غزلُ الغزلات ۳

۶۔ دوشیزہ اپنے محبوب سے ملاقات کی جگہ کا خواب دیکھتی ہے(‏۳:‏۱۔۴)‏

اب دوشیزہ ایک گذشتہ خواب کو یاد کرتی ہے جس میں وہ اپنے محبوب سے ملی تھی۔ ایک ’’رات کو‘‘ وہ اُسے ڈھونڈتی پھر رہی تھی‏، لیکن وہ اُسے نہ ملا۔ وہ ’’شہر میں‘‘ گئی۔ اُسے ’’کوچوں میں اور بازاروں میں‘‘ ڈھونڈا اور ’’پہرے والے‘‘ سے بھی پوچھا۔ لیکن پھر اچانک وہ اُسے ’’مل گیا۔‘‘ دوشیزہ نے اُسے گلے لگایا اور ’’اپنی والدہ‘‘ کے گھر یعنی اپنے خاندانی گھر میں لے گئی۔ 

۷۔ یروشلیم کی بیٹیوں کو تاکید کا اِعادہ (‏۳:‏۵)‏

وہ تھوڑی دیر تک رُک کر یروشلیم کی بیٹیوں کو دوبارہ تاکید کرتی ہے ’’تم … نہ جگاؤ‏، نہ اُٹھاؤ جب تک کہ وہ اُٹھنا نہ چاہے۔‘‘

۸۔ سلیمان کا جلوس یروشلیم میں آتا ہے (‏۳:‏۶۔۱۱)‏

یہاں منظر بدل جاتا ہے۔ اب ہم ’’سلیمان‘‘ کے شاندار جلوس کو پوری دھوم دھام سے آتے دیکھتے ہیں۔ یہاں مضمر سوال یہ ہے کہ ’’ایسے عالی مرتبت اور شان و شوکت والے بادشاہ کی رُومان پرور پیش کش کو کون ٹھکرا سکتی ہے؟‘‘ اور اِسی طرح مضمر جواب یہ ہے کہ ’’بے شک‏، شو لمیت ٹھکرا سکتی ہے!‘‘ وہ اپنے محبوب کی وفادار ہے۔ اور اُس نے باقی ساری آوازوں پر اپنے کان بند کر رکھے ہیں۔ 

جلوس کی راہ میں کھڑے ناظرین بادشاہ کی آمد سے مرعوب ہیں۔ بادشاہ ’’ مُر اور لوبان سے اور سوداگروں کے تمام عطروں سے معطر‘‘ ہے۔ خوشبو کی لپٹیں ایسے آ رہی ہیں جیسے ’’بیابان سے دھوئیں کا ستون‘‘ اُٹھتا ہے۔ اُن کی نظریں ’’سلیمان کی پالکی‘‘ پر ہیں۔ اُس کے اِرد گرد پوری طرح سے مسلح ’’ساٹھ‘‘ محافظ ’’پہلوان‘‘ ہیں۔ پالکی کے ’’ڈنڈے چاندی کے‘‘ ہیں اور بادشاہ کی ’’نشست سونے کی اور گدّی ارغوانی‘‘ ہے۔ اور اُس کے ’’اندر کا فرش یروشلیم کی بیٹیوں نے عشق سے مرصع کیا ہے‘‘ یعنی بڑی محبت سے بُنا ہے۔ یہاں ’’صیون‘‘ کے باشندوں کو طلب کیا گیا ہے کہ ’’سلیمان بادشاہ‘‘ کا اِستقبال کریں۔ بادشاہ وہ ’’تاج‘‘ سر پر سجائے ہوئے ہے جو ’’اُس کی ماں نے اُس کے بیاہ کے دن … اُس کے سر پر رکھا‘‘ تھا۔ 

مقدس کتاب

۱ میں نے رات کو اپنے پلنگ پر اُسے ڈھونڈجو میری جان کا پیارا ہے۔میں نے اُسے ڈھونڈا پر نہ پایا ۔
۲ اب میں اُٹھونگی اور شہر میں پھرونگی کوچوں میں اور بازاروں میں اُسکو ڈھونڈونگی جو میری جان کا پیارا ہے۔میں نے اُسے ڈھونڈا پر نہ پایا ۔
۳ پہرے والے جو شہر میں پھرتے ہیں مجھے ملے۔میں نے پوچھا کیا تم نے اُسے دیکھا جو میری جان کا پیارا ہے؟
۴ ابھی میں اُن سے تھوڑا ہی آگے بڑھی تھی کہ میری جان کا پیارامجھے مل گیا ۔میں نے اُسے پکڑرکھا اور اُسے نہ چھوڑا جب تک کہ میں اُسے اپنی ماں کے گھر میں اور اپنی والد ہ کے خلوت خانہ میں نہ لے گئی
۵ اَے یروشلیم کی بیٹیو!میں تمکوغزالوں اورمیدان کی ہرینوں کی قسم دیتی ہوں کہ تم میرے پیارے کو نہ جگاؤ نہ اُٹھاؤجب تک کہ وہ اُٹھنا نہ چاہے ۔
۶ یہ کون ہے جو مُر اور لُبان سے اور سوداگروں کے تمام عطروں سے معطر ہو کر بیابان سے دھوئیں کے ستون کی مانند چلا آتا ہے؟
۷ دیکھو یہ سُلیمان کی پالکی ہے۔جسِکے ساتھ اِسرائیلی بہادُروں میں سے ساٹھ پہلوان ہیں۔
۸ وہ سب کے سب شمشیرزن اور جنگ میں ماہر ہیں۔رات کے خطرہ کے سبب سے ہر ایک کی تلوار اُسکی ران پر لٹک رہی ہے۔
۹ سُلیمان بادشاہ نے لُبنان کی لکڑیوں سے اپنے لئے ایک پالکی بنوائی ۔
۱۰ اُسکے ڈنڈے چاندی کے بنوائے ۔اُسکی نشست سونے کی گدی ارغوانی بنوائی اور اُسکے اند رکا فرش یروشلیم کی بیٹیوں نے عشق سے مُرصع کیا۔
۱۱ اَے صیون کی بیٹیو! باہر نکلو اور سُلیمان بادشاہ کو دیکھو ۔اُس تاج کے ساتھ جو اُسکی ماں نے اُسکے بیاہ کے دِن اور اُسکے دِل کی شادمانی کے روز اُسکے سر پر رکھا ۔