عزرا ۱

تفسیر

۱۔ زرُبابل کی قیادت میں اسیروں کی یروشلیم میں واپسی (‏ابواب ۱۔۶)‏

الف۔ خورس کا حکم (‏۱ :‏ ۱۔۴)‏

پہلی تین آیات ۲۔تواریخ کی آخری دو آیات کو دُہراتی ہیں۔ خدا نے شاہِ فارس خورس کو استعمال کیا۔ اُس نے ایک فرمان جاری کیا کہ یہودیوں کو یہوداہ میں واپس جانے اور یروشلیم میں ہیکل کو ازسرنو تعمیر کرنے کی اِجازت ہے۔ مزید برآں اُس نے اُن کے پڑوسیوں کو حکم دیا کہ وہ اِس بقیہ کی واپسی کی دل کھول کر اِمداد کریں۔ اُس کی پیدائش سے کئی سال قبل خدا نے خورس کا ذکر کیا اور اُسے ایک اعلیٰ اور عظیم مقصد کے لئے مخصوص کیا (‏یسعیاہ ۴۴:‏ ۲۸۔ ۴۵:‏۱۳)‏۔ اِس سے اَمثال ۲۱:‏۱ میں مذکور حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے:‏ ’’بادشاہ کا دل خداوند کے ہاتھ میں ہے۔ وہ اُس کو پانی کے نالوں کی مانند جدھر چاہتا ہے پھیرتا ہے۔‘‘

اِس حکم سے یہودیوں کی اسیری کے ستر سال ختم ہو گئے۔ ۷۰ سالہ دَور کو دو طریقوں سے شمار کیا جا سکتا ہے‏، یعنی ۶۰۵ ق م سے جب نبوکدنضر نے یروشلیم پر حملہ کیا اور اسیروں کی پہلی کھیپ کو لے کر گیا‏، اِسے ۵۳۵ ق م تک شمار کریں جب ہیکل کا سنگِ بنیاد رکھا گیا‏، یا ۵۸۶ ق م میں یروشلیم کے زوال سے ۵۱۶ ق م میں ہیکل کی تکمیل تک۔

ب۔ تیاریاں اور سامان (‏۱:‏ ۵۔۱۱)‏

یہودیوں کو اُن کے پڑوسیوں کی طرف سے عطیہ کے طور پر دی گئی دولت کے علاوہ خورس بادشاہ نے اُنہیں سونے اور چاندی کے پانچ ہزار چار سو برتن دیئے جو نبوکدنضر یروشلیم کی ہیکل سے باہر لے آیا تھا۔ ممکن ہے کہ شیس بضر زرُبابل کا فارسی نام ہو‏، یا وہ کوئی بالکل مختلف شخص ہو۔ آیت ۹ میں ۲۹ چھریوں کا بیان ملاحظہ فرمائیے۔ اگر خدا ایسی تفصیلات کی فکر کرتا ہے تو وہ اپنے لوگوں کی اِس سے بڑھ کر کیوں فکر نہ کرے گا! 

مقدس کتاب

۱ اور شاہ فارس خورس کی سلطنت کے پہلے سال میں اسلئے کہ خداوند کا کلام جو یرمیا کی زبانی آیا تھا پورا ہو خداوند نے شاہ فارس خورس کا دل ابھارا۔سو اس نے اپنی تمام مملکت میں منادی کرائی اور اس مضمون کا فرمان بھی لکھا کہ۔
۲ شاہ فارس خورس یوں فرماتا ہے کہ خداوند آسمان کے خدا نے زمین کی سب مملکتیں مجھے بخشی ہیں۔اور مجھے تاکید کی ہے کہ میں یروشلم میں جو یہوداہ میں ہے اسکے لئے ایک مسکن بناؤں۔
۳ پس تمہارے درمیان جو کوئی اسکی ساری قوم میں سے ہواسکا خدا اسکے ساتھ ہو اور وہ یروشلم کو جو یہوداہ میں ہے جائے اور خداوند اسرائیل کے خدا کا گھرجو یروشلم میں ہے بنائے(خدا وہی ہے)۔
۴ اور جو کوئی کسی جگہ جہاں اس نے قیام کیا باقی رہا ہو تو اسی جگہ کے لوگ چاندی اور سونے اور مال اور مواشی سے اسکی مدد کریں اور علاوہ اسکے وہ خدا کے گھر کے لئے جو یروشلم میں ہے رضا کے ہدئے دیں۔
۵ تب یہوداہ اور بنیمین کے آبائی خاندانوں کے سرداراور کاہن اور لاوی اور وہ سب جنکے دل کو خدا نے ابھارا اٹھے کہ جاکر خداوند کا گھر جو یروشلم میں ہے بنائیں۔
۶ اور ان سبھوں نے جو انکے پڑوس میں تھے علاوہ ان سب چیزوں کے جو خوشی سے دی گئیں چاندی کے برتنوں اور سونے اور اسباب اور مواشی اور قیمتی اشیا سے انکی مددکی۔
۷ اور خورس بادشاہ نے بھی خداوند کے گھر کے ان برتنوں کو نکوایا جنکو بنوکد نضر یروشلم سے لے آیا تھا اور اپنے دیوتاؤں کے مندر میں رکھا تھا۔
۸ ان ہی کو شاہ فارس خورس نے خزانچی متردات کے ہاتھ سے نکوایا اور انکو گن کر یہوداہ کے امیر شیس بضر کو دیا۔
۹ اور انکی گنتی یہ ہے۔سونے کی تیس تھالیاں اور چاندی کی ہزار تھالیاں اور انتیس چھریاں۔
۱۰ اور سونے کے تیس پیالے اور چاندی کے دوسری قسم کے چارسودس پیالے اور اور قسم کے برتن ایک ہزار۔
۱۱ سونے اور چاندی کے کل ظروف پانچ ہزار چار سو تھے۔شیس بضر ان سبھوں کو جب اسیری کے لوگ بابل سے یروشلم کو پہنچائے گئے لے آیا۔