لوقا ۱۲

۱۲۔ ابنِ آدم کی فتح مندی  (‏باب ۲۴) ‏

الف۔ عورتیں اور خالی قبر  (۲۴:‏۱-‏۱۲) ‏

۲۴:‏۱ اتوار کو «صبح سویرے» یہ عورتیں «قبر» کی طرف روانہ ہوئیں۔ وہ یسوع کی لاش کے لئے «خوشبودار چیزوں کو جو تیار کی تھیں» اُٹھائے آ رہی تھیں۔ لیکن وہ یسوع کی لاش تک کیسے پہنچ سکتی تھیں؟ اِس کے بارے میں کیا اُمید رکھتی تھیں؟ کیا اُنہیں علم نہ تھا کہ ایک بھاری پتھر قبر کے منہ پر لڑھکا دیا گیا تھا؟ ہمیں اِن باتوں کا جواب نہیں دیا گیا۔ صرف اِتنا علم ہے کہ وہ اُس سے بے اِنتہا محبت رکھتی تھیں،‏ اور محبت اپنے مُدَّعا کو پانے کے لئے مشکلات کو اکثر بھول جاتی ہے۔

اُن کی محبت صبح سویرے حرکت میں آ گئی  (‏آیت ۱) ‏ اور اُس کو بیش بہا اَجر ملا  (‏آیت ۶) ‏،‏ صبح سویرے بیدار ہونے والے کے لئے زندہ مسیح آج بھی موجود ہے۔  (‏اَمثال ۸:‏۱۷) ‏

۲۴:‏۲-‏۱۰ وہاں پہنچیں تو عورتوں نے «پتھر کو قبر پر سے لڑھکا ہوا پایا»۔ وہ اندر گئیں تو دیکھا کہ «خداوند یسوع کی لاش» وہاں موجود نہیں ہے۔ اُن کی پریشانی کا اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں۔ وہ اِس اَمر کی توجیہ کرنے کی کوشش ہی کر رہی تھیں کہ «دو فرشتے»  (‏یوحنا ۲۰:‏۱۲) ‏ «براق پوشاک پہنے» ہوئے ظاہر ہوئے۔ اُنہوں نے عورتوں کو یقین دلایا کہ یسوع زندہ ہے۔ اُس کو قبر میں تلاش کرنا بے فائدہ ہے۔ وہ «جی اُٹھا ہے۔» یہ بات اُس وعدے کے مطابق تھی جو اُس نے اُن کے ساتھ گلیل میں کیا تھا۔ کیا اُس نے پہلے ہی نہیں بتا دیا تھا کہ «ضرور ہے کہ ابنِ آدم گنہگاروں کے… حوالہ کیا جائے اور مصلوب ہو اور تیسرے دن جی اُٹھے»  (‏لوقا ۹:‏۲۲؛ ۱۸:‏۳۳) ‏۔ اِس پر یہ ساری «باتیں اُنہیں یاد آئیں۔» وہ جلدی سے شہر کو لوٹیں اور «اُن گیارہ… کو… خبر دی»۔ یسوع کے جی اُٹھنے کی پہلے خبر دینے والوں میں «مریم مگدلینی اور یوآنہ اور یعقوب کی ماں مریم» شامل تھیں۔

۲۴:‏۱۱،‏۱۲ شاگردوں کو عورتوں کی بات کا یقین نہ آیا۔ اُن کو یہ بات الف لیلوی کہانی معلوم ہوئی۔ ناقابلِ یقین! بے پَر کی! اُن کا بالکل یہی خیال تھا۔ حتیٰ کہ پطرس نے جا کر خود قبر کو دیکھا۔ اُس نے «جھک کر نظر کی اور دیکھا کہ صرف کفن ہی کفن ہے۔»

یہ کفن اُن کپڑوں پر مشتمل تھا جو پٹیوں کی شکل میں لاش کے گرد کَس کر لپیٹے گئے تھے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ اُن کو کھول دیا گیا تھا یا اَبھی بدن کی شکل میں تھے۔ مگر موخرالذکر بات ماننا زیادہ یقینی معلوم ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خداوند کفن کو یوں چھوڑ گیا جیسے تِتلی اپنا کویا چھوڑ جاتی ہے۔ یہ حقیقت کہ کفن قبر میں پڑا تھا ثابت کرتی ہے کہ لاش چرائی نہیں گئی تھی۔ چوروں کو کیا پڑی تھی کہ کفن اُتارنے میں وقت ضائع کرتے۔ پطرس «اپنے گھر چلا گیا»۔ ابھی وہ اِس معمے کو حل کرنے میں اُلجھا ہوا تھا۔ اِن ساری باتوں کا کیا مطلب ہے؟

ب۔ اِماؤس کا سفر  (‏۲۴:‏۱۳-‏۳۵) ‏

۲۴:‏۱۳ اِماؤس کو جانے والے «دو» شاگردوں میں سے ایک کا نام کلیپاس تھا۔ دوسرے کی شناخت نہیں کرائی گئی،‏ ہو سکتا ہے اُس کی بیوی ہو۔ ایک روایت کے مطابق یہ خود لوقا تھا۔ یقینی بات صرف اِتنی ہے کہ یہ شخص اصل گیارہ شاگردوں میں سے نہیں تھا  (‏دیکھئے آیت ۳۳) ‏۔ بہر حال وہ دونوں بڑے غم و اندوہ کے ساتھ خداوند کی موت اور تدفین کے واقعات کو دُہرا رہے تھے۔ یہ دونوں یروشلیم سے اِماؤس کی طرف جا رہے تھے۔ یہ تقریباً سات میل  (‏گیارہ کلومیٹر) ‏ کی مسافت تھی۔

۲۴:‏۱۴-‏۱۸ وہ چلے جا رہے تھے کہ ایک اجنبی آ کر اُن کے ساتھ ہو لیا۔ یہ جی اُٹھا خداوند تھا،‏ لیکن اُنہوں نے اُس کو نہ پہچانا۔ وہ اُن سے پوچھنے لگا کہ آپ لوگ کیا گفتگو کر رہے ہیں۔ پہلے تو «وہ غمگین سے کھڑے ہو گئے»۔ وہ مایوسی اور دُکھ کی ایک تصویر نظر آ رہے تھے۔ پھر کلیپاس نے سخت حیرانی کا اِظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ «کیا تُو یروشلیم میں اکیلا مسافر ہے» جس کو خبر نہیں کہ اِن دنوں میں یہاں کیا واقعہ ہوا ہے؟

۲۴:‏۱۹-‏۲۴ یسوع نے اُن کی حیرانی میں مزید اضافہ کیا کیونکہ اُس نے پوچھا کہ «کیا ہوا ہے؟» اُنہوں نے جواب میں پہلے تو یسوع ناصری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اِس کے بعد اُس کے مقدمہ،‏ پیشی اور صلیب دیئے جانے کے واقعات کو دُہرایا۔ یہ بھی بیان کیا کہ کس طرح اُن کی اُمیدیں خاک میں مل گئی تھیں۔ اور پھر بتایا کہ اُس کی لاش قبر سے غائب ہے،‏ مگر چند فرشتوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ زندہ ہے۔

۲۴:‏۲۵-‏۲۷ یسوع نے بڑی محبت سے اُن کو ڈانٹا کہ وہ اِس بات میں کم اعتقاد ثابت ہوئے ہیں کیونکہ پرانے عہدنامے کے نبیوں نے مسیحِ موعود کے لئے بالکل اِسی راہ کی پیش گوئی کی تھی۔ خداوند نے پیدائش کی کتاب سے «شروع کر کے سب نوشتوں میں» جتنی باتیں مسیحِ موعود کے حق میں لکھی ہیں،‏ وہ اُن کو سمجھائیں۔ کیسی عمدہ بائبل سٹڈی تھی! کاش ہم بھی اُن کے ساتھ ہوتے اور خود خداوند سے ساری باتیں سنتے؟ مگر ہمارے پاس بھی وہ پرانا عہدنامہ ہے اور روح القدس ہے جو ہم کو سکھاتا ہے۔ ہم بھی اُس کے بارے میں لکھی ہوئی باتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔

۲۴:‏۲۸،‏۲۹ اِتنی دیر میں شاگرد اپنے گھر کے نزدیک پہنچے۔ اُنہوں نے اپنے ساتھی مسافر کو دعوت دی کہ رات «ہمارے ساتھ رہ۔» پہلے تو اُس نے بڑے اخلاق سے یوں ظاہر کیا کہ اپنا سفر جاری رکھنا چاہتا ہو۔ وہ کسی کے ہاں زبردستی نہیں جانا چاہتا۔ لیکن اُنہوں نے اُسے مجبور کیا کہ اُن کے ساتھ رہے۔ اور اِس بات کا اُنہیں بیش قیمت صِلہ ملا۔

۲۴:‏۳۰،‏۳۱ جب وہ رات کا کھانا کھانے بیٹھے تو اُن کے مہمان نے ایک لحاظ سے میزبان کی حیثیت اِختیار کر لی۔

«وہ سادہ اور معمولی سا کھانا ایک سیکرامنٹ بن گیا اور وہ گھر ’خدا کا گھر‘ بن گیا۔ مسیح جہاں جاتا ہے ایسا ہی اِنقلاب برپا کر دیتا ہے۔ جو اُس کی مہمان داری کرتے ہیں،‏ اُن کی گراں قدر مہمان داری ہو گی۔ اُن دونوں نے اپنا گھر اُس کے لئے کھول دیا اور اُس نے اُن کی آنکھیں کھول دیں۔»  (‏Daily Notes of the Scripture Union) ‏

ایسا ہو اکہ «اُس نے روٹی لے کر برکت دی اور توڑ کر اُن کو دینے لگا» تو اُنہوں نے «اُس کو پہچان لیا۔» کیا اُنہوں نے اُس کے ہاتھوں میں کیلوں کے نشان دیکھ لئے تھے؟ ہمیں تو صرف اِتنا بتایا گیا ہے کہ معجزانہ طور پر «اُن کی آنکھیں کھل گئیں» تاکہ اُسے پہچان سکیں۔ اُسی وقت «وہ اُن کی نظر سے غائب ہو گیا۔»

۲۴:‏۳۲ اب وہ سفر کے دوران کی باتوں کو یاد کرنے لگے۔ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ جب وہ اُن پر نوشتوں کا بھید کھولتا تھا تو اُن کے دل جوش سے بھر گئے تھے۔ اُن کا اُستاد اور ہمراہی اُن کا جی اُٹھا خداوند یسوع مسیح تھا۔

۲۴:‏۳۳ رات اِماؤس میں بسر کرنے کے بجائے وہ جلدی جلدی یروشلیم کو لوٹ گئے۔ وہاں وہ گیارہ شاگرد اور اُن کے ساتھی ایک جگہ جمع تھے۔ گیارہ ایک عام ترکیب ہے جس سے مراد اصل شاگرد ہیں۔ یہوداہ  (‏اِسکریوتی) ‏ کو شمار نہیں کیا جاتا۔ حقیقت میں پورے گیارہ شاگرد حاضر نہیں تھے۔ دیکھئے یوحنا ۲۰:‏۲۴۔ یہ ترکیب مجموعی مفہوم میں استعمال ہوئی ہے۔

۲۴:‏۳۴ اِس سے پیشتر کہ اِماؤس سے آنے والے شاگرد اُن سب کو اپنی خوشی میں شریک کرتے یروشلیم والے شاگردوں نے بڑی خوشی اور شوق سے اُن کو خبر دی کہ «خداوند بے شک جی اُٹھا اور شمعون کو دِکھائی دیا ہے۔»

۲۴:‏۳۵ اب اِماؤس سے لوٹنے والوں کی باری تھی۔ ہاں،‏ ہم جانتے ہیں کیونکہ وہ ہمارا شریک ِ سفر تھا،‏ وہ ہمارے گھر میں آیا تھا۔ اور «روٹی توڑتے وقت» اُس نے خود کو ہم پر ظاہر کیا تھا۔

ج۔ گیارہ کو دِکھائی دینا  (‏۲۴:‏۳۶-‏۴۳) ‏

۲۴:‏۳۶-‏۴۱ خداوند یسوع کا جی اُٹھا بدن حقیقی اور ملموس  (‏جسے چھو کر محسوس کیا جا سکے) ‏ بدن تھا۔ «گوشت اور ہڈی» والا بدن تھا۔ یہ وہی بدن تھا جسے دفن کیا گیا تھا۔ مگر اب ایسا بدل گیا تھا کہ موت کا اُس پر کوئی اِختیار نہیں رہا تھا۔ اِس جلالی بدن کے ساتھ یسوع بند دروازوں میں سے کمرے میں داخل ہو سکتا تھا  (‏یوحنا ۲۰:‏۱۹) ‏۔

اُس نے اُس پہلے اتوار کی رات کو یہی کیا۔ شاگردوں نے نظر کی اور اُسے دیکھا۔ اور اُس کی آواز سنی کہ «تمہاری سلامتی ہو۔» وہ اُسے دیکھ کر سخت گھبرا کر دہشت زَدہ ہو گئے کیونکہ سمجھتے تھے کہ یہ کوئی روح ہے۔ مگر اُس نے اُن کو اپنے ہاتھ اور پاؤں میں اپنے دُکھوں کے نشان دِکھائے۔ تب کہیں وہ حقیقت کو سمجھنے لگے تو بھی یہ حقیقت اِتنی اچھی تھی کہ یقین کرنا محال ہو رہا تھا۔

۲۴:‏۴۲،‏۴۳ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ مَیں یسوع ہی ہوں اُس نے اُن سے مچھلی کا قتلہ لے کر اُن کے رُوبرو کھایا۔

د۔ شاگردوں کا ذہن کھولا گیا  (‏۲۴:‏۴۴-‏۴۹) ‏

۲۴:‏۴۴-‏۴۷ یہ آیات نجات دہندہ کی اُن تعلیمات کا خلاصہ ہیں جو اُس نے جی اُٹھنے اور آسمان پر جانے کے درمیانی عرصے کے دوران شاگردوں کو دیں۔ اُس نے بتایا کہ میرا جی اُٹھنا اُن باتوں کی تکمیل ہے جن کے تم گواہ ہو۔ کیا مَیں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ پرانے عہدنامے میں جتنی باتیں «میری بابت لکھی ہیں پوری ہوں؟» پرانا عہدنامہ «موسیٰ کی توریت اور نبیوں کے صحیفوں اور زبور» پر مشتمل ہے۔ پرانے عہد میں مسیح کے بارے میں پیش گوئیوں کا خلاصہ کیا ہے؟ 

  1. کہ «مسیح دُکھ اُٹھائے گا»  (‏زبور ۲۲:‏۱-‏۲۱؛ یسعیاہ ۵۳:‏۱-‏۹) ‏
  2. اور «تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔»  (‏زبور ۱۶:‏۱۰؛ یوناہ ۱:‏۱۷؛ ہوسیع ۶:‏۲) ‏
  3. اور «یروشلیم سے شروع کر کے سب قوموں میں توبہ اور گناہوں کی معافی کی منادی اُس کے نام سے کی جائے گی۔»

یسوع نے اُن کا «ذہن کھولا تاکہ کتابِ مقدس کو سمجھیں۔» دراصل یہ باب ایسا ہے جس میں بہت سی چیزیں کھولی گئیں۔ مثلاً قبر کھولی گئی  (‏آیت ۱۲) ‏،‏ گھر کھولا گیا  (‏آیت ۲۹) ‏،‏ آنکھیں کھولی گئیں  (‏آیت ۳۱) ‏،‏ نوشتوں کا بھید کھولا گیا  (‏آیت ۳۲) ‏،‏ زبان کھولی گئی  (‏آیت ۳۵) ‏،‏ ذہن کھولا گیا  (‏آیت ۴۵) ‏،‏ آسمان کھولا گیا  (‏آیت ۵۱) ‏۔

۲۴:‏۴۸،‏۴۹ شاگرد یسوع کے جی اُٹھنے کے گواہ تھے۔ اُن کا فرض تھا کہ وہ اِس جلالی پیغام کے نقیب بن کر نکلیں۔ مگر ضرور تھا کہ پہلے وہ «باپ کے وعدہ» کے پورے ہونے کا اِنتظار کریں۔ روح القدس دینے کا وعدہ خدا نے پرانے عہدنامے میں کیا تھا۔ دیکھئے یسعیاہ ۴۴:‏۳؛ حزقی ایل ۳۶:‏۲۷؛ یوایل ۲:‏۲۸۔ اُس وقت شاگرد «قوت» پائیں گے۔ یہ وعدہ پنتکست کے دن روح القدس کے نزول سے پورا ہوا۔

ہ۔ ابنِ آدم کا آسمان پر جانا  (‏۲۴:‏۵۰-‏۵۳) ‏

۲۴:‏۵۰،‏۵۱ مسیح کا صعود اُس کے جی اُٹھنے کے چالیس دن بعد ہوا۔ وہ اپنے شاگردوں کو «بیت عنیاہ کے سامنے تک باہر لے گیا»۔ یہ جگہ زیتون کے پہاڑ کے مشرقی طرف تھی۔ وہاں اُس نے «اپنے ہاتھ اُٹھا کر اُنہیں برکت دی»۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ آسمان پر اُٹھایا گیا۔

۲۴:‏۵۲،‏۵۳ «وہ اُس کو سجدہ کر کے بڑی خوشی سے یروشلیم کو لوٹ گئے۔» اگلے دس دنوں کے دوران اُنہوں نے زیادہ وقت «ہیکل میں حاضر ہو کر خدا کی حمد» کرنے میں گزارا۔

لوقا کی اِنجیل کے آغاز میں ہم خدا پرست اور جاں نثار ایمان داروں کو ہیکل میں دیکھتے ہیں۔ وہ مسیحِ موعود کی آمد کے لئے دعا مانگ رہے تھے۔ قوموں کو مدتوں سے اُس کی آمد کا اِنتظار تھا۔ اِنجیل کا اِختتام بھی ہیکل کے بیان پر ہوتا ہے۔ مگر اَب جاں نثار ایمان دار «خدا کی حمد» کر رہے ہیں کہ اُس نے دعاؤں کا جواب دیا اور فدیہ کے کام کو پورا کیا۔ یہ نہایت پیارا نقطہ عروج ہے۔ اِسی لئے رینان  (‏Renan) ‏ لوقا کی اِنجیل کو «خوبصورت ترین» کتاب کہتا ہے۔ آمین!


۱۔   یونانی لفظ اِسمِ مفعول ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ مریم کو فضل حاصل ہوا تھا۔ لاطینی میں اِس کا ترجمہ gratia plena کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے «فضل سے معمور» یا «پُرفضل»۔ اِس کا بہت غلط استعمال ہوا ہے اور یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ مریم فضل کا منبع یا سرچشمہ ہے۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ بالکل صحیح ترجمہ کرنا کتنا ضروری ہے۔

مقدس کتاب

۱- اِتنے میں جب ہزاروں آدمِیوں کی بِھیڑ لگ گئی یہاں تک کہ ایک دُوسرے پر گِرا پڑتا تھا تو اُس نے سب سے پہلے اپنے شاگِردوں سے یہ کہنا شرُوع کِیا کہ اُس خمِیر سے ہوشیار رہنا جو فریسیوں کی رِیاکاری ہے۔
۲- کیونکہ کوئی چِیز ڈھکی نہیں جو کھولی نہ جائے گی اور نہ کوئی چِیز چھُپی ہے جو جانی نہ جائے گی۔
۳- اِس لِئے جو کُچھ تُم نے اندھیرے میں کہا ہے وہ اُجالے میں سُنا جائے گا اور جو کُچھ تُم نے کوٹھرِیوں کے اندر کان میں کہا ہے کوٹھوں پر اُس کی مُنادی کی جائے گی۔
۴- مگر تُم دوستوں سے مَیں کہتا ہُوں کہ اُن سے نہ ڈرو جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور اُس کے بعد اَور کُچھ نہیں کر سکتے۔
۵- لیکن مَیں تُمہیں جتاتا ہُوں کہ کِس سے ڈرنا چاہئے۔ اُس سے ڈرو جِس کو اِختیار ہے کہ قتل کرنے کے بعد جہنّم میں ڈالے۔ ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُسی سے ڈرو۔
۶- کیا دو پَیسے کی پانچ چِڑیاں نہیں بِکتِیں؟ تَو بھی خُدا کے حضُور اُن میں سے ایک بھی فراموش نہیں ہوتی۔
۷- بلکہ تُمہارے سر کے سب بال بھی گِنے ہُوئے ہیں۔ ڈرو مت۔ تُمہاری قدر تو بُہت سی چِڑیوں سے زِیادہ ہے۔
۸ -اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو کوئی آدمِیوں کے سامنے میرا اِقرار کرے اِبنِ آدمؔ بھی خُدا کے فرِشتوں کے سامنے اُس کا اِقرار کرے گا۔
۹- مگر جو آدمِیوں کے سامنے میرا اِنکار کرے خُدا کے فرِشتوں کے سامنے اُس کا اِنکار کِیا جائے گا۔
۱۰- اَور جو کوئی اِبنِ آدمؔ کے خِلاف کوئی بات کہے اُس کو مُعاف کِیا جائے گا لیکن جو رُوحُ القُدس کے حق میں کُفر بَکے اُس کو مُعاف نہ کِیا جائے گا۔
۱۱- اور جب وہ تُم کو عِبادت خانوں میں اور حاکِموں اور اِختیار والوں کے پاس لے جائیں تو فِکر نہ کرنا کہ ہم کِس طرح یا کیا جواب دیں یا کیا کہیں۔
۱۲- کیونکہ رُوحُ القُدس اُسی گھڑی تُمہیں سِکھا دے گا کہ کیا کہنا چاہئے۔
۱۳- پِھر بِھیڑ میں سے ایک نے اُس سے کہا اَے اُستاد! میرے بھائی سے کہہ کہ مِیراث کا میرا حِصّہ مُجھے دے۔
۱۴- اُس نے اُس سے کہا۔ مِیاں! کِس نے مُجھے تُمہارا مُنصِف یا بانٹنے والا مُقرّر کِیا ہے؟
۱۵- اور اُس نے اُن سے کہا خبردار! اپنے آپ کو ہر طرح کے لالچ سے بچائے رکھّو کیونکہ کِسی کی زِندگی اُس کے مال کی کثرت پر مَوقُوف نہیں۔
۱۶- اور اُس نے اُن سے ایک تمثِیل کہی کہ کِسی دَولت مند کی زمِین میں بڑی فصل ہُوئی۔
۱۷- پس وہ اپنے دِل میں سوچ کر کہنے لگا کہ مَیں کیا کرُوں کیونکہ میرے ہاں جگہ نہیں جہاں اپنی پَیداوار بھر رکھّوں؟
۱۸- اُس نے کہا مَیں یُوں کرُوں گا کہ اپنی کوٹِھیاں ڈھا کر اُن سے بڑی بناوُں گا۔
۱۹- اور اُن میں اپنا سارا اناج اور مال بھر رکھّوں گا اور اپنی جان سے کہُوں گا اَے جان! تیرے پاس بُہت برسوں کے لِئے بُہت سا مال جمع ہے۔ چَین کر۔ کھا پی۔ خُوش رہ۔
۲۰- مگر خُدا نے اُس سے کہا اَے نادان! اِسی رات تیری جان تُجھ سے طلب کر لی جائے گی۔ پس جو کُچھ تُو نے تیّار کِیا ہے وہ کِس کا ہو گا؟
۲۱- اَیسا ہی وہ شخص ہے جو اپنے لِئے خزانہ جمع کرتا ہے اور خُدا کے نزدِیک دَولت مند نہیں۔
۲۲- پِھر اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اپنی جان کی فِکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے۔
۲۳- کیونکہ جان خُوراک سے بڑھ کر ہے اور بدن پوشاک سے۔
۲۴- کووّں پر غَور کرو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ اُن کے کھتّا ہوتا ہے نہ کوٹھی۔ تَو بھی خُدا اُنہیں کِھلاتا ہے۔ تُمہاری قدر تو پرِندوں سے کہِیں زِیادہ ہے۔
۲۵- تُم میں اَیسا کَون ہے جو فِکر کر کے اپنی عُمر میں ایک گھڑی بڑھا سکے؟
۲۶- پس جب سب سے چھوٹی بات بھی نہیں کر سکتے تو باقی چِیزوں کی فِکر کیوں کرتے ہو؟
۲۷- سوسن کے درختوں پر غَور کرو کہ کِس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ مِحنت کرتے نہ کاتتے ہیں تَو بھی مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ سُلیماؔن بھی باوجُود اپنی ساری شان و شوکت کے اُن میں سے کِسی کی مانِند مُلبّس نہ تھا۔
۲۸- پس جب خُدا مَیدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنُور میں جَھونکی جائے گی اَیسی پوشاک پہناتا ہے تو اَے کم اِعتقادو تُم کو کیوں نہ پہنائے گا؟
۲۹- اور تُم اِس کی تلاش میں نہ رہو کہ کیا کھائیں گے اور کیا پِئیں گے اور نہ شکّی بنو۔
۳۰- کیونکہ اِن سب چِیزوں کی تلاش میں دُنیا کی قَومیں رہتی ہیں لیکن تُمہارا باپ جانتا ہے کہ تُم اِن چِیزوں کے مُحتاج ہو۔
۳۱- ہاں اُس کی بادشاہی کی تلاش میں رہو تو یہ چِیزیں بھی تُمہیں مِل جائیں گی۔
۳۲- اَے چھوٹے گلّے نہ ڈر کیونکہ تُمہارے باپ کو پسند آیا کہ تُمہیں بادشاہی دے۔
۳۳- اپنا مال اسباب بیچ کر خَیرات کر دو اور اپنے لِئے اَیسے بٹوے بناؤ جو پُرانے نہیں ہوتے یعنی آسمان پر اَیسا خزانہ جو خالی نہیں ہوتا۔ جہاں چور نزدِیک نہیں جاتا اور کِیڑا خراب نہیں کرتا۔
۳۴- کیونکہ جہاں تُمہارا خزانہ ہے وہِیں تُمہارا دِل بھی لگا رہے گا۔
۳۵- تُمہاری کمریں بندھی رہیں اور تُمہارے چراغ جلتے رہیں۔
۳۶-اور تُم اُن آدمِیوں کی مانِند بنو جو اپنے مالِک کی راہ دیکھتے ہوں کہ وہ شادی میں سے کب لَوٹے گا تاکہ جب وہ آ کر دروازہ کھٹکھٹائے تو فوراً اُس کے واسطے کھول دیں۔
۳۷- مُبارک ہیں وہ نَوکر جِن کا مالِک آ کر اُنہیں جاگتا پائے۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ کمر باندھ کر اُنہیں کھانا کھانے کو بِٹھائے گا اور پاس آ کر اُن کی خِدمت کرے گا۔
۳۸- اور اگر وہ رات کے دُوسرے پہر میں یا تِیسرے پہر میں آ کر اُن کو اَیسے حال میں پائے تو وہ نَوکر مُبارک ہیں۔
۳۹- لیکن یہ جان رکھّو کہ اگر گھر کے مالِک کو معلُوم ہوتا کہ چور کِس گھڑی آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب لگنے نہ دیتا۔
۴۰- تُم بھی تیّار رہو کیونکہ جِس گھڑی تُمہیں گُمان بھی نہ ہو گا اِبنِ آدمؔ آ جائے گا۔
۴۱- پطرؔس نے کہا اَے خُداوند تُو یہ تمثِیل ہم ہی سے کہتا ہے یا سب سے؟
۴۲- خُداوند نے کہا کَون ہے وہ دِیانت دار اور عقل مند داروغہ جِس کا مالِک اُسے اپنے نَوکر چاکروں پر مُقرّر کرے کہ ہر ایک کی خُوراک وقت پر بانٹ دِیا کرے؟
۴۳- مُبارک ہے وہ نَوکر جِس کا مالِک آ کر اُس کو اَیسا ہی کرتے پائے۔
۴۴- مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اُسے اپنے سارے مال پر مُختار کر دے گا۔
۴۵- لیکن اگر وہ نَوکر اپنے دِل میں یہ کہہ کر کہ میرے مالِک کے آنے میں دیر ہے غُلاموں اور لَونڈیوں کو مارنا اور کھا پی کر متوالا ہونا شرُوع کرے۔
۴۶- تو اُس نَوکر کا مالِک اَیسے دِن کہ وہ اُس کی راہ نہ دیکھتا ہو اور اَیسی گھڑی کہ وہ نہ جانتا ہو آ مَوجُود ہو گا اور خُوب کوڑے لگا کر اُسے بے اِیمانوں میں شامِل کرے گا۔
۴۷- اور وہ نَوکر جِس نے اپنے مالِک کی مرضی جان لی اور تیّاری نہ کی نہ اُس کی مرضی کے مُوافِق عمل کِیا بُہت مار کھائے گا۔
۴۸- مگر جِس نے نہ جان کر مار کھانے کے کام کِئے وہ تھوڑی مار کھائے گا اور جِسے بُہت دِیا گیا اُس سے بُہت طلب کِیا جائے گا اور جِسے بُہت سَونپا گیا ہے اُس سے زِیادہ طلب کریں گے۔
۴۹- مَیں زمِین پر آگ بھڑکانے آیا ہُوں اور اگر لگ چُکی ہوتی تو مَیں کیا ہی خُوش ہوتا!
۵۰- لیکن مُجھے ایک بپتِسمہ لینا ہے اور جب تک وہ نہ ہو لے مَیں بُہت ہی تنگ رہُوں گا!
۵۱- کیا تُم گُمان کرتے ہو کہ مَیں زمِین پر صُلح کرانے آیا ہُوں؟ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہیں بلکہ جُدائی کرانے۔
۵۲- کیونکہ اب سے ایک گھر کے پانچ آدمی آپس میں مُخالفت رکھّیں گے۔ دو سے تِین اور تِین سے دو۔
۵۳- باپ بیٹے سے مُخالفت رکھّے گا اور بیٹا باپ سے۔ ماں بیٹی سے اور بیٹی ماں سے۔ ساس بہُو سے اور بہُو ساس سے۔
۵۴- پِھر اُس نے لوگوں سے بھی کہا کہ جب بادِل کو پچّھم سے اُٹھتے دیکھتے ہو تو فوراً کہتے ہو کہ مِینہ برسے گا اور اَیسا ہی ہوتا ہے۔
۵۵- اور جب تُم معلُوم کرتے ہو کہ دَکھّنا چل رہی ہے تو کہتے ہو کہ لُو چلے گی اور اَیسا ہی ہوتا ہے۔
۵۶- اَے رِیاکارو زمِین اور آسمان کی صُورت میں تو اِمتِیاز کرنا تُمہیں آتا ہے لیکن اِس زمانہ کی بابت اِمتِیاز کرنا کیوں نہیں آتا؟
۵۷- اور تُم اپنے آپ ہی کیوں فَیصلہ نہیں کر لیتے کہ واجِب کیا ہے؟
۵۸- جب تُو اپنے مُدّعی کے ساتھ حاکِم کے پاس جا رہا ہے تو راہ میں کوشِش کر کہ اُس سے چُھوٹ جائے۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ تُجھ کو مُنصِف کے پاس کھینچ لے جائے اور مُنصِف تُجھ کو سِپاہی کے حوالہ کرے اور سِپاہی تُجھے قَید میں ڈالے۔
۵۹- مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ جب تک تُو دمڑی دمڑی ادا نہ کر دے گا وہاں سے ہرگِز نہ چُھوٹے گا۔