۷۔ ابنِ آدم کی روز افزوں مخالفت (۹:۵۱-۱۱:۵۴)
الف۔ سامریہ اُسے ردّ کرتا ہے (۹:۵۱-۵۶)
۹:۵۱ یسوع کا آسمان پر اُٹھائے جانے کا «دن» قریب آ رہا تھا۔ وہ اِس بات کو اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ درمیان میں صلیب رکھی ہوئی ہے۔ اِس لئے «اُس نے یروشلیم جانے کو کمر باندھی» تاکہ جو کچھ اُسے وہاں پیش آنے کا منتظر تھا، اُس کو برداشت کرے۔
۹:۵۲،۵۳ سامریوں کا ایک گاؤں اُن کے راستے میں پڑتا تھا۔ یہ گاؤں خدا کے بیٹے کے لئے نہایت غیر مہمان نواز ثابت ہوا۔ لوگ جانتے تھے کہ وہ «یروشلیم» کو جا رہا ہے۔ اُسے گاؤں میں ٹھہرنے سے روکنے کے لئے اِتنا ہی کافی تھا کیونکہ سامریوں اور یہودیوں کے درمیان سخت نفرت پائی جاتی تھی۔ اُن کی فرقہ پرست اور متعصبانہ روح، اُن کا نسلی غرور اور علیٰحدگی پسندانہ رویہ اُن کے جلال کے خداوند کو قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ تھا۔
۹:۵۴،۵۶ اُن سامریوں کی بداخلاقی پر یعقوب اور یوحنا کو اِتنا غصہ آیا کہ وہ اُن پر «آسمان سے آگ» برسانے پر آمادہ ہو گئے۔ مگر یسوع نے فوراً «اُن کو جھڑکا۔» وہ «لوگوں کی جان برباد کرنے نہیں بلکہ بچانے آیا» تھا۔ یہ ہمارے خداوند کا سالِ مقبول تھا، ہمارے خداوند کا روزِ اِنتقام نہیں تھا۔ اُن کے کردار میں اِنتقام کا جذبہ نہیں بلکہ رحم ہونا چاہئے تھا۔
ب۔ شاگردیت کی راہ میں رُکاوٹیں (۹:۵۷-۶۲)
۹:۵۷ اِن آیات میں ہم تین ایسے افراد سے ملتے ہیں جو مسیح کی پیروی کرنا چاہتے تھے۔ اُن کی وجہ سے شاگرد بننے کی راہ میں تین طرح کی رُکاوٹوں کی نشان دہی ہوتی ہے۔ پہلے شخص کو پورا اعتماد تھا کہ جہاں کہیں یسوع جائے مَیں اُس کے پیچھے چل سکتا ہوں۔ اُس نے صبر نہیں کیا کہ مجھے بلایا جائے بلکہ بے صبری سے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ وہ خود اعتماد، نامناسب طور پر گرم جوش تھا اور قیمت کا خیال نہیں کر رہا تھا۔ اُسے معلوم نہ تھا کہ مَیں کیا کہہ رہا ہوں۔
۹:۵۸ پہلی نظر میں تو لگتا ہے کہ یسوع کا جواب اُس آدمی کی پیش کش سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ لیکن دراصل تعلق بہت گہرا ہے۔ یسوع کا مطلب یہ تھا کہ «کیا تُو جانتا ہے کہ میرے پیچھے چلنے کا مطلب کیا ہے؟ اِس کا مطلب ہے زندگی کے آرام و آسائش کو خیرباد کہنا۔ میرے پاس تو کوئی گھر بھی نہیں جسے مَیں اپنا کہہ سکوں۔ یہ دُنیا تو مجھے سر رکھنے کی جگہ بھی نہیں دیتی۔ جہاں تک فطری اور طبعی آرام اور تحفظ کا تعلق ہے تو مجھ سے زیادہ «لومڑیوں» اور «پرندوں» کو حاصل ہے۔ کیا تُو میرے پیچھے چلنے کو تیار ہے؟ جب کہ اِس کا مطلب ہے اُن چیزوں کو بھی ترک کرنا جن کو اِنسان اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔» جب ہم پڑھتے ہیں کہ «ابنِ آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں» تو ہمیں اُس پر ترس آتا ہے۔ ہمیں اُس آدمی کے بارے میں اَور کچھ نہیں بتایا گیا۔ ہم یہی قیاس کر سکتے ہیں کہ وہ یسوع کے پیچھے چلنے کی خاطر دُنیا کے عام آرام و آسائش کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔
۹:۵۹ دوسرے آدمی نے یسوع کی بلاہٹ سنی کہ «میرے پیچھے چل۔» ایک لحاظ سے وہ اِس کے لئے تیار تھا مگر پہلے وہ ایک اَور کام کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے کہا، «اے خداوند! مجھے اِجازت دے کہ پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کروں۔» دوسرے لفظوں میں وہ کہہ رہا تھا «خداوند!… مَیں پہلے…» اُس نے یسوع کو «خداوند» کہہ کر مخاطب کیا، مگر اپنے مفادات اور خواہشات کو پہلا درجہ دیا۔ لفظ «خداوند» اور «مجھے… پہلے» ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں۔ ہم دونوں میں سے صرف ایک کا اِنتخاب کر سکتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ اُس کا «باپ» ابھی ابھی مرا تھا، یا وہ گھر جا کر اُس وقت تک اِنتظار کرنا چاہتا تھا جب تک وہ مر نہ جائے۔ صورتِ حال کچھ بھی ہو مسئلہ ایک ہی ہے کہ وہ کسی دوسری بات کو مسیح کی بلاہٹ پر ترجیح دے رہا تھا۔ مرے ہوئے یا مرنے والے باپ کو عزت و احترام دینا بالکل جائز اور مناسب بات ہے۔ لیکن جب کسی چیز یا شخص کو مسیح کے بالمقابل آنے کی اِجازت دی جاتی ہے تو وہ گناہ ہی ہے۔ یہ آدمی پہلے کوئی دوسرا کام کرنا چاہتا تھا۔ ہم شاید اپنی ملازمت یا کاروبار کو سامنے رکھتے ہیں۔ یہ باتیں ہمیں غیر مشروط شاگردیت کی راہ سے ہٹا کر اپنی طرف لبھا لیتی ہیں۔
۹:۶۰ خداوند نے اِس دو دِلے پن کی مذمت اِن الفاظ سے کی «مردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دے۔ لیکن تُو جا کر خدا کی بادشاہی کی خبر پھیلا۔» روحانی طور پر مُردہ لوگ جسمانی طور پر مُردہ لوگوں کو دفن تو کر سکتے ہیں مگر اِنجیل کی خوش خبری کی منادی نہیں کر سکتے۔ شاگردوں کو ایسے کاموں کو اہمیت نہیں دینی چاہئے جن کو غیر نجات یافتہ لوگ بھی اِتنی ہی عمدگی سے کر سکتے ہیں جیسے مسیحی کر سکتے ہیں۔ ایمان دار آدمی کو یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں تک اُس کی زندگی کے مرکزی کام کا تعلق ہے، وہ اُس ہی کو کرنا ہے۔ اُس کا مرکزی کام اِس دُنیا میں یسوع کے کام کو آگے بڑھانا ہے۔
۹:۶۱ تیسرا متوقع شاگرد بھی پہلے کے مشابہ ہے۔ اُس نے بھی رضاکارانہ پیش کش کی کہ «مَیں تیرے پیچھے چلوں گا۔» پھر وہ دوسرے آدمی کے مشابہ بھی کیونکہ اُس نے بھی متضاد بات کہی کہ «پہلے مجھے…» وہ «پہلے» اپنے خاندان کو خدا حافظ کہنا چاہتا تھا۔ ایک طرف سے یہ درخواست معقول اور جائز تھی۔ لیکن اگر زندگی کی عام خوش اخلاقی اور آداب کو فوری اور مکمل فرماں برداری پر ترجیح دی جائے تو وہ بھی غلط ہے۔
۹:۶۲ یسوع نے اُس سے کہا کہ شاگردیت کے «ہل پر ہاتھ رکھ کر» تجھے «پیچھے» نہیں دیکھنا چاہئے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو «خدا کی بادشاہی کے لائق نہیں»۔ مسیح کے شاگرد نیم دلانہ یا خواب بین جذباتیت سے نہیں بنتے۔ اگرچہ خاندانوں یا دوستوں کا خیال رکھنا اور اُن کی ذمہ داریاں پوری کرنا بالکل جائز اور مناسب ہے، لیکن اُن کو بالکل اِجازت نہ دی جائے کہ مسیح کی پیروی سے ہمیں روکیں۔ یہ الفاظ کہ «بادشاہی کے لائق نہیں» نجات کی طرف نہیں بلکہ خدمت کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔ یہاں سوال بادشاہی میں «داخل» ہونے کا نہیں بلکہ داخل ہونے کے بعد «خدمت‘ کرنے کا ہے۔ ہمارے بادشاہی میں داخل ہونے کا اِنحصار خداوند یسوع کی ذات اور کام پر ہے اور اُس پر ایمان کے وسیلے سے ہی یہ بادشاہی ہماری ہو جاتی ہے۔
چنانچہ اِن تین اشخاص کے تجربے میں شاگردیت کی راہ میں تین بڑی رُکاوٹوں کا پتا چلتا ہے:
- مادی آرام و آسائش
- ملازمت یا پیشہ یا کاروبار
- خاندان اور دوست
ضرور ہے کہ مسیح دل پر بادشاہی کرے اور اُس کا کوئی رقیب، کوئی مدِمقابل نہ ہو۔ باقی ساری محبتوں اور وفاداریوں کو ثانوی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔
ج۔ ستّر شاگردوں کو بھیجا جاتا ہے (۱۰:۱-۱۶)
۱۰:۱-۱۲ خداوند نے «ستّر» شاگردوں کو خوش خبری پھیلانے کے لئے بھیجا۔ اِس واقعے کا واحد ذکر یہیں پر ہے۔ یہ متی باب ۱۰ میں بارہ شاگردوں کو ذمہ داری سونپنے کے واقعے سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ البتہ وہاں شاگردوں کو شمالی علاقوں میں بھیجا گیا تھا، لیکن یہاں اِن ستّر کو جنوب کی طرف اُن علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے جہاں سے یروشلیم جاتے ہوئے خداوند کو خود بھی گزرنا ہے۔ لگتا ہے اِس مشن کا مقصد خداوند کے لئے راستہ تیار کرنا تھا کہ وہ شمال میں قیصریہ فلپی سے شروع کر کے گلیل اور سامریہ میں سے گزرے گا اور دریائے یردن کو پار کر کے پیریہ سے ہوتا ہوا جنوب کو جائے گا اور پھر یردن کو پار کر کے یروشلیم پہنچے گا۔
اِن ستّر کا عہدہ اور خدمت عارضی تھی۔ لیکن خداوند نے اُن کو جو ہدایات دیں، اُن میں زندگی کے متعدد اصول موجود ہیں جن کا اِطلاق ہر زمانے کے مسیحیوں پر ہوتا ہے۔
اِن میں سے چند اصولوں کو مختصراً پیش کیا جاتا ہے:
- خداوند نے اُن کو «دو دو کر کے» بھیجا (آیت ۱) ۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ معتبر گواہی کیسی ہوتی ہے۔ «دو یا تین گواہوں کی زبان سے ہر ایک بات ثابت ہو جائے گی» (۲۔کرنتھیوں ۱۳:۱) ۔
- خداوند کے خادم کو ہمہ وقت منت کرتے رہنا چاہئے کہ خدا «اپنی فصل کاٹنے کے لئے مزدور بھیجے» (آیت ۲) ۔ مزدوروں کی ضرورت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ جب ہم مزدوروں کے لئے درخواست کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ خود جانے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ غور کریں کہ «منت کرو» (آیت ۲) اور «جاؤ» (آیت ۳) ۔
- یسوع کے شاگردوں کو دشمن ماحول میں بھیجا جاتا ہے (آیت ۳) ۔ وہ «بھیڑیوں کے بیچ میں» اُن «بروں» کی مانند ہیں جو اپنا بچاؤ نہیں کر سکتے۔ وہ توقع نہیں کر سکتے کہ دُنیا ہمارے ساتھ شاہانہ سلوک کرے گی بلکہ یہ کہ وہ ہمیں ستائے گی اور جان سے مار بھی ڈالے گی۔
- ذاتی آرام و آسائش کا خیال رکھنے کی اِجازت نہیں (آیت ۴ الف) ۔ «نہ بٹوا لے جاؤ، نہ جھولی، نہ جوتیاں»۔ بٹوا مالی ذخائر کی اور جھولی خوراک کے ذخائر کی بات کرتی ہے۔ «جوتیوں» سے مراد ایک فالتو جوڑا یا پاؤں کو آرام پہنچانے کے لئے زائد چیزیں بھی ہو سکتا ہے۔ یہ تینوں نکات اُس غربت اور افلاس کی بات کرتے ہیں جس کے بارے میں کلام کہتا ہے کہ «کنگالوں کی مانند ہیں مگر بہتیروں کو دولت مند کر دیتے ہیں» (۲۔کرنتھیوں ۶:۱۰) ۔
- «نہ راہ میں کسی کو سلام کرو» (آیت ۴ ب) ۔ اُس زمانے میں بڑی لمبی چوڑی سلام دعا کرنے کا رواج تھا۔ خدا کے خادم کو ایسی رسمی سلام اور مزاج پرسی میں وقت ضائع نہیں کرنا۔ لازم ہے کہ خدا کے خادم مودئب، شائستہ اور خوش اخلاق ہوں۔ لیکن غیر ضروری اور بے فائدہ باتوں کی بجائے خوش خبری کی جلالی باتوں کی تبلیغ میں وقت صرف کریں۔ اب غیر ضروری تاخیر کرنے کا وقت نہیں ہے۔
- جہاں کہیں اُن کو مہمان نوازی کی پیش کش ہو اُسے قبول کریں (آیت ۵،۶) ۔ اگر اُن کا پہلا سلام خوش دلی سے قبول کیا جائے تو اُن کا میزبان «سلامتی کا فرزند» ہے۔ اُس آدمی کی خصوصیت «سلامتی» ہے اور وہ شاگردوں کے سلامتی کے پیغام کو قبول کرتا ہے۔ لیکن اگر شاگردوں کو ردّ کیا جائے تو وہ بے دل اور بے حوصلہ نہ ہوں کیونکہ اُن کا «سلام» اُن پر «لوٹ آئے گا۔» یعنی کچھ ضائع نہیں ہو گا بلکہ دوسروں کے کام آئے گا۔
- شاگردوں کو ہدایت ہے کہ جو گھر اُن کو پہلے میزبانی پیش کرے «اُسی گھر میں رہو… گھر گھر نہ پھرو»۔ گھر پھرنے سے یہ خصوصیت ظاہر ہو گی کہ زیادہ آرام دِہ اور امیرانہ رہائش ڈھونڈ رہے ہیں جب کہ لازم ہے کہ وہ سادگی اور شکرگزاری کی زندگی بسر کریں۔
- اُن کو کھانے پینے کو جو کچھ پیش کیا جائے بلاتامل کھائیں پئیں (آیت ۷) ۔ وہ خدا کے خادم ہیں لہٰذا اِس کے حق دار ہیں کہ اُن کی نگہداشت اور خاطر داری کی جائے۔
- شہر اور قصبے بھی افراد کی طرح یا تو خداوند کی طرف ہوتے ہیں یا اُس کے مخالف (آیات ۸،۹) ۔ اگر کوئی علاقہ پیغام کو قبول کرتا ہے تو شاگرد وہاں منادی کریں، وہاں کی مہمان نوازی کو قبول کریں اور اِنجیل کی خوش خبری کی برکات وہاں پر لائیں۔ مسیح کے خادموں کو حکم ہے کہ «جو کچھ تمہارے سامنے رکھا جائے کھاؤ۔» نخرے نہ کریں۔ گھر والوں کے لئے تکلیف اور بے آرامی کا باعث نہ بنیں، کیونکہ کھانا پینا اُن کی زندگی میں اہمیت نہیں رکھتا۔ جو شہر یا قصبے خداوند کے ایلچیوں کو قبول کرتے ہیں، آج بھی وہاں کے گناہ کے بیمار اچھے کئے جاتے ہیں اور بادشاہ اُن کے نزدیک تر آ جاتا ہے (آیت ۹) ۔
- ہو سکتا ہے کہ کوئی قصبہ خوش خبری سننے سے اِنکار کر دے اور اُسے دوبارہ موقع نہ ملے (آیات ۱۰-۱۲) ۔ خدا جب اِنسان سے سلوک کرتا ہے تو اِس میں ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ پیغام سننے کا آخری موقع ہوتا ہے۔ اِنسان کو خوش خبری کو معمولی سمجھ کر اِس کی بے قدری نہیں کرنی چاہئے اور نہ شش و پنج میں وقت گنوانا چاہئے۔ ہو سکتا ہے یہ اعزاز ہمیشہ کے لئے واپس لے لیا جائے۔ روشنی کو ردّ کیا جائے تو اُس سے اِنکار ہو جاتا ہے۔ جن شہروں اور قصبوں کو خوش خبری سننے کا موقع اور اعزاز ملا ہے مگر اُنہوں نے اُسے ردّ کر دیا ہے، اُن کی عدالت «سدوم» کی عدالت سے زیادہ سخت ہو گی۔ اِعزاز جتنا بڑا ہو گا ذمہ داری بھی اُتنی ہی بڑی ہو گی۔
۱۰:۱۳،۱۴ جب یسوع یہ باتیں کر رہا تھا تو گلیل کے تین ایسے شہروں کو یاد کر رہا تھا جن کو خوش خبری سننے کا اعزاز دوسرے تمام شہروں سے زیادہ حاصل ہوا تھا۔اُن کے گلی کوچوں میں خداوند نے بڑے بڑے معجزے کئے تھے۔ اُنہوں نے اُس کی پُرفضل تعلیم سنی تھی، تو بھی اُسے بالکل ردّ کر دیا تھا۔ جو معجزے اُس نے «خرازین» اور «بیت صیدا» میں کئے تھے، اگر وہ «صور اور صیدا» کے قدیم شہروں میں کئے جاتے تو وہ شہر یقینا دل سوزی سے توبہ کر لیتے۔ چونکہ گلیل کے شہروں پر خداوند کے کاموں سے کچھ اَثر نہیں ہوا تھا اِس لئے اُن کی عدالت اور سزا «صور اور صیدا» سے زیادہ سخت ہو گی۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ خرازین اور بیت صیدا اِتنے مکمل طور سے تباہ ہو چکے ہیں کہ اُن کی جائے وقوع کا بھی صحیح پتا نہیں۔
۱۰:۱۵ ناصرت کو چھوڑنے کے بعد یسوع زیادہ تر کفرنحوم میں رہنے لگا۔ اعزاز اور موقع ملنے کے اِعتبار سے «کفرنحوم… آسمان تک بلند» کیا گیا تھا۔ لیکن اُس نے اپنے سب سے ممتاز شہری کی تحقیر کی اور موقع گنوا دیا۔ اِس لئے عدالت کے دن اُسے «عالم ارواح میں اُتارا جائے گا۔»
۱۰:۱۶ ہدایات کے اِختتام پر یسوع نے اُن ستّر سے کہا کہ تم میرے ایلچی ہو۔ تم کو ردّ کرنا گویا مجھے ردّ کرنے کے برابر ہے اور مجھ کو ردّ کرنا خدا باپ کو ردّ کرنا ہے۔ رائیل (Ryle) کہتا ہے کہ:
«وفادار خادم کے منصب کی شان اور وقار کے بارے میں اَور پیغام کو سننے سے اِنکار کرنے والوں کے بارے میں نئے عہدنامے میں غالباً اِس سے زیادہ سخت زُبان کسی دوسری جگہ استعمال نہیں ہوئی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِس زبان سے بارہ شاگردوں کو نہیں بلکہ ستّر شاگردوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ ہم نہ تو اُن کے ناموں سے نہ اُن کی بعد کی تاریخ سے کوئی واقفیت رکھتے ہیں۔ سکاٹ کہتا ہے کہ ’کسی ایلچی یا سفیر کو ردّ کر کے اُس کی تحقیر کرنا دراصل اُس کے بھیجنے والے بادشاہ کو ردّ کر کے اُس کی تحقیر کرنا ہے۔ کیونکہ سفیر اپنے بھیجنے والے کی نمائندگی کرتا ہے۔ رسول اور ستّر شاگرد مسیح کے ایلچی اور نمائندے تھے۔ جنہوں نے اُن کو ردّ کیا اور اُن کی تحقیر کی اُنہوں نے دراصل مسیح کو ردّ کیا اور اُس کی تحقیر کی۔‘»
د۔ ستّر شاگرد واپس آتے ہیں (۰۱:۱۷-۲۴)
۱۰:۱۷،۱۸ جب «وہ ستّر» اپنے مشن سے واپس آئے تو نہایت خوش تھے کہ «بدروحیں بھی ہمارے تابع ہیں۔» یسوع نے جو جواب دیا، اُس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ اوّل، اُن کی کامیابی میں مسیح کو «شیطان» کے «آسمان» سے گرنے کا منظر پیشگی نظر آیا۔
شیطان کا گرنا تو ابھی مستقبل میں ہو گا۔ میکائیل اور اُس کے فرشتے شیطان کو آسمان سے نکال دیں گے (مکاشفہ ۱۲:۷-۹) ۔ یہ واقعہ بڑی مصیبت کے ایام میں مسیح کے جلال کے ساتھ زمین پر بادشاہی کرنے سے پہلے ہو گا۔
یسوع کی اِس بات کی دوسری ممکنہ تشریح یہ ہے کہ یہ غرور یا تکبر کے خلاف تنبیہ ہے۔ گویا وہ کہہ رہا ہے کہ «ہاں، تم بہت فخر کر رہے ہو کہ بدروحیں بھی تمہارے تابع ہیں۔ لیکن یاد رکھو، غرور سارے گناہوں کی ماں ہے۔ غرور ہی تھا جس کے نتیجے میں لوسیفر کو زوال آیا اور اُسے گرا دیا گیا اور آسمان سے نکال دیا گیا۔ خیال رکھو کہ تم اِس خطرے سے بچے رہو۔»
۱۰:۱۹ خداوند نے اپنے شاگردوں کو بُرائی کی قوتوں پر اِختیار عطا کیا تھا۔ اِس مشن کے دوران اُن کو ہر قسم کے ضرر کے خلاف قوتِ مدافعت عطا کر دی گئی تھی۔ اور یہ بات خدا کے سارے خادموں پر صادق آتی ہے۔ اُن کو ہر طرح کا تحفظ دیا جاتا ہے۔
۱۰:۲۰ تاہم اُن کو اِس بات پر خوش نہیں ہونا تھا کہ «بدروحیں بھی ہمارے تابع ہیں» بلکہ اپنی نجات پر شادمان ہونا چاہئے۔ صرف یہی ایک واقعہ قلم بند ہے کہ خداوند نے اپنے شاگردوں کو خوش ہونے سے منع کیا۔ مسیحی خدمت کی کامیابی کے ساتھ کئی عیارانہ اور لاشعوری خطرے منسلک ہیں۔ جب کہ یہ حقیقت کہ ہمارے «نام آسمان پر لکھے ہوئے ہیں» ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدا اور اُس کے بیٹے کا ہم پر بہت بڑا قرض ہے۔ اِس بات پر شادمان ہونے میں کوئی خدشہ نہیں کہ ہمیں فضل سے نجات ملی ہے۔
۱۰:۲۱ اکثر لوگوں نے یسوع کو ردّ کر دیا تھا۔ چنانچہ اب اُس نے اپنے سادہ اور حلیم پیروکاروں کو دیکھا اور «وہ روح القدس سے خوشی میں بھر گیا» اور «باپ» کی بے مثال حکمت پر اُس کا شکر کرنے لگا۔ وہ ستّر شاگرد اِس دُنیا کے «دانا اور عقل مند» لوگ نہیں تھے۔ وہ محض «بچے» تھے، لیکن اُن میں ایمان، جاں نثاری اور بے چون و چرا فرماں برداری تھی۔ دانش ور تو اپنے فائدے کے لئے نہایت عقل مند، نہایت عالم اور نہایت ہوشیار ہوتے ہیں۔ اُن کے غرور نے اُن کو اندھا کر رکھا تھا۔ وہ خدا کے پیارے بیٹے کی اصل حقیقت اور قدر و قیمت کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ یہ بچے ہی ہیں جن کے وسیلے سے خدا زیادہ موثر طور پر کام کر سکتا ہے۔ ہمارا خداوند اُن سب کے لئے خوش تھا جنہیں باپ نے اُسے دیا تھا۔ وہ شادمان تھا کہ وہ ستّر اپنے پہلے مشن میں کامیاب رہے تھے جس سے پتا چلتا تھا کہ بالآخر شیطان گرے گا۔
۱۰:۲۲ باپ نے سب کچھ بیٹے کو سونپ دیا ہے۔ اِس میں آسمان کا، زمین کا اور زمین کے نیچے کا «سب کچھ» شامل ہے۔ خدا نے «کل کائنات» بیٹے کے تابع کر دی۔ «کوئی نہیں جانتا کہ بیٹا کون ہے سوا باپ کے۔» تجسم کے ساتھ ایک راز وابستہ ہے جس کی گہرائی کو سوائے باپ کے کوئی نہیں جانتا۔ مخلوق نہیں سمجھ سکتی کہ خدا کس طرح اِنسان کی صورت اِختیار کر کے اِنسانی جسم میں رہ سکتا ہے۔ «اور کوئی نہیں جانتا کہ باپ کون ہے سوائے بیٹے کے اور اُس شخص کے جس پر بیٹا اُسے ظاہر کرنا چاہے۔» خدا بھی اِنسانی سمجھ سے باہر ہے۔ بیٹا ہی اُس کو کامل طور پر جانتا ہے اور بیٹے نے اُس کو اِس دُنیا کے کمزوروں، کمینوں اور حقیروں پر ظاہر کیا ہے جو اُس پر ایمان لائے ہیں (۱۔کرنتھیوں ۱:۲۶-۲۹) ۔ جنہوں نے بیٹے کو دیکھا اُنہوں نے باپ کو دیکھا ہے۔ اکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اُسی نے باپ کے بارے میں پورے طور پر بتایا (یوحنا ۱:۱۸) ۔
کیلی (Kelly) کہتا ہے:«بیٹا یقینا باپ کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن جب اِنسانی ذہن مسیح کے ذاتی جلال کے معمے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہمیشہ پاش پاش ہو جاتا ہے۔»
۱۰:۲۳،۲۴ علیٰحدگی میں خداوند نے اپنے «شاگردوں کی طرف متوجہ ہو کر» اُن کو بتایا کہ وہ ایسے زمانے میں موجود ہیں جس کو وہ اِعزاز ملا ہے جو کسی زمانے کو نہیں ملا تھا۔ پرانے عہدنامے کے «نبیوں اور بادشاہوں» کو مسیحِ موعود کا زمانہ دیکھنے کی بڑی آرزُو تھی، مگر نہ دیکھ پائے۔ یہاں خداوند یسوع دعویٰ کرتا ہے کہ مَیں ہی وہ ہستی ہوں پرانے عہدنامے کے انبیا جس کے منتظر تھے، یعنی مَیں ہی مسیحِ موعود ہوں۔ شاگردوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اِسرائیل کی اُمید کے معجزے دیکھیں اور اُس کی تعلیم سنیں۔
ہ۔ عالمِ شرع اور نیک سامری (۱۰:۲۵-۳۷)
۱۰:۲۵ عالمِ شرع یعنی موسیٰ کی شریعت سکھانے کا ماہر غالباً اپنے سوال میں مخلص نہیں تھا۔ وہ نجات دہندہ کو آزما رہا تھا۔ اُس کا خیال ہو گا کہ شاید خداوند شریعت کو ردّ کرے گا۔ اُس کے خیال میں یسوع بھی محض ایک اُستاد تھا۔ اور کہ «ہمیشہ کی زندگی» نیکیوں سے کمائی جا سکتی ہے۔
۱۰:۲۶-۲۸ خداوند نے اِن ساری باتوں کو دھیان میں رکھ کر جواب دیا۔ اگر عالمِ شرع حلیم اور توبہ پر مائل ہوتا تو خداوند اُسے سیدھا جواب دیتا۔ لیکن حالات کے پیشِ نظر خداوند نے اُس کی توجہ توریت یعنی شریعت کی طرف مبذول کرائی کہ توریت کا تقاضا کیا ہے؟ یہی کہ اِنسان «خداوند اپنے خدا» سے اعلیٰ ترین اور اِنتہائی محبت رکھے اور «اپنے پڑوسی سے اپنے برابر» محبت رکھے۔ یسوع نے اُسے بتایا کہ «یہی کر تو تُو جئے گا» یعنی ہمیشہ کی زندگی پائے گا۔
پہلی نظر میں معلوم ہوتا ہے کہ خداوند یہ تعلیم دے رہا ہے کہ نجات توریت پر عمل کرنے سے ملتی ہے، مگر ایسا نہیں۔ خدا کا کبھی اِرادہ نہیں تھا کہ کوئی شخص شریعت کی پابندی کر کے نجات پائے۔ دس احکام تو ایسے اِنسانوں کو دیئے گئے تھے جو پہلے ہی گنہگار تھے۔ شریعت کا مقصد گناہ سے بچانا نہیں، بلکہ گناہ کا علم یا شعور پیدا کرنا ہے۔ اِنسان کو یہ دِکھانا ہے کہ تُو کیسا خطاکار اور گنہگار ہے۔
گناہ آلودہ اِنسان کے لئے ممکن ہی نہیں کہ «خدا سے اپنے سارے دل» اور «اپنے پڑوسی سے اپنے برابر» محبت کر سکے۔ اگر وہ پیدائش سے لے کر موت تک ایسا کر سکتا تو اُسے نجات کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ وہ کھویا ہوا، گم راہ نہ ہوتا۔ جب تک بے گناہ رہتا جئے جاتا، نہ مرتا۔ ہمیشہ کی زندگی صرف اُن گنہگاروں کے واسطے ہے جو تسلیم کرتے ہیں کہ ہم کھوئے ہوئے ہیں اور ایمان کے وسیلے سے بچائے جاتے ہیں۔
یسوع کا یہ بیان کہ «یہی کر تو تُو جئے گا» بالکل قیاسی یا فرضی تھا۔ اگر اُس کی بات کا عالمِ شرع پر خاطر خواہ اثر ہو جاتا تو اُس کا جواب یہ ہوتا کہ «اگر خدا یہی چاہتا ہے تو مَیں تو کھویا ہوا ہوں، بے یارو مددگار ہوں، میرے لئے کوئی اُمید نہیں۔ مَیں تیرے رحم اور تیری محبت کا سہارا لیتا ہوں۔ اپنے فضل سے مجھے بچا لے۔»
۱۰:۲۹ لیکن اِس کے برعکس اُس نے اپنے آپ کو «راست باز ٹھہرانے» کی کوشش کی۔ کیوں؟ کسی نے تو اُس پر الزام نہیں لگایا تھا۔ اُس کے اندر غلطی کا احساس اُبھرا، اور اُس کا دل اپنے فخر میں اُس کا مقابلہ کرنے کو اُٹھا۔ چنانچہ اُس نے پوچھا «پھر میرا پڑوسی کون ہے؟» اُس نے بچنے کے لئے یہ چال چلی۔
۱۰:۳۰-۳۵ عالمِ شرع کے اِس سوال کے جواب میں یسوع نے نیک سامری کی کہانی سنائی۔ اِس کہانی کی تفاصیل سے سب واقف ہیں۔ ڈاکوؤں کا شکار (یقینا یہودی ہو گا) یریحو کو جانے والی سڑک پر اَدھموا پڑا تھا۔ یہودی «کاہن» اور «لاوی» نے اُس کی مدد کرنے سے اِنکار کر دیا۔ شاید اُنہیں خدشہ ہو کہ یہ کوئی سازِش ہے۔ اور ڈرتے تھے کہ اگر ہم ذرا رُک گئے تو ڈاکو ہمیں بھی لوٹ لیں گے۔ مگر ایک «سامری» جس سے سب نفرت کرتے، جسے سب حقیر جانتے تھے، اُس نے اِس اجنبی آدمی کی جان بچائی۔ اُس نے پہلی طبی اِمداد دی اور اُس مظلوم کو اُٹھا کر سرائے میں لے گیا، اور اُس کی خبرگیری کا بندوبست کیا۔ ضرورت مند یہودی کو اُس نے اپنا پڑوسی جانا۔
۱۰:۳۶:۳۷ اِس پر نجات دہندہ نے ناگزیر سوال پوچھا «اِن تینوں میں سے اُس شخص کا جو ڈاکوؤں میں گھِر گیا تھا تیری دانست میں کون پڑوسی ٹھہرا؟» بے شک «جس نے اُس پر رحم کیا۔» ہاں، بے شک۔ چنانچہ عالمِ شرع پر بھی فرض ہے کہ جا کر «ایسا ہی» کرے۔ اگر ایک سامری ایک یہودی پر رحم کر کے ثابت کر سکتا ہے کہ مَیں اُس کا حقیقی پڑوسی ہوں تو پھر سارے اِنسان ہی پڑوسی ہیں۔
ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ کاہن اور لاوی یہ تصویر پیش کرتے ہیں کہ شریعت مردہ گنہگاروں کی مدد کرنے میں بے بس اور ناچار ہے۔ شریعت کا حکم ہے کہ «اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ،» مگر اِس حکم کی تعمیل کرنے کے لئے طاقت نہیں دے سکتی۔ دوسرے یہ شناخت کرنا بھی مشکل نہیں کہ نیک سامری خود خداوند یسوع کی تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ ہمارے پاس آیا اور ہمیں ہمارے گناہوں سے بچایا۔ اور ہمارے لئے زمین سے آسمان پر جانے اور ساری ابدیت کے لئے پورا پورا بندوبست کیا۔ کاہن اور لاوی تو ہمیں مایوس کر سکتے ہیں، مگر یہ نیک سامری کبھی مایوس نہیں کرتا۔
نیک سامری کی کہانی میں ایک غیر متوقع بات ہے جو سنائی تو گئی تھی اِس سوال کا جواب دینے کے لئے کہ «پھر میرا پڑوسی کون ہے؟» مگر اِختتام پر یہ سوال سامنے لے آتی ہے کہ «تم کس کے اچھے پڑوسی ثابت ہوتے ہو؟»
و۔ مریم اور مرتھا (۰۱:۳۸-۴۲)
۱۰:۳۸-۴۱ اب خداوند یسوع اپنی توجہ خدا کے کلام اور دعا پر مرکوز کرتا ہے کیونکہ یہ دونوں برکت کے وسیلے ہیں (۱۰:۳۸-۱۱:۱۳) ۔ مریم «یسوع کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر اُس کا کلام سن رہی تھی۔» مگر مرتھا شاہی مہمان کی خاطر مدارات کے لئے تیاریاں کرتے کرتے «گھبرا گئی»۔ مرتھا چاہتی تھی کہ خداوند مریم کو جھڑکے کہ وہ مدد نہیں کر رہی۔ مگر خداوند نے بڑی ملائمت سے مرتھا ہی کو جھڑکا کیونکہ وہ چڑچڑی ہو رہی تھی۔
۱۰:۴۲ خداوند ہماری محبت اور عقیدت کی ہماری خدمت سے زیادہ قدر کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے خدمت میں فخر اور اپنی اہمیت کا رنگ بھی شامل ہو۔ لیکن اُس کی ذات سے لپٹے رہنا ضروری ہے۔ اِسی کے بارے میں وہ کہتا ہے «لیکن ایک چیز ضرور ہے۔» یہی وہ «اچھا حصہ» ہے جو «چھینا نہ جائے گا۔» خداوند ہم کو مرتھا سے بدل کر مریم بنانا چاہتا ہے۔ بالکل اِسی طرح وہ ہمیں عالمِ شرع سے بدل کر پڑوسی بنانا چاہتا ہے۔
چارلس آر۔اِرڈمن (Erdman) رقم طراز ہے کہ
«بے شک یسوع ہر اُس کام کی قدر کرتا ہے جو ہم اُس کی خاطر کرتے ہیں۔ لیکن وہ جانتا ہے کہ ہماری پہلی ضرورت یہ ہے کہ اُس کے قدموں میں بیٹھیں اور اُس کی مرضی کے بارے میں سیکھیں۔ اِس کے بعد ہی ہم اپنے کاموں میں پُرسکون، پُراِطمینان اور مہربان ہوں گے۔ اِس طرح بالآخر ہماری خدمت کاملیت کا وہ درجہ حاصل کر لے گی جو ہمیں بعد میں مریم میں اُس وقت نظر آتا ہے جب اُس نے یسوع کے پاؤں پر عطر ملا تھا۔ اُس کی خوشبو آج بھی ساری دُنیا کو معطر کر رہی ہے۔»
ز۔ شاگردوں کی دعا (۱۱:۱-۴)
وقت کے لحاظ سے باب ۱۰ اور ۱۱ کے درمیان وقفہ ہے۔ اِس دوران کے واقعات کا حال یوحنا ۹:۱-۱۰:۲۱ میں درج ہے۔
۱۱:۱ لوقا اکثر خداوند کی دعائیہ زندگی کے بارے میں لکھتا ہے۔ یہاں بھی ایک ایسے ہی موقعے کا بیان ہے۔ لوقا کا مقصد یسوع کو بطور ابنِ آدم پیش کرنا ہے۔ یہ بیان اِس مقصد کے ساتھ پوری مطابقت رکھتا ہے کہ ابنِ آدم ہمیشہ اپنے باپ خدا پر اِنحصار کرتا ہے۔ شاگردوں کو احساس ہو گیا تھا کہ یسوع کی زندگی میں دعا ایک حقیقی اور اہم قوت ہے۔ اُنہوں نے خداوند کو دعا کرتے سنا تو اُن کا دل بھی چاہنے لگا کہ ہم بھی دعا کریں۔ چنانچہ «شاگردوں میں سے ایک» نے اُس سے درخواست کی کہ «اے خداوند! ہمیں بھی دعا کرنا سکھا۔» اُس نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہمیں بھی سکھا کہ دعا کس طرح کی جاتی ہے، بلکہ یہ کہ «دعا کرنا سکھا»۔ تاہم اِس درخواست میں دعا کی حقیقت اور طریقہ دونوں شامل ہیں۔
۱۱:۲ خداوند یسوع نے شاگردوں کو دعا کا ایک نمونہ دیا۔ یہ نمونہ اُس دعا سے قدرے فرق ہے جو متی کی اِنجیل میں درج ہے اور جس کو عام طور پر دعائے ربانی یا خداوند کی (سکھائی ہوئی) دعا کہا جاتا ہے۔ اِن میں جو فرق ہیں، اُن کا ایک مقصد اور مطلب ہے۔ کوئی فرق بھی غیر اہم نہیں ہے۔
سب سے پہلے خدا نے شاگردوں کو سکھایا کہ خدا کو «اے باپ» کہہ کر مخاطب کریں۔ پرانے عہدنامے کے ایمان دار ایسے قریبی اور خاندانی تعلق یا رِشتے سے ناواقف تھے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اب سے ایمان دار خدا کو محبت کرنے والا آسمانی «باپ» جان کر اُس سے گفتگو کیا کریں گے۔ اِس کے بعد ہمیں یہ دعا کرنا سکھایا گیا ہے کہ خدا کا نام «پاک مانا جائے۔» اِس سے ایمان دار کی دلی آرزو کا اِظہار ہوتا ہے کہ خدا کی عزت کی جائے، اُسی کی بزرگی اور تعریف ہو۔ اِس کے ساتھ ہی اِلتجا ہے کہ «تیری بادشاہی آئے۔» اِس میں دعا ہے کہ وہ دن جلد آئے جب خدا بدی کی قوتوں کو زیر کرے گا اور مسیح کی ذات میں ہو کر دُنیا پر اعلیٰ ترین حکومت کرے گا جہاں اُس کی مرضی ویسے ہی پوری ہو گی جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے۔
۱۱:۳ اِس طرح پہلے خدا کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی تلاش کرنے کے بعد التجا کرنے والے کو سکھایا گیا ہے کہ اپنی شخصی ضروریات اور خواہشات بیان کرے۔ خوراک خواہ جسمانی ہو خواہ روحانی، اِس کی ضرورت تو ہمیشہ بار بار ہوتی ہے۔ اِس لئے پہلے اِس کا ذکر آیا ہے۔ ہمیں «ہر روز» خدا پر اِنحصار کرتے ہوئے زندگی گزارنی ہے اور تسلیم کرنا ہے کہ وہی ہر نیکی اور بھلائی کا سرچشمہ ہے۔
۱۱:۴ اِس کے بعد گناہ کی معافی کے لئے دعا ہے جس کی بنیاد اِس حقیقت پر ہے کہ ہم دوسروں کو معافی کی روح دکھائیں۔ بے شک اِس سے مراد گناہوں کی سزا سے معافی نہیں۔ اُس معافی کی بنیاد مسیح کے اُس کام پر ہے جو اُس نے کلوری کی صلیب پر پورا کیا اور صرف ایمان سے ملتی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ صرف پدرانہ معافی کا ہے۔ جب ہم نجات پا جاتے ہیں تو اِس کے بعد خدا ہمارے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرتا ہے۔ اگر وہ دیکھتا ہے کہ ہمارے دلوں میں سخت اور معاف نہ کرنے والی روح ہے تو وہ ہمیں اُس وقت تک تنبیہ کرتا ہے جب تک ہم شکستہ دل نہ ہو جائیں اور اُس کے ساتھ رفاقت میں بحال نہ ہوں۔ اِس معافی کا تعلق خدا کے ساتھ رفاقت سے ہے۔
یہ اِستدعا کہ «ہمیں آزمائش میں نہ لا» بعض لوگوں کے لئے مشکل پیدا کرتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا کسی کو کبھی گناہ کرنے کی آزمائش میں نہیں ڈالتا۔ لیکن اِس بات کی اِجازت ضرور دیتا ہے کہ ہم آزمائے جائیں، ہمارا اِمتحان ہو۔ ایسی آزمائشیں ہماری بھلائی کے لئے ہوتی ہیں۔ یہاں خیال یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ احساس ہونا چاہئے کہ ہماری رغبت آوارہ ہونے اور گناہ میں گرنے کی طرف ہے۔ ہمیں خداوند سے درخواست کرتے رہنا چاہئے کہ ہمیں گناہ میں گرنے سے بچائے، خواہ خود ہم اُس کی طرف مائل ہوں۔ ہمیں دعا مانگتے رہنا چاہئے کہ گناہ کرنے کا موقع، اور گناہ کرنے کی خواہش باہم اکٹھی نہ ہونے پائیں۔ اِس دعا سے ہماری اپنے آپ پر صحت مندانہ بے اعتقادی کا اِظہار ہوتا ہے کہ ہم گناہ کی آزمائش کی مزاحمت کرنے کے لائق نہیں۔ متی کے مطابق اِس دعا کا اِختتام اِس التجا پر ہوتا ہے کہ «ہمیں بُرائی سے بچا» (لوقا اِس دعا کا مختصر بیان کرتا ہے۔ اِس سے شاید یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خداوند کا یہ مقصد نہیں کہ اِسے لفظ بہ لفظ دُہرایا جائے) ۔
ح۔ دعا کے بارے میں دو تمثیلیں (۱۱:۵-۱۳)
۱۱:۵-۸ دعا کے موضوع پر بات کو جاری رکھتے ہوئے خداوند نے ایک مثال دی جس کا مقصد یہ دِکھانا ہے کہ خدا اپنے فرزندوں کی دعائیں سننا اور اُن کا جواب دینا چاہتا ہے۔ اِس کہانی کا تعلق ایک ایسے شخص سے ہے جس کے گھر «آدھی رات» کو مہمان آ گیا۔ بدقسمتی سے گھر میں کافی کھانا نہیں تھا۔ چنانچہ وہ ایک پڑوسی کے ہاں گیا، دروازہ کھٹکھٹایا اور اُس سے «تین روٹیاں» مانگیں۔ پہلے تو پڑوسی ناراض ہوا کہ میری نیند میں خلل ڈالا اور اُٹھنا نہ چاہا۔ لیکن وہ پریشان میزبان دروازہ کھٹکھٹاتا اور پکارتا رہا۔ اُس پڑوسی کو بالآخر اُٹھنا ہی پڑا۔ اور اُس نے ضرورت کے مطابق اُسے دے دیا۔
اِس مثال کا اِطلاق کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ بعض غلط نتائج اخذ نہ کر لیں۔ اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خدا بار بار التجاؤں سے اُکتا جاتا اور ناراض ہو جاتا ہے۔ اور نہ یہ تعلیم دی گئی ہے کہ دعا کا جواب لینے کا طریقہ صرف یہی ہے کہ ایک ہی دعا بار بار کرتے چلے جائیں۔
البتہ اِس تمثیل میں یہ تعلیم ضروری ہے کہ اگر ایک اِنسان اپنے دوست کی ہٹ یا ضد کے باعث اُس کی مدد کرنے کو تیار ہو جاتا ہے تو خدا اپنے فرزندوں کی فریاد سننے کو کیوں تیار نہ ہو گا۔
۱۱:۹ یہ تمثیل سکھاتی ہے کہ دعائیہ زندگی میں بے حوصلہ نہیں ہونا چاہئے، ہمت نہیں ہارنا چاہئے۔ اصل زبان میں جو فعل استعمال ہوئے ہیں، اُن سے «کام جاری رکھنے» کا مفہوم نکلتا ہے یعنی «مانگتے رہو… ڈھونڈتے رہو… کھٹکھٹاتے رہو…» کئی دفعہ خدا ہماری دعا کا جواب پہلی دفعہ مانگنے پر دے دیتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ وہ بار بار اور مستقل مانگنے کے بعد جواب دیتا ہے۔
خدا دعاؤں کا جواب دیتا ہے:
کبھی تو جب دل کمزور ہوں
وہ وہی نعمتیں دیتا ہے جو ایمان دار مانگتے ہیں۔
لیکن کئی دفعہ ایمان کو گہری چٹان پر قدم جمانے پڑتے ہیں۔
اور خدا نہیں بولتا تو اُس کی خاموشی کا یقین کرنا پڑتا ہے۔
کیونکہ جس کا نام محبت ہے، وہ بہترین چیز بھیجتا ہے۔
ستارے جل کر ختم ہو جائیں، پہاڑوں کی دیواریں ملیا میٹ ہو جائیں۔
لیکن خدا سچا ہے۔ اُس کے وعدے یقینی ہیں۔
وہی ہماری قوت ہے۔ (ایم۔ جی۔پی)
یہ تمثیل بڑھتی ہوئی ہٹ یا اِستقلال کی تعلیم دیتی ہے۔ پہلے مانگنا، پھر ڈھونڈنا اور پھر کھٹکھٹانا۔
۱۱:۱۰ یہ آیت سکھاتی ہے کہ «جو کوئی مانگتا ہے اُسے ملتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جائے گا۔» یہ وعدہ ہے کہ ہم جو کچھ دعا میں مانگتے ہیں خدا ہمیں وہی چیز عطا کرتا ہے یا اُس سے بہتر چیز۔ اگر جواب «نہ» ہو تو اِس کا مطلب ہے کہ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہم مانگ رہے ہیں، وہ ہمارے لئے بہترین چیز نہیں۔ ایسی صورت میں اُس کے اِنکار ہی میں ہماری بہتری ہے۔
۱۱:۱۱،۱۲ یہاں سکھایا گیا ہے کہ خدا ہمیں کبھی دھوکا نہیں دیتا کہ «روٹی» مانگیں تو ہمیں «پتھر دے»۔ روٹی کی شکل گول اور چپٹی ہوتی ہے، جو پتھر سے مشابہ ہوتی ہے۔ جب ہم کھانے کو کچھ مانگتے ہیں تو خدا ہمارا مذاق نہیں اُڑاتا اور کوئی ایسی چیز نہیں دیتا جو کھائی نہ جا سکے۔ اگر ہم «مچھلی» مانگیں تو وہ ہمیں «سانپ» یعنی کوئی ایسی چیز نہیں دے گا جو ہمارے لئے ہلاکت کا باعث ہو اور اگر ہم «انڈا» مانگیں تو وہ ہمیں «بچھو» یعنی ایسی چیز نہیں دے گا جس سے ہمیں ناقابلِ برداشت درد ہو۔
۱۱:۱۳ اگرچہ اِنسان کی فطرت گناہ آلودہ ہے تو بھی کوئی اِنسانی باپ اپنے بیٹے کو بُری چیزیں نہیں دے گا۔ وہ جانتا ہے کہ «اپنے بچوں کو اچھی چیزیں» کیسے دی جاتی ہیں۔ ہمارا «آسمانی باپ» تو اِس سے کہیں زیادہ چاہتا ہے کہ «اپنے مانگنے والوں کو روح القدس» دے۔ جے۔ جی۔ بیلٹ (Bellett) کہتا ہے کہ «یہ نہایت اہم بات ہے کہ جو نعمت وہ چنتا ہے ایسی ہے جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے اور ہمیں دینے کی وہ بہت زیادہ خواہش رکھتا ہے — اور وہ نعمت ہے روح القدس۔» لیکن جب یسوع نے یہ بات کہی، اُس وقت تک ابھی روح القدس نہیں دیا گیا تھا (یوحنا ۷:۳۹) ۔ آج ہمیں یہ دعا نہیں کرنی چاہئے کہ ہمیں روح القدس دیا جائے تاکہ ہمارے اندر سکونت کرے۔ کیونکہ وہ ہمارے اندر سکونت کرنے کے لئے اُسی وقت آ جاتا ہے جب ہم ایمان لاتے ہیں (رومیوں ۸:۹ ب؛ افسیوں ۱:۱۳،۱۴) ۔
لیکن دوسرے طریقوں سے روح القدس کے لئے دعا کرنا بالکل جائز اور ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ روح القدس ہمیں نصیحت پذیر بنائے، کہ روح القدس ہماری راہنمائی کرے اور ہم مسیح کے لئے جتنی بھی خدمت کرتے ہیں اُس پر روح القدس کثرت سے اُنڈیلا جائے۔
ممکن ہے کہ جب یسوع نے شاگردوں کو روح القدس مانگنے کی ہدایت کی تو اُس کا اِشارہ روح کی اُس «قوت» کی طرف تھا جو توفیق دیتی ہے کہ اُس کے پیروکار وہ شاگردیت اِختیار کر سکیں جس کا تعلق دوسری دُنیا سے ہے اور جس کی تعلیم خداوند نے گذشتہ ابواب میں دی ہے۔ اب تک اُن کو غالباً اِحساس ہو چکا تھا کہ وہ اپنی طاقت سے شاگردیت کے وہ اِمتحان پاس نہیں کر سکتے۔ بے شک یہ بات درست ہے۔ روح القدس وہ قوت ہے جو مسیحی زندگی بسر کرنے کی توفیق دیتی ہے۔ چنانچہ یسوع یہ تصویر پیش کرتا ہے کہ خدا اُن سب کو روح القدس دینا چاہتا ہے جو اُسے مانگتے ہیں۔
اصل زُبان یونانی میں آیت ۱۳ میں روح القدس کے لئے جو لفظ استعمال ہوا ہے، وہ حرفِ تخصیص کے بغیر ہے۔ پروفیسر ایچ۔ بی۔ سویٹ کہتا ہے کہ ایسی صورت میں مطلب «روح القدس کا اقنوم» نہیں بلکہ اُس کی نعمتیں یا ہماری خاطر اُس کے کام ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی دعا روح القدس کے اقنوم کے لئے نہیں بلکہ ہماری زندگی میں اُس کے کاموں کے لئے ہے۔ اِس کا مزید ثبوت متوازی حوالہ متی ۷:۱۱ سے بھی ملتا ہے کہ «… تمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا؟»
ط۔ یسوع اپنے نکتہ چینوں کو جواب دیتا ہے (۱۱:۱۴-۲۶)
۱۱:۱۴-۱۶ بدروح نے اپنے شکار کو گونگا بنا دیا تھا۔ اِس بدروح کو نکال کر یسوع نے لوگوں میں ایک ہلچل پیدا کر دی۔ عام «لوگوں نے تعجب کیا» مگر دوسرے اُس کے اَور زیادہ اور کھلم کھلا مخالف ہو گئے۔ مخالفت نے دو صورتیں اِختیار کر لیں۔ بعض نے الزام لگایا کہ «یہ تو بدروحوں کے سردار بعل زبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے۔» اور کچھ لوگ یہ مطالبہ کرنے لگے کہ یہ «ایک آسمانی نشان» دِکھائے۔ غالباً اُن کا خیال تھا کہ اِس طرح ثابت ہو جائے گا کہ بعل زبول والا اعتراض غلط ہے۔
۱۱:۱۷،۱۸ الزام تھا کہ یسوع بدروحوں کو اِس لئے نکال سکتا ہے کہ خود اُس میں بعل زبول ہے۔ اِس الزام کا جواب آیات ۱۷-۲۶ میں اور آسمانی نشان کے بارے میں جواب آیت ۲۹ میں دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے خداوند اُن کو یاد دلاتا ہے کہ «جس سلطنت میں پھوٹ پڑے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے۔» بدروحیں نکالنے میں اگر یسوع شیطان کا آلۂ کار تھا تو گویا شیطان اپنا ہی مقابلہ کر رہا تھا۔ ایسا سوچنا ہی مضحکہ خیز ہے کہ ابلیس اپنی ہی مخالفت کر رہا اور اپنے مقاصد کو باطل کر رہا ہے۔
۱۱:۱۹ دوم، خداوند نے اپنے نکتہ چینوں کو یاد دلایا کہ تمہارے کئی ہم وطن بھی عین اِسی وقت بدروحوں کو نکال رہے ہیں۔ اگر مَیں یہ کام شیطان کی قوت سے کرتا ہوں تو لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ بھی اِسی قوت سے ایسا کرتے ہیں۔ بے شک یہودی اِس بات کو ماننے پر راضی نہیں ہو سکتے تھے۔ مگر وہ یسوع کی دلیل کو بھی ردّ نہیں کر سکتے تھے۔ بدروحوں کو نکالنے کی قوت خدا سے آتی ہے یا شیطان سے۔ یہ قوت ایک ہی سے مل سکتی ہے، دونوں سے نہیں۔ اگر یسوع بدروحوں کو شیطان کی قوت سے نکالتا تھا تو ایسے کام کرنے والے یہودی بھی اُسی کی قوت پر اِنحصار کرتے تھے۔ اُس کی مذمت کرنے میں اِن یہودیوں کی بھی مذمت ہوتی تھی۔
۱۱:۲۰ صحیح بات تو یہ ہے کہ یسوع «بدروحوں کو خدا کی قدرت (یونانی-اُنگلی) سے نکالتا» تھا۔ یہ حقیقت کہ یسوع خدا کے روح سے بدروحوں کو نکالتا تھا ثبوت تھی کہ «خدا کی بادشاہی» اُس پشت کے لوگوں کے پاس آ پہنچی تھی۔ بادشاہی خود بادشاہ کی ذات میں آ پہنچی تھی۔ یہ حقیقت کہ خداوند یسوع خود وہاں موجود تھا اور ایسے معجزے کر رہا تھا پکا ثبوت تھی کہ خدا کا ممسوح حاکم تاریخ کے سٹیج پر ظاہر ہو گیا تھا۔
۱۱:۲۱،۲۲ اب تک شیطان «زور آور آدمی ہتھیار باندھے ہوئے» تھا اور پورے دربار پر اُس کا رُعب چلتا تھا اور کوئی اُس کے سامنے آنکھ نہیں اُٹھا سکتا تھا۔ جتنے بھی بدروح گرفتہ ہوتے تھے اُس کے چنگل میں پھنسے رہتے تھے، اور کوئی نہیں تھا جو اُسے چیلنج کرتا۔ «اُس کا مال محفوظ» رہتا تھا، یعنی کوئی اُس کے اِختیار کو چیلنج نہیں کر سکتا تھا۔ خداوند یسوع اُس سے زیادہ زور آور تھا۔ اب وہ اُس پر حملہ کر کے اُس پر غالب آیا تھا اور «اُس کے سب ہتھیار… چھین» لئے تھے اور «اُس کا مال لُوٹ کر بانٹ» دیا تھا۔
یسوع کے نکتہ چین بھی اِنکار نہیں کر سکتے تھے کہ وہ بدروحوں کو نکالتا ہے۔ اِس کا ایک ہی مطلب ہے کہ شیطان پر فتح پائی جا چکی ہے اور اُس کے شکاروں کو خلاصی مل رہی ہے۔ اِن آیات میں خاص یہی نکتہ پوشیدہ ہے۔
۱۱:۲۳ اِس کے بعد یسوع نے فرمایا کہ «جو میری طرف نہیں وہ میرے خلاف ہے اور جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا وہ بکھیرتا ہے۔» جیسے کسی نے کہا ہے کہ «ایک شخص یا تو راستے پر چل رہا ہے یا رُکا ہوا ہے اور دوسروں کے لئے باعث ِرکاوٹ ہوتا ہے۔» ہم نے اِس آیت اور ۹:۵۰ میں بظاہر تضاد کا ذکر کیا ہے۔ جب بحث مسیح کی ذات اور کاموں کے بارے میں ہے تو غیر جانب داری کی بات نہیں کی جا سکتی۔ جو شخص مسیح کے ساتھ نہیں وہ اُس کا مخالف ہے۔ لیکن جب مسیحی خدمت کی بات ہوتی ہے تو جو لوگ مسیح کے خادموں کے خلاف نہیں وہ اُن کے ساتھ ہیں۔ پہلی آیت میں مسئلہ نجات کا ہے اور دوسری میں خدمت کا۔
۱۱:۲۴-۲۶ معلوم ہوتا ہے کہ خداوند اپنے نکتہ چینوں کی دلیل کو اُن ہی کو لاجواب کرنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ اُنہوں نے الزام لگایا تھا کہ اِس میں بدروح ہے۔ اب وہ اُن کی قوم کو ایسے شخص کے مشابہ ٹھہراتا ہے جو عارضی طور پر بدروح کے قبضے سے آزاد ہوا ہے۔ اُن کی تاریخ اِس بات کی تصدیق کرتی ہے۔ اسیری سے پہلے اسرائیل کی اُمت بت پرستی کی بدروح کے قبضے میں تھی۔ لیکن اسیری نے قوم کو اِس «ناپاک روح» سے خلاصی دلا دی۔ اِس کے بعد اِسرائیلی کبھی بت پرستی کی طرف مائل نہیں ہوئے۔ اب اُن کا «گھر جھڑا ہوا اور آراستہ» تھا۔ مگر وہ خداوند یسوع کو اندر آنے اور اِس گھر پر قبضہ کرنے کی اِجازت نہیں دے رہے تھے۔ اِس لئے اُس نے پیش گوئی کی کہ وہ دن آتا ہے کہ وہ «ناپاک روح» «اَور سات روحیں اپنے سے بُری ہمراہ لے» آئے گی۔ اور وہ اِسی گھر میں «داخل ہو کر وہاں بسیں گی۔» یہاں اِشارہ اُس ہولناک بت پرستی کی طرف ہے جو اِسرائیلی قوم بڑی مصیبت کے ایام میں اِختیار کر لے گی۔ یہ قوم مخالف ِ مسیح کو خدا مان لے گی (یوحنا ۵:۴۳) اور اِس گناہ کی سزا اُن تمام سزاؤں سے بڑی ہو گی جو اِس قوم کو کبھی ملی ہیں۔
اگرچہ اِس مثال کا بنیادی اور اوّلین تعلق بنی اِسرائیل کی قومی تاریخ کے ساتھ ہے مگر اِنسان کی اِنفرادی زندگی کے ساتھ بھی ہے کہ صرف توبہ یا اِصلاح کافی نہیں۔ زندگی میں ایک نیا باب شروع کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ ضرور ہے کہ خداوند یسوع مسیح کو اپنے دل اور زندگی میں خوش آمدید کہا جائے۔ ورنہ زندگی میں پہلے سے بھی زیادہ گھنونے گناہ داخل ہو جائیں گے۔
ی۔ مریم سے بھی زیادہ مبارک (۱۱:۲۷،۲۸)
بھیڑ میں سے ایک عورت نے پکار کر یسوع سے کہا کہ «مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تُو رہا اور وہ چھاتیاں جو تُو نے چوسیں۔» مسیح کا جواب بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اُس نے اپنی ماں مریم کے مبارک ہونے کا اِنکار نہیں کیا بلکہ اُس نے آگے کی بات کی کہ خدا کا کلام سننا اور اُس پر عمل کرنا زیادہ مبارک بات ہے۔ دوسرے لفظوں میں کنواری مریم اِس بات میں زیادہ مبارک تھی کہ مسیح پر ایمان لائی اور اُس کی پیروی کرتی رہی۔ جسمانی رِشتہ روحانی رِشتے جتنا اہم نہیں ہوتا۔ یہ دلیل اُن لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے کافی ہے جو مریم کی حمد و پرستش کرنے کا پرچار کرتے ہیں۔
ک۔ یوناہ کا نشان (۱۱:۲۹-۳۳)
۱۱:۲۹ آیت ۱۶ میں بعض لوگوں نے خداوندیسوع کو آزمانے کے لئے «آسمانی نشان» طلب کیا تھا۔ اَب خداوند اِس درخواست کا جواب دیتا ہے۔ وہ اِس کو «اِس زمانہ کے بُرے لوگوں» یا بُری پشت سے منسوب کرتا ہے۔ بنیادی طور پر اِس سے مراد یہودیوں کی وہ پشت ہے جو اُس زمانے میں زندہ موجود تھی۔ اُن لوگوں کو اعزاز حاصل ہوا تھا کہ خدا کا بیٹا اُن کے درمیان موجود ہوا۔ اُنہوں نے اُس کی باتیں سنیں اور اُس کے معجزے دیکھے۔ لیکن اِن باتوں سے اُن کی تسلی نہ ہوئی۔ اب وہ بہانہ کرنے لگے کہ اگر ہم آسمان میں کوئی بڑا اور فوق الفطرت نشان دیکھیں تو اُس پر ایمان لے آئیں گے۔ خداوند کا جواب یہ ہے کہ «یوناہ کے نشان کے سوا کوئی اَور نشان اُن کو نہ دیا جائے گا۔»
۱۱:۳۰ یسوع کا اِشارہ اپنے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی طرف تھا۔ جس طرح یوناہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا اور پھر اُسے سمندر سے خلاصی دلائی گئی، اُسی طرح یسوع تین دن رات قبر میں رہنے کے بعد مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔ دوسرے لفظوں میں زمینی خدمت میں اُس کا آخری اور قطعی ثبوت والا معجزہ اُس کا جی اُٹھنا ہو گا۔ «یوناہ نینوہ کے لوگوں کے لئے نشان ٹھہرا۔» جب وہ اُس غیر قوم دارالسلطنت میں منادی کرنے گیا تو ایک ایسے شخص کی طرح گیا جو تمثیلی لحاظ سے مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔
۱۱:۳۱،۳۲ «دکھن (جنوب) کی مَلِکہ» صبا کی غیر قوم ملکہ تھی۔ وہ ایک لمبا سفر کر کے «سلیمان کی حکمت سننے کو آئی» جس نے ایک بھی معجزہ نہیں دیکھا تھا۔ اگر اُس کو خداوند کے زمانے میں زندہ ہونے کا اِعزاز حاصل ہوتا تو وہ اُسے بڑی خوشی سے قبول کرتی! اِس لئے وہ «عدالت کے دن اُٹھ کر» اُن شریر لوگوں کے خلاف گواہی دے گی جو خداوند یسوع کے زمانے میں زندہ موجود تھے اور جنہوں نے پھر بھی اُسے ردّ کر دیا۔ اَب تو دُنیا کے سٹیج پر وہ نمودار ہوا ہے جو «یوناہ سے بھی بڑا» اور «سلیمان سے بھی بڑا ہے۔» نینوہ کے لوگوں نے «یوناہ کی منادی پر توبہ کر لی» تھی۔ مگر بنی اِسرائیل اُس کی منادی پر توبہ کرنے سے اِنکاری تھے جو «یوناہ سے بھی بڑا ہے۔»
آج بھی بے اعتقادی یوناہ کی کہانی کا تمسخر اُڑاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ تو عبرانی داستان یا الف لیلوی کہانی ہے۔ یسوع نے یوناہ کا تذکرہ تاریخ کے ایک حقیقی شخص کے طور پر کیا ہے۔ اِسی طرح سلیمان کا ذکر بھی کیا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم معجزہ دیکھ کر ایمان لائیں گے وہ غلطی پر ہیں۔ ایمان کی بنیاد حواسِ خمسہ کی گواہی اور ثبوت پر نہیں بلکہ خدا کے زندہ کلام پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی اِنسان خدا کے کلام پر ایمان نہیں لاتا تو اگر کوئی مُردوں میں سے جی اُٹھے تو وہ اِنسان ایمان نہیں لائے گا۔ خدا نشان طلب کرنے کے رویے سے خوش نہیں ہوتا۔ یہ ایمان نہیں بلکہ دیکھنا ہوا۔ اور بے اعتقادی کہتی ہے «مجھے کچھ دِکھاؤ تو مَیں ایمان لاؤں گی»۔ خدا کہتا ہے «تم ایمان لاؤ تو دیکھو گے۔»
ل۔ جلتے ہوئے چراغ کی تمثیل (۱۱:۳۳-۳۶)
۱۱:۳۳ پہلے تو ہمیں خیال آ سکتا ہے کہ اِن آیتوں کا اِن سے پہلے کی آیات سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر غور کرنے سے ہمیں بہت گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ یسوع اپنے سامعین کو یاد دلاتا ہے کہ «کوئی شخص چراغ جلا کر تہ خانہ میں یا پیمانہ کے نیچے نہیں رکھتا بلکہ چراغ دان پر رکھتا ہے» جہاں اُسے سب دیکھ سکتے ہیں اور وہ سب اندر آنے والوں کو روشنی پہنچا سکتا ہے۔
اِس کی وضاحت یوں ہو گی:خدا وہ ہستی ہے جس نے «چراغ جلایا» ہے۔ خداوند یسوع کی ذات اور کام میں اُس نے دُنیا کو نور کا شعلہ مہیا کیا ہے۔ اگر کوئی شخص اِس نور کو نہیں دیکھتا تو خدا کا کوئی قصور نہیں۔ باب ۸ میں یسوع نے اُن لوگوں کی ذمہ داری کا ذکر کیا تھا جو پہلے ہی شاگرد ہیں کہ وہ ایمان کا پرچار کریں اور اُسے برتن کے نیچے نہ چھپائیں۔ یہاں ۱۱:۳۳ میں وہ اُن نکتہ چینوں کی بے اعتقادی کو بے نقاب کرتا ہے جو نشان طلب کرتے ہیں کیونکہ اِس طرح وہ اپنی شرمساری کے ڈر اور حرص کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
۱۱:۳۴ اُن کی بے اعتقادی کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی نیتیں صاف نہیں تھیں۔ طبعی دُنیا میں «آنکھ» وہ چیز ہے جو «سارے بدن» کو روشنی دیتی ہے۔ اگر آنکھ صحت مند ہو تو اِنسان «روشنی» دیکھ سکتا ہے، لیکن اگر آنکھ بیمار یعنی اَندھی ہو تو روشنی اندر نہیں آ سکتی۔
روحانی دُنیا میں بھی یہی حال ہے۔ اگر اِنسان صاف دلی سے جاننے کا آرزُو مند ہو کہ یسوع خدا کا مسیح ہے یا نہیں تو خدا اُس پر اِنکشاف کر دے گا۔ لیکن اگر اُس کی نیت صاف نہ ہو، اگر وہ اپنے لالچ سے چمٹا رہے، اگر وہ ڈرتا رہے کہ دوسرے لوگ کیا کہیں گے تو پھر وہ نجات دہندہ کی حقیقی قدر و قیمت کو نہیں پہچانے گا۔
۱۱:۳۵ جن لوگوں سے یسوع مخاطب تھا، وہ اپنے آپ کو بہت دانا سمجھتے تھے۔ وہ خیال کرتے تھے کہ ہمارے پاس بہت بڑی مقدار میں روشنی ہے۔ لیکن خداوند نے اُنہیں خبردار کیا کہ اِس حقیقت پر غور کریں کہ جو «روشنی اُن میں» ہے، دراصل «تاریکی» ہے۔ جس روشنی کو رکھنے کا وہ بہانہ کرتے تھے وہ اُن کا احساسِ برتری تھا جو اُن کو مسیح سے دُور رکھتا تھا۔
۱۱:۳۶ جس شخص کی نیت صاف ہوتی ہے، جو اپنا سراپا، اپنا پورا وجود دُنیا کے نور مسیح کے لئے کھول دیتا ہے، وہ روحانی نور سے منور ہو جاتا ہے۔ مسیح اُن کی باطنی زندگی کو روشن کر دیتا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے اُس کا بدن اُس وقت روشن ہوتا ہے جب وہ چراغ کی روشنی کی کرنوں کے بالکل سامنے آتا ہے۔
م۔ ظاہری اور باطنی صفائی (طہارت) (۱۱:۳۷-۴۱)
۱۱:۳۷-۴۰ «کسی فریسی نے یسوع کی دعوت کی۔» یسوع نے یہ دعوت قبول کر لی۔ مگر جب کھانا کھانے کا وقت آیا تو میزبان بہت متعجب ہوا کہ «یسوع نے کھانے سے پہلے غسل نہیں کیا۔» یسوع نے اُس کے خیالات پڑھ لئے اور ایسی ریاکاری اور ظاہر پرستی پر اُسے خوب ملامت کی۔ اُس نے اُسے یاد دلایا کہ حقیقی اہمیت «پیالے اور رِکابی» کی «اندر» کی صفائی کی ہے نہ کہ بیرونی صفائی کی۔ ظاہری یا بیرونی طور پر فریسی بالکل راست باز دِکھائی دیتے تھے لیکن باطن میں ٹیڑھے اور شریر تھے۔ جس خدا نے اِنسان کے «باہر» کو بنایا ہے، اُسی نے «اندر» کو بھی بنایا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ ہماری «اندرونی» یعنی باطنی زندگیاں پاک صاف ہوں۔ «اِنسان ظاہری صورت کو دیکھتا ہے پر خداوند دل پر نظر کرتا ہے» (۱۔سموئیل ۱۶:۷) ۔
۱۱:۴۱ خداوند نے دیکھا کہ یہ فریسی کیسے خود غرض اور حریص ہیں۔ اِس لئے اُس نے اپنے میزبان کو کہا کہ پہلے اپنے «اندر کی چیزیں خیرات کر دو۔» اگر وہ دوسروں کے ساتھ محبت کرنے کا بنیادی اِمتحان پاس کر لے تو پھر ساری چیزیں اُس کے لئے واقعی «پاک» ہوں گی۔ ایچ۔ اے۔ آئرن سائڈ (Ironside) کہتا ہے کہ:
«جب خدا کی محبت دل میں اِس طرح بھر جاتی ہے کہ اِنسان کو دوسروں کی ضروریات کی فکر ہو، تب ہی اُن ظاہری رسومات کی کوئی اصل قدر و قیمت ہو گی۔ جو شخص ہر وقت اپنے لئے جمع کرنے میں لگا رہتا ہے اور اپنے ارد گرد کے غریبوں اور محتاجوں کی قطعاً کوئی پروا نہیں کرتا، وہ اِس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ خدا کی محبت میرے دل میں سکونت نہیں کرتی۔»
ایک گمنام مصنف اِس کا خلاصہ یوں پیش کرتا ہے کہ:
«آیات ۳۹-۵۲ میں فریسیوں اور شرع کے عالموں کے خلاف جو اِنتہائی سخت باتیں کہی گئی ہیں، وہ ایک فریسی کے گھر میں کھانے کی میز پر کہی گئیں (آیت ۳۷) ۔ جس بات کو ہم «ذوقِ سلیم» کہتے ہیں، اُسے بعض اوقات سچائی کی محبت کا متبادل بنا دیا جاتا ہے۔ جب تیوری چڑھانی چاہئے، اُس وقت مسکرا دیتے ہیں، جب بولنے کی ضرورت ہوتی ہے خاموش رہتے ہیں۔ خدا پر ایمان اور بھروسا توڑنے سے بہتر ہے کہ ضیافت کو درہم برہم کر دیا جائے۔»
ن۔ فریسیوں کو ملامت کی جاتی ہے (۱۱:۴۲-۴۴)
۱۱:۴۲ فریسی ظاہر پرست تھے۔ وہ رسمی شریعت کی تفاصیل کی پیروی کرنے میں پورے تکلفات کی پابندی کرتے تھے۔ مثلاً پودینے اور سداب جیسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی دہ یکی دینے پر بہت زور دیتے تھے، مگر خدا اور اِنسان کے ساتھ اپنے رِشتہ اور تعلقات کے بارے میں بالکل بے پروا تھے۔ وہ غریبوں پر ظلم کرتے اور خدا کے ساتھ محبت رکھنے سے قاصر رہتے تھے۔ خداوند نے اُن کو «پودینے اور سداب… پر دہ یکی» دینے پر ملامت نہیں کی بلکہ اِس بات پر توجہ دلائی تھی کہ اُن کو واجب نہیں کہ اِس خاص بات میں تو اِتنے جوشیلے ہوں اور «اِنصاف اور خدا کی محبت» جیسے زندگی کے بنیادی فرائض کو نظر انداز کر دیں۔ وہ اصلی اور بنیادی باتوں کو تو چھوڑ دیتے تھے مگر ثانوی اور کمتر باتوں پر زور دیتے تھے۔ اُن باتوں میں اُن کا رویہ لاجواب تھا جو دوسروں کو دِکھائی دیتی ہیں۔ مگر جو باتیں صرف خدا کو دِکھائی دیتی ہیں، اُن میں بے پروا اور غافل تھے۔
۱۱:۴۳ وہ پسند کرتے تھے کہ ہماری واہ واہ ہوتی رہے۔ ہمیں «عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کُرسیاں» ملیں اور «بازاروں میں» لوگ ہماری طرف خاص توجہ دیں۔ اِس طرح وہ نہ صرف ظاہر پرستی بلکہ تکبر کے قصوروار بھی تھے۔
۱۱:۴۴ اور آخر میں خداوند نے اُن کو «پوشیدہ قبروں» سے تشبیہ دی۔ موسیٰ کی شریعت کے تحت جو شخص کسی قبر کو چھو لیتا تھا، وہ سات دن تک ناپاک رہتا تھا (گنتی ۱۹:۱۶) ۔ بے شک وہ چھوتے وقت جانتا بھی نہ ہو کہ یہ قبر ہے۔ فریسی ظاہراً تو یہ تاثر دیتے تھے کہ ہم بڑے پارسا مذہبی لیڈر ہیں، مگر حقیقت میں اُن کو ایک نشان پہنے پھرنا چاہئے تھا جو لوگوں کو خبردار کرتا کہ ہم کو چھونے سے ناپاک ہو جاؤ گے۔ وہ «پوشیدہ قبروں کی مانند» تھے جن کے اندر گندگی، آلودگی اور ناپاکی بھری ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کو اپنی ظاہر پرستی اور تکبر سے ناپاک کر رہے تھے۔
س۔ شرع کے عالموں کی فضیحت (۱۱:۴۵-۵۲)
۱۱:۴۵ شرع کے عالم یا فقیہ موسیٰ کی شریعت کی تشریح و تفسیر کرنے کے ماہر مانے جاتے تھے۔ مگر اُن کی مہارت صرف اِتنی بات پر محدود تھی کہ دوسروں کو بتائیں کہ کیا کرنا ہے۔ وہ خود اِس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ ایک عالمِ شرع نے یسوع کی باتوں کی کاٹ کو محسوس کیا اور اُسے متوجہ کیا کہ فریسیوں پر تنقید کرنے سے تُو شرع کے عالموں کی بھی بے عزتی کرتا ہے۔
۱۱:۴۶ خداوند نے اِس موقعے کو بھی استعمال کر کے شرع کے عالموں کے بعض گناہوں پر کڑی تنقید کی۔ اوّل تو وہ لوگوں پر ہر قسم کا شرعی «بوجھ» لاد کر اُن پر ظلم کرتے تھے، لیکن «اُن بوجھوں» کو اُٹھانے میں اُن کی قطعاً مدد نہیں کرتے تھے۔ کیلی اِس سلسلے میں کہتا ہے کہ:«جن لوگوں کی وجہ سے شرع کے اِن عالموں کو اہمیت اور وقعت حاصل ہوتی تھی، اُن ہی کو وہ حقیر اور ناچیز سمجھتے تھے۔» اُن کے بہت سے قانون اور قاعدے خود ساختہ تھے جن کا تعلق کسی اہم مسئلے سے نہیں ہوتا تھا۔
۱۱:۴۷،۴۸ یہ شرع کے عالم ریاکار قاتل تھے۔ وہ دِکھاتے تو یہ تھے کہ ہم خدا کے نبیوں کی عزت کرتے ہیں، یہاں تک کہ پرانے عہدنامے کے نبیوں کی قبروں پر مقبرے تعمیر کراتے تھے۔ اور یقینا لگتا تھا کہ یہ گہری عزت کا ثبوت ہے۔ لیکن خداوند یسوع اُن کے دلوں کو جانتا تھا۔ اُن کے یہودی آبا و اجداد نے نبیوں کو قتل کیا تھا۔ یہ عالمِ شرع بظاہر اُن سے لاتعلقی کا اِظہار کرتے تھے، لیکن حقیقت میں اُنہی کے نقش ِ قدم پر چلتے تھے۔ ایک طرف تو وہ نبیوں کی قبریں بناتے ہیں، دوسری طرف ساتھ ہی وہ خدا کے سب سے بڑے نبی خود خداوند کو مار ڈالنے کی سازشیں کر رہے تھے۔ اور وہ خدا کے وفادار نبیوں اور رسولوں کو قتل کرتے رہیں گے۔
۱۱:۴۹ اِس آیت کو متی ۲۳:۳۴ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ یسوع خود «خدا کی حکمت» ہے۔ یہاں وہ کہتا ہے کہ «خدا کی حکمت نے کہا ہے کہ مَیں نبیوں اور رسولوں کو اُن کے پاس بھیجوں گی۔» متی کی اِنجیل میں خداوند نے یہ بات پرانے عہدنامہ یا کسی اَور ماخذ کے حوالے سے نہیں کہی بلکہ یہ اُس کا اپنا بیان ہے (۱۔کرنتھیوں ۱:۳۰ بھی ملاحظہ کریں جہاں مسیح کو «حکمت» کہا گیا ہے) ۔ خداوند یسوع نے وعدہ کیا کہ مَیں اپنے «زمانہ کے لوگوں» کے پاس «نبیوں اور رسولوں کو بھیجوں گا۔» مگر وہ اُن کو «قتل کریں گے اور… ستائیں گے۔»
۱۱:۵۰،۵۱ پرانے عہدنامے میں نبیوں کے قتل کا پہلا واقعہ ہابل کا قتل اور آخری واقعہ زکریاہ کا قتل ہے۔ یہ وہ زکریاہ ہے «جو قربان گاہ اور مقدِس کے بیچ میں ہلاک ہوا» تھا (۲۔تواریخ ۲۴:۲۱) ۔ یہودی پرانے عہدنامے کی ترتیب میں ۲۔تواریخ سب سے آخری کتاب تھی۔ چنانچہ جب خداوند نے ہابل اور زکریاہ کے نام لئے تو تمام شہیدوں کو شامل کر لیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ اُن سب کے قتل کا حساب اِسی (خداوند کے) زمانے کے لوگوں سے لیا جائے گا۔ جب خداوند یہ الفاظ کہہ رہا تھا تو اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ لوگ مجھے صلیب پر چڑھا کر مار ڈالیں گے۔ اور اِسی طرح مردانِ خدا پر کِیا جانے والا سارا ظلم و ستم نقطۂ عروج کو پہنچ جائے گا۔ اِسی وجہ سے «اِسی زمانہ کے لوگوں سے سب کی باز پرس کی جائے گی»۔
۱۱:۵۲ آخر میں خداوند یسوع شرع کے عالموں کی اِس لئے فضیحت کرتا ہے کہ اُنہوں نے لوگوں سے «معرفت کی کنجی چھین لی» ہے۔ یعنی خدا کے کلام کو لوگوں تک نہیں پہنچنے دیتے۔ بے شک ظاہری طور پر اِعلان اور اقرار کرتے تھے کہ ہم صحائف کے وفادار ہیں، لیکن بڑی ہٹ دھرمی سے اُس ہستی کو قبول کرنے سے اِنکار کرتے تھے جس کی گواہی صحائف دیتے ہیں۔ وہ دوسروں کو مسیح کے پاس آنے سے روکتے تھے۔ نہ تو وہ خود اُسے قبول کرنے کو تیار تھے، نہ دوسروں کو قبول کرنے دیتے تھے۔
ع۔ فقیہوں اور فریسیوں کا ردِّعمل (۱۱:۵۳،۵۴)
صاف نظر آتا ہے کہ خدا کے ایسے سیدھے اور صریح الزامات پر فقیہ اور فریسی بہت سیخ پا ہوئے، «فریسی اُسے بے طرح چمٹنے اور چھیڑنے لگے۔» اور خداوند کو باتوں میں اُلجھانے اور پھنسانے کی کوششیں تیز کر دیں تاکہ اُس کی کوئی ایسی «بات پکڑیں» جس کی بنیاد پر اُس کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ صادر کریں۔ یوں اُنہوں نے ثابت کر دیا کہ اُن کے کردار کے بارے میں خداوند کی باتیں کتنی درست تھیں۔
مقدس کتاب
۱- جب وہ لوگوں کو اپنی سب باتیں سُنا چُکا تو کَفرؔنحُوم میں آیا۔
۲- اور کِسی صُوبہ دار کا نَوکر جو اُس کو عزِیز تھا بِیماری سے مَرنے کو تھا۔
۳- اُس نے یِسُوعؔ کی خبر سُن کر یہُودِیوں کے کئی بزُرگوں کو اُس کے پاس بھیجا اور اُس سے درخواست کی کہ آ کر میرے نَوکر کو اچھّا کر۔
۴- وہ یِسُوعؔ کے پاس آئے اور اُس کی بڑی مِنّت کر کے کہنے لگے کہ وہ اِس لائِق ہے کہ تُو اُس کی خاطِر یہ کرے۔
۵- کیونکہ وہ ہماری قَوم سے مُحبّت رکھتا ہے اور ہمارے عِبادت خانہ کو اُسی نے بنوایا۔
۶- یِسُوعؔ اُن کے ساتھ چلا مگر جب وہ گھر کے قرِیب پُہنچا تو صُوبہ دار نے بعض دوستوں کی معرفت اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند تکلِیف نہ کر کیونکہ مَیں اِس لائِق نہیں کہ تُو میری چھت کے نِیچے آئے۔
۷- اِسی سبب سے مَیں نے اپنے آپ کو بھی تیرے پاس آنے کے لائِق نہ سمجھا بلکہ زُبان سے کہہ دے تو میرا خادِم شِفا پائے گا۔
۸ -کیونکہ مَیں بھی دُوسرے کے اِختیار میں ہُوں اور سِپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہُوں جا تو وہ جاتا ہے اور دُوسرے سے آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نَوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔
۹- یِسُوعؔ نے یہ سُن کر اُس پر تعجُّب کِیا اور پِھر کر اُس بِھیڑ سے جو اُس کے پِیچھے آتی تھی کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نے اَیسا اِیمان اِسرائیلؔ میں بھی نہیں پایا۔
۱۰- اور بھیجے ہُوئے لوگوں نے گھر میں واپس آ کر اُس نَوکر کو تندرُست پایا۔
۱۱- تھوڑے عرصہ کے بعد اَیسا ہُؤا کہ وہ نائِین نام ایک شہر کو گیا اور اُس کے شاگِرد اور بُہت سے لوگ اُس کے ہمراہ تھے۔
۱۲- جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدِیک پُہنچا تو دیکھو ایک مُردہ کو باہر لِئے جاتے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اِکلَوتا بیٹا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بُہتیرے لوگ اُس کے ساتھ تھے۔
۱۳- اُسے دیکھ کر خُداوند کو ترس آیا اور اُس سے کہا مت رو۔
۱۴- پِھر اُس نے پاس آ کر جِنازہ کو چُھؤا اور اُٹھانے والے کھڑے ہو گئے اور اُس نے کہا اَے جوان مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ۔
۱۵- وہ مُردہ اُٹھ بَیٹھا اور بولنے لگا اور اُس نے اُسے اُس کی ماں کو سَونپ دِیا۔
۱۶- اور سب پر دہشت چھا گئی اور وہ خُدا کی تمجِید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہُؤا ہے اور خُدا نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کی ہے۔
۱۷- اور اُس کی نِسبت یہ خبر سارے یہُودیہ اور تمام گِرد و نواح میں پَھیل گئی۔
۱۸- اور یُوحنّا کو اُس کے شاگِردوں نے اِن سب باتوں کی خبر دی۔
۱۹- اِس پر یُوحنّا نے اپنے شاگِردوں میں سے دو کو بُلا کر خُداوند کے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟
۲۰- اُنہوں نے اُس کے پاس آ کر کہا یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے نے ہمیں تیرے پاس یہ پُوچھنے کو بھیجا ہے کہ آنے والا تُو ہی ہے یا ہم دُوسرے کی راہ دیکھیں؟
۲۱- اُسی گھڑی اُس نے بُہتوں کو بِیمارِیوں اور آفتوں اور بُری رُوحوں سے نجات بخشی اور بُہت سے اندھوں کو بِینائی عطا کی۔
۲۲- اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ جو کُچھ تُم نے دیکھا اور سُنا ہے جا کر یُوحنّا سے بیان کر دو کہ اندھے دیکھتے ہیں۔ لنگڑے چلتے پِھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کِئے جاتے ہیں۔ بہرے سُنتے ہیں۔ مُردے زِندہ کِئے جاتے ہیں۔ غرِیبوں کو خُوشخبری سُنائی جاتی ہے۔
۲۳- اور مُبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔
۲۴- جب یُوحنّا کے قاصِد چلے گئے تو یِسُوعؔ یُوحنّا کے حق میں لوگوں سے کہنے لگا کہ تُم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ہوا سے ہِلتے ہُوئے سرکنڈے کو؟
۲۵- تو پِھر کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا مہِین کپڑے پہنے ہُوئے شخص کو؟ دیکھو جو چمک دار پوشاک پہنتے اور عَیش و عِشرت میں رہتے ہیں وہ بادشاہی محلّوں میں ہوتے ہیں۔
۲۶- تو پِھر تُم کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ایک نبی؟ ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں بلکہ نبی سے بڑے کو۔
۲۷- یہ وُہی ہے جِس کی بابت لِکھا ہے کہ دیکھ مَیں اپنا پَیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہُوں جو تیری راہ تیرے آگے تیّار کرے گا۔
۲۸- مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں لیکن جو خُدا کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے۔
۲۹- اور سب عام لوگوں نے جب سُنا تو اُنہوں نے اور محصُول لینے والوں نے بھی یُوحنّا کا بپتِسمہ لے کر خُدا کو راست باز مان لِیا۔
۳۰- مگر فریسیوں اور شرع کے عالِموں نے اُس سے بپتِسمہ نہ لے کر خُدا کے اِرادہ کو اپنی نِسبت باطِل کر دِیا۔
۳۱- پس اِس زمانہ کے آدمِیوں کو مَیں کِس سے تشبِیہ دُوں اور وہ کِس کی مانِند ہیں؟
۳۲- اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازار میں بَیٹھے ہُوئے ایک دُوسرے کو پُکار کر کہتے ہیں کہ ہم نے تُمہارے لِئے بانسلی بجائی اور تُم نہ ناچے۔ ہم نے ماتم کِیا اور تُم نہ روئے۔
۳۳- کیونکہ یُوحنّا بپتِسمہ دینے والا نہ تو روٹی کھاتا ہُؤا آیا نہ مَے پِیتا ہُؤا اور تُم کہتے ہو کہ اُس میں بدرُوح ہے۔
۳۴- اِبنِ آدمؔ کھاتا پِیتا آیا اور تُم کہتے ہو کہ دیکھو کھاؤُ اور شرابی آدمی محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کا یار۔
۳۵- لیکن حِکمت اپنے سب لڑکوں کی طرف سے راست ثابِت ہُوئی۔
۳۶- پِھر کِسی فریسی نے اُس سے درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا۔ پس وہ اُس فریسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بَیٹھا۔
۳۷- تو دیکھو ایک بدچلن عَورت جو اُس شہر کی تھی۔ یہ جان کر کہ وہ اُس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بَیٹھا ہے سنگِ مرمر کے عِطردان میں عِطر لائی۔
۳۸- اور اُس کے پاؤں کے پاس روتی ہُوئی پِیچھے کھڑی ہو کر اُس کے پاؤں آنسُوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اُن کو پونچھا اور اُس کے پاؤں بُہت چُومے اور اُن پر عِطر ڈالا۔
۳۹- اُس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اُسے چُھوتی ہے وہ کَون اور کَیسی عَورت ہے کیونکہ بدچلن ہے۔
۴۰- یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اَے شمعُوؔن مُجھے تُجھ سے کُچھ کہنا ہے۔ اُس نے کہا اَے اُستاد کہہ۔
۴۱ کِسی ساہُوکار کے دو قرض دار تھے۔ ایک پانسَو دِینار کا دُوسرا پچاس کا۔
۴۲- جب اُن کے پاس ادا کرنے کو کُچھ نہ رہا تو اُس نے دونوں کو بخش دِیا۔ پس اُن میں سے کَون اُس سے زِیادہ مُحبّت رکھّے گا؟
۴۳- شمعُوؔن نے جواب میں کہا میری دانِست میں وہ جِسے اُس نے زِیادہ بخشا۔ اُس نے اُس سے کہا تُو نے ٹِھیک فَیصلہ کِیا۔
۴۴- اور اُس عَورت کی طرف پِھر کر اُس نے شمعُوؔن سے کہا کیا تُو اِس عَورت کو دیکھتا ہے؟ مَیں تیرے گھر میں آیا۔ تُو نے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دِیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسُوؤں سے بھگو دِئے اور اپنے بالوں سے پونچھے۔
۴۵- تُو نے مُجھ کو بوسہ نہ دِیا مگر اِس نے جب سے مَیں آیا ہُوں میرے پاؤں چُومنا نہ چھوڑا۔
۴۶- تُو نے میرے سر میں تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عِطر ڈالا ہے۔
۴۷- اِسی لِئے مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ اِس کے گُناہ جو بُہت تھے مُعاف ہُوئے کیونکہ اِس نے بُہت محُبّت کی مگر جِس کے تھوڑے گُناہ مُعاف ہُوئے وہ تھوڑی محُبّت کرتا ہے
۴۸- اور اُس عَورت سے کہا تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے
۴۹- اِس پر وہ جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے جو گُناہ بھی مُعاف کرتا ہے؟
۵۰- مگر اُس نے عَورت سے کہا تیرے اِیمان نے تُجھے بچا لِیا ہے۔ سلامت چلی جا۔