لوقا ۱۰

۱۰۔ ابنِ آدم یروشلیم میں  (‏۱۹:‏۲۸-‏۲۱:‏۳۸) ‏

الف۔ فاتحانہ داخلہ  (۹‏۱:‏۲۸-‏۴۰) ‏

۱۹:‏۲۸-‏۳۴ یہ اُس کے صلیب دیئے جانے سے پہلے کا اِتوار کا دن تھا۔ یروشلیم کو جاتے ہوئے یسوع زیتون کے پہاڑ کی مشرقی ڈھلان کے قریب پہنچ گیا تھا۔ «جب وہ… بیت فگے اور بیت عنیاہ کے نزدیک پہنچا تو… اُس نے اپنے شاگردوں میں سے دو کو… سامنے کے گاؤں میں… بھیجا» تاکہ یروشلیم میں اُس کے داخلے کے لئے «گدھی کا بچہ» لائیں۔ اُس نے اُنہیں بتایا کہ جانور اُن کو کہاں ملے گا اور اُس کے مالک کیا کہیں گے۔ جب شاگردوں نے اپنا مقصد ظاہر کیا تو مالکوں نے بڑی خوشی سے گدھی کا وہ بچہ خداوند یسوع کی سواری کے لئے دے دیا۔ شاید اُن کو پہلے خداوند کی خدمت سے برکت ملی تھی اور اُنہوں نے پیش کش کی تھی کہ جب بھی ضرورت ہو ہم آپ کی خدمت کے لئے تیار ہیں۔

۱۹:‏۳۵-‏۳۸ شاگردوں نے اپنے کپڑوں سے یسوع کے لئے ایک گدّی یا کاٹھی بنا دی۔ بہت سے لوگ اُس کے آگے «اپنے کپڑے راہ میں بچھاتے جاتے تھے۔» وہ کوہِ زیتون کی مغربی ڈھلان سے چڑھتا ہوا یروشلیم کی طرف بڑھا۔ پھر یسوع کے پیچھے آنے والے «اُن سب معجزوں کے سبب سے جو اُنہوں نے دیکھے تھے» یک دل ہو کر بلند آواز سے خدا کی حمد کرنے لگے۔ وہ اِن الفاظ سے اُس کا خیر مقدم کرنے لگے کہ «مبارک ہے وہ بادشاہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے۔» گویا وہ اُسے خدا کی طرف سے بادشاہ مان رہے تھے۔ وہ نعرے لگا رہے تھے کہ «آسمان پر صلح اور عالمِ بالا پر جلال!» یہ بات اہم ہے کہ وہ پکار رہے تھے کہ «آسمان پر صلح»،‏ نہ کہ «زمین پر صلح۔» زمین پر صلح نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ صلح کے شہزادے کو ردّ کر دیا گیا تھا بلکہ بہت جلد اُسے صلیب پر چڑھایا جانا تھا۔ مگر کلوری کی صلیب پر عنقریب ہونے والی موت اور پھر آسمان پر جانے کے باعث «آسمان پر صلح» ہو گی۔

۱۹:‏۳۹،‏۴۰ فریسیوں کو اِس بات پر سخت غصہ آیا کہ یسوع کی یوں علانیہ تعظیم ہو رہی ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ یسوع «اپنے شاگردوں کو ڈانٹ دے۔» مگر اُس نے جواب دیا کہ اِس قسم کی مرحبا اور تحسین لازم اور اٹل ہے۔ «اگر» شاگرد ایسا نہیں کریں گے «تو پتھر چِلّا اُٹھیں گے۔» اِس طرح اُس نے فریسیوں کو جھڑکا کہ وہ بے جان پتھروں سے زیادہ سخت تھے کہ اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔

ب۔ ابنِ آدم یروشلیم پر روتا ہے  (۹‏۱:‏۴۱-‏۴۴) ‏

۱۹:‏۴۱،‏۴۲ جب یسوع یروشلیم کے نزدیک پہنچا تو اُس نے اُس پر نوحہ خوانی کی کیونکہ اُس نے ایک سنہری موقع کھو دیا تھا۔ اگر لوگ اُس کو مسیحِ موعود قبول کر لیتے تو شہر کے لئے «سلامتی» ہوتی۔ مگر وہ پہچانتے ہی نہ تھے کہ یسوع «سلامتی» کا سرچشمہ ہے۔ اب وقت گزر چکا تھا۔ وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ ہم خدا کے بیٹے سے کیا سلوک کریں گے۔ چونکہ اُنہوں نے اُسے ردّ کر دیا تھا اِس لئے اُن کی آنکھیں اَندھی ہو چکی تھیں۔ چونکہ وہ اُسے دیکھنا ’نہیں چاہتے‘ تھے اِس لئے اب وہ اُسے دیکھ نہیں سکتے تھے۔

ذرا رُک کر یسوع کے آنسوؤں پر غور کریں۔ جس طرح ڈبلیو۔ ایچ۔ گرفتھ تھامس  (‏Griffith Thomas) ‏نے کہا ہے:‏«آئیے ہم مسیح کے قدموں میں بیٹھے رہیں۔ حتیٰ کہ آنسوؤں کی حقیقت کو جان لیں اور شہر اور دیہات کے گناہوں اور دُکھوں کو دیکھ کر ہم بھی اُن پر آنسو بہانے لگیں۔»

۱۹:‏۴۳،‏۴۴ یسوع نے ططس  (‏جرنیل) ‏ کی طرف سے یروشلیم کے محاصرے کا مختصر پیشگی منظر پیش کیا کہ کس طرح «تیرے دشمن تیرے گرد مورچہ باندھ کر تجھے گھیر لیں گے» اور ہر چھوٹے بڑے کا قتلِ عام کریں گے۔ دیواروں اور عمارتوں کو زمین بوس کر دیں گے،‏ یہاں تک کہ یروشلیم میں «کسی پتھر پر پتھر باقی» نہ رہے گا۔ یہ سب کچھ اِس لئے ہو گا کہ یروشلیم نے «اُس وقت کو نہ پہچانا جب تجھ  (‏یروشلیم) ‏ پر نگاہ کی گئی۔» خداوند نجات کی پیش کش کے ساتھ اِس شہر میں آیا،‏ مگر لوگوں نے اُسے قبول نہ کیا۔ اُن کے پاس خداوند کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔ وہ اپنے منصوبوں میں اِتنے مگن تھے کہ اُس کی طرف دیکھنے کے روا دار نہ تھے۔

ج۔ ہیکل کو دوسری دفعہ پاک صاف کرنا  (۱۹:‏۴۵،‏۴۶) ‏

یسوع نے اپنی عام خدمت کے آغاز میں ہیکل کو پاک صاف کیا تھا  (‏یوحنا ۲:‏۱۴-‏۱۷) ‏۔ اب اُس کی خدمت اِختتام پذیر ہو رہی تھی۔ وہ ایک دفعہ پھر اُس کی مقدس حدود میں داخل ہوا اور اُن سب کو وہاں سے نکال باہر کیا جو «دعا کے گھر» کو «ڈاکوؤں کی کھوہ» بنا رہے تھے۔ یہ خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ خداوند کی باتوں اور کاموں کو کاروبار اور تجارت بنا دیا جائے۔

مسیح نے اپنے اِس عمل کی حمایت میں پاک کلام  (‏یسعیاہ ۵۶:‏۷ اور یرمیاہ ۷:‏۱۱) ‏ کا اِقتباس پیش کیا۔ کلیسیا میں ہر قسم کی بُرائی کی اِصلاح خدا کے کلام کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔

د۔ ہیکل میں ہر روز تعلیم دینا  (‏۱۹:‏۴۷،‏۴۸) ‏

یسوع ہیکل کے اندر نہیں بلکہ اُس کے صحنوں میں ہر روز تعلیم دیتا تھا کیونکہ صحنوں میں عام لوگوں کو آنے جانے کی اِجازت ہوتی تھی۔ مذہبی راہنما تڑپ رہے تھے کہ اُسے ہلاک کرنے کا کوئی بہانہ ہاتھ آئے،‏ لیکن عام لوگ اَب تک معجزے دِکھانے والے اِس ناصری کے دلدادہ تھے۔ ابھی اُس کا وقت نہیں آیا تھا۔ لیکن بہت جلد وہ گھڑی آنے والی تھی۔ اُس وقت «سردار کاہن اور فقیہ» اور فریسی اُسے مار ڈالنے کو اُس پر ہاتھ ڈال سکیں گے۔

زیر نظر واقعہ سوموار کے دن پیش آیا۔ اگلے دن یعنی منگل کے دن کا بیان ۲۰:‏۱-‏۲۲:‏۶ میں درج ہے۔

ہ۔ ابنِ آدم کے اِختیار پر اعتراض کیا جاتا ہے  (۲۰:‏۱-‏۸) ‏

۲۰:‏۱،‏۲ کیسی عجیب تصویر ہے! اُستادِ اعظم «ہیکل» کے سائے میں بے تکان خوش خبری سنا رہا ہے اور بنی اِسرائیل کے لیڈر بڑی گستاخی سے اُس کے تعلیم دینے کے حق کو چیلنج کرتے ہیں۔ اُن کی نظروں میں یسوع ناصرت کا ایک بے ادب بڑھئی تھا۔ اُس نے کوئی خاص رسمی تعلیم نہیں پائی تھی۔ نہ اُس کے پاس اعلیٰ تعلیمی ڈِگریاں تھیں،‏ نہ کسی مذہبی جماعت نے اُسے اِختیار نامہ جاری کیا تھا۔ اُس کے پاس کیا سند تھی؟ اُس کو کس نے «اِختیار» دیا تھا کہ منادی کرے اور ہیکل کو پاک صاف کرے؟ فقیہ اور بزرگ یہ سب کچھ جاننا چاہتے تھے!

۲۰:‏۳-‏۸ یسوع نے جواب میں اُن سے ایک سوال پوچھا۔ اگر وہ اِس سوال کا درست جواب دیتے تو اُنہیں اپنے سوال کا جواب مل جاتا۔ یسوع کا سوال یہ تھا کہ «یوحنا کا بپتسمہ آسمان کی طرف سے تھا یا اِنسان کی طرف سے؟» اب وہ پھنس گئے۔ اگر وہ تسلیم کرتے کہ یوحنا الٰہی مسح کے ساتھ منادی کرتا تھا تو پھر اُنہوں نے اُس کے پیغام کو قبول کیوں نہ کیا،‏ توبہ کیوں نہ کی اور جس مسیحِ موعود کا وہ اعلان کرتا تھا اُس پر ایمان کیوں نہ لائے؟ لیکن اگر وہ کہتے کہ یوحنا بھی ایک پیشہ ور منادی کرنے والا تھا تو عام لوگ سخت ناراض ہو جاتے کیونکہ وہ تو مانتے تھے کہ یوحنا خدا کا نبی تھا۔ چنانچہ اُن مذہبی لیڈروں نے جواب دیا،‏ «ہم نہیں جانتے» کہ یوحنا کا اِختیار کس کی طرف سے تھا۔ اِس پر یسوع نے کہا،‏ «مَیں بھی تمہیں نہیں بتاتا کہ اِن کاموں کو کس اِختیار سے کرتا ہوں۔» اگر وہ یوحنا کے بارے میں اِتنی سی بات نہیں بتا سکتے تھے تو وہ اُس ہستی کے اِختیار پر کیوں اعتراض کرتے تھے جو یوحنا سے بھی بڑا ہے؟ اِس حوالے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ خدا کے کلام کی تعلیم دینے کے لئے بنیادی اور ضروری شرط روح القدس کی معموری ہے۔ جس کو یہ بخشش حاصل ہو،‏ وہ اُن لوگوں پر غالب اور فاتح رہے گا جن کی طاقت اور قوت اِنسانی القابات،‏ اعزازات اور ڈِگریوں میں لپٹی ہوتی ہے۔

«آپ نے ڈِپلومہ کہاں سے حاصل کیا؟ آپ کی مخصوصیت کس نے کی؟» یہ پرانے سوال ہیں جو غالباً حسد کی پیداوار ہیں،‏ مگر یہ سوال آج بھی اُٹھائے جاتے ہیں۔ خوش خبری کا وہ مناد جس نے کسی بڑی یونیورسٹی کے مذہبی نصاب کا اِمتحان پاس نہ کیا ہو،‏ یا کسی مشہور سیمنری سے فارغ التعلیم نہ ہو،‏ آج بھی اُسے چیلنج کیا جاتا ہے کہ اُس کی مخصوصیت درست بھی ہے یا نہیں؟ وہ اِس خدمت کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں؟

و۔ شریر باغبانوں کی تمثیل  (‏۲۰:‏۹-‏۱۸) ‏

۲۰:‏۹-‏۱۲ تاکستان کی اِس تمثیل میں ایک دفعہ پھر بیان کیا گیا ہے کہ خدا کا دل اِسرائیلی قوم کا کیسا مشتاق ہے۔ تمثیل کا «ایک شخص» دراصل خدا ہے جس نے «تاکستان»  (‏بنی اِسرائیل) ‏ «باغبانوں»  (‏قوم کے لیڈروں) ‏ کو «ٹھیکے پر دیا»  (‏دیکھئے یسعیاہ ۵:‏۱-‏۷) ‏۔ وقت آنے پر اُس نے نوکروں کو «باغبانوں کے پاس بھیجا» تاکہ کچھ «پھل» حاصل کرے۔ یہ نوکر خدا کے نبی ہیں جیسے یسعیاہ اور یوحنا بپتسمہ دینے والا۔ یہ اِسرائیلی قوم کو ایمان لانے اور توبہ کی طرف بلانے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن بنی اِسرائیل کے لیڈر ہمیشہ اِن نبیوں کو ستانے رہے۔

۲۰:‏۱۳ آخر میں خدا نے «اپنے پیارے بیٹے» کو بھیجا،‏ یہ خیال کر کے کہ باغبان اُس کا لحاظ کریں گے  (‏اگرچہ بے شک خدا جانتا تھا کہ مسیح کو ردّ کیا جائے گا) ‏۔ غور کریں کہ مسیح اپنے آپ کو دیگر تمام بھیجے ہوؤں سے الگ اور ممتاز بیان کرتا ہے۔ وہ نوکر تھے،‏ یہ بیٹا ہے۔

۲۰:‏۱۴ اپنی تاریخ کے مصداق «باغبانوں» نے مصمم اِرادہ کر لیا کہ «وارث» کا خاتمہ کر دیں گے۔ وہ چاہتے تھے کہ قوم کے لیڈر اور معلم ہونے کا اِختیار ہمارے اور صرف ہمارے پاس رہے — «کہ میراث ہماری ہو جائے۔» وہ اپنی مذہبی حیثیت اور اِختیار یسوع کو دینے پر آمادہ نہ تھے۔ اگر وہ اُسے قتل کر دیں تو بنی اِسرائیل پر اُن کے اِختیار کو کوئی چیلنج نہیں کرے گا —کم سے کم اُن کا خیال یہی تھا۔

۲۰:‏۱۵-‏۱۷ «پس اُس کو تاکستان سے باہر نکال کر قتل کیا۔» اِس موقع پر یسوع نے اپنے سامعین سے پوچھا کہ «اب تاکستان کا مالک اُن  (‏شریر باغبانوں) ‏ کے ساتھ کیا کرے گا؟» متی کے بیان کے مطابق  (‏متی ۲۱:‏۴۱) ‏ سردار کاہنوں اور بزرگوں نے جواب دیا «اُن بدکاروں کو بُری طرح ہلاک کرے گا۔» اِس جواب سے اُنہوں نے خود اپنے تئیں مجرم ٹھہرایا۔ یہاں خداوند خود جواب دیتا ہے کہ «وہ آ کر اُن باغبانوں کو ہلاک کرے گا اور تاکستان اَوروں کو دے دے گا۔» اِس کا مطلب ہے کہ مسیح کو ردّ کرنے والے یہودیوں کو ہلاک کیا جائے گا اور خدا «اَوروں» کو اعزاز اور اِستحقاق کی جگہ دے گا۔ «اَوروں» سے مراد غیر قومیں بھی ہو سکتی ہیں اور اخیر زمانے کے نئی پیدائش حاصل کرنے والے اِسرائیلی بھی۔ اِس بات پریہودیوں نے پلٹا کھایا اور کہا «خدا نہ کرے۔» خداوند نے زبور ۱۱۸:‏۲۲ کا اِقتباس کر کے اپنی پیش گوئی کی تصدیق کی۔ یہودی «معماروں» نے «پتھر» یعنی مسیح کو «ردّ» کر دیا تھا۔ اُن کے منصوبوں میں اُس کے لئے کوئی جگہ نہ تھی مگر خدا نے پکا اِرادہ کر رکھا تھا کہ اُسے نمایاں اور معزز جگہ ملے گی کیونکہ وہ اُسے «کونے کے سرے کا پتھر» بنا دے گا۔ یہ پتھر از بس ضروری ہے۔

۲۰:‏۱۸ آیت ۱۸ میں مسیح کی دونوں آمدوں کا بیان ہے۔ اُس کی پہلی آمد وہ «پتھر» ہے جو زمین پر ہے۔ لوگوں نے اُس کی فروتنی اور حلیمی اور پست حالی سے ٹھوکر کھائی اور اُس کو ردّ کرنے کے باعث «ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔» آیت کے دوسرے حصے میں پتھر آسمان سے گرتا ہوا نظر آتا اور ایمان نہ لانے والوں کو «پیس ڈالتا» ہے۔

ز۔ قیصر کا قیصر کو اور خدا کا خدا کو ادا کرنا  (‏۲۰:‏۱۹-‏۲۶) ‏

۲۰:‏۱۹،‏۲۰ فقیہوں اور سردار کاہنوں کو احساس ہو گیا تھا کہ یسوع ہمارے خلاف بول رہا ہے۔ چنانچہ وہ اُسے پکڑنے کی کوشش میں اَور بھی سرگرم ہو گئے۔ اب اُنہوں نے جاسوس بھیجے کہ اُس کی کوئی ایسی بات پکڑیں جس سے اُس کو پکڑ کر رومی «حاکم کے قبضہ اور اِختیار میں دے دیں۔» اُن جاسوسوں نے پہلے تو اُس کی تعریف کی کہ «تیرا کلام اور تعلیم درست ہے اور تُو کسی کی طرف داری نہیں کرتا بلکہ سچائی سے خدا کی راہ کی تعلیم دیتا ہے۔» اِن باتوں سے اُن کو اُمید تھی کہ یسوع قیصر کے خلاف کچھ کہے گا۔

۲۰:‏۲۱،‏۲۲ پھر اُنہوں نے اُس سے پوچھا کہ «کیا ہمیں قیصر کو خراج دینا رَوا ہے یا نہیں؟» «ہمیں» سے مراد یہودی قوم ہے۔ اگر وہ کہتا «نہیں» تو وہ اُس پر غداری یا سازِش کا اِلزام لگا کر اُسے رومی حکومت کے حوالے کر دیتے۔ اگر وہ کہتا «ہاں» تو ہیرودی اُس کے مخالف ہو جاتے  (‏بلکہ یہودیوں کی اکثریت اُس کے خلاف ہو جاتی) ‏۔

۲۰:‏۲۳،‏۲۴ یسوع نے جان لیا کہ میرے خلاف کیسی سازِش کی گئی ہے۔ چنانچہ اُس نے اُن سے کہا کہ «ایک دِینار مجھے دِکھاؤ۔» غالباً خود اُس کے پاس نہیں تھا۔ یہ حقیقت کہ اُن کے پاس یہ سِکے تھے اور وہ اُنہیں استعمال کرتے تھے ثابت کرتی ہے کہ وہ غیر قوم طاقت کے غلام تھے۔ دِینار لے کر یسوع نے پوچھا «اِس پر کس کی صورت اور نام ہے؟» اُنہوں نے اِقرار کیا کہ «قیصر کا۔»

۲۰:‏۲۵،‏۲۶ اِس پر یسوع نے اِس حکم سے اُن کے منہ بند کر دیئے کہ «پس جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔» بظاہر وہ قیصر کے مفادات کے اِتنے خیر خواہ تھے،‏ لیکن اُن کو خدا کے تقاضوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ «یہ روپیہ پیسہ قیصر کا ہے،‏ اور تم خدا کے ہو،‏ دُنیا کو اپنے سِکّے سنبھالنے دو،‏ مگر خدا کی مخلوق اُس کی طرف آ جائے۔» چھوٹے چھوٹے معاملات میں بحث کرنا بہت آسان ہے۔ مگر ہم زندگی کے بڑے بڑے اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم جنس اِنسانوں کے قرض ادا کرنا تو آسان سمجھتے ہیں مگر خدا کے جائز حقوق ادا نہیں کرتے۔

ح۔ صدوقی اور اُن کا قیامت کا معما  (‏۲۰:‏۲۷-‏۴۴) ‏

۲۰:‏۲۷ سیاسی نوعیت کے سوال سے یسوع کو پھنسانے کی کوشش ناکام ہو گئی تو چند «صدوقی… اُس کے پاس آ» گئے۔ وہ علمِ الٰہی کا ایک مسئلہ لے آئے۔ صدوقی اِس بات سے اِنکار کرتے تھے کہ مرنے والوں کے جسم کبھی زندہ ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے ایک اِنتہائی قسم کی مثال پیش کی جس سے قیامت کا عقیدہ مضحکہ خیز معلوم ہونے لگے۔

۲۰:‏۲۸-‏۳۳ اُنہوں نے یسوع کو یاد دلایا کہ «موسیٰ کی شریعت» کے مطابق کنوارے مرد کے لئے لازم ہے کہ اپنے بھائی کی بیوہ سے شادی کرے تاکہ خاندان کا نام قائم رہے اور جائیداد محفوظ رہے  (‏اِستثنا ۲۵:‏۵) ‏۔ اِس حکم کے مطابق ایک عورت یکے بعد دیگرے سات بھائیوں کی بیوی بنی تھی۔ ساتواں بھائی بھی مر گیا تو بھی وہ بے اولاد تھی۔ «آخر کو وہ عورت بھی مر گئی۔» یہ کہانی سنانے کے بعد صدوقیوں نے سوال کیا کہ «قیامت میں وہ عورت اُن میں سے کس کی بیوی ہو گی؟» اُن کا خیال تھا کہ ہم بہت ہوشیار ہیں کہ ایسا لاجواب سوال پیش کیا ہے۔

۲۰:‏۳۴ یسوع نے جواب دیا کہ شادی بیاہ کا رِشتہ صرف «اِس جہان» کے لئے ہے۔ آسمان پر یہ رِشتہ جاری نہیں رہے گا۔ اُس نے یہ نہیں کہا کہ شوہر اور بیویاں ایک دوسرے کو نہیں پہچانیں گے بلکہ یہ کہ وہاں اُن کا رِشتہ بالکل اَور نوعیت کا ہو گا۔

۲۰:‏۳۵ «جو لوگ اِس لائق ٹھہریں گے کہ اُس جہان کو حاصل کریں۔» اِن الفاظ کا یہ مطلب نہیں کہ کئی لوگ ذاتی طور پر بھی آسمان پر جانے کے لائق ہیں یا ہوں گے۔ گنہگار تو لائق ہوتا ہے صرف اِس لئے کہ خداوند یسوع مسیح اُس کو لائق کرتا ہے۔ لائق وہی شمار ہوتے ہیں جو اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔ جو مسیح کو سچا مانتے ہیں اور اِقرار کرتے ہیں کہ صاحب ِلیاقت ہے تو صرف مسیح۔ «مُردوں میں سے جی اُٹھیں»گے۔ اِس جی اُٹھنے کا تعلق صرف ایمان داروں سے ہے۔ یہاں تصور مُردوں «میں سے» جی اُٹھنے کا ہے،‏ تمام مردوں کے جی اُٹھنے کا نہیں۔ ایک عام قیامت کا تصور،‏ جس میں نجات یافتہ اور غیر نجات یافتہ سارے مُردے ایک ہی وقت جی اُٹھیں گے،‏ بائبل مقدس میں نہیں پایا جاتا۔

۲۰:‏۳۶ آسمانی حالت کی برتری کا مزید بیان آیت ۳۶ میں موجود ہے۔ وہاں موت نہیں ہو گی۔ اِس لحاظ سے وہ «فرشتوں کے برابر ہوں گے۔» علاوہ بریں وہ «خدا کے بھی فرزند ہوں گے۔» ایمان دار تو پہلے ہی خدا کے فرزند ہیں۔ مگر خارجی طور پر ابھی ایسا نظر نہیں آتا۔ آسمان میں وہ دیدنی طور پر بھی خدا کے فرزند ظاہر ہوں گے۔ یہ حقیقت کہ اُنہوں نے پہلی قیامت میں حصہ لیا اِس بات کو یقینی بناتی ہے۔ «اِتنا جانتے ہیں کہ جب وہ  (‏یسوع) ‏ ظاہر ہو گا تو ہم بھی اُس کی مانند ہوں گے کیونکہ اُس کو ویسا ہی دیکھیں گے جیسا وہ ہے»  (‏۱۔یوحنا ۳:‏۲) ‏۔ «جب مسیح جو ہماری زندگی ہے ظاہر کیا جائے گا تو تم بھی اُس کے ساتھ جلال میں ظاہر کئے جاؤ گے»  (‏کلسیوں ۳:‏۴) ‏۔

۲۰:‏۳۷،‏۳۸ قیامت کا ثبوت دینے کے لئے مسیح نے خروج ۳:‏۶ کا حوالہ دیا جہاں موسیٰ نے خداوند کی بات دُہرائی ہے کہ «مَیں ابرہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں»۔ اب اگر صدوقی ذرا غور کرتے تو اُن کو معلوم ہو جاتا کہ  (‏۱) ‏ «خدا مُردوں کا خدا نہیں بلکہ زندوں کا ہے»۔  (‏۲) ‏ اور یہ کہ «ابرہام اور اضحاق اور یعقوب» سب مَر چکے تھے۔ اب لازمی نتیجہ یہی سامنے آتا ہے کہ خدا اُن کو ضرور زندہ کرے گا۔ خداوند نے یہ نہیں کہا تھا کہ مَیں ابرہام… کا خدا «تھا»۔ بلکہ یہ کہ «ہوں»۔ خدا کی ذات کا تقاضا ہے کہ قیامت ہو،‏ کیونکہ وہ زندوں کا خدا ہے۔

۲۰:‏۳۹-‏۴۴ بعض فقیہوں کو اِس دلیل کے زور کو تسلیم کرنا پڑا۔ مگر یسوع نے ابھی بات ختم نہیں کی تھی۔ زبور ۱۱۰:‏۱ میں داؤد مسیحِ موعود کو اپنا خداوند کہتا ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ بہ یک وقت داؤد کا «بیٹا» بھی ہو اور «خداوند» بھی؟ خداوند یسوع خود اِس سوال کا جواب تھا۔ ابنِ آدم کی حیثیت میں وہ داؤد کی نسل سے تھا۔ مگر وہ داؤد کا خالق بھی تھا۔ مگر صدوقی اِتنے اَندھے تھے کہ اِس حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔

ط۔ فقیہوں کے بارے میں خبردار کیا جانا   (۲۰:‏۴۵-‏۴۷) ‏

یسوع نے لوگوں کو علانیہ کہا کہ «فقیہوں سے خبردار رہنا۔» وہ «لمبے لمبے جامے» پہن کر خدا پرست ہونے کا تاثر دیتے تھے۔ اُن کو شوق تھا کہ لوگ ہمیں اچھے سے اچھے القابات سے پکاریں۔ اور جب بازاروں میں چلیں پھریں تو ہر شخص ادب سے ہمیں سلام کرے۔ وہ مختلف حیلوں سے عبادت خانوں میں نمایاں اور عزت دار مقام حاصل کرتے تھے۔ ضیافتوں میں وہ «صدر نشینی» یعنی سب سے اچھی جگہ بیٹھنا پسند کرتے تھے۔ لیکن بیواؤں کو اُن کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے تھے اور اپنے سارے کرتُوتوں کو ڈھانپنے کے لئے «نماز کو طول دیتے» تھے۔ ایسی ریاکاری کی سزا اَور بھی سخت ہو گی۔

ی۔ بیوہ کی دو دمڑیاں  (‏۲۱:‏۱-‏۴) ‏

یسوع نے «دولت مندوں کو دیکھا جو اپنی نذروں کے روپے ہیکل کے خزانہ میں ڈال رہے تھے»۔ وہ اُن دولت مندوں اور ایک کنگال بیوہ کے درمیان فرق کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ دولت مند تو اپنی دولت میں سے کچھ حصہ دے رہے تھے۔ مگر اُس بیوہ نے اپنی ساری روزی ڈال دی۔ خدا کی نظر میں اُس بیوہ نے اُن سب کے مجموعی نذرانے سے زیادہ ڈالا۔ اُنہوں نے جو دیا،‏ اِس سے اُنہیں کچھ فرق نہیں پڑا تھا۔ مگر بیوہ نے «اپنی ناداری کی حالت میں جتنی روزی اُس کے پاس تھی سب ڈال دی»۔ کسی نے کہا کہ «خوش حال لوگ جو سونا اس لئے دیتے ہیں کہ اُنہیں اِس کی ضرورت نہیں ہوتی،‏ خدا اِس سونے کو اتھاہ گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔ مگر وہ تانبا جو غریب دیتے ہیں،‏ جس پر اُن کے خون کے داغ ہوتے ہیں،‏ خدا اُس تانبے کو چومتا اور دائمی سونے میں بدل دیتا ہے۔»

ک۔ آنے والے واقعات کا خاکہ  (‏۲۱:‏۵-‏۱۱) ‏

آیات ۵-‏۳۳ میں زبردست نبوتی باتیں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ گفتگو متی ابواب ۲۴ اور ۴۵ کی اُن باتوں سے مشابہ ہے جو خداوند نے زیتون کے پہاڑ پر فرمائیں مگر یہ وہی باتیں نہیں ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِنجیلی بیانات میں فرق خاص اہمیت کے حامل ہیں۔

زیر نظر گفتگو میں ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند دو باتوں کا باری باری ذکر کرتا ہے۔ اوّل ۷۰ء میں یروشلیم کی بربادی۔ دوم،‏ وہ حالات جو اُس کی دوسری آمد سے فوراً پہلے ہوں گے۔ یہاں ہمیں پیش گوئی کی دوہری تکمیل کا اصول نظر آتا ہے۔ خداوند کی پیش گوئیاں مستقبل قریب میں جزوی طور پر اور مستقبل بعید میں پورے طور پر پوری ہونے کو تھیں۔ جزوی تکمیل یہ تھی کہ جرنیل ططس نے یروشلیم کا محاصرہ کیا اور اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مزید اور کُلی تکمیل بڑی مصیبت کے ایام کے آخر میں ہو گی۔

اِس پوری گفتگو کا خاکہ مندرجہ ذیل معلوم ہوتا ہے:‏

  1. یسوع نے یروشلیم کی بربادی کی پیش گوئی کی  (‏آیات ۵،‏۶) ‏۔
  2. شاگردوں نے پوچھا کہ یہ کب ہو گا  (‏آیت ۷) ‏۔
  3. یسوع نے پہلے اپنی دوسری آمد سے فوراً پہلے ہونے والے واقعات کی عام تصویر پیش کی  (‏آیات ۸-‏۱۱) ‏۔
  4. اِس کے بعد یروشلیم کے زوال اور اُس کے بعد کے زمانے کی تصویر پیش کی۔  (‏آیات ۱۲-‏۲۴) ‏
  5. آخر میں اُن نشانوں کا ذکر کیا جو اُس کی دوسری آمد کے قریب رُونما ہوں گے۔ اور اپنے پیروکاروں کو تاکید کی کہ اُس کی دوسری آمد کے منتظر رہیں  (‏آیات ۲۵،‏۲۶) ‏۔

۲۱:‏۵،‏۶ جب بعض لوگ ہیرودیس کی تعمیر کردہ ہیکل کی شان و شوکت کی تعریف کر رہے تھے تو یسوع نے اُنہیں خبردار کیا کہ مادی چیزوں کے خیال میں نہ رہیں کیونکہ یہ بہت جلد فنا ہو جائیں گی۔ «وہ دن آئیں گے» جب ہیکل بالکل برباد کر دی جائے گی۔

۲۱:‏۷ شاگردوں کو ایک دم تجسس ہوا کہ «یہ باتیں کب ہوں گی۔» اور «اُس وقت کا کیا نشان ہے؟» بے شک اُن کے سوال کا تعلق صرف یروشلیم کی تباہی و بربادی سے تھا۔

۲۱:‏۸-‏۱۱ نجات دہندہ کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تو وہ اُنہیں زمانے کے آخری ایام کی طرف لے گیا جب اُس کی بادشاہی کے قیام سے فوراً پہلے ہیکل پھر برباد کی جائے گی۔ جھوٹے مسیحِ موعود اُٹھ کھڑے ہوں گے اور جھوٹی افواہیں پھیلیں گی۔ «لڑائیوں اور فسادوں» کی خبریں اُڑیں گی۔ نہ صرف قوموں کے درمیان لڑائیاں ہوں گی بلکہ بڑی بڑی قدرتی آفات بھی رُونما ہوں گی۔ مثلاً «بھونچال… کال اور مری… آسمان پر بڑی بڑی دہشت ناک باتیں اور نشانیاں۔»

ل۔ خاتمے سے فوراً پہلے کا دَور  (‏۲۱:‏۱۲-‏۱۹) ‏

۲۱:‏۱۲-‏۱۵ گذشتہ حصے میں یسوع نے اُن واقعات کا بیان کیا تھا جو زمانے کے خاتمے سے فوراً پہلے رُونما ہونے کو ہیں۔ آیت ۱۲ کا آغاز اِن الفاظ سے ہوتا ہے کہ «لیکن اِن سب باتوں سے پہلے…» چنانچہ ہم مانتے ہیں کہ آیات ۱۲-‏۲۴ اُس دَور کا بیان کرتی ہیں جو اِس گفتگو اور بڑی مصیبت کے ایام کا درمیانی عرصہ ہے۔ اُس کے شاگردوں کو پکڑا جائے گا،‏ ستایا جائے گا،‏ مذہبی اور دیوانی عدالتوں میں اُن پر مقدمے چلائے جائیں گے اور اُنہیں قید میں ڈالا جائے گا۔ اُن کو یہ سب کچھ ناکامی اور المیہ معلوم ہو گا مگر دراصل خداوند غالب رہے گا اور اُس کو شاگردوں کے لئے گواہی دینے کا موقع بنا دے گا۔ اِس لئے اُنہیں ضرورت نہیں کہ پہلے سے اپنے دفاع کی تیاری کریں۔ بحران کی گھڑی میں خدا اُن کو خاص حکمت عطا کرے گا تاکہ ایسی باتیں کہہ سکیں جن سے اُن کے مخالف اُن کا ہرگز مقابلہ نہ کر سکیں گے۔

۲۱:‏۱۶-‏۱۸ خاندانوں کے اندر ایک دوسرے کے خلاف دغابازی ہو گی۔ غیر نجات یافتہ رِشتہ دار ایمان داروں کو دھوکے سے پکڑوا دیں گے۔ «بلکہ… بعض کو مروا ڈالیں گے» کیونکہ وہ مسیح کی خاطر ثابت قدم ہوں گے۔ بظاہر آیت ۱۶ کے اِن الفاظ «تم میں سے بعض کو مروا ڈالیں گے» اور آیت ۱۸ کے اِن الفاظ میں کہ «لیکن تمہارے سر کا ایک بال بھی بیکا نہ ہو گا» تضاد پایا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ جہاں بعض ایمان دار مسیح کی خاطر شہید ہوں گے وہاں اُن کا روحانی تحفظ اور بقا مکمل ہو گا۔ وہ مارے جائیں گے لیکن فنا نہیں ہوں گے۔

۲۱:‏۱۹ یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ جتنے لوگ مسیح کی خاطر صبر سے برداشت کریں گے اور اُس کا اِنکار نہیں کریں گے،‏ وہ اِس طرح اپنے ایمان کی حقیقت کا ثبوت دیں گے۔ جن لوگوں نے حقیقت میں نجات پائی ہے،‏ وہ ہر قیمت پر سچے اور وفادار رہیں گے۔ اِسی لئے کہا گیا ہے کہ «اپنے صبر سے تم اپنی جانیں بچائے رکھو گے۔»

م۔ یروشلیم کا حشر  (‏۲۱:‏۲۰-‏۲۴) ‏

اب خداوند واضح طور سے یروشلیم کی تباہی کے موضوع پر بات کرتا ہے۔ یہ پیش گوئی ۷۰ء میں پوری ہوئی۔ اِس شہر کے اُجڑنے کی نشانی یہ ہے کہ رومی فوجیں اُس کو گھیر لیں گی۔

«اِبتدائی دَور یعنی ۷۰ء کے مسیحیوں کے پاس یروشلیم کی بربادی اور خوبصورت سنگ ِ مرمر کی ہیکل کے مسمار کئے جانے کا خاص نشان موجود تھا کہ ’پھر جب تم یروشلیم کو فوجوں سے گھرا ہوا دیکھو تو جان لینا کہ اُس کا اُجڑ جانا نزدیک ہے۔‘ یہ یروشلیم کی بربادی کا حتمی نشان تھا اور اِس نشان کو دیکھتے ہی اُن کو بھاگنا تھا۔ بے ایمان لوگ یہ دلیل دے سکتے تھے کہ جب باہر فوجیں محاصرہ کئے ہوئے ہیں تو فرار ہونا ممکن نہیں،‏ مگر خدا کا کلام کبھی غلط ثابت نہیں ہوتا۔ رومی جرنیل نے تھوڑے عرصے کے لئے فوجیں ہٹا لیں تھیں۔ یوں ایمان دار یہودیوں کو بھاگ نکلنے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ وہ اِس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے فرار ہو کر پیلا  (‏Pella) ‏ نامی ایک جگہ چلے گئے تھے۔ وہاں وہ محفوظ رہے۔»

شہر میں دوبارہ داخل ہونے کی ہر کوشش مہلک ہوتی۔ شہر کو اِسی لئے سزا ملنے والی تھی کہ اُس نے ابنِ آدم کو ردّ کر دیا تھا۔ حاملہ عورتوں اور دودھ پلاتی ہوئی ماؤں کو خاص مشکل ہو گی کیونکہ اِسرائیل کے «ملک» اور یہودی «قوم» پر خدا کے غضب کے ایام میں اُن کو بھاگ نکلنے میں رُکاوٹ ہو گی۔ بہت سے لوگ قتل ہو جائیں گے جو باقی بچیں گے اُن کو اسیر کر کے دوسرے مُلکوں میں لے جائیں گے۔

آیت ۲۴ کا آخری حصہ نہایت قابلِ غور نبوت ہے کہ یروشلیم کا قدیم شہر «غیر قوموں کی میعاد پوری» ہونے تک «غیر قوموں سے پامال ہوتی رہے گی۔»  (‏پاک کلام میں «شہر» کو مونث پکارا گیا ہے) ‏۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ مختصر وقفوں کے لئے اِس پر یہودیوں کا قبضہ نہیں ہو سکتا۔ خیال یہ ہے کہ شہر پر غیر قوموں کی یلغار اور عمل دخل اُس وقت تک جاری رہے گا «جب تک غیر قوموں کی میعاد پوری نہ ہو۔»

نیا عہد نامہ غیر قوموں کی «دولت»،‏ غیر قوموں کا «پوری پوری داخل ہونا» اور غیر قوموں کی «میعاد» میں اِمتیاز کرتا ہے۔

  1. غیر قوموں کی «دولت»  (‏رومیوں ۱۱:‏۱۲) ‏ سے مراد اعزاز اور وقار کا وہ مقام ہے جو غیر قوموں کو موجودہ دَور میں حاصل ہے جب کہ بنی اِسرائیل کو خدا نے وقتی طور پر ایک طرف کر دیا ہے۔
  2. غیر قوموں کا «پوری پوری داخل ہونا»  (‏رومیوں ۱۱:‏۲۵) ‏ سے مراد فضائی اِستقبال کا وقت ہے،‏ جب مسیح کی غیر قوم دُلھن کامل ہو جائے گی اور زمین پر سے اُٹھائی جائے گی اور خدا اِسرائیل سے معاملہ کرنے کا دوبارہ آغاز کرے گا۔
  3. غیر قوموں کی «میعاد»  (‏لوقا ۲۱:‏۲۴) ‏ کا آغاز دراصل ۵۲۱ ق م میں بابل کی اسیری سے ہوا تھا اور اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک غیر قوموں کو یروشلیم پر کوئی اِختیار یا قبضہ نہیں رہے گا۔

جب یسوع نے یہ الفاظ کہے تھے،‏ تب سے لے کر صدیوں تک یروشلیم پر اکثر و بیشتر غیر قوم قوتوں کو کنٹرول رہا ہے۔ شہنشاہ یولیان  (‏Julian) ‏ مرتد  (۱‏۳۳ء تا ۳۶۳ء نے کوشش کی کہ خداوند کی اِس نبوت کو غلط ثابت کر کے مسیحیت کو بدنام کرے۔ اِس لئے اُس نے یہودیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ ہیکل کو دوبارہ تعمیر کریں۔ اُنہوں نے بڑے شوق اور جذبے سے کام شروع کیا۔ اِس منصوبے میں اُن کے اسراف کی یہ حد تھی کہ مٹی کھودنے کے لئے چاندی کے بیلچے اور مٹی اُٹھانے کے لئے ارغوانی دوپٹے استعمال کرتے تھے۔ لیکن بھونچال اور زمین سے نکلنے والے آگ کے گولوں نے رُکاوٹ ڈال دی اور اُنہیں یہ منصوبہ ترک کرنا پڑا۔

ن۔ دوسری آمد  (‏۲۱:‏۲۵-‏۲۸) ‏

اِن آیات میں فطرت کی اُس ہلچل،‏ اُتار چڑھاؤ اور طغیانِ عظیم کا بیان ہے جو مسیح کی دوسری آمد سے فوراً پہلے زمین پر برپا ہوں گے۔ «سورج اور چاند اور ستاروں» میں زبردست ہلچل ہو گی جو زمین سے نظر آئے گی۔ اجرامِ فلک اپنے اپنے مدار سے ہٹ جائیں گے۔ ممکن ہے کہ اِس سے زمین اپنے محور سے ہٹ جائے گی۔ بڑی بڑی سمندری لہریں خشکی پر کی چیزوں کو بہا لے جائیں گی۔ اِس لئے بنی نوعِ اِنسان پر دہشت طاری ہو جائے گی۔ مگر خدا پرستوں کے لئے اُمید ہے۔

«اُس وقت لوگ ابنِ آدم کو قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ بادل میں آتے دیکھیں گے۔ اور جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہو کر سر اُٹھانا۔ اِس لئے کہ تمہاری مخلصی نزدیک ہو گی۔»

س۔ انجیر کا درخت اور سب درخت  (‏۲۱:‏۲۹-‏۳۳) ‏

۲۱:‏۲۹-‏۳۱ خداوند کی دوسری آمد کے قریب ہونے کا ایک اَور نشان «اِنجیر کے درخت اور سب درختوں… میں کونپلیں نکلنا» ہے۔ یہ اِسرائیلی قوم کی بہت موزوں تصویر ہے یعنی آخری دِنوں میں وہ نئی زندگی کا ثبوت دینے لگے گی۔ اِسرائیلی قوم کا صدیوں تک پراگندہ اور گمنام ہونے کے بعد ۱۹۴۸ء میں اِسرائیلی مملکت کا دوبارہ قیام بغیر اہمیت کے نہیں ہے۔ یہاں تک کہ آج اِس کو قوموں کے خاندان کا ایک باقاعدہ رُکن تسلیم کیا جاتا ہے۔

دوسرے درختوں میں کونپلیں نکلنا اِس بات کی علامت ہے کہ دُنیا کی نئی ترقی یافتہ مملکتوں میں قوم پرستی میں حیرت انگیز ترقی ہو گی اور اِن میں بہت سی نئی حکومتیں اُبھر آئیں گی۔ اِن نشانوں کا مطلب یہ ہو گا کہ مسیح کی جلالی بادشاہی بہت جلد قائم ہو جائے گی۔

۲۱:‏۳۲ یسوع نے کہا کہ «جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہو گی۔» مگر «یہ نسل» سے خداوند کی کیا مراد تھی؟

  1. بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اِس کا مطلب وہ نسل ہے جو اُس وقت موجود تھی جب خداوند نے یہ باتیں کہیں۔ اور یہ ساری باتیں یروشلیم کی بربادی میں پوری ہو گئیں۔ مگر ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ خداوند اُس وقت قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ بادل میں واپس نہیں آیا تھا۔
  2. کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ «یہ نسل» سے مراد وہ لوگ ہیں جو اُس وقت موجود ہوں گے جب یہ نشان واقع ہونے شروع ہوں گے۔ اور جو لوگ اِن واقعات کے آغاز میں موجود ہوں گے،‏ وہ مسیح کی دوسری آمد دیکھنے کو زندہ رہیں گے۔ نبوت کے سارے واقعات ایک نسل میں پورے ہو جائیں گے۔ یہ ایک ممکن تشریح ہے۔
  3. ایک اَور اِمکان یہ ہے کہ «یہ نسل» سے مراد مسیح کو رَدّ کرنے والی یہودی قوم ہو۔ خداوند کہہ رہا تھا کہ یہودی نسل برقرار رہے گی۔ پراگندہ ہو گی لیکن تباہ نہیں ہو گی اور اِن ساری صدیوں میں میرے متعلق اُن کے رویے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ شاید نمبر ۲ اور نمبر ۳ دونوں درست ہیں۔

۲۱:‏۳۳ یہ ستاروں والا آسمان «ٹل جائے» گا۔ زمین بھی اپنی موجودہ صورت میں قائم نہ رہے گی۔ یہ بھی ٹل جائے گی،‏ مگر خداوند کی یہ پیش گوئیاں «ہرگز نہ ٹلیں گی» بلکہ یقینا پوری ہوں گی۔

ع۔ جاگتے اور دعا مانگتے رہنے کی تاکید  (‏۲۱:‏۳۴-‏۳۸) ‏

۲۱:‏۳۴،‏۳۵ اِس سارے عرصے میں اُس کے شاگردوں کو ہوشیار رہنا اور دھیان رکھنا ہو گا کہ کھانے پینے اور دُنیاداری کی فکروں میں ایسے نہ کھو جائیں کہ اُس کی آمد اُن پر ناگہاں یعنی غیر متوقع آ پڑے۔ جو لوگ اِس زمین کو اپنی مستقل سکونت گاہ سمجھتے ہیں،‏ اُن سب پر یہ وقت «اِسی طرح آ پڑے گا۔» یعنی اُن کے لئے مسیح کی دوسری آمد ناگہاں ہو گی۔

۲۱:‏۳۶ سچے شاگردوں کے لئے ضرور ہے کہ «ہر وقت جاگتے اور دعا کرتے» رہیں۔ اِس طرح خود کو بے خدا دُنیا سے الگ رکھیں کیونکہ بے دین دُنیا کے لئے خدا کا غضب مقرر ہو چکا ہے۔ شاگردوں کے لئے لازم ہے کہ اُن کے ساتھ ہوں جن کو «ابنِ آدم کے حضور کھڑے ہونے کا مقدور» ہے،‏ یعنی وہ جو ابنِ آدم کے حضور مقبول ہوں گے۔

۲۱:‏۳۷،‏۳۸ خداوند ہر روز ہیکل کے صحنوں میں «تعلیم دیتا تھا۔» مگر رات زیتون کے پہاڑ پر بسر کرتا تھا۔ وہ اپنی ہی خلق کردہ دُنیا میں بے گھر تھا۔ «اور صبح سویرے سب لوگ اُس کی باتیں سننے کو» دوبارہ اُس کے گرد آ جمع ہوتے تھے۔

مقدس کتاب

۱- اِن باتوں کے بعد خُداوند نے ستّر آدمی اَور مُقرّر کِئے اور جِس جِس شہر اور جگہ کو خُود جانے والا تھا وہاں اُنہیں دو دو کر کے اپنے آگے بھیجا۔
۲- اور وہ اُن سے کہنے لگا کہ فصل تو بُہت ہے لیکن مزدُور تھوڑے ہیں اِس لِئے فصل کے مالِک کی مِنّت کرو کہ اپنی فصل کاٹنے کے لِئے مزدُور بھیجے۔
۳- جاؤ۔ دیکھو مَیں تُم کو گویا برّوں کو بھیڑیوں کے بِیچ میں بھیجتا ہُوں۔
۴- نہ بٹوا لے جاؤ نہ جھولی نہ جُوتِیاں اور نہ راہ میں کِسی کو سلام کرو۔
۵- اور جِس گھر میں داخِل ہو پہلے کہو کہ اِس گھر کی سلامتی ہو۔
۶- اگر وہاں کوئی سلامتی کا فرزند ہو گا تو تُمہارا سلام اُس پر ٹھہرے گا نہیں تو تُم پر لَوٹ آئے گا۔
۷-اُسی گھر میں رہو اور جو کُچھ اُن سے مِلے کھاؤ پِیو کیونکہ مزدُور اپنی مزدُوری کا حق دار ہے۔ گھر گھر نہ پِھرو۔
۸- اور جِس شہر میں داخِل ہو اور وہاں کے لوگ تُمہیں قبُول کریں تو جو کُچھ تُمہارے سامنے رکھّا جائے کھاؤ۔
۹- اور وہاں کے بِیماروں کو اچھّا کرو اور اُن سے کہو کہ خُدا کی بادشاہی تُمہارے نزدِیک آ پہنچی ہے۔
۱۰- لیکن جِس شہر میں داخِل ہو اور وہاں کے لوگ تُمہیں قبُول نہ کریں تو اُس کے بازاروں میں جا کر کہو کہ
۱۱- ہم اِس گَرد کو بھی جو تُمہارے شہر سے ہمارے پاؤں میں لگی ہے تُمہارے سامنے جھاڑے دیتے ہیں مگر یہ جان لو کہ خُدا کی بادشاہی نزدِیک آ پہنچی ہے۔
۱۲- مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُس دِن سدُوؔم کا حال اُس شہر کے حال سے زِیادہ برداشت کے لائِق ہو گا۔
۱۳- اَے خُرازِؔین تُجھ پر افسوس! اَے بَیت صَیدا تُجھ پر افسوس! کیونکہ جو مُعجِزے تُم میں ظاہِر ہُوئے اگر صُور اور صَیدا میں ظاہِر ہوتے تو وہ ٹاٹ اوڑھ کر اور خاک میں بَیٹھ کر کب کے تَوبہ کر لیتے۔
۱۴- مگر عدالت میں صُور اور صَیدا کا حال تُمہارے حال سے زِیادہ برداشت کے لائِق ہو گا۔
۱۵- اور اَے کَفرؔنحُوم کیا تُو آسمان تک بُلند کِیا جائے گا؟ نہیں بلکہ تُو عالمِ ارواح میں اُتارا جائے گا۔
۱۶- جو تُمہاری سُنتا ہے وہ میری سُنتا ہے اور جو تُمہیں نہیں مانتا وہ مُجھے نہیں مانتا اور جو مُجھے نہیں مانتا وہ میرے بھیجنے والے کو نہیں مانتا۔
۱۷- وہ سَتّر خُوش ہو کر پِھر آئے اور کہنے لگے اَے خُداوند تیرے نام سے بدرُوحیں بھی ہمارے تابِع ہیں۔
۱۸- اُس نے اُن سے کہا مَیں شَیطان کو بِجلی کی طرح آسمان سے گِرا ہُؤا دیکھ رہا تھا۔
۱۹- دیکھو مَیں نے تُم کو اِختیار دِیا کہ سانپوں اور بِچّھُوؤں کو کُچلو اور دُشمن کی ساری قُدرت پر غالِب آؤ اور تُم کو ہرگِز کِسی چِیز سے ضرر نہ پہنچے گا۔
۲۰- تَو بھی اِس سے خُوش نہ ہو کہ رُوحیں تُمہارے تابِع ہیں بلکہ اِس سے خُوش ہو کہ تُمہارے نام آسمان پر لِکھے ہُوئے ہیں۔
۲۱- اُسی گھڑی وہ رُوحُ القُدس سے خُوشی میں بھر گیا اور کہنے لگا اَے باپ آسمان اور زمِین کے خُداوند! مَیں تیری حمد کرتا ہُوں کہ تُو نے یہ باتیں داناؤں اور عقل مندوں سے چِھپائِیں اور بچّوں پر ظاہِر کِیں۔ ہاں اَے باپ کیونکہ اَیسا ہی تُجھے پسند آیا۔
۲۲- میرے باپ کی طرف سے سب کُچھ مُجھے سَونپا گیا اور کوئی نہیں جانتا کہ بیٹا کَون ہے سِوا باپ کے اور کوئی نہیں جانتا کہ باپ کَون ہے سِوا بیٹے کے اور اُس شخص کے جِس پر بیٹا اُسے ظاہِر کرنا چاہے۔
۲۳- اور شاگِردوں کی طرف مُتوجِّہ ہو کر خاص اُن ہی سے کہا مُبارک ہیں وہ آنکھیں جو یہ باتیں دیکھتی ہیں جِنہیں تُم دیکھتے ہو۔
۲۴- کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بُہت سے نبِیوں اور بادشاہوں نے چاہا کہ جو باتیں تُم دیکھتے ہو دیکھیں مگر نہ دیکِھیں اور جو باتیں تُم سُنتے ہو سُنیں مگر نہ سُنِیں۔
۲۵- اور دیکھو ایک عالِمِ شرع اُٹھا اور یہ کہہ کر اُس کی آزمایش کرنے لگا کہ اَے اُستاد! مَیں کیا کرُوں کہ ہمیشہ کی زِندگی کا وارِث بنُوں؟
۲۶- اُس نے اُس سے کہا تَورَیت میں کیا لِکھا ہے؟ تُو کِس طرح پڑھتا ہے؟
۲۷- اُس نے جواب میں کہا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے مُحبّت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر مُحبّت رکھ۔
۲۸- اُس نے اُس سے کہا تُو نے ٹِھیک جواب دِیا۔ یِہی کر تو تُو جِئے گا۔
۲۹- مگر اُس نے اپنے تئِیں راست باز ٹھہرانے کی غرض سے یِسُوعؔ سے پُوچھا پِھر میرا پڑوسی کَون ہے؟
۳۰- یِسُوعؔ نے جواب میں کہا کہ ایک آدمی یروشلِیم سے یریحُو کی طرف جا رہا تھا کہ ڈاکُوؤں میں گِھر گیا۔ اُنہوں نے اُس کے کپڑے اُتار لِئے اور مارا بھی اور ادھ مُؤا چھوڑ کر چلے گئے۔
۳۱- اِتفاقاً ایک کاہِن اُسی راہ سے جا رہا تھا اور اُسے دیکھ کر کَترا کر چلا گیا۔
۳۲- اِسی طرح ایک لاوی اُس جگہ آیا۔ وہ بھی اُسے دیکھ کر کترا کر چلا گیا۔
۳۳- لیکن ایک سامری سفر کرتے کرتے وہاں آ نِکلا اور اُسے دیکھ کر اُس نے ترس کھایا۔
۳۴- اور اُس کے پاس آ کر اُس کے زخموں کو تیل اور مَے لگا کر باندھا اور اپنے جانور پر سوار کر کے سرائے میں لے گیا اور اُس کی خبرگِیری کی۔
۳۵- دُوسرے دِن دو دِینار نِکال کر بھٹیارے کو دِئے اور کہا اِس کی خبرگِیری کرنا اور جو کُچھ اِس سے زِیادہ خرچ ہو گا مَیں پِھر آ کر تُجھے ادا کر دُوں گا۔
۳۶- اِن تِینوں میں سے اُس شخص کا جو ڈاکُوؤں میں گِھر گیا تھا تیری دانِست میں کَون پڑوسی ٹھہرا؟
۳۷- اُس نے کہا وہ جِس نے اُس پر رحم کِیا۔ یِسُوعؔ نے اُس سے کہا جا تُو بھی اَیسا ہی کر۔
۳۸- پِھر جب جا رہے تھے تو وہ ایک گاؤں میں داخِل ہُؤا اور مرتھا نام ایک عَورت نے اُسے اپنے گھر میں اُتارا۔
۳۹- اور مریمؔ نام اُس کی ایک بہن تھی۔ وہ یِسُوعؔ کے پاؤں کے پاس بَیٹھ کر اُس کا کلام سُن رہی تھی۔
۴۰- لیکن مرؔتھا خِدمت کرتے کرتے گھبرا گئی۔ پس اُس کے پاس آ کر کہنے لگی اَے خُداوند! کیا تُجھے خیال نہیں کہ میری بہن نے خِدمت کرنے کو مُجھے اکیلا چھوڑ دِیا ہے؟ پس اُسے فرما کہ میری مدد کرے۔
۴۱- خُداوند نے جواب میں اُس سے کہا مرتھا! مرتھا! تُو تو بُہت سی چِیزوں کی فِکر و تردُّد میں ہے۔
۴۲- لیکن ایک چِیز ضرُور ہے اور مریمؔ نے وہ اچّھا حِصّہ چُن لِیا ہے جو اُس سے چِھینا نہ جائے گا۔