۱۱۔ ابنِ آدم کا دُکھ اُٹھانا اور موت (ابواب ۲۲،۲۳)
الف۔ یسوع کو قتل کرنے کی سازِش (۲۲:۱،۲)
۲۲:۱ یہاں «عید فطیر» سے مراد وہ عرصہ ہے جو «عید فسح» کے ساتھ شروع ہوتا اور اگلے سات دنوں تک چلتا تھا۔ اِن سات دنوں میں خمیری روٹی ہرگز نہیں کھائی جاتی تھی۔ عید فسح نیسان مہینے کی چودھویں تاریخ کو منائی جاتی تھی۔ یہ یہودی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اِس مہینے کی پندرھویں سے اکیسویں تک کے سات دِنوں کو «بے خمیری روٹی کی عید» کہا جاتا تھا۔ مگر زیر نظر آیت میں مراد پورا تہوار ہے۔ اگر لوقا بنیادی طور پر یہودیوں کے لئے لکھتا تو اُسے «عید فطیر» اور «عید فسح» کے باہمی تعلق کو بیان کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔
۲۲:۲ «سردار کاہن اور فقیہ» متواتر سازِشیں کر رہے تھے کہ خداوند یسوع کو مار ڈالیں۔ مگر اُنہیں احساس تھا کہ ہمیں یہ کام اِس طرح کرنا ہو گا کہ بلوہ نہ ہو جائے کیونکہ بہت سے لوگ خداوند کی بڑی عزت اور قدر کرتے تھے۔
ب۔ یہوداہ کی غداری (۲۲:۳-۶)
۲۲:۳ یہوداہ جس کا لقب اسکریوتی تھا، بارہ شاگردوں میں شامل تھا۔ «اور شیطان یہوداہ میں سمایا۔» یوحنا ۱۳:۲۷ میں بیان ہوا ہے کہ عید فسح کے کھانے پر یسوع نے یہوداہ کو نوالہ دیا۔ اِس کے بعد شیطان اُس میں سمایا۔ ہم اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ عمل تدریجی مراحل میں ہوا، یا لوقا درست وقت پر نہیں بلکہ اِس حقیقت پر زور دے رہا ہے۔
۲۲:۴-۶ بہر صورت یہوداہ نے «سردار کاہنوں اور سپاہیوں» سے سودا کر لیا۔ «سپاہیوں» سے مراد یہودی ہیکل کے محافظ دستہ کے سرداروں سے ہے۔ اُس نے بڑی احتیاط سے منصوبہ بنایا کہ کس طرح یسوع کو «اُن کے حوالے کرے» کہ کسی قسم کا بلوہ بھی نہ ہو۔ یہ منصوبہ بالکل قابلِ قبول تھا۔ چنانچہ اُنہوں نے اُسے «روپے دینے کا اِقرار کیا۔» کتابِ مقدس کے دوسرے مقامات سے پتا چلتا ہے کہ چاندی کے تیس سِکوں (روپوں) میں سودا طے ہوا تھا۔ چنانچہ یہوداہ جا کر اپنے غدارانہ منصوبے کی تفاصیل بنانے لگا۔
ج۔ عید فسح کی تیاری (۲۲:۷-۳۱)
۲۲:۷ اِن آیات میں کئی مختلف وقفوں کا ذکر ہے جن کی وجہ سے تشریح میں خاصی مشکل پیش آتی ہے۔ «عید فطیر کا دن» عام طور سے نیسان مہینے کی تیرھویں تاریخ کو ہوتا تھا جب یہودی گھر سے ہر قسم کے خمیر کو دُور کیا جاتا تھا مگر یہاں بیان ہوا ہے کہ یہ دن وہ تھا «جس میں فسح ذبح کرنا تھا۔» اِس طرح یہ نیسان کی چودھویں تاریخ ہوتی ہے۔ کئی علما کہتے ہیں کہ عید فسح کے لئے دو قسم کے کیلنڈر استعمال ہوتے تھے۔ ایک سرکاری، دوسرا وہ جس کے مطابق یسوع اور دوسرے لوگ تہوار مناتے تھے۔ ہمارے خیال کے مطابق یہاں سے آخری جمعرات کے واقعات شروع ہوتے ہیں اور آیت ۵۳ تک چلتے ہیں۔
۲۲:۸-۱۰ خداوند نے پطرس اور یوحنا کو یروشلیم میں بھیجا کہ فسح کی تیاری کریں۔ اُس کی ہدایت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عالمِ کُل ہے۔ اُس نے اُنہیں بتا دیا کہ «شہر میں داخل ہوتے ہی تمہیں ایک آدمی پانی کا گھڑا لئے ہوئے ملے گا۔» یہ بالکل غیر معمولی منظر تھا کیونکہ عام طور پر پانی کے گھڑے عورتیں اُٹھاتی ہیں۔ یہ آدمی روح القدس کی بڑی عمدہ تصویر پیش کرتا ہے جو متلاشی روحوں کی خداوند کی رفاقت تک راہنمائی کرتا ہے۔
۲۲:۱۱-۱۳ خداوند کو اُس شخص کے مقام اور راستے کا پہلے سے علم تھا۔ اُسے یہ بھی علم تھا کہ ایک «گھر کا مالک» اپنا «بڑا بالا خانہ آراستہ کیا ہوا» مجھے اور میرے شاگردوں کو دے دے گا۔ شاید یہ آدمی خداوند کو جانتا تھا اور اپنی ذات اور اپنے مال و متاع کو اُس کے لئے وقف کر چکا تھا۔ «مہمان خانہ» اور «بڑا بالاخانہ آراستہ کیا ہوا» میں فرق ہوتا ہے۔ یہ فراخ دل میزبان شاگردوں کی توقعات سے بڑھ کر سہولیات فراہم کرتا ہے۔ جب یسوع بیت لحم میں پیدا ہوا تو سرائے (یونانی «کاتالوما») میں جگہ نہ تھی۔ یہاں خداوند نے شاگردوں سے کہا کہ جا کر «مہمان خانہ» (یونانی «کاتالوما») پوچھنا۔ مگر اُن کو بہتر چیز دی گئی یعنی «آراستہ کیا ہوا بالاخانہ۔»
ہر بات اُسی طرح ہوئی جیسے خداوند نے پہلے سے بتایا تھا۔ چنانچہ شاگردوں نے «فسح تیار کیا۔»
د۔ آخری فسح (۲۲:۱۴-۸۱)
۲۲:۱۴ صدیوں سے یہودی عید فسح مناتے آ رہے تھے۔ یہ یادگار تھی کہ ایک بے داغ برّہ کے خون کی معرفت اُن کو مصر کی غلامی سے شان دار رہائی حاصل ہوئی تھی۔ جب یسوع اپنے «رسولوں» کے ساتھ «کھانا کھانے بیٹھا» یعنی عید فسح کا تہوار منانے لگا تو تاریخ کے یہ خاص واقعات کتنے صاف طور سے اُس کے ذہن میں آئے ہوں گے! وہ فسح کا حقیقی برّہ تھا۔ اور بہت جلد اُس کا خون اُن سب کے لئے بہایا جانے کو تھا جو اُس پر ایمان لاتے تھے۔
۲۲:۱۵،۱۶ یہ خاص فسح خداوند کے لئے ایسے خاص معانی رکھتی تھی جس کا بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اُس کو «بڑی آرزو تھی کہ دُکھ سہنے سے پہلے یہ فسح» اپنے شاگردوں کے ساتھ کھاتا۔ اِس کے بعد وہ اُس وقت تک عید فسح نہیں منائے گا جب تک زمین پر دوبارہ آ کر اپنی جلالی بادشاہی قائم نہ کر لے۔ «مجھے بڑی آرزو تھی۔» اِس میں بڑی شدید اور کمال کی خواہش کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اِن الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح کو کس قدر اِشتیاق ہے کہ ہر جگہ اور ہر زمانے کے لوگ میری میز پر آ کر میرے ساتھ رفاقت رکھیں۔
۲۲:۱۷،۱۸ فسح کی رسومات کے مطابق اُس نے «پیالہ لے کر شکر کیا» اور شاگردوں کو دیا کہ آپس میں بانٹ لیں۔ ساتھ ہی اُس نے اُن کو یاد دلایا کہ «انگور کا شیرہ اَب سے کبھی نہ پیؤں گا» جب تک ہزار سالہ بادشاہی نہ آ جائے۔ آیت ۸۱ کے ساتھ عید فسح کے کھانے کا بیان ختم ہو جاتا ہے۔
ہ۔ پہلی عشائے ربانی (۲۲:۱۹-۲۳)
۲۲:۱۹،۲۰ آخری فسح کے فوراً بعد عشائے ربانی کی رسم مقرر کی گئی۔ خداوند یسوع نے یہ پاک یادگار رسم اِس لئے مقرر کی تاکہ آنے والی صدیوں کے دوران اُس کے پیرو اُسے اُس کی موت میں یاد رکھیں۔ سب سے پہلے خداوند نے اپنے شاگردوں کو «روٹی» دی۔ یہ اُس کے «بدن» کی علامت ہے جو اُن کے واسطے دیا جانے کو تھا۔ اِس کے بعد «پیالہ» دیا گیا۔ پیالہ پکار پکار کر کہتا ہے کہ مَیں اُس کے قیمتی «خون» کی علامت ہوں جو کلوری پر بہایا جانے کو تھا۔ اُس نے کہا کہ «یہ پیالہ میرے اُس خون میں نیا عہد ہے جو تمہارے واسطے بہایا جاتا ہے۔» اِس کا مطلب ہے کہ «نیا عہد» جو اُس نے بنیادی طور پر اِسرائیلی قوم کے ساتھ باندھا تھا، اُس کے خون سے اِس عہد کی تصدیق ہوئی۔ اِس عہد کی مکمل تکمیل زمین پر خداوند یسوع مسیح کی دیدنی بادشاہی کے دوران ہو گی۔ مگرہم جو ایمان دار ہیں اُس کی نعمتوں میں ابھی داخل ہوتے ہیں۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ روٹی اور شیرہ اُس کے بدن اور خون کی علامت ہیں۔ اُس کا بدن ابھی دیا نہیں گیا تھا، نہ اُس کا خون ابھی بہایا گیا تھا۔ اِس لئے یہ کہنا بالکل مضحکہ خیز بات ہے کہ یہ علامتیں معجزانہ طور پر حقیقی بدن اور حقیقی خون میں بدل گئی تھیں۔
یہودیوں کو خون کھانا منع تھا۔ اِس لئے شاگردوں کو معلوم تھا کہ خداوند لفظی معنوں میں خون کی بات نہیں کر رہا بلکہ اُس چیز کی جو اُس کے خون کی علامت ہے۔
۲۲:۲۱ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہوداہ اِسکریوتی آخری فسح کے موقع پر موجود نہ تھا۔ البتہ یوحنا باب ۱۳ سے یہ بھی صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یسوع نے نوالہ شوربے میں ڈبو کر یہوداہ کو دیا تو وہ نوالہ لینے کے بعد کمرے سے نکل گیا۔ چونکہ یہ بات عشائے ربانی کی رسم مقرر ہونے سے پہلے وقوع پذیر ہوئی اِس لئے ہمیں یقین ہے کہ جب روٹی اور شیرہ دیا گیا تو وہ وہاں موجود نہ تھا۔
۲۲:۲۲ خداوند کے لئے دُکھ اُٹھا کر مرنا تو مقرر ہو چکا تھا۔ مگر یہوداہ نے اپنی پوری مرضی سے اُسے دھوکے سے پکڑوا دیا۔ اِس لئے یسوع کہتا ہے کہ «مگر اُس شخص پر افسوس ہے جس کے وسیلہ سے وہ پکڑوایا جاتا ہے۔» اگرچہ یہوداہ بارہ شاگردوں میں شامل تھا مگر وہ سچا ایمان دار نہ تھا۔
و۔ خدمت میں عظمت ہے (۲۲:۲۴-۳۰)
۲۲:۲۴،۲۵ اِنسانی دل کی بدی اِس سے ظاہر ہوتی ہے کہ عشائے ربانی کے فوراً بعد شاگرد یہ «تکرار» کرنے لگے کہ «ہم میں سے کون بڑا سمجھا جاتا ہے؟» خداوند یسوع نے اُن کو بتایا کہ میری بادشاہی میں بڑے کا تصور اِنسانی تصور سے بالکل اُلٹ ہے۔ «غیر قوموں کے بادشاہ اُن پر حکومت چلاتے ہیں۔» اُن کو عموماً بہت بڑے شخص سمجھا جاتا ہے۔ دراصل اُن کو «خداوند ِنعمت» کہا جاتا ہے۔ مگر یہ محض ایک لقب ہے۔ دراصل وہ سخت ظالم ہوتے ہیں۔ اُن کا نام تو بہت اچھا ہوتا ہے مگر شخصیت اور خصوصیات نام کے اُلٹ ہوتی ہیں۔
۲۲:۲۶ مگر خداوند کے پیروکاروں میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ اُن میں جو بڑا ہونا چاہے، اُس کو «چھوٹے کی مانند» بننا ہے اور جو «سردار» ہونا چاہے وہ جھک کر دوسروں کی ادنیٰ ترین خدمت کرے۔ اِن اِنقلابی فرمانوں نے روایتی سوچ کو بالکل بدل ڈالا کہ چھوٹا بڑے سے کمتر ہوتا ہے اور کہ بڑا وہی ہوتا ہے جو حکومت جتائے۔
۲۲:۲۷ اِنسانوں کے اندازِ فکر کے مطابق کھانے پر مہمان ہونا خدمت کرنے سے زیادہ عظیم بات ہے، مگر خداوند یسوع اِنسانوں کا خادم بن کر آیا۔ اِس لئے جتنے اُس کے پیچھے آتے ہیں اُن پر فرض ہے کہ اِس معاملے میں بھی اُس کی تقلید کریں۔
۲۲:۲۸-۳۰ خداوند نے بڑی شفقت کے ساتھ شاگردوں کی تعریف کی کہ «تم… میری آزمائشوں میں برابر میرے شریک رہے۔» ابھی ابھی تو وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ سب اُسے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ مگر یسوع جانتا تھا کہ اپنے دلوں میں یہ میرے ساتھ محبت رکھتے ہیں اور میرے نام کی خاطر ہر طرح کی لعن طعن اُٹھاتے رہے ہیں۔ اُن کا اجر یہ ہو گا کہ خداوند کے ساتھ «تختوں پر بیٹھ کر اِسرائیل کے بارہ قبیلوں کا اِنصاف» کریں گے۔ یہ اَجر اُس وقت ملے گا جب مسیح زمین پر واپس آ کر داؤد کا تخت سنبھال کر پوری دُنیا پر بادشاہی کرے گا۔ جیسے باپ نے مسیح کے ساتھ اِس بادشاہی کا وعدہ کیا تھا، اُسی طرح مسیح نے اپنے شاگردوں کے ساتھ یقینی وعدہ کیا کہ بحال شدہ اِسرائیل پر بادشاہی کریں گے۔
ز۔ پطرس کے اِنکار کرنے کی پیش گوئی (۲۲:۳۱-۳۴)
اب اِنسانی تاریخ کے تین تاریک ابواب میں سے آخری باب کا آغاز ہوتا ہے۔ پہلا باب تھا یہوداہ اسکریوتی کی غداری۔ دوسرا باب تھا شاگردوں کی بڑا بننے کی خود غرضانہ اُمنگ اور تیسرا باب ہے پطرس کی بزدلی۔
۲۲:۳۱،۳۲ یسوع نے کہا، «شمعون! شمعون!» نام کو یوں دُہرانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح کے دل میں اُس ڈانواں ڈول شاگرد کے لئے کتنا پیار اور کتنی شفقت تھی! شیطان نے سارے شاگردوں کو «مانگ لیا» تھا تاکہ اُن کو «گیہوں کی طرح پھٹکے! خداوند نے پطرس کو سب کے نمائندہ کی حیثیت سے مخاطب کیا اور بتایا کہ «مَیں نے تیرے لئے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے»۔ («مَیں نے تیرے لئے دعا کی»۔ یہ کیسے زبردست الفاظ ہیں!) ۔ خداوند نے اُسے تاکید کی کہ «جب تُو رجوع کرے تو اپنے بھائیوں کو مضبوط کرنا»۔ اِس «رجوع کرنے» سے مراد نجات کی طرف واپس آنا نہیں بلکہ سُست پڑ جانے یا پیچھے ہٹ جانے سے ہے۔
۲۲:۳۳،۳۴ نامناسب خود اعتمادی کے ساتھ پطرس نے مسیح کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ «اے خداوند! تیرے ساتھ مَیں قید ہونے بلکہ مرنے کو بھی تیار ہوں»۔ مگر خداوند نے اُس پر واضح کر دیا کہ صبح کی روشنی نمودار ہونے سے پہلے «تُو تین بار میرا اِنکار کرے گا» اور کہے گا کہ مَیں اُسے جانتا تک نہیں۔
مرقس ۱۴:۳۰ میں لکھا ہے کہ خداوند نے یہ کہا تھا کہ مرغ کے دو بار بانگ دینے سے پہلے پطرس تین دفعہ اِنکار کرے گا۔ متی ۲۶:۳۴؛ لوقا ۲۲:۳۴ اور یوحنا ۱۳:۳۸ میں لکھا ہے کہ «مرغ کے بانگ دینے سے پہلے» پطرس تین دفعہ اُس کا اِنکار کرے گا۔ یہ ماننا پڑتا ہے کہ اِس ظاہری تضاد کو حل کرنا مشکل ہے۔ ممکن ہے کہ مرغ نے ایک سے زیادہ دفعہ بانگ دی۔ ایک رات کے دوران اور دوسری طلوعِ آفتاب سے پہلے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اناجیل میں پطرس سے کم سے کم چھے اِنکاروں کا ذکر ملتا ہے۔
- ایک لونڈی کے سامنے (متی ۶۲:۹۶،۷۰؛ مرقس ۱۴:۶۶-۶۸) ۔
- دوسری لونڈی کے سامنے (متی ۲۶:۷۱،۷۲) ۔
- وہاں کھڑے لوگوں کے سامنے (متی ۲۶:۷۳،۷۴؛ مرقس ۱۴:۷۰،۷۱) ۔
- ایک آدمی کے سامنے (لوقا ۲۲:۵۸) ۔
- ایک اَور آدمی کے سامنے (لوقا ۲۲:۵۹،۶۰) ۔
- سردار کاہن کے نوکر کے سامنے (یوحنا ۱۸:۲۶،۲۷) ۔ یہ آدمی غالباً دوسرے آدمیوں سے مختلف ہے کیونکہ اُس نے کہا کہ «کیا مَیں نے تجھے اُس کے ساتھ باغ میں نہیں دیکھا (تھا) ؟» (یوحنا ۱۸:۲۶) ۔
ح۔ آگے بڑھنے کے نئے احکام (۲۲:۳۵-۳۸)
۲۲:۳۵ اپنی خدمت کے ابتدائی ایام میں خداوند نے شاگردوں کو «بٹوے اور جھولی اور جوتی» کے بغیر منادی کرنے کو بھیجا تھا۔ بنیادی ضروریات کی صرف لازمی چیزیں ہی اُن کے لئے کافی تھیں۔ اور یہ بات ثابت ہو چکی تھی۔ اُن کو اِقرار کرنا پڑا کہ ہم کسی چیز کے محتاج نہیں رہے تھے۔
۲۲:۳۶ مگر اب خداوند اُن سے جدا ہونے کو تھا۔ اب وہ اُس کی خاطر خدمت کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کو تھے۔ اب اُن کو احتیاج، بھوک اور خطروں کا سامنا ہو گا۔ اور ضرور تھا کہ وہ اپنی روزمرہ ضروریات کے لئے بندوبست کر لیں۔ چنانچہ ہر شخص اپنا بٹوا اور اپنی جھولی لے لے۔ اور اگر تلوار نہیں ہے تو اپنی پوشاک بیچ کر «تلوار خریدے۔» خداوند کا اِس حکم سے کیا مقصد تھا؟ یہ بات تو صاف ہے کہ یہ مقصد تو ہرگز نہیں تھا کہ شاگرد تلوار کو دوسروں کے خلاف حملہ کرنے کے لئے استعمال کریں۔ یہ بات تو اُس کی تعلیمات کے سراسر خلاف تھی۔ دیکھئے:
«میری بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں۔ اگر میری بادشاہی دُنیا کی ہوتی تو میرے خادم لڑتے» (یوحنا ۱۸:۳۶) ۔
«جو تلوار کھینچتے ہیں، وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے۔» (متی ۲۶:۵۲)
«… اپنے دشمنوں سے محبت رکھو» (متی ۵:۴۴) ۔
«جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے» (متی ۵:۳۹ اور ۲۔کرنتھیوں ۱۰:۴) ۔
تو پھر «تلوار» سے خداوند کا کیا مطلب تھا؟
- بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اُس کا اِشارہ روح کی تلوار کی طرف تھا جو خدا کا کلام ہے (اِفسیوں ۶:۱۷) ۔ یہ ممکن ہے۔ مگر پھر بٹوا اور جھولی اور پوشاک کے بھی روحانی معنی متعین کرنا ہوں گے۔
- وِلیمز کا خیال ہے کہ تلوار کا مطلب باقاعدہ حکومت کی محافظت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ رومیوں ۱۳:۴ میں تلوار حاکم کی طاقت اور اِختیار کا بیان کرتی ہے۔
- لینگ (Lange) کی رائے ہے کہ تلوار اِنسانی دشمنوں کے خلاف دِفاع کے لئے ہے مگر حملہ کرنے کے لئے نہیں ہے۔ لیکن متی ۵:۳۹ کے بیان کے مطابق دفاعی مقاصد کے لئے بھی تلوار کا استعمال جائز معلوم نہیں ہوتا۔
- بعض علما کا خیال ہے کہ تلوار صرف جنگلی جانوروں سے بچاؤ کے لئے تھی۔ یہ بات ممکن معلوم ہوتی ہے۔
۲۲:۳۷ اِس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اب شاگردوں کے لئے بٹوا اور جھولی اور تلوار رکھنا کیوں ضروری تھا۔ اب تک خداوند اُن کے ساتھ تھا اور اُن کی دُنیاوی اور جسمانی ضروریات پوری کرتا تھا۔ مگر اب یسعیاہ ۵۳:۱۲ کی نبوت کے مطابق وہ اُن سے جدا ہو رہا تھا۔ اُس کے بارے میں جو باتیں کہی گئی تھیں اُن کا پورا ہونا ضرور تھا۔ اُس کی زمینی خدمت اِختتام پذیر ہو گی جب کہ وہ «بدکاروں میں گِنا» جائے گا۔
۲۲:۳۸ شاگرد خداوند کی بات کو بالکل غلط سمجھے۔ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس دو تلواریں موجود ہیں۔ غالباً اُن کا مطلب یہ تھا کہ آنے والے خطرے کے پیشِ نظر یہی کافی ہوں گی۔ خداوند نے صرف اِتنا کہہ کر کہ «بہت ہیں» گفتگو کو ختم کر دیا۔ لگتا ہے کہ شاگردوں کا خیال تھا کہ دشمنوں کی خداوند کو قتل کرنے کی کوشش کو ہم تلواروں کے ذریعے ناکام بنا سکتے ہیں۔ مگر خداوند کے ذہن میں ایسا کوئی خیال نہیں تھا!
ط۔ گتسمنی میں جاں کنی (۲۲:۳۹-۴۶)
۲۲:۳۹ گتسمنی باغ زیتون کے پہاڑ کی مغربی ڈھلان پر واقع تھا۔ یسوع دعا مانگنے اکثر وہاں جایا کرتا تھا۔ غدار یہوداہ اور باقی شاگرد اِس جگہ سے واقف تھے۔
۲۲:۴۰ خداوند کی عشا کے بعد یسوع اور شاگرد بالا خانے سے نکل کر گتسمنی باغ میں آئے۔ وہاں پہنچنے پر اُس نے اُنہیں خبردار کیا کہ «دعا کرو کہ آزمائش میں نہ پڑو۔» غالباً اُس کے ذہن میں وہ خاص آزمائش تھی کہ تھوڑی دیر میں اُن پر دباؤ ہو گا کہ جب دشمن گھیرا ڈال لیں گے تو یہ خدا اور اُس کے مسیح کو چھوڑ کر فرار ہو جائیں گے۔
۲۲:۴۱،۴۲ پھر یسوع شاگردوں کو چھوڑ کر باغ میں ذرا اَور آگے گیا اور وہاں اکیلا «دعا کرنے لگا»۔ اُس کی دعا یہ تھی کہ اگرباپ چاہے تو «یہ پیالہ» اُس سے ہٹا لیا جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ «میری مرضی نہیں» بلکہ «خدا کی مرضی» پوری ہو۔ اگر صلیب پر چڑھنے کے علاوہ کوئی اَور راستہ ہو جس سے گنہگاروں کی نجات کا بندوبست ہو جائے تو خدا اُس راستے کو ظاہر کر دے۔ آسمان خاموش تھا۔ اور خاموش رہا کیونکہ اَور کوئی راستہ تھا ہی نہیں۔
ہمارا ایمان ہے کہ گتسمنی باغ میں مسیح کے دُکھ اُس کے کفارے کے کام کا حصہ نہیں تھے۔ فدیے یا کفارے کا کام صلیب پر اُن تین گھنٹوں کے دوران پورا ہوا جب ساری دُنیا میں اندھیرا چھایا رہا تھا، مگر گتسمنی باغ کے دُکھ کلوری کا پیش خیمہ تھے۔ گتسمنی باغ میں خداوند یسوع ہمارے گناہوں کے بالکل ساتھ آ ملا۔ اور یہ بات اُس کے لئے گہرا دُکھ اور سخت اذیت تھی۔
۲۲:۴۳،۴۴ اُس کے دُکھ میں جو جاں کنی تھی، وہ اُس کی کامل بشریت کو ظاہر کرتی ہے۔ «آسمان سے ایک فرشتہ… اُسے تقویت دیتا تھا۔» مصنف لوقا طبیب نے اِسی تفصیل پر خاص توجہ دی ہے۔
۲۲:۴۵،۴۶ جب یسوع دوبارہ «شاگردوں کے پاس آیا» تو اُنہیں «سوتے پایا۔» اِس لئے نہیں کہ اُنہیں پروا نہیں تھی بلکہ اِس لئے کہ غم نے اُنہیں نڈھال کر دیا تھا۔ ایک دفعہ پھر خداوند نے اُن کو تحریک دی کہ «اُٹھ کر دعا کرو۔» اِس لئے کہ نازک گھڑی نزدیک آ رہی تھی اور اُن پر آزمائش آنے کو تھی کہ حاکموں کے سامنے اپنے خداوند کا اِنکار کر دیں۔
ی۔ یسوع کو غداری سے پکڑوایا جاتا ہے (۲۲:۴۷-۳۵)
۲۲:۴۷،۴۸ اِس وقت تک یہوداہ (اِسکریوتی) سردار کاہنوں، بزرگوں اور ہیکل کے محافظوں کا ایک گروہ ساتھ لے کر اُسے پکڑوانے کو آ پہنچا تھا۔ اُس نے خداوند کے دشمنوں کو نشان دے رکھا تھا کہ جس کا مَیں بوسہ لوں، وہی یسوع ہے۔ اُسے گرفتار کر لینا۔ سٹوأرٹ (Stewart) اِس پر یوں تبصرہ کرتا ہے کہ:
«یہ ہولناکی کی اِنتہا تھی۔ اِنسانی ذلالت اِس سے آگے جا نہیں سکتی، کہ باغ کے اندر یہوداہ نے اپنے آقا کے ساتھ غداری کرتے ہوئے مُکا یا خنجر نہیں بلکہ بوسہ استعمال کیا۔»
یسوع نے لامحدود سوز و گداز کے ساتھ پوچھا کہ «اے یہوداہ، کیا تُو بوسہ لے کر ابنِ آدم کو پکڑواتا ہے؟»
۲۲:۴۹-۵۱ شاگردوں کو معلوم ہو گیا کہ کیا ہونے والا ہے اور وہ دفاع کرنے کو تیار ہو گئے بلکہ «اُن میں سے ایک نے» تلوار چلا کر «سردار کاہن کے نوکر… کا دہنا کان اُڑا دیا۔» دوسرے حوالوں سے ہمیں پتا ہے کہ تلوار چلانے والا پطرس تھا۔ یسوع نے اُسے روحانی جنگ میں جسمانی ہتھیار استعمال کرنے پر جھڑکا۔ اُس کا وقت آ گیا تھا۔ اور ضرور تھا کہ خدا نے جو منصوبہ تیار کر رکھا تھا، وہ پورا ہو۔ بڑی شفقت سے یسوع نے «اُس کے کان کو چھو کر اُس کو اچھا کر دیا۔»
۲۲:۵۲،۵۳ اب یسوع نے یہودی لیڈروں اور سرداروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ «کیا تم مجھے ڈاکو جان کر تلواریں اور لاٹھیاں لے کر نکلے ہو؟» کیا وہ «ہر روز ہیکل میں» یعنی ہیکل کے صحنوں میں اُن کے سامنے تعلیم نہیں دیتا تھا؟ تو بھی اُنہوں نے اُس کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اب یسوع نے وضاحت کر دی کہ «یہ تمہاری گھڑی اور تاریکی کا اِختیار ہے۔» یہ جمعرات کو تقریباً آدھی رات کا وقت تھا۔
معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی عدالت میں یسوع پر جو مقدمہ چلایا گیا اُس کے تین مراحل تھے۔ پہلے اُس کو حننیاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں کائفا کے سامنے اور تیسرے مرحلے میں سنہیڈن (یہودیوں کی صدر عدالت) کے سامنے اُس پر الزام لگائے۔ اِس آیت سے ۶۵ ویں آیت تک بیان کردہ واقعات جمعے کی صبح ایک بجے سے صبح پانچ بجے کے درمیانی وقت میں پیش آئے تھے۔
ک۔ پطرس یسوع کا اِنکار کرتا اور زار زار روتا ہے (۲۲:۵۴-۶۲)
۲۲:۵۴-۵۷ جب یسوع کو «سردار کاہن کے گھر میں لے گئے» تو «پطرس فاصلہ پر اُس کے پیچھے پیچھے» آیا۔ اندر پہنچ کر وہ اُن لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو درمیان «صحن» کے بیچ میں «آگ» تاپ رہے تھے۔ «ایک لونڈی نے… اُس پر خوب نگاہ کی» اور کہنے لگی کہ «یہ بھی اُس کے ساتھ تھا»۔ پطرس نے بڑے جذباتی انداز میں اِنکار کرتے ہوئے کہا، «مَیں اُسے نہیں جانتا۔»
۲۲:۵۸-۶۲ تھوڑی دیر بعد کسی اَور نے اُس کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے اِلزام لگایا کہ یہ بھی یسوع ناصری کے پیروکاروں میں سے ہے۔ «پطرس» نے پھر اِنکار کیا۔ «کوئی گھنٹے بھر کے بعد» کسی اَور نے پہچانا کہ یہ «گلیلی ہے» اور یسوع کا شاگرد بھی ہے۔ «پطرس» کہنے لگا کہ «میاں، مَیں نہیں جانتا تُو کیا کہتا ہے۔» مگر اِس مرتبہ اُس کے اِنکار کرنے کے ساتھ ہی «مرغ نے بانگ دی»۔ اِس تاریک لمحے میں «خداوند نے پھر کر پطرس کی طرف دیکھا»۔ اور پطرس کو خداوند کی پیش گوئی «یاد آئی» کہ «آج مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تین بار میرا اِنکار کرے گا۔» خدا کے بیٹے کی اِس ایک نظر سے پطرس تڑپ اُٹھا۔ وہ رات کے اندھیرے میں «باہر جا کر زار زار رویا۔»
ل۔ سپاہی ابنِ آدم کو ٹھٹھوں میں اُڑاتے ہیں (۲۲:۶۳-۶۵)
یسوع کو گرفتار تو اُن پیادوں اور افسروں نے کیا تھا جو یروشلیم کی ہیکل کی حفاظت پر مامور تھے۔ اب خدا کے مقدس گھر کے یہ نام نہاد محافظ یسوع کو ٹھٹھوں میں اُڑانے اور مارنے لگے۔ وہ اُس کی آنکھوں پر کپڑا باندھ کر اُس سے پوچھتے تھے کہ «نبوت سے بتا تجھے کس نے مارا؟» اِتنا ہی نہیں بلکہ اُنہوں نے اَور بھی بہت کچھ کیا۔ مگر وہ گنہگاروں کی سب باتوں کو جن سے وہ اُسے جھٹلا رہے تھے صبر اور تحمل سے برداشت کرتا رہا۔
م۔ صبح کے وقت سنہیڈرن کے سامنے پیشی (۲۲:۶۶-۷۱)
۲۲:۶۶-۶۹ «جب دن ہوا» (یعنی صبح پانچ اور چھے بجے کا درمیانی وقت) تو قوم کے بزرگ یسوع کو «بزرگوں کی مجلس» یعنی سنہیڈرن (صدر عدالت) کے سامنے لے گئے۔ وہاں صاف صاف کہنے لگے کہ «اگر تُو مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔» یسوع نے جو جواب دیا اُس کا مطلب یہ ہے کہ اِس معاملے میں تمہارے ساتھ بات کرنا فضول ہے۔ وہ سچائی کو قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ مگر خداوند نے اُنہیں خبردار کیا کہ جو شخص اس وقت تمہارے سامنے خواری کی حالت میں کھڑا ہے، وہ «اب سے… قادرِ مطلق خدا کی دہنی طرف بیٹھا رہے گا» (دیکھئے زبور ۱۱۰:۱) ۔
۲۲:۷۰،۷۱ پھر اُنہوں نے اُس سے صاف صاف پوچھا کہ «کیا تُو خدا کا بیٹا ہے؟» اُن کا مطلب بالکل صاف تھا۔ اُن کی نیت سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی۔ اُن کے نزدیک «خدا کا بیٹا» وہی ہستی ہے جو خدا کے برابر ہے۔ خداوند یسوع نے جواب دیا «تم خود کہتے ہو کیونکہ مَیں ہوں» (دیکھئے مرقس ۱۴:۶۲) ۔ بس، وہ اِسی کے اِنتظار میں تھے۔ اُن کے نزدیک یہ کفر تھا۔ خدا کے برابر ہونے کا دعویٰ۔ اب اُنہیں مزید «گواہی کی کیا حاجت رہی؟» مگر ایک مشکل تھی۔ اُن کی شریعت میں کفر کی سزا موت تھی۔ لیکن یہودی رومی حکومت کے ماتحت تھے۔ اُن کو کسی قیدی کو مار ڈالنے کا اِختیار نہیں تھا۔ چنانچہ اُن کو یسوع کو پیلاطس کے سامنے پیش کرنا پڑا اور پیلاطس کو کفر جیسے «مذہبی» فتوے میں ذرہ بھر دلچسپی نہیں تھی۔ اِس لئے یہودیوں کو یسوع کے خلاف «سیاسی» اِلزامات تراشنے پڑے۔
ن۔ یسوع کی پیلاطس کے سامنے پیشی (۲۳:۱-۷)
۲۳:۱،۲ سنہیڈرن کے سامنے پیشی کے بعد «ساری جماعت» یعنی سنہیڈرن کے جملہ ارکان، یسوع کو دیوانی مقدمے کے لئے جلدی سے رومی گورنر «پیلاطس» کے پاس لے گئے۔ مذہبی لیڈروں نے اب اُس پر تین سیاسی الزام عائد کئے۔ اوّل «اِسے ہم نے اپنی قوم کو بہکاتے… پایا» یعنی قوم کی وفاداری کو روم سے ہٹاتے پایا۔ دُوم «… قیصر کو خراج دینے سے منع کرتے… پایا۔» اور سوم «… اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتے پایا۔»
۲۳:۳-۷ «پیلاطس نے یسوع سے پوچھا، کیا تُو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟» یسوع نے جواب دیا کہ مَیں ہوں۔ پیلاطس نے اِس دعوے کو کسی صورت بھی شہنشاہِ روم قیصر کے لئے خطرہ نہیں سمجھا۔ پھر پیلاطس نے یسوع سے علیٰحدگی میں گفتگو کی (یوحنا ۱۸:۳۳-۳۸ الف) ۔ اِس کے بعد «سردار کاہنوں اور عام لوگوں سے کہا مَیں اِس میں کچھ قصور نہیں پاتا۔» اِس پر لوگ اَور بھی اِصرار کرنے لگے اور اُس پر «گلیل» سے لے کر یروشلیم تک سارے لوگوں کو حکومت سے بے وفائی کرنے پر اُبھارنے کا الزام لگانے لگے۔ جب پیلاطس نے لفظ «گلیلی» سنا تو اُس نے سوچا کہ مجھے اِس سارے مقدمے اور جھنجھٹ سے جان چھڑانے کی راہ مل گئی ہے۔ گلیل «ہیرودیس کی عمل داری» میں تھا۔ چنانچہ پیلاطس نے کوشش کی کہ اِس مقدمے میں اُس کا ہاتھ بالکل نہ رہے اور یسوع کو «ہیرودیس کے پاس» بھیج دیا۔ اِتفاق کی بات ہے کہ ہیرودیس بھی «اُن دنوں یروشلیم میں تھا۔»
ہیرودیس اِنتپاس ہیرودیسِ اعظم کا بیٹا تھا۔ ہیرودیس اعظم نے بیت لحم میں چھوٹے بچوں کا قتلِ عام کروایا تھا۔ اور اِنتپاس تھا جس نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کو قتل کروایا تھا کیونکہ یوحنا نے اُسے ملامت کی تھی کہ تُو نے اپنے بھائی کی بیوی کو ناجائز طور پر اپنی بیوی بنا رکھا ہے۔ یہی وہ ہیرودیس ہے جس کو یسوع نے لوقا ۱۳:۳۲ میں لومڑی کہا تھا۔
س۔ ہیرودیس کی حقارت آمیز تفتیش (۲۳:۸-۱۲)
۲۳:۸ «ہیرودیس… بہت خوش ہوا» کہ یسوع کو میرے سامنے پیش کیا گیا ہے «اِس لئے کہ اُس نے یسوع کا حال سنا تھا۔» اور «مدت سے… اُس کا کوئی معجزہ دیکھنے کا اُمیدوار تھا۔»
۲۳:۹-۱۱ ہیرودیس نجات دہندہ سے بہت کچھ «پوچھتا رہا» مگر خداوند نے اُسے کچھ جواب نہ دیا۔ یہودیوں کی اِلزام تراشی میں اَور بھی شدت آ گئی مگر یسوع نے اپنا منہ نہ کھولا۔ ہیرودیس نے سوچا کہ مَیں صرف اِتنا ہی کر سکتا ہوں کہ اپنے سپاہیوں کے ہاتھوں اُسے ذلیل کراؤں۔ چنانچہ اُس نے یسوع کا مزید مذاق اُڑانے کے لئے اُسے «چمک دار پوشاک پہنا کر اُس کو پیلاطُس کے پاس واپس بھیجا۔»
۲۳:۱۲ اِس سے «پہلے… ہیرودیس اور پیلاطس… میں دشمنی تھی»۔ اب یہ دشمنی دوستی میں بدل گئی۔ وہ دونوں خداوند یسوع کی مخالفت میں ایک ہی طرف تھے۔ اِس بات نے اُنہیں متحد کر دیا۔ اِس سلسلے میں Theophylact بڑے دُکھ کے ساتھ کہتا ہے کہ «مسیحیوں کے لئے کیسی شرم کی بات ہے کہ نقصان پہنچانے کی خاطر ابلیس شریر لوگوں کو اپنی دشمنی ایک طرف رکھنے پر راغب کر سکتا ہے مگر مسیحی بھلائی کرنے کے لئے بھی دوستی قائم نہیں رکھ سکتے۔»
ع۔ پیلاطس کا فیصلہ — بے قصور مگر سزا (۲۳:۱۳-۲۵)
۲۳:۱۳-۱۷ چونکہ وہ راست اِقدام کرنے اور اپنے شاہی قیدی کو بری کرنے میں ناکام رہا تھا اِس لئے «پیلاطُس» نے دیکھا کہ اب مَیں پھنس گیا ہوں۔ وہ جلدی سے یہودی مذہبی لیڈروں کو بلا کر اُن کو سمجھانے لگا کہ «… نہ مَیں نے اُس میں کچھ قصور پایا، نہ ہیرودیس نے۔» یعنی یسوع میں حکومت سے بے وفائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ «… دیکھو اُس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہیں ہوا جس سے وہ قتل کے لائق ٹھہرتا۔» چنانچہ اُس نے مشورہ دیا کہ یسوع کو کوڑے لگوا کر چھوڑ دیا جائے۔ سٹوأرٹ (Stewart) کہتا ہے:
«بلاشبہ یہ افسوس ناک مفاہمت قطعی غیر منطقی بھی تھی اور غیر منصفانہ بھی۔ ایک ناچار اور خوف کی ماری روح یسوع کے بارے میں اپنا فرض ادا کرنے اور ساتھ ہی اُس ہجوم کو خوش کرنے کی بھی کوشش کر رہی تھی، مگر دونوں میں ناکام رہی۔ اور کوئی تعجب نہیں کہ بپھرے ہوئے کاہن اُس کے فیصلے کو کسی قیمت پر قبول کرنے کو تیار نہ ہوئے۔»
۲۳:۱۸-۲۳ سردار کاہن اور قوم کے بزرگ سب سیخ پا ہو رہے تھے۔ وہ یسوع کی موت اور بدنامِ زمانہ مجرم «بَراَ بّا» کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ بَراَ بّا کو «بغاوت… اور خون کرنے کے سبب سے قید میں ڈالا گیا تھا۔»
پیلاطس نے دوبارہ کوشش کی کہ یسوع کو بے قصور ثابت کرے، لیکن ہجوم کے ناجائز مگر پُرزور مطالبے کے سامنے اُس کی ذرا پیش نہ گئی۔ کوئی اُس کی بات سنتا ہی نہیں تھا۔ وہ کچھ بھی کہتا مگر ہجوم کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ خدا کے بیٹے کو «صلیب دی جائے۔»
۲۳:۲۴،۲۵ اگرچہ پیلاطس پہلے اِعلان کر چکا تھا کہ یسوع بے گناہ ہے مگر اَب اُس نے خداوند کو موت کی سزا کا حکم سنا دیا تاکہ لوگ خوش ہو جائیں۔ ساتھ ہی اُس نے «بَراَ بّا کو» جسے اُنہوں نے مانگا تھا «چھوڑ دیا۔»
ف۔ ابنِ آدم کلوری کی راہ پر (۲۳:۲۶-۳۲)
۲۳:۲۶ اُس وقت جمعے کی صبح کے تقریباً نو بجے تھے۔ صلیب دینے کی جگہ کو جاتے ہوئے راستے میں سپاہیوں نے «شمعون نام ایک کرینی کو» پکڑ کر حکم دیا کہ «صلیب» اُٹھا لے۔ اِس آدمی کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات حاصل نہیں، لیکن لگتا ہے کہ بعد میں اُس کے دو بیٹے نامور مسیحی ہوئے (مرقس ۱۵:۲۱) ۔
۲۳:۲۷-۳۰ جب یسوع کو صلیب دینے کے لئے لے جا رہے تھے تو اُس کے ہمدرد لوگوں کا ایک گروہ اُس کے لئے رو رہا تھا۔ اِس گروہ میں «عورتوں» کو مسیح نے «اے یروشلیم کی بیٹیو!» کہہ کر مخاطب کیا اور اُن سے کہنے لگا کہ میرے لئے غم زدہ نہ ہو، بلکہ اپنے اور اپنے بچوں کے لئے ماتم کرو۔ اُس کا اِشارہ ۷۰ء میں ہونے والی یروشلیم کی ہولناک تباہی و بربادی کی طرف تھا۔ اُن «دِنوں» میں دُکھ اور مصیبت اِتنی شدید ہو گی کہ «بانجھ» عورتوں کو مبارک سمجھا جائے گا حالانکہ اُس وقت تک اُنہیں ملعُون سمجھا جاتا تھا۔ ططُس کے محاصرے کی دہشت ایسی ہو گی کہ لوگ تمنا کرنے لگیں گے کہ پہاڑ ہم پر گر پڑیں اور ٹیلے ہم کو چھپا لیں۔
۲۳:۳۱ اِس کے بعد خداوند یسوع نے یہ بھی کہا کہ «جب ہرے درخت کے ساتھ ایسا کرتے ہیں تو سوکھے کے ساتھ کیا کچھ نہ کِیا جائے گا۔» وہ خود «ہرا درخت» تھا اور ایمان نہ لانے والا اِسرائیل «سوکھا» تھا۔ اگر رومیوں نے خدا کے بے قصور اور بے گناہ بیٹے پر اِتنی شرم اور اذیت لاد دی ہے تو خدا کے پیارے بیٹے کے قاتلوں کو ہولناک سزا کیوں نہ ملے گی؟
ص۔ صلیب دیا جانا (۲۳:۳۳-۳۸)
۲۳:۳۳ جہاں صلیب دی جاتی تھی اُس جگہ کو «کلوری» کہتے تھے۔ لاطینی کے اِس لفظ کا مطلب «کھوپڑی» ہے۔ بائبل مقدس میں یہی ایک جگہ ہے جہاں «کلوری» کا پیارا نام آیا ہے (متی ۲۷:۳۳ میں «گلگتا» ہے) ۔ بہت سی کلیسیائیں بھی اِس نام سے کہلاتی ہیں۔ اِس نام «کھوپڑی» کی وجہ یہ ہے کہ اِس پہاڑ کی وضع قطع کھوپڑی کی سی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ جگہ سزائے موت کے لئے وقف تھی اور موت کو اکثر کھوپڑی کے نشان سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ پاک کلام میں صلیب کے واقعے کو جس انداز سے بیان کیا گیا ہے وہ قابلِ غور ہے۔ ہولناک تفاصیل سے بڑی حد تک گریز کیا گیا ہے۔ بالکل سادہ سا بیان ہے کہ «وہاں اُسے مصلوب کیا۔» ایک دفعہ پھر سٹوأرٹ (Stewart) نے بڑے پتے کی بات کی ہے کہ:
«مسیحِ موعود مر جائے، یہ کوئی قابلِ تعریف بات نہ تھی، مگر ایسی موت مرے، یہ تو یقین بھی نہیں آ سکتا تھا۔ ہر وہ چیز جس کو مسیح نے چھوا — بشمول صلیب — اُس کی شان بڑھا دی، اُس کو جلالی بنا دیا اور اُس کے گرد حُسن و جاذبیت کا ہالہ بنا دیا۔ مگر ہم کبھی نہ بھولیں کہ اُس نے صلیب کو کیسی دہشت ناک گہرائیوں سے نکال کر ایسی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔»
اُس روز کلوری پر تین صلیبیں گاڑی گئی تھیں۔ یسوع کی صلیب درمیان میں تھی اور دونوں طرف ایک ایک ڈاکو کو مصلوب کیا گیا تھا۔ اِس طرح یسعیاہ ۵۳:۱۲ کی وہ نبوت پوری ہوئی کہ «وہ خطاکاروں کے ساتھ شمار کیا گیا۔»
۲۳:۳۴ لامحدود محبت اور رحم کے ساتھ صلیب پر لٹکے ہوئے یسوع نے پکارا «اے باپ! اِن کو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں۔» کون جانتا ہے کہ اِس دعا کے باعث باپ کا کتنے شدید غضب کا طوفان ٹال دیا گیا! مورگن (Morgan) خداوند اور نجات دہندہ کی محبت کے بارے میں کہتا ہے کہ
«یسوع کے دل میں نہ خفگی تھی، نہ غصہ، نہ اُن اِنسانوں کے لئے سزا کی کوئی خواہش چھپی ہوئی تھی جو اُس کے ساتھ اِتنا بُرا سلوک کر رہے تھے۔ لوگ جسمانی قوت کی بڑی تعریفیں کیا کرتے ہیں۔ جب سے مَیں نے یسوع کو یہ دعا مانگتے سنا ہے جان گیا ہوں کہ اِس قوت کے لئے ایک ہی جگہ ہے یعنی جہنم۔»
اِس کے بعد سپاہیوں نے اُس کے «کپڑے» آپس میں بانٹ لئے اور اُن کے بِن سلے چوغے پر «قرعہ ڈالا۔»
۲۳:۳۵-۳۸ یہودی سردار صلیب کے سامنے کھڑے یسوع کو ٹھٹھوں میں اُڑا رہے تھے۔ اُسے چیلنج کرتے تھے کہ اگر وہ واقعی «خدا کا مسیح اور اُس کا برگزیدہ ہے تو اپنے آپ کو بچائے۔» سپاہیوں نے بھی ایسا ہی کیا اور اُسے «سرکہ» پیش کر کے اِسی طرح چیلنج کرنے لگے۔ علاوہ ازیں اُس کے سر کے اُوپر ایک کتبہ لگا دیا کہ
«یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے»
ایک دفعہ پھر ہم سٹوأرٹ (Stewart) سے اِقتباس پیش کرتے ہیں:
«ہم اِس حقیقت کی اہمیت سے چشم پوشی نہیں کر سکتے کہ یہ کتبہ تین زبانوں یونانی، لاطینی اور عبرانی میں لکھا ہوا تھا۔ اِس میں شک نہیں کہ ایسا اِس لئے کیا گیا تھا کہ اُس ہجوم میں ایک ایک شخص اُسے پڑھ لے۔ مگر مسیح کی کلیسیا اُس کو ہمیشہ سے اور بجا طور پر اِس بات کی علامت مانتی آئی ہے کہ وہ میرا خداوند اور مالک ہے۔ یہ تینوں اُس زمانے کی عظیم زبانیں اور الگ الگ عظیم اور غالب نظریے کی خادم تھیں۔ یونانی علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کی زبان تھی۔ وہ اپنی سلطنت میں کہہ رہی تھی کہ یسوع بادشاہ ہے! لاطینی قانون اور حکومت کی زبان تھی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ یہاں بھی یسوع بادشاہ ہے۔ عبرانی الہامی مذہب کی زبان تھی۔ وہ اِعلان کر رہی تھی کہ یہاں بھی یسوع بادشاہ ہے۔ چنانچہ جب وہ وہاں لٹکا ہوا دَم توڑ رہا تھا تو یہ حقیقت تھی کہ ’اُس کے سر پر بہت سے تاج ہیں‘ (مکاشفہ ۱۹:۱۲) ۔»
ق۔ دو ڈاکو (۲۳:۳۹-۴۳)
۲۳:۳۹-۴۱ دوسری اناجیل سے پتا چلتا ہے کہ شروع میں دونوں ڈاکو یسوع کو طعن و تشنیع کر رہے تھے کہ اگر وہ واقعی «مسیح» ہے، تو ہم سبھوں کو کیوں نہیں «بچا» لیتا — لیکن کچھ دیر بعد ایک ڈاکو کا دل بدل گیا۔ اُس نے اپنے ساتھی کو ایسی بے ادبی پر «جھڑکا» کہ «ہماری سزا تو واجبی ہے کیونکہ اپنے کاموں کا بدلہ پا رہے ہیں۔» وہ اِس سزا کے حق دار تھے۔ «لیکن اِس» آدمی نے جو درمیانی صلیب پر لٹکا ہوا ہے «کوئی بے جا کام نہیں کیا» تھا۔
۲۳:۴۲ پھر وہ ڈاکو یسوع سے مخاطب ہو کر کہنے لگا «اے یسوع، جب تُو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا۔» اکثر نسخوں میں ہے کہ «اے خداوند!…» یہ خطاب زیادہ زور دار اور پُر معنی ہے (یاد رکھئے کہ «خداوند» کا مطلب «جناب» بھی ہو سکتا ہے) ۔ شخصی نام (یسوع) کی نسبت تعظیمی لقب (خداوند) استعمال کرنا زیادہ منطقی بھی معلوم ہوتا ہے۔ «بادشاہی میں آئے» سے مراد ہے کہ جب تُو اِس زمین پر واپس آ کر اپنی بادشاہی قائم کرے۔ ایسا ایمان بے حد قابلِ تعریف ہے۔ اُس مرتے ہوئے ڈاکو کا ایمان تھا کہ یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھے گا اور بالآخر دُنیا پر بادشاہی کرے گا۔
۲۳:۴۳ یسوع نے اُس کے ایمان کا اجر اِس وعدے سے دیا کہ «آج ہی تُو میرے ساتھ فردوس میں ہو گا»۔ «فردوس» وہی ہے جسے ۲۔کرنتھیوں ۱۲:۲-۴ میں «تیسرا آسمان» کہا گیا ہے اور اِس کا مطلب ہے خدا کی سکونت گاہ۔ «آج ہی…!» کیسی عمدہ بات ہے! «میرے ساتھ…» کیسی بے مثال صحبت ہے! «فردوس میں…» کیسی بے مثال شادمانی ہے!
چارلس آر۔ ارڈمن (Erdman) رقم طراز ہے کہ:
«یہ واقعہ اِس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ نجات کا دارومدار توبہ اور ایمان پر ہے۔ مگر اِس میں چند اَور اہم سبق بھی موجود ہیں۔ یہ اعلان کرتا ہے کہ نجات کا اِنحصار سیکرامنٹوں پر نہیں۔ اُس ڈاکو نے نہ تو بپتسمہ لیا تھا نہ کبھی عشائے ربانی میں شریک ہوا تھا… البتہ فی الحقیقت اُس نے مخالف اور دشمن بھیڑ کے سامنے بڑی دلیری کے ساتھ اپنے ایمان کا اِقرار کیا جب کہ سردار اور سپاہی ٹھٹھے مار رہے اور ابدی بادشاہ کی تضحیک کر رہے تھے۔ اُس نے رسمی شعائر کے بغیر نجات پائی۔ اِس سے مزید ثابت ہوتا ہے کہ نجات نیک کاموں پر منحصر نہیں۔ اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اِنسان کی روح سوتی نہیں۔ بدن سوتا ہے مگر شعُور موت کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔ مزید برآں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ’برزخ‘ کا کوئی وجود نہیں۔ یہ تائب ڈاکو گناہ اور شرم کی زندگی سے فوراً ایک مبارک حالت میں منتقل ہو گیا۔ اِس واقعے کی بنیاد پر ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ نجات سبھوں کو نصیب نہیں ہو گی۔ وہاں دو ڈاکو تھے۔ صرف ایک نے نجات پائی۔ آخری بات یہ کہ موت کے بعد ملنے والی خوشی کا جوہر مسیح کے ساتھ شخصی رفاقت و شراکت میں ہے۔ مرتے ہوئے ڈاکو کے ساتھ وعدے کی مرکزی بات یہ تھی کہ ’تُو میرے ساتھ… ہو گا‘۔ یہ ہمارا مبارک یقین ہے کہ یہاں سے رُخصت ہونے کا مطلب ہے ’مسیح کے ساتھ جا رہنا‘ اور یہ ’بہت ہی بہتر‘ بات ہے۔»
یسوع کے پہلو میں ہوتے ہوئے بھی ایک شخص فردوس میں اور دوسرا دوزخ میں جا سکتا ہے۔ آپ صلیب کے کون سے پہلو میں ہیں؟
ر۔ تاریک گھڑیاں (۲۳:۴۴-۴۹)
۲۳:۴۴ «تمام ملک» یا «ساری زمین» (یونانی لفظ کا مطلب اِن دونوں میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے) ۔ «دوپہر کے قریب سے تیسرے پہر تک تمام ملک میں اندھیرا چھایا رہا۔» اِسی وقفے کو «چھٹے گھنٹے سے نویں گھنٹے تک» بھی کہہ سکتے ہیں۔ آج کل کے حساب سے بارہ بجے دوپہر سے تین بجے سہ پہر تک کا وقت۔ یہ اِسرائیلی قوم کے لئے ایک نشان تھا۔ اُنہوں نے نور کو رد کر دیا تھا۔ اب خدا نے اُن کو اندھیرے میں ڈال دیا، یا اَندھا کر دیا۔
۲۳:۴۵ «مقدِس کا پردہ بیچ سے پھٹ گیا۔» اوپر سے لے کر نیچے تک دو ٹکڑے ہو گیا۔ یہ واقعہ اِس حقیقت کی تصویر پیش کرتا ہے کہ خداوند یسوع مسیح کی موت کے وسیلے سے اُن سب کے لئے جو ایمان کے ساتھ آتے ہیں خدا تک رسائی کا راستہ کھل گیا۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۰-۲۲)
۲۳:۴۶،۴۷ تاریکی کے اِن ہی تین گھنٹوں کے دوران یسوع نے صلیب پر اپنے بدن میں ہمارے گناہوں کی سزا اُٹھا لی۔ اِس وقفے کے اِختتام پر اُس نے اپنی روح اپنے باپ خدا کے ہاتھوں میں سونپ دی اور رضاکارانہ اپنی جان دے دی۔ ایک رومی صوبہ دار اِس نظارے سے اِتنا متاثر ہوا کہ اُس نے «خدا کی تمجید کی اور کہا بے شک یہ آدمی راست باز تھا۔»
۲۳:۴۸،۴۹ «جتنے لوگ اِس نظارے کو آئے تھے» اُن سب پر غم و افسوس اور بدشگونی کا ایک گہرا احساس طاری ہو گیا کہ نہ جانے اب کیا ہو گا۔ مگر یسوع کے کچھ وفادار پیرو وہاں موجود تھے۔ اُن میں «وہ عورتیں» بھی شامل تھیں «جو گلیل سے اُس کے ساتھ آئی تھیں۔» یہ سب لوگ دُور کھڑے یہ ساری باتیں دیکھ رہے تھے۔ دُنیا کی تاریخ کا سب سے نازک اور فیصلہ کُن منظر اُن کی آنکھوں کے سامنے تھا۔
ش۔ یوسف کی قبر میں تدفین (۲۳:۵۰-۵۶)
۲۳:۵۰-۵۴ اُس وقت تک یوسف خداوند یسوع کا خفیہ شاگرد تھا۔ اگرچہ وہ سنہیڈرن کا ایک رُکن یا مشیر تھا مگر یسوع کے معاملے میں وہ اُن کے فیصلے اور فتوے سے متفق نہیں تھا۔ اب یوسف بڑی دلیری سے پیلاطس کے پاس گیا، اور یسوع کی لاش مانگی۔ یعنی درخواست کی کہ کیا مجھے یہ اعزاز مل سکتا ہے کہ یسوع کی لاش کو صلیب پر سے اُتار کر مناسب طور پر دفن کروں؟ (یہ تین بجے سہ پہر سے ۶ بجے شام کے درمیانی وقفے میں ہوا) ۔ اُسے اِجازت مل گئی۔ یوسف نے بلاتوقف سارے اِنتظامات کئے اور یسوع کی لاش کو «مہین چادر میں لپیٹا۔ پھر ایک قبر کے اندر رکھ دیا جو چٹان میں کھدی ہوئی تھی۔» وہ ابھی تک استعمال نہیں ہوئی تھی۔ یہ سب کچھ جمعے کو وقوع پذیر ہوا۔ اور یہ «تیاری کا دن تھا۔» جب کہا جاتا ہے کہ «سبت کا دن شروع ہونے کو تھا» تو یاد رکھنا چاہئے کہ یہودی سبت جمعہ کو غروبِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔
۲۳:۵۵-۵۶ جب یوسف نے لاش کو صلیب سے اُتارا اور لے کر چلا تو وہ وفادار عورتیں «جو یسوع کے ساتھ گلیل سے آئی تھیں» یوسف کے «پیچھے پیچھے» قبر تک گئیں اور اُسے لاش کو قبر میں رکھتے دیکھا۔ اُنہوں نے «لوٹ کر خوشبودار چیزیں اور عطر تیار کیا» تاکہ واپس آ کر اُس ہستی کی لاش کو لگائیں جس سے اُنہیں والہانہ محبت تھی۔ یسوع کی لاش کو دفن کرنے میں ایک لحاظ سے یوسف نے اپنے آپ کو دفن کر دیا۔ اِس عمل نے اُسے اُن سے ہمیشہ کے لئے الگ کر دیا جنہوں نے زندگی کے مالک کو صلیب پر چڑھا دیا تھا۔
ہفتہ کے روز عورتوں نے سبت کے حکم کے مطابق آرام کیا۔
مقدس کتاب
۱- پِھر اَیسا ہُؤا کہ وہ کِسی جگہ دُعا کر رہا تھا۔ جب کر چُکا تو اُس کے شاگِردوں میں سے ایک نے اُس سے کہا اَے خُداوند! جَیسا یُوحنّا نے اپنے شاگِردوں کو دُعا کرنا سِکھایا تُو بھی ہمیں سِکھا۔
۲- اُس نے اُن سے کہا جب تُم دُعا کرو تو کہو اَے باپ! تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔
۳- ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دِیا کر۔
۴- اور ہمارے گُناہ مُعاف کر کیونکہ ہم بھی اپنے ہر قرض دار کو مُعاف کرتے ہیں اور ہمیں آزمایش میں نہ لا۔
۵- پِھر اُس نے اُن سے کہا تُم میں سے کون ہے جِس کا ایک دوست ہو اور وہ آدھی رات کو اُس کے پاس جا کر اُس سے کہے اَے دوست مُجھے تِین روٹِیاں دے۔
۶- کیونکہ میرا ایک دوست سفر کر کے میرے پاس آیا ہے اور میرے پاس کُچھ نہیں کہ اُس کے آگے رکھُّوں۔
۷- اور وہ اندر سے جواب میں کہے مُجھے تکلِیف نہ دے۔ اب دروازہ بند ہے اور میرے لڑکے میرے پاس بِچھونے پر ہیں۔ مَیں اُٹھ کر تُجھے دے نہیں سکتا۔
۸- مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگرچہ وہ اِس سبب سے کہ اُس کا دوست ہے اُٹھ کر اُسے نہ دے تَو بھی اُس کی بے حیائی کے سبب سے اُٹھ کر جِتنی درکار ہیں اُسے دے گا۔
۹- پس مَیں تُم سے کہتا ہُوں مانگو تو تُمہیں دِیا جائے گا۔ ڈُھونڈو تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تُمہارے واسطے کھولا جائے گا۔
۱۰- کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اُسے مِلتا ہے اور جو ڈُھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جائے گا۔
۱۱- تُم میں سے اَیسا کَون سا باپ ہے کہ جب اُس کا بیٹا روٹی مانگے تو اُسے پتّھر دے؟ یا مچھلی مانگے تو مچھلی کے بدلے اُسے سانپ دے؟
۱۲- یا انڈا مانگے تو اُس کو بِچُّھو دے؟
۱۳- پس جب تُم بُرے ہو کر اپنے بچّوں کو اچّھی چِیزیں دینا جانتے ہو تو آسمانی باپ اپنے مانگنے والوں کو رُوحُ القُدس کیوں نہ دے گا؟
۱۴- پِھر وہ ایک گُونگی بدرُوح کو نِکال رہا تھا اور جب وہ بدرُوح نِکل گئی تو اَیسا ہُؤا کہ گُونگا بولا اور لوگوں نے تعجُّب کِیا۔
۱۵- لیکن اُن میں سے بعض نے کہا یہ تو بدرُوحوں کے سردار بعل زبُول کی مدد سے بدرُوحوں کو نِکالتا ہے۔
۱۶- بعض اَور لوگ آزمایش کے لِئے اُس سے ایک آسمانی نِشان طلب کرنے لگے۔
۱۷- مگر اُس نے اُن کے خیالات کو جان کر اُن سے کہا جِس سلطنت میں پُھوٹ پڑے وہ وِیران ہو جاتی ہے اور جِس گھر میں پُھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے۔
۱۸ -اور اگر شَیطان بھی اپنا مُخالِف ہو جائے تو اُس کی سلطنت کِس طرح قائِم رہے گی؟ کیونکہ تُم میری بابت کہتے ہو کہ یہ بدرُوحوں کو بعل زؔبُول کی مدد سے نِکالتا ہے۔
۱۹- اور اگر مَیں بدرُوحوں کو بعل زؔبُول کی مدد سے نِکالتا ہُوں تو تُمہارے بیٹے کِس کی مدد سے نِکالتے ہیں؟ پس وُہی تُمہارے مُنصِف ہوں گے۔
۲۰- لیکن اگر مَیں بدرُوحوں کو خُدا کی قُدرت سے نِکالتا ہُوں تو خُدا کی بادشاہی تُمہارے پاس آ پُہنچی۔
۲۱- جب زورآور آدمی ہتھیار باندھے ہُوئے اپنی حَویلی کی رکھوالی کرتا ہے تو اُس کا مال محفُوظ رہتا ہے۔
۲۲- لیکن جب اُس سے کوئی زورآور حملہ کر کے اُس پر غالِب آتا ہے تو اُس کے سب ہتھیار جِن پر اُس کا بھروسا تھا چِھین لیتا اور اُس کا مال لُوٹ کر بانٹ دیتا ہے۔
۲۳- جو میری طرف نہیں وہ میرے خِلاف ہے اور جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا وہ بکھیرتا ہے۔
۲۴- جب ناپاک رُوح آدمی میں سے نِکلتی ہے تو سُوکھے مقاموں میں آرام ڈُھونڈتی پِھرتی ہے اور جب نہیں پاتی تو کہتی ہے کہ مَیں اپنے اُسی گھر میں لَوٹ جاؤں گی جِس سے نِکلی ہُوں۔
۲۵- اور آ کر اُسے جھڑا ہُؤا اور آراستہ پاتی ہے۔
۲۶- پِھر جا کر اَور سات رُوحیں اپنے سے بُری ہمراہ لے آتی ہے اور وہ اُس میں داخِل ہو کر وہاں بستی ہیں اور اُس آدمی کا پِچھلا حال پہلے سے بھی خراب ہو جاتا ہے۔
۲۷- جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ بِھیڑ میں سے ایک عَورت نے پُکار کر اُس سے کہا مُبارک ہے وہ رِحم جِس میں تُو رہا اور وہ چھاتِیاں جو تُو نے چُوسِیں۔
۲۸- اُس نے کہا ہاں۔ مگر زِیادہ مُبارک وہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں۔
۲۹- جب بڑی بِھیڑ جمع ہوتی جاتی تھی تو وہ کہنے لگا کہ اِس زمانہ کے لوگ بُرے ہیں۔ وہ نِشان طلب کرتے ہیں مگر یُوناہ کے نِشان کے سِوا کوئی اَور نِشان اُن کو نہ دِیا جائے گا۔
۳۰- کیونکہ جِس طرح یُوناہ نَینِوؔہ کے لوگوں کے لِئے نِشان ٹھہرا اُسی طرح اِبنِ آدمؔ بھی اِس زمانہ کے لوگوں کے لِئے ٹھہرے گا۔
۳۱- دَکھّن کی مَلِکہ اِس زمانہ کے آدمِیوں کے ساتھ عدالت کے دِن اُٹھ کر اِن کو مُجرِم ٹھہرائے گی کیونکہ وہ دُنیا کے کِنارے سے سُلیماؔن کی حِکمت سُننے کو آئی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو سُلیماؔن سے بھی بڑا ہے۔
۳۲- نَینِوؔہ کے لوگ اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ عدالت کے دِن کھڑے ہو کر اِن کو مُجرِم ٹھہرائیں گے کیونکہ اُنہوں نے یُوناہ کی مُنادی پر تَوبہ کر لی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو یُوناہ سے بھی بڑا ہے۔
۳۳- کوئی شخص چراغ جلا کر تَہ خانہ میں یا پَیمانہ کے نِیچے نہیں رکھتا بلکہ چراغ دان پر رکھتا ہے تاکہ اندر آنے والوں کو رَوشنی دِکھائی دے۔
۳۴- تیرے بدن کا چراغ تیری آنکھ ہے۔ جب تیری آنکھ درُست ہے تو تیرا سارا بدن بھی رَوشن ہے اور جب خراب ہے تو تیرا بدن بھی تارِیک ہے۔
۳۵- پس دیکھ جو رَوشنی تُجھ میں ہے تارِیکی تو نہیں۔
۳۶- پس اگر تیرا سارا بدن رَوشن ہو اور کوئی حِصّہ تارِیک نہ رہے تو وہ تمام اَیسا رَوشن ہو گا جَیسا اُس وقت ہوتا ہے جب چراغ اپنی چمک سے تُجھے رَوشن کرتا ہے۔
۳۷- جب وہ بات کر رہا تھا تو کِسی فریسی نے اُس کی دَعوت کی۔ پس وہ اندر جا کر کھانا کھانے بَیٹھا۔
۳۸- فریسی نے یہ دیکھ کر تعجُّب کِیا کہ اُس نے کھانے سے پہلے غُسل نہیں کِیا۔
۳۹- خُداوند نے اُس سے کہا اَے فریسیو! تُم پیالے اور رکابی کو اُوپر سے تو صاف کرتے ہو لیکن تُمہارے اندر لُوٹ اور بَدی بھری ہے۔
۴۰- اَے نادانو! جِس نے باہر کو بنایا کیا اُس نے اندر کو نہیں بنایا؟
۴۱- ہاں اندر کی چِیزیں خَیرات کر دو تو دیکھو سب کُچھ تُمہارے لِئے پاک ہو گا۔
۴۲- لیکن اَے فریسیو تُم پر افسوس! کہ پودِینے اور سُداب اور ہر ایک ترکاری پر دَہ یکی دیتے ہو اور اِنصاف اور خُدا کی مُحبّت سے غافِل رہتے ہو۔ لازِم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔
۴۳- اَے فریسیو تُم پر افسوس! کہ تُم عِبادت خانوں میں اعلےٰ درجہ کی کُرسِیاں اور بازاروں میں سلام چاہتے ہو۔
۴۴- تُم پر افسوس! کیونکہ تُم اُن پوشِیدہ قبروں کی مانِند ہو جِن پر آدمی چلتے ہیں اور اُن کو اِس بات کی خبر نہیں۔
۴۵- پِھر شرع کے عالِموں میں سے ایک نے جواب میں اُس سے کہا اَے اُستاد! اِن باتوں کے کہنے سے تُو ہمیں بھی بے عِزّت کرتا ہے۔
۴۶- اُس نے کہا اَے شرع کے عالِمو تُم پر بھی افسوس! کہ تُم اَیسے بوجھ جِن کو اُٹھانا مُشکِل ہے آدمِیوں پر لادتے ہو اور آپ ایک اُنگلی بھی اُن بوجھوں کو نہیں لگاتے۔
۴۷- تُم پر افسوس! کہ تُم تو نبِیوں کی قبروں کو بناتے ہو اور تُمہارے باپ دادا نے اُن کو قتل کِیا تھا۔
۴۸- پس تُم گواہ ہو اور اپنے باپ دادا کے کاموں کو پسند کرتے ہو کیونکہ اُنہوں نے تو اُن کو قتل کِیا تھا اور تُم اُن کی قبریں بناتے ہو۔
۴۹- اِسی لِئے خُدا کی حِکمت نے کہا ہے کہ مَیں نبِیوں اور رسُولوں کو اُن کے پاس بھیجوں گی۔ وہ اُن میں سے بعض کو قتل کریں گے اور بعض کو ستائیں گے۔
۵۰- تاکہ سب نبِیوں کے خُون کی جو بنایِ عالَم سے بہایا گیا اِس زمانہ کے لوگوں سے بازپُرس کی جائے۔
۵۱- ہابِل کے خُون سے لے کر اُس زکرؔیاہ کے خُون تک جو قُربان گاہ اور مَقدِس کے بِیچ میں ہلاک ہُؤا۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اِسی زمانہ کے لوگوں سے سب کی بازپُرس کی جائے گی۔
۵۲- اَے شرع کے عالِمو تُم پر افسوس! کہ تُم نے معرفت کی کُنجی چِھین لی۔ تُم آپ بھی داخِل نہ ہُوئے اور داخِل ہونے والوں کو بھی روکا۔
۵۳- جب وہ وہاں سے نِکلا تو فقِیہہ اور فریسی اُسے بے طرح چِمٹنے اور چھیڑنے لگے تاکہ وہ بُہت سی باتوں کا ذِکر کرے۔
۵۴- اور اُس کی گھات میں رہے تاکہ اُس کے مُنہ کی کوئی بات پکڑیں۔