ’’حکمت‘‘ کی قدر ہمیشہ نہیں پہچانی جاتی‏، نہ اُس کی تعریف ہمیشہ کی جاتی ہے۔اِس کی مثال :‏ ’’ایک چھوٹا شہر تھا اور اُس میں تھوڑے سے لوگ تھے‘‘ اِس لئے اُس کا دفاع بہت کمزور تھا۔ ایک زورآور ’’بادشاہ‘‘ نے اُس کا محاصرہ کر لیا اور بھاری اسلحہ جنگ کے ساتھ شہر کی فصیل توڑنے کو تیار ہوا۔ 

ایسی اُمید شکن صورتِ حال میں اُس شہر کا ایک ’’کنگال‘‘ مگر ’’دانشور مرد‘‘ سامنے آیا اور ایسی تدبیر کی کہ ’’اُس شہر کو بچا لیا۔‘‘ اُس وقت وہ ہیرو تھا مگر بہت جلد لوگ اُسے بھول گئے۔ 

۹:‏۱۶ واعظ کو بہت رنج ہوا کہ اگرچہ ’’حکمت زور سے بہتر ہے تو بھی مسکین کی حکمت کی تحقیر ہوتی ہے۔‘‘ جونہی بحران ٹل گیا کسی کو اُس کی بات سننے میں دلچسپی نہ رہی۔ 

۹:‏۱۷ مگر اِنسان کے ناشکرے پن اور اجتناب اور بے پروائی کے باوجود یہ بات سچ ہے کہ ’’دانشوروں کی باتیں جو آہستگی سے کہی جاتی ہیں احمقوں کے سردار کے شور‘‘ اور زبان درازی سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔ 

۹:‏۱۸ ’’حکمت لڑائی کے ہتھیاروں‘‘ اور گولہ بارُود سے بہتر ہے۔ ۲۔سموئیل ۲۰:‏۱۴۔۲۲ میں ہم پڑھتے ہیں کہ ایک دانشور عورت نے بیت معکہ کے ابیل شہر کو کیسے بچا لیا جب یوآب نے اُس کا محاصرہ کیا تھا۔

لیکن ایک گنہگار احمق‏، دانشور کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتا ہے جیسے چھوٹی چھوٹی لومڑیاں تاکوں کو ویران کر دیتی ہے۔

مقدس کتاب

۱ ان سب باتوں پر میں نے دل سے غور کیا اور سب حال کی تفتیش کی اور معلوم ہُوا کہ صادق اور دانش مند اور اُن کے کام خُدا کے ہاتھ میں ہیں۔ سب کُچھ انسان کے سامنے ہے لیکن وہ نہ مُحبت جانتا ہے نہ عداوت۔
۲ سب کُچھ سب پر یکساں گُزرتا ہے۔ صادق اور شریر پر۔ نیکوکار اور پاک اور ناپاک پر ۔ اُس پر جو قُربانی گُزرانتا ہے اور اُس پر جو قربانی نہیں گُزرانتا ایک ہی حادثہ واقع ہوتا ہے۔ جیسا نیکوکار ہے ویسا ہی گُہنگار ہے ۔جیسا وہ جو قسم کھاتا ہے ویسا ہی وہ جو قسم سے ڈرتا ہے۔
۳ سب چیزوں میں جو دُنیا میں ہوتی ہیں ایک زبوُنی یہ ہے کہ ایک ہی حادثہ سب گُزرتا ہے۔ وہاں بنی آدم کا دل بھی شرارت سے بھرا ہے اور جب تک وہ جیتے ہیں حماقت اُن کے دل میں رہتی ہے اور اس کے بعد مُردوں میں شامل ہوتے ہیں۔
۴ چونکہ جو زندوں کے ساتھ ہے اُس کے لے اُمید ہے اس لے زندہ کُتا مُردہ شیر سے بہتر ہے۔
۵ کیونکہ زندہ جانتے ہیں کہ وہ مریں گے پر مُردے کُچھ نہیں جانتے اور اُن کے لے اور کُچھ اجر نہیں کیونکہ اُن کی یاد جاتی رہی ہے۔
۶ اب اُن کی مُحبت اور عداوت و حسد سب نیست ہو گے اور تا ابد اُن سب کاموں میں جو دُنیا میں کئے جاتے ہیں اُن کا کوئی حصہ بخرہ نہیں۔
۷ اپنی راہ چلا جا۔ خُوشی سے اپنی روٹی کھا اور خُوش دلی سے اپنی مے پی کیونکہ خُدا تیرے اعمال کو قبُول کر چُکا ہے۔
۸ تیرا لباس ہمیشہ سفید ہو اور تیرا سر چکناہٹ سے خالی نہ رہے۔
۹ اپنی بطالت کی زندگی کے سب دن جواُس نے دُنیا میں تجھے بخشی ہے ہاں اپنی بطالت کے سب دن اُس کی بیوی کے ساتھ جو تیری پیاری ہے عیش کر لے کہ اس زندگی میں اور تیری اُس محنت کے دوران میں جو تو نے دُنیا میں کی تیرا یہی بخرہ ہے۔
۱۰ جو کام تیرا ہاتھ کرنے کو پائے اُسے مقدوربھر کر کیونکہ پاتال میں جہاں تو جاتا ہے نہ کام ہے نہ منصوبہ ۔ نہ علم نہ حکمت۔
۱۱ پھر میں نے توجہ کی اور دیکھا کہ دُنیا میں نہ تو دوڑ میں تیز رفتار کو سبقت ہے نہ جنگ میں زور آور کو فتح اور نہ روٹی دانش مند کو ملتی ہے نہ دولت عقل مندوں کو اور نہ عزت اہل خرد کو بلکہ اُن سب کے لے وقت اور حادثہ ہے۔
۱۲ کیونکہ انسان اپنا وقت بھی نہیں پہچانتا۔ جس طرح مچھلیاں جو مُصیبت کے جال میں گرفتار ہوتی ہیں اور جس طرح چڑیاں پھندے میں پھنسائی جاتی ہیں اُسی طرح بنی آدم بھی بدبختی میں جب اچانک اُن پر آپڑتی ہے پھنس جاتے ہیں۔
۱۳ میں نے یہ بھی دیکھا کہ دُنیا میں حکمت ہے اور یہ مُجھے بڑی چیز معلُوم ہوئی۔
۱۴ ایک چھوٹا شہر تھا اور اُس میں تھوڑے سے لوگ تھے۔ اُس پر ایک بڑا بادشاہ چڑھ آیا اور اُس کا مُحاصرہ کیا اور اُس کے مُوابل بڑے بڑے دمدمے باندھے۔
۱۵ مگر اُس شہر میں ایک کنگال دانشور مرد پایا گیا اور اُس نے اپنی حکمت سے اُس شہر کو بچا لیا تو بھی کسی شخص نے اس مسکین مرد کو یاد نہ کیا۔
۱۶ تب میں نے کہا حکمت زور سے بہتر ہے تو بھی مسکین کی حکمت تحیقر ہوتی ہے اور اُس کی باتیں سُنی نہیں جاتیں۔
۱۷ دانشوروں کی باتیں جو آہستگی سے کہی جاتی ہیں احمقوں کے سردار کے شور سے زیادہ سُنی جاتی ہیں۔
۱۸ حکمت لڑائی کے ہتھیاروں سے بہتر ہے۔ لیکن ایک گُہنگار بُہت سی نیکی کو برباد کر دیتا ہے۔