۳۔ خدا کے بیٹے کی خدمت کا دوسرا سال (باب ۵)
الف۔ تیسرا معجزہ:پژ مُردہ آدمی کو شفا دینا (۵:۱-۹)
۵:۱ باب ۵ کا آغاز اُس موقعے پر ہوتا ہے جب یہودیوں کی ایک عید تھی۔ بہت سے علماکہتے ہیں کہ یہ عیدِ فسح تھی۔ مگر یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ یسوع یہودی گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور اُن تمام آئین و احکام کا فرماں بردار تھا جو خدا نے یہودی قوم کو دیئے تھے۔ اِس لئے یسوع عید منانے کے لئے «یروشلیم کو گیا۔» خداوند یسوع پرانے عہدنامے کا یہوواہ ہے۔ اُسی نے عیدِ فسح منانا مقرر کیا تھا۔ اب بحیثیت اِنسان وہ اپنے باپ کا فرماں بردار تھا۔ وہ اُن احکام کی تعمیل کرتا تھا جو اُس نے بنائے تھے۔
۵:۲ «یروشلیم میں… ایک حوض ہے جو… بیت حسدا کہلاتا ہے۔» بیت حسدا کا مطلب ہے «رحمت کا گھر» یا «ترس کا گھر»۔ یہ «حوض» «بھیڑ دروازہ» کے قریب واقع تھا۔ اِس کی صحیح جائے وقوع اب دریافت ہو چکی ہے (یہ کروسیڈ چرچ آف سینٹ این کے قریب ہے)۔ وہاں کھدائی کی گئی ہے۔ اِس حوض کے اِرد گرد «پانچ برآمدے» تھے۔ اِن میں لوگوں کی بڑی تعداد کے لئے گنجائش تھی۔ بائبل مقدس کے بعض علما سمجھتے ہیں کہ یہ پانچ برآمدے موسوی شریعت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اور اِس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ شریعت اِنسان کو تکالیف اور مصائب سے بچانے میں قاصر ہے۔
۵:۳ صاف نظر آتا ہے کہ بیت حسدا کا حوض اِس بات کے لئے مشہور تھا کہ وہاں شفا کے معجزے ہوتے تھے۔ حوض کے اِرد گرد برآمدوں میں «بہت سے بیمار» یہ اُمید لے کر پڑے رہتے تھے کہ ہمیں شفا ملے گی۔ اُن میں «اندھے اور لنگڑے اور پژمُردہ» (مفلوج) لوگ شامل تھے۔ مختلف قسم کی یہ کمزوریاں گناہ آلودہ اِنسان کا اندھا پن، بے چارگی اور ناچاری، لنگڑا پن اور نکماپن کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
یہ لوگ اپنے بدن میں گناہ کے اثرات سے دُکھ پا رہے تھے۔ وہ «پانی کے ہلنے کے منتظر» رہتے تھے۔ اُن کے دِلوں میں اپنی بیماری سے چھٹکارا پانے کی تمنا تھی۔ جے۔ جی۔ بیلٹ (Bellett)کہتا ہے:
«وہ (بیمار افراد) اُس غیر یقینی اور مایوس کن پانی کے آس پاس پڑے تھے حالانکہ خدا کا بیٹا موجود تھا۔ بے شک اِس میں ہمارے لئے ایک سبق ہے۔ حوض کے گرد اِنسانوں کا ہجوم ہے۔ یسوع وہاں سے گزر رہا ہے مگر کوئی اُس کی طرف دھیان نہیں دیتا!…آئین اور احکام کا تانا بانا اور عمل نہایت پیچیدہ ہے۔ مگر اِنسان اِن ہی کی تلاش میں رہتا ہے۔ خدا کے فضل کی تحقیر اور بے قدری جاری رہتی ہے۔»
۵:۴ جتنا بیان یہاں دِیا گیا ہے وہ ہمارے تجسُس کی تشفی کے لئے ناکافی ہے۔ ہمیں صرف اِتنا بتایا گیا ہے کہ «وقت پر خداوند کا فرشتہ حوض پر اُتر کر پانی ہلایا کرتا تھا۔» اُس وقت جو کوئی «پہلے» پانی میں اُترتا وہ شفا پا جاتا تھا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کتنا قابلِ رحم منظر ہوتا تھا۔ اِتنے بے شمار لوگ شفا کے محتاج تھے۔ ہر ایک پانی میں اُترنے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر شفا صرف ایک شخص کو ملتی تھی۔
۵:۵،۶ وہاں اِنتظار کرنے والوں میں سے ایک شخص «اڑتیس برس» سے معذور پڑا تھا۔ مطلب ہے کہ وہ نجات دہندہ کی پیدائش سے بھی پہلے سے اِسی حالت میں تھا۔ خداوند یسوع کو ہر بات کا کامل علم تھا۔ وہ اُس آدمی سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا تو بھی جانتا تھا کہ یہ شخص «بڑی مدت سے اِس حالت میں ہے۔»
نہایت محبت بھرے ترس کے ساتھ خداوند نے «اُس سے کہا۔ کیا تُو تندرست ہونا چاہتا ہے؟» یسوع جانتا تھا کہ اُس آدمی کی دلی خواہش یہی ہے۔ مگر وہ اُس سے یہ اِقرار بھی کرانا چاہتا تھا کہ مَیں بے بس ہوں اور شفا پانے کا سخت حاجت مند۔ نجات پانے کے سلسلے میں بھی یہی حال ہوتا ہے۔ خداوند جانتا ہے کہ ہمیں نجات پانے کی سخت ضرورت ہے۔ مگر وہ ہمارے لبوں سے اِس بات کا اِقرار سننے کا اِنتظار کرتا ہے کہ ہم کھوئے ہوئے ہیں اور ہمیں اُس کو نجات دہندہ قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے اِرادے سے نجات نہیں پاتے۔ مگر ضرور ہے کہ اِنسانی اِرادہ برسرِعمل ہو۔ تب ہی خدا نجات بخشتا ہے۔
۵:۷ «اُس بیمار» کا جواب کس قدر رحم طلب تھا۔ برسوں سے وہ اِس حوض کے کنارے پڑا تھا۔ اُس میں اُترنے کا منتظر تھا۔ مگر «جب پانی ہلایا» جاتا تھا تو اُس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ ہر دفعہ وہ حوض میں اُترنے کی کوشش کرتا، مگر کوئی دوسرا اُس سے پہلے اُتر جاتا تھا۔ اِس سے ہمیں یاد آتا ہے کہ اگر ہم اپنے گناہوں سے چھٹکارے کے لئے اپنے ساتھی اِنسانوں پر اِنحصار کرتے ہیں تو کیسی مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔
۵:۸ اُس آدمی کی «چارپائی» کیا تھی؟ ایک ہلکا سا گدا یا کپڑے کی چٹائی (گُدڑی)۔ یسوع نے اُس سے کہا، «اُٹھ اور اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پھر۔» یہاں سبق یہ ہے کہ جب ہمیں نجات ملتی ہے تو صرف یہی نہیں کہا جاتا کہ اُٹھو، بلکہ یہ بھی کہ چلو پھرو۔ خداوند یسوع ہمیں گناہ کے طاعون سے شفا دیتا ہے اور پھر توقع کرتا ہے کہ ہم اُس (یسوع) کے شایانِ شان چلیں پھریں گے۔
۵:۹ نجات دہندہ کبھی کسی کو ایسا کام کرنے کو نہیں کہتا جس کے کرنے کی طاقت نہیں دیتا۔ وہ اُس معذور شخص سے کہہ ہی رہا تھا کہ اُس کے بدن میں نئی زندگی اور طاقت دوڑنے لگی۔ وہ فی الفور شفا پا گیا۔ یہ صحت یابی بتدریج نہیں تھی۔ وہ اعضا جو برسوں سے کمزور اور بے کار تھے اچانک طاقت سے پھڑکنے لگے۔ ساتھ ہی اُس نے خداوند کے حکم کی فوری تعمیل کی۔ «وہ… اپنی چارپائی اُٹھا کر چلنے پھرنے لگا۔» اُس کے لئے کیسی پُرجوش بات تھی کہ برسوں کی بیماری کے بعد چل پھر رہا تھا۔
یہ معجزہ سبت کے دن ہوا، یعنی ہفتہ کے ساتویں دن یا ہمارے ہفتے کے دن۔ یہودیوں کو سبت کے دن ہر قسم کا کام کرنے کی ممانعت تھی۔ یہ (سابق بیمار) آدمی بھی یہودی تھا۔ لیکن خداوند یسوع کی ہدایت پر اُس نے اپنی چار پائی اُٹھا کر چلنے پھرنے میں مطلق تامل نہ کیا۔ حالانکہ اِس دن کے بارے میں یہودی روایت کچھ اَور تھی۔
ب۔ یہودیوں کی طرف سے مخالفت (۵:۱۰-۱۸)
۵:۱۰ جب «یہودیوں» نے اُس آدمی کو «سبت کے دن» چارپائی اُٹھائے ہوئے دیکھا تو اُسے ٹوکا۔ یہ لوگ مذہبی رسومات کے ماننے میں بڑے سخت، بلکہ ظالم تھے۔ وہ شریعت کے الفاظ سے بڑے سختی سے چمٹے ہوئے تھے، لیکن خود کسی پر ترس نہیں کھاتے تھے۔
۵:۱۱ جس آدمی کو شفا ملی تھی اُس نے نہایت سادہ سا جواب دیا کہ «جس نے مجھے تندرست کیا اُسی نے مجھے فرمایا کہ اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پھر۔» جس شخص کو یہ قدرت حاصل تھی کہ اڑتیس برس کے بیمار آدمی کو شفا دے دے اُس کا حکم ماننا واجب تھا، خواہ کہتا کہ سبت کے دن چارپائی اُٹھا کر چلو پھرو! شفا پانے والے آدمی کو اُس وقت علم نہ تھا کہ خداوند یسوع دراصل ہے کون۔ اُس نے اُس کے بارے میں عام سی بات کہہ دی لیکن دلی شکرگزاری کے ساتھ کہی۔
۵:۱۲ یہودیوں کو یہ جاننے کا بڑا اِشتیاق تھا کہ وہ ہے کون جس نے اُس آدمی کو ہماری سبت کی روایت توڑنے کی ہدایت کرنے کی جرأت کی ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے اُس سے کہا کہ اُس قصور وار شخص کی نشان دہی کر۔ اُس کی شناخت کر۔ موسیٰ کی شریعت کا حکم تھا کہ جو شخص سبت کو توڑے اُسے سنگسار کیا جائے۔ یہودیوں کو اِس بات کی قطعاً پروا نہ تھی کہ ایک معذور شخص کو شفا ملی ہے۔
۵:۱۳ شفا پانے والا آدمی جانتا نہ تھا کہ وہ کون تھا جس نے اُسے تندرست کیا ہے۔ چنانچہ اُس کی نشاندہی کرنا مشکل تھا کیونکہ «یسوع وہاں سے ٹل گیا تھا۔» اِس لئے کہ بھیڑ لگ رہی تھی۔
یہ واقعہ خداوند یسوع مسیح کی علانیہ خدمت کے ایک بڑے موڑ کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ اُس نے یہ معجزہ سبت کے دن کیا تھا اِس لئے یہودی لیڈروں کا غیض و غضب بھڑک اُٹھا تھا۔ چنانچہ وہ اُس کا پیچھا کر کے اُسے قتل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
۵:۱۴ کچھ وقت کے بعد شفا پانے والا آدمی «یسوع کو ہیکل میں ملا۔» یقینا وہ اِس عجیب معجزے کے لئے خدا کا شکر کرنے وہاں گیا تھا۔ خداوند نے اُسے یاد دلایا کہ جب تجھ پر اِتنا بڑا کرم ہوا ہے تو تجھ پر کچھ سنجیدہ فرض عائد ہوتا ہے۔ اعزاز کے ساتھ ہمیشہ ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ «دیکھ، تُو تندرست ہو گیا ہے۔ پھر گناہ نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ تجھ پر اِس سے بھی زیادہ آفت آئے۔» یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اُس آدمی پر یہ بیماری اُس کے کسی گناہ کے سبب سے آئی تھی۔ اِس بات کا اِطلاق ہر بیماری پر نہیں ہوتا۔ کئی دفعہ اِنسان کی بیماری کا براہِ راست کسی گناہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر شیرخوار بچے اکثر بیمار ہوتے ہیں جب کہ اُن کی عمر اِتنی نہیں ہوتی کہ جانتے بوجھتے ہوئے گناہ کریں۔
یسوع نے کہا، «پھر گناہ نہ کرنا۔» اِس سے خدا کے معیارِ پاکیزگی کا پتا چلتا ہے۔ اگر وہ کہتا کہ «جہاں تک ممکن ہو گناہ نہ کرنا» تو وہ خدا نہ ہوتا۔ خدا کسی صورت میں بھی گناہ سے چشم پوشی نہیں کرتا۔ اِس کے ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ «ایسا نہ ہو کہ تجھ پر اِس سے بھی زیادہ آفت آئے۔» خداوند نے وضاحت نہیں کی کہ «زیادہ آفت» کیا ہو سکتی ہے۔ تاہم اُس کا مقصد یہ سمجھانا تھا کہ گناہ کے نتائج صرف جسمانی بیماری تک ہی محدود نہیں، بلکہ اِس سے کہیں زیادہ ہولناک بھی ہوتے ہیں۔ جو لوگ اپنے گناہوں میں مرتے ہیں وہ اَبدی غضب اور عذاب میں رہیں گے۔
فضل کو ٹھکرا دینا شریعت کی خلاف ورزی کرنے سے زیادہ خطرناک بات ہے۔ یسوع نے اُس آدمی پر بے حد رحم کیا اور محبت دکھائی تھی۔ اگر اب بھی وہ ویسی ہی گناہ آلودہ زندگی گزارتا ہے جس کے باعث اُس پر بیماری آئی تھی تو یہ نہایت بُرا ردِعمل ہو گا۔
۵:۱۵ سامری عورت کی طرح یہ آدمی بھی اپنے نجات دہندہ کے بارے میں علانیہ گواہی دینا چاہتا تھا۔ اُس نے «یہودیوں کو خبر دی کہ جس نے مجھے تندرست کیا وہ یسوع ہے»۔ وہ یسوع کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا تھا۔ مگر یہودی اِس قسم کی تحسین و آفرین میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اُن کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ اُسے پکڑ کر سزا دیں۔
۵:۱۶ یہاں اِنسان کا شریر دل بہت بُری طرح بے نقاب ہے۔ نجات دہندہ نے آ کر شفا کا زبردست کام کیا تھا۔ لیکن یہ یہودی غضب ناک ہو گئے۔ وہ اِس بات پر سیخ پا تھے کہ معجزہ سبت کے دن ہوا ہے۔ وہ سرد مہر مذہب پرست تھے۔ اُن کو اپنے ہم جنس اِنسانوں کی فلاح اور برکت کی نسبت رسومات اور روایات کی پابندی کا زیادہ پاس تھا۔ اُن کو احساس اور شعور نہیں تھا کہ جس ہستی نے شروع میں سبت کو مخصوص کیا، آج وہی سبت کے دن رحم کا کام کر رہا ہے۔ خداوند یسوع نے سبت کو نہیں توڑا تھا۔ شریعت اُس دن خادمانہ کام کرنے سے منع کرتی ہے۔ لیکن ضروری اور رحم کے کام کرنے سے ہرگز منع نہیں کرتی۔
۵:۱۷ تخلیق کا کام چھے دنوں میں ختم کرنے کے بعد خدا نے ساتویں دن آرام کیا۔ یہی سبت ہے۔ البتہ جب گناہ دُنیا میں آ گیا تو خدا کے آرام میں خلل پڑ گیا۔ اب اُسے مرد و زن کو اپنی شراکت میں واپس لانے کے لئے مسلسل کام کرنا تھا۔ اُسے کفارہ /فدیہ مہیا کرنا تھا۔ مخلصی کا ذریعہ مہیا کرنا تھا۔ اُسے ہر پشت کے لئے انجیل کا پیغام بھیجنا تھا۔ یوں آدم کی گراوٹ سے لے کر «باپ اب تک کام کرتا ہے۔» خداوند یسوع کا بھی یہی حال ہے۔ وہ اپنے باپ کے کام میں مصروف تھا اور اُس کی محبت اور فضل ہفتے کے صرف چھے دنوں تک محدود نہیں ہو سکتا۔
۵:۱۸ یہ آیت بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ «یہودی اَور بھی زیادہ اُسے (خداوند یسوع) قتل کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ وہ نہ فقط سبت کا حکم توڑتا بلکہ خدا کو خاص اپنا باپ کہہ کر اپنے آپ کو خدا کے برابر بناتا ہے۔» وہ اپنی تنگ ذہنی کے باعث سمجھتے تھے کہ خداوند نے سبت کو توڑا ہے حالانکہ یہ بات درست نہ تھی۔ اُن کو خیال نہیں تھا کہ خدا کا ہرگز اِرادہ نہ تھا کہ سبت اِنسان پر سختی کا باعث بنے۔ اگر ایک آدمی سبت کے دن بیماری سے شفا پا سکتا ہے تو خدا ہرگز اِجازت نہیں دے گا کہ وہ مزید ایک دن دُکھ میں رہے۔
جب یسوع نے «خدا» کو «میرا باپ» کہا تو یہودیوں کو احساس ہو گیا کہ وہ «اپنے آپ کو خدا کے برابر بناتا ہے»۔ اُن کے نزدیک یہ ہولناک کفر تھا حالانکہ دراصل یہ صرف حقیقت تھی (اور ہے)۔
کیا خداوند یسوع نے واقعی اپنے آپ کو خدا کے برابر ٹھہرایا؟ اگر اُس کی یہ نیت نہ ہوتی تو وہ یہودیوں سے صاف صاف کہہ دیتا۔ مگر اِس کے برعکس اگلی آیات میں اُس نے زیادہ ٹھوس الفاظ میں کہا کہ مَیں باپ کے ساتھ ایک ہوں۔ جے۔ سڈلو بیکسٹر (Sidlow Baxter) اِس سلسلے میں یوں کہتا ہے:
وہ سات خصوصیات میں برابری کا دعویٰ کرتا ہے
- کام کرنے میں برابری۔ «جن کاموں کو وہ (باپ) کرتا ہے اُنہیں بیٹا بھی اُسی طرح کرتا ہے» (آیت ۱۹)۔
- علم میں برابری۔ «باپ بیٹے کو عزیز رکھتا ہے اور جتنے کام خود کرتا ہے، اُسے دِکھاتا ہے» (آیت ۲۰)۔
- مُردوں کو زندہ کرنے میں برابری۔ «جس طرح باپ مُردوں کو اُٹھاتا اور زندہ کرتا ہے اُسی طرح بیٹا بھی جنہیں چاہتا ہے زندہ کرتا ہے» (آیت ۲۱ مع آیات ۲۸،۲۹)۔
- عدالت کرنے میں برابری۔ «باپ کسی کی عدالت بھی نہیں کرتا بلکہ اُس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے» (آیت ۲۲ مع آیت ۲۷)۔
- تعظیم میں برابری۔ «تاکہ سب لوگ بیٹے کی عزت کریں۔ جس طرح باپ کی عزت کرتے ہیں» (آیت ۲۳)۔
- نئی زندگی بخشنے میں برابری۔ «جو میرا کلام سنتا اور میرے بھیجنے والے کا یقین کرتا ہے… وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا ہے» (آیت ۲۴،۲۵)۔
- قائم بالذات ہونے میں برابری۔ «کیونکہ جس طرح باپ اپنے آپ میں زندگی رکھتا ہے اُسی طرح اُس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زندگی رکھے» (آیت ۲۶)۔
ج۔ یسوع خدا کے برابر ہونے کے اپنے دعوے کا دفاع کرتا ہے (۵:۱۹-۲۹)
۵:۱۹ نجات دہندہ کا خدا باپ کے ساتھ اِتنا گہرا تعلق تھا کہ وہ کوئی کام اپنے آپ سے نہیں کر سکتا تھا۔ مطلب یہ نہیں کہ اُسے اپنے آپ سے کوئی کام کرنے کا اِختیار یا قدرت نہ تھی بلکہ وہ خدا کے ساتھ اِس قدر ایک تھا کہ وہ صرف وہی کام کر سکتا تھا جو «باپ کو کرتے دیکھتا» تھا۔ خداوند نے باپ کے ساتھ برابری کا دعویٰ کیا مگر خود مختار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ خدا کے ساتھ پورے طور پر برابر ہے مگر اُس سے الگ خود مختار نہیں ہے۔
خداوند یسوع واضح طور سے چاہتا تھا کہ یہودی مجھے خدا کے برابر سمجھیں۔ محض اِنسان کے لئے یہ دعویٰ کرنا بے ہودگی ہے کہ مَیں وہی کام کرتا ہوں جو خود «خدا» کرتا ہے۔ یسوع نے ہی یہ دعویٰ کیا۔ ایسا دعویٰ کرنے کے لئے لازم ہے کہ اُس کی باپ تک مسلسل رسائی ہو اور کامل علم ہو کہ آسمان میں کیا ہو رہا ہے۔ اِتنا ہی نہیں بلکہ یسوع یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ مَیں بھی وہی کام کرتا ہوں «جو باپ کو کرتے دیکھتا» ہوں۔ یہ فی الحقیقت خدا کے برابر ہونے کا دعویٰ یا بیان بالیقین ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔
۵:۲۰ بیٹے کے لئے باپ کی محبت کا خاص نشان یہ ہے کہ «جتنے کام خود کرتا ہے اُسے (بیٹے کو) دِکھاتا ہے۔» یہ کام یسوع نے نہ صرف دیکھے بلکہ اُنہیں کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اِس کے ساتھ ہی نجات دہندہ کہتا ہے کہ خدا «اِن سے بھی بڑے کام اُسے دِکھائے گا» تاکہ لوگ «تعجب کریں»۔ اُنہوں نے پہلے بھی خداوند کو معجزے کرتے دیکھا تھا۔ ابھی ابھی اُنہوں نے دیکھا تھا کہ اُس نے اڑتیس برس کے ایک معذور کو شفا بخشی۔ لیکن وہ اِس سے بھی «بڑے» عجائب دیکھیں گے۔ اور ایسا پہلا معجزہ «مردوں کو زندہ کرنا» ہو گا (آیت ۲۱)۔ اور دوسرا بنی نوعِ اِنسان کی «عدالت کرنا» ہو گا (آیت ۲۲)۔
۵:۲۱ یہ ایک اَور واضح بیان ہے کہ بیٹا باپ کے برابر ہے۔ یہودی یسوع پر الزام لگاتے تھے کہ یہ اپنے آپ کو خدا کے برابر بناتا ہے۔ اُس نے اِس الزام سے اِنکار نہیں کیا بلکہ تین زبردست ثبوت پیش کئے کہ مَیں اور باپ ایک ہیں۔ «جس طرح باپ مُردوں کو اُٹھاتا اور زندہ کرتا ہے، اُسی طرح بیٹا بھی جنہیں چاہتا ہے زندہ کرتا ہے۔» کیا کبھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ محض اِنسان ہے؟ یہ سوال خود اپنا جواب ہے۔
۵:۲۲ نیا عہدنامہ بتاتا ہے کہ خدا «باپ… نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے۔» اور یہ کام کرنے کے لئے یقینا لازم ہے کہ مطلق علم اور کامل راست بازی رکھتا ہو۔ وہ اِنسان کے دل کے خیال اور ارادے جانتا اور سمجھتا ہے۔ کتنی عجیب بات تھی کہ ساری دُنیا کا منصف اُن یہودیوں کے سامنے کھڑا تھا۔ اپنا اِختیار اُن کو بتا رہا تھا تو بھی وہ اُسے نہیں پہچانتے تھے!
۵:۲۳ یہاں وجہ بیان کی گئی ہے کہ خدا نے مُردوں کو زندہ کرنے اور دُنیا کی عدالت کرنے کا اِختیار اپنے بیٹے کے سپرد کیوں کیا ہوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ «سب لوگ بیٹے کی عزت کریں جس طرح باپ کی عزت کرتے ہیں»۔ یہ سب سے اہم بیان ہے اور خداوند یسوع مسیح کی الوہیت کا واضح ترین ثبوت ہے۔ بائبل مقدس میں شروع سے آخر تک یہی تعلیم ہے کہ صرف خدا کی پرستش کرو۔ صرف اُسی کو سجدہ کرو۔ دس احکام میں اِنسانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ سوائے حقیقی خدا کے کسی اَور کو معبود نہ بنائیں۔ اب یہاں بتایا گیا ہے کہ «سب لوگ بیٹے کی عزت کریں جس طرح باپ کی عزت کرتے ہیں۔» اِس آیت سے ہم صرف اِسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یسوع مسیح خدا ہے۔
بہت سے لوگ خدا کی عبادت اور پرستش کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن یسوع مسیح کو خدا ماننے سے اِنکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یسوع ایک نیک اِنسان تھا، یا کسی اَور اِنسان کی نسبت زیادہ خدا کی مانند تھا۔ مگر یہ آیت اُس کو کامل طور پر خدا کے برابر قرار دیتی اور مطالبہ کرتی ہے کہ اِنسان یسوع کو «وہی عزت» دیں جو «خدا باپ» کو دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص «بیٹے کی عزت نہیں کرتا» تو وہ «باپ کی… عزت نہیں کرتا»۔ اگر کوئی خداوند یسوع مسیح سے ویسی محبت نہیں کرتا جیسی خدا سے کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اُس کا دعویٰ باطل ہے۔ اگر آپ کو پہلے کبھی احساس و شعور نہیں ہوا کہ یسوع مسیح کون ہے تو اِس آیت پر احتیاط سے غور کریں۔ یاد رکھیں کہ خدا کا کلام ہی یہ بات کہتا ہے۔ لہٰذا یہ جلالی حقیقت قبول کر لیں کہ یسوع مسیح میں خدا جسم میں ظاہر ہوا۔
۵:۲۴ گذشتہ آیات میں ہم نے سیکھا کہ خداوند یسوع زندگی بخشنے کا اِختیار اور قدرت رکھتا ہے اور یہ بھی کہ عدالت کا کام اُس کے سپرد کیا گیا ہے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اِنسان اُس سے کس طرح روحانی زندگی حاصل کر سکتا اور غضب یعنی «سزا کے حکم» سے بچ سکتا ہے۔
یہ بائبل مقدس کی ایک نہایت پسندیدہ آیت ہے۔ اِس کے پیغام سے لاتعداد لوگ ہمیشہ کی زندگی میں داخل ہو چکے ہیں۔ بلاشبہ یہ آیت اِس لئے اِتنی مقبول اور دل آویز ہے کہ نجات کے راستے کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ خداوند یسوع نے بات کا آغاز «مَیں تم سے سچ سچ کہتا ہوں» کے الفاظ سے کیا۔ یوں وہ جو بات کہنے کو تھا اُس کی اہمیت کی طرف توجہ دِلائی۔ یہاں لفظ «تم سے» بھی قابلِ غور ہیں۔ خدا کا بیٹا آج ہم سے بھی اُسی اپنائیت اور شخصی طور سے مخاطب ہے۔
«جو میرا کلام سنتا» ہے۔ یسوع کے کلام کو سننے کا مطلب صرف سننا ہی نہیں، بلکہ قبول کرنا، اُس پر ایمان لانا اور اُس پر عمل کرنا بھی ہے۔ بہت سے لوگ اِنجیل کی منادی سنتے ہیں مگر اِس کے بارے میں کرتے کچھ نہیں۔ یہاں خداوند کہتا ہے کہ اِنسان کو قبول کرنا چاہئے کہ میری تعلیم خدا کی ہے اور ایمان لانا چاہئے کہ مَیں واقعی دُنیا کا نجات دہندہ ہوں۔
«اور میرے بھیجنے والے کا یقین کرتا ہے۔» یہ خدا کا یقین کرنے کی بات ہے۔ لیکن کیا اِس کا مطلب ہے کہ اِنسان صرف خدا کا یقین کرنے سے نجات پاتا ہے؟ بہت سے لوگ خدا کا یقین کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اُن کی کبھی نئی پیدائش نہیں ہوئی، یعنی مسیح پر ایمان نہیں لائے! نہیں۔ یہاں خیال یہ ہے کہ اِنسان خدا کا یقین کرے جس نے خداوند یسوع مسیح کو دُنیا میں بھیجا۔ یہ یقین کرے کہ خدا نے خداوند یسوع کو اِس لئے بھیجا کہ ہمارا نجات دہندہ ہو۔ اِن ساری باتوں پر یقین کرنا ضرور ہے جو خدا نے خداوند یسوع کے بارے میں کہی ہیں کہ صرف وہی واحد نجات دہندہ ہے۔ اور گناہ صرف اُس کے اُس کام سے دُور ہوتے ہیں جو اُس نے کلوری پر کیا۔
«ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے۔» غور کریں کہ یہ نہیں کہا گیا کہ اُسے ہمیشہ کی زندگی ملے گی بلکہ یہ کہ «ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے»۔ «ہمیشہ کی زندگی» خداوند یسوع مسیح کی زندگی ہے۔ یہ زندگی فقط وہ زندگی نہیں جو ہمیشہ جاری رہے گی بلکہ یہ نجات دہندہ کی زندگی ہے جو ہم ایمان لانے والوں کو بخشی گئی ہے۔ یہ روحانی زندگی ہے اور اُس وقت ملتی ہے جب اِنسان نئے سرے سے پیدا ہوتا ہے۔ اِس کے برعکس طبعی زندگی ہے جو جسمانی پیدائش کے وقت ملتی ہے۔
«اُس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا۔» یہاں یہ حقیقت بیان ہوئی ہے کہ ایمان لانے والے پر نہ اِس وقت سزا کا حکم ہے، نہ آئندہ کبھی ہو گا۔ جو شخص خداوند یسوع پر ایمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حکم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مسیح نے کلوری پر اُس کے گناہوں کی سزا برداشت کر لی ہے۔ خدا سزا کا مطالبہ دو دفعہ نہیں کرے گا۔ مسیح نے ہمارا عوضی ہو کر یہ قیمت ادا کر دی ہے اور یہ کافی ہے۔ اُس نے کام پورا کر دیا ہے۔ اور پورے کام میں اَور کچھ نہیں بڑھایا جا سکتا۔ نجات یافتہ شخص کو اُس کے گناہوں کی سزا کبھی نہیں ملے گی۔ کئی اَور آیات ہیں جو سکھاتی ہیں کہ ایک دن ایمان دار مسیح کے تخت ِعدالت کے سامنے کھڑا ہو گا (رومیوں ۱۴:۱۰؛ ۲۔کرنتھیوں ۵:۱۰) البتہ اُس موقعے پر اُس کے گناہوں کی سزا کا سوال نہیں اُٹھایا جائے گا۔ اِس سوال کا فیصلہ کلوری پر ہو چکا ہے۔ مسیح کے تخت ِعدالت کے سامنے ایمان دار کی زندگی اور خدمت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور اُس کو یا تو اجر ملے گا یا وہ نقصان اُٹھائے گا۔ اُس وقت اُس کی روح کی نجات کا سوال نہیں ہو گا بلکہ دیکھا جائے گا کہ اُس کی زندگی کتنی پھل دار رہی ہے۔
«وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔» جو شخص مسیح پر ایمان لے آیا ہے وہ روحانی موت کی حالت سے «نکل کر» روحانی «زندگی» میں داخل ہو گیا ہے۔ ایمان لانے سے پہلے وہ گناہوں میں مُردہ ہوتا ہے۔ جہاں تک خدا کے ساتھ محبت اور خداوند کے ساتھ رفاقت کا تعلق ہے، وہ مُردہ ہوتا ہے۔ جب وہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتا ہے، تو روح القدس اُس کے اندر بسنے لگتا ہے اور وہ الٰہی زندگی کا مالک بن جاتا ہے۔
۵:۲۵ یہ باب ۵ میں تیسرا اور یوحنا کی اِنجیل میں اب تک ساتواں موقع ہے کہ خداوند نے «سچ کہتا ہوں» کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جب اُس نے کہا کہ «وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے» تو وہ گھڑی کے وقت کی بات نہیں کر رہا تھا بلکہ یہ کہ وہ زمانہ آ رہا ہے بلکہ آ چکا ہے، یعنی خداوند کے تاریخ کی سٹیج پر آنے کا زمانہ — اب وہ آ چکا تھا۔
اِس آیت میں جن «مُردوں» کا ذکر کیا گیا ہے وہ کون ہیں؟ وہ کون ہیں جو «خدا کے بیٹے کی آواز سنیں گے اور…جئیں گے»؟ ہو سکتا ہے کہ اِشارہ اُن لوگوں کی طرف ہے جو خداوند کی خدمت کے دوران مُردوں میں سے زندہ کئے گئے۔ مگر یہ آیت وسیع تر مفہوم رکھتی ہے۔ جن «مُردوں» کا یہاں ذکر ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گناہوں میں مُردہ ہیں۔ جب اِنجیل کی منادی ہوتی ہے اُس وقت یہ «خدا کے بیٹے کی آواز» سنتے ہیں۔ جب وہ کلام کو قبول کرتے اور نجات دہندہ پر ایمان لاتے ہیں اُس وقت وہ «موت سے نکل کر زندگی میں داخل» ہوتے ہیں۔
آیت ۲۵ میں طبعی اور جسمانی نہیں بلکہ روحانی معاملات کی بات کی گئی ہے۔ اِس تصور کی حمایت کرتے ہوئے ہم اِس آیت اور آیات ۲۸،۲۹ کے درمیان تقابل اور مشابہت کا بیان کرتے ہیں۔
| آیت ۲۵۔ موت سے زندگی میں آنا | آیات ۲۸،۲۹۔ موت کے بعد کی زندگی |
| «وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے۔» | «وہ وقت آتا ہے»۔ |
| «مُردے» | «جتنے قبروں میں ہیں» |
| «آواز سنیں گے» | «اُس کی آواز سنیں گے» |
| «جو سنیں گے وہ جئیں گے» | قبروں سے «نکلیں گے۔» |
۵:۲۶ یہ آیت وضاحت کرتی ہے کہ اِنسان خداوند یسوع سے کس طرح زندگی پا سکتا ہے۔ «جس طرح باپ» زندگی کا سرچشمہ اور «زندگی» دینے والا ہے «اُسی طرح اُس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زندگی رکھے» اور دوسروں کو بھی دے سکے۔ یہ بھی مسیح کی الوہت اور باپ کے ساتھ برابری کا ایک واضح بیان ہے۔ کسی اِنسان کے بارے میں ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنے آپ میں زندگی رکھتا ہے۔ ہم سب کو زندگی دی گئی ہے۔ مگر باپ یا خداوند یسوع کو کبھی زندگی نہیں دی گئی۔ ازل سے زندگی اُن میں ہے۔ اِس زندگی کا کوئی شروع نہیں۔ اِس کا سرچشمہ باپ اور بیٹے کے علاوہ اَور کوئی نہیں۔
۵:۲۷ خدا نے نہ صرف یہ بخشا کہ بیٹااپنے آپ میں زندگی رکھے بلکہ «اُسے» دُنیا کی «عدالت کرنے کا بھی اِختیار بخشا» ہے۔ یسوع کو عدالت کرنے کا اِختیار اِس لئے دیا گیا ہے کہ «وہ آدم زاد» ہے۔» «خدا کا بیٹا» کا لقب اِس لئے دیا گیا ہے کہ ہمیں یاد دلایا جائے کہ خداوند یسوع پاک تثلیث کا ایک رُکن ہے۔ خدائے ثالوث کا ایک اقنوم ہے۔ بحیثیت «خدا کا بیٹا» وہ باپ اور روح القدس کے برابر ہے۔ بحیثیت خدا کا بیٹا وہ زندگی دیتا ہے۔ لیکن وہ «ابنِ آدم» یعنی «آدم زاد» بھی ہے۔ وہ آدم بن کر اِس دُنیا میں آیا۔ اِنسانوں کے درمیان رہا اور مرد و زن کے عوض صلیب پر موأ۔ جب وہ بحیثیت بشر دُنیا میں آیا تو اُسے ردّ اور مصلوب کر دیا گیا۔ جب دوبارہ آئے گا تو اپنے دشمنوں کی عدالت کرنے آئے گا۔ جس دُنیا میں اُس کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیا گیا تھا، اُسی دُنیا میں اُس کی عزت اور تعظیم کی جائے گی۔ چونکہ وہ اِنسان اور خدا دونوں ہے، اِس لئے منصف بننے کا کامل طور پر اہل ہے۔
۵:۲۸ جب مسیح خدا باپ کی برابری کے یہ زبردست دعوے کر رہا تھا تو جو یہودی سن رہے تھے وہ سخت حیران ہو رہے تھے۔ بے شک وہ اُن کے خیالات کو جانتا اور سمجھتا تھا۔ اِس لئے یہاں اُن سے کہتا ہے کہ اِن باتوں پر «تعجب نہ کرو»۔ اِس کے بعد اُس نے اَور زیادہ چونکا دینے والی حقیقت کا اِنکشاف کیا کہ «وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں اُس کی آواز سن کر نکلیں گے۔» جو خدا نہ ہو اُس کے لئے ایسی پیش گوئی کرنا کیسی حماقت ہو گی کہ قبروں میں پڑی ہوئی لاشیں ایک دن میری آواز سنیں گی! صرف خدا ہی ایسے بیان کا دعوے دار ہو سکتا ہے۔
۵:۲۹ وہ دن آتا ہے جب سارے مُردے زندہ کئے جائیں گے۔ بعض «زندگی کی قیامت کے واسطے» اور بعض «سزا کی قیامت کے واسطے»۔ یہ کیسی سنجیدہ سچائی ہے کہ ہر وہ شخص جو کبھی اِس دُنیا میں موجود تھا، یا آئندہ موجود ہو گا، وہ اِن دو میں سے ایک طبقے میں شامل ہو گا۔
قیامت کے موضوع پر بائبل مقدس میں اگر صرف یہی ایک آیت ہوتی تو خیال کیا جا سکتا تھا کہ سارے مُردے ایک ہی وقت زندہ کئے جائیں گے۔ لیکن ہم پاک نوشتوں کے دیگر حصوں اور خصوصاً مکاشفہ ۲۰ باب سے جانتے ہیں کہ دو قیامتوں کے درمیان کم سے کم ایک ہزار سال کا وقفہ ہے۔ پہلی قیامت اُن کی ہے جو مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے سے بچائے گئے ہیں۔ دوسری قیامت میں وہ سب شامل ہوں گے جو ایمان لائے بغیر مر گئے۔
آیت ۲۹ ہرگز یہ تعلیم نہیں دیتی کہ جن لوگوں نے نیکیاں کی ہیں وہ اپنے نیک کاموں کی وجہ سے نجات پائیں گے اور جنہوں نے بدیاں کی ہیں اُن کو بُرے کاموں کی وجہ سے سزا ملے گی۔ کوئی اِنسان «نیکی» کرنے سے نجات نہیں پاتا، بلکہ نیکیاں اِس لئے کرتا ہے کہ وہ نجات پا چکا ہے۔ نیک کام نجات کی جڑ نہیں، بلکہ پھل ہیں۔ وہ علت نہیں بلکہ معلول ہیں۔ «جنہوں نے بدی کی ہے۔» یہ الفاظ اُن لوگوں کو بیان کرتے ہیں جو خداوند یسوع پر کبھی ایمان نہیں لائے۔ جنہوں نے کبھی اُس کا یقین نہیں کیا۔ اور اِس کے نتیجے میں خدا کی نظروں میں اُن کی زندگیاں «بدی» ہیں۔ یہ اِس لئے زندہ کئے جائیں گے کہ خدا کے سامنے کھڑے ہوں اور اَبدی سزا کا حکم سنیں۔
د۔ چار گواہ کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے (۵:۳۰-۴۷)
۵:۳۰ «مَیں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔» پہلی نظر میں تو اِس بیان سے یوں لگتا ہے جیسے خداوند یسوع کو اپنے آپ سے کچھ بھی کرنے کا اِختیار نہیں مگر بات یہ نہیں، بلکہ یہاں خیال یہ ہے کہ وہ خدا باپ کے ساتھ یہاں تک ایک ہے کہ اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے اِختیار سے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ نجات دہندہ میں اپنی مرضی کرنے کا تو شائبہ تک نہ تھا۔ وہ باپ کی کامل فرماں برداری کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ اُس کے ساتھ کامل رفاقت اور ہم آہنگی میں رہتا تھا۔
جھوٹے اُستاد اکثر اِس آیت کا سہارا لے کر تعلیم دیتے ہیں کہ یسوع مسیح خدا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ یسوع اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا تھا اِس لئے وہ فقط اِنسان ہے۔ مگر یہ آیت اِس کے برعکس ثابت کرتی ہے کہ وہ خدا ہے۔ اِنسان وہ کام کر سکتے ہیں جو چاہتے ہیں، خواہ یہ کام خدا کی مرضی کے مطابق ہوں، خواہ نہ ہوں۔ لیکن خداوند یسوع اپنی ذات کے باعث اِس طرح نہیں کر سکتا تھا۔ یہ طبعی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ روحانی اَسباب کی بنا پر ناممکن تھا۔ وہ طبعی لحاظ سے سب کچھ کرنے کی قدرت رکھتا تھا، مگر کوئی غلط کام نہیں کر سکتا تھا۔ یہ بیان خداوند یسوع کو تمام بنی نوعِ اِنسان سے الگ اور ممیز کرتا ہے۔
خداوند یسوع اپنے باپ سے جو کچھ سنتا اور اُس سے ہر روز جو ہدایات پاتا تھا اُس کے مطابق سوچتا، دوسروں کو سکھاتا اور عمل کرتا تھا۔ یہاں لفظ «عدالت کرنا» کا مطلب قانونی معاملات کا تصفیہ کرنا نہیں، بلکہ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ میرے (یسوع) لئے کیا کرنا اور کہنا مناسب اور درست ہے۔
چونکہ نجات دہندہ کی نیت میں خود غرضی قطعاً نہیں ہوتی تھی، وہ معاملات کا منصفانہ اور غیر جانب دارانہ فیصلہ کر سکتا تھا۔ اُس کی ایک ہی آرزُو تھی کہ اپنے باپ کی مرضی پوری کر کے اُسے خوش کرے۔ وہ کسی چیز کو اِس بات کی راہ میں رُکاوٹ نہیں بننے دیتا تھا۔ اِس لئے جب وہ عدالت کرتا تو کوئی ایسی بات اثر انداز نہیں ہو سکتی تھی جو اُس کے اپنے مفاد میں ہو۔ ہماری رائے اور تعلیمات پر اکثر وہ باتیں اثر انداز ہوتی ہیں جن کو ہم چاہتے ہیں یا جن پر ہمارا اعتقاد ہوتا ہے۔ مگر خدا کے بیٹے کا معاملہ ایسا نہیں تھا۔ اُس کی آرا یا عدالت اپنے حق میں جانب دارانہ نہیں ہوتیں۔ اِن میں کسی قسم کی طرف داری نہیں ہوتی۔ اِن میں کسی قسم کا تعصب نہیں۔
۵:۳۱ اِس باب کی بقیہ آیات میں خداوند یسوع اپنی الوہیت کے بارے میں مختلف گواہوں کا بیان کرتا ہے۔ اوّل تو یوحنا بپتسمہ دینے والے کی گواہی تھی (آیات ۳۲-۳۵)۔ پھر اُس کے اپنے کاموں کی گواہی (آیت ۳۶) اور باپ کی گواہی (آیات ۳۷،۳۸) اور پرانے عہدنامے کے صحائف کی گواہی (آیات ۳۹-۴۷)۔
پہلے تو یسوع نے گواہی کے موضوع پر عمومی بیان دیا۔ اُس نے کہا، «اگر مَیں خود اپنی گواہی دوں تو میری گواہی سچی نہیں۔» اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خداوند یسوع کبھی کوئی ایسی بات بھی کہہ سکتا ہے جو سچی نہ ہو۔ بلکہ وہ ایک عام اصول اور حقیقت کا بیان کر رہا تھا کہ قانون کی عدالت میں ایک آدمی کی گواہی کافی نہیں مانی جاتی۔ خدا کا اِلٰہی فرمان یہ ہے کہ قابلِ قبول اور مستند فیصلہ کرنے سے پہلے کم سے کم دو یا تین گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ چنانچہ خداوند یسوع اپنی الوہیت کے حق میں دو یا تین نہیں بلکہ چار گواہ پیش کرنے کو تھا۔
۵:۳۲ اِس آیت کے بارے میں یہ سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ آیا یہ آیت یوحنا بپتسمہ دینے والے کا ذکر کرتی ہے یا خدا باپ کا یا روح القدس کا۔ بعض علما کا کہنا ہے کہ لفظ «ایک اَور ہے» یوحنا بپتسمہ دینے والے کے بارے میں ہیں۔ اور یہ بھی کہ یہ آیت اگلی تین آیات سے منسلک ہے — دوسرے علما کا خیال ہے کہ یہاں خداوند اُس «گواہی» کا ذکر کر رہا ہے جو روح القدس یسوع کے حق میں دیتا ہے۔ ہمارے خیال میں وہ باپ کی «گواہی» کا ذکر رہا ہے۔
۵:۳۳ سب سے بڑے گواہ یعنی اپنے باپ کا تعارُف کرانے کے بعد خداوند یوحنا کی گواہی کا بیان کرتا ہے۔ اُس نے بے یقین یہودیوں کو یاد دلایا کہ «تم نے یوحنا کے پاس پیام بھیجا،» یعنی آدمی بھیجے تاکہ اُس کا پیغام سنیں۔ اور یوحنا کی ساری گواہی خداوند یسوع کے بارے میں تھی۔ وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے بجائے نجات دہندہ کی طرف متوجہ کرتا تھا۔ وہ اُس ہستی کی گواہی دیتا تھا جو «سچائی» ہے۔
۵:۳۴ خداوند یسوع نے اپنے سامعین کو یاد دلایا کہ میرا خدا کے برابر ہونے کا دعویٰ صرف «اِنسان کی گواہی» پر مبنی نہیں۔ اگر اُس کے پاس اپنے حق میں صرف اِتنی ہی گواہی ہوتی تو اُس کا دعویٰ نہایت کمزور ہوتا۔ لیکن اُس نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی گواہی کا ذکر اِس لئے کیا کیونکہ وہ ایسا اِنسان تھا جسے خدا نے بھیجا تھا۔ اور اِس لئے بھی کہ اُس نے خداوند یسوع کے بارے میں گواہی دی کہ فی الواقع مسیحِ موعود خدا کا برّہ ہے جو جہان کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔
اِس کے ساتھ ہی خداوند نے یہ بھی کہا کہ «مَیں یہ باتیں اِس لئے کہتا ہوں کہ تم نجات پاؤ۔» خداوند یسوع یہودیوں سے اِتنی طویل اور تفصیلی باتیں کیوں کر رہا تھا؟ کیا وہ صرف یہ ثابت کرنے کی کوشش میں تھا کہ مَیں حق بجانب ہوں اور تم غلطی پر ہو؟ نہیں، بلکہ یہ شاندار سچائیاں اِس لئے اُن کے سامنے پیش کر رہا تھا کہ وہ جان لیں کہ وہ کون ہے، اُسے موعودہ نجات دہندہ قبول کر لیں۔ یہ آیت ہمیں خداوند یسوع کے محبت بھرے اور رحم بھرے دل کا پورا نظارہ دِکھاتی ہے۔ وہ اُن لوگوں سے باتیں کر رہا تھا جو اُس سے نفرت کرتے اور دشمنی رکھتے تھے۔ اور جو بہت جلد ہر ممکن طریقے سے کوشش کرنے کو تھے کہ اُس کی جان لے لیں۔ لیکن اُس کے دل میں اُن کے لئے ہرگز کوئی نفرت نہ آئی۔ وہ اُن سے صرف پیار کر سکتا تھا۔
۵:۳۵ یہاں خداوند یسوع یوحنا بپتسمہ دینے والے کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ اُسے «جلتا اور چمکتا ہوا چراغ» قرار دیتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ بہت جوشیلا آدمی تھا جس کی خدمت دوسروں کو روشنی پہنچاتی تھی۔ اور جو اِسی جذبے سے سرشار تھا کہ دوسرے لوگوں کی توجہ مسیح پر مرکوز کرے۔ پہلے پہل تو یہودی جوق در جوق یوحنا کے پاس آتے تھے۔ اُس میں ایک نیا پن تھا۔ ایک عجیب شخص تھا جو اُن کی زندگیوں میں آ گیا تھا۔ اور وہ اُس کی سننے جاتے تھے۔ «کچھ عرصے تک» اُنہوں نے اُسے ایک مقبول قومی لیڈر مانا۔
تو پھر کیا وجہ تھی کہ یوحنا کو اِتنی سرگرمی کے ساتھ قبول کرنے کے بعد وہ اُس ہستی کو قبول نہ کریں جس کی وہ منادی کرتا تھا؟ وہ کچھ عرصے تک «خوش رہے» لیکن توبہ نہ کی۔ وہ ملتون مزاج تھے۔ اُنہوں نے نقیب کو تو قبول کر لیا لیکن بادشاہ کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے! یسوع نے یوحنا کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ اگر مسیح کے کسی خادم کو «جلتا اور چمکتا ہوا چراغ» قرار دیا جاتا ہے تو یہ خدا کے بیٹے کی طرف سے اُس کی بڑی تعریف ہے۔ ہم جو خداوند یسوع سے محبت رکھتے ہیں، کاش ہم میں سے ہر ایک کی یہی آرزو ہو کہ اُس کے لئے آگ کے شعلے بن جائیں۔ خود تو جل جائیں مگر دُنیا کو روشنی دیں۔
۵:۳۶ «یوحنا کی گواہی» مسیح کی الوہیت کی سب سے بڑی گواہی نہیں تھی۔ جو معجزے «باپ نے» اُسے دیئے تھے وہ بھی اِس کے «گواہ» تھے کہ واقعی «باپ نے» اُسے «بھیجا» تھا۔ اپنی ذات میں معجزات الوہیت کا ثبوت نہیں۔ بائبل مقدس میں ہم اُن اِنسانوں کے بارے میں بھی پڑھتے ہیں جن کو خدا نے معجزے کرنے کی قوت بخشی تھی۔ نیز یہ بھی پڑھتے ہیں کہ بدروحیں بھی فوق الفطرت کام کرتی ہیں۔ لیکن خداوند یسوع کے معجزے اُن سب سے الگ اور فرق تھے۔ خود اُس میں قدرت تھی کہ یہ قادر کام کر سکے جب کہ دوسروں کو یہ قوت دی گئی تھی۔ دیگر لوگوں نے بھی معجزے کئے مگر وہ دوسروں کو معجزے کرنے کی قوت نہیں دے سکتے تھے۔ خداوند یسوع نے نہ صرف خود معجزے کئے بلکہ اپنے رسولوں کو بھی ایسا کرنے کا اِختیار دیا۔ علاوہ ازیں نجات دہندہ نے «جو کام» کئے وہی تھے جن کے بارے میں پرانے عہدنامے میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ مسیحِ موعود کرے گا۔ مزید برآں جو معجزے خداوند یسوع نے کئے وہ اپنی نوعیت، مقصد، وسعت اور تعداد میں یکتا اور بے مثال ہیں۔
۵:۳۷،۳۸ خداوند دوبارہ اُس گواہی کی بات کرتا ہے جو «باپ» نے اُس کے حق میں دی تھی۔ غالباً خداوند یسوع اُس وقت کی طرف اِشارہ کر رہا ہے جب اُس کا بپتسمہ ہوا تھا۔ اُس وقت آسمان سے خدا باپ کی آواز سنائی دی تھی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔ مگر یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ خداوند یسوع کی زندگی، معجزات اور خدمت میں بھی خدا باپ اِس حقیقت کی گواہی دیتا رہا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔
ایمان نہ لانے والے یہودیوں نے «نہ کبھی اُس (خدا) کی آواز سنی… اور نہ اُس کی صورت دیکھی»۔ وجہ یہ تھی کہ وہ «اُس کے کلام کو اپنے دلوں میں قائم نہیں رکھتے» تھے۔ خدا اِنسانوں سے اپنے کلام یعنی بائبل مقدس کے وسیلے سے کلام کرتا ہے۔ اُن یہودیوں کے پاس پرانے عہدنامے کے صحائف تھے، مگر وہ خدا کو موقع نہیں دیتے تھے کہ اُن صحائف کے وسیلے سے اُن سے کلام کرے۔ اُن کے دل سخت ہو چکے تھے اور اُن کے کان بھاری ہو گئے تھے کہ سن نہ سکیں۔ نہ اُنہوں نے کبھی «خدا کی صورت دیکھی» تھی یعنی اُس کی «ذات» کا تجربہ نہیں رکھتے تھے کیونکہ وہ اُس ہستی کا «یقین نہیں کرتے» تھے جس کو خدا نے «بھیجا» تھا۔ خدا باپ کوئی ایسی شکل یا صورت نہیں رکھتا جو فانی آنکھوں کو نظر آ سکے۔ وہ روح ہے، اِس لئے نادیدنی ہے۔ لیکن خدا نے خداوند یسوع مسیح کی ذات میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے۔ جو لوگ مسیح پر ایمان لائے اُنہوں نے حقیقت میں خدا کی «صورت» دیکھی۔ ایمان نہ لانے والے اُس کو فقط اپنی طرح کا ایک اَور اِنسان سمجھتے رہے۔
۵:۳۹ اِس آیت کے پہلے حصے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ اوّل، خداوند یسوع یہودیوں کو اُبھارتا ہے کہ «کتابِ مقدس میں ڈھونڈیں۔» دوسرے، وہ فقط یہ حقیقت بیان کر رہا تھا کہ اُنہوں نے «کتابِ مقدس میں ڈھونڈا»۔ کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ صرف صحائف رکھنے ہی سے ہم «ہمیشہ کی زندگی» رکھتے ہیں۔ اِس آیت کی کوئی ایک تشریح ممکن ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ خداوند یسوع صرف یہ حقیقت بیان کر رہا تھا کہ یہودی «کتابِ مقدس میں ڈھونڈتے تھے کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے اُنہیں «ہمیشہ کی زندگی» ملتی ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ جب پرانا عہدنامہ آنے والے مسیحِ موعود کے بارے میں بتاتا ہے تو دراصل یسوع کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ خیال ہی کتنا ہولناک ہے کہ اِنسان کے ہاتھوں میں پاک صحائف ہوں اور وہ اِتنا اندھا ہو۔ مگر یہ بات اَور بھی زیادہ ناقابلِ معافی ہے کہ خداوند یسوع نے اُن کو یہ سب کچھ بتایا اور سمجھایا، تو بھی وہ اُسے قبول کرنے سے اِنکار کرتے رہے۔ اِس آیت کے آخری حصے کو غور سے دیکھیں۔ «یہ وہ ہے جو میری گواہی دیتی ہے۔» اِس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ پرانے عہدنامے کا خاص موضوع مسیح کی آمد ہے۔ اگر کوئی شخص پرانے عہدنامے کا مطالعہ کرتا ہے اور یہ بات سمجھنے سے قاصر رہتا ہے تو وہ اِس کا اہم ترین حصہ سمجھنے سے رہ جاتا ہے۔
۵:۴۰ یسوع یہودیوں سے کہتا ہے کہ «پھر بھی تم زندگی پانے کے لئے میرے پاس آنا نہیں چاہتے۔» لوگ نجات دہندہ کو قبول نہیں کرتے۔ قبول نہ کرنے کی اصل وجہ یہ نہیں کہ وہ اِنجیل کو نہیں سمجھتے یا اُنہیں یسوع پر ایمان لانا ناممکن لگتا ہے۔ خداوند یسوع کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں جو اُس کا یقین کرنے میں اُن کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہو۔ اصل قصور اِنسان کی مرضی کا ہے۔ وہ نجات دہندہ کی نسبت اپنے گناہوں کو زیادہ پیار کرتا ہے۔ وہ اپنی شریر راہوں کو ترک کرنا نہیں چاہتا۔
۵:۴۱ یسوع نے یہودیوں کو ملامت کی کہ وہ اُسے قبول کرنے سے قاصر رہے۔ لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ سوچیں کہ اُسے اِس وجہ سے دُکھ ہوا ہے کہ اُنہوں نے اُسے «عزت» نہیں دی۔ وہ دُنیا میں اِس لئے نہیں آیا تھا کہ «آدمیوں سے عزت چاہتا» تھا۔ اُس کو اُن کی تعریف کی ضرورت نہ تھی بلکہ وہ باپ سے تعریف چاہتا تھا۔ اگرچہ دُنیا والوں نے اُسے ردّ کر دیا مگر اُس کے جلال کو کسی طرح بھی کم نہیں کر سکتے تھے۔
۵:۴۲ اِنسان نے خدا کے بیٹے کو قبول نہ کیا۔ یہاں اِس کی اصل وجہ کو پیش کیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اِنسانوں میں «خدا کی محبت نہیں» یعنی وہ خدا سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ اگر وہ خدا سے محبت رکھتے تو اُسے بھی قبول کرتے جسے اُس نے بھیجا تھا۔ خداوند یسوع کو ردّ کر کے اُنہوں نے ثابت کر دیا کہ اُن میں «خدا کی محبت نہیں»۔
۵:۴۳ خداوند یسوع «اپنے باپ کے نام سے آیا» تھا، یعنی اپنے باپ کی مرضی پوری کرنے، اپنے باپ کو جلال دینے اور ساری باتوں میں اپنے باپ کی فرماں برداری کرنے آیا تھا۔ اگر اِنسان خدا سے واقعی محبت رکھتے تو اُس سے بھی محبت رکھتے جو اپنی ہر بات اور ہر کام میں خدا کو خوش کرتا تھا۔
اب یسوع نے نبوت کی کہ کوئی اَور «اپنے ہی نام سے آئے گا» اور یہودی «اُسے قبول کر لیں گے۔» شاید ایک مفہوم میں وہ اُن جھوٹے اُستادوں کی طرف اِشارہ کر رہا تھا جو اُس کے بعد اُٹھ کھڑے ہوئے اور قوم سے اپنی عزت کرانا چاہتے تھے۔ شاید وہ جھوٹے فرقوں کے اُن لیڈروں کی بات کر رہا تھا جو صدیوں سے مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے آئے ہیں۔ مگر غالب خیال یہ ہے کہ وہ مخالف ِمسیح کا ذکر کر رہا تھا۔ وہ دن آ رہا ہے کہ ایک شخص یہودی قوم کا حکمران بن بیٹھے گا اور مطالبہ کرے گا کہ خدا کی جگہ میری پرستش کی جائے (۲۔تھسلنیکیوں ۲:۸-۱۰)۔ یہودی قوم کی اکثریت اُس مخالف ِمسیح کو اپنا حاکم تسلیم کر لے گی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خدا کا شدید غضب اُن پر ہو گا (۱۔یوحنا ۲:۱۸)۔
۵:۴۴ یہاں خداوند ایک اَور وجہ بیان کرتا ہے کہ یہودی قوم نے اُسے کیوں قبول نہ کیا۔ وہ خدا سے نہیں بلکہ «ایک دوسرے سے عزت چاہتے» تھے۔ وہ ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے یہودیت کو چھوڑ دیا تو ساتھی دوست کیا کہیں گے۔ وہ اُس لعن طعن اور دُکھ کو برداشت کرنے کو تیار نہ تھے جو خداوند یسوع کا پیرو بننے پر اُن کے حصے میں آتا۔ جب تک اِنسان ڈرتا رہتا ہے کہ دوسرے لوگ کیا کہیں گے یا کیا کریں گے، تب تک نجات نہیں پا سکتا۔ خداوند یسوع پر ایمان لانے کے لئے اِنسان کو دوسروں سے نہیں بلکہ خدا سے عزت پانے کی فکر کرنا ہے۔ اُس کو اُس عزت کی تمنا ہونی چاہئے «جو خدائے واحد کی طرف سے ہوتی ہے۔»
۵:۴۵ خداوند کو ضرورت نہ تھی کہ «باپ سے» یہودیوں کی «شکایت» کرتا۔ بے شک وہ اُن پر کئی الزام لگا سکتا تھا۔ مگر ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ موسیٰ کے نوشتے ہی اُن پر الزام لگانے کے لئے کافی ہوں گے۔ یہ یہودی پرانے عہدنامے پر اور خصوصاً موسیٰ کی پانچ کتابوں یعنی توریت پر بہت فخر کرتے تھے۔ وہ فخر کرتے تھے کہ یہ صحائف بنی اِسرائیل کو دیئے گئے تھے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ وہ موسیٰ کی باتوں کو مانتے نہیں تھے جیسا کہ آیت ۴۶ میں بیان ہوا ہے۔
۵:۴۶ خداوند یسوع موسیٰ کے نوشتوں کو سند کے لحاظ سے اپنی باتوں کے برابر درجہ دیتا تھا۔ ہمیں یاد دلایا گیا ہے کہ «ہر ایک صحیفہ خدا کے الہام سے ہے» (۲۔تیمتھیس ۳:۱۶)۔ ہم پرانا عہدنامہ پڑھ رہے ہوں یا نیا عہد نامہ، ہم خدا ہی کا کلام پڑھتے ہیں۔ اگر یہودیوں نے «موسیٰ کا یقین» کیا ہوتا تو وہ خداوند یسوع مسیح کا بھی یقین کرتے کیونکہ موسیٰ نے مسیح کے «حق میں» لکھا ہے۔ اِس کی ایک مثال اِستثنا ۱۸:۱۵،۱۸ میں ملتی ہے:
«خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اُس کی سننا۔ مَیں اُن کے لئے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا۔ اور جو کچھ مَیں اُسے حکم دوں گا وہی وہ اُن سے کہے گا۔»
اِن آیات میں موسیٰ نے مسیح کی آمد کی نبوت کی ہے اور یہودیوں کو بتا دیا تھا کہ جب وہ آئے تو اُس کی سننا۔ اب خداوند یسوع آ گیا تھا، مگر یہودی اُسے قبول کرنے سے قاصر رہے۔ اِسی لئے مسیح کہتا ہے کہ موسیٰ باپ کے سامنے اُن پر الزام لگائے گا کیونکہ وہ دعویٰ تو کرتے تھے موسیٰ کا یقین کرنے کا، مگر جس بات کا حکم موسیٰ نے دیا تھا وہ نہیں مانتے تھے۔ «اِس لئے کہ اُس (موسیٰ) نے میرے (مسیح کے) حق میں لکھا ہے۔» یہ بالکل واضح بیان ہے کہ پرانا عہدنامہ اُسی مسیح کے بارے میں نبوتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اوگسطین نے اِسی بات کو نہایت مختصر طور پر یوں بیان کیا ہے کہ «نیا عہدنامہ پرانے عہدنامہ میں چھپا ہوا ہے اور پرانا عہدنامہ نئے عہدنامے میں ظاہر ہے۔»
۵:۴۷ «لیکن جب» یہودیوں نے «موسیٰ کے نوشتوں کا یقین نہیں کیا» تو امکان نہیں کہ وہ «یسوع کی باتوں کا یقین» کریں گے۔ پرانے اور نئے عہدنامے میں بہت گہرا تعلق ہے۔ اگر کوئی شخص پرانے عہدنامے کے الہامی ہونے پر شک کرتا ہے تو یہ بھی امکان نہیں کہ وہ خداوند یسوع کی باتوں کو الہامی مانے گا۔ اگر لوگ بائبل مقدس کے بعض حصوں پر اعتراض کرتے ہیں تو بہت جلد باقی کتاب کو بھی شک کی نظروں سے دیکھنے لگیں گے۔ جی۔ کِنگ (King) بیان کرتا ہے کہ:
«بے شک خداوند کا اِشارہ اسفارِ خمسہ یعنی موسیٰ کی پانچ کتابوں کی طرف ہے۔ یہ بائبل مقدس کا وہ حصہ ہے جس پر سب سے شدید حملے کئے جاتے رہے ہیں۔ اور عجیب بات ہے کہ یسوع نے اِسی حصے سے سب سے زیادہ اِقتباس کئے ہیں، جیسے حملے شروع ہونے سے بہت پہلے وہ اِن پر اپنی مہر ثبت کر دینا چاہتا تھا۔»
مقدس کتاب
۱- فریسیوں میں سے ایک شخص نِیکُدِیمُس نام یہُودِیوں کا ایک سردار تھا۔
۲- اُس نے رات کو یِسُوعؔ کے پاس آ کر اُس سے کہا اَے ربیّ ہم جانتے ہیں کہ تُو خُدا کی طرف سے اُستاد ہو کر آیا ہے کیونکہ جو مُعجِزے تُو دِکھاتا ہے کوئی شخص نہیں دِکھا سکتا جب تک خُدا اُس کے ساتھ نہ ہو۔
۳- یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک کوئی نئے سِرے سے پَیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔
۴- نِیکُدِیمُس نے اُس سے کہا آدمی جب بُوڑھا ہو گیا تو کیوں کر پَیدا ہو سکتا ہے؟ کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخِل ہو کر پَیدا ہو سکتا ہے؟
۵- یِسُوعؔ نے جواب دِیا کہ مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں جب تک کوئی آدمی پانی اور رُوح سے پَیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی میں داخِل نہیں ہو سکتا۔
۶- جو جِسم سے پَیدا ہُؤا ہے جِسم ہے اور جو رُوح سے پَیدا ہُؤا ہے رُوح ہے۔
۷- تعجُّب نہ کر کہ مَیں نے تُجھ سے کہا تُمہیں نئے سِرے سے پَیدا ہونا ضرُور ہے۔
۸- ہوا جِدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تُو اُس کی آواز سُنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی اور کہاں کو جاتی ہے۔ جو کوئی رُوح سے پَیدا ہُؤا اَیسا ہی ہے۔
۹- نِیکُدِیمُس نے جواب میں اُس سے کہا یہ باتیں کیوں کر ہو سکتی ہیں؟
۱۰- یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا بنی اِسرائیل کا اُستاد ہو کر کیا تُو اِن باتوں کو نہیں جانتا؟
۱۱- مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ جو ہم جانتے ہیں وہ کہتے ہیں اور جِسے ہم نے دیکھا ہے اُس کی گواہی دیتے ہیں اور تُم ہماری گواہی قبُول نہیں کرتے۔
۱۲- جب مَیں نے تُم سے زمِین کی باتیں کہِیں اور تُم نے یقِین نہیں کِیا تو اگر مَیں تُم سے آسمان کی باتیں کہُوں تو کیوں کر یقِین کرو گے؟
۱۳- اور آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سِوا اُس کے جو آسمان سے اُترا یعنی اِبنِ آدمؔ جو آسمان میں ہے۔
۱۴- اور جِس طرح مُوسیٰ نے سانپ کو بیابان میں اُونچے پر چڑھایا اُسی طرح ضرُور ہے کہ اِبنِ آدمؔ بھی اُونچے پر چڑھایا جائے۔
۱۵- تاکہ جو کوئی اِیمان لائے اُس میں ہمیشہ کی زِندگی پائے۔
۱۶- کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی مُحبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔
۱۷- کیونکہ خُدا نے بیٹے کو دُنیا میں اِس لِئے نہیں بھیجا کہ دُنیا پر سزا کا حُکم کرے بلکہ اِس لِئے کہ دُنیا اُس کے وسِیلہ سے نجات پائے۔
۱۸- جو اُس پر اِیمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا۔ جو اُس پر اِیمان نہیں لاتا اُس پر سزا کا حُکم ہو چُکا۔ اِس لِئے کہ وہ خُدا کے اِکلَوتے بیٹے کے نام پر اِیمان نہیں لایا۔
۱۹- اور سزا کے حُکم کا سبب یہ ہے کہ نُور دُنیا میں آیا ہے اور آدمِیوں نے تارِیکی کو نُور سے زِیادہ پسند کِیا۔ اِس لِئے کہ اُن کے کام بُرے تھے۔
۲۰- کیونکہ جو کوئی بدی کرتا ہے وہ نُور سے دُشمنی رکھتا ہے اور نُور کے پاس نہیں آتا۔ اَیسا نہ ہو کہ اُس کے کاموں پر ملامت کی جائے۔
۲۱- مگر جو سچّائی پر عمل کرتا ہے وہ نُور کے پاس آتا ہے تاکہ اُس کے کام ظاہِر ہوں کہ وہ خُدا میں کِئے گئے ہیں۔
۲۲- اِن باتوں کے بعد یِسُوعؔ اور اُس کے شاگِرد یہُودیہ کے مُلک میں آئے اور وہ وہاں اُن کے ساتھ رہ کر بپتِسمہ دینے لگا۔
۲۳- اور یُوحنّا بھی شالِیم کے نزدِیک عینوؔن میں بپتِسمہ دیتا تھا کیونکہ وہاں پانی بُہت تھا اور لوگ آ کر بپتِسمہ لیتے تھے۔
۲۴- کیونکہ یُوحنّا اُس وقت تک قَید خانہ میں ڈالا نہ گیا تھا۔
۲۵- پس یُوحنّا کے شاگِردوں کی کِسی یہُودی کے ساتھ طہارت کی بابت بحث ہُوئی۔
۲۶- اُنہوں نے یُوحنّا کے پاس آ کر کہا اَے ربیّ! جو شخص یَردؔن کے پار تیرے ساتھ تھا جِس کی تُو نے گواہی دی ہے دیکھ وہ بپتِسمہ دیتا ہے اور سب اُس کے پاس آتے ہیں۔
۲۷- یُوحنّا نے جواب میں کہا اِنسان کُچھ نہیں پا سکتا جب تک اُس کو آسمان سے نہ دِیا جائے۔
۲۸- تُم خُود میرے گواہ ہو کہ مَیں نے کہا مَیں مسِیح نہیں مگر اُس کے آگے بھیجا گیا ہُوں۔
۲۹- جِس کی دُلہن ہے وہ دُلہا ہے مگر دُلہا کا دوست جو کھڑا ہُؤا اُس کی سُنتا ہے دُلہا کی آواز سے بُہت خُوش ہوتا ہے۔ پس میری یہ خُوشی پُوری ہو گئی۔
۳۰- ضرُور ہے کہ وہ بڑھے اور مَیں گھٹُوں۔
۳۱- جو اُوپر سے آتا ہے وہ سب سے اُوپر ہے۔ جو زمِین سے ہے وہ زمِین ہی سے ہے اور زمِین ہی کی کہتا ہے۔ جو آسمان سے آتا ہے وہ سب سے اُوپر ہے۔
۳۲- جو کُچھ اُس نے دیکھا اور سُنا اُسی کی گواہی دیتا ہے اور کوئی اُس کی گواہی قبُول نہیں کرتا۔
۳۳- جِس نے اُس کی گواہی قبُول کی اُس نے اِس بات پر مُہر کر دی کہ خُدا سچّا ہے۔
۳۴- کیونکہ جِسے خُدا نے بھیجا وہ خُدا کی باتیں کہتا ہے۔ اِس لِئے کہ وہ رُوح ناپ ناپ کر نہیں دیتا۔
۳۵- باپ بیٹے سے مُحبّت رکھتا ہے اور اُس نے سب چِیزیں اُس کے ہاتھ میں دے دی ہیں۔
۳۶- جو بیٹے پر اِیمان لاتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے لیکن جو بیٹے کی نہیں مانتا زِندگی کو نہ دیکھے گا بلکہ اُس پر خُدا کا غَضب رہتا ہے۔