غزلُ الغزلات ۲

۲:‏۱ دوشیزہ یہ احتجاج جاری رکھتی ہے کہ مَیں ایک سادہ لوح دیہاتی لڑکی ہوں اور محل میں رہنے کے قابل نہیں۔ وہ خود کو ’’شارون کی نرگس اور وادیوں کی سوسن‘‘ کہتی ہے تو اُس کے ذہن میں ’’گلاب‘‘ اور ’’چنبیلی‘‘ وغیرہ کے اُن پھولوں کا خیال نہیں جنہیں ہم اپنے باغ باغچوں میں اُگاتے ہیں‏، بلکہ جنگل اور کھلے میدانوں میں از خود اُگنے والے سرخ اور دوسرے رنگوں کے پھول ہیں۔ 

۲:‏۲ سلیمان نے اُس کے احتجاج پر توجہ دی کہ مَیں ایک اوسط درجے کی لڑکی ہوں۔ چنانچہ وہ جواب میں اُسے کہتا ہے کہ تم خاص حیثیت کی مالک ہو۔ دوسری کنواریوں کے مقابلے میں تم ایسی ہو جیسی ’’سوسن جھاڑیوں میں‘‘۔

۲:‏۳ شو لمیت پھر دیہاتی منظر کو سامنے لاتی ہے اور اپنے محبوب کو کاشت کردہ ’’سیب کے درخت‘‘ کی صورت میں دیکھتی ہے جو ’’بن (‏جنگل)‏ کے درختوں‘‘ سے کہیں زیادہ متناسب اور خوبصورت ہوتا ہے۔ اُس کی قربت سے ہمیشہ کیسی ’’شادمانی‘‘ اور رفاقت سے کیسی مٹھاس کا احساس ہوتا ہے!

۲:‏۴۔۶ اُس کے قُرب میں ’’مے خانہ‘‘ کی چاشنی ہے۔ ’’اُس کی محبت کا جھنڈا‘‘ ہمیشہ سر کے اُوپر لہراتا ہے۔ اُس کے بارے میں خیالات سے مغلوب ہو کر وہ ’’کِشمِش‘‘ کی ٹکیاں اور ’’سیب‘‘ مانگتی ہے تاکہ کھا کر قوت پائے اور ’’تازہ دم‘‘ ہو جائے۔ اُسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا محبوب فی الحقیقت میرے ساتھ ہے اور مجھے اپنی باہوں کا سہارا دے رہا ہے اور گلے سے لگائے ہوئے ہے۔ 

۴۔ دوشیزہ یروشلیم کی بیٹیوں کو ایک تاکید کرتی ہے (‏۲:‏۷)‏

’’یروشلیم کی بیٹیوں‘‘ سے مخاطب ہو کر شو لمیت اِس کتاب کا کلیدی موضوع چھیڑتی ہے۔ عشق کا ایک وقت یا موقع ہے۔ جذبۂ محبت کو جسمانی ذرائع سے جگانا یا اُبھارنا نہیں چاہئے (‏جبکہ بادشاہ ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہا تھا)‏۔ وہ یروشلیم کی بیٹیوں کو حسین و جمیل ’’غزالوں‘‘ کی قسم دے کر تاکید کرتی ہے کہ ’’تم میرے پیارے کو نہ جگاؤ‏، نہ اُٹھاؤ جب تک وہ اُٹھنا نہ چاہے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں محبت ایسی چیز نہیں جو خریدی یا ٹھونسی جا سکے یا دکھاوے اور ظاہرداری سے کی یا کرائی جائے۔ بلکہ یہ بے ساختہ اور اَز خود‏، آزادانہ اور خالص نیت سے ہونی چاہئے۔ اگر اسرائیلی قوم نے اِس سیدھے سادے اصول اور قاعدے کی پیروی اور پابندی کی ہوتی تو یہوواہ سے بے وفائی نہ کرتی۔

۵۔ شو لمیت اپنے چرواہے محبوب سے ایک گذشتہ ملاقات کو یادکرتی ہے‏، جس میں اُس کے بھائیوں کے اِس حکم سے خلل پڑاکہ شو لمیت اپنا کام کرے (‏۲:‏۸۔۱۷)‏

۲:‏ ۸۔۱۴ اَب دوشیزہ اپنے ’’محبوب‘‘ سے ایک گذشتہ ملاقات کو یاد کرتی ہے۔ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کی جلدی میں ’’پہاڑوں پر سے کودتا اور ٹیلوں پر سے پھاندتا ہوا‘‘ آیا۔ اُس میں کسی ’’آہُو یا جوان ہرن‘‘ کی سی سبک خرامی اور نزاکت تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ’’دیوار کے پیچھے‘‘ آ کھڑا ہوا۔ وہ ’’کھڑکیوں سے جھانکتا‘‘ اور ’’جھنجریوں سے تاکتا‘‘ تھا۔ دوشیزہ نے اُس کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہا تھا ’’میری نازنین! چلی آ۔‘‘

میرے ساتھ چل۔ ’’جاڑے‘‘ کی تاریک رات گزر چکی ہے اور ’’مینہ برس چکا‘‘ ہے۔ موسمِ بہار کے سارے آثار نمایاں ہیں __ ’’پھولوں کی بہار‘‘‏، ’’قمریوں‘‘ کی کُوکُو‏، ’’انجیر کے درختوں پر ہرے انجیر‘‘ اور ’’تاکیں پھولنے لگیں‘‘۔ وہ اُسے کہتا ہے ’’اُٹھ … چلی آ‘‘۔ شاید اُس کی طرف سے کچھ دیر ہوئی اِسی لئے اُس نے کہا کہ کھڑکی کے پاس آ تاکہ مَیں تیرا ’’چہرہ‘‘ دیکھ سکوں اور تیری ’’آواز‘‘ سن سکوں۔ اَب تک وہ اُس کی نظروں سے ’’کبوتری‘‘ کی مانند چھپی رہی جو ’’چٹانوں کی دراڑوں اور کڑاڑوں کی آڑ میں‘‘ چھپ جاتی ہے۔ 

۲:‏۱۵ محبوب کے ساتھ جانے کے سارے امکانات ختم ہو گئے کیونکہ دوشیزہ کے بھائی آ گئے اور اُسے اور اُس کی سہیلیوں کو (‏اصل زبان میں حکم کے لئے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے)‏ حکم دیا کہ ’’ہمارے لئے لومڑیوں کو پکڑو‘‘ جو اِس نازک موقع (‏جب پھول آئے ہوئے ہیں)‏ پر ’’تاکستان‘‘ کو خراب کر رہی ہیں۔

۲:‏۱۶‏،۱۷ اِس سے بڑی مایوسی ہوئی‏، لیکن دوشیزہ کو تسلی ہے کہ مَیں اور میرا چرواہا محبوب ایک دوسرے کے ہیں۔ اِس لئے وہ عملاً اُس سے کہتی ہے کہ شام کو ٹھنڈے وقت پھر آنا ’’جب تک دن ڈھلے اور سایہ بڑھے‘‘ اور ’’ تُو غزال یا جوان ہرن کی طرح‘‘ سبک رفتاری سے آنا‏، جیسے ہرن ’’باتر کے پہاڑوں پر‘‘ سے آتا ہے۔ ’’باتر کے پہاڑوں‘‘ کا لغوی مطلب ہے ’’جدائی کے پہاڑ‘‘ یعنی وہ پہاڑ یا پہاڑ سی رکاوٹیں جنہوں نے ہمیں جدا کر رکھا ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ میں شارون کی نرگس اور وادیوں کی سوسن ہوں۔
۲ جیسی سوسن جھاڑیوں میں ویسی ہی میری محبوبہ کنواریوں میں ہے ۔
۳ جیسا سیب کادرخت بن کے درختوں میں ویسا ہی میرا محبوب نوجوانوں میں ہے ۔میں نہایت شادمانی سے اُسکے سایہ میں بیٹھی اور اُس کا پھل میرے منہ میں میٹھا لگا ۔
۴ وہ مجھے مینحانہ کے اندر لایا اور اُسکی محبت کا جھنڈا میرے اُوپر تھا۔
۵ کشمش سے مجھے قراردو۔سیبوں سے مجھے تازہ دم کرو کیونکہ میں عشق کی بیمارہوں ۔
۶ اُسکا بایاں ہاتھ میرے سر کے نیچے ہے اور اُسکا دہنا ہاتھ مجھے گلے سے لگاتا ہے۔
۷ اَے یروشلیم کی بیٹیو!میں تمکوغزالوں اور میدان کی ہرنیوں کی قسم دیتی ہوں کہ تم میرے پیارے کو نہ جگاؤ نہ اُٹھاو جب تک کہ وہ اُٹھنا نہ چاہے۔
۸ میرے محبوب کی آواز !دیکھ وہ آرہا ہے!پہاڑوں پر سے کودتا اور ٹیلوں پر سے پھاندتا ہوا چلاآتا ہے ۔
۹ میرا محبوب آہو یا جوان ہرن کی مانند ہے۔دیکھ وہ ہماری دیوار کے پیچھے کھڑا ہے۔وہ کھڑکیوں سے جھانکتا ہے۔وہ جھنجریوں سے تاکتا ہے۔
۱۰ میرے محبوب نے مجھ سے باتیں کیں اور کہا اُٹھ میری پیاری !میری ناز نین!چلی آ۔
۱۱ کیونکہ دیکھ جاڑا گذرگیا ۔مینہ برس چکا اور نکل گیا ۔
۱۲ زمین پر پھولوں کی بہار ہے۔ پرندوں کے چہچانے کا وقت آپُہنچا۔اور ہماری سر زمین میں قمریوں کی آواز سُنائی دینے لگی ۔
۱۳ انجیر کے درختوں میں ہرے انجیر بکنے لگے۔اور تاکیں پُھولنے لگیں۔اُنکی مہک پھیل رہی ہے۔سو اُٹھ میری پیاری!میری جمیلہ !چلی آ۔
۱۴ اَے میری کبوتر ی جو چٹانوں کے دراڑوں میں اور کڑاڑوں کی آڑ میں پھپی ہے ! مُجھے اپنا چہرہ دِکھا۔مجھے اپنی آواز سُنا کیونکہ تو ماہ جبین اور تیری آواز شیرین ہے۔
۱۵ ہمارے لئے لومڑیوں کو پکڑو ۔اُن بچوں کو جو تاکستان خراب کرتے ہیں کیونکہ ہماری تاکوں میں پھول لگے ہیں۔
۱۶ میرا محبوب میرا ہے اور اُسکی ہوں۔وہ سوسنوں کے درمیان چراتا ہے۔
۱۷ جب تک دِن ڈھلے اور سایہ بڑھے تو پھر آ اَے میرے محبوب ! تو غزال یاجوان ہرن کی طرح ہو کر آ جو باتر کے پہاڑوں پر ہے۔