۶۔ ابنِ آدم اپنی خدمت کو وسعت دیتا ہے (۷:۱-۹:۵۰)
الف۔ صوبہ دار کے نوکر کو شفا دینا (۷:۱-۱۰)
۷:۱-۳ مندرجہ بالا باتیں ختم کرنے کے بعد یسوع بھیڑ کو چھوڑ کر کفرنحوم میں آیا۔ یہاں «یہودیوں کے کئی بزرگوں» نے اُسے گھیر لیا۔ یہ بزرگ ایک غیر قوم صوبہ دار کے نوکر کی سفارش کرنے آئے تھے۔ لگتا ہے کہ یہ صوبہ دار یہودیوں پر خاص مہربان تھا۔ یہاں تک کہ اُس نے اُنہیں ایک عبادت خانہ بنوا دیا تھا۔ نئے عہدنامے کے تمام صوبے داروں کی طرح اُس کو بھی اچھے رنگ میں پیش کیا گیا ہے (لوقا ۲۳:۴۷؛ اعمال ۱۰:۱-۴۸) ۔
ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ مالک اپنے نوکروں پر ایسے مہربان ہوں جیسے یہ صوبے دار تھا۔ جب اُس کا نوکر بیمار پڑ گیا تو اُس نے «یہودیوں کے بزرگوں» سے درخواست کی کہ جا کر یسوع کی منت کرو کہ میرے نوکر کو شفا بخشے۔ یہ صوبے دار واحد شخص ہے جس نے اپنے نوکر کے لئے یسوع سے برکت مانگی۔
۷:۴-۷ قوم کے یہ بزرگ ایک عجیب صورتِ حال سے دو چار تھے۔ وہ یسوع کا یقین نہیں کرتے تھے۔ اُس پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ لیکن صوبے دار کی دوستی نے اُنہیں مجبور کر دیا کہ ضرورت کے وقت یسوع کے پاس آئیں۔ اُنہوں نے صوبے دارکے بارے میں بتایا کہ «وہ اِس لائق ہے۔» مگر جب صوبے دار یسوع سے ملا تو اُس نے کہا کہ «مَیں اِس لائق نہیں۔»
متی کے بیان کے مطابق صوبے دار خود یسوع کے پاس حاضر ہوا تھا۔ یہاں لوقا کے بیان کے مطابق اُس نے بزرگوں کو بھیجا تھا۔ دونوں بیان درست ہیں۔ اُس نے بزرگوں کو اپنے آگے بھیجا اور بعد میں خود حاضرِ خدمت ہوا ہو گا۔
صوبے دار کی اِنکساری اور ایمان قابلِ تعریف ہے۔ وہ اپنے آپ کو اِس لائق نہیں سمجھتا تھا کہ یسوع اُس کے گھر میں آتا۔ اور نہ وہ اپنے آپ کو اِس لائق سمجھتا تھا کہ خود یسوع کے پاس آتا۔ لیکن وہ اِتنا ایمان رکھتا تھا کہ یسوع اِتنا قادر ہے کہ شخصی طور پر حاضر ہوئے بغیر شفا دے سکتا ہے۔ اُس کے «کہنے» ہی سے بیماری دُور ہو جائے گی۔
۷:۸ صوبے دار نے مزید وضاحت کی جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ اِختیار اور ذمہ داری کو سمجھتا ہے۔ اُسے اِس میدان میں بہت تجربہ تھا۔ وہ خود رومی حکومت کے اختیار کے ماتحت تھا اور اُس کے احکام کی بجا آوری کا ذمہ دار تھا۔ مزید برآں سپاہی اُس کے ماتحت تھے جو اُس کا حکم فوراً مانتے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ یسوع کو بھی بیماریوں پر اُسی قسم کا اِختیار ہے جیسا رومی حکومت کو اُس پر تھا اور جیسا اُس کو اپنے ماتحتوں پر حاصل تھا۔
۷:۹،۱۰ چنانچہ حیرانی کیسی کہ یسوع نے اُس غیر قوم صوبے دار کے ایمان پر تعجب کیا۔ اِسرائیلی قوم میں سے کسی نے یسوع کے اِختیارِ کامل کے بارے میں ایسا دلیرانہ اور علانیہ اِقرار نہیں کیا تھا۔ ایسا بڑا ایمان صِلہ حاصل کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ جب «یہودیوں کے بزرگ» یعنی «بھیجے ہوئے لوگ» صوبے دار کے گھر واپس پہنچے تو دیکھا کہ نوکر کامل شفا پا چکا ہے۔
اناجیل میں دو موقعوں کا ذکر ہے جب یسوع نے «تعجب کیا۔» اِن میں سے ایک موقع یہ ہے۔ اُس نے اِس غیر قوم صوبے دار کے ایمان پر تعجب کیا۔ اور اُس نے اِسرائیلیوں کی بے اعتقادی پر تعجب کیا (مرقس ۶:۶) ۔
ب۔ بیوہ کے بیٹے کو زندہ کرنا (۷:۱۱-۱۷)
۷:۱۱-۱۵ نائین ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جو کفرنحوم کے جنوب مغرب میں واقع تھا۔ یسوع نے جنازے کے ایک جلوس کو شہر سے نکلتے دیکھا۔ مرا ہوا شخص «اپنی ماں کا اِکلوتا بیٹا تھا»، «اور وہ بیوہ تھی»۔ خداوند کو اُس بیوہ پر ترس آیا۔ یسوع نے اُس چارپائی کو چھوا جس پر مُردے کو لئے جا رہے تھے۔ غالباً یہ اِشارہ تھا کہ رُک جائیں — یسوع نے اُس مُردے کو حکم دیا کہ «اے نوجوان… اُٹھ۔» زندگی اُس لاش میں فوراً لوٹ آئی اور وہ نوجوان اُٹھ بیٹھا۔ اِس طرح اُس ہستی نے جو بیماریوں اور موت پر اِختیار رکھتی ہے بیوہ کا زندہ بیٹا اُسے سونپ دیا۔
۷:۱۶،۱۷ لوگوں پر «دہشت چھا گئی»۔ اُنہوں نے ایک زبردست معجزہ دیکھا تھا۔ مردے کو زندہ کیا گیا تھا۔ اُنہوں نے یقین کیا کہ خداوند یسوع ایک «بڑا نبی» ہے جسے خدا نے بھیجا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ «خدا نے اپنی اُمت پر توجہ کی ہے۔» مگر یہ کہتے ہوئے اُنہیں اِحساس نہیں تھا کہ خود یسوع ہی خدا ہے بلکہ اُن کا خیال تھا کہ معجزہ محض اِس بات کا ثبوت ہے کہ خدا اپنے ایک بندے کی معرفت ہمارے درمیان مصروفِ عمل ہے۔ اُنہوں نے معجزے کی شہرت «تمام گردو نواح میں» پھیلا دی۔
لوقا طبیب کی کتاب میں تین بچوں کا ذکر ہے جو اکلوتے تھے اور جن کو بحال کیا گیا یعنی بیوہ کا بیٹا، یائیر کی بیٹی (۸:۴۲) اور بدروح گرفتہ لڑکا (۹:۳۸) ۔
ج۔ ابنِ آدم اپنے پیش رَو کو یقین دہانی کراتا ہے (۷:۱۸-۲۳)
۷:۱۸-۲۰ یوحنا بپتسمہ دینے والا بحیرۂ مردار کے مشرقی ساحل پر واقع قلعہ میخائرس (Machaerus) کے قیدخانے میں قید تھا۔ یسوع کے معجزات کی خبریں رفتہ رفتہ اُس تک بھی پہنچیں۔ اگر یسوع واقعی مسیحِ موعود تھا تو اُس نے یوحنا کو ہیرودیس کے ہاتھوں سے چھڑانے کے لئے اپنی قدرت کیوں استعمال نہ کی؟ اِس لئے یوحنا نے اپنے دو شاگردوں کو یسوع کے پاس یہ پوچھنے کو بھیجا کہ مسیحِ موعود تُو ہی ہے، یا وہ ابھی آنے والا ہے۔ یہ بڑی عجیب بات لگتی ہے کہ یوحنا یسوع کے مسیحِ موعود ہونے کے بارے میں سوال کرے۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ بہترین آدمیوں پر بھی بے اعتقادی کے دَور آ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں جسمانی دُکھ اور مصیبت شک اور روحانی بوجھل پن پیدا کر سکتا تھا۔
۷:۲۱-۲۳ یسوع نے یوحنا کے جواب میں اُسے یاد دلایا کہ مَیں وہ معجزے کر رہا ہوں جن کی نبیوں نے پیش گوئی کی تھی کہ مسیحِ موعود کرے گا (یسعیاہ ۳۵:۵،۶؛ ۶۱:۱) ۔ پھر یسوع نے یوحنا کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ «مبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔» شاید کوئی شخص اِس بات کو ملامت سمجھے۔ یوحنا کو اِس بات سے ٹھوکر لگی تھی کہ یسوع عنانِ اِختیار اپنے ہاتھ میں لینے اور اپنے آپ کو لوگوں کی توقعات کے مطابق ظاہر کرنے سے قاصر رہا تھا۔ مگر اِسی بات کو یوحنا کے حق میں نصیحت بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ایمان پر قائم رہے۔
سی۔ جی۔ مُور (Moore) کہتا ہے کہ
«بعض اوقات یسوع اپنی قدرت کی شہادتوں پر شہادتیں دیئے جاتا ہے مگر اِس کو استعمال نہیں کرتا۔ مجھے ایسی گھڑی ایمان کے لئے سب سے زیادہ صبر آزما معلوم ہوتی ہے… اُس وقت فضل کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ جب ایلچی یہ کہتے ہوئے واپس آتے ہیں کہ ’ہاں۔ وہ شخص ساری قدرت کا مالک ہے۔ اور وہ سب کچھ ہے جو آپ نے سوچا تھا۔ مگر اُس نے آپ کو قید سے نکالنے کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا…‘ کوئی وضاحت نہ کی گئی۔ ایمان فروغ پاتا رہا۔ قید خانے کے دروازے بند رہے۔ اور پھر یہ پیغام آیا کہ ’مبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔‘ اور بس!»
د۔ ابنِ آدم اپنے پیش رَو کی تعریف کرتا ہے (۷:۲۴-۲۹)
۷:۲۴ خداوند یسوع علیٰحدگی میں یوحنا سے کچھ بھی کہتا مگر لوگوں کے سامنے سوائے تحسین و آفرین کے کلمات کے اُس کے پاس کچھ نہ تھا۔ جب لوگ یردن کے کنارے جوق در جوق یوحنا کے پاس آتے تھے تو کیا دیکھنے کی توقع رکھتے تھے؟ ایک بُزدل، متلون مزاج اور کمزور قوتِ اِرادی کے مالک ابن الوقت کو دیکھنے کی توقع تھی؟ کوئی شخص یوحنا پر کبھی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ وہ «ہوا میں ہلتا ہوا سرکنڈا» تھا۔
۷:۲۵ یا کیا وہ کسی فلم ایکٹر جیسے شخص کو دیکھنے گئے تھے؟ جو نئے سے نئے فیشن کا لباس زیب ِتن کئے عیش و عشرت میں مزے لُوٹ رہا تھا؟ نہیں۔ ایسے لوگ تو «بادشاہی محلوں میں ہوتے ہیں۔» اور شاہی درباروں کی خوشیاں لوٹنے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اپنے مفاد اور مسرتوں کے لئے اَن گنت تعلقات بنانے کی کوششوں میں رہتے ہیں۔
۷:۲۶ وہ تو «ایک نبی کو دیکھنے» جاتے تھے۔ وہ ضمیر کا مجسمہ تھا۔ وہ خدا کے کلام کا اعلان اور منادی کرتا تھا، خواہ اُسے کچھ بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ دراصل وہ «نبی سے بڑا» تھا۔
۷:۲۷ خود یوحنا کے متعلق بھی پیش گوئی کی گئی تھی اور اُسے یہ یکتا اعزاز حاصل تھا کہ بادشاہ کا تعارف کرائے۔ یسوع نے ملاکی ۳:۱ کے حوالے سے بتایا کہ پرانے عہد میں یوحنا کے بارے میں وعدہ کیا گیا تھا۔ مگر ایسا کرتے وقت یسوع نے اسمائے ضمیر میں دلچسپ تبدیلی کر دی۔ ملاکی ۳:۱ میں یوں لکھا ہے کہ «دیکھو مَیں اپنے رسول کو بھیجوں گا اور وہ میرے آگے راہ درست کرے گا۔» مگر یسوع نے اِسے یوں پیش کیا کہ «دیکھ مَیں اپنا پیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہوں جو تیری راہ تیرے آگے تیار کرے گا۔» اِسمِ ضمیر «میرے» کو «تیرے» میں بدل دیا گیا ہے۔
گوڈٹ (Godet) اِس تبدیلی کی وضاحت یوں کرتا ہے کہ
«نبی کی نگاہ میں بھیجنے والا اور جس کے آگے راہ کو تیار کیا جانا تھا، وہ ایک ہی ہستی تھی یعنی یہوواہ۔ اِسی لئے ملاکی میں ’میرے آگے‘ کہا گیا ہے۔ مگر یسوع جب کبھی اپنے بارے میں بات کرتا ہے تو خود کو ’باپ‘ کے ساتھ خلط ملط نہیں کرتا۔ اُس کے لئے یہ اِمتیاز رکھنا بہت ضروری تھا۔ یہوواہ اپنے بارے میں نہیں، بلکہ یسوع کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ اِس لئے ’تیرے آگے‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ اِس شہادت سے کیا یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ نبی کے خیال کے مطابق اور یسوع کے خیال کے مطابق بھی مسیحِ موعود کا ظہور یہوواہ کا ظہور ہے؟»
۷:۲۸ یسوع نے یوحنا کی تعریف جاری رکھی اور زور دے کر کہا کہ «جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں، اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں۔» مراد یہ ہے کہ کوئی نبی اُس سے بڑا نہیں۔ اِس برتری کا تعلق اُس کے شخصی کردار سے نہیں بلکہ مرتبے سے ہے کہ وہ مسیحِ موعود کا پیش رَو ہے۔ دوسرے لوگ جوش و ولولہ، عزت و احترام اور جاں نثاری میں اُس کی طرح عظیم ہیں مگر کسی کو بادشاہ کی آمد کا اعلان کرنے کا اعزاز حاصل نہ ہوا۔ اِس معاملے میں یوحنا یکتا اور بے مثال ہے۔ تو بھی خداوند نے مزید کہا کہ «جو خدا کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس (یوحنا) سے بڑا ہے»۔ «خدا کی بادشاہی» کی برکات سے لطف اندوز ہونا بادشاہ کے پیش رَو ہونے سے اعلیٰ اور برتر بات ہے۔
۷:۲۹ اِس آیت میں بھی غالباً یسوع بول رہا ہے اور بیان کر رہا ہے کہ یوحنا کی منادی کو کیسی مقبولیت حاصل ہوئی۔ «عام لوگوں» اور مانے ہوئے گنہگاروں نے بھی «محصول لینے والوں» کی طرح توبہ کی اور دریائے یردن میں یوحنا سے «بپتسمہ لیا۔» یوحنا کے پیغام کو سچ مان کر اور اُس پر عمل کر کے اُنہوں نے «خدا کو راست باز مان لیا» یعنی اُنہوں نے تسلیم کر لیا کہ خدا یہ مطالبہ کرنے میں راست ہے کہ اِس سے پیشتر کہ مسیح بنی اِسرائیل پر بادشاہی کرے ضرور ہے کہ وہ توبہ کریں۔ لفظ «راست باز مان لیا» کے استعمال سے صاف ظاہر ہے کہ اِس کا مطلب «راست باز بنانا یا ٹھہرانا» نہیں۔ کوئی شخص خدا کو راست باز نہیں بنا سکتا بلکہ اِس کا مطلب ہے خدا کو راست باز تسلیم کرنا کہ وہ اپنے فیصلوں اور مطالبوں میں راست ہے۔
ہ۔ ابنِ آدم اپنے زمانے کے لوگوں پر تنقید کرتا ہے (۷:۳۰-۳۵)
۷:۳۰،۳۴ فریسیوں اور شرع کے عالموں نے یوحنا کے بپتسمہ کو ماننے سے اِنکار کر دیا تھا۔ اِس طرح اُنہوں نے خدا کے اِس پروگرام کو «باطل کر دیا» تھا جو اُن کی بہتری کے لئے تھا۔ دراصل اُس پشت کو خوش کرنا ہی ناممکن تھا جس کے وہ لیڈر تھے۔ یسوع اُنہیں بازار میں کھیلتے ہوئے لڑکوں کے مشابہ ٹھہراتا ہے۔ وہ نہ تو شادی کا کھیل چاہتے تھے نہ ماتم کا۔ وہ بگڑے ہوئے، ضدی، سرکش، ڈھیٹ اور گردن کش تھے۔ خدا اُن کے درمیان کوئی سی خدمت بھی کیوں نہ استعمال کرے وہ اُس پر اعتراض ہی کرتے تھے۔ «یوحنا بپتسمہ دینے والے» نے اُن کو سادگی، ریاضت، زاہدانہ زندگی اور خود اِنکاری کا نمونہ پیش کیا۔ اُنہوں نے اِسے پسند نہ کیا بلکہ نکتہ چینی کر کے کہنے لگے کہ اِس میں تو بدروح ہے۔ «ابنِ آدم، کھاتا پیتا آیا۔» اُس نے «محصول لینے والوں اور گنہگاروں» سے کنارہ کشی اِختیار نہ کی۔ یعنی جن کو بچانے آیا تھا اُن کے ساتھ میل جول رکھا مگر فریسی اِس پر بھی خوش نہ تھے۔ وہ اُسے «کھاؤ اور شرابی» آدمی قرار دیتے تھے۔ ضیافت ہو یا روزہ، ماتم ہو یا شادی، یوحنا ہو یا یسوع، کوئی چیز یا کوئی شخص بھی فریسیوں کو راضی نہیں کر سکتا تھا۔
رائیل (Ryle) خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
«ہمیں ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کو خیرباد کہہ دینا چاہئے۔ یہ بات ناممکن اور یہ کوشش فقط وقت کا ضیاع ہے۔ ہم صرف مسیح کے نقشِ قدم پر چلنے میں مگن رہیں اور دُنیا جو کچھ کہتی ہے اِسے کہنے دیں۔ ہم کچھ بھی کر لیں دُنیا کو خوش نہیں کر سکتے، نہ اِس کی بدخوئی کی باتوں کو خاموش کر سکتے ہیں۔ اِس نے پہلے یوحنا بپتسمہ دینے والے میں سے کیڑے نکالے۔ بعد میں یسوع پر اعتراضات کرتے رہے۔ اور جب تک دُنیا میں اُس کا ایک بھی شاگرد باقی ہے وہ اُسے بھی لغو نکتہ چینی کا نشانہ بناتے رہیں گے۔»
۷:۳۵ «لیکن حکمت اپنے سب لڑکوں کی طرف سے راست ثابت ہوئی۔» یہاں «حکمت» خود نجات دہندہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ شاگردوں کا چھوٹا سا گروہ جو اُس کی تعظیم کرتا ہے، وہ حکمت کے «لڑکے» یعنی بچے ہیں۔ اگرچہ بے شمار لوگ اُسے ردّ کرتے ہیں، لیکن اُس کے سچے پیرو اپنی محبت، پاکیزگی اور جاں نثاری کی زندگی سے اُس کے مطالبات کو راست ثابت کریں گے۔
و۔ ایک بد چلن عورت یسوع مسیح پر عطر ڈالتی ہے (۷:۳۶-۳۹)
۷:۳۶ زیر نظر واقعے میں ہم دیکھتے ہیں کہ حکمت کا ایک فرزند اُس کو راست ثابت کرتا ہے۔ یہ فرزند ایک گناہ آلودہ عورت ہے۔ ڈاکٹر ایچ۔ سی۔ وُوڈرِنگ کیا خوب کہتا ہے کہ «جب خدا دیکھتا ہے کہ وہ مذہبی لیڈروں کو مسیح کی قدر کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتا تو کسبیوں کو اُس کے لئے تیار کرتا ہے۔» شمعون فریسی نے یسوع سے «درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا۔» کہہ نہیں سکتے کہ یہ دعوت تجسس کی وجہ سے تھی یا دشمنی کے باعث۔
۷:۳۷،۳۸ اُسی وقت «ایک بد چلن عورت» بھی اُس کمرے میں آگئی۔ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کون تھی۔ روایت کہتی ہے کہ وہ مریم مگدلینی تھی، مگر پاک کلام میں اِس طرح کا کوئی اِشارہ تک نہیں ملتا۔ یہ عورت «سنگ ِمرمر کے عطردان میں عِطر لائی۔» جب یسوع کھانا کھاتے ہوئے چوکی پر جھک کر بیٹھا ہوا تھا اور اُس کا سر دسترخوان کے قریب تھا، وہ «اُس کے پاؤں کے پاس… کھڑی ہو کر اُس کے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی۔» وہ اُس کے پاؤں کو بار بار چومتی تھی۔ پھر اُس نے «اُن پر» نہایت قیمتی عطر ڈالا۔ ایسی عبادت گزاری اور قربانی سے ثابت ہوتا ہے کہ اُسے یقین تھا کہ کوئی چیز یسوع سے قیمتی نہیں۔
۷:۳۹ شمعون کا رویہ بالکل فرق تھا۔ وہ محسوس کرتا تھا کہ نبیوں کو فریسیوں کی طرح گنہگاروں سے دُور اور الگ رہنا چاہئے۔ چنانچہ وہ اِس نتیجے پر پہنچا کہ اگر یسوع واقعی نبی ہوتا تو کسی بد چلن کو ایسی چاہت اور ایسا پیار دِکھانے کی اِجازت نہ دیتا۔
ز۔ دو قرض داروں کی تمثیل (۷:۴۰-۵۰)
۷:۴۰-۴۳ یسوع کو شمعون کے خیالات معلوم تھے۔ اُس نے بڑی خوش اخلاقی سے شمعون سے اِجازت چاہی کہ «مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے۔» اور پھر بڑی مہارت کے ساتھ اُس نے «ساہوکار» اور «دو قرض داروں» کی کہانی سنائی۔ «ایک پانسو دِینار کا، دوسرا پچاس» دینار کا قرض دار تھا۔ «جب اُن کے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ رہا تو اُس نے دونوں کو بخش دیا۔» کہانی کے اِس نکتے پر یسوع نے شمعون سے پوچھا کہ دونوں میں سے کون قرض خواہ سے زیادہ محبت رکھے گا؟ اُس فریسی نے درست جواب دیا کہ «میری دانست میں وہ جسے اُس نے زیادہ بخشا۔» اِس بات کا اِقرار کرتے ہوئے اُس نے اپنے آپ کو موردِ الزام ٹھہرایا جیسا کہ یسوع نے بعد میں اُس پر واضح کیا۔
۷:۴۴-۴۷ جس وقت سے خداوند اُس گھر میں داخل ہوا تھا وہ عورت عقیدت اور محبت اُس پر نچھاور کر رہی تھی۔ اُس کے برعکس فریسی نے یسوع کو خیر مقدم کہنے میں بھی سرد مہری کا مظاہرہ کیا تھا۔ یہاں تک کہ معمول کی خاطر داری کی رسوم پر بھی توجہ نہ دی مثلاً مہمان کے پاؤں دھونا، اُسے بوسہ دینا اور سر میں ڈالنے کو تیل پیش کرنا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اِس لئے کہ عورت کو یہ شعور اور احساس تھا کہ میرے بہت سے گناہ معاف ہوئے ہیں جب کہ شمعون سمجھتا تھا کہ مَیں کوئی بڑا گنہگار نہیں ہوں۔ «جس کے تھوڑے گناہ معاف ہوئے وہ تھوڑی محبت کرتا ہے۔»
یسوع نے یہ اِشارہ نہیں دیا کہ وہ فریسی بڑا گنہگار نہیں تھا بلکہ اِس بات پر زور دیا کہ شمعون نے دراصل کبھی تسلیم نہیں کیا تھا کہ اُس کا بڑا گناہ بخشا گیا ہے۔ اگر کِیا ہوتا، تو وہ بھی خداوند سے ویسی ہی محبت کرتا جیسی اُس بد چلن عورت نے کی تھی۔ ہم سب کو بھی عظیم معافی کا تجربہ اور علم ہو سکتا ہے اور ہم سب بھی خداوند کو عظیم محبت کر سکتے ہیں۔
۷:۴۸ پھر خداوند نے سب کے سامنے عورت سے کہا کہ «تیرے گناہ معاف ہوئے»۔ اُس کے گناہ اِس لئے معاف نہیں ہوئے تھے کہ وہ مسیح سے محبت کرتی تھی بلکہ اُس کی محبت اُس کے گناہوں کی معافی کا نتیجہ تھی۔ اُس نے اِس لئے زیادہ محبت رکھی کہ اُس کے زیادہ گناہ معاف ہوئے تھے۔ اور یسوع نے اِس موقع کو استعمال کرتے ہوئے سب کے سامنے اُس کے گناہوں کی معافی کا اعلان کیا۔
۷:۴۹-۵۰ دوسرے مہمان اپنے دلوں میں سوال کرنے لگے کہ یسوع کو «گناہ معاف کرنے کا کیا حق ہے؟» طبعی دل فضل سے نفرت رکھتا ہے۔ مگر یسوع نے عورت کو دوبارہ تسلی دی اور یقین دلایا کہ «تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے۔ سلامت چلی جا۔» یہ ایسی بات ہے جو کوئی ماہر نفسیات معالج نہیں کر سکتا۔ وہ احساسِ گناہ کی پیچیدگیوں کی تشریح تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ خوشی اور اِطمینان ہرگز نہیں دے سکتے جو یسوع دیتا ہے۔
خداوند یسوع نے ایک فریسی کی دعوت قبول کی اور اُس کے دسترخوان سے کھایا پیا۔ بعض مسیحی اِس واقعے اور مسیح کے اِس کردار کا بہت غلط استعمال کرتے ہیں۔ اور اِس عمل کا دفاع کرتے ہیں کہ مسیحیوں کے لئے غیر نجات یافتہ لوگوں سے گہرے روابط رکھنا، اُن کے لہو و لعب میں شریک ہونا اور اُن کی عیش و عشرت میں شامل ہونا جائز ہے۔ رائیل (Ryle) اِس سلسلے میں یوں خبردار کرتا ہے:
«جو لوگ اِس دلیل کا سہارا لیتے ہیں، بہتر ہو گا کہ وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ ہمارے خداوند نے اِس موقعے پر کس رویے اور سلوک کا مظاہرہ کیا۔ وہ اپنے «باپ کے کام» کو اُس فریسی کی میز پر ساتھ لے گیا۔ اُس نے فریسی کے اُس گناہ پر گواہی دی جو باعث ِرکاوٹ تھا اور اُسے تنگ کرتا تھا۔ اُس نے فریسی کو سمجھا دیا کہ گناہوں کی مفت معافی کی نوعیت کیا ہے اور میرے ساتھ حقیقی محبت کا راز کیا ہے۔ اُس نے ایمان کی نجات بخش خاصیت کا بھی بیان کیا۔ جو مسیحی غیر نجات یافتہ لوگوں سے گہرے اور بے تکلفانہ تعلقات کے حامی ہیں اگر وہ اُن کے ہاں اپنے خداوند کی روح میں جائیں اور اُسی کی طرح بات کریں اور ویسا ہی برتاؤ رکھیں تو بے شک یہ رسم نباہتے رہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اِن غیر نجات یافتہ لوگوں کی میز پر ان مسیحیوں کا رویہ ویسا ہوتا ہے جیسا یسوع کا شمعون کی میز پر تھا؟ بہتر ہے کہ پہلے وہ اِس سوال کا جواب دیں۔»
ح۔ بعض خواتین یسوع کی خدمت کرتی ہیں (لوقا ۸:۱-۳)
یاد رکھنا چاہئے کہ اناجیل میں ہمارے خداوند کی زندگی اور خدمت کے بہت کم واقعات درج کئے گئے ہیں۔ روح القدس نے کچھ واقعات کو چن کر درج کروا دیا، باقی چھوڑ دیئے۔ یہاں ایک سادہ اور معمولی سا بیان ہے کہ یسوع اور اُس کے شاگرد گلیل کے «شہر شہر اور گاؤں گاؤں» خوش خبری سناتے پھرتے تھے۔ جب یسوع «خدا کی بادشاہی» کی منادی کرتا اور لوگوں کی خدمت کرتا تھا تو وہ «عورتیں بھی اُس کی خدمت کرتی تھیں جن کو اُس کے وسیلے سے برکت ملی تھی۔ غالباً وہ اُس کے قیام اور کھانے پینے کا اِنتظام کرتی تھیں۔ مثال کے طور پر ایک عورت مریم نام تھی جو «مگدلینی کہلاتی تھی۔» بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اُس کو «مگدلینی» کا خطاب ملا ہوا تھا۔ اور وہ مگدلہ (مگدول) کی رہنے والی معزز خاتون تھی۔ کچھ بھی ہو خداوند نے معجزانہ طور پر اُسے سات بدروحوں سے رہائی دلائی تھی۔ پھر یوآنہ تھی جس کا شوہر ہیرودیس کے گھر کا دیوان تھا۔ ایک اَور خاتون کا نام سوسناہ تھا۔ اِن کے علاوہ بھی بہتیری اَور عورتیں تھیں جو خداوند کی خدمت کرنے والیوں میں شامل تھیں۔ اُن کی خدمات اور خداوند کے ساتھ حسنِ سلوک کو تسلیم کیا گیا اور کتابِ مقدس میں قلم بند کیا گیا ہے۔ اُن کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ ہم جو یسوع کو اپنی چیزوں میں شریک کر رہی ہیں ہر زمانے کے مسیحی ہماری مہمان نوازی اور فراخ دلی کے بارے میں پڑھیں گے۔
خداوند کی خدمت کا موضوع «خدا کی بادشاہی»کی خوش خبری تھا۔ «خدا کی بادشاہی» سے مراد وہ دیدنی یا نادیدنی ریاست ہے جہاں خدا کی حکمرانی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ متی «آسمان کی بادشاہی» کی اِصطلاح استعمال کرتا ہے۔ لیکن بنیادی خیال ایک ہی ہے۔ اِس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ «حق تعالیٰ آدمیوں کی مملکت میں حکمرانی کرتا ہے» (دانی ایل ۴:۱۷) یا «بادشاہی کا اِقتدار آسمان کی طرف سے ہے» (دانی ایل ۴:۲۶) ۔
نئے عہدنامے میں اِس بادشاہی کی ترقی کے کئی مدارج نظر آتے ہیں:
- سب سے پہلے یوحنا بپتسمہ دینے والے نے اعلان کیا کہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے (متی ۳:۱،۲) ۔
- پھر بادشاہ کی ذات میں یہ بادشاہی موجود تھی («دیکھو خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے» لوقا ۱۷:۲۱) ۔ یہ اُس بادشاہی کی خوش خبری تھی جس کی منادی یسوع کرتا تھا۔ اُس نے اپنے آپ کو یہودیوں کے بادشاہ کے طور پر پیش کیا (لوقا ۲۳:۳) ۔
- پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اِسرائیلی قوم نے خدا کی بادشاہی کو ردّ کر دیا (لوقا ۱۹:۱۴؛ یوحنا ۱۹:۱۵) ۔
- آج کل یہ بادشاہی ایک بھید کی صورت میں ہے (متی ۱۳:۱۱) ۔ بادشاہ یعنی مسیح عارضی طور پر غیر حاضر ہے۔ لیکن اِس دُنیا میں بہت سے لوگوں کے دلوں میں اُس کی حکمرانی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ بادشاہی اُن سب کو قبول کرتی اور گلے لگاتی ہے جو خدا کی حکمرانی کو تسلیم کرتے ہیں خواہ وہ سچے دل سے تبدیل نہ بھی ہوئے ہوں۔ اِس ظاہری اِقرار کا دائرہ ہمیں بیج بونے والے کی تمثیل (لوقا ۸:۴-۱۵) ، گندم اور کڑوے دانوں کی تمثیل (متی ۱۳:۲۴-۳۰) اور بڑے جال اور مچھلیوں کی تمثیل (متی ۱۳:۴۷-۵۰) میں بھی نظر آتا ہے۔ لیکن اپنے گہرے اور حقیقی مفہوم میں اِس بادشاہی میں صرف وہی لوگ شامل ہیں جو تبدیل ہو چکے ہیں (متی ۱۸:۳) یعنی نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں (یوحنا ۳:۳) ۔ یہ باطنی حقیقت کا دائرہ ہے۔
- ایک دن یہ سلطنت یہاں دُنیا میں لفظی معنوں میں قائم کی جائے گی اور خداوند یسوع بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ہونے کی حیثیت سے ایک ہزار سال تک بادشاہی کرے گا (مکاشفہ ۱۱:۱۵؛ ۱۹:۱۶؛ ۲۰:۴) ۔
- اِس بادشاہی کا آخری مرحلہ وہ ہے جسے ہمارے خداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی ابدی بادشاہی کہا جاتا ہے (۲۔پطرس ۱:۱۱) ۔
ط۔ بیج بونے والے کی تمثیل (۸:۴-۱۵)
۸:۴-۸ بیج بونے والے کی تمثیل میں خدا کی بادشاہی کے موجودہ پہلو کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ بادشاہی میں برملا اِقرار اور حقیقت دونوں شامل ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ خبرداری کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ ہمیں خدا کا کلام کس طرح «سننا» چاہئے۔ پاک کلام کی منادی اور تعلیم کو سننا کوئی ہلکی اور معمولی بات نہیں۔ جو کلام سنتے ہیں، اُن کی ذمہ داری پہلے کی نسبت بڑھ جاتی ہے۔ اگر وہ پیغام کو نظر انداز کر دیتے ہیں، یا فرماں برداری کو اِختیاری بات سمجھتے ہیں تو اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ لیکن اگر سن کر مان لیتے اور تعمیل کرتے ہیں تو اُس مقام پر آ جاتے ہیں جہاں وہ خدا سے مزید روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تمثیل پہلے ایک «بڑی بھیڑ» کے سامنے بیان کی گئی۔ بعد میں یسوع نے اپنے شاگردوں کو سمجھائی۔
اِس تمثیل میں بیج «بونے والے»، اُس کے «بیج»، اور اُس زمین کی اقسام کا بیان ہے جہاں بیج بویا گیا۔ اور پھر اُس کے چار نتیجے بیان کئے گئے ہیں۔
| زمین کی قسم | نتیجہ | ||
| ۱ | راہ کا کنارہ | ۱ | آدمیوں کے پاؤں تلے روندا گیا اور پرندوں نے چگ لیا۔ |
| ۲ | چٹان یعنی پتھریلی زمین | ۲ | نمی نہ ہونے کے باعث سوکھ گیا۔ |
| ۳ | جھاڑیوں والی زمین | ۳ | جھاڑیوں نے نشو و نما کو روک دیا۔ دبا دیا۔ |
| ۴ | اچھی زمین | ۴ | ہر بیج سو گنا پھل لایا۔ |
خداوند نے یہ تمثیل اِن الفاظ کے ساتھ ختم کی «جس کے سننے کے کان ہوں وہ سن لے!» مراد یہ ہے کہ جب آپ خدا کا کلام سنتے ہیں تو خبردار رہیں کہ اُسے کس طرح قبول کرتے ہیں۔ پھل لانے کے لئے ضروری ہے کہ بیج «اچھی زمین» میں گرے۔
۸:۹،۱۰ جب شاگردوں نے خداوند یسوع سے اِس تمثیل کا مطلب پوچھا تو اُس نے بتایا کہ «خدا کی بادشاہی کے بھیدوں» کو ہر شخص نہیں سمجھ سکے گا۔ مگر چونکہ شاگرد بھروسا کرنے اور حکم ماننے کو تیار تھے اِس لئے اُن کو مسیح کی تعلیمات کو سمجھنے کی توفیق دی جائے گی۔ مگر بہت سی سچائیوں کو یسوع جان بوجھ کر تمثیلوں میں بیان کرتا تھا تاکہ جو لوگ اُس سے حقیقی محبت نہیں رکھتے وہ اُن کو نہ سمجھ سکیں تاکہ وہ «دیکھتے ہوئے نہ دیکھیں اور سنتے ہوئے نہ سمجھیں۔» ایک لحاظ سے وہ دیکھتے اور سنتے تھے۔ مثلاً اُن کو معلوم تھا کہ یسوع نے بیج بونے والے اور بیج کی بات کی ہے۔ لیکن وہ اِس مثال کے گہرے معنوں کو نہیں سمجھتے تھے۔ وہ محسوس نہیں کرتے تھے کہ ہمارے دل سخت، غیر تائب اور جھاڑیوں والی زمین ہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے جو کلام سنا اُس سے کچھ فائدہ نہ اُٹھایا۔
۸:۱۱-۱۵ خداوند نے تمثیل کا مطلب صرف شاگردوں کو سمجھایا۔ اُنہوں نے اُس کی تعلیم کو پہلے ہی قبول کر لیا تھا۔ اِس لئے اُن کو اَور دیا گیا۔ یسوع نے بتایا کہ «بیج خدا کا کلام» یعنی خدا کی سچائی — اُس کی اپنی تعلیم ہے۔
«راہ کے کنارے» والوں نے کلام کو سرسری طور سے سنا۔ یہ اُن کی زندگیوں کی سطح پر، اُوپر اُوپر ہی رہا اور «ابلیس» (ہوا کے پرندوں) کو اُسے اُٹھا لے جانے میں کوئی دِقت نہ ہوئی۔
«چٹان» یعنی پتھریلی زمین والوں نے بھی کلام سنا۔ لیکن اُنہوں نے کلام کو موقع نہ دیا کہ اُن کو توڑتا۔ اُنہوں نے توبہ نہ کی۔ بیج کی کوئی حوصلہ افزائی (تری) نہ کی گئی۔ چنانچہ وہ سوکھ کر مر گیا۔ شاید ایسے لوگوں نے پہلے تو ایمان کا شاندار اِقرار کیا مگر اُن میں حقیقت نہ تھی۔ اُن میں زندگی تو معلوم ہوتی تھی مگر سطح سے نیچے «جڑ» کوئی نہ تھی۔ جب مصیبت یا مشکل پڑی، اُنہوں نے مسیحی ایمان کو ترک کر دیا۔
«جھاڑیوں» والی زمین کے سننے والے کچھ عرصے تک تو بہت اچھے اور کامیاب معلوم ہوتے رہے، مگر وہ ثابت قدم نہ رہے۔ یوں اُنہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ پُرخلوص اور سچے نہ تھے۔ «زندگی کی فکروں، دولت اور عیش و عشرت» نے اُن پر غلبہ پا لیا۔ اِس سے کلام دب کر رہ گیا اور سوکھ گیا۔
«اچھی زمین» سچے اور ایمان داروں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اُن کے دل «عمدہ اور نیک» ہیں۔ اُنہوں نے کلام کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اُسے موقع دیا کہ اُن کی زندگیوں کو نئے سانچے میں ڈھال دے۔ یہ لوگ سیکھنے پر آمادہ تھے۔ فرماں بردار تھے۔ اُنہوں نے اپنی زندگیوں میں حقیقی مسیحی کردار کو ترقی دی اور خدا کے لئے «پھل» پیدا کیا۔
ڈاربی (Darby) نے کلام کے اِس حصے کے پیغام کا خلاصہ یوں پیش کیا ہے:
«کلام سن کر اگر مَیں اِسے اپنا لوں، صرف قبول کر کے خوش نہ ہوں بلکہ حقیقت میں اِسے اپنا بنا لوں تو وہ میری روح کا حصہ بن جائے گا اور مجھے اَور بھی دیا جائے گا۔ کیونکہ جب سچائی میری روح کا حصہ بن جاتی ہے تو اِس میں مزید حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔»
ی۔ سننے والوں کی ذمہ داری (۸:۱۶-۱۸)
۸:۱۶ پہلی نظر میں اِس حصے اور گذشتہ حصے میں کوئی تعلق یا ربط دِکھائی نہیں دیتا۔ لیکن دراصل یہاں ایک ہی خیال کا تسلسل ہے۔ نجات دہندہ اِس بات کی اہمیت پر زور دے رہا ہے کہ میرے شاگرد میری تعلیمات سے کیا سلوک کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اُس آدمی کے مشابہ ٹھہراتا ہے جس نے ایک چراغ جلایاہے۔ مگر پلنگ یا برتنکے نیچے نہیں بلکہ چراغ دان پر رکھنے کے لئے تاکہ سب کو اُس کی روشنی دِکھائی دے۔ شاگردوں کو خدا کی بادشاہی کے اصول سکھا کر وہ ایک چراغ جلا رہا تھا۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ اِس سے کیا کرتے ہیں۔
اوّل، اِسے «برتن» (پیمانے) سے ڈھانک نہ دیں۔ برتن یا پیمانے سے مراد ناپ کی ایک اکائی ہے جو کاروباری دُنیا میں استعمال ہوتی ہے۔ چنانچہ چراغ کو پیمانے کے نیچے چھپانے سے مراد ہے اپنی گواہی کو اپنے لین دین کی مصروفیات میں چھپا دینا۔ بہتر تو یہ ہے کہ چراغ کو پیمانے کے اُوپر رکھا جائے، یعنی بازار میں مسیحیت کو عملی طور سے پیش کیا جائے۔ اپنے کاروبار کو اِنجیل کی اشاعت کے لئے پلپٹ کے طور پر استعمال کیا جائے۔
دوم، چراغ کو «پلنگ کے نیچے» نہ رکھیں۔ پلنگ آرام، آسائش، کاہلی اور عیش و عشرت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ باتیں روشنی کے چمکنے میں سخت رکاوٹ کا باعث ہوتی ہیں۔ شاگرد کو چاہئے کہ چراغ کو چراغ دان پر رکھے۔ مراد یہ ہے کہ اُسے کلام کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہئے تاکہ سب دیکھ سکیں۔ اُسے کلام کی منادی کرنی چاہئے۔
۸:۱۷ اِس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ہم اپنے کاروبار یا کاہلی کے باعث کلامِ پاک کو محدود کر دیتے ہیں تو ہماری ناکامی یا غفلت اور بے پروائی ظاہر ہو جائے گی۔ یہ حقیقت بے نقاب ہو جائے گی کہ ہم نے سچائی کو چھپائے رکھا ہے۔
۸:۱۸ اِس لئے ہمیں محتاط اور خبردار ہونے کی ضرورت ہے کہ ہم «کس طرح سنتے» ہیں۔ اگر ہم دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ دوسروں کو خدا کے بارے میں بتائیں تو خدا مزید گہری سچائیاں ہم پر ظاہر کرے گا۔ لیکن اگر اِس کے برعکس ہمارے پاس بشارتی جوش کی روح نہیں ہو گی تو خدا ہمیں اُس سچائی سے بھی محروم کر دے گا جو ہم خیال کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ہے۔ جس چیز کو ہم استعمال نہیں کرتے وہ ہمارے پاس سے جاتی رہتی ہے۔ جی۔ ایچ۔ لینگ (Lang) یوں تبصرہ کرتا ہے کہ
«شاگردوں نے اِس طرح سنا کہ سمجھنے کے مشتاق، ایمان لانے کو تیار اور تعمیل کرنے پر آمادہ تھے۔ دوسرے لوگوں نے سنا تو سہی مگر بے پروائی کے ساتھ، یا فقط تجسس کی خاطر، یا مخالفت کے مصمم اِرادے کے ساتھ۔ اوّل الذکر کو اَور زیادہ عرفان عطا ہوا، موخرالذکر سے وہ علم بھی چھین لیا گیا جو وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے پاس ہے۔»
«اگر ہم آسمان کی اچھی چیزوں کو
اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تو ضرور ہے کہ
اُن میں دوسروں کو بھی شریک کریں۔
دوسروں کو نہیں دیں گے تو خود بھی کھو بیٹھیں گے۔
یہ محبت کا قانون ہے۔»
ک۔ یسوع کی حقیقی ماں اور حقیقی بھائی (۸:۱۹-۲۱)
اپنے خطاب کے اِس مرحلے پر یسوع کو بتایا گیا کہ «تیری ماں اور تیرے بھائی» تجھے ملنے کو اِنتظار کر رہے ہیں۔ وہ «بھیڑ کے سبب سے اُس تک پہنچ نہ سکے» تھے۔ خداوند کا جواب یہ تھا کہ میرے ساتھ حقیقی رِشتہ قدرتی بندھنوں کا رِشتہ نہیں ہے، بلکہ اِس کا اِنحصار «خدا کے کلام» کی فرماں برداری پر ہے۔ وہ اُن لوگوں کو اپنے گھرانے کے افراد شمار کرتا ہے جو کلام کو سن کر کانپتے، حلیمی کے ساتھ قبول کرتے اور بے چون و چرا اِس پر عمل کرتے ہیں۔ اُس کے روحانی خاندان کو کوئی بھیڑ اُس سے ملاقات سے نہیں روک سکتی۔
ل۔ ابنِ آدم طوفان کو تھما دیتا ہے (۸:۲۲-۲۵)
۸:۲۲ باب کے باقی حصے میں ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند اپنے اِختیار کو عناصرِ قدرت پر، بدروحوں پر، بیماریوں پر بلکہ موت پر بھی استعمال کرتا ہے۔ یہ سب اُس کا حکم مانتے ہیں۔ صرف اِنسان ہی حکم عدولی کرتا ہے۔
گلیل کی جھیل پر زبردست طوفان بڑی تیزی سے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کشتی رانی نہایت خطرناک ہو جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ زیرِ نظر طوفان شیطان کی کارستانی کے باعث آیا ہو کہ اِس طرح وہ دُنیا کے نجات دہندہ کو ہلاک کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
۸:۲۳ جس وقت طوفان آیا یسوع سو رہا تھا۔ اُس کا سونا اُس کی کامل بشریت کی تصدیق کرتا ہے۔ جب یسوع جاگا تو طوفان سو گیا۔ یہ حقیقت اُس کی کامل الوہیت کی تصدیق کرتی ہے۔
۸:۲۴ شاگردوں کو اپنی حفاظت کی فکر تھی۔ اُنہوں نے نجات دہندہ کو جگایا۔ پورے سکون اور اِختیار کے ساتھ اُس نے ہوا اور لہروں کو جھڑکا تو ایک دَم امن ہو گیا۔ جو کچھ اُس نے گلیل کی جھیل کے ساتھ کیا وہی کچھ آج بھی اُس شاگرد کے ساتھ کر سکتا ہے جس کی زندگی تلاطم اور پریشانی میں گھری ہوئی ہے۔
۸:۲۵ اُس نے شاگردوں سے پوچھا «تمہارا ایمان کہاں گیا؟» اُن کو فکر نہیں کرنی چاہئے تھی۔ اُن کو ضرورت نہ تھی کہ اُسے جگاتے۔ «جس کشتی میں زمین و آسمان اور سمندر کا مالک ہو، اُسے کوئی طوفان غرق نہیں کر سکتا۔» اگر ہم مسیح کے ساتھ کشتی میں ہیں تو پورے طور پر محفوظ و مامون ہیں۔
شاگرد اپنے مالک کی قدرت کو پورے طور پر نہیں سمجھتے تھے۔ اُس کے بارے میں اُن کی سمجھ ناقص تھی۔ وہ «تعجب کر کے» کہنے لگے کہ عناصرِ قدرت بھی اُس کا حکم مانتے ہیں۔ وہ ہم سے کسی طرح بھی مختلف نہ تھے۔ زندگی کے طوفانوں میں ہم اکثر نااُمید اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ اور پھر جب خداوند ہماری مدد کو آتا ہے تو ہم اُس کی قدرت دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ تعجب کرنے لگتے ہیں کہ ہم نے پہلے اُس پر زیادہ بھروسا کیوں نہ کیا۔
م۔ گراسینی آدمی بدروحوں کے قبضے سے نجات پاتا ہے (۸:۲۶-۳۹)
۸:۲۶،۲۷ جب یسوع اور اُس کے شاگرد ساحل پر پہنچے تو «وہ گراسینیوں کے علاقہ میں» تھے۔ وہاں اُن کو ایک مرد ملا جس میں بدروحیں تھیں۔ متی کے بیان کے مطابق ایسے دو آدمی تھے جب کہ مرقس اور لوقا ایک ہی آدمی کا ذکر کرتے ہیں۔ بیان میں اِس فرق کا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ دراصل یہ دو مختلف واقعات ہیں یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک مصنف دوسرے کی نسبت اُسی واقعے کو زیادہ تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ جس خاص واقعے کا ذکر یہاں ہے، اُس میں آسیب زدہ آدمی نے اپنے «کپڑے» بھی اُتار پھینکے تھے۔ وہ لوگوں سے دُور رہتا، اُن سے میل ملاقات ناپسند کرتا اور «قبروں» میں رہتا تھا۔
۸:۲۸،۲۹ «وہ یسوع کو دیکھ کر» اُس کی منت کرنے لگا کہ مجھ سے کچھ واسطہ نہ رکھ۔ بے شک یہ «ناپاک روح» تھی جو اُس قابلِ رحم آدمی میں سے بول رہی تھی۔
اُن بدروحوں کا اُس پر محض اثر نہیں تھا بلکہ اُنہوں نے اُس پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ بدروحیں فوق الفطرت ہستیاں ہیں۔ وہ حقیقی وجود رکھتی ہیں۔ جس شخص میں وہ رہتی ہیں، اُس کے خیالات، اُس کی سوچ، اُس کی بول چال، اُس کی عادات اور اُس کے کردار کو اپنے قابو میں کر لیتی ہیں۔ یہی حال اُس آدمی کا بھی تھا۔ بدروحوں نے اُسے نہایت تندمزاج اور بے لگام بنا رکھا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُسے دَورہ پڑتا تھا تو اُن «زنجیروں» کو جن سے اُسے باندھا جاتا تھا «توڑ ڈالتا» تھا۔ نیز وہ «بیابانوں» یعنی ویران اور سنسان مقامات میں بھاگتا پھرتا تھا۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کیونکہ اُس میں اِتنی بدروحیں تھیں جو کوئی دو ہزار سؤروں کو ہلاک کرنے کے لئے کافی تھیں (مرقس ۵:۱۳) ۔
۸:۳۰،۳۱ چونکہ اُس آدمی میں بدروحوں کا لشکر تھا اِس لئے اُس نے اپنا نام «لشکر» بتایا۔ یہ بدروحیں یسوع کو پہچانتی تھیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا بیٹا ہے۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ ہمارا حشر اٹل ہے، اور کہ یہی ہستی ہمارا حشر کر دے گی۔ اِس لئے اُنہوں نے التجا کی کہ ہماری سزا ملتوی کر دی جائے اور درخواست کی کہ ہمیں ابھی «اتھاہ گڑھے میں جانے کا حکم نہ دے۔»
۸:۳۲،۳۳ اُنہوں نے اِجازت چاہی کہ جب اِس آدمی میں سے نکل جائیں تو سؤروں کے غول میں چلی جائیں جو نزدیک ہی ایک پہاڑ پر چر رہا تھا۔ اُن کو یہ اِجازت مل گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سارا غول ڈھلان پر سے «جھپٹ کر جھیل میں جا پڑا اور ڈُوب مرا۔» خداوند پر اکثر نکتہ چینی کی جاتی ہے کہ اُس نے کسی دوسرے کے مال کا نقصان کر دیا۔ لیکن اگر سؤر پالنے والے یہودی تھے تو وہ ایک ناپاک اور غیر قانونی کاروبار کر رہے تھے۔ تاہم وہ یہودی تھے یا غیر یہودی، اُنہیں دو ہزار سؤروں کی نسبت ایک اِنسان کی جان کو زیادہ قیمتی جاننا چاہئے تھا۔
۸:۳۴-۳۹ یہ خبر بہت جلد پورے علاقے میں پھیل گئی۔ ہجوم جمع ہو گیا۔ اُنہوں نے دیکھا کہ جس آدمی میں پہلے بدروحیں تھیں وہ بالکل تندرست ہو چکا ہے۔ وہ پورے ہوش و حواس کے ساتھ شائستگی سے بیٹھا ہے۔ گراسینی اِتنے پریشان ہو گئے کہ یسوع سے درخواست کرنے لگے کہ ہمارے علاقے سے چلا جا۔ اُن کو نجات دہندہ کی نسبت اپنے سؤروں کی زیادہ فکر تھی۔ اپنی روحوں کی بجائے سؤروں کا زیادہ خیال تھا۔ ڈرابی (Darby) کہتا ہے کہ:
«دُنیا اپنی آسائش کی خاطر یسوع سے درخواست کرتی ہے کہ ہمارے پاس سے چلا جا۔ دُنیا کو بدروحوں کے لشکر سے پریشانی نہیں ہوتی، لیکن خدا کی قدرت کی موجودگی سے حیران و پریشان ہو جاتی ہے۔ یسوع چلا جاتا ہے۔ لیکن جس آدمی نے شفا پائی تھی، وہ اُس کے ساتھ جانا چاہتا ہے، مگر خداوند اُسے واپس بھیج دیتا ہے تاکہ وہ اُس فضل اور قدرت کی گواہی دے جس کا اُسے تجربہ ہوا تھا۔»
بعد میں یسوع دکپلس گیا تو بھیڑ نے اُسے بڑی خوشی سے قبول کیا (مرقس ۷:۳۱-۳۷) ۔ کیا یہ اُس آدمی کی گواہی کا نتیجہ تھا جس نے بدروحوں سے رہائی پائی تھی؟
ن۔ لاعلاجوں کو شفا بخشنا اور مُردوں کو زندہ کرنا (۸:۴۰-۵۶)
۸:۴۰-۴۲ یسوع پھر گلیل کی جھیل کے پار مغربی ساحل پر گیا۔ یہاں ایک اَور بھیڑ «اُس کی راہ تک» رہی تھی۔ «عبادت خانے کا سردار» یائیر اُسے دیکھنے کا خاص آرزو مند تھا کیونکہ «اُس کی اکلوتی بیٹی جو قریباً بارہ برس کی تھی مرنے کو تھی۔» یائیر نے یسوع کی منت کی کہ جلدی میرے ساتھ چل۔ لیکن بھیڑ اِتنی زیادہ تھی کہ چلنا مشکل ہو گیا تھا اور «لوگ اُس پر گرے پڑتے تھے۔»
۸:۴۳ بھیڑ میں ایک عورت تھی۔ اُسے «بارہ برس سے خون جاری تھا»۔ وہ نااُمید ہو چکی تھی اور اب یسوع سے ملنے کو بے قرار تھی۔ لیکن اپنے اندر حوصلہ نہیں پاتی تھی۔ لوقا طبیب تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور «مال حکیموں پر خرچ کر چکی تھی»۔ لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا تھا (مرقس اِس بات کا اضافہ کرتا ہے کہ اُس کی صحت پہلے سے بھی خراب ہو گئی تھی) ۔
۸:۴۴،۴۵ اُس کو احساس ہو گیا تھا کہ یسوع میں مجھے شفا بخشنے کی قدرت ہے۔ چنانچہ وہ بھیڑ میں سے راستہ بناتی ہوئی یسوع تک جا پہنچی اور جھک کر «اُس کی پوشاک کا کنارہ چھو» لیا۔ یہ کنارہ وہ جھالر تھی جو یہودیوں کے چوغوں کے کنارے پر لگی ہوتی تھی (گنتی ۱۵:۳۸،۳۹؛ اِستثنا ۲۲:۱۲) ۔ ایک دَم «اُس کا خون بہنا بند ہو گیا» اور اُس نے پوری پوری شفا پائی۔ اُس نے کوشش کی کہ چپکے سے واپس چلی جائے۔ مگر یسوع کے ایک سوال نے اُس کے یوں چلے جانے کی راہیں بند کر دیں۔ یسوع نے پوچھا کہ «وہ کون ہے جس نے مجھے چھوا؟» پطرس اور دوسرے شاگرد سوچتے تھے کہ یہ کیسا سوال ہے۔ کیونکہ لوگ چاروں طرف سے اُس پر گرے پڑتے تھے، دھکم دھکا ہو رہا تھا، ہر قسم کے لوگ اُسے چھو رہے تھے!
۸:۴۶ مگر یسوع نے اُس چھونے کو پہچان لیا تھا جو فرق قسم کا تھا۔ یسوع نے جان لیا تھا کہ ایمان نے مجھے «چھوا» ہے اور مجھ سے قوت نکلی ہے۔ یعنی عورت کو شفا دینے کے لئے۔ یہ تو نہیں کہ وہ پہلے سے ذرا کم قادر ہو گیا تھا بات صرف یہ تھی کہ شفا دینے میں کچھ خرچ ہوتا ہے اور اُس وقت خرچ ہوا تھا۔
۸:۴۷،۴۸ «عورت… کانپتی ہوئی» اُس کے سامنے حاضر ہو گئی اور بڑی معذرت کے ساتھ «بیان کیا» کہ اُس نے اُسے «کس سبب سے چھوا» ہے۔ یہ شکر گزاری سے بھرپور گواہی تھی۔ اُس نے علانیہ اِقرار کیا تو یسوع نے بھی سارے لوگوں کے سامنے اُس کے ایمان کی تعریف کی اور اُس کے لئے اِطمینان اور تسلی کا اعلان کیا۔ ناممکن ہے کہ کوئی شخص ایمان سے اُسے چھوئے اور یسوع کو پتا نہ لگے اور وہ شخص برکت نہ پائے۔ جو شخص بھی اُس کا علانیہ اِقرار کرتا ہے، خداوند اُس کو تقویت دیتا اور نجات کا یقین عطا کرتا ہے۔
۸:۴۹ اُس عورت کو شفا دینے کے واقعے سے یسوع کو آگے بڑھنے میں شاید زیادہ تاخیر نہیں ہوئی، لیکن اِتنی ہی دیر میں یائیر کے گھر سے ایک شخص یہ خبر لے کر آ پہنچا کہ اُس کی بیٹی مر گئی ہے اور اَب اُستاد کی خدمات کی ضرورت نہیں رہی۔ اُن میں اِتنا ایمان تو تھا کہ یسوع شفا دے سکتا ہے مگر اِس قدر ایمان نہیں تھا کہ وہ مُردے کو بھی زندہ کر سکتا ہے۔
۸:۵۰ مگر یسوع کو اِتنی آسانی سے چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔ اُس نے بڑی تسلی، حوصلہ افزائی اور اُمید بھرے الفاظ میں «جواب دیا کہ خوف نہ کر فقط اعتقاد رکھ۔ وہ بچ جائے گی»۔
۸:۵۱-۵۳ جونہی وہ یائیر کے گھر پہنچا اُس نے «پطرس اور یوحنا اور یعقوب اور لڑکی کے ماں باپ کو» ساتھ لیا اور اُس کمرے میں گیا جہاں لڑکی تھی۔ سارے لوگ ماتم کر رہے تھے۔ یسوع نے اُن سے کہا کہ «ماتم نہ کرو۔ وہ مر نہیں گئی بلکہ سوتی ہے۔» یہ سن کر وہ اُس کا مذاق اُڑانے لگے کیونکہ اُن کو پورا یقین تھا کہ «وہ مر گئی ہے۔»
کیا وہ مر چکی تھی یا گہری نیند میں تھی جیسے کوئی مریض کوما یعنی بے ہوشی کی حالت میں ہوتا ہے؟ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ وہ مر چکی تھی۔ وہ لعزر کا حوالہ دیتے ہیں کہ یسوع نے اُس کے لئے بھی کہا تھا کہ وہ سو گیا ہے جب کہ اُس کا مطلب تھا کہ مر گیا ہے۔ سر رابرٹ اینڈرسن (Robert Anderson) کا خیال ہے کہ لڑکی حقیقت میں مری نہیں تھی۔ وہ اپنی رائے کے حق میں یہ دلائل دیتا ہے:
- یسوع نے کہا تھا کہ لڑکی «بچ جائے گی۔» اور جو لفظ استعمال کیا وہی ہے جو آیت ۴۸ میں بھی استعمال ہوا ہے اور اِس کا مطلب شفا پانا ہے، مُردوں میں سے زندہ ہونا نہیں۔ نئے عہدنامے میں یہ لفظ کہیں بھی مُردوں میں سے زندہ کرنے کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔
- لعزر کے واقعے میں سونے کے لئے یسوع نے فرق لفظ استعمال کیا تھا۔
- لوگوں کا خیال تھا کہ وہ مر گئی ہے۔ مگر یسوع اِس بات سے فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتا تھا کہ مَیں نے اُسے زندہ کیا ہے جب کہ وہ جانتا تھا کہ سو رہی ہے۔
اینڈرسن کہتا ہے کہ معاملہ صرف اِتنا ہے کہ ہم کس کی بات کا یقین کرنا چاہتے ہیں۔ یسوع نے کہا کہ وہ سوتی ہے جب کہ لوگوں کا خیال تھا کہ مر چکی ہے۔
۸:۵۴-۵۶ کچھ بھی ہو یسوع نے اُس لڑکی سے کہا «اے لڑکی اُٹھ۔» وہ فوراً اُٹھ بیٹھی۔ یسوع نے اُسے اُس کے والدین کے سپرد کیا اور اُن سے کہا کہ اِس معجزے کی تشہیر نہ کریں۔ اُسے شہرت اور ناموری، لوگوں کے وقتی جوش و خروش اور فضول تجسس سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
س۔ ابنِ آدم شاگردوں کو بشارتی دَورے پر بھیجتا ہے (۹:۱-۱۱)
۹:۱،۲ یہ متی ۱۰:۱-۱۵ میں درج واقعے سے مشابہت رکھتا ہے جہاں یسوع نے بارہ شاگردوں کو بشارت کے لئے بھیجا تھا۔ مگر کچھ قابلِ غور فرق بھی ہیں، مثلاً متی کے مطابق شاگردوں سے کہا گیا تھا کہ صرف یہودیوں کے پاس جائیں اور «بیماریوں کو دُور کرنے» کے ساتھ ساتھ مُردوں کو بھی زندہ کریں۔ لوقا نے اِختصار سے کام لیا ہے۔ اِس اِختصار کی کوئی وجہ ضرور ہے۔ لیکن ہم اِس وجہ کو نہیں جانتے۔ خداوند نہ صرف خود معجزے کرنے کی قدرت اور اِختیار رکھتا تھا بلکہ یہ «قدرت اور اِختیار» دوسروں کو بھی عطا کرتا تھا۔ «قدرت» کا مطلب ہے طاقت یا لیاقت اور «اختیار» کا مطلب ہے اِسے استعمال کرنے کا حق۔ شاگردوں کے پیغام کی تصدیق نشانوں اور عجیب کاموں سے ہوتی تھی (عبرانیوں ۲:۳،۴) ۔ خصوصاً اِس وجہ سے کہ اُس وقت تک پوری بائبل مقدس تحریری شکل میں موجود نہ تھی۔ خدا معجزانہ طور سے شفا دے سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی اِنجیل کی منادی کے ساتھ ساتھ معجزات کا ہونا ضروری ہے۔
۹:۳-۵ اب شاگردوں کے لئے موقع تھا کہ اُن اصولوں کو عملی طور سے استعمال کریں جو یسوع نے اُن کو سکھائے تھے۔ اُن کو اپنی مادی ضروریات کی فراہمی کے لئے اُس پر بھروسا کرنا تھا — نہ جھولی (بٹوا) ، نہ خوراک اور نہ روپیہ پیسہ ساتھ لے جانا؛ نہایت سادگی سے گزر بسر کرنی تھی — «نہ لاٹھی… نہ دو دو کُرتے»، اور جو «گھر» اُن کو پہلے خوش آمدید کہے اُسی میں «رہنا» تھا — زیادہ آرام دہ جگہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر نہیں پھرنا تھا۔ اگر کچھ لوگ اُن کے پیغام کو ردّ کر دیں تو دباؤ نہیں ڈالنا تھا۔ نہ وہاں اپنے قیام کو طول دینا تھا بلکہ اُن کو ہدایت کی گئی «کہ اُس شہر سے نکلتے وقت اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ دینا تاکہ اُن پر گواہی ہو۔»
۹:۶ شاگرد غالباً گلیل کے گاؤں گاؤں اِنجیل کی خوش خبری سناتے اور شفا دیتے پھرے۔ یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اُن کا پیغام «بادشاہی» کے بارے میں تھا کہ خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان آ گئی ہے اور کہ خدا چاہتا ہے کہ تائب لوگوں پر حکومت کرے۔
۹:۷ اُن دِنوں ہیرودیس اِنتپاس گلیل اور پیریہ میں «چوتھائی ملک کا حاکم» تھا۔ یعنی وہ اپنے باپ ہیرودیسِ اعظم کی مملکت کے ایک چوتھائی حصے پر حکمران تھا۔ اُس تک بھی بات پہنچی کہ تیرے علاقے میں ایک شخص بڑی قدرت والے معجزے دِکھاتا ہے۔ ایک دَم اُس کے ذہن میں سوال اُبھرنے لگے۔ یوحنا بپتسمہ دینے والے کی یاد اُسے اب بھی پریشان کرتی تھی۔ ہیرودیس نے اُس کا سر اُڑا کر اُس کی نڈر آواز کو خاموش کر دیا تھا۔ مگر اُس کی زندگی کی قدرت ابھی تک ہیرودیس کا پیچھا کر رہی تھی۔ کون سی ہستی تھی جو ہیرودیس کو مسلسل یوحنا کی یاد دلاتی رہتی تھی؟ «بعض (لوگ) کہتے تھے کہ یوحنا مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے»۔
۹:۸،۹ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ ایلیاہ ہے یا پرانے عہدنامے کے «نبیوں میں سے کوئی» ایک ہے۔ ہیرودیس اپنی فکر اور تشویش کو دُور کرنے کے لئے سب کو یاد دلاتا تھا کہ مَیں نے بپتسمہ دینے والے کا تو سر کٹوا دیا تھا۔ مگر اُس کی تشویش دُور نہیں ہوتی تھی۔ آخر یہ شخص «ہے کون؟» ہیرودیس اُسے «دیکھنے کی کوشش» کرتا رہا مگر یہ ملاقات ہوئی بھی تو نجات دہندہ کی تصلیب سے صرف چند گھڑیاں پہلے۔
یہ ہے روح سے معمور زندگی کی قوت! ناصرت کا گم نام سا بڑھئی، خداوند یسوع، ہیرودیس اُس سے کبھی ملا تک نہیں مگر اُس کے نام سے کانپتا ہے۔ جو شخص روح سے معمور ہے اُس کے اثر و نفوذ کو کبھی کم مت جانو!
۹:۱۰ «رسولوں نے لوٹ کر» براہِ راست خداوند یسوع کو رپورٹ دی۔ اگر سارے مسیحی کارندے اِسی پالیسی پر عمل کریں تو بہت اچھی بات ہو گی۔ کئی دفعہ کام کی اِشتہار بازی سے باہمی حسد اور تفرقے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ہم شماریات کے دیوانے بن جاتے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو مرکزی درجہ دینے اور جسمانیت کا باعث بن جاتا ہے۔ ہم روح القدس کو پیچھے ہٹا دیتے ہیں۔ خداوند یسوع شاگردوں کو لے کر بیت صیدا (ماہی گیری کا گھر) کے قریب ایک ویران جگہ میں چلا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں دو بیت صیدا تھے۔ ایک گلیل کی جھیل کے مغرب اور دوسرا مشرق کی طرف۔ صحیح جائے وقوع کا علم نہیں۔
۹:۱۱ اُن کو اُمید تھی کہ ہم کچھ وقت خاموشی اور سکون کے ساتھ اکٹھے گزاریں گے۔ مگر بہت جلد یہ اُمید خاک میں مل گئی۔ ایک بھیڑ جمع ہو گئی۔ لوگ ہر وقت بے روک ٹوک خداوند یسوع تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ اُس نے ناگواری کا کبھی اِظہار نہ کیا۔ نہ یہ سمجھا کہ لوگ خواہ مخواہ میرے پروگرام میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اُس نے کبھی نہیں کہا کہ مَیں بہت مصروف ہوں، اَب میرے پاس برکت دینے کی فرصت نہیں۔ بلکہ لکھا ہے کہ «وہ خوشی کے ساتھ اُن سے ملا،» اُن کو «خدا کی بادشاہی» کی تعلیم دی اور بیماروں کو شفا بخشی۔
ع۔ پانچ ہزار کو کھلانا (۹:۱۲-۱۷)
۹:۱۲ شام کے سائے ڈھلنے لگے تو بارہ شاگرد پریشان ہونے لگے۔ اِتنے لوگوں کو کھانے کی ضرورت تھی! ایسی ناقابلِ حل صورتِ حال! چنانچہ اُنہوں نے خداوند سے درخواست کی کہ «بھیڑ کو رُخصت کر دے»۔ اُن کے خیال اور سوچ ہم سے قطعاً مختلف نہیں تھے۔ جن معاملات کا ہمارے ساتھ تعلق ہو، اُن میں ہم بھی پطرس کی طرح کہنے لگتے ہیں کہ «مجھے حکم دے کہ… تیرے پاس آؤں۔» لیکن جہاں دوسروں کی بات ہو تو بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ اِن کو رخصت کر دے۔
۹:۱۳ یسوع اُن کو کھانے پینے کی خاطر آس پاس کے گاؤں میں بھیجنا نہیں چاہتا تھا۔ شاگرد کیوں دُور دراز کے علاقوں میں جا کر لوگوں کی خدمت کریں اور اُن کو نظر انداز کر دیں جو اُن کے دروازے پر پڑے ہیں؟ چنانچہ شاگرد ہی اِس بھیڑ کے کھانے پینے کا بندوبست کریں۔ وہ اِحتجاج کرنے لگے کہ ہمارے پاس تو صرف «پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں» ہیں۔ وہ بھول گئے کہ خداوند یسوع میں ہمارے پاس لامحدود وسائل کا سرچشمہ ہے۔
۹:۱۴-۱۷ اُس نے شاگردوں سے صرف اِتنا کہا کہ اُن تقریباً «پانچ ہزار مردوں» نیز عورتوں اور بچوں کو بٹھا دیں۔ پھر اُس نے «برکت بخشی» اور «روٹی توڑ کر اپنے شاگردوں کو دیتا گیا» اور وہ لوگوں کو دیتے گئے۔ ہر ایک نے سیر ہو کر روٹی کھائی۔ جب کھا چکے تو اُس سے کہیں زیادہ خوراک بچ گئی جس سے کھلانے کا آغاز کیا گیا تھا۔ بچے ہوئے ٹکڑوں سے «بارہ ٹوکریاں» بھر گئیں۔ یعنی ہر شاگرد کے لئے ایک ایک ٹوکری!
یہ واقعہ شاگردوں کے لئے جن کو دُنیا میں منادی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ «پانچ ہزار مرد» بنی نوعِ اِنسان کی نمائندگی کرتے ہیں جو کھوئے ہوئے ہیں اور خدا کی روٹی کے بھوکے ہیں۔ شاگرد بے بس ایمان داروں کی تصویر پیش کرتے ہیں جن کے پاس وسائل بظاہر محدود ہیں لیکن جو کچھ اُن کے پاس ہے اُس میں بھی دوسروں کو شریک کرنے پر آمادہ نہیں۔ خداوند کا یہ حکم کہ «تم ہی اُنہیں کھانے کو دو» ارشادِ اعظم کی یاد دلاتا ہے۔ سارے واقعے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے اگر ہم یسوع کو دے دیں تو وہ اُسے برکت دے کر روحانی طور پر بھوکی بھیڑ کو سیر کرنے کے لئے کافی بنا دے گا۔
اگر ایمان دار، جو کچھ ہیں اور جو کچھ رکھتے ہیں، وہ مسیح کے سپرد کر دیں تو اِسی پشت کے دوران ساری دُنیا اِنجیل کی منادی سے گونج سکتی ہے۔ یہ ہے مستقل سبق جو پانچ ہزار کو کھلانے کے معجزے سے حاصل ہوتا ہے۔
ف۔ پطرس کا اِقرارِ اعظم (۹:۱۸-۲۲)
۹:۱۸ پانچ ہزار کو کھلانے کے معجزے کے بعد یہ بیان درج ہے کہ قیصریہ فلپی میں پطرس نے مسیح کا اِقرار کیا۔ یہ بہت عظیم اِقرار ہے۔ کیا روٹیوں اور مچھلیوں کے معجزے نے شاگردوں کی آنکھیں کھول دی تھیں کہ اُنہوں نے خداوند یسوع کا جلال دیکھا اور جان لیا کہ وہ خدا کا ممسوح ہے؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیصریہ فلپی کے اِس واقعے کے بعد سے نجات دہندہ نے اُن بارہ کو اَور قسم کی تعلیم دینا شروع کی۔ اب تک وہ بڑے صبر سے اُن کی راہنمائی کر رہا تھا کہ وہ اُسے جاننے اور پہچاننے کی منزل تک پہنچ جائیں۔ اور یہ بھی جان لیں کہ وہ اُن کے وسیلے سے کیا کچھ کر سکتا ہے۔ خداوند نے اب وہ مقصد حاصل کر لیا ہے۔ چنانچہ وہ مصمم اِرادے کے ساتھ صلیب کی طرف بڑھنا شروع کرتا ہے۔ یسوع تنہائی میں دعا کر رہا تھا۔ یہ کہیں درج نہیں کہ اُس نے شاگردوں کے ساتھ دعا مانگی۔ وہ اُن کے لئے دعا مانگتا تھا۔ اُن کے سامنے دعا مانگتا تھا اور اُس نے اُن کو دعا مانگنا سکھایا، لیکن اُس کی اپنی دعائیہ زندگی اُن سے الگ تھی۔ اور ایک دفعہ اُس نے دعا مانگنے کے بعد شاگردوں سے پوچھا کہ «لوگ مجھے (میری ذات کے بارے میں) کیا کہتے ہیں؟»
۹:۱۹،۲۰ شاگردوں نے بتایا کہ لوگوں کی رائے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ تُو «یوحنا بپتسمہ دینے والا» ہے۔ کچھ لوگ تجھے «ایلیاہ» مانتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ پرانے عہدنامے کے «نبیوں میں سے کوئی» جی اُٹھا ہے۔ لیکن جب اُس نے شاگردوں سے دریافت کیا کہ «تم مجھے کیا کہتے ہو؟» تو پطرس نے پورے اِعتماد کے ساتھ اقرار اور اِعلان کیا کہ تُو «خدا کا مسیح» (مسیحِ موعود) ہے۔
قیصریہ فلپی کے اِس واقعے کے بارے میں جیمز سٹوأرٹ (Stewart) کا تبصرہ اِتنا عمدہ ہے کہ ہم اِس کا پورا اِقتباس پیش کرتے ہیں:
«پہلے خداوند نے غیر ذاتی سا سوال کیا کہ ’لوگ مجھے کیا کہتے ہیں؟‘ اِس سوال کا جواب دینا مشکل نہیں تھا کیونکہ ہر جگہ لوگ یسوع کے بارے میں باتیں کرتے تھے۔ درجنوں باتیں سننے میں آ رہی تھیں۔ کئی طرح کی افواہیں اور آرا گردش کر رہی تھیں۔ ہر زبان پر یسوع کا چرچا تھا۔ لوگ اُس کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کہتے تھے۔ بعض کہتے تھے کہ یہ یسوع دراصل یوحنا بپتسمہ دینے والا ہے جو مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔ بعض کہتے تھے کہ یہ ہمیں ایلیاہ کی یاد دلاتا ہے۔ بعض کہتے تھے یہ یرمیاہ یا کوئی اَور بڑا نبی ہے۔ مراد یہ ہے کہ اگرچہ لوگ یسوع کی شناخت کے بارے میں متفق الرائے نہیں تھے، لیکن اِس بات پر ضرور متفق تھے کہ وہ ایک عظیم ہستی ہے۔ اُسے اپنی قوم کے مشاہیر میں شمار کرتے تھے۔
یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دُہرا رہی ہے۔ ایک دفعہ پھر یسوع کا چرچا ہر زبان پر ہے۔ اُس کا ذکر صرف مسیحی کلیسیاؤں اور مسیحی حلقوں ہی میں نہیں ہوتا۔ اور اُس کے متعلق فتوے بھی طرح طرح کے ہیں۔ کسی کو وہ شاعر نظر آتا ہے تو کسی کو مردِ حرکت و عمل اور کوئی اُسے صوفی و عارف قرار دیتا ہے۔ جو لوگ راسخ الاعتقادی کے قائل نہیں وہ بھی یسوع کو ہمیشہ کے لئے مقدسین کا کامل نمونہ اور اخلاقی قائدین کا سردار قرار دینے میں تامل نہیں کرتے… مسیح کے ہم عصر اُسے یوحنا، یرمیاہ اور ایلیاہ کہتے تھے، آج کے لوگ بھی متفق ہیں کہ ہر زمانے کے مشاہیر اور مقدسین میں مسیح ہی اعلیٰ ترین مقام رکھتا ہے۔
مگر یسوع ایسی شناخت سے مطمئن نہ تھا۔ لوگ اُسے یوحنا، ایلیاہ، یرمیاہ کہہ رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ اُس سلسلے کا ایک فرد ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اُس کی طرح کی ہستیاں موجود تھیں۔ اگر وہ اُن کی صفوں میں اوّل بھی ہو تو بھی مساویوں میں اوّل ہوا۔ لیکن یہ بات تو یقینی ہے کہ نئے عہدنامے کا مسیح ایسا ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ لوگ مسیح کے دعوے سے اتفاق کریں یا نہ کریں، لیکن جہاں تک دعوے کی حقیقت کا تعلق ہے، اِس میں شک کا شائبہ تک نہیں۔ مسیح ایک ایسی ہستی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جس کا نہ کوئی نظیر ہے، نہ متوازی، نہ مقابل۔ وہ یکتا و بے ہمتا ہے (ملاحظہ کریں متی ۱۰:۳۷؛ ۱۱:۲۷؛ ۲۴:۳۵؛ یوحنا ۱۰:۳۰؛ ۱۴:۶) ۔»
۹:۲۱-۲۲ پطرس نے ایک تاریخ ساز اِقرار اور اعلان کیا۔ اِس پر مسیح نے شاگردوں کو «تاکید کر کے حکم دیا کہ یہ کسی سے نہ کہنا۔» وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی چیز بھی اُسے صلیب تک پہنچنے سے روکے۔ اِس کے بعد نجات دہندہ نے اپنا مستقبل قریب بے نقاب کیا۔ ضرور ہے کہ وہ «دُکھ اُٹھائے،» اسرائیل کے مذہبی لیڈر «اُسے ردّ کریں»۔ ضرور ہے کہ وہ قتل ہو اور «تیسرے دن (مُردوں میں سے) جی اُٹھے»۔ یہ نہایت حیران کُن اعلان تھا۔ یاد رکھیں کہ یہ الفاظ صفحۂ دُنیا کے واحد بے گناہ اور راست باز آدمی نے کہے تھے۔ یہ الفاظ اسرائیل کے حقیقی مسیحِ موعود نے کہے تھے۔ یہ الفاظ بیان کرتے ہیں کہ خدا کی مرضی کو پورا کرنے والی زندگی، فرماں دار زندگی، کامل زندگی کو کسی نہ کسی صورت میں دُکھ سہنا، ردّ ہونا اور موت میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور پھر وہ ایسی زندگی میں جی اُٹھتی ہے جس میں موت نہیں ہے۔ یہ وہ زندگی ہے جو دوسروں کے لئے اُنڈیلی جاتی ہے۔
بے شک یہ باتیں اُس تصور کے بالکل برعکس تھیں جو مسیحِ موعود کے کردار کے بارے میں عام لوگوں میں پایا جاتا تھا۔ لوگ تلوار کے دھنی اور دشمن کو نیست و نابود کرنے والے لیڈر کی راہ دیکھ رہے تھے۔ شاگردوں کو سخت دھچکا لگا ہو گا۔ لیکن جیسا کہ اُنہوں نے اِقرار کیا تھا یسوع واقعی خدا کا مسیح تھا، تو پھر اُن کے لئے بے حوصلہ ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ اگر وہ خدا کا ممسوح ہے، تو اپنے مقصد میں کبھی ناکام نہیں ہو سکتا۔ اُس پر یا اُن پر کچھ بھی بیت جائے، فتح یقینی ہے۔ فتح اور دعوے کا سچا ثابت ہونا اٹل ہے۔
ص۔ صلیب اُٹھانے کی دعوت (۹:۲۳-۲۷)
۹:۲۳ اپنے مستقبل کا خاکہ پیش کرنے کے بعد خداوند نے شاگردوں کو اپنے «پیچھے» آنے کی دعوت دی۔ اور اُس کے پیچھے آنے کا مطلب ہے اپنے آپ (خودی) کا اِنکار کرنا اور اپنی «صلیب» اُٹھانا۔ اپنی «خودی» سے اِنکار کرنے کا مطلب ہے اپنے منصوبے بنانے اور اپنی مرضی کرنے کے حق سے دست بردار ہو جانا اور زندگی کے ہر شعبے میں اُس کی خداوندیت کو تسلیم کرنا۔ اور «صلیب اُٹھانے» کا مطلب ہے دانستہ وہ زندگی اِختیار کرنا جو اُس نے بسر کی تھی۔ اِس میں یہ باتیں شامل ہیں:
- اپنے عزیزوں کی مخالفت۔
- دُنیا کے طعنے اور ملامت۔
- اپنے خاندان، گھر، زمینوں اور زندگی کی آسائشوں کو ترک کرنا۔
- خدا پر پورا توکل کرنا۔
- روح القدس کی ہدایات کی فرماں برداری۔
- ایک ایسا پیغام دینا جسے دُنیا ناپسند کرتی ہے۔
- تنہائی کی راہ پر چلنا۔
- مُسلَّمہ مذہبی لیڈروں کے منظم حملے۔
- راست بازی کی خاطر دُکھ سہنا۔
- بدنامی اور شرمندگی۔
- زندگی دوسروں کے واسطے اُنڈیل دینا۔
- اپنے اور دُنیا کے اعتبار سے مر جانا۔
مگر اِس میں اُس زندگی کو پا لینا بھی شامل ہے جو حقیقی زندگی ہے۔ اِس کا مطلب ہے بالآخر اپنے وجود کے مقصد کو پا لینا۔ اور اِس کا مطلب ہے اَبدی اَجر۔ ہم جبِلی طور پر صلیب اُٹھانے کی زندگی سے ہچکچاتے ہیں۔ ہمارے ذہن قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے کہ ہمارے لئے خدا کی مرضی یہی ہے۔ مگر مسیح کے الفاظ «اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے» ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔
۹:۲۴ فطری رُحجان تو یہ ہے کہ خود غرضانہ، پُرلطافت اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے وسیلے سے اپنی زندگیوں کو محفوظ کریں اور بچائے رکھیں۔ ہم آرام و آسائش، امن و سکون اور عیش و عشرت کے بھوکے ہیں۔ ہم حال میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہم اپنی بہترین صلاحیتوں کو دُنیا کے ہاتھ بیچ ڈالتے ہیں تاکہ بدلے میں چند برسوں کا فرضی تحفظ حاصل کر سکیں۔ لیکن اِسی عمل سے ہم اپنی جانوں کو «کھو» بیٹھتے ہیں، یعنی «جان» کے حقیقی مقصد کو کھو دیتے ہیں اور اُس حقیقی روحانی مسرت و شادمانی سے محروم رہ جاتے ہیں جو جان یعنی زندگی کا حصہ ہونی چاہئے۔ جب کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو نجات دہندہ کی خاطر نثار کر دیں۔ اگر ہم اپنی خود غرضانہ خواہشات کو ترک کر دیں تو لوگ ہمیں احمق ضرور سمجھیں گے۔ اگر ہم پہلے خدا کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کریں اور خود کو پورے طور پر خدا کے سپرد کر دیں تو لوگ ہمیں دیوانہ قرار دیں گے۔ مگر دُنیا سے دست برداری کی یہ زندگی ہی حقیقی اور سچی زندگی ہے۔ اِس میں وہ خوشی، وہ پاک بے فکری اور ایسا باطنی اِطمینان اور تسلی ملتی ہے جس کا بیان نہیں ہو سکتا۔
۹:۲۵ بارہ شاگردوں سے باتیں کرتے ہوئے نجات دہندہ کو احساس ہوا کہ دولت کی آرزُو کامل سپردگی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہے۔ چنانچہ اُس نے فرمایا کہ «فرض کرو کہ تم «ساری دُنیا» کا سونا اور چاندی اپنے گھروں میں بھر لو — زندگی کی تمام آسائشیں تمہیں میسر ہوں — اور فرض کرو کہ یہ سب کچھ حاصل کرنے کی بے دریغ کوششوں میں تم زندگی کے اصل مقصد سے محروم رہ جاؤ تو تم کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟ چند روز یہ چیزیں تمہارے پاس رہیں گی۔ پھر تم اِن کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چل بسو گے۔ کیا یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے کہ تم اپنی اِس مختصر سی زندگی کو اِن مٹی کے کھلونوں کے عوض بیچ ڈالو؟»
۹:۲۶ مسیح کی راہ میں کامل طور سے چلنے کی ایک اَور رکاوٹ بے عزتی کا خوف ہے۔ کیسی غیر معقول اور بے تکی بات ہے کہ مخلوق اپنے خالق سے اور گنہگار اپنے نجات دہندہ سے شرم محسوس کرے۔ مگر اِس سلسلے میں ہم میں سے کون بے الزام ہے؟ خداوند جانتا ہے کہ احساسِ شرم کا کتنا اِمکان ہے۔ چنانچہ اُس نے بڑی سنجیدگی سے ہمیں اِس کے بارے میں خبردار کیا۔ اگر ہم صرف نام کے مسیحی بن کر، اگر ہم عام لوگوں سے موافقت پیدا کر کے اِس شرمندگی سے بچتے ہیں تو «ابنِ آدم بھی جب اپنے» جلال میں اور «اپنے باپ کے» جلال میں اور اپنے «پاک فرشتوں کے جلال میں آئے گا» تو ہم سے «شرمائے گا۔» یسوع اپنی دوسری آمد کے موقع پر اپنے سہ گونا جلال پر خاص زور دیتا ہے۔ وہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اِس وقت ہم اُس کی خاطر جو شرمندگی یا ملامت برداشت کریں گے، اُس وقت کے جلال کے سامنے بالکل ہیچ اور ناچیز ہو گی۔
۹:۲۷ خداوند کے جلال کا بیان اُن باتوں کے لئے ایک کڑی ہے جو آگے بیان ہوئی ہیں۔ اب خداوند پیش گوئی کرتا ہے کہ جو شاگرد «یہاں کھڑے ہیں» اُن میں سے بعض «جب تک خدا کی بادشاہی کو دیکھ نہ لیں موت کا مزہ ہرگز نہ چکھیں گے»۔ یہ الفاظ آیات ۲۸-۳۶ میں پورے ہوئے جب پہاڑ پر اُن کے سامنے اُس کی صورت بدل کر جلالی ہو گئی۔ یہ شاگرد پطرس، یعقوب اور یوحنا تھے۔ پہاڑ پر اُن کو اُس حالت کی جھلک دکھائی گئی جو اُس وقت ہو گی جب خداوند یسوع دُنیا میں اپنی بادشاہی قائم کرے گا۔ پطرس اپنے دوسرے خط میں اِس حقیقت کا بیان یوں کرتا ہے:
«جب ہم نے تمہیں اپنے خداوند یسوع مسیح کی قدرت اور آمد سے واقف کیا تھا تو دغا بازی کی گھڑی ہوئی کہانیوں کی پیروی نہیں کی تھی بلکہ خود اُس کی عظمت کو دیکھا تھا کہ اُس نے خدا باپ سے اُس وقت عزت اور جلال پایا جب اُس افضل جلال میں سے اُسے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔ اور جب ہم اُس کے ساتھ مقدس پہاڑ پر تھے تو آسمان سے یہی آواز آتی سنی» (۲۔پطرس ۱:۱۶-۱۸) ۔
اِس حصے میں خداوند یسوع کی تعلیم کے تسلسل پر غور کریں۔ ابھی ابھی اُس نے بتایا تھا کہ مجھے ردّ کیا جائے گا، مَیں دُکھ اُٹھاؤں گا اور قتل کیا جاؤں گا۔ پھر اُس نے شاگردوں سے کہا کہ خود اِنکاری، دُکھ اُٹھانے اور قربانی و ایثار کی زندگی بسر کریں۔ اور اَب کہتا ہے کہ «بس اِتنا یاد رکھو کہ میرے ساتھ دُکھ اُٹھاؤ گے تو میرے ساتھ بادشاہی بھی کرو گے۔ صلیب سے آگے جلال ہے، اور اَجر اُس قیمت سے کہیں بڑا ہے جو تم ادا کرو گے۔»
ق۔ ابنِ آدم کی صورت کا بدل جانا (۹:۲۸-۳۶)
۹:۲۸،۲۹ «اِن باتوں کے کوئی آٹھ روز بعد» یسوع شاگردوں میں سے «پطرس اور یعقوب اور یوحنا کو ہمراہ لے کر دعا مانگنے کو پہاڑ پر گیا»۔ اِس پہاڑ کے محلِ وقوع کا علم نہیں، مگر عام خیال ہے کہ بلند اور برفانی چوٹی والا کوہِ حرمون ہی ہے۔ خداوند دعا مانگ رہا تھا کہ اُس کی ظاہری صورت بدل گئی۔ یہاں ایک دل موہ لینے والا راز ہے کہ دعا جن چیزوں کو بدل دیتی ہے، اُن میں اِنسان کا چہرہ مُہرہ بھی شامل ہے، «اُس کا چہرہ» نورانی ہو کر چمکنے لگا اور «اُس کی پوشاک» برف سی «سفید براق ہو گئی۔» جیسا کہ پہلے کہا گیا، یہ اُس جلال کی ایک جھلک تھی جو اُس کی دوسری آمد پر ظاہر کیا جائے گا۔ جب تک خداوند اِس دُنیا میں تھا اُس کے جلال پر اکثر اُس گوشت پوست کے بدن کے باعث پردہ پڑا رہتا تھا۔ اِس دُنیا میں وہ پست حال، ایک خادم بلکہ غلام کی صورت میں رہا۔ لیکن ہزار سالہ بادشاہی کے دوران اُس کا جلال پورے طور پر ظاہر کیا جائے گا، اور تمام بنی نوعِ اِنسان اُس کی عظمت اور بزرگی اور جلال اور شان و شوکت کو دیکھیں گے۔
پروفیسر ڈبلیو۔ ایچ۔ راجرز (Rogers) نے کیا خوب کہا ہے کہ
«خداوند کی صورت بدل جانے کے واقعے میں ہمیں ہر وہ چیز مختصر طور پر نظر آتی ہے جس کا پورا اِظہار مستقبل کی بادشاہی میں ہو گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند پست حالی کے چیتھڑوں میں نہیں بلکہ جلال سے ملبس ہے۔ ہم موسیٰ کو جلالی حالت میں دیکھتے ہیں جو اُن لوگوں کا نمائندہ ہے جنہوں نے نئی پیدائش حاصل کی ہے اور موت میں سے گزر کر بادشاہی میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہم ایلیاہ کو جلالی حالت میں دیکھتے ہیں جو اُن لوگوں کا نمائندہ ہے جن کا فدیہ دیا گیا اور جو زندہ آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد بادشاہی میں داخل ہو گئے ہیں۔ وہاں تین شاگرد، پطرس، یعقوب اور یوحنا کھڑے ہیں جن کو تاحال جلال نہیں بخشا گیا۔ وہ اسرائیل کے نمائندے ہیں جو ہزار سالہ بادشاہت کے دوران جسمانی حالت میں ہو گا۔ پھر پہاڑ کے دامن میں بھیڑ ہے جو اُن قوموں کی نمائندہ ہے جن کو اِفتتاح کے بعد بادشاہی میں شامل کیا جائے گا۔»
۹:۳۰،۳۱ «موسیٰ اور ایلیاہ» اِس موقعے پر یسوع کے ساتھ «اُس کے اِنتقال» (لفظی ترجمہ خروج) کے بارے میں «باتیں کر رہے تھے» «جو یروشلیم میں واقع ہونے کو تھا۔» غور کریں کہ یہاں اُس کی موت کا بیان ایک «تکمیل شدہ کام» کے طور پر کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی غور کریں کہ موت محض ایک «اِنتقال» یا «خروج» ہے۔ وجود کا فنا یا نیست ہو جانا نہیں بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانا ہے۔
۹:۳۲،۳۳ جب یہ باتیں ہو رہی تھیں تو شاگردوں پر نیند کا غلبہ تھا۔ بشپ رائیل (Ryle) کہتا ہے کہ:
«غور کریں کہ جو شاگرد یہاں جلال کے بے نقاب کئے جانے کے موقعے پر سو رہے ہیں، وہ گتسمنی میں یسوع کے اِنتہائی دُکھ کے موقعے پر بھی سو رہے تھے۔ ضرور ہے کہ جسم اور گوشت تبدیل ہوں۔ تب ہی آسمان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہمارے کمزور اور لاغر جسم نہ تو مصیبت کے وقت مسیح کے ساتھ ہوشیار اور چوکنے رہ سکتے ہیں نہ جلال پانے کے وقت اُس کے ساتھ جاگ سکتے ہیں۔ آسمان سے لطف اندوز ہونے سے پہلے ضرور ہے کہ ہماری جسمانی ماہیت بالکل بدل جائے۔»
«جب اچھی طرح بیدار ہوئے تو» اُنہوں نے مسیح «کے جلال» کی بے بیان چمک دمک کو دیکھا۔ پطرس نے چاہا کہ اِس موقع کی پاکیزہ حالت قائم اور محفوظ رہے۔ چنانچہ اُس نے رائے پیش کی کہ وہاں «تین ڈیرے» بنائے جائیں۔ ایک مسیح کی شان میں، دوسرا موسیٰ کی عزت افزائی کے لئے اور تیسرا ایلیاہ کی تعظیم کے لئے۔ لیکن اُس کا یہ خیال ہوش پر نہیں صرف جوش پر مبنی تھا۔
۹:۳۴-۳۶ جس بادل نے اُن کو گھیر رکھا تھا، اُس میں سے خدا کی آواز آئی کہ «یہ میرا برگزیدہ بیٹا ہے۔ اِس کی سنو» یعنی اِس کی مانو، فرماں برداری کرو۔ اِس کے ساتھ ہی موسیٰ اور ایلیاہ غائب ہو گئے اور یسوع وہاں اکیلا کھڑا تھا۔ خدا کی بادشاہی میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ مسیح کو ہر بات میں فوقیت حاصل ہو گی۔ وہ اپنے جلال میں کسی کو شریک نہیں کرے گا۔
شاگردوں پر اِس واقعے کا ایسا رُعب چھا گیا تھا کہ اُنہوں نے کسی سے ذکر تک نہ کیا۔
ر۔ ایک لڑکے کو بدروح سے آزاد کیاجاتا ہے (۹:۳۷-۴۳الف)
۹:۳۷-۳۹ دوسرے دن یسوع اور اُس کے شاگرد اُس جلال کے پہاڑ سے اُتر کر اِنسانی ضروریات کی وادی میں آئے۔ زندگی میں روحانی سرفرازی کے لمحات بھی آتے ہیں مگر خدا روزمرہ کی مشقت اور کاروبارِ جہان سے زندگی میں توازن قائم رکھتا ہے۔ پہاڑ کے دامن میں «ایک بڑی بھیڑ اُن سے آ ملی۔» اِس بھیڑ میں ایک باپ تھا جو اپنے بیٹے کی بیماری کے غم اور پریشانی سے باؤلا ہو رہا تھا۔ اُس کا اکلوتا بیٹا بد روح کے قبضے میں تھا۔ باپ یسوع کی منت کرنے لگا کہ میرے بیٹے کو شفا دے جو کہ میری آنکھوں کا نور اور دل کا سرُور ہے۔ جب لڑکے کو دَورہ پڑتا تھا تو باپ کے دل پر کیا گزرتی ہو گی اور یہ دَورے بھی اچانک پڑتے تھے۔ وہ چیختا چلّاتا تھا۔ اُس کے منہ سے جھاگ بہنے لگتی تھی۔ بدروح بڑی مشکلوں سے اُس کو چھوڑتی تھی۔ وہ بُری طرح سے زخمی ہو جاتا تھا۔
۹:۴۰ پریشان حال باپ لڑکے کو پہلے شاگردوں کے پاس لایا تھا، مگر وہ کچھ نہیں کر سکے تھے۔ شاگرد لڑکے کی کوئی مدد کیوں نہ کر سکے؟ شاید وہ اپنی خدمت میں پیشہ وَر بن گئے تھے۔ شاید وہ سمجھتے تھے کہ ہم مسلسل روحانی طور سے بیدار رہے بغیر بھی روح سے معمور خدمت کر سکتے ہیں۔ شاید وہ یقین کرنے لگے تھے کہ سب کچھ یوں ہی ہوتا رہے گا۔
۹:۴۱ خداوند یسوع یہ سارا منظر دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوا۔ کسی کا نام لئے بغیر اُس نے کہا، «اے بے اعتقاد اور کج رَو قوم…» ہو سکتا ہے کہ اُس کا روئے سخن شاگردوں، وہاں کھڑے لوگوں، لڑکے کے باپ یا سبھوں ہی کی طرف ہو۔ گو اُنہیں اُس کی قوت کے لامحدود وسائل میسر تھے، لیکن وہ اِس اِنسانی ضرورت کے سامنے بے بس نظر آتے تھے۔ یسوع نے فرمایا کہ «مَیں کب تک تمہارے ساتھ رہوں گا اور تمہاری برداشت کروں گا؟» پھر اُس نے لڑکے کے باپ سے کہا کہ «اپنے بیٹے کو یہاں لے آ۔»
۹:۴۲،۴۳ الف ابھی لڑکا یسوع کے پاس آ ہی رہا تھا کہ بدروح نے اُسے پکڑ کر زمین پر پٹخ دیا۔ مگر یسوع اُس بدروح کی طاقت کے مظاہرے سے مرعوب نہیں ہوا۔ بدروح کی طاقت نہیں بلکہ اِنسان کی بے اعتقادی یسوع کے کام میں رُکاوٹ ڈالتی ہے۔ اُس نے «ناپاک روح» کو نکال دیا اور «لڑکے کو اچھا کر کے باپ کو دے دیا۔» لوگ «حیران» ہونے لگے۔ اُنہوں نے جان لیا کہ خدا نے ایک معجزہ کیا ہے۔ اور اِس معجزے میں اُنہوں نے خدا کی عظمت اور حشمت دیکھی۔
ش۔ ابنِ آدم اپنی موت اور جی اُٹھنے کی پیش گوئی کرتا ہے (۹:۴۳ب -۴۵)
۹:۴۳ب-۴۴ شاگرد شاید یہ سوچتے تھے کہ ہمارا آقا اِسی طرح معجزے کرتا رہے گا جب تک کہ پوری قوم اُسے بادشاہ تسلیم نہ کر لے۔ اُن کے ذہنوں میں سے ایسے خیال کو نکالنے کے لئے یسوع نے اُن کو پھر یاد دلایا کہ ضرور ہے کہ «ابنِ آدم آدمیوں کے ہاتھ میں حوالہ کیا» جائے اور وہ اُسے قتل کریں۔
۹:۴۵ وہ اِس پیش گوئی کو کیوں «سمجھتے نہ تھے؟» صرف اِس لئے کہ وہ دوبارہ یہی سوچنے لگے تھے کہ مسیحِ موعود ایک مقبول سورما ہو گا۔ اُن کی سوچ کے مطابق اُس کی موت قوم کے مقصد کی شکست تھی۔ اُن کی اُمیدیں اور توقعات اِتنی زبردست تھیں کہ وہ کسی اَور تصور کو دل میں جگہ دے ہی نہیں سکتے تھے۔ خدا نے تو سچائی کو اُن سے نہیں چھپا رکھا تھا۔ لیکن وہ نہ ماننے پر بجد تھے۔ نیز «وہ پوچھتے ہوئے ڈرتے تھے،» جیسے اُن کو خوف تھا کہ ہمارے اندیشوں کی تصدیق ہو جائے گی۔
ت۔ خدا کی بادشاہی میں حقیقی عظمت (۹:۴۶-۴۸)
۹:۴۶ شاگردوں کو صرف یہی توقع نہ تھی کہ جلالی بادشاہی جلد آ جائے گی بلکہ وہ اِس بادشاہی میں بڑے بڑے رُتبے پانے کے خواب بھی دیکھ رہے تھے۔ وہ آپس میں بحث کرتے تھے کہ رُتبے میں سب سے بڑا کون ہو گا۔
۹:۴۷،۴۸ یسوع کو علم تھا کہ کیا سوال اُن کو پریشان کر رہا ہے۔ چنانچہ اُس نے ایک بچے کو اپنے پاس کھڑا کیا اور اُن کو بتایا کہ جو کوئی چھوٹے «بچہ کو میرے نام پر قبول کرتا ہے وہ مجھے قبول کرتا ہے»۔ پہلی نظر میں اِس بات کا شاگردوں کی اِس بحث سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا کہ ہم میں بڑا کون ہے۔ تاہم تعلق کچھ یوں ہے کہ حقیقی بڑائی چھوٹوں سے محبت اور شفقت سے پیش آنے میں ہے، بے یار و مددگار افراد کو سہارا دینے میں ہے، جن کو دُنیا دیکھتی بھی نہیں، اُن سے حسنِ سلوک میں ہے۔ چنانچہ جب یسوع نے کہا کہ «جو تم میں سب سے چھوٹا ہے وہی بڑا ہے» تو وہ اُس شخص کی طرف اِشارہ کر رہا تھا جس نے اپنے آپ کو اِتنا پست اور فروتن کر دیا کہ اُن ایمان داروں کے ساتھ میل جول رکھنے لگا جن کو بے حقیقت اور حقیر سمجھا جاتا ہے، جن کا کوئی ذکر کرنا پسند نہیں کرتا۔
متی ۱۸:۴ میں خداوند نے فرمایا کہ «جو کوئی اپنے آپ کو اِس بچے کی مانند چھوٹا بنائے گا، وہی آسمان کی بادشاہی میں بڑا ہو گا۔»یہاں لوقا کی انجیل میں معاملہ خدا کے فرزندوں میں سب سے چھوٹے کے ساتھ مشابہت پیدا کرنے کا ہے۔ دونوں حالات میں حلیمی اور فروتنی کی جگہ قبول کرنے کی بات ہے جیسے نجات دہندہ نے خود کِیا۔
ث۔ ابنِ آدم فرقہ بندی سے منع کرتا ہے (۹:۴۹،۵۰)
۹:۴۹ اِس واقعے سے اُس کردار کی مثال سامنے آتی ہے جس سے بچنے کی تلقین خداوند نے ابھی ابھی کی تھی۔ اُنہوں نے «ایک شخص کو» یسوع کے «نام سے بدروحیں نکالتے دیکھا»، اور اُس کو صرف اِس بنا پر «منع کرنے لگے» کہ وہ اُن کے ساتھ یسوع کی «پیروی نہیں کرتا» تھا۔ دوسرے لفظوں میں اُنہوں نے خدا کے ایک فرزند کو اُس کے نام سے قبول کرنے سے اِنکار کر دیا۔ وہ فرقہ پرست اور تنگ نظر تھے۔ اُن کو خوش ہونا چاہئے تھا کہ یسوع کے نام سے بدروح نکالی گئی ہے۔ اُن کو کسی ایسے شخص یا گروہ سے بدگمان ہونا یا حسد نہیں کرنا چاہئے تھا جو اُن سے زیادہ بدروحیں نکالتا تھا۔ چنانچہ ہر شاگرد کو اِس جذبے کے خلاف چوکس رہنا چاہئے کہ ایسا اِختیار صرف مجھے ہی حاصل ہونا چاہئے، روحانی قوت اور وقار پر صرف میری اجارہ داری ہونی چاہئے۔
۹:۵۰ «یسوع نے اُس سے کہا کہ اُسے منع نہ کرنا کیونکہ جو تمہارے خلاف نہیں وہ تمہاری طرف ہے۔» جہاں تک مسیح کی ذات اور کاموں کا تعلق ہے، اُن میں جانب داری نہیں ہو سکتی۔ اگر لوگ مسیح کی طرف نہیں تو اُس کے خلاف ہیں، لیکن جہاں تک مسیحی خدمت کا تعلق ہے تو اے۔ ایل۔ ولیمز (Williams) کہتا ہے کہ:
«حقیقی اور سچے مسیحیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب باہر کے لوگ (غیر مسیحی) مسیح کے نام میں کوئی کام کرتے ہیں تو وہ مسیح کے مقصد کو آگے بڑھاتے ہیں… خداوند کے جواب میں ایک وسیع اور دُور رَس سچائی پائی جاتی ہے۔ دُنیا کا کوئی گروہ، خواہ وہ کتنا ہی پاکیزہ کیوں نہ ہو، یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ الٰہی قدرت کا… استعمال ہمارے اور صرف ہمارے ہی لئے مختص ہو۔»
مقدس کتاب
۱- جب بِھیڑ اُس پر گِری پڑتی تھی اور خُدا کا کلام سُنتی تھی اور وہ گنّیسرؔت کی جِھیل کے کنارے کھڑا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ
۲- اُس نے جِھیل کے کنارے دو کشتِیاں لگی دیکِھیں لیکن مچھلی پکڑنے والے اُن پر سے اُتر کر جال دھو رہے تھے۔
۳- اور اُس نے اُن کشتِیوں میں سے ایک پر چڑھ کر جو شمعُوؔن کی تھی اُس سے درخواست کی کہ کنارے سے ذرا ہٹا لے چل اور وہ بَیٹھ کر لوگوں کو کشتی پر سے تعلِیم دینے لگا۔
۴- جب کلام کر چُکا تو شمعُوؔن سے کہا گہرے میں لے چل اور تُم شِکار کے لِئے اپنے جال ڈالو۔
۵- شمعُوؔن نے جواب میں کہا اَے اُستاد ہم نے رات بھر محنت کی اور کُچھ ہاتھ نہ آیا مگر تیرے کہنے سے جال ڈالتا ہُوں۔
۶- یہ کِیا اور وہ مچھلِیوں کا بڑا غَول گھیر لائے اور اُن کے جال پھٹنے لگے۔
۷- اور اُنہوں نے اپنے شرِیکوں کو جو دُوسری کشتی پر تھے اِشارہ کِیا کہ آؤ ہماری مدد کرو۔ پس اُنہوں نے آ کر دونوں کشتِیاں یہاں تک بھر دیں کہ ڈُوبنے لگِیں۔
۸- شمعُوؔن پطرس یہ دیکھ کر یِسُوعؔ کے پاؤں میں گِرا اور کہا اَے خُداوند! میرے پاس سے چلا جا کیونکہ مَیں گُنہگار آدمی ہُوں۔
۹- کیونکہ مچھلِیوں کے اِس شِکار سے جو اُنہوں نے کِیا وہ اور اُس کے سب ساتھی بُہت حَیران ہُوئے۔
۱۰- اور وَیسے ہی زبدؔی کے بیٹے یعقُوبؔ اور یُوحنّا بھی جو شمعُوؔن کے شرِیک تھے حَیران ہُوئے۔ یِسُوعؔ نے شمعُوؔن سے کہا خَوف نہ کر۔ اب سے تُو آدمِیوں کا شِکار کِیا کرے گا۔
۱۱- وہ کشتِیوں کو کنارے پر لے آئے اور سب کُچھ چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لِئے۔
۱۲- جب وہ ایک شہر میں تھا تو دیکھو کوڑھ سے بھرا ہُؤا ایک آدَمی یِسُوعؔ کو دیکھ کر مُنہ کے بَل گِرا اور اُس کی مِنّت کر کے کہنے لگا اَے خُداوند! اگر تُو چاہے تو مُجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔
۱۳- اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چُھؤا اور کہا مَیں چاہتا ہُوں۔ تُو پاک صاف ہو جا اور فوراً اُس کا کوڑھ جاتا رہا۔
۱۴- اور اُس نے اُسے تاکِید کی کہ کِسی سے نہ کہنا بلکہ جا کر اپنے تئیں کاہِن کو دِکھا اور جَیسا مُوسیٰ نے مُقرّر کِیا ہے اپنے پاک صاف ہو جانے کی بابت نذر گُذران تاکہ اُن کے لِئے گواہی ہو۔
۱۵- لیکن اُس کا چرچا زِیادہ پَھیلا اور بُہت سے لوگ جمع ہُوئے کہ اُس کی سُنیں اور اپنی بِیمارِیوں سے شِفا پائیں۔
۱۶- مگر وہ جنگلوں میں الگ جا کر دُعا کِیا کرتا تھا۔
۱۷- اور ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ تعلِیم دے رہا تھا اور فرِیسی اور شرع کے مُعلِّم وہاں بَیٹھے تھے جو گلِیل کے ہر گاؤں اور یہُودیہ اور یروشلِیم سے آئے تھے اور خُداوند کی قُدرت شِفا بخشنے کو اُس کے ساتھ تھی۔
۱۸- اور دیکھو کئی مَرد ایک آدَمی کو جو مفلُوج تھا چارپائی پر لائے اور کوشِش کی کہ اُسے اندر لا کر اُس کے آگے رکھّیں۔
۱۹- اور جب بِھیڑ کے سبب سے اُس کو اندر لے جانے کی راہ نہ پائی تو کوٹھے پر چڑھ کر کھپریل میں سے اُس کو کھٹولے سمیت بِیچ میں یِسُوعؔ کے سامنے اُتار دِیا۔
۲۰- اُس نے اُن کا اِیمان دیکھ کر کہا کہ اَے آدمی! تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔
۲۱- اِس پر فقِیہہ اور فریسی سوچنے لگے کہ یہ کَون ہے جو کُفر بَکتا ہے؟ خُدا کے سِوا اَور کَون گُناہ مُعاف کر سکتا ہے؟
۲۲- یِسُوعؔ نے اُن کے خیالوں کو معلُوم کر کے جواب میں اُن سے کہا تُم اپنے دِلوں میں کیا سوچتے ہو؟
۲۳- آسان کیا ہے؟ یہ کہنا کہ تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے یا یہ کہنا کہ اُٹھ اور چل پِھر؟
۲۴- لیکن اِس لِئے کہ تُم جانو کہ اِبنِ آدمؔ کو زمِین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے (اُس نے مَفلُوج سے کہا) مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ اور اپنا کھٹولا اُٹھا کر اپنے گھر جا۔
۲۵- اور وہ اُسی دَم اُن کے سامنے اُٹھا اور جِس پر پڑا تھا اُسے اُٹھا کر خُدا کی تمجِید کرتا ہُؤا اپنے گھر چلا گیا۔
۲۶- وہ سب کے سب بڑے حَیران ہُوئے اور خُدا کی تمجِید کرنے لگے اور بُہت ڈر گئے اور کہنے لگے کہ آج ہم نے عجِیب باتیں دیکِھیں۔
۲۷- اِن باتوں کے بعد وہ باہر گیا اور لاوؔی نام ایک محصُول لینے والے کو محصُول کی چَوکی پر بَیٹھے دیکھا اور اُس سے کہا میرے پِیچھے ہو لے۔
۲۸- وہ سب کُچھ چھوڑ کر اُٹھا اور اُس کے پِیچھے ہو لِیا۔
۲۹- پِھر لاوؔی نے اپنے گھر میں اُس کی بڑی ضِیافت کی اور محصُول لینے والوں اور اَوروں کا جو اُن کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے بڑا مَجمع تھا۔
۳۰- اور فریسی اور اُن کے فقِیہہ اُس کے شاگِردوں سے یہ کہہ کر بُڑبُڑانے لگے کہ تُم کیوں محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کے ساتھ کھاتے پیتے ہو؟
۳۱- یِسُوعؔ نے جواب میں اُن سے کہا کہ تندرُستوں کو طبِیب کی ضرُورت نہیں بلکہ بِیماروں کو۔
۳۲- مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گُنہگاروں کو تَوبہ کے لِئے بُلانے آیا ہُوں۔
۳۳- اور اُنہوں نے اُس سے کہا کہ یُوحنّا کے شاگِرد اکثر روزہ رکھتے اور دُعائیں کِیا کرتے ہیں اور اِسی طرح فریسیوں کے بھی مگر تیرے شاگِرد کھاتے پِیتے ہیں۔
۳۴- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا کیا تُم براتِیوں سے جب تک دُلہا اُن کے ساتھ ہے روزہ رکھوا سکتے ہو؟
۳۵- مگر وہ دِن آئیں گے اور جب دُلہا اُن سے جُدا کِیا جائے گا تب اُن دِنوں میں وہ روزہ رکھّیں گے۔
۳۶- اور اُس نے اُن سے ایک تمثِیل بھی کہی کہ کوئی آدَمی نئی پوشاک میں سے پھاڑ کر پُرانی پوشاک میں پَیوند نہیں لگاتا ورنہ نئی بھی پھٹے گی اور اُس کا پَیوند پُرانی میں میل بھی نہ کھائے گا۔
۳۷- اور کوئی شخص نئی مَے پُرانی مَشکوں میں نہیں بھرتا نہیں تو نئی مَے مَشکوں کو پھاڑ کر خُود بھی بہ جائے گی اور مَشکیں بھی برباد ہو جائیں گی۔
۳۸- بلکہ نئی مَے نئی مَشکوں میں بھرنا چاہئے۔
۳۹- اور کوئی آدمی پُرانی مَے پی کر نئی کی خَواہِش نہیں کرتا کیونکہ کہتا ہے کہ پُرانی ہی اچھّی ہے۔