ہ۔ غیر قوموں کی عدالت (۳: ۱۔ ۱۶ الف)
۳: ۱۔۸ خدا سب غیر قوموں کو یہوسفط کی وادی میں جمع کرے گا اور یہودیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں اُن کی عدالت کرے گا۔ صور اور صیدا اور فلستین کو سزا ملے گی کیونکہ وہ خدا کے لوگوں کو لُوٹتے اور ستاتے رہے۔ جیسے اُنہوں نے کیا ویسے ہی اب اُن کو بیچا اور غلام بنا دیا جائے گا۔ یہ اُن کے جرم کی مناسب سزا ہو گی۔
۳: ۹۔۱۶ الف غیر قوموں کو کہا گیا ہے کہ لڑائی کی تیاری کرو کیونکہ خداوند اِنفصال (فیصلہ کرنا) کی وادی میں اُن کے ساتھ جنگ کرے گا۔ خداوند یہوسفط کی وادی
میں اُن کے ساتھ جنگ کرے گا۔ خداوند یہوسفط کی وادی میں بیٹھ کر اِرد گرد کی سب قوموں کی عدالت کرے گا۔ مطلق العنان خدا فی الوقت سارے لوگوں، ساری قوموں کا اِمتحان لے رہا ہے __ بے شک آج کی دُنیا کو یہ خیال قابلِ قبول نہ ہو۔ Stevenson کہتا ہے:
’’لوگ بائبل مقدس کی اِس تعلیم کو اکثر ردّ کرتے ہیں کہ افراد اور قوموں کیعدالت ہونے والی ہے۔ وہ اِسے دقیانوسی تصور قرار دیتے ہیں۔ لیکن خدا کے لوگ پشت در پشت اس ایمان پر قائم رہے ہیں کہ خداوند کے روز ساری دُنیا کی عدالت ہو گی اور خداوند اِنصاف کرے گا۔ یہ ہمارا یقین ہے جس کی بنیاد پاک نوشتوں کی چٹان پر ہے۔ ‘‘
و۔ یہودیوں کی بحالی اور مستقبل کی مبارک حالی (۳: ۱۶ ب _ ۲۱)
لیکن خداوند اپنے لوگوں کو برکت بخشے گا، انہیں رہائی دلائے گا، حملہ آوروں سے محفوظ رکھے گا اور ضرورت کی ہر چیز کثرت سے فراہم کرے گا۔ اِسرائیل کی زمین خوب سیراب اور زرخیز ہو جائے گی۔ اِس کے ’’پہاڑوں پر سے نئی مے ٹپکے گی اور ٹیلوں سے دودھ بہے گا اور یہوداہ کی سب ندیوں میں پانی جاری ہو گا‘‘۔ ’’مصر … اور ادوم سنسان بیابان‘‘ ہو جائیں گے ’’…لیکن یہوداہ ہمیشہ آباد رہے گا‘‘۔ خدا اُسے خون کے جرم سے بھی بری کر دے گا۔
کتاب کا اِختتام اِس یقین کے ساتھ ہوتا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ ’’خداوند صیون میں سکونت پذیر ہے۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اُن ایّام میں اور اُسی وقت جب میں یہُوداہ اوریروشیلم کے اسیروں کو واپس لاؤںگا۔
۲ تو سب قوموں کو جمع کُروں گا اور اُن کو یہُو سفط کی وادی میں اُتارلاؤں گا اور وہاں اُن پر اپنی قوم اور میراث اسرائیل کےلئے جن کو اُہیوں نے قوموں کے درمیان پراگندہ کیا اور میرے مُلک کو بانٹ لیا حُجت ثابت کُروں گا۔
۳ ہاں اُنہوں نے میرے لوگوں پر قرعہ ڈالااور ایک کسبی کے بدلے ایک لڑکا دیا اور مے کے لے ایک لڑکی بیچی تاکہ میخواری کریں۔
۴ پس اے صُور و صید اور فلستین کے تمام علاقو میرے لے تمہاری کیا حقیقت ہے؟ کیا تم مُجھ کو بدکہ دو گے؟ اور اگر دو گے تو میں وہیں فورا تمہارا بدلہ تمہارے سر پر پھینک دُوں گا۔
۵ چونکہ تُم نے میرا سونا چاندی لے لیا ہے اور میری لطیف و نفیس چیزیں اپنے مندروں میں لے گئے ہو۔
۶ اور تم نے یہُوداہ اور یروشیلم کی اولاد کو یُونانیوں کے ہاتھ بیچا ہے تا کہ اُن کو اُن کی حدُود سے دُور کرو۔
۷ اس لے میں اُن کو اُس جگہ سے جہاں تم نے بیچا ہے برا نگخیتہ کُروں گا اور تمہارا بدلہ تمہارے سر پر لاوں گا۔
۸ اور تمہارے بیٹے بیٹیوں کو بنی یہُوداہ کے ہاتھ بیچوں گا اور وہ اُن کو اہل سبا کے ہاتھ جو دُور کے مُلک میں رہتے ہیں بیچیں گے کیونکہ یہ خُداوند کا فرمان ہے۔
۹ قوموں کے درمیان اس بات کی مُنادی کرو۔لڑائی کی تیاری کرو۔بُہادُروں کو برا نگخیتہ کرو۔جنگی جوان حاضر ہوں۔ وہ چڑائی کریں۔
۱۰ اپنے ہل کی پھالوں کو پیٹ کر تلواریں بناؤاور ہنسووں کو پیٹ کر بھالے۔ کمزور کہے کہ میں زور آور ہُوں۔
۱۱ اے اردگرد کی سب قومو جلد آ کر جمع ہو جاؤاے خُداوند اپنے بہادُروں کو وہاں بھیج دے۔
۱۲ قومیں برا نگخیتہ ہوں اور یُہوسفط کی وادی میں آئیں کیونکہ میں وہاں بیٹھ کر اردگرد کی سب قوموں کی عدالت کُروں گا۔
۱۳ ہنسوا لگاو کیونکہ کھیت پک گیا ہے۔آؤروندو کیونکہ حوض لبا لب اور کو لُھولبریز ہیں کیونکہ اُن کی شرارت عظیم ہے۔
۱۴ گروہ پر گروہ انفصال کی وادی میں ہے کیونکہ خُداوند کا دن انفصال کی وادی میں آپُہنچا۔
۱۵ سورج اور چاند تاریک ہو جائیں گےاور ستاروں کا چمکنا بند ہو جائے گا۔
۱۶ کیونکہ خُداوند صیون سے نعرہ مارے گا اور یروشیلم سے آواز بُلند کرے گااور آسمان و زمین کانپیں گےلیکن خُداوند اپنے لوگوں کی پناہ گاہ اوربنی اسرائیل کا قلعہ ہے۔
۱۷ پس تم جانو گے میں خُداوند تمہارا خُدا ہُوں جو صیون میں اپنے کوہ مُقدس پر رہتا ہُوں تب یروشیلم بھی مُقدس ہو گااور پھر اُس میں کسی اجنبی کا گُزر نہ ہوگا۔
۱۸ اور اُس روز پہاڑوں پر سے نئی مے ٹپکے گےاور ٹیلوں پر سے دُودھ بہے گا اور یہُوداہ کی سب ندیوں میں پانی جاری ہوگااور خُدواند کے گھر سے ایک چشمہ پُھوٹ نکلے گااور وادی شطیم کو سیراب کرئے گا۔
۱۹ مصر ویرانہ ہوگا اور اُدوم سُنسان بیابان کیونکہ اُنہوں نے بنی یہُوداہ پر ظُلم کیااور اُن کے مُلک میں بے گُناہوں کا خُون بہایا۔
۲۰ لیکن یہُوداہ ہمیشہ آباد اور یروشیلم پُشت در پُشت قائم رہے گا۔
۲۱ کیونکہ میں اُن کا خُون پاک قراردُوں گاجو میں نے اب تک پاک قرار نہ دیا تھا کیونکہ خُداوند صیون میں سکونت پذیرہے۔+