غزلُ الغزلات ۷

۱۵۔ سلیمان کی آخری کوشش بھی بے نتیجہ رہتی ہے (‏۷:‏۱۔۱۰)‏

۷:‏ ۱۔۹ الف سلیمان دوشیزہ کے سراپا کی بھرپور تعریف کئے جاتا ہے۔ وہ اُس کے اعضا کی مکمل تصویر کھینچنے کی خاطر اُنہیں اپنی وسیع و عریض قلم رَو کے مشہور مقامات سے تشبیہ دیتا ہے مثلاً ’’حبرون‏، بیت ربیم‏، دمشق اور کوہِ کرمل۔‘‘ پھر وہ اسے عالی شان اور بلند قامت ’’کھجور‘‘ کی شکل میں دیکھتا ہے اور اُس سے بغل گیر ہونا چاہتا ہے۔ ایسا کرنے میں محسوس ہو گا کہ اُس کی ’’چھاتیاں انگور کے گُچھے‘‘ اور اُس کے ’’سانس کی خوشبو سیب کی سی‘‘ اور اُس کے بوسے ’’بہترین شراب کی مانند‘‘ ہیں۔ 

۷:‏۹ب‏، ۱۰ دوشیزہ اِس جملے کو یہ کہہ کر ختم کرتی ہے کہ میری ’’شراب‘‘ تیرے (‏سلیمان)‏ کے لئے نہیں بلکہ اپنے ’’محبوب‘‘ کے لئے ہے۔ وہ واضح کرتی ہے کہ مَیں بادشاہ کی نہیں بلکہ اپنے عاشق کی ہوں۔ یہ کہتے ہوئے وہ جانتی ہے کہ چرواہا ’’میرا مشتاق‘‘ ہے۔ 

۱۶۔ شو لمیت اپنے چرواہے محبوب سے باتیں کرتی ہے جو اُسےلے جانے کو آ پہنچا ہے (‏۷:‏۱۱۔۸:‏۲)‏

۷:‏۱۱۔۱۳ اب اُس کا چرواہا عاشق یروشلیم میں آ پہنچا ہے اور وہ اُس کے ساتھ ’’کھیتوں میں … اور گاؤں میں‘‘ جانے کو آزاد ہے۔ وہ اُس کے ساتھ ’’کھیتوں میں سیر کرنے‘‘ اور صبح سویرے ’’انگورستانوں‘‘ میں جا کر یہ دیکھنے کی توقع رکھتی ہے کہ ’’تاک … میں پھول نکلے ہیں اور انار کی کلیاں کھلی ہیں یا نہیں۔‘‘ اِس دیہاتی پس منظر میں جہاں ’’مردُم گیاہ کی خوشبو پھیل رہی ہے‘‘ وہ اُسے ’’محبت‘‘ دکھائے گی اور ’’ہر قسم کے خشک و تر میوے‘‘ جو اُس نے ’’جمع کر رکھے ہیں‘‘ اُسے دے گی۔ 

مقدس کتاب

۱ اَے امیر زادی تیرے پاؤں جوتیوں میں کیسے خوبصورت ہیں!تیری رانوں کی گولائی اُن زیوروں کی مانند ہے جنکو کسی اُستاد کاریگر نے بنایا ہو۔
۲ تیری ناف گول پیالہ ہے جس میں ملائی ہوئی مے کی کمی نہیں۔تیرا پیٹ گیہوں کا انبار ہے جسکے گرداگرد سوسن ہوں ۔
۳ تیری دونوں چھاتیاں دوآہوبچے ہیں۔جو توام پیدا ہوئے ہوں ۔
۴ تیری گردن ہاتھی دانت کا بُرج ہے۔تیری آنکھیں بیت ربیم کے پھاٹک کے پاس حسبون کے چشمے ہیں۔تیری ناک لُبنان کے بُرج کی مثال ہے جو دمشق کے رُخ بنا ہے۔
۵ تیرا سر تجھ پر کرئل کی مانند ہے اور تیرے سر کے بال ارغوانی ہیں۔بادشاہ تیری زلفوں میں اسیرہے۔
۶ اَے محبوبہ ! عیش وعشرت کے لئے تو کسی جمیلہ اورجانفزا ہے !
۷ یہ تیری قامت کھجور کی مانند ہے اور تیری چھاتیاں انگور کے گچھے ہیں ۔
۸ میں نے کہا میں اِس کھجور پر چڑھونگا اور اِسکی شاخوں کر پکڑونگا ۔تیری چھاتیاں انگور کے گچھے ہوں اور تیرے سانس کی خوشبو سیب کی سی ہو
۹ اور تیرا منہ بہترین شراب کی مانند ہو جو میرے محبوب کی طرف سیدھی چلی جاتی ہے اور سونے والوں کے ہونٹوں پر سے آہستہ آہستہ بہ جاتی ہے۔
۱۰ میں اپنے محبوب کی ہوں اور وہ میرا مُشتاق ہے۔
۱۱ اَے میرے محبوب !چل ہم کھیتوں میں سیر کریں اور گاؤں میں رات کاٹیں۔
۱۲ پھر تڑکے انگورِستانوں میں چلیں اور دیکھیں کہ آیا تاک شگفتہ ہے اور اُس میں پھول نکلے ہیں اور انار کی کلیاں کھلی ہیں یا نہیں ۔وہاں میں تجھے اپنی محبت دِکھاؤنگی ۔
۱۳ مردم گیارہ کی خوشبو پھیل رہی ہے اور ہمارے دروازوں پر ہر قسم کے تروخشک میوے ہیں جو میں نے تیرے لئے جمع کر رکھے ہیں!اَے میرے محبوب !