ہوسیع ۱۰

۱۰:‏ ۱‏، ۲ ایک وقت تھا کہ اِسرائیل لہلہاتی تاک تھا‏، لیکن اب بے پھل اور خالی ہے کیونکہ اُس نے اپنی خوش حالی کو بت پرستی کے فروغ کے لئے استعمال کیا۔ اب خدا اُن پر دو دِلے ہونے کا الزام لگاتا ہے۔ وہ اپنے دغاباز دل کے باعث مجرم ہیں۔ 

۱۰:‏ ۳‏، ۴ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں خدا کی یا بادشاہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِسرائیلی قوم کتنی دُور جا چکی تھی۔ شروع میں کوہِ سینا پر اُنہوں نے عہد کیا تھا کہ ہم خدا کے آئین و احکام کی پیروی کریں گے جو موسیٰ اور ہارون کی معرفت دیئے گئے ہیں۔ لیکن اِس کے بعد ایک طویل برگشتگی کا سلسلہ جاری رہا اور وہ نیچے سے نیچے گرتے گئے اور اِس حد کو پہنچ گئے کہ اپنے اُوپر ایک بادشاہ کی حکومت کو بھی قبول نہیں کرتے۔ اُن کی روحانی حالت کے بتدریج زوال کی تصویر اُن اقسامِ حکومت میں نظر آتی ہے جو یکے بعد دیگرے قائم ہوئیں اور جن کے خلاف وہ بغاوت کرتے رہے:‏

  1. خدا (‏حکومتِ اِلٰہیہ)‏‏،
  2. موسیٰ (‏نبی __ شریعت دینے والا)‏‏،
  3. یشوع (‏روحانی / فوجی جرنیل)‏‏،
  4. قاضی (‏عدالتی نظام)‏‏،
  5. بادشاہ (‏شہنشاہیت)‏
  6. کوئی بادشاہ نہیں (‏طوائف الملوکی / بدنظمی/ عدمِ حکومت)‏۔

وہ جھوٹی قسموں سے عہد باندھتے تھے۔ اِس لئے بلا (‏قہر و غضب)‏ ملک کو زہریلے اندرائن کی طرح ڈھانک لے گی۔ 

۱۰:‏ ۵۔۸ اسوری حملہ کریں گے اور بیت آون (‏بیت ایل)‏ کے سنہری بچھڑے پر قبضہ کر کے اُسے اُٹھا لے جائیں گے۔ یہاں بیت آون کا نام قابلِ توجہ ہے۔ اِس کا مطلب ہے شرارت کا گھر۔ یہ بیت ایل (‏خدا کا گھر)‏ پر طنز یا ہجو ہے۔ ’’بیت آون کی بچھیوں کے سبب … لوگ اس پر ماتم کریں گے…کاہن بھی…اِسرائیل…خجل ہو گا۔‘‘ اِن الفاظ میں سخت طنز یا طعنہ پایا جاتا ہے کہ اُنہوں نے اپنے خدا کی محبت کو ترک کر دیا جس نے اُنہیں بار بار بچایا اور رہائی دی اور اب وہ سنہری بچھڑے کی محبت کا دم بھرتے ہیں۔ چنانچہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اب خدا اُنہیں سزا دینے کو ہے۔ سامریہ کا بادشاہ کٹ جائے گا‏، بت پرستی کی جگہیں نیست ہوں گی اور لوگ پہاڑوں اور ٹیلوں سے کہیں گے کہ ہم پر آ گرو اور ہمیں چھپا لو۔ 

۱۰:‏ ۹‏،۱۰ جبعہ کے مقام پر قبیلے اکٹھے کھڑے ہوئے تاکہ بنیمین (‏کے قبیلے)‏ کو اُس کے گناہ کی سزا دیں (‏قضاۃ باب ۲۰)‏‏، لیکن اُس وقت سے اِسرائیل کی تاریخ گناہ کی روداد ہے۔ اب خدا دوسری قوموں کو استعمال کرے گا اور اِن لوگوں کو سزا دے گا جو گناہ کرنے کو متحد ہیں۔ 

۱۰:‏ ۱۱ ایک وقت تھا کہ افرائیم سدھائی ہوئی بچھیا تھا جو اناج گاہنے کے ہلکے (‏آسان)‏ کام کے لئے مخصوص تھی‏، لیکن اُس کی گردن پر اسیری کا (‏بھاری)‏ جوأ رکھا جائے گا۔ اور یہوداہ کو بھی سخت مشقت کرنی پڑے گی۔ 

۱۰:‏ ۱۲۔۱۵ رہائی کے لئے اُن کی واحد اُمید یہ ہے کہ توبہ کریں اور خداوند کے طالب ہوں۔ لیکن اسرائیل نے رتھوں اور بہادروں یعنی سپاہیوں پر بھروسا کرنے کا گناہ کیا اب اُسے اِس گناہ کا پھل کھانا پڑے گا۔ ملک میں جنگ برپا ہو گی اور اُن کے سارے قلعے مسمار کئے جائیں گے۔ سامریہ نیست ہو جائے گا اور بادشاہ قتل ہو گا۔ ’’شلمن‘‘ (‏آیت ۱۴)‏ سے مراد ہے سلمنسر سوم۔ مگر بعض علما کا خیال ہے کہ اِس سے مراد شاہِ موآب Salamanu ہے۔

مقدس کتاب

۱ اسرائیل لہلہاتی تاک ہے جس میں پھل لگا جس نے اپنے پھل کی کثرت کے مُطابق بُہت سی قربان گاہیں تعمیر کیں اور اپنی زمین کی خُوبی کے مُطابق اچھے اچھے ستون بنائے۔
۲ اُن کا دل دغا باز ہے۔ اب وہ مُجرم ٹھہریں گے۔ وہ اُن کے مزبحوں کو ڈھائے گا اور اُن کے سُتونوں کو توڑے گا۔
۳ یقینا اب وہ کہیں گے ہمارا کوئی بادشاہ نہیں کیونکہ جب ہم خُداوند سے نہیں ڈرتے تو بادشاہ ہمارے لے کیا کر سکتا ہے ؟۔
۴ اُن کی باتیں باطل ہیں۔ وہ عہد و پیمان میں جُھوٹی قسم کھاتے ہیں۔ اس لے بلا ایسی پُھوٹ نکلے گی جیسے کھیت کی ریگھاریوں میں اندراین۔
۵ بیت آون کی بچھیوں کے سبب سے سامریہ کے باشندے خُوف زدہ ہوں گے کیونکہ وہاں کے لوگ اُس پر ماتم کریں گے اور وہاں کے کاہن بھی جو اُس کی گُزشتہ شوکت کے سبب سے شادمان تھے۔
۶ اس کو بھی اُسور میں لے جا کر اُس مُخالف بادشاہ کی نذر کریں گے۔ افرائیم ندامت اُٹھائے گا اور اسرائیل اپنی مشورت سے خجل ہوگا ۔
۷ سامریہ کا بادشاہ کٹ گیا ہے۔ وہ پانی پر تیرتی شاخ کی مانند ہے۔
۸ اور آون کے اُونچے مُقام جو اسرائیل کا گُناہ ہیں برباد کئے جائیں گے اور اُن کے مذبحوں پر کانٹے اور اُونٹکٹارے اُگیں گے اور وہ پہاڑوں سے کہیں گے ہم کو چُھپا لو اور ٹیلوں سے کہیں گے ہم پر آ گرو۔
۹ اے اسرائیل ! تو جبعہ کے ایّام سے گُناہ کرتا آیا ہے۔ وہ وہیں ٹھہرے رہے تاکہ لڑائی جبعہ میں بدکرداروں کی نسل تک نہ پہنچا۔
۱۰ میں جب چاہُوں اُن کو سزادُوں گا اور جب میں اُن کے دُو گناہوں کی سزادُوں گا تو لوگ اُن پر ہجوم کریں گے۔
۱۱ افرائیم سدھائی ہُوئی بچھیا ہے جو داونا پسند کرتی ہے اور میں نے اُس کی خُوش نما گردن کو دریغ کیا لیکن میں افرائیم پر سوار بٹھاوُں گا۔ یہُوداہ ہل چلائے گا اور یعقوب ڈگیلے توڑے گا۔
۱۲ اپنے لئے صداقت سے تحنم ریزی کرو۔شفقت سے فصل کاٹو اور اپنی اُفتادہ زمین میں ہل چلاو کیونکہ اب موقع ہے کہ تم خُداوند کے طالب ہو تاکہ وہ آے اور راستی کو تم پر برسائے۔
۱۳ تم نے شرارت کا ہل چلایا۔ بدکرداری کی فصل کاٹی اور جُھوٹ کا پھل کھایا کیونکہ تو نے اپنی روش میں اپنے بہادروں کے انبوہ پر تکیہ کیا۔
۱۴ اس لئے تیرے لوگوں کے خلاف ہنگامہ برپاہو گا اور تیرے سب قلعے مسمار کئے جائیں گے جس طرح شلمن نے لڑائی کے دن بیت اربیل کو مسمار کیا تھا جب کہ ماں اپنے بچوں سمیت ٹُکڑے ٹُکڑے ہو گئی۔
۱۵ تُمہاری بے نہایت شرارت کے سبب سے بیت ایل میں تمہاری یہی حال ہوگا شاہ اسرائیل علی الصباح بالکل فنا ہو جائے گا۔