عِبرانیوں کے نام کا خط ۴

۴ – اِختتامی برکات (۱۳: ۱۸۔۲۵)

۱۸:۱۳- اب جبکہ مُصنِّف اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے تو وُہ دُعا کے لئے ذاتی اپیل کرتا ہے۔ باقی آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کُچھ لوگ اُس پر تنقید کر رہے تھے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں یہ کون تھے۔ یہ وُہ تھے جو لوگوں کو پُرانے عہد کی کہانت کو دوبارہ اِختیار کرنے پر مجبُور کر رہے تھے۔ وُہ احتجاج کرتا ہے۔ اگرچہ اُس پر الزامات لگائے جارہے ہیں، تاہم اُس کا ’’دِل صاف‘‘ ہے اور اُس کی خواہش پاک۔

۱۹:۱۳- دُعا کی درخواست کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وُہ ’’جلد‘‘ اُن کے پاس ’’پھِرآ‘‘ سکے۔ غالباً اِس کا اشارہ قید سے رہائی کی طرف ہے۔ اِس بات کا ہم صِرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔

۲۰:۱۳- اِس کے بعد وُہ نہایت خوبصُورت کلمات برکت کا اضافہ کرتا ہے۔ یہ گِنتی ۲۴:۶۔

۲۶؛ ۲- کرنتھیوں ۱۴:۱۳ اور یہُوداہ آیات ۲۴، ۲۵ میں بھی موجُود ہیں۔ اِن میں ’’اِطمینان‘‘ کے ’’خُدا‘‘ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ جَیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے، عہدِعتیق کے مُقدّسین کو کبھی بھی مکمّل دِلی اطمینان حاصل نہ ہُؤا تھا۔ لیکن نئے عہد کے تحت ہماری خُدا کے ساتھ صُلح ہے (رومیوں ۱:۵) اور ہمارے پاس خُدا کا اِطمینان ہے (فلپّیوں ۷:۴)۔ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ اطمینان مسیح کے نجات کے کام کا پھل ہے۔ خُدا نے ’’ہمارے خُداوند یسؔوع کو‘‘ ’’مُردوں‘‘ میں سے زِندہ کِیا تاکہ ظاہر ہو کہ صلیب پر اُس کے کام نے گُناہ کے سُوال کو ہمیشہ کے لئے حل کر دیا ہے۔

مسیح نے ایک اچھّے چرواہے کے طور پر اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی جان دی (یُوحَنّا ۱۱:۱۰)۔ بڑے چروا ہے کے طور پر مخلصی کا کام پُورا کرنے کے بعد وُہ مُردوں میں سے جی اُٹھا (عبرانیوں ۲۰:۱۳)- بڑے چروا ہے کے طور پر وُہ اپنے خادِموں کو اجَر دینے کے لئے پھِر آرہا ہے
(۱- پَطرس ۴:۵)- ہم اُسے زبُور ۲۲ میں اچھّے چروا ہے، زبُور ۲۳ میں بڑے چروا ہے اور زبُور ۲۴ میں سردار چروا ہے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

’’ابدی‘‘ عہد کے مُطابق اُسے ’’مُردوں میں سے زِندہ‘‘ کِیا گیا۔ وُوؔسٹ اِس پر یُوں لِکھتا ہے :

پُرانے عہد کے مُقابلے میں جو عارضی نوعیّت کا تھا نئے عہد کو ابدی کہا جاتا ہے۔ یہ اَبدی عہد کے دائِرے میں آتا ہے کہ المسیح کو گنہگاہ آدمی کے بارے میں مرنے کے بعد مُردوں میں سے زِندہ کیا گیا۔ اگر اُسے مُردوں میں سے نہ جِلایا جاتا تو وُہ مَلکِ صِؔدق کے طریق کا سردار کاہن نہ ہو سکتا۔ گنہگار آدمی کو زِندہ کاہن کی ضرُورت ہے تاکہ وُہ ایمان لانے والے گنہگار کو زندگی دے سکے، نہ کہ مُردہ کاہن کی کہ وُہ محض اُس کے گناہوں کی قیمت ادا کرے۔ یُوں نئے عہد میں مقرر کر دیا گیا کہ وُہ کاہن جِس نے اپنے آپ کو قُربانی کے طور پر پیش کر دیا مُردوں میں سے زِندہ کیا جائے۔

۲۱:۱۳- آیت ۲۰ میں دُعا شُروع ہُوئی تھی کہ مُقدّسوں کو ’’ہر نیک بات میں کامِل‘‘ کیا جائے تاکہ وُہ خُدا کی ’’مرضی‘‘ پُوری کریں۔ یہاں پر خُدا اور اِنسان کا انوکھا مِلاپ ہے۔ خُدا ہمیں ہر’’نیک بات‘‘ کے لئے کامِل کرتا ہے۔ خُدا ہم میں وُہ کام کرتا ہے جو ’’اُس کے نزدیک پَسندیدہ ہے‘‘۔ تب ہم اُس کی مرضی پُوری کرتے ہیں۔ بالفاظِ دِیگر وُہ ہم میں خواہش پَیدا کرتا ہے اور ہمیں اُسے کرنے کی قُوّت دیتا ہے۔ تب ہم اُسے کرتے ہیں اور وُہ ہمیں اجر دیتا ہے۔

دُعا، اِس اِقرار کے ساتھ ختم ہوتی ہے کہ مسیح ’’اَبدالآباد تمجید‘‘ کے لائق ہے۔

۲۲:۱۳- مُصنِّف، اَب قارِئین پر زور دیتا ہے کہ وُہ اِس خط میں مرقوم ’’نصیحت‘‘ پر عمل کریں، رسمی مذہب کو ترک کریں اور سچّے دِل کے ساتھ مسیح سے لپٹے رہیں۔

وُہ اپنے خط کو ’’مُختصر‘‘ کہتا ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وُہ شرعی نظام اور اُس کی مسیح میں تکمیل کے بارے میں اَور بُہت لکِھ سکتا تھا۔

۲۳:۱۳- یہاں اِس بات کا انکشاف کہ ’’ہمارا بھائی تیمتؔھُیس رہا ہو گیا ہے‘‘ بُہت سے لوگوں کے نزدیک اِس بات کا ثبُوت ہے کہ یہ خط پَولُسؔ رسُول نے لِکھا۔ پھِر اِس میں مزید اشارہ یہ ہے کہ مُصنِّف اپنے اِس ارادہ کو ظاہر کرتا ہے کہ وُہ اُس کے ساتھ سَفر کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ پَولُسؔ کی طرف ہی اِشارہ ہو۔ لیکن ہم یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے، اِس لئے اِس سُوال کو یُونہی رہنے دینا چاہئے۔

۲۴:۱۳- سلام تمام مسیحی لیڈروں ’’اور سب مُقدّسوں‘‘ کو بھیجا گیا ہے۔ ہمیں اِس خط میں مسیحی آداب کی بُہت سی باتیں مِلتی ہیں جِن کی ہمیں اپنی روز مّرہ زِندگی میں پیروی کرنا چاہئے۔ مُصنِّف کے ساتھ ’’اطؔالیہ‘‘ کے بھی کچھ ایمان دار تھے۔ اُنہوں نے بھی سلام بھیجے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خط وہاں کے لوگوں کو یا وہاں سے لِکھا گیا۔

۲۵:۱۳- یہ نہایت مُناسب ہے کہ نئے عہد کے اِس خط کا اِختتام فضل کے ساتھ کیا جائے: ’’تُم سب پر فضل ہوتا رہے‘‘۔ نیا عہد مُفت فضل کا غیر مشرُوط عہد ہے جو خُداوند یسؔوع مسیح کی قُربانی کے ذریعہ غیر مستحِق گُنہگاروں کے لئے خدا کی بے حد مہربانی کو بیان کرتا ہے ۔ آمین۔

آج کے لئے عبرانیوں کے خط کا پیغام

کیا عبرانیوں کے خط میں ہم بیسویں صدی کے لوگوں کے لئے بھی پیغام ہے؟ اگرچہ فی زمانہ
یہُودیت غالب مذہب نہیں ہے جیسی کہ کلیسیا کے اِبتدائی زمانہ میں تھی، تاہم اِس کی شریعت پرستانہ رُوح دُنیائے مسیحیت میں سرایت کئے ہُوئے ہے۔

یہ خط ہمیں اُن تمام مذہبی نظاموں سے الگ ہونے کو کہتا ہے جِن میں مسیح کو واحِد خُداوند اور نجات دِہندہ نہیں مانا جاتا اور جو اُس کی ایک ہی بار گُزانی گئی قُربانی کو نجات کے لئے کافی و وافی نہیں سمجھتے۔ عبرانیوں کا خطہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عہدِعتیق کے نظام کی تمام مثالیں اور سائے ہمارے خُداوند میں تکمیل پاتے ہیں۔ وُہ ہمارا بڑا سردار کاہن ہے۔ وُہ ہماری قُربانی ہے۔ وُہ ہماری قربان گاہ ہے۔ وُہ آسمانی مقدِس میں خِدمت کرتا ہے اور اُس کی کہانت کبھی ختم نہیں ہوگی۔

یہ سِکھاتا ہے کہ تمام ایماندار کاہن ہیں اور کہ وُہ ایمان کے وسیلہ سے کِسی وقت بھی خُدا کی حضُوری میں جاسکتے ہیں۔ وُہ اپنی شخصیت، اپنی تعریف اور اپنی اَملاک کی قُربانی چڑھاتے ہیں۔ عبرانیوں کا خطہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے پاس بہتر عہد، بہتر درمیانی، بہتر اُمیّد، بهتر وَعدے، بہتر گھر، بہتر کہانت اور بہتر میراث ہے۔ یہ ہمیں یقین دِلاتا ہے کہ ہمارے پاس اَبدی مخلصی، ابدی نجات، اَبدی عہد اور ایک ابدی میراث ہے۔

یہ ہمیں بڑی سنجیدگی سے اِرتداد کے گُناہ کی طرف سے خبردار کرتا ہے۔ اگر ایک شخص مسیحی ہونے کا اِقرار کرتا اور مسیحی کلیسیا میں شامِل ہوتا ہے لیکن پھر مسیح سے پھِر جاتا اور خُداوند کے دُشمنوں سے مِل جاتا ہے تو پھر اَیسے شخص کو توبہ کے لئے نیا بنانا ناممکن ہے۔

عبرانیوں کا خط حقیقی مسیحیوں کی آنکھوں دیکھے بغیر ایمان سے چلنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ یہ وُہ زِندگی ہے جو مسیح کو خُوش کرتی ہے۔ یہ ہماری دُکھوں، آزمائشوں اور ایذا رسانی کو مُستقِل مزاجی سے برداشت کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ ہم م عُودہ اَجر کو پالیں۔ عبرانیوں کا خط سِکھاتا ہے کہ چونکہ مسیحیوں کو مُتعدد شاندار حقُوق حاصِل ہیں اِس لئے اِن پر خاص ذِمّہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ مسیح کی بَرتری، اُنہیں دُنیا میں سب سے زیادہ مُراعات یافتہ لوگ بنا دیتی ہے۔ اگر وُہ اپنے حقُوق کو نظر انداز کرتے ہیں تو خُداوند مسیح کے تختِ عدالت کے دِن نُقصان اُٹھائیں گے۔ اُن سے شریعت کے ماتحت لوگوں کی نسبت زیادہ توقع کی جاتی ہے اور آنے والے دِنوں میں اَور بھی زیادہ کی جائیگی۔ ’’آؤ اُس کی ذِلّت کو اپنے اُوپر لِئے ہُوئے خیمہ گاہ سے باہر اُس کے پاس چلیں‘‘ (عبرانیوں۱۳:۱۳)۔