۹۔ سلیمان ایک بار پھر دوشیزہ کو فریفتہ کرنے کی کوشش کرتا ہے،لیکن وہ اُس کی دل فریب باتوں سے متاثر نہیں ہوتی (۴:۱۔۶)
۴:۱۔۵ جو علما اِس نظریے کے حامی ہیں کہ غزل الغزلات میں تین کردار ہیں اُن میں اِس بات پر اِختلاف پایا جاتا ہے کہ یہاں بولنے والا سلیمان ہے یا چرواہا۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ وہ سلیمان ہے جس نے متعدد شادیاں کر رکھی تھیں۔ وہ ابھی ابھی یروشلیم میں واپس آیا ہے اور شو لمیت کا دل جیتنے کی ایک اَور کوشش کر رہا ہے۔
وہ کھل کر اور تفصیل سے اُس کے سراپا اور حُسن کی تعریفیں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے ’’نقاب‘‘ کے اندر سے جھانکتی ہوئی ’’آنکھیں‘‘ اُسے کبوتروں کی آنکھوں کی یاد دلاتی ہیں۔ اُس کے لہر یا چمکیلے بال ’’بکریوں کے گلہ کی مانند ہیں‘‘ جو سب مل کر ’’کوہِ جلعاد‘‘ کی ڈھلان پر دھوپ میں ’’بیٹھی ہوں۔‘‘ اُس کے چمک دار سفید ’’دانت‘‘ دیکھ کر اُسے ’’بھیڑوں‘‘ کا خیال آتا ہے جن کو ابھی ابھی ’’بال‘‘ کترنے کے بعد ’’غسل دیا گیا ہو۔‘‘ یہ دانت تواَم برّوں کی مانند ہے، یعنی ہر اُوپر والے جبڑے کے دانت کے بالمقابل نیچے والے جبڑے کا دانت موجود ہے اور ایک بھی ٹوٹا ہوا نہیں۔ اُس کے ’’ہونٹ قرمزی ڈورے ہیں‘‘ اور اُس کا ’’منہ‘‘ کامل طور پر متناسب ہے۔ ’’نقاب کے نیچے‘‘ اُس کی ’’کنپٹیاں انار کے ٹکڑوں کی مانند ہیں‘‘ اور اُس کی ’’گردن‘‘ کو سلیمان ’’داؤد کا بُرج‘‘ کہتا ہے۔ اُس کی چھاتیوں کی نازکی اور گداز کو وہ ’’دو تواَم آہُو بچوں‘‘ کے مشابہ ٹھہراتا ہے۔
۴:۶ یہاں شو لمیت سلیمان کی بات کاٹتی اور بتاتی ہے کہ مَیں تیری چاپلوسی سے متاثر نہیں ہو سکتی، مَیں اپنے محبوب سے دوبارہ ملنے کی راہ دیکھ رہی ہوں۔ جب ’’سایہ‘‘ ڈھل جائے گا اور دن ٹھنڈا ہو جائے گا تو مَیں ’’ مُر کے پہاڑ اور لوبان کے ٹیلے پر‘‘ یعنی اپنے محبوب کے پاس جا رہوں گی۔ (نوٹ۔ اُردو ترجمے میں فعل صیغہ مذکر میں استعمال ہوا ہے۔ اِس تفسیر کے مطابق صیغہ مونث ہونا چاہئے)۔
۱۰۔ نوجوان چرواہا آتا ہے اور دوشیزہ سے کہتا ہے کہ یروشلیم کوچھوڑ اور دیہات میں اُس گھر کو چل جس کا ہم نے منصوبہ بنایاہے۔ شو لمیت رضامندی کا اِظہار کرتی ہے (۴:۷۔۵:۱)
۴:۷۔۱۵ اب چرواہا منظر میں آتا ہے اور اپنی منگیتر سے کہتا ہے ’’ تُو لبنان سے … میرے ساتھ چلی آ۔‘‘ اِس کے ساتھ ہی وہ اُس کے حُسن و جمال، ’’محبت‘‘، ’’ہونٹوں‘‘، اُس کی ’’پوشاک کی خوشبو‘‘ یعنی اُس کی زندگی اور پاک دامنی کی تعریف کرتا ہے۔ وہ اُسے سیراب ’’باغ‘‘ سے تشبیہ دیتا ہے جس میں نہایت ’’لذیذ‘‘ پھل اور عمدہ ترین خوشبودار مسالے پیدا ہوتے ہیں مثلاً ’’بیدمشک اور دارچینی اور لُبان …‘‘
۴:۱۶ شاعرانہ زبان میں دوشیزہ اُسے کہتی ہے کہ تُو ’’میرے باغ‘‘ میں آ اور دعویٰ کر کہ مَیں تیری ہوں۔
مقدس کتاب
۱ دیکھ تو خوبرو ہے اَے میری پیاری ! دیکھ تو خوبصورت ہے ۔تیری آنکھیں تیرے نقاب کے نیچے دو کبوتر ہیں۔تیرے بال بکریوں کے گلہ کی مانند ہیں جو کوہ جاِماد پر بیٹھی ہوں۔
۲ تیرے دانت بھیڑوں کے گلہ کی مانند ہیں جنکے بال کترے گئے ہوں اور جنکو غُسل دیا گیا ہو ۔جن میں سے ایک نے بچے دِئے ہوں اور اُن میں ایک بھی بانجھ نہ ہو۔
۳ تیرے ہونٹ قرمزی ڈورے ہیں۔تیرا منہ دِلفریب ہے۔تیری کنپٹیاں تیرے نقاب کے نیچے انار کے ٹکڑوں کی مانند ہیں۔
۴ تیری گردن داؤد کا برج ہے جو سلاح خانہ کے لئے بنا جِس پر ہزار سپریں لٹکائی گئی ہیں وہ سب کی سب پہلوانوں کی سپریں ہیں۔
۵ تیری دونوں چھاتیاں دو توام آہو بچے ہیں جو سوسنوں میں چرتے ہیں۔
۶ جب تک دِن ڈھلے اور سایہ بڑھے میں مُر کے پہاڑ اور لُبان کے ٹیلے پر جارہونگا۔
۷ اَے میری پیاری !تو سراپا جمال ہے ۔تجھ میں کو ئی عیب نہیں۔
۸ لُبنان سے میرے ساتھ چلی آ۔ امانہ کی چوٹی پر سے ۔شیروں کی ماندوں سے اور چیتوں کے پہاڑوں پر سے نظر دوڑا۔
۹ اَے میری پیاری !میری زوجہ !تونے میرا دِل لُوٹ لیا ۔اپنی ایک نظر سے ۔اپنی گردن کے ایک طوق سے تونے میرا دِل غارت کر لیا ۔
۱۰ اَے میری پیاری !میری زوجہ !تیرا عشق کیا خوب ہے ! تیری محبت مے سے زیادہ لذیذ ہے اور تیرے عطروں کی مہک ہر طرح کی خوشبو سے بڑھکر ہے۔
۱۱ اَے میری زوجہ ! تیرے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے۔شہد وشیرتیری زبان تلے ہیں۔تیری پوشاک کی خوشبو لُبنان کی سی ہے۔
۱۲ میری پیاری ۔میری زوجہ ایک مُقفل باغچہ ہے۔وہ محفوظ سوتا اور سربہر چشمہ ہے ۔
۱۳ تیرے باغ کے پودے لذیذ میوہ دار انار ہیں۔ مہندی اور سُنبل بھی ہیں۔
۱۴ جٹاماسی اور زعفران ۔بید مُشک اور دار چینی اور لُبان کے تمام درخت ۔مُرا اور عود اور ہر طرح کی خالص خوشبو ۔
۱۵ تو باغوں میں ایک منبع آب حیات کا چشمہ اور لُبنان کا بھرنا ہے ۔
۱۶ اَے بادشمال بیدار ہو! اَے باد جنوب چلی آ! میرے باغ پر سے گذر تاکہ اُسکی خوشبو پھیلے ۔میرا محبوب اپنے باغ میں آئے اور اپنے لذیذمیوئے کھائے۔