۸:۱،۲ یہاں شو لمیت کی بات جاری ہے۔ وہ کہتی ہے ’’کاش کہ‘‘ یہ چرواہا یعنی اُس کا عاشق اور محبوب‘‘ میرا بھائی ہوتا۔‘‘ پھر وہ اُس کے بوسے یعنی ’’مچھیاں لیتی‘‘ اور کوئی اُسے الزام نہ دیتا۔ وہ اُسے ’’اپنی ماں کے گھر میں لے جاتی‘‘ اور اُسے ’’اناروں کے رَس سے‘‘ بنی ہوئی بہترین ’’ممزوج مے‘‘ پلاتی۔
۱۷۔ یروشلیم کی بیٹیوں کو آخری بار تاکید کی جاتی ہے (۸:۳،۴)
’’یروشلیم کی بیٹیوں‘‘ سے قطع نظر کرتے ہوئے شو لمیت اپنے آپ کو اپنے محبوب کی باہوں میں دیکھتی ہے۔ اور پھر اُنہیں آخری بار تاکید کرتی ہے کہ ’’اسے نہ جگاؤ، نہ اُٹھاؤ، جب تک کہ وہ اُٹھنا نہ چاہے۔‘‘
۱۸۔ وہ جوڑی اپنے گاؤں میں پہنچتی ہے ۔ عہد و پیمان یا قول و قرارکا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں (۸:۵۔۱۴)
۸:۵ الف اپنے آبائی گاؤں میں لوگ شو لمیت کو یروشلیم سے واپس آتے دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں ’’کون ہے جو بیابان سے اپنے محبوب پر تکیہ کئے چلی آتی ہے؟‘‘
۸:۵ ب یہ محبت کرنے والے نزدیک آتے ہیں تو چرواہا مانوس جگہوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ مثلاً ’’سیب کا درخت‘‘ جہاں اُن کا معاشقہ شروع ہوا تھا۔ مزید برآں یہ اُس (دوشیزہ) کی جائے پیدائش بھی ہے۔
۸:۶،۷ شو لمیت مشورہ دیتی ہے کہ عہد و پیمان کی تجدید کی جائے۔ یہ نہایت خوبصورت اور پُرمعنی الفاظ ہیں جن کا اِقتباس اکثر کیا جاتا ہے۔ اِن الفاظ سے وہ تصدیق کرتی ہے کہ میرے ’’عشق‘‘ کا کوئی ثانی یا حریف نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ’’موت کی مانند زبردست ہے۔‘‘ یہ کبھی بجھ نہیں سکتا اور نہایت انمول ہے۔
۸:۸،۹ برسوں پہلے نوعمر شو لمیت کے مستقبل کا سوچتے وقت اُس کے بھائیوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر وہ پاک دامن، پاکیزہ اور دیانت دار رہی (دیوار کی مانند جس کی دوسری طرف کوئی جا نہیں سکتا) تو اُسے جہیز میں ’’چاندی‘‘ دیں گے۔ اِس کے برعکس اگر وہ بے غیرت ہوئی اور ’’دروازہ‘‘ کی مانند ہوئی (جسے بآسانی کھولا جا سکے) تو وہ اُسے تنہائی میں چھپا رکھیں گے۔
۸: ۱۰،۱۱ دوشیزہ اب شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہے۔ وہ اپنے بھائیوں کو یقین دلاتی ہے کہ ’’دیوار‘‘ کی مانند ثابت قدم رہی ہوں۔ اُس کا محبوب اور عاشق اِس حقیقت کو جانتا ہے۔ وہ اُنہیں ’’بعل ہامون میں سلیمان کے تاکستان‘‘ کے بارے میں بتاتی ہے جہاں بہت سے باغبان یا مزارعے ہیں۔
۸:۱۲ لیکن دوشیزہ نے اُس تاکستان میں کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔ وہ کہتی ہے ’’میرا تاکستان جو میرا ہے میرے سامنے ہے۔‘‘ تاکستان سے اُس کی مراد ہے اپنا محبوب۔ جہاں تک دوشیزہ کا تعلق ہے سلیمان کو اُس کی دولت مبارک ہو۔ دوشیزہ کو اُس سے یا اُس کی دولت سے کوئی سروکار نہیں۔
۸:۱۳ گواہوں کی موجودگی میں چرواہا اُس سے کہتا ہے کہ شادی کر کے تُو اپنے آپ کو میرے لئے وقف کرنے کا اقرار کر اور کہہ ’’مجھے قبول ہے۔‘‘
۸:۱۴ اِستعاراتی زبان میں وہ اپنے محبوب سے کہتی ہے کہ مجھے اپنا بنا لینے کا دعویٰ کرنے میں ’’جلدی کر‘‘ اور یوں یہ کتاب اِختتام کو پہنچتی ہے۔
مانا جاتا ہے کہ یہ کتاب پاک کلام میں کثرتِ ازواج کی نہایت نمایاں مثال کے مقابلے میں پرانے عہدنامے کی یک زوجی کے حق میں نہایت زور دار توثیق و تصدیق ہے۔ مزید برآں یہ سلیمان کے زمانے کی اسرائیلی قوم کے لئے زبردست دلیل ہے کہ تم شادی میں خدا داد مثالی محبت کی طرف پھرو۔
مقدس کتاب
۱ کا شکہ تو میرے بھائی کی مانند ہوتا جس نے میری ماں کی چھاتیوں سے دُودھ پیا!میں تجھے جب باہر پاتی تو تیری مچھِیاں لیتی اور کوئی مُجھے حقیر نہ جانتا ۔
۲ میں تجھکو اپنی ماں کے گھر میں لے جاتی ۔وہ مجھے سکھاتی ۔میں اپنے اناروں کے رس سے تجھے ممزوج مے پلاتی ۔
۳ اُسکا بایاں ہاتھ میرے سر کے نیچے ہوتا اور داہنا مُجھے گلے لگاتا ۔
۴ اَے یروشلیم کی بیٹیو! میں تم کو قسم دیتی ہوں کہ تم میرے پیارے کو نہ جگاؤ نہ اُٹھاؤجب تک وہ اُٹھنا نہ چاہے ۔
۵ یہ کون ہے جو بیابان سے اپنے محبوب پر تکیہ کئے چلی آتی ہے ؟میں نے تجھے سیب کے درخت کے نیچے جگایا۔جہاں تیری ولادت ہوئی ۔جہاں تیری والدہ نے تجھے جنم دِیا۔
۶ نگین کی مانند مجھے اپنے دِل میں لگا رکھ اور تعویذ کی مانند اپنے بازو پر کیونکہ عشق موت کی مانند زبردست ہے اور عبرت پاتال سی بے مُروت ہے۔اُسے شعلے آگ کے شعلے ہیں اور خداوند کے شعلہ کی مانند۔
۷ سیلاب عشق کو بجھا نہیں سکتا ۔باڑھ اُسکو ڈبا نہیں سکتی ۔اگر آدمی محبت کے بدلے اپنا سب کچھ دے ڈالے تو وہ سراسر حقارت کے لائق ٹھہریگا۔
۸ ہماری ایک چھوٹی بہن ہے ۔ابھی اُسکی چھاتیاں نہیں اُٹھیں ۔جِس روز اُسکی بات چلے ہم اپنی بہن کے لئے کیا کریں؟
۹ اگر وہ دیوار ہو تو ہم اُس پر چاندی کا برج بنائینگے اور اگر وہ دروازہ ہو تو ہم اُس پر دیودار تختے لگائینگے ۔
۱۰ میں دیوار ہوں اور میری چھاتیاں بُرج ہیں اور میں اُسکی نظر میں سلامتی یافتہ کی مانند تھی۔
۱۱ بعل ہامون میں سُلیمان کا تاکستان کو باغبانوں کے سپرد کیا کہ کواُن میں سے ہر ایک اُسکے پھل کے بدلے ہزار مثقال چاندی ادا کرے۔
۱۲ میرا تاکستان جو میراہی ہے میرے سامنے ہے۔اَے سُلیمان !توتُو ہزار لے اور اُسکے پھل کے نگہبان دو سو پائیں ۔
۱۳ اَے بُوستان میں رہنے والی ! رفیق تیری آواز سُنتے ہیں تجھکو بھی سُنا ۔
۱۴ اَے میرے محبوب ! جلدی کر اور اُس غزال یا آہُو بچے کی مانند ہو جا جو بلسانی پہاڑیوں پر ہے۔