یوحنا ۲

۲۔ خدا کے بیٹے کی خدمت کا پہلا سال  (‏۱:‏۱۹-‏۴:‏۵۴)‏

الف۔ یوحنا بپتسمہ دینے والے کی گواہی  (‏۱:‏۱۹-‏۳۴)‏

۱:‏۱۹ جب یہ خبریں یروشلیم پہنچیں کہ یوحنا نام ایک شخص لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ توبہ کرو کیونکہ مسیحِ موعود آ رہا ہے تو یہودیوں نے «کاہن اور لاوی» معلومات حاصل کرنے کو بھیجے۔ «کاہن» ہیکل میں
اہم خدمات سرانجام دیتے تھے جب کہ «لاوی» ہیکل میں عام خادمانہ کام کرتے تھے۔ اُنہوں نے یوحنا سے پوچھا،‏ «تُو کون ہے؟» «کیا تُو مسیحِ موعود ہے جس کا یہودی قوم مدتوں سے اِنتظار کر رہی ہے؟»

۱:‏۲۰ دوسرے لوگ شاید اِس موقعے سے فائدہ اُٹھاتے کہ مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کر کے شہرت حاصل کر لیں لیکن یوحنا وفادار گواہ تھا۔ اُس کی گواہی یہ تھی کہ «مَیں تو مسیح نہیں ہوں» یعنی مسیحِ
موعود نہیں ہوں۔

۱:‏۲۱،‏۲۲ یہودیوں کو اُمید تھی کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیاہ اِس دُنیا میں واپس آئے گا (‏ملاکی ۴:‏۵)‏۔ چنانچہ اُن کی دلیل یہ تھی کہ یوحنا اگر مسیحِ موعود نہیں تو
شاید ایلیاہ ہے۔ مگر یوحنا نے اُنہیں یقین دلایا کہ مَیں ایلیاہ بھی نہیں۔ اِستثنا ۱۸:‏۱۵ میں موسیٰ نے کہا ہے کہ «خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اُس
کی سننا۔» یہودیوں کو یہ پیش گوئی یاد تھی۔ وہ سوچنے لگے کہ شاید یوحنا «وہ نبی» ہے جس کا ذکر موسیٰ نے کیا تھا۔ مگر یوحنا نے پھر کہا کہ ایسا بھی نہیں۔ اگر یہودیوں کا یہ وفد بغیر حتمی جواب کے یروشلیم لوٹتا تو بہت پریشان ہوتا۔ چنانچہ
اُنہوں نے یوحنا سے کہا کہ اپنے بارے میں واضح طورسے بتا۔

۱:‏۲۳ «اُس نے کہا مَیں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں۔» اُن کے اِستفسار کے جواب میں یوحنا بپتسمہ دینے والے نے یسعیاہ ۴۰:‏۳ سے اِقتباس پیش کیا جہاں یہ
نبوت ہے کہ مسیح کے آنے سے پہلے اُس کا ایک نقیب برپا ہو گا جو اُس کی آمد کا اعلان کرے گا۔ دوسرے لفظوں میں یوحنا نے کہا کہ مَیں وہ نقیب ہوں جس کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ وہ «آواز» تھا اور بنی اِسرائیل «بیابان» تھے۔ خدا کو ترک کر دینے
اور اپنے گناہ کے باعث قوم ریگستان کی مانند خشک اور بنجر ہو چکی تھی۔ یوحنا نے اپنے آپ کو صرف ایک «آواز» قرار دیا۔ اُس نے خود کو کوئی بڑا آدمی ظاہر نہیں کیا جس کی تعریف و توصیف کرنا لازم ہو بلکہ «آواز» جو نظر بھی نہیں آتی،‏
صرف سنی جاتی ہے۔ یوحنا «آواز» جب کہ مسیح «کلام» تھا۔ کلام کو آواز کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دوسروں کو اُس کا علم ہو سکے۔ اور کلام کے بغیر آواز بے کار اور بے وقعت ہوتی ہے۔ کلام آواز سے بے اِنتہا عظیم ہوتا ہے۔ اور ہمیں بھی اُس کی خاطر
آواز بننے کا شرف اور اعزاز حاصل ہو سکتا ہے۔

یوحنا کا پیغام یہ تھا کہ «تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔» مراد یہ ہے کہ «مسیحِ موعود آ رہا ہے۔ اپنی زندگی سے ہر وہ چیز،‏ ہر وہ بات دُور کرو جو اُس کو قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ اپنے گناہوں سے توبہ کرو
تاکہ وہ آکر تم پر اِسرائیل کے بادشاہ کی حیثیت سے بادشاہی کر سکے۔»

۱:‏۲۴،‏۲۵ «فریسی» یہودیوں کا ایک کٹر فرقہ تھے۔ وہ فخر کرتے تھے کہ ہم شریعت کا بہت اعلیٰ علم رکھتے اور پرانے عہدنامے کے احکامات اور ہدایات پر بڑی تفصیل سے اور بڑی سختی سے کاربند رہتے
ہیں۔ لیکن حقیقت میں اُن میں اکثر ریاکار تھے۔ وہ کوشش کرتے تھے کہ مذہبی نظر آئیں،‏ لیکن درپردہ وہ نہایت گناہ آلودہ زندگیاں بسر کرتے تھے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ یوحنا کے پاس بپتسمہ دینے کا کون سا اِختیار ہے جب کہ وہ کہتا ہے
کہ مَیں اُن اہم شخصیات میں سے کوئی بھی نہیں جن کے نام اُنہوں نے گنوائے تھے۔

۱:‏۲۶،‏۲۷ «یوحنا نے…کہا مَیں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں۔» وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اُسے اہم سمجھے۔ اُس کا کام صرف لوگوں کو مسیح کی آمد کے لئے تیار کرنا تھا۔ جب بھی اُس کے سامعین اپنے
گناہوں سے توبہ کرتے،‏ وہ اُن کو پانی سے بپتسمہ دیتا تھا۔ یہ بپتسمہ اُن کی باطنی تبدیلی کا ظاہری نشان تھا۔

«تمہارے درمیان ایک شخص کھڑا ہے جسے تم نہیں جانتے۔» یوحنا نے بات جاری  رکھی۔ بے شک اِشارہ یسوع کی طرف تھا۔ فریسی نہیں پہچانتے تھے کہ یہی وہ مسیحِ موعود ہے جس کا عرصے سے اِنتظار تھا۔ ایک لحاظ سے یوحنا فریسیوں سے کہہ رہا تھا
«مت سوچو کہ مَیں کوئی بڑا آدمی ہوں۔ جس ’شخص‘ کی طرف تمہیں توجہ دینی چاہئے وہ تو خداوند یسوع ہے۔ تو بھی ’تم نہیں جانتے‘ کہ اصل میں وہ ہے کون»۔ یہی وہ «شخص» ہے جو لائق اور افضل ہے۔ وہ آیا تو یوحنا کے بعد ہے مگر تمام حمد و ستائش
اور تمام عظمت و بزرگی اُسی کے لئے ہے۔ غلام کا فرض ہوتا تھا کہ اپنے مالک کی جوتیوں کے تسمے کھولے،‏ مگر یوحنا خود کو اِس لائق بھی نہیں سمجھتا کہ مسیح کی ایسی ادنیٰ اور حقیر خدمت بھی کرے۔

۱:‏۲۸ «بیت عنیاہ» کا صحیح محل وقوع معلوم نہیں۔ مگر اِتنا ضرور جانتے ہیں کہ یہ دریائے «یردن» کے مشرق کی طرف ایک جگہ تھی۔ تاہم یہ وہ «بیت عنیاہ» نہیں جو یروشلیم کے قریب تھا۔ (‏بعض اِس
کو بیت برہ سمجھتے ہیں)‏۔

۱:‏۲۹ «دوسرے دن» یعنی یروشلیم سے آنے والے فریسیوں سے ملاقات کے اگلے دن یوحنا نے «یسوع کو اپنی طرف آتے» دیکھا۔ اُس لمحے اُسے اِتنی شادمانی ہوئی،‏ اِتنا جوش آیا کہ وہ پکار اُٹھا «دیکھو
یہ خدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے»۔ یہودیوں کے ہاں برّہ قربانی کا جانور تھا۔ خدا نے اپنی برگزیدہ قوم کو سکھایا تھا کہ برّہ ذبح کریں اور اُس کا خون قربانی کے طور پر چھڑکیں۔ برّے کو عوضی کے طور پر ذبح کیا جاتا۔
اُس کا خون اِس لئے بہایا جاتا تھا کہ گناہ معاف ہو جائیں۔

البتہ پرانے عہدنامے کے زمانے میں ذبح ہونے والے برّوں کا خون گناہ کو دُور نہیں کرتا تھا۔ یہ برّے مثال یا تصویر تھے۔ وہ اِس حقیقت کو ظاہر کرتے تھے کہ ایک دن خدا وہ «برّہ» مہیا کرے گا جو گناہوں کو واقعی «اُٹھا لے جائے گا۔» صدیوں سے
خدا پرست یہودی اِس «برہ» کی آمد کا اِنتظار کرتے آ رہے تھے۔ آخرکار وقت آ گیا تھا۔ یوحنا بپتسمہ دینے والا فاتحانہ اِعلان کر رہا تھا کہ «خدا کا برّہ» آ گیا ہے۔

جب یوحنا نے کہا کہ یسوع «دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے» تو اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ اِس طرح ہر شخص کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ مسیح کی موت اِتنی زیادہ قیمتی ہے کہ ساری «دُنیا» کے گناہوں کی قیمت ادا کر سکتی ہے،‏ لیکن
گناہ صرف اُن گنہگاروں کے معاف ہوتے ہیں جو خداوند یسوع کو نجات دہندہ مان لیتے،‏ اُسے قبول کرتے اور اُس پر ایمان لاتے ہیں۔

جے۔ سی۔ جونز (‏Jones)‏کہتا ہے کہ یہ آیت مسیحی فدیے کی عظمت اور برتری کو ثابت کرتی ہے۔

  1. یہ فدیہ اپنی قربانی (‏قربان ہونے والے)‏ کی ذات کے لحاظ سے عظیم اور برتر ہے۔ یہودیت میں بے سمجھ جانوروں کو قربان کیا جاتا تھا جب کہ مسیحیت میں خدا کا برّہ قربانی ہے۔
  2. یہ فدیہ کارگر ہونے کے لحاظ سے عظیم اور برتر ہے۔ یہودیت میں قربانیاں ہر سال صرف گناہوں کی یاد تازہ کرتی تھیں جب کہ مسیحیت میں قربانی نے گناہ کو دُور کر دیا۔ اُس نے «اپنے آپ کو قربان کرنے سے گناہ کو مٹا» دیا۔
     (‏عبرانیوں ۹:‏۲۶)‏
  3. یہ فدیہ اپنی وسعت کے لحاظ سے عظیم اور برتر ہے۔ یہودیت میں قربانیاں صرف ایک قوم کے فائدہ کے لئے ہوتی تھیں جب کہ مسیحیت میں قربانی ساری قوموں کے لئے ہے۔ وہ «دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔»

۱:‏۳۰،‏۳۱ یوحنا لوگوں کو یاد دلاتے ہوئے نہیں تھکتا تھا کہ مَیں ایک آنے والی ایسی ہستی کے لئے راہ تیار کر رہا ہوں جو مجھ سے بے حد عظیم ہے۔ یسوع یوحنا سے اِتنا ہی عظیم تر ہے جتنا خدا
اِنسان سے عظیم تر ہے۔ یوحنا یسوع سے چند مہینے پہلے پیدا ہوا تھا مگر یسوع ازل سے موجود ہے۔ جب یوحنا نے کہا کہ «مَیں تو اُسے پہچانتا نہ تھا» تو اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اُس نے پہلے اُسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

چونکہ وہ رِشتہ کے بھائی تھے اِس لئے بہت ممکن ہے کہ یسوع اور یوحنا ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف تھے۔ مگر یوحنا نہیں پہچانتا تھا کہ میرا رشتہ کا بھائی مسیحِ موعود ہے۔ اُس کو یہ پہچان اُس وقت حاصل ہوئی جب یسوع کے بپتسمہ لینے کا وقت
آیا۔ یوحنا کا مشن خداوند کے لئے راہ تیار کرنا تھا۔ اور جب وہ ظاہر ہوتا تو «اِسرائیل» کو بتانا تھا کہ یہ مسیحِ موعود ہے۔ اِسی مقصد کے لئے یوحنا لوگوں کو «پانی» سے بپتسمہ دیتا تھا تاکہ اُن کو مسیح کی آمد کے لئے تیار کرے۔ اُس کا
مقصد اپنے گرد شاگرد جمع کرنا نہ تھا۔

۱:‏۳۲ یہاں اِشارہ اُس وقت کی طرف ہے جب یوحنا نے یردن میں یسوع کو بپتسمہ دیا۔ جب خداوند پانی سے نکل کر اُوپر آیا تو «خدا کا روح کبوتر کی مانند اُتر کر اُس پر آ ٹھہرا تھا» (‏بحوالہ متی
۳:‏۱۶)‏۔ مصنف اِس بات کی وضاحت کرتا ہے۔

۱:‏۳۳ خدا نے یوحنا پر ظاہر کر دیا تھا کہ مسیحِ موعود آ رہا ہے۔ اور جب وہ آئے گا تو «روح» اُس پر «اُترے» گا اور «ٹھہرے» گا۔ اِس لئے جب یسوع کے ساتھ ایسا ہوا تو یوحنا کو معلوم ہو گیا کہ یہی وہ
ہستی ہے جو «روح القدس سے بپتسمہ» دے گا۔ «روح القدس» ایک اقنوم ہے۔ اور ذاتِ الٰہی کے تین اقانیم میں سے ایک ہے۔ وہ خدا باپ اور خدا بیٹے کے ساتھ اُن کے برابر ہے۔

یوحنا تو «پانی» سے بپتسمہ دیتا تھا مگر یسوع «روح القدس»سے بپتسمہ دے گا۔ «روح القدس» کا یہ بپتسمہ پنتکست کے دن دیا گیا (‏اعمال ۱:‏۵،‏ ۲:‏۴،‏۳۸)‏۔ اُس موقعے پر «روح القدس» آسمان سے نازل
ہوا تاکہ ہر ایمان دار کے بدن میں سکونت کر کے اُسے کلیسیا یعنی مسیح کے بدن (‏۱۔کرنتھیوں۱۲:‏۱۳)‏ کا عضو بنا دے۔

۱:‏۳۴ یوحنا نے یسوع کے بپتسمہ کے وقت جو کچھ دیکھا،‏ اُس کی بنیاد پر اُس نے مثبت طور پر «گواہی دی» کہ یسوع ناصری «خدا کا بیٹا»ہے جس کے بارے میں نبوت کی گئی تھی کہ دُنیا میں آئے گا۔ جب
یوحنا نے کہا کہ مسیح «خدا کا بیٹا» ہے تو اُس کا مطلب تھا کہ وہ خدا بیٹا ہے۔

ب۔ اِندریاس،‏ یوحنا اور پطرس کی بلاہٹ  (‏۱:‏۳۵-‏۴۲)‏

۱:‏۳۵،‏۳۶ «دوسرے دن۔» یہ دراصل تیسرا دن ہے جس کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ یوحنا اپنے دو شاگردوں کے ساتھ تھا۔ اِن افراد نے یوحنا کی منادی سنی اور اُس پر ایمان لائے تھے۔ لیکن ابھی تک اُن کی
ملاقات خداوند یسوع سے نہیں ہوئی تھی۔ اب یوحنا نے عام لوگوں کے سامنے خداوند کی گواہی دی۔ گذشتہ روز اُس نے یسوع کی ذات (‏خدا کا برّہ)‏ اور اُس کے کام (‏جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے)‏ کا ذکر کیا
تھا۔ اب وہ صرف اُس کی ذات کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اُس کا پیغام مختصر،‏ سادہ اور خالص،‏ بے لوث اور صرف نجات دہندہ پر مرکوز تھا۔

۱:‏۳۷ اپنی دیانت دارانہ منادی کے باعث یوحنا اپنے «دو شاگرد» کھو بیٹھا۔ مگر اِس بات سے خوش تھا کہ وہ یسوع کے پیچھے ہو لئے ہیں۔ اِسی طرح ہمیں اپنے دوستوں کے لئے زیادہ فکر ہونی چاہئے کہ وہ
ہمارے بارے میں اچھی رائے رکھنے کے بجائے خداوند کے پیچھے ہو لیں۔

۱:‏۳۸ نجات دہندہ اُن لوگوں میں ہمیشہ دلچسپی لیتا ہے جو اُس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہاں بھی اُس نے اپنی دلچسپی کا اِظہار کیا۔ اُس نے اِن دونوں شاگردوں کی طرف پھر کر پوچھا کہ «تم کیا ڈھونڈتے ہو؟»
وہ اِس سوال کا جواب جانتا تھا۔ وہ ساری باتوں کو جانتا ہے،‏ مگر وہ چاہتا تھا کہ یہ خود اپنی خواہش لفظوں میں بیان کریں۔ اُن کا جواب تھا «اے ربی (‏یعنی اے اُستاد)‏ تُو کہاں رہتا ہے؟» اِس جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ
وہ اُس کے ساتھ رہنا اور اُسے بہتر طور پر جاننا چاہتے تھے۔ وہ اُس سے صرف ملاقات ہی نہیں کرنا چاہتے تھے،‏ وہ اُس کے ساتھ رفاقت رکھنے کے آرزو مند تھے۔ «ربی» عبرانی کا لفظ ہے۔ اِس کا مطلب ہے «اُستاد» (‏لفظی معنی ہیں
میری عظیم ہستی)‏۔

۱:‏۳۹ «اُس نے اُن سے کہا چلو،‏ دیکھ لو گے»۔ جو بھی سچے دل سے چاہتا ہے کہ نجات دہندہ کے بارے میں زیادہ جانے،‏ وہ اُسے کبھی دُور نہیں بھگاتا۔ یسوع نے دونوں کو اُس جگہ آنے کی دعوت
دی جہاں وہ اُس وقت قیام پذیر تھا۔ غالباً اُس وقت وہ کسی ایسی جگہ قیام پذیر تھا جو آج کل کے مکانوں کے مقابلے میں نہایت غریبانہ جگہ تھی۔

«پس اُنہوں نے آ کر اُس کے رہنے کی جگہ دیکھی اور اُس روز اُس کے ساتھ رہے اور یہ دسویں گھنٹے کے قریب تھا۔» اُن آدمیوں کی کبھی ایسی عزت افزائی نہیں ہوئی تھی۔ وہ رات اُنہوں نے کائنات کے خالق کے ساتھ ایک ہی گھر میں بسر کی۔ وہ یہودی
قوم کے اُن اوّلین افراد میں سے تھے جنہوں نے مسیحِ موعود کو جان اور پہچان لیا۔

«دسویں گھنٹے» سے مراد صبح کے دس بجے یا شام کے چار بجے ہو سکتی ہے۔ عموماً اوّل الذکر وقت (‏رومی)‏ کو ترجیح دی جاتی ہے۔

۱:‏۴۰ «اُن دونوں میں سے… ایک… اِندریاس تھا۔» آج کل اِندریاس اُتنا مشہور نہیں جتنا اُس کا بھائی «شمعون پطرس» ہے۔ مگر یہ حقیقت دلچسپی سے خالی نہیں کہ دونوں میں سے وہ پہلا تھا جو یسوع کی ملاقات
کو آیا۔

دوسرے شاگرد کا نام نہیں بتایا گیا۔ لیکن بائبل کے تقریباً تمام علما کہتے ہیں کہ وہ یوحنا تھا جس نے زیرِ نظر انجیل قلم بند کی ہے۔ اُن کی دلیل یہ ہے کہ کسرِ نفسی کے باعث اُس نے اپنا نام نہیں بتایا۔

۱:‏۴۱ جب کوئی شخص یسوع کو پا لیتا ہے تو عموماً چاہتا ہے کہ میرے رِشتہ دار بھی اُس سے ملیں۔ نجات اِتنی اچھی چیز ہے کہ صرف اپنے تک نہیں رکھی جا سکتی۔ چنانچہ «اِندریاس… پہلے اپنے سگے بھائی
شمعون» کے پاس گیا کہ اُسے یہ ولولہ انگیز اور خوش کُن خبر سنائے کہ «ہم کو خرستُس یعنی مسیح مل گیا۔» کیسا حیرت ناک اِعلان تھا! تقریباً چار ہزار سال سے لوگ مسیحِ موعود — خدا کے ممسوح — کا اِنتظار کر رہے تھے۔ اب «شمعون» خود اپنے
بھائی کی زبان سے یہ چونکا دینے والی خبر سنتا ہے کہ «مسیحِ موعود» قریب ہی ہے۔ بے شک وہ ایسی جگہ پر تھے جہاں تاریخ بن رہی تھی۔ اِندریاس کا پیغام کیسا سادہ تھا! صرف پانچ لفظ «ہم کو خرستُس مل گیا۔» تو بھی خدا نے اِس پیغام کو پطرس کو
جیتنے کے لئے استعمال کیا۔ اِس سے سبق ملتا ہے کہ ہمارا بہت عمدہ یا بہت ہوشیار خطیب ہونا ضروری نہیں۔ بلکہ ضرورت صرف اِتنی ہے کہ سیدھے سادے الفاظ میں لوگوں کو مسیح کے بارے میں بتائیں۔ باقی کام خدا خود کر لے گا۔

۱:‏۴۲ اِندریاس اپنے بھائی کو ٹھیک جگہ اور ٹھیک شخص کے پاس «لایا۔» وہ اُسے گرجے میں،‏ یا عقیدے یا کسی پادری (‏دینی پیشوا)‏ کے پاس نہیں لایا۔ «وہ اُسے یسوع کے پاس لایا۔»
کیسا اہم اقدام تھا! اِندریاس کے اِس اقدام اور دلچسپی کے باعث بعد میں پطرس بہت بڑا آدم گیر اور خداوند کا سردار شاگرد بن گیا۔ شمعون کو اپنے بھائی اِندریاس کی نسبت بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے۔ لیکن اِندریاس اپنے بھائی کے اجر میں
ضرور حصہ دار ہو گا۔ کیونکہ وہی اُسے یسوع کے پاس لایا تھا۔ خداوند کو بن بتائے شمعون کا نام معلوم تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ شمعون متلون مزاج ہے۔ اور یہ بھی جانتا تھا کہ اُس کا مزاج بدل جائے گا،‏ ایسا کہ وہ مضبوط چٹان بن
جائے گا۔ یسوع کس طرح یہ ساری باتیں جانتا تھا؟ کیونکہ وہ خدا تھا اور ہے۔

شمعون کا نام بدل کر کیفا (‏ارامی زبان میں پتھر)‏ ہو گیا۔ اور بلاشبہ وہ ایک مضبوط کردار کا آدمی بن گیا،‏ خصوصاً خداوند کے آسمان پر جانے اور روح القدس کے نازل ہونے کے بعد۔

ج۔ فلپس اور نتن ایل کی بلاہٹ  (‏۱:‏۴۳-‏۵۱)‏

۱:‏۴۳ اِس باب میں یہ چوتھا دن ہے جس کے بارے میں ہم پڑھ رہے ہیں۔ بوش (‏Bosch)‏ توجہ دلاتا ہے کہ پہلے دن ہم صرف یوحنا کو دیکھتے ہیں (‏آیات ۱۵ -‏۲۸)‏۔ دوسرے
دن یوحنا اور یسوع کو (‏آیات ۲۹-‏۳۴)‏۔ تیسرے دن یسوع اور یوحنا کو (‏آیات ۳۵-‏۴۲)‏ اور چوتھے دن صرف یسوع کو (‏آیات ۴۳-‏۵۱)‏ دیکھتے ہیں۔ خداوند شمال کی طرف گیا۔ اور اُس
علاقے میں داخل ہوا جس کو «گلیل» کہتے تھے۔ وہاں اُسے فلپس ملا۔ خداوند نے اُسے بھی اپنا پیرو بننے کی دعوت دی «میرے پیچھے ہو لے»۔ یہ بہت ہی عظیم اور زبردست الفاظ ہیں۔ اِس لئے کہ اِن کو کہنے والا عظیم ہے اور یہ عظیم اور زبردست اعزاز
پیش کرتے ہیں۔ نجات دہندہ آج بھی ہر جگہ اور ہر اِنسان کو یہ سادہ اور عظیم الشان دعوت دے رہا ہے۔

۱:‏۴۴ بیت صیدا گلیل کی جھیل کے ساحل پر ایک شہر ہے۔ دُنیا میں اِکا دُکا شہر ہی ہیں جن کو ایسی عزت بخشی گئی ہے۔ خداوند نے اِس شہر میں کئی بڑے بڑے معجزے دِکھائے تھے (‏لوقا
۱۰:‏۱۳)‏۔ یہ شہر فلپس،‏ اِندریاس اور پطرس کا گھر تھا۔ تو بھی اِس نے نجات دہندہ کو ردّ کر دیا۔ اِس کے نتیجے میں یہ شہر اتنے پورے طور پر تباہ ہوا کہ آج یہ بتانا ممکن نہیں کہ اِس کا صحیح محل وقوع کہاں تھا۔

۱:‏۴۵ فلپس کو نئی نئی خوشی ملی تھی۔ وہ کسی اَور کو بھی اِس خوشی میں شریک کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اُس نے جا کر نتن ایل کو تلاش کیا۔ نئے نومرید بہت اچھے روحوں کو جیتنے والے ثابت ہوتے ہیں۔ اُس
کا پیغام سادہ اور بامقصد تھا۔ اُس نے نتن ایل کو بتایا کہ «جس کا ذکر موسیٰ نے توریت میں اور نبیوں نے کیا ہے وہ (‏مسیحِ موعود)‏ ہم کو مل گیا۔ وہ یوسف کا بیٹا یسوع ناصری ہے۔» حقیقت میں اُس کا پیغام پورے طور پر بالکل
درست نہ تھا۔ اُس نے یسوع کی بابت کہا کہ «وہ یوسف کا بیٹا… ہے۔» بے شک یسوع کنواری مریم سے پیدا ہوا تھا اور اُس کا کوئی اِنسانی باپ نہ تھا۔ «یوسف» نے یسوع کو لے پالک بنا لیا تھا اور اُس کا قانونی باپ بن گیا تھا۔ مگر اُس کا حقیقی
باپ نہیں تھا۔ جیمز ایس۔ سٹوأرٹ (‏Stewart)‏ یوں تبصرہ کرتا ہے:‏

«یسوع کا طریقۂ کار کبھی یہ نہیں تھا کہ شروع ہی میں کامل اور پختہ ایمان کا تقاضا کرے۔ وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اِنسان ادھورے عقیدے کے باعث شاگردیت اِختیار کرنے سے رہ جائے۔ اور یقین مانئے آج بھی اُس کا طریقۂ کار یہی ہے۔
وہ اپنے آپ کو اپنے بھائیوں کے ساتھ ساتھ رکھتا ہے۔ وہ اُن سے کہتا ہے کہ میرے ساتھ قریبی تعلق قائم کر لو۔ اور یہ تعلق کسی بھی موقعے پر قائم کیا جا سکتا ہے۔ وہ اُن کو اُسی ایمان کے ساتھ قبول کر لیتا ہے جو وہ اُس کی خدمت میں پیش
کر سکتے ہیں۔ وہ شروع میں اِسی پر اکتفا کرتا ہے اور اِس مقام سے اپنے دوستوں کو آگے لے چلتا ہے،‏ بالکل جیسے پہلے گروہ کو قدم قدم لے گیا تھا۔ اور اِس بھید کے مرکز تک لے آتا ہے کہ مَیں کون ہوں۔ اور اُن کو شاگردیت کے کامل
جلال تک پہنچا دیتا ہے۔»

۱:‏۴۶ نتن ایل کو کچھ مسائل کا سامنا تھا۔ «ناصرت» گلیل کا ایک حقارت زَدہ شہر تھا۔ اُسے یہ ممکن معلوم نہیں ہوتا تھا کہ مسیحِ موعود ایسی حقیر جگہ پر رہتا ہو گا۔ چنانچہ اُس نے یہ سوال پیش کیا۔
فلپس نے کوئی دلیل بازی نہیں کی۔ اُس نے محسوس کیا کہ لوگوں کے اعتراضات کے جواب دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اُن کو براہِ راست خداوند یسوع سے ملایا جائے۔ جو لوگ دوسروں کو مسیح کے لئے جیتنے کی کوشش کرتے ہیں یہ اُن کے لئے ایک انمول
سبق ہے۔ دلیل بازی نہ کریں۔ لمبی لمبی بحثوں میں نہ اُلجھیں۔ لوگوں سے صرف اِتنا کہیں کہ «چل کر دیکھ لے۔»

۱:‏۴۷ یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ یسوع سب کچھ جانتا تھا (‏ہے)‏۔ اُس کی نتن ایل سے پہلے کوئی واقفیت یا تعارُف نہ تھا۔ مگر اُس نے بتا دیا کہ «یہ فی الحقیقت اسرائیلی ہے۔ اِس میں مکر
نہیں»۔ یعقوب نے اِس بات میں شہرت حاصل کر لی تھی کہ کاروبار میں ایسے طریقے اِختیار اور استعمال کرتا تھا جو پورے طور پر دیانت دارانہ نہیں ہوتے تھے۔ مگر نتن ایل ایک ایسا اِسرائیلی تھا جس میں کوئی «یعقوب» نہ تھا۔

۱:‏۴۸ صاف ظاہر ہے کہ نتن ایل سخت حیران ہوا کہ ایک بالکل اجنبی شخص میرے ساتھ یوں باتیں کر رہا ہے جیسے پہلے سے مجھے جانتا ہو۔ لگتا ہے کہ جب وہ «انجیر کے درخت کے نیچے تھا» تو بالکل چھپا ہوا
تھا۔ بے شک درخت کی لٹکتی ہوئی شاخیں اور آس پاس کی جھاڑیوں اور پودوں نے اُسے نظروں سے چھپا رکھا ہو گا۔ لیکن یسوع نے اُسے «دیکھا» حالانکہ وہ یوں چھپا ہوا تھا۔

۱:‏۴۹ خداوند کو قدرت حاصل تھی کہ جب نتن ایل اِنسانی نگاہوں سے اوجھل تھا،‏ تو بھی اُسے دیکھ لے۔ غالباً خداوند کی اِس قدرت کے باعث نتن ایل قائل ہو گیا،‏ یا شاید اُسے یہ علم فوق
الفطرت طریقے سے دیا گیا۔ کچھ بھی ہو وہ جان گیا اور پکار اُٹھا کہ «اے ربی! تُو خدا کا بیٹا ہے۔ تُو اِسرائیل کا بادشاہ ہے۔»

۱:‏۵۰ خداوند نے نتن ایل کو دو ثبوت دیئے تھے کہ مَیں مسیحِ موعود ہوں۔ اُس کے کردار و مزاج کا بیان کیا تھا اور اُسے اُس وقت بھی دیکھ لیا تھا جب کوئی اَور آنکھ اُسے دیکھ نہ سکتی تھی۔ یہی دو
ثبوت نتن ایل کے لئے کافی تھے۔ اور وہ ایمان لے آیا۔ اور اب خداوند نے وعدہ کیا کہ «تُو اِن سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔»

۱:‏۵۱ جب بھی یسوع کوئی بات کہنے سے پہلے «سچ سچ» (‏یونانی متن میں «آمین،‏ آمین» صرف یوحنا دُہری آمین کا بیان کرتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دیگر اناجیل یسوع کے الفاظ مختصر کرتے
ہوئے ایک «آمین» کا ذکر کرتی ہیں)‏ کہتا تھا تو ہمیشہ کوئی نہایت ہی اہم بات بیان کرتا تھا۔ یہاں اُس نے نتن ایل کو مستقبل کے ایک وقت کی تصویر دِکھائی جب وہ (‏مسیح)‏ بادشاہی کرنے کو دُنیا میں واپس آئے گا۔ اُس
وقت دُنیا جان لے گی کہ ناصرت کے حقیر سے گاؤں میں رہنے والا بڑھئی کا بیٹا حقیقت میں خدا کا بیٹا اور اِسرائیل کا بادشاہ ہے۔ اُس روز «آسمان» کھل جائے گا۔ یہ بادشاہ حکمران ہو گا۔ یروشلیم اِس کا پایۂ تخت ہو گا۔ خدا اُس پر مہربان ہو
گا۔

غالباً نتن ایل یعقوب کی سیڑھی کے واقعہ (‏پیدائش ۲۸:‏۱۲)‏ پر غور و خوض کرتا رہا تھا۔ اِس سیڑھی سے فرشتے اُترتے اور چڑھتے تھے۔ یہ خود خداوند یسوع مسیح کی تصویر ہے کیونکہ صرف وہی آسمان تک رسائی کا واحد ذریعہ
ہے۔ «خدا کے فرشتوں کو اُوپر جاتے اور ابنِ آدم پر اُترتے دیکھو گے۔» «فرشتے» خدا کے خادم ہیں۔ وہ اُس کے کام کرنے کے لئے آگ کے شعلوں کی طرح سفر کرتے ہیں۔ جب یسوع بحیثیت بادشاہ حکمرانی کرے گا یہ «فرشتے» اُس کی مرضی کو پورا کرنے کے
لئے آسمان اور زمین کے درمیان آئیں جائیں گے۔

یسوع نتن ایل کو بتا رہا تھا کہ فی الحال تُو نے میرے مسیحِ موعود ہونے کے نہایت معمولی سے ثبوت دیکھے ہیں۔ مستقبل میں جب مسیح بادشاہ ہو گا تو دیکھے گا کہ خداوند یسوع خدا کا ممسوح بیٹا ہے۔ اُس وقت ساری دُنیا دیکھ لے گی کہ ناصرت سے
واقعی کوئی اچھی ہستی نکلی ہے۔

د۔ پہلا معجزہ:‏پانی کا مے بن جانا  (‏۲:‏۱-‏۱۱)‏

۲:‏۱ «تیسرے دن۔» بلاشبہ اِس سے مراد «گلیل» میں خداوند کے قیام کے «تیسرے دن» سے ہے۔ ۱:‏۴۳ میں بیان ہوا تھا کہ خداوند اِس علاقے میں آ گیا تھا۔ ہمیں معلوم نہیں کہ قانا کہاں واقع تھا۔
لیکن اِسی باب کی آیت ۱۲ سے ہم نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ کفرنحوم کے قریب بلندی پر واقع تھا۔

اُس خاص دن «قانائے گلیل میں ایک شادی ہوئی» اور «یسوع کی ماں وہاں تھی۔» یہ بہت دلچسپ اور قابلِ غور بات ہے کہ مریم کو «یسوع کی ماں» کہا گیا ہے۔ نجات دہندہ اِس لئے مشہور نہیں ہو ا کہ وہ کنواری مریم کا بیٹا تھا بلکہ مریم کو اِس لئے
شہرت ملی کہ وہ یسوع کی ماں ہے۔ پاک کلام مریم کو نہیں بلکہ ہمیشہ مسیح کو فضیلت کا مقام دیتا ہے۔

۲:‏۲ «یسوع اور اُس کے شاگردوں کی بھی اُس شادی میں دعوت تھی۔» شادی کا اِنتظام کرنے والوں نے بڑی دانائی اور عقل مندی کی کہ مسیح کو دعوت دی۔ آج بھی بڑی عقل مندی ہے کہ لوگ خداوند کو اپنی شادیوں
میں آنے کی دعوت دیں۔ اِس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ دُولھا اور دُلھن دونوں خداوند یسوع پر ایمان رکھتے ہوں۔ اور ضرور ہے کہ وہ اپنی زندگیاں نجات دہندہ کے سپرد کریں اور مصمم اِرادہ کریں کہ اُن کا گھر ایسی جگہ ہو جہاں وہ سکونت کرنا
پسند کرے۔

۲:‏۳ مے کا ذخیرہ ختم ہو گیا۔ جب «یسوع کی ماں» کو پتا چلا کہ کیا ہوا ہے تو اُس نے مسئلہ اپنے بیٹے کے سامنے لا رکھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ مے پیدا کرنے کے لئے معجزہ کر سکتا ہے۔ شاید وہ یہ بھی
چاہتی تھی کہ میرا بیٹا مہمانوں پر ظاہر کرے کہ مَیں خدا کا بیٹا ہوں۔ پاک کلام میں مَے اکثر خوشی کی نمائندگی کرتی ہے۔ جب مریم نے کہا کہ «ان کے پاس مَے نہیں رہی» تو اُس نے اُن مردوں اور عورتوں کا بالکل صحیح بیان کیا۔ جن کو نجات کا
تجربہ نہیں اُن کے پاس حقیقی اور دائمی خوشی ہے ہی نہیں۔

۲:‏۴ خداوند نے اپنی ماں کو جو جواب دیا،‏ اُس میں بڑی سرد مہری اور غیریت معلوم ہوتی ہے۔ لیکن وہ اِتنا سخت نہیں جتنا ہمیں معلوم ہوتا ہے۔ جس لفظ کا ترجمہ یہاں «عورت» کیا گیا ہے،‏
وہ ہمارے لفظ «خاتون» کی مانند ہے جو احترام کا لقب ہے۔ جب یسوع نے کہا «اے عورت مجھے تجھ سے کیا کام؟» تو ظاہر کیا کہ اپنے الٰہی مشن کو پورا کرنے کے سلسلے میں مَیں اپنی ماں کی ہدایات کا پابند نہیں بلکہ پورے طور سے اپنے آسمانی باپ
کی فرماں برداری کرتا ہوں۔ مریم چاہتی تھی کہ یسوع کو جلال کو پہنچا ہوا دیکھوں مگر اُسے اپنی ماں کو یاد دلانا ضرور تھا کہ «ابھی میرا وقت نہیں آیا۔» دُنیا کے سامنے کامل فاتح مسیح کے طور پر ظاہر ہونے سے پہلے اُسے قربانی کے مذبح پر
چڑھنا ضرور تھا۔ اُس نے کلوری کی صلیب پر اِس کام کو پورا کیا۔

وِلیمز (‏Williams)‏ یوں کہتا ہے کہ:‏

«مجھے تجھ سے کیا کام؟» بائبل مقدس میں یہ الفاظ کئی بار آتے ہیں۔ اِن کا مطلب ہے «ہم میں کون سی بات مشترک ہے؟» جواب ہے «کچھ نہیں۔» داؤد اپنے رِشتے کے بھائیوں یعنی ضرویاہ کے بیٹوں کے تعلق سے دو دفعہ یہ الفاظ استعمال کرتا ہے۔ یہ
ناممکن تھا کہ روحانی زندگی میں اُن کی کوئی بات داؤد کے ساتھ مشترک ہوتی۔ ۲۔سلاطین باب ۳ میں الیشع بھی دو دفعہ یہی الفاظ استعمال کرتا ہے کہ میرے اور اَخی اب کے بیٹے یہورام کے درمیان کتنی بڑی خلیج ہے۔ شیاطین نے تین دفعہ یہی بات
کہی اور ظاہر کیا کہ شیطان اور مسیح کے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں۔ یہاں خداوند نے یہ الفاظ کنواری مریم کے لئے استعمال کرتے ہوئے دِکھایا کہ میری بے گناہ الوہیت اور مریم کی گناہ آلودہ بشریت کے درمیان اِتنی بڑی خلیج ہے کہ اُسے
عبور کرنا ممکن نہیں۔ اور یہ کہ صرف ایک آواز ہے جو میرے کانوں تک پہنچنے کا اِختیار رکھتی ہے (‏یعنی خدا کی آواز)‏۔

۲:‏۵ مریم اُس کی بات کا مطلب سمجھتی تھی۔ اِس لئے اُس نے نوکروں کو ہدایت کی کہ «جو کچھ یہ تم سے کہے وہ کرو»۔ مریم کے یہ الفاظ ہم سب کے لئے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ غور کریں کہ اُس نے خادموں سے یہ
نہیں کہا کہ میری یا کسی اَور اِنسان کی بات مانو۔ اُس نے اُن کی توجہ خداوند یسوع کی طرف مبذول کرائی کہ وہی وہ ہستی ہے جس کا حکم ماننا چاہئے۔ خداوند یسوع کی تعلیمات ہمیں نئے عہدنامے کے صفحات میں دی گئی ہیں۔ جب ہم اِس انمول کتاب کو
پڑھتے ہیں تو ہم کو مریم کے یہ الفاظ یاد رکھنے چاہئیں کہ «جو کچھ یہ تم سے کہے وہ کرو۔»

۲:‏۶ جس جگہ شادی ہو رہی تھی وہاں «پتھر کے چھے مٹکے رکھے تھے اور اُن میں دو دو تین تین من کی گنجائش تھی۔» یہ پانی یہودی اپنے آپ کو ناپاکی سے صاف کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ مثال کے طور پر
اگر کوئی یہودی کسی لاش کو چھو لیتا تو ناپاک سمجھا جاتا تھا۔ اُسے پاک ہو جانے کے لئے خاص رسم ادا کرنا ہوتی تھی۔

۲:‏۷ «یسوع نے اُن سے کہا مٹکوں میں پانی بھر دو۔» نوکروں نے جلدی جلدی اُنہیں بھر دیا۔ خداوند نے معجزہ کرنے کے لئے اُن اشیا کو استعمال کیا جو دست یاب تھیں۔ اُس نے آدمیوں کو موقع دیا کہ مٹکے
مہیا کریں اور اُن کو پانی سے بھر دیں۔ اِس کے بعد اُس نے وہ کام کیا جو کوئی اِنسان کبھی نہیں کر سکتا،‏ یعنی پانی کو مے میں بدل دیا! مٹکوں کو شاگردوں نے نہیں بلکہ خادموں نے بھرا تھا۔ اِس طرح خداوند نے اِس الزام سے بچاؤ کیا
کہ کوئی چال چلی گئی ہے۔ مزید یہ کہ مٹکے «لبالب» بھرے تھے تاکہ کوئی نہ کہہ سکے کہ پانی میں مَے ملائی گئی تھی۔

۲:‏۸ اب معجزہ ہو چکا تھا۔ خداوند نے خادموں سے کہا کہ اِس میں سے کچھ «نکال کر میرِمجلس کے پاس لے جاؤ۔» اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ معجزہ فوری طور پر ہو گیا تھا۔ پانی کو مے بننے میں کچھ وقت نہیں
لگا بلکہ لمحہ بھر ہی ہو گیا تھا۔ کسی نے شاعرانہ انداز میں کہا ہے کہ «بے شعور پانی نے اپنے خدا کو دیکھا اور لال گلابی ہو گیا» (‏محاورہ بمعنی شرمساری سے رنگت سرخ ہو جانا)‏۔

۲:‏۹ «میرِمجلس» وہ شخص ہوتا ہے جو مہمانوں کے لئے کھانے پینے کا اور میزوں وغیرہ کا اِنتظام کرتا ہے۔ جب اُس نے «وہ پانی چکھا» تو جان گیا کہ کوئی غیر معمولی بات ہوئی ہے۔ وہ «جانتا نہ تھا کہ یہ
(‏مے)‏ کہاں سے آئی ہے۔» مگر اِتنا ضرور جانتا تھا کہ یہ ہے بہت اعلیٰ درجے کی۔ چنانچہ اُس نے فوراً دُولھا کو بلایا۔

آج مَے کے بارے میں مسیحیوں کا کیا رویہ ہونا چاہئے؟ کئی دفعہ مَے دوا اور علاج کے لئے تجویز کی جاتی ہے اور یہ بات نئے عہدنامے کی تعلیم کے عین مطابق ہے (‏۱۔تیمتھیس۵:‏۲۳)‏۔ لیکن مے (‏شراب)‏ کو بڑی
بے اعتدالی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ خوف ناک حد تک غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ جب مسیحی یہ بات دیکھتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ اِس سے بالکل ہی دُور رہا جائے۔ کوئی شخص بھی اِس تیز مشروب کا غلام بن سکتا ہے۔ اِس خطرے سے بچنے کا طریقہ یہی ہے
کہ الکحل والے تمام مشروبات کو ہاتھ نہ لگائیں۔ علاوہ ازیں ہمیشہ غور کرنا چاہئے کہ ہمارے اعمال اور حرکات کا دوسروں پر کیا اثر ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اگر کوئی غیر نجات یافتہ شخص کسی ایمان دار کو مے (‏شراب)‏ پیتے
دیکھ لے تو بہت بُری گواہی ہو گی۔ اِس وجہ سے اِس سے بچنا لازم ہے۔

۲:‏۱۰ میر مجلس اِس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ خداوند یسوع کے کام کرنے کے طریقے اور عام اِنسانوں کے طریقے میں بے اِنتہا فرق ہے۔ شادی کے موقعے پر عام دستور یہ تھا کہ سب سے «اچھی مے» پہلے
پیش کی جاتی تھی کیونکہ اِس طرح مہمان اُس کے ذائقے سے زیادہ لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ مگر جب کھا پی کر سیر ہو جاتے تھے تو مشروب کی کوالٹی کی پروا نہیں کرتے تھے۔ مگر اِس خاص شادی میں سب سے اچھی مے آخر میں پیش کی گئی۔ اِس میں ہمارے
لئے ایک روحانی سبق ہے کہ دُنیا عام طور پر لوگوں کو اپنی بہترین چیزیں پہلے پیش کرتی ہے۔ اپنی دلکش ترین چیزیں نوجوانوں کو پیش کرتی ہے۔ اور جب وہ بے سود لذتوں میں زندگیاں ضائع کر چکتے ہیں تو اُن کے بڑھاپے میں اُنہیں پیش کرنے کو
دُنیا کے پاس سوائے تلچھٹ کے کچھ نہیں ہوتا۔ مسیحی زندگی اِس سے بالکل اُلٹ ہے۔ یہ زندگی بہتر سے بہتر ہوتی جاتی ہے۔ مسیح بہترین مے کو آخر کے لئے رکھ چھوڑتا ہے۔ ضیافت روزہ کے بعد ہوتی ہے۔

کلام کے اِس حصے کا اِطلاق براہِ راست یہودی قوم پر ہوتا ہے۔ اُس زمانے میں یہودیت میں اِس وقت حقیقی خوشی نہیں رہی تھی۔ لوگ بے لطف رسومات اور شعائر کے چکر میں پھنسے ہوئے تھے۔ زندگی بے مزہ ہو کر رہ گئی تھی۔ روحانی خوشی اُن کے لئے
ایک اجنبی چیز بن چکی تھی۔ یہاں خداوند یسوع اُنہیں سکھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھ پر ایمان لاؤ۔ مَیں تمہاری بے رنگ زندگی کو خوشی سے معمور کر دوں گا۔ یہودی رسومات اور شعائر کا پانی مسیح میں پُرمسرت حقیقت میں بدل سکتا ہے۔

۲:‏۱۱ کئی لوگ کہتے ہیں کہ یسوع بچپن اور لڑکپن میں بھی معجزے کرتا تھا۔ مگر یہ بیان کہ «یہ پہلا معجزہ» تھا اِن بے بنیاد باتوں کو ردّ کر دیتا ہے۔ ایسی باتیں «پطرس کی انجیل» جیسی جعلی کتابوں میں
پائی جاتی ہیں۔ روح القدس نے پیش بینی کر کے اِس چھوٹے سے بیان کے وسیلے سے خداوند کے بچپن اور لڑکپن کے زمانے کو محفوظ کر دیا ہے۔

پانی کو مے بنانا ایک «نشان» تھا یعنی ایسا معجزہ جس کا خاص مطلب ہے۔ یہ فوق البشر کام روحانی معانی رکھتا ہے۔ اِن معجزات کا مقصد یہ ثابت کرنا بھی ہے کہ یسوع واقعی خدا کا مسیح ہے۔ زیرِ نظر معجزہ دکھا کر اُس نے «اپنا جلال ظاہر کیا۔»
اُس نے اِنسانوں پر ظاہر کر دیا کہ اُس کی صورت میں خدا مجسم ہوا۔

«اُس کے شاگرد اُس پر ایمان لائے۔» بے شک ایک مفہوم میں وہ پہلے ہی ایمان لے آئے تھے۔ مگر اب اُن کا ایمان مضبوط اور اُن کا اعتقاد پختہ ہو گیا۔ سی۔ جونز (‏Jones)‏ نے کیا خوب کہا ہے کہ:‏

«موسیٰ کا پہلا معجزہ پانی کو خون بنانا تھا۔ اِس میں زبردست تباہ کن اثر تھا۔ مگر مسیح کا پہلا معجزہ پانی کو مے بنانا تھا۔ اِس کا اثر تسکین بخش اور آسودہ کرنے والا تھا۔»

ہ۔ خدا کا بیٹا اپنے باپ کے گھر کو پاک صاف کرتا ہے  (‏۲:‏۱۲-‏۱۷)‏

۲:‏۱۲ اب نجات دہندہ نے قانا کو چھوڑا اور «وہ اور اُس کی ماں اور بھائی اور اُس کے شاگرد کفرنحوم کو گئے۔» وہاں صرف «چند روز رہے۔» اِس کے بعد خداوند یروشلیم چلا گیا۔

۲:‏۱۳ یہ «یروشلیم» میں خدا کی پہلی گواہی ہے۔ اُس کی خدمت کا یہ مرحلہ باب ۳ آیت ۲۱ تک چلتا ہے۔ اُس نے اپنی عام اور علانیہ خدمت کا آغاز بھی اور اِختتام بھی «عید فسح» کے موقعے پر ہیکل کو پاک
کرنے سے کیا (‏دیکھئے متی ۲۱:‏۱۲،‏۱۳؛  مرقس ۱۱:‏۱۵-‏۱۸؛  لوقا ۱۹:‏۴۵،‏۴۶)‏۔ فسح سالانہ عید ہوتی تھی۔ وہ اُس واقعے کی یاد میں منائی جاتی تھی جب بنی اِسرائیل کو مصر
کی غلامی سے رہائی ملی تھی اور خدا اُن کو بحرِقلزم میں سے بحفاظت پار اُتار کر بیابان میں اور وہاں سے ملک ِموعود میں لے آیا تھا۔ پہلی فسح منانے کا بیان خروج باب ۱۲ میں درج ہے۔ چونکہ یسوع یہودی تھا،‏ اِس لئے وہ بھی یہودی سال
کے اِس اہم دن کو منانے کے لئے «یروشلیم کو گیا۔»

۲:‏۱۴ جب خداوند «ہیکل» میں آیا تو دیکھا کہ یہ جگہ منڈی بنی ہوئی ہے۔ بیلوں،‏ بھیڑوں اور کبوتروں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ صراف بھی اپنا دھندا کر رہے ہیں۔ عبادت گزار ہیکل میں
بیلوں،‏ بھیڑوں اور کبوتروں کی قربانیاں چڑھاتے تھے۔ صراف غیر ممالک سے آنے والوں سے نقدی لے کر اِس کے بدلے یروشلیم میں استعمال ہونے والے سِکے دیتے تھے تاکہ زائرین ہیکل کا ٹیکس ادا کر سکیں۔ مشہور ہے کہ یہ صراف دُور دراز کا
سفر کر کے آنے والوں سے ناجائز منافع کماتے تھے۔

۲:‏۱۵ خداوند نے «رسیوں کا کوڑا» بنایا۔ یہ تو درج نہیں کہ اُس نے یہ کوڑا کسی پر استعمال بھی کیا تاہم ممکن ہے کہ یہ صرف اِختیار کی علامت تھا جو اُس نے ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ اُس نے «بھیڑوں اور
بیلوں کو ہیکل سے نکال دیا۔ اور صرافوں کی نقدی بکھیر دی اور اُن کے تختے اُلٹ دیئے۔»

۲:‏۱۶ چونکہ غریب لوگ زیادہ قیمتی اور مہنگی قربانی نہیں چڑھا سکتے تھے اِس لئے شریعت میں اِجازت تھی کہ وہ کبوتروں کا ایک جوڑا چڑھائیں۔ جو لوگ کبوتر بیچتے تھے اُن کو خداوند نے حکم دیا کہ «اِن
کو یہاں سے لے جاؤ۔» مناسب نہ تھا کہ لوگ یسوع کے «باپ کے گھر کو تجارت کا گھر» بنا دیں۔ ہر زمانے میں خدا اپنے لوگوں کو خبردار کرتا رہا ہے کہ مذہبی خدمت کو دولت بٹورنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔ خرید و فروخت کے کام یا دولت کمانے میں کوئی
ظلم یا غیر مناسب بات نہیں لیکن یہاں خدا کی پاکیزگی اور راستی کا سوال تھا۔

۲:‏۱۷ جب اُس کے شاگردوں نے یہ سب کچھ دیکھا تو اُن کو زبور ۶۹:‏۹ یاد آیا جہاں یہ نبوت درج ہے کہ جب مسیحِ موعود آئے گا تو خدا کے گھر کی «غیرت» اُسے «کھا جائے گی۔» اب اُنہوں نے دیکھا کہ
یسوع اِس مصمم ارادے کا اِظہار کر رہا ہے کہ خدا کی عبادت بالکل پاک ہو۔ اور اُن کو احساس ہوا کہ یہی وہ ہستی ہے جس کا ذکر زبور نویس نے کیا ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایمان دار کا بدن پاک روح کا مسکن ہے۔ جس طرح یسوع چاہتا تھا کہ یروشلیم کی ہیکل پاک رہے،‏ اِسی طرح ضرور ہے کہ ہم اپنے بدن خداوند کے سپرد کریں تاکہ وہ اُنہیں پاک صاف کرتا رہے۔

و۔ یسوع اپنی موت اور جی اُٹھنے کی پیش گوئی کرتا ہے  (‏۲:‏۱۸-‏۲۲)‏

۲:‏۱۸ لگتا ہے کہ یہودی ہمیشہ کسی نشان یا معجزے کی تلاش میں رہتے تھے۔ اِس موقعے پر بھی اُنہوں نے یہی کہا کہ «اگر تُو ہمیں کوئی بڑا نشان یا معجزہ دکھائے تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے۔» مگر
خداوند معجزے پر معجزہ دکھاتا رہا،‏ لیکن اُن کے دل بند ہی رہے۔ آیت ۱۸ میں اُنہوں نے اِعتراض کیا کہ تیرے پاس کیا اِختیار ہے جس سے تُو نے خرید و فروخت کرنے والوں کو ہیکل سے نکالا ہے۔ اُن کا مطالبہ تھا کہ مسیحِ موعود ہونے کے
دعوے کے ثبوت میں کوئی «نشان» (‏معجزہ)‏ دِکھائے۔

۲:‏۱۹ جواب میں خداوند نے اپنی موت اور جی اُٹھنے کے بارے میں حیرت افزا بیان دِیا۔ اُس نے کہا «اِس مقدِس کو ڈھا دو تو مَیں اُسے تین دن میں کھڑا کر دوں گا۔» اِس آیت میں مسیح کی الوہیت نظر آتی
ہے۔ صرف خدا ہی کہہ سکتا ہے کہ «مَیں اُسے تین دن میں کھڑا کر دوں گا۔»

۲:‏۲۰ «یہودی» اُس کی بات نہ سمجھ سکے۔ وہ روحانی سچائی کی نسبت مادی باتوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ اُن کا دھیان صرف ایک ہی مقدِس کی طرف جاتا تھا،‏ اور یہ تھی ہیرودیس کی ہیکل جو اُس
وقت یروشلیم میں کھڑی تھی۔ اُسے بنانے میں «چھیالیس برس» لگے تھے۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایک آدمی اُسے صرف «تین دن» میں کس طرح دوبارہ کھڑی کر سکتا ہے۔

۲:‏۲۱ مگر خداوند یسوع نے تو «اپنے بدن کے مقدِس کی بابت کہا تھا۔» اُس کا بدن وہ مقدِس ہے جس میں الوہیت کی ساری معموری سکونت کرتی ہے۔ اُن یہودیوں نے جس طرح یروشلیم کی ہیکل کو ناپاک کیا تھا
اِسی طرح چند ہی برسوں کے بعد وہ خداوند کو مار ڈالنے کو تھے۔

۲:‏۲۲ بعد میں جب خداوند یسوع کو مصلوب کیا جا چکا اور «وہ مردوں میں سے جی اُٹھا تو اُس کے شاگردوں کو یاد آیا کہ اُس نے یہ کہا تھا» یعنی تین دن بعد جی اُٹھنے کا وعدہ کیا تھا۔ اُن کی آنکھوں کے
سامنے نبوت حیرت ناک طریقے سے پوری ہوئی تھی۔ اِس لئے «اُنہوں نے کتابِ مقدس اور اُس قول کا جو یسوع نے کہا تھا یقین کیا۔»

اکثر ہمارا سامنا ایسی سچائیوں سے ہوتا ہے جن کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ مگر یہاں ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں خدا کے کلام کو خزانے کی طرح اپنے دلوں میں سنبھال کر رکھنا چاہئے۔ کوئی دن آئے گا کہ خداوند ہمیں سمجھا دے گا،‏ بے شک ابھی
نہ بھی سمجھتے ہوں۔ «اُنہوں نے کتابِ مقدس… کا یقین کیا۔» اِس کا مطلب ہے کہ اُنہوں نے پرانے عہدنامے میں مسیحِ موعود کے جی اُٹھنے کی پیش گوئیوں کا یقین کیا۔

ز۔ بہت سے لوگ مسیح پر ایمان لانے کا اِقرار کرتے ہیں (‏۲:‏۲۳-‏۲۵)‏

۲:‏۲۳ «جب وہ یروشلیم میں فسح کے وقت عید میں تھا تو بہت سے لوگ اُن معجزوں کو دیکھ کر جو وہ دکھاتا تھا اُس کے نام پر ایمان لائے۔» ضروری نہیں کہ اِس کا مطلب یہ ہو کہ اُنہوں نے اپنی زندگیاں
خداوند کے سپرد کر دی ہوں بلکہ صرف ایمان لانے کا دعویٰ کیا۔ اُن کے اِس فعل میں کوئی حقیقت نہ تھی۔ یسوع کے پیچھے چلنے کا صرف دِکھاوا تھا۔ یہ ہماری دُنیا کے مشابہ ہے،‏ جہاں بہت سے لوگ مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر حقیقت
میں نہ کبھی خداوند یسوع مسیح پر ایمان لائے،‏ نہ کبھی نئے سرے سے پیدا ہوئے۔

۲:‏۲۴ اگرچہ بہت سے لوگ یسوع پر ایمان لائے «لیکن یسوع اپنی نسبت اُن پر اعتبار نہ کرتا تھا» (‏یونانی میں «ایمان لانا» اور «اعتبار کرنا» دونوں کے لئے ایک ہی لفظ استعمال ہوا ہے)‏۔
وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ صرف تجسس کے باعث میرے پاس آ رہے ہیں۔ وہ کوئی سنسنی خیز اور ڈرامائی باتیں دیکھنا چاہتے تھے۔ «وہ سب کو جانتا تھا۔» اُن کے خیالات اور نیتوں سے واقف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ وہ جانتا
تھا کہ اُن کا ایمان اصلی ہے یا نقلی۔

۲:‏۲۵ اِنسان کے دل کو خود خداوند سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ وہ «اِس کی حاجت نہیں رکھتا تھا کہ کوئی اِنسان کے حق میں گواہی دے» یعنی اُس کو ضرورت نہیں کہ اِس موضوع پر کوئی اُسے سِکھائے یا روشنی
ڈالے۔ وہ پورا علم رکھتا ہے کہ اِنسان کے دل میں کیا ہے اور جو کچھ کرتا ہے،‏ کیوں کرتا ہے۔

ح۔ یسوع نیکدیمس کو نئی پیدائش کے بارے میں بتاتا ہے  (‏۳:‏۱-‏۲۱)‏

۳:‏۱ نیکدیمس کی کہانی اُن واقعات سے بالکل مختلف ہے جن کا ذکر ابھی ابھی ہوا ہے۔ یروشلیم میں بہت سے یہودی دعویٰ کرتے تھے کہ ہم خداوند یسوع پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اُن کا ایمان
اصلی نہیں ہے۔ البتہ نیکدیمس کی بات دوسروں سے بالکل مختلف تھی۔ خداوند نے دیکھا کہ اُسے سچائی کو جاننے کی بڑی آرزو ہے۔ یہ آیت حرفِ ربط «لیکن» سے شروع ہونی چاہئے۔ لیکن «فریسیوں میں سے ایک شخص نیکدیمس نام یہودیوں کا ایک سردار تھا۔»

قوم کے لوگ نیکدیمس کو اُستاد مانتے تھے۔ شاید وہ خداوند کے پاس سیکھنے کو آیا تھا تاکہ اضافی علم لے کر یہودیوں کے پاس واپس جائے۔

۳:‏۲ بائبل مقدس یہ نہیں بتاتی کہ نیکدیمس یسوع کے پاس «رات کو» کیوں آیا تھا۔ شاید وجہ یہ ہو کہ چونکہ یہودیوں کی اکثریت نے خداوند کو قبول نہیں کیا تھا،‏ اِس لئے نیکدیمس نہیں چاہتا تھا
کہ کوئی اُسے یسوع کے پاس جاتے ہوئے دیکھے۔ کچھ بھی ہو،‏ وہ یسوع کے پاس آیا۔ نیکدیمس نے اِقرار کیا کہ یسوع «خدا کی طرف سے اُستاد ہو کر آیا ہے» کیونکہ کوئی شخص ایسے معجزے نہیں کر سکتا جب تک اُسے براہِ راست خدا کی مدد حاصل نہ
ہو۔ اپنے تمام علم کے باوجود نیکدیمس نہ پہچان سکا کہ یسوع میں خدا جسم میں ظاہر ہوا ہے۔ وہ آج کے اُن بے شمار لوگوں کی مانند تھا جو کہتے ہیں کہ یسوع ایک عظیم آدمی تھا،‏ بہت اچھا اُستاد تھا،‏ اور نہایت اعلیٰ نمونہ تھا۔
یہ سب کچھ حقیقت سے کتنی دُور ہے!

۳:‏۳ پہلی نظر میں یسوع کا جواب اُس بات سے میل نہیں کھاتا جو نیکدیمس نے کہی تھی۔ خداوند کہہ رہا ہے «نیکدیمس،‏ تم مجھ سے سیکھنے آئے ہو۔ لیکن دراصل تمہیں ضرورت ہے کہ نئے سرے سے پیدا ہو۔»
ضرور ہے کہ تم اِس بات سے شروع کرو۔ ضرور ہے کہ تم اُوپر (‏آسمان)‏ سے پیدا ہو۔ ورنہ تم کبھی «خدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتے۔»

خداوند نے اِن تمام باتوں کا آغاز «مَیں تم سے سچ کہتا ہوں» سے کیا (‏لغوی معنی۔ آمین،‏ آمین)‏۔ یہ الفاظ ہمیں ہوشیار اور متوجہ کر دیتے ہیں کہ کوئی اہم سچائی بیان کی جانے لگی ہے۔

یہودی ہونے کے باعث نیکدیمس اِس اِنتظار میں تھا کہ مسیحِ موعود آئے اور بنی اِسرائیل کو رومیوں کی غلامی سے چھڑائے۔ اُس زمانے میں رومی حکومت کو بیشتر دُنیا پر کنٹرول حاصل تھا۔ اور یہودی اُس کے قوانین اور حکمرانی کے ماتحت تھے۔
نیکدیمس شدت سے منتظر اور آرزو مند تھا کہ کب وہ وقت آئے کہ مسیحِ موعود اِس دُنیا میں اپنی بادشاہی قائم کرے۔ کب یہودی قوم ساری قوموں میں سرفراز ہو،‏ اور کب ہمارے سارے دشمن نیست ہوں۔ لیکن اب خداوند نیکدیمس کو بتا رہا ہے کہ
بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے ضرور ہے کہ اِنسان «نئے سرے سے پیدا ہو» (‏اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ «اُوپر سے پیدا ہو»)‏۔ دوسرے لفظوں میں مسیح کی بادشاہی میں صرف وہی لوگ داخل ہو سکتے ہیں جن کی زندگیاں بدل چکی ہوں۔ چونکہ
اُس کی بادشاہی راستی کی بادشاہی ہو گی اِس لئے ضرور ہے کہ اُس کی رعایا بھی راست ہو۔ وہ ایسے لوگوں پر بادشاہی نہیں کر سکتا جو گناہوں میں زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔

۳:‏۴ ہم یہاں پھر دیکھتے ہیں کہ اِنسانوں کے لئے خداوند یسوع کی باتیں سمجھنا کس قدر مشکل ہے۔ «نیکدیمس» ہر بات کو لفظی معنوں میں لیتا تھا۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایک بالغ شخص نئے سرے
سے «کیونکر پیدا ہو سکتا ہے۔» وہ اِس بات کے ناممکن ہونے پر غور کر رہا تھا کہ اِنسان «دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہو سکتا ہے۔»

نیکدیمس اِس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ «نفسانی آدمی خدا کے روح کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بے وقوفی کی باتیں ہیں۔ اور نہ وہ اُنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ روحانی طور پر پرکھی جاتی ہیں» (‏۱۔کرنتھیوں
۲:‏۱۴)‏۔

۳:‏۵ مزید وضاحت کے لئے یسوع نیکدیمس کو بتاتا ہے کہ اِنسان کو «پانی اور روح سے پیدا ہونا» ضرور ہے۔ ورنہ «وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔»

یسوع کا مطلب کیا تھا؟ کئی لوگ زور دے کر کہتے ہیں کہ یہاں «پانی» سے مراد پانی ہی ہے۔ وہ اِس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ نجات کے لئے پانی سے بپتسمہ لینا ضروری ہے۔ مگر ایسی تعلیم باقی بائبل مقدس کی تعلیم کے بالکل اُلٹ ہے۔ ہم خدا کے
کلام میں ہر جگہ یہی پڑھتے ہیں کہ نجات صرف خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے سے ہے۔ بپتسمہ اُن کے لئے ہے جو پہلے ہی نجات پا چکے ہیں۔ مگر یہ نجات کا وسیلہ نہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اِس آیت میں «پانی» خدا کے کلام کو پیش کرتا ہے۔ اِفسیوں ۵:‏۲۵،‏۲۶ میں پانی کا خدا کے کلام کے ساتھ گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ پھر ۱۔پطرس ۱:‏۲۳ اور یعقوب  ۱:‏۱۸  میں یہ کہ نئی
پیدائش خدا کے کلام کے وسیلے سے ہوتی ہے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ اِس آیت میں پانی بائبل مقدس کی طرف اِشارہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ پاک کلام کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔ خدا کے کلام میں جو پیغام ہے،‏ ضرور ہے کہ گنہگار اُس کو قبول کرے۔
اِس کے بعد ہی نئی پیدائش ہو سکتی ہے۔

«پانی» سے اِشارہ روح القدس کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ یوحنا ۷:‏۳۸،‏۳۹ میں خداوند نے زندگی کے پانی کی ندیوں کا ذکر کیا ہے اور ہمیں صاف طور سے بتایا گیا ہے کہ جب اُس نے لفظ «پانی» استعمال کیا تو وہ روح القدس کی بات کر
رہا تھا۔ اگر باب ۷ میں پانی کا مطلب روح القدس ہے تو باب ۳ میں بھی یہی مطلب کیوں نہیں ہو سکتا؟

مگر یہ تشریح قبول کرنے میں ایک مشکل ہے۔ یسوع کہتا ہے کہ «جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو۔ وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔» اگر «پانی» کا مطلب «روح القدس» لیا جائے تو ایسا لگے گا کہ اِس آیت میں روح کا ذکر دو
دفعہ ہوا ہے۔ لیکن جس لفظ کا ترجمہ «اور» کیا گیا ہے اُس کا درست طور پر ترجمہ «یعنی» بھی ہو سکتا ہے۔ اِس صورت میں آیت یوں ہو گی «جب تک کوئی آدمی پانی یعنی روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔» ہمارے نزدیک اِس
آیت کا مطلب یہی ہے۔ جسمانی یا طبعی پیدائش کافی نہیں۔ اگر اِنسان «خدا کی بادشاہی میں داخل» ہونا چاہے تو اُس کو روحانی طور سے پیدا ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ روحانی پیدائش خدا کا پاک روح اُس وقت دیتا ہے جب اِنسان خداوند یسوع مسیح پر
ایمان لاتا ہے۔ اِس تشریح کی حمایت «روح سے پیدا ہوا» کی اِصطلاح سے بھی ہوتی ہے جو آیات ۶ اور ۸ میں دو دفعہ استعمال ہوئی ہے۔

۳:‏۶ اگر نیکدیمس کسی طرح ماں کے پیٹ میں دوبارہ داخل ہو کر دوبارہ پیدا ہو بھی جاتا تو بھی اُس کی بُری سرشت یا فطرت بدل نہ سکتی۔ یہ الفاظ کہ «جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے» یہ مطلب رکھتے ہیں کہ
اِنسانی والدین سے پیدا ہونے والے بچے اپنی نجات کے سلسلے میں بے بس اور بے اُمید ہوتے ہیں۔ دوسری طرف «جو روح سے پیدا ہوا ہے روح ہے۔» روحانی پیدائش اُس وقت ہوتی ہے جب اِنسان خداوند یسوع پر ایمان لاتا ہے۔ جب کوئی شخص روح سے دوبارہ
پیدا ہوتا ہے تو اُسے نئی فطرت ملتی ہے اور وہ خدا کی بادشاہی کے لائق بنایا جاتا ہے۔

۳:‏۷ خداوند یسوع نے نیکدیمس سے کہا کہ تُومیری تعلیمات پر «تعجب نہ کر»۔ نیکدیمس کو جان لینا چاہئے کہ اِنسان کو «نئے سرے سے پیدا ہونا ضرور ہے» اور یہ بھی کہ اِنسان اپنی گری ہوئی (‏گناہ
آلودہ)‏ حالت کو بدلنے میں قطعی طور پر بے بس ہے۔ اُسے یہ بھی جان لینا چاہئے کہ خدا کی بادشاہی کی رعیت بننے کے لئے اِنسان کا پاک،‏ بے داغ اور روحانی ہونا لازم ہے۔

۳:‏۸ خداوند یسوع اکثر فطرت سے مثالیں دے کر روحانی سچائیوں کی وضاحت کرتا تھا۔ یہاں بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ وہ نیکدیمس کو یاد دلاتا ہے کہ «ہوا جدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تُو اُس کی آواز سنتا ہے
مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی اور کہاں کو جاتی ہے۔» نئی پیدائش بھی ہوا کی مانند ہے۔ اوّل،‏ یہ خدا کی مرضی کے مطابق واقع ہوتی ہے۔ یہ کوئی ایسی قوت نہیں جو اِنسان کے ہاتھ اور اِختیار میں ہو۔ دوسرے،‏ نئی پیدائش
نادیدنی ہوتی ہے۔ آپ نئی پیدائش کے عمل کو دیکھ نہیں سکتے۔ لیکن اِنسان کی زندگی میں اِس کے اثرات اور نتائج دیکھ سکتے ہیں۔ جب آدمی نجات پا لیتا ہے تو اُس میں ایک تبدیلی آ جاتی ہے۔ پہلے جن بُری باتوں سے پیار کرتا تھا اُن سے وہ اب
نفرت کرتا ہے۔ پہلے وہ خدا کی باتوں کو حقیر جانتا تھا اب اُن کو دل و جان سے چاہتا ہے۔ جس طرح کوئی شخص ہوا کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتا،‏ اِس طرح اِنسان نئی پیدائش کو بھی نہیں سمجھ سکتا،‏ کیونکہ یہ خدا کے روح کا معجزہ
ہے۔ علاوہ ازیں ہوا کی طرح نئی پیدائش بھی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ کہنا ممکن نہیں کہ نئی پیدائش کب یا «کہاں» واقع ہو گی۔

۳:‏۹ نیکدیمس دوبارہ ظاہر کرتا ہے کہ طبعی عقل الٰہی باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ بے شک وہ نئی پیدائش کو روحانی عمل نہیں بلکہ ابھی تک طبعی عمل سمجھ رہا تھا۔ اِسی لئے وہ خداوند سے پوچھتا ہے کہ
«یہ باتیں کیونکر ہو سکتی ہیں؟»

۳:‏۱۰ یسوع نے جواب دیا کہ «بنی اِسرائیل کا اُستاد» ہونے کے باعث «یہ باتیں» نیکدیمس کی سمجھ میں آ جانی چاہئے تھیں۔ پرانا عہدنامہ صاف صاف سکھاتا ہے کہ جب مسیحِ موعود اپنی بادشاہی قائم کرنے کے
لئے آئے گا تو پہلے اپنے دشمنوں کی عدالت کرے گا اور اُن تمام باتوں کو نیست کرے گا جو گناہ کرنے پر اُبھارتی ہیں۔ صرف وہی لوگ اِس بادشاہی میں داخل ہوں گے جو اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے اُن کو ترک کر دیں گے۔

۳:‏۱۱ اب خداوند نے اِس بات پر زور دیا کہ میری تعلیم بے خطا ہے تو بھی اِنسان میرا یقین نہیں کرتے۔ خداوند ازل سے اِن باتوں کی سچائی کو جانتا ہے اور صرف اُن باتوں کی تعلیم دیتا تھا جن کو وہ
«جانتا» اور جن کو «دیکھا» تھا۔ لیکن نیکدیمس اور اُس کے زمانے کے اکثر یہودیوں نے اُس کی گواہی کو قبول کرنے سے اِنکار کر دیا۔

۳:‏۱۲ وہ «زمین کی باتیں» کون سی ہیں جن کا ذکر خداوند نے اِس آیت میں کیا ہے؟ مراد اُس کی «زمین کی» بادشاہی ہے۔ نیکدیمس پرانے عہدنامے کا عالم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک دن مسیحِ موعود آئے گا اور
اِس زمین پر اپنی بادشاہی قائم کرے گا۔ یروشلیم اُس کا دارالحکومت ہو گا۔ مگر نیکدیمس ایک بات سمجھنے میں ناکام رہا کہ اِس نئی بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے نئی پیدائش ضروری ہے۔ پھر وہ «آسمان کی باتیں» کون سی ہیں جن کا ذکر خداوند نے
کیا ہے؟ اِن سے مراد وہ سچائیاں ہیں جن کا بیان اگلی آیات میں ہوا ہے،‏ یعنی وہ عجیب اور شان دار طریقہ جس سے اِنسان کو نئی پیدائش حاصل ہوتی ہے۔

۳:‏۱۳ صرف ایک شخص ہے جو «آسمان کی باتیں» کرنے کا اہل ہے کیونکہ صرف وہی ایک ہستی ہے جو «آسمان میں ہے»۔ خداوند یسوع صرف اِنسانی اُستاد ہی نہیں جسے خدا نے بھیجا تھا بلکہ وہ ہستی ہے جو ازل سے
خدا باپ کے ساتھ ہے۔ وہ «آسمان سے اُترا» اور اِس دُنیا میں آیا۔ جب اُس نے کہا کہ «آسمان پر کوئی نہیں چڑھا» تو اُس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ حنوک اور ایلیاہ جیسے پرانے عہدنامے کے مقدسین آسمان پر نہیں گئے بلکہ یہ کہ وہ «آسمان پر»
اُٹھائے گئے تھے جب کہ یہ عمل خود اُسی (‏مسیح)‏ کی قدرت سے ہوا تھا۔ دوسری تشریح ہے کہ کسی اِنسان کو خدا کی حضوری میں مسلسل رسائی حاصل نہیں جو مسیح کو ہے۔ وہ ایک بے مثال طریقے سے خدا کی سکونت گاہ تک جا سکتا ہے کیونکہ
وہ اِسی آسمان سے اِس زمین پر اُترا ہے۔ جب خداوند یسوع زمین پر کھڑا نیکدیمس سے بات چیت کر رہا تھا تو اُس نے کہا کہ مَیں اِس وقت بھی «آسمان میں» ہوں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ خداوند یسوع،‏ خدا ہے،‏ اِس لئے
ایک ہی وقت میں سب جگہ حاضر ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ وہ «ہر جا موجود»ہے تو یہی مطلب ہوتا ہے۔ کئی جدید علما «جو آسمان میں ہے» کے الفاظ کو قبول نہیں کرتے،‏ لیکن مسودوں سے اِن الفاظ کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ متن کا حصہ ہیں۔

۳:‏۱۴ اب خداوند یسوع نیکدیمس پر آسمانی سچائی کھولنے کو تھا۔ نئی پیدائش کس طرح ہوتی ہے؟ اِنسان کے گناہوں کی سزا کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اِنسان اپنے گناہوں کے ہمراہ آسمان میں نہیں جا سکتا۔ «جس
طرح موسیٰ نے سانپ کو بیابان میں اُونچے پر چڑھایا اُسی طرح ضرور ہے کہ ابنِ آدم بھی اُونچے پر چڑھایا جائے» (‏دیکھئے گنتی ۲۱:‏۴-‏۹)‏۔ ملک ِ موعود کی راہ پر بیابان میں آوارہ گھومتے ہوئے بنی اِسرائیل بے
حوصلہ اور بے صبر ہو گئے تھے۔ وہ خدا کے خلاف بڑبڑانے لگے۔ سزا کے طور پر خداوند نے اُن کے درمیان جلانے والے سانپ بھیجے۔ اِس کے نتیجے میں بہت سے لوگ مر گئے۔ باقی لوگوں نے توبہ کر کے خداوند کے حضور فریاد کی تو اُس نے موسیٰ سے کہا کہ
پیتل کا «ایک سانپ» بنا کر بَلّی پر لٹکا دے۔ جن اِسرائیلیوں کو سانپ ڈستے تھے،‏ جب وہ پیتل کے اِس سانپ پر نظر کرتے تو معجزانہ طور پر بچ جاتے تھے۔

یسوع نے پرانے عہدنامے کے اِس واقعے سے وضاحت کی کہ نئی پیدائش کس طرح ہوتی ہے۔ اِنسانوں کو گناہ کے سانپ نے ڈس لیا ہے۔ چنانچہ اُن پر ابدی موت کی سزا کا حکم ہو چکا ہے۔ پیتل کا سانپ خداوند یسوع کی تصویر یا مثیل تھا۔ بائبل میں پیتل کا
مطلب ہے عدالت یا سزا۔ خداوند یسوع قطعی طور پر بے گناہ تھا۔ لیکن اُس نے ہماری جگہ لے لی اور ہماری سزا برداشت کی۔ بَلّی کلوری پر اُس صلیب کی تصویر ہے جس پر خداوند یسوع کو لٹکایا گیا۔ ہم ایمان لا کر اُس کی طرف دیکھتے اور نجات پاتے
ہیں۔

۳:‏۱۵ وہ نجات دہندہ جو گناہ سے واقف نہ تھا اُسے ہمارے لئے گناہ ٹھہرایا گیا تاکہ ہم اُس میں ہو کر خدا کی راست بازی ہو جائیں تاکہ «جو کوئی» خداوند یسوع مسیح پر «ایمان لائے اُس میں ہمیشہ کی
زندگی پائے۔»

۳:‏۱۶ بے شک یہ بائبل مقدس کی مشہور ترین آیت ہے کیونکہ یہ اِنجیل کی خوش خبری کو بڑی سادگی اور صفائی سے بیان کرتی ہے۔ اِس آیت میں وہ ساری تعلیم نہایت مختصر الفاظ میں بیان ہوئی ہے جو خداوند
یسوع نئی پیدائش کے سلسلے میں نیکدیمس کو دے رہا تھا۔ لکھا ہے کہ «خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی۔» «دُنیا» میں سارے بنی نوعِ اِنسان شامل ہیں۔ خدا اِنسان کے گناہوں یا دُنیا کے بدی سے بھرے ہوئے نظام سے محبت نہیں رکھتا بلکہ وہ
اِنسانوں سے محبت رکھتا ہے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ اُن میں سے ایک بھی ہلاک ہو۔

اِس محبت کی وسعت اِس حقیقت سے ظاہر اور ثابت ہوتی ہے کہ «اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا۔» یہ اُس کے لامحدود پیار کا اِظہار ہے کہ وہ باغی گنہگاروں کے بدلے میں «اپنا» بے مثال «بیٹا» دینے کو راضی ہو گیا۔ اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ
ہر ایک اِنسان کو نجات مل گئی ہے۔ ضرور ہے کہ اِنسان پہلے اُس کام کو قبول کرے جو مسیح نے اُس کی خاطر کیا ہے۔ پھر خدا اُس کو ابدی زندگی دیتا ہے۔ اِسی لئے اِن الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے کہ «تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو»۔
کسی کو بھی ہلاک ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک راستہ مہیا کر دیا گیا ہے جس پر چل کر سب لوگ نجات پا سکتے ہیں مگر ضرور ہے کہ ہر اِنسان خداوند یسوع مسیح کو شخصی نجات دہندہ قبول کرے۔ جب وہ ایسا کرتا ہے تو «ابدی زندگی» کا مالک بن جاتا
ہے۔ یہ زندگی ابھی اُس کی ملکیت ہو جاتی ہے۔

۳:‏۱۷ خدا کوئی سخت گیر اور ظالم حکمران نہیں ہے جو بنی نوعِ اِنسان پر غضب نازل کرنے کو اُدھار کھائے بیٹھا ہو۔ اُس کا دل اِنسان کے لئے نرمی اور پیار سے بھرا ہوا ہے۔ اِسی لئے اُس نے ہماری نجات
کے لئے اِنتہائی قیمت ادا کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ خدا اپنے بیٹے کو دُنیا میں اِس لئے بھی بھیج سکتا تھا کہ دُنیا پر سزا کا حکم کرے لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا،‏ بلکہ اِس کے برعکس اِس لئے بھیجا کہ دُکھ اُٹھائے،‏ خون
بہائے اور جان دے تاکہ «دُنیا اُس کے وسیلہ سے نجات پائے۔» صلیب پر خداوند یسوع کا کام وسیع ہے کہ دُنیا کے تمام گنہگار نجات پا سکتے ہیں بشرط یہ کہ اُسے قبول کر لیں۔

۳:‏۱۸ تمام بنی نوعِ اِنسان دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک ایمان دار دوسرے بے ایمان۔ ہمارے ابدی انجام کا اِنحصار اِس بات پر ہے کہ خدا کے بیٹے کے بارے میں ہمارا کیا رویہ ہے۔ جو اِنسان نجات
دہندہ پر ایمان لاتا ہے «اُس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا۔» لیکن «جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اُس پر سزا کا حکم ہو چکا» ہے۔ خداوند یسوع نے نجات کا کام مکمل کر دیا۔ اب ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہے کہ فیصلہ کرے کہ اُسے قبول کرے گا یا ردّ کرے
گا۔ محبت کے ایسے تحفے کو ردّ کر دینا نہایت ہولناک بات ہے۔ اگر کوئی شخص خداوند یسوع پر ایمان نہیں لاتا تو خدا اُس پر سزا کا حکم دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔

اُس کے «نام» پر ایمان لانا یا اُس پر ایمان لانا ایک ہی بات ہے۔ بائبل مقدس میں نام پورے شخص کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر آپ یسوع کے «نام» پر ایمان لاتے ہیں تو خود یسوع پر ایمان لاتے ہیں۔

۳:‏۱۹ یسوع وہ «نور» ہے جو «دُنیا میں آیا ہے»۔ وہ خدا کا بے گناہ اور بے داغ برّہ ہے۔ وہ ساری دُنیا کے گناہوں کے لئے موأ۔ لیکن کیا اِس وجہ سے اِنسان اُس سے محبت کرتے ہیں؟ نہیں — بلکہ اُس پر
ناراضی اور خفگی کا اِظہار کرتے ہیں۔ وہ اپنے گناہوں کے بجائے نجات دہندہ یسوع کو ردّ کر دیتے ہیں۔ جس طرح رینگنے والے اکثر حشرات الارض روشنی آتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں،‏ اُسی طرح شریر لوگ مسیح کی حضوری سے بھاگتے ہیں۔

۳:‏۲۰ جو لوگ گناہ کو پسند کرتے ہیں،‏ وہ «نور سے دشمنی» رکھتے ہیں اِس لئے کہ نور اُن کے گناہوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔ جب یسوع اِس دُنیا میں تھا تو گنہگار اِنسان اُس کی حضوری سے پریشان اور
بے چین ہو جاتے تھے کیونکہ اُس کی پاکیزگی اِن لوگوں کی خوف ناک حالت کو بے نقاب کر دیتی تھی۔ کسی لاٹھی کی ٹیڑھ کو نمایاں کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک سیدھی لاٹھی اُس کے بالمقابل رکھ دی جائے۔ خداوند اِس دُنیا میں «کامل اِنسان»
بن کر آیا تاکہ اُس کے مقابل تمام دیگر اِنسانوں کی ٹیڑھ بے نقاب ہو جائے۔

۳:‏۲۱ اگر کوئی اِنسان خدا کے سامنے پورے طور پر دیانت دار اور سچا ہو،‏ تو وہ «نور کے پاس آتا ہے»۔ جب وہ نور یعنی یسوع مسیح کے پاس آتا ہے تو دیکھتا ہے کہ مَیں تو قطعی طور پر گناہ آلود
اور بے وقعت ہوں۔ پھر وہ نجات دہندہ پر ایمان لائے گا اور مسیح پر ایمان لانے سے اُس کی نئی پیدائش ہو جائے گی۔

ط۔ یوحنا بپتسمہ دینے والے کی یہودیہ میں خدمت  (‏۳:‏۲۲-‏۳۶)‏

۳:‏۲۲ اِس باب کے پہلے حصے میں یروشلیم شہر میں خداوند یسوع کی گواہی کا بیان ہوا ہے۔ اِس آیت سے لے کر باب کے آخر تک «یہودیہ» میں مسیح کی خدمت کا ذکر ہے۔ بے شک وہ یہودیہ اور اِس کے گرد نواح میں
نجات کی خوش خبری دیتا رہا۔ جیسے جیسے لوگ نور میں آتے تھے،‏ اُن کو «بپتسمہ» دیا جاتا تھا۔ اِس آیت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یسوع خود بپتسمہ دیتا تھا۔ لیکن یوحنا ۴:‏۲ سے پتا چلتا ہے کہ بپتسمہ اُس کے شاگرد دیتے تھے۔

۳:‏۲۳ جس «یوحنا» کا ذکر اِس آیت میں ہے،‏ وہ یوحنا بپتسمہ دینے والا ہے۔ وہ ابھی تک یہودیہ کے علاقے میں توبہ کا پیغام سنا رہا تھا اور اُن یہودیوں کو بپتسمہ دیتا تھا جو مسیحِ موعود کی
آمد کی تیاری کے لئے توبہ کرنے پر آمادہ ہوتے تھے۔ «اور یوحنا بھی شالیم کے نزدیک عینون میں بپتسمہ دیتا تھا کیونکہ وہاں پانی بہت تھا۔» اِس سے یہ قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ وہ غوطے سے بپتسمہ دیتا تھا۔ لیکن یہ بات مضمر ضرور ہے۔
اگر وہ پانی چھڑکنے یا اُنڈیلنے سے بپتسمہ دیتا تو «بہت پانی» کی ضرورت نہ ہوتی۔

۳:‏۲۴ یہ آیت بیان کرتی ہے کہ یوحنا کی خدمت جاری تھی اور خدا پرست یہودی اِس سے متاثر بھی ہو رہے تھے۔ مستقبل قریب میں «یوحنا… قیدخانہ میں ڈالا» اور وفادار گواہی کے سبب اُس کا سر قلم کِیا جانے
کو تھا۔ لیکن تب تک وہ اپنے مقررہ فرض کو تن دہی سے پورا کرتا رہا۔

۳:‏۲۵ اِس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ «یوحنا کے» کچھ «شاگردوں کی کسی یہودی کے ساتھ طہارت کی بابت بحث ہوئی۔» اِس کا مطلب کیا ہے؟ «طہارت» کا یہاں غالباً مطلب بپتسمہ ہے۔ بحث یہ تھی کہ کیا یوحنا کا
بپتسمہ یسوع کے بپتسمہ سے بہتر ہے؟ کس بپتسمے میں زیادہ قوت ہے؟ کون سا زیادہ اہم ہے؟ شاید یوحنا کے کچھ شاگرد نادانی سے یہ کہتے ہوں کہ کوئی بپتسمہ بھی ہمارے اُستاد (‏یوحنا)‏ کے بپتسمہ سے بہتر نہیں ہو سکتا۔ شاید فریسی
اِس کوشش میں رہے ہوں کہ یوحنا کے شاگردوں میں یسوع اور اُس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بارے میں حسد پیدا کریں۔

۳:‏۲۶ فیصلہ کرانے کے لئے وہ «یوحنا کے پاس» آئے۔ وہ اُس سے گویا پوچھ رہے تھے کہ «اگر تمہارا بپتسمہ بہتر ہے تو پھر اِتنے لوگ تمہیں چھوڑ چھوڑ کر یسوع کے پاس کیوں جا رہے ہیں؟» «جو شخص یردن کے
پار تیرے ساتھ تھا»:‏اِن الفاظ سے مراد مسیح یسوع ہے۔ یوحنا نے خداوند یسوع کے حق میں گواہی دی۔ اِس کے نتیجے میں اُس کے اپنے بہت سے شاگرد اُس کا ساتھ چھوڑ کر یسوع کے پیچھے ہو لئے تھے۔

۳:‏۲۷ اگر یوحنا کے جواب کا اِشارہ خداوند یسوع کی طرف تھا تو مطلب یہ تھا کہ نجات دہندہ کو جو کامیابی ہو رہی تھی وہ ثبوت تھی کہ خدا اُس سے راضی ہے۔ اگر یوحنا کا اِشارہ اپنی طرف تھا تو وہ کہہ
رہا تھا کہ مَیں نے کبھی بڑا یا اہم ہونے کا دعویٰ کیا ہی نہیں۔ اُس نے کبھی دعویٰ نہیں کیا تھا کہ میرا بپتسمہ یسوع کے بپتسمے سے برتر اور اعلیٰ ہے۔ یہاں وہ صرف اِتنی بات بیان کر رہا ہے کہ میرے پاس اِس سے زیادہ کچھ نہیں جو «آسمان
سے» ملا ہے۔ یہ بات ہم سب پر صادق آتی ہے۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ ہم مغرور ہوں یا آدمیوں کے سامنے اپنے عزت و وقار کو بنانے کی کوشش کریں۔

۳:‏۲۸ یوحنا نے اپنے شاگردوں کو یاد دلایا کہ مَیں نے بار بار بتایا ہے کہ «مَیں مسیح نہیں،‏ مگر» صرف «اُس کے آگے بھیجا گیا ہوں۔» تم میرے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو؟ تم میرے گرد ایک پارٹی
کیوں قائم کرنا چاہتے ہو؟ مَیں تو اہم شخصیت نہیں۔ مَیں تو تمہاری توجہ خداوند یسوع کی طرف دلا رہا ہوں۔

۳:‏۲۹ خداوند یسوع مسیح «دُولھا» ہے اور یوحنا بپتسمہ دینے والا صرف «دُولھا کا دوست» ہے۔ دُلھن دُولھا کے دوست کی نہیں ہوتی،‏ بلکہ خود «دُولھا» کی ہوتی ہے۔ اِس لئے مناسب بات تھی کہ لوگ
یوحنا کو چھوڑ کر یسوع کے پیچھے چلیں۔ یہاں لفظ «دُلھن» عمومی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مراد ہے وہ تمام لوگ جو خداوند یسوع کے شاگرد بن جائیں گے۔ پرانے عہدنامے میں اِسرائیل قوم کو یہوواہ کی «بیوی» کہا گیا ہے۔ بعد میں نئے عہدنامے
میں جو لوگ مسیح کی کلیسیا کے ممبران ہیں،‏ اُن کو دُلھن سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مگر یہاں یوحنا کی اِنجیل میں لفظ دُلھن عمومی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ مراد اُن لوگوں سے ہے جو مسیحِ موعود کے ظہور پر یوحنا کو چھوڑ گئے تھے۔ اِس
سے مراد نہ اِسرائیلی قوم ہے نہ مسیحی کلیسیا۔ یوحنا اپنے پیروکاروں کو کھو کر اُداس یا ناراض نہیں ہوا بلکہ وہ «دُولھا کی آواز سے بہت خوش ہوتا ہے»۔ وہ اِس بات پر خوش تھا کہ یسوع کو توجہ مل رہی ہے۔ جب لوگ مسیح کی تعریف اور تعظیم
کرنے لگے تو یوحنا کی «یہ خوشی پوری ہو گئی»۔

۳:‏۳۰ یوحنا کی خدمت کے پورے مقصد کا خلاصہ اِس آیت میں بیان ہوا ہے۔ وہ پورے زور سے محنت کرتا تھا کہ تمام مرد و زن کو خداوند کی طرف پھیرے اور اُن پر اُس کی اصل حقیقت اور قدر و قیمت کو واضح
کرے۔ اور وہ جانتا تھا کہ اِس مقصد کے لئے مجھے اپنے آپ کو پس منظر میں رکھنا ہو گا۔ اگر مسیح کا کوئی خادم توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ایک طرح کی بے وفائی اور غداری ہو گی۔

اِس باب میں تین «ضرور ہے» پر غور کریں۔ پہلا گنہگار کے لئے ہے (‏۳:‏۷)‏۔ دوسرا نجات دہندہ کے لئے (‏۳:‏۱۴)‏ اور تیسرا ایک مقدس شخص کے لئے (‏۳:‏۳۰)‏۔

۳:‏۳۱ یسوع ہے وہ «جو اُوپر سے آتا ہے اور سب سے اُوپر ہے»۔ اِس بیان کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اُس کی اصل آسمانی ہے اور مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے۔ یوحنا بپتسمہ دینے والا اپنی ادنیٰ حیثیت کو ثابت
کرنے کے لئے اپنے بارے میں کہتا ہے کہ مَیں «زمین سے» ہوں اور «زمین ہی کی کہتا» ہوں۔ سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک اُس کی پیدائش کا تعلق ہے وہ اِنسانی والدین سے ایک بشر پیدا ہوا تھا۔ اُسے آسمانی مرتبہ حاصل نہیں تھا۔ لہٰذا وہ
اُس اِختیار کے ساتھ کلام نہیں کر سکتا تھا جس اِختیار سے مسیح کر سکتا تھا۔ وہ مسیح سے کم تر درجہ رکھتا تھا۔ «جو اُوپر سے آتا ہے وہ سب سے اُوپر ہے۔» مسیح ساری کائنات کا حاکمِ اعلیٰ اور فرماں روائے مطلق العنان ہے۔ اِس لئے مناسب ہے
کہ لوگ اُس کے ایلچی کی نہیں بلکہ خود اُس کی پیروی کریں۔

۳:‏۳۲ جب خداوند یسوع کلام کرتا تھا تو اِختیار کے ساتھ کرتا تھا۔ وہ لوگوں کو وہ باتیں بتاتا تھا جن کو اُس نے «دیکھا اور سنا» تھا۔ اِس میں کسی غلطی کا اِمکان نہ تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ «کوئی
اُس کی گواہی قبول نہیں کرتا» تھا۔ «کوئی… نہیں»:‏اِن الفاظ کو مطلق مفہوم میں نہیں سمجھنا چاہئے۔ ایسے افراد بھی ہیں جو خداوند یسوع کے کلام (‏گواہی)‏ کو قبول کرتے ہیں۔ البتہ یوحنا (‏بپتسمہ دینے
والا)‏ بنی نوعِ اِنسان پر عمومی نظر ڈال کر بیان کرتا ہے کہ اکثریت نے نجات دہندہ کی تعلیمات کو مسترد کر دیا ہے۔ یسوع وہ ہستی ہے جو آسمان سے اُترا۔ مگر نہایت ہی تھوڑے لوگ تھے جو اُس کی سننے پر آمادہ تھے۔

۳:‏۳۳ آیت ۳۳ اُن تھوڑے لوگوں کا بیان کرتی ہے جنہوں نے واقعی خداوند کی باتوں کو قبول کیا کہ یہ خدا کی ہیں۔ اِس قبولیت سے اُنہوں نے «اِس بات پر مہر کر دی کہ خدا سچا ہے۔» آج بھی حالات ایسے ہی
ہیں۔ جب لوگ اِنجیل کے پیغام کو قبول کرتے ہیں تو وہ خود اپنے اور باقی بنی نوعِ اِنسان کے خلاف خدا کی طرف ہو جاتے ہیں۔ وہ احساس کرتے ہیں کہ اگر «خدا نے» کچھ کہا ہے تو وہ ضرور «سچ» ہے۔ غور کریں کہ آیت ۳۳ کس صفائی سے مسیح کی الوہیت
کی تعلیم دیتی ہے۔ کہتی ہے کہ جو کوئی مسیح کی «گواہی» پر ایمان لاتا ہے،‏ وہ تسلیم کرتا ہے کہ «خدا سچا ہے۔» دوسرے لفظوں میں کہا گیا ہے کہ مسیح کی گواہی «خدا» کی گواہی ہے۔ لہٰذا ایک کو قبول کرنا دوسرے کو قبول کرنے کے مترادف
ہے۔

۳:‏۳۴ یسوع ہی وہ ہستی ہے «جسے خدا نے بھیجا» اور وہی «خدا کی باتیں کہتا ہے۔» اپنے اِس بیان کی حمایت میں یوحنا کہتا ہے کہ خدا «روح ناپ ناپ کر نہیں دیتا۔» مسیح کو خدا کے پاک روح سے اِس طرح مسح
کیا گیا جیسے کسی دوسرے کو کبھی نہیں کیا گیا۔ دوسروں کو یہ شعور ہوتا ہے کہ ہماری خدمت میں روح القدس کی مدد شامل ہے،‏ لیکن کسی کی خدمت روح القدس سے کبھی ایسی معمور نہیں ہوئی جیسی خدا کے بیٹے کی خدمت تھی۔ نبیوں کو خدا سے
جزوی مکاشفہ حاصل ہوتا تھا۔ لیکن روح نے مسیح میں اور مسیح کے وسیلے سے خدا کی حکمت اور خدا کے دل اور اُس کی لامحدود محبت کو اِنسان پر ظاہر کر دیا ہے۔

۳:‏۳۵ یوحنا کی اِنجیل میں سات مرتبہ بتایا گیا ہے کہ «باپ بیٹے سے محبت رکھتا ہے۔» یہ اِنہی سات میں سے ایک موقع ہے۔ یہاں اِس محبت کا اِظہار «سب چیزیں اُس کے ہاتھ میں دے» دینے کے وسیلے سے کیا
گیا ہے۔ جن چیزوں پر نجات دہندہ کو اِختیارِ مطلق ہے،‏ اُن میں اِنسان کا انجام بھی شامل ہے۔ اِس بات کی وضاحت آیت ۳۶ میں ہوتی ہے۔

۳:‏۳۶ خدا نے مسیح کو اِختیار دیا ہے کہ اُن سب کو «ہمیشہ کی زندگی» دے جو اُس پر ایمان لاتے ہیں۔ ساری بائبل میں یہ واضح ترین آیت ہے کہ اِنسان کس طرح نجات پا سکتا ہے۔ صرف ایک ہی طریقہ ہے یعنی
«بیٹے پر ایمان» لانا۔ جب ہم یہ آیت پڑھتے ہیں تو احساس ہونا چاہئے اور ماننا چاہئے کہ خدا کلام کر رہا ہے۔ وہ وعدہ کر رہا ہے اور یہ وعدہ کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ وہ بڑی صفائی سے کہتا ہے کہ «جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی
ہے۔» جب ہم اِس وعدے کو قبول کرتے ہیں تو اندھیرے میں چھلانگ نہیں لگاتے بلکہ صرف اُس بات پر ایمان لاتے ہیں جو کبھی جھوٹ اور غلط ہو ہی نہیں سکتی۔ «جو» خدا کے «بیٹے کی نہیں مانتا زندگی کو نہ دیکھے گا بلکہ اُس پر خدا کا غضب رہتا ہے»۔
ایسے لوگوں پر پہلے ہی خدا کا غضب ہے۔ اِس آیت سے ہم سیکھتے ہیں کہ ہمارے انجام کا اِنحصار اِس بات پر ہے کہ ہم خدا کے «بیٹے» کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ اگر اُسے قبول کرتے ہیں تو خدا ہمیں ہمیشہ کی «زندگی» مفت انعام کے طور پر دیتا ہے۔ اگر
اُسے ردّ کرتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ کی «زندگی» کبھی نصیب نہیں ہو سکتی۔ اِتنا ہی نہیں بلکہ خدا کا «غضب» ہم پر معلّق رہتا ہے جو کسی لمحے بھی نازل ہو سکتا ہے۔

غور کریں کہ اِس آیت میں شریعت پر عمل کرنے،‏ سنہری اصول کو ماننے،‏ گرجے جانے اور اپنی پوری پوری کوشش کرنے یا بہشت میں جانے کے لئے نیک اعمال کرنے کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا۔

ی۔ سامریہ کی ایک عورت کا ایمان لانا  (‏۴:‏۱-‏۳۰)‏

۴:‏۱،‏۲ «فریسیوں نے سنا…کہ یسوع یوحنا سے زیادہ شاگرد کرتا اور بپتسمہ دیتا ہے» اور کہ یوحنا کی مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ غالباً اُنہوں نے اِس موقعے کو استعمال کر کے یوحنا کے شاگردوں
اور خداوند یسوع کے شاگردوں میں حسد اور مقابلے کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی۔ دراصل «یسوع آپ» بپتسمہ نہیں دیتا تھا۔ یہ کام «اُس کے شاگرد» کرتے تھے۔ لیکن لوگوں کو بپتسمہ خداوند کے شاگرد یا پیرو ہونے کے لئے دیا جاتا تھا۔

۴:‏۳ یسوع «یہودیہ کو چھوڑ کر پھر گلیل کو چلا گیا۔» اِس طرح اُس نے شاگردوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ لیکن اِس آیت میں ایک اَور بات بھی بہت اہم ہے۔ یہودیہ یہودی مذہب کا گڑھ
تھا جب کہ گلیل میں بہت سے غیر یہودی بھی رہتے تھے۔ خداوند یسوع نے جان لیا تھا کہ یہودی لیڈر اُسے اور اُس کی گواہی کو پہلے ہی ردّ کر رہے ہیں۔ چنانچہ یہاں وہ نجات کا پیغام لے کر غیر قوم لوگوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔

۴:‏۴ یہودیہ سے گلیل کو جانے والی شاہراہ سامریہ میں سے ہو کر گزرتی تھی۔ یہودی سامریہ کے علاقے کو اِتنا قابلِ نفرت سمجھتے تھے کہ وہ گلیل جانے کے لئے سامریہ سے باہر باہر گھوم کر لمبے راستے سے
سفر کیا کرتے تھے جو پیریہ سے ہو کر جاتا تھا۔ چنانچہ جب یہ کہا گیا کہ «اُس کو سامریہ سے ہو کر جانا ضرور تھا» تو مطلب یہ نہیں کہ جغرافیائی لحاظ سے اَور کوئی صورت نہ تھی بلکہ حقیقت یہ تھی کہ «سامریہ» میں ایک اِنسان کو مدد کی ضرورت
تھی۔

۴:‏۵ سامریہ میں خداوند یسوع ایک چھوٹے سے گاؤں میں پہنچا «جو سوخار کہلاتا ہے۔» اِس گاؤں کے قریب ایک «قطعہ» زمین ہے «جو یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دیا تھا» (‏پیدائش
۴۸:‏۲۲)‏۔ جب یسوع اِس علاقے سے گزر رہا تھا تو ماضی کی تاریخ کے سارے مناظر متواتر اُس کی آنکھوں کے سامنے تھے۔

۴:‏۶ وہاں ایک چشمہ تھا جو «یعقوب کا کنواں» کہلاتا تھا۔ یہ قدیم کنواں آج بھی موجود ہے۔ یہ بائبل مقدس کے اُن چند قدیم مقامات میں سے ایک ہے جن کی حتمی طور پر شناخت ہو سکی ہے۔

جب یسوع اِس کنوئیں پر پہنچا تو تقریباً دوپہر (‏یہودی وقت)‏ کا وقت یا «چھٹے گھنٹے (‏رومی وقت)‏ کے قریب تھا۔» طویل پیدل سفر کے باعث یسوع «تھکا ماندہ» تھا۔ چنانچہ وہ «اُس کنوئیں پر یونہی بیٹھ گیا۔» اگرچہ
یسوع خدا کا بیٹا تھا مگر وہ بشر (‏اِنسان)‏ بھی تھا۔ بحیثیت خدا وہ کبھی تھک نہیں سکتا مگر بحیثیت بشر وہ تھک گیا۔ ہمیں یہ باتیں سمجھنا مشکل لگتا ہے۔ لیکن فانی ذہن خداوند یسوع مسیح کی ذات کو کبھی کامل طور پر سمجھ نہیں
سکتا۔ یہ حقیقت ایک بھید ہے کہ خدا ایک اِنسان کے رُوپ میں اِس دُنیا میں آیا اور رہا۔ یہ بھید ہماری عقل اور سمجھ سے بالکل بالا ہے۔

۴:‏۷ جب یسوع اُس کنوئیں پر بیٹھا ہوا تھا تو «سامریہ کی ایک عورت پانی بھرنے آئی۔» جیسا کہ اکثر علما کہتے ہیں اگر یہ دوپہر کا وقت تھا تو عورتوں کے لئے کنوئیں پر جانے کے لئے نہایت غیر معمولی
وقت تھا کیونکہ یہ دن کا گرم ترین وقت ہوتا ہے۔ لیکن وہ ایک بدکار عورت تھی۔ اُس نے شرم کے مارے یہی وقت چنا ہو گا کیونکہ جانتی تھی کہ اِس وقت کوئی دوسری عورت وہاں نہیں ہو گی۔ بے شک خداوند کو شروع ہی سے علم تھا کہ وہ اِس وقت کنوئیں
پر آئے گی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ کتنی ضرورت مند ہے۔ چنانچہ اُس نے اُس سے ملنے کا فیصلہ کیا تاکہ اُسے گناہ آلودہ زندگی سے چھڑائے۔

کلامِ مقدس کے اِس حصے میں ہمیں روحوں کو جیتنے والا اُستاد مصروفِ کار نظر آتا ہے۔ بہتر ہو گا کہ ہم اُن طریقوں کا بغور مطالعہ کریں جو اُس نے استعمال کئے کہ کس طرح اِس عورت کو اُس کی ضرورت کا احساس دلایا اور اُس کے مسئلے کا حل پیش
کیا۔ ہمارے خداوند نے اُس عورت سے صرف سات مرتبہ بات کی۔ عورت نے بھی سات مرتبہ بات کی — چھے دفعہ خداوند سے اور ساتویں دفعہ اپنے شہر کے لوگوں سے۔ شاید اگر ہم خداوند سے اِتنی زیادہ بات کریں جتنی سامریہ کی اُس عورت نے کی تھی تو ہماری
گواہی بھی ایسی ہی کامیاب ہو جیسی اُس کی گواہی تھی جب اُس نے اپنے شہر کے لوگوں کو خداوند کے بارے میں بتایا۔ یسوع نے گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے اُس سے ایک درخواست کی۔ یسوع سفر سے تھکا ماندہ تھا۔ اُس نے عورت سے کہا،‏ «مجھے
پانی پلا۔»

۴:‏۸ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اِنسانی نقطۂ نظر سے یسوع کو کیوں پانی مانگنا پڑا۔ «کیونکہ اُس کے شاگرد شہر میں کھانا مول لینے کو گئے تھے۔» عام طور پر شاگردوں کے پاس پانی نکالنے کے برتن ہوتے تھے۔
مگر وہ ساتھ ہی شہر لے گئے ہوں گے۔ چنانچہ خداوند کے پاس کنوئیں سے پانی نکالنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔

۴:‏۹ عورت نے یسوع کو پہچان لیا کہ «یہودی» ہے تو حیران ہوئی کہ وہ ایک «سامری» سے باتیں کرنے لگا ہے۔ سامری دعویٰ کرتے تھے کہ ہم یعقوب کی نسل ہیں اور خود کو اصلی اِسرائیلی سمجھتے تھے جب کہ
دراصل وہ یہودی اور بت پرستوں کی مخلوط نسل تھے۔ اُنہوں نے کوہِ گرزیم کو اپنی مستند پرستش کی جگہ بنا لیا تھا۔ یہ پہاڑ سامریہ میں واقع تھا۔ اِس گفتگو کے دوران وہ پہاڑ صاف نظر آ رہا تھا۔ یہودی سامریوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اِسی لئے
اِس عورت نے خداوند یسوع سے کہا کہ «تُو یہودی ہو کر مجھ سامری عورت سے پانی کیوں مانگتا ہے؟» وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنے خالق سے مخاطب ہے اور کہ اُس کی محبت تمام اِنسانی تفرقات اور اِمتیازات سے کہیں بالاتر ہے۔

۴:‏۱۰،‏۱۱ خداوند نے اُس سے ایک درخواست کر کے اُس کی دلچسپی اور تجسس کو بیدار کر دیا تھا۔ اب یہ کہہ کر اُن کو مزید اُ بھارتا ہے کہ مَیں خدا اور اِنسان دونوں ہوں۔ اوّل تو وہ خود خدا کی
سب سے پہلی بخشش ہے یعنی وہ ہستی جس کو خدا نے دُنیا کا نجات دہندہ ہونے کے لئے بخش دیا،‏ یعنی اُس کا اِکلوتا بیٹا — مگر وہ اِنسان بھی تھا جس نے سفر سے تھکا ماندہ ہو کر پینے کو پانی مانگا۔ دوسرے لفظوں میں اگر وہ جان لیتی کہ
جس سے مخاطب ہوں وہ خدا ہے جو جسم میں ظاہر ہوا ہے تو وہ اُس سے برکت «مانگتی» اور وہ اُسے «زندگی کا پانی دیتا»۔ عورت تو صرف لغوی معنوں میں پانی کے بارے میں سوچ رہی تھی اور جانتی تھی کہ ضروری ساز و سامان کے بغیر وہ پانی حاصل نہیں
کر سکتا۔ وہ نہ تو خداوند کو پہچان سکی اور نہ اُس کی بات کا حقیقی مطلب سمجھ سکی۔

۴:‏۱۲ جب اُس عورت کا دھیان قوم کے بزرگ اور جدِ امجد یعقوب کی طرف گیا تو اُس کی اُلجھن اَور گہری ہو گئی۔ یعقوب نے یہ کنواں اُن لوگوں کو دیا تھا۔ اور «خود اُس (‏یعقوب)‏ نے اور
اُس کے بیٹوں نے اور اُس کے مویشی نے اُس میں سے پیا۔» اور اب صدیاں گزر جانے کے بعد یہ تھکا ماندہ مسافر تھا جو درخواست کر رہا تھا کہ مجھے اِس کنوئیں سے پانی پلایا جائے اور ساتھ ہی دعویٰ کرتا ہے کہ مَیں یعقوب کے دیئے ہوئے پانی سے
بہتر چیز دے سکتا ہوں۔ اگر اُس کے پاس کوئی بہتر چیز ہے تو پھر کیوں یعقوب کے کنوئیں سے پانی کی درخواست کرتا ہے؟

۴:‏۱۳ اِس لئے خداوند سمجھانے لگا کہ یعقوب کے کنوئیں کے عام پانی میں اور جو پانی مَیں دوں گا اُس میں کیا فرق ہے۔ «جو کوئی اِس پانی میں سے پیتا ہے وہ پھر پیاسا ہو گا۔» بے شک سامری عورت اِس بات
کو جانتی اور سمجھتی تھی۔ وہ ہر روز وہاں پانی بھرنے آتی تھی۔ مگر ضرورت کبھی پورے طور پر پوری نہیں ہوتی تھی۔ دُنیا بھر کے کنوؤں کا یہی حال ہے۔ اِنسان زمینی چیزوں میں خوشی اور تسلی تلاش کرتا ہے،‏ لیکن یہ چیزیں اِنسان کے دل
کی پیاس کو بجھا نہیں سکتیں۔ جس طرح اوگسطین اپنے «اعتراف» میں کہتا ہے «اے خداوند! تُو نے ہمیں اپنے لئے بنایا ہے اور ہمارے دل اُس وقت تک بے چین رہتے ہیں جب تک تجھ میں چین نہ پائیں۔»

۴:‏۱۴ جو «پانی» یسوع دیتا ہے،‏ وہ حقیقی طور پر پیاس بجھاتا ہے۔ «جو کوئی» مسیح کی برکات اور رحم میں سے «پئے گا… وہ ابد تک پیاسا نہ ہو گا۔» اُس کی برکات نہ صرف دلوں کو سیر کرتی ہیں بلکہ
اُوپر سے چھلک کر بہنے لگتی ہیں۔ وہ رواں «چشمہ» کی مانند ہیں جو نہ صرف اِس زندگی میں بلکہ ابدیت میں بھی مسلسل اُبلتا اور بہتا رہتا ہے۔ «جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے جاری رہے گا۔» اِن الفاظ کا مطلب ہے کہ مسیح کے دیئے ہوئے پانی کے
فوائد صرف اِسی زندگی اور اِسی دُنیا تک محدود نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ تک جاری و ساری رہیں گے۔ جو برکات مسیح عطا کرتا ہے،‏ وہ صرف دل ہی کو سیر نہیں کرتیں بلکہ اِتنی بڑی ہیں کہ دل میں سما ہی نہیں سکتیں۔

اِس دُنیا کی خوشیاں صرف چند برسوں کے لئے ہوتی ہیں۔ مگر وہ مسرتیں جو مسیح مہیا کرتا ہے «ہمیشہ کی زندگی کے لئے جاری» رہتی ہیں۔

۴:‏۱۵ جب اُس عورت نے اِس حیرت افزا پانی کے بارے میں سنا تو فوراً کہنے لگی «خداوند،‏ وہ پانی مجھ کو دے۔» مگر وہ ابھی تک عام پانی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ مجھے ہر روز
پانی بھر نے کو کنوئیں پر نہ آنا پڑے۔ اُسے احساس نہیں تھا کہ جس پانی کی بات خداوند یسوع کر رہا ہے وہ روحانی پانی ہے جس سے مراد وہ ساری برکتیں ہیں جو اِنسان کو مسیح پر ایمان لانے سے ملتی ہیں۔

۴:‏۱۶ یہاں گفتگو میں یک دم تبدیلی آ جاتی ہے۔ عورت نے خداوند یسوع سے پانی مانگا،‏ مگر وہ کہتا ہے کہ «جا اپنے شوہر کو یہاں بلا لا۔» کیوں؟ نجات پانے سے پہلے لازم ہے کہ یہ عورت اپنے
گنہگار ہونے کا اِقرار کرے۔ سچی توبہ کرتے ہوئے مسیح کے پاس آئے۔ اپنے گناہ کا اِقرار کرے۔ خداوند اُس کی ساری گناہ آلودہ زندگی کے بارے میں جانتا تھا۔ اور اُس کی قدم قدم پر راہنمائی کر رہا تھا کہ وہ خود اپنی زندگی کو دیکھ لے۔

صرف وہی لوگ نجات پا سکتے ہیں جو جان لیتے ہیں کہ ہم گمراہ،‏ بھٹکے ہوئے اور کھوئے ہوئے ہیں۔ کھوئے ہوئے تو سب اِنسان ہیں،‏ مگر سب اِس حقیقت کو ماننے پر آمادہ نہیں۔ ہم بھی جب لوگوں کو مسیح کے پاس لانے کی کوشش کرتے ہیں
تو کبھی گناہ کے سوال سے پہلوتہی نہ کریں۔ ہم اُن کی راہنمائی کریں کہ وہ اِس حقیقت کا سامنا کریں کہ ہم خطاکار اور گنہگار ہیں اور کہ یسوع ہی وہ نجات دہندہ ہے جس کی ہم کو ضرورت ہے۔ اگر توبہ کر کے اُس پر ایمان لائیں گے،‏ اُس
پر بھروسا کریں گے تو وہ ہم کو نجات دے گا۔

۴:‏۱۷ پہلے تو عورت نے کوشش کی کہ جھوٹ بولے بغیر سچائی کو چھپائے رکھے۔ اُس نے کہا،‏ «مَیں بے شوہر ہوں۔» غالباً قانونی مفہوم میں اُس کا بیان بالکل درست تھا۔ لیکن اُس کا مقصد اُس گھنونی
حقیقت کو چھپانا تھا کہ اُس وقت وہ ایک ایسے آدمی کے ساتھ گناہ کی زندگی بسر کر رہی تھی جو اُس کا شوہر نہیں تھا۔

«وہ مذہب کے بارے میں گپ شپ لگاتی ہے۔ علمِ الٰہی کے نکات پر بحث کرتی ہے۔ کچھ رمز و کنایہ استعمال کرتی ہے۔ ظاہر کرتی ہے کہ مجھے دھچکا لگا ہے۔ غرض ہر وہ حربہ استعمال کرتی ہے جس سے مسیح یہ نہ دیکھ سکے کہ ایک وہ اپنے آپ سے فرار
کے لئے بگٹٹ دوڑے جا رہی ہے۔»  (‏Scripture Union Daily Notes)‏

خداوند یسوع یہ سب کچھ جانتا تھا۔ چنانچہ وہ عورت سے کہتا ہے کہ «تُو نے خوب کہا کہ مَیں بے شوہر ہوں۔» بے شک وہ اپنے ہم جنس اِنسانوں کو اُلو بنا سکتی تھی لیکن اُس شخص کو دھوکا نہیں دے سکتی تھی۔ وہ اُس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا۔

۴:‏۱۸ خداوند عالمِ کُل ہے۔ مگر وہ اپنے علم کو کسی اِنسان کو بلا ضرورت بے نقاب کرنے یا اُسے شرمندگی سے دوچار کرنے کے لئے کبھی استعمال نہیں کرتا۔ البتہ وہ اپنے علم کو کسی اِنسان کو گناہ کے
بندھنوں سے آزاد کرنے کے لئے ضرور استعمال کرتا ہے۔ جب خداوند نے عورت کا ماضی کھول کر اُس کے سامنے رکھ دیا تو وہ کیسے چونک اُٹھی ہو گی! وہ «پانچ شوہر کر چکی تھی» اور جس کے پاس اب تھی وہ اُس کا «شوہر نہیں» تھا۔

اِس آیت کے بارے میں کچھ اِختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ بعض علما کہتے ہیں کہ اُس کے پہلے پانچ شوہر مر چکے تھے یا اُسے چھوڑ گئے تھے اور کہ اُن کے ساتھ تعلق میں گناہ کی کوئی بات نہ تھی۔ یہ بات صحیح ہو یا نہ ہو،‏ لیکن آیت کے
آخری حصے سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ عورت زِناکار تھی۔ «جس کے پاس تُو اب ہے وہ تیرا شوہر نہیں۔» یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ عورت بدکار تھی۔ جب تک وہ اِس بات کو نہیں مانتی خداوند اُس کو زندگی کا پانی عطا نہیں کر سکتا تھا۔

۴:‏۱۹ جب اُس کی زندگی اُس کے سامنے یوں کھول کر رکھ دی گئی تو اُس عورت نے جان لیا کہ جو شخص مجھ سے باتیں کر رہا ہے کوئی معمولی آدمی نہیں۔ البتہ ابھی تک یہ نہیں جان پائی کہ وہ کون ہے۔ وہ اُس
کے بارے میں جو بڑے سے بڑا اندازہ لگا سکی یہ تھا کہ «تُو نبی ہے»،‏ یعنی خدا کا پیامبر۔

۴:‏۲۰ معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے دل کو چوٹ لگی تھی۔ چنانچہ اُس نے موضوع بدلنے کی کوشش کی اور عبادت کی جگہ کے بارے میں سوال پوچھا۔ اُس کے کہنے کے مطابق «ہمارے باپ دادا نے اِس پہاڑ پر پرستش کی»
اُس نے قریبی پہاڑ گرزیم کی طرف اِشارہ کیا۔ پھر اُس نے خداوند کو بلا ضرورت یاد دلایا کہ یہودی کہتے ہیں کہ «وہ جگہ جہاں پرستش کرنا چاہئے،‏ یروشلیم میں ہے۔»

۴:‏۲۱ یسوع نے عورت کی بات کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اِسے استعمال کر کے مزید روحانی سچائی سکھا دی۔ اُس نے عورت سے کہا کہ «وہ وقت آتا ہے کہ تم نہ تو اِس پہاڑ پر باپ کی پرستش کرو گے اور نہ
یروشلیم میں۔» اِس پہاڑ سے مراد کوہِ گرزیم ہے۔ پرانے عہدنامے میں خدا نے یروشلیم کو مقرر کیا تھا کہ یہ وہ شہر ہے جس میں اِسرائیلی میری پرستش کیا کریں گے۔ یروشلیم کی ہیکل خدا کی سکونت گاہ تھی اور عبادت گزار یہودی اپنی نذریں اور
قربانیاں یروشلیم میں لاتے تھے۔ بلاشبہ اِنجیلی زمانے میں اب ایسا نہیں رہا۔ اب خدا نے زمین پر کہیں کوئی ایسی جگہ مقرر نہیں کر رکھی جہاں لوگ عبادت کے لئے ضرور ہی جائیں۔ خداوند نے اگلی آیات میں اِس کی مزید وضاحت کی ہے۔

۴:‏۲۲ جب یسوع نے کہا کہ «تم جسے نہیں جانتے اُس کی پرستش کرتے ہو» تو اُس نے سامری طریقۂ عبادت کی مذمت کی۔ یہ بات آج کے اُن مذہبی اُستادوں کے بالکل اُلٹ ہے جو کہتے ہیں کہ تمام مذاہب ٹھیک
ہیں،‏ آخر میں سب مذاہب بہشت کو پہنچاتے ہیں۔ خداوند یسوع نے اِس عورت کو بتا دیا کہ سامری جس طرح عبادت کرتے ہیں،‏ وہ خدا کی طرف سے مقرر اور منظور شدہ نہیں۔ خود خداوند نے بھی اِسے منظور نہیں کیا۔ یہ اِنسان کی اِختراع
تھی۔ اِسے خدا کے کلام کی منظوری حاصل نہ تھی۔ مگر یہودیوں کی عبادت ایسی نہ تھی۔ خدا نے یہودی قوم کو اپنی برگزیدہ قوم کے طور پر الگ کیا ہوا تھا۔ اُس نے عبادت اور پرستش کے بارے میں اُن کو مکمل ہدایات دے رکھی تھیں۔

جب خداوند نے کہا کہ «نجات یہودیوں میں سے ہے» تو وہ بتا رہا تھا کہ خدا نے یہودی قوم کو اپنا پیامبر مقرر کیا ہے۔ اُنہی کو اُس نے پاک صحائف دیئے ہیں۔ اور یہودی قوم ہی کی معرفت مسیحِ موعود دُنیا میں آیا۔ وہ یہودی ماں سے پیدا ہوا
تھا۔

۴:‏۲۳ اب خداوند نے اُس کو بتایا کہ میرے (‏مسیحِ موعود کے)‏ آ جانے سے ضروری نہیں رہا کہ خدا کی پرستش کسی مخصوص جگہ پر ہی کی جائے۔ جو لوگ خداوند یسوع پر ایمان رکھتے ہیں وہ کسی
جگہ اور کسی وقت بھی خدا کی پرستش کر سکتے ہیں۔ حقیقی پرستش کا مطلب یہ ہے کہ ایمان دار ایمان اور یقین کے ساتھ خدا کی حضوری میں آئے اور اُس کی حمد و ستائش اور پرستش کرے۔ اُس کا بدن،‏ غار میں،‏ قید خانے میں یا کھیت ہی
میں کیوں نہ ہو،‏ مگر اُس کی روح ایمان کے باعث آسمانی مقدِس میں خدا کے نزدیک آ سکتی ہے۔ خدا نے عورت کو بتا دیا کہ اب سے عبادت «روح اور سچائی سے» ہوا کرے گی۔ یہودی قوم نے پرستش کو ظاہری شعائر اور رسومات میں بدل کر رکھ دیا
تھا۔ اُن کا خیال تھا کہ شریعت کے الفاظ سے چمٹے رہنا اور خاص رسومات اور شعائر کی بجا آوری ہی باپ کی پرستش ہے۔ مگر جو عبادت وہ کرتے تھے،‏ وہ روح سے نہیں ہوتی تھی۔ وہ باطنی نہیں بلکہ ظاہری تھی۔ اُن کے بدن تو زمین پر جھکے
ہوئے ہوتے تھے لیکن اُن کے دل خدا کے سامنے راست نہیں تھے۔ غالباً وہ غریبوں کا حق مارتے اور کاروبار میں دھوکا اور فریب کرتے تھے۔

سامریوں کا بھی ایک طریقۂ عبادت تو تھا،‏ مگر غلط تھا۔ اُس کے پیچھے پاک کلام کی سند نہیں تھی۔ اُنہوں نے اپنا مذہب جاری کر رکھا تھا اور اپنے گھڑے ہوئے آئین و احکام کی پیروی کرتے تھے۔ اِس لئے جب خداوند نے کہا کہ پرستش «روح
اور سچائی سے» ہونی چاہئے تو وہ یہودیوں اور سامریوں دونوں کو ملامت کر رہا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی اُن کو بتا بھی رہا تھا کہ اب چونکہ مَیں آ گیا ہوں اِس لئے لوگوں کے لئے ممکن ہو گیا ہے کہ سچی اور دلی عبادت میں میرے وسیلے سے خدا کے پاس
آ جائیں۔ اِن الفاظ پر غور کریں کہ «باپ اپنے لئے ایسے ہی پرستار ڈھونڈتا ہے۔» خدا پسند کرتا ہے کہ اُس کے لوگ اُس کی حمد و ثنا کریں۔ کیا مَیں اُس کی حمد و ثنا کرتا ہوں؟

۴:‏۲۴ «خدا روح ہے۔» یہ خدا کے وجود،‏ خدا کی ہستی کا بیان ہے۔ وہ اِنسان نہیں ہے جو بشریت کی ساری غلطیوں اور حدود کا پابند اور ماتحت ہے۔ وہ کسی ایک وقت میں صرف ایک ہی جگہ تک محدود بھی
نہیں ہوتا۔ وہ نادیدنی ہستی ہے جو ایک ہی وقت میں ہر جگہ حاضر و ناظر ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔ وہ اپنی تمام راہوں میں کامل ہے۔ اِس لئے «ضرور ہے کہ اُس کے پرستار روح اور سچائی سے پرستش کریں۔» اِس پرستش میں
بناوٹ یا ریاکاری کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہئے۔ مذہبی دِکھاوا نہیں ہونا چاہئے کہ اُوپر سے مذہبی اور اندر سے گناہ کی پوٹ ہو۔ یہ تصور نہیں ہونا چاہئے کہ مَیں رسوم و شعائر پورے کر دوں گا تو خدا خوش ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ رسوم و شعائر
خدا ہی نے مقرر کئے ہوں،‏ تو بھی وہ مطالبہ کرتا ہے کہ اِنسان خستہ اور شکستہ دل کے ساتھ اُس کے حضور میں آئے۔ اِس باب میں دو اَور «ضرور» بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک «ضرور» تو اِنسانوں کو جیتنے والے کے لئے ہے
(‏۴:‏۴)‏ اور دوسرا «ضرور» پرستار کے لئے ہے (‏۴:‏۲۴)‏۔

۴:‏۲۵ سامریہ کی یہ عورت یسوع کی باتیں سن رہی تھی تو اُسے آنے والے «مسیحِ موعود» (‏خرستُس)‏ کا خیال آ رہا تھا۔ خدا کے پاک روح نے اُس کے دل میں یہ خواہش جگا دی تھی کہ کاش
«خرستُس» آ جائے۔ اُس نے اِس یقین کا اِظہار کیا کہ «جب وہ آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتا دے گا۔» اِس بیان میں وہ مسیح کے آنے کے ایک بڑے مقصد کو سمجھنے کا اِظہار کرتی ہے۔

«مسیح جو خرستُس کہلاتا ہے۔» یہ جملہ صرف اِس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مسیح اور خرستُس دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ «مسیح» عبرانی لفظ اور «خرستُس» اِس کا یونانی مترادِف ہے۔ مطلب ہے خدا کا ممسوح۔

۴:‏۲۶ «یسوع نے اُس سے کہا مَیں جو تجھ سے بول رہا ہوں،‏ وہی ہوں۔» لفظ «وہی» اصل متن کا حصہ نہیں۔ اِس سے صرف جملہ زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ مگر خداوند یسوع کے اصل الفاظ گہری اہمیت کے حامل
ہیں۔ جب یسوع نے کہا کہ «مَیں ہوں» تو اُس نے اپنے لئے خدا کا ایک نام استعمال کیا جو پرانے عہدنامے میں اُس کے لئے استعمال ہوا ہے۔ دراصل اُس نے کہا کہ «مَیں ہوں تجھ سے بول رہا ہوں۔» دوسرے لفظوں میں «یہوواہ ہے جو تجھ سے بول رہا ہے۔»
وہ اُس عورت پر اِس چونکا دینے والی حقیقت کا اِنکشاف کر رہا تھا کہ جو اُس سے ہم کلام ہے وہی مسیحِ موعود ہے جس کا اُسے اِنتظار تھا اور کہ وہ خود خدا ہے۔ پرانے عہدنامے کا یہوواہ ہی نئے عہدنامے کا یسوع ہے۔

۴:‏۲۷ جب شاگرد سوخار سے لوٹے تو اُنہوں نے دیکھا کہ یسوع ایک عورت سے باتیں کر رہا ہے۔ وہ «تعجب کرنے لگے کہ وہ عورت سے باتیں کر رہا ہے»۔ کیونکہ وہ سامری تھی۔ غالباً وہ اندازہ لگا سکتے تھے کہ
یہ بدکار عورت ہے۔ «تو بھی کسی نے نہ کہا تُو کیا چاہتا ہے؟ یا اُس سے کس لئے باتیں کرتا ہے؟»

۴:‏۲۸ «پس عورت اپنا گھڑا چھوڑ کر…۔» یہ گھڑا اُن مختلف چیزوں کی علامت ہے جو وہ اپنی شدید ترین خواہشات کو پورا کرنے کے لئے استعمال کرتی رہی تھی۔ وہ سب بے کار ثابت ہوئی تھیں۔ اب جب کہ اُس کو
خداوند یسوع مل گیا تھا تو اُسے اِن چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی تھی جو گذشتہ زندگی میں اُس کے نزدیک بہت اہم اور نمایاں تھیں۔

عورت نے نہ صرف «اپنا گھڑا چھوڑ» دیا بلکہ وہ «شہر میں چلی گئی۔» جب بھی کوئی نجات پاتا ہے تو اُسے فوراً دوسروں کا خیال آتا ہے کہ اُن کو بھی زندگی کے پانی کی ضرورت ہے۔ جے۔ہڈسن ٹیلر نے کہا ہے کہ «بعض لوگ رسولوں کے جانشین بننے کے
آرزو مند ہوتے ہیں۔ مَیں تو سامری عورت کا جانشین بننے کو ترجیح دوں گا کیونکہ وہ تو کھانا لینے چلے گئے مگر یہ روحوں کو بچانے کے شوق میں اپنا گھڑا تک بھول گئی۔»

۴:‏۲۹،‏۳۰ اُس کی گواہی سادہ اور اثر انگیز تھی۔ اُس نے سارے قصبے کے لوگوں کو دعوت دی کہ «آؤ۔ ایک آدمی کو دیکھو جس نے میرے سب کام مجھے بتا دیئے۔» اُس نے اُن کے دلوں میں بھی یہ اِمکان
بیدار کر دیا کہ شاید یہ آدمی واقعی مسیحِ موعود ہے۔ اُس کے اپنے ذہن میں تو کوئی شبہ نہ تھا کیونکہ یسوع نے اُسے خود بتایا تھا کہ مَیں ہی «خرستُس» ہوں۔ لیکن عورت نے قصبے کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کر دیا تاکہ وہ خود یسوع کے
پاس جا کر معلوم کر لیں کہ وہ مسیح ہے۔ یقینا یہ عورت اپنے گناہ اور بے شرمی کی وجہ سے قصبے میں بہت مشہور تھی۔ اب لوگ کتنے حیرت زدہ رہ گئے ہوں گے کہ یہ عورت سرعام کھڑی خداوند یسوع مسیح کی گواہی دے رہی ہے! عورت کی گواہی بہت موثر
ثابت ہوئی۔ قصبے کے لوگ اپنے گھروں سے نکل کر اور اپنے کام دھندے چھوڑ کر یسوع کے پاس آنے لگے۔

ک۔ بیٹا باپ کی مرضی پوری کر کے خوش ہوتا ہے (‏۴:‏۳۱-‏۳۸)‏

۴:‏۳۱ اب «شاگرد» چونکہ کھانا لے آئے تھے اِس لئے خداوند سے درخواست کرنے لگے کہ «کچھ کھا لے»۔ لگتا ہے کہ وہ اُن نتیجہ خیز واقعات سے باخبر نہیں تھے جو وقوع پذیر ہو رہے تھے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ
تھا جب ایک سامری شہر خداوند کے جلال سے متعارف ہو رہا تھا۔ مگر شاگردوں کی سوچ اپنے بدن کی خوراک کی فکر تک محدود تھی۔

۴:‏۳۲ خداوند یسوع کو اپنے باپ کے لئے پرستار ڈھونڈنے میں «کھانا» اور تقویت مل گئی تھی۔ اِس خوشی کے بالمقابل جسمانی خوراک کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ ہمیں زندگی میں وہی کچھ ملتا ہے جس کے پیچھے
جاتے ہیں۔ شاگردوں کی دلچسپی کھانے میں تھی۔ وہ قصبے میں کھانا لینے گئے اور کھانا ہی لے کر واپس آ گئے۔ خداوند کی دلچسپی روحوں میں تھی۔ اُس کی دلچسپی مرد و زن کو گناہ سے بچانے میں اور اُن کو ہمیشہ کی زندگی کا پانی دینے میں تھی۔ اُس
کو بھی وہی کچھ ملا،‏ جس کے پیچھے جاتا تھا۔ ہماری دلچسپی کس چیز میں ہے؟

۴:‏۳۳ اپنے زمینی اور دُنیوی نقطۂ نظر کے باعث شاگرد خداوند کی بات کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ وہ اِس حقیقت کی تہہ تک نہ پہنچ سکے کہ «روحانی کامیابی کی خوشی اِنسان کو ہر قسم کی جسمانی ضرورت سے بالا
تر لے جا سکتی ہے۔» اِسی لئے وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی آیا ہے اور خداوند یسوع کے لئے «کچھ کھانے کو لایا ہے۔»

۴:‏۳۴ یسوع دوبارہ کوشش کرتا ہے کہ اُن کی توجہ مادی چیزوں سے ہٹا کر روحانی باتوں پر مرکوز کرے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ «میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا
کام پورا کروں۔» اِس کا یہ مطلب نہیں کہ خداوند یسوع کھانا کھانے سے پرہیز کرتا تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اُس کی زندگی کا بڑا مقصد خدا کی مرضی کو پورا کرنا تھا۔ اپنے جسم کو پالنا پوسنا نہیں تھا۔

۴:‏۳۵ شاید شاگرد آپس میں آنے والی فصل کے بارے میں بات چیت کرتے رہتے تھے۔ یا شاید یہودیوں کا یہ عام محاورہ یا ضرب المثل تھی کہ «فصل کے آنے میں ابھی چار مہینے باقی ہیں» یعنی بیج بونے اور فصل
تیار ہونے میں چار مہینے کا وقفہ ہوتا ہے۔ کچھ بھی ہو،‏ خداوند نے پھر فطرت کی ایک حقیقت یعنی «فصل» کو استعمال کر کے روحانی سبق سکھایا۔ شاگرد یہ نہ سوچیں کہ فصل پکنے میں دیر ہے۔ یہ کہہ کر وہ اپنی زندگیاں کھانے اور کپڑے کے
حصول میں نہ گزاریں کہ خدا کا کام بعد میں کیا جا سکتا ہے۔ اُن کو جاننا چاہئے کہ «فصل پک گئی ہے۔» یہاں «کھیتوں» سے مراد یقینا دُنیا ہے۔ جس وقت خداوند یہ الفاظ کہہ رہا تھا وہ پکی فصل کے کھیت میں تھا،‏ جس میں سامری مردوں اور
عورتوں کی روحوں کی فصل تیار کھڑی تھی۔ وہ شاگردوں سے کہہ رہا تھا کہ فصل جمع کرنے کا عظیم وقت آ گیا ہے۔ ضرور ہے کہ تم فوراً اور تندہی سے اِس کام میں لگ جاؤ۔

اِسی طرح آج بھی خداوند ہم ایمان داروں سے کہہ رہا ہے کہ «اپنی آنکھیں اُٹھا کر کھیتوں پر نظر کرو۔» جب ہم دُنیا کی بڑی بڑی ضرورتوں پر غور کرتے ہیں تو خداوند ہمارے دل پر کھوئی ہوئی روحوں کا بوجھ رکھے گا جو ہماری چاروں طرف موجود ہیں۔
پھر یہ ہماری ذمہ داری ہو گی کہ اُن کے پاس جا کر پکی ہوئی فصل کو کاٹ کر ذخیرہ خانے میں لے آئیں۔

۴:‏۳۶ خداوند شاگردوں کو اُس کام کے بارے میں ہدایات دے رہا تھا جس کے لئے وہ بلائے گئے تھے۔ اُس نے اُن کو اِس لئے چنا تھا کہ فصل کاٹنے والے بن جائیں۔ وہ نہ صرف اِس زندگی میں «مزدوری» پائیں گے
بلکہ آنے والے جہان کے لئے «پھل» بھی جمع کر لیں گے۔ مسیح کی خدمت کا اِس زمانے میں بھی بہت اَجر ہے۔ لیکن آنے والے زمانے میں فصل کاٹنے والوں کو یہ اِضافی خوشی بھی حاصل ہو گی کہ وہ دیکھیں گے کہ ہماری محنت اور اِنجیل کا پیغام پھیلانے
میں ہماری وفاداری کے باعث روحیں بچ گئیں۔

آیت ۳۶ یہ تعلیم ہرگز نہیں دیتی کہ اِنسان کو وفاداری سے فصل کاٹنے اور جمع کرنے کے صلے میں اَبدی زندگی ملتی ہے بلکہ یہ کہ اِس کام کا «پھل» «ہمیشہ کی زندگی» میں بھی جاری رہتا ہے۔

آسمان میں بونے والا اور فصل کاٹنے والا «دونوں مل کر خوشی کریں» گے۔

۴:‏۳۷ اِس ساری بات میں خداوند کو اِس «مَثَل» کی تکمیل نظر آتی ہے جو اُس زمانے میں عام تھی کہ «بونے والا اَور ہے،‏ کاٹنے والا اَور»۔ بعض لوگوں کو برسوں تک اِنجیل جلیل کی منادی کرنے کے
باوجود اپنی محنت کا کوئی خاص پھل دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔ دوسرے اُن برسوں کے آخر میں میدان میں قدم رکھتے ہیں اور اُن کی محنت سے بہت سے لوگ خداوند کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔

۴:‏۳۸ یسوع اپنے شاگردوں کو اُن علاقوں میں بھیج رہا تھا جہاں دوسروں نے زمین تیار کر رکھی تھی۔ پرانے عہدنامے کے پورے زمانے کے دوران انبیا اِنجیلی زمانے اور مسیحِ موعود کے بارے میں بتاتے رہے
تھے۔ پھر یوحنا بپتسمہ دینے والا بھی خداوند کا نقیب بن کر آیا۔ یہ سب اِسی کوشش میں تھے کہ لوگوں کے دِلوں کو تیار کریں کہ وہ مسیح کو قبول کریں۔ خداوند نے خود سامریہ میں بیج بو دیا تھا اور کاٹنے والوں کے لئے فصل تیار کر دی تھی۔ اب
شاگرد پکی ہوئی فصل کے کھیت میں قدم رکھنے کو تھے۔ خداوند چاہتا ہے کہ وہ جان لیں کہ اگرچہ اُن کو اِس بات سے بے حد خوشی ہو گی کہ بہت سے لوگ مسیح کی طرف پھر رہے ہیں مگر وہ «اوروں… کی محنت کے پھل میں شریک» ہو رہے ہیں۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ایک واحد شخص کی محنت سے کوئی بچ جائے۔ بہت سے لوگوں نے پہلے بھی اِنجیل کا پیغام سنا ہوتا ہے مگر وہ مسیح کو قبول نہیں کرتے۔ اِس لئے وہ شخص بالآخر جو کسی کو مسیح کے پاس لے آتا ہے،‏ اُسے یہ نہیں سوچنا
چاہئے کہ اِس شاندار کام کے لئے صرف مَیں ہی خدا کا واحد وسیلہ ہوں۔

ل۔ بہت سے سامری یسوع پر ایمان لاتے ہیں  (‏۴:‏۳۹-‏۴۲)‏

۴:‏۳۹ سامری عورت کی گواہی سیدھی سادی تھی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ «اُس شہر کے بہت سے سامری… اُس (‏خداوند یسوع)‏ پر ایمان لائے»۔ عورت نے صرف اِتنا کہا تھا کہ «اُس نے میرے سب کام
مجھے بتا دیئے۔» لوگوں کو مخلصی دِہندہ کے پاس لانے کے لئے اِتنی سی بات کافی ثابت ہوئی۔ اِس سے حوصلہ افزائی ہونی چاہئے کہ ہم بھی بڑی سادگی اور دلیری سے مسیح کی گواہی دیں۔

۴:‏۴۰ سامریوں کا رویہ یہودیوں سے بالکل اُلٹ تھا۔ اُنہوں نے خداوند یسوع کو قبول کیا اور اُس کا خیر مقدم کیا۔ اُن کے دل میں اِس عجیب شخص کے لئے حقیقی قدر تھی۔ اِس لئے وہ «اُس سے درخواست کرنے
لگے کہ ہمارے پاس رہ۔» اُن کی دعوت کے باعث خداوند «دو روز وہاں رہا»۔ ذرا غور کریں کہ سوخار شہر کو کیسا اعزاز حاصل ہوا کہ اُسے جلال کے خداوند کی خدمت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

۴:‏۴۱،‏۴۲ ایمان لانے کے کوئی دو واقعات بالکل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بعض لوگ تو سامری عورت کی گواہی سے ایمان لائے مگر «اَور بھی بہتیرے» خود خداوند یسوع مسیح کے «کلام کے سبب سے» ایمان
لائے۔ خدا گنہگاروں کو اپنے پاس لانے کے لئے بہت سے مختلف طریقے اور ذرائع استعمال کرتا ہے۔ سب سے ضروری اور بنیادی بات یہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان ہو۔ اُن سامریوں نے نجات دہندہ کے حق میں ایسی صاف اور واضح گواہی دی ہے کہ سن
کر خوشی اور حیرت ہوتی ہے۔ اُن کے ذہنوں میں ذرّہ برابر شک نہیں تھا۔ اُن کو نجات کا کامل یقین تھا۔ اِس یقین کی بنیاد اُس عورت کی باتیں نہیں بلکہ خود خداوند یسوع کا کلام تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ «ہم نے خود سن لیا اور جانتے ہیں کہ یہ فی
الحقیقت دُنیا کا منجی ہے۔» اُن کو یہ بصیرت صرف روح القدس ہی دے سکتا تھا۔ یہودی قوم تو یہی سوچتی تھی کہ مسیحِ موعود صرف ہمارے لئے آئے گا۔ مگر سامریوں نے جان لیا کہ مسیح کی خدمت کی برکات تمام دُنیا کے لئے ہوں گی۔

م۔ دوسرا نشان:‏بادشاہ کے ملازم کے بیٹے کو شفا دینا (‏۴:‏۴۳-‏۵۴)‏

۴:‏۴۳،‏۴۴ «ان دو دِنوں کے بعد» یعنی سامریوں کے ساتھ دو دن گزارنے کے بعد خداوند نے پھر گلیل کی طرف قدم بڑھائے۔ آیت ۴۴ کچھ مشکل پیش کرتی ہے۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ نجات دہندہ سامریہ سے
گلیل میں اِس لئے آیا کہ «نبی اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا۔» مگر گلیل تو اُس کا اپنا وطن تھا کیونکہ ناصرت کا شہر اِسی علاقے میں واقع تھا۔ شاید آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یسوع ناصرت کے علاوہ گلیل کے کسی اَور علاقے میں گیا۔ کچھ بھی ہو مگر
یہ مقولہ بہر حال درست ہے کہ اِنسان اپنے آبائی شہر میں عموماً وہ عزت نہیں پاتا جو دوسرے مقامات میں پاتا ہے۔ اُس کے دوست اور رِشتہ دار اُس کو بچہ اور اپنے میں سے ایک ہی سمجھتے رہتے ہیں۔ اور یقینا خداوند کے اپنوں نے اُس کی قدر نہ
جانی جو اُن کو جاننی چاہئے تھی۔

۴:‏۴۵ جب خداوند واپس «گلیلمیں آیا» تو لوگوں نے اُس کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔ «اِس لئے کہ جتنے کام اُس نے یروشلیم میں عید کے وقت کئے تھے اُنہوں نے اُن کو دیکھا تھا۔» بے شک جن «گلیلیوں» کا یہاں
ذکر ہے وہ یہودی تھے۔ وہ عبادت کرنے یروشلیم گئے ہوئے تھے۔ وہاں اُنہوں نے مسیح کو اور اُس کے بعض معجزوں کو دیکھا تھا۔ اب وہ راضی تھے کہ وہ گلیل میں اُن کے درمیان رہے۔ اِس لئے نہیں کہ وہ اُسے خدا کا بیٹا مانتے تھے بلکہ اِس لئے کہ
وہ تجسس کے مارے اُس ہستی میں دلچسپی لے رہے تھے جس کا ہر جگہ چرچا ہو رہا تھا۔

۴:‏۴۶ «قانا» کے گاؤں کو خداوند نے پھر اعزاز بخشا کہ وہاں آیا۔ جب وہ پہلی دفعہ آیا تھا تو کچھ لوگوں نے اُسے پانی کو مے میں تبدیل کرتے دیکھا تھا۔ اب وہ اُس کا ایک اَور زبردست معجزہ دیکھنے کو
تھے جس کے اثرات کفرنحوم تک پہنچنے والے تھے۔ «بادشاہ کا ایک ملازم تھا جس کا بیٹا کفرنحوم میں بیمار تھا۔» بلاشبہ یہ آدمی یہودی تھا۔ ہیرودیس نے اُسے ملازم رکھا ہوا تھا۔

۴:‏۴۷ اُس نے سنا تھا کہ یسوع یہودیہ گیا ہوا تھا۔ اب «گلیل میں آ گیا ہے۔» اُس کو ضرور کچھ اِعتقاد تھا کہ مسیح بیماروں کو شفا دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ اِسی لئے وہ براہِ راست اُس کے پاس آ کر «اُس
سے درخواست کرنے لگا کہ چل کر میرے بیٹے کو شفا بخش کیونکہ وہ مرنے کو تھا۔» ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دوسرے بہت سے ہم وطنوں کی نسبت خداوند پر زیادہ ایمان رکھتا تھا۔

۴:‏۴۸ یسوع نے بادشاہ کے اِس ملازم ہی کو نہیں بلکہ عمومی طور پر یہودی قوم کو مخاطب کر کے اُنہیں ایک قومی خصوصیت یاد دلائی کہ تم (‏جمع کا صیغہ)‏ ایمان لانے سے پہلے «نشان اور عجیب
کام» دیکھنا چاہتے ہو۔ عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند یسوع اُس ایمان پر خوش نہیں ہوتا جس کی بنیاد معجزے دیکھنے پر ہو بلکہ اُس ایمان پر خوش ہوتا ہے جس کی بنیاد صرف اُس کے کلام پر ہو۔ اگر ہم کسی دیدنی ثبوت کے بجائے صرف اُس کے
کہنے پر ایمان لاتے ہیں تو اِس طرح اُس کی زیادہ عزت اور تعظیم ہوتی ہے۔ اِنسان کی خاصیت ہے کہ وہ ایمان لانے سے پہلے دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اِس بات کا قائل ہے کہ «شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔» لیکن خداوند یسوع ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں پہلے
ایمان لانا چاہئے۔ اِس کے بعد ہم دیکھیں گے۔

«نشان اور عجیب کام» دونوں سے مراد معجزے ہیں۔ «نشان» وہ معجزے ہوتے ہیں جو گہرے معانی اور اہمیت رکھتے ہیں اور «عجیب کام» وہ معجزے ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر اِنسان حیران رہ جاتا ہے۔

۴:‏۴۹ «بادشاہ کے ملازم» میں سچا ایمان نظر آتا ہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ خداوند یسوع میرے بیٹے کو شفا دے سکتا ہے۔ اُسے صرف یہی خواہش ہے کہ خداوند میرے گھر چلے۔ ایک لحاظ سے اُس کا ایمان ناقص
تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ لڑکے کو شفا دینے کے لئے خداوند کا اُس کی چارپائی کے پاس ہونا ضروری ہے۔ البتہ خداوند نے اُسے اِس بات پر ملامت نہیں کی بلکہ جتنا ایمان بھی اُس نے دِکھایا،‏ خداوند نے اُسی کا اَجر اُسے دیا۔

۴:‏۵۰ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اُس آدمی کا ایمان بڑھ رہا ہے۔ جتنا ایمان اُس کے پاس تھا اُس نے اُسی کو استعمال کیا۔ پھر خداوند نے اُسے زیادہ ایمان دیا۔ یسوع نے اُسے اِس وعدے کے ساتھ گھر واپس
بھیجا کہ «جا تیرا بیٹا جیتا ہے۔» بیٹا شفا پا چکا تھا! کسی معجزہ یا دیدنی ثبوت کے بغیر «اُس شخص نے اُس بات کا یقین کیا جو یسوع نے اُس سے کہی» اور اپنے گھر کو روانہ ہو گیا۔ یہ ہے برسرِعمل ایمان!

۴:‏۵۱،‏۵۲ جب وہ گھر کے نزدیک پہنچا تو «اُس کے نوکر اُسے ملے» اور یہ خوش کن خبر سنائی کہ «تیرا لڑکا جیتا ہے۔» اُس آدمی کو اِس خبر سے ذرا بھی حیرت نہیں ہوئی۔ اُس نے خداوند یسوع کے وعدے
کا یقین کیا تھا اور اب اُس کا ثبوت سامنے تھا۔ باپ نے نوکروں سے پوچھا کہ «اُسے کس وقت سے آرام ہونے لگا تھا؟» اُن کے جواب سے تصدیق ہو گئی کہ شفا رفتہ رفتہ نہیں بلکہ فوری ہو گئی تھی۔

۴:‏۵۳ اب اِس شاندار معجزے کے بارے میں ذرہ برابر شک نہ رہا۔ گذشتہ دن کے ساتویں گھنٹے کے وقت یسوع نے قانا کے اُس شاہی ملازم سے کہا تھا کہ «تیرا بیٹا جیتا ہے» اور کفرنحوم میں اُسی وقت اُس کا
بیٹا شفا پا گیا تھا۔ اُس کی تپ اُتر گئی تھی۔ اِس بات سے بادشاہ کے ملازم نے جان لیا تھا کہ معجزہ کرنے یا دعا کا جواب دینے کے لئے ضروری نہیں کہ یسوع کسی جگہ جسمانی طور پر موجود ہو۔ اِ س سے تمام ایمان داروں کی دعائیہ زندگی میں
حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ ہمارا خدا قادر خدا ہے۔ وہ ہماری ہر عرض اور اِلتجا سنتا اور دُنیا کے کسی حصے میں بھی اور کسی بھی وقت اپنے مقاصد پورے کر سکتا ہے۔

چنانچہ بادشاہ کا ملازم «خود اور اُس کا سارا گھرانا ایمان لایا»۔ اِس آیت سے اور نئے عہدنامے کی اِسی قسم کی دیگر آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا پسند کرتا ہے کہ پورے کے پورے خاندان مسیح میں ہوں۔ وہ نہیں چاہتا کہ آسمان
(‏بہشت)‏ میں خاندان الگ الگ ہوں۔ اُس نے بڑی احتیاط کے ساتھ اِس حقیقت کو قلم بند کرایا ہے کہ «سارا گھرانا» اُس کے بیٹے پر «ایمان لایا۔»

۴:‏۵۴ بادشاہ کے ملازم کے بیٹے کو شفا بخشنا اَب تک خداوند کا دوسرا معجزہ نہیں تھا،‏ بلکہ «یہ دوسرا معجزہ ہے جو یسوع نے یہودیہ سے گلیل میں آ کر دِکھایا۔»

مقدس کتاب

۱-پِھر تِیسرے دِن قانایِ گلِیل میں ایک شادی ہُوئی اور یِسُوعؔ کی ماں وہاں تھی۔
۲- اور یِسُوعؔ اور اُس کے شاگِردوں کی بھی اُس شادی میں دعوت تھی۔
۳- اور جب مَے ہو چُکی تو یِسُوعؔ کی ماں نے اُس سے کہا کہ اُن کے پاس مَے نہیں رہی۔
۴- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا اَے عَورت مُجھے تُجھ سے کیا کام ہے؟ ابھی میرا وقت نہیں آیا۔
۵- اُس کی ماں نے خادِموں سے کہا جو کُچھ یہ تُم سے کہے وہ کرو۔
۶- وہاں یہُودِیوں کی طہارت کے دستُور کے مُوافِق پتّھر کے چھ مَٹکے رکھّے تھے اور اُن میں دو دو تِین تِین من کی گُنجایش تھی۔
۷- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا مَٹکوں میں پانی بھر دو۔ پس اُنہوں نے اُن کو لبالب بھر دِیا۔
۸- پِھر اُس نے اُن سے کہا اب نِکال کر میرِ مجلِس کے پاس لے جاؤ۔ پس وہ لے گئے۔
۹- جب میرِ مجلِس نے وہ پانی چکّھا جو مَے بن گیا تھا اور جانتا نہ تھا کہ یہ کہاں سے آئی ہے (مگر خادِم جِنہوں نے پانی بھرا تھا جانتے تھے) تو میرِ مجلِس نے دُلہا کو بُلا کر اُس سے کہا۔
۱۰- ہر شخص پہلے اچھّی مَے پیش کرتا ہے اور ناقِص اُس وقت جب پی کر چھک گئے مگر تُو نے اچھّی مَے اب تک رکھ چھوڑی ہے۔
۱۱- یہ پہلا مُعجِزہ یِسُوعؔ نے قانایِ گلِیل میں دِکھا کر اپنا جلال ظاہِر کِیا اور اُس کے شاگِرد اُس پر اِیمان لائے۔
۱۲- اِس کے بعد وہ اور اُس کی ماں اور بھائی اور اُس کے شاگِرد کَفرؔنحُوم کو گئے اور وہاں چند روز رہے۔
۱۳- یہُودِیوں کی عِیدِ فَسح نزدِیک تھی اور یِسُوعؔ یروشلِیم کو گیا۔
۱۴- اُس نے ہَیکل میں بَیل اور بھیڑ اور کبُوتر بیچنے والوں کو اور صرّافوں کو بَیٹھے پایا۔
۱۵- اور رسِّیوں کا کوڑا بنا کر سب کو یعنی بھیڑوں اور بَیلوں کو ہَیکل سے نِکال دِیا اور صرّافوں کی نقدی بکھیر دی اور اُن کے تختے اُلٹ دِئے۔
۱۶- اور کبُوتر فروشوں سے کہا اِن کو یہاں سے لے جاؤ۔ میرے باپ کے گھر کو تجارت کا گھر نہ بناؤ۔
۱۷- اُس کے شاگِردوں کو یاد آیا کہ لِکھا ہے۔ تیرے گھر کی غَیرت مُجھے کھا جائے گی۔
۱۸- پس یہُودِیوں نے جواب میں اُس سے کہا تُو جو اِن کاموں کو کرتا ہے ہمیں کَون سا نِشان دِکھاتا ہے؟
۱۹- یِسُوعؔ نے جواب میں اُن سے کہا اِس مَقدِس کو ڈھا دو تو مَیں اُسے تِین دِن میں کھڑا کر دُوں گا۔
۲۰- یہُودِیوں نے کہا چھیالِیس برس میں یہ مَقدِس بنا ہے اور کیا تُو اُسے تِین دِن میں کھڑا کر دے گا؟
۲۱- مگر اُس نے اپنے بدن کے مَقدِس کی بابت کہا تھا۔
۲۲- پس جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تو اُس کے شاگِردوں کو یاد آیا کہ اُس نے یہ کہا تھا اور اُنہوں نے کِتابِ مُقدّس اور اُس قَول کا جو یِسُوعؔ نے کہا تھا یقِین کِیا۔
۲۳- جب وہ یروشلِیم میں فَسح کے وقت عِید میں تھا تو بُہت سے لوگ اُن مُعجِزوں کو دیکھ کر جو وہ دِکھاتا تھا اُس کے نام پر اِیمان لائے۔
۲۴- لیکن یِسُوعؔ اپنی نِسبت اُن پر اِعتبار نہ کرتا تھا اِس لِئے کہ وہ سب کو جانتا تھا۔
۲۵- اور اِس کی حاجت نہ رکھتا تھا کہ کوئی اِنسان کے حق میں گواہی دے کیونکہ وہ آپ جانتا تھا کہ اِنسان کے دِل میں کیا کیا ہے۔