۸۔ یروشلیم کو سفر کرتے ہوئے تعلیم دینا اور شفا بخشنا (ابواب ۱۲-۱۶)
الف۔ آگاہی اور حوصلہ افزائی (۱۲:۱-۱۲)
۱۲:۱ جب یسوع فریسیوں اور شرع کے عالموں کو ملامت کر رہا تھا تو «ہزاروں آدمیوں کی بھیڑ لگ گئی»۔ کہیں بحث یا مناظرہ ہو رہا ہو تو اکثر مجمع لگ جاتا ہے۔ لیکن یہاں بھیڑ اِس لئے بھی کھنچی چلی آ رہی تھی کہ یسوع بڑی بے خوفی سے ریاکار اور منافق مذہبی راہنماؤں کی فضیحت کر رہا تھا۔ اگرچہ گناہ کے بارے میں غیر مصالحانہ رویے کو عام طور پر پسند نہیں کیا جاتا، لیکن دل میں اِنسان اِسے راست جانتا اور پسند کرتا ہے۔ سچائی ہمیشہ اپنی تصدیق خود کرتی ہے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو خبردار کیا کہ «اُس خمیر سے ہوشیار رہنا جو فریسیوں کی ریاکاری ہے۔» اُس نے واضح کیا کہ خمیر «ریاکاری» کی علامت ہے۔ ریاکار وہ ہوتا ہے جس نے گویا نقاب اوڑھ رکھا ہو۔ وہ اندر سے کچھ ہوتا ہے، باہر سے بالکل کچھ اَور نظر آتا ہے۔ فریسی اپنے تئیں نیکی کی نظیر سمجھتے تھے حالانکہ وہ اوّل درجے کے بہروپئے تھے۔
۱۲:۲،۳ ایک دن آئے گا کہ وہ بے نقاب ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے جو کچھ ڈھانک رکھا تھا وہ سب کھل جائے گا۔ اور جو کچھ وہ «اندھیرے» میں کرتے تھے، وہ باہر «اُجالے» میں لا رکھا جائے گا۔
جیسے ریاکاری کا بے نقاب ہونا اٹل ہے، ویسے ہی سچائی کا فتح مند ہونا بھی اٹل ہے۔ اُس وقت تک شاگردوں نے جتنی منادی کی تھی، وہ مقابلتاً محدود اور گمنام سامعین کے سامنے ہوئی تھی۔ لیکن بنی اِسرائیل کی طرف سے مسیحِ موعود کے ردّ کئے جانے اور روح القدس کے نازل ہونے کے بعد شاگرد دلیری اور بے خوفی کے ساتھ خداوند یسوع کے نام میں نکلیں گے اور دُنیا میں دُور و نزدیک خوش خبری کی منادی کریں گے۔ اور اَب کے مقابلے میں گویا «کوٹھوں پر اُس کی منادی کی جائے گی۔» گوڈٹ کہتا ہے کہ «جن کی آواز سوائے محدود اور گمنام حلقوں کے کہیں سنی نہیں جاتی، وہ دُنیا کے اُستاد ہوں گے۔»
۱۲:۴،۵ «مگر تم دوستوں…» یہ کیسے حوصلہ افزا اور ہمت افزا الفاظ ہیں۔ اِن سے یسوع اپنے شاگردوں کو آگاہ کرتا ہے کہ مصیبتوں اور آزمائشوں کے درمیان بھی اُس کی اَنمول دوستی سے نہ شرمائیں۔ جب مسیحی پیغام کی منادی ساری دُنیا میں ہو گی تو نتیجے میں وفادار شاگردوں کو ظلم و ستم بلکہ موت کا سامنا کرنا ہو گا۔ لیکن فریسیوں جیسے آدمی شاگردوں کے ساتھ جو بُرے سے بُرا سلوک کر سکتے ہیں اُس کی بھی ایک حد ہے۔ وہ اُس سے نہ ڈریں۔ اُن پر ہونے والے ظلم و ستم کے بدلے خدا ظالموں کو اِس سے بھی بدتر سزا دے گا، یعنی جہنم میں اَبدی موت — اِس لئے ضرور ہے کہ شاگرد اِنسان سے نہیں بلکہ خدا سے ڈریں۔
۱۲:۶،۷ خدا شاگردوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ اِس حقیقت پر زور دینے کے لئے خداوند یسوع بیان کرتا ہے کہ آسمانی باپ کو چڑیوں تک کی فکر ہے۔ متی ۱۰:۲۹ میں بیان ہوا ہے کہ پیسے کی دو چڑیاں بکتی ہیں جب یہاں درج ہے کہ «کیا دو پیسے کی پانچ چڑیاں نہیں بِکتیں؟» دوسرے لفظوں میں جب چار چڑیاں خریدی جائیں تو ایک چڑیا مفت میں مل جاتی ہے۔ تجارتی لحاظ سے یہ چڑیا فالتو ہے۔ اِس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ مگر «خدا کے حضور» یہ فالتو چڑیا بھی «فراموش نہیں ہوتی۔» اگر خدا اِس چڑیا کی اِتنی فکر کرتا ہے تو اُن اِنسانوں کی کہیں زیادہ فکر کیوں نہ کرے گا جو اُس کے بیٹے کی خوش خبری کو لے کر دُنیا بھر میں جاتے ہیں۔ اُس نے تو اُن کے «سر کے سب بال بھی گنے ہوئے ہیں۔»
۱۲:۸ نجات دہندہ نے شاگردوں کو بتایا کہ «جو کوئی آدمیوں کے سامنے میرا اِقرار کرے» مَیں «بھی خدا کے فرشتوں کے سامنے اُس کا اِقرار» کروں گا۔ یہاں یسوع سارے ایمان داروں کی بات کر رہا ہے۔ اُس کا اِقرار کرنے کا مطلب ہے اُسے خداوند اور نجات دہندہ قبول کرنا۔
۱۲:۹ «جو آدمیوں کے سامنے میرا اِنکار کرے خدا کے فرشتوں کے سامنے اُس کا اِنکار کیا جائے گا۔» یہاں خاص اِشارہ فریسیوں کی طرف ہے۔ مگر بے شک وہ سب بھی شامل ہیں جو مسیح کا اِنکار کرتے اور اُس کو ماننے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ اُس روز وہ کہے گا «میری تم سے کبھی واقفیت نہ تھی۔»
۱۲:۱۰ اِس کے بعد نجات دہندہ نے شاگردوں کو سمجھایا کہ مجھ پر تنقید کرنے اور «روح القدس کے حق میں کفر بکنے» میں فرق ہے۔ جو لوگ «ابنِ آدم کے خلاف» بولتے ہیں، اگر وہ توبہ کریں اور ایمان لائیں تو اُن کو «معاف کیا جائے گا» لیکن «روح القدس کے حق میں کفر بکنے» میں فرق ہے۔ جو لوگ «ابنِ آدم کے خلاف» بولتے ہیں، اگر وہ توبہ کریں اور ایمان لائیں تو اُن کو «معاف کیا جائے گا»۔ لیکن «روح القدس کے حق میں کفر» ناقابلِ معافی گناہ ہے۔ یہی وہ گناہ ہے فریسی جس کے مرتکب تھے (دیکھئے متی ۱۲:۲۲-۲۳) ۔ یہ گناہ ہے کیا؟ یہ گناہ ہے خداوند یسوع کے معجزوں کو ابلیس سے منسوب کرنا۔ یہ «روح القدس کے حق میں کفر» اِس لئے ہے کیونکہ یسوع نے سارے معجزے روح القدس کی قدرت میں کئے۔ اِس لئے یہ کہنا اِس کے مترادف ہے کہ خدا کا روح القدس ابلیس ہے۔ اِس گناہ کی معافی نہ تو اِس جہان میں ہے نہ اگلے جہان میں۔
یہ گناہ کسی سچے ایمان دار سے سرزد نہیں ہو سکتا حالانکہ خداوند کے کئی لوگ اِس خیال سے ہراساں ہیں کہ ٹھنڈے پڑنے سے اُن سے یہ ناقابلِ معافی گناہ ہو چکا ہے۔ خداوند کی محبت کا ٹھنڈا پڑ جانا ایسا گناہ نہیں جس کی معافی ناممکن ہے۔ ایسے شخص کی نجات دہندہ کے ساتھ رفاقت دوبارہ قائم ہو سکتی ہے۔ یہ حقیقت کہ کوئی کسی خطا کے بارے میں بے چین ہے بذاتِ خود اِس بات کا ثبوت ہے کہ اُس سے یہ گناہ سرزد نہیں ہوا۔
اگر کوئی غیر ایمان دار شخص مسیح کو ردّ کرتا ہے تو یہ بھی ناقابلِ معافی گناہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نجات دہندہ کو بار بار ٹھکراتا رہے اور کسی وقت خداوند کی طرف پھرے اور ایمان لے آئے۔ بے شک اگر وہ بھی بے ایمانی کی حالت میں مر جائے تو پھر کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا، ایمان نہیں لا سکتا۔ اِس صورت میں اُس کا گناہ ناقابلِ معافی رہتا ہے۔ لیکن جس گناہ کو ہمارے خداوند نے ناقابلِ معافی گناہ قرار دیا ہے، وہ گناہ ہے جس کے مرتکب فریسی یہ کہنے سے ہو رہے تھے کہ یسوع بدروحوں کے سردار بعل زبول کی مدد سے معجزے کرتا ہے۔
۱۲:۱۱،۱۲ یہ بات تو اٹل تھی کہ شاگردوں کو ایمان اور گواہی کے باعث موردِ الزام ٹھہرایا جائے گا۔ اور اُن کو «حاکموں اور اِختیار والوں کے پاس لے جائیں گے»۔ خداوند نے شاگردوں کو بتایا کہ پہلے ہی یہ سوچنے لگنا غیر ضروری ہے کہ «ہم کیا جواب دیں» گے، کیونکہ جب بھی ضرورت ہو گی روح القدس صحیح اور مناسب الفاظ اُن کے منہ میں ڈالے گا۔ اُس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مسیح کے خادم دعا میں وقت نہ گزاریں، اور خوش خبری کی منادی کرنے سے پہلے بائبل مقدس کا مطالعہ نہ کریں، یا خدا کے کلام پر غور و خوض نہ کریں۔ اِس وعدے کو سُستی اور کاہلی کا بہانہ نہ بنائیں۔ البتہ یہ خداوند کا حتمی وعدہ ہے کہ جن لوگوں کو مسیح کی گواہی کے باعث مقدموں میں پھنسایا جائے گا اور عدالتوں میں پیش کیا جاے گا، اُن کو روح القدس کی خاص مدد ملے گی۔ نیز خدا کے تمام لوگوں کے لئے عام وعدہ بھی ہے کہ اگر وہ روح میں چلیں گے تو زندگی کے بحرانی لمحات میں اُن کو مناسب الفاظ عطا کئے جائیں گے۔
ب۔ لالچ کے بارے میں تنبیہ (۱۲:۱۳-۲۱)
۱۲:۱۳ اُس وقت «بھیڑ میں سے ایک» شخص آگے بڑھ کر خداوند سے درخواست کرنے لگا کہ میرے بھائی اور میرے درمیان میراث کا جھگڑا طے کرا دے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ جہاں وصیت ہوتی ہے وہاں متعدد رِشتے دار اور وارث بھی ہوتے ہیں۔ یہی حال یہاں بھی نظر آتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اُس آدمی کو جائز حصے سے محروم کیا جا رہا تھا یا وہ خود اپنے حصے سے زیادہ ہتھیانے کی کوشش میں تھا۔
۱۲:۱۴ خداوند نے اُسے فوراً یاد دلایا کہ مَیں ایسے چھوٹے چھوٹے تنازعات حل کرنے کے لئے اِس دُنیا میں نہیں آیا۔ اُس کی آمد کا مقصد تو گناہ آلودہ اِنسانوں کی نجات ہے۔ اُسے معمولی وراثت کی تقسیم جیسے معاملات میں لگا کر اعلیٰ و جلالی مقصد سے ہٹایا نہیں جا سکتا تھا (علاوہ ازیں اُسے قانونی اِختیار بھی حاصل نہ تھا کہ جائیداد کے جھگڑوں کا فیصلہ کر سکتا۔ اگر کرتا بھی تو اُس کے فیصلے کو قانونی حیثیت حاصل نہ ہوتی) ۔
۱۲:۱۵ خداوند نے اِس موقعے سے فائدہ اُٹھا کر اپنے سامعین کو ایک ایسی بُرائی سے خبردار کیا جو ہر وقت گھات لگائے رہتی ہے۔ یہ بُرائی ہے لالچ۔ «اپنے آپ کو ہر طرح کے لالچ سے بچائے رکھو۔» مادی چیزوں کا لالچ یا حرص زندگی کی بڑی بُرائیوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایسی خواہش ہے جس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ بلکہ اِس کے باعث اِنسانی وجود کا اصل مقصد بھی غائب ہو جاتا ہے «کیونکہ کسی کی زندگی اُس کے مال کی کثرت پر موقوف نہیں۔» جے۔ آر۔ مِلّر (Miller) اِس سلسلے میں رقم طراز ہے کہ:
«یہ ایک سرخ جھنڈی ہے جو ہمارے خداوند نے لہرا رکھی ہے۔ لیکن اکثر و بیشتر اِنسان اِس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ مسیح نے مال و دولت کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔ لیکن کتنے ہیں جو مال و دولت سے ڈرتے ہیں؟ ہمارے زمانے میں لالچ اور حرص کو گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ اگر کوئی شخص چھٹے یا آٹھویں حکم کو توڑتا ہے تو اُس پر مجرم کا ٹھپا لگ جاتا ہے اور وہ شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ دسواں حکم توڑتا ہے تو اُسے حوصلہ مند کام سمجھا جاتا ہے۔ بائبل مقدس فرماتی ہے کہ «زر کی دوستی ہر قسم کی بُرائی کی ایک جڑ ہے» (۱۔تیمتھیس۶:۱۰) ۔ لیکن جو شخص بھی اِس کا حوالہ دیتا ہے، وہ لفظ «دوستی» پر بے انتہا زور دیتا ہے کہ زَر یا روپیہ بُری چیز نہیں۔ صرف اِس کی ’دوستی‘ بُرائی کی ایک ’زرخیز‘ جڑ ہے۔
جب ہم اپنے اِرد گرد نظر مارتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اِنسان کی زندگی کا دار و مدار واقعی ’اُس کے مال کی کثرت‘ پر موقوف ہے۔ اِنسان کا خیال ہے کہ میری اہمیت اور قدر میرے مال و دولت کی مناسبت سے ہے۔ اور ایسا لگتا بھی ہے کیونکہ دُنیا کسی اِنسان کو اُس کے بینک بیلنس سے ناپتی ہے۔ لیکن اِس سے زیادہ مہلک غلطی اَور کوئی نہیں۔ اِنسان کا صحیح پیمانہ یہ نہیں کہ اُس کے پاس کیا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کیا ہے۔»
۱۲:۱۶-۱۸ بے وقوف «دولت مند» کی تمثیل اِس حقیقت کی وضاحت کرتی ہے کہ مال و دولت اور جائیداد کی کثرت ہی زندگی میں سب سے اہم بات نہیں۔ فصل غیر معمولی طور پر عمدہ ہوئی جس کے باعث اُس دولت مند زمین دار کو ایک مسئلہ پیش آ گیا۔ اُس کی دانست میں یہ مسئلہ بڑا اور باعث ِآزار تھا۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اِتنے غلے کو کیسے سنبھالوں۔ اُس کا کیا کروں؟ اُس کی کوٹھیوں میں اِتنی گنجائش نہ تھی۔ اچانک اُسے ایک خیال آیا اور اُس کا مسئلہ حل ہو گیا۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ مَیں «اپنی کوٹھیاں ڈھا کر اُن سے بڑی بنواؤں گا۔» وہ اِتنے بڑے تعمیراتی منصوبے اور اُس پر اُٹھنے والے اخراجات سے بچ سکتا تھا، بشرط یہ کہ وہ اپنے اِرد گرد کی ضرورت مند اور محتاج دُنیا پر نظر ڈالتا اور اپنی دولت اور مال و متاع کو جسمانی اور روحانی بھوک مٹانے کے لئے استعمال کرتا۔ امبروس کا قول ہے کہ «غریبوں کی جھولیاں، بیواؤں کے گھر اور یتیموں کے منہ وہ کھتے اور کوٹھیاں ہیں جو ہمیشہ تک موجود رہتی ہیں۔»
۱۲:۱۹ وہ منصوبہ بنانے لگا کہ جونہی یہ کوٹھیاں تیار ہو جائیں گی، اناج اُن میں بھر جائے گا، تو مَیں مزید محنت مشقت کو خیر باد کہہ کر بافراغت زندگی بسر کروں گا۔ اُس کے رویے اور بے نیازی کی روح پر غور کریں۔ میرے کھتے، کوٹھیاں، میری فصلیں، میرا پھل، میرا مال، میرا اسباب، میری جان — اُس نے مستقبل کی منصوبہ بندی مکمل کر لی:«چین کر، کھا پی، خوش رہ۔»
۱۲:۲۰،۲۱ مگر جب وہ سوچنے لگا کہ وقت میرے کنٹرول میں ہے تو وہ خدا کے منصوبے کے ساتھ ٹکرا گیا اور اَبدی تباہی میں جا پڑا۔ اور خدا نے اُس سے کہا، «اِسی رات تیری جان تجھ سے طلب کر لی جائے گی۔» پھر ساری مادی چیزوں کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔ یہ تمام چیزیں کسی دوسرے کے قبضے میں چلی جائیں گی۔ کسی نے بے وقوف کی تعریف یوں کی ہے کہ بے وقوف وہ ہے جس کے منصوبے قبر پر ختم ہوتے ہیں۔ بے شک یہ آدمی بے وقوف تھا۔
خدا نے پوچھا «پس جو تُو نے تیار کیا ہے، وہ کس کا ہو گا؟» ہمیں بھی اپنے آپ سے یہی سوال پوچھنا چاہئے۔ «اگر مسیح آج آ جائے تو میرا سارا مال و متاع کس کا ہو گا؟» کتنا اچھا ہو کہ آج ہم اِسے خدا کے لئے استعمال کریں، بجائے اِس کے کہ کل وہ ابلیس کے ہاتھوں میں چلا جائے۔ اِس مال و متاع سے ہم آج آسمان میں «خزانہ» جمع کر سکتے اور «خدا کے نزدیک دولت مند» بن سکتے ہیں۔ یا ہم اِسے اپنے جسم پر بے دریغ خرچ کر سکتے اور جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹ سکتے ہیں۔
ج۔ فکر مندی بمقابلہ ایمان (۱۲:۲۲-۳۴)
۱۲:۲۲،۲۳ مسیحی زندگی میں ایک زبردست خطرہ یہ ہے کہ خوراک اور لباس کا حصول ہماری زندگی کا اوّلین مقصد بن جائے اور مادی چیزوں کی خاطر روپیہ پیسہ کمانے میں اِتنے مگن ہو جائیں کہ خداوند کا کام ثانوی درجے پر چلا جائے۔ نیا عہدنامہ اِس بات پر زور دیتا ہے کہ ہماری زندگیوں میں مسیح کے کام کو اوّلیت حاصل ہونی چاہئے۔ «خوراک» اور «پوشاک» کا درجہ بعد میں ہو، ہم اپنی روزمرہ ضروریات کی فراہمی کے لئے خوب محنت کریں، پھر مستقبل کے لئے خدا پر بھروسا کرتے ہوئے خود کو اُس کی خدمت میں لگا دیں۔ یہ ہے ایمان کی زندگی۔
جب خداوند یسوع نے کہا کہ یہ «فکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے اور…کیا پہنیں گے» تو اُس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے اِنتظار کرتے رہیں کہ چیزیں مہیا ہو جائیں گی۔ مسیحیت کسی صورت بھی سُستی اور کاہلی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی، خداوند کا مطلب یہ تھا کہ اپنی ضروریات کے لئے روپیہ پیسہ کماتے ہوئے ہم اِن کو غیر ضروری اور غیر واجب اہمیت نہ دیں، آخر زندگی میں کوئی چیز ایسی بھی ہے جو اِن چیزوں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ صرف کھانا پہننا ہی تو اہم نہیں۔ اِس دُنیا میں ہم بادشاہ کے ایلچی ہیں۔ ہمارا واحد اور جلالی فرض یہ ہے کہ لوگوں کو اُس کے بارے میں بتائیں کہ وہ اُس کو جان لیں۔ ہمارا ذاتی آرام و آسائش اور لباس و زیبائش اِس فرض کے تابع ہونی چاہئے۔
۱۲:۲۴ یسوع نے کوّوں کی مثال دی کہ خدا اپنی مخلوق کی کیسے فکر کرتا ہے۔ کوّے خوراک کی تلاش میں اور مستقبل کے لئے جمع کرنے کے پیچھے دیوانے نہیں ہوئے پھرتے۔ وہ ہر گھڑی خدا پر اِنحصار کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ «نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے…» اِس حقیقت کو کھینچ تان کر یہ تعلیم نہیں دینی چاہئے کہ ہمیں کوئی غیر مذہبی یا دُنیاوی پیشہ اِختیار ہی نہیں کرنا چاہئے۔ اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جن کو خدا نے پیدا کیا ہے، وہ اُن کی ضروریات سے بھی واقف ہے۔ اور اگر ہم اُس پر اِنحصار کریں گے تو وہ اُنہیں پوری بھی کرے گا۔ اگر خدا کوّوں کو کھلاتا ہے تو اُنہیں کیوں نہیں کھلائے گا جن کو اُس نے خلق کیا ہے، جن کو اُس نے اپنے فضل سے نجات بخشی ہے اور جن کو اُس نے اپنے خادم ہونے کے لئے بلایا ہے! کوّؤں کے پاس نہ کوٹھیاں ہوتی ہیں نہ کھتے، تو بھی خدا اُنہیں روز کی خوراک دیتا ہے۔ پھر ہم بڑی کوٹھیاں اور بڑے کھتے کیوں بنائیں؟
۱۲:۲۵،۲۶ یسوع نے پوچھا کہ «تم میں ایسا کون ہے جو فکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی بڑھا سکے؟» اِس سے واضح ہوتا ہے کہ چیزوں (مثلاً مستقبل) کے لئے فکر کرنا کیسی بے وقوفی ہے کیونکہ ہمیں اِن پر کچھ اِختیار نہیں۔ کوئی شخص نہیں «جو فکر کر کے» اپنا قد یا اپنی عمر بڑھا سکے (اصل زبان میں جو لفظ استعمال ہوئے ہیں اُن کا مطلب قد بڑھانا اور عمر بڑھانا دونوں ہو سکتے ہیں) بلکہ چاہئے کہ اپنی طاقت اور وقت دونوں کو مسیح کی خدمت اور عبادت کے لئے وقف کر دیں اور مستقبل کو اُس کے ہاتھوں میں دے دیں۔
۱۲:۲۷،۲۸ اِس کے بعد خداوند نے «سوسن کے درختوں» کی مثال دے کر ثابت کیا کہ اپنی صلاحیتوں کو «پوشاک» وغیرہ کے حصول میں صرف کرتے رہنا بے وقوفی ہے۔ «سوسن» سے مراد غالباً سرخ گُلِ لالہ ہے۔ «وہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں»، تو بھی اُن میں وہ قدرتی حسن و جاذبیت ہے کہ «سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے» اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ جب خدا جنگلی پھولوں پر جو آج ہیں اور کل تنور میں جھونک دیئے جاتے ہیں ایسی خوبصورتی نچھاور کرتا ہے تو کیا وہ اپنے فرزندوں کی ضروریات کی پروا نہیں کرے گا؟جب ہم فکر کرتے، پریشان ہوتے اور مادی چیزوں کی فراہمی اور حصول کے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں تو اپنی «کم اعتقادی» کا ثبوت دیتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی اُس کام میں ضائع کرتے رہتے ہیں جو خدا کر دیتا، بشرط یہ کہ ہم اپنا وقت اور صلاحیت اُس کے لئے وقف کر دیتے۔
۱۲:۲۹-۳۱ درحقیقت ہماری روزمرہ ضروریات تھوڑی اور معمولی ہیں۔ اگر غور کریں تو حیران رہ جائیں گے کہ ہم کس سادگی سے زندگی گزار سکتے ہیں۔ تو پھر زندگی میں خوراک اور پوشاک کو کیوں سر پر چڑھائے پھرتے ہیں؟کیوں «شکی» بنتے اور مستقبل کی فکر میں غلطان رہتے ہیں؟ اِس طرح تو غیر نجات یافتہ لوگ کرتے ہیں۔ «دُنیا کی قومیں» جو خدا کو باپ کے طور پر نہیں جانتی ہیں، وہ خوراک اور پوشاک اور دیگر لوازمات اور خوشیوں کی «تلاش میں… رہتی ہیں۔» یہ چیزیں اُن کے وجود کا مرکز و محور ہوتی ہیں۔ مگر خدا کبھی نہیں چاہتا کہ میرے فرزند حیوانی آسائشوں کے پیچھے پاگلوں کی طرح بھاگتے پھریں۔ اُس نے اِس دُنیا میں اُن کے لئے ایک خاص کام رکھا ہوا ہے، اور وعدہ کیا ہے کہ جو لوگ پورے دل سے اپنے آپ کو مجھے دے دیں گے، مَیں اُن کی پوری پوری فکر کر کے اُنہیں سنبھالوں گا۔ اگر ہم «اُس کی بادشاہی کی تلاش» میں رہیں تو وہ ہمیں کبھی بھوکا یا ننگا نہیں رہنے دے گا۔ کتنے افسوس کی بات ہو گی کہ زندگی کے سفر کے اِختتام پر پہنچ کر ہمیں احساس ہو کہ جن چیزوں کے پیچھے ہم دیوانہ وار بھاگتے رہے ہیں، وہ تو آسمانی گھر کو واپسی کے ٹکٹ میں پہلے ہی شامل تھیں۔
۱۲:۳۲ مسیح کے شاگرد بھیڑوں کے اُس «چھوٹے گلے» کی مانند ہیں جو اپنا بچاؤ نہیں کر سکتا۔ اور اُن کو دشمنی اور عناد سے بھری ہوئی دُنیا میں بھیجا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اُن کے پاس حفاظت، نگہداشت اور دفاع کے بظاہر کوئی وسائل نہ تھے۔ تو بھی یہ بے سہارا اور لُتھڑے ہوئے نوجوان ہی مسیح کے ساتھ بادشاہی کے وارث ہیں۔ وہ دن آتا ہے کہ وہ مسیح کے ساتھ ساری دُنیا پر بادشاہی کریں گے۔ اِن باتوں کے مدِنظر خداوند اُن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ «اے چھوٹے گلے نہ ڈر۔ کیونکہ تمہارے باپ کو پسند آیا کہ تمہیں بادشاہی دے۔» یہ جلالی اِعزاز تمہارا منتظر ہے۔ چنانچہ جو راستہ تمہارے سامنے ہے، اُس پر گھبرانے اور فکر کرنے کی کیا ضرورت!
۱۲:۳۳،۳۴ مادی چیزوں کے اَنبار لگانے اور مستقبل کے لئے منصوبے بنانے کے بجائے وہ اِن چیزوں کو خداوند کے کام کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس طرح وہ آسمان اور ابدیت کے لئے سرمایہ کاری کریں گے۔ گردشِ زمانہ، اور وقت کی تباہ کاریاں اِس سرمایہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ آسمان کے خزانے چوری اور ہر قسم کی خرابی کے خلاف پورے طور پر بیمہ شدہ ہیں۔ مادی دولت میں بڑی خرابی یہ ہے کہ جب پاس ہو تو اِس پر خواہ مخواہ بھروسا اور اعتماد کیا جاتا ہے۔ اِسی لئے خداوند یسوع مسیح نے فرمایا «جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دل بھی لگا رہے گا۔» اگر ہم اپنا روپیہ پیسہ اپنے آگے بھیج دیں گے تو اِس دُنیا کی فانی چیزوں سے ہماری محبت ختم ہو جائے گی۔
د۔ چوکس داروغے کی تمثیل (۱۲:۳۵-۴۰)
۱۲:۳۵ نہ صرف ضروری ہے کہ مسیح کے شاگرد اپنی ضروریات کے لئے اُس پر بھروسا رکھیں بلکہ اُس کی دوسری آمد کی راہ بھی دیکھتے رہیں۔ ضروری ہے کہ اُن کی «کمریں بندھی رہیں اور… چراغ جلتے رہیں۔» مشرقِ وسطیٰ میں لوگ لمبے لمبے چوغے پہنتے ہیں۔ جب کوئی شخص تیز چلنے یا دوڑنے کو تیار ہوتا ہے تو چوغے کو اُونچا کر کے کمر کے گرد پٹکا باندھ لیا جاتا ہے۔ چنانچہ بندھی ہوئی کمر پتا دیتی ہے کہ کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا عزم ہے۔ اور جلتا ہوا چراغ خوش خبری کی گواہی کو جاری رکھنے کی علامت ہے۔
۱۲:۳۶ شاگردوں کو زندگی اِس طرح بسر کرنی ہے کہ خداوند کسی لمحے بھی واپس آ سکتا ہے، جیسے کوئی شخص «شادی… سے لوٹتا» ہے۔ کیلی (Kelly) اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
«اُن کو ہر قسم کی دُنیاوی رُکاوٹ سے آزاد ہونا چاہئے تاکہ تمثیل کے مطابق جس لمحے بھی دروازہ کھٹکھٹایا جائے وہ فوراً اُس کے لئے کھول سکیں اور اُنہیں تیار ہونے کی طرف متوجہ نہ ہونا پڑے۔ اُن کے دل راہ دیکھتے ہوں کہ ہمارا خداوند کب آ رہا ہے۔ وہ اُس سے محبت رکھتے ہیں۔ اُس کے منتظر ہیں۔ وہ کھٹکھٹاتا ہے اور فوراً دروازہ کھول دیتے ہیں۔»
شادی سے لوٹنے والے مالک کے بارے میں تفاصیل کی لمبی چوڑی تشریح نہیں کرنی چاہئے، خصوصاً جہاں تک نبوتی مستقبل کا تعلق ہے۔ اِس تمثیل کی «شادی» کو «برّہ کی شادی کی ضیافت» کے ساتھ اور «مالک کی واپسی» کو «فضائی استقبال» کے ساتھ نہیں ملانا چاہئے۔ خداوند نے یہ تمثیل ایک سیدھی سی سچائی سکھانے کے لئے سنائی کہ اُس کی آمد کے لئے چوکس اور ہوشیار رہیں۔ اِس کا مقصد اُس کی آمدثانی کے واقعات کی ترتیب کو پیش کرنا نہیں تھا۔
۱۲:۳۷ جب مالک شادی سے لوٹتا ہے تو نوکر بڑے اِشتیاق سے اُس کی راہ دیکھ رہے اور اُس کے حکم پر دروازہ کھولنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ وہ اُن کی چوکسی اور ہوشیاری سے اِتنا خوش ہوتا ہے کہ تمام نقشہ ہی بدل دیتا ہے۔ وہ خادم کی طرح خود کمر باندھ لیتا اور «اُنہیں کھانا کھانے کو بٹھاتا» اور اُن کی خدمت کرتا ہے۔ یہاں ایک اثر انگیز سا اِشارہ ملتا ہے کہ وہ ہستی جو پہلے ایک خادم کی صورت میں اِس دُنیا میں آ گئی تھی، وہ بڑے فضل سے آسمانی گھر میں بھی اپنے لوگوں کی خدمت کو تیار ہو جائے گی۔ بائبل مقدس کا مشہور جرمن عالم Bengel آیت ۳۷ کو خدا کے کلام کا سب سے بڑا وعدہ قرار دیتا ہے۔
۱۲:۳۸ «دوسرا پہر» رات کے نو بجے سے آدھی رات تک۔ اور «تیسرا پہر» آدھی رات سے صبح تین بجے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔ مالک خواہ رات کے کسی پہر کے دوران بھی آ جائے، اُس کے نوکر ہر لمحہ اُس کے منتظر تھے۔
۱۲:۳۹،۴۰ اب خداوند ایک دوسرا رخ پیش کرتا ہے۔ وہ ایک ایسے گھر کا ذکر کرتا ہے کہ جب مالک چوکس نہیں تھا تو گھر میں نقب لگ گئی۔ چور کا آ جانا بالکل غیر متوقع تھا۔ «اگر گھر کے مالک کو معلوم ہوتا… تو… اپنے گھر میں نقب لگنے نہ دیتا۔» سبق یہ ہے کہ مسیح کی آمدِثانی کے وقت کا کوئی علم نہیں۔ کسی کو اُس دن یا اُس گھڑی کی خبر نہیں جب وہ ظاہر ہو گا، اور جب وہ آ جائے گا تو جن ایمان داروں نے اپنے خزانے زمین پر جمع کر رکھے ہیں وہ اُن کا نقصان اُٹھائیں گے کیونکہ جیسا کسی نے کہا ہے کہ «ایک مسیحی یا تو دولت چھوڑ جاتا ہے یا دولت کے پاس جا پہنچتا ہے۔» اگر ہم مسیح کی آمدثانی کے لئے واقعی چوکس ہیں تو ہم اپنا سب کچھ بیچ کر آسمان پر خزانہ جمع کریں گے جہاں کسی چور کی رسائی نہیں ہو سکتی۔
ہ۔ وفادار اور بے وفا نوکر (۱۲:۴۱-۴۸)
۱۲:۴۱،۴۲ اِس موقعے پر پطرس نے مسیح سے پوچھا کہ چوکس رہنے کے بارے میں تمثیل صرف شاگردوں کے لئے ہے یا «سب» لوگوں کے لئے۔ خداوند نے جواب دیا کہ یہ تمثیل اُن سب کے لئے ہے جو خدا کے مختار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ «دیانت دار اور عقل مند داروغہ» وہ مختار ہے جسے مالک کے گھرانے کا اِنتظام سونپا گیا ہے اور جو اُس کے افراد کو خوراک بانٹنے کا ذمہ دار ہے۔ یہاں مختار کی بڑی ذمہ داری کا تعلق «چیزوں» سے نہیں بلکہ «لوگوں» سے ہے۔ یہ بات پورے سیاق و سباق کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، جس میں شاگردوں کو مادہ پرستی اور لالچ سے خبردار کیا گیا ہے کیونکہ اہم اِنسان ہوتے ہیں، چیزیں نہیں۔
۱۲:۴۳،۴۴ جب خداوند آتا اور اپنے نوکر کو دیکھتا ہے کہ وہ مرد و زَن کی روحانی بہبود میں سچی دلچسپی لیتا ہے تو وہ اُسے فراخ دلی سے اَجر دے گا۔ غالباً اِس اَجر کا تعلق ہزار سالہ بادشاہی کے دوران مسیح کے ساتھ بادشاہی کرنے کے ساتھ ہے (۱۔پطرس ۵:۱-۴) ۔
۱۲:۴۵ یہ نوکر مسیح کے لئے کام کرنے کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر دراصل بے ایمان ہے، یعنی مسیح پر ایمان نہیں لایا۔ خدا کے لوگوں کو خوراک دینے کے بجائے وہ اُن پر ظلم و ستم کرنے لگتا ہے۔ اُن کو لُوٹتا اور خود عیش کی زندگی گزارتا ہے (ہو سکتا ہے یہاں اِشارہ فریسیوں کی طرف بھی ہو) ۔
۱۲:۴۶ خداوند کی آمد پر اُس کی حقیقت کھل جائے گی اور سارے «بے ایمانوں» کے ساتھ اُس کو بھی سزا ملے گی۔ جس ترکیب کا ترجمہ «خوب کوڑے لگا کر» کیا گیا ہے، اُس کا ترجمہ «دو ٹکڑوں میں کاٹ کر» بھی ہو سکتا ہے۔
۱۲:۴۷،۴۸ اِن آیات میں ہر قسم کی خدمت کے سلسلے میں ایک بنیادی اصول بیان کیا گیا ہے کہ جتنا بڑا اعزاز ہوتا ہے اُتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ ایمان داروں کے لئے اِس میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ آسمان میں اَجر کے درجات ہوں گے اور بے ایمانوں کے لئے یہ بات ہے کہ جہنم میں سزا کے درجات ہوں گے۔ جن لوگوں کو خدا کی مرضی معلوم ہو گئی ہے جیسی کہ پاک کلام میں منکشف کی گئی ہے، اُن پر اسے ماننے کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اُن کو «بہت سونپا گیا ہے» اِس لئے اُن سے «زیادہ طلب کریں۔» جن کو اِتنا بڑا اعزاز نہیں دیا گیا، اُن کو بھی اُن کے غلط کاموں کی سزا ملے گی، لیکن اُن کی سزا کم سخت ہو گی۔
و۔ مسیح کی پہلی آمد کے اثرات (۱۲:۴۹-۵۳)
۱۲:۴۹ خداوند یسوع کو معلوم تھا کہ میرے «زمین پر» آنے سے شروع ہی سے امن چین نہیں ہو گا۔ پہلے تو اُس کی وجہ سے تفرقے، جھگڑے، ایذارسانی اور خون خرابہ ہو گا۔ وہ «زمین پر آگ لگانے» کے برملا مقصد سے دُنیا میں نہیں آیا تھا لیکن اُس کے آنے کا نتیجہ یا اثر یہی ہوا۔ اگرچہ اُس کی زمینی خدمت کے دوران اِختلافات اور تکالیف پھوٹ پڑی تھیں، لیکن اِنسان کے دل کا صحیح اِنکشاف اُس وقت ہوا جب اُس کو صلیب پر چڑھایا گیا۔ خداوند جانتا تھا کہ اِن سب باتوں کا ہونا ضرور ہے اور وہ آمادہ تھا کہ میرے خلاف ایذا رسانی اور ظلم و ستم کی «آگ» جلد اور ضرور بھڑک اُٹھے۔
۱۲:۵۰ خداوند یسوع کو «ایک بپتسمہ لینا» تھا۔ اِس سے مراد کلوری پر موت کا «بپتسمہ» ہے۔ اُس پر سخت دباؤ تھا کہ صلیب پر چڑھ کر بنی نوعِ اِنسان کے فدیہ اور مخلصی کے کام کو پورا کرے۔ باپ کی مرضی تھی کہ وہ شرمندگی، دُکھ اور موت کو برداشت کرے، اور وہ باپ کی مرضی بجا لانے کا مشتاق تھا۔
۱۲:۵۱-۵۳ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ میری آمد سے «زمین پر صلح» نہیں ہو گی۔ چنانچہ اُس نے اپنے شاگردوں کو خبردار کیا کہ جب لوگ مجھ پر ایمان لائیں گے تو اُن کے اپنے خاندانوں کے افراد ہی اُن کو ظلم کا نشانہ بنائیں گے اور گھروں سے نکال دیں گے۔ پانچ افراد کے خاندان میں مسیحیت آئے گی تو خاندان دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ اِنسان کی بگڑی ہوئی فطرت کا ایک عجیب نشان یہ ہے کہ بے خدا رِشتہ دار شرابی اور بداخلاق بیٹے کو تو برداشت کر لیتے ہیں، لیکن یہ بات ہرگز گوارا نہیں کرتے کہ وہ علانیہ خداوند یسوع مسیح کا شاگرد بن جائے۔ یہ حوالہ اِس نظریے کو غلط ثابت کرتا ہے کہ یسوع بنی نوعِ اِنسان (خدا پرست اور بے خدا) کو متحد کرنے اور «اِنسانوں کی عالم گیر برادری» قائم کرنے آیا تھا بلکہ اُس نے تو اِنسانوں میں ایسی جدائی پیدا کر دی ہے کہ پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔
ز۔ خاص زمانے کے نشان (۱۲:۵۴-۵۹)
۱۲:۵۴،۵۵ گذشتہ آیات میں شاگردوں کو مخاطب کیا گیا تھا۔ اب نجات دہندہ «لوگوں سے» یعنی اُس بھیڑ سے مخاطب ہے جو اُس کے گرد جمع تھی۔ وہ اُن کو یاد دلاتا ہے کہ موسم کے بارے میں پیش گوئی کرنے میں تم بڑی مہارت رکھتے ہو۔ وہ جانتے تھے کہ جب «پچھم (مغرب) سے» (بحیرۂ روم سے) بادل اُٹھیں تو «مینہ برسے گا۔» اِس کے برعکس «دَکھنا» یعنی جنوب سے آنے والی ہوا جھلسا دینے والی گرمی اور خشکی لاتی ہے۔ لوگ اِن باتوں کا اِمتیاز کرنے کی عقل تو رکھتے تھے، لیکن…
۱۲:۵۶ روحانی باتوں کے سلسلے میں قصہ ہی اَور تھا۔ اگرچہ وہ عام اِنسانی عقل اور سمجھ تو رکھتے تھے، لیکن اُن کو اِس اہم «زمانے» کا کچھ اِمتیاز نہ تھا جو اِنسانی تاریخ میں شروع ہو چکا تھا۔ خدا کا بیٹا اِس زمین پر آ گیا تھا اور اُن کے عین بیچ میں کھڑا تھا۔ آسمان اِس سے پہلے کبھی اِتنا نزدیک نہیں آیا تھا۔ لیکن اُن کو خبر نہ تھی کہ ہمارے زمانے میں ملاقات کو کون آیا ہے۔ اُن میں جاننے کی صلاحیت تو تھی، نیت اور آمادگی نہ تھی۔ یوں اُنہوں نے اپنے آپ کو گمراہی میں مبتلا کر رکھا تھا۔
۱۲:۵۷-۵۹ اگر وہ اپنے زمانے کی اہمیت کو جانتے تو وہ «اپنے مُدَّعی» کے ساتھ «صلح» کرنے میں جلدی کرتے۔ یہاں چار قانونی اِصطلاحات استعمال ہوئی ہیں — مُدَّعی، حاکم، منصف، سپاہی — اور چاروں خدا کی طرف اِشارہ کر سکتی ہیں۔ اُن دِنوں خدا اُن کے درمیان آ جا رہا تھا۔ اُن سے التماس کر رہا تھا، اُن کو نجات پانے کا موقع دے رہا تھا۔ چاہئے تھا کہ وہ توبہ کرتے اور اُس پر اِعتماد کرتے۔ اگر اِنکار کرتے تو اُن کو منصف خدا کے سامنے کھڑا ہونا تھا۔ مقدمے کا فیصلہ یقینا اُن کے خلاف ہوتا۔ وہ مجرم پائے جاتے اور اپنی بے ایمانی کے باعث سزا پاتے اور «قید میں ڈالے» جاتے۔ مراد ہے ابدی سزا۔ اور «جب تک دَمڑی دَمڑی… ادا نہ کرتے وہاں سے ہرگز نہ چھوٹتے۔» اِس کا مطلب ہے کہ وہ وہاں سے کبھی نہیں نکل سکتے کیونکہ اِتنا بڑا قرض ادا کرنے کے لائق ہو ہی نہیں سکتے۔
چنانچہ یسوع اُن سے کہہ رہا تھا کہ اپنے زمانے کا اِمتیاز کرو۔ اُس کو پہچانو۔ اِس طرح وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے خدا کے ساتھ اپنا تعلق درست کر سکتے اور اپنے آپ کو کامل طور پر اُس کے سپرد کر کے اُس کے تابع فرمان ہو سکتے تھے۔
ح۔ توبہ کی اہمیت (۱۳:۱-۵)
۱۳:۱-۳ باب ۱۲ کا اِختتام اِن باتوں پر ہوتا ہے کہ یہودی قوم اپنے زمانے کا اِمتیاز کرنے میں ناکام رہی۔ خداوند نے خبردار کیا کہ جلدی توبہ کر لو، ورنہ ہمیشہ کی ہلاکت میں پڑو گے۔ باب ۱۳ میں یہ عام موضوع جاری رہتا ہے۔ اِس میں زیادہ تر یہودیوں کو بحیثیت قوم مخاطب کیا گیا ہے۔ البتہ بیان کردہ اصولوں کا اطلاق انفرادی طور پر بھی ہوتا ہے۔ جو گفتگو پیش کی گئی ہے، اِس کی بنیاد دو قومی آفات ہیں۔ پہلی آفت «اُن گلیلیوں» کا قتل تھا جو یروشلیم میں عبادت کرنے آئے تھے۔ یہودیہ کے گورنر پیلاطس نے اُن کے قتل کا حکم دیا اور اُن کو ذبیحے چڑھاتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔ اِس ظلم و جبر کے متعلق مزید معلومات حاصل نہیں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مظلوم یہودی تھے جو گلیل میں رہائش پذیر تھے۔ یروشلیم میں رہنے والے یہودی غالباً اِس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ «اُن گلیلیوں» نے ضرور ہولناک گناہ کئے ہوں گے، اور اُن کی موت ثبوت ہے کہ خدا اُن سے سخت ناراض تھا۔ اب خداوند یسوع نے اِس غلط فہمی کو دُور کرتے ہوئے یہودیوں کو خبردار کیا کہ «اگر تم توبہ نہ کرو گے تو سب اِسی طرح ہلاک ہو گے۔»
۱۳:۴،۵ دوسری آفت یہ تھی کہ «شیلوخ کا بُرج گرا» اور «اٹھارہ آدمی… دب کر مر گئے» تھے۔ اِس حادثے کے بارے میں بھی اَور کچھ معلوم نہیں۔ خوش قسمتی سے مزید تفاصیل کی ضرورت بھی نہیں۔ جس نکتے پر خداوند نے زور دیا یہ ہے کہ اِس المیے کی تشریح یہ نہ کی جائے کہ کسی بڑی شرارت پر یہ غضب نازل ہوا تھا۔ بلکہ ساری اِسرائیلی قوم کو اِسے آگاہی سمجھنا چاہئے کہ اگر ہم بھی توبہ نہیں کریں گے تو ایسے ہی حشر سے دوچار ہوں گے۔ اور یہ حشر ۷۰ء میں ہوا، جب ططس نے یروشلیم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
ط۔ انجیر کے بے پھل درخت کی تمثیل (۱۳:۶-۹)
مندرجہ بالا باتوں کے ساتھ قریبی تعلق کے حوالے سے خداوند یسوع نے ایک اِنجیر کے درخت کی تمثیل سنائی۔ صاف ظاہر ہے کہ «اِنجیر کا درخت» اِسرائیلی قوم ہے۔ یہ درخت خدا کے «تاکستان میں… لگا ہوا تھا۔» تاکستان سے مراد یہ دُنیا ہے۔ خدا نے اِس درخت میں «پھل ڈھونڈا، مگر نہ پایا۔» چنانچہ اُس نے «باغبان» (خداوند یسوع) سے کہا کہ «تین برس سے مَیں اِس انجیر کے درخت میں پھل ڈھونڈنے آتا ہوں۔» اِس کی سادہ ترین تشریح یہ ہے کہ یہ «تین برس» ہمارے خداوند کی زمینی خدمت کے پہلے تین برس ہیں۔ یہاں خیال یہ ہے کہ انجیر کے درخت کو کافی وقت دیا گیا کہ پھل لائے۔ اگر اِتنے عرصے میں پھل نہیں آیا تو یہ نتیجہ اخذ کرنا نہایت معقول معلوم ہوتا ہے کہ اب اُس پر کبھی پھل نہیں لگے گا۔ خدا نے حکم دیا کہ «اِسے کاٹ ڈال» تاکہ جس زمین کو یہ «روکے» ہوئے ہے، وہ زیادہ مفید اور پھل آور کام میں لائی جا سکے۔ باغبان نے درخت کی شفاعت کی کہ اِسے ایک برس اَور دیا جائے۔ اگر اِس مدت کے بعد بھی یہ بے پھل رہتا ہے تو اُسے «کاٹ ڈالنا۔» اور یہی ہوا مسیح خداوند کی خدمت کا چوتھا سال شروع ہو چکا تھا جب اِسرائیلی قوم نے اُسے ردّ کر کے صلیب پر چڑھا دیا۔ اِس کے نتیجے میں اُن کا صدر شہر یروشلیم تباہ ہوا اور لوگ پراگندہ ہو گئے۔
جی۔ ایچ۔ لینگ (Lang) اِس کا بیان یوں کرتا ہے کہ:
«خدا کا بیٹا تاکستان کے مالک یعنی اپنے باپ کی مرضی کو جانتا ہے، اور یہ بھی کہ خوف ناک حکم ’اِسے کاٹ ڈال‘ جاری ہو چکا ہے۔ اِسرائیلی قوم نے خدا کے صبر کا پیالہ لبریز کر دیا تھا۔ اگر کوئی قوم یا فرد خدا کے جلال اور تمجید کے لئے راست بازی کا پھل نہیں لاتا تو اُسے خدا کی حفاظت اور نگہداشت سے لطف اندوز ہونے کا کوئی حق نہیں۔ اِنسان کے وجود کا مقصد اپنے خالق کی عزت کرنا اور اُسے خوش کرنا ہے۔ اگر وہ اِس راست مقصد کو پورا نہیں کرتا تو اُس کی گناہ آلودہ بے پھلی کے باعث اُسے سزائے موت کیوں نہ دی جائے؟ اور اُسے اعزاز کی جگہ سے ہٹا کیوں نہ دیا جائے؟»
ی۔ کبڑی عورت کو شفا دینا (۱۳:۱۰-۱۷)
۱۳:۱۰-۱۳ عبادت خانے کے سردار کے رویے میں ہمیں خداوند یسوع کے بارے میں اِسرائیلی قوم کا اصل رویہ نظر آتا ہے۔ اُس عہدے دار نے اِس بات پر اعتراض کیا کہ نجات دہندہ نے ایک عورت کو سبت کے دن شفا دی ہے۔ یہ عورت اٹھارہ برس سے کبڑے پن کی تکلیف کا شکار تھی۔ اُس کی بدصورتی اور بے ڈول پن بہت سخت تھا۔ وہ «کسی طرح سیدھی نہ ہو سکتی تھی»۔ درخواست کے بغیر ہی خداوند نے شفا بھرے الفاظ کہے اور «اُس پر ہاتھ رکھے» اور اُس کو کُبڑے پن سے رہائی اور شفا بخشی۔
۱۳:۱۴ «عبادت خانہ کے سردار… خفا ہو کر» لوگوں سے کہنے لگا کہ ہفتہ کے «چھے دنوں» میں آ کر شفا پائیں، مگر ساتویں دن یعنی سبت کے دن ہرگز نہ آئیں۔ وہ ایک پیشہ ور مذہب پرست تھا۔ اُسے لوگوں کے مسائل و مصائب سے کوئی غرض نہ تھی۔ اگر وہ پہلے چھے دنوں میں بھی آتے تو وہ اُن کی کوئی مدد نہ کر سکتا۔ وہ شریعت کے تکنیکی نکات کا سختی سے پابند تھا، لیکن اُس کے دل میں محبت اور رحم نام کو نہیں تھا۔ اگر وہ خود اٹھارہ برس سے کبڑا ہوتا تو کبھی پروا نہ کرتا کہ مجھے کس دن شفا ہوتی ہے۔
۱۳:۱۵،۱۶ «خداوند» نے اُس کی اور دوسرے لیڈروں کی ریاکاری کی مذمت کی۔ اُس نے اُنہیں یاد دلایا کہ «تم… سبت کے دن اپنے بیل یا گدھے کو»کھول کر پانی پلانے کو لے جاتے ہوئے ذرا نہیں ہچکچاتے۔ اگر تم بے زبان حیوانوں سے سبت کے دن اِتنی مہربانی سے پیش آتے ہو، تو کیا میرے لئے مہربانی کا یہ کام کرنا غلط تھا کہ اِس عورت کو شفا دی جو «ابرہام کی بیٹی ہے»؟ «ابرہام کی بیٹی» کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ نہ صرف وہ یہودی تھی بلکہ ایمان دار بھی تھی۔ اُس کا کبڑا پن شیطان کا پیدا کردہ تھا۔ بائبل مقدس کے دیگر حصوں سے بھی ہمیں پتا چلتا ہے کہ بعض بیماریاں شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں۔ ایوب کو پھوڑے بھی ابلیس نے نکالے تھے۔ پولس کے بدن کا کانٹا بھی شیطان کا قاصد تھا تاکہ اُس کے مکے مارے۔ تاہم ابلیس کسی ایمان دار سے اُس وقت تک ایسا سلوک نہیں کر سکتا جب تک خداوند کی اِجازت نہ ہو۔ خدا اِس طرح کی بیماری اپنے جلال کے لئے استعمال کرتا ہے۔
۱۳:۱۷ خداوند کی بات سے اُس کے معترض اور «مخالف شرمندہ ہوئے۔» دوسرے لوگ «خوش ہوئے» کہ ایک «عالی شان» معجزہ اُن کے درمیان کیا گیا۔
ک۔ بادشاہی کے بارے میں تمثیلیں (۱۳:۱۸-۲۱)
۱۳:۱۸،۱۹ یہ حیرت افزا اور عالی شان معجزہ دیکھنے کے بعد لوگوں کو یہ سوچنے کی آزمائش آ سکتی تھی کہ بادشاہی ابھی اور اِسی وقت قائم کی جائے گی۔ خداوند نے اُن کی سوچ کو سیدھے رُخ موڑ دیا۔ اور اِس مقصد سے «خدا کی بادشاہی» کے بارے میں دو تمثیلیں سنائیں۔ یہ تمثیلیں بیان کرتی ہیں کہ بادشاہ کے ردّ کئے جانے اور بادشاہی کرنے کے لئے دوبارہ آنے کے درمیانی زمانے میں بادشاہی کی حالت کیا ہو گی۔ یہ مسیحیت کی ترقی اور نشر و اشاعت کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اِن میں محض زبانی اقرار اور حقیقت دونوں کا بیان ہے (۸:۱-۳ کی تفسیر ملاحظہ کریں) ۔
سب سے پہلے خداوند نے «خدا کی بادشاہی» کو «رائی کے دانہ» سے تشبیہ دی۔ یہ بیجوں میں بہت چھوٹا بیج ہوتا ہے۔ اِس کو بویا جائے تو جھاڑی سی اُگتی ہے، درخت نہیں ہوتا۔ اِس لئے جب یسوع نے کہا کہ «وہ اُگ کر بڑا درخت ہو گیا» تو اِس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ اُس کا بڑھنا غیر معمولی تھا۔ چنانچہ اِتنا بڑا ہو گیا کہ «ہوا کے پرندوں نے اُس کی ڈالیوں پر بسیرا کیا۔» یہاں خیال یہ ہے کہ مسیحیت کا آغاز بہت معمولی تھا۔ یہ «رائی کے دانے» کے اُگنے کی مانند تھا، مگر مسیحیت مقبول ہوتی گئی اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ کتنی وسیع اور ترقی یافتہ ہو چکی ہے۔ مسیحیت میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خداوند کے ساتھ وفاداری کا اِقرار کرتے ہیں۔ خواہ وہ نئے سرے سے پیدا ہوئے ہوں خواہ نہ ہوئے ہوں۔ «ہوا کے پرندوں» سے مراد گدھ یا دوسرے شکاری پرندے ہیں۔ وہ بدی کی علامت ہیں۔ اور اِس حقیقت کی تصویر پیش کرتے ہیں کہ مسیحیت میں کئی قسم کی بُرائیوں نے گھونسلے آ بنائے ہیں۔
۱۳:۲۰،۲۱ دوسری تمثیل میں «خدا کی بادشاہی» کو «خمیر» سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اِس خمیر کو «ایک عورت نے لے کر تین پیمانہ آٹے میں ملایا۔» ہم مانتے ہیں کہ «خمیر» پاک کلام میں ہمیشہ بُرائی کی علامت ہوتا ہے۔ یہاں خیال یہ ہے کہ خدا کی اُمت کی خالص اور پاک خوراک میں بُرا یا غلط عقیدہ شامل کر دیا گیا۔ یہ بُرا عقیدہ ساکن نہیں ہوتا بلکہ پھیلتا ہے۔
ل۔ بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے تنگ دروازہ (۱۳:۲۲-۳۰)
۱۳:۲۲،۲۳ یسوع «یروشلیم کا سفر کر رہا تھا» کہ بھیڑ میں سے «کسی شخص نے» آگے بڑھ کر اُس سے پوچھا کہ «کیا نجات پانے والے تھوڑے ہیں؟» ہو سکتا ہے یہ بے مقصد سا سوال ہو۔ محض تجسس کی خاطر پوچھا گیا ہو۔
۱۳:۲۴ خداوند نے اِس سوال کا جواب براہِ راست حکم سے دیا۔ اُس نے سوال کرنے والے سے کہا کہ «جاں فشانی کرو کہ تنگ دروازہ سے داخل ہو۔» بادشاہی میں اپنے داخلے کو یقینی بناؤ۔ «جاں فشانی کرنے» سے ہرگز مطلب یہ نہیں کہ نجات کا اِنحصار اِنسان کی اپنی کوشش پر ہے۔ یہاں «تنگ دروازہ» سے مراد نئی پیدائش ہے یعنی ایمان کے وسیلے سے فضل سے نجات — یسوع نے اُس کو آگاہ کیا کہ اِس دروازے سے داخل ہونے کو یقینی بنائے۔ «بہتیرے داخل ہونے کی کوشش کریں گے اور نہ ہو سکیں گے۔» کیونکہ دروازہ بند ہو جائے گا (اور دوبارہ نہیں کھلے گا) ۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایمان لانے یا تبدیل ہونے کے دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کریں گے بلکہ یہ کہ مسیح کی قدرت اور جلال کے دن وہ بادشاہی میں داخل ہونا چاہیں گے۔ مگر وقت گزر چکا ہو گا، موقع ہاتھ سے نکل چکا ہو گا، فضل کا دن جس میں ہم جی رہے ہیں اِختتام پذیر ہو چکا ہو گا۔
۱۳:۲۵-۲۷ «گھر کا مالک اُٹھ کر دروازہ بند کر چکا» ہو گا۔ یہاں تصویر پیش کی گئی ہے کہ اُس وقت یہودی قوم دروازہ کھٹکھٹا کر کہے گی کہ «اے خداوند! ہمارے لئے کھول دے۔» وہ اِس بنیاد پر اِنکار کرے گا کہ «مَیں تم کو نہیں جانتا۔» اِس موقعے پر وہ احتجاج کریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے تو تیرے ساتھ قریبی اور گہرے تعلقات تھے۔ لیکن اِن دعووں اور ایسے عذروں کا اُس پر کچھ اثر نہ ہو گا۔ وہ «بدکار» یعنی «بدی کے کارندے» تھے۔ اُن کو اندر آنے کی اِجازت نہیں ملے گی۔
۱۳:۲۸-۳۰ اُس کے انکار کے باعث «وہاں رونا اور دانت پیسنا ہو گا»۔ «رونا» پچھتاوے کو اور «دانت پیسنا» خدا کے لئے شدید نفرت اور دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہنم کی اذیت بھی اِنسان کے دل کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ ایمان نہ لانے والے اِسرائیلی «ابرہام اور اضحاق اور یعقوب اور سب نبیوں کو خدا کی بادشاہی میں شامل» دیکھیں گے۔ وہ محض اِس بات کی وجہ سے خود وہاں داخل ہونے کی توقع رکھتے تھے کہ ہم ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کی اولاد ہیں۔ لیکن اُن کو «باہر نکال» دیا جائے گا۔ غیر قومیں زمین کے چاروں کونوں سے آ کر مسیح کی بادشاہی کے نور میں داخل ہوں گی اور اُس کی عجیب برکتوں سے لطف اندوز ہوں گی۔ یوں بہت سے یہودی جو پہلے خدا کی برکت کے منصوبے میں شامل تھے وہ ردّ کئے جائیں گے جب کہ غیر اقوام کے لوگ جن کو کُتے سمجھ کر حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا، وہ مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی کی برکات سے محظوظ ہوں گے۔
م۔ یروشلیم میں نبیوں کا قتل (۱۳:۳۱-۳۵)
۱۳:۳۱ لگتا ہے کہ اُس وقت خداوند یسوع ہیرودیس کے علاقے میں تھا۔ «بعض فریسیوں نے آ کر» اُسے خبردار کیا کہ اِس علاقے سے «نکل» جائے کیونکہ «ہیرودیس تجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔» یہاں فریسی اپنے کردار اور خصوصیت کے بالکل خلاف چلتے ہوئے نظر آتے ہیں کیونکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں مسیح کی جان کی سلامتی کی فکر ہے۔ شاید اُنہوں نے ہیرودیس سے مل کر سازِش تیار کی تھی کہ یسوع کو ڈرائیں تاکہ وہ یروشلیم چلا جائے۔ اُن کو یقین تھا کہ وہاں اُس کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
۱۳:۳۲ خداوند پر جسمانی تشدد کے خطرے یا دھمکی کا کچھ اثر نہ ہوا۔ وہ جان گیا کہ یہ ہیرودیس کی سازِش ہے۔ چنانچہ اُس نے فریسیوں کو کہا کہ «جا کر اُس لومڑی» کو میرا پیغام دے دو۔ بعض لوگوں کو یہ حقیقت سمجھنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ خداوند یسوع نے ہیرودیس کو «لومڑی» کہا۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اِس طرح کلامِ پاک کی خلاف ورزی ہوتی ہے کیونکہ شریعت قوم کے سردار کو کوسنے سے منع کرتی ہے (خروج ۲۲:۲۸) ۔ مگر یہ بات خالص اور مکمل حقیقت تھی۔ یسوع نے جو پیغام بھیجا، اُس کا لُبِ لُباب یہ ہے کہ ابھی مجھے کچھ عرصے تک کام کرنا ہے۔ مَیں «بدروحوں کو نکالنے اور شفا بخشنے کا کام انجام دیتا رہوں گا۔» یعنی اُسے دی گئی مدت کے جو چند دن باقی ہیں، اُن میں یہ معجزے کرتا رہے گا۔ پھر «تیسرے دن» یعنی آخری دن وہ اپنی زمینی خدمت سے متعلقہ سارے کام پایۂ تکمیل کو پہنچا چکے گا۔ کوئی چیز اُس کے فرائض کی بجا آوری میں حائل نہیں ہو سکتی۔ مقررہ وقت سے پہلے دُنیا کی کوئی طاقت اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
۱۳:۳۳ علاوہ ازیں وہ گلیل میں قتل نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ خاص حق «یروشلیم» کے لئے محفوظ و مخصوص تھا۔ اُسی شہر کی خصوصیت تھی کہ خدا تعالیٰ کے خادموں کو قتل کرتا تھا۔ خدا کے نمائندوں کو قتل کرنے میں یروشلیم کو کم و بیش اجارہ داری حاصل تھی۔ جب خداوند نے کہا کہ «ممکن نہیں کہ نبی یروشلیم سے باہر ہلاک ہو» تو اُس کا یہی مطلب تھا۔
۱۳:۳۴،۳۵ اِس شریر شہر کے بارے میں یہ سچی بات کہہ چکنے کے بعد یسوع پر رِقت طاری ہو گئی اور وہ یروشلیم شہر پر رویا۔ یہ شہر جو «نبیوں کو قتل کرتا» اور خدا کے پیغمبروں کو «سنگسار کرتا» ہے اِسی سے خداوند کو محبت ہے۔ اُس نے «کتنی ہی بار… چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے،» وہ بھی اُس کے باشندوں کو «جمع کر لے» مگر اُنہوں نے «نہ چاہا»۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ اُن کا شہر، اُن کی ہیکل اور اُن کا ملک «ویران چھوڑا» جائے گا۔ اُن کو اسیری کے طویل عرصے سے گزرنا پڑے گا۔ درحقیقت وہ خداوند کو اُس وقت تک نہ دیکھ سکیں گے جب تک اُس کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل نہ کریں گے۔ آیت ۳۵ ب کا اِشارہ مسیح کی آمدِ ثانی کی طرف ہے۔ «اُس وقت» اِسرائیلی قوم کا ایک بقیہ توبہ کرے گا اور کہے گا «مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے!» اُس کی قدرت کے روز اُس کے لوگوں کے دل اُس کی طرف مائل ہو جائیں گے۔
ن۔ جلندر کے ایک مریض کو شفا دینا (۱۴:۱-۶)
۱۴:۱-۳ ایک سبت کے دن فریسیوں کے کسی سردار نے خداوند کی اپنے گھر پر ضیافت کی۔ یہ مہمان نوازی کا مخلصانہ اظہار نہیں تھا بلکہ مذہبی لیڈروں کی ایک کوشش تھی کہ مسیح کی کوئی غلطی پکڑیں۔ وہاں یسوع کو ایک شخص ملا جو «جلندر» کے مرض میں مبتلا تھا، یعنی اُس کے بدن کی بافتوں میں پانی جمع ہو گیا تھا، جس سے وہ سوج گیا تھا۔ نجات دہندہ یسوع اپنے نکتہ چینوں کے خیالات کو جانتا تھا۔ چنانچہ اُس نے اُن سے پوچھا کہ «سبت کے دن شفا بخشنا رَوا ہے یا نہیں؟»
۱۴:۴-۶ وہ کہنا تو یہی چاہتے تھے کہ روا نہیں لیکن اپنے جواب کے حق میں دلیل کہاں سے لاتے! اِس لئے «وہ چپ رہ گئے»۔ چنانچہ یسوع نے اُس آدمی کو «شفا بخشی اور رخصت کیا»۔ خدا کی محبت اپنی سرگرمیاں کبھی نہیں روکتی۔ سبت کے دن بھی نہیں (یوحنا ۵:۱۷) ۔ پھر خداوند نے یہودیوں سے مخاطب ہو کر اُنہیں یاد دلایا کہ اگر تمہارا کوئی مویشی «کنوئیں میں گر پڑے» تو تم «سبت کے دن» بھی اُسے ضرور نکالو گے۔ ایسا کرنا اُن کے اپنے فائدے میں تھا۔ لیکن جہاں تک ایک ہم جنس اِنسان کے دُکھ یا بیماری میں مبتلا ہونے کا تعلق ہے، اُنہیں کوئی پروا نہیں تھی بلکہ وہ اُس کی مدد کرنے پر خداوند یسوع پر الزام لگانے کو تیار تھے۔ اگرچہ وہ یسوع کی دلیل کا جواب نہ دے سکتے تھے، مگر ہمیں یقین ہے کہ اُن کا غصہ اَور بھی بھڑک اُٹھا۔
س۔ بلند نظر مہمان کی تمثیل (۱۴:۷-۱۱)
جب خداوند اُس فریسی کے گھر میں داخل ہو رہا تھا تو اُس نے دیکھا ہو گا کہ مہمان «صدر جگہ» حاصل کرنے کے لئے کیسے حیلہ سازیاں کر رہے ہیں۔ وہ عزت اور اعلیٰ رُتبے کی نشست کی تلاش میں رہتے تھے۔ وہ بھی وہاں مہمان تھا۔ لیکن وہ سیدھی اور راست بات کرنے سے نہیں جھجکا۔ اُس نے اُنہیں اِس قسم کی خود نمائی اور خود ستائی کے خلاف خبردار کیا اور بتایا کہ جب تمہیں ضیافت وغیرہ پر بلایا جائے تو تمہیں «سب سے نیچی جگہ» پر بیٹھنا چاہئے۔ جب ہم اپنے لئے اُونچی جگہ ڈھونڈتے ہیں تو یہ اِمکان ہمیشہ موجود ہوتا ہے کہ کوئی ہم سے زیادہ عزت دار شخص آ جائے گا۔ ہمیں اُس کے لئے جگہ چھوڑنی پڑے گی، اور یوں «شرمندہ» ہونا پڑے گا۔ اگر ہم خدا کے حضور میں واقعی حلیم ہوں گے تو یقینا صرف ایک ہی رُخ میں جا سکیں گے اور وہ ہے «آگے» یعنی عزت کی جگہ کی طرف۔ یسوع نے یہ سکھایا کہ بہتر یہ ہے کہ ہم کو عزت کی جگہ کی طرف لایا جائے، نہ یہ کہ عزت کی جگہ پر قبضہ کر لیں اور بعد میں وہ جگہ چھوڑنی پڑے۔ وہ خود حقیقی خود اِنکاری (بلکہ خود سے دست برداری) کا نمونہ تھا (فلپیوں ۲:۵-۸) ۔ اُس نے اپنے آپ کو پست کیا تو خدا نے اُس کو سربلند کیا، «جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا» یعنی خدا اُس کو پست کرے گا۔
ع۔ خدا کیسے مہمانوں کی عزت کرتا ہے (۱۴:۱۲-۱۴)
فریسیوں کے سردار نے مقامی معزز لوگوں کو ضیافت میں بلایا ہوا تھا۔ یسوع نے فوراً اِس بات کو بھانپ لیا کہ قوم کے کم مراعات یافتہ افراد کو مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ چنانچہ خداوند نے اِس موقعے کو استعمال کیا اور مسیحیت کا ایک عظیم اصول بیان کیا کہ «ہم اُن لوگوں سے محبت رکھیں جن میں کوئی کشش اور جاذبیت نہیں۔ اور جو ہماری محبت اور مہربانی کا بدلہ نہیں دے سکتے۔» عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ «اپنے دوستوں یا بھائیوں یا رِشتہ داروں یا دولت مند پڑوسیوں» کی دعوتیں کرتے ہیں۔ ایسے طور طریقوں پر عمل پیرا ہونے کے لئے روحانی زندگی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن یہ بات واقعی فوق الفطرت ہے کہ «غریبوں، لنجوں، لنگڑوں، اندھوں» پر مہربانی اور شفقت کی جائے۔ جو لوگ ایسے افراد سے محبت رکھتے ہیں، خدا نے اُن کے لئے خاص اَجر رکھا ہوا ہے۔ ایسے مہمان ہمیں «بدلہ» نہیں دے سکتے لیکن خدا خود وعدہ کرتا ہے کہ ایسا کرنے والوں کو «راست بازوں کی قیامت میں بدلہ ملے گا۔» پاک صحائف میں اِس کو «پہلی قیامت» بھی کہا گیا ہے۔ اِس میں سچے ایمان دار زندہ کئے جائیں گے۔ یہ قیامت فضائی اِستقبال کے وقت اور ہمارے ایمان کے مطابق بڑی مصیبت کے ایام کے خاتمے پر ہو گی۔ پہلی قیامت صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ سلسلہ وار واقعات کا مجموعہ ہو گی۔
ف۔ بہانہ سازی کی تمثیل (۱۴:۱۵-۲۴)
۱۴:۱۵،۱۸ یسوع کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے ایک مہمان نے کہا کہ «خدا کی بادشاہی» کی برکات میں حصہ پانا کیسی مبارک بات ہو گی۔ شاید وہ اُس اصول سے متاثر ہوا جو یسوع نے ابھی ابھی بیان کیا تھا۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ اُس نے زیادہ سوچے سمجھے بغیر ایک عام سی بات کہہ دی ہو۔ کچھ بھی ہو خداوند نے جواب دیا کہ «خدا کی بادشاہی میں کھانا کھانا» بے شک بڑی مبارک بات ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جو بلائے گئے ہیں، وہ اِس دعوت کو قبول نہ کرنے کے لئے متعدد بے وقوفانہ عذر اور بہانے کرتے ہیں۔ پھر خداوند نے ایک تمثیل بیان کی جس میں ایک شخص خدا کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اُس شخص نے «بڑی ضیافت» تیار کی اور «بہت سے لوگوں کو بلایا۔» جب کھانا تیار ہو گیا تو اُس نے اپنے نوکر کو بھیجا کہ مدعوئین کو اِطلاع کرے کہ سب کچھ تیار ہے۔ اِس سے یہ بڑی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ خداوند یسوع نے کلوری پر مخلصی کا کام پورا کر دیا ہے۔ اِسی مکمل شدہ کام کی بنیاد پر اِنجیل کے پیغام کی منادی کی جاتی ہے۔ بلائے ہوؤں میں سے ایک شخص نے شامل نہ ہونے کا یہ عذر پیش کیا کہ مَیں نے «کھیت خریدا ہے،» اُسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اُسے تو خریدنے سے پہلے دیکھنا چاہئے تھا۔ وہ مادی چیزوں کی محبت کو اُس پُرفضل دعوت پر فوقیت دے رہا تھا۔
۱۴:۱۹،۲۰ اگلے مہمان نے «پانچ جوڑی بیل خریدے» تھے اور «اُنہیں آزمانے» جا رہا تھا۔ یہ شخص اُن لوگوں کی تصویر پیش کرتا ہے جو اپنے کاروبار، ملازمت اور پیشے کو خدا کی بلاہٹ پر ترجیح دیتے ہیں۔ تیسرے شخص نے یہ عذر پیش کیا کہ «مَیں نے بیاہ کیا ہے۔ اِس سبب سے نہیں آ سکتا۔» خاندانی بندھن اور سماجی رِشتے اکثر اِنسان کو اِنجیل کی دعوت قبول کرنے سے روکتے ہیں۔
۱۴:۲۱-۲۳ جب «اُس نوکر نے آ کر اپنے مالک کو» اِطلاع دی کہ ہر طرف سے دعوت کو ردّ کیا جا رہا ہے تو مالک نے نوکر کو «شہر کے بازاروں اور کوچوں» میں بھیجا کہ «غریبوں، لنجوں، اَندھوں اور لنگڑوں» کو بلا لائے۔ شاید جن کو پہلے بلایا گیا تھا وہ یہودی قوم کے لیڈروں کی مثال ہیں۔ جب اُنہوں نے خوش خبری کو ردّ کر دیا تو خدا نے یہ خوش خبری یروشلیم شہر کے عام لوگوں کو بھیج دی۔ بہت سے لوگوں نے اِس بلاہٹ کو قبول کیا مگر مالک کے گھر میں «اب بھی جگہ» باقی تھی۔ چنانچہ مالک نے نوکر کو کہا کہ «سڑکوں اور کھیت کی باڑوں کی طرف جا اور لوگوں کو مجبور کر کے لا۔» بلاشبہ یہ اِس بات کی تصویر ہے کہ خوش خبری غیر قوموں کو بھیجی گئی۔ اُن کو ہتھیاروں کی قوت سے مجبور نہیں کرنا (افسوس کہ مسیحیت کی تاریخ میں ایسا بھی کیا گیا) بلکہ دلیل اور منطق کی قوت سے ایسا کرنا تھا۔ اُن کو محبت سے قائل اور مائل کرنا تھا کہ وہ اِس دعوت کو قبول کریں تاکہ مالک کا «گھر بھر جائے۔»
۱۴:۲۴ اِس طرح مہمانوں کی اصل فہرست بے کار ٹھہری کیونکہ جب کھانا تیار ہو گیا تو «جو بلائے گئے تھے» اُن میں سے کوئی نہ آیا۔
ص۔ حقیقی شاگردیت کی قیمت (۴۱:۲۵-۳۵)
۱۴:۲۵ اب «بہت سے لوگ» خداوند یسوع کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے۔ اکثر لیڈر ایسی مقبولیت سے بہت خوش ہوتے اور اپنے آپ کو بہت اہم سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن خداوند کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو صرف تجسس کے باعث اُس کے ساتھ ہو لیتے مگر دلی طور سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اُس کو ایسے لوگوں کی تلاش تھی جو دل سے اُس کی پیروی کرنے کو تیار ہیں۔ اور ضرورت ہو تو اُس کی خاطر مرنے کو بھی تیار ہوں۔ چنانچہ خداوند نے اُن کے سامنے شاگردیت کی کڑی شرائط پیش کرنی شروع کیں تاکہ اصلی اور نقلی الگ الگ ہو جائیں۔ بعض اوقات خداوند لوگوں کو اپنی طرف لبھاتا ہے مگر جب وہ اُس کے پیچھے چلنے لگتے ہیں تو اُن کو اناج کی طرح چھانتا پھٹکتا ہے۔ یہی کام یہاں بھی ہو رہا ہے۔
۱۴:۲۶ اپنے پیچھے آنے والوں کو سب سے پہلے اُس نے یہ بتایا کہ حقیقی شاگرد بننے کے لئے ضروری ہے کہ اُسے اوّل درجہ دے کر اُس سے محبت رکھی جائے۔ مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اِنسان «اپنے باپ اور ماں اور بیوی اور بچوں اور بھائیوں اور بہنوں» سے دشمنی رکھے۔ دراصل وہ اِس بات پر زور دے رہا تھا کہ مسیح کے لئے محبت اِتنی بڑی اور زیادہ ہونی چاہئے کہ اُس کے مقابلے میں ہر قسم کی محبت دشمنی یا نفرت معلوم ہونے لگے (دیکھئے متی ۱۰:۳۷) ۔ خاندانی رِشتوں کا کوئی خیال شاگرد کو خداوند کی کامل فرماں برداری کی راہ سے اِدھر اُدھر نہ پھیرے۔
شاگردیت کی پہلی شرط کا مشکل ترین حصہ یہ الفاظ ہیں کہ «بلکہ اپنی جان سے بھی۔» یہی نہیں کہ ہم اپنے رشتہ داروں اور تعلق داروں سے مسیح کے مقابلے میں کم محبت رکھیں بلکہ یہ کہ اپنی «جان سے بھی دشمنی» رکھیں۔ زندگی میں مرکزیت اپنی ذات کو نہیں بلکہ مسیح کو حاصل ہو۔ اِس کا خیال نہ کریں کہ ہمارے ہر کام اور عمل سے ہمیں کتنا فائدہ پہنچتا ہے بلکہ اِس کا کہ اِس سے مسیح اور اُس کے جلال پر کیا اثر پڑتا ہے۔ ذاتی آرام و آسائش اور تحفظ کا خیال مسیح کے جلال اور خوش خبری کے کام کے تابع ہو۔ منجی کی باتیں قطعی اور حتمی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہم اپنے خاندان اور اپنی ذات سے بڑھ کر اُسے درجہ نہ دیں تو ہم اُس کے شاگرد نہیں ہو سکتے۔ درمیانی راستہ کوئی نہیں۔
۱۴:۲۷ دوسری بات، خداوند کہتا ہے کہ سچا شاگرد وہ ہے جو «اپنی صلیب…اُٹھائے اور میرے پیچھے… آئے۔» یہ صلیب کسی جسمانی معذوری یا ذہنی تشویش یا درد کا نام نہیں بلکہ اُس راستے کا نام ہے جس پر لعن طعن، اِیذارسانی، تنہائی بلکہ موت بھی ہے، اور جس کو اِنسان مسیح کی خاطر رضاکارانہ چن لیتا ہے۔ تمام ایمان دار صلیب نہیں اُٹھاتے۔ صرف نام کی مسیحی زندگی اِختیار کرنے سے اِس صلیب سے بچ بھی سکتے ہیں۔ لیکن اگر مصمم اِرادہ کر لیں کہ ہم اور ہمارا سب کچھ مسیح کے لئے ہے تو ہم کو بھی اُسی قسم کے ابلیسی مقابلے کا تجربہ ہو گا جو خدا کے بیٹے کو زمینی زندگی کے دوران درپیش رہا۔ یہی وہ صلیب ہے جس کا ذکر خداوند کر رہا ہے۔ ضرور ہے کہ شاگرد مسیح کے پیچھے چلے۔ مطلب یہ ہے کہ ویسی ہی زندگی اِختیار کرے جیسی مسیح نے اِس دُنیا میں گزاری۔ خود اِنکاری، پستی، بے عزتی، ایذاؤں، لعن طعن اور آزمائش سے بھری ہوئی زندگی۔ ایسی زندگی سے گنہگاروں کی سوچ اور طور طریقوں کا تصادم ہوتا ہے۔
۱۴:۲۸-۳۰ لازم ہے کہ اُس کے پیچھے چلنے سے پہلے اِنسان قیمت کا اندازہ لگا لے۔ اِس مقصد کے لئے خداوند نے دو تمثیلیں سنائیں۔ اُس نے مسیحی زندگی کو ایک تعمیراتی منصوبے اور پھر جنگ آزمائی کے ساتھ تشبیہ دی۔ جو شخص «ایک بُرج بنانا» چاہتا ہے، ضرور ہے کہ وہ «پہلے بیٹھ کر لاگت کا حساب» کر لے۔ اگر اُس کے پاس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سامان نہیں ہو گا تو کام شروع ہی نہیں کرے گا۔ ورنہ جب «نیو ڈال کر تیار نہ کر سکے» گا اور کام رُک جائے گا تو «سب دیکھنے والے یہ کہہ کر اُس پر ہنسنا شروع کریں (گے) کہ اِس شخص نے عمارت شروع تو کی مگر تکمیل نہ کر سکا۔» یہی حال شاگردوں کا ہے۔ لازم ہے کہ پہلے قیمت کا اندازہ کر لیں کہ کیا واقعی دل سے اپنی زندگیاں اُس کے لئے وقف کرنے کو تیار ہیں۔ ورنہ خطرہ ہے کہ آغاز تو بڑا شاندار ہو، لیکن پھر رفتہ رفتہ سارا جوش و خروش ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو دیکھنے والے اُن کا مذاق اُڑائیں گے۔ نیم دل مسیحی کے لئے دُنیا کے پاس سوائے حقارت کے اَور کچھ نہیں ہے۔
۱۴:۳۱،۳۲ اگر کوئی بادشاہ ایسی فوجوں کے خلاف لڑنے کو نکلنا چاہتا ہے جو تعداد میں زیادہ ہیں، تو لازم ہے کہ پہلے پوری طرح سوچ بچار کر لے کہ مَیں اُن کو مار بھگانے کی صلاحیت رکھتا ہوں یا نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ دو ہی صورتیں ہیں بے جگری سے لڑنا یا شکست۔ یہی حال مسیحی شاگردیت کا ہے۔ درمیانی راستہ کوئی نہیں۔
۱۴:۳۳ یہ پوری بائبل میں غالباً سب سے زیادہ غیر مقبول آیت ہے کیونکہ اِس میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ «جو کوئی اپنا سب کچھ ترک نہ کرے وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔» اِن الفاظ کے مفہوم و معانی سے فرار ممکن نہیں۔ یہ نہیں کہا گیا کہ شاگردیت کا متمنی شخص اپنا سب کچھ ترک کرنے پر آمادہ ہو بلکہ یہ کہ وہ سب کچھ ترک کر دے۔ خداوند یسوع جانتا تھا کہ مَیں کیا کہہ رہا ہوں۔ وہ جانتا تھا کہ کسی اَور طریقے سے کام نہیں ہو سکتا۔ اُس کو ایسے مرد و زَن درکار ہیں جو دُنیا کی ہر چیز پر صرف اُسی (مسیح) کو مقدم اور فوق مانیں۔ رائیل (Ryle) کہتا ہے کہ:
«اپنا بھلا وہ اِنسان کرتا ہے جو مسیح کی خاطر سب کچھ ترک کر دیتا ہے۔ وہ بہترین سودا کرتا ہے۔ وہ اِس دُنیا میں چند برسوں تک صلیب اُٹھاتا ہے لیکن آئندہ جہان میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کر لیتا ہے۔ وہ بہترین دولت حاصل کر لیتا ہے۔ وہ اپنی دولت قبر سے آگے اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ یہاں اُسے فضل کی دولت حاصل ہوتی ہے اور اگلی دُنیا میں جلال کی دولت۔ اور سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے سے اُسے جو کچھ حاصل ہوتا ہے، وہ ہمیشہ اُس کے پاس رہتا ہے۔ یہی وہ اچھا حصہ ہے جو اُس سے کبھی چھینا نہ جائے گا (لوقا ۱۰:۴۲) ۔»
۱۴:۳۴،۳۵ «نمک» شاگرد کی علامت ہے۔ جو شخص مخصوصیت، جاں نثاری اور ایثار کے ساتھ خداوند کے لئے زندگی بسر کرتا ہے، وہ درست اور قابلِ تعریف ہوتا ہے۔ لیکن پھر ہم ایسے «نمک» کے بارے میں پڑھتے ہیں جس کا «مزہ جاتا رہا۔» آج کل مصفا نمک تیار کیا جاتا ہے۔ اِس کا مزہ قائم رہتا ہے کیونکہ یہ خالص ہوتا ہے مگر فلستین کی سرزمین میں نمک خالص نہیں ہوتا تھا۔ اُس میں کئی قسم کی کثافتیں اور آلائشیں ملی ہوتی تھیں۔ اِس لئے اکثر نمک ضائع ہو جاتا تھا اور برتن میں یہ ناخالص چیزیں باقی رہ جاتی تھیں۔ یہ بقیہ بے کار ہوتا تھا۔ اُس کو تو کھاد کے طور پر بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اُسے پھینکنا ہی پڑتا تھا۔
یہاں ایسے شاگرد کی تصویر پیش کی گئی ہے جو بڑے جوش و خروش سے آغاز کرتا ہے۔ پھر اپنے وعدوں سے پھر جاتا ہے۔ شاگرد کے وجود کی ایک ہی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔ اگر وہ اُسے پورا کرنے سے قاصر رہتا ہے تو ایک قابلِ رحم چیز بن جاتا ہے۔ نمک کے بارے میں لکھا ہے کہ «لوگ اُسے باہر پھینک دیتے ہیں۔» یہ نہیں کہا گیا کہ خدا اُسے باہر پھینک دیتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا بلکہ «لوگ اُسے باہر پھینک دیتے ہیں» یعنی اُس شخص کی گواہی کو پاؤں تلے روندتے ہیں جس نے «عمارت شروع تو کی مگر تکمیل نہ کر سکا»۔کیلی (Kelly) متوجہ کرتا ہے کہ:
«یہاں اِس خطرے کا اِظہار کیا گیا ہے کہ کام اچھی طرح شروع ہوتا ہے، مگر بعد میں بگڑ جاتا ہے۔ جو نمک اپنا مزہ کھو دیتا ہے، دُنیا میں اُس سے زیادہ بے کار چیز کون سی ہے! یہی تو ایک واحد خصوصیت ہے جس کے باعث نمک کی قدر و قیمت ہے۔ پھر تو یہ بے کار سے بھی بدتر ہو جاتا ہے کیونکہ کسی کام کا نہیں رہتا۔ یہی حال اُس آدمی کا ہوتا ہے جو مسیح کا شاگرد ہونے سے پھر جاتا ہے۔ وہ دُنیا کے کام کے لئے موزوں نہیں رہتا اور خدا کے کام کو اُس نے چھوڑ دیا ہے۔ اُس کے پاس اِتنا نور یا عرفان ہوتا ہے کہ دُنیا کی بطالت اور گناہوں سے لطف اندوز نہیں ہوتا۔ اُدھر فضل اور سچائی میں اُسے وہ لطف نہیں آتا کہ مسیح کے راستے پر چلتا رہے — وہ بے مزہ نمک بن کر رہ جاتا اور تحقیر اور غضب اُس کا مقدر ہوتا ہے۔»
خداوند نے شاگردیت کے بارے میں سبق کا اِختتام کرتے ہوئے کہا کہ «جس کے کان سننے کے ہوں وہ سن لے۔» اِن الفاظ میں یہ مطلب مضمر ہے کہ ہر شخص شاگردیت کی سخت شرائط سننے پر آمادہ نہیں ہوتا، لیکن اگر کوئی قیمت کی پروا کئے بغیر خداوند یسوع کے پیچھے چلنا چاہے تو پھر اُس کو یہ باتیں سن کر اُس کے پیچھے ہو لینا چاہئے۔
جان کیلون نے ایک دفعہ کہا تھا، «مَیں نے مسیح کی خاطر سب کچھ ترک کر دیا۔ اور مجھے کیا ملا ہے؟ مجھے مسیح میں سب کچھ مل گیا ہے۔»کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ «آسمان کی بادشاہی کی داخلہ فیس کچھ بھی نہیں۔ سالانہ ادائیگی ہی سب کچھ ہے۔»
ق۔ کھوئی ہوئی بھیڑ کی تمثیل (۱۵:۱-۷)
۱۵:۱،۲ باب ۱۴ میں مسیح کی تعلیمی خدمت کے باعث «محصول لینے والے اور گنہگار» اُس کے پاس آ جمع ہوئے۔ یہ صریحاً گنہگار تھے۔ لوگ اُن سے نفرت کرتے اور اُن کو حقیر سمجھتے تھے۔ اگرچہ یسوع اُن کے گناہوں کی مذمت کرتا تھا تو بھی اُن میں سے بہت سے تسلیم کرتے تھے کہ وہ درست کرتا ہے۔ وہ خود اپنے خلاف مسیح کا ساتھ دیتے تھے۔ وہ سچے دل سے توبہ کر کے اُسے خداوند مانتے تھے۔ یسوع کو جہاں بھی ایسے لوگ ملتے تھے جو اپنے گناہ کا اِقرار کرنے کو تیار ہوتے تھے، وہ اُن کے لئے ایک کشش محسوس کرتا اور اُن کے پاس جاتا اور اُن کو روحانی برکت دیتا اور مدد عطا کرتا تھا۔
فریسی اور فقیہ اِس بات سے بہت چِڑتے تھے کہ یسوع اُن لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے جو مانے ہوئے «گنہگار» ہیں۔ وہ اُن سماجی اور اخلاقی کوڑھیوں پر ذرا ترس نہیں کھاتے تھے اور یسوع کے ایسا کرنے سے بھی خار کھاتے تھے۔ چنانچہ وہ اُس پر الزام لگاتے تھے کہ «یہ آدمی گنہگاروں سے ملتا اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔» بے شک یہ الزام سچا تھا۔ لیکن حقیقت میں اِسی طرح وہ مقصد پورا ہوتا تھا جس کے لئے خداوند یسوع دُنیا میں آیا تھا۔
اُن کے اِس الزام کے جواب میں یسوع نے کھوئی ہوئی بھیڑ، کھوئے ہوئے سکے اور کھوئے ہوئے بیٹے کی تمثیلیں سنائیں۔ اِن تمثیلوں کا براہِ راست نشانہ فقیہ اور فریسی تھے جو کبھی اِتنے شکستہ نہیں ہوتے تھے کہ خدا کے حضور اپنی گم شدہ حالت کا اِعتراف کر لیتے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ خود محصول لینے والوں اور گنہگاروں کی طرح کھوئے ہوئے تھے مگر مانتے نہیں تھے بلکہ وہ اپنی ہٹ پر قائم تھے۔ اِن تینوں کہانیوں میں نکتہ یہ ہے کہ جب خدا گنہگاروں کو توبہ کرتے دیکھتا ہے تو اُس کو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ جب کہ اپنی ہی نظر میں راست باز اُن ریاکاروں سے اُسے کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ وہ اپنے غرور اور تکبر کے باعث اپنی زبوں حالی کو ماننے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔
۱۵:۳،۴ یہاں علامتی طور پر خداوند یسوع کو ایک چرواہے کی حیثیت میں پیش کِیا گیا ہے۔ «ننانوے بھیڑیں» فقیہوں اور فریسیوں کی نمائندگی کرتی ہیں اور «کھوئی ہوئی بھیڑ» محصول لینے والے یا مانے ہوئے گنہگار کی مثال ہے۔ جب چرواہا دیکھتا ہے کہ «ایک» بھیڑ «کھو» گئی ہے تو وہ باقی «ننانوے کو بیابان میں چھوڑ کر» (باڑے میں چھوڑ کر نہیں) اُس ایک کے پیچھے جاتا ہے۔ اور «جب تک مل نہ جائے ڈھونڈتا» رہتا ہے۔ جہاں تک ہمارے خداوند کا تعلق ہے، اِس سفر میں اُس کا زمین پر اُتر آنا، عام لوگوں میں خدمت کرنے کے برس، اُس کا ردّ کیا جانا، دُکھ اُٹھانا اور مرنا شامل تھا۔
۱۵:۵ جب وہ بھیڑ مل گئی تو چرواہے نے خوش ہو کر اُسے «کندھے پر اُٹھا» لیا اور گھر لایا۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ نجات یافتہ بھیڑ کو وہ اعزاز اور قربت نصیب ہوئی جو اُسے اُس وقت تک حاصل نہ تھی جب تک وہ دوسری بھیڑوں کے ساتھ شمار ہوتی تھی۔
۱۵:۶ چرواہا اپنے «دوستوں اور پڑوسیوں» کو بلاتا ہے کہ «میرے ساتھ خوشی کرو کیونکہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی»ہے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ ایک گنہگار کے توبہ کرنے سے نجات دہندہ کو کیسی خوشی ہوتی ہے۔
۱۵:۷ سبق واضح ہے۔ «ایک توبہ کرنے والے گنہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی» ہوتی ہے، لیکن اُن ننانوے گنہگاروں کے بارے میں کوئی خوشی نہیں ہوتی جو اپنی گئی گزری حالت کا احساس نہیں کرتے۔ اِس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بعض ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جن کو توبہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تمام اِنسان گنہگار ہیں اور نجات پانے کے لئے سب کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ اِس آیت میں اُن لوگوں کو بیان کیا گیا ہے جو اپنے بارے میں یہ گمان رکھتے ہیں کہ ہم «توبہ کی حاجت نہیں رکھتے۔»
ر۔ کھوئے ہوئے سِکّے کی تمثیل (۱۵:۸-۱۰)
اِس تمثیل میں «عورت» روح القدس کی علامت ہو سکتی ہے جو کھوئے ہوؤں کو خدا کے کلام کے «چراغ» کی مدد سے ڈھونڈتا ہے۔ نو «دِرہم» (چاندی کے سِکّے) غیر تائب اِنسانوں کو ظاہر کرتے ہیں جب کہ کھویا ہوا «ایک» دِرہم اُس شخص کا نمائندہ ہے جو اِقرار کرنے کو تیار ہے کہ خدا کے ساتھ میرا تعلق ٹوٹ چکا ہے۔ گذشتہ بیان میں بھیڑ اپنی مرضی سے بھٹک گئی تھی۔ دِرہم بے جان چیز ہے لہٰذا وہ «گنہگار» کی «مُردہ» حالت کو پیش کرتا ہے۔ وہ گناہوں میں مردہ ہوتا ہے۔
عورت کھوئے ہوئے دِرہم کو «کوشش سے ڈھونڈتی» ہے اور جب تک مل نہیں جاتا تلاش جاری رکھتی ہے۔ جب مل جاتا ہے تو «اپنی دوستوں اور پڑوسنوں» کو بلاتی ہے کہ میرے ساتھ خوشی مناؤ۔ ایک سِکّہ جو کھو گیا تھا جب مل گیا تو اُن نَو کی نسبت زیادہ خوشی کا باعث بنتا ہے جو کبھی کھوئے نہ تھے۔ یہی حال خدا کا ہے۔ وہ «گنہگار» جو خاکسار ہو کر اپنی کھوئی ہوئی حالت کا اِقرار کرتا ہے، وہ خدا کو زیادہ دِلی خوشی دیتا ہے۔ خدا کو اُن لوگوں سے کوئی ایسی خوشی نہیں ملتی جو کبھی توبہ کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کرتے۔
ش۔ کھوئے ہوئے بیٹے کی تمثیل (۱۵:۱۱-۳۲)
۱۵:۱۱-۱۶ یہاں «کسی شخص» میں خدا باپ کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ اُس شخص کے «دو بیٹے تھے»۔ اِس تمثیل میں «چھوٹا بیٹا» تائب گنہگار کی علامت ہے جب کہ بڑا بیٹا فقیہوں اور فریسیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ تخلیق کے اِعتبار سے خدا کے بیٹے ہیں مگر مخلصی کے اِعتبار سے نہیں۔ چھوٹے بیٹے کو ہم مسرف بیٹے کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ «مسرف» وہ ہوتا ہے جو اَندھا دُھند فضول خرچ کرتا ہے، جو روپیہ پیسہ ضائع کرتا ہے۔ یہ بیٹا اپنے باپ کے گھر سے تنگ آ گیا۔ اُس نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے یہاں سے چلے جانا چاہئے۔ وہ اپنے باپ کے مرنے کا اِنتظار نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ اُس نے قبل از وقت مطالبہ داغ دیا کہ میراث میں سے میرا حصہ مجھے بانٹ دے۔ باپ نے میراث دونوں بیٹوں میں بانٹ دی۔ تھوڑے دِنوں بعد چھوٹا بیٹا اپنا حصہ سمیٹ کر «دُور دراز ملک کو روانہ ہوا۔» اور وہاں اپنا مال بدچلنی میں اُڑا دیا۔ اِدھر اُس کا مال متاع ختم ہوا، اُدھر ملک میں سخت کال پڑ گیا۔ وہ دانے دانے کو ترسنے لگا۔ بڑی تگ و دَو اور خواری کے بعد اُسے ملازمت ملی بھی تو سؤر چرانے کی۔ عام یہودی کے لئے یہ نہایت ناپسندیدہ کام تھا۔ اُسے بھی وہی پھلیاں کھانی پڑتی تھیں جو سؤر کھاتے تھے، مگر وہ بھی مشکل سے ملتی تھیں۔ اُسے سؤروں پر بھی رشک آتا تھا کیونکہ اُنہیں نسبتاً زیادہ پھلیاں ملتی تھیں۔ کوئی اُس کی مدد کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا تھا۔ جب وہ کھلے دل پیسہ لٹاتا تھا تب اُس کے بہت سے دوست تھے۔ آج اُسے کوئی پوچھتا تک نہ تھا۔
۱۵:۱۷-۱۹ کال اُس کے لئے گویا ایک نعمت ثابت ہوا۔ اِس نے اُسے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اُسے یاد آیا کہ «میرے باپ کے (گھر میں) کتنے ہی مزدوروں کو افراط سے روٹی ملتی ہے۔» وہاں نوکر بھی اِس بیٹے سے زیادہ آرام دہ زندگی بسر کر رہے تھے جب کہ یہاں وہ بھوکا مر رہا تھا۔ یہ باتیں سوچ کر اُس نے کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے اِرادہ کر لیا کہ توبہ کرتے ہوئے «باپ کے پاس جاؤں گا۔» اپنے گناہ کا اِقرار کروں گا اور معافی کا خواست گار ہوں گا۔ اُس کو احساس ہوا کہ «اَب (مَیں) اِس لائق نہیں رہا» کہ اپنے باپ کا «بیٹا کہلاؤں۔» اُس نے اِرادہ کر لیا کہ مَیں باپ سے درخواست کروں گا کہ «مجھے اپنے مزدوروں جیسا کر لے۔»
۱۵:۲۰ ابھی وہ گھر سے دُور ہی تھا کہ «اُسے دیکھ کر اُس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اُس کو گلے لگا لیا۔» بائبل مقدس میں غالباً یہ واحد موقع ہے جب خدا کے بارے میں تیزی یا جلدی کرنے کو اچھے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ سٹوأرٹ (Stewart) بجا طور پر کہتا ہے کہ:
«یہاں یسوع بڑی دلیری سے خدا کی یہ تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ اِنتظار نہیں کرتا کہ بیٹا چپکے سے گھر کے اندر آ جائے۔ جب بیٹا آ جاتا ہے تو باپ اپنے وقار اور عزت کی پروا نہیں کرتا بلکہ دَوڑ کر اُسے گلے لگا لیتا ہے، حالانکہ وہ گرد و غبار سے اٹا ہوا، پھٹے حال اور شرم ناک حالت میں تھا۔ وہ بازوؤں میں لے کر اُسے خوش آمدید کہتا ہے۔ ’باپ‘ کا وہی نام فوراً گناہ کے رنگ کو مٹا دیتا اور معافی کی شان اور جلال کو بلند کر دیتا ہے۔»
۱۵:۲۱-۲۴ «بیٹے» نے اپنے گناہ کا اِقرار کیا۔ اور درخواست کی کہ مجھے نوکر رکھ لیا جائے۔ لیکن «باپ» نے اُس کی بات پوری نہ ہونے دی، بلکہ نوکروں کو حکم دیا کہ «اچھے سے اچھا جامہ جلد نکال کر اُسے پہناؤ اور اُس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔» اُس نے بیٹے کی واپسی کی خوشی منانے کے لئے ایک ضیافت تیار کرنے کا بھی حکم دیا کیونکہ اُس کے مطابق «میرا یہ بیٹا مُردہ تھا، اب زندہ ہوا۔ کھو گیا تھا، اب ملا ہے۔» کسی نے کہا ہے کہ «یہ نوجوان عیش و عشرت کی تلاش میں تھا جو اُسے دُور دراز ملک میں نہ ملی۔ ملی تو اُس وقت جب اُسے عقل آئی کہ اپنے باپ کے گھر واپس جاؤں۔» بیان ہوا ہے کہ «وہ خوشی منانے لگے»۔ مگر یہ نہیں کہا گیا کہ اُس کی خوشی کبھی ختم بھی ہوئی۔ گنہگاروں کی نجات کے سلسلے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
۱۵:۲۵-۲۷ جب بڑا بیٹا کھیت سے گھر لوٹا اور اُس نے خوشی منانے کا شور سنا تو ایک نوکر کو بلا کر «دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے»۔ نوکر نے بتایا کہ تیرا چھوٹا بھائی گھر واپس آ گیا ہے اور تیرا باپ خوشی میں آپے سے باہر ہو رہا ہے۔
۱۵:۲۸-۳۰ بڑا بیٹا غصے اور حسد سے جل گیا۔ اُس نے باپ کی خوشی میں شریک ہونے سے اِنکار کر دیا۔ جے۔این۔ ڈاربی کیا خوب کہتا ہے کہ «جہاں خدا کی خوشی ہوتی ہے وہاں اپنے آپ کو راست باز ماننے والا نہیں آ سکتا۔ اگر خدا گنہگار پر مہربان ہے تو میری راست بازی کا کیا فائدہ؟» جب «اُس کے باپ» نے اُس پر زور دیا کہ خوشی کے جشن میں شامل ہو تو اُس نے اِنکار کر دیا۔ اور جھگڑنے لگا کہ باپ نے مجھے وفادار خدمت اور فرماں برداری کا کبھی کوئی انعام نہیں دیا۔ یہاں تک کہ «ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا» پلے ہوئے بچھڑے کی تو بات ہی رہنے دو۔ اُس نے شکایت کی کہ چھوٹا بیٹا تو باپ کے مال کو «کسبیوں» میں اُڑا کر واپس آیا ہے اور اُس کے لئے اِتنی بڑی ضیافت اور جشن تیار کیا گیا ہے۔ غور کریں کہ وہ «میرا بھائی» نہیں کہتا بلکہ «تیرا بیٹا» کہتا ہے۔
۱۵:۳۱،۳۲ باپ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی «کھوئے ہوئے» کی بحالی پر خوشی ہوتی ہے جب کہ ضدی، ناشکرا، میل ملاپ نہ رکھنے والا بیٹا خوشی منانے کا کوئی موقع پیدا نہیں کرتا۔
بڑا بیٹا فریسیوں اور فقیہوں کی بولتی ہوئی تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ اِس بات کے مخالف تھے کہ خدا گنہگاروں پر رحم کرے۔ اُن کی سوچ یہ تھی کہ ہم وفاداری سے خدا کی خدمت (اور عبادت) کرتے ہیں۔ کبھی اُس کے حکموں کی خلاف ورزی نہیں کی مگر خدا نے ہمیں کبھی موزوں صِلہ اور اَجر نہیں دیا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ مذہبی ریاکار اور بڑے گنہگار تھے۔ غرور اور گھمنڈ نے اُنہیں اندھا کر رکھا تھا۔ اُنہیں اِس کا بالکل احساس نہ تھا کہ وہ خدا سے کتنی دُور ہیں۔ وہ اِس حقیقت سے بھی آنکھیں بند کئے ہوئے تھے کہ خدا اُن پر برکتوں پر برکتیں برسا رہا تھا۔ اگر وہ صرف توبہ کرنے پر تیار ہوتے، اور اپنے گناہوں کا اِقرار کرنے پر مائل ہوتے، تو باپ کا دل خوش ہو جاتا، اور اُن کے لئے بھی خوشی کا بڑا جشن منایا جاتا۔
ت۔ بے اِنصاف مختار کی تمثیل (۱۶:۱-۱۳)
۱۶:۱،۲ اب خداوند یسوع فریسیوں اور فقیہوں سے ہٹ کر اپنے «شاگردوں» کی طرف متوجہ ہو کر اُن کو مختاری پر تعلیم دیتا ہے۔ سب مانتے ہیں کہ لوقا کی اِنجیل کا یہ حوالہ سب سے زیادہ مشکل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بے اِنصاف کی کہانی بے اِنصافی کی تعریف کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ تمثیل کا «دولت مند» آدمی خود خدا کو پیش کرتا ہے۔ «مختار» وہ شخص ہوتا ہے جس کو کسی دوسرے آدمی کے گھر اور جائیداد کے اِنتظام کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ جہاں تک تمثیل کا تعلق ہے خداوند کا ہر شاگرد ایک مختار بھی ہے۔ مذکورہ «مختار» پر یہ الزام تھا کہ وہ اپنے مالک کے مال میں غبن کرتا ہے۔ اُس سے حساب لیا گیا۔ نیز اُسے اِطلاع دی گئی کہ تجھے ملازمت سے برطرف کیا جا رہا ہے۔
۱۶:۳-۶ «مختار» نے جلدی جلدی کچھ سوچا۔ اُسے خیال آیا کہ مجھے اپنے مستقبل کے لئے اِنتظام کر لینا چاہئے۔ مگر وہ اِتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ جسمانی محنت نہیں کر سکتا تھا۔ اور عزتِ نفس کا اِتنا خیال تھا کہ «بھیک مانگنے سے شرم آتی» تھی (مگر چوری کرتے شرم نہیں آتی تھی) ۔ پھر وہ اپنے سماجی تحفظ کے لئے کیا کر سکتا تھا؟ ایک سکیم اُس کے ذہن میں آئی جس سے وہ دوسروں کو اپنا دوست بنا سکتا تھا، جو ضرورت کے وقت اُس پر رحم کھا کر اُس کی مدد کریں۔ وہ سکیم یہ تھی۔ اُس نے اپنے مالک کے ایک گاہک کو بلا کر اُس سے پوچھا «تجھ پر میرے مالک کا کیا آتا ہے؟» گاہک نے بتایا کہ«سو مَن تیل۔» تو مختار نے کہا کہ تُو «پچاس» مَن کی ادائیگی کر دے تو حساب کتاب ختم سمجھا جائے گا۔
۱۶:۷ دوسرا گاہک «سو مَن گیہوں» کا مقروض تھا۔ مختار نے اُس سے کہا کہ تُو «اَسّی مَن» کی ادائیگی کر دے تو سارا حساب ختم لکھ دوں گا۔
۱۶:۸ کہانی کا دھچکا لگانے والا حصہ اُس وقت آتا ہے جب مالک «بے ایمان مختار کی تعریف» کرتا ہے کہ اُس نے «ہوشیاری» سے کام لیا۔ کوئی کیوں ایسی بے ایمانی کی تعریف کرے گا؟ مختار نے جو کچھ کیا بے ایمانی پر مبنی تھا۔ اگلی آیات سے پتا چلتا ہے کہ مختار کی تعریف اُس کی بے ایمانی اور کج رفتاری کے لئے نہیں بلکہ اُس کی دُور اندیشی اور پیش بینی کے لئے کی گئی۔ اُس نے بڑی مصلحت اندیشی کا ثبوت دیا تھا۔ اُس نے مستقبل پر نظر رکھی اور اُس کے لئے اِنتظام کیا۔ اُس نے مستقبل کے انعام کی خاطر حال کے فائدے کو قربان کر دیا۔ اپنی زندگیوں پر اِس بات کا اطلاق کرتے ہوئے ہمیں اچھی طرح جان اور سمجھ لینا چاہئے کہ خدا کے فرزند کا مستقبل اِس دُنیا میں نہیں بلکہ آسمان پر ہو گا۔ جس طرح اُس مختار نے اِقدام کیا کہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد میرے کچھ دوست اور بہی خواہ ہوں اور اُس نے اپنے مالک کا مال استعمال کیا، اِسی طرح ایک مسیحی کو بھی چاہئے کہ اپنے خداوند کے مال کو اِس طرح استعمال کرے کہ جب آسمان پر جائے تو اُس کا اِستقبال کرنے کو وہاں ایک پارٹی کھڑی ہو۔
خداوند نے کہا، «اِس جہان کے فرزند اپنے ہم جنسوں کے ساتھ معاملات میں نور کے فرزندوں سے زیادہ ہوشیار ہیں۔» اِس کا مطلب ہے کہ بے دین اور نئی پیدائش سے ناواقف لوگ اِس دُنیا میں اپنے مستقبل کے لئے مہیا کرنے میں زیادہ عقل مندی کا ثبوت دیتے ہیں جب کہ سچے ایمان دار اپنے لئے آسمان پر خزانہ جمع کرنے میں اِتنی عقل مندی کا ثبوت نہیں دیتے۔
۱۶:۹ ہمیں چاہئے کہ «ناراستی کی دولت سے اپنے لئے دوست پیدا کریں۔» مراد یہ ہے کہ ہم اپنے روپیہ پیسہ اور دوسری مادی چیزوں کو اِس طرح استعمال کریں کہ مسیح کے لئے روحیں جیتی جائیں اور اِس طرح ایسی دوستیاں قائم ہوں جو ابدیت میں قائم اور جاری رہیں۔ پیئرسن (Pierson) اِس بات کی یوں وضاحت کرتا ہے:
«روپے پیسے کو بائبلیں، کتابیں اور ٹریکٹ وغیرہ خریدنے اور یوں بالواسطہ روحیں جیتنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اِس طرح مادی اور دُنیوی چیزیں غیر فانی، غیر مادی، روحانی اور ابدی بن جاتی ہیں۔ ایک آدمی کو لے لیجئے جس کے پاس ہزار روپیہ ہے۔ وہ اِس ساری رقم کو ضیافت یا پارٹی پر خرچ کر سکتا ہے۔ اِس صورت میں اگلے دن کچھ بھی نہیں بچے گا۔ دوسری طرف وہ اِسی رقم کو بائبلیں خریدنے میں لگا سکتا ہے۔ اگر ایک جِلد پچاس روپے کی بھی ہو تو خدا کے کلام کی بیس جِلدیں خرید لے گا۔ اِس طرح وہ بڑی عقل مندی سے بادشاہی کا بیج بوئے گا۔ اِس بیج سے فصل پیدا ہو گی۔ بائبلوں کی نہیں بلکہ روحوں کی فصل۔ ناراستی کی دولت سے غیرفانی دوست پیدا ہو جائیں گے۔ یہ دوست اَبدی سکونت گاہوں میں اُس کا اِستقبال کریں گے۔»
یہ ہے ہمارے خداوند کی تعلیم۔ مادی مال و متاع کو دانائی کے ساتھ لگانے سے ہم اِنسانوں کی ابدی برکت میں حصے دار بن سکتے ہیں۔ ہم اِس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ جب آپ آسمان کے دروازوں پر پہنچیں تو وہاں خیر مقدم کرنے کو لوگ ہوں جو ہماری دعاؤں اور قربانیوں سے بچ گئے تھے۔ یہ لوگ اِن الفاظ کے ساتھ ہمارا شکریہ ادا کریں گے کہ «آپ ہی تھے جنہوں نے ہمیں یہاں آنے کی دعوت دی تھی۔»
ڈاربی (Darby) یوں تبصرہ کرتا ہے کہ:
«عام معنوں میں ہر اِنسان خدا کا مختار ہے۔ ایک اَور مفہوم میں اور ایک اَور لحاظ سے اِسرائیلی قوم خدا کی مختار تھی۔ اُسے خدا کے تاکستان میں رکھا گیا تھا۔ شریعت اُس کے سپرد ہوئی تھی۔ وعدے، عہد اور عبادت گزاری اُسے سونپی گئی تھی۔ مگر اِن سب باتوں میں اِسرائیل نے خدا کے مال کو ضائع کر دیا ہے۔ بہ حیثیت مختار اِنسان بالکل بے وفا ثابت ہوا۔ اب کیا کِیا جا سکتا ہے؟ خدا آ کر اپنے اِختیارِ کلی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے فضل سے جن چیزوں کو اِنسان نے زمین پر بالکل غلط استعمال کیا تھا، اُن ہی کو آسمانی پھل کا وسیلہ بنا دیتا ہے۔ دُنیا کی چیزیں اِنسان کے ہاتھ میں ہیں مگر اُنہیں دُنیا کی آسائشوں کے لئے استعمال نہیں بلکہ مستقبل کو مدِنظر رکھتے ہوئے استعمال کرنی چاہئے۔ ہمیں اِن چیزوں کا اِس جہان میں ذخیرہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اِن کو درست طور پر استعمال کر کے مستقبل کے لئے برکت کا باعث بنانا ہے۔ اِس وقت روپے پیسے پر ملکیت جمانے سے بہتر ہے کہ ساری رقم خرچ کر کے آئندہ وقت کے لئے دوست پیدا کر لیا جائے۔ یہاں اِنسان تباہی اور ہلاکت کی طرف جا رہا ہے۔ اِس لئے یہاں اِنسان بے موقع مختار ہے۔»
۱۶:۱۰ اگر ہم اپنے «تھوڑے سے تھوڑے» (روپیہ پیسہ) کی مختاری میں «دیانت دار» رہیں گے تو «بہت میں» (روحانی خزانوں کے) «بھی دیانت دار» ہوں گے۔ دوسری طرف جو شخص خدا کے سونپے ہوئے روپے پیسے کے استعمال میں بددیانت ہو گا تو اگر بڑی چیزیں اُس کے سپرد ہوں گی تو اُن میں بھی بددیانت رہے گا۔ روپے پیسے کی نسبتاً کم اہمیت کو واضح کرنے کے لئے «تھوڑے سے تھوڑے» کی ترکیب استعمال کی گئی ہے۔
۱۶:۱۱ جو شخص «ناراست دولت» کو خداوند کے لئے استعمال کرنے میں دیانت دار «نہ ٹھہرے» وہ کبھی توقع نہیں رکھ سکتا کہ «حقیقی دولت» اُس کے سپرد کی جائے گی۔ یہاں روپے پیسے کو «ناراست دولت» کہا گیا ہے۔ روپیہ پیسہ اپنی ذات میں بنیادی طور پر بُرا نہیں۔ اگر گناہ دُنیا میں داخل نہ ہوتا تو غالباً اِس کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ روپے پیسے اور دولت کو «ناراست» کہا گیا ہے کیونکہ اِسے اکثر خدا کے جلال کے لئے نہیں بلکہ دوسرے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں اِس کا مقابلہ «حقیقی دولت» کے ساتھ کیا گیا ہے۔ روپے پیسے یا دولت کی قدر و قیمت غیر یقینی اور عارضی ہوتی ہے جب کہ روحانی حقیقتوں کی قدر و قیمت قائم اور دائمی ہوتی ہے۔
۱۶:۱۲ آیت ۱۲ «بیگانہ مال» اور «جو تمہارا اپنا ہے»، اُس میں اِمتیاز کرتی ہے۔ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے، مثلاً ہمارا وقت، ہماری صلاحیتیں، ہمارا روپیہ پیسہ، وہ سب خداوند کا ہے اور ہمیں اِن سب کو اُسی کے لئے استعمال کرنا ہے۔ «جو تمہارا اپنا ہے» سے اُس اَجر کا بیان ہوتا ہے جو ہم اِس زندگی میں اور آنے والی زندگی میں پاتے ہیں۔ اور جو اِس بات کا نتیجہ ہے کہ ہم دیانت داری اور وفاداری سے مسیح کی خدمت کرتے رہے ہیں۔ اگر ہم اُس مال میں دیانت دار نہیں نکلتے جو «اُس کا» ہے تو «جو ہمارا ہے» وہ ہمیں کیونکر دے گا؟
۱۶:۱۳ یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ بیک وقت «خدا» اور «دولت» دونوں کے لئے زندگی بسر کی جائے۔ اگر دولت یا روپیہ پیسہ ہمارا مالک بن جائے تو ہم کسی صورت میں خداوند کی عبادت نہیں کر سکتے۔ دولت جمع کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی بہترین کوششیں اِس کے لئے وقف کر دیں۔ اِس عمل ہی سے ہم خدا سے وہ چیز چوری کر لیتے ہیں جو جائز طور پر اُسی کی ہے۔ یہ دوہری وفاداری کا مسئلہ ہے۔ نیت دونوں طرف ہوتی ہے، فیصلے غیر جانب دارانہ نہیں ہوتے۔ جہاں ہمارا خزانہ ہوتا ہے، وہیں ہمارا دل بھی لگا رہتا ہے۔ دولت حاصل کرنے کی کوششوں میں ہم «مایا دیوی» کی پوجا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ خدا کی خدمت کرنا بالکل ناممکن ہے۔ «مایا دیوی» یعنی دولت پکار پکار کر کہتی ہے کہ اپنا آپ اور اپنا سب کچھ مجھے دے دو۔ ہماری شامیں، ہماری چھٹیاں وغیرہ جو خداوند کو ملنی چاہئیں، وہ سب حصولِ دولت کے لئے وقف ہو جاتی ہیں۔
ث۔ زَردوست فریسی (۶۱:۱۴-۱۸)
۱۶:۱۴ فریسی نہ صرف مغرور اور ریاکار تھے، بلکہ لالچی اور زَردوست بھی تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ خدا پرستی بھی منافعے کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ مذہب کو ایسے ہی اِختیار کرتے تھے جیسے کوئی شخص نفع بخش پیشہ اِختیار کرتا ہے۔ اُن کی عبادت کا مقصد خدا کو جلال دینا نہیں، پڑوسیوں کی مدد کرنا نہیں بلکہ دولت سمیٹنا تھا۔ جب اُنہوں نے خداوند یسوع کو یہ تعلیم دیتے سنا کہ تمہیں اِس دُنیا میں دولت کو ترک کر دینا اور آسمان پر خزانہ جمع کرنا چاہئے تو وہ یسوع کو «ٹھٹھے میں اُڑانے لگے۔» اُن کی نظر میں خدا کے وعدوں کی نسبت دولت زیادہ ٹھوس حقیقت تھی۔ کوئی چیز اُنہیں دولت جمع کرنے سے روک نہیں سکتی تھی۔
۱۶:۱۵ بظاہر تو فریسی خدا پرست اور روحانی تھے۔ وہ اپنے آپ کو «آدمیوں کے سامنے» راست باز ٹھہراتے تھے۔ لیکن اِس فریبی ظاہر کے نیچے «خدا» کو اُن کے «دلوں» کا لالچ صاف نظر آتاتھا۔ وہ اُن کی ظاہر داری سے دھوکا نہیں کھاتا تھا۔ جس قسم کی زندگی وہ دکھاتے تھے اور جس کی تعریف دوسرے لوگ کرتے تھے (زبور ۴۹:۱۸) «وہ خدا کے نزدیک مکروہ ہے۔» وہ اپنے آپ کو اِس لئے کامیاب گردانتے تھے کہ مذہبی دعوؤں کو مالی خوش حالی کے ساتھ ساتھ رکھتے تھے۔ لیکن خدا کی نظر میں وہ روحانی ملاوٹ کرنے والے تھے۔ وہ یہوواہ کے ساتھ محبت کے دعوے کرتے تھے لیکن اصل میں دولت اُن کا خدا تھی۔
۱۶:۱۶ آیات ۱۶ -۱۸ کے تسلسل کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ پہلی نظر میں اِن میں کوئی تعلق دِکھائی نہیں دیتا۔ اِن کا سرا گذشتہ باتوں سے ملتا ہے نہ بعد میں آنے والی باتوں سے۔ لیکن اگر ہم باب ۱۶ کے موضوع کو دھیان میں رکھیں تو یہ مشکل حل ہو جاتی ہے۔ اِس بات کا موضوع فریسیوں کی بے وفائی، بددیانتی اور زر دوستی ہے۔ وہ اِس بات پر فخر کرتے تھے کہ ہم بڑی احتیاط کے ساتھ شریعت پر چلتے ہیں۔ مگر خداوند نے اُن کو بے نقاب کر دیا کہ یہ حریص ریاکار ہیں۔ شریعت کی روح فریسیوں کی روح کے بالکل اُلٹ تھی۔
«شریعت اور انبیا یوحنا تک رہے۔» اِن الفاظ کے ساتھ خداوند نے شریعت کے اِنتظام کا بیان کیا جس کا آغاز موسیٰ سے اور انجام یوحنا بپتسمہ دینے والے پر ہوا۔ لیکن اب کیا نئے اِنتظام کا آغاز ہو رہا تھا؟ یوحنا کے وقت سے لے کر «خدا کی بادشاہی کی خوش خبری دی» جا رہی تھی۔ بپتسمہ دینے والا منادی کرتا پھرتا تھا کہ اِسرائیل کا جائز اور حق دار بادشاہ آ گیا ہے۔ وہ لوگوں کو بتاتا تھا کہ اگر تم توبہ کرو گے تو خداوند یسوع تم پر بادشاہی کرے گا۔ اُس کی منادی اور بعد میں خود خداوند اور شاگردوں کی منادی کے نتیجے میں بہت سے لوگ بڑے شوق سے متوجہ ہوئے تھے۔
«ہر ایک زور مار کر اُس میں داخل ہوتا ہے۔» مراد یہ ہے کہ جنہوں نے خوش خبری پر کان لگایا اور اُس کو قبول کیا، وہ حقیقی معنوں میں زور مار کر بادشاہی میں داخل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر محصول لینے والوں اور گنہگاروں کو اُن رکاوٹوں کو پھاند اور پھلانگ کر آنا پڑتا تھا جو فریسیوں نے کھڑی کر رکھی تھیں۔ دوسروں کو اپنے دل میں چھپی ہوئی دولت کی محبت سے لڑنا اور اُس پر غالب آنا پڑتا تھا۔ ہر قسم کے تعصب پر غالب آنا پڑتا تھا۔
۱۶:۱۷،۱۸ لیکن نئے اِنتظام کا یہ مطلب نہیں کہ اخلاقی سچائیوں کو ترک کیا جا رہا ہے کیونکہ «آسمان اور زمین کا ٹل جانا شریعت کے ایک نقطے کے مٹ جانے سے آسان ہے۔» آپ جانتے ہیں کہ نقطہ کتنا چھوٹا ہوتا ہے۔
فریسیوں کو گمان تھا کہ ہم خدا کی بادشاہی کے اندرہیں۔ لیکن خداوند اُن سے کہہ رہا ہے کہ «یہ ممکن نہیں کہ تم خدا کے عظیم اخلاقی آئین کی پروا بھی نہ کرو اور اُس کی بادشاہی میں مقام رکھنے کا دعویٰ بھی کرو۔» شاید وہ پوچھتے ہوں کہ «وہ کون سے عظیم اخلاقی آئین ہیں جن کی ہم پروا نہیں کرتے؟» اِس پر خداوند نے شادی (بیاہ) کے آئین (قانون) کا ذکر کیا جو کبھی منسوخ نہیں ہو سکتا یا «مٹ» نہیں سکتا۔ «جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسری سے بیاہ کرے وہ زِنا کرتا ہے اور جو شخص شوہر کی چھوڑی ہوئی عورت سے بیاہ کرے وہ بھی زِنا کرتا ہے۔» روحانی لحاظ سے فریسی بالکل یہی کر رہے تھے۔ یہودی قوم کا خدا کے ساتھ عہد بندھا ہوا تھا۔ لیکن یہ فریسی خدا سے منہ موڑ کر دیوانہ وار مادی دولت سمیٹنے کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے۔ غالباً یہ آیت یہ اشارہ بھی دیتی ہے کہ وہ روحانی زِنا کاری کے ساتھ ساتھ لفظی معنوں میں بھی زِناکاری کے مرتکب ہو رہے تھے۔
خ۔ دولت مند آدمی اور لعزر (۱۶:۱۹-۳۱)
۱۶:۱۹-۲۱ خداوند مادی چیزوں کی مختاری پر گفتگو کر رہا تھا۔ اِس گفتگو کے اِختتام پر وہ دو زندگیوں، دو موتوں اور دو آئندہ جہانوں کا ذکر کرتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ باتیں تمثیل کے طور پر نہیں کہی گئیں۔ ہم یہ خاص اِس لئے کہہ رہے ہیں کہ بعض ناقدین یہاں موجود سنجیدہ مضمرات کو تمثیل سمجھ کر بیان کرتے ہیں۔
ہم شروع ہی میں واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اِس گمنام دولت مند شخص کو عالمِ ارواح کی سزا اِس لئے نہیں ہوئی تھی کہ وہ دولت مند تھا۔ نجات کی بنیاد خداوند پر ایمان ہے۔ اور اِنسانوں کو سزا اِس لئے ملتی ہے کہ وہ اُس پر ایمان لانے سے اِنکار کر دیتے ہیں۔ لیکن اِس دولت مند شخص کو اُس «غریب» کی کوئی پروا نہ تھی جسے «اُس کے دروازہ پر ڈالا گیا تھا۔» اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ اُس میں نجات بخش ایمان نہیں تھا۔ اگر اُس میں خدا کی محبت ہوتی تو وہ ہرگز عیش و عشرت کی زندگی نہ گزارتا۔ نہ آرام و آسائش میں پڑا رہتا جب کہ ایک ہم جنس اِنسان اُس کے دروازے پر پڑا اُس کی «میز سے گرے ہوئے ٹکڑوں» کی بھیک مانگتا تھا بلکہ وہ «زور مار کر» دولت کی محبت ترک کرتا اور خدا کی بادشاہی میں داخل ہو جاتا۔
اِسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ لعزر کو اِس لئے نجات نہیں ملی کہ وہ غریب تھا بلکہ اُس نے اپنی روح کی نجات کے لئے خداوند پر اِعتماد رکھا تھا۔
اب دولت مند آدمی کی تصویر پر غور کریں۔ وہ نہایت قیمتی اور اپنی پسند کے بنے ہوئے کپڑے پہنتا تھا۔ اور اُس کی میز عمدہ ترین کھانوں سے بھری ہوتی تھی۔ وہ صرف اپنی ذات کے لئے جیتا اور اپنی جسمانی خواہشات کو پورا کرتا تھا۔ اُس کے دل میں خدا کی خالص محبت نہیں تھی نہ اپنے ہم جنس اِنسانوں کی فکر تھی۔
لعزر ایک زبردست تقابُل پیش کرتا ہے۔ ناپاک کتے اُس کو تنگ کرتے تھے کہ «آ کر اُس کے ناسور چاٹتے تھے»۔
۱۶:۲۲ جب یہ «غریب مر گیا» تو «فرشتوں نے اُسے لے جا کر ابرہام کی گود میں پہنچا دیا۔» کئی لوگ سوال اُٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی فرشتے ایمان داروں کی روحوں کو آسمان پر پہنچانے میں شامل ہوتے ہیں۔ ہمیں اِن الفاظ کے زور اور قوت میں شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ موجودہ زندگی میں بھی فرشتے ایمان داروں کی خدمت کرتے ہیں۔ اور کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ موت کے وقت وہ خدمت نہیں کرتے ہوں گے۔ «ابرہام کی گود» تمثیلی اِصطلاح ہے جو خوشی اور برکت کے مقام کو ظاہر کرتی ہے۔ ہر یہودی کے لئے یہ خیال ہی نہایت ناقابلِ بیان برکت اور مسرت کا باعث ہے کہ ابرہام کے ساتھ رفاقت و شراکت نصیب ہو۔ ہمارے خیال کے مطابق «ابرہام کی گود» اور آسمان یا بہشت ایک ہی جگہ ہے۔ جب وہ «دولت مند بھی موا» تو اُس کا بدن دفن کر دیا گیا۔ وہی بدن جس کی وہ اِتنی پرورش اور دیکھ بھال کرتا تھا اور جس پر اِتنا مال خرچ کیا کرتا تھا۔
۱۶:۲۳،۲۴ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اُس کی روح یا «شعوری ذات» «عالمِ ارواح» میں پہنچی۔ «عالمِ ارواح» پرانے عہدنامے کے «شیول» (پاتال) کا ترجمہ ہے۔ یہ وہ حالت ہے جس میں دُنیا سے رُخصت ہو جانے والی روحیں رہتی ہیں۔ پرانے عہدنامے کے زمانے میں اِسے وہ جگہ بتایا جاتا تھا جہاں نجات یافتہ اور غیر نجات یافتہ ساری روحیں رہتی ہیں۔ یہاں اِس کا بیان غیر نجات یافتہ روحوں کی سکونت گاہ کے طور پر ہوا ہے کیونکہ لکھا ہے کہ دولت مند شخص وہاں «عذاب میں مبتلا» تھا۔
شاگردوں کو خداوند کی اِس بات سے دھچکا لگا ہو گا کہ دولت مند شخص «عالمِ ارواح» میں گیا۔ اُن کو پرانے عہدنامے سے ہمیشہ یہی تعلیم ملی تھی کہ دولت خدا کی برکت اور رحمت کا نشان ہے۔ وعدہ کیا گیا تھا کہ جو اِسرائیلی خداوند کی فرماں برداری کرے گا، اُسے مادی اور مالی خوش حالی کی برکت ملے گی۔ تو پھر ایک دولت مند یہودی کس طرح عالمِ ارواح میں جا سکتا ہے؟ خداوند یسوع نے تھوڑی ہی دیر پہلے اعلان کیا تھا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کی منادی کے ساتھ ایک نئے نظام کا آغاز ہو گیا ہے۔ اب سے دولت برکت کی علامت نہیں رہی بلکہ مختاری میں اِنسان کی دیانت داری کی آزمائش کے لئے ہے جس کو زیادہ سونپا گیا ہے، اُس سے زیادہ طلب کیا جائے گا۔
آیت ۲۳ اِس نظریے کو غلط ثابت کرتی ہے کہ «روحیں نیند کی حالت» میں ہوتی ہیں یعنی موت اور قیامت کے درمیانی عرصے میں روح کو کچھ احساس یا شعور نہیں ہوتا بلکہ ثابت ہوتا ہے کہ قبر کے آگے بھی شعوری وجود ہوتا ہے۔ ہم دولت مند آدمی کے علم اور شعور کو دیکھ کر سخت حیران رہ جاتے ہیں۔ اُس نے «ابرہام کو دُور سے دیکھا اور اُس کی گود میں لعزر کو» بلکہ وہ ابرہام کے ساتھ بات چیت بھی کر سکتا تھا۔ دولت مند شخص نے اُسے «اے باپ ابرہام» کہہ کر مخاطب کیا اور منت کی کہ «مجھ پر رحم کر کے لعزر کو بھیج کہ اپنی اُنگلی کا سرا پانی میں بھگو کر میری زُبان تر کرے»۔ یہاں بے شک یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک بے بدن روح آگ کے شعلے سے پیاس وغیرہ کس طرح محسوس کر سکتی ہے۔ ہم صرف اِسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ بیان علامتی اور تمثیلی ہے، لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دُکھ اور عذاب حقیقی نہیں تھے۔
۱۶:۲۵ ابرہام نے اُس کو «بیٹا!»کہہ کر مخاطب کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسمانی لحاظ سے وہ ابرہام کی نسل سے تھا جب کہ اِتنا تو واضح ہے کہ روحانی اعتبار سے وہ ابرہام کی اولاد نہیں تھا۔ بزرگ ابرہام نے اُس کو یاد دلایا کہ تُو عیش و آرام کیزندگی گزارتا رہا ہے۔ اِس کے ساتھ ہی اُس «لعزر» کی غربت اور دُکھوں بھری زندگی بھی یاد دلائی۔ اب قبر سے آگے کی زندگی میں پانسہ پلٹ چکا ہے۔
۱۶:۲۶ ہم سیکھتے ہیں کہ اِس زندگی میں کئے گئے کام موت کے فوراً بعد اگلی زندگی کی حالت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اور وہاں کا حشر یا انجام قائم رہتا ہے۔ اِس میں تبدیلی ممکن نہیں۔ نجات یافتہ اور سزا یافتہ روحوں کے درمیان ایسی جدائی ہے جسے کوئی عبور نہیں کر سکتا۔
۶۱:۲۷-۳۱ موت کی حالت میں وہ دولت مند شخص ایک دَم مبشر بن گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ کوئی اُس کے پانچ بھائیوں کے پاس جا کر اُن کو خبردار کرے تاکہ وہ «اِس عذاب کی جگہ» میں نہ آئیں۔ ابرہام کا جواب یہ تھا کہ یہ پانچ بھائی یہودی ہیں۔ اِس لئے اُن کے پاس پرانے عہدنامے کے صحائف تو موجود ہیں۔ اُن کو خبردار ہونے کے لئے یہی کافی ہونے چاہئیں۔ دولت مند «ابرہام» کی بات کو کاٹ کر کہنے لگا کہ «ہاں، اگر کوئی مُردوں میں سے اُن کے پاس جائے تو وہ توبہ کریں گے۔» لیکن ابرہام نے حتمی بات بیان کی کہ خدا کے کلام کو نہ سننا ہی آخری فیصلہ کن بات ہے۔ اگر لوگ بائبل مقدس کی بات نہیں مانتے تو «اگر مُردوں میں سے کوئی جی اُٹھے تو اُس کی بھی نہ مانیں گے۔» یہ حقیقت خود خداوند یسوع کے معاملے میں ثابت ہو جاتی ہے۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا مگر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
نئے عہدنامے سے ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی ایمان دار رِحلت کر جاتا ہے تو اُس کا بدن تو قبر میں جاتا ہے مگر اُس کی روح آسمان میں مسیح کے پاس جاتی ہے (۲۔کرنتھیوں ۵:۸؛ فلپیوں ۱:۲۳) ۔ جب کوئی بے ایمان مر جاتا ہے تو اُس کا بدن بھی اُسی طرح قبر میں جاتا ہے مگر اُس کی روح عالمِ ارواح میں جاتی ہے۔ اُس کے لئے عالمِ ارواح پچھتاوے اور عذاب کی جگہ ہے۔
فضائی استقبال کے موقعے پر ایمان داروں کے بدن قبروں سے اُٹھائے جائیں گے۔ اُن کا اپنی جانوں اور روحوں کے ساتھ اتحاد بحال ہو گا (۱۔تھسلنیکیوں ۴:۱۳-۸۱) ۔ پھر وہ اَبد تک مسیح کے ساتھ سکونت کریں گے۔ بڑے سفید تخت کے سامنے عدالت کے موقعے پر بے ایمانوں کے بدن، روحیں اور جانیں بھی دوبارہ باہم ملیں گے (مکاشفہ ۲۰:۱۲،۱۳) ۔ اِس کے بعد اُن کو آگ کی جھیل، یعنی اَبدی سزا کی جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔
اِس طرح باب ۱۶ کا اِختتام فریسیوں کو بڑی سنجیدہ تنبیہ پر ہوتا ہے۔ اِس کے ساتھ اُن سب کو بھی خبردار کیا گیا ہے جو روپے پیسے اور دولت کی محبت میں گرفتار ہیں۔ تہی دست ہو کر زمین پر روٹی کی بھیک مانگنا عالمِ ارواح میں پانی کی بھیک مانگنے سے بہتر ہے۔
مقدس کتاب
۱- تھوڑے عرصہ کے بعد یُوں ہُؤا کہ وہ مُنادی کرتا اور خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری سُناتا ہُؤا شہر شہر اور گاؤں گاؤں پِھرنے لگا اور وہ بارہ اُس کے ساتھ تھے۔
۲- اور بعض عَورتیں جِنہوں نے بُری رُوحوں اور بِیمارِیوں سے شِفا پائی تھی یعنی مریمؔ جو مگدلینی کہلاتی تھی جِس میں سے سات بدرُوحیں نِکلی تِھیں۔
۳- اور یُوأنہ ہیرودؔیس کے دِیوان خُوزؔہ کی بِیوی اور سُوسنّاؔہ اور بُہتیری اَور عَورتیں بھی تِھیں جو اپنے مال سے اُن کی خِدمت کرتی تِھیں۔
۴- پِھر جب بڑی بِھیڑ جمع ہُوئی اور ہر شہر کے لوگ اُس کے پاس چلے آتے تھے اُس نے تمثِیل میں کہا کہ
۵- ایک بونے والا اپنا بِیج بونے نِکلا اور بوتے وقت کُچھ راہ کے کنارے گِرا اور رَوندا گیا اور ہوا کے پرِندوں نے اُسے چُگ لِیا۔
۶- اور کُچھ چٹان پر گِرا اور اُگ کر سُوکھ گیا اِس لِئے کہ اُس کو تَری نہ پُہنچی۔
۷- اور کُچھ جھاڑِیوں میں گِرا اور جھاڑِیوں نے ساتھ ساتھ بڑھ کر اُسے دبا لِیا۔
۸- اور کُچھ اچھّی زمِین میں گِرا اور اُگ کر سَو گُنا پَھل لایا۔ یہ کہہ کر اُس نے پُکارا۔ جِس کے سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے!
۹- اُس کے شاگِردوں نے اُس سے پُوچھا کہ یہ تمثِیل کیا ہے؟
۱۰- اُس نے کہا تُم کو خُدا کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر اَوروں کو تمثِیلوں میں سُنایا جاتا ہے تاکہ دیکھتے ہُوئے نہ دیکھیں اور سُنتے ہُوئے نہ سمجھیں۔
۱۱- وہ تمثِیل یہ ہے کہ بِیج خُدا کا کلام ہے۔
۱۲- راہ کے کنارے کے وہ ہیں جِنہوں نے سُنا۔ پِھر اِبلِیس آ کر کلام کو اُن کے دِل سے چِھین لے جاتا ہے۔ اَیسا نہ ہو کہ اِیمان لا کر نجات پائیں۔
۱۳- اور چٹان پر کے وہ ہیں جو سُن کر کلام کو خُوشی سے قبُول کر لیتے ہیں لیکن جڑ نہیں رکھتے مگر کُچھ عرصہ تک اِیمان رکھ کر آزمایش کے وقت پِھر جاتے ہیں۔
۱۴- اور جو جھاڑِیوں میں پڑا اُس سے وہ لوگ مُراد ہیں جِنہوں نے سُنا لیکن ہوتے ہوتے اِس زِندگی کی فِکروں اور دَولت اور عَیش و عِشرت میں پھنس جاتے ہیں اور اُن کا پَھل پَکتا نہیں۔
۱۵- مگر اچھّی زمِین کے وہ ہیں جو کلام کو سُن کر عُمدہ اور نیک دِل میں سنبھالے رہتے اور صبر سے پَھل لاتے ہیں۔
۱۶- کوئی شخص چراغ جلا کر برتن سے نہیں چِھپاتا نہ پلنگ کے نِیچے رکھتا ہے بلکہ چراغ دان پر رکھتا ہے تاکہ اندر آنے والوں کو رَوشنی دِکھائی دے۔
۱۷- کیونکہ کوئی چِیز چُھپی نہیں جو ظاہِر نہ ہو جائے گی اور نہ کوئی اَیسی پوشِیدہ بات ہے جو معلُوم نہ ہو گی اور ظہُور میں نہ آئے گی۔
۱۸- پس خبردار رہو کہ تُم کِس طرح سُنتے ہو کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے دِیا جائے گا اور جِس کے پاس نہیں ہے اُس سے وہ بھی لے لِیا جائے گا جو اپنا سمجھتا ہے۔
۱۹- پِھر اُس کی ماں اور اُس کے بھائی اُس کے پاس آئے مگر بِھیڑ کے سبب سے اُس تک پہنچ نہ سکے۔
۲۰- اور اُسے خبر دی گئی کہ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تُجھ سے مِلنا چاہتے ہیں۔
۲۱- اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ میری ماں اور میرے بھائی تو یہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں۔
۲۲- پِھر ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ اور اُس کے شاگِرد کشتی میں سوار ہُوئے اور اُس نے اُن سے کہا آؤ جِھیل کے پار چلیں۔ پس وہ روانہ ہُوئے۔
۲۳-مگر جب کشتی چلی جاتی تھی تو وہ سو گیا اور جِھیل پر بڑی آندھی آئی اور کشتی پانی سے بھری جاتی تھی اور وہ خطرہ میں تھے۔
۲۴- اُنہوں نے پاس آ کر اُسے جگایا اور کہا کہ صاحِب صاحِب ہم ہلاک ہُوئے جاتے ہیں! اُس نے اُٹھ کر ہوا کو اور پانی کے زور شور کو جِھڑکا اور دونوں تھم گئے اور امن ہو گیا۔
۲۵- اُس نے اُن سے کہا تُمہارا اِیمان کہاں گیا؟ وہ ڈر گئے اور تعجُّب کر کے آپس میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے؟ یہ تو ہوا اور پانی کو حُکم دیتا ہے اور وہ اُس کی مانتے ہیں۔
۲۶- پِھر وہ گراسینیوؔں کے عِلاقہ میں جا پہنچے جو اُس پار گلِیل کے سامنے ہے۔
۲۷- جب وہ کنارے پر اُترا تو اُس شہر کا ایک مَرد اُسے مِلا جِس میں بدرُوحیں تِھیں اور اُس نے بڑی مُدّت سے کپڑے نہ پہنے تھے اور وہ گھر میں نہیں بلکہ قبروں میں رہا کرتا تھا۔
۲۸- وہ یِسُوعؔ کو دیکھ کر چِلّایا اور اُس کے آگے گِر کر بُلند آواز سے کہنے لگا اَے یِسُوعؔ! خُدا تعالےٰ کے بیٹے۔ مُجھے تُجھ سے کیا کام؟ تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے عذاب میں نہ ڈال۔
۲۹- کیونکہ وہ اُس ناپاک رُوح کو حُکم دیتا تھا کہ اِس آدمی میں سے نِکل جا۔ اِس لِئے کہ اُس نے اُس کو اکثر پکڑا تھا اور ہر چند لوگ اُسے زنجِیروں اور بیڑیوں سے جکڑ کر قابُو میں رکھتے تھے تَو بھی وہ زنجِیروں کو توڑ ڈالتا تھا اور بدرُوح اُس کو بیابانوں میں بھگائے پِھرتی تھی۔
۳۰- یِسُوعؔ نے اُس سے پُوچھا تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا لشکر کیونکہ اُس میں بُہت سی بدرُوحیں تِھیں۔
۳۱- اور وہ اُس کی مِنّت کرنے لگیں کہ ہمیں اتھاہ گڑھے میں جانے کا حُکم نہ دے۔
۳۲- وہاں پہاڑ پر سُؤروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس کی مِنّت کی کہ ہمیں اُن کے اندر جانے دے۔ اُس نے اُنہیں جانے دِیا۔
۳۳- اور بدرُوحیں اُس آدمی میں سے نِکل کر سُؤروں کے اندر گئِیں اور غول کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جِھیل میں جا پڑا اور ڈُوب مَرا۔
۳۴- یہ ماجرا دیکھ کر چرانے والے بھاگے اور جا کر شہر اور دیہات میں خبر دی۔
۳۵- لوگ اُس ماجرے کے دیکھنے کو نِکلے اور یِسُوعؔ کے پاس آ کر اُس آدمی کو جِس میں سے بدرُوحیں نِکلی تِھیں کپڑے پہنے اور ہوش میں یِسُوعؔ کے پاؤں کے پاس بَیٹھے پایا اور ڈر گئے۔
۳۶- اور دیکھنے والوں نے اُن کو خبر دی کہ جِس میں بدرُوحیں تِھیں وہ کِس طرح اچھّا ہُؤا۔
۳۷- اور گراسینیوں کے گِرد و نواح کے سب لوگوں نے اُس سے درخواست کی کہ ہمارے پاس سے چلا جا کیونکہ اُن پر بڑی دہشت چھا گئی تھی۔ پس وہ کشتی میں بَیٹھ کر واپس گیا۔
۳۸- لیکن جِس شخص میں سے بدرُوحیں نِکل گئی تِھیں وہ اُس کی مِنّت کر کے کہنے لگا کہ مُجھے اپنے ساتھ رہنے دے مگر یِسُوعؔ نے اُسے رُخصت کر کے کہا۔
۳۹- اپنے گھر کو لَوٹ کر لوگوں سے بیان کر کہ خُدا نے تیرے لِئے کَیسے بڑے کام کِئے۔ وہ روانہ ہو کر تمام شہر میں چرچا کرنے لگا کہ یِسُوعؔ نے میرے لِئے کَیسے بڑے کام کِئے۔
۴۰- جب یِسُوعؔ واپس آ رہا تھا تو لوگ اُس سے خُوشی کے ساتھ مِلے کیونکہ سب اُس کی راہ تکتے تھے۔
۴۱- اور دیکھو یائِیر نام ایک شخص جو عِبادت خانہ کا سردار تھا آیا اور یِسُوعؔ کے قدموں پر گِر کر اُس سے مِنّت کی کہ میرے گھر چل۔
۴۲- کیونکہ اُس کی اِکلَوتی بیٹی جو قرِیباً بارہ برس کی تھی مَرنے کو تھی اور جب وہ جا رہا تھا تو لوگ اُس پر گِرے پڑتے تھے۔
۴۳- اور ایک عَورت نے جِس کے بارہ برس سے خُون جاری تھا اور اپنا سارا مال حکِیموں پر خرچ کر چُکی تھی اور کِسی کے ہاتھ سے اچھّی نہ ہو سکی تھی۔
۴۴- اُس کے پِیچھے آ کر اُس کی پوشاک کا کنارہ چُھؤا اور اُسی دَم اُس کا خُون بہنا بند ہو گیا۔
۴۵- اِس پر یِسُوعؔ نے کہا وہ کون ہے جِس نے مُجھے چُھؤا؟ جب سب اِنکار کرنے لگے تو پطرؔس اور اُس کے ساتِھیوں نے کہا کہ اَے صاحِب لوگ تُجھے دباتے اور تُجھ پر گِرے پڑتے ہیں۔
۴۶- مگر یِسُوعؔ نے کہا کہ کِسی نے مُجھے چُھؤا تو ہے کیونکہ مَیں نے معلُوم کِیا کہ قُوّت مُجھ سے نِکلی ہے۔
۴۷- جب اُس عَورت نے دیکھا کہ مَیں چُھپ نہیں سکتی تو کانپتی ہُوئی آئی اور اُس کے آگے گِر کر سب لوگوں کے سامنے بیان کِیا کہ مَیں نے کِس سبب سے تُجھے چُھؤا اور کِس طرح اُسی دَم شِفا پا گئی۔
۴۸- اُس نے اُس سے کہا بیٹی! تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کِیا ہے۔ سلامت چلی جا۔
۴۹- وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عِبادت خانہ کے سردار کے ہاں سے کِسی نے آ کر کہا کہ تیری بیٹی مَر گئی۔ اُستاد کو تکلِیف نہ دے۔
۵۰- یِسُوعؔ نے سُن کر اُسے جواب دِیا کہ خَوف نہ کر فقط اِعتقاد رکھ۔ وہ بچ جائے گی۔
۵۱- اور گھر میں پہنچ کر پطرؔس اور یُوحنّا اور یعقُوب اور لڑکی کے ماں باپ کے سِوا کِسی کو اپنے ساتھ اندر نہ جانے دِیا۔
۵۲- اور سب اُس کے لِئے رو پِیٹ رہے تھے مگر اُس نے کہا۔ ماتم نہ کرو۔ وہ مَر نہیں گئی بلکہ سوتی ہے۔
۵۳- وہ اُس پر ہنسنے لگے کیونکہ جانتے تھے کہ وہ مَر گئی ہے۔
۵۴- مگر اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور پُکار کر کہا اَے لڑکی اُٹھ۔
۵۵- اُس کی رُوح پِھر آئی اور وہ اُسی دَم اُٹھی۔ پِھر یِسُوعؔ نے حُکم دِیا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دِیا جائے۔
۵۶- اُس کے ماں باپ حَیران ہُوئے اور اُس نے اُنہیں تاکِید کی کہ یہ ماجرا کِسی سے نہ کہنا۔