۴۔ خدا کے بیٹے کی خدمت کا تیسرا سال:گلیل (باب ۶)
الف۔ چوتھا نشان:پانچ ہزار کو کھلانا (۶:۱-۱۵)
۶:۱ «اِن باتوں کے بعد۔» اِن الفاظ کا مطلب ہے کہ باب ۵ میں بیان شدہ واقعات کے بعد کچھ وقت گزر چکا تھا، مگر کہہ نہیں سکتے کہ کتنا وقت — اِتنا ضرور جانتے ہیں کہ یسوع یروشلیم کے آس پاس کے علاقے سے چل کر گلیل کی جھیل کے پاس کے علاقے میں آ گیا تھا۔ «جھیل کے پار گیا» سے مراد غالباً یہ ہے کہ وہ شمال مغربی ساحل سے شمال مشرقی ساحل پر گیا۔ «گلیل کی جھیل» کو «تبریاس کی جھیل» بھی کہا جاتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ تبریاس کا شہر اِس کے مغربی کنارے پر واقع تھا۔ یہ شہر گلیل کے صوبے کا صدر مقام تھا۔ اِس کا نام رومی شہنشاہ تبریاس کے نام پر رکھا گیا تھا۔
۶:۲،۳ «اور بڑی بھیڑ اُس کے پیچھے ہو لی۔» ضروری نہیں کہ یہ لوگ اُس کو خدا کا بیٹا مانتے اور اُس پر ایمان رکھتے تھے۔ بلکہ وجہ یہ تھی کہ «جو معجزے وہ بیماروں پر کرتا تھا اُن کو وہ دیکھتے تھے۔» خدا کو وہ ایمان کبھی پسند نہیں آتا جس کی بنیاد معجزے دیکھنے پر ہو بلکہ وہ ایمان جس کی بنیاد اُس کے کلام پر ہو۔ خدا کے کلام کی تصدیق کے لئے معجزوں کا تقاضا کرنا مناسب نہیں۔ خدا جو کچھ کہتا ہے سچ ہوتا ہے، جھوٹ ہو ہی نہیں سکتا۔ اِنسان کے لئے اِتنا ہی کافی ہونا چاہئے۔ «یسوع پہاڑ پر چڑھ گیا۔» یہ لفظی ترجمہ ہے جب کہ مراد صرف یہ ہو گی کہ وہ جھیل کے اِرد گرد کے پہاڑی علاقے میں گیا۔
۶:۴ یہ معلوم نہیں کہ یوحنا کیوں کہتا ہے کہ «عید فسح نزدیک تھی۔» بعض علما کا خیال ہے کہ اِس باب میں جب یسوع نے «زندگی کی روٹی» کے بارے میں شاندار پیغام دیا تو وہ غالباً فسح کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ عید فسح کے لئے یروشلیم نہیں گیا تھا۔ یوحنا کہتا ہے کہ «یہودیوں کی عید فسح۔» دراصل پرانے عہدنامے میں خدا نے یہ عید یہودیوں کے لئے مقرر کی تھی۔ اِس مفہوم میں یہ «یہودیوں کی عید» تھی۔ البتہ اِن الفاظ سے یہ مطلب بھی اخذ ہو سکتا ہے کہ اب خدا اِس عید کو اپنی عید نہیں سمجھتا تھا۔ کیونکہ اب یہودی قوم اِس عید کو دل سے نہیں بلکہ فقط رسمی طور سے مانتی تھی۔ اِس کا حقیقی مطلب اور مقصد بھول چکے تھے۔ اب یہ یہوواہ کی عید نہیں رہی تھی۔
۶:۵ اِس «بڑی بھیڑ» کو دیکھ کر یسوع خفا نہیں ہوا۔ یہ نہیں سوچا کہ یہ بھیڑ میرے آرام میں مخل ہوئی ہے اور شاگردوں کے ساتھ جو وقت گزارنا تھا اُسے خراب کیا ہے۔ اُس کا پہلا خیال یہ تھا کہ اِن لوگوں کو کھانا مہیا کرنا چاہئے۔ چنانچہ اُس نے «فلپس سے کہا کہ ہم اِن کے کھانے کے لئے کہاں سے روٹیاں مول لیں۔» یسوع سوال پوچھتا تھا تو مقصد اپنے علم میں اضافہ کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ دوسروں کو کچھ سکھانا ہوتا تھا۔ یسوع تو جواب جانتا تھا مگر فلپس نہیں جانتا تھا۔
۶:۶ خداوند فلپس کو ایک انمول سبق سکھانے اور اُس کے ایمان کو «آزمانے» کو تھا۔ «یسوع آپ جانتا تھا» کہ وہ لوگوں کی اِس بڑی بھیڑ کو کھلانے کے لئے ایک معجزہ کرنے کو تھا۔ لیکن کیا فلپس کو اِحساس تھا کہ یسوع ایسا کر سکتا تھا؟ کیا فلپس کا ایمان بڑا تھا یا چھوٹا؟
۶:۷ معلوم ہوتا ہے کہ فلپس کا ایمان اِتنا بڑا نہیں تھا۔ اُس نے جلدی سے حساب لگایا اور بتایا کہ «دو سو دِینار کی روٹیاں اِن کے لئے کافی نہ ہوں گی کہ ہر ایک کو تھوڑی سی مل جائے۔» ہمیں معلوم نہیں کہ اُن دِنوں «دو سو دِینار» میں کتنی روٹیاں خریدی جا سکتی تھیں۔ لیکن یہ رقم خاصی بڑی ضرور تھی۔ ایک دِینار ایک مزدور کی ایک دن کی اُجرت ہوتا تھا۔
۶:۸،۹ اِندریاس «شمعون پطرس کا بھائی» تھا۔ وہ گلیل کی جھیل کے قریب بیت صیدا کے رہنے والے تھے۔ اِندریاس نے بھی یہی فیصلہ دیا کہ اِتنے بڑے ہجوم کو کھلانا مشکل ہے۔ اُس نے دیکھا کہ «یہاں ایک لڑکا ہے جس کے پاس جَو کی پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں ہیں۔» مگر اُسے احساس تھا کہ اِتنی سی خوراک سے اِتنے بہت سے لوگوں کو کھلانے کی کوشش کرنا بے سود ہے۔ اُس لڑکے کے پاس کچھ زیادہ نہیں تھا۔ مگر وہ اُسے خداوند یسوع کے سپرد کرنے کو تیار تھا۔ اُس کی مہربانی کے باعث یہ کہانی چاروں اِنجیلوں میں درج ہوئی۔ اُس (لڑکے) نے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دیا تھا، لیکن «اگر خدا اِس میں ہو تو تھوڑا بھی بہت ہوتا ہے۔» یوں یہ لڑکا پوری دُنیا میں مشہور ہو گیا۔
۶:۱۰ لوگوں کو بٹھا کر خداوند یسوع نے اُن کے آرام کا بندوست کیا۔ غور کریں کہ اُس نے ایسی جگہ چنی جہاں «بہت گھاس تھی»۔ اُس علاقے میں ایسی جگہ ملنا ایک غیر معمولی بات تھی۔ مگر خداوند نے فکر کی کہ یہ لوگ صاف ستھری اور خوش گوار جگہ پر کھانا کھائیں۔
لکھا ہے کہ «مرد تخمیناً پانچ ہزار تھے۔» چنانچہ اِس کا مطلب ہے کہ عورتیں اور بچے اِن کے علاوہ تھے۔ «پانچ ہزار» کی تعداد کا ذکر کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کتنا بڑا معجزہ رُونما ہونے کو تھا۔
۶:۱۱ «یسوع نے وہ روٹیاں لیں اور شکر» کیا۔ اگر یسوع کھانا کھانے یا کھلانے سے پہلے شکر ادا کِیا کرتا تھا تو ہمارے لئے کتنا فرض ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے خدا کا شکر ادا کیا کریں۔ اِس کے بعد یسوع نے وہ روٹیاں شاگردوں کو دیں۔ اِس میں بھی ہمارے لئے ایک اہم سبق ہے۔ یسوع نے سارا کام خود نہیں کیا۔ اُس نے دوسروں کی مدد حاصل کی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ «جو آپ کر سکتے ہیں آپ کریں۔ جو مَیں کر سکتا ہوں مَیں کروں۔ اور جو ہم دونوں نہیں کر سکتے وہ خداوند کرے گا۔»
جب تک خداوند نے وہ روٹیاں شاگردوں کو دیں، اُس وقت تک وہ عجیب طور سے بڑھ چکی تھیں۔ یہ بات درج نہیں کہ ایسا خاص کس لمحے ہوا۔ مگر ہم اِتنا جانتے ہیں کہ خداوند کے ہاتھوں میں وہ پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں بڑھ کر اِتنی زیادہ ہو گئیں کہ اِتنے بڑے ہجوم کو سیر کرنے کے لئے کافی تھیں۔ شاگرد وہ خوراک اُنہیں بانٹتے گئے «جو بیٹھے تھے»۔ کہیں کوئی کمی محسوس نہ ہوئی کیونکہ صاف صاف لکھا ہے کہ وہ «جس قدر چاہتے تھے» اُتنا ہر ایک کو دیا گیا۔
گرفتھ تھامس (Griffith Thomas) ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اِس واقعے میں ایک خوبصورت تصویر نظر آتی ہے:
«(الف) فنا ہوتی ہوئی دُنیا کی (ب) بے بس شاگردوں کی (ج) کامل نجات دہندہ کی۔ اِس معجزے میں تخلیق کا حقیقی عمل موجود ہے۔ کوئی ہستی جو محض اِنسان ہو، پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کو اِس طرح نہیں پھیلا سکتی کہ اِتنے لوگ سیر ہو جائیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’جب یسوع نے روٹی کو برکت دی تو بہار کا موسم تھا، جب اُس نے توڑی تو فصل کاٹنے کا موسم تھا‘ اور یہ مقولہ بھی سچ ہے کہ ’جن روٹیوں پر برکت نہیں وہ بڑھ نہیں سکتیں۔‘»
۶:۱۲ یہ تفصیل نہایت خوبصورت ہے۔ اگر یسوع صرف اِنسان ہوتا تو «بچے ہوئے ٹکڑوں» کا خیال تک نہ کرتا۔ جو شخص پانچ ہزار کو کھلا سکتا ہے اُسے کیا پڑی ہے کہ چند بچے ہوئے ٹکڑوں کی فکر کرتا پھرے۔ مگر یسوع خدا ہے اور وہ اپنی نوازشات کو ضائع نہیں ہونے دیتا! وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ جو انمول چیزیں اُس نے ہمیں بخشی ہیں، ہم اُنہیں فضول خرچ کریں۔ چنانچہ وہ بڑی فکر مندی سے ہدایت کرتا ہے کہ «بچے ہوئے ٹکڑوں کو جمع کرو تاکہ کچھ ضائع نہ ہو۔»
بہت سے لوگ اپنی تاویلوں سے اِس معجزے کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہجوم نے لڑکے کو پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں یسوع کو دیتے ہوئے دیکھا۔ اِس سے اُنہیں احساس ہوا کہ ہم کس قدر خود غرض ہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی جو کھانا ساتھ لائے ہیں، وہ نکالیں اور دوسروں کو اس میں شامل کریں۔ اور یوں ہر ایک کو کھانے کو مل گیا۔ مگر ایسی تاویل حقیقت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ اگلی آیات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔
۶:۱۳ لوگ کھا کر سیر ہو گئے تو بچے ہوئے ٹکڑوں سے «بارہ ٹوکریاں» بھر گئیں۔ اگر سارے لوگ اپنا اپنا کھانا لے کر آئے ہوتے تو اِتنے زیادہ ٹکڑوں کا بچ جانا قطعی ناممکن ہوتا۔ اِنسان کی تاویلیں مضحکہ خیز ثابت ہوتی ہیں۔ صرف ایک ہی نتیجہ اخذ ہو سکتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک زبردست معجزہ رُونما ہوا تھا۔
۶:۱۴ لوگوں نے خود جان لیا کہ یہ معجزہ ہے۔ اگر اُنہوں نے اپنا کھانا کھایا ہوتا تو ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ درحقیقت وہ اِس قدر قائل تھے کہ یہ معجزہ ہے کہ وہ اِقرار کرنے لگے کہ «جو نبی دُنیا میں آنے والا تھا فی الحقیقت یہی ہے۔» وہ پرانے عہدنامے سے جانتے تھے کہ ایک نبی آنے والا ہے۔ اُنہیں اُمید تھی کہ یہ نبی ہمیں رومی حکومت سے چھڑائے گا۔ وہ زمینی اور دُنیوی شہنشاہ کی راہ دیکھ رہے تھے۔ لیکن اُن کا ایمان سچا ایمان نہیں تھا۔ وہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے۔ نہ وہ اپنے گناہوں کا اِقرار کرنے اور مسیح کو نجات دہندہ ماننے پر آمادہ تھے۔
۶:۱۵ یسوع کے اِس معجزے کے نتیجے میں لوگ اُسے بادشاہ بنانا چاہتے تھے۔ اگر یسوع فقط اِنسان ہوتا تو اُن کی یہ درخواست منظور کر لیتا۔ لوگ تو سرفرازی حاصل کرنے اور نمایاں اور بلند مرتبہ حاصل کرنے پر اُدھار کھائے بیٹھے ہوتے ہیں، لیکن یسوع پر فتح اور خود بینی کی ایسی اپیلوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اُسے احساس ہے کہ مَیں اِس دُنیا میں اِس لئے آیا ہوں کہ گنہگاروں کا عوضی ہو کر صلیب پر مروں۔ اور وہ کسی بات کو اِس مقصد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتا۔ وہ اُس وقت تک تخت پر بیٹھنے کو تیار نہیں، جب تک پہلے قربانی کے مذبح پر نہ چڑھ لے۔ سرفراز ہونے سے پہلے ضرور تھا کہ وہ دُکھ اُٹھائے، خون بہائے اور جان دے۔
ایف۔ بی۔ مائیر (Meyer) لکھتا ہے:
«جیسا کہ مقدس برنارڈ نے کہا ہے، لوگ جب بھی اُسے (یسوع کو) بادشاہ بنانا چاہتے وہ فرار ہو جاتا تھا۔ مگر جب بھی صلیب دینا چاہتے تو خود کو پیش کر دیتا تھا۔ اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آئیے ہم جاتی اِتی کے عالی شان کاموں کو اپنانے سے نہ ہچکچائیں:’خداوند کی حیات کی قسم اور میرے مالک بادشاہ کی جان کی قسم جہاں کہیں میرا مالک بادشاہ خواہ مرتے خواہ جیتے ہو گا وہیں ضرور تیرا خادم بھی ہو گا‘ (۲۔سموئیل ۱۵:۲۱) اور وہ (خداوند) ضرور جواب دے گا۔ جیسے داؤد نے ایک اَور مفرور سے کیا تھا جو اُس کے مقصد کے حصول میں ساتھ دینے کے لئے اُس کے پاس آیا تھا۔ ’سو تُو میرے ساتھ رہ اور مت ڈر۔ جو تیری جان کا خواہاں ہے وہ میری جان کا خواہاں ہے۔ سو تُو میرے ساتھ سلامت رہے گا (۱۔سموئیل ۲۲:۲۳)۔‘»
ب۔ پانچواں نشان:یسوع پانی پر چل کر اپنے شاگردوں کو بچاتا ہے (۶:۱۶-۲۱)
۶:۱۶،۱۷ اب شام ہو گئی تھی۔ یسوع اکیلا پہاڑ پر چلا گیا تھا۔ بلاشبہ بھیڑ اپنے اپنے گھروں کو واپس جا چکی تھی اور شاگرد اکیلے تھے۔ چنانچہ شاگردوں نے فیصلہ کیا کہ «جھیل کے کنارے» جا کر گلیل کی جھیل کے پار جانے کی تیاری کرتے ہیں۔
وہ «کشتی میں بیٹھ کر جھیل کے پار کفرنحوم کو چلے جاتے تھے۔ اُس وقت اندھیرا ہو گیا تھا اور یسوع ابھی تک اُن کے پاس نہ آیا تھا»۔ وہ کہاں تھا؟ وہ پہاڑ پر دعا مانگ رہا تھا۔ یہ آج مسیح کے پیروکاروں کی کیسی تصویر ہے! وہ زندگی کے طوفانی سمندر پر تھپیڑے کھا رہے ہیں۔ «اندھیرا» پھیلا ہوا ہے۔ خداوند یسوع کہیں نظر نہیں آتا۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اُسے اُس کی خبر نہیں۔ وہ آسمان پر اُن لوگوں کی شفاعت کر رہا ہے جن سے محبت رکھتا ہے۔
۶:۱۸ گلیل کی جھیل میں اکثر اچانک اور شدید طوفان آ جاتے ہیں۔ دریائے یردن کی وادی میں ہوائیں بڑی تیز رفتاری سے چلتی ہیں۔ جب وہ گلیل کی جھیل پر پہنچتی ہیں تو بڑی بڑی لہریں اُچھالتی ہیں۔ ایسے وقت میں چھوٹی کشتیاں بالکل غیر محفوظ ہوتی ہیں۔
۶:۱۹ شاگرد «کھیتے کھیتے تین چار میل کے قریب نکل گئے» تھے۔ اِنسانی نقطۂ نگاہ سے وہ زبردست خطرے میں تھے۔ عین وقت پر اُنہوں نے نگاہیں اُٹھائیں تو «یسوع کو جھیل پر چلتے اور کشتی کے نزدیک آتے دیکھا۔» یہ ایک اَور حیرت ناک معجزہ ہے۔ خدا کا بیٹا گلیل کی جھیل کے پانیوں پر چل رہا تھا۔ شاگرد «ڈر گئے» کیونکہ وہ سمجھ نہ سکے کہ یہ عجیب شخص کون ہے۔
غور کریں کہ یہ واقعہ کیسے سادہ اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ نہایت ہی حیرت افزا حقائق ہمارے سامنے بیان کئے جا رہے ہیں۔ مگر یوحنا ہمیں متاثر کرنے کے لئے بڑے بڑے لفظ استعمال نہیں کرتا۔ جو کچھ ہو رہا تھا وہ اُس کی عظمت کو سامنے رکھتے ہوئے واقعات کو بیان کرنے میں بڑی احتیاط کرتا ہے۔
۶:۲۰ اب خداوند یسوع نے تسلی کے شاندار لفظ کہے:«مَیں ہوں۔ ڈرو مت۔» اگر وہ صرف اِنسان ہوتا تو شاگردوں کا ڈرنا بجا ہوتا۔ لیکن وہ کائنات کا قادر خالق اور سنبھالنے والا ہے۔ ایسی ہستی قریب ہو تو ڈر کیسا! جس نے گلیل کی جھیل کو بنایا تھا، وہ اُس کے پانیوں کو پُرسکون کر سکتا اور ڈرے سہمے شاگردوں کو بحفاظت ساحل پر پہنچا سکتا تھا۔ یہ لفظ کہ «مَیں ہوں» دراصل یہوواہ کا نام ہے۔ یوحنا کی اِنجیل میں یہ دوسرا موقع ہے کہ یسوع نے یہ نام اپنے لئے استعمال کیا ہے۔
۶:۲۱ جب شاگردوں نے دیکھا کہ یہ خداوند یسوع ہے تو اُس کا خیر مقدم کیا اور «اُسے کشتی میں چڑھا» لیا۔ «اور فوراً وہ کشتی اُس جگہ جا پہنچی جہاں وہ جاتے تھے۔» یہاں ایک اَور معجزہ بیان ہوا، مگر اِس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ اُن کو کشتی مزید نہیں کھینی پڑی۔ خداوند یسوع اُن کو فوراً خشک جگہ پر لے آیا۔ وہ کیسا عجیب اور شاندار شخص ہے!
ج۔ لوگ نشان طلب کرتے ہیں (۶:۲۲-۳۴)
۶:۲۲ «دوسرے دن» کا مطلب ہے جب پانچ ہزار کو کھلایا تھا، اُس سے اگلا دن۔ لوگوں کی یہ بھیڑ ابھی تک گلیل کی جھیل کے شمال مشرقی علاقے میں موجود تھی۔ اُنہوں نے گذشتہ شام شاگردوں کو چھوٹی کشتی میں سوار ہوتے دیکھا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ «یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی پر سوار نہ ہوا تھا»۔ وہاں صرف ایک کشتی تھی۔ اور یہ وہ تھی جسے شاگرد لے گئے تھے۔
۶:۲۳،۲۴ لیکن اگلے دن «بعض چھوٹی کشتیاں تبریاس سے اُس جگہ کے نزدیک آئیں» جہاں خداوند یسوع نے بھیڑ کو کھلایا تھا۔ لیکن خداوند اُن میں سے کسی میں سوار ہو کر نہیں گیا تھا کیونکہ وہ تو ابھی ابھی آئی تھیں۔ وہ لوگ «خود چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر یسوع کی تلاش میں کفرنحوم کو آئے»۔
لوگ یسوع کو بڑی گہری نظر سے دیکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ پہاڑ پر دعا مانگنے گیا تھا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ شاگردوں کے ساتھ کشتی میں جھیل کے پار نہیں گیا تھا۔ مگر اگلے دن وہ کہیں بھی مل نہیں رہا تھا۔ چنانچہ اُنہوں نے جھیل کے پار کفرنحوم جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ شاگرد وہیں ہوں گے۔ وہ سمجھ نہیں سکتے تھے کہ یسوع وہاں کیسے ہو سکتا ہے۔ مگر اُنہوں نے وہاں جا کر اُسے ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا۔
۶:۲۵،۲۶ لوگ کفرنحوم پہنچے تو یسوع کو وہاں پایا۔ وہ اپنے تجسس کو چھپا نہ سکے۔ لہٰذا اُس سے پوچھا، «تُو یہاں کب آیا؟» یسوع نے اُن کے سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔ اُس نے جان لیا تھا کہ یہ لوگ مجھے اِس لئے نہیں ڈھونڈتے کہ وہ جان گئے ہیں کہ مَیں کون ہوں، بلکہ اِس لئے کہ مَیں نے اُن کو کھانا کھلایا۔ اُنہوں نے ایک دن پہلے اُسے زبردست معجزہ کرتے دیکھا تھا۔ اِس معجزے سے اُنہیں ضرور قائل ہو جانا چاہئے تھا کہ وہ خالق اور مسیحِ موعود ہے۔ لیکن اُن کی دلچسپی صرف کھانے میں تھی۔ وہ معجزے کی «روٹیاں کھا کر سیر ہوئے» تھے۔
۶:۲۷ اب یسوع نے پہلے اُنہیں نصیحت کی کہ «فانی خوراک کے لئے محنت نہ کرو۔» خداوند کا یہ مطلب نہیں تھا کہ روزمرہ کی ضروریات کے لئے کام دھندا نہ کریں، بلکہ مطلب یہ تھا کہ اِسی کو زندگی کا بڑا مقصد نہیں بنا لینا چاہئے۔ زندگی میں سب سے اہم بات یہ نہیں کہ اِنسان اپنی جسمانی بھوک کو مٹاتا رہے۔ اُس کا وجود صرف بدن پر مشتمل نہیں بلکہ اُس میں روح اور جان بھی ہے۔ ہمیں «اُس خوراک کے لئے» محنت کرنی چاہئے «جو ہمیشہ کی زندگی تک ٹھہرتی ہے»۔ اِنسان کو زندگی اِس طرح نہیں گزارنی چاہئے جیسے بدن ہی سب کچھ ہے۔ اُسے اپنی ساری طاقت اور صلاحیتیں بدن کو کھلانے پلانے کے لئے مخصوص نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ چند برسوں بعد بدن کو تو کیڑے کھا جائیں گے بلکہ اِس بات کا خیال کرنا چاہئے کہ میری روح کو ہر روز خدا کے کلام کی خوراک ملتی رہے۔ «آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر اُس بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے» (متی ۴:۴)۔ ہمیں خدا کے کلام سے زیادہ سے زیادہ واقفیت حاصل کرنے کے لئے اَن تھک محنت کرنی چاہئے۔
جب خداوند یسوع نے کہا کہ «باپ یعنی خدا نے اُسی پر مُہر کی ہے» تو مطلب یہ تھا کہ «خدا» نے مجھے (یسوع کو) بھیجا اور مجھے منظور کیا ہے۔ جب ہم کسی چیز پر مُہر کرتے ہیں تو تصدیق کرتے ہیں کہ یہ درست اور سچ ہے۔ خدا نے ابنِ آدم پر مُہر کی یعنی تصدیق کی کہ وہ سچ کہتا ہے۔
۶:۲۸ اب لوگوں نے خداوند سے پوچھا کہ «ہم کیا کریں تاکہ خدا کے کام انجام دیں؟» اِنسان ہمیشہ اِسی کوشش میں رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح آسمان میں داخل ہونے کا شرف «کما» لے۔ اُسے یہ احساس اچھا لگتا ہے کہ کچھ تو ہے جسے کرنے سے مَیں نجات پانے کا حق دار ہو سکتا ہوں۔ اگر کسی طرح اِنسان اپنی روح کی نجات کے لئے کچھ کر سکے تو فخر کرنے کا جواب حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بات اِنسان کو بے حد پسند ہے۔
۶:۲۹ خداوند کو اُن کی ریاکاری صاف نظر آ رہی تھی۔ وہ بہانہ کر رہے تھے کہ ہم خدا کے کام انجام دینا چاہتے ہیں۔ مگر خدا کے بھیجے ہوئے سے کچھ تعلق رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ یسوع نے اُن کو بتا دیا کہ تمہارا پہلا کام یہ ہے کہ جسے خدا نے بھیجا ہے اُس پر ایمان لاؤ۔ آج بھی یہی حال ہے۔ بے شمار لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ نیک کام کر کے آسمان میں جانے کا بندوبست کر لیں۔ لیکن نیک کام کرنے سے پہلے ضرور ہے کہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان لائیں۔ نیک اعمال نجات سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں آتے ہیں۔ گنہگار اِنسان صرف ایک ہی نیکی کر سکتا ہے کہ اپنے گناہوں کا اِقرار کر لے اور مسیح کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول کرے۔
۶:۳۰ یہ آیت اُس قوم کے دل کی شرارت کا ایک اَور ثبوت ہے۔ ایک روز پہلے اُنہوں نے دیکھا تھا کہ خداوند یسوع نے پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں سے پانچ ہزار مردوں کو کھلا کر سیر کیا ہے۔ اگلے ہی دن وہ اُس کے پاس آ کر پوچھنے لگے کہ «تُو کون سا نشان دکھاتا ہے» جس سے ثابت ہو کہ تُو خدا کا بیٹا ہے؟ سارے غیر ایمان داروں کی طرح وہ پہلے دیکھنا اور بعد میں ایمان لانا چاہتے تھے۔ «تاکہ ہم دیکھ کر تیرا یقین کریں۔» لیکن یہ خدا کی ترتیب نہیں ہے۔ خدا گنہگاروں سے کہتا ہے «ایمان لاؤ گے تو دیکھو گے»۔ ضرور ہے کہ ایمان پہلے ہو۔
۶:۳۱ پرانے عہدنامے کا حوالہ دیتے ہوئے یہودیوں نے یسوع کو مَنّ کا معجزہ یاد دلایا۔ ایک لحاظ سے وہ کہہ رہے تھے کہ یسوع نے کبھی ایسا بڑا کام نہیں کیا۔ اُنہوں نے زبور ۷۸:۲۴،۲۵ کا حوالہ دیا جہاں لکھا ہے کہ «اُس نے اُنہیں کھانے کے لئے آسمان سے روٹی دی» (من، خوراک کے چھوٹے چھوٹے سفید اور گول دانے تھے جو بیابان میں خدا اِسرائیل کو معجزانہ مہیا کرتا تھا۔ اِسرائیلیوں کو یہ من ہفتے کے پہلے چھے دِنوں میں ہر روز صبح کے وقت جمع کرنا ہوتا تھا)۔ دراصل اُن کی مراد تھی کہ آسمان سے روٹی موسیٰ نے طلب کی۔ اور خداوند حقیقتاً موسیٰ جتنا بڑا نہیں کیونکہ اُس نے صرف اُسی روٹی کو بڑھا دیا جو موجود تھی۔
۶:۳۲ خداوند کے جواب سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ اوّل، اُن کو مَنّ «موسیٰ» نے نہیں بلکہ خدا نے دیا تھا۔ علاوہ ازیں مَنّ «حقیقی روٹی» نہ تھی جو «آسمان سے اُتری»۔ مَن تو لغوی معنوں میں خوراک تھی جو طبعی بدن کے لئے بنائی گئی تھی، لیکن دُنیاوی زندگی سے آگے اُس کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ یہاں خداوند یسوع اُس اصلی، مثالی اور «حقیقی روٹی» کی بات کر رہا ہے جو خدا آسمان سے دیتا ہے۔ یہ روٹی بدن کے لئے نہیں، روح کے لئے ہے۔ «میرا باپ» کے الفاظ سے مسیح نے اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا ہے۔
۶:۳۳ خداوند یسوع نے اِنکشاف کیا کہ مَیں «خدا کی وہ روٹی» ہوں «جو آسمان سے اُتر کر دُنیا کو زندگی بخشتی ہے»۔ وہ ثابت کر رہا تھا کہ «خدا کی روٹی» بیابان کے مَن سے اعلیٰ تر اور ارفع تر ہے۔ مَنّ زندگی نہیں بخشتا تھا بلکہ صرف طبعی زندگی کو برقرار رکھتا تھا۔ اور نہ یہ ساری دُنیا کے لئے تھا بلکہ صرف ایک قوم بنی اِسرائیل کے لئے تھا۔ «حقیقی روٹی… وہ ہے جو آسمان سے اُتر کر دُنیا (اِنسانوں) کو زندگی بخشتی ہے»۔ صرف ایک قوم کو نہیں بلکہ ساری «دُنیا کو»۔
۶:۳۴ یہودیوں کو اب بھی سمجھ نہ آئی کہ خداوند یسوع دراصل اپنے آپ کو حقیقی روٹی کہہ رہا ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے اُس سے کہا، «اے خداوند! یہ روٹی ہم کو ہمیشہ دیا کر۔» بے شک اُن کی مراد جسمانی روٹی سے تھی۔ بدقسمتی سے اُن کے دِلوں میں سچا ایمان نہیں تھا۔
د۔ یسوع — زندگی کی روٹی (۶:۳۵-۶۵)
۶:۳۵ اب یسوع نے حقیقت کو واضح اور آسان الفاظ میں بیان کیا۔ «زندگی کی روٹی مَیں ہوں۔» جتنے لوگ اُس کے پاس آتے ہیں اُن کو اپنی روحانی بھوک کی آسودگی کے لئے کافی خوراک ملتی ہے۔ جتنے اُس پر ایمان لاتے ہیں اُن کی پیاس ہمیشہ کے لئے بجھ جاتی ہے۔ اِس آیت میں «مَیں ہوں» کے الفاظ پر غور کریں۔ دیکھیں کہ خداوند مسیح یہوواہ کے برابر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اگر کوئی گنہگار آدمی آیت ۳۵ کے الفاظ ادا کرتا ہے تو بہت بڑی حماقت کرتا ہے۔ جو محض بشر ہے، وہ تو اپنی بھوک یا پیاس بھی نہیں مٹا سکتا، پوری دُنیا کی روحانی بھوک کہاں سے مٹائے گا؟
۶:۳۶ آیت ۳۰ میں ایمان نہ لانے والے یہودیوں نے خداوند سے نشان طلب کیا تھا تاکہ دیکھ کر ایمان لائیں۔ یہاں یسوع اُن سے کہتا ہے کہ «تم نے مجھے دیکھ لیا ہے۔» مَیں سب سے بڑا نشان ہوں۔ اور «پھر بھی ایمان نہیں لاتے»۔ خدا کا بیٹا کامل بشریت میں اُن کے سامنے کھڑا تھا، مگر وہ اُسے نہیں پہچانتے تھے۔ اِس لئے یہ بات بھی مشکوک ہے کہ اگر وہ کوئی نشان دِکھاتا تو وہ قائل ہو جاتے۔
۶:۳۷ خداوند یہودیوں کی بے اعتقادی سے بے حوصلہ نہیں ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ باپ کے سارے اِرادے اور منصوبے پورے ہو کر رہیں گے۔ خواہ وہ یہودی جن سے وہ محوِ گفتگو تھا اُسے قبول نہ کریں، مگر وہ جانتا تھا کہ جتنوں کو خدا نے چنا ہے وہ میرے پاس آ جائیں گے۔ یہ احساس کہ خدا کے ازلی اِرادے اٹل ہیں وہ سکون، قوتِ برداشت، جرأت اور اِستقلال بخشتا ہے جو کوئی دوسری چیز نہیں دے سکتی۔
یہ آیت بائبل مقدس کی دو اہم سچائیوں کی تعلیم دیتی ہے۔ اوّل کہ خدا نے بعض لوگ مسیح کو دیئے ہیں۔ اور جو دیئے گئے ہیں وہ سب نجات پائیں گے۔ دوم، کہ اِنسان ذمہ دار ہے۔ نجات پانے کے لئے ضروری ہے کہ اِنسان خداوند یسوع کے پاس آئے اور ایمان کے ساتھ اُسے قبول کرے۔ خدا بعض لوگوں کو نجات پانے کے لئے ضرور چنتا ہے۔ لیکن بائبل مقدس یہ تعلیم نہیں دیتی کہ وہ سزا پانے کے لئے بھی کسی کو چنتا ہے۔ اگر کوئی نجات پاتا ہے تو خدا کے مفت فضل کے باعث پاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ہلاک ہوتا ہے تو اپنی غلطی سے ہوتا ہے۔ اپنی گناہ آلودگی اور بدی کے سبب سے سارے اِنسانوں پر سزا کا حکم ہے۔ اگر تمام اِنسان جہنم میں چلے جائیں تو صرف اِس لئے کہ تمام اِسی لائق ہیں۔ لیکن اپنے فضل کے باعث خدا نیچے جھک کر بنی نوعِ اِنسان کے عظیم انبوہ میں سے فرداً فرداً نجات بخشتا ہے۔ کیا اُسے ایسا کرنے کا حق ہے؟ ضرور ہے۔ خدا جو چاہے سو کر سکتا ہے۔ کوئی اِنسان اُس کے اِس حق سے اِنکار نہیں کر سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا کبھی کوئی بے اِنصافی کا کام نہیں کرتا — نہ کرے گا۔
جس طرح بائبل مقدس سکھاتی ہے کہ خدا نے بعض اِنسانوں کو نجات پانے کے لئے چن لیا ہے، اِسی طرح یہ بھی سکھاتی ہے کہ اِنسانوں کی ذمہ داری ہے کہ اِنجیل کی خوش خبری کو قبول کرے۔ خدا ایک عالم گیر پیش کش کرتا — دعوت دیتا — ہے کہ اگر اِنسان خداوند یسوع مسیح پر ایمان لائے تو نجات پائے گا۔ خدا اِنسانوں کو اُن کی مرضی کے خلاف نجات نہیں دیتا۔ ضرور ہے کہ اِنسان توبہ کر کے اور ایمان لا کر یسوع کے پاس آئے۔ پھر خدا اُسے نجات دے گا۔ جو کوئی مسیح کے وسیلے سے خدا کے پاس آتا ہے، اُسے وہ «ہرگز نکال نہ دے گا»۔
اِنسانی ذہن اِن دو تعلیمات سے سمجھوتا نہیں کرتا۔ تاہم چاہے ہماری سمجھ میں آئیں چاہے نہ، تو بھی ضرور ہے کہ اِن پر ایمان لائیں۔ یہ بائبل کی تعلیمات ہیں اور اِن کا یہاں بڑی صفائی سے بیان کیا گیا ہے۔
۶:۳۸ آیت ۳۷ میں خداوند یسوع نے بیان کیا تھا کہ جن کو خدا نے مجھے دیا ہے، اُن کی نجات سے متعلق خدا کے سارے منصوبے بالآخر پورے ہوں گے۔ چونکہ یہ خدا کی مرضی ہے، اِس لئے خداوند ذاتی طور پر ذمہ لے گا کہ سب کچھ پورا ہو کیونکہ اُس کی زندگی کا مشن ہی خدا کی مرضی کو پورا کرنا ہے۔ مسیح نے کہا، «مَیں آسمان سے… اُترا ہوں۔» یوں واضح طور سے بیان کیا کہ مَیں نے اپنی زندگی کا آغاز بیت لحم کی چرنی سے نہیں کیا بلکہ ازل سے خدا باپ کے ساتھ آسمان میں موجود تھا۔ وہ خدا کا فرماں بردار بیٹا ہے۔ اُس نے رضاکارانہ خادم کی صورت اِختیار کی تاکہ اپنے باپ کی «مرضی کے موافق عمل کرے»۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُس کی اپنی کوئی مرضی نہ تھی بلکہ یہ کہ اُس کی مرضی خدا کی مرضی کے ساتھ کامل مطابقت رکھتی تھی۔
۶:۳۹ باپ «کی مرضی یہ ہے» کہ جتنوں کو اُس نے مسیح کو دیا ہے، اُن میں سے ہر ایک نجات پائے اور راست بازوں کی قیامت تک محفوظ رکھا جائے۔ اُس دن اُن کو زندہ کیا جائے گا اور خداوند اُنہیں آسمانی گھر میں لے جائے گا۔ «اُس میں سے کچھ کھو نہ دوں۔» اِن الفاظ کا اِشارہ ایمان داروں کی طرف ہے۔ یہاں وہ اکیلے اکیلے ایمان دار کی بات نہیں کرتا بلکہ سچے مسیحیوں کی ساری جماعت کی، جو تاریخ کے تمام زمانوں میں نجات پا چکے ہوں گے۔ خداوند یسوع کی ذمہ داری ہے کہ دیکھے کہ پوری جماعت میں سے ایک بھی کھو نہ جائے اور «آخری دن» وہ ساری جماعت کو «زندہ کرے۔»
جہاں تک نجات یافتہ لوگوں کا تعلق ہے «آخری دن» سے مراد وہ «دن» ہے جب خداوند یسوع بادلوں پر آئے گا۔ اور جتنے مسیح میں موئے وہ اُٹھائے جائیں گے اور زندہ ایمان دار بدل جائیں گے۔ پھر سب اُٹھائے جائیں گے تاکہ ہوا میں خداوند کا استقبال کریں۔ یہودیوں کے مطابق «آخری دن» وہ ہے جب مسیحِ موعود جلال میں آئے گا۔
۶:۴۰ اب خداوند وضاحت کرتا ہے کہ کوئی شخص کس طرح ایمان داروں کے گھرانے میں شامل ہو سکتا ہے۔ باپ «کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو دیکھے اور اُس پر ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے»۔ یہاں بیٹے کو «دیکھنے» کا مطلب اُسے جسمانی آنکھوں سے نہیں بلکہ ایمان کی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔ اِنسان کو دیکھنا اور پہچاننا چاہئے کہ یسوع مسیح خدا بیٹا اور دُنیا کا نجات دہندہ ہے۔ پھر اُس پر ایمان لانا بھی ضرور ہے۔ مراد یہ ہے کہ ایمان کے حتمی عمل سے خداوند یسوع کو اپنا شخصی نجات دہندہ قبول کرے۔ جتنے بھی ایسا کرتے ہیں وہ «ہمیشہ کی زندگی» پاتے ہیں۔ یہ «ہمیشہ کی زندگی» یہاں اور ابھی اُن کی ملکیت ہوتی ہے۔ اِس کے ساتھ اُن کو یہ یقین بھی ملتا ہے کہ «آخری دن پھر زندہ» کئے جائیں گے۔
۶:۴۱ لوگ خداوند یسوع کو قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ اِس بات کا اِظہار «اُس پر» بڑبڑانے سے ہوا۔ اُس نے دعویٰ کیا تھا کہ «جو روٹی آسمان سے اُتری وہ مَیں ہوں۔» لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ دعویٰ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ «آسمان سے اُترنے» والا محض اِنسان یا صرف بڑا نبی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ وہ «اُس پر بڑبڑانے لگے» کیونکہ اُسے قبول کرنا نہیں چاہتے تھے۔
۶:۴۲ اُن کے خیال میں یسوع، «یوسف کا بیٹا» تھا۔ بے شک یہاں وہ غلطی پر تھے۔ یسوع کنواری مریم سے پیدا ہوا تھا۔ یوسف اُس کا باپ نہیں تھا۔ خداوند یسوع تو روح القدس کی قدرت سے پیٹ میں پڑا تھا۔ وہ کنواری سے پیدائش کا یقین نہیں کرتے تھے۔ یوں وہ تاریکی اور بے اعتقادی میں پڑ گئے۔ جو لوگ اِس حقیقت کا اِنکار کرتے ہیں کہ یسوع ایک کنواری کے وسیلے سے دُنیا میں آیا، وہ مسیح کی ذات اور کام کے بارے میں باقی ساری سچائیوں کا اِنکار کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں۔
۶:۴۳ اگرچہ وہ (یہودی) براہِ راست یسوع سے مخاطب نہیں تھے مگر اُسے علم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ اِس لئے اُس نے اُن سے کہا، «آپس میں نہ بڑبڑاؤ۔» اگلی آیات بتاتی ہیں کہ اُن کا بڑبڑانا کیوں بے فائدہ اور بے کار تھا۔ یہودی جس قدر یسوع کی گواہی کو ردّ کرتے تھے، اُسی قدر اُس کی تعلیم مشکل ہوتی جاتی تھی۔ نور کو ردّ کرنا نور کے وجود سے اِنکار کرنا ہوتا ہے۔ وہ جس قدر اِنجیل کی حقارت کرتے تھے، اُسی قدر اُسے قبول کرنا مشکل ہوتا جاتا تھا۔ جب خداوند نے اُنہیں آسان اور سادہ باتیں بتائیں اور اُنہوں نے یقین نہ کیا تو جب اُس نے مشکل باتیں بتائیں تو وہ اُن کو سمجھنے کے کب قابل ہوں گے۔
۶:۴۴ اِنسان اپنے آپ میں بالکل بے بس اور بے اُمید ہے۔ اُس میں تو اِتنی طاقت بھی نہیں کہ خود مسیح کے پاس آ سکے۔ اگر باپ اُس کی زندگی اور دل میں کام نہ کرے تو اُسے اپنی ہولناک خطا اور نجات دہندہ کی ضرورت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگوں کو یہ آیت بہت مشکل معلوم ہوتی ہے۔ وہ فرض کر لیتے ہیں کہ اِس آیت کی تعلیم یہ ہے کہ اِنسان نجات پانے کی خواہش کرے بھی تو بھی نجات پانا ناممکن ہو گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ یہ آیت اِس تعلیم پر زور دیتی ہے کہ خدا نے پہلے ہمارے دِلوں میں کام کیا اور ہمیں اپنی طرف پھیرنے کی کوشش کی۔ اب ہم پر منحصر ہے کہ خداوند یسوع کو قبول کریں یا ردّ کر دیں۔ لیکن اگر خدا پہلے ہمارے دلوں میں کام نہ کرتا تو ہمارے دل میں نجات کی خواہش کبھی پیدا نہ ہوتی۔ «آخری دن» وہ ہر ایمان دار کو «پھر زندہ کرے گا۔» جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہے، یہ اِس حقیقت کا بیان ہے کہ یسوع اپنے مقدسین کو لینے آئے گا۔ اُس وقت مُردے زندہ کئے جائیں گے اور زندہ لوگ بدل جائیں گے۔ یہ صرف ایمان داروں کی قیامت ہو گی۔
۶:۴۵ خداوند نے بڑے سخت الفاظ میں بیان کیا کہ کوئی اِنسان اُس وقت تک میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ اُسے کھینچ نہ لے۔ اب خداوند بیان کرتا ہے کہ باپ اِنسانوں کو کس طرح کھینچ لیتا ہے۔ پہلے تو وہ یسعیاہ ۵۴:۱۳ کا حوالہ دیتا ہے کہ «وہ سب خدا سے تعلیم یافتہ ہوں گے»۔ خدا نہ صرف افراد کو چن لیتا ہے بلکہ کچھ اَور بھی کرتا ہے۔ وہ اپنے قیمتی کلام کے وسیلے سے اُن کے دلوں سے کلام کرتا ہے۔
اِس کے بعد اِنسان کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔ جو لوگ خدا کے کلام کی تعلیم پر کان دھرتے اور «خدا سے تعلیم یافتہ» ہوتے ہیں، وہی مسیح کے پاس آتے ہیں۔ یہاں بھی ہم کو وہی دو زبردست سچائیاں نظر آتی ہیں یعنی خدا کا اِختیارِ مطلق اور اِنسان کو اِنتخاب کا حق۔ صحائف میں یہ دونوں ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں۔ اِن سے ثابت ہوتا ہے کہ نجات کے دو پہلو ہیں۔ ایک الٰہی اور دوسرا اِنسانی۔
جب یسوع نے کہا کہ «نبیوں کے صحیفوں میں یہ لکھا ہے» تو اُس کا خاص اِشارہ یسعیاہ نبی کی طرف تھا۔ لیکن جس خیال کو اُس نے پیش کیا وہ عام طور پر سارے نبیوں کے ہاں پایا جاتا ہے۔ خدا کے کلام اور خدا کے روح سے آدمی خدا کی طرف کھنچے جاتے ہیں۔
۶:۴۶ لوگوں کے «خدا سے تعلیم یافتہ» ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اُنہوں نے خدا کو «دیکھا» ہے۔ صرف ایک ہستی ہے جس نے «باپ کو دیکھا ہے»۔ اور یہ وہ ہستی ہے جو خدا کے پاس سے آئی ہے یعنی خداوند یسوع خود۔
جتنے خدا سے تعلیم یافتہ ہیں، اُن کو خداوند یسوع مسیح کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ خدا کی تعلیمات کا مرکزی موضوع خود مسیح ہے۔
۶:۴۷ یہ آیت خدا کے کلام میں نجات کے بارے میں سب سے واضح اور سب سے چھوٹی آیت ہے۔ خداوند یسوع نے یہ حقیقت ایسے لفظوں میں بیان کی ہے کہ اِن کو غلط سمجھنا ممکن ہی نہیں کہ «جو» مسیح پر «ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے»۔ غور کریں کہ یہ الفاظ کہنے سے پہلے خداوند یسوع نے تاکیدی الفاظ «مَیں تم سے سچ کہتا ہوں» استعمال کئے ہیں۔ یہ نئے عہدنامے کی بہت سی آیات میں سے ایک ہے جو سکھاتی ہے کہ نجات کاموں سے نہیں، شریعت کی تعمیل سے نہیں، چرچ کی رکنیت سے نہیں، سنہری اصول کو ماننے سے نہیں بلکہ صرف خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے سے ہے۔
۶:۴۸،۴۹ اب خداوند یسوع بیان کرتا ہے کہ جس «زندگی کی روٹی» کا مَیں ذکر کرتا آیا ہوں وہ «مَیں ہوں»۔ «زندگی کی روٹی» سے مراد بلاشبہ وہ «روٹی» ہے جو کھانے والوں کو «زندگی» دیتی ہے۔ اِس سے پہلے یہودیوں نے «بیابان میں مَن» کا موضوع چھیڑا تھا اور خداوند کو چیلنج کیا تھا کہ ایسی عمدہ روٹی پیدا کر۔ یہاں خداوند اِن یہودیوں کو یاد دلاتا ہے کہ «تمہارے باپ دادا نے بیابان میں مَن کھایا۔ اور مر گئے۔» اُس میں اپنے کھانے والوں کو ہمیشہ کی زندگی دینے کی قوت نہ تھی۔ دوسرے لفظوں میں «من» صرف اِسی زندگی کے لئے تھا۔ «تمہارے باپ دادا۔» اِن الفاظ سے خداوند نے خود کو گناہ میں گری ہوئی اِنسانیت سے الگ ٹھہرایا اور ثابت کیا کہ مَیں یکتا اور بے مثال ہوں۔
۶:۵۰ مَنّ کے بالمقابل خداوند یسوع نے اپنے بارے میں کہا کہ «یہ وہ روٹی ہے جو آسمان سے اُترتی ہے۔» اگر کوئی یہ روٹی کھائے تو وہ نہیں «مرے گا۔» مراد یہ نہیں کہ وہ طبعی لحاظ سے نہیں مرے گا بلکہ یہ کہ آسمان میں ابدی زندگی پائے گا۔ وہ جسمانی لحاظ سے مرے گا تو آخری دن اُس کا بدن زندہ کیا جائے گا۔ اور وہ ابد تک خداوند کے ساتھ رہے گا۔
اِس آیت میں اور چند آیات میں خداوند یسوع نے بار بار خود اُسے (مسیح کو) کھانے کا ذکر کیا ہے۔ اِس کا مطلب کیا ہے؟ کیا مطلب یہ ہے کہ اِنسان اُس کو لغوی معنوں میں جسمانی طور پر کھائیں؟ صاف ظاہر ہے کہ یہ خیال ناممکن اور ناپسندیدہ ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ اِس سے مراد عشائے ربانی کی عبادت اور رسم میں اُسے کھانا ہے۔ اور یہ بھی کہ معجزانہ طور پر روٹی اور مے اُس کے بدن اور خون میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور کہ نجات پانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اِن کو کھائیں۔ مگر خداوند نے ہرگز یہ تعلیم نہیں دی اور نہ ایسا کہا تھا۔ سیاق و سباق سے پوری وضاحت ہوتی ہے کہ اُسے «کھانے» سے مراد اُس پر ایمان لانا ہے۔ جب ہم خداوند یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ مان کر اُس پر ایمان لاتے ہیں تو ہم ایمان سے اُسے «کھاتے» ہیں۔ ہم اُس کی ذات اور کام سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ اوگسطین نے کہا ہے کہ «ایمان لاؤ تو گویا تم نے کھا لیا ہے۔»
۶:۵۱ یسوع «زندگی کی روٹی» ہے۔ وہ نہ صرف خود زندگی رکھتا ہے بلکہ زندگی دیتا ہے۔ جو «کوئی اِس (زندگی کی) روٹی میں سے کھائے… ابد تک زندہ رہے گا۔» مگر یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ خداوند گنہگاروں کو کس طرح زندگی دے سکتا ہے؟ اِس کا جواب آیت کے اگلے حصے میں موجود ہے۔ «جو روٹی مَیں جہان کی زندگی کے لئے دوں گا وہ میرا گوشت ہے۔» یہاں خداوند صلیب پر اپنی موت کی طرف اِشارہ کر رہا ہے۔ وہ گنہگاروں کے فدیہ کے لئے اپنی «جان» دے گا۔ اُس کا بدن توڑا جائے گا اور اُس کا خون گناہوں کی قربانی کے لئے بہایا جائے گا۔ وہ عوضی کے طور پر مرے گا۔ وہ ہمارے گناہوں کی قیمت بھرے گا۔ وہ ایسا کیوں کرے گا؟ اُس نے یہ سب «جہان کی زندگی» کے لئے کیا۔ وہ صرف یہودی قوم کے لئے نہیں مرا۔ یا صرف برگزیدوں کے لئے نہیں مرا بلکہ اُس کی موت سارے جہان کی قیمت ادا کرنے کے لئے کافی ہے۔ بلاشبہ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ساری دُنیا نجات پا جائے گی بلکہ یہ کہ خداوند یسوع نے کلوری پر جو کام پورا کیا ہے وہ اپنی قدر و قیمت میں اِس قدر ہے کہ سارے جہان کے اِنسان یسوع کے پاس آ جائیں تو وہ سب نجات پا جائیں گے۔
۶:۵۲ یہودی ابھی تک جسمانی روٹی اور «گوشت» کے خیال میں تھے۔ اُن کی سوچ اِس زندگی کی چیزوں سے اوپر نہیں اُٹھ رہی تھی۔ اُن کو احساس نہیں تھا کہ خداوند جسمانی چیزوں کی مدد سے روحانی سچائیاں سکھا رہا ہے۔ چنانچہ وہ آپس میں پوچھنے لگے کہ «یہ شخص اپنا گوشت ہمیں کیونکر دے سکتا ہے؟» پیراشوٹ صرف اُسی وقت کھلتا ہے جب آپ ہوائی جہاز سے باہر چھلانگ لگا دیں۔ ایمان دیکھنے سے پہلے آتا ہے اور آپ کی روح کو سمجھنے کے لئے، دل کو ایمان لانے کے لئے اور ارادے کو حکم ماننے کے لئے تیار کرتا ہے۔ اگر آپ خود کو مسیح کے اِختیار کے سپرد کر دیں تو «کیوں اور کیسے» کے سارے سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ پولس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اُسے جواب مل گئے اور وہ پکار اُٹھا «اے خداوند تُو کیا چاہتا ہے کہ مَیں کروں؟»
۶:۵۳ چونکہ «یسوع» ساری باتیں جانتا ہے اِس لئے اُسے پورا پورا علم تھا کہ یہ لوگ کیا سوچ رہے اور کیا کہہ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ بڑی سنجیدگی سے اُنہیں خبردار کرتا ہے کہ «جب تک تم ابنِ آدم کا گوشت نہ کھاؤ اور اُس کا خون نہ پیو تم میں زندگی نہیں۔» اِس سے ہرگز وہ روٹی اور مے مراد نہیں ہو سکتی جو خداوند کی عشا میں استعمال ہوتی ہے۔ جس رات خداوند پکڑوایا گیا اور اُس نے عشائے ربانی کی رسم مقرر کی، ابھی اُس کا بدن توڑا نہیں گیا تھا، نہ خون بہایا گیا تھا۔ شاگردوں نے روٹی اور مے میں سے کھایا اور پیا، لیکن اُنہوں نے لفظی معنوں میں نہ اُس کا گوشت کھایا، نہ خون پیا تھا۔ خداوند صرف یہ وضاحت کر رہا تھا کہ جب تک ہم ایمان سے کلوری پر اُس کی موت کے فوائد کو اپنا نہیں لیتے اُس وقت تک نجات نہیں پا سکتے۔ ضرور ہے کہ ہم اُس پر ایمان لائیں، اُسے قبول کریں، اُس کا یقین کریں اور اُسے حتمی طور پر اپنا بنا لیں۔
۶:۵۴ اِس کا آیت ۴۷ سے مقابلہ کرنے سے حتمی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ مسیح کا گوشت اور اُس کا خون پینے کا مطلب اُس پر ایمان لانا ہے۔ آیت ۴۷ میں مرقوم ہے کہ «جو (مجھ پر) ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے۔» اور زیرِ نظر آیت میں کہا گیا ہے کہ «جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خون پیتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے۔» عام اصول ہے کہ اگر دو چیزیں الگ الگ کسی ایک چیز کے برابر ہوں، تو وہ ایک دوسری کے بھی برابر ہوتی ہے۔ اِس لئے اُس کا «گوشت» کھانا اور اُس کا «خون» پِینا اُس پر ایمان لانے کے برابر ہے۔ وہ سب جو اُس پر ایمان لاتے ہیں «آخری دن» پھر زندہ کئے جائیں گے۔ بلاشبہ اِس سے مراد اُن لوگوں کے بدن ہیں جو خداوند یسوع پر ایمان میں مرتے ہیں۔
۶:۵۵ خداوند یسوع کا «گوشت فی الحقیقت کھانے کی چیز،» اور اُس کا «خون فی الحقیقت پینے کی چیز ہے»۔ یہ اِس دُنیا کی کھانے اور پینے کی چیزوں سے قطعی الگ اور مختلف ہے کیونکہ اِس دُنیا کی کھانے پینے کی چیزیں عارضی قدر و قیمت رکھتی ہیں۔ خداوند یسوع کی موت کی قدر و قیمت دائمی ہے۔ جو لوگ ایمان سے اِس میں شامل ہوتے ہیں وہ دائمی زندگی حاصل کرتے ہیں۔
۶:۵۶ خداوند یسوع اور اُس پر ایمان لانے والوں کے درمیان بڑی گہری یگانگت پائی جاتی ہے۔ «جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خون پیتا ہے وہ مجھ میں قائم رہتا ہے۔» یسوع اُس شخص میں سکونت کرتا ہے۔ اِس سے زیادہ گہری قربت اور رفاقت ہو نہیں سکتی۔ جب ہم جسمانی خوراک کھاتے ہیں تو اُس کو اپنے وجود میں شامل کرتے ہیں اور وہ ہمارا حصہ بن جاتی ہے۔ جب ہم خداوند یسوع کو اپنا نجات دہندہ قبول کرتے ہیں تو وہ ہماری زندگیوں میں سکونت کرنے کے لئے آتا ہے اور ہم بھی اُس میں مستقلاً سکونت کرتے ہیں۔
۶:۵۷ اب خداوند اپنے اور اپنے لوگوں کے درمیان گہرے تعلق اور بندھن کی وضاحت کے لئے ایک مثال پیش کرتا ہے۔ اور یہ مثال ہے خود اُس کے اور خدا باپ کے درمیان تعلق کی۔ «زندہ باپ» نے خداوند یسوع کو دُنیا میں «بھیجا» تھا، («زندہ باپ»— اِس ترکیب کا مطلب ہے وہ باپ جو زندگی کا منبع ہے)۔ یسوع «باپ کے سبب سے زندہ» تھا۔ اُس کی زندگی خدا باپ کے ساتھ گہری ہم آہنگی اور قریبی یگانگت میں بسر ہوتی تھی۔ خدا ہی اُس کی زندگی کا مرکز اور محیط تھا۔ اُس کا مقصد صرف یہ تھا کہ خدا باپ کے ساتھ سکونت کرے۔ وہ اِس دُنیا میں اِنسان بن کر آیا تھا اور دُنیا کو احساس (شعور) نہیں تھا کہ وہ خدا ہے جو جسم میں ظاہر ہوا ہے۔ اگرچہ دُنیا کو اُس کے بارے میں مغالطہ ہوا مگر وہ اور اُس کا باپ «ایک» ہیں۔ وہ اِنتہائی رفاقت میں رہتے تھے۔ خداوند یسوع اور ایمان دار کا باہمی حال بھی بعینہٖ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایمان دار اِس دُنیا میں ہیں۔ دُنیا اُن کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہے۔ اُن سے نفرت اور دشمنی کرتی اور اکثر اُن کو ایذا دیتی ہے۔ لیکن چونکہ اُنہوں نے خداوند یسوع کا یقین کیا اور اُسی پر بھروسا رکھتے ہیں اِس لئے وہ اُس کے «سبب سے زندہ» رہتے ہیں۔ اُن کی زندگیاں گہرے طور سے اُس کی زندگی کے ساتھ بندھی ہوتی ہیں۔ اور یہ زندگی ہمیشہ تک قائم رہے گی۔
۶:۵۸ اِس آیت میں اُن ساری باتوں کا خلاصہ دیا گیا جو خداوند نے گذشتہ آیات میں بیان کی ہیں۔ وہی (یسوع) ہے وہ روٹی «جو آسمان سے اُتری»۔ وہ «مَنّ» سے اعلیٰ و برتر ہے جسے «باپ دادا» نے بیابان میں کھایا۔ وہ روٹی صرف عارضی فائدہ رکھتی تھی۔ صرف اِسی زندگی کے لئے تھی۔ لیکن مسیح خدا کی روٹی ہے جو اُن سب کو ابدی زندگی دیتی ہے جو اُسے کھاتے ہیں۔
۶:۵۹ گلیل کی جھیل کے شمال مشرقی علاقے سے بھیڑ یسوع اور اُس کے شاگردوں کے پیچھے پیچھے کفرنحوم آئی تھی۔ غالباً یسوع اُن کو «عبادت خانہ» میں مل گیا تھا۔ وہیں اُس نے اُن کو «زندگی کی روٹی» پر پیغام دیا ہو گا۔ «عبادت خانہ» سے مراد یہودیوں کی مقامی مذہبی جگہ یا عبادت گاہ ہے، جو یروشلیم میں واقع ہیکل سے فرق ہوتی تھی۔ جانوروں کی قربانیاں صرف ہیکل میں چڑھائی جا سکتی تھیں۔
۶:۶۰ اِس وقت تک خداوند یسوع کے اِبتدائی بارہ شاگردوں کے علاوہ «بہت شاگرد» بن گئے تھے۔ جو کوئی بھی اُس کے پیچھے ہو لیتا تھا اور اُس کی تعلیمات کو قبول کرنے کا اِقرار کرتا تھا، اُس کو شاگرد کہا جاتا تھا۔ البتہ جتنے افراد بھی شاگرد کے طور پر جانے جاتے تھے، اُن میں سے سب حقیقی ایمان دار نہیں ہوتے تھے۔ اب جتنے اُس کے شاگرد ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اُن «میں سے بہتوں نے» سن کر کہا، «یہ کلام ناگوار ہے۔» اُن کا مطلب تھا کہ یسوع کی تعلیم ناپسندیدہ ہے۔ بات یہ نہیں تھی کہ اُس کی تعلیم اُن کی سمجھ سے بالاتر تھی بلکہ اُنہیں اِس کا ماننا مشکل یا ناممکن لگتا تھا۔ جب اُنہوں نے کہا کہ «اِسے کون سن سکتا ہے؟» تو مطلب تھا کہ کون ہے جو ایسے ناپسندیدہ عقیدے کو سن کر برداشت کر سکتا ہے؟
۶:۶۱ یہاں پھر ثبوت ملتا ہے کہ خداوند کو ساری باتوں کا علم ہے۔ وہ عالمِ کُل ہے۔ اُسے پورا علم تھا کہ «میرے شاگرد آپس میں» کیا باتیں کر رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اُن کو خداوند کا یہ دعویٰ پسند نہیں آیا تھا کہ مَیں آسمان سے اُترا ہوں۔ اور اِس بات پر بڑبڑا رہے تھے جو اُس نے کہی تھی کہ ہمیشہ کی زندگی پانے کے لئے ضرور ہے کہ اِنسان میرا گوشت کھائے اور میرا خون پئے۔ چنانچہ اُس نے اُن سے پوچھا کہ «کیا تم اِس بات سے ٹھوکر کھاتے ہو؟»
۶:۶۲ اُنہوں نے اِس لئے ٹھوکر کھائی تھی کہ اُس نے کہا تھا کہ مَیں آسمان سے اُترا ہوں۔ اب خداوند نے اُن سے پوچھا کہ «اگر تم ابنِ آدم (مسیح) کو اُوپر (آسمان پر) جاتے دیکھو گے جہاں وہ پہلے تھا» تو کیا سوچو گے؟ اُسے معلوم تھا کہ مَیں جی اُٹھنے کے بعد آسمان پر واپس جاؤں گا۔ اُن کو اِس بات سے بھی ٹھوکر لگی تھی کہ اُس نے کہا تھا کہ اِنسانوں کو میرا گوشت کھانا ہو گا۔ اور جب وہ گوشت پوست کے اِس بدن کو «اوپر جاتے دیکھیں گے جہاں وہ پہلے تھا» تو کیا سوچیں گے؟ جب وہ باپ کے پاس واپس چلا جائے گا تو اِنسان کس طرح لغوی معنوں میں اُس کا گوشت کھائیں گے اور اُس کا خون پئیں گے؟
۶:۶۳ یہ لوگ مسیح کے جسمانی گوشت کے بارے میں سوچتے تھے، لیکن یہاں وہ اُنہیں بتاتا ہے کہ ہمیشہ کی زندگی گوشت کھانے سے نہیں ملتی، بلکہ یہ خدا کے پاک روح کا کام ہے۔ جسم زندگی نہیں دے سکتا۔ صرف روح زندگی دے سکتا ہے۔ اُنہوں نے اُس کی باتوں کو صرف لفظی معنوں میں سمجھا تھا۔ حالانکہ اُنہیں اِن باتوں کو روحانی معنوں میں سمجھنا چاہئے تھا۔ چنانچہ خداوند یسوع واضح کرتا ہے کہ «جو باتیں مَیں نے تم سے کہی ہیں وہ روح ہیں اور زندگی بھی ہیں۔» جب گوشت کھانے اور خون پینے کے بارے میں اُس کی باتوں کو روحانی لحاظ سے سمجھا جاتا ہے (اور مطلب اُس پر ایمان لانا ہے) تو جتنے اِن باتوں کو قبول کرتے ہیں وہ ہمیشہ کی زندگی پاتے ہیں۔
۶:۶۴ جب یسوع یہ باتیں کہہ رہا تھا تو جانتا تھا کہ میرے سننے والوں میں سے بعض اِن کو نہیں سمجھتے۔ اِس لئے کہ وہ «ایمان نہیں لائے» ہیں۔ مشکل یہ نہیں تھی کہ وہ سمجھنے کے لائق نہ تھے بلکہ یہ تھی کہ وہ راضی ہی نہ تھے۔ «یسوع شروع سے جانتا تھا» کہ جو میری پیروی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اُن میں سے بعض «ایمان نہیں» لائیں گے اور کہ میرا ایک شاگرد دھوکے سے «مجھے پکڑوائے گا»۔ یقینا یسوع ازل ہی سے یہ سب کچھ جانتا تھا۔ لیکن یہاں غالباً مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی زمینی خدمت کے شروع ہی سے اِن باتوں کو جانتا تھا۔
۶:۶۵ اب اُس نے اُن کو بتایا کہ پہلے بھی تمہاری بے اعتقادی کے باعث مَیں نے کہا تھا «کہ میرے پاس کوئی نہیں آ سکتا جب تک باپ کی طرف سے اُسے یہ توفیق نہ دی جائے۔» یہ الفاظ اِنسان کے تکبر پر ضرب لگاتے ہیں۔ کیونکہ اِنسان سوچتا ہے کہ مَیں اپنے نیک کاموں کی بنا پر نجات پا سکتا ہوں۔ یسوع نے اُن کو بتا دیا کہ یہ توفیق بھی صرف خدا باپ کی طرف سے ملتی ہے۔
ہ۔ نجات دہندہ کی باتوں پر ملا جلا ردِّعمل (۶:۶۶-۷۱)
۶:۶۶ خداوند یسوع کی یہ باتیں اُس کے شاگردوں میں سے بہتوں کو ایسی ناگوار لگیں کہ اب اُس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ وہ اُس کے ساتھ کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ دراصل یہ شاگرد کبھی سچے ایمان دار نہ رہے تھے۔ وہ کئی مختلف مقاصد سے یسوع کے پیچھے پیچھے چلتے تھے۔ لیکن اصلی اور دلی محبت نہیں رکھتے تھے اور نہ سمجھتے تھے کہ وہ کون ہے۔
۶:۶۷ اِس موقعے پر یسوع نے اپنے خاص بارہ شاگردوں سے مخاطب ہو کر اُن کے سامنے یہ سوال رکھا کہ «کیا تم بھی چلے جانا چاہتے ہو؟» یہ سوال اُن کے لئے چیلنج تھا۔
۶:۶۸ پطرس کا جواب بے حد غور کا متقاضی ہے۔ دراصل اُس نے کہا کہ «اے خداوند»، ہم تجھے کس طرح چھوڑ سکتے ہیں؟ تُو وہ عقائد سکھاتا ہے جو «ہمیشہ کی زندگی» تک لے جاتے ہیں۔ اگر ہم تجھے چھوڑ دیں تو اَور کوئی نہیں جس کے پاس ہم جا سکیں۔ تجھے چھوڑنا تو اپنی موت پر مُہر کرنا ہے۔
۶:۶۹ پطرس اُن بارہ کی ترجمانی کر رہا تھا۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ «ہم ایمان لائے اور جان گئے ہیں» کہ تُو ہی «مسیحِ موعود» ہے۔ «خدا کا قدوس» ہے۔ زندہ خدا کا بیٹا ہے۔ ذرا الفاظ کی ترتیب پر غور کریں۔ «ایمان لائے» اور «جان گئے»۔ پہلے وہ خداوند یسوع پر ایمان لائے تھے اور پھر جان گئے تھے کہ واقعی وہ سب کچھ ہے جو ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
۶:۷۰ آیات ۶۸ اور ۶۹ میں پطرس نے لفظ «ہم» استعمال کیا۔ اِس سے مراد بارہ کے بارہ شاگرد تھے۔ یہاں آیت ۰۷ میں خداوند یسوع اُس کی تصحیح کرتا ہے کہ اُسے اِتنے اعتماد کے ساتھ نہیں کہنا چاہئے کہ بارہ کے بارہ سچے ایمان دار ہیں۔ درست ہے کہ خداوند نے «بارہ» کو «چن لیا» تھا۔ لیکن اُن میں سے «ایک شخص شیطان» تھا۔ اُس گروہ میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو پطرس کے نظریات سے اتفاق نہیں رکھتا تھا کہ خداوند یسوع «مسیحِ موعود» ہے۔
۶:۷۱ خداوند یسوع جانتا تھا کہ «یہوداہ اسکریوتی» اُسے دھوکے سے «پکڑوانے کو تھا۔» وہ جانتا تھا کہ یہوداہ نے کبھی اُسے دل سے خداوند اور نجات دہندہ نہیں مانا۔ یہاں بھی ثبوت ملتا ہے کہ خداوند یسوع «عالمِ کُل» ہے۔ اور یہ ثبوت بھی ہے کہ جب پطرس شاگردوں کا منہ بن کر بول رہا تھا تو وہ بے خطا نہیں تھا۔
زندگی کی روٹی کے خطاب میں ہمارے خداوند نے بہت آسان تعلیم سے آغاز کیا۔ مگر خطاب کے دوران واضح ہوتا گیا کہ یہودی اُس کی باتوں کو ردّ کئے جا رہے ہیں۔ وہ سچائی کو سننے اور ماننے سے اپنے دلوں کو جس قدر سخت کرتے اور بند کرتے گئے، اُس کی تعلیم بھی اُتنی ہی مشکل ہوتی گئی۔ آخر میں اُس نے اپنا گوشت کھانے اور خون پینے کی بات کی۔ یہ بات اُن کی برداشت سے باہر تھی۔ وہ کہنے لگے «یہ کلام ناگوار ہے۔ اِسے کون سن سکتا ہے؟» اور اُنہوں نے اُس کی پیروی کرنا چھوڑ دیا۔ سچائی کو ردّ کرنے کا نتیجہ اندھا پن ہوتا ہے۔ چونکہ وہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے اِس لئے وہ اُس مقام پر جا پہنچے جہاں وہ بالکل دیکھ نہ سکے۔
مقدس کتاب
۱- پِھر جب خُداوند کو معلُوم ہُؤا کہ فرِیسِیوں نے سُنا ہے کہ یِسُوعؔ یُوحنّا سے زِیادہ شاگِرد کرتا اور بپتِسمہ دیتا ہے۔
۲- (گو یِسُوعؔ آپ نہیں بلکہ اُس کے شاگِرد بپتِسمہ دیتے تھے)۔
۳- تو وہ یہُودیہ کو چھوڑ کر پِھر گلِیل کو چلا گیا۔
۴- اور اُس کو سامرؔیہ سے ہو کر جانا ضرُور تھا۔
۵- پس وہ سامرؔیہ کے ایک شہر تک آیا جو سُوؔخار کہلاتا ہے۔ وہ اُس قِطعہ کے نزدِیک ہے جو یعقُوبؔ نے اپنے بیٹے یُوسفؔ کو دِیا تھا۔
۶- اور یعقُوبؔ کا کُنواں وہِیں تھا۔ چُنانچہ یِسُوعؔ سفر سے تھکا ماندہ ہو کر اُس کُنوئیں پر یُونہی بَیٹھ گیا۔ یہ چَھٹے گھنٹے کے قرِیب تھا۔
۷- سامرؔیہ کی ایک عَورت پانی بھرنے آئی۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا مُجھے پانی پِلا۔
۸- کیونکہ اُس کے شاگِرد شہر میں کھانا مول لینے کو گئے تھے۔
۹- اُس سامری عَورت نے اُس سے کہا کہ تُو یہُودی ہو کر مُجھ سامری عَورت سے پانی کیوں مانگتا ہے؟ (کیونکہ یہُودی سامرِیوں سے کِسی طرح کا برتاؤ نہیں رکھتے)۔
۱۰- یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اگر تُو خُدا کی بخشِش کو جانتی اور یہ بھی جانتی کہ وہ کَون ہے جو تُجھ سے کہتا ہے مُجھے پانی پِلا تو تُو اُس سے مانگتی اور وہ تُجھے زِندگی کا پانی دیتا۔
۱۱- عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند تیرے پاس پانی بھرنے کو تو کُچھ ہے نہیں اور کُنواں گہرا ہے۔ پِھر وہ زِندگی کا پانی تیرے پاس کہاں سے آیا؟
۱۲- کیا تُو ہمارے باپ یعقُوب سے بڑا ہے جِس نے ہم کو یہ کُنواں دِیا اور خُود اُس نے اور اُس کے بیٹوں نے اور اُس کے مویشی نے اُس میں سے پِیا؟
۱۳- یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا جو کوئی اِس پانی میں سے پِیتا ہے وہ پِھر پیاسا ہو گا۔
۱۴- مگر جو کوئی اُس پانی میں سے پِئے گا جو مَیں اُسے دُوں گا وہ ابد تک پِیاسا نہ ہو گا بلکہ جو پانی مَیں اُسے دُوں گا وہ اُس میں ایک چشمہ بن جائے گا جو ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے جاری رہے گا۔
۱۵- عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند وہ پانی مُجھ کو دے تاکہ مَیں نہ پِیاسی ہُوں نہ پانی بھرنے کو یہاں تک آؤں۔
۱۶- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا جا اپنے شَوہر کو یہاں بُلا لا۔
۱۷- عَورت نے جواب میں اُس سے کہا کہ مَیں بے شَوہر ہُوں۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا تُو نے خُوب کہا کہ مَیں بے شَوہر ہُوں۔
۱۸- کیونکہ تُو پانچ شَوہر کر چُکی ہے اور جِس کے پاس تُو اب ہے وہ تیرا شَوہر نہیں۔ یہ تُو نے سچ کہا۔
۱۹- عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند مُجھے معلُوم ہوتا ہے کہ تُو نبی ہے۔
۲۰- ہمارے باپ دادا نے اِس پہاڑ پر پرستِش کی اور تُم کہتے ہو کہ وہ جگہ جہاں پرستِش کرنا چاہیے یروشلِیم میں ہے۔
۲۱- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا اَے عَورت! میری بات کا یقِین کر کہ وہ وقت آتا ہے کہ تُم نہ تو اِس پہاڑ پر باپ کی پرستِش کرو گے اور نہ یروشلِیم میں۔
۲۲- تُم جِسے نہیں جانتے اُس کی پرستِش کرتے ہو۔ ہم جِسے جانتے ہیں اُس کی پرستِش کرتے ہیں کیونکہ نجات یہُودِیوں میں سے ہے۔
۲۳- مگر وہ وقت آتا ہے بلکہ اب ہی ہے کہ سچّے پرستار باپ کی پرستِش رُوح اور سچّائی سے کریں گے کیونکہ باپ اپنے لِئے اَیسے ہی پرستار ڈُھونڈتا ہے۔
۲۴- خُدا رُوح ہے اور ضرُور ہے کہ اُس کے پرستار رُوح اور سچّائی سے پرستِش کریں۔
۲۵- عَورت نے اُس سے کہا مَیں جانتی ہُوں کہ مسِیح جو خرِستُس کہلاتا ہے آنے والا ہے۔ جب وہ آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتا دے گا۔
۲۶- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا مَیں جو تُجھ سے بول رہا ہُوں وُہی ہُوں۔
۲۷- اِتنے میں اُس کے شاگِرد آ گئے اور تعجُّب کرنے لگے کہ وہ عَورت سے باتیں کر رہا ہے تَو بھی کِسی نے نہ کہا کہ تُو کیا چاہتا ہے؟ یا اُس سے کِس لِئے باتیں کرتا ہے؟
۲۸- پس عَورت اپنا گھڑا چھوڑ کر شہر میں چلی گئی اور لوگوں سے کہنے لگی۔
۲۹- آؤ۔ ایک آدمی کو دیکھو جِس نے میرے سب کام مُجھے بتا دِئے۔ کیا مُمکِن ہے کہ مسِیح یِہی ہے؟
۳۰- وہ شہر سے نِکل کر اُس کے پاس آنے لگے۔
۳۱- اِتنے میں اُس کے شاگِرد اُس سے یہ درخواست کرنے لگے کہ اَے ربیّ! کُچھ کھا لے۔
۳۲- لیکن اُس نے اُن سے کہا میرے پاس کھانے کے لِئے اَیسا کھانا ہے جِسے تُم نہیں جانتے۔
۳۳- پس شاگِردوں نے آپس میں کہا کیا کوئی اُس کے لِئے کُچھ کھانے کو لایا ہے؟
۳۴- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے مَوافِق عمل کرُوں اور اُس کا کام پُورا کرُوں۔
۳۵- کیا تُم کہتے نہیں کہ فصل کے آنے میں ابھی چار مہِینے باقی ہیں؟ دیکھو مَیں تُم سے کہتا ہُوں اپنی آنکھیں اُٹھا کر کھیتوں پر نظر کرو کہ فصل پک گئی ہے۔
۳۶- اور کاٹنے والا مزدُوری پاتا اور ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے پَھل جمع کرتا ہے تاکہ بونے والا اور کاٹنے والا دونوں مِل کر خُوشی کریں۔
۳۷- کیونکہ اِس پر یہ مِثل ٹِھیک آتی ہے کہ بونے والا اَور ہے۔ کاٹنے والا اَور۔
۳۸- مَیں نے تُمہیں وہ کھیت کاٹنے کے لِئے بھیجا جِس پر تُم نے مِحنت نہیں کی۔ اَوروں نے مِحنت کی اور تُم اُن کی مِحنت کے پَھل میں شرِیک ہُوئے۔
۳۹- اور اُس شہر کے بُہت سے سامری اُس عَورت کے کہنے سے جِس نے گواہی دی کہ اُس نے میرے سب کام مُجھے بتا دِئیے اُس پر اِیمان لائے۔
۴۰- پس جب وہ سامری اُس کے پاس آئے تو اُس سے درخواست کرنے لگے کہ ہمارے پاس رہ چُنانچہ وہ دو روز وہاں رہا۔
۴۱- اور اُس کے کلام کے سبب سے اَور بھی بُہتیرے اِیمان لائے۔
۴۲- اور اُس عَورت سے کہا اب ہم تیرے کہنے ہی سے اِیمان نہیں لاتے کیونکہ ہم نے خُود سُن لِیا اور جانتے ہیں کہ یہ فی الحقِیقت دُنیا کا مُنّجی ہے۔
۴۳- پِھر اُن دو دِنوں کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہو کر گلِیل کو گیا۔
۴۴- کیونکہ یِسُوعؔ نے خُود گواہی دی کہ نبی اپنے وطن میں عِزّت نہیں پاتا۔
۴۵- پس جب وہ گلِیل میں آیا تو گلِیلِیوں نے اُسے قبُول کِیا۔ اِس لِئے کہ جِتنے کام اُس نے یروشلِیم میں عِید کے وقت کِئے تھے اُنہوں نے اُن کو دیکھا تھا کیونکہ وہ بھی عِید میں گئے تھے۔
۴۶- پس وہ پِھر قانایِ گلِیل میں آیا جہاں اُس نے پانی کو مَے بنایا تھا اور بادشاہ کا ایک مُلازِم تھا جِس کا بیٹا کَفرؔنحُوم میں بِیمار تھا۔
۴۷- وہ یہ سُن کر کہ یِسُوعؔ یہُودیہ سے گلِیل میں آ گیا ہے اُس کے پاس گیا اور اُس سے درخواست کرنے لگا کہ چل کر میرے بیٹے کو شِفا بخش کیونکہ وہ مَرنے کو تھا۔
۴۸- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا جب تک تُم نِشان اور عجِیب کام نہ دیکھو ہرگِز اِیمان نہ لاؤ گے۔
۴۹- بادشاہ کے مُلازِم نے اُس سے کہا اَے خُداوند میرے بچّہ کے مَرنے سے پہلے چل۔
۵۰- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا جا تیرا بیٹا جِیتا ہے۔ اُس شخص نے اُس بات کا یقِین کِیا جو یِسُوعؔ نے اُس سے کہی اور چلا گیا۔
۵۱- وہ راستہ ہی میں تھا کہ اُس کے نَوکر اُسے مِلے اور کہنے لگے کہ تیرا بیٹا جِیتا ہے۔
۵۲- اُس نے اُن سے پُوچھا کہ اُسے کِس وقت سے آرام ہونے لگا تھا؟ اُنہوں نے کہا کہ کل ساتویں گھنٹے میں اُس کی تپ اُتر گئی۔
۵۳- پس باپ جان گیا کہ وُہی وقت تھا جب یِسُوعؔ نے اُس سے کہا تھا تیرا بیٹا جِیتا ہے اور وہ خُود اور اُس کا سارا گھرانا اِیمان لایا۔
۵۴- یہ دُوسرا مُعجِزہ ہے جو یِسُوعؔ نے یہُودیہ سے گلِیل میں آ کر دِکھایا۔