۶:۱ اب تو ’’یروشلیم کی بیٹیوں‘‘ کو بھی کامل مردانہ حسن کے اِس نمونے کو دیکھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے۔ اور وہ پوچھتی ہیں کہ وہ کس طرف کو گیا ہے تاکہ ’’ہم تیرے ساتھ اُس کی تلاش میں جائیں؟‘‘
۶:۲،۳ دوشیزہ جان بوجھ کر اُنہیں مبہم اور ٹالنے والا جواب دیتی ہے __ ’’میرا محبوب اپنے بُوستان … کی طرف گیا ہے۔‘‘ وہ اُنہیں کیوں بتائے؟ وہ اپنے محبوب کی ہے اور محبوب اُس کا ہے۔ اور وہ چاہتی ہے کہ ایسا ہی رہے!
۱۳۔ سلیمان اپنی عاشقانہ التجائیں دُہراتا ہے (۶:۴۔۱۰)
سلیمان پھر منظر پر آتا ہے اور دوشیزہ پر ڈورے ڈالتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے استعارے اور تشبیہیں استعمال کرتے ہوئے وہ اُس کے حسن کی تعریف کرتا ہے۔ وہ زیادہ تر ۴:۱۔۳ والی باتیں دُہراتا ہے۔ اُس کے خیال کے مطابق یہ دوشیزہ ’’ساٹھ رانیوں اور اَسی حرموں اور بے شمار کنواریوں‘‘ پر سبقت اور فوقیت رکھتی ہے۔ وہ نہ صرف اپنی ماں کی دلاری اور ’’لاڈلی‘‘ ہے بلکہ ’’رانیاں اور حرمیں‘‘ اور کنواریاں بھی یہ کہتے ہوئے اُس کی تعریف کرتی ہیں کہ ’’یہ کون ہے جس کا ظہور صبح کی مانند ہے، جو حُسن میں مہتاب اور نور میں آفتاب اور علَم دار لشکر کی مانند مہیب ہے؟‘‘
۱۴۔ شو لمیت دربار کی خواتین کو وضاحت سے بتاتی ہے کہ مَیں کیسے غیر متوقع طور پر محل میں لائی گئی (۶:۱۱۔۱۳)
۶:۱۱، ۱۲ شو لمیت مبہم سی وضاحت کر کے سلیمان کی عاشقانہ باتوں کا رُخ موڑ دیتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ مَیں اپنے گھر سے باہر گئی ہوئی تھی کہ اپنے چلغوزوں اور تاکوں میں لگے پھولوں کو دیکھوں۔ مجھے خبر بھی نہ ہوئی کہ بادشاہ کا رتھ آ گیا۔ بادشاہ کا ارادہ تھا کہ مجھے یروشلیم میں اپنے محل میں لے آئے۔ لیکن مَیں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا، اس کی تدبیر کرنا تو دُور کی بات ہے۔
(بائبل مقدس کے اُردو ترجمے میں یہاں صیغہ واحد مذکر استعمال ہوا ہے جبکہ اِس تفسیر کے مطابق واحد مونث ہونا چاہئے۔)
۶:۱۳ دوشیزہ وہاں سے جانے لگتی ہے کہ سلیمان یا یروشلیم کی بیٹیاں اُسے واپس بلاتی ہیں تاکہ اُس کے حسن اور دل رُبائی کو ایک دفعہ اَور دیکھ لیں۔ لیکن وہ پوچھتی ہے کہ تم مجھ جیسی معمولی لڑکی کو کیوں دیکھنا چاہتے ہو؟ اِس شعر (آیت) کے آخری مصرعے کی تشریح کرنا مشکل ہے۔ جن ’’دو لشکروں‘‘ کا شو لمیت ذِکر کرتی ہے، وہ ناچنے والوں کے دو گروہ بھی ہو سکتے ہیں جو ناچتے ہوئے ایک دوسرے کے درمیان سے گزرتے ہیں۔
مقدس کتاب
۱ تیرا محبوب کہاں گیا؟ اَے عورتوں میں سب سے جمیلہ ! تیرا محبوب کس طرف نکلا کہ ہم تیرے ساتھ اُسکی تلاش میں جائیں؟
۲ میرا محبوب اپنے بوستان میں بلسان کی کیاریوں کی طرف گیا ہے۔تاکہ باغوں میں چرائے اور سوسن جمع کرے ۔
۳ میں اپنے محبوب کی ہوں اور میرا محبوب میرا ہے ۔وہ سوسنوں میں چراتا ہے۔
۴ اَے میری پیاری ! تو ترضہ کی مانند خوبصورت ہے۔یروشلیم کی مانند خوش منظر اور علمدار لشکر کی مانند مہیب ہے۔
۵ اپنی آنکھیں میری طرف سے پھیرلے کیونکہ وہ مجھے گھبرا دیتی ہیں۔تیرے بال بکریوں کے گلہ کی مانند ہیں جو کوہ جلعاد پر بیٹھی ہوں ۔
۶ تیرے دانت بھڑوں کے گلہ کی مانند ہیں۔جنکو غُسل دِیا گیا ہو۔جِن میں سے ہر ایک نے دوبچے دِئے ہوں اور اُن میں ایک بھی بانجھ نہ ہو۔
۷ تیری کنپٹیاں تیرے نقاب کے نیچے انار کے ٹکڑوں کی مانند ہیں۔
۸ ساٹھ رانیاں اور اسی حرمیں اور بے شمار کنواریاں بھی ہیں
۹ پر میری کبوتری ۔میری پاکیزہ بے نظیر ہے۔وہ اپنی ماں کی اِکلوتی ۔وہ اپنی والدہ کی لاڈلی ہے۔بیٹیوں نے اُسے دیکھا اور اُسے مُبارک کہا ۔رانپوں اور حرموں نے دیکھکر اُسکی ستایش کی۔
۱۰ یہ کون ہے جسکا ظہور صبح کی مانند ہے جو حُسن میں ماہتاب اور نور میں آفتاب اور علمدار لشکر کی مانند مہیب ہے؟
۱۱ میں چلغوزوں کے باغ میں گیا کہ وادی کی نباتات پر نظر کروں اور دیکھوں کہ تاک میں غنچے اور انار وں میں پھول نکلے ہیں کہ نہیں۔
۱۲ مجھے ابھی خبر نہ تھی کہ میرے دِل نے مُجھے میرے امرا کے رتھوں پر چڑھا دِیا۔
۱۳ لوٹ آلوٹ آاَے شولمیت! لوٹ آلوٹ آکہ ہم تجھ پر نظر کریں ۔تم شولمیت پر کیوں نظر کرو گے گویا وہ دولشکروں کا ناچ ہے؟