لوقا ۴

۴۔ ابنِ آدم اپنی قدرت کا ثبوت دیتا ہے  (‏۴:‏۳۱-‏۵:‏۲۶) ‏

الف۔ ناپاک روح پر قدرت  (‏۴:‏۳۱-‏۳۷) ‏

۴:‏۳۱-‏۳۴ ناصرت کا نقصان کفرنحوم کے لئے نفع ثابت ہوا۔ کفرنحوم میں لوگوں نے جان لیا کہ یسوع کی تعلیم اختیار اور قدرت کے ساتھ ہے۔ اُس کی باتیں دل کو چھوتی تھیں۔ آیات ۳۱-‏۴۱ میں مسیح کی زندگی کے ایک «عام» سبت کا بیان ہے۔ اِن آیات میں دکھایا گیا ہے کہ وہ بدروحوں اور بیماریوں پر اِختیار رکھتا ہے۔ پہلے وہ ایک عبادت خانے میں گیا۔ وہاں اُسے ایک آدمی ملا «جس میں ناپاک دیو کی روح تھی۔» بدروحوں کو بیان کرنے کے لئے اکثر ناپاک کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ خود ناپاک ہیں اور اپنے شکار میں بھی ناپاکی پیدا کرتی ہیں۔ یہاں بدروح گرفتہ یا آسیب زدہ ہونے کی حقیقت واضح نظر آتی ہے۔ پہلے تو خوف کی ایک چیخ بلند ہوئی «ہمیں تجھ سے کیا کام؟» اِس کے ساتھ ہی اُس بدروح نے اِس علم کا واضح اِظہار کیا کہ یسوع «خدا کا قدوس ہے» جو بالآخر شیطان کے لشکروں کو ہلاک کر دے گا۔

۴:‏۳۵ یسوع نے بدروح کو دُہرا حکم دیا:‏«چپ رہ اور اُس میں سے نکل جا۔» بدروح نے یہ حکم مانا۔ اُس نے اُس آدمی کو زمین پر پٹک دیا مگر اُسے کچھ ضرر نہ پہنچایا۔

۴:‏۳۶‏،۳۷ سب لوگ حیران رہ گئے۔ یسوع کی باتوں اور حکم میں کیا بات دوسروں سے فرق ہے کہ «ناپاک روحیں» بھی اُس کا حکم مانتی ہیں؟ اُس کے پاس کون سا ناقابلِ تشریح «اِختیار اور قدرت» ہے جسے اِنسان بیان نہیں کر سکتا؟ چنانچہ کوئی حیرت ناک بات نہیں کہ «گرد و نواح میں ہر جگہ اُس کی دھوم مچ گئی۔»

مادی دُنیا میں یسوع کے تمام معجزے اُن معجزوں کی تصویر ہیں جو وہ روحانی دُنیا میں کرتا ہے۔ مثال کے طور پر لوقا کی اِنجیل میں درج مندرجہ ذیل معجزات جو روحانی سبق دیتے ہیں ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:‏

ناپاک روحوں کو نکالنا (۴:‏۳۱-‏۳۷) گناہ کی پلیدی اور غلاظت سے رہائی۔
پطرس کی ساس کو تپ سے شفا دینا (۴:‏‌۳۸-‏۳۹) گناہ سے پیدا ہونے والی بے قراری اور نقاہت سے آرام۔
کوڑھی کو شفا دینا (۵:‏‌۱۲-‏۱۶) گناہ کی نااُمیدی اور گھنونے پن سے چھٹکارا اور بحالی  (۷‏۱:‏۱۱-‏۱۹ بھی دیکھیں) ‏۔
مفلوج آدمی کو شفا دینا (۵:‏‌۱۷-‏۲۶) گناہ کے فالج سے شفا اور خدا کی خدمت اور عبادت کے لائق بنانا۔
بیوہ کے بیٹے کو زندہ کرنا (۷:‏‌۱۱-‏۱۷) گنہگار گناہوں اور قصوروں میں مُردہ ہیں۔ اُنہیں زندگی کی ضرورت ہے  (‏۸:‏۴۹-‏۵۶ بھی دیکھیں) ‏۔
طوفان کو تھما دینا (۸:‏‌۲۲-‏۲۵) سیح اُن طوفانوں کو کنٹرول کر سکتا ہے جو اُس کے شاگردوں کی زندگیوں میں اُٹھتے ہیں۔
بد روح گرفتہ میں سے لشکر کو نکالنا (۸:‏‌۲۶-‏۳۹) گناہ اِنسانوں میں تشدد اور پاگل پن پیدا کرتا ہے اور اُنہیں معاشرے سے خارج کر دیتا ہے۔ خداوند شائستگی‏، تہذیب اور ہوش مندی کو بحال کرتا اور اپنے ساتھ رفاقت کو بھی بحال کرتا ہے۔
اُس عورت کو شفا دینا جس نے خداوند کی پوشاک کا کنارہ چھوا تھا (۸:‏‌۴۳-‏۴۸) گناہ کی پیدا کردہ محتاجی اور پستی کو دُور کرنا۔
پانچ ہزار کو کھلانا (۹:‏‌۱۰-‏۱۷) گناہ آلودہ دُنیا خدا کی روٹی کو ترس رہی ہے۔مسیح اپنے شاگردوں کی معرفت اِس ضرورت کو پورا کرتا ہے۔
بدروح گرفتہ بیٹے کو شفا دینا (۹:‏‌۳۷-‏۴۳ الف) گناہ کا تشدد اور جبر اور ظلم اور مسیح کی شفا بخش قدرت۔
کُبڑے پن کی بدروح والی عورت کو شفا دینا (۱۳:‏‌۱۰-‏۱۷) گناہ شکل و صورت بگاڑ دیتا اور معذور کر دیتا ہے‏، مگر مسیح چھو کر کامل بحالی عطا کرتا ہے۔
جلندر والے آدمی کو شفا دینا (۱:۱۴-‏۶) گناہ بے چینی اور آزار پیدا کرتا ہے اور خطرے میں ڈالتا ہے۔ مسیح اِن باتوں سے رہائی دیتا ہے۔
اَندھے فقیر کو بینا کرنا (۱۸:‏‌۳۵-‏۴۳) گناہ اِنسان کو اَندھا کر دیتا ہے کہ ازلی سچائیوں کو نہ دیکھ سکے۔ نئی پیدائش سے آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

ب۔ تپ پر قدرت  (‏۴:‏۳۸‏،۳۹) ‏

اِس کے بعد یسوع بیمار پُرسی کے لئے «شمعون» کے ہاں گیا۔ «شمعون کی ساس کو بڑی تپ چڑھی ہوئی تھی۔» جونہی خداوند نے «تپ کو جھڑکا» وہ «اُتر گئی»۔ شفا نہ صرف فوری بلکہ مکمل تھی کیونکہ وہ خاتون «اُسی دَم اُٹھ کر اُن کی خدمت کرنے لگی۔» عموماً تپ اِنسان کو کمزور کر دیتی ہے اور اُس کا جی کچھ کرنے کو نہیں کرتا  (‏خدام الدین کے مجرد رہنے کے حامیوں کو کلام کے اِس حصے سے بے چینی سی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پطرس شادی شدہ آدمی تھا) ‏۔

ج۔ بیماریوں اور بدروحوں پر قدرت  (‏۴:‏۴۰‏،۴۱) ‏

۴:‏۴۰ سبت کا دن اِختتام پذیر ہوا تو لوگ جو مجبوراً بے عمل بیٹھے ہوئے تھے بہت سے ایسے افراد کو اُس کے پاس لائے جو معذور اور بدروح گرفتہ تھے۔ اُس نے اُن سب کو «اچھا کیا» یعنی شفا بخشی اور بدروحوں کو نکال دیا۔ آج جو ایمان سے شفا دینے کا دعویٰ کرتے ہیں اُن میں سے بہت سے صرف اُنہی کو شفا دیتے ہیں جن کو پہلے سے چن لیتے ہیں‏، مگر یسوع نے «ہر ایک» کو اچھا کر دیا۔

۴:‏۴۱ جو بدروحیں نکالی گئیں وہ جانتی تھیں کہ یسوع خدا کا بیٹا اور مسیح ہے۔ لیکن اُسے منظور نہ تھا کہ بدروحیں میرے حق میں گواہی دیں۔ اِس لئے وہ «اُنہیں بولنے نہ دیتا تھا»۔ «وہ جانتی تھیں کہ یہ مسیح ہے۔» لیکن اِس حقیقت کا اعلان کرنے کے لئے خدا کے پاس دوسرے اور بہتر ذرائع موجود تھے۔

د۔ جگہ جگہ جا کر منادی کرنے سے قدرت کا اِظہار  (‏۴:‏۴۲-‏۴۴) ‏

اگلے دن وہ کفرنحوم کے نزدیک «ایک ویران جگہ میں گیا»۔ بھیڑ نے اُسے تلاش کر لیا اور لوگ اُس کی منت کرنے لگے کہ ہمارے پاس سے نہ جا۔ لیکن اُس نے اُنہیں یاد دلایا کہ مجھے گلیل کے «اَور شہروں میں بھی» کام کرنا ہے۔ چنانچہ وہ ایک عبادت خانے سے دوسرے عبادت خانے میں جاتا اور «منادی کرتا رہا» اور «بادشاہی کی خوش خبری» سناتا رہا۔ یسوع خود بادشاہ تھا۔ وہ اُن پر بادشاہی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ضرور تھا کہ وہ پہلے توبہ کریں۔ وہ اُن لوگوں پر بادشاہی کرنے پر آمادہ نہیں جو اپنے گناہوں سے چمٹے رہیں۔ یہی رُکاوٹ تھی۔ وہ اپنے سیاسی مسائل سے توچھٹکارا پانا چاہتے تھے مگر گناہوں سے نہیں۔

ہ۔ دوسروں کی تربیت کے ذریعے سے قدرت کا اِظہار:‏شاگرد بلائے جاتے ہیں  (‏۵:‏۱-‏۱۱) ‏

پطرس کی بلاہٹ کے اِس سادہ سے بیان سے کئی اہم سبق اخذ ہوتے ہیں:‏

  1. خداوند نے پطرس کی کشتی کو پلپٹ کے طور پر استعمال کر کے بھیڑ کو تعلیم دی۔ اگر ہم بھی اپنا سارا مال و اسباب نجات دہندہ خداوند کے سپرد کر دیں تو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ وہ اُسے کس طرح استعمال کرتا اور ساتھ ہی ہمیں اَجر بھی دیتا ہے۔
  2. اُس نے پطرس کے لئے اُس جگہ کی ٹھیک ٹھیک نشان دہی کر دی جہاں کثرت سے مچھلیاں مل سکتی تھیں جب کہ پطرس اور اُس کے ساتھی «رات بھر» محنت کر کے تھک چکے تھے۔ عالمِ کُل خداوند جانتا ہے کہ مچھلیاں کہاں تیر رہی ہیں۔ جو خدمت ہم اپنی طاقت اور حکمت کے بَل بوتے پر کرتے ہیں بے فائدہ اور بے پھل ہوتی ہے۔ مسیحی کام اور خدمت میں کامیابی کا بھید خداوند کی راہنمائی حاصل کرنے میں ہے۔
  3. پطرس خود ایک تجربہ کار ماہی گیر تھا‏، مگر اُس نے ایک بڑھئی کا مشورہ مان لیا۔ «… مگر تیرے کہنے سے جال ڈالتا ہوں۔» نتیجہ یہ ہوا کہ جال بھر گئے۔ اِس سے حلیمی‏، تعلیم پذیری اور بے چوں و چرا فرماں برداری کی قدر و قیمت اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
  4. یہ گہرے پانی تھے جہاں جال اِتنے بھر گئے کہ پھٹنے لگے۔ چنانچہ ضرور ہے کہ ہم پایاب ساحل کو چھوڑ دیں اور کامل تابع فرمانی اور سپردگی کے جوار بھاٹے پر چڑھ کر کھلے سمندر میں آگے بڑھیں۔ ایمان کا سمندر گہرا ہوتا ہے۔ اِسی طرح دُکھ‏، غم اور نقصان کا سمندر بھی گہرا ہوتا ہے اور یہی گہرے پانی میں ڈالے ہوئے جال ہی مچھلیوں سے بھر جاتے ہیں۔
  5. اُن کے «جال پھٹنے لگے» اور «کشتیاں… ڈوبنے لگیں»  (‏آیات ۶‏،۷) ‏۔ جوخدمت مسیح کی ہدایت اور راہنمائی میں ہوتی ہے مشکلات بھی پیدا کرتی ہے۔ لیکن یہاں مشکلات کیسی خوش گوار ہیں! یہ مشکلات ایسی ہوتی ہیں جن سے ایک سچے ماہی گیر کے دل میں خوشی کی لہریں دوڑ جاتی ہیں۔
  6. خداوند یسوع کے جلال کے اِس رُویا نے پطرس کے دل میں نالائقی کا زبردست احساس پیدا کر دیا۔ یسعیاہ  (‏۶:‏۵) ‏ کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا بلکہ جتنے لوگ بادشاہ کو اپنے جاہ و جلال اور حسن میں دیکھتے ہیں‏، اُن سب کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔
  7. پطرس اپنے روزمرہ کے عام کام میں مصروف تھا جب مسیح نے اُسے بلایا اور آدمیوں کا شکاری بنا دیا۔ جب آپ بھی ہدایت اور راہنمائی کا اِنتظار کر رہے ہوں تو جو کام ہاتھ لگے اُسے کرتے رہیں۔ اپنی پوری طاقت سے کریں۔ پورے دل سے کریں جیسے خداوند کے لئے کر رہے ہیں۔ جس طرح پتوار جہاز کی راہنمائی اُسی صورت میں کر سکتی ہے جب وہ حرکت میں ہو‏، چل رہا ہو‏، اُسی طرح خدا بھی آدمیوں کی راہنمائی اُسی وقت کرتا ہے جب وہ حرکت میں ہوں‏، کچھ کر رہے ہوں۔
  8. مسیح نے پطرس کو مچھلیاں پکڑنے سے بلایا اور آدمی پکڑنے پر لگا دیا۔ لفظی طور سے مطلب ہے «آدمیوں کو زندہ پکڑنا»۔ سمندر کی ساری مچھلیاں اِس اعزاز کے سامنے کیا حقیقت رکھتی ہیں جو ایک روح کو مسیح کے لئے جیتنے سے حاصل ہوتا ہے!
  9. پطرس‏، یعقوب اور یوحنا کشتیوں کو کنارے پر لے آئے اور «سب کچھ چھوڑ کر یسوع کے پیچھے ہو لئے۔» اُن کے فیصلے پر کتنی بڑی بات کا اِنحصار تھا! اگر وہ اپنی کشتیوں کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ کرتے تو ہم اُن کا نام تک نہ جانتے۔

و۔ کوڑھ پر قدرت  (‏۵:‏۱۲-‏۱۶) ‏

۵:‏۱۲ لوقا طبیب اِس حقیقت کا خاص ذکر کرتا ہے کہ یہ شخص «کوڑھ سے بھرا ہوا» تھا۔ بیماری بہت پھیل چکی تھی۔ اِنسانی لحاظ سے مریض کے لئے کوئی اُمید باقی نہ تھی۔ لیکن کوڑھی کا ایمان قابلِ تعریف ہے۔ اُس نے کہا «اگر تُو چاہے تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔» وہ دُنیا میں کسی اَور شخص سے یہ بات نہیں کہہ سکتا تھا۔ مگر اُسے «خداوند» کی قدرت پر پورا اِعتماد تھا۔ جب اُس نے کہا «اگر تُو چاہے» تو وہ مسیح کے چاہنے پر شک کا اِظہار نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ تو ایک درخواست گزار کے طور پر آ رہا تھا جسے شفا پانے کا اپنا کوئی حق نہیں تھا۔ مگر اُس نے خود کو خدا کے رحم و فضل پر چھوڑ دیا تھا۔

۵:‏۱۳ کسی کوڑھی کو چھونا طبی لحاظ سے خطرناک‏، مذہبی لحاظ سے ناپاک کرنے والا اور سماجی لحاظ سے ذلت آمیز تھا۔ مگر نجات دہندہ پر کسی طرح کی ناپاکی کا اثر نہیں ہوا بلکہ کوڑھی کے بدن میں شفایابی اور صحت مندی کا سیلاب ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ یہ شفا بتدریج نہیں ہوئی۔ «فوراً اُس کا کوڑھ جاتا رہا۔» ذرا تصور کریں کہ اُس مایوس‏، ناچار اور بے بس کوڑھی کے لئے اِس کا مطلب کیا تھا جو ایک لمحے میں کامل شفا پا گیا!

۵:‏۱۴ یسوع «نے اُسے تاکید کی کہ کسی سے نہ کہنا۔» کسی سے اِس شفایابی کا ذکر نہ کرنا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ متجسس بھیڑ میرے گرد جمع ہو جائے یا مجھے بادشاہ بنانے کی عوامی تحریک چل پڑے۔ اِس کے برعکس خداوند نے اُسے حکم دیا کہ «جا کر اپنے تئیں کاہن کو دِکھا اور جیسا موسیٰ نے مقرر کیا ہے اپنے پاک صاف ہو جانے کی بابت نذر گزران»  (‏احبار ۱۴:‏۴) ‏۔ اِس نذر کی ایک ایک تفصیل مسیح کے بارے میں بتاتی ہے۔ «کاہن» کی ذمہ داری تھی کہ کوڑھی کا معائنہ کرے اور فیصلہ دے کہ وہ واقعی صحت یاب ہو گیا ہے یا نہیں۔ کاہن شفا نہیں دے سکتا تھا۔ وہ صرف اعلان کر سکتا تھا کہ فلاں شخص صحت یاب ہو گیا ہے۔ اُس کاہن نے پہلے کبھی کوئی ایسا کوڑھی نہیں دیکھا تھا جو پاک صاف ہو چکا ہو۔ یہ نظارہ بے مثال اور یکتا تھا۔ اِس سے اُسے معلوم ہو جانا چاہئے تھا کہ بالآخر مسیحِ موعود آ گیا ہے اور یہ سارے کاہنوں کے لئے گواہی ہونا چاہئے تھی۔ مگر بے ایمانی نے اُن کے دلوں کو اَندھا کر رکھا تھا۔

۵:‏۱۵‏،۱۶ خداوند نے اُسے تاکید کی تھی کہ اِس معجزے کی تشہیر نہ کرنا۔ مگر یہ خبر بڑی تیزی سے پھیل گئی‏، یہاں تک کہ بڑی بھیڑ شفا پانے کے لئے اُس کے گرد جمع ہو گئی۔ یسوع اکثر بیابانوں اور «جنگلوں میں الگ جا کر دعا کیا کرتا تھا۔» وہ مردِ دعا تھا۔ یہ بڑی مناسب بات ہے کہ یہ اِنجیل جو اُس کو ابنِ آدم کی حیثیت میں پیش کر رہی ہے‏، وہ اُس کی دعائیہ زندگی کا زیادہ ذکر کرے۔

ز۔ فالج پر قدرت  (‏۵:‏۱۷-‏۲۶) ‏

۵:‏۱۷ جیسے جیسے یسوع کی خدمت کا چرچا پھیلتا گیا «فریسی اور شرع کے معلم» زیادہ ہی مخالف ہوتے چلے گئے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ «گلیل» کے ہر حصے سے جمع ہو گئے۔ اُن کا مقصد یہی تھا کہ اُس کے خلاف کوئی الزام ڈھونڈیں۔ «اور خداوند کی قدرت شفا بخشنے کو اُس کے ساتھ تھی۔» حقیقت میں تو شفا کی قدرت یسوع میں ہر وقت ہوتی تھی‏، مگر حالات ہمیشہ سازگار نہیں ہوتے تھے۔ وہ لوگوں کی بے ایمانی کے باعث بہت سے معجزے نہیں دِکھا سکتا تھا  (‏متی ۱۳:‏۵۸) ‏۔

۵:‏۱۸‏،۱۹ چار آدمی ایک مفلوج کو چارپائی پر ڈال کر اُس گھر تک لے آئے جہاں یسوع تعلیم دے رہا تھا۔ مگر «بھیڑ کے سبب سے» وہ یسوع تک نہ پہنچ پائے۔ چنانچہ وہ بیرونی سیڑھیوں سے چھت پر چڑھ گئے۔ اور چھت کی کھپریل ہٹا کر راستہ بنایا اور مفلوج کو «کھٹولے سمیت… یسوع کے سامنے اُتار دیا۔»

۵:‏۲۰‏،۲۱ یسوع نے اُس ایمان کو دیکھا جو ایک ضرورت مند کی طرف توجہ دلانے کے لئے اِتنا کچھ کر سکتا ہے۔ اُس نے «اُن کا ایمان دیکھ کر» یعنی اُن چاروں اور مفلوج آدمی کو دیکھ کر اُس مفلوج سے کہا کہ «اے آدمی! تیرے گناہ معاف ہوئے۔» ایسی بات کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ چنانچہ «فقیہ اور فریسی» چوکنے ہو گئے۔ وہ جانتے تھے کہ خدا کے سوا اَور کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ وہ یسوع کو خدا ماننے پر آمادہ ہی نہیں تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے شور مچایا کہ یہ کفر بکتا ہے۔

۵:‏۲۲‏،۲۳ اِس پر خداوند نے اُن کو ثبوت دینا شروع کیا کہ مَیں نے اُس کے گناہ واقعی معاف کر دیئے ہیں۔ پہلے تو اُس نے اُن سے پوچھا کہ «آسان کیا ہے؟ یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے یا یہ کہنا کہ اُٹھ اور چل پھر؟» ایک لحاظ سے تو دونوں باتیں کہنا یکساں آسان ہے۔ لیکن اُن کو کرنا آسان نہیں کیونکہ اِنسانی طور پر دونوں ہی ناممکن ہیں۔ یہاں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ «تیرے گناہ معاف ہوئے» کہنا آسان ہے کیونکہ کسی طرح بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ واقعی معاف ہو گئے ہیں۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ «اُٹھ اور چل پھر» تو سب دیکھ سکتے ہیں کہ مریض شفا پا گیا ہے۔

فریسی «دیکھ» نہیں سکتے تھے کہ اُس آدمی کے گناہ معاف ہو گئے ہیں اِس لئے یسوع نے وہ معجزہ کیا جسے وہ «دیکھ» سکیں اور جس سے اُن پر ثابت ہو جائے کہ اُس آدمی کے گناہ معاف ہو گئے ہیں۔ اُس نے مفلوج کو چلنے پھرنے کی قوت عطا کر دی۔

۵:‏۲۴ «لیکن اِس لئے کہ تم جانو کہ ابنِ آدم کو زمین پر گناہ معاف کرنے کا اِختیار ہے…»۔ «ابنِ آدم» کا لقب مسیح کی کامل بشریت پر زور دیتا ہے۔ ایک مفہوم میں ہم سب ابنِ آدم ہیں۔ لیکن «ابنِ آدم» کا یہ لقب یسوع کو باقی تمام آدمیوں سے  (‏جو کبھی بھی ہوئے یا ہوں گے) ‏ الگ اور ممتاز کرتا ہے کہ وہ ایسا آدمی ہے جو خدا کے دل کے مطابق ہے‏، جو اخلاقی لحاظ سے کامل ہے‏، جو دُکھ اُٹھائے گا‏، اپنا خون بہائے گا‏، جو مرے گا اور جس کو ساری کائنات کی سرداری دی گئی ہے۔

۵:‏۲۵ خداوند کے حکم کی فرماں برداری میں وہ مفلوج آدمی اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنی چارپائی اُٹھا کر «خدا کی تمجید کرتا ہوا» اپنے گھر چلا گیا۔

۵:‏۲۶ وہاں موجود لوگ واقعی «حیران ہوئے اور خدا کی تمجید کرنے لگے۔» وہ اِقرار کرنے لگے کہ آج ہم نے ناقابلِ یقین «باتیں» دیکھی ہیں‏، یعنی گناہوں کی معافی کا اعلان اور اِس معافی کو ثابت کرنے کے لئے معجزہ۔

مقدس کتاب

۱- پِھر یِسُوعؔ رُوحُ القُدس سے بھرا ہُؤا یَردؔن سے لَوٹا اور چالِیس دِن تک رُوح کی ہدایت سے بیابان میں پِھرتا رہا۔
۲- اور اِبلِیس اُسے آزماتا رہا۔ اُن دِنوں میں اُس نے کُچھ نہ کھایا اور جب وہ دِن پُورے ہو گئے تو اُسے بُھوک لگی۔
۳- اور اِبلِیس نے اُس سے کہا کہ اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو اِس پتّھر سے کہہ کہ روٹی بن جائے۔
۴- یِسُوعؔ نے اُس کو جواب دِیا لِکھا ہے کہ آدمی صِرف روٹی ہی سے جِیتا نہ رہے گا۔
۵- اور اِبلِیس نے اُسے اُونچے پر لے جا کر دُنیا کی سب سلطنتیں پَل بھر میں دِکھائِیں۔
۶- اور اُس سے کہا کہ یہ سارا اِختیار اور اُن کی شان و شوکت مَیں تُجھے دے دُوں گا کیونکہ یہ میرے سپُرد ہے اور جِس کو چاہتا ہُوں دیتا ہُوں۔
۷- پس اگر تُو میرے آگے سِجدہ کرے تو یہ سب تیرا ہو گا۔
۸- یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا لِکھا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کو سِجدہ کر اور صِرف اُسی کی عِبادت کر۔
۹- اور وہ اُسے یروشلِیم میں لے گیا اور ہَیکل کے کنگُرے پر کھڑا کر کے اُس سے کہا اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو اپنے تئِیں یہاں سے نِیچے گِرا دے۔
۱۰- کیونکہ لِکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرِشتوں کو حُکم دے گا کہ تیری حِفاظت کریں۔
۱۱- اور یہ بھی کہ وہ تُجھے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے۔ مبادا تیرے پاؤں کو پتّھر سے ٹھیس لگے۔
۱۲- یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا فرمایا گیا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کی آزمایش نہ کر۔
۱۳- جب اِبلِیس تمام آزمایشیں کر چُکا تو کُچھ عرصہ کے لِئے اُس سے جُدا ہُؤا۔
۱۴- پِھر یِسُوعؔ رُوح کی قُوّت سے بھرا ہُؤا گلِیل کو لَوٹا اور سارے گِرد و نواح میں اُس کی شُہرت پَھیل گئی۔
۱۵- اور وہ اُن کے عِبادت خانوں میں تعلِیم دیتا رہا اور سب اُس کی بڑائی کرتے رہے۔
۱۶- اور وہ ناصرۃ میں آیا جہاں اُس نے پرورِش پائی تھی اور اپنے دستُور کے مُوافِق سَبت کے دِن عِبادت خانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہُؤا۔
۱۷- اور یسعیاہ نبی کی کِتاب اُس کو دی گئی اور کِتاب کھول کر اُس نے وہ مقام نِکالا جہاں یہ لِکھا تھا کہ
۱۸- خُداوند کا رُوح مُجھ پر ہے۔ اِس لِئے کہ اُس نے مُجھے غرِیبوں کو خُوشخبری دینے کے لِئے مَسح کِیا۔ اُس نے مُجھے بھیجا ہے کہ قَیدِیوں کو رِہائی اور اندھوں کو بِینائی پانے کی خبر سُناوُں۔ کُچلے ہُوؤں کو آزاد کرُوں۔
۱۹- اور خُداوند کے سالِ مقبُول کی مُنادی کرُوں۔
۲۰- پِھر وہ کِتاب بند کر کے اور خادِم کو واپس دے کر بَیٹھ گیا اور جِتنے عِبادت خانہ میں تھے سب کی آنکھیں اُس پر لگی تِھیں۔
۲۱- وہ اُن سے کہنے لگا کہ آج یہ نوِشتہ تُمہارے سامنے پُورا ہُؤا۔
۲۲- اور سب نے اُس پر گواہی دی اور اُن پُر فضل باتوں پر جو اُس کے مُنہ سے نِکلتی تِھیں تعجُّب کر کے کہنے لگے کیا یہ یُوسفؔ کا بیٹا نہیں؟
۲۳- اُس نے اُن سے کہا تُم البتّہ یہ مِثل مُجھ پر کہو گے کہ اَے حکِیم اپنے آپ کو تو اچھّا کر۔ جو کُچھ ہم نے سُنا ہے کہ کَفرؔنحُوم میں کِیا گیا یہاں اپنے وطن میں بھی کر۔
۲۴- اور اُس نے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ کوئی نبی اپنے وطن میں مقبُول نہیں ہوتا۔
۲۵- اور مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ ایلیّاہؔ کے دِنوں میں جب ساڑھے تِین برس آسمان بند رہا یہاں تک کہ سارے مُلک میں سخت کال پڑا بُہت سی بیوائیں اِسرائیلؔ میں تِھیں۔
۲۶- لیکن ایلیّاہؔ اُن میں سے کِسی کے پاس نہ بھیجا گیا مگر مُلکِ صَیدا کے شہر صارؔپت میں ایک بیوہ کے پاس۔
۲۷- اور اِلِیشَع نبی کے وقت میں اِسرائیلؔ کے درمِیان بُہت سے کوڑھی تھے لیکن اُن میں سے کوئی پاک صاف نہ کِیا گیا مگر نعمان سَوریانی۔
۲۸- جِتنے عِبادت خانہ میں تھے اِن باتوں کو سُنتے ہی قہر سے بھر گئے۔
۲۹- اور اُٹھ کر اُس کو شہر سے باہر نِکالا اور اُس پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے جِس پر اُن کا شہر آباد تھا تاکہ اُسے سر کے بل گِرا دیں۔
۳۰- مگر وہ اُن کے بِیچ میں سے نِکل کر چلا گیا۔
۳۱- پِھر وہ گلِیل کے شہر کَفرؔنحُوم کو گیا اور سبت کے دِن اُنہیں تعلِیم دے رہا تھا۔
۳۲- اور لوگ اُس کی تعلِیم سے حَیران تھے کیونکہ اُس کا کلام اِختیار کے ساتھ تھا۔
۳۳- اور عِبادت خانہ میں ایک آدمی تھا جِس میں ناپاک دیو کی رُوح تھی وہ بڑی آواز سے چِلاّ اُٹھا کہ
۳۴- اَے یِسُوعؔ ناصری ہمیں تُجھ سے کیا کام؟ کیا تُو ہمیں ہلاک کرنے آیا ہے؟ مَیں تُجھے جانتا ہُوں کہ تُو کَون ہے۔ خُدا کا قُدُّوس ہے۔
۳۵- یِسُوعؔ نے اُسے جِھڑک کر کہا چُپ رہ اور اُس میں سے نِکل جا۔ اِس پر بدرُوح اُسے بِیچ میں پٹک کر بغَیر ضرر پُہنچائے اُس میں سے نِکل گئی۔
۳۶- اور سب حَیران ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ یہ کَیسا کلام ہے؟ کیونکہ وہ اِختیار اور قُدرت سے ناپاک رُوحوں کو حُکم دیتا ہے اور وہ نِکل جاتی ہیں۔
۳۷- اور گِرد و نواح میں ہر جگہ اُس کی دُھوم مچ گئی۔
۳۸- پِھر وہ عِبادت خانہ سے اُٹھ کر شمعُوؔن کے گھر میں داخِل ہُؤا اور شمعُوؔن کی ساس کو بڑی تپ چڑھی ہُوئی تھی اور اُنہوں نے اُس کے لِئے اُس سے عرض کی۔
۳۹- وہ کھڑا ہو کر اُس کی طرف جُھکا اور تپ کو جِھڑکا تو اُتر گئی اور وہ اُسی دَم اُٹھ کر اُن کی خِدمت کرنے لگی۔
۴۰- اور سُورج کے ڈُوبتے وقت وہ سب لوگ جِن کے ہاں طرح طرح کی بِیمارِیوں کے مرِیض تھے اُنہیں اُس کے پاس لائے اور اُس نے اُن میں سے ہر ایک پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں اچھّا کِیا۔
۴۱- اور بدرُوحیں بھی چِلاّ کر اور یہ کہہ کر کہ تُو خُدا کا بیٹا ہے بُہتوں میں سے نِکل گئِیں اور وہ اُنہیں جِھڑکتا اور بولنے نہ دیتا تھا کیونکہ وہ جانتی تِھیں کہ یہ مسِیح ہے۔
۴۲- جب دِن ہُؤا تو وہ نِکل کر ایک وِیران جگہ میں گیا اور بِھیڑ کی بِھیڑ اُس کو ڈُھونڈتی ہُوئی اُس کے پاس آئی اور اُس کو روکنے لگی کہ ہمارے پاس سے نہ جا۔
۴۳- اُس نے اُن سے کہا مُجھے اَور شہروں میں بھی خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری سُنانا ضرُور ہے کیونکہ مَیں اِسی لِئے بھیجا گیا ہُوں۔
۴۴- اور وہ گلِیل کے عِبادت خانوں میں مُنادی کرتا رہا۔