یوحنا ۶

۶۔ خدا کے بیٹے کی خدمت کا تیسرا سال:‏پیریہ  (‏۱۰:‏۴۰-‏۱۱:‏۵۷)‏

الف۔ یسوع کا یردن کے پار چلے جانا  (‏۱۰:‏۴۰-‏۴۲)‏

۱۰:‏۴۰ خداوند «پھر یردن کے پار اُس جگہ چلا گیا» جہاں اُس نے اپنی علانیہ خدمت کا آغاز کیا تھا۔ اُس کی حیرت افزا باتوں اور کاموں کے تین سال اِختتام پذیر ہو رہے تھے۔ اُس نے اُن کو وہیں ختم کیا جہاں شروع کیا تھا،‏ یعنی یہودیت کے جمے جمائے نظام سے باہر۔ یہ تنہائی اور ردّ کئے جانے کی جگہ تھی۔

۱۰:‏۴۱ جو لوگ اَب «اُس کے پاس آئے» وہ غالباً سچے ایمان دار تھے۔ وہ اُس کے ردّ کئے جانے کو برداشت کرنے کو تیار اور اِسرائیل کی لشکرگاہ کے باہر اُس کے ساتھ رہنے پر آمادہ تھے۔ اِن پیروکاروں نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ اُن کو یاد تھا کہ یوحنا کی خدمت سنسنی خیز اور بظاہر شان و شوکت نہیں تھی۔ لیکن تھی وہ «سچ»۔ اُس نے خداوند یسوع کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ نجات دہندہ کی خدمت میں پورا ہوا تھا۔ اِس سے ہر مسیحی کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم بڑے بڑے معجزے نہ دکھا سکیں،‏ یا عوام کی توجہ حاصل نہ کر سکیں،‏ لیکن کم سے کم اپنے خداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے لئے سچی گواہی تو دے سکتے ہیں۔ خدا کی نظر میں یہ بات گراں قدر ہے۔

۱۰:‏۴۲ اگرچہ اسرائیلی قوم نے خداوند یسوع کو ردّ کر دیا تھا،‏ لیکن یہ کتنی خوش آئند بات ہے کہ «بہتیرے اُس پر ایمان لائے»۔ ابھی بہت سے فروتن اور قبول کرنے والے دل موجود تھے۔ ہر زمانے میں ایسا ہوتا ہے۔ ہمیشہ لوگوں کا کچھ بقیہ ہوتا ہے جو خداوند یسوع کے ساتھ آ کھڑا ہونے کو تیار ہوتا ہے،‏ خواہ دُنیا اُن کو نکال باہر کرے،‏ اُن سے عداوت رکھے،‏ اُن کو لعن طعن کرے مگر وہ خدا کے بیٹے کی دلکش اور خوش کن رفاقت میں مسرور رہتے ہیں۔

ب۔ لعزر کی بیماری  (‏۱۱:‏۱-‏۴)‏

۱۱:‏۱ اب ہم خداوند کی علانیہ خدمت کے دوران اُس کے آخری عظیم معجزے تک پہنچتے ہیں۔ کئی لحاظ سے یہ سب سے بڑا معجزہ تھا یعنی ایک مُردے کو زندہ کرنا — لعزر ایک چھوٹے سے گاؤں بیت عنیاہ کا باشندہ تھا۔ یہ گاؤں یروشلیم کے مشرق میں کوئی تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ بیت عنیاہ کو «مریم اور اُس کی بہن مرتھا کا گاؤں» بھی کہا گیا ہے۔ بشپ رائیل (‏Ryle)‏ سے اِقتباس کرتے ہوئے پِنک (‏Pink)‏کہتا ہے کہ:‏

«یہ بات یاد رکھنے اور غور کرنے کے لائق ہے کہ جن قصبوں اور ملکوں میں خدا کے برگزیدہ فرزند ہوتے ہیں وہ قصبے اور ملک خدا کی نظروں میں نامور ہوتے ہیں۔ مرتھا اور مریم کا گاؤں تو خدا کی نظروں میں ہے جب کہ میمفس اور تھیبس کا نئے عہدنامے میں ذکر تک نہیں۔»

۱۱:‏۲ یوحنا بیان کرتا ہے کہ «وہی مریم تھی جس نے خداوند پر عطر ڈال کر اپنے بالوں سے اُس کے پاؤں پونچھے» تھے۔ یہ عقیدت اور محبت کا انوکھا اور نمایاں فعل تھا۔ چنانچہ روح القدس نے اِس کا تاکیدی ذکر کیا ہے۔ خداوند اپنے لوگوں کی محبت کی بے حد قدر کرتا ہے۔

۱۱:‏۳ جب لعزر بیمار پڑا تو خداوند یسوع دریائے یردن کے مشرق میں تھا۔ لعزر کی بہنوں نے فوراً خداوند کو پیغام بھیجا کہ «جسے تُو عزیز رکھتا ہے وہ بیمار ہے»۔ جس انداز سے اِن بہنوں نے معاملہ خداوند کے سامنے پیش کیا،‏ اِس میں بڑی تاثیر نظر آتی ہے۔ اُنہوں نے اپنے بھائی کے لئے اُس کی محبت کو اپیل کی۔ یہ خاص دلیل تھی کہ اُسے لعزر کی مدد کو آنا چاہئے۔

۱۱:‏۴ «یسوع نے سن کر کہا کہ یہ بیماری موت کی نہیں۔» اُس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ لعزر نہیں مرے گا بلکہ یہ کہ «موت» اُس کی «بیماری» کا آخری نتیجہ نہ ہو گی۔ دراصل یہ بیماری «خدا کے جلال کے لئے ہے تاکہ اُس کے وسیلے سے خدا کے بیٹے کا جلال ظاہر ہو»۔ خدا نے لعزر کو بیمار ہونے دیا،‏ بلکہ اُسے مرنے دیا تاکہ یسوع آ کر اُسے مُردوں میں سے جلائے اور ایک دفعہ پھر دِکھا دے کہ مَیں حقیقی مسیحِ موعود ہوں۔ اور اِس عظیم معجزے کے وسیلے سے لوگ خدا کو جلال دیں۔

یہاں قطعاً کوئی اِشارہ نہیں ملتا کہ لعزر کی بیماری اُس کے کسی خاص گناہ کا نتیجہ تھی بلکہ اُس کو ایک جاں نثار شاگرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کو خداوند خاص پیار کرتا تھا۔

ج۔ یسوع بیت عنیاہ کو جاتا ہے  (‏۱۱:‏۵-‏۱۶)‏

۱۱:‏۵ جب ہمارے گھروں میں بیماری آ داخل ہوتی ہے توہمیں یہ نتیجہ نہیں نکال لینا چاہئے کہ خدا ہم سے ناراض ہو گیا ہے۔ یہاں بیماری کا براہِ راست تعلق اُس کی محبت سے دِکھایا گیا ہے،‏ اُس کی ناراضی سے نہیں۔ «جس سے خداوند محبت رکھتا ہے اُسے تنبیہ بھی کرتا ہے» (‏عبرانیوں ۱۲:‏۶)‏۔

۱۱:‏۶،‏۷ ہم سوچ سکتے ہیں کہ اگر خداوند اِن تین ایمان داروں سے واقعی محبت رکھتا تھا تو اُسے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوراً اُن کے گھر کی راہ لینی چاہئے تھی۔ لیکن اِس کے برعکس «جب اُس نے سنا کہ وہ بیمار ہے تو جس جگہ تھا وہیں دو دن اَور رہا۔» خدا جب تاخیر کرتا ہے تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُس نے مدد کرنے سے اِنکار کر دیا ہے۔ اگر ہماری دعاؤں کا فوری جواب نہیں ملتا تو شاید وہ ہمیں اِنتظار کرنا سکھاتا ہے۔ اگر ہم صبر سے اِنتظار کریں تو دیکھیں گے کہ وہ ہماری توقعات سے بھی بڑھ کر شاندار جواب دیتا ہے۔ مرتھا،‏ مریم اور لعزر کی محبت بھی یسوع کو مجبور نہ کر سکی کہ وہ وقت سے پہلے اقدام کرے۔ خداوند جو کچھ کرتا ہے خدا باپ کی مرضی کی کامل فرماں برداری کرتے ہوئے کرتا تھا۔ وہ خدا کے نظامِ اوقات کو مدِنظر رکھتے ہوئے سب کچھ کرتا تھا۔

لگتا ہے کہ دو دن ضائع گئے۔ اِن دو دِنوں کے بعد خداوند یسوع نے «شاگردوں سے کہا آؤ پھر یہودیہ کو چلیں»۔

۱۱:‏۸ شاگردوں کو دُکھ بھرا احساس تھا کہ جب مسیح نے جنم کے اندھے کو بینائی عطا کی تھی تو «یہودی اُسے سنگسار» کرنے پر تُل گئے تھے۔ وہ حیران تھے کہ ہمارا آقا ایسے خطرے کے باوجود پھر وہاں جانے کی سوچ رہا ہے۔

۱۱:‏۹ «یسوع نے جواب دیا» تمام حالات و واقعات کے مطابق «دن کے» روشنی کے «بارہ گھنٹے» ہوتے ہیں جن کے دوران اِنسان کام کر سکتا ہے۔ جب تک اِنسان اِس مقررہ وقت میں کام کرتا ہے،‏ اُس کے ٹھوکر کھانے اور گرنے کا اِمکان نہیں ہوتا کیونکہ «وہ دُنیا کی روشنی دیکھتا ہے۔» اُسے نظر آتا ہے کہ مَیں کہاں جا رہا اور کیا کر رہا ہوں۔ «دُنیا کی روشنی» یا دن کی روشنی اُسے ٹھوکر کھا کر حادثانی موت مرنے سے بچاتی ہے۔

خداوند کی بات گہرا روحانی مطلب بھی رکھتی ہے۔ یسوع خدا کی مرضی کی کامل فرماں برداری میں چلتا تھا۔ اِس لئے کوئی خطرہ نہیں تھا کہ اُسے مقررہ وقت سے پہلے قتل کر دیا جائے گا۔ جب تک اُس کا کام پورا نہیں ہو جاتا وہ محفوظ رہے گا۔

ایک مفہوم میں یہ بات ہر ایمان دار کے بارے میں سچ ہے۔ اگر ہم خداوند کی رفاقت میں چلتے اور اُس کی مرضی پوری کرتے ہیں تو دُنیا کی کوئی طاقت ہمیں مقررہ وقت سے پہلے نہیں مار سکتی۔

۱۱:‏۱۰ جو شخص «رات کو چلے» مراد ہے وہ شخص جو خدا کا وفادار نہیں بلکہ اپنی مرضی کے مطابق چلتا ہے،‏ ایسا شخص بڑی آسانی سے «ٹھوکر کھاتا ہے» کیونکہ اُسے وہ الٰہی ہدایت اور راہنمائی حاصل نہیں ہوتی جو اُس کی راہ کو روشن کرے۔

۱۱:‏۱۱ خداوند نے لعزر کی موت کو «نیند» کہا۔ یہاں ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ نئے عہدنامے میں نیند یا سونے کا اطلاق ہمیشہ بدن پر ہوا ہے،‏ روح پر کبھی نہیں ہوا۔ پاک کلام میں کہیں یہ تعلیم نہیں ملتی کہ موت کے وقت روح نیند کی حالت میں چلی جاتی ہے،‏ بلکہ یہ کہ ایمان دار کی روح مسیح کے پاس چلی جاتی ہے۔ اور یہ بہت ہی بہتر حالت ہے۔ اِس بیان سے خداوند یسوع نے دِکھا دیا کہ وہ عالمِ کُل ہے۔ وہ جانتا تھا کہ لعزر مر چکا ہے حالانکہ اُسے صرف اِتنی خبر ملی تھی کہ وہ بیمار ہے۔ جسمانی نیند سے تو ایک شخص دوسرے کو جگا سکتا ہے،‏ لیکن لعزر کی موت کی نیند سے صرف خداوند ہی جگا سکتا تھا۔ یہاں یسوع نے ایسا ہی کرنے کی نیت کا اِظہار کیا۔

۱۱:‏۱۲ سونے اور جگانے کی یہ بات خداوند کے «شاگردوں» کی سمجھ میں نہ آئی۔ اُن کو احساس تک نہ ہوا کہ وہ موت کی بات کر رہا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ سونا صحت یاب ہونے کی علامت ہے۔ چنانچہ وہ اِسی نتیجے پر پہنچے کہ اگر لعزر گہری نیند سو گیا ہے تو بیماری کی شدت اور خطرناک مرحلہ گزر گیا ہے۔ اِس لئے وہ «بچ جائے گا» یعنی صحت یاب ہو جائے گا۔ اِس آیت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اگر لعزر کا مسئلہ صرف جسمانی نیند ہی تھا تو پھر اُس کی مدد کے لئے بیت عنیاہ جانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شاگرد اپنی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہوں اور اِسی بات کو مریم اور مرتھا کے گھر نہ جانے کا بہانہ بنا رہے ہوں۔

۱۱:‏۱۳،‏۱۴ یہاں صاف بیان ہوا ہے کہ جس یسوع نے «نیند» کا ذکر کیا تو دراصل «موت» کی بات کی تھی۔ لیکن شاگرد نہیں سمجھے تھے۔ اب کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں۔ «یسوع نے اُن سے صاف کہہ دیا کہ لعزر مر گیا۔» شاگردوں نے اِس خبر کو کیسے سکون سے سنا! اُنہوں نے خداوند سے نہیں پوچھا کہ «تجھے کیسے پتا ہے؟» اُس نے پورے اِختیار سے بات کی تھی۔ اِس لئے اُنہوں نے اُس کے علم پر کوئی سوال نہیں اُٹھایا۔

۱۱:‏۱۵ یسوع اِس لئے خوش نہیں تھا کہ لعزر مر گیا بلکہ وہ اِس بات پر «خوش» تھا کہ اُس وقت وہ «وہاں نہ تھا»،‏ یعنی بیت عنیاہ میں نہ تھا۔ اگر وہ وہاں ہوتا تو لعزر نہ مرتا۔ نئے عہدنامے میں کہیں درج نہیں کہ خداوند کی موجودگی میں کوئی شخص مرا ہو۔ شاگرد موت سے بچانے سے بھی بڑا معجزہ دیکھیں گے۔ وہ دیکھیں گے کہ ایک مُردہ کو زندہ کیا گیا ہے۔ اِس طرح اُن کا ایمان مضبوط ہو گا۔ اِسی لئے خداوند یسوع نے کہا کہ «مَیں تمہارے سبب سے خوش ہوں کہ وہاں نہ تھا۔»

اُس نے یہ بھی کہا کہ «تاکہ تم ایمان لاؤ۔» یسوع یہ اِشارہ نہیں کر رہا تھا کہ شاگرد پہلے اُس پر ایمان نہیں لا چکے تھے۔ بے شک لا چکے تھے! لیکن جو معجزہ وہ اب دیکھنے کو تھے،‏ وہ اُن کے ایمان کو بہت مضبوط کر دے گا۔ اِسی وجہ سے اُس نے اُن کو اپنے ساتھ چلنے پر اُبھارا۔

۱۱:‏۱۶ توما اِس نتیجے پر پہنچا کہ خداوند یسوع اگر اُس علاقے میں گیا تو یہودی اُسے قتل کر ڈالیں گے۔ اُسے یقین تھا کہ اگر ہم یسوع کے ساتھ ہوئے تو ہم بھی مارے جائیں گے۔ اِس لئے وہ قنوطیت اور اُداسی کی روح میں اپنے ساتھیوں کو یسوع کا ساتھ دینے پر اُبھارتا ہے۔ اُس کے الفاظ بڑے ایمان اور جرأت کا مظاہرہ نہیں بلکہ مایوسی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

د۔ یسوع قیامت اور زندگی ہے  (‏۱۱:‏۱۷-‏۲۷)‏

۱۱:‏۱۷،‏۱۸ لعزر کو قبر میں رکھے «چار دن» ہو چکے تھے۔ اِس حقیقت کا بیان اِس لئے کیا گیا ہے کہ اُس کی موت کی حقیقت ثابت ہو جائے۔ غور کریں کہ روح القدس ساری تفاصیل کس احتیاط سے بیان کرتا ہے تاکہ ثابت ہو جائے کہ لعزر کا جلایا جانا واقعی ایک معجزہ ہے۔ جب لوگ یسوع کو اُس کی بیماری کا پیغام دینے کو نکلے تھے،‏ لعزر اِس کے تھوڑی ہی دیر بعد مر گیا ہو گا۔ لعزر کی بیماری کی خبر سننے کے بعد یسوع دو دن وہیں رہا۔ پھر وہاں سے بیت عنیاہ تک کی ایک دن کی مسافت کی۔ اِس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ لعزر کو قبر میں رکھے چار دن ہو چکے تھے۔

جیسا کہ پہلے بیان ہوا «بیت عنیاہ یروشلیم کے نزدیک قریباً دو میل (‏۳ کلومیٹر)‏ کے فاصلہ پر تھا»۔ بیت عنیاہ یروشلیم کے مشرق میں واقع تھا۔

۱۱:‏۱۹ چونکہ بیت عنیاہ یروشلیم کے نزدیک تھا اِس لئے یہ ممکن ہوا کہ «بہت سے یہودی مرتھا اور مریم کو اُن کے بھائی کے بارے میں تسلی دینے آئے تھے۔» اُن کو خیال تک نہ تھا کہ تھوڑی ہی دیر میں ہماری یہ تسلی بالکل غیر ضروری ہو کر رہ جائے گی اور یہ ماتم کدہ،‏ مسرت کدہ بن جائے گا۔

۱۱:‏۲۰ «مرتھا یسوع کے آنے کی خبر سن کر اُس سے ملنے کو گئی»۔ اُن کی ملاقات گاؤں سے باہر ہوئی۔ ہمیں نہیں بتایا گیا کہ مریم کیوں «گھر میں بیٹھی رہی۔» شاید اُسے یسوع کے آنے کی خبر نہ ہوئی تھی۔ شاید وہ غم کے مارے گھر سے نکلنا نہ چاہتی تھی۔ یا شاید دعا اور ایمان کی روح میں گھر میں اِنتظار کرتی رہی۔ وہ خداوند کے بہت قریب تھی۔ کیا اُسے اِحساس ہو گیا تھا کہ کیا ہونے والا ہے؟ ہم کچھ نہیں جانتے۔

۱۱:‏۲۱ یہ حقیقی اور سچا ایمان تھا جس کی بنا پر مرتھا کو یقین تھا کہ یسوع لعزر کو مرنے سے بچا سکتا تھا۔ تو بھی اُس کا ایمان ناقص تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ یسوع اِس صورت میں ایسا کر سکتا تھا اگر وہ جسمانی طور پر موجود ہوتا۔ اُسے شعور نہیں تھا کہ وہ دُور سے بھی کسی کو شفا دے سکتا ہے،‏ اور یہ شعور تو اَور بھی کم تھا کہ وہ مُردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے۔ اکثر اوقات غم اور دُکھ کے موقعوں پر بھی ہم مرتھا کی سی باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ اگر فلاں فلاں دوا دریافت ہو چکی ہوتی تو ہمارا فلاں عزیز موت کے منہ میں نہ جاتا۔ لیکن یہ ساری باتیں خداوند کے ہاتھوں میں ہیں۔ اور جو اُس کے ہیں اُن میں سے کسی پر اُس کی اِجازت کے بغیر کچھ نہیں گزرتا۔

۱۱:‏۲۲ اُس وفادار بہن کا ایمان پھر چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اُسے علم نہیں تھا کہ خداوند یسوع کس طرح مدد کرے گا۔ مگر اُس کا ایمان تھا کہ وہ ضرور مدد کرے گا۔ اُسے یقین تھا کہ خدا یسوع کی درخواست قبول کرے گا،‏ اور وہ اِس بظاہر اَلمیہ سے بھلائی پیدا کرے گا۔ تو بھی ابھی وہ اِتنا ایمان رکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی کہ اُس کا بھائی مُردوں میں سے جلایا جائے گا۔ مرتھا نے «مانگے گا» کے لئے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ لفظ ہے جو عموماً مخلوق اپنے خالق سے التماس کرنے یا دعا مانگنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرتھا ابھی تک خداوند یسوع کی الوہیت کا احساس نہیں رکھتی۔ اُسے اِتنا احساس تو تھا کہ یہ ایک عظیم اور غیر معمولی آدمی ہے۔ شاید وہ اُسے قدیم انبیا سے زیادہ بڑا نہ سمجھتی تھی۔

۱۱:‏۲۳ مرتھا کے ایمان کو زیادہ بلندی تک پہنچانے کے لئے خداوند یسوع نے چونکا دینے والا اِعلان کیا کہ لعزر «جی اُٹھے گا»۔ خداوند کتنے پیارے طریقے سے اُس غم زدہ عورت کے ساتھ سلوک کرتا ہے۔ وہ قدم بقدم اُسے اِس ایمان تک لاتا ہے کہ مَیں خدا کا بیٹا ہوں۔

۱۱:‏۲۴ مرتھا کا یہ ایمان تھا کہ لعزر «آخری دن» مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔ مگر اُسے خیال تک نہیں تھا کہ آج ہی ایسا ہو جائے گا۔ وہ مُردوں کی «قیامت» پر ایمان رکھتی تھی اور جانتی تھی کہ «آخری دن» ایسا ہو گا۔

۱۱:‏۲۵ غور کریں تو لگتا ہے جیسے خداوند کہہ رہا ہے «مرتھا،‏ تُو میری بات نہیں سمجھی۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ لعزر آخری دن جی اُٹھے گا۔ ’قیامت اور زندگی‘ کا اِختیار میرے ہاتھ میں ہے۔ مَیں لعزر کو مردوں میں سے ابھی زندہ کر سکتا ہوں اور کروں گا۔»

پھر خداوند نے اُس وقت پر نظر کی جب تمام سچے ایمان دار زندہ کئے جائیں گے۔ یہ اُس وقت ہو گا جب خداوند یسوع اپنے لوگوں کو آسمانی وطن میں لے جانے کے لئے دوبارہ آئے گا۔

اُسی وقت ایمان داروں کے دو گروہ ہوں گے۔ اوّل وہ جو ایمان میں مرے تھے،‏ دوسرے وہ جو مسیح کی آمد کے موقع پر جیتے ہوں گے۔ پہلے گروہ کے لئے وہ «قیامت» کے طور پر اور دوسرے گروہ کے لئے وہ «زندگی» کے طور پر آئے گا۔ پہلے گروہ کا بیان آیت ۲۵ کے پہلے حصے میں ہوا ہے کہ «جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا۔» اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو ایمان دار مسیح کی آمد سے پہلے مر چکے ہیں وہ مردوں میں سے زندہ کئے جائیں گے۔ Burkitt کہتا ہے کہ:‏

«اے محبت! تُو موت سے بھی زبردست ہے۔ قبر بھی مسیح کو اُس کے دوستوں سے جدا نہیں رکھ سکتی۔ دوسرے دوست قبر کے کنارے تک ہمارے ساتھ جاتے ہیں،‏ پھر ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن مسیح کی محبت سے نہ موت جدا کر سکتی ہے نہ زندگی۔»

بینگل (‏Bengel)‏ اِس پر یوں تبصرہ کرتا ہے:‏«یہ بات الٰہی کردار کے ساتھ کیسی مناسبت رکھتی ہے کہ ہم کہیں نہیں پڑھتے کہ زندگی کے شہزادے کی موجودگی میں کوئی مرا ہو۔»

۱۱:‏۲۶ ایمان داروں کے دوسرے گروہ کا بیان آیت ۲۶ میں ہوا ہے۔ جو لوگ نجات دہندہ کی آمد پر جیتے ہوں گے اور اُس پر ایمان رکھتے ہوں گے،‏ وہ «کبھی نہ مریں گے»۔ وہ ایک لمحہ بھر،‏ آنکھ جھپکے میں تبدیل ہو جائیں گے اور اُن کے ساتھ جو مُردوں میں سے زندہ کئے گئے ہیں آسمانی وطن کو لے جائے جائیں گے۔ لعزر کی موت کے نتیجے میں ہمیں کیسی انمول سچائیاں حاصل ہوئی ہیں! خدا «راکھ کے بدلے سہرا اور ماتم کی جگہ خوشی کا روغن اور اُداسی کے بدلے ستائش کا خلعت» بخشتا ہے (‏یسعیاہ ۶۱:‏۳)‏۔ اب خدا نے مرتھا سے صاف صاف پوچھ کر اُس کے ایمان کا اِمتحان لیا کہ «کیا تُو اِس پر ایمان رکھتی ہے؟»

۱۱:‏۲۷ مرتھا کا ایمان دوپہر کے سورج کی طرح چمکنے لگا۔ اُس نے اِقرار کیا کہ یسوع «خدا کا بیٹا مسیح» ہے جو نبیوں کی نبوتوں کے مطابق «دُنیا میں آنے والا تھا»۔ غور کریں کہ یہ اِقرار اُس نے پہلے کیا! ابھی یسوع نے اُس کے بھائی کو مُردوں میں سے نہیں جلایا تھا۔

ہ۔ لعزر کی قبر پر یسوع روتا ہے  (‏۱۱:‏۲۸-‏۳۷)‏

۱۱:‏۲۸،‏۲۹ یہ اِقرار کرنے کے فوراً بعد مرتھا بھاگی بھاگی گاؤں میں گئی اور پھولی سانسوں کے ساتھ مریم کو یہ خبر سنائی کہ «اُستاد یہیں ہے اور تجھے بلاتا ہے۔» کائنات کا خالق اور دُنیا کا نجات دہندہ بیت عنیاہ میں آیا تھا اور مریم کو بلاتا تھا۔ آج بھی ایسا ہی ہے۔ یہ عجیب شخص کھڑا ہو کر انجیل کے الفاظ میں لوگوں کو بلاتا ہے۔ ہر ایک کو دعوت ہے کہ اپنے دل کا دروازہ کھولے اور نجات دہندہ کو اندر داخل ہونے دے۔ مریم کا ردِّعمل فوری تھا۔ اُس نے کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔ «وہ سنتے ہی جلد اُٹھ کر اُس کے پاس آئی۔»

۱۱:‏۳۰،‏۳۱ اب یسوع بیت عنیاہ گاؤں کے باہر مرتھا اور مریم سے ملا۔

چونکہ مرتھا نے مریم کو «چپکے سے» خبر دی تھی اِس لئے یہودی نہیں جانتے تھے کہ یسوع نزدیک ہی ہے۔ اُن کا یہ خیال کرنا فطری بات تھی «کہ وہ قبر پر رونے جاتی ہے۔»

۱۱:‏۳۲ مریم منجی کے «قدموں پر گری»۔ یہ تعظیم اور سجدہ کا اِظہار بھی ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ غم نے اُسے بے دم کر دیا تھا۔ مرتھا کی طرح اُس نے بھی افسوس کا اِظہار کیا کہ یسوع بیت عنیاہ میں نہیں تھا۔ ورنہ «میرا بھائی نہ مرتا»۔

۱۱:‏۳۳ مریم اور اُس کے ہمدردوں کا غم دیکھ کر «یسوع دل میں نہایت رنجیدہ ہوا اور گھبرایا»۔ بے شک وہ دیکھ رہا تھا کہ اِنسان کے گناہ کے باعث دُنیا میں کس قدر غم و اندوہ،‏ دُکھ اور مصیبت اور موت آئی ہے۔ اِس حقیقت سے اُسے دلی رنج ہوا۔

۱۱:‏۳۴ بے شک خداوند جانتا تھا کہ لعزر کو کہاں دفن کیا گیا تھا۔ لیکن اُس نے یہ سوال اِس لئے پوچھا کہ اُن کی توقعات بیدار ہو جائیں۔ اُن کے ایمان کی حوصلہ افزائی ہو اور اُسے اُن کا تعاون حاصل ہو۔ بے شک گہری دل سوزی اور مخلصانہ خواہش کے ساتھ یہ رنجیدہ خداوند کو قبر کے پاس لائے۔

۱۱:‏۳۵ یہ کلامِ مقدس کی ایک بہت ہی چھوٹی آیت ہے۔ نئے عہدنامے میں تین موقعوں کا ذکر ہے جب خداوند «رویا» (‏وہ یروشلیم شہر پر افسوس کرتے ہوئے رویا اور گتسمنی باغ میں رویا)‏۔ یسوع کا آنسو بہانا اُس کی حقیقی بشریت کا ثبوت ہے۔ جب اُس نے نسلِ اِنسانی پر گناہ کے ہولناک اثرات دیکھے تو غم سے حقیقی آنسو بہائے۔ یسوع موت کی موجودگی میں رویا۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی عزیز اِنتقال کر جاتا ہے تو رونا اور آنسو بہانا مسیحیوں کے لئے کوئی نامناسب بات نہیں۔ البتہ مسیحی نااُمیدوں کی طرح غم نہیں کرتے۔

۱۱:‏۳۶ ابنِ آدم کے آنسوؤں میں یہودیوں کو ثبوت مل گیا کہ لعزر «اُس کو کیسا عزیز تھا»۔ بے شک وہ ایسا سمجھنے میں بالکل درست تھے۔ لیکن وہ اُن سے بھی گہری اور اَن مٹ محبت رکھتا تھا،‏ لیکن اُن میں سے بہت سے لوگ اِس حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔

۱۱:‏۳۷ خداوند یسوع کی موجودگی سے ایک دفعہ پھر لوگوں میں سوال اُٹھنے لگے۔ بعض نے پہچان لیا کہ یہ وہی ہے «جس نے اندھے کی آنکھیں کھولی تھیں»۔ وہ حیران ہو رہے تھے کہ یہ لعزر کو مرنے سے کیوں نہ بچا سکا۔ بے شک وہ ایسا کر سکتا تھا لیکن اِس کے بجائے وہ اِس سے بھی زبردست معجزہ کرنے کو تھا جس سے ایمان دار روحوں کو اَور بھی بڑی اُمید حاصل ہو گی۔

و۔ ساتواں نشان:‏لعزر کو مُردوں میں سے جلانا  (‏۱۱:‏۳۸-‏۴۴)‏

۱۱:‏۳۸ لگتا ہے کہ لعزر کی «قبر» زمین کے نیچے «ایک غار تھا» جس میں لکڑی کی سیڑھی یا پتھروں کی بنی ہوئی سیڑھی سے اُترنا پڑتا تھا۔ اِس غار کے منہ پر ایک «پتھر» رکھا ہوا تھا۔ یہ قبر خداوند یسوع کی قبر کی مانند نہیں تھی۔ وہ قبر چٹان کو کھود کر بنائی گئی تھی۔ اِنسان سیدھا چل کر اُس میں داخل ہو سکتا تھا،‏ جیسے پہاڑی کے پہلو میں بنی ہو اور چڑھنے اُترنے کی ضرورت نہ ہو۔

۱۱:‏۳۹ یسوع نے پاس کھڑے لوگوں کو حکم دیا کہ قبر کے منہ سے «پتھر کو ہٹاؤ۔» وہ تو زبان سے کہہ کر خود ایسا کر سکتا تھا۔ لیکن خدا آدمیوں کے لئے عموماً وہ کام نہیں کرتا جسے وہ خود کر سکتے ہوں۔

مرتھا نے قبر کو کھولنے کے خیال پر ہیبت کا اِظہار کیا۔ اُسے احساس تھا کہ میرے بھائی کی لاش «چار دن» سے یہاں پڑی ہے۔ اُسے ڈر تھا کہ لاش سے «بدبو آتی ہے»۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ لعزر کی لاش کو خوشبوئیں لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ اُس وقت کے دستور کے مطابق اُس کو اُسی دن دفن کر دیا گیا تھا جس دن وفات ہوئی تھی۔ یہ حقیقت بہت اہم ہے کہ لعزر کو قبر میں رکھے «چار دن ہو گئے» تھے۔ اُس کے بے ہوشی یا نیند میں ہونے کا کوئی اِمکان باقی نہیں رہا تھا۔ سارے یہودی جانتے تھے کہ وہ مر چکا ہے۔ اُس کے جی اُٹھنے کو صرف معجزہ ہی کہا جا سکتا تھا۔

۱۱:‏۴۰ یہ بات واضح نہیں کہ یسوع نے یہ بات کب کہی تھی۔ آیت ۲۳ میں اُس نے مرتھا سے کہا تھا کہ «تیرا بھائی جی اُٹھے گا۔» بے شک اِس آیت کے الفاظ اُس ساری گفتگو کا لب لباب پیش کرتے ہیں جو پہلے ہوئی تھی۔ اِس آیت کی ترتیب پر غور کریں۔ «ایمان لائے گی… دیکھے گی۔» گویا خداوند یسوع کہہ رہا ہے کہ «اگر تُو ایمان لائے گی تو مجھے ایک ایسا معجزہ کرتے دیکھے گی جو صرف خدا کر سکتا ہے۔ تُو مجھ میں خدا کا جلال آشکار دیکھے گی۔ مگر ضرور ہے کہ پہلے تُو ایمان لائے۔ پھر یہ سب کچھ دیکھے گی۔»

۱۱:‏۴۱ اب پتھر کو قبر سے «ہٹا دیا» گیا۔ معجزہ کرنے سے پہلے یسوع نے اپنے «باپ» کا شکر ادا کیا کہ «تُو نے میری سن لی۔» اِس باب میں پہلے خداوند یسوع کی کوئی دعا مرقوم نہیں۔ مگر بے شک اِس پورے وقت کے دوران وہ اپنے باپ سے مسلسل گفتگو کرتا رہا تھا اور دعا مانگتا رہا تھا کہ لعزر کے زندہ کئے جانے سے خدا کا نام جلال پائے۔ یہاں وہ اِس واقعے سے پیشتر باپ کا شکر ادا کرتا ہے۔

۱۱:‏۴۲ یسوع نے بلند آواز سے دعا مانگی تاکہ «لوگ ایمان لائیں کہ تُو (‏باپ)‏ ہی نے مجھے بھیجا ہے»۔ اور باپ ہی نے اُسے بتایا ہے کہ کیا کہنا اور کیا کرنا ہے۔ اور کہ وہ ہمیشہ خدا باپ پر پورا اور کامل اِنحصار کرتے ہوئے سب کام کرتا ہے۔ یہاں بھی تاکیدی طور پر ظاہر کیا گیا ہے کہ خدا باپ اور خداوند یسوع میں کامل یکتائی ہے۔

۱۱:‏۴۳ یہ نئے عہدنامے کے اُن معدودے چند واقعات میں سے ایک ہے جہاں بیان ہوا ہے کہ «اُس نے بلند آواز سے پکارا۔» بعض کہتے ہیں کہ اگر وہ لعزر کو بنام نہ پکارتا تو قبروں کے اندر سے سارے مُردے زندہ ہو اُٹھتے!

۱۱:‏۴۴ لعزر کس طرح «نکل آیا»؟ بعض کا خیال ہے کہ وہ دونوں پاؤں پر اُچھلتا ہوا آیا۔ دوسروں کا خیال ہے کہ وہ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل رینگ کر باہر نکلا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اُس کا بدن کفن میں کَس کر لپٹا ہوا تھا اِس لئے اُس کا اپنی طاقت سے باہر نکل آنا ممکن نہ تھا۔ اُن کا خیال ہے کہ اُس کا بدن ہوا میں اُڑتا ہوا قبر سے نکلا اور خداوند یسوع کے سامنے آکر اُس کے پاؤں زمین پر ٹِک گئے۔ ایک اَور حقیقت بیان ہوئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ واقعی مر چکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ «اُس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا»۔ کوئی شخص بھی چہرے پر رومال لپٹا ہونے کے ساتھ چار دن تک زندہ نہ رہ سکتا تھا۔ ایک دفعہ پھر خداوند نے لوگوں سے مدد لی۔ اُس نے اُن سے کہا،‏ «اُسے کھول کر جانے دو۔» صرف مسیح ہی مردوں کو زندہ کر سکتا ہے۔ لیکن وہ ٹھوکر کھلانے کے پتھروں کو ہٹانے اور تعصبات اور توہم پرستی کے کفن کو کھولنے کا کام ہمیں سونپتا ہے۔

ز۔ ایمان لانے والے اور ایمان نہ لانے والے یہودی  (‏۱۱:‏۴۵-‏۵۷)‏

۱۱:‏۴۵،‏۴۶ دیکھنے والوں میں سے بہتیروں کے لئے یہ معجزہ خداوند یسوع مسیح کی اُلوہیت کا لاجواب ثبوت تھا۔ چنانچہ وہ «اُس پر ایمان لائے»۔ سوائے خدا کے کون ہے جو چار دن کے مُردے کو قبر سے زندہ بلائے؟

لیکن کسی شخص پر معجزے کے اثرات کا اِنحصار اُس کی اخلاقی حالت پر ہوتا ہے۔ اگر کسی کا دل بُرا،‏ باغی اور ایمان نہ لانے والا ہو،‏ تو وہ کسی کو مردوں میں سے زندہ ہوتے دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے گا۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ جن یہودیوں نے معجزہ دیکھا اُن میں سے «بعض» ایسا ناقابلِ تردید ثبوت دیکھنے کے بعد بھی خداوند یسوع کو اپنا مسیحِ موعود ماننے کو تیار نہ تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے «فریسیوں کے پاس جا کر اُنہیں یسوع کے کاموں کی خبر دی» کہ بیت عنیاہ میں کیا ہوا ہے۔ کیا وہ اِس لئے فریسیوں کے پاس گئے تاکہ وہ بھی آکر یسوع پر ایمان لائیں؟ نہیں بلکہ اُن کا مقصد یہ تھا کہ فریسی یسوع کے خلاف اَور بھڑکیں اور اُسے مار ڈالنے کی کوشش کریں۔

۱۱:‏۴۷ اب «سردار کاہنوں اور فریسیوں نے» اپنی باضابطہ «صدر عدالت کے لوگوں کو جمع» کیا تاکہ مشورہ کریں کہ اب کیا اقدام کئے جائیں۔ «ہم کرتے کیا ہیں؟» اِس سوال کا مطلب ہے کہ اِس شخص یسوع کے بارے میں ہمارا لائحہ عمل کیا ہو؟ ہم کچھ کرنے میں اِتنی تاخیر کیوں کر رہے ہیں؟ «یہ آدمی» تو بہت معجزے دکھاتا ہے اور ہم اِسے روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہے۔ یہودی لیڈر اِن الفاظ سے اپنے آپ کو ملزم ٹھہرا رہے تھے۔ اُنہوں نے اِقرار کیا کہ خداوند یسوع «بہت معجزے» دکھاتا ہے تو پھر وہ اُس پر ایمان کیوں نہیں لاتے تھے؟ وہ اِس لئے ایمان نہیں لانا چاہتے تھے کیونکہ وہ نجات دہندہ پر اپنے گناہوں کو ترجیح دیتے تھے۔ رائیل (‏Ryle)‏کیا خوب کہتا ہے:‏

«یہ نہایت حیرت افزا اِقرار ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے خداوند کے بدترین دشمن بھی اِقرار کرتے ہیں کہ ہمارا خداوند معجزے،‏ بلکہ بہت معجزے دکھاتا تھا۔ کیا اِس میں کوئی شک ہے کہ اگر وہ کر سکتے تو اُس کے معجزوں کی حقیقت سے اِنکار کرتے؟ لیکن لگتا ہے کہ اُنہوں نے اِنکار کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ معجزے اِتنے زیادہ تھے،‏ اِتنے علانیہ کئے جاتے تھے اور اُن کے بارے میں گواہیاں اِتنی ٹھوس تھیں کہ یہودی لیڈر اُن سے اِنکار کرنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتے تھے…»

۱۱:‏۴۸ یہودی لیڈر سوچتے تھے کہ اب ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہ سکتے۔ اگر ہم نے مداخلت نہ کی تو لوگ یسوع کے معجزوں سے قائل ہو جائیں گے۔ اور اگر لوگوں نے اِس طرح یسوع کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا تو روم کے ساتھ مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ رومی سمجھیں گے کہ یسوع رومی سلطنت کا تختہ اُلٹنے آ گیا ہے،‏ چنانچہ وہ یہودیوں کو سزا دیں گے۔ «رومی آ کر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کر لیں گے۔» اِن الفاظ کا مطلب ہے کہ رومی آ کر ہیکل کو برباد کر دیں گے اور یہودی قوم کو تتر بتر کر دیں گے۔ بعینہٖ یہی باتیں ۷۰ء میں وقوع پذیر ہوئیں۔ لیکن اِس وجہ سے نہیں کہ یہودیوں نے خداوند کو قبول کر لیا تھا بلکہ اِس لئے کہ اُسے ردّ کیا تھا۔ ایف۔ بی۔ مائیر (‏Meyer)‏ کیا خوب بیان کرتا ہے:‏

«مسیحیت کاروبار کے لئے خطرہ پیدا کرتی ہے۔ بُرائی پر مبنی منافع بخش تجارت کو جڑ سے اُکھاڑتی ہے،‏ ابلیس کے مقبروں سے گاہک چھین لیتی ہے،‏ پوشیدہ ذاتی مفادات پر ضرب لگاتی ہے اور دُنیا کو تہ و بالا کر دیتی ہے۔ یہ تکلیف دِہ اور منافعے کو تباہ کرنے والی چیز ہے۔»

۱۱:‏۴۹،‏۵۰ «کائفا» (‏۲۶ء تا ۳۶ء)‏ «سردار کاہن» تھا۔ اُس نے خداوند کے مقدمے کے مذہبی حصے کی صدارت کی۔ اور جب اعمال ۴:‏۶ میں پطرس اور یوحنا کو سنہیڈرن (‏مذہبی عدالت/ صدر عدالت)‏ کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس وقت بھی حاضر تھا۔ اِس کے باوجود کہ اُس نے وہ بات کہی جو یہاں درج ہے،‏ وہ خداوند یسوع پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔

کائفا کے مطابق سردار کاہن اور فریسی یہ سوچنے میں غلطی پر تھے کہ یسوع کی خاطر یہودی مارے جائیں گے بلکہ اُس نے پیش گوئی کی کہ یسوع یہودی قوم کی خاطر مرے گا۔ اُس نے کہا کہ «بہتر ہے کہ ایک آدمی (‏یسوع)‏ اُمت کے واسطے مرے» بجائے اِس کے کہ «ساری قوم» رومیوں کے ہاتھوں مصیبت میں پھنسے۔ سرسری نظر سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کائفا یسوع کے دُنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھتا تھا اور کہ اُس نے مسیحیت کے مرکزی عقیدے کو کہ یسوع گنہگاروں کا عوضی ہے مان لیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے معاملہ ایسا نہیں۔ جو کچھ اُس نے کہا وہ تو سچ ہے،‏ مگر وہ خود یسوع پر ایمان نہیں رکھتا تھا کہ اُس کی روح بچ جاتی۔

۱۱:‏۵۱،‏۵۲ یہاں وضاحت ہوتی ہے کہ کائفا نے جو کچھ کہا وہ کیوں کہا تھا۔ «اُس نے یہ اپنی طرف سے نہیں کہا» تھا یعنی کہ یہ اُس کی اپنی سوچ کا نتیجہ نہ تھا بلکہ اُس نے جو پیغام دیا دراصل وہ اُسے خدا نے دیا تھا۔ اِس کا مطلب اُس کے خیال سے کہیں گہرا تھا۔ یہ خدا کی طرف سے نبوت تھی کہ «یسوع اُس (‏اسرائیلی)‏ قوم کے واسطے مرے گا۔» یہ نبوت کائفا کو اِس لئے دی گئی کہ وہ «اُس سال سردار کاہن» تھا۔ خدا نے اُس کے منصب کے باعث اُس کے وسیلے سے کلام کیا۔ اِس میں اُس کی اپنی راست بازی کا کچھ عمل دخل نہ تھا کیونکہ وہ گنہگار آدمی تھا۔

کائفا کی نبوت یہ تھی کہ خداوند «نہ صرف اُس (‏اسرائیلی)‏ قوم کے واسطے بلکہ اِس واسطے بھی (‏مرے گا)‏ کہ خدا کے پراگندہ فرزندوں کو جمع کر کے ایک کر دے»۔ مراد ہے کہ زمین پر کی غیر اقوام میں جو اُس کے برگزیدہ ہیں اُن کو بھی جمع کرے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کائفا کا اِشارہ اُن یہودیوں کی طرف تھا جو ساری زمین پر تتر بتر تھے۔ لیکن زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ وہ اُن غیر اقوام کی طرف اِشارہ کر رہا تھا جو اِنجیل کی منادی سے مسیح پر ایمان لائیں گے۔

۱۱:‏۵۳،‏۵۴ فریسی بیت عنیاہ میں ہونے والے معجزے سے قائل نہیں ہوئے تھے بلکہ اِس کے باعث خدا کے بیٹے کے خلاف اُن کی عداوت میں شدت آ گئی تھی۔ «وہ اُسی روز سے اُسے قتل کرنے کا مشورہ کرنے لگے۔» یعنی اُن کی کوششوں میں تیزی اور شدت آ گئی۔

یہودیوں کی عداوت کی شدت کو دیکھ کر خداوند یسوع «افرائیم نام ایک شہر کو چلا گیا»۔ آج ہمیں علم نہیں کہ افرائیم کہاں واقع تھا۔ صرف اِتنا جانتے ہیں کہ یہ «جنگل کے نزدیک» ایک الگ تھلگ اور خاموش جگہ تھی۔

۱۱:‏۵۵ «اور یہودیوں کی عید فسح نزدیک تھی۔» اِس اعلان سے ہمیں یاد آتا ہے کہ خداوند کی علانیہ خدمت قریب الاختتام ہے۔ یہی عید فسح تھی جب اُسے مصلوب ہونا تھا۔ لوگوں پر لازم تھا کہ «فسح سے پہلے دیہات سے یروشلیم» جا کر «اپنے آپ کو پاک کریں»۔ مثال کے طور پر کوئی یہودی اگر لاش کو چھو لیتا تو اِس شرعی ناپاکی سے صاف ہونے کے لئے اُسے مخصوص رسمیں ادا کرنی پڑتی تھیں۔ اِس مقصد کے لئے مختلف قسم کی طہارت کرنی اور نذریں اور قربانیاں چڑھانی پڑتی تھیں۔ افسوس کی بات یہ تھی کہ یہودی ایک طرف تو یوں پاک صاف ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور ساتھ ہی فسح کے اصل برّے کو قتل کرنے کے منصوبے بھی بنا رہے تھے۔ اِنسانی دل کی بدی اور شرارت کا کیسا ہولناک مظاہرہ ہے!

۱۱:‏۵۶،‏۵۷ جب لوگ «ہیکل میں» جمع تھے وہ اُس معجزے کرنے والے کا ذکر کرنے لگے۔ اُن میں بحث ہونے لگی کہ «کیا وہ عید میں نہیں آئے گا»؟ اُس کے نہ آنے کی وجہ آیت ۵۷ میں دی گئی ہے۔

«سردار کاہنوں اور فریسیوں نے» یسوع کی گرفتاری کا باضابطہ «حکم دے رکھا تھا»۔ حکم تھا کہ جس کسی کو یسوع کا پتا ہو کہ کہاں ہے وہ سرداروں کو «اِطلاع دے تاکہ اُسے پکڑ لیں» اور قتل کریں۔

مقدس کتاب

۱- اِن باتوں کے بعد یِسُوعؔ گلِیل کی جِھیل یعنی تِبرؔیاس کی جِھیل کے پار گیا۔
۲- اور بڑی بِھیڑ اُس کے پِیچھے ہو لی کیونکہ جو مُعجِزے وہ بِیماروں پر کرتا تھا اُن کو وہ دیکھتے تھے۔
۳- یِسُوعؔ پہاڑ پر چڑھ گیا اور اپنے شاگِردوں کے ساتھ وہاں بَیٹھا۔
۴- اور یہُودِیوں کی عِیدِ فَسح نزدِیک تھی۔
۵- پس جب یِسُوعؔ نے اپنی آنکھیں اُٹھا کر دیکھا کہ میرے پاس بڑی بِھیڑ آ رہی ہے تو فِلپُّس سے کہا کہ ہم اِن کے کھانے کے لِئے کہاں سے روٹِیاں مول لیں؟
۶- مگر اُس نے اُسے آزمانے کے لِئے یہ کہا کیونکہ وہ آپ جانتا تھا کہ مَیں کیا کرُوں گا۔
۷- فِلپُّس نے اُسے جواب دِیا کہ دو سَو دِینار کی روٹِیاں اِن کے لِئے کافی نہ ہوں گی کہ ہر ایک کو تھوڑی سی مِل جائے۔
۸- اُس کے شاگِردوں میں سے ایک نے یعنی شمعُوؔن پطرس کے بھائی اندرؔیاس نے اُس سے کہا۔
۹- یہاں ایک لڑکا ہے جِس کے پاس جَو کی پانچ روٹِیاں اور دو مچھلِیاں ہیں مگر یہ اِتنے لوگوں میں کیا ہیں؟
۱۰- یِسُوعؔ نے کہا کہ لوگوں کو بِٹھاؤ اور اُس جگہ بُہت گھاس تھی۔ پس وہ مَرد جو تخمِیناً پانچ ہزار تھے بَیٹھ گئے۔
۱۱- یِسُوعؔ نے وہ روٹِیاں لِیں اور شُکر کر کے اُنہیں جو بَیٹھے تھے بانٹ دِیں اور اِسی طرح مچھلِیوں میں سے جِس قدر چاہتے تھے بانٹ دِیا۔
۱۲- جب وہ سیر ہو چُکے تو اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ بچے ہُوئے ٹُکڑوں کو جمع کرو تاکہ کُچھ ضائع نہ ہو۔
۱۳- چُنانچہ اُنہوں نے جمع کِیا اور جَو کی پانچ روٹِیوں کے ٹُکڑوں سے جو کھانے والوں سے بچ رہے تھے بارہ ٹوکرِیاں بھرِیں۔
۱۴- پس جو مُعجِزہ اُس نے دِکھایا وہ لوگ اُسے دیکھ کر کہنے لگے جو نبی دُنیا میں آنے والا تھا فی الحقِیقت یِہی ہے۔
۱۵- پس یِسُوعؔ یہ معلُوم کر کے کہ وہ آ کر مُجھے بادشاہ بنانے کے لِئے پکڑا چاہتے ہیں پِھر پہاڑ پر اکیلا چلا گیا۔
۱۶- پِھر جب شام ہُوئی تو اُس کے شاگِرد جِھیل کے کنارے گئے۔
۱۷- اور کشتی میں بَیٹھ کر جِھیل کے پار کَفرؔنحُوم کو چلے جاتے تھے۔ اُس وقت اندھیرا ہو گیا تھا اور یِسُوعؔ ابھی تک اُن کے پاس نہ آیا تھا۔
۱۸- اور آندھی کے سبب سے جِھیل میں مَوجیں اُٹھنے لگِیں۔
۱۹- پس جب وہ کھیتے کھیتے تِین چار مِیل کے قرِیب نِکل گئے تو اُنہوں نے یِسُوعؔ کو جِھیل پر چلتے اور کشتی کے نزدِیک آتے دیکھا اور ڈر گئے۔
۲۰- مگر اُس نے اُن سے کہا مَیں ہُوں۔ ڈرو مت۔
۲۱- پس وہ اُسے کشتی میں چڑھا لینے کو راضی ہُوئے اور فوراً وہ کشتی اُس جگہ جا پُہنچی جہاں وہ جاتے تھے۔
۲۲- دُوسرے دِن اُس بِھیڑ نے جو جِھیل کے پار کھڑی تھی یہ دیکھا کہ یہاں ایک کے سِوا اَور کوئی چھوٹی کشتی نہ تھی اور یِسُوعؔ اپنے شاگِردوں کے ساتھ کشتی پر سوار نہ ہُؤا تھا بلکہ صِرف اُس کے شاگِرد چلے گئے تھے۔
۲۳- (لیکن بعض چھوٹی کشتِیاں تِبریاؔس سے اُس جگہ کے نزدِیک آئِیں جہاں اُنہوں نے خُداوند کے شُکر کرنے کے بعد روٹی کھائی تھی)۔
۲۴- پس جب بِھیڑ نے دیکھا کہ یہاں نہ یِسُوعؔ ہے نہ اُس کے شاگِرد تو وہ خُود چھوٹی کشتِیوں میں بَیٹھ کر یِسُوعؔ کی تلاش میں کَفرؔنحُوم کو آئے۔
۲۵- اور جِھیل کے پار اُس سے مِل کر کہا اَے ربیّ! تُو یہاں کب آیا؟
۲۶- یِسُوعؔ نے اُن کے جواب میں کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم مُجھے اِس لِئے نہیں ڈُھونڈتے کہ مُعجِزے دیکھے بلکہ اِس لِئے کہ تُم روٹِیاں کھا کر سیر ہُوئے۔
۲۷- فانی خُوراک کے لِئے مِحنت نہ کرو بلکہ اُس خُوراک کے لِئے جو ہمیشہ کی زِندگی تک باقی رہتی ہے جِسے اِبنِ آدمؔ تُمہیں دے گا کیونکہ باپ یعنی خُدا نے اُسی پر مُہر کی ہے۔
۲۸- پس اُنہوں نے اُس سے کہا کہ ہم کیا کریں تاکہ خُدا کے کام انجام دیں؟
۲۹- یِسُوعؔ نے جواب میں اُن سے کہا خُدا کا کام یہ ہے کہ جِسے اُس نے بھیجا ہے اُس پر اِیمان لاؤ۔
۳۰- پس اُنہوں نے اُس سے کہا پِھر تُو کَون سا نِشان دِکھاتا ہے تاکہ ہم دیکھ کر تیرا یقِین کریں؟ تُو کَون سا کام کرتا ہے؟
۳۱- ہمارے باپ دادا نے بیابان میں مَنّ کھایا۔ چُنانچہ لِکھا ہے کہ اُس نے اُنہیں کھانے کے لِئے آسمان سے روٹی دی۔
۳۲- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ مُوسیٰ نے تو وہ روٹی آسمان سے تُمہیں نہ دی لیکن میرا باپ تُمہیں آسمان سے حقِیقی روٹی دیتا ہے۔
۳۳- کیونکہ خُدا کی روٹی وہ ہے جو آسمان سے اُتر کر دُنیا کو زِندگی بخشتی ہے۔
۳۴- اُنہوں نے اُس سے کہا اَے خُداوند! یہ روٹی ہم کو ہمیشہ دِیا کر۔
۳۵- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا زِندگی کی روٹی مَیں ہُوں۔ جو میرے پاس آئے وہ ہرگِز بُھوکا نہ ہو گا اور جو مُجھ پر اِیمان لائے وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔
۳۶- لیکن مَیں نے تُم سے کہا کہ تُم نے مُجھے دیکھ لِیا ہے۔ پِھر بھی اِیمان نہیں لاتے۔
۳۷- جو کُچھ باپ مُجھے دیتا ہے میرے پاس آ جائے گا اور جو کوئی میرے پاس آئے گا اُسے مَیں ہرگِز نِکال نہ دُوں گا۔
۳۸- کیونکہ مَیں آسمان سے اِس لِئے نہیں اُترا ہُوں کہ اپنی مرضی کے مَوافِق عمل کرُوں بلکہ اِس لِئے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے مُوافِق عمل کرُوں۔
۳۹- اور میرے بھیجنے والے کی مرضی یہ ہے کہ جو کُچھ اُس نے مُجھے دِیا ہے مَیں اُس میں سے کُچھ کھو نہ دُوں بلکہ اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں۔
۴۰- کیونکہ میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو دیکھے اور اُس پر اِیمان لائے ہمیشہ کی زِندگی پائے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں۔
۴۱- پس یہُودی اُس پر بُڑبُڑانے لگے۔ اِس لِئے کہ اُس نے کہا تھا کہ جو روٹی آسمان سے اُتری وہ مَیں ہُوں۔
۴۲- اور اُنہوں نے کہا کیا یہ یُوسفؔ کا بیٹا یِسُوعؔ نہیں جِس کے باپ اور ماں کو ہم جانتے ہیں؟ اب یہ کیوں کر کہتا ہے کہ مَیں آسمان سے اُترا ہُوں؟
۴۳- یِسُوعؔ نے جواب میں اُن سے کہا آپس میں نہ بُڑبُڑاؤ۔
۴۴- کوئی میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں گا۔
۴۵- نبِیوں کے صحِیفوں میں یہ لِکھا ہے کہ وہ سب خُدا سے تعلِیم یافتہ ہوں گے۔ جِس کِسی نے باپ سے سُنا اور سِیکھا ہے وہ میرے پاس آتا ہے۔
۴۶- یہ نہیں کہ کِسی نے باپ کو دیکھا ہے مگر جو خُدا کی طرف سے ہے اُسی نے باپ کو دیکھا ہے۔
۴۷- مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو اِیمان لاتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے۔
۴۸- زِندگی کی روٹی مَیں ہُوں۔
۴۹- تُمہارے باپ دادا نے بیابان میں مَنّ کھایا اور مَر گئے۔
۵۰- یہ وہ روٹی ہے جو آسمان سے اُترتی ہے تاکہ آدمی اُس میں سے کھائے اور نہ مَرے۔
۵۱- مَیں ہُوں وہ زِندگی کی روٹی جو آسمان سے اُتری۔ اگر کوئی اِس روٹی میں سے کھائے تو ابد تک زِندہ رہے گا بلکہ جو روٹی مَیں جہان کی زِندگی کے لِئے دُوں گا وہ میرا گوشت ہے۔
۵۲- پس یہُودی یہ کہہ کر آپس میں جھگڑنے لگے کہ یہ شخص اپنا گوشت ہمیں کیوں کر کھانے کو دے سکتا ہے؟
۵۳- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُم اِبنِ آدمؔ کا گوشت نہ کھاؤ اور اُس کا خُون نہ پِیو تُم میں زِندگی نہیں۔
۵۴- جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خُون پِیتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں گا۔
۵۵- کیونکہ میرا گوشت فی الحقِیقت کھانے کی چِیز اور میرا خُون فی الحقِیقت پِینے کی چِیز ہے۔
۵۶- جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خُون پِیتا ہے وہ مُجھ میں قائِم رہتا ہے اور مَیں اُس میں۔
۵۷- جِس طرح زِندہ باپ نے مُجھے بھیجا اور مَیں باپ کے سبب سے زِندہ ہُوں اُسی طرح وہ بھی جو مُجھے کھائے گا میرے سبب سے زِندہ رہے گا۔
۵۸- جو روٹی آسمان سے اُتری یِہی ہے۔ باپ دادا کی طرح نہیں کہ کھایا اور مَر گئے۔ جو یہ روٹی کھائے گا وہ ابد تک زِندہ رہے گا۔
۵۹- یہ باتیں اُس نے کَفرؔنحُوم کے ایک عِبادت خانہ میں تعلِیم دیتے وقت کہِیں۔
۶۰- اِس لِئے اُس کے شاگِردوں میں سے بُہتوں نے سُن کر کہا کہ یہ کلام ناگوار ہے۔ اِسے کَون سُن سکتا ہے؟
۶۱- یِسُوع نے اپنے جی میں جان کر کہ میرے شاگِرد آپس میں اِس بات پر بُڑبُڑاتے ہیں اُن سے کہا کیا تُم اِس بات سے ٹھوکر کھاتے ہو؟
۶۲- اگر تُم اِبنِ آدمؔ کو اُوپر جاتے دیکھو گے جہاں وہ پہلے تھا تو کیا ہو گا؟
۶۳- زِندہ کرنے والی تو رُوح ہے۔ جِسم سے کُچھ فائِدہ نہیں۔ جو باتیں مَیں نے تُم سے کہی ہیں وہ رُوح ہیں اور زِندگی بھی ہیں۔
۶۴- مگر تُم میں سے بعض اَیسے ہیں جو اِیمان نہیں لائے کیونکہ یِسُوعؔ شرُوع سے جانتا تھا کہ جو اِیمان نہیں لاتے وہ کَون ہیں اور کَون مُجھے پکڑوائے گا۔
۶۵- پِھر اُس نے کہا اِسی لِئے مَیں نے تُم سے کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نہیں آ سکتا جب تک باپ کی طرف سے اُسے یہ تَوفِیق نہ دی جائے۔
۶۶- اِس پر اُس کے شاگِردوں میں سے بُہتیرے اُلٹے پِھر گئے اور اِس کے بعد اُس کے ساتھ نہ رہے۔
۶۷- پس یِسُوعؔ نے اُن بارہ سے کہا کیا تُم بھی چلا جانا چاہتے ہو؟
۶۸- شمعُون پطرس نے اُسے جواب دِیا اَے خُداوند! ہم کِس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زِندگی کی باتیں تو تیرے ہی پاس ہیں۔
۶۹- اور ہم اِیمان لائے اور جان گئے ہیں کہ خُدا کا قُدُّوس تُو ہی ہے۔
۷۰- یِسُوعؔ نے اُنہیں جواب دِیا کیا مَیں نے تُم بارہ کو نہیں چُن لِیا؟ اور تُم میں سے ایک شخص شَیطان ہے۔
۷۱- اُس نے یہ شمعُوؔن اِسکریُوتی کے بیٹے یہُوداؔہ کی نِسبت کہا کیونکہ یِہی جو اُن بارہ میں سے تھا اُسے پکڑوانے کو تھا۔