۵۔ ابنِ آدم اپنی خدمت کی وضاحت کرتا ہے (۵:۲۷-۶:۴۹)
الف۔ لاوی کی بلاہٹ (۵:۲۷،۲۸)
لاوی ایک یہودی «محصول لینے والا» تھا۔ وہ رومی حکومت کے لئے محصول جمع کیا کرتا تھا۔ اُس کے ہم مذہب یہودی ایسے لوگوں سے سخت نفرت کیا کرتے تھے۔ نہ صرف اِس لئے کہ وہ رومی حکومت کے ساتھ ملے ہوتے تھے، بلکہ اِس لئے بھی کہ وہ بہت بددیانتی بھی کرتے تھے۔ ایک دن جب لاوی اپنے کام میں مصروف تھا، یسوع اُدھر سے گزرا اور اُس کو اپنے پیچھے آنے یعنی اپنا پیرو بننے کی دعوت دی۔ لاوی کی بلا توقف آمادگی، حیرت انگیز ہے۔ «وہ سب کچھ چھوڑ کر اُٹھا اور اُس کے پیچھے ہو لیا۔» غور کریں کہ اِس سادہ سے فیصلے کے کیا کیا نتیجے برآمد ہوئے۔ لاوی یا متی پہلی اِنجیل کا مصنف بنا۔
ب۔ ابنِ آدم گنہگاروں کو کیوں بلاتا ہے (۵:۲۹-۳۲)
۵:۲۹،۳۰ کئی مفسروں کا خیال ہے کہ اِتنی «بڑی ضیافت» کرنے میں «لاوی» کے تین مقاصد تھے۔ وہ خداوند کی عزت اور تعظیم کرنا چاہتا تھا۔ وہ یسوع کے ساتھ اپنی وفاداری کی علانیہ گواہی دینا اور اپنے دوستوں کو یسوع سے متعارف کرانا چاہتا تھا۔ اکثر یہودی محصول لینے والوں کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے تھے۔ یسوع «محصول لینے والوں اور گنہگاروں کے ساتھ کھاتا پیتا» تھا۔ بے شک وہ اُن کے گناہوں میں اُن کا شریک نہیں ہوتا تھا، نہ کوئی ایسی بات کرتا تھا جس سے اُس کی گواہی متاثر ہو مگر وہ ایسے موقعوں کو تعلیم دینے، ملامت کرنے اور برکت دینے کے لئے ضرور استعمال کرتا تھا۔
«فریسی اور اُن کے فقیہ۔» اُن کے فقیہ سے مراد وہ فقیہ ہیں جو فریسی کے مرتبے پر فائز ہوتے تھے۔ یہ لوگ یسوع پر اعتراض اور نکتہ چینی کرنے لگے کہ یہ معاشرے کے راندے ہوئے، گھٹیا، حقیر اور قابلِ نفرت لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے۔
۵:۳۱ یسوع کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ مَیں نے جو کام کیا ہے، وہ میرے دُنیا میں آنے کے مقصد سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ تندرست لوگوں کو طبیب کی ضرورت نہیں بلکہ صرف بیماروں کو۔
۵:۳۲ فریسی اپنے آپ کو راست باز شمار کرتے تھے۔ اُن کو گناہ کا یا اَور کسی روحانی ضرورت کا کوئی گہرا احساس نہیں تھا۔ اِس لئے وہ طبیب ِاعظم کی خدمت سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے تھے۔ لیکن یہ محصول لینے والے اور گنہگار مانتے تھے کہ ہم گنہگار ہیں اور ضرورت ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے بچائے جائیں۔ نجات دہندہ اِسی قسم کے لوگوں کے لئے دُنیا میں آیا تھا۔ حقیقتاً فریسی راست باز نہیں تھے۔ اُن کو بھی نجات پانے کی اُسی قدر ضرورت تھی جس قدر محصول لینے والوں کو تھی، لیکن وہ اپنے گناہوں کا اِقرار کرنے اور قصوروں کو ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اِسی لئے وہ طبیبِ اعظم پر اعتراض اور نکتہ چینی کرتے تھے کہ یہ سخت بیمار لوگوں کے پاس جاتا ہے۔
ج۔ شاگردوں کے روزہ نہ رکھنے کی وضاحت (۵:۳۳-۳۵)
۵:۳۳ اب فریسیوں نے ایک اَور چال کا سہارا لیا۔ وہ روزہ رکھنے کے بارے میں یسوع سے اِستفسار کرنے لگے۔ آخر یوحنا بپتسمہ دینے والے کے شاگرد بھی تو اپنے اُستاد کی راہبانہ زندگی کی پیروی کرتے تھے اور فریسیوں کے شاگرد بھی کئی رسوماتی روزے رکھتے تھے۔ مگر یسوع کے شاگرد روزہ نہیں رکھتے تھے۔ کیوں؟
۵:۳۴،۳۵ یسوع کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ جب تک مَیں اُن کے ساتھ ہوں میرے شاگردوں کو روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں وہ روزہ رکھنے کو غم کھانے اور ماتم کرنے سے منسلک کرتا ہے۔ مگر وقت آئے گا کہ «مَیں اُن سے جدا کیا جاؤں گا» یعنی پُرتشدد موت کے وسیلے سے۔ پھر وہ «روزہ رکھیں گے» اور اپنے غم کا اِظہار کریں گے۔
د۔ نئے اِنتظام کے بارے میں تین تمثیلیں (۵:۳۶-۳۹)
۵:۳۶ اِس کے بعد تین تمثیلیں ہیں جو سکھاتی ہیں کہ ایک نئے نظام کا آغاز ہو چکا ہے۔ اور نئے اور پرانے نظام کو کسی صورت باہم ملایا نہیں جا سکتا۔
پہلی تمثیل میں «پرانی پوشاک» شرعی نظام کی نمائندگی کرتی ہے جب کہ «نئی پوشاک» فضل کے دَور کی تصویر ہے۔ یہ ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ شریعت اور فضل کو ملانے کی کوشش دونوں کو بگاڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اگر نئی پوشاک میں سے پھاڑ کر پیوند پرانی پوشاک میں لگایا جائے تو نئی پوشاک بھی خراب ہوتی ہے اور وہ پیوند پرانی پوشاک میں «میل بھی نہیں کھاتا۔» یعنی نہ شکل و شباہت میں نہ طاقت کے لحاظ سے اُس کے مطابق ہوتا ہے۔ جے۔ این۔ ڈاربی (Darby) نے کیا خوب کہا ہے کہ
«یسوع کوئی ایسی بات کرنے کا روا دار نہیں جس سے یہودیت پر مسیحیت کا لیبل لگ سکے۔ جسم اور شریعت تو اکٹھے ہو سکتے ہیں، لیکن فضل و شریعت، خدا کی راست بازی اور اِنسان کی اپنی راست بازی کبھی ایک دوسرے سے میل نہیں کھا سکتے۔»
۵:۳۷،۳۸ دوسری تمثیل «نئی مے کو پرانی مشکوں» میں بھرنے کی حماقت دِکھاتی ہے۔ «نئی مے» کا خمیر اُٹھتا ہے تو مشکوں پر دباؤ پڑتا ہے۔ پرانی مشکوں میں اِتنی لچک نہیں ہوتی کہ اِس دباؤ کو برداشت کر سکیں۔ مشکیں پھٹ جاتی ہیں اور مے بہہ جاتی ہے۔ یہودیت کے پرانے رواج، روایات اور آئین و ضوابط میں نئے نظام کی خوشی، قوت اور افراط سما نہیں سکتی۔ اِس باب میں «نئی مے» ہمیں اُس غیر روایتی طریقے میں نظر آتی ہے جس سے چار آدمی مفلوج کو یسوع کے پاس لائے تھے۔ اور ہمیں لاوی کے جوش، سرگرمی اور تازگی میں بھی «نئی مے» نظر آتی ہے۔ «پرانی مشکیں» فریسیوں کی بے مزہ رسم پرستی اور سرد مہری کی تصویر ہیں۔
۵:۳۹ تیسری تمثیل میں بیان ہوا ہے کہ «کوئی آدمی پرانی مے پی کر نئی کی خواہش نہیں کرتا کیونکہ کہتا ہے کہ پرانی ہی اچھی ہے۔» یہاں ہمیں یہ تصویر نظر آتی ہے کہ اِنسان فطرتاً پرانی باتیں چھوڑ کر نئی باتوں کو اپنانے سے جھجکتا ہے۔ یہودی کی جگہ مسیحیت، شریعت کے بدلے فضل، سائے کی جگہ ٹھوس حقیقت کی طرف پھرنا اُسے از حد مشکل لگتا ہے۔ جیسا ڈاربی کہتا ہے کہ جو «انسان رواجوں، اِنسانی اِنتظامات، بزرگوں کے مذہب وغیرہ کا عادی ہو چکا ہو، وہ بادشاہی کے نئے اصول اور قوت کو کبھی پسند نہیں کرتا۔»
ہ۔ ابنِ آدم سبت کا مالک ہے (۶:۱-۱۱)
۶:۱،۲ یہاں سبت کے بارے میں دو واقعات ہمارے سامنے پیش کئے گئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ مذہبی لیڈروں کی بڑھتی ہوئی مخالفت نقطۂ عروج کو پہنچ رہی ہے۔ سبت کے دن خداوند اور اُس کے شاگرد کھیتوں میں ہو کر جا رہے تھے۔ شاگردوں نے کچھ بالیں توڑیں، ہاتھوں میں مَل کر اُن میں سے دانے نکالے اور کھائے۔ فریسی اِس بات پر تو اعتراض یا جھگڑا نہیں کر سکتے تھے کہ اناج لیا گیا کیونکہ شریعت میں اِس کی اِجازت تھی (اِستثنا ۲۳:۲۵) ۔ اُن کا اعتراض یہ تھا کہ یہ کام سبت کے دن کیا گیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ بالیں توڑنا فصل کاٹنے کا عمل ہے، اور اُن کو مَل کر دانے نکالنا فصل گاہنے کا عمل ہے (اور سبت کے روز ایسے کام کرنا روا نہیں) ۔
۶:۳-۵ خداوند نے داؤد کی زندگی کے ایک واقعے کی مثال دی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سبت کے بارے میں حکم کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ضروری کاموں سے روکا جائے۔ داؤد کو ردّ کیا گیا تھا۔ اُس کا تعاقب کیا جا رہا تھا «داؤد اور اُس کے ساتھی بھوکے تھے۔» وہ اپنے ساتھیوں سمیت «خدا کے گھر میں گیا اور نذر کی روٹیاں لے کر کھائیں۔» عام حالات میں یہ روٹیاں صرف کاہنوں کے لئے مخصوص ہوتی تھیں۔ مگر داؤد کے معاملے میں خدا نے ایک اِستثنائی یا غیر معمولی بات کی۔ اِسرائیل میں گناہ تھا۔ بادشاہ کو ردّ کیا جا رہا تھا۔ نذر کی روٹیوں کے بارے میں حکم کا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا کہ غلامانہ انداز میں اِس کی پابندی کی جائے جب کہ بادشاہ بھوک سے مر جائے۔
یہاں بھی ایسی ہی صورتِ حال تھی۔ مسیح اور اُس کے شاگرد بھوکے تھے۔ فریسی چاہتے تھے کہ وہ سبت کے دن بالیں نہ توڑیں بلکہ بھوکے ہی رہیں۔ لیکن «ابنِ آدم سبت کا مالک ہے۔» اوّل تو شریعت اُسی نے دی تھی، اور شریعت کی شرح و تفسیر کرنے کے لئے خود اُس سے بڑھ کر کون اہل ہو سکتا ہے۔ وہی اُس کے حقیقی روحانی مفہوم کو کھول سکتا اور ہر قسم کی غلط فہمی سے بچا سکتا ہے۔
۶:۶-۸ دوسرا واقعہ «کسی اَور سبت» کو پیش آیا۔ اِس کا تعلق معجزانہ شفا دینے سے ہے۔ «فقیہ اور فریسی یسوع کی تاک میں تھے» یعنی اُس پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔ وہ بڑے کینہ کے ساتھ اِس تاک میں تھے کہ «آیا سبت کے دن» سوکھے ہاتھ والے آدمی کو شفا دیتا ہے یا نہیں۔ اُس کے بارے میں ماضی کے تجربے اور علم سے اُن کو یقین تھا کہ وہ شفا دے گا۔ اور مسیح نے اُن کو مایوس نہیں کیا۔ پہلے اُس نے اُس آدمی سے کہا «اُٹھ اور بیچ میں کھڑا ہو۔» یعنی عبادت خانے میں بھیڑ کے بیچ میں کھڑا ہو۔ اِس ڈرامائی حرکت سے وہاں موجود ہر شخص کی توجہ اِس بات پر لگ گئی کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔
۶:۹ اب یسوع نے اپنے نکتہ چینوں سے پوچھا کہ «سبت کے دن نیکی کرنا روا ہے یا بدی کرنا؟» اگر وہ درست جواب دیتے تو یہی کہتے کہ سبت کے دن نیکی کرنا روا ہے اور بدی کرنا ناروا ہے۔ اگر نیکی کرنا روا ہے تو وہ سوکھے ہاتھ والے آدمی کو شفا دے کر نیکی کر رہا تھا۔ اور اگر «بدی» کرنا ناروا ہے، تو وہ خداوند یسوع کو مار ڈالنے کی سازِش کر کے سبت کو توڑ رہے تھے۔
۶:۱۰ مخالفوں سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ اِس پر یسوع نے اُس آدمی سے کہا کہ «اپنا ہاتھ بڑھا»۔ اِس حکم کے ساتھ ضروری قوت بھی اُس آدمی کی طرف گئی۔ جیسے ہی اُس آدمی نے حکم کی تعمیل کی «اُس کا ہاتھ درست ہو گیا۔»
۶:۱۱ فریسی اور فقیہ غصے میں آپے سے باہر ہو گئے۔ وہ یسوع پر سبت کو توڑنے کا الزام لگانا چاہتے تھے۔ اُس نے بس اِتنا ہی کیا کہ چند لفظ بولے اور آدمی شفا پا گیا۔ اِس میں ہاتھ کا کوئی کام شامل نہیں تھا۔ پھر بھی وہ مل کر سازِش کرنے لگے کہ یسوع پر کس طرح «ہاتھ ڈالیں۔»
خدا نے سبت کو اِنسان کی بہتری کے لئے مقرر کیا تھا۔ چنانچہ سبت اُن کاموں سے جو از بس ضروری ہیں یا رحم دِلی کے کام سے منع نہیں کرتا تھا۔
و۔ بارہ شاگردوں کا چنا جانا (۶:۱۲-۱۹)
۶:۱۲ یسوع نے شاگردوں کا اِنتخاب کرنے سے پہلے «دعا کرنے میں ساری رات گزاری»۔ یہ بات دعا کے بارے میں ہماری بے اصولی اور ناپختہ عزم کی کتنی ملامت کرتی ہے! لوقا واحد اِنجیل نویس ہے جو دعا کی اِس رات کا ذکر کرتا ہے۔
۶:۱۳-۱۶ اُس کے شاگردوں کا ایک وسیع تر حلقہ تھا جس میں سے اُس نے «بارہ چن لئے۔» اور وہ بارہ یہ ہیں:
- «شمعون جس کا نام اُس نے پطرس بھی رکھا۔» یوناہ کا بیٹا۔ وہ رسولوں میں نمایاں تھا۔
- «اُس کا بھائی اِندریاس۔» یہ اِندریاس ہی تھا جس نے پطرس کا تعارف خداوند یسوع سے کروایا تھا۔
- زبدی کا بیٹا «یعقوب۔» اُس کو یہ اعزاز ملا کہ پطرس اور یوحنا کے ساتھ اُس پہاڑ پر گیا جہاں خداوند کی صورت جلالی ہو گئی تھی۔ اُسے ہیرودیس اگرپا اوّل نے قتل کروایا۔
- زبدی کا بیٹا «یوحنا۔» یسوع نے یعقوب اور یوحنا کو «گرج کے بیٹے» کا لقب دیا تھا۔ یہی یوحنا ہے جس نے اِسی نام کی اِنجیل، خطوط اور مکاشفہ کی کتاب قلم بند کی۔
- «فلپس۔» وہ بیت صیدا کا باشندہ تھا۔ وہ نتن ایل کو یسوع کے پاس لایا تھا۔ ایک فلپس مبشر تھا۔ اُس کا ذکر اعمال کی کتاب میں آتا ہے۔ یہ دونوں الگ الگ شخص تھے۔
- «برتلمائی۔» عام طور سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ نتن ایل کا دوسرا نام ہے۔ اُس کا ذکر صرف بارہ شاگردوں کی فہرست میں آتا ہے۔
- «متی۔» محصول لینے والا۔ اُس کا نام «لاوی» بھی ہے۔ اُس نے پہلی اِنجیل لکھی۔
- «توما۔» اُس کو تواَم بھی کہا جاتا ہے۔ اُس نے کہا تھا کہ مَیں اُس وقت تک خداوند کے جی اُٹھنے کا یقین نہیں کروں گا جب تک ناقابلِ تردید ثبوت نہ دیکھ لوں۔
- «حلفئی کا بیٹا یعقوب۔» ہو سکتا ہے یہی وہ شخص تھا جو یروشلیم کی کلیسیا میں ایک ذمہ دار عہدے پر فائز ہوا۔ یہ عہدہ اُس وقت خالی ہوا تھا جب زبدی کے بیٹے یعقوب کو ہیرودیس نے مروا دیا تھا۔
- «شمعون جو زیلوتیس کہلاتا تھا۔» جہاں تک پاک صحائف کا تعلق ہے اِس شاگرد کا اَور کوئی ذکر نظر نہیں آتا۔
- «یعقوب کا بیٹا یہوداہ» غالباً یہ وہ یہوداہ ہے جس نے اِسی نام کا خط بھی لکھا۔ عام طور سے سمجھا جاتا ہے کہ اِس کا دوسرا نام تدی تھا (متی ۱۰:۳؛ مرقس ۳:۱۸) ۔
- «یہوداہ اسکریوتی۔» خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یہوداہ میں قریوت (قریت) نامی قصبے کا رہنے والا تھا۔ یوں وہ واحد شاگرد تھا جو گلیل سے نہیں تھا۔ اُسی نے خداوند کو دھوکے سے پکڑوایا تھا۔ یسوع نے اُسے «شیطان» (یوحنا ۶:۷۰) بھی کہا تھا اور «ہلاکت کا فرزند» کا لقب بھی دیا تھا۔
یہ شاگرد کسی غیر معمولی لیاقت یا ذہانت کے مالک نہ تھے۔ وہ بنی نوعِ اِنسان کے مختلف طبقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جس بات نے اُن کو عظیم بنا دیا، وہ تھی یسوع کے ساتھ اُن کا تعلق اور اُس کے لئے اُن کی مخصوصیت۔ جب یسوع نے اُن کو چنا تو عمر کے لحاظ سے وہ بیس کے پیٹے میں ہوں گے یعنی سب نوجوان تھے۔ اور یہی وہ عمر ہے جب اِنسان جوش اور ولولوں سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ سیکھنے کا رُجحان بھی رکھتا ہے اور ہر قسم کی سختی اور مشکل برداشت کر سکتا ہے۔ یسوع نے صرف بارہ شاگرد چنے۔ وہ تعداد کی نسبت اِستعداد کو دیکھتا ہے۔ اگر صحیح صلاحیت اور کردار کے آدمی میسر آ جائیں، تو وہ اُن کو دُنیا میں بھیج سکتا تھا اور روحانی افزائشِ نسل کے اصول سے ساری دُنیا کو اِنجیل کی خوش خبری پہنچا سکتا تھا۔
جب ایک دفعہ شاگرد چن لئے گئے تو ضروری تھا کہ اُن کو خدا کی بادشاہی کے اصولوں کی مکمل اور پوری تربیت دی جائے۔ باب کے بقیہ حصے میں اُس کردار اور برتاؤ کا خلاصہ پیش کیا گیا جو خداوند یسوع کے شاگردوں میں پایا جانا چاہئے۔
۶:۱۷-۱۹ یہاں جو بحث درج کی گئی ہے، وہ پہاڑی وعظ (متی باب ۵-۷) سے مماثلت نہیں رکھتی۔ وہ وعظ ایک پہاڑ پر سنایا گیا تھا جب کہ یہ باتیں «ہموار جگہ» (۱۷) پر کھڑے ہو کر کہی گئی تھیں۔ اُس وعظ میں صرف برکات تھیں جب کہ اِس میں دونوں باتیں پائی جاتی ہیں برکات اور افسوس۔ اور فرق بھی ہیں، مثلاً الفاظ، طوالت اور جن نکات پر زور دیا گیا ہے سبھوں میں فرق ہے۔
(البتہ بعض علما کا خیال ہے کہ «ہموار جگہ» پہاڑ کے دامن ہی میں کوئی چپٹی جگہ تھی۔ اور جو فرق نظر آتے ہیں، وہ صرف اِس وجہ سے ہیں کہ یہاں وعظ کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے اور متی اور لوقا نے زور دینے کے لئے فرق فرق نکات کا اِنتخاب کیا۔ مگر یہ سب کچھ خدا کے الہام سے ہوا) ۔
غور کریں کہ شاگردیت کا یہ سخت پیغام شاگردوں ہی کو نہیں «لوگوں کی بڑی بھیڑ» (۷۱) کو بھی دیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی بڑی بھیڑ یسوع کے پیچھے آتی تھی، وہ ایسی ہی سخت باتوں سے اُن کے خلوص کو آزماتا تھا۔ کسی نے کہا ہے کہ «یسوع پہلے محبت سے کھینچتا ہے، پھر چھانتا پھٹکتا ہے۔»
یہ لوگ جنوب میں «سارے یہودیہ اور یروشلیم سے» اور جنوب مغرب میں «صور اور صیدا» سے آئے تھے۔ اُن میں یہودی بھی تھے اور غیر قوم بھی۔ بیمار اور بدروح گرفتہ افراد شفا کے لئے اُسے چھونے کے لئے اُس کے قریب آنے کو زور مارتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ «قوت اُس سے نکلتی اور سب کو شفا بخشتی» ہے۔
یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ نجات دہندہ کی تعلیمات کیسی اِنقلابی ہیں۔ یاد رکھیں کہ وہ صلیب کی طرف جا رہا تھا۔ اُسے مرنا، دفن ہونا، تیسرے دن جی اُٹھنا اور آسمان پر جانا تھا۔ ضرور تھا کہ مفت نجات کی خوش خبری ساری دُنیا میں پہنچائی جائے۔ اِنسانوں کی نجات اور مخلصی اِس بات پر منحصر ہے کہ وہ پیغام سنیں۔ دُنیا میں منادی کس طرح کی جا سکتی تھی؟
ز۔ مبارک بادیاں اور افسوس (۶:۲۰-۲۶)
۶:۲۰ یسوع نے بارہ شاگردوں کو چنا۔ اُن کو دُنیا میں بھیجا۔ وہ غریب، بھوکے اور ستم رسیدہ تھے۔ کیا دُنیا میں اِس طرح منادی کی جا سکتی ہے؟ ہاں، کوئی دوسرا طریقہ ہے نہیں۔ نجات دہندہ نے آغاز چار مبارک بادیوں اور چار افسوس کے ساتھ کیا۔
«مبارک ہو تم جو غریب ہو۔» یہ نہیں کہ جو «غریب ہیں۔» بلکہ تم «جو غریب ہو۔» غربت بذاتِ خود مبارک نہیں ہے بلکہ اکثر لعنت ہی ہوتی ہے۔ یہاں یسوع اُس غربت کی بات کر رہا ہے جو اِنسان اُس کی خاطر خود قبول کرتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کی بات نہیں کر رہا تھا جو اپنی کاہلی، کسی المیہ یا ایسی وجوہات کی بنا پر غریب ہوتے ہیں جو اُن کے اِختیار سے باہر ہوتی ہیں بلکہ اُن لوگوں کی بات کر رہا تھا جو کسی مقصد سے غربت کا اِنتخاب کرتے ہیں تاکہ اپنے نجات دہندہ کی خوش خبری کو دوسروں تک بھی پہنچا سکیں۔ اگر غور کریں تو صرف یہی واحد معقول طریقہ ہے۔ فرض کریں کہ یہ شاگرد دولت مند ہو کر باہر نکلتے تو لوگ اِس اُمید سے یسوع کے جھنڈے تلے جوق در جوق جمع ہو جاتے کہ ہم دولت مند ہو جائیں گے۔ مگر اب یہ حالت تھی کہ شاگرد لوگوں کو سونا اور چاندی دینے کا وعدہ نہیں کر سکتے تھے۔ اگر لوگ اُن کے پاس آتے تھے تو صرف روحانی برکت کی تلاش میں آتے تھے۔ علاوہ ازیں اگر شاگرد دولت مند ہوتے تو خداوند پر مستقل بھروسا کرنے اور اُس کی وفاداری کو آزمانے کی برکت سے محروم رہ جاتے۔ خدا کی بادشاہی اُن کی ہے جو اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری ہونے پر قناعت کرتے ہیں تاکہ اُن سے زائد جو کچھ بھی ہو وہ خداوند کی خدمت میں کام آئے۔
۶:۲۱ «مبارک ہو تم جو اَب بھوکے ہو۔» اِس سے بھی مراد وہ لاتعداد بھوکے نہیں جو غذائی قِلت کا شکار ہیں بلکہ اِشارہ یسوع کے شاگردوں کی طرف ہے جو رضاکارانہ خود اِنکاری کی زندگی اِختیار کرتے ہیں تاکہ بنی نوعِ اِنسان کی روحانی اور جسمانی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستی اور سادہ خوراک پر گزارا کرتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ دل پسند اور عمدہ خوش خبری سے محروم نہ رہ جائیں۔ اِس ساری خود اِنکاری کا اَجر آنے والے دن میں ملے گا۔
«مبارک ہو تم جو اَب روتے ہو۔» یہ بات نہیں کہ غم اور رونا بذاتِ خود مبارک ہے۔ غیر نجات یافتہ لوگوں کا رونا دھونا کوئی دائمی فائدہ نہیں رکھتا۔ یہاں یسوع اُن آنسوؤں کا ذکر کر رہا ہے جو اُس کی خاطر بہائے جاتے ہیں۔ وہ آنسو جو کلیسیا کے تفرقوں اور کمزوری پر بہائے جاتے ہیں۔ یہ وہ غم ہے جو خداوند یسوع مسیح کی خدمت کے سلسلے میں اُٹھائے جاتے ہیں۔ «جو آنسوؤں کے ساتھ بوتے ہیں وہ خوشی کے ساتھ کاٹیں گے» (زبور ۱۲۶:۵) ۔
۶:۲۲ «جب ابنِ آدم کے سبب سے لوگ تم سے عداوت رکھیں گے… تو تم مبارک ہو گے۔» یہ برکت اُن لوگوں کے لئے نہیں جو اپنی حماقت اور گناہوں کے سبب سے دُکھ اُٹھاتے ہیں بلکہ اُن کے لئے ہے جو مسیح یسوع کے ساتھ وفاداری کے باعث حقیر سمجھے جاتے، برداری سے خارج کئے جاتے، ملامت اور رسوائی اُٹھاتے ہیں۔
اِن مبارک بادیوں کو سمجھنے کی کنجی اِس جملے میں ہے کہ «ابنِ آدم کے سبب سے۔» جو باتیں اپنی ذات میں نامبارک اور لعنت ہیں جب اُن کو دلی آمادگی کے ساتھ خداوند کی خاطر برداشت کیا جاتا ہے تو برکت اور مبارک بادی بن جاتی ہیں۔ مگر نیت اور محرک ہمیشہ مسیح کی محبت ہونی چاہئے، ورنہ بڑی سے بڑی قربانی بھی بے فائدہ ہو گی۔
۶:۲۳ مسیح کی خاطر دُکھ اور اذیت اُٹھانا بڑی خوشی اور شادمانی کا باعث ہوتا ہے۔ اوّل تو اِس کا «آسمان پر… اجر بڑا ہے۔» پھر اِس طرح ثابت ہوتا ہے کہ دُکھ اُٹھانے والے کا تعلق ماضی کے وفادار گواہوں کے ساتھ ہے۔
یہ چار مبارک بادیاں خدا کی بادشاہی میں مثالی شخص کا بیان کرتی ہیں۔ وہ شخص جو ایثار و قربانی، ریاضت، سادگی اور شائستگی کی زندگی بسر کرتا اور ہر دُکھ تکلیف کو بخوشی برداشت کرتا ہے۔
۶:۲۴ «مگر» اِس کے برعکس چار افسوس اُن اشخاص کو پیش کرتے ہیں جو مسیح کے نزدیک کسی قطار و شمار میں نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اِنہی اشخاص کو اِس دُنیا میں بڑا اور عظیم مانا جاتا ہے۔ «افسوس تم پر جو دولت مند ہو۔» دولت کو بٹورنے سے متعدد اخلاقی خطرے وابستہ ہیں۔ اِس دُنیا میں ہر روز ہزاروں لوگ بھوک سے مر جاتے اور بے شمار لوگ اِس خوش خبری سے محروم ہیں کہ مسیح پر ایمان لانے سے نجات ملتی ہے۔ لہٰذا مسیحیوں کو خداوند یسوع کے اِن الفاظ پر گہرا غور کرنا چاہئے۔ خصوصاً اُن مسیحیوں کو جن کو اِس آزمائش کا سامنا ہے کہ زمین پر خزانہ جمع کریں۔ دولت مندوں پر یہ افسوس حتمی طور پر ثابت کر دیتا ہے کہ جب خداوند نے فرمایا کہ «مبارک ہو تم جو غریب ہو» (آیت ۲۰) تو اُس کی مراد اُن لوگوں سے نہیں تھی جو روح میں غریب ہیں۔ ورنہ آیت ۲۴ میں یہ کہا جاتا کہ «افسوس تم پر جو روح میں دولت مند ہو۔» مگر ایسے مفہوم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کے پاس مال و دولت ہے اور وہ اُسے لوگوں کی ابدی بھلائی کے لئے استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں، اُن کو «اجر مل چکا» ہے یعنی اپنی خواہشات کی خود غرضانہ تکمیل اور تسکین۔
۶:۲۵ «افسوس تم پر جو اَب سیر ہو۔» یہ وہ ایمان دار ہیں جو مہنگے مہنگے ریستورانوں میں کھانے کھاتے ہیں، مرغن کھانوں کی دعوتیں اُڑاتے اور جب روزمرہ کھانے پینے کا سودا خریدنے جاتے ہیں تو بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔ خداوند کہتا ہے کہ وہ دن آتا ہے جب وہ «بھوکے ہوں گے» یعنی جب ایثار پیشہ اور وفادار شاگردیت کے اجر دیئے جائیں گے۔
«افسوس تم پر جو اَب ہنستے ہو۔» یہ افسوس اُن پر ہے جن کی زندگی صبح و شام عیش و عشرت، سیروتفریح اور خوشیوں کے حصول میں بسر ہوتی ہے۔ وہ زندگی اِس طرح گزارتے ہیں جیسے یہ بنی ہی کھیل تماشوں اور دل لگی کے لئے ہے۔ اور جو لوگ یسوع مسیح سے ناآشنا ہیں، اُن کا اُنہیں خیال تک نہیں آتا۔ جب یہ لوگ بعد میں پلٹ کر اُن موقعوں پر نظر ڈالیں گے جو ضائع کر دیئے گئے، جب اُنہوں نے خود غرضی سے اپنی خواہشات کی پیروی کی اور دیکھیں گے کہ روحانی طور پر ہم کنگال ہو چکے ہیں تو اُس وقت «روئیں گے اور ماتم کریں گے۔»
۶:۲۶ «افسوس تم پر جب سب لوگ تمہیں بھلا کہیں۔» کیوں؟ کیونکہ یہ ثبوت ہے کہ آپ نہ تو مسیح کے پیغام کے مطابق زندگی گزار رہے ہو نہ اُس پیغام کی منادی کر رہے ہو۔ خوش خبری کی نوعیت ہی میں یہ خصوصیت موجود ہے کہ بے خدا اور بے دین لوگوں کو ٹھوکر کھلاتی ہے۔ جن لوگوں کی تعریف دُنیا کرتی ہے، وہ پرانے عہدنامے کے اُن «جھوٹے نبیوں» کے ساتھی ہوتے ہیں جو لوگوں کی من پسند باتیں سنا سنا کر اُن کے کانوں میں رَس گھولا کرتے تھے۔ وہ لوگوں کی نظروں میں مقبول ہونا چاہتے تھے۔ اُنہیں خدا کی طرف سے تعریف کی پروا نہیں ہوتی۔
ح۔ ابنِ آدم کا خفیہ ہتھیار — محبت (۶:۲۷-۳۸)
۶:۲۷-۲۹ الف اب خداوند یسوع نے خدا کے اسلحہ خانے کا ایک خفیہ ہتھیار شاگردوں کو دکھایا۔ یہ ہے «محبت» کا ہتھیار۔ دُنیا میں منادی کرنے اور اُسے مسیح کے پاس لانے میں یہ سب سے موثر ہتھیار ہو گا۔ البتہ جب وہ «محبت» کی بات کرتا ہے تو وہ اِسی نام کے اِنسانی جذبے کی طرف اِشارہ نہیں کرتا۔ یہ فوق الفطرت محبت ہے۔ اِس محبت کو وہی افراد جان سکتے، اور اِس کا مظاہرہ کر سکتے ہیں جو نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں۔ جس شخص کے اندر روح القدس سکونت نہیں کرتا، اُس کے لئے یہ محبت ایک ناممکن بات ہوتی ہے۔ ایک قاتل اپنے بچوں سے تو محبت کر سکتا ہے، مگر یہ وہ محبت نہیں جس کا بیان یسوع کر رہا ہے۔ ایک اِنسانی محبت ہے، دوسری الٰہی محبت ہے۔ پہلی کا اِنحصار جسمانی زندگی پر ہے، دوسری کا اِنحصار روحانی زندگی پر ہے۔ پہلی کا تعلق زیادہ تر جذبات کے ساتھ ہے دوسری کا تعلق قوتِ ارادی سے ہے۔ دوستوں سے تو ہر کوئی محبت کر سکتا ہے، لیکن دشمنوں سے محبت کرنے کے لئے فوق الفطرت طاقت درکار ہوتی ہے۔ اور یہ ہے نئے عہدنامے کی محبت، جس کے لئے اصل زبان میں لفظ «اگاپے» استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے «جو تم سے عداوت رکھیں، اُن کا بھلا کرو۔ جو تم پر لعنت کریں، اُن کے لئے برکت چاہو۔ جو تمہاری بے عزتی کریں، اُن کے لئے دعا کرو۔» اور ہمیشہ اپنا «دوسرا گال» مارنے والے کی طرف «پھیر دو۔» ایف۔ بی۔ مائیر (Meyer) اِس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
«اپنے گہرے مفہوم میں محبت مسیحیت کی لازمی شرط ہے۔ دشمنوں کے لئے وہ احساس رکھنا جو لوگ دوستوں کے لئے رکھتے ہیں۔ بارِش اور سورج کی کرنوں کی طرح راست اور ناراست دونوں قسم کے لوگوں تک پہنچنا۔ قابلِ نفرت لوگوں کی ایسے خدمت کرنا جیسے لوگ دِل کشی اور دِل فریب لوگوں کی کرتے ہیں۔ ہر وقت یکساں رہنا، خوش خیالی، ترنگ اور مزاج کی کیفیت (موڈ) کے تابع نہ ہونا، برداشت کئے جانا، بُرائی کا خیال نہ کرنا، سچائی پر شادمان ہونا، سب باتوں کا یقین کرنا، سب باتوں کی اُمید رکھنا، کسی سے دست بردار نہ ہونا، یہ ہے محبت۔ یہ محبت روح القدس کی تاثیر کا نتیجہ ہے۔ ہم اپنے زور اور اپنی ہمت سے یہ محبت حاصل نہیں کر سکتے۔»
ایسی محبت ناقابلِ شکست ہوتی ہے کوئی چیز اِس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دُنیا اُس شخص پر تو فتح پا سکتی ہے جو پلٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ (دُنیا وحشیانہ جنگ اور اِنتقام اور جوابی حملوں کی عادی ہے) ، مگر اُس شخص کا مقابلہ کرنا نہیں جانتی جو ہر زیادتی کا جواب دعائے خیر سے دیتا ہے۔ یہ سلوک اور برتاؤ کسی اَور ہی دُنیا سے آتا ہے اور یہ دُنیا اِس کے مقابلے میں بالکل حیران اور پریشان ہو جاتی ہے۔
۶:۲۹ ب-۳۱ اِس محبت سے «چوغہ» چھین لیا جائے تو اپنا «کُرتہ» بھی پیش کر دیتی ہے۔ وہ کسی ضرورت مند سے منہ نہیں موڑتی۔ اگر اِس کا مال و متاع ظلم اور نااِنصافی سے چھین لیا جائے تو بھی واپسی کی درخواست نہیں کرتی۔ اِس کا اصولِ زرّیں یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ اُسی مہربانی اور رواداری کا سلوک کیا جائے جس سلوک کی ہم خود توقع کرتے ہیں۔
۶:۳۲-۳۴ غیر نجات یافتہ لوگ صرف «اپنے محبت رکھنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔» یہ فطری سلوک ہے اور اِتنا عام ہے کہ غیر نجات یافتہ لوگوں کی دُنیا پر اِس کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ بینک اور قرض دینے والی کمپنیاں اِس اُمید پر قرض دیتی ہیں کہ سود سمیت وصول ہو جائے گا۔ اِس کے لئے اِلٰہی محبت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
۶:۳۵ اِسی وجہ سے یسوع نے دوبارہ کہا کہ «اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور بھلا کرو اور بغیر نااُمید ہوئے قرض دو۔» یہ کردار نمایاں اور ممتاز طور پر مسیحی کردار ہے۔ یہ اُن کو ظاہر کرتا ہے جو «خدا تعالیٰ کے بیٹے» ہیں۔ بے شک اِس طریقے سے کوئی خدا کا بیٹا نہیں بنتا۔ اِس کے لئے ضرور ہے کہ یسوع مسیح کو خداوند اور نجات دہندہ مانا جائے (یوحنا ۱:۱۲) ۔ لیکن یہ طریقہ ہے جس سے سچے ایمان دار دُنیا پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہم «خدا تعالیٰ کے بیٹے» ہیں۔ خدا نے ہمارے ساتھ وہ سلوک کیا جس کا بیان آیات ۷۲-۳۵ میں ہے۔ «وہ ناشکروں اور بدوں پر بھی مہربان ہے۔» جب ہم اِس طرح کا کردار دِکھاتے ہیں تو اپنے خاندان سے مشابہت کا اِظہار کرتے اور ثابت کرتے ہیں کہ ہم نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں۔
۶:۳۶ «رحم دل» ہونے کا مطلب ہے کہ بدلہ لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود معاف کر دینا۔ باپ نے ہم پر یوں رحم کیا کہ جس سزا کے ہم مستحق ہیں، وہ ہمیں نہیں دی۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم دوسروں پر رحم کریں۔
۶:۳۷ دو باتیں ہیں جو محبت نہیں کرتی۔ «عیب جوئی» نہیں کرتی اور «مجرم» نہیں ٹھہراتی۔ یسوع نے فرمایا «عیب جوئی نہ کرو۔ تمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے گی۔» سب سے پہلے ہم لوگوں کی نیت اور اِرادے کی عیب جوئی نہ کریں۔ ہم کسی کے دل کو نہیں دیکھ سکتے۔ اِس لئے نہیں کہہ سکتے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے کیوں کرتا ہے۔ پھر ہمیں کسی دوسرے مسیحی کی خدمت یا مختاری کی عیب جوئی نہیں کرنی چاہئے (۱۔کرنتھیوں ۴:۱-۵) ۔ اِس طرح کی ہر بات میں فیصلہ کرنے والا خدا ہے۔ نکتہ چینی، تنقید کرنے اور عیب جوئی کرنے کی روح محبت کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔
البتہ چند باتیں ہیں جہاں مسیحیوں کو ضرور فیصلہ کرنا ہے۔ مثلاً یہ دیکھنا اور جانچنا چاہئے کہ دوسرے لوگ سچے مسیحی ہیں یا نہیں، ورنہ ہم «ناہموار جوئے» (۲۔کرنتھیوں ۶:۱۴) کی کبھی پہچان نہیں کر سکتے۔ گھر میں ہو، یا جماعت میں ’گناہ‘ کی مذمت ضروری ہے یعنی ہم نیکی اور بدی کے درمیان اِمتیاز کریں لیکن نیتوں اور کردار پر حملہ نہ کریں۔
«خلاصی دو۔ تم بھی خلاصی پاؤ گے۔» ہمارے معافی پانے کا اِنحصار ہمارے معاف کرنے پر ہے۔ لیکن کلام کے دوسرے حوالوں سے تعلیم ملتی ہے کہ جب ہم مسیح پر ایمان لاتے ہیں تو غیر مشروط اور مفت معافی حاصل کرتے ہیں۔ اِس بظاہر تضاد کا کیا حل ہے؟ تشریح یہ ہے کہ یہاں دو مختلف قسم کی معافیوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ عدالتی معافی اور پدرانہ معافی۔ عدالتی معافی وہ ہے جو منصف خدا اُن سب کو دیتا ہے جو خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ گناہ کی سزا مسیح نے اُٹھا لی ہے۔ اب ایمان لانے والے گنہگار کو وہ سزا نہیں اُٹھانی پڑے گی۔ یہ معافی غیر مشروط ہوتی ہے۔
«پدرانہ معافی۔» یہ معافی خدا باپ اپنے خطاکار فرزند کو اُس وقت عطا کرتا ہے جب وہ اپنے گناہ کا اِقرار کر کے اُسے ترک کرتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں خدا کے خاندان میں بحالی ہو جاتی ہے۔ اِس کا گناہ کی سزا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ باپ کی حیثیت میں خدا ہمیں اُس وقت معاف نہیں کر سکتا جب ہم ایک دوسرے کو معاف نہیں کرتے۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا اور نہ اُن لوگوں کے ساتھ رفاقت رکھ سکتا ہے جو ایسا کرتے ہیں۔ جب یسوع نے کہا کہ «تم بھی خلاصی پاؤ گے» تو وہ اِس پدرانہ معافی کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔
۶:۳۸ محبت اپنا اِظہار دینے کے ذریعے سے کرتی ہے (یوحنا ۳:۱۶؛ اِفسیوں ۵:۲۵) ۔ مسیحی خدمت اخراجات کی خدمت ہے۔ جو فراخ دلی سے دیتے ہیں، اُن کو اجر بھی فراخ دلی سے دیا جاتا ہے۔ یہاں تصویر ایک ایسے بیج بونے والے آدمی کی ہے جو اپنی جھولی میں بیج ڈال کر کھیت میں بکھیرنے جاتا ہے۔ وہ جتنے وسیع تر رقبے میں بیج بکھیرے گا اُتنی ہی زیادہ فصل ہو گی۔ اِس کا اجر یہ ہے کہ «اچھا پیمانہ داب داب کر اور ہلا ہلا کر اور لبریز کر کے… (اُس کے) پَلّے میں» (ڈالا جاتا ہے) ۔ وہ اُس گٹھڑی نما پوٹلی کو اُٹھاتا ہے جو سینے کے ساتھ لگ جاتی ہے۔ یہ تو زندگی کا ایک حتمی اصول ہے کہ ہم جو بوتے ہیں سو کاٹتے ہیں، یعنی ہمارے اعمال ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جس پیمانے سے ہم دوسروں کے لئے ناپتے ہیں اُسی سے ہمارے لئے ناپا جاتا ہے۔ اگر ہم مادی چیزیں بوئیں گے تو بے قیاس روحانی خزانہ کاٹیں گے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو چیز ہم بچا بچا کر رکھتے ہیں اُسے کھو دیتے ہیں۔ اور جو چیز دے دیتے ہیں، وہ حاصل کرتے ہیں۔
ط۔ اَندھے ریاکار کی تمثیل (۶:۳۹-۴۵)
۶:۳۹ گذشتہ حصے میں خداوند یسوع نے سکھایا کہ شاگردوں کی خدمت «دینے» کی خدمت ہو گی۔ یہاں وہ خبردار کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے کس قدر باعث ِبرکت ہو سکتے ہیں۔ اِس کا اِنحصار اُن کی اپنی روحانی حالت پر ہے۔ «اندھا اندھے کو راہ نہیں دِکھا سکتا کیونکہ دونوں گڑھے میں گریں گے۔» ہم وہ چیز نہیں دے سکتے جو خود ہمارے پاس نہ ہو۔ اگر ہم خدا کے کلام کی سچائیوں کے بارے میں خود اندھے ہیں تو اُنہیں سمجھنے میں ہم کسی دوسرے کی مدد نہیں کر سکتے۔ اگر ہماری روحانی زندگی ناقص ہے تو یقین رکھیں کہ ہم سے سیکھنے والوں کی زندگیاں بھی ناقص ہی رہیں گی۔
۶:۴۰ «شاگرد اپنے اُستاد سے بڑا نہیں، بلکہ ہر ایک جب کامل ہوا تو اپنے اُستاد جیسا ہو گا۔» کوئی شخص وہ بات نہیں سکھا سکتا جو خود نہ جانتا ہو۔ وہ اپنے شاگردوں کو اُس سطح سے بلند نہیں اُٹھا سکتا جس سطح پر وہ خود ہوتا ہے۔ جتنا وہ اُن کو سکھاتا ہے اُتنا ہی وہ اُس یعنی اُستاد کی مانند ہوتے جاتے ہیں۔ جس مرحلے تک اُستاد خود ترقی کر چکا ہے وہاں تک ہی وہ اپنے شاگردوں کو لے جا سکتا ہے۔ ایک شاگرد اُس وقت «کامل» ہوتا ہے جب اپنے اُستاد جیسا ہو جائے۔ اُستاد کے عقیدے یا زندگی میں جو خامیاں ہوں گی وہ اُس کے شاگردوں کی زندگیوں میں منتقل ہو جائیں گی۔ اور جب تعلیم دینے کا عمل پورا ہو جائے گا تو توقع نہیں کی جا سکتی کہ شاگرد اپنے اُستاد سے بلند تر ہو گا۔
۶:۴۱،۴۲ اِس اہم سچائی کی مزید وضاحت «تنکے» اور «شہتیر» کی مثال سے کی گئی ہے۔ ایک دن یوں ہوا کہ ایک آدمی کھلیان کے قریب سے گزر رہا تھا۔ وہاں اناج کی اُڑائی (ہوا کی مدد سے دانوں اور بھوسے کو الگ الگ کرنے کا عمل) ہو رہی تھی۔ ہوا کے جھونکے سے تنکا اُڑ کر اچانک اُس آدمی کی آنکھ میں پڑ گیا۔ وہ اِس تکلیف دِہ چیز سے چھٹکارا پانے کے لئے آنکھ کو مَلتا ہے۔ مگر جتنا مَلتا ہے تکلیف اُتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ عین اُس وقت ایک اَور آدمی وہاں آ جاتا ہے۔ وہ پہلے آدمی کی تکلیف دیکھ کر مدد کرنے کی پیش کش کرتا ہے۔ مگر اُس دوسرے آدمی کی اپنی آنکھ سے شہتیر کا ایک سرا باہر جھانک رہا ہے۔ وہ کیا مدد کرے گا! وہ تو خود نہیں دیکھ سکتا۔ اِس مثال میں جو سبق ہے صاف نظر آ رہا ہے کہ ایک اُستاد اپنے شاگردوں کی زندگیوں کے ایسے داغوں یا خامیوں کی نشان دہی نہیں کر سکتا جیسے داغ یا خامیاں نمایاں طور پر اُس کی اپنی زندگی میں ہوں۔ اگر ہمیں دوسروں کی مدد کرنا ہے تو ہماری اپنی زندگیاں نمونہ ہونی چاہئیں۔ ورنہ لوگ کہیں گے «اے طبیب! اپنا علاج کر!»
۶:۴۳-۴۵ چوتھی مثال جو خداوند نے استعمال کی وہ «درخت» اور «پھل» کی مثال ہے۔ درخت کے پھل کے «اچھے» یا «بُرے» ہونے کا اِنحصار اِس بات پر ہے کہ وہ درخت خود کیسا ہے۔ ہم درخت کا اندازہ یا فیصلہ اُس کے پھل کی قسم اور خوبی سے کرتے ہیں۔ یہی حال شاگردیت کے میدان کا ہے۔ جو شخص اخلاق میں پاکیزہ اور روحانی لحاظ سے صحت مند ہے، وہ «اپنے دل کے اچھے خزانہ» سے دوسروں کے لئے برکتیں نکالتا ہے۔ اِس کے برعکس جو شخص بنیادی طور پر «ناپاک» ہے وہ «برائی» ہی پیدا کرتا ہے۔
چنانچہ آیات ۳۹-۴۵ میں خداوند اپنے شاگردوں کو بتاتا ہے کہ تمہاری خدمت کردار کی خدمت ہو گی۔ جو کچھ وہ کہتے یا کرتے ہیں، اُس سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ وہ خود کیا ہیں۔ اُن کی خدمت کے آخری نتیجے کا فیصلہ اِس حقیقت سے ہو گا کہ وہ خود کیا ہیں۔
ی۔ خداوند فرماں برداری کا مطالبہ کرتا ہے (۶:۴۶-۴۹)
۶:۴۶ «جب تم میرے کہنے پر عمل نہیں کرتے تو کیوں مجھے خداوند خداوند کہتے ہو؟» لفظ «خداوند» کا مطلب ہے «مالک»۔ مطلب یہ ہے کہ اُسے ہماری زندگیوں پر مکمل اِختیار حاصل ہے۔ وہ ہمارا مالک ہے اور ہم اُس کی ملکیت ہیں۔ چنانچہ ہمارا فرض ہے کہ جو کچھ وہ کہے ہم کریں۔ اُسے «خداوند» کہہ کر پکارنا اور پھر اُس کی فرماں برداری کرنے سے اِنکار کرنا مضحکہ خیز قسم کا تضاد ہے۔ اُس کی خداوندیت کا صرف اِقرار کرنا کافی نہیں۔ حقیقی ایمان اور محبت اِس میں ہے کہ فرماں برداری کی جائے۔ اگر ہم اُس کے کہنے پر عمل نہیں کرتے تو دراصل نہ اُس سے محبت رکھتے نہ اُس پر ایمان رکھتے ہیں۔
’تم مجھے «راہ» کہتے ہو، مگر مجھ پر چلتے نہیں۔
تم مجھے «زندگی» کہتے ہو، مگر مجھے بسر نہیں کرتے۔
تم مجھے «مالک» کہتے ہو، مگر میری مانتے نہیں۔
اگر مَیں تمہاری مذمت کروں، تو مجھے الزام نہ دینا۔
تم مجھے «روٹی» کہتے ہو، مگر مجھے کھاتے نہیں۔
تم مجھے «حق» کہتے ہو، مگر میرا یقین نہیں کرتے۔
تم مجھے «خداوند» کہتے ہو، مگر میری عبادت نہیں کرتے۔
اگر مَیں تمہاری مذمت کروں تو مجھے الزام نہ دینا۔»
(جیفری اوہارا۔ Geoffrey O’Hara)
۶:۴۷-۴۹ اِس اہم حقیقت پر مزید زور دینے کے لئے خداوند نے گھر بنانے والے دو آدمیوں کی کہانی سنائی۔ ہم اکثر اِس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ عقل مند آدمی وہ ہے جو ایمان لا کر نجات پاتا ہے۔ اور بے وقوف آدمی وہ ہے جو مسیح کو ردّ کر کے ہلاک ہو جاتا ہے۔ بے شک یہ اطلاق مناسب اور صحیح ہے۔ لیکن اگر اِس کہانی کی تشریح سیاق و سباق کے مطابق کی جائے تو اِس کا گہرا مطلب سامنے آتا ہے۔
عقل مند آدمی وہ ہے جو مسیح (نجات) کے «پاس آتا،» اُس کی «باتیں» (ہدایات) سن کر اُن پر «عمل کرتا» یعنی فرماں برداری کرتا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جو اپنی زندگی کی تعمیر اُن مسیحی اصولوں پر کرتا ہے جو اِس باب میں بیان ہوئے ہیں۔ زندگی کی تعمیر کرنے کا یہی طریقہ درست ہے۔ جب سیلاب اور ندیاں ایسے گھر (زندگی) کو ٹکریں مارتی ہیں تو وہ مضبوط کھڑا رہتا ہے۔ اِس لئے کہ اُس کی بنیاد «چٹان» یعنی مسیح اور اُس کی تعلیمات پر رکھی گئی ہے۔
بے وقوف آدمی وہ ہے جو مسیح کی «باتیں» سنتا ہے مگر اُن پر چلتا نہیں۔ وہ اپنی زندگی کی تعمیر اُن باتوں پر کرتا ہے جو اُس کی اپنی نظر میں عمدہ معلوم ہوتی ہیں۔ وہ اِس دُنیا کے جسمانی اصولوں کی پیروی کرتا ہے۔ جب زندگی کے طوفان اور جھکّڑ چلنے لگتے ہیں تو یہ «بے بنیاد» گھر بہہ جاتا اور «برباد» ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے اُس کی جان بچ جائے لیکن زندگی برباد ہو جاتی ہے۔
عقل مند آدمی وہ ہے جو غریب ہے، جو بھوکا ہے، جو روتا اور ماتم کرتا ہے اور جو ستایا جاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ ابنِ آدم کی خاطر ہوتا ہے۔ دُنیا ایسے شخص کو بے وقوف کہتی ہے مگر یسوع اُسے عقل مند کہتا ہے۔
بے وقوف آدمی وہ ہے جو دولت مند ہے، جو مرغن ضیافتیں اُڑاتا ہے، جو عیش و عشرت کی زندگی گزارتا ہے اور جو سب لوگوں میں ہر دل عزیز ہے۔ دُنیا اُس کو عقل مند کہتی ہے، لیکن یسوع اُسے بے وقوف کہتا ہے۔
مقدس کتاب
۱- جب بِھیڑ اُس پر گِری پڑتی تھی اور خُدا کا کلام سُنتی تھی اور وہ گنّیسرؔت کی جِھیل کے کنارے کھڑا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ
۲- اُس نے جِھیل کے کنارے دو کشتِیاں لگی دیکِھیں لیکن مچھلی پکڑنے والے اُن پر سے اُتر کر جال دھو رہے تھے۔
۳- اور اُس نے اُن کشتِیوں میں سے ایک پر چڑھ کر جو شمعُوؔن کی تھی اُس سے درخواست کی کہ کنارے سے ذرا ہٹا لے چل اور وہ بَیٹھ کر لوگوں کو کشتی پر سے تعلِیم دینے لگا۔
۴- جب کلام کر چُکا تو شمعُوؔن سے کہا گہرے میں لے چل اور تُم شِکار کے لِئے اپنے جال ڈالو۔
۵- شمعُوؔن نے جواب میں کہا اَے اُستاد ہم نے رات بھر محنت کی اور کُچھ ہاتھ نہ آیا مگر تیرے کہنے سے جال ڈالتا ہُوں۔
۶- یہ کِیا اور وہ مچھلِیوں کا بڑا غَول گھیر لائے اور اُن کے جال پھٹنے لگے۔
۷- اور اُنہوں نے اپنے شرِیکوں کو جو دُوسری کشتی پر تھے اِشارہ کِیا کہ آؤ ہماری مدد کرو۔ پس اُنہوں نے آ کر دونوں کشتِیاں یہاں تک بھر دیں کہ ڈُوبنے لگِیں۔
۸- شمعُوؔن پطرس یہ دیکھ کر یِسُوعؔ کے پاؤں میں گِرا اور کہا اَے خُداوند! میرے پاس سے چلا جا کیونکہ مَیں گُنہگار آدمی ہُوں۔
۹- کیونکہ مچھلِیوں کے اِس شِکار سے جو اُنہوں نے کِیا وہ اور اُس کے سب ساتھی بُہت حَیران ہُوئے۔
۱۰- اور وَیسے ہی زبدؔی کے بیٹے یعقُوبؔ اور یُوحنّا بھی جو شمعُوؔن کے شرِیک تھے حَیران ہُوئے۔ یِسُوعؔ نے شمعُوؔن سے کہا خَوف نہ کر۔ اب سے تُو آدمِیوں کا شِکار کِیا کرے گا۔
۱۱- وہ کشتِیوں کو کنارے پر لے آئے اور سب کُچھ چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لِئے۔
۱۲- جب وہ ایک شہر میں تھا تو دیکھو کوڑھ سے بھرا ہُؤا ایک آدَمی یِسُوعؔ کو دیکھ کر مُنہ کے بَل گِرا اور اُس کی مِنّت کر کے کہنے لگا اَے خُداوند! اگر تُو چاہے تو مُجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔
۱۳- اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چُھؤا اور کہا مَیں چاہتا ہُوں۔ تُو پاک صاف ہو جا اور فوراً اُس کا کوڑھ جاتا رہا۔
۱۴- اور اُس نے اُسے تاکِید کی کہ کِسی سے نہ کہنا بلکہ جا کر اپنے تئیں کاہِن کو دِکھا اور جَیسا مُوسیٰ نے مُقرّر کِیا ہے اپنے پاک صاف ہو جانے کی بابت نذر گُذران تاکہ اُن کے لِئے گواہی ہو۔
۱۵- لیکن اُس کا چرچا زِیادہ پَھیلا اور بُہت سے لوگ جمع ہُوئے کہ اُس کی سُنیں اور اپنی بِیمارِیوں سے شِفا پائیں۔
۱۶- مگر وہ جنگلوں میں الگ جا کر دُعا کِیا کرتا تھا۔
۱۷- اور ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ تعلِیم دے رہا تھا اور فرِیسی اور شرع کے مُعلِّم وہاں بَیٹھے تھے جو گلِیل کے ہر گاؤں اور یہُودیہ اور یروشلِیم سے آئے تھے اور خُداوند کی قُدرت شِفا بخشنے کو اُس کے ساتھ تھی۔
۱۸- اور دیکھو کئی مَرد ایک آدَمی کو جو مفلُوج تھا چارپائی پر لائے اور کوشِش کی کہ اُسے اندر لا کر اُس کے آگے رکھّیں۔
۱۹- اور جب بِھیڑ کے سبب سے اُس کو اندر لے جانے کی راہ نہ پائی تو کوٹھے پر چڑھ کر کھپریل میں سے اُس کو کھٹولے سمیت بِیچ میں یِسُوعؔ کے سامنے اُتار دِیا۔
۲۰- اُس نے اُن کا اِیمان دیکھ کر کہا کہ اَے آدمی! تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔
۲۱- اِس پر فقِیہہ اور فریسی سوچنے لگے کہ یہ کَون ہے جو کُفر بَکتا ہے؟ خُدا کے سِوا اَور کَون گُناہ مُعاف کر سکتا ہے؟
۲۲- یِسُوعؔ نے اُن کے خیالوں کو معلُوم کر کے جواب میں اُن سے کہا تُم اپنے دِلوں میں کیا سوچتے ہو؟
۲۳- آسان کیا ہے؟ یہ کہنا کہ تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے یا یہ کہنا کہ اُٹھ اور چل پِھر؟
۲۴- لیکن اِس لِئے کہ تُم جانو کہ اِبنِ آدمؔ کو زمِین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے (اُس نے مَفلُوج سے کہا) مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ اور اپنا کھٹولا اُٹھا کر اپنے گھر جا۔
۲۵- اور وہ اُسی دَم اُن کے سامنے اُٹھا اور جِس پر پڑا تھا اُسے اُٹھا کر خُدا کی تمجِید کرتا ہُؤا اپنے گھر چلا گیا۔
۲۶- وہ سب کے سب بڑے حَیران ہُوئے اور خُدا کی تمجِید کرنے لگے اور بُہت ڈر گئے اور کہنے لگے کہ آج ہم نے عجِیب باتیں دیکِھیں۔
۲۷- اِن باتوں کے بعد وہ باہر گیا اور لاوؔی نام ایک محصُول لینے والے کو محصُول کی چَوکی پر بَیٹھے دیکھا اور اُس سے کہا میرے پِیچھے ہو لے۔
۲۸- وہ سب کُچھ چھوڑ کر اُٹھا اور اُس کے پِیچھے ہو لِیا۔
۲۹- پِھر لاوؔی نے اپنے گھر میں اُس کی بڑی ضِیافت کی اور محصُول لینے والوں اور اَوروں کا جو اُن کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے تھے بڑا مَجمع تھا۔
۳۰- اور فریسی اور اُن کے فقِیہہ اُس کے شاگِردوں سے یہ کہہ کر بُڑبُڑانے لگے کہ تُم کیوں محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کے ساتھ کھاتے پیتے ہو؟
۳۱- یِسُوعؔ نے جواب میں اُن سے کہا کہ تندرُستوں کو طبِیب کی ضرُورت نہیں بلکہ بِیماروں کو۔
۳۲- مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گُنہگاروں کو تَوبہ کے لِئے بُلانے آیا ہُوں۔
۳۳- اور اُنہوں نے اُس سے کہا کہ یُوحنّا کے شاگِرد اکثر روزہ رکھتے اور دُعائیں کِیا کرتے ہیں اور اِسی طرح فریسیوں کے بھی مگر تیرے شاگِرد کھاتے پِیتے ہیں۔
۳۴- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا کیا تُم براتِیوں سے جب تک دُلہا اُن کے ساتھ ہے روزہ رکھوا سکتے ہو؟
۳۵- مگر وہ دِن آئیں گے اور جب دُلہا اُن سے جُدا کِیا جائے گا تب اُن دِنوں میں وہ روزہ رکھّیں گے۔
۳۶- اور اُس نے اُن سے ایک تمثِیل بھی کہی کہ کوئی آدَمی نئی پوشاک میں سے پھاڑ کر پُرانی پوشاک میں پَیوند نہیں لگاتا ورنہ نئی بھی پھٹے گی اور اُس کا پَیوند پُرانی میں میل بھی نہ کھائے گا۔
۳۷- اور کوئی شخص نئی مَے پُرانی مَشکوں میں نہیں بھرتا نہیں تو نئی مَے مَشکوں کو پھاڑ کر خُود بھی بہ جائے گی اور مَشکیں بھی برباد ہو جائیں گی۔
۳۸- بلکہ نئی مَے نئی مَشکوں میں بھرنا چاہئے۔
۳۹- اور کوئی آدمی پُرانی مَے پی کر نئی کی خَواہِش نہیں کرتا کیونکہ کہتا ہے کہ پُرانی ہی اچھّی ہے۔