یوحنا ۵

۵۔ خدا کے بیٹے کی خدمت کا تیسرا سال:‏یروشلیم  (‏۷:‏۱-‏۱۰:‏۳۹)‏

الف۔ یسوع اپنے بھائیوں کو جھڑکتا ہے  (‏۷:‏۱-‏۹)‏

۷:‏۱ باب ۶ اور ۷ کے درمیان چند مہینوں کا وقفہ ہے۔ «یسوع گلیل میں پھرتا رہا کیونکہ یہودیہ میں پھرنا نہ چاہتا تھا۔» وجہ یہ تھی کہ وہ «یہودیوں» کا ہیڈ کوارٹر تھا اور «یہودی اُس کے قتل کی کوشش میں تھے»۔ (‏یہ جاننا مفید رہے گا کہ یونانی میں «یہودی» کے لئے جو لفظ استعمال ہوتا ہے،‏ اُس کے تین مختلف معانی ہو سکتے ہیں (‏۱)‏ یہودیہ کا باشندہ (‏جیسے گلیلی بمعنی گلیل کا باشندہ)‏ (‏۲)‏ کسی قسم کا یہودی شخص (‏بشمول اُس کے جو مسیح کو قبول کرتا ہے)‏ اور (‏۳)‏ مسیحیت کا مخالف،‏ خصوصاً مذہبی لیڈر۔ یوحنا اکثر یہ لفظ تیسرے مفہوم میں استعمال کرتا ہے حالانکہ وہ خود دوسرے مفہوم میں یہودی تھا)‏۔ اِس بات پر عمومی اتفاق ہے کہ جن «یہودیوں» کی طرف یہاں اِشارہ ہے وہ لیڈر یا کار مختار تھے۔ وہ خداوند یسوع سے سخت نفرت اور دشمنی کرتے تھے اور «اُس کے قتل» کا موقع ڈھونڈ رہے تھے۔

۷:‏۲ «عید خیام» یہودیوں کا ایک اہم تہوار تھا۔ یہ تہوار فصل کٹنے کے موسم میں آتا تھا۔ یہ اِس واقعے کی یاد میں منایا جاتا تھا کہ مصر سے نکلنے کے بعد بنی اِسرائیل عارضی چھپروں یا جھونپڑوں میں رہائش پذیر رہے تھے۔ یہ خوشی و خرمی اور جشن منانے کا موقع ہوتا تھا،‏ جب آگے مستقبل کی طرف دیکھا جاتا تھا کہ وہ دن آئے گا جب مسیحِ موعود بادشاہی کرے گا اور نجات یافتہ یہودی قوم ملک کے اندر امن اور خوش حالی میں بسے گی۔

۷:‏۳ اِس آیت میں خداوند کے جن «بھائیوں» کا ذکر ہے غالباً مریم کے وہ بیٹے تھے جو یسوع کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے تھے (‏بعض اُن کو رِشتہ کا بھائی یا دُور کے رِشتہ دار سمجھتے ہیں)‏۔ لیکن خداوند کے ساتھ اُن کا رِشتہ کتنا بھی قریبی ہو،‏ اُنہیں اِس رشتے کے باعث نجات نہ ملی۔ وہ خداوند یسوع پر سچا ایمان نہیں رکھتے تھے۔ اُنہوں نے یسوع سے کہا کہ وہ عید خیام کے موقعے پر یروشلیم جائے اور وہاں کچھ معجزے دِکھائے تاکہ «انہیں تیرے شاگرد بھی دیکھیں»۔ جن شاگردوں کا یہاں ذکر ہے،‏ یہ وہ بارہ شاگرد نہیں بلکہ یہودیہ کے وہ لوگ ہیں جو اُس کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرتے تھے۔

اگرچہ وہ اُس پر ایمان نہیں رکھتے تھے تاہم چاہتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو علانیہ ظاہر کرے۔ شاید وہ چاہتے تھے کہ اِس طرح ایک مشہور ہستی کے ساتھ رِشتہ داری کے باعث ہم بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اُس کی شہرت سے جلتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ یہودیہ جائے کیونکہ اُنہیں اُمید تھی کہ وہاں وہ پکڑا اور قتل کر دیا جائے گا۔

۷:‏۴ شاید یہ الفاظ طنزاً کہے گئے تھے۔ خداوند کے رِشتہ دار یہ سمجھتے تھے کہ وہ شہرت اور ناموری چاہتا ہے۔ اگر مشہور ہونا نہیں چاہتا تو پھر گلیل میں یہ سب معجزے کیوں کرتا ہے؟ وہ گویا کہہ رہے تھے کہ «اب تو بڑا اچھا موقع آ گیا ہے۔ تُو شہرت چاہتا ہے۔ اِس لئے عید کے لئے یروشلیم چلا جا۔ وہاں سیکڑوں لوگ جمع ہوں گے۔ تجھے اُن کے سامنے معجزے دِکھانے کا موقع مل جائے گا۔ گلیل تو ایک خاموش سا علاقہ ہے۔ ایک لحاظ سے تُو یہ معجزے پوشیدگی میں دِکھا رہا ہے۔ تُو ایسا کیوں کرتا ہے جب کہ ہم جانتے ہیں کہ تُو اپنی شہرت چاہتا ہے؟» چنانچہ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ «تُو اپنے آپ کو دُنیا پر ظاہر کر۔» یہاں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ «اگر تُو واقعی مسیحِ موعود ہے اور یہ معجزے اِسی بات کو ثابت کرنے کے لئے کرتا ہے تو یہ ثبوت اُس جگہ کیوں پیش نہیں کرتا جہاں اِن کو اہم مانا جائے گا اور وہ جگہ ہے یہودیہ؟»

۷:‏۵ اُس کے «بھائی» کوئی مخلصانہ خواہش نہیں رکھتے تھے کہ وہ جلال پائے۔ وہ «اُس پر ایمان نہ لائے تھے» یعنی حقیقت میں ایمان نہیں رکھتے تھے کہ یہ مسیحِ موعود ہے۔ اور نہ وہ ایسا کرنے اور خود کو اُس کے سپرد کرنے کو تیار تھے۔ اُنہوں نے جو کچھ کہا طنزاً کہا۔ خداوند کے سامنے اُن کے دل راست نہ تھے۔ یسوع کو یہ بات خاص طور پر بُری لگتی ہو گی کہ خود اُس کے بھائی اُس کی باتوں اور کاموں کا یقین نہیں کرتے تھے۔ لیکن کتنی ہی دفعہ یہ ہوتا ہے کہ جو افراد خدا کے وفادار ہوتے ہیں اُن کی سب سے زیادہ مخالفت وہی کرتے ہیں جو اُن کے بالکل نزدیکی اور عزیز ہوتے ہیں۔

۷:‏۶ خداوند کی زندگی شروع سے آخر تک خدا کے حکموں کی پابند تھی۔ اُس کا ہر دن اور ہر حرکت پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق تھی۔ «ابھی وقت نہیں آیا» تھا کہ وہ اپنے آپ کو علانیہ طور پر دُنیا پر ظاہر کرے۔ وہ واضح طور پر جانتا تھا کہ مجھے کیا پیش آنے والا ہے۔ خدا کی مرضی نہ تھی کہ وہ اِس موقعے پر یروشلیم جائے اور خود کو لوگوں کے سامنے علانیہ پیش کرے۔ لیکن اُس نے اپنے بھائیوں کو یاد دلایا کہ «تمہارے لئے سب وقت ہیں۔» یعنی ہر وقت اور موقع تمہارے لئے موزوں ہے۔ وہ زندگی خدا کی مرضی کی اِطاعت میں نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق گزارتے تھے۔ وہ اپنے لئے خود منصوبے بنا سکتے اور مرضی کے مطابق جہاں چاہتے جا سکتے تھے کیونکہ وہ صرف اپنی مرضی پوری کرنے پر تُلے رہتے تھے۔

۷:‏۷ «دُنیا» خداوند کے بھائیوں «سے عداوت نہیں رکھ سکتی» تھی کیونکہ وہ دُنیا کے تھے۔ وہ یسوع کے خلاف دُنیا کا ساتھ دیتے تھے۔ اُن کی پوری پوری زندگیاں دُنیا کے ساتھ ہم آہنگ تھیں۔ «دُنیا» سے یہاں مراد وہ نظام ہے جو اِنسان نے وضع کر رکھا ہے اور جس میں خدا اور اُس کے مسیح کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اِس نظام میں دُنیا کی ثقافت،‏ آرٹ،‏ تعلیم اور مذہب،‏ سب کچھ شامل ہے۔ حقیقتاً یہودیہ میں تو خصوصیت سے مذہبی دُنیا تھی کیونکہ یہودیوں کے مذہبی سردار ہی تھے جو یسوع سے سب سے زیادہ عداوت رکھتے تھے۔

دُنیا مسیح سے اِس لئے عداوت رکھتی ہے کہ وہ «گواہی دیتا ہے کہ اُس کے کام بُرے ہیں»۔ یہ اِنسان کی بگڑی ہوئی فطرت پر کیسا بُرا تبصرہ ہے کہ جب ایک بے گناہ،‏ بے داغ ہستی دُنیا میں آئی تو دُنیا اُس کے قتل کے درپے ہو گئی۔ مسیح کی کامل زندگی نے دِکھا دیا کہ باقی ہر اِنسان کی زندگی کیسی ناقص ہے۔ ایسے ہی جیسے ایک سیدھی لکیر ٹیڑھی میڑھی لکیر کی خامیوں اور ٹیڑھ کو ظاہر کر دیتی ہے جب اُن کو ایک دوسری کے بالمقابل رکھا جاتا ہے۔ اِسی طرح جب خداوند یسوع اِس دُنیا میں آیا تو اِنسان کی گناہ آلودگی ظاہر ہو گئی۔ اِنسان اِس بات پر سیخ پا ہو گیا۔ لیکن توبہ کرنے اور خدا سے رحم کا طلب گار ہونے کے بجائے وہ اُس ہستی کا کام تمام کرنے پر تُل گیا جس نے اُس کے گناہ کو بے نقاب کیا تھا۔

ایف۔ بی۔ مائیر (‏Meyer)‏ لکھتا ہے کہ:‏

«اپنے وقت میں خداوند نے اِنسانوں سے کہا کہ ’دُنیا تم سے عداوت نہیں رکھ سکتی‘۔ آج بھی وہ مجسم محبت اگر کسی کو یہ بات کہتی ہے تو یہ کتنی ہولناک ملامت ہے۔ اگر دُنیا ایک مسیحی سے عداوت نہیں رکھتی،‏ بلکہ اُس سے محبت کرتی،‏ اُس کے نخرے اُٹھاتی اور اُسے گلے لگاتی ہے تو اُس مسیحی کے لئے یہ صورتِ حال نہایت ہولناک اور خطرناک ہو گی۔ کسی قدیم دانشور نے کہا ہے ’مَیں نے کیا بُرائی کی ہے کہ وہ (‏دُنیا)‏ میری اِتنی تعریف کرتی ہے؟‘ دُنیا کی طرف سے ہمارے لئے عداوت کا نہ ہونا،‏ ثبوت ہے کہ ہم یہ گواہی نہیں دے رہے کہ ’اُس کے کام بُرے ہیں۔‘ اگر دُنیا ہم سے سرگرم محبت رکھتی ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ ہم دُنیا کے ہیں۔ دُنیا سے دوستی کرنا خدا سے دشمنی کرنا ہے۔ چنانچہ جو دُنیا کا دوست ہے وہ خدا کا دشمن ہے (‏یوحنا ۷:‏۷؛  ۱۵:‏۱۹؛  یعقوب ۴:‏۴)‏۔»

۷:‏۸ خداوند نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ «تم عید میں جاؤ۔» اِس کا ایک افسوس ناک پہلو بھی ہے۔ وہ مذہبی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ وہ عید خیام منانے کو تھے مگر خدا کا مسیح اُن کے درمیان کھڑا تھا اور وہ اُس کے لئے حقیقی محبت نہیں رکھتے تھے۔ اِنسان مذہبی رسوم اور شعائر کو اِس لئے پسند کرتا ہے کہ اُن کو دِلی وابستگی کے بغیر ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اُس کا سامنا مسیح کی ذات سے کرا دیجئے تو وہ بے چین اور پریشان ہو جاتا ہے۔ یسوع نے کہا،‏ «مَیں ابھی اِس عید میں نہیں جاتا کیونکہ ابھی تک میرا وقت پورا نہیں ہوا۔» اِس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مَیں عید میں بالکل ہی نہیں جاؤں گا کیونکہ آیت ۱۰ سے پتا چلتا ہے کہ وہ بھی عید میں گیا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ مَیں بھائیوں کے ساتھ نہیں جاؤں گا،‏ نہ اپنا علانیہ اِظہار کروں گا۔ ابھی ایسا کرنے کا وقت نہیں آیا تھا۔ جب وہ جائے گا تو خاموشی سے جائے گا۔

۷:‏۹ یسوع کے بھائی تو عید میں چلے گئے مگر «وہ گلیل ہی میں رہا۔» وہ اُس ہستی کو پیچھے چھوڑ گئے جو اُن کو وہ حقیقی خوشی اور شادمانی عطا کر سکتا تھا جس کی خاطر یہ عید منائی جاتی تھی۔

ب۔ یسوع ہیکل میں تعلیم دیتا ہے  (‏۷:‏۱۰-‏۳۱)‏

۷:‏۱۰ «جب اُس کے بھائی عید میں چلے گئے» تو کچھ وقفے کے بعد خداوند یسوع بھی یروشلیم گیا۔ لیکن «پوشیدہ»۔ یسوع یہودی تھا لہٰذا عید میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ لیکن وہ خدا کا فرماں بردار بیٹا بھی تھا۔ اِس لئے وہ «ظاہراً نہیں بلکہ گویا پوشیدہ» رہ کر ایسا کر سکا۔

۷:‏۱۱ وہ یہودی جو «اُسے… ڈھونڈنے لگے» بلاشبہ ہیکل کے سردار اور حاکم تھے۔ وہی جو اُس کو قتل کرنے کی کوشش میں تھے۔ جب وہ پوچھتے پھرتے تھے کہ «وہ کہاں ہے؟» تو مقصد اُسے سجدہ کرنا نہیں تھا بلکہ اُسے ہلاک کرنا تھا۔

۷:‏۱۲ صاف ظاہر ہے کہ خداوند کی موجودگی نے لوگوں میں ہل چل مچا دی تھی۔ جو معجزے وہ کرتا تھا،‏ وہ لوگوں کو فیصلہ کرنے پر مجبور کر رہے تھے کہ وہ ہے کون۔ «چپکے چپکے بہت سی گفتگو» ہوتی رہتی تھی کہ وہ سچا نبی ہے یا جھوٹا۔ «بعض کہتے تھے وہ نیک ہے اور بعض کہتے تھے نہیں بلکہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔»

۷:‏۱۳ یہودی سرداروں کی مخالفت اِتنی شدت اِختیار کر چکی تھی کہ اُن کے «ڈر سے کوئی شخص (‏بھی)‏ اُس کی بابت صاف صاف نہ کہتا تھا»۔ بلاشبہ عام لوگوں میں سے بہتیرے جان گئے تھے کہ وہ فی الحقیقت اِسرائیل کا مسیحِ موعود ہے۔ لیکن اُن کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ کھلم کھلا ایسے کہیں کیونکہ ڈرتے تھے کہ اُن کے سردار اُن پر ظلم توڑیں گے۔

۷:‏۱۴ عیدِ خیام کئی دن تک چلتی تھی۔ جب قریباً «آدھے دن گزر گئے» تو یسوع ہیکل کے بیرونی صحن میں آیا (‏یہاں عام لوگ آ سکتے تھے)‏ اور «تعلیم دینے لگا۔»

۷:‏۱۵ جن لوگوں نے اُس کی تعلیم سنی وہ تعجب کرتے تھے۔ بلاشبہ اُس کا پرانے عہدنامے کا علم اُن کو متاثر کرتا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی اُس کے علم کی وسعت اور سکھانے کی لیاقت اور اہلیت بھی اُن کو بے حد متوجہ کرتی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ یسوع نے ہمارے زمانے کے کسی بڑے مذہبی مکتب میں تعلیم نہیں پائی۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اُسے اِس قدر علم کیسے اور کہاں سے حاصل ہوا۔ آج بھی ایسا ہوتا ہے۔ جب دُنیا دیکھتی ہے کہ ایمان دار رسمی مذہبی تعلیم حاصل کئے بغیر بھی نہایت عمدگی سے اِظہارِ خیال کرتے اور کلام کے نکات کی وضاحت کرتے ہیں تو وہ حیران اورششدر رہ جاتی ہے۔

۷:‏۱۶ کیسی خوبصورت بات ہے کہ خداوند ایک دفعہ پھر اپنی تعریف کروانے سے اِنکار کرتا ہے بلکہ صرف خدا باپ کو جلال دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یسوع نے بالکل سیدھا سادہ جواب دیا کہ «میری تعلیم میری نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔» خداوند یسوع جو باتیں کہتا اور جو تعلیم دیتا تھا وہ سب وہی ہوتی تھی جو اُس کا باپ اُسے بتاتا تھا۔ وہ اپنے باپ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتا تھا۔

۷:‏۱۷ اگر یہودی واقعی یہ جاننا چاہتے کہ اُس کا پیغام سچا ہے یا نہیں تو کچھ مشکل نہ تھا۔ «اگر کوئی» واقعی خدا «کی مرضی پر چلنا چاہے» تو خدا اُس پر ظاہر کر دے گا کہ مسیح کی تعلیم الٰہی ہے یا وہ اپنی مرضی کی تعلیم دیتا ہے۔ یہاں ہر اُس شخص کے لئے ایک عجیب وعدہ ہے جو پورے دل سے سچائی کی تلاش کرتا ہے۔ اگر وہ واقعی مخلص ہے اور سچائی کو جاننے کا دل سے آرزو مند ہے تو خدا اُس پر ظاہر کر دے گا۔ «فرماں برداری روحانی علم و عرفان کا ذریعہ ہے۔»

۷:‏۱۸ «جو اپنی طرف سے کچھ کہتا ہے» یعنی اپنی مرضی کی تعلیم دیتا ہے «وہ اپنی عزت چاہتا ہے۔» مگر خداوند یسوع ایسا نہیں کرتا تھا۔ وہ باپ کی «عزت چاہتا» تھا جس نے اُسے بھیجا تھا۔ چونکہ اُس کی نیت بالکل پاک تھی اِس لئے اُس کا پیغام بھی بالکل «سچا» تھا۔ اُس میں ہرگز «ناراستی نہیں» تھی۔

یسوع ہی وہ واحد ہستی ہے جس کے بارے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ ہر دوسرے اُستاد کی خدمت میں کچھ نہ کچھ خود غرضی شامل ہوتی ہے۔ خداوند کے ہر خادم کی دلی آرزو ہونی چاہئے کہ وہ خود کو نہیں بلکہ خدا کو عزت اور جلال دے۔

۷:‏۱۹ اب خداوند نے براہِ راست یہودیوں پر الزام لگایا۔ اُس نے اُنہیں یاد دلایا کہ موسیٰ نے اُن کو شریعت دی تھی۔ وہ اِس بات پر فخر کرتے تھے کہ ہمارے پاس شریعت ہے۔ وہ بھول گئے تھے کہ محض شریعت رکھنے میں کوئی خوبی نہیں ہے۔ شریعت اپنے آئین و فرامین کی فرماں برداری کا تقاضا کرتی ہے۔ اگرچہ وہ شریعت پر فخر کرتے تھے لیکن صاف ظاہر تھا کہ اُن میں سے کوئی بھی اِس کی پابندی نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ خداوند یسوع کو مار ڈالنے کی سازِشیں کر رہے تھے۔ شریعت قتل کرنے سے واضح اور قطعی طور پر منع کرتی ہے۔ وہ خداوند یسوع مسیح کے بارے میں اپنے ارادوں کے باعث شریعت کو توڑ رہے تھے۔

۷:‏۲۰ لوگوں نے اُس کے الزام کی کاٹ محسوس کی۔ لیکن اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اُسی کو بُرا بھلا کہنے لگے کہ «تجھ میں تو بدروح ہے» اور اُس کے بیان کو چیلنج کیا کہ «کون تیرے قتل کی کوشش میں ہے؟»

۷:‏۲۱ اب یسوع دوبارہ اُس واقعے کی طرف آیا جب اُس نے بیت حسدا کے حوض پر معذور آدمی کو شفا بخشی تھی۔ اِسی معجزے نے اُس کے خلاف اِن سرداروں کی عداوت بھڑکائی تھی۔ اُسی وقت سے وہ اُسے مار ڈالنے کی گھنونی سازشوں میں لگ گئے تھے۔ خداوند نے اُنہیں یاد دلایا کہ «مَیں نے ایک کام کیا اور تم سب تعجب کرتے ہو۔» وہ تعجب کر کے اُس کی تعریف نہیں کرتے تھے بلکہ اُن کو اِس بات سے دھچکا لگا تھا کہ اُس نے سبت کے دن یہ کام کیا۔

۷:‏۲۲ موسیٰ کی شریعت کا حکم تھا کہ نرینہ بچے کا آٹھویں دن ختنہ کیا جائے (‏اصل میں ختنے کا آغاز موسیٰ سے نہیں ہوا تھا بلکہ «باپ دادا سے چلا آیا تھا۔» یعنی ابرہام اور اِضحاق اور یعقوب وغیرہ اِس رسم کی پابندی کرتے آئے تھے)‏۔ اگر آٹھواں دن «سبت کے دن» بھی آتا تو یہودی بچے کا ختنہ کرنا سبت توڑنا نہیں سمجھتے تھے۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ یہ کام ضروری ہے لہٰذا خداوند اِس کی اِجازت دیتا ہے۔

۷:‏۲۳ ختنے کے بارے میں «موسیٰ کی شریعت» کی پابندی کرنے کے لئے اگر وہ بچے کا ختنہ سبت کے دن بھی کرتے تھے تو خداوند یسوع کو اِس بنا پر کیوں موردِ الزام ٹھہراتے تھے کہ اُس نے «سبت کے دن ایک آدمی کو بالکل تندرست کر دیا۔» اگر شریعت لازمی یا ضروری کام کی اِجازت دیتی ہے تو کیا رحم کے کام کی اِجازت نہ دے گی؟

۷:‏۲۴ یہودیوں کی مشکل یہ تھی کہ وہ «ظاہر کے موافق» فیصلہ کرتے تھے،‏ باطنی حقیقت کو نہیں دیکھتے تھے۔ اُن کا فیصلہ راست نہیں ہوتا تھا۔ اگر ایسا کوئی کام وہ خود کریں تو شریعت کے بالکل مطابق سمجھتے تھے،‏ جب وہی کام یسوع کرتا تھا تو اُن کو بالکل غلط سمجھتے تھے۔ اِنسانی فطرت کا خاصہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ حقیقت کے موافق نہیں بلکہ ظاہر کے موافق فیصلہ کرتی ہے۔ خداوند یسوع نے موسیٰ کی شریعت کو نہیں توڑا تھا بلکہ سردار اُس کے ساتھ بے معنی عداوت کر کے خود اُس شریعت کو توڑ رہے تھے۔

۷:‏۲۵ اب تک یروشلیم میں یہ بات پھیل گئی تھی کہ یہودی سردار نجات دہندہ کے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں۔ یہاں بعض عام لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا یہ وہی ہستی نہیں جس کے پیچھے ہمارے سردار پڑے ہوئے ہیں۔

۷:‏۲۶ اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ خداوند یسوع کو یوں «صاف صاف» کہنے یعنی دلیری سے بولنے کی اِجازت ہے۔ اگر سردار اُس سے اِتنی ہی نفرت کرتے تھے جتنی کہ عام لوگ سمجھنے لگے تھے تو پھر اُسے ایسی باتیں کہتے رہنے کی اِجازت کیوں تھی؟ کیا ممکن تھا کہ «سرداروں نے سچ جان لیا کہ مسیح یہی ہے؟»

۷:‏۲۷ جو لوگ ایمان نہیں لائے تھے کہ یسوع مسیح موجود ہے وہ سمجھتے تھے کہ وہ جانتے ہیں کہ «کہاں کا ہے»۔ وہ جانتے تھے کہ یسوع ناصرت کا ہے۔ وہ اُس کی ماں مریم کو بھی جانتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ یوسف اُس کا باپ ہے۔ اُس زمانے کے یہودیوں کا ایمان تھا کہ مسیحِ موعود آئے گا تو اچانک اور پُراسرار طریقے سے آئے گا۔ اُن کو خیال نہیں تھا کہ وہ بچے کی طرح پیدا ہو گا،‏ اور پرورش پا کر بالغ بنے گا۔ اُن کو پرانے عہدنامہ سے علم ہونا چاہئے تھا کہ وہ بیت لحم میں پیدا ہو گا۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ مسیحِ موعود کی آمد کی تفاصیل سے وہ بے خبر تھے۔ اِس لئے وہ کہتے تھے کہ «مگر مسیح جب آئے گا تو کوئی نہ جانے گا کہ وہ کہاں کا ہے۔»

۷:‏۲۸ اِس موقعے پر یسوع نے اپنے گرد جمع ہونے والوں سے ’پکار کر کہا کہ تم مجھے بھی جانتے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ مَیں کہاں کا ہوں۔‘ اُس کی مراد تھی کہ تم مجھے محض بطور بشر جانتے ہو۔ وہ اُس کو ناصرت کا یسوع جانتے تھے۔ مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خدا بھی ہے۔ بقیہ آیت میں وہ اِسی حقیقت کی وضاحت کرتا ہے۔

جہاں تک اُس کی بشریت کا تعلق ہے وہ ناصرت میں رہا۔ مگر اُن کو یہ بھی جاننا چاہئے تھا کہ وہ «آپ سے نہیں آیا» تھا بلکہ اُسے خدا باپ نے بھیجا تھا جس کو یہ لوگ «نہیں جانتے» تھے۔ اِن الفاظ سے خداوند یسوع نے خدا کے برابر ہونے کا براہِ راست دعویٰ کیا ہے۔ وہ «آپ سے نہیں آیا» تھا یعنی اپنے اِختیار سے نہیں آیا تھا۔ نہ اپنی مرضی پوری کرنے آیا تھا بلکہ اُسے اِس دُنیا میں سچے خدا نے بھیجا تھا۔ لیکن معترضین اُس خدا کو «نہیں جانتے» تھے۔

۷:‏۲۹ لیکن یسوع اُسے جانتا تھا۔ وہ ازل سے خدا کے ساتھ تھا اور ہر لحاظ سے خدا باپ کے برابر تھا کیونکہ جب خداوند نے کہا کہ «مَیں اُس کی طرف سے ہوں» تو مطلب نہ صرف یہ تھا کہ اُس نے مجھے بھیجا ہے بلکہ یہ کہ مَیں ازل سے اُس کے ساتھ ہوں۔ «اُسی نے مجھے بھیجا ہے۔» اِن الفاظ سے خداوند نے واضح ترین الفاظ میں بتا دیا کہ مَیں خدا کا مسیح،‏ ممسوح ہوں جس کو خدا نے نجات کا کام پورا کرنے کے لئے دُنیا میں بھیجا ہے۔

۷:‏۳۰ یہودی یسوع کی بات کا گہرا مطلب سمجھ گئے۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ وہ اِس بات کو بالکل کفر مانتے تھے۔ چنانچہ «وہ اُسے پکڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن اِس لئے کہ اُس کا وقت ابھی نہ آیا تھا کسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا۔» خدا کی قدرت نے خداوند یسوع کو اُس وقت تک اِنسان کی گھنونی سازشوں سے بچائے رکھا جب تک وہ وقت نہ آ گیا کہ وہ گناہ کی قربانی کے لئے گزرانا جائے۔

۷:‏۳۱ دراصل «بہتیرے اُس پر ایمان لائے» تھے۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ یسوع اِس سے زیادہ اَور کیا ثبوت دے سکتا ہے کہ مَیں مسیحِ موعود ہوں۔ اگر وہ مسیحِ موعود نہیں،‏ تو جب اصلی «مسیح» آئے گا تو کیا وہ «اِن سے زیادہ» یا اِن سے عجیب تر معجزے دِکھا سکے گا جو یسوع نے دِکھائے تھے؟ اُن کے سوال ہی سے واضح ہوتا ہے کہ وہ یقین رکھتے تھے کہ یسوع کے معجزے ثابت کرتے ہیں کہ وہ حقیقی مسیحِ موعود ہے۔

ج۔ فریسیوں کی دشمنی  (‏۷:‏۳۲-‏۳۶)‏

۷:‏۳۲ چونکہ فریسیوں کا لوگوں کے درمیان آنا جانا تھا اِس لئے اُنہوں نے «سنا» کہ لوگ یسوع کے بارے میں «چپکے چپکے» کیا باتیں کرتے ہیں۔ لوگ اُس کے بارے میں بڑبڑا نہیں رہے تھے بلکہ اُس کی تعریف کرتے تھے۔ فریسیوں کو خدشہ ہوا کہ یہ بڑھ کر بڑی تحریک نہ بن جائے کہ یسوع کو قبول کیا جائے۔ اِس لئے اُنہوں نے «اُسے پکڑنے کو پیادے بھیجے»۔

۷:‏۳۳ اِس آیت کے الفاظ بلاشبہ اُن پیادوں کو کہے گئے تھے جو اُسے گرفتار کرنے آئے تھے۔ لیکن ساتھ ساتھ فریسیوں اور عام لوگوں کو بھی مخاطب کیا گیا تھا۔

خداوند نے اپنے پہلے دعوے میں کوئی کمی نہیں کی بلکہ اِسے مضبوط ہی کیا۔ اُسی نے اُن کو یاد دلایا کہ «مَیں تھوڑے دِنوں تک تمہارے ساتھ ہوں»۔ اِس کے بعد وہ خدا باپ کے پاس واپس چلا جائے گا جس نے اُسے بھیجا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ اِس بات نے فریسیوں کا غصہ اَور بھی تیز کر دیا۔

۷:‏۳۴ وہ دن آ رہا تھا کہ فریسی اُسے «ڈھونڈیں گے» مگر «پا نہ سکیں گے»۔ اُن کی زندگیوں میں ایک وقت آئے گا جب اُنہیں ایک نجات دہندہ کی ضرورت محسوس ہو گی۔ مگر تب وقت گزر چکا ہو گا۔ یسوع آسمان پر واپس جا چکا ہو گا۔ اور اپنی بے اعتقادی اور بدی کی وجہ سے وہاں اُس سے نہ مل سکیں گے۔ اِس آیت کے الفاظ نہایت سنجیدہ ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ایسی بات بھی ہے جسے موقع نکل جانا کہا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے آج اِنسانوں کے پاس نجات پانے کا موقع ہو۔ اگر اُسے ردّ کر دیں تو ممکن ہے کہ دوبارہ کبھی موقع نہ ملے۔

۷:‏۳۵ یہودی خداوند کی بات نہ سمجھ سکے۔ اُن کو احساس نہ ہوا کہ وہ آسمان پر واپس جائے گا۔ اُن کا خیال تھا کہ شاید وہ منادی کرنے کے دورے پر جا کر اُن یہودیوں کو تعلیم دے گا «جو یونانیوں میں جا بجا رہتے ہیں»۔ اور ہو سکتا ہے کہ خود یونانیوں کو بھی تعلیم دے۔

۷:‏۳۶ وہ پھر اُس کی باتوں پر حیرت کا اِظہار کرنے لگے۔ «یہ کیا بات ہے جو اُس نے کہی کہ تم مجھے ڈھونڈو گے مگر نہ پاؤ گے؟» کون سی جگہ ہے جہاں وہ جائے گا کہ ہم اُس کے پیچھے نہ جا سکیں گے؟ یہاں یہودی بے اعتقادی کے اندھے پن کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ اُس دل سے زیادہ تاریک دل ہو نہیں سکتا جو خداوند یسوع کو قبول کرنے سے اِنکار کرتا ہے۔ ہم بھی تو کہتے ہیں «اُن سے بڑھ کر کوئی اندھا نہیں جو دیکھنا نہیں چاہتے۔» یہاں بھی بالکل یہی حال تھا۔ چونکہ وہ خداوند یسوع کو قبول کرنا «نہیں چاہتے» تھے اِس لئے قبول کر «نہیں سکتے» تھے۔

د۔ روح القدس کا وعدہ  (‏۷:‏۳۷-‏۳۹)‏

۷:‏۳۷ اگرچہ پرانے عہدنامے میں ذکر نہیں،‏ لیکن یہودیوں میں ایک رسم تھی کہ عید خیام کے پہلے سات دِنوں میں وہ شیلوخ کے تالاب سے پانی بھر کر لے جاتے اور سوختنی قربانی کے مذبح کے پاس چاندی کے ایک باسن میں ڈالتے تھے۔ آٹھویں دن ایسا نہیں کیا جاتا تھا۔ اِس وجہ سے مسیح کی زندگی کے پانی کی پیش کش اَور بھی چونکا دینے والی تھی۔ یہودی لوگوں نے ابھی ابھی یہ رسم پوری کی تھی لیکن اُن کے دل ویسے ہی پیاسے تھے۔ اِس لئے کہ وہ عید کے گہرے مطلب کو سمجھ نہ پائے تھے۔ اُن کے گھروں کو روانہ ہونے سے ذرا ہی پہلے «عید کے آخری دن جو خاص دن ہے یسوع کھڑا ہوا اور پکار کر» اُن لوگوں سے مخاطب ہوا۔ اُس نے اُنہیں دعوت دی کہ روحانی آسودگی کے لئے «میرے پاس» آؤ۔ اِن الفاظ پر خاص غور کریں۔ اُس کی دعوت «ہر کسی» کے لئے تھی۔ اُس کی خوش خبری عالم گیر خوش خبری ہے۔ کوئی نہیں جو مسیح کے پاس آئے اور نجات نہ پائے۔

لیکن شرط پر بھی دھیان دیں۔ پاک کلام کہتا ہے «اگر کوئی پیاسا ہو…» یہاں پیاس روحانی ضرورت کا بیان کرتی ہے۔ جب تک کوئی شخص اپنے گناہ کو نہ جان لے وہ کبھی نجات پانا نہیں چاہتا۔ جب تک اُسے احساس نہ ہو کہ مَیں کھو گیا ہوں اُسے خواہش نہ ہو گی کہ مَیں ڈھونڈا جاؤں۔ جب تک اِنسان کو اپنی روحانی زندگی میں زبردست کمی کا شعور نہ ہو،‏ اُس کو تمنا نہ ہو گی کہ خداوند کے پاس جاؤں تاکہ میری ضرورت پوری ہو۔ نجات دہندہ نے ہر پیاسی روح کو اپنے پاس آنے کی دعوت دی۔ چرچ یا مبلغ،‏ یا بپتسمہ کے پانی یا خداوند کی میز کے پاس جانے کو نہیں کہا۔ یسوع نے کہا کہ «وہ میرے پاس آ کر پئے»۔ یہاں پینے کا مطلب ہے مسیح کو اپنے لئے لے لینا،‏ یعنی اُسے خداوند اور نجات دہندہ مان کر اُس پر بھروسا اور یقین کرنا۔ اِس کا مطلب ہے جس طرح ہم پانی کا گلاس اپنے بدن میں لیتے ہیں اُسی طرح مسیح کو اپنی زندگی میں لے لینا۔

۷:‏۳۸ اِس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کے پاس آ کر پینے کا مطلب اُس پر ایمان لانا ہی ہے۔ جتنے لوگ بھی اُس پر ایمان لاتے ہیں،‏ اُن سب کی اپنی ضروریات بھی پوری ہوں گی اور اُن کو روحانی برکت کی ایسی «ندیاں» حاصل ہوں گی جو اُن سے «جاری» ہو کر دوسروں تک پہنچیں گی۔ پورے پرانے عہدنامے میں یہ بات سکھائی جاتی رہی ہے کہ جو مسیحِ موعود کو قبول کریں گے،‏ اُن کو بھی برکت ملے گی اور وہ دوسروں کے لئے بھی برکت کا باعث ہوں گے (‏مثلاً یسعیاہ ۵۵:‏۱)‏۔ «اُس کے اندر سے… زندگی کے پانی کی ندیاں جاری ہوں گی۔» اِن الفاظ کا مطلب ہے کہ اُس شخص کے باطن سے،‏ یا باطنی زندگی سے وہ ندیاں جاری ہوں گی جن سے دوسروں کی مدد ہو۔ سٹاٹ کہتا ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے گھونٹوں یا چسکیوں سے پیتے ہیں،‏ لیکن یہ بڑھ کر بہتی ندیوں کا ایک زبردست بہاؤ بن جاتا ہے۔ ٹمپل خبردار کرتا ہے کہ «ممکن نہیں کہ کسی کے اندر خدا کا روح سکونت کرتا ہو اور وہ اُسے اپنے ہی اندر محدود رکھ سکے۔ جہاں بھی روح ہوتا ہے،‏ وہ بہہ نکلتا ہے۔ اگر بہاؤ نہیں ہے،‏ تو وہاں روح نہیں ہے۔»

۷:‏۳۹ صاف صاف بتایا گیا ہے کہ «زندگی کے پانی» سے مراد روح القدس ہے۔ آیت ۳۹ نہایت اہم ہے کیونکہ یہ سکھاتی ہے کہ وہ سب جو خداوند یسوع مسیح کو قبول کرتے ہیں،‏ اُن کو خدا کا روح بھی حاصل ہوتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ روح القدس ایمان لانے کے کچھ عرصے بعد آ کر اندر سکونت کرتا ہے۔ لیکن یہ بات سچ نہیں۔ یہ آیت بالکل واضح اور صاف طور سے بیان کرتی ہے کہ جتنے مسیح پر ایمان لاتے ہیں،‏ وہ روح پاتے ہیں۔ جس وقت خداوند یسوع نے یہ الفاظ کہے اُس وقت تک «روح… نازل نہ ہوا تھا»۔ جب تک خداوند یسوع واپس آسمان پر نہ گیا اور «اپنے جلال کو نہ پہنچا» اُس وقت تک روح القدس نازل نہ ہوا۔ آخر وہ پنتکست کے دن نازل ہوا۔ اُس لمحے سے خداوند یسوع مسیح کے ہر سچے ایمان دار کے اندر روح القدس سکونت کر رہا ہے۔

ہ۔ یسوع کے بارے میں اِختلافِ رائے  (‏۷:‏۴۰-‏۵۳)‏

۷:‏۴۰،‏۴۱ اُس کا کلام سننے والوں میں سے «بعض» قائل ہو گئے کہ خداوند یسوع «وہ نبی ہے» جس کا ذکر موسیٰ نے اِستثنا ۱۸:‏۱۵،‏۱۸ میں کیا ہے۔ «اَوروں» نے اِقرار کیا کہ یسوع «مسیح» یعنی «مسیحِ موعود» ہے۔ لیکن «بعض» کا خیال تھا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ یسوع گلیل کے ناصرت سے ہے۔ اور پرانے عہدنامے میں کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے کہ «مسیح گلیل سے آئے گا۔»

۷:‏۴۲ یہ یہودی یہ باور کرنے میں حق بجانب تھے کہ «مسیح داؤد کی نسل اور بیت لحم کے گاؤں سے آئے گا۔» اگر وہ تھوڑی سی تفتیش کر لینے کی تکلیف گوارا کر لیتے تو اُن کو معلوم ہو جاتا کہ یسوع واقعی بیت لحم میں پیدا ہوا تھا اور کہ وہ مریم کے وسیلے سے براہِ راست داؤد کی نسل سے تھا۔

۷:‏۴۳ اپنی عام ناواقفیت اور الگ الگ سوچ کے باعث مسیح کے بارے میں اُن «لوگوں میں… اِختلاف ہوا»۔ آج بھی یہی حال ہے۔ یسوع مسیح کے موضوع پر عام لوگوں میں اِختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ باقی اِنسانوں کی طرح وہ بھی محض اِنسان تھا۔ بعض صرف یہ تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں کہ وہ تاریخ کا عظیم ترین اِنسان تھا۔ لیکن جتنے خدا کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں جانتے ہیں کہ «مسیح… سب کے اوپر اور ابد تک خدائے محمود ہے» (‏رومیوں ۹:‏۵)‏۔

۷:‏۴۴ خداوند یسوع کو گرفتار کرنے کی کوششیں ابھی تک جاری تھیں۔ «مگر کسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا۔» جب تک کوئی آدمی خدا کی مرضی کے مطابق چلتا ہے دُنیا کی کوئی طاقت اُس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ «جب تک ہمارا کام پورا نہیں ہو جاتا،‏ ہم غیر فانی ہیں۔» خداوند کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔ اِس لئے اِنسان اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔

۷:‏۴۵ «سردار کاہنوں اور فریسیوں» نے یسوع کو پکڑنے کے لئے «پیادے» بھیجے تھے۔ یہ «پیادے» واپس آئے،‏ مگر خداوند کو ساتھ لے کر نہیں۔ «سردار کاہنوں اور فریسیوں» کو بہت تاؤ آیا۔ وہ پیادوں سے پوچھنے لگے کہ «تم اُسے کیوں نہ لائے؟»

۷:‏۴۶ یہ ایک ایسا موقع ہے کہ گناہ آلودہ اِنسان بھی نجات دہندہ کے بارے میں اچھی بات کہنے پر مجبور ہو گئے تھے حالانکہ وہ خود اُسے نہیں مانتے تھے۔ اُن کے ناقابلِ فراموش الفاظ یہ تھے «کہ اِنسان نے کبھی ایسا کلام نہیں کیا۔» بلاشبہ اُن پیادوں نے اپنے زمانے میں بہت سے آدمیوں کو کلام کرتے سنا تھا مگر کسی کو ایسے اِختیار،‏ ایسی خوبصورتی،‏ ایسی حکمت اور ایسے پُرفضل طریق سے بولتے نہیں سنا تھا۔

۷:‏۴۷،‏۴۸ اُن کو ہراساں کرنے کی کوشش میں «فریسیوں» نے اُن پر الزام لگایا کہ یسوع نے تم کو بھی «گمراہ» کر دیا ہے۔ اُنہوں نے پیادوں کو یاد دلایا کہ «سرداروں اور فریسیوں» میں سے تو کوئی بھی اُس پر ایمان نہیں لایا۔ یہ کیسی خوف ناک دلیل تھی! یہ تو اُن کے لئے شرم ناک بات تھی کہ یہودی قوم کے سرکردہ افراد مسیحِ موعود کو پہچاننے سے قاصر رہے۔

یہ فریسی نہ صرف خداوند یسوع پر ایمان لانے پر آمادہ نہیں تھے،‏ بلکہ چاہتے تھے کہ کوئی دوسرا بھی اُس پر ایمان نہ لائے۔ آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ جو خود نجات پانا نہیں چاہتے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اپنے عزیز و اقارب کو بھی مسیح کے پاس آنے سے روکیں۔

۷:‏۴۹ فریسیوں نے عام یہودی لوگوں کو ناواقف اور «لعنتی» ٹھہرایا۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ عام آدمی صحائف کا کچھ علم رکھتے تو جان لیتے کہ یسوع،‏ مسیحِ موعود نہیں ہے۔ یہ فریسیوں کی کتنی بڑی بے سمجھی تھی!

۷:‏۵۰ اِس موقعے پر نیکدیمس اُن سے مخاطب ہوا۔ یہ وہی شخص ہے جو پہلے رات کے وقت «اُس کے پاس آیا تھا» اور جس نے سیکھا تھا کہ نئے سرے سے پیدا ہونا ضرور ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نیکدیمس مسیح پر ایمان لا کر نجات پا چکا تھا۔ وہ یہودی سرداروں میں سے تھا۔ وہ اپنے خداوند کے حق میں بولا۔

۷:‏۵۱ نیکدیمس کا نکتہ یہ تھا کہ یہودی شریعت اُس وقت تک «کسی شخص کو مجرم» نہیں «ٹھہراتی» جب تک اُس کا نقطۂ نظر سن نہ لے۔ لیکن یہودی سردار اِس کے بالکل برعکس کر رہے تھے۔ کیا وہ حقائق سے خوف زدہ تھے؟ واضح جواب یہی ہے کہ وہ خوف زدہ تھے۔

۷:‏۵۲ اب یہ سردار اپنے ہی ایک ساتھی یعنی نیکدیمس کے پیچھے پڑ گئے۔ وہ تیکھی طنز کے ساتھ اُس سے پوچھنے لگے کہ «کیا تُو بھی گلیل کا ہے؟» کیا تجھے معلوم نہیں کہ «گلیل میں سے کوئی نبی برپا نہیں ہونے کا؟» بلاشبہ یہاں یہ سردار اپنی ناواقفیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کیا اُنہوں نے یوناہ نبی کے بارے میں کبھی نہیں پڑھا تھا؟ وہ گلیل سے برپا ہوا تھا۔

۷:‏۵۳ اب عید خیام ختم ہو چکی تھی۔ سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ بعض لوگوں کی نجات دہندہ سے رُوبرو ملاقات ہوئی تھی اور وہ اُس پر ایمان لے آئے تھے۔ لیکن اکثریت نے اُسے ردّ کر دیا تھا۔ سرداروں کے ارادے پہلے سے بھی پختہ ہو چکے تھے کہ یسوع کا کام تمام کر دیا جائے۔ وہ اُس کو اپنے مذہب اور طرزِ زندگی کے لئے زبردست خطرہ سمجھتے تھے۔

و۔ زناکاری میں پکڑی گئی عورت  (‏۸:‏۱-‏۱۱)‏

۸:‏۱ یہ آیت باب ۷ کی آخری آیت سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔ دونوں آیات کو ایک ساتھ رکھنے سے یہ تعلق بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ دیکھئے:‏«پھر اُن میں سے ہر ایک اپنے گھر کو چلا گیا۔ مگر یسوع زیتون کے پہاڑ کو گیا۔» خداوند نے بالکل درست کہا تھا کہ «لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے،‏ مگر ابنِ آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں۔»

۸:‏۲ زیتون کا پہاڑ ہیکل سے زیادہ دُور نہیں تھا۔ «صبح سویرے» ہی خداوند زیتون کے پہاڑ سے اُترا،‏ قدرون کی وادی کو پار کیا اور پھر پہاڑ پر چڑھ کر شہر میں آیا جہاں ہیکل واقع تھی «اور سب لوگ اُس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر اُنہیں تعلیم دینے لگا»۔

۸:‏۳ «فقیہ» وہ لوگ تھے جو پاک صحائف کی نقول تیار کرتے اور تعلیم دیا کرتے تھے۔ «فقیہ اور فریسی» اِسی فکر میں رہتے تھے کہ خداوند یسوع کو کسی نہ کسی طرح پھنسائیں تاکہ اُس پر الزام لگا سکیں۔ وہ «ایک عورت کو لائے جو» ابھی ابھی «زِنا میں پکڑی گئی تھی۔» اُنہوں نے اُس عورت کو لوگوں کے «بیچ میں» کھڑا کر دیا۔ غالباً اُس کا منہ خداوند کی طرف کیا گیا تھا۔

۸:‏۴ اُس عورت پر زِنا کا الزام لگایا۔ بلاشبہ یہ الزام درست تھا۔ شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ وہ «عین فعل کے وقت» پکڑی گئی تھی۔ لیکن اُس کا ساتھی آدمی کہاں تھا؟ اکثر ایسا ہوتا آیا ہے کہ عورتوں کو تو سزا مل جاتی ہے،‏ لیکن اُن کے ساتھی مرد بچ جاتے ہیں حالانکہ وہ بھی برابر کے مجرم ہوتے ہیں۔

۸:‏۵ اُن کی چال صاف نظر آ رہی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ خداوند «موسیٰ کی توریت» کے خلاف فیصلہ دے۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو عام لوگوں کو خداوند کے خلاف اُبھار سکتے تھے۔ اُنہوں نے اُس کو یاد دلایا کہ «توریت میں موسیٰ نے ہم کو حکم دیا ہے» کہ جو شخص زِنا میں پکڑا جائے اُسے سنگسار کریں۔ فریسیوں کو اُمید تھی کہ خداوند اِس حکم سے اِختلاف کرے گا تو اُن کے شرارت آمیز مقاصد پورے ہوں گے۔ چنانچہ اُنہوں نے پوچھا کہ  «تُو اِس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟» اُن کا خیال تھا کہ اِنصاف اور موسیٰ کی شریعت تقاضا کرتی ہے کہ اِس عورت کو ایک مثال بنا دیا جائے۔ ڈاربی (‏Darby)‏کہتا ہے:‏

«اگر اِنسان کو اپنے سے بدتر شخص مل جائے تو اُس کے بگڑے ہوئے دل کو تسلی اور سکون مل جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دوسرے کے نسبتاً بڑے گناہ سے مَیں معذور ٹھہرتا ہوں۔ دوسرے پر الزام لگاتے ہوئے اور سرگرمی سے اُسے قصور وار ثابت کرتے ہوئے وہ اپنی بدی کو بھول جاتا ہے۔ یوں وہ گناہ میں خوشی محسوس کرتا ہے۔»

۸:‏۶ اُن کے پاس مسیح پر لگانے کو کوئی اِلزام نہیں تھا۔ وہ کوئی الزام گھڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اُس نے عورت کو بے سزا جانے دیا تو یہ موسیٰ کی شریعت کے خلاف ہو گا۔ اور ہم اُس پر بے اِنصاف ہونے کا الزام لگا سکیں گے۔ اور اِس کے برعکس اگر اُس نے عورت پر سزا کا فتویٰ لگایا تو ہم ثابت کر سکیں گے کہ یہ رومی حکومت کا دشمن ہے۔ نیز یہ بھی کہہ سکیں گے کہ یہ بے رحم شخص ہے۔ «مگر یسوع جھک کر اُنگلی سے زمین پر لکھنے لگا۔» قطعاً کوئی طریقہ نہیں جس سے جان سکیں کہ اُس نے کیا لکھا۔ کئی لوگ بڑے اعتماد سے دعویٰ کرتے ہیں کہ جانتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بائبل مقدس اِس بارے میں کچھ نہیں بتاتی۔

۸:‏۷ یہودی بے صبر ہو کر جواب کے لئے اِصرار کرتے رہے۔ اِس لئے یسوع نے صرف اِتنا کہا کہ شرعی سزا دی جائے۔ لیکن یہ سزا صرف وہ افراد دیں جنہوں نے خود کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ اِس طرح خداوند نے موسیٰ کی شریعت کو سر بلند رکھا۔ مگر ایک اَور کام بھی کیا۔ اُس نے سارے لوگوں کو گنہگار قرار دیا۔ جو دوسروں پر الزام لگانا چاہتے ہیں اُن کو خود بے داغ ہونا چاہئے۔ کئی دفعہ اِس آیت کو گناہ کے الزام سے معذور رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ رویہ یہ ہوتا ہے کہ مَیں الزام سے اِس لئے مبرا ہوں کہ دوسروں نے بھی غلط کام کئے ہیں۔ لیکن یہ آیت الزام سے معذور نہیں رکھتی بلکہ اُن کی مذمت کرتی ہے جو کہ قصوروار تو ہیں مگر کبھی پکڑے نہیں گئے۔

۸:‏۸ نجات دہندہ «پھر جھک کر زمین پر…لکھنے لگا۔» خداوند کے کچھ لکھنے کے بارے میں صرف یہ واحد تحریری شہادت ہے۔ اور جو کچھ اُس نے لکھا اُسے زمین پر سے مٹے ہوئے مدتیں گزر گئی ہیں۔

۸:‏۹ جو لوگ عورت پر الزام لگا رہے تھے اُن کے ضمیر نے اُن کو مجرم ٹھہرا دیا۔ اُن کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہا تھا۔ وہ سب «ایک ایک کر کے نکل گئے»۔ «بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک» وہ سب قصوروار تھے۔ «یسوع اکیلا رہ گیا۔» اور وہ عورت قریب ہی کھڑی «رہ گئی۔»

۸:‏۱۰ خداوند یسوع نے نہایت پُرفضل انداز میں عورت کو بتایا کہ «تجھ پر حکم» لگانے والے سب غائب ہو گئے ہیں۔ کہیں دِکھائی نہ دیتے تھے۔ پوری بھیڑ میں ایک بھی فرد نہ تھا جو اُس «پر حکم لگانے» کی ہمت کرتا۔

۸:‏۱۱ یہاں لفظ «خداوند» کا مطلب «جناب» ہے۔ جب عورت نے کہا،‏ «کسی نے نہیں» تو خداوند نے یہ عجیب بات کہی:‏«مَیں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پھر گناہ نہ کرنا۔» یسوع نے ایسے معاملے میں دیوانی اِختیار رکھنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ یہ اِختیار رومی حکومت کو حاصل تھا اور اُس نے اُسے وہیں رہنے دیا۔ اُس نے عورت کو نہ مجرم ٹھہرایا،‏ نہ معاف کیا۔ ابھی یہ کام کرنے کا اُس کا وقت نہیں آیا تھا۔ مگر اُس نے اُس کو خبردار ضرور کر دیا کہ اُسے گناہ سے دُور رہنا ہو گا۔

یوحنا کی اِنجیل کے پہلے باب میں ہم نے دیکھا تھا کہ «فضل اور سچائی یسوع مسیح کی معرفت پہنچی»۔ یہاں اُس کی مثال ہے۔ اِن الفاظ میں کہ «مَیں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا،‏» ہمیں فضل کی مثال ملتی ہے اور «جا،‏ پھر گناہ نہ کرنا» سچائی کے الفاظ ہیں۔ خداوند نے یہ نہیں کہا کہ «جا،‏ جتنا کم سے کم ہو سکے گناہ کرنا۔» خداوند یسوع مسیح کا معیار مطلق کاملیت ہے۔ وہ کسی بھی سطح کے گناہ کی منظوری نہیں دے سکتا۔ چنانچہ وہ اُس عورت کے سامنے خود خدا کا کامل معیار رکھتا ہے۔

ز۔ یسوع — دُنیا کا نور  (‏۸:‏۱۲-‏۲۰)‏

۸:‏۱۲ اب منظر بدل کر ہیکل کا خزانہ سامنے آتا ہے (‏دیکھئے آیت ۲۰)‏۔ بھیڑ ابھی تک اُس کے پیچھے پیچھے تھی۔ اُس نے اُن سے مخاطب ہو کر اپنے مسیحِ موعود ہونے کا ایک زبردست دعویٰ کیا۔ اُس نے کہا،‏ «دُنیا کا نور مَیں ہوں۔» «دُنیا» گناہ،‏ جہالت اور بے مقصدیت کی تاریکی میں ہے۔ «دُنیا کا نور» یسوع ہے۔ اُس کے سوا گناہ کی سیاہی سے چھٹکارا نہیں ہے۔ اُس کے سوا زندگی کی راہ میں راہنمائی نہیں ہے۔ زندگی کے حقیقی مفہوم کا علم نہیں اور ابدیت کا عرفان نہیں ہے۔ یسوع نے وعدہ کیا کہ «جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا۔»

یسوع کی پیروی کرنے کا مطلب اُس پر ایمان لانا ہے۔ بہت سے لوگ اِس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ نئے سرے سے پیدا ہوئے بغیر ہم یسوع کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ یسوع کی پیروی کرنے کا مطلب ہے توبہ کر کے اُس کے پاس آنا،‏ اور ایمان لانا کہ وہ خداوند اور نجات دہندہ ہے،‏ اور پھر اپنی ساری زندگی اُس کے سپرد کر دینا۔ جو ایسا کرتے ہیں اُن کو زندگی میں راہنمائی اور قبر سے آگے واضح اور روشن اُمید حاصل ہوتی ہے۔

۸:‏۱۳ اب فریسیوں نے یسوع کو ایک شرعی نکتے پر چیلنج کیا۔ اُنہوں نے اُسے یاد دلایا کہ تُو اپنے حق میں خود گواہی دیتا ہے۔ چونکہ ہر ایک اِنسان فطرتاً اپنی طرف داری کرتا ہے اِس لئے کسی کی اپنے حق میں گواہی معتبر نہیں مانی جاتی۔ فریسیوں کو یسوع کی بات پر بے اعتباری کا اظہار کرنے میں کوئی خوف نہیں تھا بلکہ وہ صاف کہتے تھے «تیری گواہی سچی نہیں۔»

۸:‏۱۴ خداوند جانتا تھا کہ عموماً دو یا تین گواہوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اُس کے اپنے معاملے میں اُس کی اپنی «گواہی» مطلقاً «سچی» تھی کیونکہ وہ الٰہی ذات ہے۔ وہ جانتا تھا کہ مَیں آسمان سے آیا ہوں اور آسمان پر واپس جاتا ہوں۔ مگر فریسیوں کو علم نہیں تھا کہ وہ «کہاں سے» آیا تھا اور «کہاں کو» جائے گا۔ وہ اُس کو اپنی طرح کا ایک اَور اِنسان ہی سمجھتے تھے۔ وہ ایمان لانے کو تیار نہ تھے کہ یسوع خدا کا ازلی بیٹا ہے۔

۸:‏۱۵ فریسی دوسروں کا فیصلہ ظاہر کے مطابق اور اِنسانی معیار کے مطابق کرتے تھے۔ وہ یسوع کو ناصرت کا بڑھئی ہی مانتے تھے اور ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ وہ کسی طرح بھی دوسرے اِنسانوں سے مختلف نہیں۔ خداوند یسوع نے کہا کہ «مَیں کسی کا فیصلہ نہیں کرتا۔» اِس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یسوع اِنسانوں کا فیصلہ دُنیاوی معیار کے مطابق نہیں کرتا جیسا کہ فریسی کرتے تھے۔ لیکن زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ وہ اُن پر یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ وہ دُنیا میں اِنسانوں پر فیصلہ صادر کرنے نہیں بلکہ اُن کو نجات دینے آیا تھا۔

۸:‏۱۶ «اگر مَیں فیصلہ کروں بھی تو میرا فیصلہ سچا ہے۔» جو کچھ بھی وہ کرتا ہے «باپ» کے ساتھ جسے اُس نے «بھیجا ہے» مل کر کرتا ہے۔ خداوند بار بار زور دے کر فریسیوں کو بتاتا ہے کہ مَیں اور «باپ» ایک ہیں۔ اور یہی بات ہے جس نے اُن کے دلوں میں تلخ ترین عداوت بھڑکائی تھی۔

۸:‏۱۷،‏۱۸ خداوند نے تسلیم کیا کہ موسیٰ کی «توریت» کے مطابق «دو آدمیوں کی گواہی مل کر سچی ہوتی ہے۔» خداوند نے جو کچھ کہا تھا اُس کا مقصد شریعت کی اِس بات سے اِنکار کرنا نہیں تھا۔

اگر فریسی اِصرار کرتے ہیں کہ دو ہی گواہ ہونے چاہئیں تو خداوند کے لئے ایسا کرنا مشکل نہیں۔ سب سے پہلے تو «مَیں خود اپنی گواہی دیتا ہوں۔» اُس کی بے گناہ اور بے داغ زندگی اور اُس کے منہ کی باتیں اُس کی «اپنی گواہی» تھیں۔ دوسرے «باپ» خداوند یسوع کی گواہی دیتا ہے۔ خدا نے آسمان پر علانیہ گواہی دی اور اُس نے خداوند کو معجزے دیئے۔ مسیح پرانے عہدنامے میں مسیحِ موعود کے بارے میں پیش گوئیوں کو پورا کرتا ہے۔ لیکن اِتنی زبردست شہادتوں کے باوجود یہودی لیڈر اُس پر ایمان لانے کو تیار نہ تھے۔

۸:‏۱۹ بلاشبہ فریسیوں کا اگلا سوال شدید طنز سے بھرا ہوا تھا۔ شاید یہ کہتے ہوئے کہ «تیرا باپ کہاں ہے» اُنہوں نے بھیڑ پر بھی بھر پور نظر ڈالی ہو۔ «یسوع نے جواب دیا۔ نہ تم مجھے جانتے ہو نہ میرے باپ کو۔» یعنی وہ نہیں سمجھتے تھے کہ حقیقت میں یسوع کون ہے اور نہ اُس کے باپ کو جانتے تھے۔ بے شک اُنہوں نے خدا کو نہ جاننے کے بارے میں اُس کی پر زور تردید کی ہو گی۔ مگر بات بالکل درست تھی۔ اگر وہ خداوند یسوع کو قبول کرتے،‏ اُس پر ایمان لاتے تو اُس کے «باپ کو بھی جانتے»۔ لیکن سوائے یسوع مسیح کے وسیلے کے کوئی بھی خدا باپ کو جان نہیں سکتا۔ اور چونکہ اُنہوں نے نجات دہندہ کو ردّ کر دیا تھا اِس لئے وہ دعویٰ نہیں کر سکتے تھے کہ ہم خدا کو جانتے اور اُس سے محبت رکھتے ہیں۔

۸:‏۲۰ گذشتہ باتیں ہیکل کے «بیت المال» میں کہی گئی تھیں۔ یہاں خداوند پھر اِلٰہی حفاظت میں ہے۔ لہٰذا کوئی اُس کو پکڑنے یا قتل کرنے کے لئے اُس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ «ابھی تک اُس کا وقت نہ آیا تھا»۔ «وقت» کا اِشارہ اُس وقت کی طرف ہے جب اُس کو دُنیا کے گناہوں کی خاطر کلوری پر مصلوب کیا جانا تھا۔

ح۔ یہودی یسوع سے بحث کرتے ہیں  (‏۸:‏۲۱-‏۵۹)‏

۸:‏۲۱ یسوع نے ثابت کر دیا کہ مجھے مستقبل کا کامل علم ہے۔ وہ اپنے معترضین کو بتاتا ہے کہ «مَیں جاتا ہوں۔» یہ اِشارہ صرف اُس کی موت اور تدفین کی طرف نہیں،‏ بلکہ اُس کے جی اُٹھنے اور صعود کی طرف بھی ہے۔ یہودی قوم مسیحِ موعود کو «ڈھونڈتی» رہے گی مگر اُسے علم نہ ہو گا کہ وہ تو ہمارے پاس آیا تھا اور ہم نے اُسے ردّ کر دیا۔ اُسے ردّ کرنے کے باعث «وہ اپنے گناہ میں مریں گے»،‏ (‏یہاں «گناہ» صیغہ واحد میں استعمال ہوا ہے)‏۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ آسمان میں کبھی داخل نہ ہو سکیں گے جہاں خداوند جا رہا تھا۔ کیسی سنجیدہ سچائی ہے! جو خداوند یسوع کو ردّ کر دیتے ہیں،‏ اُن کے لئے آسمان کی کوئی اُمید باقی نہیں رہتی۔ گناہوں میں مرنا کیسی ہولناک بات ہے! ہمیشہ کے لئے خدا سے دُور،‏ مسیح سے دُور،‏ اُمید سے دُور!

۸:‏۲۲ یہودیوں کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ آسمان پر واپس جانے کی بات کر رہا ہے۔ «جہاں مَیں جاتا ہوں،‏ تم نہیں آ سکتے۔» اِس بات کا مطلب کیا ہے؟ کیا اِس کا مطلب ہے کہ وہ خود کشی کر کے تمہاری اِس سازِش سے بچ جائے گا؟ اگر وہ خود کشی کرتا ہے تو یہودیوں کو کوئی بات نہیں روک سکتی تھی کہ وہ بھی اُس کے پیچھے چلیں اور خود کشی کر لیں۔ لیکن یہ بھی بے اعتقادی کے اندھیرے کی ایک اَور مثال ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ وہ بات سمجھنے میں اِتنے کند ذہن تھے۔

۸:‏۲۳ بے شک خداوند نے اُن کے خود کشی کے بے وقوفانہ خیال کے بارے میں سوچتے ہوئے اُن سے کہا کہ «تم نیچے کے ہو۔» مراد یہ ہے کہ اُن کا نقطہ نظر بہت گھٹیا تھا۔ وہ وقت اور مفہوم کے لحاظ سے لفظی معنوں سے اوپر نہیں اُٹھ سکتے تھے۔ وہ روحانی سمجھ بوجھ سے یکسر محروم تھے۔ اِس کے برعکس مسیح «اُوپر کا» تھا۔ اُس کی سوچ،‏ بات اور کام آسمانی تھے۔ اُن کے ہر کام میں «دُنیا کا» رنگ اور ذائقہ تھا جب کہ یسوع کی پوری زندگی کہہ رہی تھی کہ مَیں اِس دُنیا کی نسبت نہایت ہی پاکیزہ وطن سے ہوں۔

۸:‏۲۴ تاکید اور زور کی خاطر یسوع اکثر بات کو دُہراتا تھا۔ یہاں وہ بڑی سنجیدگی سے اُنہیں دوبارہ خبردار کرتا ہے کہ «تم… اپنے گناہوں میں مرو گے»۔ اگر وہ اُس پر ایمان لانے سے ہٹ دھرمی سے اِنکار کرتے رہے تو پھر کوئی متبادل بات باقی نہ رہے گی۔ خداوند یسوع کے سوا گناہوں سے معافی حاصل کرنے کا کوئی وسیلہ نہیں۔ اور جو لوگ گناہوں کی معافی حاصل کئے بغیر مر جاتے ہیں،‏ آسمان میں کبھی داخل نہیں ہو سکتے۔ اصل متن میں لفظ «وہی» نہیں ہے،‏ مضمر ضرور ہے۔ لفظی ترجمہ یوں ہونا چاہئے «اگر تم ایمان نہ لاؤ گے کہ مَیں ہوں،‏ تو اپنے گناہوں میں مرو گے»۔ اور «مَیں ہوں» کے الفاظ میں ہمیں خداوند یسوع کا الوہیت کا ایک اَور دعویٰ نظر آتا ہے۔

۸:‏۲۵ یہودی خداوند یسوع کی تعلیمات سے بالکل گھبرا گئے اور اُلجھن میں پڑ گئے تھے۔ اُنہوں نے اُس سے دو ٹوک پوچھا کہ «تُو کون ہے؟» ہو سکتا ہے اِس سوال میں طنز بھی ہو کہ تُو اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے کہ اِس طرح بات کرتا ہے؟ اور شاید وہ سچے دل سے سننے کے مشتاق تھے کہ وہ اپنے بارے میں کیا کہتا ہے۔ اُس کا جواب نہایت قابلِ غور ہے۔ «وہی ہوں جو شروع سے تم سے کہتا آیا ہوں۔» وہ مسیحِ موعود تھا۔ یہودیوں نے اُس کو کئی دفعہ یہ کہتے سنا تھا لیکن اُن کے ضدی اور اکھڑ دل سچائی کے سامنے جھکنے کو تیار نہ ہوئے۔ لیکن اُس کے جواب کا ایک اَور مطلب بھی ہو سکتا ہے۔ خداوند یسوع بالکل وہی تھا جس کی تعلیم دیتا تھا۔ یہ نہیں کہ کہتا ایک بات اور کرتا دوسری بات تھا۔ وہ اپنی تعلیمات کا جیتا جاگتا نمونہ تھا۔ اُس کی زندگی اُس کی تعلیمات سے مکمل مطابقت رکھتی تھی۔

۸:‏۲۶ اِس آیت کا مطلب واضح نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خداوند کہہ رہا ہے کہ اِن ایمان نہ لانے والے یہودیوں کی نسبت اَور بھی بہت سی باتیں کہہ سکتا ہوں۔ وہ اُن کے دلوں کے بُرے خیالوں،‏ ارادوں اور منصوبوں کو بے نقاب کر سکتا تھا۔ لیکن وہ نہایت فرماں برداری کے ساتھ صرف وہی باتیں کہہ رہا تھا جو باپ نے اُسے بتائی تھیں۔ اور چونکہ باپ «سچا» ہے اِس لئے یسوع کی باتیں ایسی ہیں جن پر کان دھرنا چاہئے۔

۸:‏۲۷ اِس موقعے پر یہودی «نہ سمجھے کہ ہم سے باپ کی نسبت کہتا ہے» یعنی خدا کے بارے میں کہتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اُن کے ذہنوں پر پڑا ہوا پردہ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اِس سے پہلے جب خداوند یسوع نے خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ خدا باپ کے برابر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ مگر اب اُن کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔

۸:‏۲۸ «یسوع» نے پھر نبوت کی کہ کیا کچھ ہونے والا ہے۔ اوّل یہ کہ یہودی «ابنِ آدم» کو اُونچے پر چڑھائیں گے۔ اِشارہ اُس کی صلیبی موت کی طرف ہے۔ یہ اِقدام کر چکنے کے بعد وہ جانیں گے کہ وہ مسیحِ موعود ہے۔ زلزلے اور تاریکی سے یہ حقیقت اُن پر ظاہر ہو گی۔ لیکن سب سے بڑی وضاحت اور ثبوت یہ ہو گا کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔ خداوند کے الفاظ پر خاص غور کریں:‏«… تو جانو گے کہ مَیں وہی ہوں۔» یہاں بھی اصل متن میں لفظ «وہی» موجود نہیں۔ اِس کا گہرا مطلب یہ ہے کہ «… تو جانو گے کہ مَیں خدا ہوں»۔ اُس وقت وہ جانیں گے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا تھا یعنی اپنے اِختیار سے کچھ نہیں کرتا تھا بلکہ وہ اِس دُنیا میں ایک ایسی ہستی کے طور پر آیا تھا جس کا مکمل اِنحصار خدا پر تھا۔ اِسی لئے وہ کہتا ہے کہ «جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اُسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔»

۸:‏۲۹،‏۳۰ خدا باپ کے ساتھ خداوند کا تعلق نہایت قریبی اور گہرا تھا۔ یہاں خداوند نے جتنے بھی دعوے کئے ہیں،‏ دراصل خدا کے ساتھ برابری کے دعوے ہیں۔ اُس کی زمینی خدمت میں شروع سے آخر تک باپ اُس کے «ساتھ» تھا۔ باپ نے کسی لمحے بھی اُس کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ وہ ہمیشہ وہ کام کرتا رہا جو باپ کو «پسند آتے ہیں»۔ یہ باتیں صرف ایک بے گناہ ہستی ہی کہہ سکتی ہے۔ اِنسانی والدین سے پیدا ہونے والا کوئی شخص بھی اِس قسم کی باتیں زبان پر نہیں لا سکتا کہ «مَیں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اُسے پسند آتے ہیں۔» بسا اوقات ہم صرف وہ کام کرتے ہیں جو ہمیں پسند آتے ہیں۔ بعض اوقات ہم اپنے ساتھی اِنسانوں کو خوش کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ صرف خداوند کو یہ کامل خواہش تھی کہ وہ کام کرے جن سے خدا خوش ہوتا ہے۔

جب خداوند «یہ باتیں کہہ رہا تھا» تو اُسے معلوم ہوا کہ «بہتیرے اُس پر ایمان» لانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ بے شک بہت سے لوگ سچے دل سے ایمان لائے ہوں گے۔ بعض فقط زبانی تعریف کرتے ہوں گے۔

۸:‏۳۱ اب یسوع نے «شاگردوں» اور «حقیقی شاگردوں» میں فرق بیان کیا۔ شاگرد ہر وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مَیں سیکھنے والا ہوں۔ مگر «حقیقت میں… شاگرد» وہ ہے جس نے خود کو قطعی طور پر خداوند یسوع مسیح کے سپرد کر دیا ہو۔ جو سچے ایمان دار ہوتے ہیں اُن میں اُس کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ وہ اُس کے «کلام پر قائم» رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مسیح کی تعلیمات کو ماننا اور اُن پر عمل کرنا جاری رکھتے ہیں۔ سچے ایمان میں ہمیشہ «ثبات» یا «اِستقلال» کی صفت ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنے کی ہے۔ وہ نجات اِس لئے نہیں پاتے کہ اُس کے کلام پر قائم رہتے ہیں بلکہ «کلام پر قائم» اِس لئے رہتے ہیں کہ اُن کو نجات ملی ہے۔

۸:‏۳۲ تمام سچے ایمان داروں سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ تم «سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی۔» یہودی سچائی سے واقف نہ تھے۔ اِس لئے وہ ہولناک اسیری کے بندھنوں میں تھے۔ وہ جہالت،‏ غلطی،‏ گناہ،‏ شریعت اور اوہام پرستی کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ جو لوگ خداوند یسوع کو واقعی جان لیتے ہیں وہ گناہ سے آزادی حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ نور میں چلتے ہیں اور خدا کا روح القدس اُن کی راہنمائی کرتا ہے۔

۸:‏۳۳ بعض قریب کھڑے یہودیوں نے خداوند کی «آزاد» کرنے والی بات سنی۔ اُنہوں نے فوراً بُرا مانا۔ اُن کو فخر تھا کہ ہم «ابرہام کی نسل سے ہیں اور کبھی کسی کی غلامی میں نہیں رہے»۔ لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ بنی اِسرائیل مصر،‏ اسور،‏ بابل،‏ فارس اور یونان کی غلامی میں رہے تھے۔ اور فی الحال رومیوں کے غلام تھے۔ لیکن اِس سے بھی بڑھ کر جب کہ وہ خداوند یسوع سے بات کر رہے تھے،‏ وہ گناہ اور شیطان کی غلامی میں تھے۔

۸:‏۳۴ صاف نظر آتا ہے کہ خداوند «گناہ» کی غلامی کی بات کر رہا تھا۔ اُس نے اپنے یہودی سامعین کو یاد دلایا کہ «جو کوئی گناہ کرتا ہے گناہ کا غلام ہے۔» یہ یہودی ظاہر کرتے تھے کہ ہم بہت مذہبی لوگ ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ تھی کہ وہ بددیانت اور بے ایمان تھے بلکہ بہت جلد قاتل بھی بننے والے تھے کیونکہ عین اُس وقت وہ مسیح کو قتل کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔

۸:‏۳۵ اب خداوند نے گھر کے اندر بیٹے اور غلام کے مرتبے میں تقابل پیش کیا۔ «غلام» کو کبھی یقین نہیں ہو سکتا کہ مَیں «ابد تک» اِس گھر میں رہوں گا۔ جب کہ «بیٹا» گھر میں آزاد اور بے تکلف رہتا ہے۔ لفظ «بیٹا» کا اِطلاق «خدا کے بیٹے» پر ہو خواہ اُن پر جو مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے سے خدا کے فرزند بن جاتے ہیں۔ ایک بات واضح ہے کہ خداوند یہودیوں کو بتا رہا تھا کہ تم بیٹے نہیں ہو،‏ بلکہ غلام ہو جن کو کسی وقت بھی بے دخل کیا جا سکتا ہے۔

۸:‏۳۶ کوئی شک نہیں کہ اِس آیت میں لفظ «بیٹا» خود مسیح کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ جن کو وہ «آزاد کرتا ہے»،‏ وہ «واقعی آزاد» ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص نجات دہندہ کے پاس آتا اور اُس سے ابدی زندگی حاصل کرتا ہے تو وہ شخص گناہ،‏ رسم پرستی،‏ اوہام پرستی اور بدروحوں پر اعتقاد اور شریعت پرستی کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔

۸:‏۳۷ خداوند نے تسلیم کیا کہ جہاں تک جسمانی نسب کا تعلق ہے یہودی «ابرہام کی نسل» (‏لغوی معانی بیج/تخم)‏ سے تھے۔ مگر صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ اُس کے روحانی تخم (‏نسل)‏ سے نہیں تھے۔ وہ ابرہام کی طرح خدا پرست لوگ نہیں تھے۔ وہ خداوند یسوع کو قتل کرنے کی کوشش میں تھے۔ اِس لئے اُس کا «کلام» اُن کے «دل میں جگہ نہیں پاتا» تھا یعنی وہ مسیح کی باتوں کو اپنی زندگیوں میں اَثر نہیں کرنے دیتے تھے۔ وہ اُس کی تعلیمات کی مزاحمت کرتے تھے اور اُس کی نہیں مانتے تھے۔

۸:‏۳۸ جن باتوں کی تعلیم اُن کو یسوع دیتا تھا وہ باتیں تھیں جن کی تعلیم دینے کا حکم اُس کو «اپنے باپ» سے ملا تھا۔ وہ اور اُس کا باپ اِس طرح کامل طور سے ایک ہیں کہ مسیح کی باتیں خدا باپ کی باتیں تھیں اور ہیں۔ جب خداوند یسوع یہاں دُنیا میں تھا تو کامل طور سے اپنے باپ کی نمائندگی کرتا تھا۔ اِس کے برعکس یہودی وہ کام کرتے تھے جو اُنہوں نے «اپنے باپ» سے سنے تھے۔ خداوند کا مطلب لغوی معنوں میں زمینی یا دُنیوی باپ نہیں بلکہ «ابلیس» تھا۔

۸:‏۳۹ یہودی ایک دفعہ پھر «ابرہام» سے قرابت داری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ فخر کرتے ہیں کہ «ہمارا باپ تو ابرہام ہے۔» مگر خداوند یسوع واضح کرتا ہے کہ اگرچہ وہ ابرہام کی نسل سے تھے (‏آیت ۳۷)‏ لیکن اُس کے «فرزند» نہیں تھے۔ عموماً بچے اپنے والدین سے مشابہت رکھتے،‏ اُن کی طرح بولتے چالتے اور چلتے پھرتے ہیں،‏ لیکن یہودیوں کی حالت ایسی نہ تھی۔ اُن کی زندگیاں ابرہام کی زندگی سے بالکل اُلٹ تھیں۔ اگرچہ جسم کے اعتبار سے وہ ابرہام کی نسل سے تھے،‏ لیکن اخلاقی اعتبار سے وہ ابلیس کے فرزند تھے۔

۸:‏۴۰ خداوند نے اُن کے اور ابرہام کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال پیش کی۔ یسوع نے دُنیا میں آ کر اُن کو سوائے «حق بات» کے کچھ نہیں بتایا تھا۔ وہ اُس کی تعلیم سے ناراض ہو گئے اور ٹھوکر کھائی۔ اِس لئے اُس کے «قتل کی کوشش» کرنے لگے۔ «ابرہام نے تو یہ نہیں کیا تھا»۔ وہ تو حق اور راستی کا ساتھ دیتا تھا۔

۸:‏۴۱ بالکل صاف نظر آتا تھا کہ اُن کا باپ کون ہے کیونکہ وہ «اپنے باپ کے سے کام کرتے» تھے،‏ یعنی اِبلیس کے سے کام۔ یہودی یسوع پر «حرام سے پیدا» ہونے کا الزام لگاتے ہوں گے لیکن بائبل کے بہت سے علما کو «حرام سے پیدا» کے الفاظ میں زناکاری کا مفہوم نظر آتا ہے۔ یہودی کہہ رہے تھے کہ ہم کبھی روحانی زِناکاری کے مرتکب نہیں ہوئے۔ ہم ہمیشہ خدا کے وفادار رہے ہیں۔ صرف وہی واحد ہستی ہے جس کو وہ اپنا «باپ» مانتے ہیں۔

۸:‏۴۲ خداوند اُن کے دعوے کی قلعی کھول کر اُن کو یاد دلاتا ہے کہ اگر وہ خدا سے محبت رکھتے تو جس کو خدا نے بھیجا ہے اُس سے بھی محبت رکھتے۔ خداوند یسوع مسیح سے نفرت رکھنا اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کرنا کہ مَیں خدا سے محبت رکھتا ہوں خلافِ عقل ہے۔ یسوع نے کہا کہ «مَیں خدا سے نکلا اور آیا ہوں۔» مطلب یہ ہے کہ وہ خدا کا ازلی بیٹا ہے۔ کوئی خاص وقت نہیں آیا تھا جب کہ وہ بطور خدا کا بیٹا پیدا ہوا ہو بلکہ بیٹے اور باپ کا رِشتہ ازل سے موجود ہے۔ اُس نے یہودیوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ «مَیں خدا… سے… آیا ہوں۔» صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنی ازلیت کا بیان کر رہا تھا۔ وہ زمین پر ظاہر ہونے سے کہیں پہلے آسمان میں باپ کے ساتھ تھا۔ لیکن باپ نے اُس کو دُنیا میں «بھیجا» تاکہ دُنیا کا نجات دہندہ ہو۔ اور وہ فرماں بردار بن کر آ گیا۔

۸:‏۴۳ اِس آیت میں «باتیں» اور «کلام» میں فرق ہے۔ «کلام» سے مراد اُس کی تعلیمات ہے جب کہ «باتیں» کا مطلب وہ الفاظ ہیں جن سے وہ اپنی سچائیوں کا بیان کرتا تھا۔ جب اُس نے روٹی کی بات کی تو وہ لفظی معنوں میں روٹی سمجھے۔ جب اُس نے پانی کی بات کی تو اُنہوں نے کبھی اِس کا تعلق روحانی پانی سے نہ جوڑا۔ کیا وجہ تھی کہ وہ اُس کی «باتیں» نہیں سمجھ سکتے تھے؟ وجہ یہ تھی کہ وہ اُس کی تعلیمات کو برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔

۸:‏۴۴ اب خداوند یسوع نے کھل کر بات کی کہ «تم اپنے باپ ابلیس سے ہو۔» اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ابلیس سے اُسی طرح پیدا ہوئے تھے جس طرح ایمان دار خدا سے پیدا ہوتے ہیں۔ بلکہ بقول اوگوسطین اِس سے مراد یہ ہے کہ وہ «تقلید» کے لحاظ سے ابلیس کے فرزند تھے۔ وہ ابلیس کی سی زندگی بسر کرنے سے اُس کے ساتھ اپنے تعلق کا اِظہار کرتے تھے۔ «تم… اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔» اِس سے اُن کے دلوں کے رُجحان اور ارادوں کا پتا چلتا ہے۔

ابلیس «شروع ہی سے خونی ہے»۔ وہ آدم پر اور کُل نسلِ اِنسانی پر موت لایا۔ وہ صرف «خونی» ہی نہیں بلکہ «جھوٹا» بھی ہے۔ «وہ سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اُس میں سچائی ہے نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے»۔ جھوٹ اُس کے وجود کا ایک حصہ ہے۔ «وہ جھوٹا ہے،‏ بلکہ جھوٹ کا باپ ہے۔» یہودی اِن دو طریقوں سے ابلیس کی تقلید کرتے تھے۔ وہ خونی تھے کیونکہ اُن کے دلوں میں خدا کے بیٹے کو قتل کرنے کا اِرادہ تھا۔ وہ جھوٹے تھے کیونکہ کہتے تھے کہ خدا ہمارا باپ ہے۔ وہ خدا پرست اور روحانی لوگ ہونے کا دِکھاوا کرتے تھے۔ لیکن اُن کی زندگیاں بدی اور بُرائی کی پوٹ تھیں۔

۸:‏۴۵ جو لوگ جھوٹ بولنے کو اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں اُن میں سچائی کو پہچاننے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ یہاں خداوند یسوع اُن کے سامنے کھڑا تھا اور وہ ہمیشہ «سچ بولتا» تھا۔ لیکن وہ اُس کا یقین نہیں کرتے تھے۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی سرشت بُری تھی۔ لینسکی اِس بات کو یوں بیان کرتا ہے:‏

«جب سچائی کا سامنا ہوتا ہے تو بگڑا ہوا ذہن صرف اعتراضات تلاش کرتا ہے۔ جب سامنا ایسی بات سے ہو جو سچائی سے ہٹ کر ہو تو اُس کو قبول کرنے کے لئے دلیلیں ڈھونڈتا ہے۔»

۸:‏۴۶ صرف خدا کا بے گناہ بیٹا مسیح ہی یہ بات کہہ سکتا تھا۔ ساری دُنیا میں ایک بھی اِنسان نہ تھا (‏اور نہ ہے)‏ جو اُس پر ایک بھی «گناہ ثابت» کر سکتا۔ اُس کی سرشت میں کوئی خامی نہ تھی۔ وہ ساری باتوں میں کامل ہے۔ اُس نے صرف سچائی کی باتیں بیان کیں تو بھی اُنہوں نے اُس کا «یقین نہ کیا۔»

۸:‏۴۷ اگر اِنسان خدا سے واقعی محبت کرتا ہو تو وہ «خدا کی باتیں سنتا ہے» اور اُن پر عمل کرتا ہے۔ یہودی نجات دہندہ کے پیغام کو ردّ کر کے ثابت کر رہے تھے کہ دراصل وہ «خدا سے نہیں»۔ آیت ۴۷ سے بالکل ثابت ہو جاتا ہے کہ خداوند یسوع «خدا» کی باتیں کرتا تھا۔ اِس سلسلے میں کسی غلط فہمی کا اِمکان نہیں۔

۸:‏۴۸ یہودی ایک دفعہ پھر بدزبانی پر اُتر آئے کیونکہ اُن کے پاس خداوند یسوع کی باتوں کا کوئی اَور جواب نہیں تھا۔ اُس کو «سامری» کہنے میں یہودی نسلی حقارت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ گویا وہ کہہ رہے تھے کہ تُو خالص النسل یہودی نہیں،‏ بلکہ اِسرائیلیوں کا دشمن ہے۔ اِس کے ساتھ ہی یہ الزام بھی لگایا کہ «تجھ میں بدروح ہے۔» اُن کے مطابق صرف ایسا شخص ہی جس کا دماغ چل گیا ہو،‏ وہ دعویٰ کر سکتا ہے جو یسوع کرتا تھا۔

۸:‏۴۹ غور کریں کہ یسوع نے اپنے دشمنوں کو کیسے آرام سے جواب دیا۔ اُس کی تعلیمات کسی ایسے آدمی کی باتیں نہ تھیں جس میں «بدروح» ہو بلکہ اُس شخص کی باتیں تھیں جو «اپنے باپ کی عزت کرتا» ہے،‏ یعنی خدا کی عزت کرتا ہے۔ وہ اِسی بات کے لئے اُس کی بے عزتی کرتے تھے۔ اِس لئے نہیں کہ اُس کا دماغ خراب تھا بلکہ اِس لئے کہ اُسے صرف اپنے آسمانی باپ کے مفادات کی فکر رہتی تھی۔

۸:‏۵۰ اُن کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ وہ کسی وقت بھی «اپنی بزرگی نہیں چاہتا» تھا۔ اُس کا ہر کام اپنے باپ کو بزرگی دینے کے لئے ہوتا تھا۔ اگرچہ اُس نے اُن پر الزام لگایا کہ «تم میری بے عزتی کرتے ہو» مگر اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ «اپنی بزرگی» چاہتا تھا۔ تب خداوند نے یہ بھی کہا کہ «ہاں،‏ ایک ہے جو اُسے چاہتا اور فیصلہ کرتا ہے۔» یہ «ایک» بلاشبہ خدا ہے۔ خدا باپ اپنے عزیز بیٹے کی بزرگی چاہتا ہے اور اُن سب کا فیصلہ کرے گا جو اُسے بزرگی دینے سے قاصر رہتے ہیں۔

۸:‏۵۱ یہاں ہمیں پھر خداوند یسوع کی شاندار بات نظر آتی ہے،‏ یعنی وہ الفاظ جو صرف وہی ہستی کہہ سکتی ہے جو خود خدا ہو۔ شروع میں مانوس تاکیدی الفاظ کہے گئے ہیں کہ «مَیں تم سے سچ کہتا ہوں…۔» یسوع نے وعدہ کیا کہ «اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔» اِس کا اطلاق جسمانی موت پر نہیں ہو سکتا کیونکہ خداوند یسوع پر ایمان رکھنے والے کتنے ہی لوگ ہر روز مرتے ہیں۔ یہاں اِشارہ روحانی «موت» کی طرف ہے۔ خداوند کہہ رہا تھا کہ جو مجھ پر ایمان لاتے ہیں وہ ابدی «موت» سے چھوٹ جاتے ہیں۔ وہ جہنم کا عذاب کبھی نہیں چکھیں گے۔

۸:‏۵۲ اب یہودیوں کو اَور بھی یقین ہو گیا کہ یسوع دیوانہ ہے۔ اُنہوں نے اُسے یاد دلایا کہ «ابرہام… اور» دوسرے بھی سب «نبی مر گئے» ہیں،‏ مگر تُو پھر بھی کہہ رہا ہے کہ «اگر کوئی میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی موت کا مزہ نہ چکھے گا۔» اِن ساری باتوں کو کس طرح باہم ملایا جا سکتا ہے۔

۸:‏۵۳ اُن کا خیال تھا کہ دراصل خداوند اپنے آپ کو «ابرہام» اور «نبیوں» سے بڑا ٹھہرا رہا ہے۔ ابرہام نے تو کسی کو کبھی موت سے نہیں چھڑایا تھا بلکہ وہ اپنے آپ کو بھی موت سے نہیں چھڑا سکا تھا۔ نہ نبی اپنے آپ کو موت سے چھڑا سکے تھے۔ مگر یہاں وہ شخص تھا جو دعویٰ کر رہا تھا کہ مَیں اپنے ساتھی اِنسانوں کو موت سے چھڑا سکتا ہوں۔ چنانچہ ضرور ہے کہ وہ اپنے آپ کو اُن باپ دادا سے بڑا اور بزرگ تر ٹھہرا رہا ہے۔

۸:‏۵۴ یہودیوں کا خیال تھا کہ یسوع لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ «یسوع» نے اُن کو بتایا کہ بات یوں نہیں ہے بلکہ «میری بڑائی میرا باپ کرتا ہے» یعنی وہ ہستی جس کو تم «ہمارا خدا» کہتے ہو اور جس سے محبت کرنے اور جس کی عبادت کرنے کا دعویٰ کرتے ہو۔

۸:‏۵۵ یہودی کہتے تھے کہ خدا ہمارا باپ ہے لیکن درحقیقت اُس کو جانتے نہ تھے۔ اور یہاں وہ اُس ہستی سے بات کر رہے تھے جو خدا باپ کو واقعی «جانتا» تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ یسوع خدا کے ساتھ اپنی برابری کا اِنکار کرے۔ مگر اُس نے کہا کہ اگر مَیں ایسا کروں تو «جھوٹا ہوں گا۔» وہ خدا باپ کو جانتا اور «اُس کے کلام پر عمل کرتا» تھا۔

۸:‏۵۶ چونکہ یہودی ابرہام کو بار بار بحث میں لا رہے تھے اِس لئے خداوند نے اُن کو یاد دلایا کہ «ابرہام» مسیحِ موعود کے «دن» کو دیکھنے کی اُمید رکھتا تھا۔ اور ایمان کے وسیلے سے اُس نے «میرا دن… دیکھا اور خوش ہوا»۔ خداوند یسوع کہہ رہا تھا کہ «مَیں» ہی تھا جس کو دیکھنے کی اُمید ابرہام کر رہا تھا،‏ جس کا وہ اِنتظار کر رہا تھا۔ چنانچہ ابرہام کا ایمان مسیح کی آمد پر تھا۔

ابرہام نے مسیح کا دن کب دیکھا؟ شاید اُس وقت جب وہ اضحاق کو سوختنی قربانی کے طور پر چڑھانے کے لئے کوہِ موریاہ پر گیا تھا۔ اُس وقت مسیحِ موعود کی موت اور قیامت کا پورا منظر دکھایا گیا۔ اور عین ممکن ہے کہ ابرہام نے ایمان کے وسیلے سے اُسے دیکھا۔ یوں خداوند یسوع نے دعویٰ کیا کہ پرانے عہدنامے میں مسیحِ موعود کے بارے میں ساری پیش گوئیوں کی تکمیل مَیں ہوں۔

۸:‏۵۷ یہودیوں نے ایک دفعہ پھر یہ ثبوت دیا کہ ہم الٰہی سچائیوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یسوع نے کہا تھا کہ «ابرہام نے میرا دن دیکھا اور خوش ہوا۔» مگر اُنہوں نے ایسا جواب دیا گویا یسوع نے کہا تھا کہ مَیں نے ابرہام کو دیکھا تھا۔ اِن دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ یسوع نے دعویٰ کیا تھا کہ میرا رُتبہ ابرہام سے بڑا ہے،‏ کہ مَیں ابرہام کی سوچ اور اُمید کا موضوع تھا۔ اور ابرہام ایمان کے وسیلے سے مسیح کے دن کا منتظر تھا۔

یہودی اِس بات کو نہ سمجھ سکے۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ «تیری عمر تو ابھی پچاس برس کی نہیں» (‏حقیقتاً اُس وقت یسوع کی عمر تقریباً تینتیس برس تھی)‏۔ تو اُس نے کس طرح «ابرہام کو دیکھا»؟

۸:‏۵۸ یہاں خداوند یسوع نے الٰہی ذات ہونے کا ایک اَور واضح دعویٰ کیا ہے۔ اُس نے یہ نہیں کہا کہ «پیشتر اِس سے کہ ابرہام پیدا ہوا» مَیں تھا۔ اِس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ابرہام سے پہلے وجود میں آیا تھا بلکہ اُس نے خدا کا نام «مَیں ہوں» استعمال کیا۔ خداوند یسوع ازل سے خدا کے ساتھ ہے۔ کوئی ایسا وقت نہیں جب وہ وجود میں آیا ہو،‏ یا اُس کا وجود نہ تھا۔ اِسی لئے اُس نے کہا کہ «پیشتر اُس سے کہ ابرہام پیدا ہوا،‏ مَیں ہوں۔»

۸:‏۵۹ یہودیوں نے اُسے فوراً مار ڈالنے کی کوشش کی۔ «مگر یسوع چھپ کر ہیکل سے نکل گیا۔» یہودی پورے طور پر سمجھتے تھے کہ جب یسوع کہتا ہے کہ «پیشتر اُس سے کہ ابرہام پیدا ہوا،‏ مَیں ہوں» تو اِس کا اصل مطلب کیا ہے۔ وہ یہوواہ ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اُسے سنگسار کرنے کی کوشش کرنے لگے کیونکہ اُن کے نزدیک یہ بات کفر تھی۔ وہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ مسیحِ موعود ہمارے درمیان کھڑا ہے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ شخص ہم پر حکمرانی کرے!

ط۔ چھٹا نشان:‏جنم کے اَندھے کو اچھا کرنا  (‏۹:‏۱-‏۱۲)‏

۹:‏۱ ہو سکتا ہے یہ واقعہ اُس وقت ہوا ہو جب یسوع ہیکل سے باہر جا رہا تھا۔ یا ممکن ہے کہ باب ۸ کے واقعات کے کچھ دیر بعد ہوا ہو۔ یہ بات لکھ دی گئی کہ وہ آدمی «جنم کا اندھا تھا»۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کس قدر بے اُمیدی کی حالت میں تھا۔ اور وہ معجزہ کتنا عظیم تھا جس کے باعث اُسے بینائی ملی۔

۹:‏۲ شاگردوں نے بہت عجیب سوال پوچھا۔ وہ حیران ہو رہے تھے کہ یہ اَندھا پن اُس آدمی کے اپنے گناہ کا نتیجہ ہے یا اُس کے والدین کے گناہ کا؟ اُس کے اپنے گناہ سے یہ اَندھا پن کیسے ہو سکتا تھا جب کہ وہ «اندھا پیدا ہوا» تھا؟ کیا وہ کسی قسم کے تناسخ (‏دوبارہ جنم لینا)‏ کو مانتے تھے؟ یا اُن کا خیال تھا کہ وہ اُن گناہوں کے باعث اندھا پیدا ہوا ہے جو خدا جانتا تھا کہ پیدا ہونے کے بعد وہ کیا کرے گا؟ اِتنی بات ضرور ہے کہ اُن کے خیال میں اندھے پن کا براہِ راست تعلق خاندان میں گناہ کے ساتھ تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ لازمی بات نہیں۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ دُنیا میں ہر قسم کی بیماری،‏ دُکھ مصیبت اور موت گناہ کے نتیجے میں آئی،‏ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی بیمار ہو تو یہ ضرور ہی اُس کے کسی گناہ کے باعث ہے۔

۹:‏۳ یسوع کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اُس آدمی نے یا اُس کے والدین نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا بلکہ مطلب یہ تھا کہ یہ اندھا پن گناہ کا براہِ راست نتیجہ نہیں تھا۔ خدا نے اِجازت دی تھی کہ یہ شخص اندھا پیدا ہو تاکہ وہ «خدا کے کاموں» کو ظاہر کرنے کا وسیلہ بنے۔ اُس آدمی کے پیدا ہونے سے پہلے ہی یسوع جانتا تھا کہ مَیں اُن اندھی آنکھوں کو بینائی دوں گا۔

۹:‏۴ نجات دہندہ کو احساس تھا کہ مصلوب ہونے سے پہلے میرے پاس علانیہ خدمت کرنے کے لئے تقریباً تین برس ہیں،‏ اور اُس وقت کا ایک ایک لمحہ خدا کے لئے کام کرنے میں صرف کر رہا تھا۔ یہاں ایک شخص ہے جو جنم کا اندھا ہے۔ ضرور ہے کہ خداوند یسوع اُس کو شفا دینے کا معجزہ کرے،‏ حالانکہ یہ سبت کا دن تھا۔ عام خدمت کا وقت بہت جلد ختم ہو جائے گا۔ پھر وہ اِس زمین پر نہیں رہے گا۔ یہ بات ہر سچے مسیحی کو بڑی سنجیدگی سے یاد دلاتی ہے کہ اِس زندگی کا دن بڑی تیزی سے گزرے جاتا ہے۔ اور «وہ رات آنے والی ہے» جب اِس دُنیا میں ہماری خدمت ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گی۔ اِس لئے جو وقت ہمیں دیا گیا ہے،‏ ضرور ہے کہ اُسے خداوند کی مقبول خدمت میں صرف کریں۔

۹:‏۵ جب تک یسوع اِنسانی صورت میں اِس «دُنیا میں» تھا وہ «دُنیا کانور» تھا،‏ یعنی ایک خاص اور بلاواسطہ طریقے سے دُنیا کا نور تھا۔ جب وہ معجزے دکھاتا اور لوگوں کو تعلیم دیتا پھرتا تھا تو وہ اپنی آنکھوں کے سامنے «دُنیا کا نور» دیکھتے تھے۔ خداوند یسوع اب بھی دُنیا کا نور ہے۔ اور وعدہ کیا گیا ہے کہ جو کوئی اُس کے پاس آئے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا۔ مگر اِس آیت میں خداوند خاص اپنی زمینی خدمت کی بات کر رہا ہے۔

۹:‏۶ ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ یسوع نے کیوں «تھوک سے مٹی سانی اور وہ مٹی اندھے کی آنکھوں پر لگا» دی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اُس آدمی کی آنکھوں میں ڈھیلے نہیں تھے،‏ اور خداوند یسوع نے ڈھیلے بنائے۔ جب کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اندھے کو آنکھیں دینے میں خداوند یسوع نے وہ عام طریقے استعمال کئے جن کو لوگ حقیر اور قابلِ نفرین سمجھتے تھے۔ وہ اپنے ارادوں کو پورا کرنے کے لئے کمزور اور غیر اہم اور حقیر چیزیں استعمال کرتا ہے۔ آج بھی روحانی اندھوں کو بینائی دینے کے لئے وہ زمین کی مٹی سے بنے ہوئے مرد و زن کو استعمال کرتا ہے۔

۹:‏۷ خداوند نے اُس آدمی سے کہا،‏ «جا،‏ شیلوخ کے حوض میں دھو لے۔» اِس طرح اُس نے اُس آدمی کے ایمان کو عملی کام کرنے کا موقع دیا۔ اگرچہ وہ اندھا تھا،‏ مگر غالباً جانتا تھا کہ شیلوخ کا حوض کہاں ہے۔ چنانچہ کہنے کے مطابق کر سکتا تھا۔ پاک کلام بیان کرتا ہے کہ لفظ «شلوخ» کا مطلب «بھیجا ہوا»ہے۔ شاید یہ مسیحِ موعود کی طرف اِشارہ ہے۔ جو ہستی یہ معجزہ کر رہی تھی وہ خدا باپ کی طرف سے اِس دُنیا میں «بھیجی ہوئی» تھی۔ اندھے آدمی نے «جا کر دھویا» تو اُس کو بینائی مل گئی۔ یہ نہیں کہ اُس کی بینائی بحال ہوئی تھی،‏ کیونکہ اُسے تو جنم سے بینائی حاصل ہی نہ تھی۔ اُس نے زندگی میں اپنی آنکھوں سے کبھی کچھ نہیں دیکھا تھا۔ یہ معجزہ فوری تھا۔ وہ آدمی فوراً آنکھیں استعمال کرنے لگا۔ اُس کے لئے کیسی مسرت آمیز حیرت ہو گی کہ جس دُنیا میں وہ جی رہا تھا اُسے اُس نے پہلی بار دیکھا۔

۹:‏۸،‏۹ اُس آدمی کے «پڑوسی» چوکنے ہو گئے۔ اُنہیں یقین نہیں آتا تھا کہ یہ وہی ہے «جو بیٹھا بھیک مانگا کرتا تھا»۔ (‏جب کوئی شخص نجات پاتا ہے تب بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔ ہمارے پڑوسیوں کو ہمارے اندر فرق نظر آنا چاہئے)‏۔ «بعض» زور دے کر کہتے تھے کہ یہ وہی ہے۔ «اَوروں» کو شک تھا۔ وہ صرف اِتنا کہنے کو تیار تھے کہ «یہ کوئی اُس کا ہم شکل ہے»۔ لیکن اُس آدمی نے یہ کہہ کر تمام شکوک رفع کر دیئے کہ «مَیں وہی ہوں» جو اندھا پیدا ہوا تھا۔

۹:‏۱۰ یسوع جب بھی کوئی معجزہ کرتا تھا لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے سوال اُٹھنے لگتے تھے۔ اکثر اوقات اِن سوالات سے ایمان لانے والے کو خداوند کے لئے گواہی دینے کا موقع مل جاتا تھا۔ یہاں لوگ اِس آدمی سے پوچھنے لگے کہ یہ سب کچھ «کیونکر» ہوا؟

۹:‏۱۱ اُس کی گواہی سادہ لیکن موثر تھی۔ اُس نے اپنے بینائی پانے کے واقعے کا بیان کیا اور اُس ہستی کی تعریف کی جس نے یہ معجزہ کیا تھا۔ اِس موقعے پر اُس آدمی کو معلوم نہیں تھا کہ خداوند یسوع کون ہے۔ وہ صرف اِتنا کہتا ہے کہ «اُس شخص نے جس کا نام یسوع ہے۔» لیکن بعد میں اُس کی سمجھ میں اضافہ ہوا اور وہ جان گیا کہ یسوع کون ہے۔

۹:‏۱۲ جب ہم خداوند یسوع مسیح کی گواہی دیتے ہیں تو بعض اوقات دوسروں کے دل میں بھی اُسے جاننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔

ی۔ یہودیوں کی مخالفت شدت اِختیار کرتی ہے  (‏۹:‏۱۳-‏۴۱)‏

۹:‏۱۳ اِس معجزے سے یہودیوں میں اچھا خاصا جوش پیدا ہو گیا۔ بعض لوگ «اُس شخص کو جو پہلے اندھا تھا،‏ فریسیوں کے پاس لے گئے»۔ غالباً اُن کو معلوم نہیں تھا کہ مذہبی لیڈر اِس حقیقت پر ناراض ہو جائیں گے کہ اِس آدمی کو شفا ملی ہے۔

۹:‏۱۴ یسوع نے یہ معجزہ «سبت کے دن» کیا تھا۔ اِن نکتہ چین فریسیوں کو کبھی احساس نہیں ہوتا تھا کہ خدا کا اِرادہ کبھی یہ نہیں تھا کہ سبت کا دن بھلائی اور رحم کے کسی کام میں رُکاوٹ بن جائے۔

۹:‏۱۵ اُس آدمی کو یسوع کے بارے میں گواہی دینے کا ایک اَور موقع مل گیا۔ جب «فریسیوں نے بھی اُس سے پوچھا،‏ تُو کس طرح بینا ہوا؟» تو اُنہوں نے بھی وہ سیدھی صاف کہانی سن لی۔ یہاں اُس آدمی نے یسوع کا نام نہیں لیا۔ اِس لئے نہیں کہ وہ ایسا کرتے ہوئے ڈرتا تھا بلکہ غالباً اِس لئے کہ اُسے احساس تھا کہ سب کو علم ہے کہ یہ معجزہ کس نے کیا ہے۔ اب تک خداوند یسوع یروشلیم میں بہت مشہور ہو چکا تھا۔

۹:‏۱۶ اب یہودیوں میں یسوع کے بارے میں «اِختلاف ہوا»۔ «بعض فریسی» بڑی دلیری سے کہنے لگے کہ یسوع خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتا کیونکہ «سبت کے دن کو نہیں مانتا»،‏ مگر «بعض» یہ دلیل دیتے تھے کہ کوئی گنہگار اِنسان کس طرح «ایسے معجزے دکھا سکتا ہے؟» اِنسان مجبور ہو گئے کہ یا تو اُس کی طرف ہوں،‏ یا اُس کی مخالفت کریں۔

۹:‏۱۷ فریسیوں نے اُس سابق «اندھے» سے یسوع کے بارے میں اُس کی رائے پوچھی۔ ابھی تک اُسے سمجھ نہ تھی کہ یسوع کون ہے۔ لیکن اُس کا ایمان بڑھ کر اِس درجے کو پہنچ گیا تھا کہ وہ اُسے «نبی» ماننے کو تیار تھا۔ وہ یقین رکھتا تھا کہ جس نے میری آنکھیں کھولی ہیں وہ خدا کا «بھیجا ہوا» ہے اور خد اکا پیغام دیتا ہے۔

۹:‏۱۸،‏۱۹ بہت سے «یہودیوں کو یقین نہ آیا» کہ معجزہ کیا گیا ہے۔ اِس لئے اُنہوں نے اُس آدمی کے والدین کو بلا لیا کہ دیکھیں کہ وہ کیا کہتے ہیں۔

والدین سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے کہ بچہ اندھا پیدا ہوا تھا یا نہیں؟ بے شک اُن کی گواہی فیصلہ کُن ہو گی۔ چنانچہ فریسیوں نے اُن سے پوچھا کہ «کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟»… اور یہ بھی کہ «اب وہ کیونکر دیکھتا ہے؟»

۹:‏۲۰،‏۲۱ «اُس کے ماں باپ» کی گواہی بالکل صاف تھی کہ «یہ ہمارا بیٹا ہے اور اندھا پیدا ہوا تھا۔» اُس کے اندھے پن کا غم اُنہیں کھائے جا رہا تھا۔

وہ اِس سے زیادہ بات کرنے کو تیار نہ تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ «کس نے اُس کی آنکھیں کھولیں»۔ اُنہوں نے فریسیوں کو ہدایت کی کہ اُسی سے پوچھیں۔ «وہ تو بالغ ہے… وہ اپنا حال آپ کہہ دے گا۔»

۹:‏۲۲،‏۲۳ آیت ۲۲ سے اُس کے والدین کی بزدلی آشکار ہوتی ہے۔ اُنہوں نے سن رکھا تھا کہ «اگر کوئی اُس کے مسیح ہونے کا اِقرار کرے تو عبادت خانہ سے خارج کیا جائے۔» کسی یہودی کے لئے یہ اخراج بہت ہی سنگین بات ہوتی تھی۔ وہ یہ قیمت ادا کرنے کو تیار نہ تھے۔ اِس طرح وہ نہ صرف یہودی مذہب کی تمام مراعات اور اِستحقاق سے محروم ہو جاتے،‏ بلکہ اُن کی روزی بھی ماری جاتی۔

اُس کے ماں باپ نے «یہودیوں کے ڈر سے» گواہی کی ساری ذمہ داری اپنے بیٹے پر ڈال دی۔

۹:‏۲۴ «خدا کی تمجید کر۔» اِس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ اوّل،‏ یہ قَسم ہو سکتی ہے۔ فریسی کہہ رہے تھے کہ اب سچ بتاؤ۔ «ہم تو جانتے ہیں کہ یہ آدمی گنہگار ہے۔» دوسرے،‏ فریسی مطالبہ کرتے ہیں کہ اِس معجزے کے لئے خدا کی تمجید کرو اور یسوع کی کوئی تعریف نہ کرو کیونکہ فریسی اُس کو گنہگار گردانتے ہیں۔

۹:‏۲۵ فریسیوں کو قدم قدم پر منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ وہ خداوند یسوع کو رُسوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُسے زیادہ تعریف اور عزت ملتی ہے۔ یہاں اُس آدمی کی گواہی بہت شاندار ہے۔ وہ یسوع کی ذات کے بارے میں کچھ زیادہ «نہیں جانتا» تھا۔ مگر اِتنا ضرور جانتا تھا کہ «مَیں اندھا تھا،‏ اب بینا ہوں۔» کوئی شخص اِس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا تھا۔

جو نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں اُن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ بے شک دُنیا شک کرے،‏ مذاق اُڑائے اور ناک بھوں چڑھائے لیکن کوئی ہماری اِس گواہی کی تردید نہیں کر سکتا کہ ہم کھوئے ہوئے تھے اور اب خدا کے فضل سے ہمیں نجات ملی ہے۔

۹:‏۲۶،‏۲۷ اُنہوں نے «پھر» تفتیش شروع کرتے ہوئے ساری تفصیل دُہرانے کو کہا۔ مگر اب وہ آدمی تنگ آ چکا تھا۔ وہ اُن کو یاد دلاتا ہے کہ «مَیں تو تم سے کہہ چکا اور تم نے نہ سنا۔» وہ «دوبارہ کیوں سننا چاہتے»تھے؟ کیا وہ بھی «یسوع کے شاگرد ہونا چاہتے» تھے؟ صاف نظر آتا ہے کہ اُس آدمی نے یہ بات طنزاً پوچھی تھی۔ وہ اچھی طرح جان گیا تھا کہ یہ لوگ یسوع سے عداوت رکھتے ہیں اور اُس کی پیروی کرنے کا اِرادہ نہیں رکھتے۔ 

۹:‏۲۸ مقولہ ہے کہ «دلائل نہ ہوں تو مدعی کو موردِ الزام کر دینا۔» یہاں بھی یہی ہوا۔ فریسی اُس آدمی کی شہادت کو غلط ثابت کرنے میں قطعی ناکام ہو گئے۔ چنانچہ وہ اُسی کو «بُرا بھلا کہنے» لگے۔ اُس پر یسوع کا «شاگرد» ہونے کا الزام لگایا جیسے یہ دُنیا کا سنگین ترین جرم ہو۔ اور کہنے لگے کہ «ہم تو موسیٰ کے شاگرد ہیں» جیسے یہ سب سے بڑی بات ہو۔

۹:‏۲۹ فریسی کہتے ہیں کہ «خدا نے موسیٰ کے ساتھ کلام کیا۔» مگر وہ یسوع کے بارے میں بڑی حقارت آمیز باتیں کہتے ہیں۔ اگر وہ موسیٰ کے نوشتوں کا یقین کرتے تو یسوع کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ مان لیتے۔ علاوہ ازیں اگر تھوڑا سا غور کرتے تو اُن کی احساس ہوتا کہ موسیٰ نے کبھی کسی جنم کے اَندھے کی آنکھیں نہ کھولیں۔ اُن کے درمیان موسیٰ سے بھی بڑا اور بزرگ تر شخص موجود تھا،‏ مگر اُن کو احساس تک نہیں ہو رہا تھا۔

۹:‏۳۰ اب اُس آدمی کے طنز کی کاٹ تیز ہو جاتی ہے۔ فریسیوں کو ایسی بات کی توقع نہ تھی۔ اُس نے گویا یہ کہا کہ «آپ بنی اِسرائیل کے سردار ہیں،‏ آپ یہودی قوم کے اُستاد ہیں۔ اور یہاں آپ کے درمیان ایک شخص ہے جو اندھوں کو آنکھیں دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ مگر آپ ’نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا ہے۔ آپ کو شرم آنی چاہئے۔»

۹:‏۳۱ وہ آدمی گواہی دینے میں دلیر ہوتا جا رہا ہے۔ اُس کا ایمان بڑھ رہا اور پختہ ہو رہا ہے۔ وہ اُن کو یاد دلاتا ہے کہ عام اصول کے مطابق «خدا گنہگاروں کی نہیں سنتا» نہ اُن کے وسیلے سے معجزے کرتا ہے۔ خدا بُرے اِنسانوں کی منظوری نہیں دیتا۔ وہ اُن کو ایسے بڑے اور عجیب کام کی اِجازت نہیں دیتا۔ «لیکن اگر کوئی خدا پرست ہو» تو خدا کے نزدیک مقبول ہے۔

۹:‏۳۲،‏۳۳ اُس آدمی کو احساس تھا کہ تمام اِنسانی تاریخ میں مَیں پہلا آدمی ہوں جسے اَندھا پیدا ہونے کے بعد بینائی عطا ہوئی۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ فریسی ایسا معجزہ دیکھیں،‏ اور معجزہ کرنے والے کو قصوروار ٹھہرائیں۔

«اگر یہ شخص خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو کچھ نہ کر سکتا۔» یعنی اِس قسم کا معجزہ نہ کر سکتا۔

۹:‏۳۴ فریسی پھر برا بھلا کہنے پر اُتر آئے۔ اُنہوں نے اپنے دلوں میں فیصلہ کیا کہ اِس شخص کا اندھا پن «گناہوں» کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ رائیل (‏Ryle)‏ کہتا ہے «پاک روح کی تعلیم اکثر بلند درجہ اور تعلیم یافتہ لوگوں کی نسبت کم درجے کے لوگوں میں زیادہ نظر آتی ہے۔»

«اُنہوں نے اُسے باہر نکال دیا۔» اِس کا مطلب صرف یہی نہیں کہ اُنہوں نے اُسے ہیکل سے باہر کر دیا بلکہ غالباً یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ اُسے یہودی مذہب سے خارج کر دیا۔ لیکن اِس اخراج کی بنیاد کیا تھی؟ ایک جنم کے اَندھے آدمی کو سبت کے دن بینائی عطا کی گئی۔ چونکہ وہ معجزہ کرنے والے کے خلاف کوئی بُری بات کہنے کو تیار نہ تھا اِس لئے اُس کو «باہر نکال دیا گیا»۔

۹:‏۳۵ اب یسوع اُس آدمی سے ملا۔ گویا وہ کہہ رہا ہے کہ «اگر وہ تجھے قبول نہیں کرتے،‏ تو مَیں قبول کرتا ہوں۔» جن لوگوں کو یسوع کی خاطر نکال دیا جاتا ہے،‏ وہ کسی صورت گھاٹے میں نہیں رہتے۔ بلکہ اُن کو بڑی برکت ملتی ہے کیونکہ خداوند خود اُن کو اپنی رفاقت میں خوش آمدید کہتا ہے۔ غور کریں کہ خداوند یسوع نے کس طرح اُس کی شخصی ایمان کی طرف راہنمائی کی۔ اُس نے صرف یہ سوال پوچھا کہ «کیا تُو خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا ہے؟»

۹:‏۳۶ اگرچہ اُس کو جسمانی بینائی مل گئی تھی ابھی اُسے روحانی بصارت کی ضرورت تھی۔ اُس نے خداوند سے پوچھا کہ خدا کا بیٹا «کون ہے کہ مَیں اُس پر ایمان لاؤں؟» اُس آدمی نے اُسے «اے خداوند» کہا۔ اِس کا عام مطلب ہے «جناب»۔

۹:‏۳۷ اب یسوع نے اپنا تعارُف کرایا کہ مَیں ہی خدا کا بیٹا ہوں۔ جس نے اُسے بینائی دی تھی اور اُس کی زندگی میں ایک ناممکن کام کیا تھا وہ محض اِنسان نہ تھا۔ وہ خدا کا بیٹا تھا جس کو اُس نے دیکھا تھا اور جو اُس وقت اُس سے باتیں کر رہا تھا۔

۹:‏۳۸ یہ بات سن کر وہ آدمی نہایت پیارے انداز میں خداوند یسوع پر ایمان لے آیا۔ اُس کے سامنے گر کر «اُسے سجدہ کیا»۔ اب وہ شفایافتہ ہی نہیں بلکہ نجات یافتہ اِنسان بھی تھا۔ یہ اُس کی زندگی کا کیسا عظیم دن تھا! اُس کو جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی بینائی مل گئی تھی۔

غور کریں کہ اُس آدمی نے اُس وقت تک خداوند کو سجدہ نہیں کیا جب تک اُسے معلوم نہیں ہو گیا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔ وہ ایک سمجھ دار یہودی تھا۔ وہ ایسے شخص کو سجدہ نہیں کر سکتا تھا جو محض اِنسان ہو۔ مگر جونہی اُسے معلوم ہوا کہ مجھے شفا دینے والی ہستی خدا کا بیٹا ہے تو فوراً «سجدہ کیا»۔ اُس نے معجزے کی بنا پر نہیں بلکہ مسیح کی ذات کی بنا پر اُسے سجدہ کیا۔

۹:‏۳۹ پہلی نظر میں یہ آیت یوحنا ۳:‏۱۷ کی تردید کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ وہاں لکھا ہے کہ «خدا نے بیٹے کو دُنیا میں اِس لئے نہیں بھیجا کہ دُنیا پر سزا کا حکم کرے…» مگر کوئی تضاد ہے نہیں۔ مسیح کا دُنیا میں آنے کا مقصد الزام لگانا نہیں بلکہ بچانا تھا۔ البتہ سزا اُن سب کے لئے اٹل نتیجہ ہے جو اُسے قبول نہیں کرتے،‏ یعنی اُس پر ایمان نہیں لاتے۔

اِنجیل کی منادی کا اثر دُہرا ہوتا ہے۔ جو لوگ اِقرار کرتے ہیں کہ ہم «نہیں دیکھتے» اُن کو بینائی عطا کی جاتی ہے،‏ لیکن جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خداوند یسوع کے بغیر بالکل صحیح «دیکھتے ہیں» اُن کے اَندھے پن کو پکا کر دیا جاتا ہے۔

۹:‏۴۰ بعض فریسیوں کو احساس ہو گیا کہ خداوند یسوع ہماری اور ہمارے اندھے پن کی بات کر رہا ہے۔ چنانچہ وہ اُس کے پاس آ کر بڑی ڈھٹائی سے پوچھنے لگے کہ کیا تُو سمجھتا ہے کہ «ہم بھی اندھے ہیں»؟ وہ توقع کرتے تھے کہ جواب نفی میں ہو گا۔

۹:‏۴۱ خداوند کے جواب کو سلیس انداز میں یوں پیش کیا جا سکتا ہے۔ «اگر تم مان لو کہ ہم اندھے اور گناہ آلودہ ہیں اور ہمیں نجات دہندہ کی ضرورت ہے تو تمہارے گناہ معاف کئے جا سکتے ہیں اور تم نجات پا سکتے ہو۔ مگر تم دعویٰ کرتے ہو کہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں،‏ ہم راست باز ہیں اور ہم میں گناہ نہیں پس تمہارے لئے گناہوں کی کوئی معافی نہیں۔» جب یسوع نے کہا کہ«اگر تم اندھے ہوتے تو گنہگار نہ ٹھہرتے» تو مراد یہ نہیں تھی کہ وہ مطلقاً بے گناہ ہوتے بلکہ اِس کا مطلب تھا کہ مقابلتاً بے گناہ ہوتے۔ اگر وہ اُسے مسیحِ موعود کے طور پر نہ پہچان سکتے پر اپنے اندھے پن کو تسلیم کر لیتے تو مقابلتاً اُن کا گناہ کم ہوتا۔ کیونکہ اب وہ بہت بڑا دعویٰ کر رہے تھے کہ ہم دیکھتے ہیں،‏ مگر یسوع کو بطور خدا کا بیٹا نہیں پہچانتے تھے۔

ک۔ یسوع — بھیڑوں کا دروازہ  (۰‏۱:‏۱-‏۱۰)‏

۱۰:‏۱ یہ آیات باب۹ کے آخری حصے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ وہاں خداوند یسوع فریسیوں سے مخاطب تھا جو دعویٰ کرتے تھے کہ ہم لوگوں کے جائز چرواہے ہیں۔ یہاں خداوند خاص طور پر اُن ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو کچھ وہ کہنے کو ہے وہ بہت سنجیدہ باتیں ہیں۔ اور یہ سنجیدگی اِن الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے کہ «مَیں تم سے سچ کہتا ہوں»۔

«بھیڑ خانہ» ایک احاطہ اور چھپر وغیرہ ہوتا ہے جہاں بھیڑوں کو رات کو حفاظت کی خاطر رکھا جاتا ہے۔ اِس احاطے کے گرد ایک باڑ ہوتی ہے اور ایک طرف تھوڑا سا حصہ کھلا ہوتا ہے جس کو دروازے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں «بھیڑخانہ» سے مراد یہودی قوم ہے۔

یہودی قوم میں بہت سے لوگ ہوئے جو اُن کے روحانی سردار اور راہنما ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ وہ خود ہی قوم کے مسیحِ موعود بن بیٹھے تھے،‏ لیکن وہ اُس طریقے سے نہیں آئے تھے جس کی نبوت پرانے عہد نامے نے کی ہے۔ وہ «اَور کسی طرف سے چڑھ» آئے تھے۔ وہ اپنے آپ کو اپنے ہی طریقوں کے مطابق اِسرائیلی قوم کے سامنے پیش کرتے تھے۔ یہ لوگ حقیقی چرواہے نہیں بلکہ چور اور ڈاکو تھے۔ چور وہ شخص ہوتے ہیں جو وہ چیزیں لے لیتے ہیں جو اُن کی نہیں ہوتیں۔ اور ڈاکو وہ ہوتے ہیں جو ایسا کرنے میں تشدد بھی استعمال کرتے ہیں۔ فریسی چور اور ڈاکو تھے۔ وہ یہودیوں پر حکومت چلانے کی کوشش کرتے تھے،‏ مگر حتی المقدور کوشش کرتے تھے کہ لوگ حقیقی مسیحِ موعود کو قبول نہ کریں۔ اُن کو روکتے تھے جو یسوع کی پیروی کرنے لگتے تھے۔ یہ فریسی اُن پر ظلم و ستم ڈھاتے تھے۔ اور بالآخر اُنہوں نے یسوع کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

۱۰:‏۲ یہ آیت خود یسوع کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔ وہ اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس آیا۔ وہ بھیڑوں کا حقیقی چرواہا تھا۔ وہ «دروازہ سے» داخل ہوا تھا۔ یعنی وہ مسیحِ موعود کے بارے میں پرانے عہدنامے کی پیش گوئیوں کی تکمیل کرتا ہوا آیا۔ وہ اپنی طرف سے نجات دہندہ نہیں بن بیٹھا تھا،‏ بلکہ اپنے باپ کی مرضی کی کامل فرماں برداری کرتے ہوئے آیا تھا۔ وہ تمام شرائط پوری کرتا ہے۔

۱۰:‏۳ اِس آیت میں «دربان» کی شناخت کے بارے میں بہت اِختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ «دربان» سے مراد پرانے عہدنامے کے انبیا ہیں،‏ جنہوں نے مسیح کے آنے کی نبوت کی تھی۔ بعض علما کے مطابق یہ یوحنا بپتسمہ دینے والا ہے،‏ اِس لئے کہ وہ حقیقی چرواہے کا پیشرو اور نقیب تھا۔ اور بعض علما تو پورے یقین سے کہتے تھے کہ اِس آیت کا «دربان» روح القدس ہے جو خداوند یسوع کے زندگیوں اور دلوں میں داخلے کے لئے دروازہ کھولتا ہے۔

«بھیڑوں» نے چرواہے کی «آواز» سنی۔ اُنہوں نے پہچان لیا کہ یہ حقیقی چرواہے کی آواز ہے۔ جس طرح اصلی بھیڑیں اپنے چرواہے کی آواز پہچانتی ہیں،‏ اُسی طرح یہودی قوم میں بھی ایسے لوگ تھے جنہوں نے مسیحِ موعود کو (‏جب وہ آیا)‏ پہچان لیا۔ پوری اِنجیل میں ہم نے چرواہے کو «اپنی بھیڑوں کو نام بنام» بلاتے سنا ہے۔ پہلے باب میں اُس نے کئی شاگردوں کو بلایا۔ اُنہوں نے اُس کی آواز سنی اور اِس کا جواب دیا۔ باب ۹ میں اُس نے ایک اندھے آدمی کو بلایا۔ خداوند یسوع آج بھی اُن لوگوں کو بلا رہا ہے جو اُس کو نجات دہندہ قبول کرنے کو تیار ہیں۔ یہ بلاہٹ شخصی اور انفرادی ہوتی ہے۔

«باہر نکال چکتا ہے۔» یہ الفاظ اِس حقیقت کا بیان کرتے ہیں کہ جتنوں نے خداوند یسوع کی آواز سنی اُس نے اُن کو اِسرائیل کے بھیڑ خانے سے باہر نکال لیا۔ وہاں وہ بند اور گھیرے میں تھیں۔ خداوند اپنی بھیڑوں کو فضل کی آزادی میں لے «چلتا ہے۔» گذشتہ باب میں یہودیوں نے اُس آدمی کو عبادت خانے سے خارج کر دیا تھا۔ ایسا کرنے میں وہ انجانے میں خداوند کے کام میں مدد کر رہے تھے۔

۱۰:‏۴ حقیقی چرواہا «جب… اپنی سب بھیڑوں کو نکال چکتا ہے» تو اُن کو ہانکتا نہیں بلکہ «اُن کے آگے آگے چلتا ہے۔» وہ اُن کو کسی ایسی جگہ جانے کو نہیں کہتا جہاں پہلے وہ خود نہ گیا ہو۔ وہ بحیثیت نجات دہندہ،‏ رہبر اور نمونہ ہمیشہ بھیڑوں کے «آگے» ہوتا ہے۔ اور جو مسیح کی حقیقی «بھیڑیں» ہیں وہ «اُس کے پیچھے پیچھے ہو لیتی ہیں»۔ وہ اُس کے نمونے کی پیروی کرنے سے نہیں،‏ بلکہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کے وسیلے سے اُس کی بھیڑیں «بنتی ہیں»۔ اور جب وہ نجات پا لیتی ہیں تو اُن کے دل میں خواہش ہوتی ہے کہ جہاں وہ «آگے آگے» جائے وہاں اُس کے «پیچھے پیچھے» جائیں۔

۱۰:‏۵ جو جبلّت بھیڑوں کو حقیقی چرواہے کی آواز پہچاننے کی صلاحیت بخشتی ہے وہی اُن کو «غیر شخص» سے بھاگنے پر اُبھارتی ہے۔ یہ غیر شخص فریسی اور یہودی قوم کے دوسرے لیڈر تھے جو صرف اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اِن بھیڑوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ جس شخص کو بینائی حاصل ہوئی تھی وہ اِس بات کی عمدہ مثال ہے۔ اُس نے خداوند یسوع کی آواز پہچانی،‏ مگر جانتا تھا کہ یہ فریسی «غیر شخص» ہیں،‏ اِس لئے اُس نے اُن کی ماننے سے اِنکار کیا حالانکہ اِس کا نتیجہ عبادت خانے سے اخراج تھا۔

۱۰:‏۶ یہاں صاف صاف بیان ہوا ہے کہ «یسوع نے… یہ تمثیل» فریسیوں پر کہی تھی۔ «لیکن وہ نہ سمجھے کہ یہ کیا باتیں ہیں۔» وجہ یہ تھی کہ وہ حقیقی بھیڑیں نہ تھے۔ اگر ہوتے تو اُس کی آواز سنتے اور پیروی کرتے۔

۱۰:‏۷ اب یسوع نے ایک نئی مثال استعمال کی۔ اب وہ آیت ۲ کی طرح بھیڑخانے کے دروازے کی بات نہیں کر رہا۔ وہ اپنے آپ کو «بھیڑوں کا دروازہ» کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ اب اسرائیل کے بھیڑ خانے میں داخل ہونے کی بات نہیں ہو رہی۔ بلکہ تصویر یہ منظر پیش کرتی ہے کہ اِسرائیل کی برگزیدہ بھیڑیں یہودیت سے نکل کر «دروازہ» یعنی مسیح میں داخل ہو رہی ہیں۔

۱۰:‏۸ مسیح سے پہلے دوسرے افراد آئے تھے۔ وہ بھی اپنے اِختیار اور مرتبے کا دعویٰ کرتے تھے۔ لیکن اِسرائیل کی برگزیدہ بھیڑوں نے اُن کی نہ سنی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ یہ لوگ اُن باتوں کا دعویٰ کر رہے ہیں جن کے وہ مجاز نہیں،‏ جو اِن کے پاس ہیں نہیں۔

۱۰:‏۹ یہ اُن مسرت بخش آیات میں سے ہے جو اِتنی سادہ اور صاف ہیں کہ سنڈے سکول کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔ اور اگر اِن کی تشریح و تفسیر کرنے لگیں تو بڑے سے بڑا عالم بھی پورا اِنصاف نہ کر سکے۔ مسیح «دروازہ» ہے۔ مسیحیت کسی عقیدہ یا مذہبی گروہ یا فرقے کا نام نہیں بلکہ ایک شخص،‏ ایک ہستی ہے۔ اور اُس ہستی کا نام خداوند یسوع مسیح ہے۔ «اگر کوئی مجھ سے داخل ہو۔» نجات صرف مسیح کے وسیلے سے مل سکتی ہے،‏ بپتسمہ سے نہیں مل سکتی،‏ عشائے ربانی سے نہیں مل سکتی۔ ضرور ہے کہ ہم مسیح کے وسیلے سے اور اُس قوت سے اُس میں داخل ہوں جو وہ دیتا ہے۔ دعوت ہر ایک کے لئے ہے۔ مسیح یہودی اور غیر قوم دونوں کا یکساں نجات دہندہ ہے۔ لیکن نجات پانے کے لئے ضروری ہے کہ اِنسان اندر داخل ہو۔ ضرور ہے کہ ایمان سے مسیح کو قبول کرے۔ یہ ایک ذاتی فعل ہے۔ اِس کے بغیر نجات ممکن نہیں۔ جو داخل ہوتے ہیں وہ گناہ کی سزا،‏ گناہ کی قدرت اور بالآخر گناہ کی موجودگی سے یقینا «نجات» پاتے ہیں۔

نجات کے بعد وہ «اندر باہر آیا جایا» کرتے ہیں۔ شاید یہاں خیال یہ ہے کہ وہ ایمان کی رُو سے خدا کی حضوری میں «آتے ہیں» تاکہ اُس کی پرستش کریں۔ اور پھر خداوند کی گواہی دینے کے لئے دُنیا میں «جاتے ہیں»۔ کچھ بھی ہو،‏ یہ خداوند کی خدمت اور عبادت میں کامل تحفظ اور آزادی کی تصویر ہے۔ جو داخل ہوتے ہیں،‏ وہ «چارا پاتے» ہیں۔ مسیح صرف نجات دہندہ ہی نہیں،‏ وہ صرف آزاد کرنے والا ہی نہیں بلکہ وہ قائم رکھنے والا اور آسودگی دینے والا بھی ہے۔ اُس کی بھیڑوں کو «خدا کے کلام سے چارا» ملتا ہے۔

۱۰:‏۱۰ «چور» کا مقصد «چرانا،‏ مار ڈالنا اور ہلاک کرنا» ہوتا ہے۔ وہ صرف خود غرضی کے مقصد اور ارادے سے آتا ہے۔ اپنے ارادے اور خواہش کو پورا کرنے کے لئے وہ بھیڑوں کو «مار ڈالنے» سے بھی نہیں چوکتا۔لیکن خداوند یسوع کسی خود غرضی کے باعث اِنسانی دل کے پاس نہیں آتا۔ وہ کچھ لینے نہیں بلکہ دینے آتا ہے۔ وہ اِس لئے آتا ہے کہ لوگ «زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔» جس لمحہ ہم اُسے نجات دہندہ قبول کرتے ہیں،‏ اُسی لمحے ہمیں زندگی مل جاتی ہے۔ البتہ نجات پانے کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اِس زندگی سے محظوظ ہونے کے مختلف درجات ہیں۔ ہم اپنے آپ کو جس قدر روح القدس کے سپرد کرتے جائیں گے،‏ اُسی قدر اِس زندگی سے زیادہ لطف اندوز ہوں گے۔ پھر ہمارے پاس «زندگی» ہی نہیں بلکہ «کثرت کی زندگی» ہو گی۔

ل۔ یسوع — اچھا چرواہا  (۱۰‏:‏۱۱-‏۱۸)‏

۱۰:‏۱۱ خداوند یسوع بہت دفعہ «مَیں ہوں» کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ یہ ذاتِ الٰہی کا لقب ہے۔ اور ہر دفعہ وہ خدا باپ سے برابری کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہاں وہ کہتا ہے «اچھا چرواہا مَیں ہوں» جو «بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے»۔ عام حالات میں بھیڑوں کو کہا جاتا ہے کہ چرواہے کے لئے اپنی جان دیں۔ لیکن خداوند یسوع نے گلے کی خاطر اپنی جان دی۔

۱۰:‏۱۲ «مزدور» وہ شخص ہوتا ہے،‏ جو اُجرت پر کام کرتا ہے۔ مثلاً:‏کوئی چرواہا کسی دوسرے شخص کو اُجرت دے کر بھیڑوں کی دیکھ بھال کا کام سپرد کر سکتا ہے۔ فریسی ایسے ہی اُجرتی تھے۔ اُن کی لوگوں میں دلچسپی کا اِنحصار اُن پیسوں پر تھا جو اُن کو ملتے تھے۔ «مزدور» بھیڑوں کا مالک نہیں ہوتا۔ جب خطرہ ہوتا ہے،‏ وہ بھاگ جاتا اور بھیڑوں کو «بھیڑیئے» کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتا ہے۔

۱۰:‏۱۳ ہم جو کچھ کرتے ہیں اپنی سرشت کے مطابق کرتے ہیں۔ مزدور اُجرت کی خاطر کام کرتا ہے۔ «اُس کو بھیڑوں کی فکر نہیں» ہوتی۔ آج کلیسیا میں بہت سے مزدور (‏اُجرتی)‏ موجود ہیں۔ یہ ایسے افراد ہیں جو دینی خدمت اِس لئے اِختیار کرتے ہیں کہ اِسے آرام دِہ پیشہ سمجھتے ہیں۔ اُن کے دلوں میں خدا کی بھیڑوں کے لئے کوئی محبت نہیں ہوتی۔

۱۰:‏۱۴ خداوند پھر اپنے بارے میں کہتا ہے کہ «اچھا چرواہا مَیں ہوں۔» «اچھا» کے لئے یونانی میں لفظ «کالوس» آیا ہے جس کا مطلب ہے مثالی،‏ قابل،‏ چنیدہ،‏ عمدہ ترین۔ مسیح یہ سبھی کچھ ہے۔ اِس کے ساتھ ہی وہ اُس گہرے اور قریبی تعلق کا ذکر کرتا ہے جو خود اُس کے اور اُس کی «بھیڑوں» کے درمیان پایا جاتا ہے۔ وہ اپنوں کو جانتا ہے اور اُس کے اپنے (‏«میری بھیڑیں»)‏ اُس کو جانتے ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب حقیقت ہے۔

۱۰:‏۱۵ کیسی ولولہ انگیز سچائی ہے! خداوند بھیڑوں کے ساتھ اپنے تعلق کا مقابلہ اپنے اور اپنے باپ کے باہمی تعلق سے کرتا ہے۔ یہ دونوں طرح کے تعلق ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ وہی یگانگت،‏ وہی رفاقت،‏ وہی قربت اور وہی عرفان،‏ جو باپ اور بیٹے کے درمیان ہے،‏ چرواہے اور اُس کی بھیڑوں کے درمیان بھی ہے۔ «اور مَیں بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہوں۔» یہ بھی اُن بیانات میں سے ہے جب خداوند بیان کرتا ہے کہ وہ صلیب پر گنہگاروں کے عوضی کے طور پر اپنی جان دے گا۔

۱۰:‏۱۶ یہ آیت پورے باب کے لئے چابی کی حیثیت رکھتی ہے۔ «اَور بھی بھیڑیں۔» اِن سے مراد غیر اسرائیلی ہیں۔ اُس کا دُنیا میں آنا خاص اِسرائیل کی بھیڑوں کے لئے تھا۔ لیکن اُسے غیر اقوام کی نجات کا بھی خیال تھا۔ غیر اقوام بھیڑیں یہودی «بھیڑ خانہ» کی نہیں تھیں۔ لیکن خداوند یسوع کا دل رحم اور مہربانی سے بھرا ہوا تھا۔ اُس کو اُن بھیڑوں پر بھی رحم اور ترس آتا تھا جو اِس «بھیڑ خانہ» سے باہر تھیں اور اُسے اُن کو بھی اپنے پاس «لانا» تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ بھیڑیں «میری آواز» سننے کو یہودی قوم کی نسبت زیادہ تیار ہوں گی۔

آیت کے آخری حصے میں یہودیت کے «بھیڑ خانہ» سے مسیحیت کے «گلّہ» کی طرف بڑی اہم تبدیلی ہے۔ یہ آیت ہمیں اُس حقیقت کی ایک پیشگی جھلک دِکھاتی ہے کہ مسیح میں یہودی اور غیر قوم ایک ہو جاتے اور اُن میں پائے جانے والے اِمتیازات ختم ہو جاتے ہیں۔

۱۰:‏۱۷ آیات ۱۷ اور ۱۸ میں خداوند یسوع بیان کرتا ہے کہ برگزیدہ یہودیوں اور غیر قوموں کو اپنے پاس لانے کے لئے وہ کیا کچھ کرے گا۔ وہ اُس وقت کی طرف دیکھتا ہے جب وہ مرے گا،‏ دفن ہو گا اور پھر جی اُٹھے گا۔ اگر خداوند یسوع صرف اِنسان ہوتا تو یہ الفاظ بالکل بے موقع ہوتے۔ وہ کہتا ہے کہ «مَیں اپنی جان دیتا ہوں تاکہ اُسے پھر لے لوں۔» ایسا وہ اپنی قدرت سے کرے گا اور ایسا اِس لئے کر سکتا ہے کہ وہ خدا ہے۔ «باپ» خداوند یسوع سے «اِس لئے محبت رکھتا ہے» کہ وہ اپنی جان دینے اور دوبارہ جی اُٹھنے پر رضامند ہے تاکہ کھوئی ہوئی بھیڑیں بچ جائیں۔

۱۰:‏۱۸ «کوئی» یسوع کی جان اُس سے نہیں لے سکتا تھا۔ چونکہ خلقت اُس کے وسیلے سے وجود میں آئی اِس لئے وہ اپنی مخلوق کے تمام قاتلانہ منصوبوں سے عظیم ہے۔ اُس کو «اپنی جان» دینے کا «اختیار» اور «اُسے پھر لینے کا بھی اِختیار ہے۔» لیکن کیا اِنسانوں نے خداوند یسوع کو قتل نہیں کیا تھا؟ ہاں،‏ ایسا تو ہوا۔ اعمال ۲:‏۲۳ اور ۱۔تھسلنیکیوں ۲:‏۱۵ میں یہ بات بالکل صاف طور سے بیان ہوئی ہے۔ خداوند یسوع نے اِنسانوں کو ایسا کرنے کی اِجازت دی۔ یہ ثبوت تھا کہ اُسے «اپنی جان» «دینے کا بھی اِختیار ہے۔» اُس نے اپنی «جان دے دی» (‏یوحنا ۱۹:‏۳۰)‏۔ یہ اُس کے اپنے اِختیار اور مرضی کا فعل تھا۔

«حکم میرے باپ سے مجھے ملا۔» باپ نے خداوند کو مقرر کیا تھا یا اُسے ہدایت کی تھی کہ اپنی جان دے اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھے۔ موت اور قیامت خدا کی مرضی کو پورا کرنے کے بنیادی اور لازمی فعل تھے۔ اِسی لئے وہ مرنے تک فرماں بردار رہا اور پاک نوشتوں کے مطابق تیسرے دن جی اُٹھا۔

م۔ یہودیوں میں اِختلاف  (‏۱۰:‏۱۹-‏۲۱)‏

۱۰:‏۱۹ خداوند یسوع کی باتوں کے باعث «یہودیوں میں پھر اِختلاف ہوا»۔ خداوند کا دُنیا میں،‏ گھروں میں اور دلوں میں داخل ہونا،‏ صلح نہیں بلکہ تلوار پیدا کرتا ہے۔ اِنسانوں کو صرف اُس وقت خدا کے اِطمینان کا تجربہ ہوتا ہے جب وہ یسوع کو خداوند اور نجات دہندہ مان لیتے ہیں۔

۱۰:‏۲۰،‏۲۱ خداوند یسوع بنی نوعِ اِنسان کی تاریخ میں واحد کامل اِنسان ہوا ہے۔ اُس نے نہ کبھی کوئی غلط بات کہی نہ بُرا کام کیا۔ لیکن اِنسانی دل کی بدی اور خباثت اِتنی زیادہ ہے کہ جب یسوع محبت اور حکمت کی باتیں کرتا ہوا آیا تو اِنسان کہنے لگے کہ «اُس میں بدروح ہے اور وہ دیوانہ ہے۔» وہ اِس لائق نہیں کہ اُس کی باتیں سنی جائیں۔ بے شک یہ نسلِ اِنسانی کی تاریخ پر ایک سیاہ دھبا ہے،‏ لیکن «اَوروں» کا خیال فرق تھا۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ خداوند یسوع کی «باتیں» اور کام ایسے شخص کے نہیں جس میں بدروح ہو۔ صرف نیک شخص ہی ایسی باتیں اور ایسے کام کر سکتا ہے۔

ن۔ یسوع کے کام ثابت کرتے ہیں کہ وہ مسیح ہے  (‏۱۰:‏۲۲-‏۳۹)‏

۱۰:‏۲۲ یہاں بیان میں کچھ وقفہ آ جاتا ہے۔ اب خداوند یسوع فریسیوں سے نہیں بلکہ عام یہودیوں سے مخاطب ہے۔ ہمیں پتا نہیں کہ آیت ۲۱ اور ۲۲ کے درمیان وقت کے لحاظ سے کتنا وقفہ ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ واحد موقع ہے جب بائبل مقدس میں «عید تجدید» کا ذکر آتا ہے۔ عبرانی میں اِس عید کو ہنوکہ (‏Hanukkah)‏ کہا گیا ہے۔ عام خیال ہے کہ یہ عید یہوداہ مکابی نے شروع کی تھی۔ انطاکس اپفینس نے ہیکل کو ناپاک کر دیا تھا۔ ۱۶۵ ق م میں ہیکل کو دوبارہ پاک کر کے اِس کی تقدیس کی گئی۔ اِس موقعے پر عیدِ تجدید کا آغاز ہوا تھا۔ یہ خداوند کی عیدوں میں شامل نہ تھی بلکہ یہودیوں کی مقرر کردہ سالانہ عید ہوتی تھی۔ سالانہ موسموں کے اعتبار ہی سے «جاڑے کا موسم» نہ تھا بلکہ روحانی طور سے بھی قوم «جاڑے کے موسم» سے دوچار تھی۔

۱۰:‏۲۳،‏۲۴ خداوند کی علانیہ خدمت کا عرصہ ختم ہونے کو تھا۔ وہ صلیب پر اپنی موت سے ثابت کرنے والا تھا کہ مَیں کامل طور پر خدا باپ کے لئے وقف اور مخصوص ہوں۔ «سلیمانی برآمدہ» ہیرودیس کی ہیکل سے ملحق چھت دار جگہ تھی۔ خداوند وہاں «ٹہل رہا تھا»۔ وہاں بہت جگہ تھی جہاں یہودی اُس کے گرد جمع ہو سکتے تھے۔ «یہودیوں نے اُس کے گرد جمع ہو کر اُس سے کہا تُو کب تک ہمارے دل کو ڈانواں ڈول رکھے گا؟ اگر تُو مسیح ہے تو ہم سے صاف کہہ دے۔» وہ زیادہ دیر تک شک یا تجسس میں نہیں رہنا چاہتے تھے۔

۱۰:‏۲۵،‏۲۶ یسوع نے پھر اُن کو اپنی باتیں اور اپنے «کام» یاد دلائے۔ اُس نے اُن کو کئی دفعہ بتایا تھا کہ مَیں مسیحِ موعود ہوں اور کہ جو معجزے وہ کرتا تھا ثابت کرتے تھے کہ اُس کا دعویٰ سچا ہے۔ اُس نے یہودیوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ مَیں معجزے اپنے باپ کے اِختیار سے اور اُسی کے جلال کے لئے کرتا ہوں۔ ایسا کرنے سے وہ ثابت کرتا تھا کہ مَیں واقعی وہ ہستی ہوں جس کو باپ نے دُنیا میں بھیجا ہے۔

یہودی اُس کو مسیحِ موعود ماننے کو تیار نہ تھے۔ اِس طرح وہ ثابت کرتے تھے کہ وہ اُس کی «بھیڑوں میں سے نہیں» ہیں۔ اگر اِنہیں الگ کیا گیا ہوتا کہ وہی اُس کے (‏بھیڑیں)‏ ہوں تو وہ اُس پر ایمان لانے کی آمادگی ظاہر کرتے۔

۱۰:‏۲۷ اگلی چند آیات صاف لفظوں میں سکھاتی ہیں کہ مسیح کی حقیقی بھیڑوں میں سے کوئی ہلاک یا تباہ نہیں ہو گی۔ ایمان دار کو ابدی تحفظ حاصل ہے۔ یہ کیسی جلالی اور شاندار حقیقت ہے۔ مسیح کی حقیقی «بھیڑیں» اُس کی «آواز سنتی ہیں»۔ جب اِنجیل کی منادی ہوتی ہے تو وہ سنتی ہیں اور ایمان لانے سے اِس کا جواب دیتی ہیں۔ اِس کے بعد وہ ہر روز اُس کی آواز سنتی اور اُس کے کلام کی فرماں برداری کرتی تھیں۔ خداوند یسوع اپنی بھیڑوں کو جانتا ہے۔ ایک بھی اُس کی توجہ سے محروم نہیں رہتی۔ ایک بھی گم نہیں ہو سکتی کہ اُس نے بے پروائی کی تھی یا اُس کی نگہداشت نہیں کی تھی۔ مسیح کی بھیڑیں اُس کے «پیچھے پیچھے چلتی ہیں»۔ اوّل تو وہ اُس پر نجات بخش ایمان کو بروئے کار لاتی ہیں۔ پھر فرماں برداری سے اُس کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

۱۰:‏۲۸ مسیح اپنی بھیڑوں کو «ہمیشہ کی زندگی» بخشتا ہے۔ مراد ہے وہ زندگی جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ یہ زندگی اُن کے کردار یا چال چلن سے «مشروط» نہیں۔ یہ «ہمیشہ کی زندگی» یعنی دائمی زندگی ہے۔ مگر «ہمیشہ کی زندگی» کی ایک خاصیت بھی ہے۔ یہ خداوند یسوع کی اپنی زندگی ہے۔ یہ وہ زندگی ہے جو اِس دُنیا میں خدا کی چیزوں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اور یہ زندگی ہمارے آسمانی وطن کے لئے بھی بالکل موزوں ہو گی۔ اگلے الفاظ پر احتیاط سے غور کریں «وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی»۔ اگر مسیح کی ایک بھیڑ بھی ہلاک ہو جاتی ہے تو وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے سے قاصر رہنے کا قصوروار ٹھہرتا ہے۔ لیکن یہ ممکن نہیں۔ یسوع مسیح کبھی ناکام نہیں ہو سکتا۔ اِس آیت میں اُس نے وعدہ کیا ہے کہ میری کوئی بھیڑ ابدیت کو جہنم میں نہیں گزارے گی۔

کیا اِس کا مطلب ہے کہ جو شخص نجات پا لیتا ہے وہ جیسے چاہے زندگی بسر کر سکتا ہے؟ کیا ممکن ہے کہ وہ نجات پانے کے بعد اِس دُنیا کی گناہ آلودہ خوشیوں کے مزے لُوٹتا رہے؟ نہیں۔ اُسے اِن باتوں اور ایسے کاموں کی خواہش ہی نہیں ہوتی۔ اب وہ اپنے چرواہے کے پیچھے پیچھے جانا چاہتا ہے۔ ہم اِس لئے مسیحی زندگی بسر نہیں کرتے کہ مسیحی بن جائیں یا ہماری نجات بنی رہے۔ ہم مسیحی زندگی اِس لئے بسر کرتے ہیں کہ ہم مسیحی ہیں۔ ہم پاک زندگی بسر کرنے کی آرزو کرتے ہیں۔ ڈر یا نجات کھو دینے کے خوف سے نہیں،‏ بلکہ اُس کے لئے شکرگزاری کے باعث جس نے ہماری خاطر اپنی جان دی۔ ابدی تحفظ کا عقیدہ ہمیں بے پروائی سے زندگی بسر کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ پاک زندگی بسر کرنے کی تحریک دیتا ہے۔

کوئی بھی ایمان دار کو مسیح کے «ہاتھ سے چھین» نہیں سکتا۔ اُس کا ہاتھ قادرِ مطلق ہے۔ اُس نے دُنیا کو خلق کیا،‏ اور اب دُنیا کو سنبھالتا اور قائم بھی رکھتا ہے۔ کوئی طاقت ایسی نہیں جو اُس کی گرفت سے کسی بھیڑ کو «چھین» سکے۔

۱۰:‏۲۹ ایمان دار نہ صرف مسیح کے ہاتھ میں ہوتا ہے بلکہ وہ «باپ کے ہاتھ» میں بھی ہوتا ہے۔ یہ تحفظ کی دہری ضمانت ہے۔ خدا باپ «سب سے بڑا ہے،‏ اور کوئی…» ایمان دار کو «باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا۔»

۱۰:‏۳۰ اب خداوند یسوع نے خدا کے برابر ہونے کا ایک اَور دعویٰ کیا کہ «مَیں اور باپ ایک ہیں»۔ یہاں غالباً تصور یہ ہے کہ مسیح «اور باپ» قدرت (‏اِختیار)‏ میں «ایک ہیں»۔ ابھی ابھی یسوع اُس قدرت کی بات کر رہا تھا جو مسیح کی بھیڑوں کی حفاظت کرتی ہے۔ اِسی لئے اُس نے وضاحت کی کہ میری قدرت وہی ہے جو خدا باپ کی ہے۔ بے شک یہی بات ذاتِ الٰہی کی دیگر صفات پر بھی صادق آتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح ہر لحاظ سے باپ کے برابر ہے۔

۱۰:‏۳۱ یہودیوں کے ذہنوں میں شک کا شائبہ تک نہ تھا کہ نجات دہندہ کا مطلب کیا تھا۔ اُنہوں نے جان لیا کہ وہ صاف صاف اپنی الوہیت کو پیش کر رہا ہے۔ اِس لئے «اُنہوں نے اُسے سنگسار کرنے کے لئے پھر پتھر اُٹھائے»۔

۱۰:‏۳۲ اِس سے پیشتر کہ وہ پتھر مارتے یسوع نے اُن کو «بہتیرے اچھے کام» یاد دلائے جو وہ اپنے باپ کے حکم سے کرتا تھا۔ پھر اُن سے پوچھا کہ «اِن میں سے کس کام کے سبب سے مجھے سنگسار کرتے ہو؟»

۱۰:‏۳۳ یہودیوں نے اِنکار کیا کہ ہم تیرے معجزوں کے سبب سے تجھے قتل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ اُسے اِس لئے سنگسار کرنا چاہتے تھے کہ اُن کے خیال کے مطابق اُس نے کفر بکا تھا کہ خدا باپ کے برابر ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ وہ اُسے اِنسان سے بڑھ کر ماننے سے اِنکاری تھے۔ لیکن اُن کو صاف معلوم ہو گیا تھا کہ وہ «اپنے آپ کو خدا بناتا ہے»۔ اُس کے دعوؤں کا یہی مطلب ہے اور وہ ایسی بات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

۱۰:‏۳۴ یہاں خداوند یسوع نے یہودیوں کے سامنے زبور ۸۲:‏۶ سے اِقتباس کیا۔ وہ اِس حصے کو «تمہاری شریعت» کہتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ پرانے عہدنامے سے لیا گیا ہے جس کو خدا کا الہامی کلام مانتے تھے۔ پوری آیت یوں ہے کہ «مَیں نے کہا کہ تم اِلٰہ ہو۔ اور تم سب حق تعالیٰ کے فرزندہو»۔ یہ زبور اِسرائیل کے قاضیوں کو مخاطب کرتا ہے۔ ان کو «اِلٰہ» کہا گیا۔ اِس لئے نہیں کہ وہ اِلٰہی ذات تھے بلکہ اِس لئے کہ جب وہ لوگوں کا اِنصاف کرتے تھے تو خدا کی نمائندگی کرتے تھے۔ «اِلٰہ» کے لئے عبرانی لفظ (‏الوہیم)‏ کا لغوی مطلب ہے «سورما،‏ زور آور ہستیاں» اور اِس کا اِطلاق اہم افراد مثلاً قاضیوں پر بھی ہو سکتا ہے (‏زبور کے بقیہ حصے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ الٰہی ہستیاں نہیں بلکہ اِنسان تھے۔ کیونکہ وہ بے اِنصافی سے عدالت کرتے،‏ دوسروں کی طرف داری کرتے اور کئی طریقوں سے عدل کو بگاڑتے تھے)‏۔

۱۰:‏۳۵ خداوند اِس آیت میں واضح کرتا ہے کہ خدا نے اُن اِنسانوں کے لئے «خدا (‏اِلٰہ)‏» کا لفظ استعمال کیا «جن کے پاس خدا کا کلام آیا» تھا۔ خدا نے اِسرائیلی قوم سے اُن کے وسیلے سے کلام کیا۔ اُنہوں نے دِکھایا کہ خدا اپنے اِختیار اور عدالت کی جگہ پر ہے۔ وہ ایسے بااِختیار اِنسان تھے جن کو خدا نے مقدس ٹھہرایا اور مخصوص کیا تھا۔ «کتابِ مقدس کا باطل ہونا ممکن نہیں۔» اِن الفاظ سے خداوند نے اپنے اِس ایمان کا اِظہار کیا کہ پرانا عہدنامہ الہامی کلام ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ نوشتے بے خطا ہیں اور اِن کا پورا ہونا ضرور ہے۔ اِن کا اِنکار ممکن نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نوشتوں کے خیال یا تصور ہی نہیں بلکہ الفاظ بھی الہامی ہیں۔ اُس کی ساری بحث کی بنیاد لفظ «خدا» (‏الٰہ)‏ پر ہے۔

۱۰:‏۳۶ خداوند کی دلیل کم تر سے اعلیٰ تر کی طرف تھی۔ اگر پرانے عہدنامے میں بے اِنصاف قاضیوں کو «خدا» (‏الٰہ)‏ کہا گیا ہے تو مجھے کتنا زیادہ حق ہے کہ اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہوں۔ خدا کا کلام اُن کے پاس آیا تھا جب کہ وہ خود خدا کا کلام تھا اور ہے۔ اُن کو تو «خدا» کہا گیا،‏ اور خداوند تو خود خدا ہے۔ اُن کے بارے میں تو کبھی نہیں کہا جا سکتا تھا کہ «باپ» نے اُن کو «مقدس کر کے دُنیا میں بھیجا تھا۔» وہ دُنیا میں آدم کے سارے گناہ آلودہ فرزندوں کی طرح پیدا ہوئے تھے۔ لیکن یسوع کو خدا «باپ» نے ازل سے مقدس کر کے دُنیا کا نجات دہندہ کیا تھا۔ اُسے آسمان سے «دُنیا میں بھیجا» تھا اور وہ ازل سے باپ کے ساتھ آسمان میں سکونت کرتا تھا۔ اِس لئے یسوع کو ہر حق حاصل تھا کہ خود کو خدا کے برابر ٹھہرائے۔ اور جب اُس نے «خدا کا بیٹا» یعنی باپ کے برابر ہونے کا دعویٰ کیا تو کوئی کفر نہیں تھا۔ یہودی خود لفظ «خدا» استعمال کرتے اور اُن بگڑے ہوئے اور گناہ آلود اِنسانوں کے لئے استعمال کرتے تھے جو خدا کی طرف سے بولتے یا اُس کی طرف سے قاضی تھے تو یسوع تو اِس لقب کو اپنے لئے استعمال کرنے کا کہیں زیادہ حق رکھتا تھا کیونکہ وہ واقعی خدا کا بیٹا ہے۔ سموئیل گرین (‏Green)‏ اِس نکتے کو نہایت عمدگی سے بیان کرتا ہے:‏

«یہودی یسوع پر الزام لگاتے تھے کہ یہ اپنے آپ کو خدا بناتا ہے۔ یسوع اِنکار نہیں کرتا کہ مَیں اپنی باتوں سے خود کو خدا بناتا ہوں۔ لیکن اِس بات سے ضرور اِنکار کرتا ہے کہ مَیں نے کفر بکا ہے۔ اور یہ ایسی بنیاد ہے جو اُسے ذاتِ اِلٰہی کی تعظیم کا دعویٰ کرنے کا حق دار بناتی ہے یعنی یہ دعویٰ کہ مَیں مسیحِ موعود،‏ خدا کا بیٹا،‏ عمانوایل ہوں۔ یہودی سمجھتے تھے کہ وہ اپنے بلند بانگ دعوے سے دست بردار نہیں ہو رہا اور یہ بات یہودیوں کی اُس کے ساتھ مسلسل عداوت اور دشمنی سے ثابت ہوتی ہے۔ دیکھئے آیت ۳۹۔»

۱۰:‏۳۷ نجات دہندہ ایک دفعہ پھر اپنے معجزوں کی بنیاد پر ثابت کرتا ہے کہ مجھے خدا نے مقرر کیا اور بھیجا ہے۔ البتہ اِن الفاظ پر غور کریں کہ «اپنے باپ کے کام»۔ اپنی ذات میں معجزات الوہیت کا ثبوت نہیں۔ ہم بائبل مقدس میں پڑھتے ہیں کہ بعض اوقات بد روحوں کو بھی معجزے کرنے کی قدرت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن جو معجزے خداوند نے کئے وہ «اُس کے باپ کے کام» تھے۔ وہ دو طرح سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ مسیحِ موعود تھا۔ اوّل،‏ یہ وہ معجزے تھے جن کی پرانے عہدنامے نے نبوت کی تھی کہ مسیحِ موعود یہ معجزے کرے گا۔ دوسرے یہ رحم اور ترس کے معجزے تھے۔ یہ ایسے کام تھے جن سے بنی نوعِ اِنسان کا فائدہ ہوتا تھا۔ کوئی بُرا شخص ایسے معجزے نہیں کرتا۔

۱۰:‏۳۸ اِس آیت کو رائیل (‏Ryle)‏نے بہت عمدگی سے سلیس انداز میں پیش کیا ہے:‏

«اگر مَیں اپنے باپ کے کام کرتا ہوں،‏ تو میری باتوں سے قائل نہیں ہوتے تو نہ ہو،‏ مگر میرے اِن کاموں سے تو قائل ہو جاؤ۔ اگرچہ تم میری باتوں کی شہادت کی مزاحمت کرتے ہو،‏ میرے کاموں کی شہادت کے سامنے تو سرِتسلیم خم کرو۔ اِس طرح یہ جاننا اور ماننا سیکھو کہ مَیں اور میرا باپ واقعی ایک ہیں۔ وہ مجھ میں ہے اور مَیں اُس میں ہوں۔ چنانچہ جب مَیں اُس کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں تو کوئی کفر نہیں بکتا۔»

۱۰:‏۳۹ یہودیوں نے پھر جان لیا کہ اپنے گذشتہ دعووں کا اِنکار کرنے کے بجائے خداوند یسوع نے اُن کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ اِس لئے اُنہوں نے اُسے گرفتار کرنے کی ایک اَور کوشش کی۔ مگر وہ ایک دفعہ پھر بچ کر نکل گیا۔ اب وہ وقت دُور نہیں تھا جب وہ اُنہیں اُسے پکڑنے کی اِجازت دے گا۔ لیکن فی الحال وہ گھڑی نہیں آئی تھی۔

مقدس کتاب

۱- اِن باتوں کے بعد یہُودِیوں کی ایک عِید ہُوئی اور یِسُوعؔ یروشلِیم کو گیا۔
۲- یروشلِیم میں بھیڑ دروازہ کے پاس ایک حَوض ہے جو عِبرانی میں بیت حسؔدا کہلاتا ہے اور اُس کے پانچ برآمدے ہیں۔
۳- اِن میں بُہت سے بِیمار اور اندھے اور لنگڑے اور پژمُردہ لوگ [جو پانی کے ہِلنے کے مُنتظِر ہو کر] پڑے تھے۔
۴ [کیونکہ وقت پر خُداوند کا فرِشتہ حَوض پر اُتر کر پانی ہِلایا کرتا تھا۔ پانی ہِلتے ہی جو کوئی پہلے اُترتا سو شِفا پاتا اُس کی جو کُچھ بِیماری کیوں نہ ہو۔]
۵- وہاں ایک شخص تھا جو اڑتِیس برس سے بِیماری میں مُبتلا تھا۔
۶- اُس کو یِسُوعؔ نے پڑا دیکھا اور یہ جان کر کہ وہ بڑی مُدّت سے اِس حالت میں ہے اُس سے کہا کیا تُو تندرُست ہونا چاہتا ہے؟
۷- اُس بِیمار نے اُسے جواب دِیا۔ اَے خُداوند میرے پاس کوئی آدمی نہیں کہ جب پانی ہِلایا جائے تو مُجھے حَوض میں اُتار دے بلکہ میرے پُہنچتے پُہنچتے دُوسرا مُجھ سے پہلے اُتر پڑتا ہے۔
۸- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا اُٹھ اور اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پِھر۔
۹- وہ شخص فوراً تندرُست ہو گیا اور اپنی چارپائی اُٹھا کر چلنے پِھرنے لگا۔ وہ دِن سَبت کا تھا۔
۱۰- پس یہُودی اُس سے جِس نے شِفا پائی تھی کہنے لگے کہ آج سَبت کا دِن ہے۔ تُجھے چارپائی اُٹھانا رَوا نہیں۔
۱۱- اُس نے اُنہیں جواب دِیا جِس نے مُجھے تندرُست کِیا اُسی نے مُجھے فرمایا کہ اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پِھر۔
۱۲- اُنہوں نے اُس سے پُوچھا کہ وہ کَون شخص ہے جِس نے تُجھ سے کہا چارپائی اُٹھا کر چل پِھر؟
۱۳- لیکن جو شِفا پا گیا تھا وہ نہ جانتا تھا کہ کَون ہے کیونکہ بِھیڑ کے سبب سے یِسُوعؔ وہاں سے ٹل گیا تھا۔
۱۴- اِن باتوں کے بعد وہ یِسُوعؔ کو ہَیکل میں مِلا۔ اُس نے اُس سے کہا دیکھ تُو تندرُست ہو گیا ہے۔ پِھر گُناہ نہ کرنا۔ اَیسا نہ ہو کہ تُجھ پر اِس سے بھی زِیادہ آفت آئے۔
۱۵- اُس آدمی نے جا کر یہُودِیوں کو خبر دی کہ جِس نے مُجھے تندرُست کِیا وہ یِسُوعؔ ہے۔
۱۶- اِس لِئے یہُودی یِسُوعؔ کو ستانے لگے کیونکہ وہ اَیسے کام سَبت کے دِن کرتا تھا۔
۱۷- لیکن یِسُوعؔ نے اُن سے کہا کہ میرا باپ اب تک کام کرتا ہے اور مَیں بھی کام کرتا ہُوں۔
۱۸- اِس سبب سے یہُودی اَور بھی زِیادہ اُسے قتل کرنے کی کوشِش کرنے لگے کہ وہ نہ فقط سَبت کا حُکم توڑتا بلکہ خُدا کو خاص اپنا باپ کہہ کر اپنے آپ کو خُدا کے برابر بناتا تھا۔
۱۹- پس یِسُوعؔ نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بیٹا آپ سے کُچھ نہیں کر سکتا سِوا اُس کے جو باپ کو کرتے دیکھتا ہے کیونکہ جِن کاموں کو وہ کرتا ہے اُنہیں بیٹا بھی اُسی طرح کرتا ہے۔
۲۰- اِس لِئے کہ باپ بیٹے کو عزِیز رکھتا ہے اور جِتنے کام خُود کرتا ہے اُسے دِکھاتا ہے بلکہ اِن سے بھی بڑے کام اُسے دِکھائے گا تاکہ تُم تعجُّب کرو۔
۲۱- کیونکہ جِس طرح باپ مُردوں کو اُٹھاتا اور زِندہ کرتا ہے اُسی طرح بیٹا بھی جِنہیں چاہتا ہے زِندہ کرتا ہے۔
۲۲- کیونکہ باپ کِسی کی عدالت بھی نہیں کرتا بلکہ اُس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپُرد کِیا ہے۔
۲۳- تاکہ سب لوگ بیٹے کی عِزّت کریں جِس طرح باپ کی عِزّت کرتے ہیں۔ جو بیٹے کی عِزّت نہیں کرتا وہ باپ کی جِس نے اُسے بھیجا عِزّت نہیں کرتا۔
۲۴- مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو میرا کلام سُنتا اور میرے بھیجنے والے کا یقِین کرتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا بلکہ وہ مَوت سے نِکل کر زِندگی میں داخِل ہو گیا ہے۔
۲۵- مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے کہ مُردے خُدا کے بیٹے کی آواز سُنیں گے اور جو سُنیں گے وہ جِئیں گے۔
۲۶- کیونکہ جِس طرح باپ اپنے آپ میں زِندگی رکھتا ہے اُسی طرح اُس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زِندگی رکھّے۔
۲۷- بلکہ اُسے عدالت کرنے کا بھی اِختیار بخشا۔ اِس لِئے کہ وہ آدمؔ زاد ہے۔
۲۸- اِس سے تعجُّب نہ کرو کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ جِتنے قَبروں میں ہیں اُس کی آواز سُن کر نِکلیں گے۔
۲۹- جِنہوں نے نیکی کی ہے زِندگی کی قیامت کے واسطے اور جِنہوں نے بدی کی ہے سزا کی قیامت کے واسطے۔
۳۰- مَیں اپنے آپ سے کُچھ نہیں کر سکتا۔ جَیسا سُنتا ہُوں عدالت کرتا ہُوں اور میری عدالت راست ہے کیونکہ مَیں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہُوں۔
۳۱- اگر مَیں خُود اپنی گواہی دُوں تو میری گواہی سچّی نہیں۔
۳۲- ایک اَور ہے جو میری گواہی دیتا ہے اور مَیں جانتا ہُوں کہ میری گواہی جو وہ دیتا ہے سچّی ہے۔
۳۳- تُم نے یُوحنّا کے پاس پَیام بھیجا اور اُس نے سچّائی کی گواہی دی ہے۔
۳۴- لیکن مَیں اپنی نِسبت اِنسان کی گواہی منظُور نہیں کرتا تَو بھی مَیں یہ باتیں اِس لِئے کہتا ہُوں کہ تُم نجات پاؤ۔
۳۵- وہ جلتا اور چمکتا ہُؤا چراغ تھا اور تُم کو کُچھ عرصہ تک اُس کی رَوشنی میں خُوش رہنا منظُور ہُؤا۔
۳۶- لیکن میرے پاس جو گواہی ہے وہ یُوحنّا کی گواہی سے بڑی ہے کیونکہ جو کام باپ نے مُجھے پُورے کرنے کو دِئے یعنی یِہی کام جو مَیں کرتا ہُوں وہ میرے گواہ ہیں کہ باپ نے مُجھے بھیجا ہے۔
۳۷- اور باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے اُسی نے میری گواہی دی ہے۔ تُم نے نہ کبھی اُس کی آواز سُنی ہے اور نہ اُس کی صُورت دیکھی۔
۳۸- اور اُس کے کلام کو اپنے دِلوں میں قائِم نہیں رکھتے کیونکہ جِسے اُس نے بھیجا ہے اُس کا یقِین نہیں کرتے۔
۳۹- تُم کِتابِ مُقدّس میں ڈُھونڈتے ہو کیونکہ سمجھتے ہو کہ اُس میں ہمیشہ کی زِندگی تُمہیں مِلتی ہے اور یہ وہ ہے جو میری گواہی دیتی ہے۔
۴۰- پِھر بھی تُم زِندگی پانے کے لِئے میرے پاس آنا نہیں چاہتے۔
۴۱- مَیں آدمِیوں سے عِزّت نہیں چاہتا۔
۴۲- لیکن مَیں تُم کو جانتا ہُوں کہ تُم میں خُدا کی محُبّت نہیں۔
۴۳- مَیں اپنے باپ کے نام سے آیا ہُوں اور تُم مُجھے قبُول نہیں کرتے۔ اگر کوئی اَور اپنے ہی نام سے آئے تو اُسے قبُول کر لو گے۔
۴۴- تُم جو ایک دُوسرے سے عِزّت چاہتے ہو اور وہ عِزّت جو خُدایِ واحِد کی طرف سے ہوتی ہے نہیں چاہتے کیونکر اِیمان لا سکتے ہو؟
۴۵- یہ نہ سمجھو کہ مَیں باپ سے تُمہاری شِکایت کرُوں گا۔ تُمہاری شِکایت کرنے والا تو ہے یعنی مُوسیٰؔ جِس پر تُم نے اُمّید لگا رکھّی ہے۔
۴۶- کیونکہ اگر تُم مُوسیٰؔ کا یقِین کرتے تو میرا بھی یقِین کرتے۔ اِس لِئے کہ اُس نے میرے حق میں لِکھّا ہے۔
۴۷- لیکن جب تُم اُس کے نوِشتوں کا یقِین نہیں کرتے تو میری باتوں کا کیوں کر یقِین کرو گے؟