غزلُ الغزلات ۵

۵:‏۱ الف اَب چرواہا شو لمیت کی دعوت کا جواب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مَیں ’’اپنے باغ میں‘‘ آ رہا ہوں تاکہ اپنے خوشبودار مسالے جمع کر لوں‏، اپنا ’’شہد‘‘ کھاؤں اور ’’اپنی مے دودھ سمیت‘‘ پیؤں۔

۵:‏۱ ب اِس آیت کا آخری حصہ گمنام ناظرین کی طرف سے حوصلہ افزائی معلوم ہوتا ہے۔ وہ اِن دو افراد میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں جو دل و جان سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ 

۱۱۔ شو لمیت ایک خواب کو یاد کرتی ہے جس میں اُس نے اپنیکاہلی کے باعث اپنے محبوب سے ملاقات کا موقع کھو دیا تھا (‏۵:‏۲۔۸)‏

۵:‏۲۔۷ اب دوشیزہ ایک خواب بیان کرتی ہے جس میں اُس نے اپنے محبوب کو دروازہ کھٹکھٹاتے اور یہ کہتے سنا کہ ’’دروازہ کھول‏، میری محبوبہ!‘‘ اُس کا سر رات کی ’’شبنم سے تر‘‘ تھا۔ دوشیزہ نہا دھو کر آرام کے لئے لیٹ چکی تھی اِس لئے اُس نے دروازہ کھولنے میں پس و پیش کی تو محبوب نے ’’اپنا ہاتھ سوراخ سے اندر کیا۔‘‘ آخرکار وہ اُٹھ کر دروازے کے پاس گئی۔ اُس کے ہاتھ اُس ’’ مُر‘‘ سے خوشبودار ہو گئے جو محبوب کے ہاتھوں سے ٹپکا اور ’’قفل کے دستوں‘‘ پر گرا تھا۔ لیکن اِتنی دیر میں محبوب ’’مڑ کر چلا گیا تھا۔‘‘ اب دوشیزہ نے ’’بے حواس‘‘ ہو کر اُسے ’’ڈھونڈا‘‘‏، اُسے ’’پکارا‘‘ لیکن وہ اُسے نہ ملا۔ شہر کے ’’پہرے داروں‘‘ نے دوشیزہ کو کردار کے لحاظ سے غلط سمجھا اور اُسے ’’مارا اور گھایل کیا‘‘ اور اُس کی ’’چادر‘‘ اُس سے ’’چھین لی۔‘‘ اُس کا نقاب اُتار دیا۔ 

۵:‏۸ غم زدہ ہو کر وہ ’’یروشلیم کی بیٹیوں‘‘ کو تاکید کرتی ہے کہ اگر کہیں تمہیں میرا محبوب ملے تو اُسے بتانا کہ مَیں اب بھی اُسے ہمیشہ کی طرح دل سے چاہتی ہوں۔ مَیں اُس کے ’’عشق کی بیمار ہوں۔‘‘

۱۲۔ دربار کی خواتین کے اِستفسار پر شو لمیت اپنے محبوب کےحُسن اور جاذبیت کی تعریفیں کرتی ہے جس سے وہ بھی اُس کےمحبوب کو دیکھنے کی آرزو کرنے لگتی ہیں (‏۵:‏۹۔۶:‏۳)‏

۵:‏۹ محض ایک چرواہے کے لئے دوشیزہ کی مسلسل سرگرمی اور اِصرارِ محبت سے یروشلیم کی بیٹیوں کو بھی اُس کے بارے میں اِشتیاق پیدا ہوتا ہے۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں کوئی عورت سلیمان کی محبت کو ٹھکرا کر ایک گمنام سے دیہاتی لڑکے کی محبت کا دم بھرے گی۔ چنانچہ وہ اُس سے پوچھتی ہیں کہ ’’تیرے محبوب کو …کیا فضیلت ہے؟‘‘

۵:‏۱۰۔۱۶ اِس سے دوشیزہ کو موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنے محبوب کے حسن اور جاذبیت کی تعریف کرتے نہیں تھکتی۔ وہ کہتی ہے کہ ’’میرا محبوب … دس ہزار میں ممتاز ہے۔‘‘ وہ شاعرانہ استعارات اور تشبیہات کے خزانے لٹا دیتی ہے۔ وہ اپنے محبوب کے رنگ رُوپ‏، سر‏، زلفوں‏، آنکھوں‏، لبوں‏، رُخساروں‏، پیٹ‏، ٹانگوں‏، منہ‏، بدن‏، غرض پورے سراپا کی تعریفوں کے پُل باندھ دیتی ہے۔ المختصر اُس کا محبوب‏، پیارا اور دوست سراپا حُسن و جمال ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ میں اپنے باغ آیا ہوں اَے میری پیاری ! میری زوجہ !میں نے اپنا مُراپنے بلسان سمیت جمع کرلیا ۔میں نے اپنا شہد چھتے سمیت کھا لیا ۔ میں نے اپنی مے دودھ سمیت پی لی ہے ۔اَے دوستو! کھاؤ پیو ۔پیو!ہاں اَے عزیزو! خوب جی بھرکے پیو۔
۲ میں سوتی ہُوں پر میرا دِل جاگتا ہے۔میرے محبوب کی آواز ہے جو کھٹکھٹاتا اور کہتا ہے میرے لئے دروازہ کھول میری محبوبہ ! میری پیاری ! میری کبوتری ! میری پاکیزہ !کیونکہ میرا سر شبنم سے تر ہے۔اور میری زلفیں رات کی بوندوں سے بھری ہیں۔
۳ میں تو کپڑے اُتار چکی اب پھر کیسے پہنوں ؟میں تو اپنے پاؤں دھو چکی اب اُنکو کیوں میلا کُروں ؟
۴ میرے محبوب نے اپنا ہاتھ سُوراخ سے اندر کیا اور میرے دِل وجگر میں اُسکے لئے جنُبش ہوئی ۔
۵ میں اپنے محبوب کے لئے درواز ہ کھولنے کو اُٹھی اور میرے ہاتھوں سے مُرٹپکا اور میری اُنگلیوں سے رقیق مُرٹپکا اور قفل کے دستوں پر پڑا۔
۶ میں نے اپنے محبوب کے لئے درواز کھولا لیکن میرا محبوب مُڑ کر چلا گیا تھا۔جب وہ بولا تو میں بے حواس ہوگئی ۔میں نے اُسے ڈھونڈا پر نہ پایا ۔میں نے اُسے پُکارا پر اُس نے مجھے کچھ جواب نہ دِیا۔
۷ پہرے والے جو شہر میں پھرتے ہیں مجھے ملے۔اُنہوں نے مجھے مارا اور گھایل کیا۔شہر پناہ کے محافظوں نے میری چادر مجھ سے چھین لی۔
۸ اَے یروشیلم کی بیٹیو!میں تم کو قسم دیتی ہوں کہ اگر میرا محبوب تم کو مل جائے تو اُس سے کہدینا کہ میں عشق کی بیمار ہوں ۔
۹ تیرے محبوب کو کسی دوسرے محبوب پر کیا فضیلت ہے؟ اَے عورتوں میں سب سے جمیلہ !تیرے محبوب کو کسی دوسرے پر کیا فوقیت ہے جو ہمکو اِس طرح قسم دیتی ہے؟
۱۰ میرا محبوب سُرخ وسفید ہے۔وہ دس ہزار میں ممتاز ہے
۱۱ اُسکا سر خالص سونا ہے۔اُسکی زُلفیں پیچ درپیچ اور کوے سی کالی ہیں۔
۱۲ اُسکی آنکھیں اُن کبوتروں کی مانند ہیں جو دودھ میں نہا کر لب دریا تمکنت سے بیٹھے ہوں۔
۱۳ اُسکے رُخسار پھولوں کے چمن اور بلسان کی اُبھری ہوئی کیاریاں ہیں۔اُسکے ہونٹ سوسن ہیں جِن سے رقیق مُرٹپکتا ہے۔
۱۴ اُسکے ہاتھ زبرجد سے مُرصع سونے کے حلقے ہیں۔اُسکا پیٹ ہاتھی دانت کا کام ہے جِس پر نیلم کے پُھول بنے ہوں۔
۱۵ اُسکی ٹانگیں کُندن کے پایوں پر سنگ مرمر کے سُتون ہیں۔وہ دیکھنے میں لُبنان اور خوبی میں رشک سرو ہے۔
۱۶ اُسکا منہ ازبس شیرین ہے۔ہاں وہ سراپا عشق انگیز ہے۔اَے یروشلیم کی بیٹیو ! یہ ہے میرا محبوب ۔یہ ہے میرا پیارا۔