۳۔ ابنِ آدم خدمت کے لئے تیاری کرتا ہے (۳:۱-۴:۳۰)
الف۔ اُس کے پیش رَو کی طرف سے تیاری (۳:۱-۲۰)
۳:۱،۲ لوقا ایک مورِّخ ہے۔ وہ اُس «برس» کی نشان دہی کرتا ہے جب یوحنا نے منادی کرنا شروع کی۔ وہ اُن سیاسی اور مذہبی لیڈروں کے نام گنواتا ہے جو اُن دِنوں برسرِاقتدار تھے۔ اُن میں سے ایک شہنشاہ (قیصر) ایک گورنر اور تین «چوتھائی ملک کے حاکم» اور دو «سردار کاہن» تھے۔ اِن سیاسی حاکموں کے نام اُس آہنی گرفت کو ظاہر کرتے ہیں جس سے اِسرائیلی قوم کو ماتحت رکھا جاتا تھا۔ یہ حقیقت کہ اُس وقت بنی اِسرائیل میں دو سردار کاہن تھے ظاہر کرتی ہے کہ قوم مذہبی اور سیاسی دونوں لحاظ سے بدنظمی کا شکار تھی۔ اگرچہ یہ لیڈر دُنیا کی نظر میں عظیم لوگ تھے، لیکن خدا کی نظر میں شریر، بے ایمان اور ظالم تھے۔ اِس لئے جب اُس نے لوگوں سے بات کرنا چاہی، تو سیاسی اور دینی راہنماؤں کو ایک طرف چھوڑا اور اپنا پیغام «بیابان میں زکریاہ کے بیٹے یوحنا پر نازل» کیا۔
۳:۳ یوحنا فوراً «یردن کے سارے گرد و نواح میں جا کر»… منادی کرنے لگا۔ غالباً یہ یریحو کے آس پاس کا علاقہ تھا۔ وہاں اُس نے اِسرائیلی قوم کو چیلنج کیا کہ گناہوں سے توبہ کرو تاکہ معافی پاؤ اور اِس طرح مسیحِ موعود کی آمد کے لئے تیار ہو جاؤ۔ وہ یہ منادی بھی کرتا تھا کہ بپتسمہ لو۔ یہ ظاہری نشان تھا کہ اُنہوں نے واقعی توبہ — سچی توبہ —کی ہے۔ یوحنا سچا نبی تھا۔ وہ مجسم ضمیر تھا۔ گناہ کے خلاف للکارتا اور روحانی بیداری اور بحالی کی طرف بلاتا تھا۔
۳:۴ اُس کی خدمت «یسعیاہ» (۴۰:۳-۵) کی نبوت کی تکمیل تھی۔ وہ «بیابان میں پکارنے والے کی آواز» تھا۔ روحانی معنوں میں اُس وقت اِسرائیل «بیابان» تھا۔ قومی لحاظ سے بنجر اور بے رونق تھا۔ خدا کے لئے کوئی پھل پیدا نہیں کر رہا تھا۔ خداوند کی آمد کے لئے تیار ہونے کے لئے لوگوں کو اخلاقی تبدیلی کی ضرورت تھی۔ اگر کسی بادشاہ نے شاہی دَورے پر آنا ہوتا تھا تو اُس زمانے میں زبردست تیاریاں کی جاتی تھیں۔ شاہراہ کو ہموار اور سیدھا کیا جاتا تھا۔ یوحنا بھی لوگوں کو یہی کچھ کرنے کو کہتا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اَب زمینی شاہراہوں کی مرمت نہیں کرنا تھی، بلکہ مسیحِ موعود کو قبول کرنے کے لئے اپنے دلوں کو تیار کرنا تھا۔
۳:۵ مسیح کی آمد کے کیا اثرات ہوں گے، اُن کا بیان یہ ہے:
| ۱۔ | «ہر ایک گھاٹی بھر دی جائے گی۔» | جو لوگ دل سے خاکسار ہو کر توبہ کریں گے، وہ نجات پائیں گے اور آسودہ کئے جائیں گے۔ |
| ۲۔ | «ہر ایک پہاڑ اور ٹِیلا نیچا کیا جائے گا۔» | جو لوگ فریسیوں اور فقیہوں کی طرح متکبر اور سرکش ہوں گے، اُن کو پست کیا جائے گا۔ |
| ۳۔ | «اور جو ٹیڑھا ہے سیدھا… بنے گا۔» | جو لوگ بددیانت ہیں، جیسے محصول لینے والے، اُن کے کردار سیدھے کئے جائیں گے۔ |
| ۴۔ | «اور جو اُونچا نیچا ہے ہموار راستہ بنے گا۔» | سپاہی اور دوسرے لوگ اکھڑ مزاج اور بدمزاج ہیں، وہ نرم مزاج اور خوش اخلاق بنیں گے۔ |
۳:۶ «اور ہر بشر خدا کی نجات دیکھے گا۔» «ہر بشر» میں یہودی اور غیر اقوام سب شامل ہیں۔ خداوند کی پہلی آمد کے موقعے پر نجات کی دعوت «ہر بشر» کو دی گئی، لیکن سب نے اُسے قبول نہیں کیا۔ جب وہ بادشاہی کرنے کو دوبارہ آئے گا تو یہ آیت پورے طور پر پایۂ تکمیل کو پہنچے گی۔ اُس وقت سارے بنی اِسرائیل نجات پائیں گے اور غیر قومیں بھی اُس کی جلالی بادشاہی کی برکات میں حصہ دار ہوں گی۔
۳:۷ بہت سے لوگ بپتسمہ لینے کے لئے یوحنا کے پاس آتے تھے۔ اُسے معلوم تھا کہ یہ سب مخلص نہیں بعض تو صرف دِکھاوا کرتے تھے۔ اُن کو راست بازی کے لئے سچی بھوک پیاس نہیں تھی۔ یہ لوگ تھے جن کو یوحنا نے «اے سانپ کے بچو!» کہہ کر مخاطب کیا اور پوچھا کہ «تمہیں کس نے جتایا کہ آنے والے غضب سے بھاگو۔» اِس سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوحنا نے اُنہیں نہیں جتایا تھا۔ اُس کا پیغام اُن لوگوں کے لئے تھا جو اپنے گناہوں کا اِقرار کرنے پر آمادہ تھے۔
۳:۸ اگر وہ خدا کے ساتھ معاملہ سیدھا کرنے کا واقعی اِرادہ رکھتے ہیں تو ثابت کریں کہ ہم نے واقعی توبہ کر لی ہے۔ وہ اپنی تبدیل شدہ اور نئی زندگی سے ظاہر کریں کہ ہماری توبہ سچی ہے۔ سچی توبہ سے پھل پیدا ہوتا ہے۔ یہ نہ سوچیں کہ ہمارا ابرہام کی نسل سے ہونا ہی کافی ہے۔ کوئی شخص کسی خدا پرست شخص کا رِشتہ دار ہونے سے خود خدا پرست شمار نہیں کیا جا سکتا۔
خدا اپنا مقصد پورا کرنے کے لئے ابرہام کی جسمانی اولاد یا نسل تک محدود نہیں ہے۔ وہ دریائے یردن کے کنارے کے «پتھروں سے ابرہام کے لئے اولاد پیدا کر سکتا ہے۔» یہاں «پتھر» غالباً غیر قوموں کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ خدا اپنے معجزانہ فضل سے اُن غیر قوموں کو تبدیل کر سکتا ہے اور اُن کے اندر ابرہام جیسا ایمان پیدا کر سکتا ہے۔ اور بعینہٖ ایسا ہی ہوا۔ اُس قوم نے جو جسمانی لحاظ سے ابرہام کی اولاد تھی، خدا کے مسیح کو ردّ کر دیا۔ لیکن بہت سے غیر قوم افراد نے اُسے اپنا نجات دہندہ اور خداوند قبول کیا اور یوں ابرہام کی روحانی اولاد بن گئے۔
۳:۹ «اور اَب تو درختوں کی جڑ پر کلہاڑا رکھا ہے۔» یہ تمثیلی اندازِ بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسیح کی آمد سے اِنسانوں کی توبہ کا امتحان ہو گا۔ جو افراد «توبہ کے موافق پھل» نہیں لائیں گے وہ سزا پائیں گے۔
«یوحنا کے الفاظ اُس کے منہ سے تلوار کی طرح نکلتے تھے۔ ’سانپ کے بچو‘۔ ’آنے والا غضب‘۔ ’کلہاڑا‘۔ ’کاٹا‘۔ ’آگ میں ڈالا جاتا‘ – خداوند کے نبی کبھی نرم گفتار نہیں ہوتے تھے۔ وہ ہر وقت اخلاق کے اُونچے معیار کا مطالبہ کرتے تھے۔ اور اکثر اُن کے الفاظ لوگوں پر ایسے برستے تھے جیسے ہمارے آبا و اجداد کے جنگی کلہاڑے دشمنوں کے خودوں پر برسا کرتے تھے۔» (Scripture Union Daily Notes)
۳:۱۰ ضمیر اور قائلیت کے کچوکوں سے مجبور ہو کر «لوگوں نے اُس سے پوچھا» کہ ہم اپنی توبہ کی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے عملی طور سے کیا کریں؟
۳:۱۱-۱۴ اِن آیات میں یوحنا وضاحت سے وہ طریقے بتاتا ہے جن سے لوگ اپنے اخلاص اور نیت کی صفائی کا ثبوت دے سکتے تھے۔ عام بات تو یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھیں۔ اور اپنے کپڑوں اور کھانے میں غریبوں کو بھی شریک کریں۔
جہاں تک «محصول لینے والوں» کا تعلق ہے تو اُن کو چاہئے کہ اپنے سارے معاملات میں سختی سے دیانت دار اور ایمان دار رہیں۔ چونکہ مجموعی طور پر وہ شرارت کے لئے سخت بدنام تھے، اُن کا یہ رویہ اور عمل اُن کی نیک نیتی کا حقیقی اور پکا ثبوت ہو گا۔
آخر میں «سپاہیوں» کو نصیحت کی گئی کہ اُن تین گناہوں سے بچیں جن میں فوجی اکثر مبتلا ہوتے ہیں۔ یعنی ظلم کرنا، ناحق مال ہتھیانا اور اپنی تنخواہ پر قناعت نہ کرنا۔ یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ لوگ اِن کاموں کی بنا پر نجات نہیں پاتے تھے بلکہ یہ خارجی اور ظاہری ثبوت تھے کہ اِن لوگوں کے دل خدا کے ساتھ واقعی سیدھے ہیں۔
۳:۱۵،۱۶ الف یوحنا کی کسرِنفسی نہایت نمایاں اور قابلِ تعریف ہے۔ کم سے کم تھوڑی دیر کے لئے وہ کہہ سکتا تھا کہ مَیں مسیحِ موعود ہوں۔ اور اِس طرح بڑے بڑے ہجوم اپنے گرد جمع کر سکتا تھا۔ لیکن وہ مسیحِ موعود ہونے کا صاف اِنکار کرتا ہے۔ وہ وضاحت کرتا ہے کہ میرا بپتسمہ ظاہری اور جسمانی ہے جب کہ مسیح کا بپتسمہ باطنی اور روحانی ہو گا۔ وہ پکار کر کہتا ہے کہ «مَیں اُس کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لائق نہیں۔»
۳:۱۶ب،۱۷ مسیح کا بپتسمہ «روح القدس اور آگ» سے ہو گا۔ اُس کی خدمت دُہری ہو گی۔ اوّل، وہ ایمان لانے والوں کو «روح القدس سے بپتسمہ دے گا۔» یہ اُس بات کا وعدہ ہے جو پنتکست کے دن وقوع پذیر ہو گی جب ایمان دار اِس بپتسمے سے مسیح کے بدن میں شامل ہوئے۔ دوم، «وہ… آگ سے بپتسمہ دے گا۔»
آیت ۱۷ سے واضح ہوتا ہے کہ آگ کا بپتسمہ عدالت (غضب) کا بپتسمہ ہے۔ یہاں خداوند کو گیہوں کو بھوسے سے الگ کرنے والے کے رُوپ میں پیش کیا گیا ہے۔ جب وہ چھاج کی مدد سے گیہوں کو ہوا میں اُچھالتا ہے تو بھوسی ہوا سے اُڑ کر ایک طرف جا پڑتی ہے مگر گیہوں کے دانے کھلیان میں جمع ہوتے ہیں۔ بعد میں بھوسے کو جمع کر کے جلا دیا جاتا ہے۔
یوحنا ملی جلی بھیڑ سے مخاطب تھا۔ اُس میں ایمان دار اور غیر ایمان دار دونوں شامل تھے۔ اِس لئے اُس نے روح القدس کے بپتسمہ اور آگ کے بپتسمہ دونوں (متی ۳:۱۱ بھی دیکھئے) کا ذکر کیا۔ لیکن جب وہ صرف ایمان داروں سے ہم کلام تھا (مرقس ۱:۵) تو اُس نے آگ کے بپتسمہ کا ذکر حذف کر دیا (مرقس ۱:۸) ۔ سچے ایمان دار کو آگ کے بپتسمے کا کبھی تجربہ نہیں ہو گا۔
۳:۱۸-۲۰ اب لوقا تیار ہے کہ توجہ کو یوحنا سے ہٹا کر یسوع پر مرکوز کر دے۔ اِس لئے وہ اِن آیات میں یوحنا کی باقی خدمت کا خلاصہ پیش کر کے ہمیں اُس وقت تک لے جاتا ہے جب ہیرودیس نے یوحنا کو قید میں ڈال دیا تھا۔ یوحنا کو قید میں ڈالنے کا واقعہ حقیقتاً کوئی اٹھارہ ماہ بعد پیش آیا تھا۔ یوحنا نے ہیرودیس کو اِس بات پر ملامت کی تھی کہ وہ اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اِس پر ہیرودیس نے اُسے قید میں ڈالا تھا۔ اُس کی یہ حرکت باقی سب شرارتوں اور اعمالِ بد سے بڑھ کر تھی۔
ب۔ بپتسمے کے ذریعے سے تیاری (۳:۲۱،۲۲)
اب یوحنا ہماری توجہ کے دائرے سے ہٹ جاتا اور یسوع نمایاں جگہ لے لیتا ہے۔ وہ اپنی علانیہ خدمت کا آغاز کوئی تیس برس کی عمر سے کرتا ہے۔ اُس وقت وہ دریائے یردن پر آ کر بپتسمہ لیتا ہے۔
اُس کے بپتسمہ کے بیان میں کئی دلچسپ نکات نظر آتے ہیں۔
- یہاں تثلیث کے تینوں اقانیم موجود ہیں۔ یسوع (آیت ۲۱) ، روح القدس (آیت ۲۲ الف) اور باپ (آیت ۲۲ ب) ۔
- صرف لوقا یہ بات قلم بند کرتا ہے کہ یسوع اُس موقع پر «دعا کر رہا تھا» (آیت ۲۱) ۔ یہ بات لوقا کے اِس مقصد سے مطابقت رکھتی ہے کہ یسوع کو ابنِ آدم کے طور پر پیش کیا جائے جو ہمیشہ خدا باپ پر اِنحصار کرتا رہا۔ اِس اِنجیل کا غالب موضوع مسیح کی دعائیہ زندگی ہے۔ یہاں اپنی علانیہ خدمت کے آغاز ہی میں وہ دعا مانگ رہا ہے۔ اُس نے اُس وقت بھی دعا مانگی جب اُس کی شہرت پھیل رہی تھی اور لوگ جوق در جوق اُس کے پاس جمع ہوتے تھے (۵:۱۶) ۔ بارہ شاگردوں کا اِنتخاب کرنے سے پہلے اُس نے ساری رات دعا میں گزاری (۶:۱۲) ۔ قیصریہ فلپی کے واقعے سے پہلے اُس نے دعا مانگی جو اُس کی تعلیمی خدمت کا نقطۂ عروج تھا (۹:۱۸) ۔ اُس نے اپنے شاگردوں کے سامنے دعا مانگی جس سے دعا کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی (۱۱:۱) ۔ اُس نے بے وفا ہو جانے والے پطرس کے لئے دعا مانگی (۲۲:۳۲) اور اُس نے گتسمنی باغ میں دعا مانگی (۲۲:۴۱،۴۴) ۔
- یسوع کا بپتسمہ اُن تین موقعوں میں سے ایک ہے جب اپنے پیارے بیٹے کی خدمت کے سلسلے میں خدا کی آسمان سے آواز سنائی دی۔ تیس سال سے خدا کی آنکھ ناصرت میں اُس بے نقص زندگی کی جانچ پڑتال کرتی آ رہی تھی۔ اب اُس نے فیصلہ صادر فرمایا کہ «تجھ سے مَیں خوش ہوں۔» دوسرے دو مواقع جب باپ علانیہ آسمان سے بولا یہ ہیں: (۱) جب یسوع اُس پہاڑ پرتھا جہاں اُس کی صورت جلالی ہو گئی تھی اور پطرس نے سفارش کی تھی کہ یہاں تین ڈیرے بنائے جائیں (لوقا ۵:۹۳) ۔ (۲) جب چند یونانی افراد فلپس کے پاس آئے تھے کہ ہم یسوع کو دیکھنا چاہتے ہیں (یوحنا ۱۲:۲۰-۲۸) ۔
ج۔ بشریت میں شراکت کے وسیلے سے تیاری (۳:۳۲-۲۸)
ہمارے خداوند کی علانیہ خدمت کا حال بیان کرنے سے پہلے لوقا ذرا رُک کر اُس کا شجرۂ نسب بیان کرتا ہے۔ اگر یسوع واقعی بشر ہے تو پھر اُس کو لازماً «آدم» کی نسل سے ہونا تھا۔ یہ نسب نامہ ثابت کرتا ہے کہ وہ آدم کی اولاد سے تھا۔ مفسروں کا عام خیال ہے کہ یسوع کا یہ نسب نامہ مریم کے سلسلے سے تعلق رکھتا ہے۔ غور کریں کہ آیت ۲۳ میں یہ نہیں کہا گیا کہ یسوع یوسف کا بیٹا تھا بلکہ یہ کہ «جیسا کہ سمجھا جاتا تھا (وہ) یوسف کا بیٹا تھا۔» اگر یہ نظریہ درست ہے تو «عیلی» (آیت ۲۳) یوسف کا سُسر اور مریم کا باپ تھا۔
علما کے اِس یقین کی کہ یسوع کا یہ نسب نامہ مریم کے سلسلے سے ہے وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
- یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ یوسف کا شجرۂ نسب متی کی اِنجیل میں دیا گیا ہے۔ (متی ۱:۲-۱۶)
- لوقا کی اِنجیل کے ابتدائی ابواب میں یوسف کی نسبت مریم زیادہ نمایاں ہے جب کہ متی میں معاملہ اِس کے برعکس ہے۔
- یہودیوں کے ہاں نسب ناموں میں عورتوں کے نام عموماً استعمال نہیں ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مریم کا نام حذف کیا گیا ہے۔
- متی ۱:۱۶ میں صاف لکھا ہے کہ «یعقوب سے یوسف پیدا ہوا» جب کہ یہاں لکھا ہے کہ یوسف عیلی کا بیٹا تھا۔ «بیٹا» کا مطلب «داماد» ہو سکتا ہے۔
- اصل زبان میں معین حرفِ عطف (tou) حالت ِاضافی (کا) میں استعمال ہوا ہے۔ وہ نسب نامہ میں ہر نام سے پہلے آتا ہے سوائے ایک نام کے اور وہ نام ہے «یوسف»۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یوسف کا نام صرف اِس وجہ سے شامل ہے کہ اُس کی شادی مریم سے ہوئی تھی۔
اگرچہ نسب نامہ کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری نہیں لیکن چند اہم نکات پر غور کرنا فائدہ مند ثابت ہو گا:
- یہ فہرست ثابت کرتی ہے کہ مریم داؤد کے بیٹے ناتن (آیت ۳۱) کی معرفت داؤد کی نسل سے تھی۔ متی کی اِنجیل میں یسوع سلیمان کی معرفت داؤد کے تخت کا قانونی وارث ٹھہرتا ہے۔
یوسف کا قانونی بیٹا ہونے کے باعث خداوند یسوع خدا کے عہد کے اُس حصے کی تکمیل کرتا ہے جس میں وعدہ کیا گیا ہے کہ تیرا تخت (یا بادشاہی) ہمیشہ تک قائم رہے گا۔ اگر یسوع یوسف کا حقیقی بیٹا ہوتا تو اُس پر بھی کونیاہ کی اُس لعنت کا اِطلاق ہوتا جو خدا کی طرف سے اُس پر تھی کہ «اُس کی اولاد میں سے کبھی کوئی ایسا اقبال مند نہ ہو گا کہ داؤد کے تخت پر بیٹھے گا» (یرمیاہ ۲۲:۳۰) اِس لئے کہ کونیاہ شریر بادشاہ ثابت ہوا تھا۔
مریم کا حقیقی بیٹا ہوتے ہوئے یسوع نے داؤد کے ساتھ خدا کے عہد کے اُس حصے کو پورا کیا جس کے تحت داؤد کی نسل میں تخت پر بیٹھنے والوں کی کمی نہ ہو گی۔ اور ناتن کے ذریعے داؤد کا بیٹا ہوتے ہوئے یسوع اُس لعنت کے ماتحت نہیں جو خدا نے کونیاہ کے بارے میں کہی تھی۔ - «آدم» کو یہاں «خدا کا» بتایا گیا ہے (آیت ۳۸) ۔ اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اُسے خدا نے خلق کیا تھا۔
- یہ بات تو صریحاً واضح ہے کہ مسیح کا سلسلۂ نسب خداوند یسوع پر ختم ہو گیا۔ اب کبھی کوئی شخص دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مَیں داؤد کے تخت کا قانونی وارث یا حق دار ہوں۔
د۔ آزمائش کے وسیلے سے تیاری (۴:۱-۱۳)
۴:۱ خداوند مسیح کی زندگی میں کبھی کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب وہ روح القدس سے بھرا ہوا نہیں تھا۔ لیکن یہاں اِس کی آزمائش کے سلسلے میں خصوصی طور سے اِس حقیقت کا ذکر آیا ہے۔ «روح القدس سے بھرا» ہونے سے مراد ہے اپنے آپ کو کامل طور سے روح القدس کے تابع کر دینا اور خدا کی ایک ایک بات کی کامل فرماں برداری کرنا۔ جو شخص روح القدس سے بھرا ہوتا ہے وہ معلومہ گناہ خودی سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ خدا کا کلام اُس کے اندر بھرپور سکونت کرتا ہے۔ جب یسوع «یردن سے لوٹا» جہاں اُس نے بپتسمہ لیا تھا تو روح اُسے جنگل میں لے گیا۔ غالباً یہ یہودیہ کا بیابان تھا جو بحیرۂ مردار کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔
۴:۲،۳ وہاں «چالیس دن تک… اِبلیس اُسے آزماتا رہا۔» اُن دنوں میں مسیح نے «کچھ نہ کھایا۔» چالیس دنوں کے اِختتام کے بعد اُس پر وہ سہ پہلو آزمائش آئی جس کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں۔ دراصل یہ آزمائش تین مختلف مقامات پر آئی۔ بیابان میں۔ پہاڑ پر۔ یروشلیم کی ہیکل میں۔ «اُسے بھوک لگی۔» یہ الفاظ یسوع کی بشریت کی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اِسی سے وہ پہلی آزمائش کا نشانہ بنایا گیا۔ آزمائش میں عیاری یہ تھی کہ روٹیاں بنانے کا عمل بالکل جائز تھا۔ لیکن اگر یسوع شیطان کے کہنے پر ایسا کرتا تو بالکل غلط بات ہوتی۔ ضرور تھا کہ وہ اپنے باپ کی مرضی کے مطابق عمل کرے۔
۴:۴ «یسوع» نے آزمائشوں کا جواب دینے اور مزاحمت کرنے کے لئے پاک صحائف سے اِقتباس کیا (اِستثنا ۸:۳) ۔ جسمانی ضرورت کی آسودگی سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ خدا کی فرماں برداری کی بھوک کو آسودہ کیا جائے۔ اُس نے کوئی دلیل بازی نہیں کی۔ ڈاربی کہتا ہے کہ «جب روح کی قوت سے آیت استعمال کی جائے تو ایک آیت بھی دشمن کا منہ بند کر دیتی ہے۔ مقابلے میں قوت کا سارا راز یہ ہے کہ خدا کے کلام کو درست طور پر استعمال کیا جائے۔»
۴:۵-۷ دوسری آزمائش میں «ابلیس نے… (یسوع کو) دُنیا کی سب سلطنتیں پل بھر میں دِکھائیں۔» شیطان کو اپنی پیش کش دِکھانے میں کبھی زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اُس نے دُنیا نہیں بلکہ «دُنیا کی سلطنتیں» دِکھائیں۔ ایک لحاظ سے اُس کو اِس دُنیا کی سلطنتوں پر اِختیار حاصل ہے۔ اِنسان کے گناہ کے نتیجے میں شیطان «دُنیا کا سردار» (یوحنا ۱۲:۳۱؛ ۱۴:۳۰؛ ۱۶:۱۱) ، «اِس جہان کا خدا» (۲۔کرنتھیوں ۴:۴) ، «ہوا کی عمل داری کا حاکم» (افسیوں ۲:۲) بن چکا ہے۔ خدا نے ٹھہرا دیا ہے کہ ایک دن «اِس دُنیا کی سلطنتیں» «ہمارے خداوند اور اُس کے مسیح کی» ہو جائیں گی (مکاشفہ ۱۵:۱۱) ۔ گویا ابلیس مسیح کو وہ چیز پیش کر رہا تھا جو بالآخر اُسی کی ہو جائے گی۔
مگر تخت تک پہنچنے کے لئے شارٹ کٹ تھا ہی نہیں۔ ضروری تھا کہ پہلے صلیب آئے۔ خدا کے ارادہ اور مشورت کے مطابق ضرور تھا کہ خداوند یسوع جلال میں داخل ہونے سے پہلے دُکھ اُٹھائے۔ وہ ایک جائز مقصد یا منزل کو غلط ذرائع اور غلط طریقوں سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ وہ کسی بھی صورت میں ابلیس کو سجدہ نہیں کر سکتا تھا، خواہ اِس کی کچھ بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔
۴:۸ اِس لئے خداوند نے اِستثنا ۶:۱۳ میں سے اِقتباس پیش کیا کہ اپنی بشریت میں مجھے لازم ہے کہ خدا ہی کو «سجدہ» کروں اور اُسی کی «عبادت» کروں۔
۴:۹-۱۱ تیسری آزمائش کے لئے اِبلیس یسوع کو «یروشلیم میں لے گیا» اور اُس کو «ہیکل کے کنگرے پر» کھڑا کر کے مشورہ دیا کہ «تُو اپنے تئیں یہاں سے نیچے گرا دے۔» کیا زبور ۹۱:۱۱،۱۲ میں خدا نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ مَیں مسیحِ موعود کو محفوظ رکھوں گا؟ شیطان یسوع کو اِس آزمائش میں ڈال رہا تھا کہ سنسنی خیز کرتب دِکھا کر اپنے آپ کو مسیحِ موعود ثابت کر۔ ملاکی (۳:۱) نے پیش گوئی کی تھی کہ مسیحِ موعود «ناگہاں اپنی ہیکل میں آ موجود ہو گا۔» چنانچہ اب یسوع کے لئے موقع تھا کہ کلوری تک گئے بغیر شہرت اور ناموری حاصل کر لے کہ مَیں موعودہ مخلصی دینے والا ہوں۔
۴:۱۲ تیسری دفعہ بھی یسوع نے بائبل مقدس سے اقتباس سے آزمائش کی مزاحمت کی۔ اِستثنا ۶:۱۶ میں خدا کو آزمانے سے منع کیا گیا ہے۔
۴:۱۳ روح کی تلوار سے پسپا ہو کر «ابلیس… کچھ عرصہ کے لئے یسوع سے جدا ہوا۔»
یسوع کی آزمائش کے سلسلے میں کئی اضافی نکات کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
- لوقا کی اِنجیل میں آزمائشوں کی ترتیب متی سے مختلف ہے۔ دوسری اور تیسری آزمائش کی ترتیب اُلٹ دی گئی ہے۔ اِس کی وجہ واضح نہیں۔
- تینوں آزمائشوں میں جو مقصد پیش کیا گیا، وہ درست تھا، لیکن اُنہیں حاصل کرنے کے طریقے یا ذرائع غلط تھے۔ شیطان کی بات ماننا تو ہمیشہ ہی غلطی ہے۔ اُس کو یا کسی بھی اَور مخلوق چیز کو سجدہ کرنا گناہ ہے۔ اور خدا کو آزمانا سراسر غلط ہے۔
- پہلی آزمائش کا تعلق جسم کے ساتھ، دوسری کا جان کے ساتھ اور تیسری کا روح کے ساتھ تھا۔ بالترتیب وہ جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی کو اُکسانے کی کوشش کرتی ہیں۔
- یہ تینوں آزمائشیں اِنسانی وجود کی تین زبردست ترین ضروریات کے گرد گھومتی ہیں۔ یعنی جسمانی بھوک، طاقت اور اِختیار اور مال و متاع کی ہوس، اور لوگوں میں شہرت کی آرزو۔ کتنی دفعہ شاگردوں پر آزمائش آتی ہے کہ آرام و آسائش کا راستہ اِختیار کر لیں، دُنیا میں نمایاں مقام حاصل کر لیں، اور کلیسیا میں اعلیٰ عہدے کے پیچھے پڑیں۔
- تینوں آزمائشوں میں شیطان نے مذہبی زبان استعمال کی اور یوں آزمائشوں کو ظاہری طور پر محترم اور قابلِ قبول بنا دیا۔ یہاں تک کہ کلامِ مقدس کے حوالے بھی دیئے (آیات ۱۰،۱۱) ۔
جیمز سٹوأرٹ (Stewart) کیا خوب کہتا ہے کہ
«یسوع کی آزمائش کے مطالعہ سے دو اہم باتیں روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہیں۔ اوّل تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آزمائش لازماً گناہ نہیں۔ دوم، اِس سے بعد کے ایک شاگرد کے مقولے کی وضاحت و صراحت ہو جاتی ہے کہ ’جس صورت میں اُس نے خود ہی آزمائش کی حالت میں دُکھ اُٹھایا تو وہ اُن کی بھی مدد کر سکتا ہے جن کی آزمائش ہوتی ہے۔‘» (عبرانیوں ۲:۱۸)
بعض دفعہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر یسوع گناہ کرنے کے قابل ہی نہ ہوتا تو آزمائش بے معانی ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یسوع الٰہی ذات ہے۔ اور خدا گناہ نہیں کر سکتا۔ خداوند یسوع اپنی الٰہی صفات سے کبھی دست بردار نہیں ہوا۔ زمینی زندگی کے دوران اُس کی الوہیت ملفوف تھی مگر نہ تو اُس سے علیٰحدہ تھی نہ علیٰحدہ ہو سکتی ہے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ بہ حیثیت خدا وہ گناہ نہیں کر سکتا تھا، مگر بہ حیثیت بشر وہ گناہ کر سکتا تھا۔ مگر وہ اب بھی خدا اور اِنسان دونوں ہے اور تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ آج وہ گناہ کر سکتا ہے۔ آزمائش کا مقصد یہ دیکھنا نہیں تھا کہ وہ گناہ کرتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا۔ صرف ایک پاک اور بے گناہ اِنسان ہی ہمارا فدیہ دینے والا ہو سکتا ہے۔
ہ۔ تعلیم دینے کے وسیلے سے تیاری (۴:۱۴-۳۰)
۴:۱۴،۱۵ آیات ۱۳ اور ۱۴ کے درمیان تقریباً ایک سال کا وقفہ ہے۔ اِس عرصے میں خداوند یہودیہ میں خدمت کرتا رہا۔ اِس خدمت کا حال صرف یوحنا باب ۲-۵ میں درج ہے۔
«پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا۔» یہاں سے اُس کی خدمت کا دوسرا سال شروع ہوتا ہے۔ «اور سارے گرد و نواح میں اُس کی شہرت پھیل گئی۔» جب وہ «اُن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا» تھا تو ہر جگہ لوگ «اُس کی بڑائی کرتے» تھے۔
۴:۱۶-۲۱ «ناصرت» میں اُس کا لڑکپن گزرا تھا۔ وہاں بھی وہ «اپنے دستور کے موافق سبت کے دن عبادت خانہ میں گیا۔» سبت سے مراد آج کل کے مطابق ہفتے کا دن ہے۔ دو اَور باتیں ہیں جن کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ «اپنے دستور کے موافق» یعنی باقاعدگی سے کرتا تھا، اوّل دعا مانگنا (لوقا ۲۲:۳۹) ، دوم، دوسروں کو تعلیم دینا (مرقس ۱۰:۱) ۔ «عبادت خانہ میں» ایک دن وہ «پڑھنے کو کھڑا ہوا۔» یاد رہے کہ اُس زمانے میں صرف پرانا عہدنامہ موجود تھا۔ عبادت خانے کے نائب نے اُسے وہ طومار دیا جس پر یسعیاہ کی نبوت مرقوم تھی۔ خداوند نے طومار کو اُس مقام پر کھولا جسے آج کل ہم یسعیاہ ۶۱ باب کے نام سے جانتے ہیں۔ اور اُس نے پہلی آیت سے دوسری آیت کے نصف تک پڑھا۔ ہمیشہ تسلیم کیا جاتا تھا کہ یہ حوالہ مسیحِ موعود کی خدمت کے بارے میں ہے۔
مسیحِ موعود کے مشن سے متعلق انقلابی مضمرات پر غور کریں۔ وہ اُن سنگین مسائل کو حل کرنے آیا تھا جن میں بنی نوعِ اِنسان ہمیشہ ہمیشہ سے مبتلا اور گرفتار رہے ہیں۔
| غربت اور افلاس۔ | «غریبوں کو خوش خبری» سناؤں۔ |
| رنج اور غم۔ | «شکستہ دلوں کو تسلی دوں» (لوقا میں یہ الفاظ محذوف ہیں) ۔ |
| غلامی اور بندھن۔ | «قیدیوں کو رہائی… کی خبر سناؤں۔» |
| دُکھ اور مصیبت۔ | «اَندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں۔» |
| ظلم و تشدد۔ | «کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔» |
مختصراً یہ کہ «خداوند کے سالِ مقبول کی منادی کروں۔» یہ اِس دُنیا کی سِسکتی، کراہتی مخلوقات کے لئے ایک نئے دَور کا طلوع ہے۔ اُس نے خود کو اُن ساری بُرائیوں اور آفتوں کے حل کے طور پر پیش کیا جو ہماری جان کھائے جاتی ہیں۔ یہ بات ہر لحاظ سے سچ ہے۔ خواہ آپ جسمانی مفہوم میں لیں خواہ روحانی مفہوم سمجھیں، مسیح ہی اِن کا جواب ہے۔
یہ بات بھی بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ یسوع نے اِن الفاظ پر پڑھنا ختم کیا کہ «خداوند کے سالِ مقبول کی منادی کروں۔» یہ موجودہ دَور فضل کا دَور ہے۔ یہی قبولیت کا وقت اور نجات کا دن ہے۔ جب وہ دُنیا میں دوسری دفعہ آئے گا تو خدا کے روزِ اِنتقام کی منادی کرے گا۔ غور کریں کہ «قبولیت کے وقت» کو «سال» کہا گیا ہے اور اِنتقام کے وقت کو ایک «روز۔»
۴:۲۲ صاف ظاہر ہے کہ لوگ اِس کلام سے بے حد متاثر ہوئے۔ وہ اُس کی «پُرفضل باتوں» کے باعث اُس کی تعریف کرتے تھے۔ اُن کے لئے یہ ایک بھید تھا کہ بڑھئی «یوسف کا بیٹا» اِتنی ترقی کر گیا ہے۔
۴:۲۳ خداوند جانتا تھا کہ یہ مقبولیت سطحی ہے۔ لوگ میری حقیقی شناخت یا قدر و قیمت کو نہیں سمجھتے۔ وہ اُسے اپنے گاؤں کا ایک لڑکا ہی سمجھتے تھے جس نے کفرنحوم میں بڑے اچھے اچھے کام کئے تھے۔ اُس نے پہلے سے اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ لوگ مجھے کہیں گے کہ «اے حکیم! اپنے آپ کو تو اچھا کر۔» عام حالات میں اِس مقولے کا مطلب ہے کہ «جو کچھ تُو نے دوسروں کے لئے کیا ہے اپنے لئے بھی کر۔ تُو جو دوسروں کو شفا دینے کا دعویٰ کرتا ہے اپنے آپ کو بھی شفا دے۔» لیکن یہاں مطلب قدرے فرق ہے۔ آگے آنے والے الفاظ میں اِس کی وضاحت کی گئی ہے کہ «جو کچھ ہم نے سنا ہے کہ کفرنحوم میں کیا گیا۔ یہاں اپنے وطن میں بھی کر۔» اپنے وطن سے مراد ہے ’ناصرت‘۔ یہ ایک تضحیک آمیز چیلنج تھا کہ «جو معجزے تُو نے دوسری جگہوں پر کئے ہیں یہاں ناصرت میں بھی کر اور خود کو تحقیر سے بچا۔»
۴:۲۴-۲۷ مسیح نے جواب میں اِنسانی معاملات کے بارے میں ایک گہرا اصول بیان کیا۔ عظیم لوگوں کو اپنے پاس پڑوس میں نہ جانا پہچانا جاتا ہے نہ تعریف کی جاتی ہے۔ پھر اُس نے پرانے عہدنامے میں سے دو خاص واقعات بیان کئے جہاں بنی اِسرائیل نے خدا کے نبیوں کو قبول نہیں کیا تھا۔ چنانچہ اُن کو غیر قوموں کے پاس بھیجا گیا۔ جب اِسرائیل میں زبردست قحط تھا تو ایلیاہ نبی کو کسی یہودی بیوہ کے پاس نہیں بھیجا گیا تھا حالانکہ بنی اِسرائیل میں بہت سی بیوائیں تھیں بلکہ اُسے صیدا کے ملک میں ایک غیر قوم بیوہ کے پاس بھیجا گیا تھا۔ اور حالانکہ الیشع نبی کے زمانے میں «اِسرائیل کے درمیان بہت سے کوڑھی تھے» مگر اُسے اُن میں سے کسی کے پاس نہیں بلکہ غیر قوم نعمان کے پاس بھیجا گیا تھا۔ نعمان سوریا (موجودہ شام) کی فوجوں کا سپہ سالار تھا۔ تصور کریں کہ یسوع کے الفاظ کا یہودی ذہنوں پر کیا اثر ہوا ہو گا۔ وہ عورتوں، غیر قوم افراد اور کوڑھیوں کو معاشرے کی سب سے نچلی سطح پر رکھتے تھے۔ مگر یہاں خداوند نے اُن تینوں کو بڑی خصوصیت سے بے اعتقاد یہودیوں سے اُوپر رکھا یعنی اُن کو اعلیٰ درجہ دیا۔ دراصل یسوع کہہ رہا تھا کہ پرانے عہدنامے کی تاریخ اپنے آپ کو دُہرانے کو ہے۔ اُسے (مسیح کو) معجزات دِکھانے کے باوجود نہ صرف ناصرت کے شہر میں بلکہ یہودی قوم کی طرف سے بھی ردّ کیا جائے گا۔ پھر ایلیاہ اور الیشع کی طرح وہ بھی غیر قوموں کے پاس جائے گا۔
۴:۲۸ ناصرت کے لوگ اِس کا مطلب اچھی طرح سمجھ گئے۔ وہ تو اِتنے سے اِشارے پر ہی مشتعل ہو گئے کہ غیر قوموں پر مہربانی کی جائے گی۔
بشپ رائیل (Ryle) اِس پر یوں تبصرہ کرتا ہے:
«یسوع نے یہاں اِس عقیدے کی وضاحت کی کہ خدا اِختیارِ کُلی رکھتا ہے۔ اِنسان اِس عقیدے سے سخت عداوت رکھتا ہے۔ خدا کسی صورت میں اُن کے درمیان معجزے کرنے کا پابند نہیں تھا۔»
۴:۲۹،۳۰ لوگوں نے اُسے زبردستی «شہر سے باہر نکال» دیا بلکہ اُسے «پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے… تاکہ اُسے سر کے بل گرا دیں۔» اِس میں شک نہیں کہ اُنہیں شیطان نے بھڑکایا تھا۔ یہ شاہی وارث کو ہلاک کرنے کی اُس کی ایک اَور کوشش تھی۔ مگر یسوع معجزانہ طور سے لوگوں میں سے نکل کر شہر سے چلا گیا۔ اُس کے دشمن اُسے روکنے میں بے بس تھے۔ جہاں تک ہمیں علم ہے وہ پھر کبھی ناصرت میں واپس نہیں گیا۔
مقدس کتاب
۱- تِبرِؔیُس قَیصر کی حُکُومت کے پندرھویں برس جب پُنطِیُس پِیلاطُسؔ یہُودیہ کا حاکِم تھا اور ہیرودؔیس گلِیل کا اور اُس کا بھائی فِلپُّس اِتُورؔیہِّ اور ترخونیؔتِس کا اور لِسانیاؔس اَبِلینے کا حاکِم تھا۔
۲- اور حنّاہ اور کائِفا سردار کاہِن تھے اُس وقت خُدا کا کلام بیابان میں زکریاؔہ کے بیٹے یُوحنّا پر نازِل ہُؤا۔
۳- اور وہ یَردؔن کے سارے گِرد و نواح میں جا کر گُناہوں کی مُعافی کے لِئے تَوبہ کے بپتِسمہ کی مُنادی کرنے لگا۔
۴- جَیسا یسعیاہ نبی کے کلام کی کِتاب میں لِکھا ہے کہ بیابان میں پُکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خُداوند کی راہ تیّار کرو۔ اُس کے راستے سِیدھے بناؤ۔
۵- ہر ایک گھاٹی بھر دی جائے گی اور ہر ایک پہاڑ اور ٹِیلہ نِیچا کِیا جائے گا اور جو ٹیڑھا ہے سیدھا اور جو اُونچا نِیچا ہے ہموار راستہ بنے گا۔
۶- اور ہر بشر خُدا کی نجات دیکھے گا۔
۷- پس جو لوگ اُس سے بپتِسمہ لینے کو نِکل کر آتے تھے وہ اُن سے کہتا تھا اَے سانپ کے بچّو! تُمہیں کِس نے جتایا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟
۸- پس تَوبہ کے مُوافِق پَھل لاؤ اور اپنے دِلوں میں یہ کہنا شرُوع نہ کرو کہ ابرہامؔ ہمارا باپ ہے کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اِن پتّھروں سے ابرہامؔ کے لِئے اَولاد پَیدا کر سکتا ہے۔
۹- اور اب تو درختوں کی جڑ پر کُلہاڑا رکھّا ہے۔ پس جو درخت اچّھا پَھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔
۱۰- لوگوں نے اُس سے پُوچھا پِھر ہم کیا کریں؟
۱۱- اُس نے جواب میں اُن سے کہا جِس کے پاس دو کُرتے ہوں وہ اُس کو جِس کے پاس نہ ہو بانٹ دے اور جِس کے پاس کھانا ہو وہ بھی اَیسا ہی کرے۔
۱۲- اور محصُول لینے والے بھی بپتِسمہ لینے کو آئے اور اُس سے پُوچھا کہ اَے اُستاد ہم کیا کریں؟
۱۳- اُس نے اُن سے کہا جو تُمہارے لِئے مُقرّر ہے اُس سے زِیادہ نہ لینا۔
۱۴- اور سِپاہیوں نے بھی اُس سے پُوچھا کہ ہم کیا کریں؟ اُس نے اُن سے کہا نہ کِسی پر ظُلم کرو اور نہ کِسی سے ناحق کُچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کِفایت کرو۔
۱۵- جب لوگ مُنتظِر تھے اور سب اپنے اپنے دِل میں یُوؔحنّا کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسِیح ہے یا نہیں۔
۱۶- تو یُوحنّا نے اُن سب سے جواب میں کہا مَیں تو تُمہیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہُوں مگر جو مُجھ سے زورآور ہے وہ آنے والا ہے۔ مَیں اُس کی جُوتی کا تسمہ کھولنے کے لائِق نہیں۔ وہ تُمہیں رُوحُ القُدس اور آگ سے بپتسِمہ دے گا۔
۱۷- اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے تاکہ وہ اپنے کھلیہان کو خُوب صاف کرے اور گیہُوں کو اپنے کھتّے میں جمع کرے مگر بُھوسی کو اُس آگ میں جلائے گا جو بُجھنے کی نہیں۔
۱۸- پس وہ اَور بُہت سی نصیحت کر کے لوگوں کو خُوشخبری سُناتا رہا۔
۱۹- لیکن چَوتھائی مُلک کے حاکِم ہیرودؔیس نے اپنے بھائی فِلِپُّس کی بِیوی ہیرودِؔیاس کے سبب سے اور اُن سب بُرائیوں کے باعِث جو ہیرودؔیس نے کی تِھیں یُوحنّا سے ملامت اُٹھا کر۔
۲۰- اِن سب سے بڑھ کر یہ بھی کِیا کہ اُس کو قَید میں ڈالا۔
۲۱- جب سب لوگوں نے بپتسِمہ لِیا اور یِسُوعؔ بھی بپتسِمہ پا کر دُعا کر رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ آسمان کُھل گیا۔
۲۲- اور رُوحُ القُدس جِسمانی صُورت میں کبُوتر کی مانِند اُس پر نازِل ہُؤا اور آسمان سے آواز آئی کہ تُو میرا پیارا بیٹا ہے۔ تُجھ سے مَیں خُوش ہُوں۔
۲۳- جب یِسُوعؔ خُود تعلِیم دینے لگا قرِیباً تِیس برس کا تھا اور (جَیسا کہ سمجھا جاتا تھا) یُوسفؔ کا بیٹا تھا اور وہ عیلی کا۔
۲۴- اور وہ متّات کا اور وہ لاوؔی کا اور وہ ملکی کا اور وہ ینّا کا اور وہ یُوسفؔ کا۔
۲۵- اور وہ مَتّتِیاؔہ کا اور وہ عامُوؔس کا اور وہ ناحُوؔم کا اور وہ اسلیاؔہ کا اور وہ نوگہ کا۔
۲۶- اور وہ ماؔعَت کا اور وہ مَتّتیاؔہ کا اور وہ شِمعی کا اور وہ یوسیخ کا اور وہ یوداؔہ کا۔
۲۷- اور وہ یُوحنّا کا اور وہ ریسا کا اور وہ زرُبّابِل کا اور وہ سیالتی ایل کا اور وہ نیرؔی کا۔
۲۸- اور وہ ملکی کا اور وہ اَدّی کا اور وہ قوساؔم کا اور وہ اِلموداؔم کا اور وہ عیر کا۔
۲۹- اور وہ یشُوؔع کا اور وہ الِیعزر کا اور وہ یورِؔیم کا اور وہ متّات کا اور وہ لاوؔی کا۔
۳۰- اور وہ شمعُوؔن کا اور وہ یہُوداؔہ کا اور وہ یُوسفؔ کا اور وہ یوؔنان کا اور وہ الیاؔقِیم کا۔
۳۱- اور وہ ملےؔآہ کا اور وہ مِنّاہ کا اور وہ متَّتاہ کا اور وہ ناتن کا اور وہ داؤُد کا۔
۳۲- اور وہ یسّی کا اور وہ عوبید کا اور وہ بوعز کا اور وہ سلموؔن کا اور وہ نحسون کا۔
۳۳- اور وہ عَمّینداؔب کا اور وہ ارؔنی کا اور وہ حصروؔن کا اور وہ فارؔص کا اور وہ یہُوداؔہ کا۔
۳۴- اور وہ یعقُوبؔ کا اور وہ اِضحاقؔ کا اور وہ ابرہامؔ کا اور وہ تارؔہ کا اور وہ نحُور کا۔
۳۵- اور وہ سُروؔج کا اور وہ رعُو کا اور وہ فلج کا اور وہ عِبر کا اور وہ سلح کا۔
۳۶- اور وہ قیناؔن کا اور وہ اَرفکسد کا اور وہ سِم کا اور وہ نُوح کا اور وہ لَمک کا۔
۳۷- اور وہ متُوؔسِلح کا اور وہ حَنُوؔک کا اور وہ یارِد کا اور وہ مَہلل ایل کا اور وہ قِیناؔن کا۔
۳۸- اور وہ انُوس کا اور وہ سیتؔ کا اور وہ آدؔم کا اور وہ خُدا کا تھا۔