لوقا ۲

۲۔ ابنِ آدم اور اُس کے پیش رَو کی آمد  (‏۱:‏۵-‏۲:‏۵۲) ‏

الف۔ پیش رَو کی آمد کی بشارت  (‏۱:‏۵-‏۲۵) ‏

۱:‏۵‏،۶ لوقا اپنے بیان کے آغاز میں ہمیں یوحنا بپتسمہ دینے والے کے والدین سے متعارف کراتا ہے۔ اُن کا تعلق اُس زمانے سے ہے جب شریر «ہیرودیسِ اعظم» «یہودیہ کا بادشاہ» تھا۔ وہ ادومی یعنی عیسو کی نسل سے تھا۔

زکریاہ  (‏بمعنی خداوند یاد رکھتا ہے) ‏ ایک کاہن تھا جس کا تعلق «اَبیاہ کے فریق» سے تھا۔ داؤد نے یہودی کہانت کو چوبیس فریقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ یہ اُن میں سے ایک فریق تھا  (‏۱۔تواریخ ۲۴:‏۱۰‏) ‏۔ ہر فریق یروشلیم کی ہیکل میں سال میں دو دفعہ خدمت کرنے کو بلایا جاتا تھا۔ ایک باری سبت سے سبت تک چلتی تھی۔ مسیح یسوع کے زمانے میں کاہنوں کی تعداد اِتنی زیادہ تھی کہ ایک کاہن کو زندگی میں صرف ایک دفعہ اعزاز ملتا تھا کہ پاک مقام میں داخل ہو کر بخور جلا سکے۔ بعض کاہنوں کی تو ساری زندگی اِنتظار ہی میں کٹ جاتی تھی۔

«الیشبع»  (‏بمعنی خدا کی قَسم) ‏ بھی «ہارون کی اولاد میں سے تھی» یعنی کاہنوں کے خاندان سے بھی۔ وہ اور اُس کا شوہر پکے اور مذہب پر کاربند یہودی تھے۔ وہ پرانے عہدنامے کے صحائف کو مانتے اور اُن کے اخلاقی اور رسوماتی ضابطوں پر پوری احتیاط سے چلتے تھے۔ بے شک وہ بے گناہ نہیں تھے‏، لیکن جب بھی اُن سے گناہ سرزد ہو جاتا تو وہ مقررہ قربانی یا نذرانہ گزرانتے اور سارے رسوماتی مطالبات پورے کرتے تھے۔

۱:‏۷ یہ جوڑا بے اولاد تھا۔ یہودی معاشرے میں یہ بات لعنت تصور کی جاتی تھی۔ لوقا طبیب کو معلوم ہے کہ اِس کی وجہ الیشبع کا بانجھ پن تھا۔ اور یہ مسئلہ اِس لئے بھی سنگین صورت اِختیار کر چکا تھا کہ وہ دونوں عمر رسیدہ تھے۔

۱:‏۸-‏۱۰ ایک دن زکریاہ مقدِس میں کہانت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ یہ اُس کی زندگی کا ایک عظیم دن تھا کیونکہ «اُس کے نام کا قرعہ نکلا کہ خداوند کے مقدِس میں جا کر خوشبو جلائے»۔ «لوگوں کی ساری جماعت» ہیکل کے «باہر دعا کر رہی تھی۔» کوئی نہیں جانتا کہ «خوشبو جلاتے وقت» سے مراد کون سی گھڑی ہے۔

اِنجیل کے آغاز میں ہم لوگوں کی جماعت کو ہیکل میں «دعا مانگنے» میں مشغول دیکھتے ہیں اور اِختتام پر اُنہیں «ہیکل میں خدا کی حمد» کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ اِن دونوں کے درمیانی ابواب میں بیان ہوتا ہے کہ کس طرح خداوند یسوع کی ذات اور کام میں اُن کی دعاؤں کا جواب ملا۔

۱:‏۱۱-‏۱۴ کاہن اور عوام دعا میں مشغول تھے۔ چنانچہ نہایت موزوں وقت اور موقع تھا کہ خدا اپنا مکاشفہ عنایت کرے۔ «خداوند کا فرشتہ خوشبو کے مذبح کی دہنی طرف کھڑا ہوا اُس کو دکھائی دیا۔» یہ جگہ خاص عنایت و بخشش کی جگہ تھی۔ پہلے تو زکریاہ گھبرا گیا۔ اُس کے ہم عصروں میں سے کسی نے کبھی فرشتہ نہیں دیکھا تھا۔ لیکن فرشتے نے اُسے تسلی دی اور نہایت عجیب اور خوش کُن خبر سنائی کہ «الیشبع کے بیٹا ہو گا۔» اُس کا نام یوحنا ہو گا  (‏بمعنی یہوواہ کی مہربانی یا فضل) ‏۔ والدین کے لئے «خوشی و خرمی» کے علاوہ یہ بچہ بہتوں کے لئے باعث ِبرکت ہونے والا تھا۔

۱:‏۱۵ یہ بچہ «خداوند کے حضور میں بزرگ ہو گا»  (‏اور یہی بزرگی ہے جو حقیقی اور اہم ہے) ‏۔ پہلے تو وہ اپنے آپ کو شخصی طور سے خدا کے لئے مخصوص ہونے کے باعث بزرگ ہو گا۔ وہ «ہرگز نہ مَے  (‏انگور سے تیار کردہ) ‏ نہ کوئی اَور شراب  (‏اناج سے تیار کردہ) ‏ پئے گا۔»

دوسرے وہ اپنی روحانی مخصوصیت کے باعث بزرگ ہو گا۔ «وہ اپنی ماں کے پیٹ ہی سے روح القدس سے بھر جائے گا»  (‏اِس کا یہ مطلب نہیں کہ یوحنا اپنی پیدائش ہی سے نجات یافتہ تھا یا اُس وقت ایمان لایا تھا بلکہ یہ کہ شروع ہی سے خدا کا روح اُس میں تھا تاکہ اُسے مسیح کے پیش رَو کے طور پر خاص مشن کے لئے تیار کرے) ‏۔

۱:‏۱۶‏،۱۷ تیسرے‏، وہ مسیح کے پیش رَو ہونے کے کردار میں بزرگ ہو گا۔ وہ بہت سے یہودی لوگوں کے دِلوں کو «خداوند کی طرف پھیرے گا۔» اُس کی خدمت «ایلیاہ» نبی کی خدمت کی مانند ہو گی کہ توبہ کے وسیلے سے لوگوں کا خدا کے ساتھ رِشتہ درست کرنے کی کوشش کرے گا۔

جی۔ کولمین لک  (‏Coleman Luck) ‏کہتا ہے:‏

«وہ بے پروا والدین کے دلوں کو اولاد کی طرف پھیرے گا کہ اُنہیں اپنے بچوں کی روحانی فکر ہو گی اور ساتھ ہی وہ نافرمان اور بغاوت پر آمادہ اولاد کے دل ’راست بازوں کی دانائی‘ کی طرف پھیرے گا۔»

دوسرے لفظوں میں وہ دُنیا میں سے ایسے ایمان داروں کو اِکٹھا کر ے گا جو خداوند کے ظہور پر اُس سے ملنے کو تیار ہوں گے۔ یہ ہم سب کے لئے بھی نہایت عمدہ اور گراں قدر خدمت ہے۔

غور کریں کہ آیات ۱۶ اور ۱۷ میں مسیح کی الوہیت کیسے مضمر ہے۔ آیت ۱۶ میں کہا گیا ہے کہ یوحنا «بہت سے بنی اِسرائیل کو خداوند کی طرف جو اُن کا خدا ہے پھیرے گا۔» اور آیت ۱۷ میں کہ یوحنا «اُس کے آگے آگے چلے گا۔» یہاں «اُس کے» سے کس کی طرف اِشارہ ہے۔ یقینا «خداوند… جو اُن کا خدا ہے» کی طرف جس کا ذکر اِس سے پہلی آیت میں آیا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یوحنا «یسوع» کا پیش رَو تھا۔ لہٰذا مفہوم واضح ہے۔ یسوع خدا ہے۔

۱:‏۱۸ عمر رسیدہ زکریاہ ایسے وعدے کے غیر ممکن ہونے کے باعث گویا سکتے میں آ گیا۔ وہ خود اور اُس کی بیوی دونوں اِتنے بوڑھے تھے کہ بچے کے والدین نہیں بن سکتے تھے۔ اُس کا سوال اگرچہ درد ناک ہے‏، لیکن اُس کے دل میں اُبلتے ہوئے شک کا بین اِظہار کرتا ہے۔

۱:‏۱۹ جواب دیتے ہوئے فرشتے نے پہلے تو اپنا تعارُف کرایا کہ «مَیں جبرائیل ہوں»  (‏بمعنی خدا کا طاقتور بندہ) ‏۔ اگرچہ اکثر اُس کو مقرب فرشتہ کہا جاتا ہے لیکن پاک صحائف میں اِس کے بارے میں صرف یہ بیان ہے «جو خدا کے حضور کھڑا رہتا» ہے اور جو خدا کے پاس سے اِنسانوں کے لئے پیغامات لاتا ہے  (‏دانی ایل ۸:‏۱۶؛ ۹:‏۲۱) ‏۔

۱:‏۲۰ چونکہ زکریاہ نے شک کیا تھا اِس لئے وہ اُس وقت تک بول نہ سکے گا «جس دن تک» بچہ پیدا نہ ہو گا۔ جب بھی کوئی ایمان دار خدا کے کلام کے بارے میں شک کرتا ہے‏، وہ اپنی گواہی اور گیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ بے اعتقادی لبوں پر مُہر لگا دیتی ہے۔ اور وہ اُس وقت تک بند رہتے ہیں جب تک ایمان واپس نہ آئے اور حمد و ستائش اور گواہی نہ دینے لگے۔

۱:‏۲۱‏،۲۲ ہیکل کے باہر لوگ بے تابی سے زکریاہ کا اِنتظار کر رہے تھے۔ عام طور سے جو کاہن خوشبو جلانے اندر جاتا تھا وہ بہت جلدی واپس آ جاتا تھا۔ آخرکار جب زکریاہ باہر آیا تو اُسے اُن سے اِشاروں سے باتیں کرنی پڑیں جس سے وہ جان گئے کہ «اُس نے مقدِس میں رُؤیا دیکھی ہے۔»

۱:‏۳۲ جب ہیکل میں اُس کی ذمہ داری کا دَور یعنی «خدمت کے دن پورے ہو گئے» تو یہ کاہن اپنے گھر واپس گیا اور جیسا فرشتے نے کہا تھا وہ ابھی تک بول نہیں سکتا تھا۔

۱:‏۲۴‏،۲۵ جب الیشبع حاملہ ہو گئی تو اُس نے پانچ مہینے تک خود کو اپنے گھر میں چھپائے رکھا۔ وہ دل میں خوشی مناتی تھی کہ بالآخر خداوند نے مناسب جانا کہ مجھ سے بے اولاد ہونے کی رُسوائی دُور کر لے۔

ب۔ ابنِ آدم کی پیدائش کی بشارت  (‏۱:‏۲۶-‏۳۸) ‏

۱:‏۲۶‏،۲۷ زکریاہ پر ظاہر ہونے  (‏یا الیشبع کے اُمید سے ہونے) ‏ کے «چھٹے مہینے میں جبرائیل» دوبارہ ظاہر ہوا۔ اِس دفعہ وہ ایک کنواری کے پاس آیا جس کا نام مریم تھا۔ وہ گلیل کے علاقے میں ناصرت نام ایک شہر میں رہتی تھی۔ مریم کی «منگنی… ایک مرد یوسف نام سے ہوئی تھی۔» یوسف نسلی لحاظ سے «داؤد کے گھرانے» سے تھا اور داؤد کے تخت پر بیٹھنے کا قانونی حق رکھتا تھا حالانکہ وہ خود ایک بڑھئی تھا۔ اُس زمانے میں منگنی کو آج کل کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط بندھن مانا جاتا تھا بلکہ اُس کو توڑنے کے لئے طلاق کی طرح کے عدالتی حکم کی ضرورت ہوتی تھی۔

۱:‏۲۸ فرشتے نے مریم کو «سلام تجھ کو جس پر فضل ہوا ہے» ۱؎ کہہ کر مخاطب کیا کیونکہ خداوند اُسے خاص اِعزاز بخشنے کو اُس کے پاس آ رہا تھا۔ یہاں دو نکات پر غور کرنا ضروری ہے  (‏۱) ‏ فرشتے نے مریم کو نہ تو سجدہ کیا نہ اُس سے دعا مانگی‏، صرف سلام کیا  (‏۲) ‏ اُس نے یہ نہیں کہا کہ تُو «پُر فضل» یعنی فضل سے بھری ہوئی ہے بلکہ یہ کہ «تجھ… پر فضل ہوا ہے۔»

۱:‏۲۹‏،۳۰ مریم کا گھبرا جانا بالکل مناسب اور فطری بات تھی۔ وہ سوچنے لگی کہ اِس سلام کا مطلب کیا ہے۔ فرشتہ نے اُسے تسلی دی‏، اُس کا خوف دُور کیا اور بتایا کہ خدا نے تجھے چن لیا ہے کہ تُو مسیحِ موعود جس کا مدتوں سے اِنتظار ہو رہا ہے کی ماں بنے۔

۱:‏۳۱-‏۳۳ اِس بشارت میں کئی حقائق یا سچائیاں پائی جاتی ہیں۔ اِن پر غور کریں۔

مسیحِ موعود کی حقیقی بشریت «تُو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا۔»
اُس کی الوہیت اور منجی کی حیثیت سے مِشن «اُس کا نام یسوع رکھنا»  (‏یسوع کا مطلب ہے «یہوواہ نجات دہندہ ہے») ‏۔
اُس کی ذاتی بزرگی «وہ بزرگ ہو گا» اپنی ذات اور اپنے کاموں دونوں کے باعث۔
اُس کی شناخت بطور خدا کا بیٹا ‏‌«خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا۔»
داؤد کے تخت پر اُس کا حق «خداوند خدا اُس کے باپ داؤد کا تخت اُسے دے گا۔»
اُس کی دائمی بادشاہی «وہ یعقوب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخر نہ ہو گا۔»

یہ تو صاف ظاہر ہے کہ آیات ۳۱‏،۳۲ کے پہلے حصے میں خداوند کی پہلی آمد کا بیان ہے جب کہ آیات ۳۲ کے دوسرے حصے اور ۳۳ کا اِشارہ اُس کی دوسری آمد کی طرف ہے‏، جب وہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ہو گا۔

۱:‏۳۴‏،۳۵ مریم نے سوال کیا «یہ کیونکر ہو گا؟» اِس میں شک نہیں بلکہ حیرت پائی جاتی ہے۔ اِستفسار پایا جاتا ہے۔ اُس کے بچہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اُس کا کسی مرد کے ساتھ کبھی تعلق نہیں ہوا۔ اگرچہ فرشتے نے یہ الفاظ استعمال نہیں کئے مگر اُس کی ساری بات کا مطلب تھا «کنواری سے پیدا ہونا۔» یہ روح القدس کا ایک معجزہ ہو گا۔ «روح القدس تجھ پر نازل ہو گا اور خدا تعالیٰ کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالے گی۔» مریم کا مسئلہ یہ تھا کہ «یہ کیونکر ہو گا؟» اِنسانی لحاظ سے تو یہ بات ناممکن تھی — خدا کا جواب ہے «روح القدس۔»

«اور اِس سبب سے وہ مولودِ مقدس خدا کا بیٹا کہلائے گا۔» یہ تجسم کا نہایت اعلیٰ بیان ہے۔ مریم کا بیٹا حقیقتاً خدا کا جسم میں ظہور ہے۔ ہماری زبان اِس سربستہ راز کو کھولنے سے قاصر ہے۔

۱:‏۳۶‏،۳۷ اِس کے بعد فرشتے نے مریم کو ایک اَور خبر دی «دیکھ تیری رِشتہ دار الیشبع کے بھی بڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے۔» وہ جو بانجھ تھی‏، اب اُس کو چھٹا مہینہ ہے۔ اِس معجزے سے مریم کا یقین پختہ ہو جائے گا کہ خدا کے لئے کوئی بات ناممکن نہیں۔

۱:‏۳۸ مریم نے کمال تابع فرمانی کا ثبوت دیا۔ اور خدا کے عجیب مقصد کو پورا کرنے کے لئے خود کو اُس کے سپرد کر دیا۔ «تب فرشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا۔»

ج۔ مریم‏، الیشبع سے ملاقات کرتی ہے  (‏۱:‏۳۹-‏۴۵) ‏

۱:‏۳۹‏،۴۰ ہمیں نہیں بتایا گیا کہ «مریم» کیوں «الیشبع» سے ملنے گئی۔ ہو سکتا ہے اِس لئے گئی ہو کہ جب اُس کی حالت ظاہر ہو گی تو ناصرت میں اُس کے بارے میں چہ میگوئیاں ہوں گی اور لوگ اُسے رُسوا کرنے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ وہ وہاں سے چلی گئی۔ اگر ایسا ہے تو الیشع نے جس طرح اُسے خوش آمدید کہا اور جس مہربانی سے پیش آئی‏، وہ دُگنی قدر و قیمت رکھتی ہے۔

۱:‏۴۱ «اور جونہی الیشبع نے مریم کا سلام سنا… بچہ اُس کے پیٹ میں اُچھل پڑا۔» ابھی یہ پیش رَو پیدا نہیں ہوا۔ ابھی مسیحِ موعود بھی پیدا نہیں ہوا۔ مگر پیش رَو مسیحِ موعود کی  (‏اپنے گھر میں) ‏ آمد پر بے ساختہ اور پُراسرار انداز میں جواب دیتا ہے۔ «اور الیشبع روح القدس سے بھر گئی۔» یعنی روح القدس نے اُسے اپنے اِختیار میں لے لیا اور اُس کے کام و کلام کی راہنمائی کرنے لگا۔

اِس پہلے باب میں تین افراد کا ذکر ہے کہ وہ روح القدس سے بھر گئے  (‏۱) ‏ یوحنا بپتسمہ دینے والا  (‏آیت ۱۵) ‏  (‏۲) ‏ الیشبع  (‏آیت ۴۱) ‏ اور زکریاہ  (‏آیت ۶۷) ‏۔

روح القدس سے بھرے ہوئے شخص کا ایک نشان یہ ہے کہ وہ زبور اور گیت اور روحانی غزلوں میں بات کرتا ہے  (‏اِفسیوں ۵:‏۱۸‏،۱۹) ‏۔ اِس لئے ہمیں اِس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ اِس باب میں تین اور اگلے باب میں دو گیت موجود ہیں۔ اِن گیتوں کو ہم نے مخصوص نام دے رکھے ہیں۔

  1. الیشبع کا سلام ۱:‏۴۲-‏۴۵؛
  2. مقدسہ مریم کا گیت ۱:‏۴۶-‏۵۵؛
  3. زکریاہ کا گیت ۱:‏۶۸-‏۷۹؛
  4. عالمِ بالا پر جلال کا گیت ۲:‏۱۴؛
  5. بزرگ شمعون کا گیت ۲:‏۲۹-‏۳۲۔

۱:‏۴۲-‏۴۵ خاص الہام کے زیر اثر الیشبع نے مریم کو سلام کیا اور اُسے «میرے خداوند کی ماں» کہہ کر مخاطب کیا۔ اُس کے دل میں رشک کا نشان تک نہ تھا۔ صرف خوشی اور مسرت تھی کہ پیدا ہونے والا بچہ «میرا خداوند» ہے۔ اُس نے مریم کو «عورتوں میں مبارک» کہا کیونکہ اُسے یہ اعزاز بخشا گیا کہ مسیحِ موعود اُس سے پیدا ہو۔ اُس کے «پیٹ کا پھل» بھی «مبارک» ہے کیونکہ وہ خداوند اور نجات دہندہ ہے۔ بائبل ہرگز نہیں کہتی کہ مریم «خدا کی ماں» ہے۔ بے شک یہ حقیقت ہے کہ وہ یسوع کی ماں ہے اور کہ یسوع خدا ہے۔ لیکن عقیدے کے لحاظ سے یہ کہنا سراسر بے ہودہ بات ہے کہ خدا کی کوئی ماں بھی ہے۔ یسوع کا وجود ازل سے ہے جب کہ مریم محدود مخلوق ہے اور اُس کا وجود ایک خاص تاریخ سے ہوا۔ وہ یسوع کی صرف اُس کے تجسم میں ماں ہے اور بس۔

الیشبع جب مریم سے مخاطب ہوئی تو وجدان سے اپنے ہونے والے بچے کی خوشی اور ولولے کا بیان کرنے لگی۔ اِس کے بعد اُس نے مریم کو یقین دلایا کہ تیرے ایمان کا اجر اور صِلہ کثرت سے ملے گا۔ تیری توقعات پوری ہوں گی۔ تیرا ایمان لانا بے فائدہ نہیں اور وعدے کے مطابق تیرا بچہ پیدا ہو گا۔

د۔ مریم خداوند کی تمجید کرتی ہے  (‏۱:‏۴۶-‏۵۶) ‏

۱:‏۴۶-‏۴۹ مریم کا حمد و ستائش کا یہ گیت حنہ کے گیت سے مشابہت رکھتا ہے  (‏۱۔سموئیل ۲:‏۱-‏۱۰) ‏۔ پہلے مریم نے خداوند کی اُن باتوں کے لئے تمجید کی جو اُس نے اُس کے لئے کی تھیں  (‏آیات ۴۶ب -۴۹) ‏۔ غور کریں کہ وہ کہتی ہے «ہر زمانہ کے لوگ مجھ کو مبارک کہیں گے۔» وہ ایسی ہستی نہیں جو دوسروں کو برکت دیتی اور مبارک ٹھہراتی ہے بلکہ اُس کو «مبارک کہا جائے گا۔» وہ خدا کو اپنا «منجی» کہتی ہے جس سے اِس تصور کی تردید ہوتی ہے کہ وہ بے گناہ تھی۔

۱:‏۵۰-‏۵۳ دوسرے مریم خداوند کی اِس لئے تمجید کرتی ہے کہ «اُس کا رحم اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں» ہمیشہ رہتا ہے۔ وہ مغروروں اور اِختیار والوں کو پست اور پراگندہ کر دیتا اور «پست حالوں» اور «بھوکوں» کو سرفراز کرتا ہے۔

۱:‏۵۴‏،۵۵ آخر میں مریم خداوند کی اِس لئے حمد و ثنا کرتی ہے کہ وہ بنی اِسرائیل کے ساتھ ہمیشہ وفادار ہے اور اُن وعدوں کو پورا کرتا ہے جو «ابرہام اور اُس کی نسل» کے ساتھ کئے تھے۔

۱:‏۵۶ مریم «تین مہینے کے قریب» الیشبع کے ساتھ رہ کر «اپنے گھر کو لوٹ گئی» یعنی واپس ناصرت آ گئی۔ ابھی اُس کا بیاہ نہیں ہوا تھا۔ اِس میں شک نہیں کہ پاس پڑوس کے لوگ اُس پر شک کرنے اور اُس کے بارے میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ لیکن وقت آنے پر خدا اُسے بے الزام ثابت کرے گا۔ اُسے اِنتظار کرنا ہو گا۔

ہ۔ پیش رَو کی پیدائش  (‏۱:‏۵۷-‏۶۶) ‏

۱:‏۵۷-‏۶۱ «الیشبع کے وضعِ حمل کا وقت آ پہنچا۔» اُس نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ اُس کے رِشتہ دار اور دوست بے حد خوش ہوئے۔ آٹھویں دن جب لڑکے کا ختنہ ہوا تو پہلے سے طے تھا کہ «باپ کے نام پر» اُس کا نام بھی «زکریاہ» رکھیں مگر جب اُس کی ماں نے بتایا کہ بچے کا نام «یوحنا» ہو گا تو پڑوسی اور رِشتہ دار حیران رہ گئے کیونکہ اُن کے کنبے میں کسی کا بھی نام یوحنا نہیں تھا۔

۱:‏۶۲‏،۶۳ آخری فیصلہ کرنے کے لئے اُنہوں نے زکریاہ کو «اشارہ کیا»  (‏اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گونگا ہی نہیں‏، بہرہ بھی تھا) ‏۔ اُس نے ایک تختی منگوا کر اُس پر لکھا کہ «اُس کا نام یوحنا ہے۔» یوں مسئلے کا فیصلہ کر دیا۔ سب لوگوں نے تعجب کیا۔

۱:‏۶۴-‏۶۶ لیکن اُن کو یہ دیکھ کر اَور بھی زیادہ تعجب ہوا کہ جونہی زکریاہ نے «یوحنا» لکھا اُس کے بولنے کی صلاحیت بحال ہو گئی۔ یہ بات بہت جلد «یہودیہ کے تمام پہاڑی ملک میں» پھیل گئی۔ لوگ حیران ہونے لگے کہ یہ غیر معمولی بچہ آگے چل کر کیسے کیسے کام کرے گا۔ وہ سب جان گئے کہ «خداوند کا ہاتھ اُس پر» ہے۔

و۔ یوحنا کے بارے میں زکریاہ کی نبوت  (‏۱:‏۶۷-‏۸۰) ‏

۱:‏۶۷ اب زکریاہ بے اعتقادی کی بیڑیوں سے آزاد ہو چکا تھا۔ «وہ روح القدس سے بھر گیا» اور اُسی کی تحریک سے حمد و ستائش کا ایسا فصیح و بلیغ گیت سنانے لگا جو پرانے عہدنامے کے اِقتباسات سے بھرا ہوا ہے۔

۱:‏۶۸-‏۶۹ خدا کے کاموں کے لئے اُس کی ستائش:‏زکریاہ کو معلوم ہو گیا کہ میرے بیٹے کی پیدائش یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسیحِ موعود کی آمد بالکل قریب ہے۔ وہ مسیح کی آمد کا بیان ایک ایسے واقعے کے طور پر کرتا ہے جو ہو چکا ہے حالانکہ ابھی نہیں ہوا تھا۔ ایمان نے اُس سے کہلوایا کہ «خدا… نے اپنی اُمت پر توجہ کر کے اُسے چھٹکارا دیا» کیونکہ اُس نے فدیہ دینے والے نجات دہندہ کو بھیجا۔ یہوواہ نے داؤد کے شاہی «گھرانے میں» — «نجات کا سینگ نکالا۔» سینگ بادشاہوں کو مسح کرنے کے لئے تیل رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ چنانچہ یہاں مراد نجات کا «بادشاہ» بھی ہو سکتی ہے جو داؤد کی شاہی نسل سے ہے۔ یا یہ قوت اور طاقت کا نشان بھی ہو سکتا ہے۔ اِس صورت میں مطلب ہے «ایک طاقتور یا قادر منجی۔»

۱:‏۷۰‏،۷۱ نبوت کو پورا کرنے کے لئے خدا کی ستائش:‏«پاک نبی… دُنیا کے شروع سے» مسیح موعود کی آمد کی پیش گوئیاں کرتے آئے تھے۔ اِس کا مطلب ہے «دشمنوں سے… نجات» اور مخالفوں سے حفاظت۔

۱:‏۷۲-‏۷۵ وعدوں کو پورا کرنے کے لئے خدا کی ستائش:‏خداوند  (‏یہوواہ) ‏ نے ابرہام کے ساتھ نجات کا غیر مشروط عہد کر رکھا تھا۔ یہ وعدہ ابرہام کی نسل سے آنے والے یسوع مسیح کی آمد سے پورا ہوا۔ جو نجات وہ لایا‏، وہ خارجی بھی تھی اور باطنی بھی۔ خارجی اِس لحاظ سے کہ اُس نے «سب کینہ رکھنے والوں کے ہاتھ سے نجات بخشی»۔ باطنی اِس لحاظ سے کہ «اُس کے حضور پاکیزگی اور راست بازی سے عمر بھر بے خوف اُس کی عبادت کریں۔»

جی۔ کیمبل مورگن  (‏G. Campbell Morgan) ‏ اِس حوالے سے دو قابلِ غور نکتے پیش کرتا ہے۔ اوّل‏، یوحنا کے نام اور گیت کے مضمون میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ نام اور گیت دونوں کا مضمون ’خدا کا فضل‘ ہے۔ دوم‏، آیات ۷۲ اور ۷۳ میں یوحنا‏، زکریاہ اور الیشبع کے ناموں کا اِشارہ پایا جاتا ہے۔

یوحنا موعودہ رحم  (‏آیت ۷۲) ‏
زکریاہ یاد رکھنا  (‏آیت ۷۲) ‏
الیشبع قَسم(‏عہد)  (‏آیت ۷۳) ‏

جیسے یوحنا کہتا ہے خدا کا فضل اور کرم اِس بات میں ہے کہ اُس نے اپنے «پاک عہد» اور «قسم» کو یاد فرمایا۔

۱:‏۷۶‏،۷۷ منجّی کے پیش رَو  (‏نقیب) ‏ کا مِشن:‏یوحنا «خدا تعالیٰ کا نبی» ہو گا۔ اور خداوند کی آمد کے لئے لوگوں کے دلوں کو تیار کرے گا اور اُمت کو نجات ملنے کا اعلان کرے گا۔ یہ نجات اُنہیں «گناہوں کی معافی»سے حاصل ہو گی۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ پرانے عہدنامے میں یہوواہ سے متعلق حوالوں کا نئے عہدنامے میں یسوع پر اطلاق کیا گیا ہے۔ ملاکی نے نبوت کی تھی کہ ایک پیغمبر یہوواہ کے آگے راہ تیار کرے گا  (‏ملاکی ۳:‏۱) ‏۔ زکریاہ شناخت کراتا ہے کہ یوحنا وہ پیغمبر ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یوحنا یسوع کے آگے راہ «تیار کرنے» کو آیا تھا۔ اِس سے واضح نتیجہ یہی اخذ ہوتا ہے کہ یسوع الٰہی ذات ہے۔

۱:‏۷۸‏،۷۹ مسیح کی آمد طلوعِ آفتاب کی مانند ہے:‏صدیوں سے یہ دُنیا اندھیرے میں پڑی ہوئی تھی۔ اب «ہمارے خدا کی عین رحمت سے» صبح نمودار ہونے کو تھی۔ یہ صبح مسیح کی آمد سے ظاہر ہو گی۔ غیر قومیں جو تاریکی میں پڑی ہوئی تھیں‏، جو «اندھیرے اور موت کے سایہ میں» بیٹھی ہوئی تھیں‏، اب اُن پر نور چمکے گا۔ یہی نور بنی اِسرائیل کے «قدموں کو سلامتی کی راہ پر ڈالے» گا  (‏دیکھئے ملاکی ۴:‏۲) ‏۔

۱:‏۸۰ یہ باب ایک سادہ سے بیان پر اِختتام پذیر ہوتا ہے۔ وہ لڑکا  (‏یوحنا) ‏ جسمانی اور روحانی لحاظ سے «بڑھتا…گیا» اور «اِسرائیل پر» علانیہ «ظاہر ہونے کے دن تک جنگلوں میں رہا۔»

ز۔ ابنِ آدم کی پیدائش  (‏۲:‏۱-‏۷) ‏

۲:‏۱-‏۳ «قیصر اوگوستس کی طرف سے یہ حکم جاری ہوا کہ ساری دُنیا کے لوگوں کے نام لکھے جائیں۔» یعنی ساری سلطنت میں مردم شماری کی جائے۔ یہ پہلی اِسم نویسی اُس زمانے میں ہوئی جب کورنیُس سوریہ کا حاکم تھا۔ کئی سالوں تک اِس کورنیُس کے ذکر کے باعث یہ اعتراض ہوتا رہا کہ لوقا کی اِنجیل درست نہیں۔ لیکن بعد میں آثارِ قدیمہ کی دریافت نے اِس کی تصدیق کر دی۔ اپنے نقطۂ نظر سے قیصر اوگوستس یونانی و رومی دُنیا پر اپنی برتری اور اِختیار اعلیٰ کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ لیکن خدا کے نقطۂ نگاہ سے یہ غیر قوم شہنشاہ الٰہی پروگرام کو آگے بڑھانے میں محض ایک کٹھ پتلی تھا  (‏دیکھئے اَمثال ۲۱:‏۱) ‏۔

۲:‏۴-‏۷ اوگوستس کا یہ شاہی فرمان یوسف اور مریم کو بیت لحم لے آیا۔ اور یہ عین وہی مقررہ وقت تھا جب نبوت  (‏میکاہ ۵:‏۲) ‏ کے مطابق مسیحِ موعود کو پیدا ہونا تھا۔ جب وہ دونوں گلیل سے وہاں پہنچے تو بیت لحم میں لوگوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ اُن کو ٹھہرنے کے لئے جگہ ملی بھی تو صرف سرائے کے مویشی خانے میں۔ یہ ایک نشان تھا‏، پیشگی منظر تھا کہ لوگ اپنے نجات دہندہ کو کیسے قبول کریں گے۔ جب «ناصرت» کا یہ جوڑا وہاں قیام پذیر تھا تو مریم کا «پہلوٹھا بیٹا پیدا ہوا۔» «اور اُس نے اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر» بڑی محبت کے ساتھ «چرنی میں رکھا۔»

اِس طرح خدا ایک بے بس «بچہ» کی «ذات» میں ہمارے کُرّہ ارض پر آیا اور ایک بدبودار مویشی خانے کی غربت میں ڈیرا لگایا۔ کیسی عجیب بات ہے! ڈاربی  (‏Darby) ‏ اِسے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے:‏

«اُس نے چرنی سے آغاز اور صلیب پر اِختتام کیا۔ اور راستے میں اُس کے لئے کہیں سر دھرنے کی جگہ نہ تھی۔»

ح۔ فرشتے اور چرواہے  (‏۲:‏۸-‏۲۰) ‏

۲:‏۸ اِس بے مثال پیدائش کی پہلی اِطلاع یروشلیم میں مذہبی لیڈروں کو نہیں بلکہ یہودیہ کے پہاڑی علاقے میں چرواہوں کو دی گئی‏، یعنی اُن خاکسار اِنسانوں کو جو اپنے روزمرہ کے کام میں وفادار تھے۔ جیمز ایس۔ سٹوأرٹ  (‏Stewart) ‏ اِس سلسلے میں کہتا ہے:‏

«کیا اِس حقیقت میں معنوں کا سمندر نہیں کہ وہ معمولی اور سادہ لوگ تھے اور بالکل عام سے کام میں مصروف تھے جن کی آنکھوں نے خداوند کی آمد کا جلال سب سے پہلے دیکھا؟ اِس کا اوّلین مطلب تو یہ ہے کہ اپنے کام کی جگہ خواہ کیسی بھی معمولی کیوں نہ ہو‏، وہی رُؤیا کی جگہ ہوتی ہے۔ اِس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بادشاہی کے دروازے اِتنی آسانی سے اُن لوگوں پر کھلتے ہیں جو زندگی کی سادہ مگر گہری پارسائی پر قائم رہتے ہیں اور جن کے سینے میں ابھی تک ایک بچے کا دل محفوظ ہے۔»

۲:‏۹-‏۱۱ خداوند کا فرشتہ اُن چرواہوں کے پاس آیا اور ایک نورانی اور تیز روشنی اُن کے چوگرد چمکی۔ وہ ڈر اور گھبراہٹ کے مارے ٹھٹک گئے مگر فرشتے نے اُنہیں دلاسا دیا اور اُن کو «بڑی خوشی کی بشارت» دی۔ جو «ساری اُمت کے واسطے» تھی کہ «آج داؤد کے شہر» یعنی قریبی قصبہ بیت لحم «میں تمہارے لئے ایک منجی پیدا ہوا ہے یعنی مسیح خداوند»۔ یہاں ہم کو مختصراً علمِ الٰہی نظر آتا ہے۔ اوّل‏، وہ منجی ہے جس کا بیان اُس کے نام «یسوع» میں پایا جاتا ہے۔ پھر وہ «مسیح» ہے یعنی خدا کا ممسوح اور بنی اِسرائیل کا مسیحِ موعود۔ اور پھر وہ «خداوند» ہے یعنی جسم میں خدا کا ظہور۔

۲:‏۱۲ چرواہے اُس کو پہچانیں گے کس طرح؟ فرشتے نے اُن کو دُہرا نشان دیا۔ اوّل‏، کہ بچہ «کپڑے میں لپٹا» ہو گا۔ اُنہوں نے پہلے بھی بچوں کو اِس طرح کپڑوں میں لپٹا دیکھا تھا۔ لیکن فرشتے نے ابھی ابھی بتایا تھا کہ یہ بچہ «خداوند» ہے۔ کسی نے کبھی خداوند کو چھوٹے بچے کی طرح کپڑے میں لپٹا ہوا نہیں دیکھا تھا۔ چنانچہ نشان کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ وہ «چرنی میں پڑا ہوا» ہو گا۔ چرواہوں نے کسی بچے کو کبھی ایسی ناممکن سی جگہ میں کہاں دیکھا ہو گا؟ یہ ذلت تو صرف جلال اور زندگی کے خداوند کے لئے مخصوص تھی کہ جب وہ ہماری دُنیا میں آئے تو اِس قدر پست ہو۔ ہمارا دماغ یہ سوچ کر چکرا جاتا ہے کہ کائنات کا خالق اور سنبھالنے والا اِنسانی تاریخ میں ایک فاتح کی صورت میں نہیں بلکہ ایک چھوٹے «بچہ» کی صورت میں داخل ہوا۔ ہاں یہی تجسم کی حقیقت اور سچائی ہے۔

۲:‏۱۳‏،۱۴ یکایک آسمان گویا غایت درجے کی خوشی سے پھٹ پڑا اور «آسمانی لشکر کی ایک گروہ… ظاہر ہوئی۔» اَن گنت فرشتگان «خدا کی حمد» کر رہے تھے۔ یہ نغمہ مسیح «بچہ» کی پیدائش کی پوری اہمیت اور وقعت کو واضح کرتا ہے۔ اُس کی زندگی اور خدمت سے «عالمِ بالا پر خدا کی تمجید… اور زمین پر  (‏لوگوں میں) ‏… صلح» ہو گی۔ اُن آدمیوں میں صلح ہو گی جن سے خداوند خدا راضی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گناہوں سے توبہ کرتے اور یسوع مسیح کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ مانتے اور قبول کرتے ہیں۔

۲:‏۱۵-‏۱۹ جونہی «فرشتے… آسمان پر  (‏واپس) ‏ چلے گئے» چرواہے جلدی جلدی بیت لحم کو گئے اور «جا کر مریم اور یوسف کو دیکھا اور اُس بچہ کو چرنی میں پڑا پایا۔» اُنہوں نے فرشتوں کی آمد کے پورے ماجرے کی خبر دی۔ جتنے افراد چرنی کے پاس جمع تھے وہ حیران رہ گئے مگر مریم گہری سمجھ رکھتی تھی کہ یہ سب کچھ کیا اور کیوں ہو رہا ہے۔ وہ اِن باتوں کو قیمتی خزانے کی طرح «اپنے دل میں رکھ کر غور کرتی رہی۔»

۲:‏۲۰ «چرواہے» اپنے گلوں کے پاس «لوٹ گئے»۔ وہ «سب کچھ سن کر اور دیکھ کر» اِتنے خوش تھے کہ «خدا کی تمجید اور حمد» کرنے سے رہ نہیں سکتے تھے۔

ط۔ یسوع کا ختنہ اور مخصوصیت  (‏۲:‏۲۱-‏۲۴) ‏

کلام کے اِس حصے میں کم سے کم تین رسموں کا ذکر ہے۔

  1. یسوع کا ختنہ۔ یہ رسم اُس وقت ادا کی گئی جب یسوع آٹھ دن کا ہوا۔ ختنہ اُس عہد کا نشان تھا جو خدا نے ابرہام کے ساتھ باندھا تھا۔ اُسی روز بچے کا نام رکھا گیا۔ یہ بھی یہودی دستور کے مطابق تھا۔ فرشتے نے پہلے ہی مریم اور یوسف کو ہدایت کی تھی کہ «اُس کا نام یسوع رکھنا۔»
  2. دوسری رسم کا تعلق مریم کی طہارت کے ساتھ ہے۔ یہ رسم یسوع کی پیدائش کے چالیس دن بعد  (‏دیکھئے احبار ۱۲:‏۱-‏۴) ‏ ادا کی گئی۔ عام طور سے شریعت کے مطابق والدین کو سوختنی قربانی کے لئے ایک برّہ اور خطا کی قربانی کے لئے ایک کبوتر یا قمری نذر کرنی ہوتی تھی۔ لیکن جو لوگ غریب تھے‏، اُن کو اِجازت تھی کہ «قمریوں کا ایک جوڑا یا کبوتر کے دو بچے» لائیں  (‏احبار ۱۲:‏۶-‏۸) ‏۔ مریم برّہ نہیں بلکہ «قمریوں کا ایک جوڑا یا کبوتر کے دو بچے» لائی تھی۔ یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ یسوع کیسی غربت میں پیدا ہوا تھا۔
  3. تیسری رسم یسوع کو یروشلیم کی ہیکل میں حاضر کرنا تھا۔ شروع میں خدا نے حکم دے دیا تھا کہ سب پہلوٹھے بیٹے میرے ہیں۔ اُن سے کاہنوں کا طبقہ تشکیل پاتا تھا  (‏خروج ۱۳:‏۲) ‏۔ لیکن بعد میں خدا نے لاوی کے قبیلے کو کہانت کے لئے مخصوص کر دیا  (‏خروج ۲۸:‏۱‏،۲) ‏ اور والدین کو اِجازت دی گئی کہ اپنے پہلوٹھے بیٹے کا «فدیہ» دیں اور اُس کو «واپس خرید لیں۔» اِس فرض کی ادائیگی کے لئے اُن کو پانچ مثقال ادا کرنا ہوتے تھے۔ یہ رسم اُس وقت ادا کی جاتی تھی جب وہ بچے کو خداوند کے لئے مخصوص کرتے تھے۔

ی۔ شمعون مسیحِ موعود کو دیکھنے کے لئے زندہ رہتا ہے  (‏۲:‏۲۵-‏۳۵) ‏

۲:‏۲۵‏،۲۶ شمعون یہودیوں کے خدا ترس بقیہ میں سے تھا۔ وہ مسیحِ موعود کی آمد کا منتظر تھا۔ «اُس کو روح القدس سے آگاہی ہوئی تھی کہ جب تک تُو خداوند کے مسیح کو دیکھ نہ لے موت کو نہ دیکھے گا»۔ «خداوند کے راز کو وہی جانتے ہیں جو اُس سے ڈرتے ہیں»  (‏زبور ۲۵:‏۱۴) ‏۔ جو لوگ خداوند کی رفاقت میں زندگی گزارتے ہیں‏، اُن کو پُراسرار طریقے سے اِلٰہی عرفان حاصل ہو جاتا ہے۔

۲:‏۲۷‏،۲۸ ایسا ہوا کہ شمعون بھی اُسی وقت «ہیکل» میں آیا جس وقت یسوع کے «ماں باپ» اُسے خدا کے حضور حاضر کر رہے تھے۔ شمعون کو فوق الفطرت طریقے سے ہدایت ملی تھی کہ یہی بچہ مسیحِ موعود ہے۔ چنانچہ اُس نے یسوع کو «اپنی گود میں لیا» اور وہ یادگار گیت بولا جسے ہم شمعون کے گیت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

۲:‏۲۹-‏۳۲ گیت کا خاص مضمون یہ ہے کہ:‏«اے مالک اب تُو اپنے غلام کو  (‏مجھے) ‏… سلامتی سے رُخصت کرتا ہے کیونکہ  (‏اِس بچے کی ذات میں) ‏ میری آنکھوں نے تیری نجات دیکھ لی ہے۔» یہ بچہ وہ موعودہ مخلصی دینے والا ہے‏، جسے مَیں نے اُس وعدے کے مطابق دیکھ لیا ہے جو تُو نے مجھ سے کیا تھا۔ تُو نے اُسے اِنسانوں کے ہر طبقے کے لئے نجات دینے کے لئے مقرر اور مخصوص کیا ہے «تاکہ  (‏وہ پہلی آمد پر) ‏ غیر قوموں کو روشنی دینے والا نور اور  (‏دوسری آمد پر) ‏ تیری اُمت اِسرائیل کا جلال بنے۔» خداوند یسوع مسیح سے مل لینے کے بعد شمعون مرنے کو تیار تھا۔ اب موت کا ڈنک جاتا رہا تھا۔

۲:‏۳۳ «اور اُس کا باپ اور اُس کی ماں»۔ اکثر قدیم تراجم میں «یوسف اور اُس کی ماں» کے الفاظ ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ لوقا کتنی احتیاط کے ساتھ «کنواری سے پیدا ہونے» کے عقیدے کی محافظت کرتا ہے۔ اگرچہ زیر نظر الفاظ بھی اِس عقیدے کی نفی نہیں کرتے مگر اِن میں ایسی وضاحت کم ہے۔

۲:‏۳۴‏،۳۵ پہلے تو شمعون نے دل و جان سے خدا کی حمد و ستائش کی۔ اِس کے بعد مسیحِ موعود کے والدین کے لئے «برکت چاہی»۔ اِس کے بعد نبوت کے ساتھ مریم سے باتیں کیں۔ اِس نبوت کے چار حصے ہیں:‏

  1. «یہ  (‏بچہ) ‏ اِسرائیل میں بہتوں کے گرنے اور اُٹھنے کے لئے… مقرر ہوا ہے۔» جو لوگ متکبر‏، غیر تائب اور بے اعتقاد ہوں گے «وہ گریں گے» اور سزا پائیں گے۔ جو لوگ خاکسار ہوں گے‏، اپنے گناہوں سے توبہ کریں گے اور خداوند یسوع کو قبول کریں گے‏، وہ «اُٹھیں گے» اور برکت پائیں گے۔
  2. یہ بچہ «ایسا نشان ہونے کے لئے مقرر ہوا ہے جس کی مخالفت کی جائے گی۔» مسیح کا زمین پر موجود ہونا ہی گناہ اور ناراستی کے خلاف ایک زبردست ملامت تھا۔ اُس کا وجود اِنسانی دل کے اندر چھپی ہوئی دشمنی اور عداوت کو ظاہر کر دیتا ہے۔
  3. «بلکہ خود تیری جان بھی تلوار سے چھد جائے گی۔» یہاں شمعون اُس بے بیان غم اور دُکھ کی پیش گوئی کر رہا ہے جس سے مریم کا دل اُس وقت پاش پاش ہو جائے گا جب وہ اپنے بیٹے کو مصلوب ہوتے دیکھے گی  (‏یوحنا ۱۹:‏۲۵) ‏۔
  4. «… تاکہ بہت لوگوں کے دلوں کے خیال کھل جائیں۔» نجات دہندہ کے بارے میں کسی شخص کا ردِّعمل اُس کی نیت اور باطنی رُجحانات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شمعون کے گیت میں کسوٹی‏، ٹھوکر کھلانے کے پتھر‏، گزر پتھر اور تلوار کے تصورات پائے جاتے ہیں۔

ک۔ حناہ  نبیہ  (‏۲:‏۳۶-‏۳۹) ‏

۲:‏۳۶‏،۳۷ حناہ نبیہ بھی شمعون کی مانند تھی۔ وہ بھی اِسرائیل کے اُس ایمان دار اور وفادار بقیہ کا حصہ تھی جو مسیحِ موعود کی آمد کا منتظر تھا۔ «وہ آشر  (‏بمعنی خوش۔ مبارک) ‏ کے قبیلہ سے تھی۔» یہ اُن دس قبیلوں میں سے ایک تھا جو ۷۲۱ ق م میں اسور کی اسیری میں گئے تھے۔ حناہ کی عمر سو برس سے اوپر تھی۔ سات برس کی شادی شدہ زندگی کے بعد وہ «چوراسی برس سے بیوہ تھی۔» چونکہ وہ نبیہ تھی اِس لئے یقینا اُسے خدا کی طرف سے مکاشفہ ملتا تھا اور وہ خدا کی طرف سے بولتی تھی۔ وہ ہیکل میں عام عبادتوں میں باقاعدگی سے حاضر ہوتی تھی «بلکہ رات دن روزوں اور دعاؤں کے ساتھ عبادت کیا کرتی تھی۔» اِتنی عمر رسیدہ ہونا بھی اُسے خدا کی عبادت گزاری میں باعث ِرُکاوٹ نہیں تھا۔

۲:‏۳۸ جس وقت یسوع مسیح کو خدا کے حضور پیش کیا جا رہا تھا اور شمعون مریم سے ہم کلام تھا حناہ اِس چھوٹے سے گروہ کے پاس آ گئی۔ وہ بھی موعودہ «چھٹکارے» کے لئے «خدا کا شکر کرنے لگی»۔ اور «اُن سب سے جو یروشلیم کے چھٹکارے کے منتظر تھے اُس کی بابت باتیں کرنے لگی۔»

۲:‏۳۹ جب یوسف اور مریم طہارت اور مخصوصیت کی رسمیں ادا کر چکے تو وہ «گلیل میں اپنے شہر ناصرت کو پھر گئے۔»

لوقا مجوسیوں کی آمد اور مصر کو بھاگ جانے کے واقعات کا ذکر نہیں کرتا۔

ل۔ یسوع کا لڑکپن  (‏۲:‏۴۰-‏۵۲) ‏

۲:‏۴۰ لڑکے یسوع کی معمول کی نشو و نما کا حال یوں بیان کیا گیا ہے:‏

جسمانی:‏«وہ لڑکا بڑھتا اور قوت پاتا گیا۔» وہ جسمانی نشوونما کے معمول کے مراحل سے گزرتا گیا۔ اُس نے چلنا‏، بولنا‏، کھیلنا اور کام کرنا سیکھا۔ اِس سبب سے وہ ہماری نشوونما کے ہر مرحلے میں ہمارا ہمدرد ہو سکتا ہے۔

ذہنی:‏«وہ… حکمت سے معمور ہوتا گیا۔» اُس نے نہ صرف اپنی الف‏، ب‏،پ اور ۱‏،۲‏،۳ سیکھی اور اپنے زمانے کے عام علوم کی تعلیم پائی‏، بلکہ «حکمت» سے معمور ہوتا گیا۔ یعنی اُس نے اُس علم کو زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے عملی طور سے استعمال کرنا بھی سیکھا۔

روحانی:‏«اور خد اکا فضل اُس پر تھا۔» وہ خدا کی رفاقت میں چلتا اور روح القدس پر اِنحصار رکھتا تھا۔ وہ بائبل مقدس  (‏پرانا عہدنامہ) ‏ کا مطالعہ کرتا‏، دعا میں وقت گزارتا اور اپنے باپ کی مرضی پوری کر کے خوش ہوتا تھا۔

۲:‏۴۱-‏۴۴ ایک یہودی لڑکا بارہ برس کی عمر میں «شریعت کا فرزند» بنتا ہے۔ جب ہمارا خداوند «بارہ برس کا ہوا» تو اُس کا خاندان سالانہ زیارت اور «عید فسح» کے لئے «یروشلیم» کو گیا۔ مگر جب وہ گلیل کو واپس جانے کے لئے روانہ ہوئے تو خیال نہ کیا کہ «یسوع» قافلے کے ساتھ نہیں ہے۔ ہم کو یہ بات بہت انوکھی معلوم ہوتی ہے۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خاندان بہت بڑے قافلے کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ اُنہوں نے بلاشبہ فرض کر لیا تھا کہ وہ اپنے ہم عمروں کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔

۲:‏۴۵-‏۴۷ پریشان حال والدین «یروشلیم» واپس گئے۔ تین روز بعد «اُسے ہیکل میں اُستادوں کے بیچ میں بیٹھے‏، اُن کی سنتے اور اُن سے سوال کرتے ہوئے پایا۔» یہاں ایسا کوئی اِشارہ نہیں کہ وہ اپنی کم سنی میں پوری عقل کو پہنچا ہوا بچہ معلوم ہو رہا تھا اور اپنے بزرگوں سے بحث مباحثہ کر رہا تھا۔ بلکہ اُس نے خود کو ایک عام بچے کے مقام پر رکھا۔ اور اپنے اُستادوں سے حلیمی اور آرام سے سیکھ رہا تھا۔ تو بھی اِس ساری کارروائی کے دوران یقینا اُس سے بھی سوال پوچھے گئے ہوں گے۔ اِس لئے کہ لوگ «اُس کے جوابوں سے دنگ تھے۔»

۲:‏۴۸ یہاں تک کہ اُس کے والدین بھی «حیران ہوئے» کہ یسوع اپنے سے اِتنے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ بیٹھا اِتنی ذہانت اور دانائی کے ساتھ بحث میں حصہ لے رہا ہے۔ تو بھی «اُس کی ماں» نے اِتنے دِنوں کی جمع شدہ ناراضی کا اِظہار کرتے ہوئے اُسے ڈانٹا کہ «کیا تجھے خبر نہ تھی کہ ہم اِتنے پریشان اور فکرمند تھے؟»

۲:‏۴۹ یسوع کا جواب  (‏یہ اُس کے پہلے الفاظ ہیں جو قلم بند کئے گئے) ‏ ثابت کرتا ہے کہ اُسے اِس بات کا پورا شعور تھا کہ مَیں خدا کا بیٹا ہوں اور کہ خدا کی طرف سے مجھے کیا مشن سونپا گیا ہے۔ «تم مجھے کیوں ڈھونڈتے تھے؟ کیا تم کو معلوم نہ تھا کہ مجھے اپنے باپ کے ہاں ہونا ضرور ہے؟» مریم نے کہا تھا «تیرا باپ اور مَیں۔» یسوع نے کہا‏، «مجھے اپنے باپ کے ہاں…»

۲:‏۵۰ اُس وقت تو «وہ نہ سمجھے» کہ اُس کی رمزیہ بات کا مطلب کیا ہے۔ بارہ سال کے لڑکے کے لئے ایسی بات کہنا بہت ہی غیر معمولی تھا!

۲:‏۵۱ کچھ بھی ہو‏، اُن کا میل ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ «ناصرت» کو لوٹ آئے۔ اگلی بات میں یسوع کی اَور فضلیت نظر آتی ہے کہ وہ «اُن کے تابع رہا»۔ اگرچہ وہ کائنات کا خالق تھا‏، مگر اُس نے ایک معمولی سے خاندان میں فرماں بردار بچے کی جگہ لی۔

مگر «اُس کی ماں نے یہ سب باتیں اپنے دل میں رکھیں۔»

۲:‏۵۲ یہاں پھر ہمارے خداوند کی حقیقی بشریت دِکھائی گئی ہے۔ وہ عام اِنسان کی طرح بڑھتا اور پرورش پاتا رہا۔

اُس کی نشوو نما

  1. ذہنی — «حکمت… میں ترقی کرتا گیا۔»
  2. جسمانی — «قدو قامت میں… ترقی کرتا گیا۔»
  3. روحانی — «خدا کی… مقبولیت میں ترقی کرتا گیا۔»
  4. معاشرتی — «اِنسان کی مقبولیت میں ترقی کرتا گیا۔»

وہ اپنی نشوونما کے ہر پہلو میں قطعی کامل تھا۔ یہاں لوقا کا بیان خاموشی کے اٹھارہ برس کے عرصے کو نظر انداز کر جاتا ہے۔ یہ عرصہ خداوند نے ناصرت میں ایک بڑھئی کے بیٹے کے طور پر بسر کیا۔ یہ برس ہم کو تیاری اور تربیت کی اہمیت کا درس دیتے ہیں۔ صبر اور عام کام کی قدر و قیمت سکھاتے ہیں۔ ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ روحانی جنم سے چھلانگ لگا کر عام خدمت میں نہ لگ جائیں۔ جن لوگوں کو معمول کا روحانی بچپن اور لڑکپن نصیب نہیں ہوتا‏، وہ اپنی بعد کی زندگی اور گواہی میں تباہی کو دعوت دیتے ہیں۔

مقدس کتاب

۱- اُن دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ قَیصر اَوگُوستُس کی طرف سے یہ حُکم جاری ہُؤا کہ ساری دُنیا کے لوگوں کے نام لِکھے جائیں۔
۲- یہ پہلی اِسم نوِیسی سُورؔیہ کے حاکِم کورنِیُس کے عہد میں ہُوئی۔
۳- اور سب لوگ نام لِکھوانے کے لِئے اپنے اپنے شہر کو گئے۔
۴- پس یُوسفؔ بھی گلِیل کے شہر ناصرۃ سے داؤُد کے شہر بَیت لحم کو گیا جو یہُودیہ میں ہے۔ اِس لِئے کہ وہ داؤُد کے گھرانے اور اَولاد سے تھا۔
۵- تاکہ اپنی منگیتر مریمؔ کے ساتھ جو حامِلہ تھی نام لِکھوائے۔
۶- جب وہ وہاں تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا۔
۷- اور اُس کا پہلوٹا بیٹا پَیدا ہُؤا اور اُس نے اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھّا کیونکہ اُن کے واسطے سرائے میں جگہ نہ تھی۔
۸- اُسی عِلاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو مَیدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نِگہبانی کر رہے تھے۔
۹- اور خُداوند کا فرِشتہ اُن کے پاس آ کھڑا ہُؤا اور خُداوند کا جلال اُن کے چَوگِرد چمکا اور وہ نِہایت ڈر گئے۔
۱۰- مگر فرِشتہ نے اُن سے کہا ڈرو مت کیونکہ دیکھو مَیں تُمہیں بڑی خُوشی کی بشارت دیتا ہُوں جو ساری اُمّت کے واسطے ہو گی
۱۱- کہ آج داؤُد کے شہر میں تُمہارے لِئے ایک مُنّجی پَیدا ہُؤا ہے یعنی مسِیح خُداوند۔
۱۲- اور اِس کا تُمہارے لِئے یہ نِشان ہے کہ تُم ایک بچّہ کو کپڑے میں لِپٹا اور چرنی میں پڑا ہُؤا پاؤ گے۔
۱۳- اور یکایک اُس فرِشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گروہ خُدا کی حمد کرتی اور یہ کہتی ظاہِر ہُوئی کہ
۱۴- عالَمِ بالا پر خُدا کی تمجِید ہو اور زمِین پر اُن آدَمِیوں میں جِن سے وہ راضی ہے صُلح۔
۱۵- جب فرِشتے اُن کے پاس سے آسمان پر چلے گئے تو اَیسا ہُؤا کہ چرواہوں نے آپس میں کہا کہ آؤ بَیت لحم تک چلیں اور یہ بات جو ہُوئی ہے اور جِس کی خُداوند نے ہم کو خبر دی ہے دیکھیں۔
۱۶- پس اُنہوں نے جلدی سے جا کر مریمؔ اور یُوسفؔ کو دیکھا اور اُس بچّہ کو چرنی میں پڑا پایا۔
۱۷- اور اُنہیں دیکھ کر وہ بات جو اُس لڑکے کے حق میں اُن سے کہی گئی تھی مشہُور کی۔
۱۸- اور سب سُننے والوں نے اِن باتوں پر جو چرواہوں نے اُن سے کہِیں تعجُّب کِیا۔
۱۹- مگر مریمؔ اِن سب باتوں کو اپنے دِل میں رکھ کر غَور کرتی رہی۔
۲۰- اور چرواہے جَیسا اُن سے کہا گیا تھا وَیسا ہی سب کُچھ سُن کر اور دیکھ کر خُدا کی تمجِید اور حمد کرتے ہُوئے لَوٹ گئے۔
۲۱- جب آٹھ دِن پُورے ہُوئے اور اُس کے خَتنہ کا وقت آیا تو اُس کا نام یِسُوعؔ رکھا گیا جو فرِشتہ نے اُس کے رَحِم میں پڑنے سے پہلے رکھّا تھا۔
۲۲- پِھر جب مُوسیٰ کی شرِیعت کے مُوافِق اُن کے پاک ہونے کے دِن پُورے ہو گئے تو وہ اُس کو یروشلِیم میں لائے تاکہ خُداوند کے آگے حاضِر کریں۔
۲۳- (جَیسا کہ خُداوند کی شرِیعت میں لِکھا ہے کہ ہر ایک پہلوٹا خُداوند کے لِئے مُقدّس ٹھہرے گا)
۲۴- اور خُداوند کی شرِیعت کے اِس قَول کے مُوافِق قُربانی کریں کہ قُمرِیوں کا ایک جوڑا یا کبُوتر کے دو بچّے لاؤ۔
۲۵- اور دیکھو یرُوشلیم میں شمعُون نام ایک آدمی تھا اور وہ آدمی راست باز اور خُدا ترس اور اِسرائیلؔ کی تسلّی کا مُنتظِر تھا اور رُوحُ القُدس اُس پر تھا۔
۲۶- اور اُس کو رُوحُ القُدس سے آگاہی ہُوئی تھی کہ جب تک تُو خُداوند کے مسِیح کو دیکھ نہ لے مَوت کو نہ دیکھے گا۔
۲۷- وہ رُوح کی ہدایت سے ہَیکل میں آیا اور جِس وقت ماں باپ اُس لڑکے یِسُوعؔ کو اندر لائے تاکہ اُس کے لِئے شرِیعت کے دستُور پر عمل کریں۔
۲۸- تو اُس نے اُسے اپنی گود میں لِیا اور خُدا کی حمد کر کے کہا کہ
۲۹- اَے مالِک اب تُو اپنے خادِم کو اپنے قَول کے مُوافِق سلامتی سے رُخصت کرتا ہے۔
۳۰- کیونکہ میری آنکھوں نے تیری نجات دیکھ لی ہے
۳۱- جو تُو نے سب اُمتّوں کے رُوبرُو تیّار کی ہے
۳۲- تاکہ غَیر قَوموں کو رَوشنی دینے والا نُور اور تیری اُمّت اِسرائیلؔ کا جلال بنے۔
۳۳- اور اُس کا باپ اور اُس کی ماں اِن باتوں پر جو اُس کے حق میں کہی جاتی تِھیں تعجُّب کرتے تھے۔
۳۴- اور شمعُوؔن نے اُن کے لِئے دُعائے خَیر کی اور اُس کی ماں مریمؔ سے کہا دیکھ یہ اِسرائیلؔ میں بُہتوں کے گِرنے اور اُٹھنے کے لِئے اور اَیسا نِشان ہونے کے لِئے مُقرّر ہُؤا ہے جِس کی مُخالفت کی جائے گی۔
۳۵- بلکہ خُود تیری جان بھی تلوار سے چِھد جائے گی تاکہ بُہت لوگوں کے دِلوں کے خیال کُھل جائیں۔
۳۶- اور آشر کے قبِیلہ میں سے حنّاہ نام فنوایل کی بیٹی ایک نبِیّہ تھی۔ وہ بُہت عُمر رسِیدہ تھی اور اُس نے اپنے کُنوارپَن کے بعد سات برس ایک شَوہر کے ساتھ گُذارے تھے۔
۳۷- وہ چَوراسی برس سے بیوہ تھی اور ہَیکل سے جُدا نہ ہوتی تھی بلکہ رات دِن روزوں اور دُعاؤں کے ساتھ عِبادت کِیا کرتی تھی۔
۳۸- اور وہ اُسی گھڑی وہاں آ کر خُدا کا شُکر کرنے لگی اور اُن سب سے جو یروشلِیم کے چُھٹکارے کے مُنتظِر تھے اُس کی بابت باتیں کرنے لگی۔
۳۹- اور جب وہ خُداوند کی شرِیعت کے مُطابِق سب کُچھ کر چُکے تو گلِیل میں اپنے شہر ناصرۃ کو پِھر گئے۔
۴۰- اور وہ لڑکا بڑھتا اور قُوّت پاتا گیا اور حِکمت سے معمُور ہوتا گیا اور خُدا کا فضل اُس پر تھا۔
۴۱- اُس کے ماں باپ ہر برس عِیدِ فَسح پر یروشلیِم کو جایا کرتے تھے۔
۴۲- اور جب وہ بارہ برس کا ہُؤا تو وہ عِید کے دستُور کے مُوافِق یروشلِیم کو گئے۔
۴۳- جب وہ اُن دِنوں کو پُورا کر کے لَوٹے تو وہ لڑکا یِسُوعؔ یروشلِیم میں رہ گیا اور اُس کے ماں باپ کو خبر نہ ہُوئی۔
۴۴- مگر یہ سمجھ کر کہ وہ قافِلہ میں ہے ایک منزِل نِکل گئے اور اُسے اپنے رِشتہ داروں اور جان پہچانوں میں ڈُھونڈنے لگے۔
۴۵- جب نہ مِلا تو اُسے ڈُھونڈتے ہُوئے یروشلِیم تک واپس گئے۔
۴۶- اور تِین روز کے بعد اَیسا ہُؤا کہ اُنہوں نے اُسے ہَیکل میں اُستادوں کے بِیچ میں بَیٹھے اُن کی سُنتے اور اُن سے سوال کرتے ہُوئے پایا۔
۵۷- اور جِتنے اُس کی سُن رہے تھے اُس کی سمجھ اور اُس کے جوابوں سے دنگ تھے۔
۴۸- وہ اُسے دیکھ کر حَیران ہُوئے اور اُس کی ماں نے اُس سے کہا بیٹا! تُو نے کیوں ہم سے اَیسا کِیا؟ دیکھ تیرا باپ اور مَیں کُڑھتے ہُوئے تُجھے ڈُھونڈتے تھے۔
۴۹- اُس نے اُن سے کہا تُم مُجھے کیوں ڈُھونڈتے تھے؟ کیا تُم کو معلُوم نہ تھا کہ مُجھے اپنے باپ کے ہاں ہونا ضرُور ہے؟
۵۰- مگر جو بات اُس نے اُن سے کہی اُسے وہ نہ سمجھے۔
۵۱- اور وہ اُن کے ساتھ روانہ ہو کر ناصرۃ میں آیا اور اُن کے تابع رہا اور اُس کی ماں نے یہ سب باتیں اپنے دِل میں رکھِّیں۔
۵۲- اور یِسُوعؔ حِکمت اور قد و قامت میں اور خُدا کی اور اِنسان کی مقبُولیّت میں ترقّی کرتا گیا۔