حجَّی ۲

۲۔ دوسری نبوت __ ساتویں مہینے کی اکیسویں تاریخ (‏۲:‏۱۔۹)‏

الف۔ نبی دوبارہ حوصلہ افزائی کرتا اور یقین دلاتا ہے کہ خدا تمہارےساتھ ہے (‏۲:‏۱۔۵)‏

تقریباً ایک مہینے کے بعد ساتویں مہینے میں لوگ نئی عمارت کے بارے میں بے دل ہو گئے تھے کیونکہ وہ پہلی ہیکل کی رونق کو یاد کرتے تھے۔ قوم کے لیڈروں سے کہا گیا کہ حوصلہ رکھو اور ہمت نہ ہارو کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ مَیں تمہارے ساتھ ہوں۔ اور یہ بھی کہ میری روح تمہارے ساتھ رہتی ہے۔

ب۔ مستقبل کی ہیکل کی رونق پہلی ہیکل سے زیادہ ہو گی (‏۲:‏۶۔۹)‏

خدا نے اِس یقین دہانی کے ساتھ لیڈروں کا حوصلہ بڑھایا کہ مستقبل (‏ہزار سالہ دَور)‏ کی ہیکل کی رونق پہلی ہیکل کی رونق سے زیادہ ہو گی۔

’’اُن (‏سب قوموں)‏ کی مرغوب چیزیں …‘‘ کئی دفعہ ان جملوں سے مسیحِ موعود اور اُس کی ہیکل میں واپسی مراد لی جاتی ہے۔ لیکن سیاق و سباق میں اِس کا مطلب یہی ہے کہ قومیں اپنی عمدہ ترین اور نہایت قیمتی چیزیں یا خزانے وہاں لائیں گے۔ ’’سونا … اور چاندی‘‘ بہتات سے یروشلیم میں آئے گا تاکہ ہیکل کی آرائش و زیبائش میں استعمال ہو۔ آیت ۹ الف میں لکھا ہے‏، ’’اِس پچھلے گھر کی رونق پہلے گھر کی رونق سے زیادہ ہو گی۔‘‘ دونوں گھر ایک ہی ہیکل ہیں۔ مستقبل کے لئے رونق کے علاوہ سلامتی کا بھی وعدہ ہے۔

۳۔ تیسری نبوت __ نویں مہینے کی چوبیسویں تاریخ (‏۲:‏۱۰۔۱۹)‏

الف۔جب تک ہیکل کھنڈر ہے مذبح پر گزرانی جانے والی قربانیاں ناپاک ہوں گی(‏۲:‏۱۰۔۱۴)‏

تیسری نبوت نویں مہینے کی چوبیسویں تاریخ کو دی گئی۔ لوگوں سے کہا گیا کہ کاہنوں سے دو سوال پوچھیں۔

  1. اگر کوئی پاک گوشت کو اپنے لباس کے دامن میں لئے جاتا ہو اور اُس کا دامن کھانے کی دوسری چیزوں سے چھو جائے تو کیا وہ چیزیں پاک ہو جائیں گی؟‘‘ کاہنوں نے بالکل صحیح جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔
  2. اگر کوئی کسی مردے کو چھونے سے ناپاک ہو گیا ہو اور وہ اُن کھانے کی چیزوں کو چھوئے تو کیا وہ چیزیں ناپاک ہو جائیں گی؟ کاہنوں نے بالکل صحیح جواب دیا کہ وہ ضرور ناپاک ہو جائیں گی۔

دوسرے لفظوں میں یہ سمجھا گیا کہ جو پاک ہے وہ کسی دوسری چیز کو پاک نہیں کرتا‏، لیکن جو ناپاک ہے وہ ناپاکی کو آگے منتقل کر دیتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ عبادت اور اعمال گناہ کو پاک نہیں کرتے‏، البتہ گناہ عبادت اور اعمال کو ناپاک کر دیتا ہے۔ اِس طرح لوگوں کو یاد دلایا گیا کہ جب تک ہیکل ٹوٹی پڑی اور کھنڈر ہے اُس وقت تک جو قربانیاں اور ہدیئے تم خداوند کے حضور چڑھاتے ہو وہ ناپاک ہیں اور تم خود ناپاک ہو۔ 

ب۔ ہیکل کی بنیاد ڈالنے سے پہلے لوگ قلت کا شکار تھے(‏۲:‏۱۵۔۱۷)‏

ہیکل کی ازسرنو تعمیر شروع کرنے سے پہلے اُنہیں اناج اور مے کی قلت کا سامنا تھا اور اُن کی فصلوں کو بادِسموم اور گیروئی اور اَولے مار جاتے تھے۔ اُس وقت سے اب تک ہیکل کو بنانے میں لامتناہی تاخیر کے باعث خدا نے اُنہیں سزا دی اور مشکل اور محرومی سے دوچار رکھا ہے۔

ج۔ اگر وہ ہیکل کی تعمیر دوبارہ شروع کریں تو خدا برکت دے گا(‏۲:‏۱۸‏،۱۹)‏

لیکن جس دن وہ خداوند کے گھر کی بنیاد ڈالیں گے اُسی دن سے خدا اُنہیں برکت دینا شروع کر دے گا۔

۴۔ چوتھی نبوت __ نویں مہینے کی چوبیسویں تاریخ (‏۲:‏۲۰۔۲۳)‏

لوگ اِس وعدے سے حوصلہ پاتے ہیں کہ غیر قوم سلطنتیں نیست ہوں گی اور مسیحِ موعود کی بادشاہی قائم ہو گی

الف۔یہاں زرُبابل خداوند یسوع مسیح کا ایک مثیل ہے۔ خدا دُنیا کی غیر قوموں کی سلطنتوں کا تختہ اُلٹ دے گا اور اُنہیں نیست کر دے گا اور مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی قائم کرے گا۔ نگین (‏مُہر لگانے کی انگوٹھی)‏ یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکمرانی کرنے کا الٰہی اِختیار مسیح کے حوالے کیا گیا ہے۔

مقدس کتاب

۱ ساتویں مہینے کی اکیسویں تاریخ کو خُداوند کا کلام حجی نبی کی معرفت پُہنچا۔
۲ کہ یہُوداہ کے ناظم زربابل بن سیالتی ایل سردار کاہن یُشوع بن یہُوصدق اور لوگوںکے بقیہ سے یُوں کہہ۔
۳ کہ تُم میں سے کس نے اس ہیکل کی پہلی رونق کو دیکھا؟ اور اب کیسی دکھائی دیتی ہے؟ کیا یہ تُمہاری نظر میں ناچیز نہیں ہے؟۔
۴ لیکن اے زربابل حوصلہ رکھ خُداوند فرماتا ہے اور اے سردار کاہن یُشوع بن یُہو صدق حوصلہ رکھ اور اے مُلک کے سب لوگو حُوصلہ رکھو خُداوند فرماتا ہے اور کام کرو کیونکہ میں تُمہارے ساتھ ہُوں ربُ الافواج فرماتا ہے۔
۵ مصر سے نکلتے وقت میں نےتُم سے جو عہد کیا تھا اُس کے مُطابق میری وہ رُوح تُمہارے ساتھ رہتی ہے ہمت نہ ہارو۔
۶ کیونکہ ربُ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ میں تھوڑی دیر میں پھر ایک بار آسمان و زمین اور بحرو بر کو ہلادوں گا۔
۷ میں سب قوموں کو ہلا دوں گا اور اُن کی مرغوب چیزیں آئیں گی اور میں اس گھر کو جلال سے معمور کروں گا ربُ الافواج فرماتا ہے۔
۸ چاندی میری ہے اور سونا میرا ہے ربُ الافواج فرماتا ہے ۔
۹ اس پچھلے گھر کی رونق پہلے گھر کی رونق سے زیادہ ہوگی ربُ الافواج فرماتا ہے اور میں اس مکان میں سلامتی بخُشوں گا ربُ الافواج فرماتا ہے۔
۱۰ اور دارابادشاہ کی سلطنت کے دُوسرے سال کے نویں مہینے کی چوبیسویں تاریخ کو خُداوند کا کلام حجی نبی کی معرفت پُہنچا۔
۱۱ کہ ربُ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ شریعت کی بابت کاہنوں سے دریافت کر۔
۱۲ کہ اگر کوئی پاک گوشت کو اپنے لباس کے دامن میں لے جاتا ہو اور اُس کادامن روٹی یا دال یا مے یا تیل یا کسی طرح کے کھانے کی چیز کو چُھو جائے تو کیا پاک ہو جائیں گی؟ کاہنوں نے جواب دیا ہرگز نہیں۔
۱۳ پھر حجی نے پوچھا کہ اگر کوئی کسی مُردہ کو چھُو نے سے ناپاک ہو گیا ہو اور ان میں سے کسی چیز کو چھوے تو کیا وہ چیز ناپاک ہو جائیں گی؟ کاہنوں نے جواب دیا ضُرور ناپاک ہو جائیں گی۔
۱۴ پھر حجی نے کہا خُداوند فرماتا ہے میری نظر میں ان لوگوں اور اس قوم اور ان کے اعمال کا یہی حال ہے اور جو کچھ اس جگہ گُزرانتےہیں ناپاک ہے۔
۱۵ پس اب اور آیندہ کو اُس وقت کا خیال رکھو جبکہ ابھی خُداوند کی ہیکل کا پتھر پر پتھر نہ رکھا گیا تھا۔
۱۶ اُس تمام زمانہ میں جب کوئی بیس پیمانوں کی آس رکھتا تو دس ہی ملتے تھے اور جب کوئی مے کے حوض سے پچاس پیمانے نکالنے جاتا تو بیس ہی نکلتے تھے۔
۱۷ اور میں نے تُم کو تمہارے سب کاموں میںبادسموم اور گیروئی اور اولوں سے مارا پر تُم میری طرف رجوع نہ لاے خُداوند فرماتاہے۔
۱۸ اب اور آیندہ اس کا خیال رکھو۔ آج خُداوند کی ہیکل کی بُنیاد کے ڈالے جانے یعنی نویں مہینے کی چوبیسویں تاریخ سے اس کا خیال رکھو۔
۱۹ کیا اس وقت بیج کھتے میں ہے؟ ابھی تو تاک اور انجیر اور انار اور زیتون میں پھل نہیں لگا۔ آج ہی سے میں آپ کو برکت دُوں گا ۔
۲۰ پھر اسی مہینے کی چوبیسویں تاریخ کو خُداوند کا کلام حجی نبی پر نازل ہوا۔
۲۱ کہ یہُوداہ کے ناظم زربابل سے کہہ دے کہ میں آسمان اور زمین کو ہلاوں گا۔
۲۲ اور سلطنتوں کے تخت اُلٹ دُوں گا اور قوموں کی سلطنتوں کی توانائی بیست کردوں گا اور رتھوں کو سواروں سمیت اُلٹ دوں گا اور گھوڑے اور اُن کے سوار گر جائیں گے اور ہر شخص اپنے بھائی کی تلوار سے قتل ہوگا ۔
۲۳ ربُ الافواج فرماتا ہے اے میرے خادم زربابل بن سیالتی ایل اُسی روز میں تُجھے لُوں گا خُداوند فرماتا ہے اور نگین ٹھہراوں گا کیونکہ میں نے تجھے برگُزیدہ کیا ربُ الافواج فرماتا ہے۔+