لوقا ۹

۹۔ ابنِ آدم اپنے شاگردوں کو ہدایات دیتا ہے  (‏۱۷:‏۱-‏۱۹:‏۲۷) ‏

الف۔ دوسروں کو ٹھوکر کھلانے کے بارے میں  (‏۱۷:‏۱،‏۲) ‏

اِس باب میں تسلسل یا خیالات کا بہاؤ مبہم ہے۔ یوں لگتا ہے کہ لوقا نے بہت سی بے ربط باتوں اور موضوعات کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔ البتہ ٹھوکر کھلانے کے بارے میں مسیح کے اِفتتاحی الفاظ کا تعلق باب ۱۶ کے اِختتام پر دولت مند اور لعزر کی کہانی کے ساتھ ہے۔ عیش و آرام،‏ خوشی و مسرت کی زندگی اُن لوگوں کے لئے ٹھوکر کا باعث بن سکتی ہے جو ایمان میں ابھی نو عمر ہوں۔ خصوصاً اگر کسی آدمی کے بارے میں مشہور ہو کہ وہ مسیحی ہے تو دوسرے بھی اُس کے نمونے کی تقلید کریں گے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح کے ہونہار پیروکاروں کو اپنے غلط نمونے سے مادہ پرستی اور دولت پرستی کی زندگی کی طرف لے جانا کیسی سنجیدہ اور خطرناک بات ہے۔

بے شک اِس اصول کا اِطلاق عمومی اور غیر معین انداز ہی میں ہو سکتا ہے۔ اگر «اِن چھوٹوں» کو دُنیا داری میں پڑنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو اُن کو ٹھوکر لگ سکتی ہے۔ اِسی طرح وہ جنسی گناہوں میں پڑنے سے ٹھوکر کھا سکتے ہیں۔ پاک صحائف کی تعلیمات کی اہمیت کو کم تر کر کے پیش کرنا بھی ٹھوکر کا باعث ہوتا ہے۔ ہر ایسی بات بھی ٹھوکر کھلاتی ہے جو ایمان،‏ جاں نثاری اور پاکیزگی کے سیدھے اور سادہ راستے سے دُور لے جاتی ہے۔

اِنسانی فطرت اور اِنسانوں کی حالت کو جانتے ہوئے خداوند نے کہا کہ «یہ نہیں ہو سکتا کہ ٹھوکریں نہ لگیں۔» لیکن اِس بات سے اُن کا قصور اور ذمہ داری کم نہیں ہوتی جو ٹھوکر کا باعث بنتے ہیں۔ «ٹھوکر کھلانے کی بہ نسبت اُس شخص کے لئے یہ مفید ہوتا کہ چکّی کا پاٹ اُس کے گلے میں لٹکایا جاتا اور وہ سمندر میں پھینکا جاتا۔» ایسی سخت زبان کے استعمال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصویر صرف جسمانی موت کی نہیں بلکہ اَبدی ہلاکت کی بھی ہے۔

جب خداوند «اِن چھوٹوں میں سے ایک کو ٹھوکر کھلانے» کی بات کرتا ہے تو صرف بچے ہی اِس میں شامل نہیں بلکہ وہ شاگرد بھی ہیں جو ایمان میں بچے ہیں۔

ب۔ معافی کی روح کے بارے میں  (‏۱۷:‏۳،‏۴) ‏

مسیحی زندگی میں صرف دوسروں کو ٹھوکر کھلانے کا خطرہ ہی نہیں بلکہ بغض اور عناد اور کینہ رکھنے اور معاف نہ کرنے کا خطرہ بھی ہے۔ خداوند یہاں اِن باتوں کا ذکر کرتا ہے۔ اِس موضوع کے بارے میں نیا عہدنامہ مندرجہ ذیل طریقہ کار پیش کرتا ہے:‏

  1. اگر کسی مسیحی کے ساتھ کسی دوسرے مسیحی کی طرف سے نااِنصافی یا ظلم ہو تو چاہئے کہ وہ پہلے قصوروار کو دل میں معاف کرے  (‏افسیوں ۴:‏۳۲) ‏۔ یہ اُس کے دل کو خفگی اور کینہ سے پاک رکھے گا۔
  2. پھر خلوت میں قصوروار سے ملاقات کر کے اُسے «ملامت» کرے  (‏آیت ۳ اور متی ۱۸:‏۱۵) ‏۔ وہ «اگر توبہ کرے» تو اُسے بتایا جائے کہ اُسے معاف کر دیا گیا ہے۔ اگر وہ بار بار قصور کرے اور بار بار معافی مانگے تو اُسے معاف کیا جائے  (‏آیت ۴) ‏۔
  3. اگر خلوت یا اکیلے میں ملامت موثر ثابت نہ ہو تو پھر جس شخص کا قصور ہوا ہے،‏ وہ ایک یا دو گواہوں کو ساتھ لے جائے  (‏متی ۱۸:‏۱۶) ‏۔ اگر وہ اُن کی بھی نہ سنے تو پھر معاملہ کلیسیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر وہ کلیسیا کی بھی نہ سنے پھر اُس سے قطع تعلق کر لیا جائے۔ اُسے جماعت سے خارج کر دیا جائے  (‏متی ۱۸:‏۱۷) ‏۔

ملامت کرنے اور دوسرے تادیبی اقدام کا مقصد بدلہ لینا یا قصور وار کو بے عزت اور ذلیل کرنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ دوسرے اِنسانوں اور خداوند کے ساتھ اُس کی رفاقت بحال ہو۔ ہر ملامت محبت کی روح سے کی جانی چاہئے۔ یہ جاننے اور معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی طریقہ نہیں کہ قصوروار کی توبہ سچی ہے یا نہیں۔ لازم ہے کہ ہم اُس کی بات کا یقین کریں کہ اُس نے توبہ کر لی ہے۔ اِسی لئے یسوع کہتا ہے کہ «اگر وہ ایک دن میں سات دفعہ تیرا گناہ کرے اور ساتوں دفعہ تیرے پاس پھر آ کر کہے کہ توبہ کرتا ہوں تو اُسے معاف کر۔» ہمارا باپ بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی پُرفضل سلوک کرتا ہے۔ ہم کتنی ہی دفعہ اُس کا قصور کریں «اگر اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے»  (‏۱۔یوحنا ۱:‏۹) ‏۔

ج۔ ایمان کے بارے میں  (‏۱۷:‏۵،‏۶) ‏

۱۷:‏۵ ایک دن میں سات دفعہ معاف کرنے کا خیال «رسولوں» یعنی شاگردوں کو اگر ناممکن نہیں تو ازحد مشکل ضرور معلوم ہوا۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ ہم ایسی فراخ دلی کی سکت نہیں رکھتے۔ اِس لئے اُنہوں نے خداوند سے درخواست کی کہ «ہمارے ایمان کو بڑھا۔»

۱۷:‏۶ خداوند کے جواب سے ثابت ہوتا ہے کہ اہمیت ایمان کی مقدار کو نہیں بلکہ نوعیت یا معیار کو ہے۔ مزید یہ نہیں کہ اُن کے پاس کتنا ایمان تھا،‏ بلکہ اہمیت اِس بات کو ہے کہ جو ایمان ہے اُس کو کام میں کیسے لاتے ہیں۔ ہمارا غرور اور انا ہمیں اپنے بھائیوں کو معاف کرنے سے روکتی ہے۔ ضرور ہے کہ غرور کو جڑ سے اُکھاڑ کر باہر پھینک دیا جائے۔ اگر وہ «رائی کے دانے کے برابر» ایمان پر «تُوت کے درخت کو» جڑ سے اُکھاڑ کر سمندر میں ڈال سکتا ہے تو یقینا ہم کو اُس سخت دلی اور ہٹ دھرمی پر بھی فتح دے سکتا ہے جو ہمیں اپنے بھائی کو لامحدود معافی دینے سے روکے رکھتی ہے۔

د۔ کار آمد نوکروں کے بارے میں  (‏۱۷:‏۷-‏۱۰) ‏

۱۷:‏۷-‏۹ مسیح کے سچے غلام کے پاس غرور اور فخر کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ انا  (‏اپنے آپ کو اہم سمجھنا) ‏ کو جڑ سے اُکھاڑ ڈالنا ضرور ہے۔ اِس کی جگہ اپنی نااہلی اور بے لیاقتی کا سچا احساس ہونا چاہئے۔ زیر نظر نوکر کی کہانی میں یہ سبق سکھایا گیا ہے۔ یہ نوکر پورا دن «ہل جوتتا یا گلّہ بانی کرتا» رہا۔ جب سارا دن محنت کرنے کے بعد وہ کھیت سے آتا ہے تو اُس کا مالک یہ نہیں کہتا کہ «جلد آ کر کھانا کھانے بیٹھ» بلکہ اُسے حکم دیتا ہے کہ «میرا کھانا تیار کر اور جب تک مَیں کھاؤں پیؤں کمر باندھ کر میری خدمت کر۔» اِس کام کے بعد ہی نوکر کو خود کھانا کھانے کی اِجازت ملتی ہے۔ یہ سارا کچھ کرنے کے لئے مالک «نوکر کا احسان» نہیں مانتا یعنی اُس کا شکریہ ادا نہیں کرتا بلکہ توقع کی جاتی ہے کہ نوکر شکر گزار ہو،‏ کیونکہ بالآخر اُس کا فرض ہے کہ حکم مانے۔

۱۷:‏۱۰ چنانچہ شاگرد خداوند یسوع مسیح کے نوکر  (‏غلام) ‏ ہیں۔ وہ اُس کی ملکیت ہیں۔ اُن کی روح،‏ جسم اور جان سب کچھ اُسی کا ہے۔ کلوری کی روشنی میں ہم کہتے ہیں کہ شاگرد کچھ بھی کر گزریں اُس کام کا بدلہ نہیں چکا سکتے جو نجات دہندہ نے کیا ہے۔ اِس لئے وہ سب کچھ کر چکنے کے بعد جس کا حکم نئے عہدنامے میں دیا گیا شاگرد کہتے ہیں «ہم نکمے نوکر ہیں۔ جو ہم پر کرنا فرض تھا وہی کیا ہے۔»

رائے ہیسن کے مطابق خداوند کے غلام کی پانچ خصوصیات ہیں:‏

  1. وہ مستعد ہو کہ مجھے کام پر کام کا حکم دیا جائے،‏ اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔
  2. وہ توقع نہ رکھے کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے گا۔
  3. سارا کچھ کرنے کے باوجود وہ شکوہ نہیں کرے گا کہ میرا مالک خود غرض ہے۔
  4. وہ اِقرار کرے گا کہ مَیں نکما نوکر ہوں۔
  5. وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اور اِنکساری اور حلیمی سے جو کچھ بھی برداشت کرتا ہے،‏ اِس کے بارے میں یہی سمجھتا ہے کہ مَیں نے اپنے فرض سے بڑھ کر ایک رتّی بھر نہیں کیا۔

ہ۔ یسوع دس کوڑھیوں کو پاک صاف کرتا ہے  (‏۱۷:‏۱۱-‏۱۹) ‏

۱۷:‏۱۱ ناشکرے پن کا گناہ شاگرد کی زندگی میں ایک اَور خطرہ ہے۔ یہ بات دس کوڑھیوں کے واقعے سے بالکل واضح ہو رہی ہے۔ ہم نے پڑھا ہے کہ خداوند یسوع یروشلیم کو جا رہا تھا۔ اور وہ «سامریہ اور گلیل کے بیچ سے ہو کر جا رہا تھا۔»

۱۷:‏۱۲-‏۱۴ «ایک گاؤں میں داخل ہوتے وقت دس کوڑھی اُس کو ملے۔» اپنی بیماری کے باعث وہ اُس کے نزدیک نہیں آ سکتے تھے۔ اِس لئے اُنہوں نے دُور کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا «اے یسوع! اے صاحب! ہم پر رحم کر» یعنی ہمیں شفا بخش۔ خداوند نے اُنہیں ایمان کا صلہ دیا اور کہا،‏ «جاؤ۔ اپنے تئیں کاہنوں کو دِکھاؤ۔» اِس کا مطلب یہ تھا کہ جب وہ کاہنوں کے پاس پہنچیں گے تو اپنے کوڑھ سے شفا پا چکے ہوں گے۔ کاہنوں کے پاس اُنہیں شفا دینے کی قدرت نہ تھی۔ اُن کو صرف اِتنا اِختیار دیا گیا تھا کہ اُنہیں پاک صاف قرار دیں اور جماعت کو اِس اَمر کی اِطلاع دیں۔ خداوند کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہ کوڑھی کاہنوں کی طرف روانہ ہوئے تو «وہ جاتے جاتے پاک صاف ہو گئے۔» جس معجزے کی اُن کو توقع تھی وہ ہو گیا۔

۱۷:‏۱۵-‏۱۸ اُن سب کا ایمان تھا کہ ہم شفا پائیں گے۔ لیکن اُن میں سے صرف ایک تھا جو خداوند کا شکر ادا کرنے کو لوٹا — بڑی دلچسپی کی بات ہے کہ یہ «ایک» «سامری تھا» یعنی یہودیوں کا وہ پڑوسی جس کو وہ حقیر جانتے اور جس سے وہ نفرت رکھتے تھے۔ یاد رہے کہ یہودی سامریوں سے کسی قسم کا میل جول نہیں رکھتے تھے۔ یہ سامری «یسوع کے پاؤں پر گر کر اُس کا شکر کرنے لگا۔» عبادت گزاری اور سجدے کی صحیح جگہ «یسوع کے پاؤں» ہی میں ہے۔ یسوع نے پوچھا کہ «کیا دسوں پاک صاف نہ ہوئے؟» وہ جانتا تھا کہ دسوں پاک صاف ہو گئے ہیں۔ لیکن اِس پردیسی کے سوا کوئی اَور لوٹ کر نہ آیا کہ شکریہ ادا کرتا۔ باقی نو کہاں تھے؟ اُن میں سے کسی نے خدا کی تمجید نہ کی۔

۱۷:‏۱۹ پھر اُس سامری سے مخاطب ہو کر خداوند یسوع نے فرمایا،‏ «اُٹھ کر چلا جا۔ تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا ہے۔» جو دس فیصد لوگ شکر گزار ہوتے ہیں،‏ صرف وہی مسیح کی حقیقی دولت کے وارث ہوتے ہیں۔ یسوع ہماری واپسی  (‏آیت ۱۵) ‏ اور شکرگزاری پر ہمیں نئی برکت دیتا ہے  (‏آیت ۱۶) ‏،‏ «تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا ہے۔» اِن الفاظ سے پتا چلتا ہے کہ اُس کو گناہ سے بھی نجات مل گئی جب کہ باقی نو کو صرف کوڑھ سے شفا ملی۔

و۔ بادشاہی کے آنے کے بارے میں  (‏۱۷:‏۲۰-‏۳۷) ‏

۱۷:‏۲۰،‏۲۱ ہمیں معلوم نہیں کہ بادشاہی کے بارے میں سوال کرنے میں فریسی مخلص تھے یا صرف تمسخر سے ایسا کر رہے تھے۔ لیکن ہم اِتنا ضرور جانتے ہیں کہ تمام یہودی ایک ایسی بادشاہی کی راہ دیکھ رہے تھے جو بڑی قدرت،‏ شان اور جلال کے ساتھ برپا ہو گی۔ وہ ظاہری نشانوں اور زبردست سیاسی ہلچل کے منتظر تھے۔ نجات دہندہ نے اُن کو بتایا کہ «خدا کی بادشاہی ظاہری طور پر نہ آئے گی۔» مراد یہ ہے کہ کم سے کم اپنی موجودہ صورت میں «خدا کی بادشاہی» ظاہری نشانوں کے ساتھ نہیں آئی۔ یہ کوئی دیدنی،‏ زمینی اور دُنیاوی بادشاہی نہیں جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ «یہاں ہے یا وہاں ہے» بلکہ منجی نے فرمایا کہ «دیکھو خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے۔» اِس کا ترجمہ یہ بھی ممکن ہے کہ «بادشاہی تمہارے اندر ہے۔» خداوند یسوع کا یہ مطلب نہیں تھا کہ بادشاہی فریسیوں کے دلوں کے اندر ہے کیونکہ اُن سخت دل ریاکار مذہبی لیڈروں کے دلوں میں مسیح بادشاہ کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔ اِس کا مطلب یہی تھا کہ بادشاہی اُن کے ’درمیان‘ تھی۔ وہ اِسرائیلی قوم کا جائز بادشاہ تھا۔ اُس نے معجزات کئے تھے اور اپنی اسناد سب کے سامنے کھلے طور پر پیش کر دی تھیں۔ لیکن فریسی اُسے قبول کرنا چاہتے ہی نہیں تھے۔ اِس لئے جہاں تک اُن کا تعلق ہے خدا کی بادشاہی نے اپنے آپ کو پیش کر دیا تھا،‏ لیکن اُن کو قطعی طور پر نظر نہیں آ رہی تھی۔

۱۷:‏۲۲ فریسیوں سے خطاب کرتے ہوئے خداوند نے بادشاہی کا یوں بیان کیا کہ جیسے وہ آ چکی ہے۔ مگر جب شاگردوں سے مخاطب ہوا تو ایسے بات کی گویا بادشاہی کا آنا مستقبل میں ہو گا جو اُس کی دوسری آمد پر قائم ہو گی۔ لیکن اِس سے پہلے خداوند نے اُس عرصے کا بیان کیا جو اُس کی پہلی آمد اور دوسری آمد کے درمیان حائل ہو گا۔ «وہ دن آئیں گے کہ تم کو ابنِ آدم کے دِنوں میں سے ایک دن کو دیکھنے کی آرزو ہو گی اور نہ دیکھو گے۔» دوسرے لفظوں میں شاگردوں کو آرزو ہو گی کہ ویسا ایک دن نصیب ہو جب خداوند زمین پر ہمارے ساتھ تھا اور ہم اُس کی خوش گوار رفاقت سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ایک لحاظ سے وہ دن اُن دِنوں کا پیشگی عکس تھے جب وہ قدرت اور جلال کے ساتھ واپس آئے گا۔

۱۷:‏۲۳،‏۲۴ بہت سے جھوٹے مسیح اُٹھ کھڑے ہوں گے اور کرتا دھرتا لوگ اعلان کریں گے کہ مسیحِ موعود آ گیا ہے۔ لیکن ضرور ہے کہ اُس کے پیروکار ہوشیار رہیں اور اُن جھوٹے اعلانوں سے دھوکا نہ کھائیں۔ مسیح کی دوسری آمد ایسی ہی دیدنی ہو گی جیسے «بجلی کا کوندنا» تاکہ کسی کو غلط فہمی نہ رہے کیونکہ جب «بجلی آسمان کی ایک طرف سے کوند کر دوسری طرف چمکتی ہے» تو سب کو نظر آتی ہے۔

۱۷:‏۲۵ خداوند یسوع نے اپنے شاگردوں کو پھر بتایا کہ اِن باتوں کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ضرور ہے کہ وہ « (‏ابنِ آدم) ‏ بہت دُکھ اُٹھائے اور اِس زمانہ کے لوگ اُسے ردّ کریں»۔

۱۷:‏۲۶،‏۲۷ خداوند اپنے بادشاہی میں آنے کے موضوع کی طرف پھر کر بتاتا ہے کہ اِس جلالی واقعے سے فوری قبل کے دن «نوح کے دِنوں» کی مانند ہوں گے کہ «لوگ کھاتے پیتے تھے اور اُن میں بیاہ شادی ہوتی تھی۔» یہ باتیں بذاتِ خود غلط نہیں ہیں۔ معمول کی باتیں ہیں اور جائز اِنسانی سرگرمیاں ہیں۔ بُرائی یہ ہے کہ لوگ اِن ہی چیزوں کے ہو رہے تھے۔ اُن کے پاس خدا کے لئے وقت نہیں تھا بلکہ خدا کا خیال تک نہیں تھا۔ حتیٰ کہ نوح اور اُس کا خاندان کشتی میں داخل ہوا اور طوفان نے آ کر سب کو ہلاک کیا یعنی ساری بقیہ مخلوقات ہلاک ہو گئی۔ اِسی طرح مسیح کی دوسری آمد اُن لوگوں کے لئے عدالت اور غضب ثابت ہو گی جو اُس کے رحم کی پیش کش کو ردّ کرتے ہیں۔

۱۷:‏۲۸-‏۳۰ اِس کے ساتھ ہی خداوند نے کہا کہ میری دوسری آمد سے فوری پہلے کے دن «لوط کے دنوں» کی مانند ہوں گے۔ اُس وقت تک تہذیب و ثقافت نے بہت ترقی کر لی تھی۔ لوگ نہ صرف کھاتے پیتے تھے بلکہ «خریدو فروخت کرتے اور درخت لگاتے اور گھر بناتے تھے۔» اِنسان اِس کوشش میں تھا کہ خدا کے بغیر ہی خوش حالی اور اَمن چین کا ایک سنہری دَور لے آئے۔ عین اُسی دن جب لوط  (‏اور اُس کی بیوی اور بیٹیاں) ‏ «سدوم سے نکلا،‏ آگ اور گندھک نے آسمان سے برس کر» اُس شریر شہر اور وہاں کے باشندوں «سب کو ہلاک کیا»۔ «ابنِ آدم کے ظاہر ہونے کے دن بھی ایسا ہی ہو گا۔» جو لوگ عیش و عشرت،‏ اپنی خواہشات کو پورا کرنے اور کاروبار میں مصروف رہ کر خدا کو بُھلا دیتے ہیں،‏ وہ سب ہلاک ہوں گے۔

۱۷:‏۳۱ وہ ایسا دن ہو گا جب زمینی اور دنیاوی چیزوں کے ساتھ لگاؤ اِنسان کی زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہو گا۔ چنانچہ «اُس دن جو کوٹھے پر ہو اور اُس کا اسباب گھر میں ہو،‏ وہ اُسے لینے کو نہ اُترے اور اِسی طرح جو کھیت میں ہو،‏ وہ پیچھے کو نہ لوٹے»۔ چاہئے کہ ہر اِنسان اُس جگہ سے بھاگے جہاں غضب نازل ہونے کو ہے۔

۱۷:‏۳۲ اگرچہ لوط کی بیوی کو سدوم سے تقریباً زبردستی نکالا گیا تھا،‏ لیکن اُس کا دل وہیں لگا ہوا تھا۔ اِسی لئے اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ وہ سدوم میں سے نکل آئی تھی مگر سدوم اُس میں سے نہیں نکلا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا نے اُسے نمک کا ستون بنا کر ہلاک کر ڈالا۔

۱۷:‏۳۳ «جو کوئی اپنی جان بچانے کی کوشش کرے» یعنی اپنی جسمانی حفاظت کا خیال تو کرے مگر روح کا خیال نہ کرے «وہ اُسے کھوئے گا»۔ اِس کے برعکس «جو کوئی اُسے کھوئے» یعنی اُس مصیبت کے زمانے میں خداوند کے ساتھ وفادار رہنے کے باعث اپنی جان کا نذرانہ پیش کرے «وہ اُس کو زندہ رکھے گا» یعنی اَبدی زندگی پائے گا۔

۱۷:‏۳۴-‏۳۶ خداوند کی آمد کا وقت جدائیوں کا وقت ہو گا۔ «دو آدمی ایک چارپائی پر سوتے ہوں گے» اُن میں سے «ایک» غضب کے ساتھ «لے لیا جائے گا»۔ «دوسرا» جو ایمان دار ہو گا،‏ اُسے مسیح کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے «چھوڑ دیا جائے گا۔» اِسی طرح «دو عورتیں ایک ساتھ چکی پیستی ہوں گی»۔ اُن میں سے «ایک» جو بے ایمان ہو گی،‏ وہ خدا کے غضب کے طوفان میں «لے لی جائے گی»۔ جب کہ «دوسری» جو خدا کی فرزند ہو گی «چھوڑ دی جائے گی» تاکہ مسیح کے ساتھ ہزار سالہ برکات سے لطف اندوز ہو سکے۔ اتفاق سے آیات ۳۴ اور ۳۵ کرۂ زمین کی گولائی سے مطابقت رکھتی ہیں۔ زمین کے ایک حصے میں رات اور دوسرے میں دن ہوتا ہے۔ جو سرگرمیاں یہاں بتائی گئیں،‏ وہ اِسی حقیقت اور سائنسی علم کو ظاہر کرتی ہیں جب کہ یہ حقیقت سیکڑوں برس بعد دریافت ہوئی تھی۔

۱۷:‏۳۷ شاگرد پوری طرح سمجھ گئے تھے کہ نجات دہندہ کی دوسری آمد اِس برگشتہ دُنیا پر آسمان سے نازل ہونے والی آفت کی مانند ہو گی۔ چنانچہ اُنہوں نے خداوند سے سوال کیا کہ «یہ کہاں ہو گا؟» یعنی یہ غضب کہاں نازل ہو گا؟ خداوند کا جواب تھا کہ «جہاں مردار ہے وہاں گدھ بھی جمع ہوں گے»۔ گدھ آنے والے غضب کی علامت ہیں،‏ چنانچہ جواب کا مطلب ہے کہ جہاں بھی بے اعتقادی اور خدا کے خلاف بغاوت ہو گی،‏ وہاں غضب جھپٹ کر نازل ہو گا۔

باب ۱۷ میں خداوند نے شاگردوں کو خبر دار کیا کہ مصیبت اور ایذارسانی پیش آئے گی۔ اُس کے جلالی ظہور سے پیشتر اُن کو بڑی سخت آزمائشوں میں سے گزرنا ہو گا۔ اب تیاری کی خاطر نجات دہندہ دعا کے بارے میں مزید ہدایات دیتا ہے۔ اگلی آیات میں دعا گو بیوہ،‏ دعا گو فریسی،‏ دعا گو محصول لینے والے اور دعا گو غریب آدمی کا بیان ہے۔

ز۔ اِصرار کرنے والی بیوہ کی تمثیل  (‏۱۸:‏۱-‏۸) ‏

۱۸:‏۱ اِس دعا گو بیوہ کی تمثیل سکھاتی ہے کہ «ہر وقت دعا کرتے رہنا اور ہمت نہ ہارنا چاہئے۔» عام مفہوم میں یہ سارے اِنسانوں اور ہر قسم کی دعا کے لئے ہے۔ لیکن یہاں خاص مفہوم اُس دعا کا ہے جو آزمائشوں اور مصیبتوں سے خدا کی طرف سے رہائی کے لئے مانگی جاتی ہے۔ مسیح کی پہلی آمد اور دوسری آمد کے درمیان طویل اور تھکا دینے والے عرصے کے دوران دعا مانگتے رہنا اور ہمت نہ ہارنا چاہئے۔

۱۸:‏۲،‏۳ اِس تمثیل میں ایک بے اِنصاف قاضی کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ عام حالات میں «نہ وہ خدا سے ڈرتا نہ آدمی کی کچھ پروا کرتا تھا»۔ ایک بیوہ بھی تھی جس پر مُدَّعی ظلم کرتا تھا۔ اُس مُدَّعی کا نام نہیں دیا گیا۔ یہ بیوہ بار بار قاضی کے پاس آتی تھی کہ «میرا اِنصاف کر» اور مجھے مُدَّعی کے ظلم سے بچا۔

۱۸:‏۴،‏۵ اگرچہ بیوہ کا مقدمہ جائز اور درست تھا مگر قاضی پر اُس کا کچھ اثر نہیں ہوتا تھا۔ وہ غیر منصفانہ سلوک کے خلاف کچھ کرنے کو تیار نہ تھا۔ لیکن وہ بیوہ بڑی باقاعدگی سے بار بار آتی رہی۔ بالآخر وہ قاضی کچھ کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اُس کے اِصرار،‏ منت و زاری اور مستقل مزاجی کے باعث قاضی کو اُس کے حق میں فیصلہ دینا پڑا۔

۱۸:‏۶،‏۷ پھر خداوند نے اپنے شاگردوں پر واضح کیا کہ اگر ایک بیوہ کے اِصرار اور مستقل مزاجی کے باعث ایک بے اِنصاف قاضی اِقدام کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے تو کیا راست اور اِنصاف کرنے والا «خدا اپنے برگزیدوں کا اِنصاف نہ کرے گا؟» یہاں «برگزیدوں» سے خصوصی مراد بڑی مصیبت کے دنوں میں بچ رہنے والا یہودی بقیہ ہو سکتی ہے۔ خدا کے اِتنے عرصے سے مداخلت نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اِنسانوں کے ساتھ تحمل سے پیش آتا ہے کیونکہ وہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا۔

۱۸:‏۸ لیکن وہ دن آ رہا ہے جب اُس کا روح اِنسانوں سے مزید مزاحمت نہیں کرے گا۔ پھر وہ اُن لوگوں کو سزا دے گا جو اُس کے پیروکاروں کو ستاتے ہیں،‏ تمثیل کا اِختتام خداوند یسوع نے ایک سوال کے ساتھ کیا کہ «تو بھی جب ابنِ آدم آئے گا تو کیا زمین پر ایمان پائے گا؟» غالباً اِس سے مراد اُس قسم کا ایمان ہے جو بیوہ کے پاس تھا۔ مگر اِس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب خداوند واپس آئے گا تو چھوٹا سا بقیہ ہی ہو گا جو اُس کا وفادار ہو گا۔ تب تک ہم میں سے ہر ایک کو ایسے ایمان سے تحریک ہونی چاہئے جو رات دن خدا سے فریاد کرتا رہتا ہے۔

ح۔ فریسی اور محصول لینے والے کی تمثیل  (‏۱۸:‏۹-‏۱۴) ‏

۱۸:‏۹-‏۱۲ اگلی تمثیل میں اُن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اپنے آپ کو «راست باز» اور دوسروں کو «ناچیز» اور حقیر جانتے ہیں۔ پہلے آدمی کو فریسی کا نام دے کر خداوند نے کوئی شبہ نہیں چھوڑا کہ وہ خاص کس طبقے کے لوگوں کو مخاطب کر رہا تھا۔ اگرچہ اُس فریسی نے دعا مانگنے کا فرض ادا کیا مگر دراصل وہ خدا سے باتیں نہیں کر رہا تھا۔ وہ تو اپنی اخلاقی اور مذہبی کامیابیوں کی ڈینگیں مار رہا تھا۔ بجائے اِس کے کہ وہ خود کا خدا کے کامل معیار کے ساتھ مقابلہ کرتا اور دیکھتا کہ کتنا گنہگار ہے،‏ وہ خود کا جماعت کے دوسرے اراکین سے مقابلہ کرتا ہے اور اِس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مَیں بہتر ہوں۔ غور کریں کہ اُس نے بار بار «مَیں» کہا جس سے اُس کے دل کی اصلی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ وہ خود بین،‏ خود پسند اور مغرور تھا۔

۱۸:‏۱۳ محصول لینے والا زبردست تقابل پیش کرتا ہے۔ خدا کے حضور کھڑے ہوئے اُسے احساس ہے کہ مَیں بالکل نالائق ہوں۔ وہ خاکسار بن گیا۔ اِتنا کہ «نہ چاہا کہ آسمان کی طرف آنکھ اُٹھائے بلکہ چھاتی پیٹ پیٹ کر» خدا سے فریاد کرنے لگا کہ «اے خدا! مجھ گنہگار پر رحم کر۔» وہ یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ مَیں دوسرے بہت سے گنہگاروں میں سے ایک گنہگار ہوں بلکہ یہ کہ مَیں ہی گنہگار ہوں اور اِس لائق نہیں کہ خدا سے کچھ پاؤں۔

۱۸:‏۱۴ خداوند نے اپنے سامعین کو یاد دلایا کہ توبہ کی یہ روح ہے جو خدا کی نظر میں مقبول ٹھہرتی ہے،‏ اِنسانی شکل و صورت اور حلیہ کچھ بھی ظاہر کرے،‏ مگر یہ محصول لینے والا «راست باز ٹھہر کر اپنے گھر گیا۔» خدا حلیموں اور خاکساروں کو سرفراز کرتا ہے اور جو خود کو سرفراز کرتے ہیں اُن کو پست کر دیتا ہے۔

ط۔ یسوع اور چھوٹے بچے  (‏۱۸:‏۱۵-‏۱۷) ‏

ہم نے ابھی ابھی دیکھا ہے کہ «خدا کی بادشاہی» میں داخل ہونے کے لئے بچوں جیسی حلیمی اور خاکساری اِختیار کرنا ضروری ہے۔ یہ واقعہ بھی اِسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ مائیں اپنے ننھے منے بچوں کو لے کر خداوند یسوع کے گرد جمع ہو گئیں تاکہ وہ اُنہیں برکت دے۔ اُس کے شاگرد اِس مداخلت پر ناراض ہوئے۔ مگر یسوع نے اُن کو جھڑکا اور بڑی ملائمت اور نرمی سے بچوں کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ «خدا کی بادشاہی ایسوں ہی کی ہے»۔ اکثر سوال پوچھا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد چھوٹے بچوں کا کیا ہوتا ہے؟ آیت ۱۶ اِس سوال کا جواب دیتی ہے کہ وہ آسمان پر جاتے ہیں۔ خداوند نے صاف صاف کہا ہے کہ «خدا کی بادشاہی ایسوں ہی کی ہے۔»

بچے بہت چھوٹی عمر میں نجات کا تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اِنفرادی طور پر ہر بچے کی عمر فرق ہو سکتی ہے۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ بچہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو،‏ اگر وہ خداوند کے پاس آنا چاہئے،‏ اُسے روکنا نہیں چاہئے بلکہ اُس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔

چھوٹے بچوں کو نجات پانے کے لئے بالغ ہونے کی ضرورت نہیں،‏ البتہ بالغوں کو چھوٹے بچوں جیسی حلیمی اور سادہ ایمان کی ضرورت ہے تاکہ خدا کی بادشاہی میں داخل ہو سکیں۔

ی۔ نوجوان دولت مند سردار  (‏۱۸:‏۱۸-‏۳۰) ‏

۱۸:‏۱۸،‏۱۹ اِس حصے میں ایک ایسے آدمی کا واقعہ پیش کیا گیا ہے جو خدا کی بادشاہی کو چھوٹے بچے کی طرح قبول نہیں کرنا چاہتا۔ ایک دن ایک سردار خداوند یسوع کے پاس آیا۔ اُسے «اے نیک اُستاد» کہہ کر مخاطب کیا اور پوچھا کہ «مَیں کیا کروں تاکہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنو؟» نجات دہندہ نے پہلے تو اُس سے پوچھا کہ تُو نے میرے لئے «نیک اُستاد» کا لقب کیوں استعمال کیا ہے؟ یسوع نے اُسے یاد دلایا کہ «کوئی نیک نہیں،‏ مگر ایک یعنی خدا»۔ یہاں یسوع الٰہی ذات ہونے سے اِنکار نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ اُس سردار کی اِس طرف راہنمائی کر رہا تھا کہ وہ خود اِس حقیقت کا اِقرار کرے۔ اگر وہ «نیک» ہے تو یقینا «خدا» ہے کیونکہ صرف خدا ہی اپنی ذات میں نیک ہے۔

۱۸:‏۲۰ اِس کے بعد یسوع نے اُس کے سوال کا جواب دیا۔ سوال تھا کہ «مَیں کیا کروں تاکہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟» ہم جانتے ہیں کہ ہمیشہ کی زندگی ورثے میں نہیں ملتی۔ اور نہ وہ نیک کام کرنے سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہمیشہ کی زندگی تو خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے خدا کی بخشش ہے۔ خداوند اِس سردار کو دس «حکموں» کی طرف متوجہ کرتا ہے مگر اِس کا ہرگز مطلب نہیں تھا کہ سردار شریعت پر عمل کرنے سے نجات پا سکتا تھا بلکہ خداوند شریعت کو استعمال کر کے اُس آدمی کو اُس کے گناہ کے بارے میں قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ خداوند یسوع نے اُن پانچ حکموں کو دُہرایا جن کا تعلق اپنے ہم جنس اِنسانوں کے ساتھ ہمارے فرائض سے ہے۔ یہ حکم شریعت کی دوسری لوح پر درج تھے۔

۱۸:‏۲۱-‏۲۳ صاف نظر آتا ہے کہ شریعت نے اِس نوجوان کی زندگی میں مجرم ٹھہرانے کا اثر نہیں کیا تھا کیونکہ وہ بڑی ڈھٹائی سے دعویٰ کرتا ہے کہ «مَیں نے لڑکپن سے اِن سب پر عمل کیا ہے»۔ یسوع نے اُس سے کہا کہ «ابھی تک تجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔» کمی یہ تھی کہ اُسے اپنے پڑوسی سے محبت نہ تھی۔ اگر اُس نے تمام حکموں پر واقعی عمل کیا ہوتا تو «اپنا سب کچھ بیچ کر غریبوں کو دے» دیا ہوتا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت نہیں رکھتا تھا۔ وہ خود غرضی کی زندگی بسر کرتا تھا۔ اُسے کسی سے محبت نہ تھی۔ اِس کا ثبوت اِس حقیقت سے ملتا ہے کہ «یہ سن کر وہ بہت غمگین ہوا کیونکہ بڑا دولت مند تھا۔»

۱۸:‏۲۴ خداوند یسوع نے اُس کو دیکھ کر کہا کہ «دولت مندوں کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کیسا مشکل ہے!» مشکل یہ ہے کہ جن کے پاس دولت ہوتی ہے وہ اِس زبردست خطرے میں ہیں کہ اُسی سے محبت کریں اور اُسی پر بھروسا کریں۔

پاک کلام کا یہ حصہ ایمان داروں اور غیر ایمان داروں کے لئے کئی پریشان کن سوال پیدا کرتا ہے۔ «کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے پڑوسی سے واقعی محبت رکھتے ہیں جب کہ ہم آرام و آسائش میں مگن ہوں اور دوسرے لوگ ہلاک ہو رہے ہوں اِس لئے کہ مسیح کی خوش خبری اُن تک نہیں پہنچتی؟»

۱۸:‏۲۵ یسوع نے کہا کہ «اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اِس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔» اِس بیان کی کئی تشریحات پیش کی جاتی ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ «سوئی کے ناکے» سے مراد وہ چھوٹا سا دروازہ ہے جو شہر کی فصیل کے بڑے دروازے کے اندر بنا ہوتا ہے۔ اُونٹ اُس میں سے صرف گھٹنوں کے بل ہو کر داخل ہو سکتا تھا مگر طبیب لوقا نے وہ لفظ استعمال کیا ہے جس کا صاف اور واضح مطلب جراح کی سوئی ہے۔ اور خداوند کے بیان کا مطلب بالکل صاف نظر آتا ہے۔ جس طرح «اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا» ناممکن ہے،‏ اُسی طرح «دولت مند کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا» ناممکن ہے۔ اِس کی یہ تشریح کر دینا ہی کافی نہیں کہ دولت مند کا اپنی کوشش سے بادشاہی میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ یہ بات تو دولت مند اور غریب دونوں پر صادق آتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ «دولت مند کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا» اِس لئے ناممکن ہے کہ وہ دولت مند کے طور پر داخل ہونا چاہتا ہے۔ جب تک وہ دولت کو اپنا خدا بنا لیتا ہے اور اُسے اپنے اور اپنی روح کی نجات کے درمیان حائل ہونے دیتا ہے اور جب تک یہ صورتِ حال رہے گی وہ خدا کی طرف رجوع نہیں ہو سکتا،‏ ایمان نہیں لا سکتا۔ سادہ سی حقیقت یہ ہے کہ بہت سے دولت مند افراد نجات نہیں پاتے۔ جو پاتے ہیں،‏ ضرور ہے کہ پہلے وہ خدا کے حضور شکستہ دل ہو جائیں۔

۱۸:‏۲۶،‏۲۷ جب شاگرد اِن سب باتوں پر غور کر رہے تھے تو حیران تھے کہ «پھر کون نجات پا سکتا ہے؟» وہ ہمیشہ سے دولت کو خدا کی برکت کا نشان سمجھتے رہے تھے  (‏اِستثنا ۲۸:‏۱-‏۸) ‏۔ اگر دولت مند یہودی نجات نہیں پا سکتے تو پھر کون پا سکتا ہے؟ خداوند نے جواب دیا کہ «جو اِنسان سے نہیں ہو سکتا،‏ وہ خدا سے ہو سکتا ہے۔» دوسرے لفظوں میں خدا لالچی،‏ دولت پر ناگ بن کر بیٹھ جانے والے،‏ بے پروا مادہ پرست کو لے کر اُس کے دل سے سونے چاندی کی محبت کو خارج کر سکتا ہے اور اِس کی جگہ خداوند کی خالص محبت پیدا کر سکتا ہے۔ یہ خدا کے فضل کا معجزہ ہے۔

یہاں بھی ایسے سوال پیدا ہوتے ہیں جو خدا کے فرزند کو پریشان کر دیتے ہیں۔ نوکر اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا۔ خداوند یسوع نے اپنی آسمانی دولت کو چھوڑ دیا تاکہ ہماری گناہ آلودہ روحوں کو نجات بخشے۔ مناسب نہیں کہ جس دُنیا میں وہ غریب بن کر رہا،‏ ہم اُس میں دولت مند بن کر رہیں۔ ہمیں روحوں کی قدر ہونی چاہئے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح کی دوسری آمد بالکل قریب ہے۔ مسیح کی محبت مجبور کر دیتی ہے کہ اِن ساری باتوں کے باعث ہم اپنی ساری مادی دولت خداوند کے کام میں لگا دیں۔

۱۸:‏۲۸-‏۳۰ جب پطرس نے خداوند کی توجہ اِس حقیقت کی طرف مبذول کرائی کہ شاگرد اپنے گھروں اور خاندانوں کو چھوڑ کر اُس کے پیچھے ہو لئے ہیں تو اُس نے جواب دیا کہ ایسی قربانی اور ایثار کی زندگی کا اَجر بڑی فراخ دلی سے اِسی زندگی میں مل جاتا ہے۔ مزید برآں ابدی زندگی میں بھی اِس کا اَور زیادہ اَجر ملے گا۔ آیت ۳۰ کا آخری حصہ بہت قابلِ غور ہے کہ «آنے والے عالم میں ہمیشہ کی زندگی۔» اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ابدی زندگی سب کچھ چھوڑ دینے سے ملتی ہے بلکہ مفہوم یہ ہے کہ آسمان کے جلال اور برکات سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور آسمانی بادشاہی میں زیادہ اَجر بھی ملتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے «اُس زندگی کی پوری معموری جو ایمان لاتے وقت حاصل ہوئی تھی یعنی بھرپور زندگی،‏ کامل زندگی»۔

ک۔ یسوع مسیح اپنی موت اور جی اُٹھنے کے بارے میں دوبارہ پیش گوئی کرتا ہے  (‏۱۸:‏۳۱-‏۳۴) ‏

۱۸:‏۳۱-‏۳۳ یہ تیسری دفعہ ہے کہ خداوند «اُن بارہ کو» خاص طور سے مخاطب کرتا ہے۔ وہ اُنہیں خبردار کرتا ہے اور جو کچھ اُس کو پیش آنے والا تھا اُس کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے  (‏دیکھئے ۹:‏۲۲،‏۴۴) ‏۔ اُس نے بیان کیا کہ میرا دُکھ اُٹھانا اُن باتوں کے مطابق ہے جو «نبیوں کی معرفت لکھی گئی ہیں۔» پرانے عہدنامے میں یہ ساری تفاصیل موجود ہیں۔ الٰہی پیش بینی کے ساتھ مسیح نے بڑے سکون کے ساتھ نبوت کی کہ «ابنِ آدم… غیر قوم والوں کے حوالہ کیا جائے گا۔» یہ بھی اِمکان تھا کہ اُسے خفیہ طور پر قتل کر دیا جاتا۔ یا کسی بلوے میں سنگسار کیا جاتا۔ لیکن نبیوں نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ وہ دھوکے سے پکڑوایا جائے گا اور «لوگ اُس کو ٹھٹھوں میں اُڑائیں گے اور بے عزت کریں گے اور اُس پر تھوکیں گے۔» چنانچہ ایسا ہی ہونا ضرور تھا۔ اُسے کوڑے لگائے جائیں گے اور قتل کیا جائے گا،‏ لیکن «وہ تیسرے دن جی اُٹھے گا۔»

بقیہ ابواب میں وہ سارے واقعات سامنے آتے ہیں جن کو وہ عجیب طور سے پہلے ہی جانتا تھا اور جن کی تفصیل بھی اُس نے پہلے ہی بیان کر دی تھی:‏

  • «دیکھو ہم یروشلیم کو جاتے ہیں»  (‏۱۸:‏۳۵-‏۱۹:‏۴۵) ‏۔
  • «ابنِ آدم… غیر قوم والوں کے حوالہ کیا جائے گا»  (۹‏۱:‏۴۷-‏۲۳:‏۱) ‏
  • «لوگ اُس کو ٹھٹھوں میں اُڑائیں گے اور بے عزت کریں گے»  (‏۲۳:‏۱-‏۳۲) ‏۔
  • «اور قتل کریں گے»  (‏۲۳:‏۳۳-‏۵۶) ‏۔
  • «وہ تیسرے دن جی اُٹھے گا»  (‏۲۴:‏۱-‏۱۲) ‏

۱۸:‏۳۴ بڑے تعجب کی بات ہے کہ شاگرد «اِن میں سے کوئی بات نہ سمجھ» پائے۔ اُس کی باتوں کا مطلب اُن سے «پوشیدہ» رکھا گیا تھا۔ ہمارے لئے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ وہ اِتنے کند ذہن کیوں تھے۔ مگر غالباً اِس کی وجہ یہ تھی:‏کہ اُن کے ذہنوں میں ایک دُنیاوی نجات دہندہ کا خیال اِس قدر سمایا ہوا تھا کہ وہ اُنہیں رومیوں کے جوئے سے خلاصی دے گا اور فوری طور پر بادشاہی قائم کرے گا کہ وہ کسی اَور پروگرام کے اِمکان پر غور کرنے کو تیار ہی نہ تھے۔ اکثر ہم اُن ہی باتوں پر ایمان لاتے ہیں جن پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔ اور اگر سچائی ہمارے ذہن میں پہلے سے سمائے ہوئے تصور کے مطابق نہ ہو تو ہم اُس کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اُسے تسلیم کرنے سے اِنکار کر دیتے ہیں۔

ل۔ اَندھے فقیر کو شفا دینا  (۸‏۱:‏۳۵-‏۴۳) ‏

۱۸:‏۳۵،‏۳۷ اب خداوند یسوع پیریہ کو چھوڑ کر دریائے یردن کو عبور کر چکا ہے۔ لوقا کہتا ہے کہ جس واقعے کا مَیں اب بیان کر رہا ہوں،‏ وہ اُس وقت پیش آیا «جب یسوع چلتے چلتے یریحو کے نزدیک پہنچا۔» متی اور مرقس کے مطابق یسوع اُس وقت یریحو سے «نکل رہا تھا»  (‏متی ۲۰:‏۲۹؛ مرقس ۱۰:‏۴۶) ‏۔ علاوہ ازیں متی یہ بھی کہتا ہے کہ وہاں دو اندھے آدمی تھے جب کہ مرقس اور لوقا ایک آدمی کا ذکر کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ لوقا نئے شہر کے اور متی اور مرقس پرانے شہر کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اِس مقام پر اندھوں کو بینائی دینے کے ایک سے زیادہ معجزے ہوئے ہوں۔ تفصیل و تشریح کچھ بھی ہو،‏ ہمارا ایمان ہے کہ اگر ہمارا علم زیادہ ہوتا تو یہ ظاہری تضاد غائب ہو جاتے۔

۱۸:‏۳۸ اُس اَندھے فقیر نے کسی نہ کسی طرح پہچان لیا کہ «یسوع» مسیحِ موعود ہے کیونکہ اُس نے اُسے «اے یسوع ابنِ داؤد» کہہ کر مخاطب کیا۔ اُس نے خداوند سے منت کی کہ «مجھ پر رحم کر» یعنی میری بینائی بحال کر دے۔

۱۸:‏۳۹ کئی لوگوں نے اُسے خاموش کرانے کی کوشش کی۔ مگر وہ چِلّایا اور خداوند یسوع سے رحم کی درخواست کرتا رہا۔ لوگوں کو اِس فقیر میں کوئی دلچسپی نہ تھی مگر یسوع کو تھی۔

۱۸:‏۴۰،‏۴۱ چنانچہ یسوع کھڑا ہو گیا۔ ڈاربی  (‏Darby) ‏ بڑا بصیرت افروز تبصرہ کرتا ہے:‏«ایک دفعہ یشوع نے سورج کو حکم دیا تھا کہ ٹھہر جا  (‏کھڑا ہو جا) ‏۔ یہاں سورج،‏ چاند اور آسمانوں کا ’مالک‘ ایک اَندھے فقیر کے کہنے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔» یسوع کے حکم پر اُس فقیر کو اُس کے «پاس» لایا گیا۔ یسوع نے اُس سے پوچھا کہ «تُو کیا چاہتا ہے؟» فقیر نے بِلا توقف اور بغیر اِدھر اُدھر کی بات کئے جواب دیا کہ «اے خداوند،‏ یہ کہ مَیں بینا ہو جاؤں۔» اُس کی دعا مختصر مگر واضح اور ایمان سے بھری ہوئی تھی۔

۱۸:‏۴۲،‏۴۳ اِس پر یسوع نے اُس کی درخواست منظور کر لی۔ وہ اَندھا «اُسی دَم بینا ہو گیا۔» اِتنا ہی نہیں بلکہ وہ «خدا کی تمجید کرتا ہوا اُس کے پیچھے ہو لیا۔» اِس واقعے سے ہمیں سیکھنا چاہئے کہ ہمیں یہ ایمان رکھنے کی جرأت کرنی چاہئے کہ خدا ناممکن کام کر سکتا ہے۔ عظیم اور بڑے ایمان سے یقینا اُس کی تعظیم اور تمجید ہوتی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:‏

تُو ایک بادشاہ کے حضور آ رہا ہے
چنانچہ بڑی بڑی درخواستیں لے کر آ
کیونکہ اُس کا فضل اور قدرت ایسے ہیں
کہ جتنا مانگو اُتنا ہی کم ہے۔  (‏جان نیوٹن) ‏

م۔ زکائی کا ایمان لانا  (‏۱۹:‏۱-‏۱۰) ‏

زکائی کے ایمان لانے سے لوقا ۱۸:‏۲۷ کی صداقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ «جو اِنسان سے نہیں ہو سکتا وہ خدا سے ہو سکتا ہے۔» زکائی دولت مند تھا۔ عام حالات میں کسی دولت مند کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ لیکن زکائی نے نجات دہندہ کے حضور اپنے آپ کو پست اور خاکسار کیا اور اپنی دولت کو اپنی روح اور خدا کے درمیان حائل نہیں ہونے دیا۔

۱۹:‏۱-‏۵ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب یسوع «یریحو میں داخل ہو کر جا رہا تھا۔» یہ یروشلیم کا اُس کا تیسرا اور آخری سفر تھا۔ اِس موقعے پر زکائی نے «یسوع کو دیکھنے کی کوشش» کی۔ بے شک یہ کوشش تجسس کے باعث تھی۔ گو وہ «محصول لینے والوں کا سردار… تھا» مگر یسوع کو دیکھنے کے لئے وہ ایک غیر روایتی سی حرکت کرنے سے نہیں شرمایا۔ چونکہ «اُس کا قد چھوٹا تھا» اِس لئے وہ جانتا تھا کہ یسوع کو اچھی طرح دیکھ نہ سکوں گا۔ «پس  (‏وہ) ‏… آگے دوڑ کر ایک گولر کے پیڑ پر چڑھ گیا۔ کیونکہ یسوع اُسی راہ سے جانے کو تھا۔» یہ ایمان کا عمل تھا اِس لئے نجات دہندہ نے اُس پر توجہ کی۔ جب یسوع نزدیک پہنچا «تو اُوپر نگاہ کر کے» زکائی کو دیکھا۔ اور حکم دیا کہ «اے زکائی جلد اُتر آ۔» خداوند نے اپنے آپ کو اُس محصول لینے والے کے گھر آنے کی دعوت دی۔ یہ واحد موقع ہے جب نجات دہندہ نے اپنے آپ کو کسی کے گھر آنے کی دعوت دی۔

۱۹:‏۶ زکائی نے خداوند کے کہے کے مطابق کیا اور خداوند کو «خوشی سے اپنے گھر لے گیا۔» ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اُس کو اُسی وقت نجات مل گئی۔

۱۹:‏۷ مسیح کے نکتہ چین «سب بڑبڑا کر کہنے لگے کہ وہ تو ایک گنہگار شخص کے ہاں جا اُترا۔» محصول لینے والے تو مشہور گنہگار سمجھے جاتے تھے۔ مگر یہ نکتہ چین اِس حقیقت کو فراموش کر گئے کہ ہماری اِس دُنیا میں آنے کے باعث مسیح ایسے ہی گھروں میں جا سکا۔ بے گناہ تو ایک بھی گھر نہیں تھا۔

۱۹:‏۸ نجات نے اِس محصول لینے والے کی زندگی میں انقلابی تبدیلی پیدا کر دی۔ اُس نے نجات دہندہ کو بتایا کہ «مَیں اپنا آدھا مال غریبوں کو دیتا ہوں»  (‏اب تک وہ غریبوں سے زیادہ سے زیادہ مال بٹورتا رہا تھا) ‏۔ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ «اگر کسی کا کچھ ناحق لے لیا ہے تو اُس کو چوگنا ادا» کر دوں۔ یہ شریعت کے تقاضے سے زیادہ تھا  (‏خروج ۲۲:‏۴،‏۷؛ احبار ۶:‏۵،‏ گنتی ۵:‏۷) ‏۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے:‏اب زکائی پر محبت کا غلبہ تھا جب کہ پہلے حرص کا غلبہ تھا۔

اِس میں شک نہیں کہ زکائی نے بے اِنصافی اور بے ایمانی سے بہت کچھ حاصل کیا تھا۔ ووئیسٹ  (‏Wuest) ‏ آیت ۸ ب کا ترجمہ یوں کرتا ہے کہ «چونکہ مَیں نے… ناحق لے لیا ہے۔» اِس میں «اگر» کا کوئی مقام نہیں۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ زکائی اپنی اِنسان دوستی کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے اور نجات کے لئے اِسی بات پر اِنحصار کرتا ہے۔ مگر ایسی بات ہرگز نہیں بلکہ وہ کہہ رہا ہے کہ مسیح میں میری نئی زندگی چاہتی ہے کہ مَیں اپنے ماضی کا عوض معاوضہ کروں۔ اپنے ماضی کی تلافی کروں۔ اور خدا کی طرف سے ملنے والی نجات کی شکر گزاری کرتے ہوئے وہ چاہتا تھا کہ اب اپنی دولت خدا کے جلال اور تمجید کے لئے استعمال کرے تاکہ اپنے پڑوسیوں کے لئے باعث ِبرکت ہو۔

تلافی یا معاوضے کے موضوع پر آیت ۸ پوری بائبل مقدس میں سب سے زور دار آیت ہے۔ نجات کا مطلب یہ نہیں کہ اِنسان اپنی ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے سے آزاد ہو گیا۔ جو قرض اِنسان نے نجات پانے سے پہلے اُٹھائے،‏ وہ نئی پیدائش کے بعد منسوخ نہیں ہو جاتے۔ اگر نجات پانے سے پہلے کچھ چوری کیا تھا،‏ تو خدا کے فضل کا حقیقی احساس تقاضا کرتا ہے کہ وہ اصل مالک کو لوٹایا جائے۔

۱۹:‏۹ «یسوع» نے واضح اعلان کیا کہ «آج اِس  (‏زکائی کے) ‏ گھر میں نجات آئی ہے۔ اِس لئے کہ یہ بھی ابرہام کا بیٹا ہے۔» زکائی کو نجات اِس لئے نہیں ملی تھی کہ وہ پیدائشی یہودی تھا۔ یہاں «ابرہام کا بیٹا» سے مراد طبعی اولاد یا نسل سے ہونا نہیں بلکہ یہ کہ زکائی کو خداوند پر اُسی قسم کا ایمان تھا جیسا ابرہام کا تھا۔ نہ ہی زکائی کے گھر میں نجات اُس کی خیرات اور تلافی کے باعث آئی تھی  (‏آیت ۸) ‏۔ یہ باتیں نجات کا پھل ہیں،‏ سبب نہیں۔

۱۹:‏۱۰ جو لوگ اعتراض کرتے تھے کہ یسوع ایک گنہگار شخص کے ہاں جا اُترا ہے،‏ اُن کو جواب دیتے ہوئے خداوند نے کہا کہ «ابنِ آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے۔» دوسرے لفظوں میں زکائی کا ایمان لانا اُس مقصد کی تکمیل تھی جس کے لئے مسیح اِس دُنیا میں آیا تھا۔

ن۔ دس اشرفیوں کی تمثیل  (‏۱۹:‏۱۱-‏۲۷) ‏

۱۹:‏۱۱ «اشرفی» یونانی لفظ «مِنہ» کا ترجمہ ہے۔ اِس کی قیمت سو دِرہم کے برابر تھی  (‏اُردو بائبل کا حاشیہ) ‏۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی اشرفی کا استعمال رہا ہے۔ یہ عموماً سونے کی ہوتی تھی جس سے اِس کی قیمت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ جب یسوع یریحو سے آتے ہوئے «یروشلیم کے نزدیک» پہنچا تو اُس کے بہت سے پیرو سوچتے تھے کہ «خدا کی بادشاہی ابھی ظاہر ہوا چاہتی ہے۔» دس اشرفیوں کی تمثیل میں خداوند نے اُن کی غلط اُمیدوں کو درست کیا۔ اُس نے دِکھایا ہے کہ میری پہلی آمد اور دوسری آمد کے درمیان وقفہ ہے۔ اِس وقفے کے دوران میرے شاگردوں کو مشغول و مصروف رہ کر میرا کام کرنا ہو گا۔

۱۹:‏۱۲،‏۱۳ اِس امیر کی تمثیل ارخلاؤس کی تاریخ سے مطابقت رکھتی ہے۔ ہیرودیس نے ارخلاؤس کو اپنا جانشین چنا تھا مگر لوگوں نے اُسے ردّ کر دیا تھا۔ وہ اپنے تقرر کی توثیق کروانے روم گیا۔ واپس آ کر اُس نے اپنے نوکروں کو انعام و اکرام سے نوازا اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کر دیا۔

اِس تمثیل میں ایک امیر خداوند یسوع خود ہے۔ وہ آسمان پر چلا گیا تاکہ وقت پورا ہونے پر پھر آئے اور زمین پر اپنی بادشاہی قائم کرے۔ «دس نوکر» اُس کے شاگردوں کی مثال ہیں۔ اُس نے سب کو ایک ایک اشرفی دے کر کہا کہ «میرے واپس آنے تک لین دین کرنا۔» بے شک خداوند کے خادموں کی لیاقتوں اور صلاحیتوں میں فرق ہوتا ہے  (‏ملاحظہ کیجئے توڑوں کی تمثیل متی ۲۵:‏۱۴-‏۳۰) ‏ مگر کچھ باتیں ضرور مشترک ہوتی ہیں۔ مثلاً اِنجیل کی خوش خبری میں دوسروں کو شریک کرنے کا اِستحقاق،‏ مسیح کو دُنیا کے سامنے پیش کرنے کا اعزاز اور دعا مانگنے کی توفیق وغیرہ۔ بلاشبہ اشرفی ایسی ہی باتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

۱۹:‏۱۴ «شہر کے آدمی» یہودی قوم ہیں۔ اُنہوں نے نہ صرف خداوند کو ردّ کیا بلکہ اُس کے جانے کے بعد «ایلچیوں کی زبانی کہلا بھیجا کہ ہم نہیں چاہتے کہ یہ ہم پر بادشاہی کرے۔» ایلچیوں سے مراد یہودیوں کا وہ سلوک ہے جو اُنہوں نے مسیح کے شاگردوں کے ساتھ روا رکھا۔ مثلاً ستفنس اور کئی دیگر مقدسین کو شہید کر دیا۔

۱۹:‏۱۵ یہاں خداوند کو ایک مثیل کے طور پر دکھایا گیا ہے جو واپس آتا ہے تاکہ بادشاہی قائم کرے۔ اُس وقت وہ ان لوگوں سے حساب لے گا «جن کو روپیہ دیا تھا۔»

جہاں تک موجودہ زمانے میں ایمان داروں کی خدمت کا تعلق ہے خداوند مسیح کے تخت ِعدالت کے سامنے اُن سے حساب لیا جائے گا۔ یہ عدالت فضائی اِستقبال کے فوراً بعد آسمان میں ہو گی۔

یہودیوں کا وہ ایمان دار بقیہ جو بڑی مصیبت کے ایام میں مسیح کی گواہی دیتا رہے گا،‏ اُس کا حساب مسیح کی دوسری آمد کے موقعے پر ہو گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کلام کے اِس حصے میں زیادہ تر یہی عدالت پیشِ نظر ہے۔

۱۹:‏۱۶ پہلے نوکر نے اپنی اشرفی سے دس اشرفیاں پیدا کر لی تھیں۔ اُس کو شعور تھا کہ یہ روپیہ میرا نہیں  (‏وہ کہتا ہے «تیری اشرفی») ‏۔ چنانچہ اُس نے اِس اشرفی کو اپنے مالک کے بہترین مفاد میں استعمال کیا تھا۔

۱۹:‏۱۷ مالک نے یہ کہہ کر اُس کی تعریف کی کہ «… تُو نہایت تھوڑے میں دیانت دار نکلا۔» یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اپنی پوری کوشش کرنے کے بعد بھی ہم نکمے نوکر ہیں۔ اُس نوکر کو اَجر میں «دس شہروں پر اِختیار» ملا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دیانت دارانہ خدمت کے اَجر کا تعلق مسیح کی بادشاہی میں حاکمانہ اِختیار کے ساتھ ہے۔ ایک شاگرد کو کتنا اِختیار ملتا ہے،‏ اِس کا اِنحصار اِس بات پر ہے کہ وہ کس قدر جاں نثار تھا اور کتنی محنت سے کام کرتا تھا۔

۱۹:‏۱۸،‏۱۹ دوسرے نوکر نے ایک اشرفی سے «پانچ اشرفیاں» کمائی تھیں۔ اُس کو اَجر میں «پانچ شہروں کا حاکم» بنایا گیا۔

۱۹:‏۲۰،‏۲۱ تیسرے نوکر کے پاس سوائے عذر اور بہانوں کے کچھ نہ تھا۔ اُس نے اشرفی کو بڑی احتیاط سے «رومال میں باندھ رکھا» تھا۔ اور اُس سے کچھ نہیں کمایا تھا۔ ایک لحاظ سے وہ مالک ہی کو موردِ الزام ٹھہرا رہا تھا۔ اُس نے مالک کو سخت آدمی قرار دیا جو بغیر خرچ کئے آمدنی کی توقع رکھتا ہے۔ لیکن اُس کی اپنی بات نے اُسے مجرم ٹھہرایا۔ اگر اُس کا خیال تھا کہ مالک ایسا آدمی ہے تو کم سے کم اِتنا تو کرتا کہ اُس کا روپیہ ساہوکار کے پاس رکھوا دیتا تاکہ سود ہی کما لیتا۔

۱۹:‏۲۲ امیر کے الفاظ کو دُہرانے میں یسوع نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ مبنی برحقیقت تھے۔ یہ تو نوکر کا گناہ آلودہ دل تھا جو اپنی کاہلی کے لئے مالک کو الزام دے رہا تھا۔ لیکن اگر اُسے اِس بات کا یقین تھا تو اِس کے مطابق عمل بھی کرتا۔

۱۹:‏۲۳ اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنا سب کچھ یا تو خداوند کے کام میں لگا دیں یا کسی ایسے شخص کے سپرد کر دیں جو اُسے خداوند کے لئے استعمال کرے۔

۱۹:‏۲۴-‏۲۶ مالک نے تیسرے نوکر کے خلاف یہ فیصلہ دیا کہ «وہ اشرفی اُس سے لے لو اور دس اشرفی والے کو دے دو۔» اگر ہم اپنے مواقع کو خداوند کے لئے استعمال نہیں کرتے تو ہم سے لے لئے جائیں گے۔ اِس کے برعکس اگر نہایت تھوڑے میں دیانت دار ہوں تو خدا دھیان رکھے گا کہ ہمیں ذرائع اور مواقع کی کبھی کمی نہ ہو تاکہ ہم اُس کی اَور زیادہ خدمت کر سکیں۔ شاید بعض لوگوں کو یہ بے اِنصافی معلوم ہو کہ وہ ایک «اشرفی» بھی اُس کو دے دی گئی جس کے پاس پہلے ہی «دس» اشرفیاں تھیں مگر روحانی زندگی کا یہ مُسلَّمہ اصول ہے کہ جو لوگ خداوند سے دلی محبت رکھتے اور سچے جذبے کے ساتھ اُس کی خدمت کرتے ہیں،‏ اُن کو وسیع تر مواقع عطا کئے جاتے ہیں۔ جو شخص مواقع کو مفید طور پر استعمال نہیں کرتا،‏ وہ سب کے لئے نقصان کا باعث ہوتا ہے۔

تیسرے نوکر کو اَجر کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ لیکن یہاں کسی اَور سزا کا ذکر نہیں۔ غالباً اُس کی نجات کے بارے میں کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

۱۹:‏۲۷ اُس شہر کے لوگ جو نہیں چاہتے کہ وہ امیر اُن پر حاکم ہو،‏ اُن کو دشمن قرار دے کر ردّ کیا گیا ہے۔ اُن کا حشر موت ہے۔ یہ اُس قوم کے بارے میں کیسی افسوس ناک پیش گوئی ہے جس نے مسیحِ موعود کو ردّ کر دیا۔

مقدس کتاب

۱- پِھر اُس نے اُن بارہ کو بُلا کر اُنہیں سب بدرُوحوں پر اِختیار بخشا اور بِیماریوں کو دُور کرنے کی قُدرت دی۔
۲- اور اُنہیں خُدا کی بادشاہی کی مُنادی کرنے اور بِیماروں کو اچھّا کرنے کے لِئے بھیجا۔
۳- اور اُن سے کہا کہ راہ کے لِئے کُچھ نہ لینا۔ نہ لاٹھی۔ نہ جھولی۔ نہ روٹی۔ نہ رُوپیہ۔ نہ دو دو کُرتے رکھنا۔
۴- اور جِس گھر میں داخِل ہو وہِیں رہنا اور وہِیں سے روانہ ہونا۔
۵- اور جِس شہر کے لوگ تُمہیں قبُول نہ کریں۔ اُس شہر سے نِکلتے وقت اپنے پاؤں کی گَرد جھاڑ دینا تاکہ اُن پر گواہی ہو۔
۶- پس وہ روانہ ہو کر گاؤں گاؤں خُوشخبری سُناتے اور ہر جگہ شِفا دیتے پِھرے۔
۷- اور چَوتھائی مُلک کا حاکِم ہیرودؔیس سب اَحوال سُن کر گھبرا گیا۔ اِس لِئے کہ بعض کہتے تھے کہ یُوحنّا مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔
۸- اور بعض یہ کہ ایلیّاؔہ ظاہِر ہُؤا ہے اور بعض یہ کہ قدِیم نبِیوں میں سے کوئی جی اُٹھا ہے۔
۹- مگر ہیرودؔیس نے کہا کہ یُوحنّا کا تو مَیں نے سر کٹوا دِیا۔ اب یہ کون ہے جِس کی بابت اَیسی باتیں سُنتا ہُوں؟ پس اُسے دیکھنے کی کوشِش میں رہا۔
۱۰- پِھر رسُولوں نے جو کُچھ کِیا تھا لَوٹ کر اُس سے بیان کِیا اور وہ اُن کو الگ لے کر بَیت صَیدا نام ایک شہر کو چلا گیا۔
۱۱- یہ جان کر بِھیڑ اُس کے پِیچھے گئی اور وہ خُوشی کے ساتھ اُن سے مِلا اور اُن سے خُدا کی بادشاہی کی باتیں کرنے لگا اور جو شِفا پانے کے مُحتاج تھے اُنہیں شِفا بخشی۔
۱۲- جب دِن ڈھلنے لگا تو اُن بارہ نے آ کر اُس سے کہا کہ بِھیڑ کو رُخصت کر کہ چاروں طرف کے گاؤں اور بستیوں میں جا ٹِکیں اور کھانے کی تدبِیر کریں کیونکہ ہم یہاں وِیران جگہ میں ہیں۔
۱۳- اُس نے اُن سے کہا تُم ہی اُنہیں کھانے کو دو۔ اُنہوں نے کہا ہمارے پاس صرف پانچ روٹِیاں اور دو مچھلِیاں ہیں مگر ہاں ہم جا کر اِن سب لوگوں کے لِئے کھانا مول لے آئیں۔
۱۴- کیونکہ وہ پانچ ہزار مَرد کے قرِیب تھے۔ اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ اُن کو تخمِیناً پچاس پچاس کی قِطاروں میں بِٹھاؤ۔
۱۵- اُنہوں نے اُسی طرح کِیا اور سب کو بِٹھایا۔
۱۶- پِھر اُس نے وہ پانچ روٹِیاں اور دو مچھلِیاں لِیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر اُن پر برکت بخشی اور توڑ کر اپنے شاگِردوں کو دیتا گیا کہ لوگوں کے آگے رکھّیں۔
۱۷- اُنہوں نے کھایا اور سب سیر ہو گئے اور اُن کے بچے ہُوئے ٹُکڑوں کی بارہ ٹوکرِیاں اُٹھائی گئِیں۔
۱۸- جب وہ تنہائی میں دُعا کر رہا تھا اور شاگِرد اُس کے پاس تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے اُن سے پُوچھا کہ لوگ مُجھے کیا کہتے ہیں؟
۱۹- اُنہوں نے جواب میں کہا یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا اور بعض ایلیّاؔہ کہتے ہیں اور بعض یہ کہ قدِیم نبِیوں میں سے کوئی جی اُٹھا ہے۔
۲۰- اُس نے اُن سے کہا لیکن تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ پطرؔس نے جواب میں کہا کہ خُدا کا مسِیح۔
۲۱- اُس نے اُن کو تاکِید کر کے حُکم دِیا کہ یہ کِسی سے نہ کہنا۔
۲۲- اور کہا ضرُور ہے کہ اِبنِ آدمؔ بُہت دُکھ اُٹھائے اور بزُرگ اور سردار کاہِن اور فقِیہہ اُسے ردّ کریں اور وہ قتل کِیا جائے اور تِیسرے دِن جی اُٹھے۔
۲۳- اور اُس نے سب سے کہا اگر کوئی میرے پِیچھے آنا چاہے تو اپنی خُودی سے اِنکار کرے اور ہر روز اپنی صلِیب اُٹھائے اور میرے پِیچھے ہو لے۔
۲۴- کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے وہ اُسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطِر اپنی جان کھوئے وُہی اُسے بچائے گا۔
۲۵- اور آدمی اگر ساری دُنیا کو حاصِل کرے اور اپنی جان کو کھو دے یا اُس کا نُقصان اُٹھائے تو اُسے کیا فائِدہ ہو گا؟
۲۶- کیونکہ جو کوئی مُجھ سے اور میری باتوں سے شرمائے گا اِبنِ آدمؔ بھی جب اپنے اور اپنے باپ کے اور پاک فرِشتوں کے جلال میں آئے گا تو اُس سے شرمائے گا۔
۲۷- لیکن مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اُن میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعض اَیسے ہیں کہ جب تک خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہ لیں مَوت کا مزہ ہرگِز نہ چکّھیں گے۔
۲۸- پِھر اِن باتوں کے کوئی آٹھ روز بعد اَیسا ہُؤا کہ وہ پطرؔس اور یُوحنّا اور یعقُوبؔ کو ہمراہ لے کر پہاڑ پر دُعا کرنے گیا۔
۲۹- جب وہ دُعا کر رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے چِہرہ کی صُورت بدل گئی اور اُس کی پوشاک سفید برّاق ہو گئی۔
۳۰- اور دیکھو دو شخص یعنی مُوسیٰ اور ایلیّاؔہ اُس سے باتیں کر رہے تھے۔
۳۱- یہ جلال میں دِکھائی دِئے اور اُس کے اِنتقال کا ذِکر کرتے تھے جو یروشلِیم میں واقِع ہونے کو تھا۔
۳۲- مگر پطرؔس اور اُس کے ساتھی نِیند میں پڑے تھے اور جب اچھّی طرح بیدار ہُوئے تو اُس کے جلال کو اور اُن دو شخصوں کو دیکھا جو اُس کے ساتھ کھڑے تھے۔
۳۳- جب وہ اُس سے جُدا ہونے لگے تو اَیسا ہُؤا کہ پطرؔس نے یِسُوعؔ سے کہا اَے اُستاد ہمارا یہاں رہنا اچھّا ہے۔ پس ہم تِین ڈیرے بنائیں۔ ایک تیرے لِئے۔ ایک مُوسیٰ کے لِئے ایک ایلیّاؔہ کے لِئے۔ لیکن وہ جانتا نہ تھا کہ کیا کہتا ہے۔
۳۴- وہ یہ کہتا ہی تھا کہ بادل نے آ کر اُن پر سایہ کر لِیا اور جب وہ بادل میں گِھرنے لگے تو ڈر گئے۔
۳۵- اور بادل میں سے ایک آواز آئی کہ یہ میرا برگُزِیدہ بیٹا ہے۔ اِس کی سُنو۔
۳۶- یہ آواز آتے ہی یِسُوعؔ اکیلا دکھائی دیا اور وہ چُپ رہے اور جو باتیں دیکھی تِھیں اُن دِنوں میں کِسی کو اُن کی کُچھ خبر نہ دی۔
۳۷- دُوسرے دِن جب وہ پہاڑ سے اُترے تھے تو اَیسا ہُؤا کہ ایک بڑی بِھیڑ اُس سے آ مِلی۔
۳۸- اور دیکھو ایک آدمی نے بِھیڑ میں سے چِلاّ کر کہا اَے اُستاد! مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ میرے بیٹے پر نظر کر کیونکہ وہ میرا اِکلَوتا ہے۔
۳۹- اور دیکھو ایک رُوح اُسے پکڑ لیتی ہے اور وہ یکایک چِیخ اُٹھتا ہے اور اُس کو اَیسا مروڑتی ہے کہ کف بھر لاتا ہے اور اُس کو کُچل کر مُشکِل سے چھوڑتی ہے۔
۴۰- اور مَیں نے تیرے شاگِردوں کی مِنّت کی کہ اُسے نِکال دیں لیکن وہ نہ نِکال سکے۔
۴۱- یِسُوعؔ نے جواب میں کہا اَے بے اِعتقاد اور کَجرو قَوم میں کب تک تُمہارے ساتھ رہُوں گا اور تُمہاری برداشت کرُوں گا؟ اپنے بیٹے کو یہاں لے آ۔
۴۲- وہ آتا ہی تھا کہ بدرُوح نے اُسے پٹک کر مروڑا اور یِسُوعؔ نے اُس ناپاک رُوح کو جِھڑکا اور لڑکے کو اچھّا کر کے اُس کے باپ کو دے دِیا۔
۴۳- اور سب لوگ خُدا کی شان کو دیکھ کر حَیران ہُوئے۔ لیکن جِس وقت سب لوگ اُن سب کاموں پر جو وہ کرتا تھا تعجُّب کر رہے تھے اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا۔
۴۴- تُمہارے کانوں میں یہ باتیں پڑی رہیں کیونکہ اِبنِ آدمؔ آدمِیوں کے ہاتھ میں حوالہ کِئے جانے کو ہے۔
۴۵- لیکن وہ اِس بات کو سمجھتے نہ تھے بلکہ یہ اُن سے چِھپائی گئی تاکہ اُسے معلُوم نہ کریں اور اِس بات کی بابت اُس سے پُوچھتے ہُوئے ڈرتے تھے۔
۴۶- پِھر اُن میں یہ بحث شرُوع ہُوئی کہ ہم میں سے بڑا کَون ہے؟
۴۷- لیکن یِسُوعؔ نے اُن کے دِلوں کا خیال معلُوم کر کے ایک بچّہ کو لِیا اور اپنے پاس کھڑا کر کے اُن سے کہا۔
۴۸- جو کوئی اِس بچّہ کو میرے نام پر قبُول کرتا ہے وہ مُجھے قبُول کرتا ہے اور جو مُجھے قبُول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبُول کرتا ہے کیونکہ جو تُم میں سب سے چھوٹا ہے وُہی بڑا ہے۔
۴۹- یُوحنّا نے جواب میں کہا اَے اُستاد ہم نے ایک شخص کو تیرے نام سے بدرُوحیں نِکالتے دیکھا اور اُس کو منع کرنے لگے کیونکہ وہ ہمارے ساتھ تیری پَیروی نہیں کرتا۔
۵۰- لیکن یِسُوعؔ نے اُس سے کہا کہ اُسے منع نہ کرنا کیونکہ جو تُمہارے خِلاف نہیں وہ تُمہاری طرف ہے۔
۵۱- جب وہ دِن نزدِیک آئے کہ وہ اُوپر اُٹھایا جائے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے یروشلِیم جانے کو کمر باندھی۔
۵۲- اور اپنے آگے قاصِد بھیجے۔ وہ جا کر سامرِیوں کے ایک گاؤں میں داخِل ہُوئے تاکہ اُس کے لِئے تیّاری کریں۔
۵۳- لیکن اُنہوں نے اُس کو ٹِکنے نہ دِیا کیونکہ اُس کا رُخ یروشلِیم کی طرف تھا۔
۵۴- یہ دیکھ کر اُس کے شاگِرد یعقُوبؔ اور یُوحنّا نے کہا اَے خُداوند کیا تُو چاہتا ہے کہ ہم حُکم دیں کہ آسمان سے آگ نازِل ہو کر اُنہیں بھسم کر دے [جَیسا ایلیّاؔہ نے کِیا]؟
۵۵- مگر اُس نے پِھر کر اُنہیں جِھڑکا [اور کہا تُم نہیں جانتے کہ تُم کَیسی رُوح کے ہو۔
۵۶- کیونکہ اِبنِ آدمؔ لوگوں کی جان برباد کرنے نہیں بلکہ بچانے آیا] پِھر وہ کِسی اَور گاؤں میں چلے گئے۔
۵۷- جب وہ راہ میں چلے جاتے تھے تو کِسی نے اُس سے کہا جہاں کہِیں تُو جائے مَیں تیرے پِیچھے چلُوں گا۔
۵۸- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا کہ لومڑِیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرِندوں کے گھونسلے مگر اِبنِ آدمؔ کے لِئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں۔
۵۹- پِھر اُس نے دُوسرے سے کہا میرے پِیچھے چل۔ اُس نے کہا اَے خُداوند! مُجھے اِجازت دے کہ پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کرُوں۔
۶۰- اُس نے اُس سے کہا کہ مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دے لیکن تُو جا کر خُدا کی بادشاہی کی خبر پَھیلا۔
۶۱- ایک اَور نے بھی کہا اَے خُداوند مَیں تیرے پِیچھے چلُوں گا لیکن پہلے مُجھے اِجازت دے کہ اپنے گھر کے لوگوں سے رُخصت ہو آؤں۔
۶۲- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا جو کوئی اپنا ہاتھ ہَل پر رکھ کر پِیچھے دیکھتا ہے وہ خُدا کی بادشاہی کے لائِق نہیں۔