عِبرانیوں کے نام کا خط ۲

۲۔ یسؔوع المسیح اپنی کہانت میں افضل ہے (۴: ۱۴-۱۰: ۱۸)

الف۔ المسیح کی کہانت ہارؔون سے افضل ہے(۱۴:۴-۷: ۲۸)-

۱۴:۴۔ اِن آیات میں مُصَنِّف کے اُنہی خیالات کا اعادہ کیا گیا ہے جِن کو اُس نے ۳: ۱ میں مُتعارف کرایا ہے ــــــــــــــ مسیح اپنے لوگوں کا ’’بڑا سردار کا ہن‘‘ ہے۔ وُہ اُسے اپنے لوگوں کے عظیم سہارے کے طور پر پیش کرتی ہیں جو اپنے ضرُورت مند پَیروکاروں کو گرنے سے بچا سکتا ہے۔ نیز وُہ ’’کلام بطورمُمتحِن‘‘ پر زور دینے کی بجائے اب ’’خُداوند بطور ہمدرد‘‘ پر زور دینے لگتی ہیں۔ جب کلام نے ہم پر سے ہر طرح کا پَردہ اُٹھا لِیا ہے (آیات ۱۲، ۱۳) تب ہم اُس کے پاس رحِم اور فضل کے لئے جا سکتے ہیں۔

آئیے اپنے شاندار خُداوند کی افضلیت پرغورکریں:

ا۔ وُہ ’’بڑا سردار کاہن ہے‘‘۔ مُوسوی نظام کے تحت متعدد سردار کاہن تھے لیکن اُن میں سے کِسی کو بھی بڑا نہیں کہا جاتا تھا۔

۲۔ وُہ سِتاروں سے ’’گُزر‘‘ کر خُدا کی سکُونت گاہ تک پُہنچ گیا۔ یہ بلاشُبہ اُس کے صعُودِ آسمانی اور باپ کے دہنے ہاتھ سرفرازی کی طرف اشارہ ہے۔

۳۔ وُہ اِنسان ہے۔ اُس کی پَیدائِش پر اُسے ’’یسؔوع‘‘ نام دِیا گیا اور اِس نام کو خاص طور پراُس کی اِنسانیت سے مُنسلک سمجھا جاتا ہے۔

۴۔ وُہ الہٰی ذات ہے۔ جب ’’خُدا کے بیٹے‘‘ کو مسیح کہا جاتا ہے تو یہ اُس کے خُدا باپ کے برابر ہونے کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ اُس کی اِنسانیت نے اُسے ہمارے نُقطئہ نظر سے سردار کاہن ہونے کا اہل بنا دِیا اوراُس کی الوُہیّت نے خُدا کے نقطئہ نگاہ سے۔ پَس اِس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ اُسے ’’بڑا سردار کاہن‘‘ کہا جاتا ہے۔

۱۵:۴- پھِرہمیں اُس کے تجربہ پر بھی غور کرنا چاہئے۔ کوئی بھی اُس وقت تک حقیقتاً کِسی کا ہمدرد نہیں ہو سکتا جب تک کہ وُہ خُود اُسی قِسم کے تجربہ سے نہ گُزرا ہو۔ ہمارا خداوند بطور اِنسان ہمارے تجربات میں سے گُزرا اِس لئے وُہ ہماری آزمائشوں کو سمجھ سکتا ہے (وُہ ہماری غَلط کاریوں میں ہمارا ہمدرد نہیں ہو سکتا کیونکہ اُسے اِس کا تجربہ نہیں تھا)۔

وُہ ہماری طرح سب باتوں میں ’’آزمایا‘‘ گیا لیکن اِس کے باوجُود بھی وُہ ’’بے گُناہ رہا‘‘۔ کلامِ پاک المسیح کی بے گُناہی کی بڑے پُرزور طریقے سے حفاظت کرتا ہے اور ہمیں بھی ویسا ہی کرنا چاہئے۔ وُہ گُناہ سے واقِف نہ تھا (۲- کرنتھیوں ۵:۲۱)۔ نہ اُس نے گُناہ کِیا (۱۔ پَطرس ۲:۲۲) اور نہ اُس میں گناہ تھا (۱- يُوحَنّا ۳:۵)-

اُس کے لئے بطور خُدا یا بطوراِنسان گُناہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ بطور کامِل انسان وہ اپنی مرضی سے کُچھ نہیں کر سکتا تھا۔ وُہ مکمّل طور پر باپ کا فرمانبردار تھا (یُوحَنّا ۵: ۱۹)-

اب یہ کہنا کہ اگر وُہ گُناہ نہیں کر سکتا تھا تواُس کی آزمائِشیں بے معنی ہیں، گمراہ کُن ہے۔ آزمائِشوں کا ایک مقصد یہ تھا کہ ثابت ہو جائے کہ وُہ گناہ کر ہی نہیں سکتا۔

اگر آپ سونے کو جانچنا چاہتے ہیں تو جانچ اِس لئے غیر ضرُوری نہیں بن جاتی کہ سونا خالص ہے۔ اگراُس میں مِلاوٹ ہے تو جانچ ظاہر کر دے گی۔ بعینہ یہ کہنا غَلط ہے کہ اگروُہ گُناہ نہیں کرسکتا تھا تو وہ پُورے طور پر اِنسان نہیں تھا۔ اِنسانیت میں گُناہ لازمی عُنصر نہیں ہے بلکہ یہ ایک بیرُونی حملہ آور ہے۔ ہماری اِنسانیت کو گُناہ نے بگاڑ کر رکھ دیا ہے، جبکہ اُس کی اِنسانیت کامِل ہے۔

اگر یسؔوع زمین پر گُناہ کر سکتا ہوتا تو بطور اِنسان اُسے آسمان میں گُناہ کرنے سے کون سی چِیز روک سکتی ہے؟ جب وہ باپ کے دہنے بیٹھا تو وُہ اپنی انسانیت پیچھے نہیں چھوڑ گیا۔ وُہ زمین پر گُناہ نہیں کر سکتا تھا، اِس لئے وُہ آسمان پر بھی گُناہ نہیں کر سکتا۔

۱۶:۴- اب پُر فضل دعوت کا دائِرہ وسیع ہوتا ہے: ’’فضل کے تخت کے پاس‘‘ دلیری سے چلیں۔ ہماری دلیری کی بنیاد یہ عِلم ہے کہ وُہ ہمیں بچانے کے لئے مؤا اور کہ وُہ ہمیں قائم رکھنے کے لئے زِندہ ہے۔ ہمیں پُرجوش خیر مقدم کا یقین ہے کیونکہ اُس نے خُود ہمیں’’آنے‘‘ کو کہا ہے۔

اب پُر فضل دعوت کا دائِرہ وسیع ہوتا ہے: ’’فضل کے تخت کے پاس‘‘ دلیری سے چلیں۔ ہماری دلیری کی بنیاد یہ عِلم ہے کہ وُہ ہمیں بچانے کے لئے مؤا اور کہ وُہ ہمیں قائم رکھنے کے لئے زِندہ ہے۔ ہمیں پُرجوش خیر مقدم کا یقین ہے کیونکہ اُس نے خُود ہمیں’’آنے‘‘ کو کہا ہے۔

عہدِ عتیق کے لوگ براہِ راست اُس کے پاس نہیں جا سکتے تھے۔ صِرف سردار کاہن ہی جا سکتا تھا اور وُہ بھی سال میں فقط ایک مرتبہ۔ ہم رات یا دِن کِسی وقت بھی اُس کی حضُوری میں جا سکتے اور ’’وہ فضل حاصِل‘‘ کر سکتے ہیں ’’جو ضرُورت کے وقت ہماری مدد کرے‘‘۔ اُس کا ’’رحم‘‘ اُن باتوں کو ڈھانپ دیتا ہے جو ہمیں نہیں کرنی چاہئے تھیں۔ اور اُس کا ’’فضل‘‘ ہمیں قُوّت دیتا ہے کہ وُہی کریں جو ہمیں کرنا چاہیئے لیکن جِسے کرنے کی قوّت نہیں رکھتے۔

مِسٹر مورگنؔ رقم طراز ہیں :

مَیں ہمیشہ یہ بتاتا رہتا ہُوں کہ جِس یُونانی مُحاورے کا ترجمہ ’’ضرُورت کے وقت‘‘ کِیا گیا ہے وُہ عام بول چال میں ’’عین موقع پر‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ’’عین موقع پر‘‘ فضل حاصِل کر سکتے ہیں۔ جہاں اور جب ضرُورت ہو فضل موجُود ہے۔ آپ پر آزمائِش حملہ کرتی ہے۔ حملہ کے وقت آپ مسیح کی طرف دیکھیں اور فضل ’’عین موقع پر‘‘ آپ کی مَدد کے لئے موجُود ہو گا۔ آپ اپنی درخواست کو شام کی دُعا کے وقت تک اُٹھا نہ رکھیں، بلکہ شہر کی گلی میں جب شُعلہ زَن آزمائِش آپ کے سامنے ہے تو مَدد کے لئے مسیح کو پُکاریں اور فضل ’’عین موقع پر‘‘ آپ کی مدد کے لئے آموجُود ہوگا۔

اَب تک یسؔوع انبیاء، فِرشتگان اور مُوسؔیٰ سے افضل ثابت کر دیا گیا ہے۔ اب ہم کہانت کے اہم مضمُون کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، یہ دیکھنے کے لئے کہ مسیح کی کہانت ہارُوؔن کی کہانت سے افضل ہے۔ جب خُدا نے کوہِ سؔینا پر مُوسؔیٰ کو شریعت دی تو اُس نے اِنسانی سِلسلہ کہانت قائم کیا تا کہ لوگ کاہنوں کی معرفت خُدا کے نزدیک جا سکیں۔ اُس نے حُکم دیا کہ کاہن لاوؔی کے قبیلہ اور ہارُوؔن کے خاندان سے ہوں۔ اِس سِلسلہ کو لاوی یا ہارُونی کہانت کہتے ہیں۔

عہدِعتیق میں خُدا کی طرف سے مقرر کردہ ایک اور کہانت کا ذِکر مِلتا ہے۔ وُہ کہانت بزرگ مَلکِ صِدؔق سالم کی تھی۔ یہ شخص شریعت دِئے جانے سے بُہت عرصہ پہلے ابرؔہام کے زمانہ میں تھا اور یہ بادشاہ اور کاہن دونوں تھا۔ زیرِ نظر حوالہ میں مُصنِّف دِکھائے گا کہ یسؔوع مسیح مَلکِ صِؔدق کے طریق پر کاہن ہے اور یہ ہارُونی کہانت سے افضل ہے۔ پہلی چار آیات میں ہمیں ہارؔون کی کہانت کا بیان مِلتا ہے۔ پھِر آیات ۵ – ۰ا میں مسیح کی بطور کاہن موزُونیت کی تفصیل ہے اور وُہ بھی زیادہ تر موازنے کی صُورت میں۔

۱:۵- ہارُونی ’’کاہن‘‘ کی پہلی شرط یہ تھی کہ وُہ ’’آدمیوں میں سے‘‘ چُنا جائے۔ بالفاظِ دیگر وُہ خُود بھی اِنسان ہو۔ اُسے ’’خُدا‘‘ کے ساتھ تعلق کے سِلسلے میں ’’آدمیوں‘‘ کے لئے مقرر کیا جاتا تھا۔ وُہ آدمیوں کی خاص ذات سے تعلق رکھتا تھا جو خُدا اور اِنسان کے درمیان بطور درمیانی خِدمت انجام دیتا تھا۔ اُس کا ایک بڑا کام یہ تھا کہ وُہ ’’نذریں اور گُناہوں کی قُربانیاں گُزرانے‘‘۔ نَذریں اُن ہَدیوں کو ظاہر کرتی ہیں جو خُدا کے حضُور پیش کئے جاتے تھے۔ قُربانیاں اُن ہَدیوں کو ظاہر کرتی ہیں جن میں گُناہوں کے کفّارہ کے لئے خُون بہایا جاتا تھا۔

۲:۵- وُہ اِنسانی کمزوریوں کے پیش نظر نادانوں اور گُمراہوں سے’’نرمی سے‘‘ پیش آتا تھا۔

ُہ اپنی کمزور جِسمانی حالت کے باعِث ہی اُن مسائِل کو جو اُس کے لوگوں کو درپیش تھے سمجھ سکتا تھا۔ اِس آیت میں ’’نادانوں‘‘ اور گمُراہوں کا حَوالہ ہے وُہ اِس بات کی یاد دہانی ہے کہ پُرانے عہد نامہ کی قُربانیاں صِرف نادانِستہ گناہوں کے لئے دی جاتی تھیں۔ شریعت میں دانِستہ گُناہوں کی مُعافی کا کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا تھا۔

۳:۵- لیکن جب کہ کاہن کی اِنسانیت فائِدہ مند تھی تو اُس کی گنہگار اِنسانیت نُقصان کا سبب بھی تھی۔ وُہ نہ صِرف ’’اُمّت‘‘ کے ’’گُناہوں‘‘ کے لئے قُربانی گزرانتا تھا بلکہ ’’اپنی طرف سے بھی‘‘ چڑھاتا تھا۔

۴:۵- کاہن کا عہُدہ، اَیسا نہیں تھا جِسے آدمی خُود اپنے لئے مُنتخِب کرتا تھا۔ اُسے ’’ہاروُؔن کی طرح خُدا کی طرف سے بُلایا‘‘ جاتا تھا۔ خُدا کی یہ بُلا ہٹ صِرف ہارُوؔن اور اُس کی اولاد کے لئے مخصُوص تھی۔ اُس کے خاندان سے باہر کوئی شخص بھی خیمہ اجتماع یا ہیکل میں خدمت نہیں کر سکتا تھا۔

۵:۵- مُصنِّف اَب مسیح کی طرف مُڑتا ہے اور اُسے کاہن ہونے کے لئے مَوزُوں قرار دیتا ہے۔ اِس کی وجہ اُس کا الہیٰ تقرّر، اُس کی ظاہر شُدہ اِنسانیت اور اِس منصب کے لئے اُس کی اہلیت تھی۔

جہاں تک اُس کے تقرّر کا تعلق ہے یہ خُدا نے خُود کِیا تھا۔ یہ خُدا کی بُلاہٹ تھی جس کا اِنسانی نسب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اِس میں زمینی کاہن کی نِسبت کہیں بہتر تعلق شامِل تھا۔ ہمارا ’’کاہن‘‘ خُدا کا لاثانی ’’بیٹا‘‘ ہَے۔ وُہ ازل سے پیدا ہؤا، تجسُّم میں پَیدا ہؤا اور جی اُٹھنے میں ’’پیدا‘‘ ہؤا۔

۶:۵- پھِر مسیح کی کہانت زیادہ بہتر کہانت ہے کیونکہ خُدا اعلان کرتا ہے کہ وہ ’’مَلکِ صؔدق کے طریقے کا اَبد تک کا ہن ہے‘‘۔ اِس فضیلت کو باب ۷ میں اَور بھی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں نُمایاں خیال یہ ہے کہ ہاروُنی کہانت کے برعکس یہ ’’ابد تک‘‘ ہے۔

۷:۵- مسیح نہ صِرف خُدا کا بے گُناہ بیٹا ہے بلکہ حقیقی اِنسان بھی ہے۔ اِس بات کو ثابت کرنے کے لئے مُصنِّف اُس سے مُختلف اِنسانی تجربات کو بیان کرتا ہے جن سے وُہ ’’اپنی بشریت کے دِنوں میں‘‘ گُزرا۔ اُن الفاظ پر غور کریں جو اُس کی زِندگی کو اور خاص طور پر اُس کے گتسؔمنی باغ میں تجربہ کو بیان کرتے ہیں: ’’زور زور سے پُکار کر اور آنسُو بہا بہا کر اُسی سے دُعائیں اور التجائیں کیں‘‘۔ یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ وُہ خُود مُختار آدمی نہیں تھا بلکہ اُس نے خُدا کی فرمانبرداری میں زِندگی بسر کی اور وُہ آدمیوں کے اُن تمام احساسات و جذبات میں شامِل رہا جِن کا گُناہ سے تعلق نہیں ہے۔ مسیح کی دُعا کا یہ مقصد کبھی نہیں تھا کہ وُہ مَرنے سے بچ جائے کیونکہ آخر اُس کے اِس دُنیا میں آنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ وُہ گنہگاروں کے لئے مَوت سہے (یُوحَنّا ۱۲:۲۷)۔ اُس کی مَوت سے بچائے جانے کی دُعا کا مقصد یہ تھا کہ اُس کی رُوح عالمِ ارواح میں نہ پڑی رہے۔ خُدا نے اُس کی اِس دُعا کو قبول کیا اور اُسے مُردوں میں سے زِندہ کِیا۔ ’’خُدا ترسی کے سبب سے اُس کی سُنی گئی‘‘۔

۸:۵- یہاں ایک مرتبہ پھر ہمیں اُسکے تجسُّم کے گہرے بھید کا سامنا ہَے یعنی خُدا کِس طرح اِنسان کی خاطر مرنے کے لئے اِنسان بن سکتا ہے۔

اگرچہ وُہ ’’بیٹا‘‘ ہے لیکن وُہ بہُت سے بیٹوں میں سے ایک نہیں ہے بلکہ وُہ خُدا کا اِکلوتا بیٹا ہے۔ اِس حقیقت کے باوجُود بھی ’’اُس نے دُکھ اُٹھا اٹھا کر فرمانبرداری سیکھی‘‘۔ وُہ اِس جہان میں بطور اِنسان داخِل ہؤا اور اُسے وُہ تجربات حاصِل ہُوئے جو اگر وُہ آسمان میں رہتا تو کبھی حاصِل نہ ہو سکتے تھے۔ ہر صبُح باپ اُس کے کان کھولتا تھا تا کہ اُس دِن کے لئے اپنی ہدایات اُس کے کانوں میں ڈالے (یسعیاہ۴:۵۰)۔ اُس نے بطور بیٹا جو کہ ہمیشہ ہی اپنے باپ کی مرضی کی اطاعت کرتا تھا تجرباتی طور پر ’’فرمانبرداری سیکھی‘‘۔

۹:۵- ’’اورکامِل بن کر‘‘۔ اِس کا اِشارہ اُس کے ذاتی کِردار کی طرف نہیں ہے کیونکہ خُداوند یسؔوع قطعی کامِل تھا۔ اُس کے اقوال وافعال اور طور طریقے قطعی بے عیب تھے۔ تو پھر وُہ کِن معنوں میں ’’کامِل‘‘ کِیا گیا؟ اِس کا جواب ہے : نجات دہندہ کے منصب کے لِحاظ سے۔ اگر وُہ آسمان میں رہتا تو وُہ کبھی بھی ہمارا کامل نجات دہندہ نہ بن سکتا۔ لیکن اُس نے اپنے تجسُّم، موت، کَفن دفن، قیامت اور صُعُودِ آسمانی کے ذریعہ اُن کاموں کو مکمل کِیا جو نجات کے لئے ضرُوری تھے، اوراَب وُہ دُنیا کے کامِل نجات دہندہ کے طور پر جلال حاصِل کر چُکا ہے۔

آسمان پر واپس جانے کے باعث وُہ ’’سب فرمانبرداروں کے لئے اَبدی نجات کا باعث ہؤا‘‘۔ وُہ تمام اِنسانوں کے لئے نجات کا منبع ہے لیکن نجات صِرف وُہی پائیں گے جو اُس کی ’’فرمانبرداری‘‘ کرتے ہیں۔

یہاں نجات کو اُس کی فرمانبرداری سے مشرُوط کیا گیا ہے۔ لیکن دِیگر حوالوں میں ایمان کو نجات کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ ہم اِس تضاد میں مُطابقت کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلی بات، یہ اِیمان کی فرمانبرداری ہی ہے (رومیوں۱: ۵؛ ۱۶: ۲۵۔۲۷)- خُدا نے اپنے کلام میں جِس قِسم کی فرمانبرداری بتائی ہے وُہ ایمان ہے۔ لیکن یہ بھی درُست ہے کہ نجات بخش اِیمان وُہ ہے جِس کا نتیجہ فرمانبرداری کی صُورت میں نِکلتا ہے۔ فرمانبرداری کے بغیر ایمان لانا نا ممکن ہے۔

۱۰:۵- کہانت سے بُنیادی کام کوشان دار طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد، خُدا نے خُداوند یسؔوع کے بارے میں فرمایا کہ وُہ ’’مَلکِ صؔدِق کے طریقہ‘‘ کا ’’سردار کاہن‘‘ ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضرُوری ہے کہ اگرچہ مسیح کی کہانت مَلکِ صؔدق کے طریق کی ہے، تاہم اُس نے اپنی کہانت کے کام کو ہارُونی کاہنوں کے طریقے پر انجام دِیا۔ دَرحقیقت یہُودی کاہنوں کی خِدمت اُس کام کی جو مسیح انجام دینے کو تھا عکس یا تصویر تھی۔

۱۱:۵- اِس نکتہ پر مُصنِّف تھوڑا سا تصُّرف کرنا چاہتا ہے۔ وُہ مسیح کے ملکِ صِدؔق کے طریق پر کاہن ہونے کے موضُوع کو جاری رکھنا چاہتا ہے لیکن وُہ ایسا کر نہیں سکتا۔ خُدا کے زیرِ ہدایت ہونے کے باعِث وُہ اَپنے قارئین کو اُن کی ناپُختگی پر ملامت کرنے اور گُمراہ ہونے کے خَطرہ کی سنگینی کے بارے میں آگاہ کرنے پر مجبُور ہے۔

یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ اِلہیٰ سچائی کے بارے میں ہماری سمجھ ہماری رُوحانی حالت کی کمزوری کے باعِث محدُود ہے۔ ’’اُونچاسُننے‘‘ والے کان گہری سچّائی کو پا نہیں سکتے۔ جِس طرح یہ شاگِردوں کے بارے میں سچ تھا اُسی طرح یہ اکثر ہمارے مُتعلق بھی سچ ہے کہ خُداوند ہمیں بُہت سی باتیں کہنا چاہتا ہے لیکن ہم ان کو برداشت نہیں کر سکتے (یُوحَنّا ۱۲:۱۶)-

۱۲:۵- مُصنِّف عِبرانی مسیحیوں کو یاد دِلاتا ہے کہ اُنہیں مُدّت سے تعلیم دی جا رہی ہے اور اَب تک اُنہیں دُوسروں کو سِکھانے کے قابل ہو جانا چاہئے تھا۔ لیکن المّیہ یہ تھا کہ ضُرورت تھی کہ اب بھی ’’کوئی شخص‘‘ اُنہیں ’’خُدا کے کلام‘‘ کی الِف ب سِکھائے۔

’’تُمہیں اُستاد ہونا چاہئے تھا‘‘۔ خُدا کی مَرضی یہ ہے کہ ہر ایک اِیمان دار اِس حد تک ترقی کرے کہ وُہ دُوسروں کو سِکھا سکے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ تعلیم دینے یا سِکھانے کی نعمت کِسی کِسی کو مِلتی ہے، تاہم یہ بھی سچ ہے کہ ہر ایک ایمان دار کو کسی نہ کسی صُورت میں سکھانے کی خِدمت میں مصرُوف ہونا چاہئے۔ خُدا کا مقصد کبھی یہ نہیں تھا کہ یہ کام صِرف چند افراد تک ہی محدُود رہے۔ ’’سخت غِذا کی جگہ تُمہیں دُودھ پِینے کی حاجت پڑ گئی‘‘۔ جِسمانی لِحاظ سے اگر کوئی بچّہ دُودھ چھوڑ کر ٹھوس غذا اِستعمال نہیں کرتا تو وُہ کمزور ہے اور صِحت مند نہیں۔ بعینہ رُوحانی دُنیا میں بھی بَونے ہیں جن کی رُوحانی نشو و نُما رُک گئی ہے (۱۔ کرنتھیوں ۳:۲)۔

۱۳:۵- بچّے مسیحی جو اَبھی تک دُودھ پیتے ہیں اُنہیں ’’راست بازی کے کلام کا تجربہ نہیں ہوتا‘‘۔

وُہ کلام کے سُننے والے ہوتے ہیں اُس پر عَمل کرنے والے نہیں۔ جِس بات کو وُہ اِستعمال نہیں کرتے اُسے کھو بیٹھتے ہیں اور دائمی بَچپنے کی حالت میں رہتے ہیں۔ اُنہیں رُوحانی باتوں کی گہری سمجھ نہیں ہوتی اور وُہ ’’آدمیوں کی بازیگری اَور مکّاری کے سبب سے اُن کے گُمراہ کرنے والے منصُوبوں کی طرف ہر ایک تعلیم کے جھوکے سے مَوجوں کی طرح اُچھلتے بہتے‘‘ پھِرتے ہیں (اِفسِیوں ۴ :۱۴)۔

۱۴:۵- ’’سخت‘‘ رُوحانی ’’غِذا‘‘ پُوری عُمر کے لوگوں کے لئے ہوتی ہے ’’جِنکے حواس کام کرتے کرتے نیک وبَد میں اِمتیاز کرنے کے لئے تیز‘‘ ہو جاتے ہیں۔ اُنہیں خُدا کے کلام سے جو روشنی مِلی ہوتی ہے اُس کی فرمانبرداری کرنے کے باعث وُہ رُوحانی رائے قائم کرنے کے قابل بن جاتے اور خُود کو اخلاقی اور تعلیمی خطرات سے بچالیتے ہیں۔

اِس حوالہ میں جِس ’’نیک وبَد‘‘ میں تمیز کرنے کے لئے قارئین پر زور دیا گیا ہے اُس کا تعلق مسیحیت اور یہُودیت سے ہے۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہُودیت بذاتہ بُری تھی۔ خُدا نے ہارُونی کہانت کو خُود مُتعارف کرایا تھا۔ لیکن اُسے مسیح کی طرف اِشارہ کرنا تھا۔ مسیح رسمی تمثیلوں اور سایوں کی تکمیل ہے۔ چونکہ اب مسیح آچکا ہے اِس لئے اُن تصویروں کی طرف مُڑنا گُناہ ہے۔ کوئی بھی چِیز جو آدمی کے جذبات اور وفاداری میں مسیح کی رقیب بنتی ہے بُری ہے۔ رُوحانی طور پر بالغ مسیحی ہاروُنی کہانت کے گھٹیا پن اور مسیح کی افضلیت میں فرق کو پہچان لیتے ہیں۔

۱:۶- جِس تنبیہ کو۵: ۱۱ میں شُروع کِیا گیا وُہ اِس سارے باب میں بھی جاری رہتی ہے۔ یہ حوالہ سارے نئےعہد میں سب سے زیادہ متنازُع ہے۔ چونکہ متعدد خُدا پرست مسیحیوں میں اِس کی تشرِیح میں اِختلاف ہے اِس لئے ہمیں اِس کے بارے میں بات کرتے ہُوئے ہٹ دھرمی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ ہم یہاں وُہ تشرِیح پیش کرتے ہیں جو ہماری دانِست میں متن اور باقی نئے عہد نامہ کے ساتھ سب سے زیادہ مُطابقت رکھتی ہے۔

سب سے پہلے یہاں قارئِین کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وُہ ’’مسیح کی تعلیم کی اِبتدائی باتیں‘‘ پیچھے چھوڑ دیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اِس کا اِشارہ مذہب کی اُن بُنیادی تعلیمات کی طرف ہے جو عہدِعتیق میں سکھائی گئی تھیں اور جن کا مقصد المسیح کی آمد کے لئے بنی اِسرائیل کو تیار کرنا تھا۔ اِن تعلیمات کی فہرست پہلی آیت کے آخری حصِّے اور دُوسری آیت میں دی گئی ہے۔ یہ مسیحیت کی بُنیادی تعلیمات نہیں ہیں بلکہ اِبتدائی نوعیّت کی ہیں جو کہ بعد کی عمارت کی بُنیاد بن گئیں۔ یہ مسیح کے جی اُٹھنے اور اُس کے جلال ملنے سے کم تَر ہیں۔ نصیحت یہ ہے کہ اِن بُنیادوں کو ترک کر دیں لیکن اِس صُورت میں نہیں کہ اِنہیں بے کار سمجھ کر چھوڑ دیں بلکہ یہ سمجھتے ہُوئے کہ یہ پہلا قدم ہیں جِن سے بلوغت کی طرف بڑھا جاتا ہے۔ اِطلاق یہ ہے کہ یہُودیت کا زمانہ رُوحانی بچپن کا زمانہ تھا جبکہ مسیحیت پُوری بلُوغت کو پیش کرتی ہے۔

جب بُنیاد رکھی جا چُکی ہے تو اگلا قدم اُس پر تعمیر کرنے کا ہوتا ہے۔ تعلیمی بُنیاد عہدعتیق میں رکھ دی گئی تھی۔ یہاں جِن چھ بنیادی تعلِیمات کا ذِکر ہے وُہ اُس میں شامل ہیں۔ یہ بمِثل نُقطہ آغاز کے ہیں۔ نئے عہد نامہ کی عظیم سچّائیاں جن کا تعلق مسیح، اُس کی شخصیّت اور اُس کے کاموں سے ہے وُہ اُس کی بلوُغت کی نمائِندگی کرتی ہیں۔ عہدِعتیق کی پہلی تعلیم ’’مُردہ کاموں سے توبہ کہ نا‘‘ ہَے۔ اِس کی منادی انبیاء نے، نِیز المسیح کے پیش رَونے بھی متواتر کی ۔ اُن سَب نے لوگوں کو اُن ’’کاموں‘‘ سے دُور رہنے کو کہا جو اِن معنوں میں ’’مُردہ‘‘ تھے کہ وُہ ایمان سے خالی تھے۔

یہاں’’مُردہ کاموں‘‘ کا اُن کاموں کی طرف بھی اشارہ ہے جو پہلے عہدِعتیق میں درُست تھے لیکن مسیح کی آمد سے’’مُردہ‘‘ بن گئے۔ مثلاً وُہ تمام خِدمات جِن کا تعلق ہیکل کی پرستِش سے تھا مسیح کے کفّارہ بخش کام کے باعث متُروک ہوگئیں۔

پھر مُصِّنف یہاں جِس ایمان کا ذِکر کرتا ہے اُس کا تعلق خُدا سے ہے۔ اِس پر عہدِعتیق میں بھی بُہت زور دیا گیا ہے۔ تاہم نئے عہد نامہ میں ایمان کا محور مسیح ہے۔

لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اِس نے خُدا پر ایمان کی جگہ لے لی ہے بلکہ یہ کہ اگر خُدا پر ایمان میں مسیح پر ایمان شامل نہیں تو اَب وہ ایمان نہیں ہے۔

۲:۶- بپتِسمہ کے مُتعلق ہدایت مسیحی بپتِسمہ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق رسمی طہارت سے ہے جو کہ اِسرائیل کے کاہنوں اور عوام کی مذہبی زِندگی میں بڑی نمایاں تھی (۹: ۱۰بھی دیکھئے)۔ ’’ہاتھ رکھنے‘‘ کی رسم کو احبار ۴:۱؛ ۳: ۲؛ ۲۱:۱۶ میں بیان کِیا گیا ہے۔ قُربانی دینے والا یا کاہن قُربانی کے جانور پر یہ ظاہر کرنے کے لئے ہاتھ رکھتا تھا کہ جانور اُس کی جگہ لے رہا ہے۔ تمثیلی طور پہ وُہ جانوراُن لوگوں کے جو اُس سے منسُوب ہوتے تھے گُناہ اُٹھا لیتا تھا۔ یہ رسم عِوضی کفّارہ کو ظاہر کرتی ہے۔ ہمارے نزدیک اِس کا ہاتھ رکھنے کی اُس رسم سے کوئی تعلق نہیں جو رسُول اور ابتدائی کلیسیا ادا کیا کرتے تھے (اعمال ۱۷:۸؛ ۳:۱۳؛ ۶:۱۹)-

’’مُردوں کے جی اُٹھنے‘‘ کی تعلیم ایُوب ۱۹:۲۵-۲۷ ؛ زبُور ۱۷: ۱۵ میں دی گئی ہے اور اِس کا اِطلاق بیسعیاہ ۱۰:۵۳-۱۲ میں ہے جو عہدِعتیق میں بڑا مُبہم سا نظر آتا ہے اُسے نئے عہد نامہ میں بڑے واضح اور روشن طریقے سے بیان کیا گیا ہے (۲- تیمتھیُس ۱۰:۱)-

عہدِعتیق کی آخری بُنیا دی سچائی ’’ابدی عدالت‘‘ تھی (زبُور۹: ۱۷؛ یَسعیاہ ۶۶: ۲۴)-

یہ ابتدائی اصُول یہُودیت کی نمائِندگی کرتے تھے۔ وُہ مسیح کی آمد کی تیاری تھے۔ مسیحیوں کو اِن پر ہی مُطمِئن ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہئے بلکہ اُس مُکاشفہ کی طرف قَدم بڑھائیں جِسے مسیح میں اَب پُوری طرح واضِح کر دیا گیا ہے۔ قارئین پر زور دیا گیا ہے کہ وُہ ’’سایہ کی بجائے حقیقت سے، تمثیل کی بجائے اصل سے، چھِلکے کی بجائے مَغز سے اور اپنے بزُرگوں کی مُردہ رسموں کی بجائے مسیح میں زِندہ حقیقتوں سے‘‘ رجُوع کریں۔

۳:۶- مُصنِّف اِس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ اگر ’’خُدا چاہے تو ہم یہی کریں گے‘‘۔ لیکن محُدودیت کے عُنصر کا تعلق اُن سے ہے نہ کہ خُدا سے ۔ خُدا اُنہیں بلوُغت تک پُہنچنے کے قابِل بنا دے گا بشرطیکہ وُہ سچّے ایمان پر صَبر سے قائم رہیں۔

۴:۶- اب ہم برگشتگی کے بارے میں تنبیہ کے مرکز پر پہُنچ گئے ہیں۔ اِس کا اطلاق اُن لوگوں پر ہوتا ہے جن کو توبہ کے لِئے بحال کرنا ’’ناممکِن‘‘ ہے۔ بظاہرتواُنہوں نے توبہ کی تھی (اگرچہ یہاں اُن کے مسیح پر ایمان کا ذِکر نہیں ہے)۔ یہاں پر صاف طور سے بتایا گیا ہے کہ توبہ کی تجدید ناممکن ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ اِس کا جواب آیات ۴ اور۵ میں دِیا گیا ہے۔ اُن بڑے حقُوق کا مُطالعہ کرنے سے معلوُم ہوتا ہے کہ یہ باتیں اُن لوگوں پر بھی صادِق آسکتی ہیں جو نجات یافتہ نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ یہاں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ وُہ نئے سِرے سے پَیدا ہُوئے تھے۔ اور نہ بچانے والے ایمان، مسیح کے خُون سے مخلصی یا ابدی زندگی کا ہی ذِکر ہے۔

’’ایک بار‘‘ وہ ’’روشن ہو گئے‘‘ تھے۔ اُنہوں نے خُدا کے فضل کی خُوشخبری کو سُنا تھا۔ وُہ راہِ نجات کے بارے میں تاریکی میں نہیں تھے۔ یہُوؔداہ اِسکریوتی کو بھی روشنی ملِی تھی مگر اُس نے اُسے ردّ کر دیا تھا۔

’’وُہ آسمانی بخشش کا مزہ چکھ چُکے‘‘ ہیں۔ خُداوند یسؔوع مسیح آسمانی بخشش ہے۔ اُنہوں نے اُسے چکھا ہے لیکن سچّے ایمان سے اُسے قبُول نہیں کیا ہے۔ کھائے یا پِئے بغیر چکھنا ممکن ہے۔ جب آدمیوں نے مسیح کو صلیب پرپِت مِلی ہُوئی مَے پِینے کو دی تو اُس نے اُسے چکھا لیکن پِیا نہیں
(متّی۲۷: ۳۴)۔ مسیح کو چکھنا کافی نہیں ہے جب تک کہ ہم ابِن آدؔم کا گوشت نہ کھائیں اور اُس کا خُون نہ پئیں یعنی جب تک ہم اُسے حقیقی طور پر اپنا خُداوند اور نجات دہندہ قبول نہیں کرتے ہم میں زِندگی نہیں (یُوحَنّا ۵۳:۶)۔

’’روُحُ القُدس میں شریک ہو گئے‘‘ ہیں۔ اِس سے پیشتر کہ ہم اِس نتیجہ پر پہنچیں کہ اِس کا بدیہی مطلب نئی پَیدائِش ہے، ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ رُوحُ القُدس آدمیوں کی زِندگی میں اُن کی نئی پیدائِش سے پہلے بھی سرگرمِ عمل ہوتا ہے۔ وُہ بے ایمانوں کو بھی پاک کرتا ہے (۱۔ کرنتھیوں۱۴:۷) اور اُنہیں خارجی حقُوق حاصِل کرنے کے لائق بنا دیتا ہے۔ وُہ بے اِیمانوں کو گناہ، راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصُور وار ٹھہراتا ہے۔ وُہ آدمیوں کی نوبت توبہ تک لاتا ہے اور اُن کی واحِد اُمید مسیح کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ اِس طرح وُہ پاک رُوح کے دِل میں سکونت نہ کرنے کے باوجُود اُس کے فوائِد میں شریک ہوتے ہیں۔

۵:۶- وُہ ’’خُدا کے عمُدہ کلام‘‘ کا مزہ لے چُکے۔ جب اُنہوں نے خوشخبری کی منادی کو سُنا تو اُن میں ایک عجیب تحریک پَیدا ہُوئی اور وُہ اُس کی طرف کھِنچنے لگے۔ وُہ اُس بِیج کی مانند تھے جو پتھریلی زمین پر گِرا۔ اُنہوں نے کلام کو سُنا اور فوراً ہی خوشی سے قبول کر لیا لیکن اُس نے اُن میں جَڑ نہ پکڑی۔ وُہ کُچھ عرصہ تو وفادار رہے لیکن جب اُن کو کلام کے سبب سے مُصیبت یا ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا توفَوراً برگشتہ ہو گئے۔

وُہ ’’آئندہ جہان کی قوّتوں کا ذائِقہ لے چُکے‘‘۔ ’’آئِندہ جہان‘‘ ہزار سالہ حکوُمت ہے کہ جب مسیح زمین پر ایک ہزار سال حکُومت کرے گا۔ یہ زمانہ اَمن و امان اور خوشحالی کا ہو گا۔ کلیسیا کے ابتدائی ایّام میں منادی کے ساتھ جو مُعجزات وقُوع پذیر ہُوئے (عِبرانیوں ۴:۲) وُہ اُن نشانات اور عجیب کاموں کا جومسیح کی حکُومت میں کِئے جائیں گے پیشگی مزہ چکھنا تھا۔ اِن لوگوں نے پہلی صدی عِیسوی میں اُن کا مشاہدہ کیا تھا اور حقیقت تو یہ ہے کہ وُہ خود بھی اُن میں شریک تھے۔ مثلاً روٹیوں اور مچھلیوں کے مُعجزہ ہی کو لیں۔ جب مسیح نے پانچ ہزار کو سیر کیا تو لوگ جھِیل کی دُوسری طرف بھی اُس کے پِیچھے پِیچھے گئے۔ نجات دہندہ نے محسُوس کِیا کہ اگرچہ اُنہوں نے مُعجزہ کا مَزہ چکھا لیکن وُہ اُس پر ایمان نہیں لائے۔ اُس نے اُن سے کہا ’’مَیں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ تُم مُجھے اِس لئے نہیں ڈھُونڈتے کہ مُعجزے دیکھے بلکہ اِس لئے کہ تُم روٹیاں کھا کر سیر ہُوئے‘‘
(یُوحَنّا۶: ۲۶)۔

۶:۶- اگر وُہ مذکُورہ بالا مراعات سے لُطف اندوز ہونے کے بعد ’’برگشتہ ہو جائیں‘‘ تو پھراُنہیں
’’توبہ کے لئے نیا بنانا‘‘ نامُمکِن ہے۔ وُہ ارتداد کے گُناہ کے مُرتکِب ہُوئے ہیں۔ وُہ اُس مقام تک پُہنچ گئے ہیں جواُنہیں جہنم کا راستہ دِکھاتا ہے۔

مُنحرفوں کی عظیم خطاؤں کو اِن الفاظ میں ظاہر کیاگیا ہے کہ ’’وُہ خُداکے بیٹے کو اپنی طرف سے دوبار مصلوُب کر کے علانیہ ذلیل کرتے ہیں‘‘ (آیت ۶ آخری حِصّہ)- یہ مسیح کو دیدہ دانِستہ رَدّ کرنا ہے نہ کہ بے توجہی سے اُس کی پَروانہ کرنا۔ یہ اُس سے قطعی طور پر غداّری کرنا، اُس کی مخالِف قُوّتوں میں شامل ہونا اور اُس کی شخصیت اور کاموں کا تمسخر اُڑانا ہے۔

اِنحراف یا اِرتداد

مُنحرف وُہ لوگ ہیں جوانجیل کی خُوشخبری کوسُنتے، مسیحی ہونے کا اِقرار کرتے، کلیسیا میں شامِل ہوتے، لیکن پھر وُہ اپنے اِیمان کا اِنکار کرتے، فیصل کُن اندازمیں مسیح کو ردّ کرتے، مسیحی رفاقت کو ترک کردیتے اور خُداوند یسؔوع مسیح کے دشمنوں کی صف میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔ اِرتداد ایسا گُناہ ہے جس کے مُرتکب صِرف بے ایمان ہی ہو سکتے ہیں۔ اِس کے مُرتکب دھوکا کھانے والے نہیں ہوتے بلکہ وُہ جانتے بُوجھتے، ارادۃً اور کینہ پروری سے خُداوند کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

اِس کو عام بے ایمانوں کے گُناہ سے غَلط مَلط نہیں کرنا چاہئے جو خوشخبری کو سُنتے تو ہیں لیکن اِس کے بارے میں کُچھ نہیں کرتے۔ مثلًا ایک شخص پاک رُوح کی بار بار دعوت کے باوجود بھی مسیح کو قبول نہیں کرتا۔ لیکن وُہ مُرتد نہیں ہے۔ وُہ اَب بھی نجات پاسکتا ہے بشرطیکہ وُہ نجات دہندہ کو قبول کرلے۔ بے شک، اگر وُہ بے ایمانی کی حالت میں مرتا ہے تو وُہ ہمیشہ کے لئے جہنّم میں جائے گا، لیکن جب تک وُہ زِندہ ہے اُس کے لئے اُمید ہے کہ وُہ خُداوند پر ایمان لائے۔

اِرتداد کو مسیح سے برگشتہ ہو جانے کے ساتھ بھی نہیں مِلانا چاہئے۔ ایک حقیقی ایمان دار مسیح سے کافی دُور جا سکتا ہے۔ گُناہ کے باعث اُس کی خُدا کے ساتھ رفاقت ٹوٹ سکتی ہے۔ وُہ اُس حَد تک بھی پُہنچ سکتا ہے جہاں اب وُہ مسیحی نہیں جانا جاتا۔ لیکن جُونہی وُہ اپنے گُناہوں کا اِقرار کرتا اور اُنہیں ترک کر دیتا ہے تو اُس کی خُدا کے ساتھ رفاقت پُورے طور پر بحال ہو جاتی ہے
(۱۔ یُوحَنّا ۱: ۹)-

پھَر اِرتداد وُہ ناقابلِ مُعافی گُناہ بھی نہیں ہے جِس کا ذِکر اناجیل میں آیا ہے۔ وُہ گُناہ، وُہ تھا جِس میں مسیح کے مُعجزات کو بَدرُوحوں کے سردار کا اِعجاز قرار دیا گیا۔ مسیح کے مُعجزات درحقیقت پاک رُوح کی قُوت سے انجام دِئے گئے تھے۔ اُن کو ابلیس سے منسُوب کرنا، پاک رُوح کے خِلاف کُفر بکنے کے مترادف تھا۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ پاک رُوح اِبلیؔس ہے۔ یسؔوع نے کہا کہ اِس قِسم کا گُناہ نہ تو اِس زمانہ میں مُعاف کیا جا سکتا ہے اور نہ آئِندہ کبھی مُعاف کیا جائے گا ( مرقس ۳: ۲۲- ۳۰)- اِرتداد بھی پاک رُوح کے خِلاف کُفر کی مانند ہے اور دونوں دائمی گناہ ہیں لیکن یہاں ان دونوں کی آپس میں مُطابقت ختم ہو جاتی ہے۔

مُجھے یقین ہے کہ اِرتداد بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ وُہ گُناہ جو موت کی طرف لے جاتا ہے اور جِس کا ذِكر ۱۔ یُوحَنّا ۵: ۱۶ میں مِلتا ہے۔ یوؔحَنّا رسُول اُن لوگوں کے بارے میں لِکھ رہا ہے جو بظاہر ایماندار تھے اور مقامی کلیسیا کی سرگرمیوں میں حِصّہ لیتے تھے۔ پھر اُنہوں نے غناسطی تعلیمات کو قبول کر لیا اور مسیحی رفاقت کو بڑی حقارت سے ترک کر دیا۔ اُن کا دِیدہ دانِستہ پہلے جانا یہ ظاہر کرتا تھا کہ وُہ حقیقتاً نئے سرے سے پَیدا نہیں ہُوئے تھے (۱۔ یُوحَنّا ۲: ۱۹)- وُہ یسؔوع کا مسیح ہونے سے کھلے عام اِنکار کرنے کے باعث (۱۔ یُوحَنّا ۲۲:۲) ایک اَیسے گُناہ کے مُرتکب ہو رہے تھے جو مَوت کی طرف لے جاتا ہے۔ چنانچہ اُن کے بحال ہونے کے لئے دُعا کرنا بے فائِدہ تھا
(۱۔ یُوحَنّا ۵: ۱۶)۔

جب بعض سنجیدہ مسیحی عِبرانیوں باب ۶ اور اِسی قِسم کے دُوسرے حوالے پڑھتے ہیں تو پریشان ہو جاتے ہیں۔ اِبلؔیس اِس قِسم کی آیات کو خاص طور پر اُن ایمان داروں کو پریشان کرنے کے لئے اِستعمال کرتا ہے جو جسمانی، ذہنی یا جذباتی مُشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ وُہ ڈرتے ہیں کہ کہیں وُہ مسیح سے برگشتہ نہ ہو گئے ہوں اور کہ اُن کے بحال ہونے کی کوئی اُمید نہیں۔ وُہ پریشان ہوتے ہیں کہ وُہ مخلصی کے مقام سے دُور ہٹ چُکے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کا فکر مند ہونا ہی اِس بات کا ثبُوت ہے کہ وُہ مُرتد نہیں ہیں۔ ایک مُرتد کو ایسی فِکر مندی نہیں ہوتی۔ وُہ بڑی ڈھٹائی سے مسیح کو ردّ کرتا ہے۔

اگر اِرتداد کے گُناہ کا اِطلاق ایمان داروں پر نہیں ہو سکتا تو پھِر ہمارے زمانہ میں اِس کا اطلاق کِس پر ہوتا ہے؟ اَیسے شخص پر جو سچائی کا پُورا عِلم رکھنے کے باوجُود دِیدہ دانِستہ اُس سے مُنہ موڑ لیتا ہے۔ وُہ مکمل طور پر مسیح کو ردّ کر دیتا ہے اور مسیحی ایمان کی ہر ایک بُنیادی تعلیم کو بڑی نفرت سے پاؤں تلے روند دیتا ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ ایسے شخص کو توبہ کے لئے نیا بنانا نامُمکِن ہے اور تجربہ بائبل کی تصدیق کرتا ہے۔ ہم بُہت سے ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو مسیح سے مُنحرف ہو گئے لیکن ہم کِسی ایسے کو نہیں جانتے جو واپس آیا ہو۔

اب جبکہ ہم زمانہ کے اِختتام کو پُہنچ رہے ہیں تو ہم اِرتداد کی بڑھتی ہُوئی لہر کی توقع کر سکتے ہیں (۲۔ تھِسلنیکیوں ۲: ۳؛ ۱۔ تیمتھیُس ۱:۴)- چنانچہ برگشتہ ہونے کی تنبیہ روز بروز زیادہ ضرُوری ہوتی جاتی ہے۔

۷:۶- اب مُصنِّف ایمان دار (آیت ۷) اور مُرتد (آیت ۸) کی مثال تلاش کرنے کے لئے دُنیائے فِطرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ دونوں کو زمین سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جِن مراعات کی آیات ۴ اور ۵ میں فہرست دی گئی ہے اُن کا مُقابلہ ’’بارش‘‘ سے کیا گیا ہے۔ فصل ایک شخص کے مراعات مِلنے کے بارے میں ردِّ عمل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آیا زمِین با برکت ہے یا لعنتی۔

حقیقی مسیحی اُس زمین کی مانند ہے جو ’’بارش کا پانی پی لیتی ہے‘‘ اور کارآمد فصل پَیدا
کرتی ہے اور’’خُدا‘‘ کی طرف سے برکت پاتی ہے۔

۸:۶- مُرتد بھی اُس زمین کی مانند ہے جِسے کافی پانی دیا گیا لیکن وُہ گُناہ کے پھَل ’’جھاڑیاں اور اونٹ کٹارے‘‘ کے سوا کُچھ پیدا نہیں کرتی۔ وُہ حاصِل تو کرتی ہے لیکن کار آمد فصل پیدا نہیں کرتی۔ اِس قسم کی زمین بے فائدہ ہے۔ اُس پر پہلے ہی سَزا کا حُکم ہو چُکا ہے۔ ’’اُس کا انجام جلایا جانا ہے‘‘۔

۹:۶- آیات ۹ اور ۱۰ میں دو زبردست اشارے مِلتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماقبل آیات میں جِن مُرتدوں کا بیان کیا گیا ہے وُہ ایمان دار نہیں ہیں۔ پہلا یہ کہ اسم اِشارہ اچانک بدل جاتا ہے۔ مُرتدوں کے مُتعلق بیان کرتے ہُوئے مُصنِّف اِسم اِشارہ ’’اُن‘‘ اِستعمال کرتا ہے۔ لیکن ایمان داروں کو بیان کرتے وقت وُہ اسمِ اشارہ ’’تُمہارے‘‘ اور ’’تم‘‘ اِستعمال کرتا ہے۔

دُوسرا اِشارہ اِس سے بھی زیادہ صاف ہے۔ ایمان داروں کو مُخاطب کرتے ہُوئے وُہ کہتا ہے ’’اے عزیزو! ۔۔۔۔ ہم ۔۔۔۔۔ تُمہاری نِسبت اِن سے بہتراور نجات والی باتوں کا یقین کرتے ہیں‘‘۔ نتیجہ یہ ہے کہ جِن اَشیا کے مُتعلق اُس نے آیات ۴۔ ۶ اور ۸ میں بیان کیا وُہ نجات کے ساتھ نظر نہیں آتیں۔

۱۰:۶- دو باتیں جو نجات کے ساتھ مُقدسّوں کی زِندگیوں میں ظاہر ہوتی ہیں وُہ اُن سے ’’کام‘‘ اور ’’محبّت‘‘ ہے۔ اُن کے ایمان نے اپنے آپ کو نیک کاموں میں ظاہر کیا اور اُن پر حقیقی مسیحیت کی چھاپ تھی ـــــــ۔ اِیمان کے گھرانے کے لئے سرگرم محبّت۔ وُہ مسیح کی خاطر اُس کے لوگوں کی خِدمت متواتر کرتے رہتے ہیں۔

۱۱:۶- ایسا لگتا ہے کہ اگلی دو آیات مختلِف لوگوں کے لئے لِکھی گئیں یعنی اُن کے لئے جِن کے بارے میں مُصنِّف کو یقین نہیں تھا۔ یہ وُہ لوگ تھے جِن کے بارے میں خدشہ تھا کہ وُہ پھر یہُودیت کی طرف راغب ہو جائیں گے۔

وُہ چاہتا ہے ’’کہ‘‘ وُہ اِسی طرح کوشش ’’ظاہر‘‘ کرتے رہیں جِس طرح کہ حقیقی ایمان داروں نے ’’پُوری اُمید کے واسطے آخر تک‘‘ ظاہر کی ہے۔ وُہ آرزُو مند ہے کہ وُہ مسیح کے ساتھ مُستقِل مزاجی سے آگے بڑھیں یہاں تک کہ اُنہیں آسمان میں مسیحیوں کی آخری اُمید حاصِل ہو جائے۔ یہ حقیقت کا ثبُوت ہے۔

۱۲:۶- وُہ ’’سُست نہ ہو‘‘ جائیں اور نہ پاؤں گھسیٹ کر چلیں اور نہ اپنی رُوح کو مدّھم پڑنے دیں۔ وُہ تمام حقیقی ایمان داروں کی طرح ’’جو ایمان اور تحمّل کے باعث وعدوں کے وارث ہوتے ہیں‘‘۔ آگے ہی آگے بڑھتے رہیں۔

۱۳:۶- باب ۶ کا اختتامی حِصّہ، آیت ۱۲ میں اِس نصیحت سے کہ ایمان اور تحمّل سے آگے بڑھتے
رہیں مُنسلِک ہے۔ ابؔرہام کی مثال ہمارے ایمان کی تقویت کے لئے دی گئی ہے اور ایمان داروں کی اُمید کے یقینی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ایک لحاظ سے ایمان دار نقصان میں نظر آتا ہے۔ اُس نے سب کُچھ مسیح کی خاطِر چھوڑ دیا ہے اور اب اُس کے پاس دِکھانے کو کُچھ بھی نہیں ہے۔ اُس کے لئے ہر چیز مُستقبِل میں ہے۔ تو پھِر اُسے کیسے یقین ہو سکتا ہے کہ اُس کی اُمید رائیگاں نہیں جائے گی؟

اِس کا جواب ابرؔہام کے ساتھ خُدا کے وَعدہ میں مِلتا ہے، ایک ایسا وعدہ جِس میں بِیج کی صُورت میں وُہ سب کُچھ شامِل ہے جو بعد میں یسؔوع مسیح کی شخصّیت میں عطا کیا جائے گا۔ جب خُدا نے وُہ وعدہ کِیا تو اُس نے ’’اپنی ہی قسم‘‘ کھائی کیونکہ اُس نے ’’کِسی کو اپنے سے بڑا نہ پایا‘‘۔

۱۴:۶- یہ وعدہ پَیدائش ۲۲: ۱۷،۱۶ میں مِلتا ہے، ’’خُداوند فرماتا ہے ۔۔۔ مَیں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ مَیں تُجھے برکت پر برکت دُوں گا اور تیری نَسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمُندر کے کنارے کی ریت کی مانند کردُوں گا‘‘۔ چُونکہ خُدا نے اِس وعدہ کو پُورا کرنے کی قسم کھائی اِس لئے اُس کی تکمیل کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

۱۵:۶- اَبرہام خُدا پر ایمان لایا اور اُس نے’’صَبر‘‘ کِیا اور اُس کے حق میں وعدہ پُورا ہؤا۔ درحقیقت ابرؔہام خُدا پر ایمان رکھنے سے قِسمت آزمائی نہیں کر رہا تھا۔ اِس میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اِس کائِنات میں سب سے یقینی بات خُدا کے الفاظ ہیں۔ خُدا کے کِسی بھی وعدے کی تکمیل اِس قدر یقینی ہے گویا کہ وُہ پہلے ہی وقوُع میں آچُکا ہے۔

۱۶:۶- اِنسانی مُعاملات میں آدمی’’اپنے سے بڑے کی قسم‘‘کھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر عدالتوں میں مُلزم یا گواہ کہتے ہیں کہ مَیں خُدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ سچ بولوں گا ۔۔۔۔ وُہ خُدا کو گواہ بناتے ہیں کہ وُہ جو کُچھ کہیں گے سچ ہوگا۔

جب آدمی اپنے وعدے کی تصدیق کے لئے ’’قسم‘‘ کھاتے ہیں تو عام طور پر’’قضیّہ‘‘ ختم ہو جاتا ہے۔ اِس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وعدہ ضُرور پُورا ہوگا۔

۱۷:۶- خُدا چاہتا ہے کہ اُس پر ایمان لانے والے قطعی یقین رکھیں کہ جو وعدہ اُس نے کِیا وُہ ضرُور پُورا ہو گا۔ درحقیقت اُس کا محض وَعدہ ہی کافی تھا لیکن وُہ وَعدہ سے بڑھ کر کہیں زیادہ صاف طور سے ’’ظاہر‘‘ کرنا چاہتا تھا۔ پَس اُس نے وَعدہ کے ساتھ قسم بھی کھائی۔

’’وعدہ کے وارث‘‘ وُہ لوگ ہیں جو ایمان کی رُو سے وفادار ابرؔہام سے فرزَند ہیں۔ جِس ’’وعدہ‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے وُہ اُن تمام کے لئے جو خُدا پر ایمان لاتے ہیں ابدی نجات کا وعدہ ہے۔ جب خُدا نے ابرؔہام کی نَسل کا وَعدہ کِیا تو یہ وعدہ بالآخر مسیح میں پُورا ہؤا لہٰذا مسیح کے ساتھ پیوَست ہونے سے جو برکات مِلتی ہیں وُہ سب اُس وعدہ میں ہی شامِل تھیں۔

۱۸:۶- اب ایمان داروں کے پاس’’دو بے تبدیل چیزیں‘‘ ہیں جن پر وُہ تکیہ کر سکتے ہیں ــــــــــ خُدا کا کلام اور اُس کی قَسم۔ یہ نامُمکِن ہے کہ کوئی چِیز اِن سے زیادہ قابلِ اِعتبار ہو۔ خُدا اُن سب کو جو مسیح پر ایمان لاتے ہیں بچانے کا وَعدہ کرتا ہے اور پھِر وُہ اِس کی تصدیق قَسم کھا کر کرتا ہے۔ اِس کا بدیہی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان دارابد تک محفُوظ ہو جاتا ہے۔

مُصنِّف باب ۶ کے باقی حِصّے میں چار تصویریں یہ دِکھانے کے لئے اِستعمال کرتا ہے کہ مسیحی اُمید قطعی قابلِ اعتماد ہے : (۱) پناہ کا شہر، (۲) لنگر، (۳) پیش رَو، اور (۴) سردار کاہن۔

سب سے پہلے حقیقی ایمان داروں کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ وُہ گویا اِس دُنیا سے جِس پر سَزا کا حُکم ہو چُکا ہے آسمانی’’پناہ‘‘ کے شہر کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ اُن کی اِس دَوڑ میں حوصلہ افزائی کرنے کے لئے خُدا نے شرمِندہ نہ ہونے والی’’اُمیّد‘‘ دی ہے جِس کی بُنیاد اُس کے کلام اور قَسم پر ہے۔

۱۹:۶- زِندگی کی آزمائِشوں اور طوُفانوں میں یہ اُمید، ’’جان کا لنگر‘‘ کا کام دیتی ہے۔ یہ عِلم کہ ہمارا جلال پانا ایسا ہی یقینی ہے گویا وُہ وقُوع میں آچُکا ہے، ہمیں شک و شُبہات کی سرکش لہروں میں بہہ جانے سے روک دیتا ہے۔

لنگر اِس دُنیا کی ریت (ناپائیداری) میں نہیں ڈالا جاتا بلکہ آسمانی مَقدِس میں۔ چونکہ ہماری’’اُمید‘‘ ہمارا لنگر ہے، لِہٰذا اِس کا مطلب یہ ہؤا کہ ہماری اُمیّد’’پردہ کے اندر‘‘ خُدا کی حضُوری میں محفوظ ہے۔ جِس طرح یہ یقین ہے کہ لنگر وہاں موجُود ہے اُسی طرح یہ یقین بھی ہے کہ ہم بھی وہاں ہوں گے۔

۲۰:۶- ’’یسؔوع‘‘ خُود ہمارے ’’پیشرو کے طور پر‘‘ مَقدِس کے اندر گیا ہؤا ہے۔ اُس کی وہاں موجودگی اِس بات کی ضمانت ہے کہ بالآخر اُس کے لوگ بھی اُس میں داخِل ہوں گے۔ یہ کہنا مبالغہ آمیزی نہیں ہے کہ ایک معمُولی ایمان دار کو بھی آسمان میں جانے کا اُتنا ہی یقین ہے جِتنا کہ اُن مُقدّسین کا جو پہلے ہی وہاں موجُود ہیں۔

اینڈرسؔن بیری لِکھتے ہیں:

جس لفظ کا ترجمہ’’پیشرو‘‘ کیا گیا ہے وُہ نئے عہد نامہ میں اَور کہیں نہیں مِلتا۔ یہ جِس خیال کو ظاہر کرتا ہے اُس کا تصّور لاوی نظام میں نہیں تھا کیونکہ سردار کاہِن پاک ترین مقام میں نمائِندہ کے طور پر داخِل ہوتا تھا۔ وُہ ایسی جگہ جاتا تھا جہاں کوئی بھی اُس کے پِیچھے نہیں جا سکتا تھا۔ لیکن ہمارے پیشرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جہاں وُہ ہے ہم بھی ہوں گے۔ بطور پیشرو وُہ (۱) وہاں ہماری مُستقبِل میں آمد کے بارے میں اعلان کرتا ہے، (۲) ہماری جگہ آسمانی جلال کو لیتا ہے، اور (۳) وُہ اِس لئے وہاں گیا ہے تاکہ جب اُس کے لوگ وہاں جائیں تو وُہ اُنہیں خوش آمدید کہے اور اُنہیں آسمان کے بادشاہ کے سامنے پیش کرے‘‘۔

چوتھی صُورت ’’سردار کاہن‘‘ کی ہے۔ ہمارا خُداوند ’’ہمیشہ کے لئے مَلکِ صؔدق کے طریقہ کا سردار کاہن بن‘‘ گیا ہے۔ اُس کی دائِمی کہانت ہماری دائمی حفاظت کی ضمانت ہے۔ جِس طرح اُس کی مَوت کے ذریعہ ہمارا خُدا کے ساتھ یقینی طور پر میل ملاپ ہو گیا ہے اُسی طرح اُس کے خُدا کے دہنے ہاتھ بطور ہمارا کاہن ہونے کے (رومیوں ۱۰:۵) ہم اُس کی زِندگی سے یقیناً بچ گئے ہیں۔

’’یسؔوع‘‘ کا ’’مَلکِ صدق کے طریقہ کا سردار کاہن‘‘ ہونا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو مضمون ۱۰:۵ میں اِرتداد کے بارے میں تنبیہ کی خاطر چھوڑ دیا گیا تھا وُہ اَب پھِر جاری کیا جاتا ہے۔ لیکن اب وُہ اپنے اِس موضُوع کو کہ مسیح کی کہانت ہارُوؔن کی کہانت سے افضل ہے جاری رکھنے کو تیار ہے۔ وُہ بڑے ماہِرانہ انداز میں بحث کے بُنیادی بہاؤ کی طرف لوٹ آتا ہے۔

۱:۷- ’’مَلکِ صدق‘‘ ایک بڑی پُراسرار شخصیّت ہے جو اِنسانی تاریخ میں تھوڑی دیر کے لئے ظاہر ہوکر (پَیدائش۱۴: ۱۸۔۲۰) پھر غائِب ہو جاتا ہے۔ صَدیوں بعد داؔؤد اُس کے نام کا ذِکر کرتا ہے
(زبُور ۴:۱۱۰)۔ پھر اِس کے صَدیوں بعد وُہ عبرانیوں کے نام خط میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک بات خُوب ظاہر ہے۔ خُدا نے اُس کی زِندگی کو اِس طرح ترتیب دیا ہے کہ وُہ خُداوند یسؔوع مسیح کی ایک شاندار مثال بن جاتا ہے۔

باب ۷ کی پہلی تِین آیات میں ہمیں اُس کے بارے میں کُچھ تاریخی حقائِق ملتے ہیں۔ ہمیں یاد دِلایا جاتا ہے کہ وُہ ’’کاہن‘‘ اور’’بادشاہ‘‘ دونوں تھا۔ وُہ ’’سؔالم (بعد میں یروشلؔیم کہلایا) کا بادشاہ‘‘ اور’’خدا تعالیٰ کا کاہن‘‘ تھا۔ وُہ اپنے لوگوں کا سیاسی اور رُوحانی لیڈر تھا۔ یہی خُدا کا معیاری اندازِ حکومت ہے کہ دُنیاوی اور رُوحانی میں تفریق نہ ہو۔ جب گہنگار حکوُمت کرتے ہیں تو ضرُوری ہے کہ کلیسیا اور ریاست الگ الگ ہوں۔ اِن دونوں کوآپس میں مِلانا صِرف اُس وقت ہی ممکِن ہو گا جَب مسیح اِس دُنیا پر حکوُمت کرے گا (یَسعیاہ ۳۲: ۱۷،۱)۔

’’مَلکِ صِؔدق‘‘ اُس وقت ’’ابرؔہام‘‘ کو مِلا جبکہ وُہ فوجی فتح کے بعد ’’واپس‘‘ آرہا تھا اور’’اُس کے لئے برکت چاہی‘‘۔ اِس کی اہمیّت کو آیت ۷ ہے میں بیان کیا گیا ہے۔ اگر ہمارے پاس صِرف پُرانا عہد نامہ ہوتا تو ہم اِن بظاہر متضاد تفصیلات کی عمیق اہمیّت کو کبھی نہ سمجھ سکتے۔

۲:۷- ’’ابؔرہام نے‘‘ اِس پُراسرار بادشاہ کو مالِ غنیمت کی ’’دہ یکی دی‘‘۔ ہمیں پھر ابرؔہام کی دہ یکی کے پوشیدہ معنوں کو جاننے کے لئے آیات ۴، ۶، ۸-۱۰ کا اِنتظار کرنا پڑے گا۔ پاک کلام ایک شخص کا نام وُہی کُچھ بتاتا ہے جو کُچھ وُہ ہے۔ ہمیں مَلکِ صؔدق کے نام اور لقب کے بارے میں معلوُم ہو جاتا ہے کہ اُس کے نام کا مطلب ’’راست بازی کا بادشاہ‘‘ اور لقب (سالؔم کا بادشاہ) کا ’’صُلح کا بادشاہ‘‘ ہے۔

یہاں ’’راست بازی‘‘ کو پہلے اور’’صُلح‘‘ کو بعد میں بیان کیا گیا ہے جو بِلا وجہ نہیں ہے۔ خُدا سے صُلح اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ پہلے راست بازی نہ ہو۔

یہ ہم مسیح کے کاموں میں صفائی سے دیکھتے ہیں۔ صلیب پر’’شفقت اور راستی باہم مِل گئی ہیں ۔۔۔ صداقت اور سلامتی نے ایک دُوسرے کا بوسہ لِیا‘‘ (زبور ۱۰:۸۵)۔ چونکہ نجات دہندہ نے ہمارے گُناہوں کے لئے خُدا کے راست تقاضوں کو پُورا کِیا، اِس لئے اب ہم خدا کے ساتھ صُلح رکھ سکتے ہیں۔

۳:۷- جب ہم یہ پڑھتے ہیں کہ اُس کا نہ تو باپ تھا اور نہ ماں، نہ نسب نامہ، نہ پیدائِش اور نہ موت تو مَلکِ صؔدق کے بارے میں مُحِّما اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اِن کو اِن کے سیاق و سباق سے الگ کر کے پڑھیں تو اَیسا معلُوم ہوتا ہے کہ وُہ آسمان سے یا کِسی اَور جرمِ فلکی سے نازِل ہؤا یا خُدا نے اُسے خاص طور پر پَیدا کیا۔ لیکن جب ہم اِنہیں اِن کے سلسلہ بیان میں پڑھتے ہیں تو اِن کو سمجھنے کی کلید مِل جاتی ہے۔ موضُوع کہانت ہے۔ مُصنِّف مَلکِ صِؔدق کی کہانت اور ہارُوؔن کی کہانت میں فرق بیان کر رہا ہے۔ ہارُونی کہانت کے قابل ہونے کے لئے ضُروری تھا کہ ایک شخص لؔاوی کے قبیلہ اور ہاؔرون کے خاندان میں پَیدا ہو۔ نسب نامہ بے حَد ضرُوری تھا۔ پھِر اُس کی موزُونیت پَیدائِش پر شُروع ہوتی اورمَوت پہ ختم ہوتی تھی۔

مَلکِ صِؔدق کی کہانت اِس سے بالکُل مُختلِف تھی۔ اُس نے کہانت کو کاہنوں کے خاندان میں پَیدا ہونے سے حاصِل نہیں کیا تھا۔ خُدا نے اُسے عام آدمیوں میں سے چُنا اور کا ہن مُقرر کر دیا۔ جہاں تک اُس کی کہانت کا تعلق ہے اُس کی’’ماں‘‘ یا ’’باپ‘‘ یا ’’نسب نامہ‘‘ کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

اُس کے معاملہ میں یہ اہم نہیں تھا۔ اور جہاں تک اُس کے باقی رِیکارڈ کا تعلق ہے اُس کی پَیدائِش یا مَوت کا بھی کوئی ذِکر نہیں مِلتا، اِس لئے اُس کی کہانت جاری ہے۔

ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اُس کے والدین نہیں تھے، کہ وُہ کبھی پَیدا نہیں ہؤا، اور کہ وُہ مَرا نہیں تھا۔ نکتہ یہ نہیں ہے۔ نُکتہ یہ ہے کہ جہاں تک اُس کی کہانت کا تعلق ہے اِن اہم اعدادو شُمارکا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کیونکہ اُس کی کہانت کی خِدمت کا اِنحصار اِن پر نہیں تھا۔

وُہ خُدا کا بیٹا نہیں تھا جَیسا کہ بعض لوگوں نے غلطی سے سمجھ رکھا ہے، البتہ وُہ ’’خُدا کے بیٹے کے مشابہ ٹھہرا‘‘ اور کہ اُس کی کہانت بغیر کِسی رکاوٹ کے جاری ہے۔

اب مُصنِّف یہ بتاتا ہے کہ مَلکِ صِؔدق کی کہانت ہارُؔون کی کہانت سے افضل ہے۔ ثبوت کے طور پر وُہ تیں دلیلیں پیش کرتا ہے : (۱) دہ یکی اور برکت دینے سے متعلق دلیل (۲) ہاؔرُون کی کہانت کی تبدیلی کی دلیل (۳) مَلکِ صِؔدق کی کہانت کے جاری رہنے کی دلیل۔

۴:۷- آیات ۱۰،۴ میں پہلے ثبُوت کے بارے میں دلائل دِئے گئے ہیں۔ یہ قارِئین کو مَلکِ صِؔدق کی بُزرگی پر’’غَور‘‘ کرنے کو کہتی ہیں۔ ’’ابؔرہام نے لُوٹ کے عُمدہ سے عُمدہ مال کی دہ یکی دی‘‘۔ چونکہ ابرؔہام عبرانی قَوم کی عظیم شخصیت تھا اِس لئے مطلب یہ ہؤا کہ مَلکِ صِؔدق اُس سے کہیں عظیم شخص تھا۔

۵:۷- جہاں تک لاؔوی قبیلے کے کاہنوں کا تعلق ہے اُنہیں ’’شریعت‘‘ نے اپنے عِبرانی بھائیوں سے
’’دہ یکی‘‘ لینے کا اختیار دِیا تھا۔ کاہن اور عوام بھی اپنے حسب نسب کو’’ابرؔہام‘‘ سے جو کہ ایمان داروں کا باپ ہے بتاتے تھے۔

۶:۷- ’’مگر‘‘ جب مَلکِ صِؔدق نے ’’ابرؔہام سے دہ یکی لی‘‘ تو یہ ایک غیر معمُولی اور خلافِ رواج مُعاملہ تھا۔ ابؔرہام جِسے قَوم کا باپ کہا جاتا ہے اور جِس سے المسیح آنے کو تھا ایک ایسے شخص کی تنظیم کر رہا تھا۔ جِس کا تعلق اِسرائیل کے برگُزیدہ لوگوں سے نہیں تھا۔ مَلکِ صِؔدق کی کہانت نسلی رُکاوٹ کو پار کر گئی۔

ایک اَور اہم و نمایاں حقیقت یہ ہے کہ مَلکِ صِؔدق ابرؔہام کو ’’برکت‘‘ دیتا ہے۔ اُس نے کہا ’’خُدا تعالیٰ کی طرف سے جو آسمان اور زمین کا مالِک ہے ابؔرام مُبارک ہو‘‘ (پَیدائِش ۱۴: ۲۰،۱۹)-

۷:۷- جب ایک آدمی دُوسرے آدمی کو برکت دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وُہ اُس سے بڑا ہوتا ہے۔ بلاشُبہ اِس سے شخصی یا اخلاقی کمتری تو ظاہر نہیں ہوتی بلکہ صِرف مرتبے کی کمتری۔

جب ہم اُن بیانات کو جِن کی بُنیاد عہدِعتیق پر ہے پڑھتے ہیں تو ہمیں اپنے ذہن میں عبرانی قارِئین کے ردِّ عَمل کو لانے کی کوشِش کرنی چاہِئے۔ وُہ اُسے اپنا سب سے بڑا قَومی ہیرو سمجھتے تھےاور یہ سمجھنے میں وُہ بالُکل حق بجانب تھے۔ لیکن اب اُنہیں معلُوم ہوتا ہے کہ ابرؔہام نے ایک غیر یہُودی کاہن کو اپنے سے بھی بڑا جانا۔ ذَرا غور فرمائیے! یہ بات اُن کی بائبل میں ہمیشہ سے مَوجُود تھی لیکن اُنہوں نے اُس پر کبھی غَور نہیں کیا تھا۔

۸:۷- ہارُونی کہانت میں دہ یکی وُہ لوگ لیتے تھے جنہیں بقا نہیں تھی۔ ایک کے بعد دُوسرا کاہن بنتا تھا اوراَپنی باری پوری کر کے کہانت دُوسرے کو سونپ دیتا تھا۔ لیکن مَلکِ صِؔدق کے مُعاملے میں اُس کے مَرنے کا ذِکر نہیں ہے۔ پس وُہ ایسی کہانت پیش کر سکتا تھا جو کہ لاثانی اور دائِمی ہے۔

۹:۷- ابرؔہام سے دَہ یکی لینے سے مَلکِ صِؔدق نے فِی الواقع ’’لاوی‘‘ سے دَہ یکی لی۔ چونکہ لاوی کاہنوں کے قبیلے کا سربراہ تھا، اِس لئے اِس کا مطلب یہ ہؤا کہ ہارُونی کہانت نے مَلکِ صِؔدق کو
’’دَہ یکی دی‘‘ اور یُوں اُنہوں نے اُس کی فضیلت کا اِعتراف کر لیا۔

۱۰:۷- واقعات کے کس سِلسلے کی بِنا پر کہا جا سکتا ہے کہ لاوؔی نے مَلکِ صِؔدق کو دَہ یکی دی؟ سب سے پہلے، درحقیقت یہ ابرؔہام ہی تھا جس نے دَہ یکی دی تھی۔ وُہ لؔاوی کا دادا پر دادا تھا۔ اگرچہ لاؔوی ابھی پَیدا نہیں ہؤا تھا تاہم وُہ ابرؔہام کی ’’صُلب‘‘ میں تھا یعنی وُہ بزرگ ابرؔہام کی اَولاد ہونے کے لئے مُقرر ہو چُکا تھا۔ دراصل جب ابرؔہام نے مَلکِ صِؔدق کو دَہ یکی دی تو وُہ اپنی تمام اَولاد کی نمائِندگی کر رہا تھا۔ اِس طرح لاؔوی اور کہانت جو ابرؔہام سے نکلے، مَلکِ صِؔدق اور اُس کی کہانت کے مُقابلے میں ثانوی دَرجے پر آجاتے ہیں۔

۱۱:۷- آیات۱۱-۲۰ میں ہمیں دُوسری بات بتائی گئی ہے کہ مَلکِ صِؔدق کی کہانت ہارُون کی کہانت سے اَفضل ہے۔ دلیل یہ ہے کہ کہانت میں تبدیلی ہُوئی۔ مسیح کی کہانت نے بنی لاوی کی کہانت کو ایک طرف کر دیا۔ اگرلاویوں کی کہانت اَپنے مقصد کو حتمی طور پر حاصِل کر لیتی تو یہ ضرُوری نہ ہوتا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’بنی لاوی کی کہانت‘‘ سے ’’کامِلیّت‘‘ حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ گناہ دُور نہیں کیا گیا تھا اور ضمیر کا آرام نہیں مِلا تھا۔ مُوسوی شرِیعت کے تحت جو کہانت قائِم ہُوئی وُہ حتمی نہیں تھی۔

اب ایک نئی کہانت جاری ہے۔ اَب ایک کامِل کاہن آچُکا ہے، اور اُس کی کہانت ’’ہارؔون کے طریقہ‘‘ پر نہیں بلکہ ’’مَلکِ صِؔدق کے طریقہ‘‘ پر ہے۔

۱۲:۷- اِس حقیقت کا کہ ’’کہانت‘‘ ’’بدل‘‘ چُکی ہے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وُہ تمام قانُونی ڈھانچہ جس پر کہانت کی بُنیاد تھی وُہ بھی بَدل گیا ہے۔ یہ ایک بُنیادی اِعلان ہے۔ یہ پُرانے دستُور کو ختم کر دیتا ہے اور نیا جاری کرتا ہے۔ اب ہم شریعت کے ماتحت نہیں ہیں۔

۱۳:۷- شریعت کی تبدیلی اِس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ خُداوند یؔسُوع ایک اَیسے’’قبیلہ‘‘ سے تعلق رکھتا تھا جِسے لاوی شریعت نے کہانتی فرائِض انجام دینے سے منع کر رکھا تھا۔

۱۴:۷- ’’ہمارا خُداوند یُؔہوداہ‘‘ کے قبیلہ سے تھا۔ مُوسوی شریعت نے اِس قبیلہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو کاہن ہونے کی اِجازت کبھی نہیں دی تھی۔ لیکن اِس کے باوجُود بھی یسؔوع کاہن ہے۔ یہ کیسے ممکن ہؤا؟ اِس لئے کہ شریعت بدل گئی ہے۔

۱۵:۷- کہانت کے قانُون میں تبدیلی کے بارے میں مُصنِّف ایک اَور شہادت پیش کرتا ہے۔ ’’ایک اَور .. کاہِن‘‘ ’’مَلکِ صِؔدق کی مانند‘‘ اُٹھا ہے اور اِس منصب کے لئے اُس کی اہلیّت ہارُوؔن کے بیٹوں سے قطعی مُختلِف ہے۔

۱۶:۷- لاوی کاہن صِرف اُس وقت ہی اہل ٹھہرتے تھے جبکہ وُہ شریعت کے مُطابق نَسلی تقاضے کو پُورا کرتے تھے۔ اُنہیں لاوؔی کے قبیلہ اور ہارُوؔن کے خاندان سے ہونا ہوتا تھا۔

لیکن جِس اہلیّت کے مُطابق ہمارا خُداوند مَلکِ صِؔدق کے طریقہ پر کاہن ہؤا، وُہ اُس کی
’’غیرفانی زِندگی‘‘ ہے۔ یہاں شجرہ نَسب کا سُوال نہیں ہے بلکہ شخصی وراثتی قوّت کا۔ وُہ ہمیشہ زِندہ ہے۔

۱۷:۷- اِس کی تصدیق زبُور ۴:۱۱۰ کے اَلفاظ سے ہوتی ہے جہاں داؔؤد المسیح کی مستقبِل میں کہانت کی طرف اِشارہ کرتا ہے: ’’تُو مَلکِ صِؔدق کے طریقہ کا ابد تک کاہن ہے‘‘۔ یہاں زور’’ابد تک‘‘ پر ہے۔ اُس کی خِدمت کبھی ختم نہیں ہوگی کیونکہ اُس کی زِندگی ہمیشہ قائِم رہے گی۔

۱۸:۷- جو حُکم ہارُونی کہانت کے ذریعہ قائِم ہُؤا تھا وُہ’’کمزور اور بے فائِدہ ہونے کے سبب سے منسوخ ہو گیا‘‘ ہے۔ اُسے المسیح کی آمد نے منسُوخ کر دیا ہے۔

یہ حُکم کِن معنوں میں کمزور اور بے فائدہ تھا؟ کیا یہ خُود خُدا نے نہیں دِیا تھا؟ ہے کیا خُدا کوئی ایسی چیز دے سکتا ہے جو بے فائِدہ اور بے مَصرف ہو؟ جواب یہ ہے کہ خُدا کا مقصد کبھی یہ نہیں تھا کہ وُہ اُسے کہانت کا دائِمی حُکم بنائے۔ یہ خُدا کی مثالی کہانت کی تیاری کے لئے تھا۔ یہ اُس کامِل اور آخری کہانت کی عارضی تصویر و جھلک تھا۔

۱۹:۷- یہ اِس لحاظ سے بھی کمزور اور بے فائِدہ تھا کیونکہ اُس نے’’کِسی چیز کو کامِل نہیں کیا‘‘۔ اِس سے لوگ پاک تِرین مقام میں خُدا کی حضُوری میں جانے کے قابِل کبھی بھی نہ بن سکے۔ اِس سے خُدا اور اِنسان کے درمیان فاصلہ متواتر یاد دِلایا جاتا تھا کہ گُناہ کے سُوال کا مستقِل حل ابھی نہیں ہُؤا ہے۔

لیکن اب ایک ’’بہترامیّد‘‘ پَیدا ہو گئی ہے ’’جِس کے وسیلہ سے ہم خُدا کے نزدیک جاسکتے ہیں‘‘۔ وُہ ’’بہتراُمّید‘‘ خُداوند یسؔوع خُود ہے۔ وُہ لوگ جو اُسے اپنی اُمید بنا لیتے ہیں وُہ ’’خُدا‘‘ کے حضُور کسی وقت بھی حاضر ہو سکتے ہیں۔

۲۰:۷- اور نہ صِرف کہانت کی ترتیب اور نظام میں تبدیلی ہُوئی بلکہ کاہن کے طریقہ تقریر میں بھی۔ یہاں پر دلائِل مسیح کی کہانت کے بارے میں خُدا کے’’قسم‘‘ کھانے کے اِرد گرد گھومتے ہیں۔ قسم یہ ظاہر کرتی ہے کہ جِس چِیز کے بارے میں قسم کھائی گئی وُہ لا تبدیل اور دائمی ہے۔ رینزؔ بری کہتا ہے کہ ’’ہمارے مبارک خداوند یسؔوع مسیح کی کہانت کے کافی اور ابدی ہونے کے لئے قادرِ مُطلِق خُدا کی قَسم ہی ضمانت ہو سکتی تھی‘‘۔

۲۱:۷- ہارُونی کہانت میں کاہن ’’بغیر قَسم‘‘ کے مقرر ہوتے تھے۔ اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کی کہانت عارضی تھی، دائمی نہیں تھی۔

لیکن خُدا، مسیح کو کاہن مُقرر کرتے وقت ’’قَسم کے ساتھ‘‘ مُخاطب کرتا ہے۔ اِس قَسم کے الفاظ
زبُور۴:۱۱۰ میں ملتے ہیں: ’’خُداوند نے قسم کھائی ہے اور اِس سے پھِرے گا نہیں کہ تُواَبد تک کاہن ہے‘‘۔

ہینڈرسؔن کہتا ہے :

’’خُدا مسیح کے تقریر کی ابدی تصدیق اپنے تخت اور اپنی فِطرت کی لا تبدیل صفات سے کرتا ہے۔ اگر وُہ بدل سکتی ہیں تو یہ نئی کہانت بھی تبدیل ہو سکتی ہے ورنہ نہیں‘‘۔

۲۲:۷- اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ’’یسؔوع‘‘ ’’بہترعہد کا ضامن‘‘ ہے۔ ہارُونی کہانت عہدِعتیق کا حِصّہ تھی۔ مسیح کی کہانت کا تعلق عہدِ جدید سے ہے۔ عہد اور کہانت ایک ساتھ قائم رہتے یا ایک ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ نیا عہد فضل کا غیر مشروط مُعاہدہ ہے جو خُدا اُس وقت اِسرائیل کے گھرانے اور یہُودؔاہ کے گھرانے سے کرے گا جب خُداوند یسؔوع زمین پر اپنی بادشاہی قائم کرے گا (یرمیاہ۳۱: ۳۴،۳۳)۔ ایماندار اِس نئے عہد کی کُچھ برکات سے اِس وقت بھی لُطف اندوز ہو رہے ہیں، لیکن اِس کی پُوری برکات اُس وقت ہی حاصِل ہوں گی جبکہ اِسرائیل بحال ہو گا اور قومی طور پر نجات پائے گا۔

’’یسؔوع‘‘ اِس نئے عہد کا اِس لحاظ سے’’ضامن‘‘ ہے کہ وُہ خُود اِس کی ضمانت ہے۔ اُس نے اپنی مَوت، دفن اور قیامت کے ذریعہ ایک راست بنیاد مُہّیا کی ہے جِس کی بِنا پر خُدا عہد کی شرائط کو پورا کرسکتا ہے۔ اُس کی ختم نہ ہونے والی کہانت بھی عہد کی شرائِط کو نا کامی کے خدشہ کے بغیر پُورا کرنے میں مُعاون ہے۔

۲۳:۷- اَب ہم مَلکِ صِؔدق کی افضل کہانت کے بارے میں آخری دلیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اِسؔرائیل کے ’’بہت سے کاہن‘‘ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ قوم کی تارِیخ میں ۸۴ (چوراسی) سردار کاہن تھے اور اِن کے علاوہ بے شمار کاہن تھے۔ ’’موت‘‘ کی وجہ سے یہ مَنصب وَقفہ وَقفہ سے دُوسروں کو ملتا رہتا تھا، اور اِس بدیہی رکاوٹ کے باعث اِس خِدمت کو نُقصان پُہنچتا تھا۔

۲۴:۷- مسیح کی ’’کہانت‘‘ کے سِلسلے میں اِس قِسم کے نُقصان کا کوئی خَدشہ نہیں کیونکہ وُہ
’’اَبد تک‘‘ زِندہ ہے۔ اُس کی’’کہانت‘‘ کِسی اَور کو کبھی نہیں دی گئی اور نہ اُس کی تاثیر میں کبھی رُکاوٹ پَیدا ہُوئی۔ وُہ لا تبدیل ہے اور کسی کو مُنتقل نہیں کی جا سکتی ۔

۲۵:۷- چونکہ وُہ ہمیشہ’’زِندہ‘‘ ہے، ’’اِسی لئے جو اُس کے وسیلہ سے خُدا کے پاس آتے ہیں وُہ اُنہیں پُوری پُوری نجات دے سکتا ہے‘‘۔ اِس سے ہم عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اِس کا اشارہ گنہگاروں کے لئے اُس کے نجات بخش کام کی طرف ہے جو اُس نے اُنہیں گُناہ کی سَزا سے بچانے کے لِئے کیا۔ لیکن درحقیقت مُصنِّف اُس کام کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو مسیح نے مُقدّسوں کو گُناہ کی قُوّت سے رہائی دینے کے لئے کِیا۔ اِس کا اُس کے نجات دہندہ ہونے سے اِتنا تعلق نہیں ہے جتنا کہ اُس کے ہمارا سردار کاہن ہونے سے ہے۔ اِس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ ایمان دار اپنی نجات کھو بَیٹھے گا۔ اُن کی اَبدی حِفاظت کی بنیاد اُن کے لئے اُس کی دائِمی’’شفاعت‘‘ ہے۔ وُہ ہر وقت اُنہیں ’’پوُری پُوری نجات دے سکتا ہے‘‘ کیونکہ اُس کی اُن کے لئے خُدا کے دہنے ہاتھ مَوجُودہ خِدمت میں مَوت کے باعث رُکاوٹ پَیدا نہیں ہوگی۔

۲۶:۷- مسیح کی شخصی افضلیت کے باعث اُس کی کہانت ہارُوؔن کی کہانت سے برتر ہے۔ وُہ خُدا کی نظر میں ’’پاک‘‘ ہے۔ وُہ آدمیوں کے ساتھ مُعاملات میں ’’بے ریا‘‘ ہے۔ وُہ اَپنے چال چلن میں
’’بے داغ‘‘ ہے۔ وُہ خُدا کے دہنے ہاتھ ’’گُنہگاروں سے جُدا‘‘ ہے۔ وُہ اپنی موجُودہ اور ابدی شان و شوکت میں’’آسمانوں سے بُلند کِیا گیا‘‘۔ ایسا سردار کاہن ہی’’ہمارے لائِق‘‘ تھا۔

۲۷:۷- لاوؔی قبیلے کے کاہنوں کی طرح ہمارے سردار کاہن کو ’’ہرروز‘‘ ‘‘قُربانیاں چڑھانے‘‘ کی ضرُورت نہیں۔ یہ وہ ’’ایک ہی بار کو گُزرا‘‘ ہے۔ وُہ ’’اپنے گُناہوں‘‘ کے لئے بھی قُربانی گُزراننے کا ’’مُحتاج‘‘ نہیں کیونکہ وُہ قطعی بے گُناہ تھا۔ ایک تِیسرا حیران کُن طریقہ جِس میں وُہ سابق کاہنوں سے فرق ہے یہ ہے کہ اُس نے لوگوں کے گُناہوں کے لئے ’’اپنے آپ کو قُربان‘‘ کیا۔ اِس کاہِن نے خُود اَپنے آپ کو بطور قُربانی دے دیا۔ یہ یسؔوع کا کتنا شاندار اور لاثانی فضل ہے!

۲۸:۷- ’’شریعت‘‘ کے مُقرر کردہ ’’کاہن‘‘ شخصی طور پر ناکامِل، ’’کمزور‘‘ ہوتے تھے۔ وُہ صِرف رسمی طور پر پاک تھے۔
خُدا نے شریعت کے مُطابق جو’’قسم‘‘ کھائی اُس کے ذریعہ وُہ ’’بیٹے کو‘‘ بطور کاہن ’’مقرر کرتا ہے جو ہمیشہ کے لئے کامل کِیا گیا ہے‘‘۔ اِس قَسم کا آیت ۲۱ میں ذِکر کِیا گیا ہے اور زبُور ۴:۱۱۰ سے اِقتباس ہے۔ ہم نے اَب تک جو کچھ بیان کیا ہے اُس میں مُتعَدد اہم اطلاقات مِلتے ہیں۔ اِنسانی کہانت کو الہٰی اور ابدی کہانت نے منسُوخ کر دیا ہے۔ چنانچہ آدمیوں کے لئے عہدِعتیق کے نمُونہ پر کہانت کے نظام کو رائج کرنا اور اُسے ہمارے عظیم سردار کاہن کے کام پر مُسلّط کرنا کتنا احمقانہ فعل ہے!

ب۔ مسیح کی خِدمت ہارؔون کی خِدمت سے افضل ہے (باب ۸)

۱:۸- مابعد کی آیات میں یہ دِکھایا گیا ہے کہ مسیح کی خِدمت ہارؔون سے برتر ہے کیونکہ وُہ ایک بہتر مَقدِس میں خِدمت کرتا ہے (آیات ۱- ۵)- نِیزاُس کا تعلق بہتر عہد سے ہے ( آیات۷-۱۳)۔

اَب مُصنِّف اپنی بحث کی ’’بڑی بات‘‘ کی طرف آتا ہے۔ وُہ جو کُچھ بیان ہو چُکا اُس کا خُلاصہ بیان نہیں کر رہا ہے بلکہ بنیادی نظریہ کو جِس کو وُہ اپنے خط میں مُتعارف کراتا آرہا ہے۔

’’ہمارا ایسا سردار کاہن ہے‘‘۔ لفظ ’’ہمارا‘‘ میں فتح کا اِشارہ ہے۔ یہ اُن یہوُدیوں کو جواب ہے جو طنزیہ کہتے تھے کہ ’’ہمارے پاس خیمہ اجتماع ہے، ہمارے پاس کہانت ہے، ہمارے پاس قُربانیاں ہیں۔ ہمارے پاس رسمیں ہیں، ہمارے پاس ہیکل ہے، ہمارے پاس کاہنوں کا خوبصُورت لباس ہے‘‘۔ اِیمانداروں کا پُراعتماد جواب یہ ہے کہ ’’ہاں تُمہارے پاس عکس ہے جبکہ ہمارے پاس تکمیل ہے۔ تُمہارے پاس رسمیں ہیں جبکہ ہمارے پاس مسیح ہے۔ تُمہارے پاس تصویر ہے جبکہ ہمارے پاس شخص ہے۔ اور ہمارا سردار کاہن ’’آسمانوں پرکِبریا کے تخت کی دہنی طرف‘‘ بیٹھا ہؤا ہے۔ کوئی بھی سردار کاہن اپنے ختم شُدہ کام کے صِلہ میں وہاں نہیں بیٹھا اور نہ کِسی کو کبھی اُتنی عِّزت اور اِختیار کی جگہ ملی ہے‘‘۔

۲:۸- وُہ اِنسانوں کی خِدمت آسمانی ’’مَقدِس‘‘ میں کرتا ہے۔ یہ ’’حقیقی‘‘ خیَمہ ہے جِس کی زمینی خیمہ نَقل یا نمائِندگی کرتا ہے۔ ’’حقیقی خیمہ‘‘ کو ’’خُداوند نے کھڑا کِیا ہے نہ کہ اِنسان نے‘‘ جَیسے کہ زمِینی خَیمہ کو کیا تھا۔

۳:۸- چونکہ ’’سردار کاہن‘‘ کا بڑا کام ’’نَذریں اور قُربانیاں‘‘ گُزراننا ہوتا ہے ، اِس لئے اِس سے یہ نتیجہ نِکلتا ہے کہ ہمارا سردار کاہن بھی وُہی کرے گا۔

’’نذریں‘‘ ایک عام اصطلاح ہے جِس میں وُہ سب چِیزیں آجاتی ہیں جو خُدا کو پیش کی جاتی تھیں۔ ’’قُربانیاں‘‘ وُہ نَذریں ہیں جن میں جانور ذبح کیا جاتا تھا۔ مسیح نے کیا نَذر کِیا؟ اِس سُوال کا جواب یہاں نہیں دِیا گیا بلکہ باب ۹ میں۔

۴:۸- یہ آیت اِس سُوال کو نظر انداز کرتے ہُوئے کہ مسیح نے کیا قُربانی چڑھائی، صِرف یہ یاد دلاتی ہے کہ ’’اگر وُہ زمین پر ہوتا تو‘‘ وُہ خیمہ اجتماع یا ہیکل میں قُربانی اور نذریں گُزراننے کا حَقدار نہ ہوتا۔ ہمارا خداوند یُہؔوداہ کے قبیلہ سے تھا نہ کہ لؔاوی کے قبیلہ سے یا ہارُوؔن کے خاندان سے۔ اِس وجہ سے وُه زمینی مَقدِس میں خِدمت انجام نہیں دے سکتا تھا۔ جب ہم اناجیل میں پڑھتے ہیں کہ یسؔوع ہیکل میں گیا (دیکھئے لُوتا ۱۹: ۴۵) تو ہمیں معلوُم ہونا چاہئے کہ وُہ پاک مقام یا پاک ترین مقام میں نہیں گیا بلکہ صِرف صحن میں۔

یہاں یہ سُوال پَیدا ہوتا ہے کہ جب یسؔوع زمین پر تھا تو کیا اُس نے سردار کاہن کی کوئی خِدمت ادا کی یا اُس نے اپنے کہانت کے کام کو صِرف اُس وقت ہی شُروع کِیا جبکہ وُہ آسمان پر گیا؟ آیت ۴ کا مطلب یہ ہے کہ جب وُہ زمِین پر تھا تو وُہ ہاروؔن کے طریق کا کاہن بننے کا اہل نہیں تھا اِس لئے وہ یروشلیؔم کی ہیکل میں خِدمت نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وُہ مَلکِ صِؔدق کے طریق سے کاہِن کی خِدمت بھی انجام نہیں دے سکتا تھا۔ آخراُس کی یُوحَنّا باب ۱۷ میں دُعا سردار کاہن ہی کی دُعا تھی۔ اور پھِراُس کا اپنے آپ کو کلوؔری پر بطور کامِل قربانی پیش کرنا یقیناً ایک کہانتی عمل تھا (دیکھئے ۲ : ۱۷)۔

۵:۸- زمین پرخیمه اجتماعی’’آسمانی‘‘ مَقدِس کی نقل تھا۔ اِس کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ خُدا کے عہدی لوگ کِس طرح خُدا سے پرستش میں ملاقات کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے صحن کا دروازہ تھا، اُس سے آگے سوختنی قُربانی کا مذبح اور پھر پیتل کا حَوض۔ اِس کے بعد کاہِن پاک مقام میں داخِل ہوتا اور سردار کاہن پاک ترین مقام میں جہاں خُدا اُس پر ظاہر ہوتا تھا۔

’خَیمہ اجتماع‘‘ ایک عارضی مَقدِس تھا۔ وُہ صِرف ’’نقل اور عکس‘‘ تھا۔ جب خُدا نے ’’مُوسیٰ‘‘ کو
کوہِ ؔسینا پر بُلا کر اُسے خیمہ اجتماع بنانے کو کہا تو اُس نے اُسے نقشہ دیا اور اُس کے مُطابق بنانے کو کہا۔ یہ ’’نمُونہ‘‘ اعلیٰ ’’آسمانی‘‘ رُوحانی حقائِق کی مثال تھا۔

مُصنِّف اِس بات پر زیادہ زور کیوں دے رہا ہے ؟ محض اِس لئے کہ اگر کِسی پر دوبارہ یہُودیت اِختیار کرنے کی آزمائِش آئے تو اُنہیں عِلم ہو جائے کہ وُہ اصل کو چھوڑ کر عکس کے پیچھے دَوڑ رہے ہیں جبکہ اُنہیں عکس کی طرف سے اصل کی طرف جانا چاہِئے۔

آیت ۵ صفائی سے بتاتی ہے کہ عہدِعقیق کی چیزیں آسمانی حقیقتوں کی مثال تھیں۔ چنانچہ مثالیات سے تعلیم دینا درُست ہے بشرطیکہ وُہ پاک نوشتوں سے اِتفاق کرتی ہوں اور اُن میں خیال آرائی کا دخل نہ ہو۔

۶:۸- یہ آیت افضل مَقدِس کے مضمُون اور ’’بہترعہد‘‘ کی بحث کے درمیان ایک کڑی ہے۔ سب سے پہلے ایک موازنہ ہے۔ مسیح کی خِدمت ہارُونی کاہنوں کی خدمت سے اُتنی ہی افضل سے جِتنا کہ وُہ عہد جِس کا وُہ درمیانی ہے پُرانے عہد سے افضل ہے۔

پھِر وجہ بیان کی گئی ہے۔ یہ ’’عہد‘‘ اِس لئے ’’بہتر‘‘ ہے کیونکہ یہ ’’بہتر وعدوں‘‘ پر قائِم ہے۔ مسیح کی خِدمت ازحد بہتر ہے۔ اُس نے جانور کی قُربانی کو نہیں بلکہ اپنا ہی خُون پیش کِیا جو بَیلوں اور بکروں کے خُون سے کہیں بیش قیمت ہے۔ اُس نے گُناہوں کو محض ڈھانپا نہیں بلکہ دُور کر دیا۔ اُس نے ایمان داروں کو مُطمئِن ضمیر بخشا۔ اُس نے اَیسی قُربانی پیش نہیں کی جو ہر سال گُناہوں کی یاد دِلاتی ہے۔ اُس نے ہمارے لئے خُدا کی حضُوری میں پُہنچنے کا راستہ کھول دِیا تاکہ ہم دُور کھڑے ہو کر دیکھتے نہ رہیں۔

وُہ ’’بہتر عہد کا درمیانی ٹھہرا‘‘۔ بطور’’درمیانی‘‘ وُہ خُدا اور اِنسان کے درمیان کھڑا ہے تاکہ جُدائی کی خلیج کو پُر کردے۔ گِرفتھؔ تھامس عَہدوں کا موازنہ بڑی جامعّیت سے کرتا ہے:

عہد ’’بہتر‘‘ ہے کیونکہ یہ غیر مشرُوط ہے، رُوحانی ہے جِسمانی نہیں، عالمگیر ہے مقامی نہیں، ابدی ہے عارضی نہیں، اِنفرادی ہے قومی نہیں، باطنی ہے خارجی نہیں۔

یہ ’’بہترعہد‘‘ ہے کیونکہ اِس کی بُنیاد ’’بہتر وعدوں‘‘ پر ہے۔ شریعت کے عہد میں فرمانبرداری کے لئے برکات کا وعدہ تھا لیکن نافرمانی کی صُورت میں مَوت کی سزا تھی۔ وُہ راست بازی کا مُطالبہ کرتا تھا لیکن اِس کو پَیدا کرنے کی قابلیّت نہیں دیتا تھا۔

نیا عہد فضل کا غیر مشرُوط عہد ہے۔ جہاں راست بازی نہیں، یہ راست بازی منسُوب کرتا ہے۔ یہ راست بازی کی زِندگی بَسر کرنا سِکھاتا ہے اور اَیسا کرنے کے لئے قُوّت دیتا ہے اور جب کوئی اَیسا کرتا ہے تو اَجر دیتا ہے۔

۷:۸- ’’پہلاعہد‘‘ کامِل نہیں تھا یعنی وُہ خُدا اوراِنسان کے درمیان درُست تعلقات اُستوار کرنے میں ناکام رہا۔ وُہ دائمی عہد نہیں تھا بلکہ مسیح کی آمد کی تیاری ہی تھا۔ یہ حقیقت کہ دُوسرے عہد کا ذِکر آیا ہے یہ ظاہر کرتی ہے کہ پہلا عہد معیاری نہیں تھا۔

۸:۸- درحقیقت پہلے عہد میں نقص نہیں تھا: ’’شریعت پاک ہے اور حُکم بھی پاک اور راست اور اچھّا ہے‘‘ (رومیوں۱۲:۷)- نقص اُن لوگوں میں تھا جنہیں یہ دِیا گیا تھا۔ شریعت کا خام مال ناقِص تھا۔ اِس کو یہاں یُوں بیان کِیا گیا ہے: ’’پس وُہ اُن کے نقص بتا کر کہتا ہے ۔۔۔۔‘‘ وُہ عہد میں کوئی نقص نہیں بتاتا بلکہ اُس کے عہدی لوگوں میں۔ پہلا عہد اِنسان کے فرمانبرداری کرنے کے وعدہ پر قائم ہؤا تھا
(خرُوج۱۹: ۸؛ ۲۴: ۷)، اِس لئے وہ زیادہ عرصہ کے لئے نہیں تھا۔ نئے عہد میں خُدا نے شُروع سے آخر تک سب کُچھ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہی اُس کی قُوّت ہے۔

مُصنِّف اب یرمیاه ۳۱:۳۱-۳۴ کا حوالہ دے کر دِکھاتا ہے کہ خُدا نے پُرانے عہد میں نئے عہد کا وعدہ کیا ہے۔ تمام بحث لَفظ ’’نیا‘‘ کے اِرد گِرد گھُومتی ہے۔ اگر پُرانا کافی اور تسلّی بخش ہوتا تو پھِر ایک نیا مُتعارف کرانے کی کیا ضُرورت ہوتی؟

خُدا واضح طور پر وَعدہ کرتا ہے کہ ’’مَیں اسرائیل کے گھرانے اور یہؔوداہ کے گھرانے سے ایک نیا عہد باندھوں گا‘‘۔ جَیسا کہ پہلے بیان کیا جاچُکا ہے کہ ’’نئے عہد‘‘ کا تعلق بنیادی طور پر’’اِسرائیل‘‘ کے ساتھ تھا نہ کہ کلیسیا کے ساتھ ۔ یہ مکمل طور پر اُس وقت تکمیل پائے گا جب میسح تائب اور مخلصی یافتہ اِسرائیل پر حکُومت کرنے کے لئے آئے گا۔ لیکن دریں اثنا عہد کی کُچھ برکات سے تمام ایمان دار بھی لُطف اندوز ہوں گے۔ چنانچہ جب نجات دہندہ نے مَے کا پیالہ اپنے شاگِردوں کو دِیا تو کہا ’’یہ پیالہ میرے خُون میں نیا عہد ہے۔ جب کبھی پِیو میری یادگاری کے لئے یہی کیا کرو‘‘(۱۔ کرنتھیوں۲۵:۱۱)۔

ہینڈرسؔن رقم طراز ہے :

پس ہم پہلی تفسیر جو اِسرائیل کے لئے ہے اور دُوسری جِس کا رُوحانی اِطلاق آج کل کلیسیا پر کِیا جاتا ہے میں اِمتیاز کرتے ہیں۔ اَب ہم پاک رُوح کی قُوّت میں نئے عہد کی برکات سے لُطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اِس کے باوجُود بھی خُدا کے وعدہ کے مُطابق اِس کا مزِید اور مُستقبِل میں ظہُور اِسرائیل کے لئے ہے۔

۹:۸- خُدا صاف طور پر وعدہ کرتا ہے کہ نیا عہد، ’’اُس عہد کی مانند‘‘ نہ ہو گا جو اُس نے اُن کے ساتھ اُس وقت ’’باندھا‘‘ جب اُس نے ’’مُلکِ مِؔصر سے نِکال لانے کے لئے اُن کا ہاتھ پکڑا تھا‘‘۔ وُہ فَرق کیسے ہوگا؟ اگرچہ وُہ کہتا تو نہیں لیکن غالباً اِس کا جواب آیت کے باقی حِصّے میں مِلتا ہے:

’’اِس واسطے کہ وُہ میرے عہد پہ قائم نہیں رہے اور خُداوند فرماتا ہے کہ مَیں نے اُن کی طرف کُچھ توجُّہ نہ کی‘‘۔ شریعت کا عہد اِس لئے ناکام ہو گیا کیونکہ وُہ مشروُط تھا۔ وُہ لوگوں سے فرمانبرداری کا تقاضا کرتا تھا جو اُن سے نہیں ہوتی تھی۔

نیا عہد دینے کے وسیلہ سے جو کہ غیرمشرو فضل کا عہد ہے خُدا ناکامی کے اِمکان کو ختم کر دیتا ہے کیونکہ اِس کی تکمیل کا اِنحصار صِرف اُسی پر ہے اور وُہ ناکام نہیں ہوتا۔

۱۰:۸- پُرانا عہد بتاتا ہے کہ آدمی کو کیا کرنا لازم ہے، لیکن نیا عہد یہ بتاتا ہے کہ خُدا کیا کرے گا۔ جب اِسرائیل کی نافرمانی کے دِن گُزر جائیں گے تو خُدا ’’اپنے قانُون اُن کے ذہن میں‘‘ ڈالے گا تاکہ وُہ جان جائیں۔ اور اُن کے ’’دِلوں پر‘‘ لِکھے گا تاکہ وُہ اُنہیں پیار کریں۔ وُہ فرمانبرداری کرنا چاہیں گے، سَزا کے خَوف سے نہیں بلکہ اُس سے محبّت کرنے کے باعث ۔ اب قانون یا شریعت پتّھر پر نہیں لِکھی جائے گی بلکہ دِل کی تختیوں پر۔

’مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا اور وُہ میری اُمّت ہوں گے‘‘۔ اِس سے قُربت کا اظہار ہوتا ہے۔ پُرانا عہد لوگوں کو فاصلے پر کھڑا ہونے کو کہتا ہے، لیکن فضل اُنہیں نزدیک آنے کو کہتا ہے۔ عِلاوہ ازیں یہ اٹُوٹ رِشتے اور غیر مشرُوط حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔ اِس خُون خریدے تعلق میں کبھی بھی کوئی چیز رخنہ انداز نہیں ہوسکتی۔

۱۱:۸- نئے عہد میں خُداوند کا عالمگیر عِرفان بھی شامل ہے۔ المسیح کی جلالی حکُومت میں ایک شخص ’’اپنے ہموطن اور اپنے بھائی کو یہ تعلیم نہ دے گا کہ تُو خُداوند کو پہچان‘‘۔ ہر شخص ’’چھوٹے سے بڑے تک‘‘ باطنی طور پر اُس کا علم رکھے گا: ’’جِس طرح سمُندر پانی سے بھرا ہے اُسی طرح زمین خُداوند کے عرفان سے معمُور ہوگی‘‘ (یَسعیاہ۹:۱۱)-

۱۲:۸- سب سے اچھّی بات یہ ہے کہ نیا عہد ناراستوں سے رحم اور’’اُن کے گُناہوں‘‘ کو دائِمی طور پر مُعاف کرنے کا وَعدہ کرتا ہے۔ شریعت میں لچک نہیں تھی: ’’ہر نا فرمانی کا ٹھِیک ٹھیک بدلہ مِلا‘‘ (عِبرانیوں۲:۲)۔

مزِید براں، شریعت گُناہ سے مؤثر طریقے سے نہیں نپٹ سکتی تھی۔ وُہ گُناہوں کا کفّارہ تو مّہیا کرتی تھی لیکن اُن کو دُور نہیں کرتی تھی (یہاں کفّارہ کے لئے جو عبرانی لفظ آیا ہے اُس کے فعل کا مطلب ڈھانپنا ہے)۔ شرِیعت میں جن قُربانیوں کا ذِکر ہے وُہ آدمیوں کو رسمی طور پر پاک کرتی تھیں یعنی وُہ اُنہیں قَوم کی مذہبی زِندگی میں شریک ہونے کے قابل بنا دیتی تھیں۔ لیکن یہ رسمی پاکیزگی خارجی تھی۔ یہ قربانیاں اِنسان کی باطنی زِندگی کو چھُوتی نہیں تھیں۔ یہ اُنہیں نہ تو اخلاقی پاکیزگی عطا کرتی تھیں اور نہ صاف ضمیر۔

۱۳:۸- جب خُدا نے ایک ’’نیا عہد‘‘ مُتعارف کِیا تو اِس کا مطلب یہ تھا کہ ’’پُرانا‘‘ منسُوخ ہو گیا۔ اِس لئے شریعت کی طرف لوٹنے کا نہیں سوچنا چاہئے۔ تاہم مُعاملہ بعین یہی تھا کہ بعض ایمان داروں پر یہ آزمائِش آئی ہُوئی تھی۔ چنانچہ مُصنِّف اُنہیں تنبیہ کرتا ہے کہ شرعی عہد پُرانا ہو چُکا ہے اور اِس کی جگہ ایک بہتر عہد مُتعارف کرایا گیا ہے۔ پَس اُنہیں خُدا کے ساتھ قدم سے قدم مِلاکر چلنا چاہئے۔

ج۔ مسیح کی قُربانی عہدِعتیق کی قُربانیوں سے افضل ہے (۹: ۱ـــ۱۸:۱۰)

۱:۹- ۸:۳ میں مُصنِّف نے سرسری طور پر اِس حقیقت کا ذِکر کِیا تھا کہ ہر ایک سردار کاہن کے پاس نَذر کرنے کو کُچھ نہ کُچھ ہونا لازم تھا۔ اب وُہ ہمارے بڑے سردار کاہن کی نَذر پر بحث کرنے اور اُس کا مُقابلہ پُرانے عہد کی قُربانیوں کے ساتھ کرنے کو تیار ہے۔ موضُوع کو مُتعارف کرانے کے لئے وُہ خیمہ اِجتماع کی ترتیب اور عبادت کے احکامات پر جَلدی جَلدی نظر دَوڑاتا ہے۔

۲:۹- ’’خیمہ‘‘ ایک تنبُو تھا جس میں خُدا اِسرائیل کے درمیان اُن کے کوہِؔ سینا پر ڈیرے ڈالنے سے لے کر ہیکل کی تعمیر تک سکُونت کرتا تھا۔ خیمہ اِجتماع کے اِرد گِرد کے حِصّے کو صحن کہا جاتا تھا۔ یہ کپڑے کے بنے ہُوئے پَردوں سے گھِرا ہؤا تھا۔ جب اِسرائیلی خیمہ کے صِحن میں دروازے سے داخِل ہوتے تو اُن کا سامنا سوختنی قُربانی کے مذبح سے ہوتا جہاں قُربانی کا جانور ذبح کِیا جاتا اور جَلایا جاتا تھا۔ اِس کے بعد پِیتل کے پانی کا حوض آتا جِس میں کاہِن اپنے ہاتھ اور پاؤں دھوتا تھا۔ خیمہ اجتماع کی لمبائی ۴۵ فُٹ، چوڑائی ۱۵ فُٹ اور اُونچائی ۱۵ فُٹ تھی۔ یہ دو حِصّوں میں تھا۔ پہلا حِصّہ پاک مقام کہلاتا تھا جو ۳۰ فُٹ لمبا تھا۔ دُوسرے کو پاک تِرین مقام کہتے تھے اور یہ ۱۵فُٹ لمبا تھا۔

خیمہ کا ڈھانچا لکڑی کا تھا جو بکری کے بالوں کے پَردوں اور جانوروں کی پن روک کھالوں سے ڈھکا ہؤا تھا۔ خیمہ کی چھَت اور پُشت اور دائیں بائیں کی دِیواریں اِسی میٹیریل کی تھیں۔ خَیمہ کے سامنے ایک مُنقّش پَردہ لٹکا ہؤا تھا۔

پاک مقام میں درجِ ذیل اشیاء تھِیں:

۱۔ ’’نَذر کی روٹیوں‘‘ کی ’’میز‘‘ جِس پر ۱۲ روٹیاں رکھی جاتی تھیں۔ یہ اِسرائیل کے ۱۲ قبیلوں کی نمائِندگی کرتی تھیں۔ اُنہیں نَذر کی روٹیاں اِس لئے کہتے تھے کہ یہ خُدا کی حضُوری میں وہاں پڑی رہتی تھیں۔

۲۔ سونے کا ’’چراغدان‘‘۔ اِس کی اُوپر کو اُٹھی ہُوئی سات شاخیں تھیں جِن پر تیل کے چراغ بنے ہُوئے تھے۔

۳۔ بخُور جلانے کی سونے کی میز۔ اِس پر صُبح اور شام پاک بخُور جلایا جاتا تھا۔

۳:۹- ’’دُوسرے پَردہ کے پِیچھے‘‘، ’’پاک ترین‘‘ مقام تھا۔ یہاں خُدا اَپنے آپ کو چمکتے بادلوں میں ظاہر کیا کرتا تھا۔ یہ زمین پر واحد جگہ تھی جہاں خُدا سے خُون کے کفّارہ کے ساتھ مُلاقات کی جا سکتی تھی۔

۴:۹- اصل خیمہ کے دُوسرے حِصّے میں’’عہد کا صندُوق‘‘ رکھا ہؤا تھا۔ یہ لکڑی کا ایک بڑا صنُدوق تھا جِس پر ’’چاروں طرف سونا منڈھا ہؤا‘‘ تھا۔ اِس کے اندر ’’سونے کا مرتبان‘‘ تھا جِس میں ’’مَن‘‘ بھَرا ہؤا تھا۔ اِس میں ’’پھُولا پھَلا ہؤا ہارؔون کا عصا‘‘ اور دو ’’عہد کی تختیاں‘‘ تھیں ۔(جب بعد میں ہیکل تعمیر ہُوئی تو صنُدوق میں سِوا عہد کی تختیوں کے اور کُچھ نہیں تھا ۔ دیکھئے ۱۔سلاطین۹:۸)۔

آیت ۴ بیان کرتی ہے کہ ’’سونے کا عُود سوز‘‘ بھی پاک ترین مقام میں تھا۔ یُونانی لَفظ جِس کا ترجمہ ’’عوُد سوز‘‘ کِیا گیا ہے اُس کا مطلب بخُور جلانے کی قُربان گاہ ( خرُوج ۶:۳۰ میں یہ پاک مقام میں تھی) یا ’’عُودسوز‘‘ ہو سکتا ہے جِس میں سردار کاہن بخُور لے کر جاتا تھا۔ اِس کی بہترِین تشِریح مؤخرالذِکر ہے۔ مُصنِّف کے خیال میں ’’عُود سوز‘‘ کا تعلق پاک ترین مقام سے تھا، کیونکہ سردار کاہن یَومِ کفّارہ پر اِسے بخُور جلانے کی قُربانگاه سے پاک ترِین مقام میں لے جاتا تھا۔

۵:۹- عہد کے صندُوق کے سونے کے ڈھکن کو ’’کفارہ گاہ‘‘ یا رحم گاہ کہا جاتا تھا۔ اِس کے اُوپر سونے کے دو ’’کروبی‘‘ تھے۔ وُہ اپنے مُنہ آمنے سامنے کئے اور اپنے پَروں کو پَھیلائے ہُوئے اور اپنے سَروں کو کفّارہ گاہ پر جھُکائے ہُوئے کھڑے تھے۔

مُصنِّف اپنے بیان کو مُختصر تشرِیح کے ساتھ ختم کر دیتا ہے۔ اِس کا مطلب اُسے مُفصّل طور پر بیان کرنا نہیں ہے بلکہ خیمہ اجتماع کی اَشیاء کا خاکہ اور خُدا تک رسائی کے راستہ کو بیان کرنا ہے۔

۶:۹- چونکہ مُصنّف، میسح کی قُربانی کے ساتھ یہُودیت کی قُربانی کا موازنہ کرے گا اِس لئے وُہ اُن چیزوں کو جِن کی اِس سِلسلے میں شریعت کو ضرُورت تھی بیان کرتا ہے۔ بُہت سی چِیزیں تھیں جنہیں وُہ چُن سکتا تھا لیکن وُہ وُہی کُچھ منتخِب کرتا ہے جو تمام شرعی نظام میں سب سے اہم تھا یعنی وُہ قُربانی جوکفّارہ کےعظیم دِن گُزرانی جاتی تھی (احبار باب۱۶)- اگر وُہ مسیح کے کام کو اِسرائیل کے اُس خاص دِن پر سردار کاہن کے کام سے افضل ثابت کر دے تو وُہ اپنے مقصد میں کامیاب ٹھہرے گا۔

کاہِن خیمہ کے پہلے حِصّہ یعنی صِرف پاک مقام میں داخِل ہو سکتے تھے۔ وُہ اپنے رسمی فرائض کی ادائیگی کے لئے اُس میں متواتر داخِل ہوتے رہتے تھے۔ عام آدمی اُس کرے میں داخِل نہیں ہو سکتے تھے۔ اُنہیں صحن میں رہنا پڑتا تھا۔

۷:۹- دُنیا میں صِرف ایک ہی آدمی تھا جو پاک ترین مقام میں جا سکتا تھا یعنی اِسؔرائیل کا ’’سردار کاہن‘‘۔ اور وُہ ایک آدمی جو ایک نَسل، ایک قبیلہ، ایک خاندان سے تھا سال میں صِرف ایک دِن یعنی یَومِ کفّارہ پر اُس میں داخِل ہو سکتا تھا۔ اور جب وُہ داخِل ہوتا تو وُہ ایک برتن میں ’’خُون‘‘ لے جاتا ’’جِسے اپنے واسطے اور اُمّت کی بھُول چُوک کے واسطے گُزرا نتا‘‘ تھا۔

۸:۹- اِس کے ساتھ گہری رُوحانی سچّائیاں وابستہ تھیں۔ ’’پاک رُوح‘‘ یہ سِکھا رہا تھا کہ گُناہ نے خُدا اور آدمیوں کے درمیان فاصلہ پیدا کر دِیا ہے اور ضروُری ہے کہ آدمی کِسی درمیانی کی وساطت سے خُدا کے پاس جائے اور وُہ بھی صِرف قُربانی کے خُون کے ساتھ۔ یہ ایک تمثیلی سبق تھا جِس کا مقصد یہ سِکھانا تھا کہ پرستاروں کے لئے خدا کی حضُوری میں جانے کی ’’راہ‘‘ ابھی تک ’’ظاہر نہیں ہُوئی‘‘ ہے۔ ’’جب تک پہلا خیمہ کھڑا‘‘ رہا، غیر کامِل راہ جاری رہی۔ اگرچہ سؔلیمان بادشاہ کے زمانہ میں خیمہ کی جگہ ہیکل تعمیر کی گئی تو بھی مسیح کی مَوت، دفن اور جی اُٹھنے تک اُس کی وُقعت قائم رہی۔ خُدا تک رسائی کے لئے جِن اصُولوں کو یہ پیش کرتا تھا، ہیکل کے پَردے کے اُوپر سے نیچے تک پھٹنے کے دِن تک قائم رہے۔

۹:۹- خیمہ کا اِنتظام وانصرام ’’موجُودہ زمانہ کے لئے ایک مثال ہَے‘‘۔ یہ آنے والی کسی بہتر چِیز کی تصوِیر ہے۔ یہ مسیح کے کامِل کام کا غیر کامِل نمائِندہ تھا۔

’’نَذریں اور قُربانیاں‘‘ پرستار کو’’دِل کے اِعتبار سے کامِل نہیں کر سکتی‘‘ تھیں۔ اگر گُناہوں کی مکمّل مُعافی مِل جاتی تو پھِرعبادت کرنے والے کا دِل گُناہ سے آزاد ہو جاتا۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہوسکا۔

۱۰:۹- درحقیقت، لاویوں کی قُربانیاں ’’صِرف‘‘ رسمی آلودگی کو دُور کرتی تھیں۔ اُن کا تعلق خارجی بانوں مثلاً ’’کھانے پینے‘‘ اور رسمی ’’غُسلوں‘‘ سے تھا جس سے خارجی ناپاکی دُور ہوتی تھی، لیکن وُہ اخلاقی پلیدگی کو صاف نہیں کرتی تھیں۔

قُربانیوں کا تعلق اُن لوگوں سے تھا جِن کے ساتھ خُدا نے عہد باندھا تھا۔ اِن کا مقصد لوگوں کو رسمی طور پر پاک کرنا تھا تاکہ وُہ خُدا کی پرستِش کر سکیں۔ اِن کا تعلق نجات سے یا گُناہ سے پاک کرنے سے نہیں تھا۔ لوگ، خُداوند پر ایمان لانے کے باعث بچتے تھے جِس کی بنیاد مسیح کے اُس کام پر تھی جو ہنُوز مُستقبِل میں انجام پانا تھا۔

پھر قُربانیاں عارضی تھیں۔ یہ ’’اِصلاح کے وقت تک‘‘ کے لئے ’’مُقرر‘‘ کی گئی تھیں۔ یہ مسیح کی آمد اور اُس کی کامِل قربانی کی طرف اشارہ کرتی تھیں۔ یہاں جِس ’’اِصلاح کے وقت‘‘ کا ذِکر ہؤا ہے وُہ عیسوی زمانہ ہے۔

۱۱:۹- ’’مسیح آئندہ کی اچھّی چیزوں کاسردار کاہِن ہو کر آیا‘‘ یعنی اُن بے حَد برکات کا جو وُہ اُن کو دے گا جو اُسے قبول کرتے ہیں۔

اُس کا مَقدس، ایک ’’بُزرگ تر اور کامِل تَر خیمہ‘‘ ہے۔ وُہ ’’ہاتھوں کا بنا ہؤا‘‘ نہیں ہے یعنی اُس کی تعمیر میں دُنیاوی سامان اِستعمال نہیں ہؤا ہے۔ وُہ آسمانی مَقدِس اور خُدا کی سکُونت گاہ ہے۔

۱۲:۹- ہمارا خُداوند ’’پاک مکان میں ایک ہی بار داخل ہو گیا‘‘۔ اپنے صعُودِ آسمانی کے وقت، وُہ کلؔوری پر ہماری ’’خلاصی‘‘ کرا کے خُدا کی حضُوری میں حاضر ہُؤا۔ ہمیں ’’ایک ہی بار‘‘ کے الفاظ پر ہمیشہ خُوشی مناتے رہنا چاہئے۔ کام مکمّل ہو چُکا ہے۔ خُداوند کی تعریف ہو!

اُس نے بکروں اور بَیلوں کا خُون نہیں بلکہ ’’اپنا ہی خُون‘‘ پیش کیا۔ جانوروں کے خُون میں گُناہوں کو ہٹانے کی قُوّت نہیں۔ یہ صِرف مذہبی رسُومات سے مُتعلق خاص خطاؤں کے لئے ہی مؤثر تھا۔ لیکن مسیح کا خُون لامحدُود قدر وقیمت کا حامِل ہے۔ اِس کی قُوّت ہر زمانہ کے لوگوں کے گُناہ دھونے کے لئے خواہ وُہ اب زِندہ ہیں یا کبھی زِندہ تھے کافی ہے۔ لیکن اِس قُوّت کا تجربہ صِرف وُہ کرتے ہیں جو اُسے ایمان سے قبُول کرتے ہیں۔

اَپنی قُربانی کے ذریعہ اُس نے’’ابدی خلاصی‘‘ کرائی۔ پہلے کاہن ہر سال کفّارہ دیتے تھے۔ اِن دونوں میں بڑا وسیع فرق ہے۔

۱۳:۹- مسیح کی قُربانی اور شریعت کی رسُومات میں فرق ظاہر کرنے کے لئے اب مُصنِّف گائے کی راکھ کی طرف متوّجہ ہوتا ہے۔ شریعت کے مُطابق اگر کوئی اِسرائیلی لاش کو چھُو لیتا تو وُہ رسمی طور پر سات دِن تک نا پاک ہو جاتا۔ اِس کا عِلاج یہ تھا کہ ناپاک شخص پر سُرخ بچھیا کی جلی ہوئی راکھ میں چشمے کا صاف پانی مِلاکر تِیسرے اور ساتویں دِن چھِڑکا جائے۔ تب وُہ پاک ٹھہرتا۔

۱۴:۹- اگر گائے کی راکھ ایک نہایت سنگین قِسم کی خارجی خطا سے پاک کرنے کی قُوت رکھتی تھی تو پھر ’’مسیح کا خُون‘‘ باطنی گناہوں کے گہرے سے گہرے داغ کو دھونے کے قابل کیوں نہ ہوگا!

اُس کی قربانی ’’ازلی رُوح‘‘ کے وسیلہ سے تھی۔ اِس اصطلاح کے معنی کے بارے میں کُچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک ازلی رُوح کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کے مُقابلے میں اُس نے رضامند رُوح سے قُربانی دی۔ دِیگر اِس کا مطلب ’’اپنی اَبدی رُوح‘‘ سمجھتے ہیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ یہاں ’’پاک رُوح‘‘ پیشِ نظر ہے۔ اُس نے یہ قُربانی پاک ’’رُوح‘‘ کی قُوّت میں دی۔

یہ قُربانی خُدا کو دی گئی۔ وُہ خُدا کا بے عیب اور بے گُناہ برّہ تھا جِس کی کاملیّت نے اُسے ہمارے گُناہ اُٹھانے کے قابل بنا دیا۔ قُربانی کے جانور کے لئے لازمی تھا کہ وُہ بے عیب اور بے داغ ہو۔ مسیح پر بھی کِسی قِسم کا کوئی داغ دھّبا نہیں تھا۔

اُس کا ’’خُون‘‘ ہمیں مُردہ کاموں سے پاک کرتا ہے تاکہ ’’زِندہ خُدا کی عِبادت کریں‘‘۔

۱۵:۹- گُزشتہ آیات نے اِس بات پر زور دیا کہ نئے عہد کا خُون پُرانے عہد کے خُون سے افضل ہے۔ اِس کا وُہ نتیجہ نکلتا ہے جسے آیت ۱۵ میں بیان کیا گیا ہے کہ مسیح ’’نئے عہد کا درمیانی ہے‘‘۔ دُوؔسٹ بیان کرتا ہے :

لفظ ’’درمیانی‘‘ میسیٹِس کا ترجمہ ہے۔ یہ اُس شخص کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو دو افراد کے درمیان مداخلت کرتا ہے، جو دوستی اور امن بحال کرتا ہے، جو معاہدہ تشکیل دیتا یا اُس کی توثیق کرتا ہے۔ یہاں المسیح پاک خُدا اور گنہگار انسان کے درمیان درمیانی کا کِردار ادا کرتا ہے۔ اپنی صلیبی مَوت کے ذریعہ وُہ خُدا اور انسان کے درمیان رکاوٹ (گُناہ) کو جو اُن میں دُوری کا سبب بنی ہوئی تھی ہٹا دیتا ہے۔ جب گُنہگار المسیح کی قُربانی کو قبول کرتا ہے تو اُس کے گُناہ کی سَزا اور جُرم باقی نہیں رہتا، اُس کی زِندگی میں گُناہ کی قُوّت اور زور ٹُوٹ جاتا ہے، وُہ ذاتِ الہٰی میں شریک ہوتا ہے اور اُس کے اور خُدا کے درمیان شرعی اور شخصی دونوں دُوریاں ختم ہو جاتی ہیں۔

اب جو بُلائے ہُوئے ہیں اُن کو وعدہ کے مُطابق ’’ابدی میراث‘‘ مِل جاتی ہے۔ مسیح کے کام کے ذریعہ پُرانے اور نئے دونوں عہدوں کے مُقدّسین ’’ابدی‘‘ نجات اور ’’ابدی‘‘ مخلصی سے لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ وُہ حقیقت جو فضل کے زمانہ سے بیشتر کے ایمان داروں کو میراث کا وارث بنا دیتی ہے یہ ہے کہ مَوت واقع ہو چُکی ہے یعنی مسیح کی موت، اور اُس کی مَوت اُنہیں ’’پہلے عہد کے وقت کے قصُوروں کی مُعافی‘‘ دِلا دیتی ہے۔

خُدا نے پُرانے عہد نامہ کے لوگوں کو ’’پیشگی‘‘ مُعافی دے دی ہے۔ وُہ بھی ہماری طرح ایمان ہی سے راست باز ٹھہرے تھے۔ لیکن اب تک مسیح کی مَوت واقع نہیں ہُوئی تھی۔ تو پھر وُہ اُنہیں کیسے بچا سکتا تھا؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ اُس نے اُنہیں اپنے اُس عِلم کی بُنیاد پر بچایا کہ مسیح کیا کُچھ انجام دے گا۔ لوگ تو بُہت کم یا بالکُل نہیں جانتے تھے کہ مسیح کلوؔری پر کیا کرے گا۔ لیکن خُدا جانتا تھا، اور جب وُہ اُس پر جو کُچھ خُدا نے اپنے بارے میں ظاہر کیا اِیمان لائے تو اُس نے مسیح کا مخلصی کا کام اُن سے منسُوب کیا۔

ایک لحاظ سے پُرانے عہد کے تحت قُصُوروں کا عظیم قرضہ جمع ہوتا رہا۔ اور جب مسیح نے موت سہی تو اُس نے اُس کے ذریعے سے پہلے عہد کے ایمان داروں کو اِن ’’قصُوروں‘‘ سے نجات دِی۔ خُدا نے اُن کو مسیح کے ہنُوز مستقبِل کے کام سے جِس طریقے سے نجات دی اُسے ’’جو گُناہ پیشتر ہو چُکے تھے‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِس پہ رومیوں ۳ : ۲۵-۲۶ میں بحث کی گئی ہے۔

۱۶:۹- مُصنِّف جِس میراث کا آیت ۱۵ میں ذِکر کرتا ہے ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اِس سے پیشتر کہ ’’وصیّت‘‘ پُوری ہو اِس بات کی شہادت ہونی چاہئِے کہ ’’وصیّت کرنے والا‘‘ مر چُکا ہے۔

۱۷:۹- مُمکِن ہے کسی نے اپنی وصیّت کافی عرصہ پہلے لکھی ہو اور اُسے حفاظت سے رکھ لیا ہو، لیکن اُس وقت تک اُس پر عمل نہیں کِیا جا سکتا جب تک کہ وصیّت کرنے والا مَر نہ جائے۔ جب تک وُہ زِندہ ہے اُس کی جائیداد وارِثوں میں تقسِیم نہیں کی جاسکتی۔

۱۸:۹- اب مَوضُوع، ایک شخص کی وصیّت سے مُوؔسیٰ کی معرفت دِئے گئے ’’عہدِ‘‘عقیق کی طرف منتقِل ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی ایک کو مَرنا پڑا۔ اِس کی توثیق بھی ’’خُون‘‘ سے کی گئی۔

قدیم زمانہ میں ہر ایک عہد کی ایک جانور کی ذبِیحی مَوت کے بعد ہی توثیق ہوتی تھی۔ خُون اِس بات کی توثیق تھی کہ عہد کی ہر ایک شرط پُوری کی جائے گی۔

۱۹:۹- جب ’’مُوؔسٰی‘‘ اِسرائیلی شریعت کے تمام حُکم سُناچُکا تو ’’بچھڑوں اور بکروں کا خُون لے کر پانی اور لال اُون اور زُوفا کے ساتھ‘‘ شریعت کی ’’کتاب اور تمام اُمّت پر چھڑک دِیا‘‘۔ اِس طریقے سے مُوؔسیٰ نے عہد کی توثیق کی یا اُس پر مُہر ثبت کی۔

خرُوج۲۴: ۱۔۱۱ میں ہم پڑھتے ہیں کہ مُوؔسیٰ نے ’’قُربانگاہ‘‘ اور ’’لوگوں پر‘‘ خُون چھڑکا، لیکن یہاں ’’کتاب‘‘ یا ’’پانی اور لال اُون اور زُوفا“ کا ذِکر نہیں مِلتا۔ بہتر ہے کہ ہم اِن دونوں بیانات کو ایک دُوسرے کی تکمیل سمجھیں۔

یہاں خُدا کی نمائِندگی ’’قُربانگاہ‘‘ کرتی ہے اور عہد کا دُوسرا فریق ’’لوگ‘‘ ہیں۔ ’’خُون‘‘ کا چھڑکا جانا دونوں فریقوں کو عہد کی شرائِط کا پابند بنا دیتا ہے۔ لوگوں نے فرمانبرداری کا وَعدہ کِیا اور خُدا نے یہ وَعدہ کِیا کہ اگر لوگ یہ کریں گے تو وُہ اُنہیں برکت دیگا۔

۲۰:۹- جب مُوؔسیٰ نے خُون چھڑکا تو کہا ’’یہ اُس عہد کا خُون ہے جِس کا حُکم خُدا نے تُمہارے لئے دِیا‘‘۔ اِس سے خُدا نے شریعت پر عمل کرنے میں ناکامی کی صُورت میں بھی لوگوں کی زِندگی کی ضمانت دی۔

۲۱:۹- اِسی طرح مُوؔسیٰ نے پرستِش میں مستعمل ’’خیمہ اور عبادت کی تمام چِیزوں پر خُون چھڑکا‘‘۔ عہدِعتیق کی اِس رسم کا ذِکر نہیں مِلتا۔ خرُوج باب ۴۰ میں خیمہ اجتماع کی مخصُوصیت کے وقت بھی خُون کا ذِکر نہیں کِیا گیا۔ لیکن تشبیہ صاف ہے۔ ہر ایک شَے جِس کا گنہگار آدمیوں سے تعلق ہے آلُودہ ہو جاتی ہے اور اُسے پاک کرنے کی ضرُورت ہَے۔

۲۲:۹- ’’تقریباً‘‘ ہر ایک شَے جو ’’شریعت‘‘ کے تحت تھی ’’خُون سے پاک‘‘ کی جاتی تھی۔ لیکن کُچھ مُستثنیات بھی تھیں۔ مثلاً جب بنی اِسرائیل کی مَردم شُماری میں ایک شخص کو گِنا جاتا تھا تو وُہ خُون کی قربانی دینے کی بجائے کفّارہ کے پَیسے کے طور پر نِیم مثقال چاندی لاتا (خرُوج ۳۰ : ۱۱- ۱۶)۔ یہ سِکّہ اُس آدمی کے لئے خُدا کی اُمّت میں شُمار کئے جانے کے لئے کفّارہ کا نشان تھا۔ ایک اور اِستثنا احبار۱۱:۵ میں مِلتی ہے جہاں بعض رسمی ناپاکی کو پاک کرنے کے لئے مَیدہ کی نَذر لانے کو کہا گیا ہے۔

یہ مُستثنیات کفّارہ یاگُناہ کو ڈھانپنے کے لئے تھیں حالانکہ عام طور پر کفّارہ کے لئے خُون کی قُربانی دی جاتی تھی۔ لیکن جہاں تک گُناہ کی ’’مُعافی‘‘ کا تعلق ہے اِس میں کوئی اِستثنا نہیں ہے۔ ’’خُون‘‘ بہانا ضُروری ولازمی ہے۔

۲۳:۹- باب ۹ کی باقی آیات میں دونوں عہدوں میں موازنہ کِیا گیا ہے۔

پہلی بات یہ کہ زمینی خیمہ کو بکروں اور بیلوں کے خُون سے ’’پاک‘‘ کِیا جاتا تھا۔ جیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے یہ رسمی پاکیزگی تھی۔ یہ تشبیہی مَقدِس کی تشبیہی تقدیس تھی۔

’’آسمانی‘‘ مَقدِس اصل تھا جِس کا زمینی مَقدِس نقل تھی۔ پَس ضرُوری تھا کہ اُسے ’’اِن سے بہتر قُربانیوں‘‘ کے وسیلہ سے یعنی مسیح کی قُربانی سے پاک کیا جاتا۔ مسیح کی واحِد قُربانی کے لئے جمع کا صیغہ اِحترام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

یہ بات بڑی حَیران کُن لگتی ہے کہ آسمانی مقاموں کو بھی ’’پاک‘‘ کرنے کی ضرُورت تھی۔ غالباً اِس کی کلید ایُوب ۱۵:۱۵ میں مِلتی ہے: ’’آسمان بھی اُس کی نظر میں پاک نہیں‘‘۔ بِلاشُبہ یہ ایسا اِس لئے ہے کیونکہ شیطان نے جو پہلا گُناہ کِیا تھا اُس کا وُہ آسمان میں ہی مُرتکب ہؤا تھا (یَسعیاہ۱۴: ۱۲۔۱۴) اور بطور اِلزام لگانے والا اَب بھی اُسے خُدا کی حضُوری میں رسائی حاصِل ہے (مکاشفہ ۱۰:۱۲)۔

۲۴:۹- ’’مسیح‘‘ اِنسان ساختہ مَقدِس میں داخِل نہیں ہؤا جو ’’حقیقی‘‘ پاک مکان کا نمونہ تھا بلکہ خُود ’’آسمان ہی میں‘‘۔ وہاں وُہ ’’خُدا کے رُوبُرو ہماری خاطر حاضر‘‘ ہؤا ہے۔

یہ سمجھنا مُشکِل ہے کہ کیوں ایک شخص اصل کو چھوڑ کر نقل کی طرف جانا چاہے گا۔ ایک شخص کیوں آسمانی مَقدِس میں بڑے سردار کاہن کی خِدمت کو چھوڑ کر اِسرائیل کے کاہنوں کی طرف جانا چاہے گا جو نمُونہ کے خیمہ میں خِدمت کرتے تھے۔

۲۵:۹- خُداوند یسؔوع نے بار بار قُربانی نہیں گُزرانی ’’جس طرح‘‘ ہارُونی ’’سردار کاہن‘‘ کِیا کرتے تھے۔ ہارُونی سَردار کاہن سال میں صِرف ایک دِن یعنی کفّارہ کے دِن پاک ترین مکان میں جاتا اور وہاں وُہ اپنا خون نہیں بلکہ قُربانی کے جانور کا ’’خُون‘‘ چڑھاتا تھا۔

۲۶:۹- اگر مسیح بار بار قُربانی گُزرانتا تو اُسے لازماً بار بار دُکھ بھی اُٹھانا پڑتا جبکہ اُس نے جو قُربانی چڑھائی وُہ اُس کی اپنی زِندگی ہی کی تھی۔ ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اُسے ’’بنائے عالَم سے لے کر‘‘ اَب تک کلوؔری کی اذیت سے وقتاً فوقتاً گُزرنا چاہئے تھا، اور یہ غیر ضرُوری بھی تھا۔ نئے عہد کے تحت

۱۔ قطعّیت تھی۔ وُہ ’’ایک بار ظاہرہؤا‘‘۔ کام کو دُہرانے کی ضُرورت نہیں تھی۔

۲۔ ساز گار وقت تھا۔ وُہ ’’زمانوں کے آخر‘‘ میں ظاہر ہؤا، یعنی جب پُرانے عہد نے آدمیوں کی ناکامی اور نا طاقتی کو حتمی طور پر ظاہر کر دیا۔

۳۔ ایک مکمّل کام تھا۔ وُہ ’’گُناہ کو مٹانے‘‘ کے لئے ظاہر ہؤا۔ اب سالانہ کفّارہ دینے کا سُوال نہیں تھا۔ اب ابدی مُعافی تھی۔

۴۔ شخصی قُربانی تھی۔ اُس نے ’’اپنے آپ کو قُربان کرنے سے‘‘ گُناہ کو مِٹا دِیا۔ اُس نے اپنے جِسم میں اُس سَزا کو اُٹھا لِیا جِس کے ہم حق دار تھے۔

۲۷:۹- ایسا لگتا ہے کہ آیات ۲۷ اور ۲۸ پُرانے اور نئے عہد میں ایک اَور مُقابلہ پیش کرتی ہیں۔ شریعت کہتی تھی کہ گنہگاروں کے لئے ’’ایک بار مَرنا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مقرر ہے‘‘۔ شریعت اُن لوگوں کو دی گئی جو پہلے ہی گُنہگار تھے اور اُس پر مکمّل طور پر عمل نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ یہ اُن کے لئے سَزا کا ذریعہ بنا گئی۔

۲۸:۹- نیا عہد ’’مسیح‘‘ کی لامحدُود قُربانی کو مُتعارف کراتا ہے۔ وُہ ’’ایک بار بُہت لوگوں کے گُناہ اُٹھانے کے لئے قُربان‘‘ ہؤا۔ یہ اُن کے سامنے ’’جو اُس کی راہ دیکھتے ہیں‘‘ اُس کی دوبارہ آمد کی مُبارک اُمید پیش کرتا ہے۔ لیکن تب وُہ ’’گُناہ‘‘ کے مَسئلے کو حل کرنے نہیں آئے گا۔ یہ کام اُس نے صلیب پر مکمّل کردیا ہے۔ اب وُہ اپنے لوگوں کو آسمان پر لے جانے کے لئے آئے گا۔ اُس وقت اُن کی نجات مکمّل ہو جائے گی، اُنہیں جلالی جِسم ملیں گے اور وُہ ہمیشہ کے لئے گُناہ کی دَسترس سے باہر ہو جائیں گے۔

یہ اَلفاظ کہ ’’جواُس کی راہ دیکھتے ہیں‘‘ حقیقی ایمان داروں کو بیان کرتے ہیں۔ خُداوند کے تمام لوگ اُس کی آمدِثانی کی راہ دیکھتے ہیں، تاہم یہ مُمکِن ہے کہ وُہ اِس سِلسلے میں واقعات کی کِسی ایک ہی ترتیب سے اِتفاق نہ کرتے ہوں۔ بائبل یہ تعلیم ہرگز نہیں دیتی کہ المسیح کی آمدِثانی پر صرف کِسی خاص گرُوپ یا جماعت کے خاص طور پر رُوحانی لوگ ہی آسمان پر اُٹھائے جائیں گے۔ یہ شامل ہونے والوں کے بارے میں بیان کرتی ہے کہ ’’وُہ جو مسیح میں مُوئے‘‘ اور ’’ہم جو زِندہ باقی ہوں گے‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تمام حقیقی ایمان دار خواہ وُہ مَر چُکے ہوں یا زِندہ ہوں اُٹھائے جائیں گے (۱۔ تھسلنیکیوں ۱۶:۴- ۱۷)- ۱-کرنتھیوں ۲۳:۱۵ میں شامِل ہونے والوں کے مُتعلق یہ بتایا گیا ہے کہ وُہ ’’اُس (مسیح) کے لوگ‘‘ ہوں گے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ آیات ۲۴- ۲۸ میں مسیح کے تین ظہُورات کا ذِکر ہے۔ اِن کو مختصراً یُوں بیان کِیا جا سکتا ہے :

آیت ۲۶- وُہ ظاہر’’ہؤا‘‘۔ یہ اُس کی پہلی آمد کی طرف اِشارہ ہے جبکہ وُہ ہمیں گُناہ کی سَزا سے بچانے کے لئے زمین پر آیا (نجات کا صیغہ ماضی)۔

آیت ۲۴- وہ ’’اب‘‘ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ اُس کی خُدا کے حضُور موجُودہ خِدمت کی طرف اِشارہ ہے تاکہ ہمیں گُناہ کی قوّت سے بچائے (نجات کا صیغہ حال)۔

آیت ۲۸- وُہ ظاہر’’ہوگا‘‘۔ یہ اُس کی آمدِثانی کی طرف اِشارہ ہے جبکہ وُہ ہمیں گُناہ کی موجُودگی سے بچائے گا۔ (نجات کا صیغہ مستقبِل)۔

۱:۱۰- ’’شریعت آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا‘‘ صِرف ’’عکس‘‘ تھی۔ وُہ مسیح کی شخصیّت اور اُس کے کام کی طرف اِشارہ کرتی تھی لیکن وُہ اصل کا کمزور بَدل تھی۔ مسیح پر شریعت کو ترجیح دینا ایسا ہی ہے جَیسے کہ ایک شخص کی جگہ اُس کی تصویر کو ترجیح دینا۔ یہ مسیح بادشاہ کی بے عِزّتی ہے۔

شرعی نظام کی کمزوری اِس بات میں ظاہر ہوتی ہے کہ اُس کی قُربانیوں کو بار بار دُہرانا پڑتا تھا۔ یہ اِعادہ پاک خُدا کے تقاضے کو پُورا کرنے میں قطعی نا کامی کو ثابت کرتا تھا۔ بار بار دُہرانے کے خیال کو اِن الفاظ میں دیکھئے: ’’ایک ہی طرح کی قُربانیوں‘‘ ’’بِلاناغہ گزرانی جاتی تھیں‘‘ ’’ہر سال۔ ’’قُربانیاں‘‘ پرستاروں کو کامِل کرنے میں قطعی نا کام تھیں یعنی جہاں تک گُناہ کا تعلق ہے وُہ لوگوں کو ’’کامِل‘‘ ضمیر نہیں دے سکتی تھیں۔ اِسرائیلی یہ تجربہ نہیں رکھتے تھے کہ وُہ گُناہ کے اِحساسِ جُرم سے ہمیشہ کے لئے بَری کر دِئے گئے ہیں۔ اُنہیں کبھی بھی مکمّل طور پر ضمیر کا آرام حاصِل نہ ہؤا۔

۲:۱۰- اگر قُربانیاں اُنہیں مُکمّل اور حَتمی طور پر گُناہ سے بری کر دیتیں تو کیا اُن کا ہر سال خیمہ اجتماع یا ہیکل کو جانا ’’مَوقُوف نہ ہو جاتا؟‘‘ قُربانیوں کا بار بار گُزرانا جانا اُنہیں غیر مؤثر ثابت کرتا تھا۔ اگرایک شخص کو زِندہ رہنے کے لئے ہر گھنٹے دَوا اِستعمال کرنی پڑتی ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وُہ شِفایاب ہو چکا ہے۔

۳:۱۰- لاویوں کا نظام ضمیر کو تسلّی دینے کی بجائے ہر سال اُسے مُضطرب کر دیتا تھا۔ یَومِ کفّارہ کی خُوبصُورت رسم کے پَسِ پشت یہ سالانہ یاد دِہانی ہوتی تھی کہ گُناہوں کو صِرف ڈھا نپا گیا ہے، ہٹایا نہیں گیا۔

۴:۱۰- ’’بَیلوں اور بکروں کے خُون‘‘ میں ’’گُناہوں کو دُور‘‘ کرنے کی قُوّت نہیں تھی۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چُکا ہے اِن قُربانیوں کا تعلق رسمی گُناہوں سے تھا۔ یہ رسمی پاکیزگی عطا کرتی تھیں لیکن جہاں تک اِنسان کی بِگڑی ہُوئی فِطرت یا اُس کے بُرے کاموں کا تعلق ہے یہ مُطلقاً نا کام تھیں۔

۵:۱۰- لاویوں کی قُربانیوں کی کمزوریوں کے مُقابلے میں اب ہم مسیح کی سب سے بہتر قربانی کی قُوّت کی طرف آتے ہیں۔ تعارف کے طور پر نجات دہندہ کے تجسُّم کے وقت ہم اُس کی خُود کلامی کو سُنتے ہیں۔ زبُور۴۰ سے اِکتساب کرتے ہُوئے وُہ عہدِعتیق کی قُربانیوں اور نذروں پر خُدا کی ناپَسندیدگی کو دیکھتا ہے۔ اگرچہ اِن قربانیوں کو خُدا نے مُقرر کیا تھا، تاہم وُہ اُس کا آخری اِرادہ نہیں تھیں۔ اُن کا مقصد گُناہوں کو دُور کرنا نہیں تھا بلکہ خُدا کے برّہ کی طرف اِشارہ کرنا تھا جو دُنیا کا گناہ اُٹھانے والا تھا۔ کیا خُدا جانوروں کے خُون کے دریاؤں یا اُن کی لاشوں کے ڈھیروں سے خُوش ہو سکتا ہے؟

خُدا کی ناپَسندیدگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگ یہ خیال کرنے لگے تھے کہ اِن رسُومات سے وُہ خُدا کو خُوش کر رہے ہیں جبکہ اُن کی باطنی زِندگی گُناہ آلُودہ اور بگڑی ہُوئی تھی۔ اُن میں سے اکثر لوگ توبہ یا شکستہ دِلی کے بغیر ہی قُربانیوں کے ایک بے کیف سلسلے میں سے گُزرتے رہے تھے۔ وُہ خیال کرتے تھے کہ خُدا کو جانوروں کی قُربانیوں سے خُوش کیا جا سکتا ہے جبکہ وُہ شکستہ دِل کی قُربانی کا مُتلاشی رہتا ہے۔ اُنہیں یہ اِحساس نہیں تھا کہ خُدا رسم پرست نہیں ہے۔

خُدا نے سابقہ قُربانیوں سے مُطمئِن نہ ہونے کے باعث اَپنے بیٹے کے لئے ایک اِنسانی ’’بدن تیار‘‘ کِیا جو اُس کی اِنسانی زِندگی اور فِطرت کا ایک اٹوٹ حِصّہ تھا۔ اِس کا اِشارہ بِلاشبہ اُس کے ناقابلِ فہم تجسّم کی طرف ہے جبکہ ازلی کلام نے جسم اختیار کِیا تاکہ بطور اِنسان آدمیوں کے لئے اپنی جان دے سکے۔ یہ بڑی دِلچسپ بات ہے کہ ’’میرے لئے ایک بدن تیارہ کِیا‘‘ کے اَلفاظ کے جو کہ زبُور۶:۴۰ سے لئے گئے ہیں دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ زبُور میں اِس طرح ہے: ’’تُو نے میرے کان کھول دِیئے ہیں‘‘۔

لیکن عبرانی میں اِس کا مطلب ہے ’’تُو نے میرے کان چھید دئے ہیں‘‘۔ کان کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ المسیح خُدا کی ہدایات سُننے اور اِن پر فوراً عمل کرنے کے لئے ہر وقت تیار تھا۔ کان چھیدنا عبرانی اِصطلاح ہے (خرُوج ۱:۲۱-۶) جِس کے مُطابق غُلام کے کان دروازہ کی چوکھٹ پرلاکرستاری سے چھید دِئے جاتے تھے۔ یہ اِس بات کا اِظہار تھا کہ وُہ ہمیشہ اپنے مالِک کی خدمت کرتا رہے گا۔ اپنے تجسّم میں درحقیقت نجات دہندہ نے کہا ’’مَیں اپنے مالِک کو پیار کرتا ہُوں ۔ ۔ ۔ مَیں آزاد نہیں ہُوؤں گا‘‘۔

۶:۱۰- زبُور۴۰ سے اِقتباس کو جاری رکھتے ہُوئے المسیح دُہراتا ہے کہ خُدا ’’سوختنی قُربانیوں اور گُناہ کی قُربانیوں سے خُوش نہ ہؤا‘‘۔ جانورجن کا خُون پاک کرنے کے لئے بہایا جاتا تھا رضا مندی سے قُربانی نہیں دیتے تھے۔ پھِر یہ بھی کہ وُہ خُدا کی آخری مرضی کی نمائندگی نہیں کرتے تھے۔ وُہ تمثیل اور سایہ تھے جو مسیح کی قُربانی کی طرف اِشارہ کرتے تھے۔ اُن کی اپنے آپ میں کوئی قدر نہیں تھی۔

۷:۱۰- جس بات سے خُدا کو خُوشی حاصِل ہُوئی وُہ المسیح کا ’’خُدا‘‘ کی ’’مَرضی‘‘ کو خُوشی خُوشی پُورا کرنا تھا۔ خواہ اِس کے لئے اُسے کوئی بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ اور یہ اُس نے خُدا کی مَرضی کی فرمانبرداری کرتے ہُوئے مذبح پر اپنے آپ کو قربان کرنے سے ثابت کیا۔ اِن الفاظ سے جو ہمارے خُداوند نے کہے یاد دِلایا جا رہا تھا کہ عہدِعتیق میں شُروع سے لے کر آخر تک اِس بات کا ذِکر ہے کہ اُس نے خُوشی خوشی اور پُورے دِل کے ساتھ خُدا کی مرضی کو پُورا کیا ہے۔

۸:۱۰- آیات ۸ -۱۰ میں مُصنِّف خُود کلامی کی رُوحانی اہمیّت کو بیان کرتا ہے۔ وُہ اِس میں قُربانی کے پُرانے نظام کی مَوت اور یسؔوع مسیح کی حتمی، کامِل اور مکمّل قُربانی کے اِجرا کا اِشارہ دیکھتا ہے۔ وُہ ’’شریعت کے موافق گزرانی‘‘ جانے والی قُربانیوں پر خُدا کے ’’خُوش‘‘ نہ ہونے پر زور دینے کے لئے زبُور ۴۰ کے اِقتباس کو مختصراً پیش کرتا ہے۔

۹:۱۰- پھر مُصنِّف اِس حقیقت میں اِس مفہُوم کو دیکھتا ہے کہ پُرانی قُربانیوں کے بارے میں خُدا کی ناخُوشی کے اعلان کے فوراً بعد المسیح آگے بڑھتا ہے تاکہ اُن باتوں کو کرے جو کہ اُس کے باپ کے دِل کو خُوش کرتی ہیں۔

نِتیجہ: ’’وُہ پہلے کو موقوُف کرتا ہے تاکہ دُوسرے کو قائم کرے‘‘ یعنی وُہ شریعت کے مُطابق دِی جانے والی قربانیوں کے نظام کو منسُوخ کرتا اور گناہ کے لئے اپنی ہی عظیم قُربانی کو مُتعارف کراتا ہے۔ جب نیا عہد منظر کے مرکز کی طرف بڑھتا ہے تو شرعی عہد پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

۱۰:۱۰- خُدا کی ’’اسی مرضی کے سبب سے‘‘ جِس کا یسؔوع فرمانبردار تھا ’’ہم یسؔوع مسیح کے جِسم کے ایک ہی بار قُربان ہونے کے وسیلہ سے پاک کئے گئے ہیں‘‘۔

۱۱:۱۰- اَب ’’ہرایک‘‘ ہارُونی ’’کاہن‘‘ کی خِدمت کا مُقابلہ مسیح کی خِدمت سے کیا جاتا ہے۔ وُہ کاہن ’’ہرروز‘‘ کھڑے ہو کر اپنی خِدمت بجا لاتے تھے۔ خیمہ اجتماع یا ہیکل میں کوئی کُرسی نہیں تھی۔ وُه آرام نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اُس کا کام کبھی مکمّل نہیں ہوتا تھا۔ وُہ ’’ایک ہی طرح کی قُربانیاں بار بار گُزرانتا‘‘ تھا۔ یہ ختم نہ ہونے والا دستُورالعمل تھاجو نہ تو گناہ کو چھُوتا اور نہ ضمیر کو تسلّی دیتا تھا۔

یہ ’’قُربانیاں‘‘ ‘‘ہرگز گُناہوں کو دُور نہیں کر سکتی‘‘ تھیں۔ اے ۔ بی ۔ برؔوس لِکھتا ہے :

’’اگرچہ لاویوں کے نظام میں ہارُؔون ایک شخص تھا تو بھی وُہ ایک مُقّدس غُلام کی مانند تھا جو ہر وقت ایسی قُربانیاں گزرانتا رہتا تھا جِن کی درحقیقت کوئی دائِمی اہمیّت نہ تھی‘‘۔

۱۲:۱۰- ہمارے مُبارک خُداوند نے ’’گُناہوں کے واسطے‘‘ ایک ہی ’’قُربانی‘‘ گُزرانی۔ کِسی اور کی کبھی ضرُورت نہیں ہوگی۔ مخلصی کا کام مکمّل کر کے وُہ ’’خُدا کی دہنی طرف جا بیٹھا‘‘۔ وُہ وہاں کسی رکاوٹ کے بغیر بیٹھا ہے کیونکہ گناہ کے زبردست دعوے کا فیصلہ ہمیشہ کے لئے کر دیا گیا ہے۔ وُہ ’’خُدا کی دہنی طرف‘‘ بیٹھا ہَے۔ یہ عِزّت، اِختیار اور محبّت کی جگہ ہے۔

مُمکِن ہے کوئی اعتراض کرے کہ وُہ وہاں ہمیشہ تک بیٹھا نہیں رہے گا کیونکہ ایک دِن وُہ اِنصاف کرنے کے لئے اُٹھے گا۔ اِس میں تضاد کی کوئی بات نہیں۔ جہاں تک گُناہ کی قُربانی دینے کا تعلق ہے وُہ ہمیشہ کے لئے بیٹھا ہے۔ اور جہاں تک اِنصاف کا تعلق ہے وُہ ہمیشہ کے لئے نہیں بیٹھا ہے۔

۱۳:۱۰- وُہ اُسی وقت سے اِنتظار کر رہا ہے کہ ’’اُس کے دشمن اُس کے پاؤں تلے کی چو کی بنیں‘‘۔ اُس وقت ہر ایک گھٹنا جھُکے گا اور ہر ایک زبان خدا باپ کے جَلال کے لئے اِقرار کرے گی کہ یسؔوع مسیح خُداوند ہے (دیکھئے فلپّیوں ۲: ۱۰-۱۱)۔ یہ اُس کے زمین پر لوگوں کے سامنے ظاہر ہونے کا دِن ہوگا۔

۱۴:۱۰- اُس کی قُربانی کی بے مِثال اہمّیت اِس میں دیکھی جا سکتی ہے کہ ’’اُس نے ایک ہی قُربانی چڑھانے سے اُن کو ہمیشہ کے لئے کامِل کر دیا ہے جو پاک کِئے جاتے ہیں‘‘۔ یہاں ’’پاک کئے جاتے ہیں‘‘ کا اِشارہ اُن کی طرف ہے جو دُنیا سے خُدا کے لئے الگ کئے گئے ہیں یعنی تمام حقیقی ایماندار۔ وُہ دو طریقوں سے ’’کامل‘‘ کِئے گئے ہیں۔ پہلا، اُن کی حیثیت خُدا کی نظر میں کامِل ہے۔ اُنہیں باپ کے حضُور اُس کے پیارے بیٹے کی قبُولیت منسُوب کی گئی ہے۔

دُوسرا، جہاں تک گُناہ کے جُرم وسزا کا تعلق ہے اِس کے بارے میں اُن کا ضمیر کامِل طور سے مُطمئِن ہے۔ وُہ جانتے ہیں کہ اُن کے گُناہ کی پُوری پُوری قیمت ادا کی جا چُکی ہے اور کہ خُدا دوبارہ ادائیگی کا تقاضا نہیں کرے گا۔

۱۵:۱۰- ’’رُوحُ القُدس بھی ہم کو یہی بتاتا ہے‘‘ کہ نئے عہد کے تحت گُناہ سے ہمیشہ کے لئے نپٹا جائے گا۔ وُہ عہدِعتیق کے نوِشتوں میں اُس کی گواہی دیتا ہے۔

۱۶:۱۰- یرمیاہ ۳۱:۳۱ میں ’’خُداوند‘‘ اپنے زمِینی برگُزِیدہ لوگوں کے ساتھ ایک نئے ’’عہد‘‘ کا وعدہ کرتا ہے۔

۱۷:۱۰- ’’پھِر‘‘ اِسی حوالہ میں وُہ ’’کہتا‘‘ ہے مَیں ’’اُن کے گُناہوں اور بے دِینیوں کو پھر کبھی یاد نہ کرُوں گا‘‘۔ یہ کتنی حیران کُن بات ہے کہ اگرچہ یرمیاہ ۳۴:۳۱ میں گُناہوں کی مُعافی کا پُورا وَعدہ پایا جاتا ہے تو بھی اُن دِنوں میں (عبرانیوں کے مُصنِّف کے دِنوں میں) جبکہ یہ وَعدہ پُورا ہونے لگا تھا کُچھ لوگ یہُودیت کی ختم نہ ہونے والی قُربانیوں کی طرف راغِب ہو رہے تھے۔

۱۸:۱۰- ١٨:١٠۔ نئے عہد کے تحت مُعافی کے وَعدہ کا مطلب یہ ہے کہ ’’گُناہ کی قُربانی نہیں رہی‘‘۔ اِن اَلفاظ کے ساتھ کہ ’’گُناہ کی قُربانی نہیں رہی‘‘۔ مُصنِّف اُس حصِّے کو جِسے ہم خط کا تعلیمی حِصّہ کہہ سکتے ہیں بند کرتا ہے۔ وُہ چاہتا ہے کہ جب وُہ ہمیں ہماری عَملی ذِمّہ داریوں کا احساس دِلاتا ہے تو یہ اَلفاظ ہمارے ذہن و قلب میں گُونجتے رہیں۔