لوقا ۱

۱۔ دیباچہ:‏لوقا کا مقصد اور طریقِ کار  (‏۱:‏۱-‏۴) ‏

دِیباچے میں لوقا ظاہر کرتا ہے کہ مَیں ایک مورِّخ ہوں۔ وہ بیان کرتا ہے کہ مجھے مواد کے لئے کون سے ماخذوں تک رسائی حاصل ہے اور میرا طریقۂ کار کیا تھا۔ پھر وہ اپنی تحریر کا مقصد بیان کرتا ہے۔ اِنسانی نقطۂ نظر سے اُس کے پاس دو قسم کے ماخذ تھے۔ مسیح کی زندگی کے بارے میں لکھا ہوا مواد اور اُن لوگوں کے زبانی بیانات جو مسیح کی زندگی اور واقعات کے عینی شاہد تھے۔

۱:‏۱ تحریری مواد کا ذکر آیت ۱ میں کیا گیا ہے۔ «چونکہ بہتوں نے اِس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمیان واقع ہوئیں اُن کو ترتیب وار بیان کریں…» ہمیں علم نہیں کہ یہ مصنفین کون تھے۔ متی اور مرقس اِن میں شامل ہوں گے۔ کچھ اَور ہوں گے جن کے متعلق وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ غیر الہامی مصنفین تھے  (‏یوحنا نے اِنجیل بعد میں لکھی) ‏۔

۱:‏۲ لوقا اُن لوگوں کے زبانی بیانات پر بھی اِنحصار کرتا ہے «جو شروع سے خود دیکھنے والے اور کلام کے خادم تھے اُن کو ہم تک پہنچایا۔» لوقا خود عینی شاہد ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ اُس نے اُن لوگوں سے انٹرویو کئے جو عینی شاہد تھے۔ وہ خداوند کے اُن تعلق داروں کو «خود دیکھنے والے اور کلام کے خادم» کہتا ہے۔ یہاں وہ لفظ «کلام» کو مسیح کے ایک نام کی حیثیت سے استعمال کرتا ہے۔ یوحنا نے بھی اپنی اِنجیل میں ایسا ہی کیا ہے۔ یہاں «شروع سے» کا مطلب مسیحی دَور ہے جس کا نقیب یوحنا بپتسمہ دینے والا تھا۔ یوحنا نے تحریری اور زبانی دونوں قسم کا مواد استعمال کیا۔ اِس حقیقت سے اِس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ زبانی بیانات بھی اِلہامی تھے۔ اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مواد کے اِنتخاب اور ترتیب دینے میں روح القدس نے لوقا کی راہنمائی کی۔

جیمز  ایس۔ سٹوأرٹ  (‏James S. Stewart) ‏کہتا ہے کہ:‏

«لوقا بالکل واضح کر دیتا ہے کہ ملہم مصنفین کو کسی بھی معجزے نے ٹھوس تواریخی تحقیق کی ضرورت سے مبرا نہیں کیا تھا۔ اِلہام کا مطلب یہ نہیں کہ خدا جادُو سے اِنسان کے ذہن اور صلاحیتوں کو غیر معمولی طور پر لائق فائق بنا دیتا ہے بلکہ خدا اِنسانی ذہن اور صلاحیتوں کی تخصیص اور تقدیس کر کے اِن کے وسیلے سے اپنی مرضی کو ظاہر کرتا ہے۔ اِلہام کلامِ مقدس کے مصنف کی اپنی شخصیت پر حاوی ہو کر اُسے خدا کی مشین نہیں بناتا بلکہ وہ اُس کی شخصیت کی تقویت کرتا اور اُسے خدا کا زندہ گواہ بنا دیتا ہے۔»

۱:‏۳ لوقا مختصراً یہ بھی بیان کرتا ہے کہ مجھے ایسا کرنے کی تحریک کیوں اور کیسے ہوئی اور میرا طریقۂ کار کیا ہے۔ «اے معزز تھیفلُس‏، مَیں نے بھی مناسب جانا کہ سب باتوں کا سلسلہ شروع سے ٹھیک ٹھیک دریافت کر کے اُن کو تیرے لئے ترتیب سے لکھوں۔» اور اپنی تحریک کے بارے میں وہ صرف اِتنا کہتا ہے کہ «مَیں نے بھی مناسب جانا۔» اِنسانی سطح پر وہ اپنے دل میں قائل تھا کہ مجھے اِنجیل لکھنی چاہئے۔ بے شک ہم جانتے ہیں کہ اِنسانی فیصلے میں عجیب طور سے اِلٰہی پابندی بھی شامل تھی۔

جہاں تک طریقۂ کار کا تعلق ہے پہلے اُس نے اِن باتوں کو «شروع سے ٹھیک ٹھیک دریافت» کیا‏، یعنی اُن کا کھوج لگایا۔ اِس کام کے لئے ہمارے نجات دِہندہ کی زندگی میں اور اِس سے متعلقہ واقعات کی سائنسی اور منطقی طریقے سے اور پوری احتیاط کے ساتھ چھان بین کرنا شامل تھا۔ لوقا نے ماخذوں کی صحت کو جانچا پرکھا۔ جو باتیں تاریخی طور پر غلط اور روحانی لحاظ سے غیر متعلق تھیں اُن کو مسترد کر دیا۔ پھر پورے مواد کو ترتیب کے ساتھ تالیف کیا جیسا کہ آج ہمارے سامنے ہے۔ جب لوقا کہتا ہے کہ «ترتیب سے» تو اِس کا لازماً «تواریخی ترتیب» مطلب نہیں۔ لوقا کی اِنجیل میں واقعات کی ترتیب ہر جگہ وہ نہیں جس ترتیب سے وہ وقوع پذیر ہوئے تھے بلکہ اُن کو اخلاقی یا روحانی ترتیب میں درج کیا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ مواد کے لحاظ سے اور اخلاقی تعلیم کے لحاظ سے ایک دوسرے سے پیوستہ ہے‏، وقت کے لحاظ سے نہیں۔ اگرچہ اِس اِنجیل اور اعمال کی کتاب کا مخاطب «تھیفلس» ہے‏، مگر حیرانی کی بات ہے کہ ہمیں اُس کے بارے میں بہت تھوڑی واقفیت ہے۔ لوقا اُسے «اے معزز…» کہہ کر مخاطب کرتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑا سرکاری افسر تھا۔ اُس کے نام کا مطلب ہے «خدا کا دوست۔» غالباً وہ مسیحی تھا اور رومی حکومت کے تخت ِوزارتِ خارجہ  (‏فارن سروس) ‏ میں اعلیٰ اور ذمہ دار عہدے پر فائز تھا۔

۱:‏۴ لوقا کا مقصد یہ تھا کہ تھیفلس کو ایسا تحریری مواد مہیا کرے جس سے اِن باتوں کی پختگی اور قابلِ اعتبار ہونے کی تصدیق ہو جائے جن کا تعلق خداوند یسوع کی زندگی اور خدمت سے تھا۔ اور جن کی تعلیم اُس نے پائی تھی تحریر میں آنے کے باعث یہ باتیں اور پیغام کی قطعیت اور صحت قائم ہو جائے گی۔ اور سینہ بہ سینہ منتقل کرنے سے جن غلطیوں کے در آنے کا اِمکان ہوتا ہے‏، اُس سے محفوظ ہو جائے گا۔

چنانچہ آیات ۱-‏۴ میں ہمیں مختصر لیکن بصیرت افروز بیان اُس پس منظر اور اِنسانی حالات کے بارے میں ملتا ہے جن میں بائبل مقدس کی یہ کتاب احاطۂ تحریر میں آئی۔ ہم جانتے ہیں کہ لوقا نے اِلہام سے لکھا۔ وہ کہتا تو نہیں لیکن «شروع سے»  (‏آیت ۳) ‏ کے الفاظ میں یہ بات مضمر ہے۔ اِس کا ترجمہ «اُوپر سے» بھی ہو سکتا ہے۔

مقدس کتاب

۱- چُونکہ بُہتوں نے اِس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمِیان واقِع ہُوئِیں اُن کو ترتِیب وار بیان کریں۔
۲- جَیسا کہ اُنہوں نے جو شرُوع سے خُود دیکھنے والے اور کلام کے خادِم تھے اُن کو ہم تک پُہنچایا۔
۳- اِس لِئے اَے مُعزّز تِھیُفِلُس مَیں نے بھی مُناسِب جانا کہ سب باتوں کا سِلسِلہ شرُوع سے ٹِھیک ٹِھیک دریافت کر کے اُن کو تیرے لِئے ترتِیب سے لِکُھوں
۴- تاکہ جِن باتوں کی تُو نے تعلِیم پائی ہے اُن کی پُختگی تُجھے معلُوم ہو جائے۔
۵- یہُودیہ کے بادشاہ ہیرودؔیس کے زمانہ میں اَبِیّاؔہ کے فرِیق میں سے زکریاؔہ نام ایک کاہِن تھا اور اُس کی بِیوی ہاروؔن کی اَولاد میں سے تھی اور اُس کا نام اِلیشِبَع تھا۔
۶- اور وہ دونوں خُدا کے حضُور راست باز اور خُداوند کے سب احکام و قوانِین پر بے عَیب چلنے والے تھے
۷- اور اُن کے اَولاد نہ تھی کیونکہ اِلیشِبَع بانجھ تھی اور دونوں عُمر رسِیدہ تھے۔
۸- جب وہ خُدا کے حضُور اپنے فرِیق کی باری پر کہانت کا کام انجام دیتا تھا تو اَیسا ہُؤا
۹- کہ کہانت کے دستُور کے مُوافِق اُس کے نام کا قُرعہ نِکلا کہ خُداوند کے مَقدِس میں جا کر خُوشبُو جلائے
۱۰- اور لوگوں کی ساری جماعت خُوشبُو جلاتے وقت باہر دُعا کر رہی تھی
۱۱- کہ خُداوند کا فرِشتہ خُوشبُو کے مذبح کی دہنی طرف کھڑا ہُؤا اُس کو دِکھائی دِیا
۱۲- اور زکریاؔہ دیکھ کر گھبرایا اور اُس پر دہشت چھا گئی۔
۱۳- مگر فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے زکریاؔہ! خَوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی اور تیرے لِئے تیری بِیوی اِلیشِبَع کے بیٹا ہو گا۔ تُو اُس کا نام یُوحنّا رکھنا
۱۴- اور تُجھے خُوشی و خُرّمی ہو گی اور بُہت سے لوگ اُس کی پَیدایش کے سبب سے خُوش ہوں گے
۱۵- کیونکہ وہ خُداوند کے حضُور میں بزُرگ ہو گا اور ہرگِز نہ مَے نہ کوئی اَور شراب پِیئے گا اور اپنی ماں کے بَطن ہی سے رُوحُ القُدس سے بھر جائے گا
۱۶- اور بُہت سے بنی اِسرائیل کو خُداوند کی طرف جو اُن کا خُدا ہے پھیرے گا
۱۷- اور وہ ایلیّاؔہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا کہ والِدوں کے دِل اَولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راست بازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خُداوند کے لِئے ایک مُستعِد قَوم تیّار کرے۔
۱۸- زکریاؔہ نے فرِشتہ سے کہا مَیں اِس بات کو کِس طرح جانُوں؟ کیونکہ مَیں بُوڑھا ہُوں اور میری بِیوی عُمر رسِیدہ ہے۔
۱۹- فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا مَیں جبراؔئیل ہُوں جو خُدا کے حضُور کھڑا رہتا ہُوں اور اِس لِئے بھیجا گیا ہُوں کہ تُجھ سے کلام کرُوں اور تُجھے اِن باتوں کی خُوشخبری دُوں
۲۰- اور دیکھ جِس دِن تک یہ باتیں واقِع نہ ہو لیں تُو چُپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا۔ اِس لِئے کہ تُو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پُوری ہوں گی یقِین نہ کِیا۔
۲۱- اور لوگ زکرؔیاہ کی راہ دیکھتے اور تَعجُّب کرتے تھے کہ اُسے مَقدِس میں کیوں دیر لگی۔
۲۲- جب وہ باہر آیا تو اُن سے بول نہ سکا۔ پس اُنہوں نے معلُوم کِیا کہ اُس نے مَقدِس میں رویا دیکھی ہے اور وہ اُن سے اِشارے کرتا تھا اور گُونگا ہی رہا۔
۲۳- پِھر اَیسا ہُؤا کہ جب اُس کی خِدمت کے دِن پُورے ہو گئے تو وہ اپنے گھر گیا۔
۲۴- اِن دِنوں کے بعد اُس کی بِیوی اِلیشِبَع حامِلہ ہُوئی اور اُس نے پانچ مہِینے تک اپنے تئِیں یہ کہہ کر چُھپائے رکھا کہ
۲۵- جب خُداوند نے میری رُسوائی لوگوں میں سے دُور کرنے کے لِئے مُجھ پر نظر کی اُن دِنوں میں اُس نے میرے لِئے اَیسا کِیا۔
۲۶- چھٹے مہِینے میں جبراؔئیل فرِشتہ خُدا کی طرف سے گلِیل کے ایک شہر میں جِس کا نام ناصرۃ تھا ایک کُنواری کے پاس بھیجا گیا۔
۲۷- جِس کی منگنی داؤُد کے گھرانے کے ایک مَرد یُوسفؔ نام سے ہُوئی تھی اور اُس کُنواری کا نام مریمؔ تھا
۲۸ اور فرِشتہ نے اُس کے پاس اندر آ کر کہا سلام تُجھ کو جِس پر فضل ہُؤا ہے! خُداوند تیرے ساتھ ہے۔
۲۹ وہ اِس کلام سے بُہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کَیسا سلام ہے۔
۳۰ فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے مریمؔ! خَوف نہ کر کیونکہ خُدا کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُؤا ہے
۳۱- اور دیکھ تُو حامِلہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا۔ اُس کا نام یِسُوعؔ رکھنا۔
۳۲- وہ بزُرگ ہو گا اور خُدا تعالےٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤُد کا تخت اُسے دے گا
۳۳- اور وہ یعقُوبؔ کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخِر نہ ہو گا۔
۳۴- مریمؔ نے فرِشتہ سے کہا یہ کیوں کر ہو گا جب کہ مَیں مَرد کو نہیں جانتی؟
۳۵- اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوحُ القُدس تُجھ پر نازِل ہو گا اور خُدا تعالےٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مَولُودِ مُقدّس خُدا کا بیٹا کہلائے گا
۳۶- اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلیشِبَع کے بھی بُڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے
۳۷- کیونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہو گا۔
۳۸- مریمؔ نے کہا دیکھ مَیں خُداوند کی بندی ہُوں۔ میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو۔ تب فرِشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا۔
۳۹- اُن ہی دِنوں مریمؔ اُٹھی اور جلدی سے پہاڑی مُلک میں یہُوداؔہ کے ایک شہر کو گئی
۴۰- اور زکرؔیاہ کے گھر میں داخِل ہو کر اِلیشِبَع کو سلام کِیا
۴۱- اور جُونہی اِلیشِبَع نے مریمؔ کا سلام سُنا تو اَیسا ہُؤا کہ بچّہ اُس کے رَحِم میں اُچھل پڑا اور اِلیشِبَع رُوحُ القُدس سے بھر گئی
۴۲- اور بُلند آواز سے پُکار کر کہنے لگی کہ تُو عَورتوں میں مُبارِک اور تیرے رَحِم کا پَھل مُبارک ہے
۴۳- اور مُجھ پر یہ فضل کہاں سے ہُؤا کہ میرے خُداوند کی ماں میرے پاس آئی؟
۴۴- کیونکہ دیکھ جُونہی تیرے سلام کی آواز میرے کان میں پُہنچی بچّہ مارے خُوشی کے میرے رَحمِ میں اُچھل پڑا
۴۵- اور مُبارک ہے وہ جو اِیمان لائی کیونکہ جو باتیں خُداوند کی طرف سے اُس سے کہی گئی تِھیں وہ پُوری ہوں گی۔
۴۶- پِھر مریمؔ نے کہا کہ میری جان خُداوند کی بڑائی کرتی ہے
۴۷- اور میری رُوح میرے مُنّجی خُدا سے خُوش ہُوئی
۴۸- کیونکہ اُس نے اپنی بندی کی پست حالی پر نظر کی اور دیکھ اب سے لے کر ہر زمانہ کے لوگ مُجھ کو مُبارک کہیں گے
۴۹- کیونکہ اُس قادِر نے میرے لِئے بڑے بڑے کام کِئے ہیں اور اُس کا نام پاک ہے
۵۰- اور اُس کا رَحم اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں پُشت دَر پُشت رہتا ہے۔
۵۱- اُس نے اپنے بازُو سے زور دِکھایا اور جو اپنے تئِیں بڑا سمجھتے تھے اُن کو پراگندہ کِیا۔
۵۲- اُس نے اِختیار والوں کو تخت سے گِرا دیا اور پست حالوں کو بُلند کِیا۔
۵۳- اُس نے بُھوکوں کو اچھّی چِیزوں سے سیر کر دیا اور دَولت مندوں کو خالی ہاتھ لَوٹا دِیا۔
۵۴- اُس نے اپنے خادِم اِسرائیلؔ کو سنبھال لِیا تاکہ اپنی اُس رحمت کو یاد فرمائے۔
۵۵- جو ابرہامؔ اور اُس کی نسل پر ابد تک رہے گی جَیسا اُس نے ہمارے باپ دادا سے کہا تھا
۵۶- اور مریمؔ تِین مہِینے کے قرِیب اُس کے ساتھ رہ کر اپنے گھر کو لَوٹ گئی۔
۵۷- اور اِلیشِبَع کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا اور اُس کے بیٹا ہُؤا
۵۸- اور اُس کے پڑوسِیوں اور رِشتہ داروں نے یہ سُن کر کہ خُداوند نے اُس پر بڑی رحمت کی اُس کے ساتھ خُوشی منائی۔
۵۹- اور آٹھویں دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ لڑکے کا خَتنہ کرنے آئے اور اُس کا نام اُس کے باپ کے نام پر زکرؔیاہ رکھنے لگے۔
۶۰- مگر اُس کی ماں نے کہا نہیں بلکہ اُس کا نام یُوحنّا رکھّا جائے۔
۶۱- اُنہوں نے اُس سے کہا کہ تیرے کُنبے میں کِسی کا یہ نام نہیں۔
۶۲- اور اُنہوں نے اُس کے باپ کو اِشارہ کِیا کہ تُو اُس کا نام کیا رکھنا چاہتا ہے؟
۶۳- اُس نے تختی منگا کر یہ لِکھا کہ اُس کا نام یُوحنّا ہے اور سب نے تعجُّب کِیا۔
۶۴- اُسی دَم اُس کا مُنہ اور زُبان کُھل گئی اور وہ بولنے اور خُدا کی حمد کرنے لگا۔
۶۵- اور اُن کے آس پاس کے سب رہنے والوں پر دہشت چھا گئی اور یہُودیہ کے تمام پہاڑی مُلک میں اِن سب باتوں کا چرچا پَھیل گیا۔
۶۶- اور سب سُننے والوں نے اُن کو دِل میں سوچ کر کہا تو یہ لڑکا کَیسا ہونے والا ہے؟ کیونکہ خُداوند کا ہاتھ اُس پر تھا۔
۶۷- اور اُس کا باپ زکرؔیاہ رُوحُ القُدس سے بھر گیا اور نبُوّت کی راہ سے کہنے لگا کہ
۶۸- خُداوند اِسرائیلؔ کے خُدا کی حمد ہو کیونکہ اُس نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کر کے اُسے چُھٹکارا دِیا
۶۹- اور اپنے خادِم داؤُد کے گھرانے میں ہمارے لِئے نجات کا سِینگ نِکالا۔
۷۰- (جَیسا اُس نے اپنے پاک نبِیوں کی زُبانی کہا تھا جو کہ دُنیا کے شرُوع سے ہوتے آئے ہیں)
۷۱- یعنی ہم کو ہمارے دُشمنوں سے اور سب کِینہ رکھنے والوں کے ہاتھ سے نجات بخشی
۷۲- تاکہ ہمارے باپ دادا پر رحم کرے اور اپنے پاک عہد کو یاد فرمائے
۷۳- یعنی اُس قَسم کو جو اُس نے ہمارے باپ ابرہامؔ سے کھائی تھی
۷۴- کہ وہ ہمیں یہ عِنایت کرے گا کہ اپنے دُشمنوں کے ہاتھ سے چُھوٹ کر
۷۵- اُس کے حضُور پاکِیزگی اور راست بازی سے عُمر بھر بے خَوف اُس کی عِبادت کریں۔
۷۶- اور اَے لڑکے تُو خُدا تعالےٰ کا نبی کہلائے گا کیونکہ تُو خُداوند کی راہیں تیّار کرنے کو اُس کے آگے آگے چلے گا
۷۷- تاکہ اُس کی اُمّت کو نجات کا عِلم بخشے جو اُن کو گُناہوں کی مُعافی سے حاصِل ہو۔
۷۸- یہ ہمارے خُدا کی عَین رحمت سے ہو گا جِس کے سبب سے عالمِ بالا کا آفتاب ہم پر طلُوع کرے گا۔
۷۹- تاکہ اُن کو جو اندھیرے اور مَوت کے سایہ میں بَیٹھے ہیں رَوشنی بخشے اور ہمارے قدموں کو سلامتی کی راہ پر ڈالے۔
۸۰- اور وہ لڑکا بڑھتا اور رُوح میں قُوّت پاتا گیا اور اِسرائیلؔ پر ظاہِر ہونے کے دِن تک جنگلوں میں رہا۔