غزلُ الغزلات ۱

تفسیر

۱۔ کتاب کا عنوان (‏۱:‏۱)‏

’’غزل الغزلات‘‘ کے تعارُف میں کہا گیا ہے کہ یہ ’’سلیمان‘‘ کی غزل ہے۔ لیکن عبرانی کے الفاظ کا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ غزل سلیمان کے بارے میں ہے۔ 

۲۔ شو لمیت سلیمان کے دربار میں اپنے چرواہے محبوب کو یاد کرتی اور دربار کی خواتین کو اُس کے اور اپنے بارے میں بتاتی ہے (‏۱:‏۲۔۸)‏

۱:‏۲۔۴ شو لمیت اپنے چرواہے محبوب کے بوسوں کی آرزو مند ہے۔ وہ تصور کرتی ہے کہ وہ موجود ہے اور اُسے بتاتی ہے کہ ’’تیرا عشق مَے سے بہتر ہے۔‘‘ وہ اُس کی خوبیوں کو ’’عطر‘‘ سے تشبیہ دیتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اِسی سبب سے دوسری ’’کنواریاں‘‘ اُس پر عاشق ہیں۔ لیکن وہ خود بشدت چاہتی ہے کہ وہ آئے اور دعویٰ کرے کہ مَیں اُس کی ہوں۔ یروشلیم کی بیٹیاں اُس کی پیروی کرنے کی ناکام کوشش کریں گی۔ سلیمان بادشاہ شو لمیت کو اپنے ’’محل میں لے آیا‘‘ ہے۔ خیال ہے کہ وہ اُسے بھی اپنی حرم میں شامل کرنا چاہتا ہے‏، لیکن یہ سب کچھ شو لمیت کی مرضی کے خلاف ہے۔ جب یروشلیم کی بیٹیاں اُس کے محبوب کے بارے میں اُس کے جذبات کو اپنا لیتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ اُن کا اُس (‏شو لمیت کے محبوب)‏ کی تعریف کرنا درست اور بجا ہے۔

۱:‏۵‏،۶ دربار کی خواتین کی رنگت سفید ہے۔ اُن کے برعکس شو لمیت نے ’’تاکستانوں‘‘ کی نگہبان کی حیثیت سے بہت وقت ’’دھوپ‘‘ میں گزارا ہے۔ اِس لئے وہ ’’سیاہ فام‘‘ ہو گئی ہے‏، تو بھی ’’خوبصورت‘‘ ہے۔ 

۱:‏۷‏،۸ اُس کے خیالات اپنے محبوب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ وہ سوچتی ہے کہ نہ جانے وہ ’’اپنے گلہ کو کہاں چراتا‘‘ ہو گا اور ’’دوپہر‘‘ کو آرام کے لئے’’کہاں بٹھاتا‘‘ ہو گا۔ وہ سمجھ نہیں سکتی کہ مَیں اُس کے ہمراہ کیوں نہیں رہ سکتی اور مجھے دوسروں کے سامنے پردے میں رہنا پڑتا ہے۔ 

یروشلیم کی بیٹیاں اسے طعن آمیز انداز میں کہتی ہیں کہ ’’گلہ کے نقشِ قدم پر چلی جا‘‘ تُو اپنے محبوب کو پا لے گی۔

۳۔ سلیمان دوشیزہ شو لمیت کو عشقیہ باتوں سے فریفتہ کرنے کیکوشش کرتا ہے‏، لیکن وہ اُس کی خوشامد نہیں سنتی (‏۱:‏۹۔۲:‏۶)‏

۱:‏۹‏،۱۰ اب سلیمان شو لمیت کے سامنے اِظہارِ عشق شروع کرتا ہے۔ وہ اُسے ’’فرعون کے رتھ‘‘ کی زین پوش ’’گھوڑیوں‘‘ کی یاد دلاتی ہے۔ اُسے اُس کے ’’گال‘‘ چنیدہ زیوروں سے آراستہ اور ’’گردن‘‘ سونے اور ’’موتیوں کے ہاروں‘‘ سے مزین نظر آتی ہے۔ 

۱:‏۱۱ ادیبانہ ’’ہم‘‘ استعمال کرتے ہوئے وہ اُسے سونے کے زیورات کی پیش کش کرتا ہے جن پر ’’چاندی کے پھول‘‘ جڑے ہوئے ہیں۔ اِس کا مقصد اُس کے حسنِ زیبا کو نکھارنا ہے۔ 

۱:‏۱۲۔۱۴ شو لمیت سلیمان کی چاپلوسی اور لبھانے والی پیش کش سے متاثر نہیں ہوتی۔ وہ صرف اپنے محبوب کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔ جب تک ’’بادشاہ‘‘ دسترخوان پر بیٹھا کھانا کھاتا رہا دوشیزہ اُس مہک پر متوجہ رہی جس کا سرچشمہ خود اُس کے اپنے پاس تھا۔ یہ تھی ’’ مُر‘‘ کی ایک چھوٹی سی تھیلی جو اُس کے چرواہے کی نشانی تھی اور جسے وہ اپنے پاس چھپائے رکھتی تھی۔ اُس کے لئے اُس کا محبوب ’’عین جدی کے انگورستان سے مہندی کے پھولوں‘‘ کے گچھے کی خوشبو ہے۔

۱:‏۱۵ سلیمان اُسے پھر لبھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس دفعہ وہ اُس کے حُسن کی تعریف کرتا اور اُس کی ’’آنکھوں‘‘ کو کبوتروں سے تشبیہ دیتا ہے۔

۱:‏۱۶‏،۱۷ لیکن شو لمیت اِس گفتگو کو اپنے دل و دماغ میں دوسرا رُخ دے دیتی ہے۔ وہ اپنے محبوب سے کہتی ہے ’’دیکھ تُو ہی خوبصورت ہے اے میرے محبوب!‘‘ وہ تصور میں اپنے گھر کو دیکھتی ہے جہاں ’’پلنگ سبز‘‘ ہے اور اُوپر ’’دیودار‘‘ کے شہتیر اور پھیلی ہوئی ’’صنوبر‘‘ کی شاخیں اُس گھر کی چھت کی ’’کڑیاں‘‘ ہیں۔ اُن کے رومان اور عشق بازی کا ماحول محلاتی نہیں بلکہ دیہاتی اور گلہ بانی کا ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ سلیمان کی غزلُ الغزلات ۔
۲ وہ اپنے منہ کے چُوموں سے مُجھے چُومے۔کیونکہ تیرا عشق مے سے بہتر ہے۔
۳ تیرے عطر ی خوشبو لطیف ہے۔تیرا نام عطر ر ختیہ ہے۔اِسی لئے کنواریاں تجھ پر عاشق ہیں۔
۴ مجھے کھینچ لے ۔ ہم تیرے پیچھے دوڑینگی۔ بادشاہ مجھے اپنے محل میں لے آیا۔ہم تجھ میں شادمان اور مُسرور ہونگی ۔ہم تیرے عشق کا تذکرہ مے سے زیادہ کرینگی ۔وہ سچّے دِل سے تجھ پر عاشق ہیں۔
۵ اَے یروشلیم کی بیٹیو!میں سیاہ فام لیکن خوبصورت ہوں ۔قیدار کے خیموں اور سُلیمان کے پردوں کی مانند ۔
۶ مجھے مت تاکو کہ میں سیاہ فام ہوں کیونکہ میں دُھوپ کی جلی ہُوں میری ماں کے بیٹے مجھ سے ناخوش تھے۔اُنہوں نے مجھ سے تاکستانوں کی نگہبانی کرائی لیکن میں اپنے تاکستان کی نگہبانی نہیں کی۔
۷ اَے میری جان کے پیارے!مجھے بتا۔تو اپنے گلہ کو کہاں چراتا ہے اور دوپہر کے وقت کہاں بٹھات ہے کیونکہ میں تیرے رفیقوں کے گلّوں کے پاس کیوں ماری ماری پُھروں؟
۸ اَے عورتوں میں سب سے جمیلہ !اگر تو نہیں جانتی تو گلہ کے نقش قدم پر چلی جااور اپنے بزغالوں کو چرواہوں کے خیموں کے پاس پاس چرا۔
۹ اَے میری پیاری !میں نے تجھے فرعون کے رتھ کی گھوڑیوں میں سے ایک کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔
۱۰ تیرے گال مسُلسل زلفوں میں خوشنماہیں اور تیری گردن موتیوں کے باروں میں۔
۱۱ ہم تیرے لئے سونے کے طوق بنا ئینگے ۔اور اُن میں چاندی کے پُھول جڑینگے ۔
۱۲ جب تک بادشاہ تناول فرماتا رہا میرے سُنبل کی مہک اُڑتی رہی۔
۱۳ میرا محبوب میرے لئے دسِتہ مرہے جورات بھر میری چھایتوں کے درمیان پڑا رہتاہے ۔
۱۴ میرا محبوب میرے لئے عین جدی کے انگورستان سے مہندی کے پھولوں کا گُچھاہے ۔
۱۵ دیکھ تو خوبرو ہے اَے میری پیاری !دیکھ تو خوبصورت ہے۔تیری آنکھیں دو کبوتر ہیں۔
۱۶ دیکھ تو ہی خوبصورت ہے اَے میرے محبوب !بلکہ مرغوب خاطر ہے۔ہمارا پلنگ بھی سبز ہے۔
۱۷ ہمارے گھر کے شہتیر دیودار کے اور ہماری کڑیاں صنوبر کی ہیں۔