یُوایل ۲

۲۔ دشمن کی یلغار کا بیان (‏۲:‏ ۱۔۱۱)‏

۲:‏ ۱۔۳ نرسنگا پھونک کر لوگوں کو جنگ کے لئے بلایا گیا ہے کیونکہ ’’خداوند کا روز … آ پہنچا ہے‘‘۔ فوری اشارہ تو بابل کی اسیری تھا۔ لیکن اِس نبوت کی پوری تکمیل مستقبل میں ہو گی۔ حملہ آوروں کے آنے سے پہلے یہوداہ کی سرزمین باغِ عدن کی مانند تھی‏، مگر بعد میں ویران بیابان ہو گئی۔ 

۲:‏ ۴۔۱۱ ٹڈیوں کے بیان کے لئے متعدد تشبیہات استعمال کی گئی ہیں‏، مثلاً تیز رفتار گھوڑے‏، جنگی مردوں کی طرح دیواروں پر چڑھنا۔ ان کا اپنی اپنی صف میں رہتے ہوئے آگے بڑھنا‏، شہر میں کود پڑنا‏، چور کی طرح ہر جگہ گھس جانا‏، تعداد کی کثرت سے آسمان کو تاریک کر دینا۔ یہ سارے صحائفِ انبیا میں سب سے زیادہ شاعرانہ اور صاف بیان ہے۔ 

یہ ناقابلِ برداشت یلغار خداوند کے اِشارے سے یا اُس کے ایما پر ہو گی جس کا لشکر بے شمار ہے۔

۳۔ خدا کی طرف سے اپیل کہ یہوداہ توبہ کرے (‏۲:‏ ۱۲۔۱۴)‏

اب بھی خداوند لوگوں کو کہتا ہے کہ توبہ کرو۔ اُس کی طرف پھرنے اور رجوع لانے کا وقت گزر نہیں گیا۔ لیکن ضرور ہے کہ توبہ ظاہری رسم پرستی نہ ہو بلکہ پورے دل سے اور روزہ رکھ کر اور گریہ و زاری اور ماتم کے ساتھ ہو۔ 

۴۔ روزے کا اِعلان (‏۲:‏ ۱۵۔۱۷)‏

لوگوں کے سارے طبقوں کو طلب کیا گیا ہے کہ مقدس محفل میں جمع ہوں اور روزے کے لئے ایک دن مقرر کریں۔ مستقبل میں ایک دن کاہن فراہم ہوں گے اور خداوند کے حضور توبہ و استغفار اور گریہ و زاری کریں گے۔ 

۵۔ خدا رہائی دِلانے کا وعدہ کرتا ہے (‏۲:‏ ۱۸۔۳:‏۲۱)‏

الف۔ مادی خوش حالی (‏۲:‏ ۱۸‏،۱۹‏، ۲۱۔۲۷)‏

تب خداوند کو اپنے ملک کے لئے غیرت آئے گی اور وہ اپنے لوگوں پر رحم کرے گا۔ وہ اُن کو اناج اور نئی مے اور تیل اِفراط سے عطا کرے گا اور قوموں کے درمیان سے اُن کی رسوائی دُور کرے گا۔ زمین کی زرخیزی بحال کی جائے گی اور وہ ہر قسم کا غلہ‏، اناج اور پھل کثرت سے پیدا کرے گی۔ بروقت اور اعتدال سے بارش کے باعث حوض نئی مے سے اور کھلیان گندم سے بھر جائیں گے۔ لوگ بھی بحال کئے جائیں گے اور پھر کبھی ہرگز شرمندہ نہ ہوں گے۔ جتنے برسوں کا حاصل غول در غول آنے والی ٹڈیاں کھا گئی تھیں‏، خداوند وہ بھی واپس کرے گا (‏۲:‏ ۲۵)‏۔ 

ب۔ دشمن کی ہلاکت (‏۲:‏ ۲۰)‏

یو ایل کے باقی ماندہ حصے میں خداوند بتاتا ہے کہ مَیں یہوداہ کے ساتھ کیا سلوک کروں گا۔ وہ شمالی لشکر (‏اسوریوں)‏ کو فنا کر دے گا اور مشرقی سمندر (‏بحیرۂ مردار)‏ سے لے کر مغربی سمندر (‏بحیرۂ روم)‏ تک اُن کا نام و نشان نہ ملے گا۔ 

ج۔ خدا کے رُوح کا اُنڈیلا جانا (‏۲:‏ ۲۸‏،۲۹)‏

اُن دنوں میں خدا ہر فردِ بشر پر اپنا روح اُنڈیلے گا۔ جوان پشت نبوت کرے گی اور رُؤیا دیکھے گی اور بوڑھے خواب دیکھیں گے۔ روح اُنڈیلنے کی پیش گوئی اعمال ۲:‏ ۱۶۔۲۱ میں جزوی طور پر پوری ہوئی۔ لیکن پنتکست پر ختم نہیں ہو گئی۔ اِس کی پوری تکمیل مسیح کی ہزار سال بادشاہی کے آغاز پر ہو گی۔

د۔ مسیح کی آمدِثانی سے پہلے نشانیاں (‏۲:‏ ۳۰۔۳۲)‏

روح القدس کے انڈیلے جانے سے پہلے عجائب رُونما ہوں گے۔ اِن عجیب نشانوں میں سے چند ایک یہ ہیں:‏ خون اور آگ اور دھوئیں کے ستون‏، آفتاب کا تاریک اور مہتاب (‏چاند)‏ کا خون ہو جانا۔ جتنے لوگ یسوع کو مسیحِ موعود مان کر اُس کی طرف رجوع ہوں گے اور وہ نجات پائیں گے اور اُس کے ساتھ ہزار سالہ دَور میں داخل ہوں گے۔

مقدس کتاب

۱ صُّیون میں نر سنگا پُھونکو۔میرے کوہ مُقدس پر سانس باندھ کر زور سے پُھونکو۔مُلک کے تمام باشندے تھر تھرائیں کیونکہ خُداوند کا روز چلا آتا ہے بلکہ آپہنچا ہے۔
۲ اندھیرے اور تاریکی کا روز۔ابر سیاہ اور ظُلمات کا روز ہے۔ایک بڑی اور زبردست اُمت جس کی مانند نہ کبھی ہُوئی اور نہ سالہای دراز تک اُس کے بعد ہوگی پہاڑوں پر صُبح صادق کی طرح پھیل جاے گی۔
۳ گویا اُن کے آگے آگے آگ بھسم کرتی جاتی ہےاور اُن کے پیچھے پیچھےشُعلہ جلاتا جاتا ہے۔اُن کے آگے زمین باغ عدن کی مانند اور اُن کے پیھچے ویران بیابان ہے۔ ہاں اُن سے کُچھ نہیں بچتا۔
۴ اُن کی نمود گھوڑوں کی سی ہےاور سواروں کی مانند دوڑتے ہیں۔
۵ پہاڑوں کی چوٹیوں پر رتھوں کے کھڑ کھڑانےاور بُھوسے کو بھسم کرنے والے شُعلہ آتش کے شور کی مانند بُلند ہوتے ہیں۔وہ جنگ کے لے صف بستہ زبردست قوم کی مانند ہیں۔
۶ اُن کے رُو بُرو لوگ تھر تھراتے ہیں۔سب چہروں کا رنگ فق ہو جاتا ہے۔
۷ وہ پہلوانوں کی طرح دوڑتےاور جنگی مردوں کی طرح دیواروں پرچڑھ جاتے ہیں۔ اور صف نہیں توڑتے۔
۸ وہ ایک دُوسرے کو نہیں دھکیلتے۔ہر ایک اپنی راہ پر چلا جاتا ہے۔وہ جنگی ہتھیاروں سے گُزر جاتے ہیں اوربے ترتیب نہیں ہوتے۔
۹ وہ شہر کُود پڑتےاور دیواروں اور گھروں پر چڑھ کر چوروں کی طرح کھڑکیوں سے گُھس جاتے ہیں۔
۱۰ اُن کے سامنے زمین و آسمان کانپتے اوراور تھر تھراتے ہیں۔ سُورج اور چاند تاریک اور ستارے بے نُور ہو جاتے ہیں۔
۱۱ اور خُداوند اپنے لشکرکے سامنے للکارتاہےکیونکہ اُس کالشکر بے شُمار اور اُس کے حُکم کو انجام دینے والا زبردست ہےکیونکہ خُداوند کا روز عظیم نہایت خوُفناک ہے۔ کون اُس کی برداشت کر سکتا ہے؟۔
۱۲ لیکن خُداوند فرماتا ہےاب بھی پُورے دل سے اور روزہ رکھ کراور گریہ زاری و ماتم کرتے ہُوئےمیری طرف رجُوع لاؤ ۔
۱۳ اور اپنے کپڑوں کو نہیں بلکہ دلوں کو چاک کر کےخُداوند اپنے خُدا کی طرف متوجہ ہوکیونکہ وہ رحیم و مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہےاور عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔
۱۴ کون جانتا ہے کہ وہ باز رہے اور برکت باقی چھوڑے جو خُداوند تمہارے خُدا کے لے نذد کی قربانی اور تپاون ہو۔
۱۵ صُّیون میں نر سنگا پُھونکو اور روزہ کے لے ایک دن مُقدس کرو۔مُقدس محفل فراہم کرو۔
۱۶ تم لوگوں کو جمع کرو۔ جماعت کو مُقدس کرو۔ بزرگوں کو اکھٹا کرو۔بچوں اور شیر خواروں کو بھی فراہم کرو۔ دُلہا اپنی کوٹھری سے اور دُلہن اپنے خلوت خانہ سے نکل آئے۔
۱۷ کاہن یعنی خُداوند کے خادم ڈیوڑھی اور قربان گاہ کے درمیان گریہ زاری کریں اور کہیں اے خُداوند اپنے لوگوں پر رحم کر اور اپنی میراث کی توہین نہ ہونے دے۔ایسا نہ ہو کہ دُوسری قومیں اُن پر حکُومت کریں۔ وہ اُمتوں کے درمیان کیوں کہیں کہ اُن کا خُدا کہاں ہے؟۔
۱۸ تب خُداوند کو اپنے مُلک کے لے غیرت آئی اور اُس نے اپنے لوگوں پر رحم کیا۔
۱۹ پھر خُداوند نے اپنے لوگوں سے فرمایا میں تم کو اناج اور نئی مے اور تیل عطا فرماوں گا اور تم اُن ست سیر ہوگےاور میں پھر تم کو قوموں میں رُسوا نہ کُروں گا۔
۲۰ اور شمالی لشکر تم سے دُور کُروں گااور اُسے خُشک بیابان میں ہانک دُوں گا۔اُس کے اگلے مشرق سُمندر میں اور پچھلے مغربی سُمندر میں ہوں گے۔اُس سے بدبو اُٹھے گی اور عفُونت پیھلے گی کیونکہ اُس نے بڑی گُستاخی کی ہے۔
۲۱ اے زمین ہراسان نہ ہو۔خُوشی اور شادمانی کرکیونکہ خداوند نے بڑے بڑے کام کے ہیں۔
۲۲ اے دشتی جانور و ہراسان نہ ہوکیونکہ بیابان کی چراگاہ سبز ہوتی ہےاور درخت اپنا پھل لاتے ہیں۔انجیر اور تاک اپنی پُوری پیداوار دیتے ہیں۔
۲۳ پس اے بنی صیُّون خُوش ہواور خُداوند اپنے خُدا میں شادمانی کرو کیونکہ وہ تم کو پہلی برسات اعتدال سے بخشے گا۔وہی تمہارے لئےبارش یعنی پہلی اور پچھلی برسات بروقت بھیجے گا۔
۲۴ یہاں تک کےکھیلہان گیہوں سے بھر جائیں گےاور حوض نئی مے اور تیل سے لبریز ہوں گے۔
۲۵ اور اُن برسوں کا حاصل جو تمہارے خلاف بھیجی ہُوئی فوج ملخ نگل گئی اور کھا کر چٹ کر گئی تم کو واپس دُوں گا۔
۲۶ اور تم خون کھاو گے اور سیر ہو گے اور خپداوند اپنے خُدا کے نام کی جس نے تم سے عجیب سلوک کیا ستایش کرو گےاور میرے لوگ ہرگز شرمندہ نہ ہوں گے۔
۲۷ تب تم جانو گے کہ میں اسرائیل کے درمیان ہُوں اور میں خُداوند تمہارا خُدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں اور میرے لوگ کبھی شرمندہ نہ ہوں گے۔
۲۸ اور اس کے بعد میں ہر فرد بشر پراپنی رُوح نازل کُروںگا اور تمہارے بیٹے بیٹیاں نبوت کریں گے۔تمہارے بوڑھے خواب اور جوان رویا دیکھیں گے۔
۲۹ بلکہ میں ان ایّام میں غُلاموں اور لونڈیوں پر انپی روح نازل کُروں گا۔
۳۰ اور میں زمین و آسمان میں عجائب ظاہر کُروں گایعنی خُون اورآگ اور دُھوئیں کے ستون۔
۳۱ اس سے بیشتر کہ خُداوند کا خُوفناک روز عظیم آئے آفتاب تاریک اور مہتاب خُون ہو جائے گا۔
۳۲ اور جو کوئی خُداوند کا نام لے گا نجات پاے گا کیونکہ کوہ صیون اور یروشیلم میں جیساخُداوند نے فرمایا ہے بچ نکلنے والے ہوں گے اور باقی لوگوں میں وہ جن کو خُداوند بُلاتا ہے۔