۳- تنبیہ اور نصیحت (۱۰: ۱۹۔۱۳ :۱۷)
۱- مسیح کی حقارت نہ کرنے کے مُتعلق تنبیہ (۱۰: ۱۹۔۳۹)
۲۰،۱۹:۱۰- عہدِعتیق کے زمانہ میں لوگوں کو فاصلے پر رکھا جاتا تھا لیکن اب میسح میں اُن کو اُس کی صلیب پر بہائے گئے ’’خُون‘‘ کے ذریعہ نزدیکی حاصِل ہے۔ بدیں وجہ نزدیک آنے کے لئے ہماری حَوصلہ اَفزائی کی جاتی ہے۔
یہ نصیحت بتاتی ہے کہ اَب تمام ایمان دار کاہن ہیں کیونکہ ’’ہمیں یسُوع کے خُون کے سبب سے … پاک مکان میں داخِل ہونے کی دلیری ہَے‘‘۔ یہُودی نظام میں عام لوگوں کو پاک مکان اور پاک ترین مکان میں داخِل ہونا منع تھا۔ کاہن صِرف پہلے مکان میں اور صرف سردار کاہن دُوسرے مکان میں داخِل ہوسکتا تھا۔ لیکن اب سب کُچھ بَدل گیا ہے۔ خُدا کے پاس اسپیشل جگہ نہیں ہے جہاں صِرف اسپیشل لوگ ہی اُس کے پاس آسکتے ہیں۔ اِس کے برعکس تمام ایمان دار خواہ اُن کا تعلق زِمین کے کِسی حِصّہ سے بھی کیوں نہ ہور بذریعہ ایمان ہر وقت اُس کے پاس آ سکتے ہیں۔
اب ہمیں ایک ’’نئی اور زِندہ راہ‘‘ سے رسائی حاصل ہے۔ یہاں ’’نئی‘‘ کا مطلب ’’نیا نیا ذَبح شُده‘‘ یا ’’نئی نئی بنائی گئی‘‘ راہ ہو سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ’’زِندہ‘‘ کا اِشارہ جی اُٹھے مسیح کی طرف ہے۔ پس یہ اِشارہ ’’زندہ‘‘ نجات دہندہ کی طرف ہے۔ یہ راہ ’’پَردہ یعنی اپنے جِسم میں سے ہو کر‘‘ ہمارے واسطے کھولی گئی ہے۔ یہاں صاف ظاہر ہے کہ خیمہ کے دو مکانوں کے درمیان ’’پردہ‘‘ مسیح کے جِسم کے مشابہ تھا۔ خُدا کی حضُوری میں ہمارے جانے کے لئے ضرُوری تھا کہ پردہ پھاڑا جاتا یعنی مَوت کے ذریعہ اُس کا جِسم توڑا جاتا۔ یہ ہمیں یاد دِلاتی ہے کہ ہم مسیح کی بے عجیب زِندگی کے ذریعہ خُدا کے نزدیک نہیں جاسکتے بلکہ اُس کی عوضی مَوت کے ذریعہ۔ ہم صِرف بّرہ کی مَوت کے حامِل زخموں کے وسیلے سے ہی اندر جا سکتے ہیں۔ جب بھی ہم دُعا یا پرستِش میں خدا کی حضُوری میں جاتے ہیں تو ہم یا د رکھیں کہ یہ حق ایک بھاری قیمت ادا کر کے ہمارے لئے خریدا گیا ہے۔
۲۱:۱۰- جب ہم خُدا کی حضُوری میں جاتے ہیں تو نہ صِرف ہمیں پُورا پُورا اعتماد ہوتا ہے بلکہ ہمارا ایک ’’بڑا کاہن ہے جو خُدا کے گھر کا مُختار ہے‘‘۔ اگرچہ ہم کاہن ہیں (۱۔ پَطرس ۱۹:۲؛ مُکاشفہ ۱: ۶) تاہم ہمیں اب بھی کاہن کی ضرُورت ہے۔ ہمارا ’’سردار کاہن‘‘ مسیح ہے اور اُس کی مَوجُودہ خِدمت ہمیں یقین دِلاتی ہے کہ خُدا کے حضُور ہمیں ہر وقت خُوش آمدید کہا جائے گا۔
۲۲:۱۰- ’’تو آؤ ہم … خُدا کے پاس چلیں‘‘۔ یہ خُون خریدے ایمان داروں کا حق ہے۔ یہ کتنی شان دار بات ہے! اِسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا کہ ہمیں دُنیا کے حاکِموں کے پاس نہیں بلکہ اِس کائنات کے حاکِم مُطلِق کے پاس آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ہم اِس دعوت کی کِتنی قَدر کرتے ہیں یہ اِس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ ہم اِس حق کو کہاں تک اِستعمال کرتے ہیں۔
یہاں یہ دِکھانے کے لئے کہ ہمیں رُوحانی طور پر اِس شاہانہ مکان میں کیسے داخِل ہونا چاہئے چار باتیں بیان کی گئی ہیں۔
۱۔ ’’سچّے دل سے‘‘۔ بنی اِسرائیل اپنے مُنہ سے اُس کی حَمد و تعریف اور اپنے ہونٹوں سے اُس کی عِزّت کرتے ہوئے خُدا کے پاس جاتے تھے لیکن اُن کے دِل اکثر اُس سے دُور رہتے تھے (متّی ۸:۱۵)۔ ہمیں خُدا کے پاس قطعی سنجیدگی سے جانا چاہئے۔
۲۔ ’’پُورے ایمان کے ساتھ‘‘۔ ہم خُدا کے پاس اُس کے وَعدہ پر پُورا اِعتماد کرتے ہُوئے اور اِس پُختہ قائلیت کے ساتھ جاتے ہیں کہ وُہ اپنی حضُوری میں بڑی رحمت سے ہمارا اِستقبال کرے گا۔
۳۔ ’’دِل کے اِلزام کو دُور کرنے کے لئے دِلوں پر چھینٹے لے کر‘‘۔ یہ صِرف نئی پیدائش سے رُونما ہو سکتا ہے۔ جب ہم مسیح پر ایمان لاتے ہیں تو ہم اُس کے خُون سے مستفیض ہوتے ہیں۔ جِس طرح اِسرائیلیوں نے اپنے دروازوں پر فسَح کے برّہ کا خُون چھڑکا تھا، اُسی طرح تشبیہاً ہم بھی اُس کا خُون اپنے دِلوں پر چھڑکتے ہیں۔ یہی ہمارے دِل کے اِلزام کو دُور کر دیتا ہے۔
۴۔ ’’بدن کو صاف پانی سے دھُلوا کر‘‘۔ یہ بھی تشبیہی زُبان ہے۔ ہمارا ’’بدن‘‘ ہماری زِندگی کی نمائِندگی کرتا ہے۔ ’’صاف پانی‘‘ کا اِشارہ ِیا تو پاک نوِشتوں کی طرف ہے (اِفسیوں ۵: ۲۶،۲۵) یا پاک رُوح کی طرف (یُوحنّا۷: ۳۷۔۳۹) یا پاک رُوح کا نوشتوں کو اِستعمال کرتے ہُوئے ہماری زِندگیوں کو روزمّرہ کی آلوُدگی سے پاک کرنے کی طرف۔ ہم مسیح کی مَوت کے وسیلہ سے گُناہ کے قصُور کی طرف سے ہمیشہ کے لئے پاک صاف کئے جا چُکے ہیں لیکن پاک رُوح کی معرفت کلام سے ہر روز گُناہ کی آلوُدگی سے پاک کئے جاتے ہیں (دیکھئے یُوحَنّا ۱۰:۱۳)۔ پَس ہم خُدا کی حضُوری میں جانے کے لئے چار شرائِط کو مختصراً سنجیدگی، یقین، نجات اور تقدیس کہہ سکتے ہیں۔
۲۳:۱۰- دُوسری نصیحت ’’اپنی اُمیّد کے اِقرار کو مضبُوطی سے تھامے‘‘ رہنا ہے۔ کِسی چِیز کو بھی یہ اِجازت نہیں دینی چاہئے کہ وُہ ہمیں ہمارے اِس ’’اقرار‘‘ سے دُور کر دے کہ ہماری ’’اُمید‘‘ صِرف مسیح میں ہے۔ اُن لوگوں کو جن پر مُستقبِل سے دستبردار ہونے، مَوجُودہ وقت کے لئے مسیح کی نادیدنی برکات کو چھوڑ دینے اور یہُودیت کی دِیدنی باتوں کو قبول کرنے کی آزمائِش آئی یاد دِلایا جاتا ہے کہ ’’جِس نے وَعدہ کیا ہے وُہ سچّا ہے‘‘۔ اُس کے وعدے کبھی جھُوٹے نہیں نِکلتے اور نہ جواُس پر بھروسا رکھتے ہیں اُنہیں مایُوسی کا مُنہ دیکھنا پڑتا ہے۔ نجات دہِندہ اپنے ’’وعدہ‘‘ کے مُطابق آئے گا اور اُس کے لوگ اُس کے ساتھ ہوں گے اور وُہ اُس کی مانند ہوں گے۔
۲۴:۱۰- ہمیں اپنے ساتھی ایمان داروں کی ’’محبّت‘‘ اور ’’نیک کام‘‘ کرنے میں حَوصلہ افزائی کرنی چاہِئے۔ نئے عہد نامہ کے لحاظ سے ’’محبّت‘‘ جذبات کا نام نہیں ہے بلکہ اِس کا تعلق اِرادہ سے ہے۔ ہمیں ’’محبّت‘‘ کرنے کا حُکم دِیا گیا ہے، اِس لئے یہ ایک ایسی شَے ہے جو ہم کرسکتے ہیں اور ہمیں کرنی چاہئے۔ ’’محبّت‘‘ جڑ ہے اور’’نیک کام‘‘ پھَل۔ ہم اپنے نمُونے اور تعلیم سے دُوسرے ایمان داروں کو اِس قِسم کی زِندگی بَسرکرنے کی ’’ترغیب‘‘ دے سکتے ہیں۔
۲۵:۱۰- پھر ہمیں ’’جمع‘‘ ہوتے رہنا چاہئے اور جَیساکہ ’’بعض‘‘ لوگوں کا دستُور ہے مقامی جماعت میں شامل ہونے سے ’’باز‘‘ نہ آئیں۔ ہم اِسے تمام ایمان داروں کے لئے ایک عام نصیحت کہہ سکتے ہیں کہ وُہ اپنی اپنی کلیسیا کی عبادتوں میں وفاداری سے شریک ہوتے رہیں۔ ہمیں مُشترکہ عِبادت اور خِدمت سے یقیناً قوّت اور تسلّی، تازگی اور خُوشی مِلتی ہے۔ اِسے ایذارسانی میں مُبتلا مسیحیوں کے لئے ایک خاص حوصلہ افزائی بھی سمجھنا چاہئے۔ ایک شخص پر یہ آزمائِش آسکتی ہَے کہ وُہ گرفتاری، ملامت و شرمندگی اور دُکھ تکلیف سے بچنے کے لئے کلیسیائی رفاقت سے الگ ہو جائے اور خُفیہ شاگِرد بن جائے۔ لیکن بنیادی طور پر یہ آیت ارتداد کے خِلاف ہے۔ یہاں مقامی جماعت سے مُنہ موڑ لینے کا مطلب مسیحیت سے برگشتہ ہونا اور یہُودیت کی طرف پھِرنا ہے۔ جب یہ خط لِکھا گیا تو بعض یہی کر رہے تھے۔ مسیح کی آمد کے قریب ہونے کے پیشِ نظر خاص طور پر ایک دُوسرے کو نصیحت کرنے کی ضرُورت تھی۔ جب مسیح آئے گا تو وُہ ایماندار جن کی تحقیر کی جاتی ہے، جنہیں دُکھ دیا جاتا ہے اورجِن کا حُقّہ پانی بند کر دیا جاتا ہے سرفراز ہوں گے۔ اُس وقت تک اُنہیں مُستقِل مزاجی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کی ضرُورت ہے۔
۲۶:۱۰- اَب مُصنِّف چوتھا سخت اِنتباہ کرتا ہے۔ یہ پہلے تین اِنتباہوں کی مانند مسیح کا انکار کرنے کے بارے میں ہے۔ یہاں اِسے ’’جان بُوجھ کر گُناہ‘‘ کرنا کہا گیا ہے۔
جیسا کہ پہلے بتایا جا چُکا ہے مسیحیوں میں اِس گُناہ کی نوعیّت کے بارے میں خاصا اِختلاف پایا جاتا ہے۔ مختصراً مَسئلہ یہ ہے کہ یہ کِس کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔
(۱) حقیقی مسیحیوں کی طرف جو بعد میں مسیح سے پھِر گئے اور دوزخ کے وارِث بن گئے۔
(۲) حقیقی مسیحیوں کی طرف جو سُست پڑ گئے لیکن اب تک نجات یافتہ ہیں۔
(۳) جو کُچھ عرصہ تک اپنے آپ کو مسیحی کہتے رہے اور مقامی کلیسیا میں شامل بھی رہے لیکن پھِر دِیدہ دانِستہ مسیح سے مُنہ موڑ لیا۔ وُہ کبھی بھی حقیقی طور پر نَوزاد نہیں تھے اور اَب وُہ کبھی نئے سِرے سے پَیدا نہیں ہو سکتے۔
اَب ہم خواہ کوئی بھی نظریہ کیوں نہ رکھتے ہوں، اُس میں بہر حال مُشکلات پائی جاتی ہیں۔ ہمارے نزدیک تیسرا نظریہ درُست ہے کیونکہ وُہ عِبرانیوں کے خط اور نئے عہدنامہ کی تعلیمات سے مُطابقت رکھتا ہے۔
آیت ۲۶ میں ارتداد کو ’’حق کی پہچان حاصِل کرنے کے بعد‘‘ جان بُوجھ کر گُناہ کرنا کہا گیا ہے۔ یہؔوواہ کی طرح اُس نے خُوشخبری کوسُنا ہے۔ وُہ رِاہ نجات کو جانتا ہے، یہاں تک کہ وُہ اُسے قبول کرنے کا ڈھونگ بھی رچائے ہُوئے ہے لیکن پھر اُس نے دیدہ دانِستہ اُسے ردّ کر دیا۔
اَیسے شخص کے لئے ’’گُناہوں کی کوئی اَور قُربانی باقی نہیں رہی‘‘۔ اُس نے حتمی طور پر ایک ہی بار دی گئی مسیح کی قُربانی کو ردّ کر دیا ہے۔ خدا کے پاس نجات کا کوئی اور راستہ نہیں جِسے وہ اُسے پیش کرتا۔ ایک لحاظ سے تمام گُناہ ہی ارادۃً ہوتے ہیں۔ لیکن مُصنِّف یہاں اِرتداد کو غیر معمُولی سنگینی کا ارادۃً گُناہ بیان کر رہا ہے۔
یہ حقیقت کہ مُصنِّف یہاں لفظ ’’ہم‘‘ اِستعمال کرتا ہے، ضُروری نہیں ہے کہ وُہ خود کو بھی اس میں شامل کرتا ہو۔ آیت ۳۹ میں وُہ یقینی طور پر اپنے آپ کو اور دِیگر ایمان داروں کو ابدی ہلاکت کے وارثوں سے باہر رکھتا ہے۔
۲۷:۱۰- اب صِرف ’’عدالت کا ایک ہولناک اِنتظار‘‘ باقی ہے۔ بچنے کی کوئی اُمیّد نہیں۔ مُرتد کو توبہ کے لئے دنیا بنانا نا ممکن ہے (۴:۶)۔ وُہ اپنے آپ کو جان بُوجھ کر اور قصداً مسیح میں خُدا کے فضل سے الگ کر لیتا ہَے۔ اُس کے لئے ’’وُہ غضبناک آتِش باقی ہے جو مخالِفوں کو کھالے گی‘‘۔ اِس بات پر بَحث کرنا کہ آیا یہاں آگ سے مُراد واقعی آگ ہے بے معنی ہے۔ یہاں جو زبان اِستعمال ہُوئی ہے اُس کا مقصد اُس سَزا کے متعلق محض یہ بتانا ہے کہ وُہ نہایت سخت ہوگی۔ غَور کریں کہ خُدا یہاں مُرتدوں کو ’’مخالفوں‘‘ کہتا ہے۔ یہ غیر جانبداری کو نہیں مسیح کی مُخالفت کو ظاہر کرتا ہے۔
۲۸:۱۰- عہدِعتیق میں شریعت کے عدُول کرنے والے کی جو سزا تھی اُس سے مُقابلہ کرتے ہُوئے اب یہاں مُرتد کی سزا کو اُس سے کہیں بڑی بتایا گیا ہے۔ اگر ایک شخص بُت پرستی کرکے ’’مُوؔسیٰ کی شریعت‘‘ کو توڑتا تھا اور ’’دو یا تِین شخصوں کی گواہی سے‘‘ اُس کا جُرم ثابت ہوجاتا تھا تو وُہ ’’بغیر رحم کئے مارا جاتا‘‘ تھا (اِستثنا ۲:۱۷-۶)۔
۲۹:۱۰- مُرتد ’’زیادہ سَزا کے لائق‘‘ ہوگا کیونکہ اُس کا اِستحقاق کہیں بڑا تھا۔ اُس کے گُناہ کے شرِعظِیم کو اُن تِین اِلزامات میں دیکھا جا سکتا ہے جو اُس کے خِلاف لگائے گئے ہیں:
۱۔ اُس نے ’’خُدا کے بیٹے کو پامال کِیا‘‘۔ یہ اِقرار کرنے کے بعد کہ وُہ مسیح کا پیروکار ہَے، اب وُہ بڑی ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ وُہ مسیح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔ وُہ اَب مسیح کی بطور نجات دہندہ ضُرورت کا اِنکار کرتا ہے اور اُس کو بطور خُداوند قطعی طور پر رَدّ کرتا ہے۔
جاؔپان میں ایک صلیب ہے جِسے حکومت ایذا رسانی کے دنوں میں اِستعمال کرتی تھی۔ اُسے زمِین پر رکھ دیا جاتا اور ہر ایک کومسیح کی مُورتی کے چہرے کے اُوپر سے گُزرنے کو کہا جاتا۔ عام لوگ تو بِلا جھجک اُس کے چہرے پر سے گُزر جاتے لیکن حقیقی مسیحی اِنکار کر دیتے اور نتیجے میں قتل کر دئے جاتے۔ کہانی آگے چل کر بتاتی ہے کہ لوگوں کے اُس پر چلنے سے مُورتی کا چہرہ مسخ ہو گیا اور دُھندلا پڑ گیا تھا۔
۲۔ اُس نے’’عہد کے خُون کو جِس سے وُہ پاک ہؤا تھا نا پاک جانا‘‘۔ وُہ مسیح کے ’’خُون‘‘ کو بے فائِدہ اور ناپاک جانتا ہے جو نئے عہد کی توثیق کرتا ہے۔ خارجی اِستحقاق کے سِلسلے میں وُہ اِس’’خُون‘‘ کے سبب سے الگ کیا گیا تھا مسیحی لوگوں کے ساتھ صُحبت کے باعث وُہ پاک کیا گیا، جِس طرح کہ ایک ایمان دار بِیوی کے سبب سے ایک بے اِعتقاد شوہر پاک ٹھہرتا ہے (۱۔ کر نیقیوں ۱۴:۷)۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُسے نجات مِل گئی ہے۔
۳۔ اُس نے ’’فضل کے رُوح کو بے عِزّت کِیا‘‘۔ انجیل کے بارے میں خُدا کے رُوح نے اُس کے ذہن کو روشن کِیا، گُناہ کے بارے میں قائِل کیا اور مسیح کی طرف اِشارہ کِیا کہ صِرف وُہی اُس کی رُوح کی پناہ گاہ ہے۔ لیکن اُس نے اُس پُر فضل ’’رُوح‘‘ کی اور جو نجات اُس نے پیش کی اُس کی تحقیر کرنے سے ’’بیعزّتی‘‘ کی۔
۳۰:۱۰- خُدا کے پیارے بیٹے کو دِیدہ دانِستہ ردّ کرنا ایک اَیسا گُناہ ہے جو بے حَد اہمیّت کا حامِل ہے۔ خُدا اُن سب کی جو اُس کے قصُوروار ہوں گے عدالت کرے گا۔ اُس نے کہا ہے ’’اِنتقام لینا میرا کام ہے۔ بَدلہ مَیں ہی دُونگا‘‘ (دیکھئے اِستثنا ۳۲ : ۳۵)- یہاں ’’اِنتقام‘‘ کا مطلب پُورا پُورا اِنصاف ہے۔ جب یہ لفظ خُدا کی نِسبت اِستعمال ہوتا ہے تو اِس میں کِینہ پَروری یا حِساب چُکانے کا خیال نہیں پایا جاتا۔ اِس کا مطلب صِرف اِتنا ہے کہ ایک شخص جِس چِیز کا حقیقتاً حقدار ہے وُہی اُسے مِلے گی۔ چونکہ ہم خُدا کی سیرت اور کردار کو جانتے ہیں اِس لئے ہمیں یقین ہے کہ وُہ اپنے فرمان کے مُطابق ہی ایک مُرتد سے پیش آئے گا۔
اور پھر یہ کہ ’’خُداوند اپنی اُمّت کی عدالت کریگا‘‘۔ وُہ لوگ جو حقیقتاً اُس کے ہیں خُدا اُن کی عدالت کرے گا اور بَدلہ دیگا لِیکن یہاں آیت ۳۰ میں بدکار لوگوں کی عدالت کی طرف اِشارہ ہے۔
اگرچہ مُرتدوں کو ’’اپنی اُمّت‘‘ کہنا مُشکلات پیدا کرتا ہے، تاہم ہمیں یا درکھنا چاہئے وُہ مخلُوق ہونے اور کُچھ عرصہ کے لئے اِقرار کرنے کے باعث اُس کے ہیں۔ وُہ اُن کا نجات دہندہ تو نہیں تاہم خالق ہے اور کِسی وقت اُنہوں نے اُس کے لوگ ہونے کا اقرار کیا تھا اگرچہ وُہ اُسے شخصی طور پر نہیں جانتے تھے۔
۳۱:۱۰- اِس سب کا دائِمی سبق یہ ہے کہ عدالت کے لئے خُدا کے’’ہاتھوں میں‘‘ پڑنے والے نہ ہوں کیونکہ یہ ’’ہولناک بات ہے‘‘۔
اِس حوالے کا مقصد، مسیح کے حقیقی پَیروکاروں کے ذہن کو پریشان کرنا نہیں ہے۔ یہ دیدہ دانستہ سخت لَفظ اِستعمال کئے گئے ہیں تاکہ مسیح کے نام کا اِقرار کرنے والوں کو خبردار کیا جائے کہ اُس سے برگشتہ ہونے کا نتیجہ کِتنا ہولناک نِکلتا ہے۔
۳۲:۱۰- باب ۱۰ کی باقی آیات میں مُصنِّف تِین زبردست وجُوہات بیان کرتا ہے کہ ابتدائی یہُودی مسیحیوں کو کیوں مسیح کا وفادار رہنا چاہیئے۔
۱۔ اُن کے ’’پہلے دِنوں‘‘ کا تجربہ اُنہیں تقویت دے۔
۲۔ اَجر ملنے کے وقت کی نزدیکی اُن کی تقویت کرے۔
۳۔ خُدا کی ناراضی کا خوف اُنہیں برگشتہ ہونے سے روکے۔
سب سے پہلے، اُن کا سابقہ تجربہ اُنہیں تقویت دے۔ جب اُنہوں نے مسیح پر اپنے ایمان کا اِقرار کیا تھا تو اُنہیں سخت مُصیبت اُٹھانی پڑی تھی۔ اُن کے خاندان اُن سے علیحدہ ہُوئے۔ اُن کے دوستوں نے تعلقات ختم کر دِئے اور اُن کے دُشمنوں نے اُنہیں خُوب ستایا تھا۔ لیکن اِن ’’مُصیبتوں‘‘ نے اُنہیں بُزدِل بنانے کی بجائے ایمان میں اَور بھی مضبُوط بنا دِیا۔ بِلاشُبہ اُنہیں خوشی تھی کہ وُہ اُس کے نام کی خاطر بے عِزّت ہونے کے لائِق تو ٹھہرے (اعمال ۵: ۴۱)۔
۳۳:۱۰- بعض اوقات اُنہیں انفرادی طور پر دُکھ اُٹھانے پڑے تھے۔ وُہ اُنہیں فرداً فرداً پکڑ کر لے گئے اور کھُلے عام اُن پر لعنت ملامت کی اور تشدد کِیا۔ دِیگر موقعوں پراُنہیں دُوسرے مسیحیوں کے ساتھ دُکھ اُٹھانا پڑا۔
۳۴:۱۰- وُہ اُن لوگوں سے جو مسیح کی خاطر قید میں تھے مِلنے سے نہیں گھبراتے تھے حالانکہ اُنہیں ہمیشہ ہی خطرہ تھا کہ اُن پر اُن کے ساتھی ہونے کا اِلزام لگتا۔
جب اُن کا ’’مال‘‘ حُکّام نے ضبط کر لیا تو اُنہوں نے اِسے ’’خُوشی سے منظُور کیا‘‘ اُنہوں نے دُنیاوی مال و اسباب کی بجائے یسؔوع کے وفادار رہنے کو چُنا۔ وُہ جانتے تھے کہ اُن کے پاس ’’ایک غیر فانی اور ہے داغ اور لازوال میراث‘‘ ہے (۱۔ پطرس ۴:۱)۔ یہ سَچ مُچ الہیٰ فضل کا ایک معُجزہ تھا کہ وُہ دُنیاوی مال و دولت کو اِتنا بے وُقعت سمجھنے کے قابل بن گئے تھے۔
۳۵:۱۰- دُوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ’’اجر‘‘ مِلنے کے وقت کا قریب ہونا انہیں تقویت دے گا۔ اپنی گُزشتہ زِندگی میں اِتنا کُچھ برداشت کرنے کے بعد اب اُنہیں ہتھیار نہیں ڈال دینا چاہئے۔ درحقیقت مُصنِّف انہیں یہ کہہ رہا ہے کہ ’’اپنے آنسُوؤں کے ساتھ بوئی جانے والی فصل کو کاٹنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دو‘‘ (ایف ۔ بی ۔ مؔائر)۔ اب وُہ پہلے کی نسبت خُدا کے وَعدے کے پُورا ہونے کے زیادہ نزدیک تھے۔ اب مُنحرف ہونے کا وقت نہیں تھا۔
اب اپنے ایمان کو مت گنواؤ کیونکہ اِس کا تُمہیں آئِندہ جہان میں اچھّا اجر ملے گا۔
۳۶:۱۰- اُنہیں جِس چیز کی ضرُورت تھی وُہ ’’صبر‘‘ تھا۔ اُنہیں مُصمم اِرادے کی ضرُورت تھی کہ وُہ تشدّد و ایذا رسانی سے بچنے کے لئے مسیح کا اِنکار کرنے کی بجائے اُسے صبر سے برداشت کرتے رہیں۔ پھر ’’خُدا کی مرضی‘‘ کو پُورا کرنے کے بعد اُنہیں موعُودہ وعدہ ’’حاصِل‘‘ ہو جائے گا۔
۳۷:۱۰- متوقع اَجر خُداوند یسؔوع مسیح کی آمدثانی کے وقت مِلے گا۔ چنانچہ حبقوق ۳:۲ میں بتایا گیا ہے کہ ’’اب بُہت ہی تھوڑی مُدّت باقی ہے کہ آنے والا آئے گا اور دیر نہ کرے گا‘‘۔ حبقُوق میں یہ آیت یُوں ہے: ’’کیونکہ یہ رویا ایک مقررہ وقت کے لئے ہے۔ کیونکہ یہ یقیناً وقُوع میں آئے گی اور خطا نہ کرے گی۔ اگرچہ اِس میں دیر ہو تو بھی اِس کا مُنتظر رہ کیونکہ یہ یقیناً وقُوع میں آئے گی۔ تاخِیر نہ کرے گی‘‘۔
اے ۔ جے ۔ پوراکؔ تبَصرہ کرتا ہے :
جب کوئی مُلہم مُصنِّف عہدِعتیق سے اِقتباس پیش کرتا ہے تو وُہ صِرف اُتنا ہی لیتا ہے جو الہیٰ مَقصد کو پُورا کرتا ہو۔ گو وُہ اُس کا اِنکار تو نہیں کرتا لیکن وُہ اُسے اُن معنوں کے مطابِق پیش بھی نہیں کرتا جو عہدِعتیق میں دِئے گئے ہیں بلکہ زیادہ وسیع معنوں میں جو پاک رُوح نئے عہد نامہ میں لکھوانا چاہتا ہے … ماسوا خُدا، کوئی کلام پاک سے اَیسا نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت کہ ایسا کِیا گیا اور وُہ بھی وسیع پیمانہ پر اِس کے اِلہامی ہونے کا ایک اَور ثبُوت ہے۔ خُدا بائبل کا مُصنِّف ہے اِس لئے وہ اَپنے مَقصد کو پُورا کرنے کے لئے اپنے الفاظ تبدیل کر سکتا اور اُس میں اضافہ بھی کرسکتا ہے۔ لیکن اگر ہم میں سے کوئی کلام سے اِقتباس پیش کرے تو اُسے بعینہ کرنا چاہئے۔ ہمیں اُس میں سے ایک شوشہ بھی تبدیل کرنے کا حق نہیں ہے۔ لیکن کتاب کا مُصنِّف یہ کر سکتا ہے۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وُہ کون سا قلم اِستعمال کرتا ہے، خواہ وُہ مُوؔسیٰ ہو، ایلؔیاہ ہو، پطؔرس ہو، پَولُسؔ ہو، متّیؔ ہو یا یُوحَنّا، وُہ سب اُسی کی تحریر ہے۔
۳۸:۱۰- صبر سے برداشت کرنے کا آخری مقصد خُدا کی ناراضی کا ڈر ہے۔ حبقوق سے اقتباس کو جاری رکھتے ہُوئے مُصنِّف یہ دِکھاتا ہے کہ وُہ زِندگی جو خُدا کو خُوش کرتی ہے ’’ایمان‘‘ کی زِندگی ہے:
’’میرا راست باز بندہ اِیمان سے جیتا رہے گا‘‘۔ یہ وُہ زِندگی ہے جو خُدا کے وعدوں کی قدر کرتی، جو نادیدنی کو دیکھتی اور جو آخر تک قائِم رہتی ہے۔
دُوسری طرف وُہ زِندگی جِس سے خُدا نا خوش ہوتا ہے اُس آدمی کی ہے جو المسیح کو ردّ کرتا اور ہیکل کی منسُوخ شُدہ قُربانیوں کی طرف لوٹ جاتا ہے: ’’اگر وُہ ہٹیگا تو میرا دِل اُس سے خُوش نہ ہوگا‘‘۔
۳۹:۱۰- مُصنِّف فوراً اپنے آپ کو اور اپنے ساتھی ایمان داروں کو اُن سے جو ’’ہلاک‘‘ ہونے والے ہیں الگ کر لیتا ہے۔ اِس سے مُرتد، حقیقی مسیحیوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔ مُرتد ’’ہٹنے والے‘‘ ہیں اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔ حقیقی ایمان دار ’’ایمان رکھنے والے‘‘ ہیں اور یُوں اپنی رُوحوں کو مُرتدوں کے انجام سے بچالیتے ہیں۔
اِیمان کے اِس بیان سے ایسی زِندگی پر مکمّل بحث کرنے کے لئے زمین تیار ہو جاتی ہے جو خُدا کو خُوش کرتی ہے۔ چنانچہ گیارہواں باب اس نُکتہ کی خُوب وضاحت کرتا ہے۔
ب۔ عہدِعتیق کی مثالوں سے اِیمان رکھنے کی نصیحت (باب۱۱)
۱:۱۱- یہ باب صبر سے ’’ایمان‘‘ رکھنے کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ ہمیں عہدِعتیق کے اُن مردوزَن سے مُتعارف کراتا ہے جو صاف صاف رویا رکھتے تھے اور جنہوں نے اپنے ایمان پر قائِم رہنے کے باعث بے حد شرمندگی اور دُکھ تکلِیف برداشت کئے۔
پہلی آیت درحقیقت ایمان کی تعریف نہیں ہے بلکہ یہ بیان کرتی ہے کہ ’’ایمان‘‘ ہمارے لئے کیا کرتا ہے۔ یہ’’اُمید کی ہُوئی چیزوں‘‘ کو ایسے حقیقی بنا دیتا ہے گویا کہ وُہ پہلے ہی ہمارے پاس ہیں۔ اور یہ ناقابلِ تردید ’’ثبُوت‘‘ مُہّیا کرتا ہے کہ مسیحیت کی نادِیدنی رُوحانی برکات قطعی حقیقی اور یقینی ہیں۔ بالفاظِ دِیگر، مُستقبِل کو حال میں لے آتا اور نادِیدنی کو دیدنی بنا دیتا ہے۔
’’ایمان‘‘، خُدا کے بھروسا کے لائِق ہونے پر اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ اِس بات کی قائلیت ہے کہ جو کُچھ خُدا کہتا ہے سچ ہے اور کہ اُس کے وَعدے یقیناً پُورے ہوں گے۔
لازِم ہے کہ اِیمان کی بُنیاد خُدا کا کوئی مکاشفہ اور وَعدہ ہو۔ یہ تاریکی میں چھلانگ لگانا نہیں ہے۔ اِس کا یقینی ثبوت خُدا کے کلام میں مِلتا ہے۔ یہ اِمکانات تک محدُود نہیں ہے بلکہ ناممکنات میں حملہ آور ہوتا ہے۔ کِسی کا قَول ہے کہ ’’ایمان وہاں سے شُروع ہوتا ہے جہاں پر اِمکانات ختم ہوتے ہیں۔ اگر اِمکان ہو تو پھِر اِس میں خُدا کے لئے کوئی جَلال نہیں رہتا‘‘۔
ایمان کی زِندگی مسائل اور مُشکِلات سے گھری ہوتی ہے۔ خُدا یہ دیکھنے کے لئے کہ ہمارا ایمان حقیقی ہے یا نہیں اُسے سخت آزمائِشوں میں سے گُزارتا ہے (۱۔ پطرس ۷:۱)۔ لیکن جِس طرح جارج مُلؔر نے کہا ہے ’’مشکِلات ہمارے ایمان کے لئے خوراک ہیں‘‘۔
۲:۱۱- چونکہ وہ دیکھے پر نہیں بلکہ ایمان سے چلتے تھے، اِس لئے پُرانے عہد کے بزُرگ خُدا کی نظر میں مقبُول ٹھہرے ۔ اِس باب کا باقی حِصّہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خُدا نے کِس طرح اُن کی گواہی دی۔
۳:۱۱- صِرف ’’اِیمان‘‘ ہی کے ذریعہ ہمیں تخلیق کے حالات معلوُم ہوتے ہیں۔ اُس وقت صِرف خُدا ہی تھا۔ وُہی ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کیَسے واقع ہُؤا۔ ہم اُس کے فرمان کو سچ مان لیتے ہیں اور یوں جان جاتے ہیں۔ ایک عالِم کہتا ہے: خُدا کا موجُودات سے پہلے موجُود ہونے کا خیال اور اپنے فرمان سے اُنہیں وجُود میں آنے کا حُکم دینا، دلائِل یا اثبات سے ماورا ہے۔ اِسے محض ایمان سے قبول کیا جاتا ہے‘‘۔
’ایمان ہی سے ہم معلوُم کرتے ہیں‘‘۔ دُنیا کہتی ہے ’’دیکھنا، ایمان ہے‘‘۔ خُدا کہتا ہے’’ایمان، دیکھنا ہے‘‘۔ یسؔوع نے مَرؔتھا سے کہا: ’’مَیں نے تُجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تُو ایمان لائے گی تو … دیکھے گی ؟‘‘ (یُوحَنّا۴۰:۱۱)- یُوؔحَنّا رسُول لِکھتا ہے : ’’مَیں نے تُم کو جو — ایمان لائے ہو یہ باتیں اِس لئے لکھیں کہ تُمہیں معلوُم ہو…‘‘ (۱- یُوحَنّا۱۳:۵)۔ رُوحانی باتوں میں ایمان، معلوُم ہونے سے پہلے آتا ہے۔ ’’عالَم خُدا کے کہنے سے بنے‘‘۔ خُدا کہا اور مادّہ وجُود میں آگیا۔ یہ اِنسان کی اس دریافت سے مکمّل طور پر مُطابقت رکھتا ہے کہ مادّہ قُوّت ہے۔ جب خُدا نے کہا تو آواز کی لہروں کی شکل میں قُوّت بہنے لگی۔ یہ مادّہ میں تبدیل ہوگئیں اور دُنیا وجُود میں آگئی۔
’’یہ نہیں کہ جوکُچھ نظرآتا ہے ظاہری چیزوں سے بنا ہے‘‘۔ قُوّت نادِیدنی ہے۔ اِسی طرح ایٹم، ذرّات اور گیس آنکھوں سے دیکھے نہیں سکتے۔
۴:۱۱- ایمان کے سُورماؤں کی فہرست میں آدؔم اور حؔوّا کو شامل نہیں کِیا گیا ہے۔ جب حؔوّا کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ خُدا سچ بول رہا ہے یا ابلیؔس تو اُس نے فیصلہ دیا کہ ابلِیؔسں ۔ لیکن اِس سے اِس کا اِنکار نہیں ہوتا کروُہ بعد میں ایمان سے بچے تھے جیسا کہ چمڑے کے کُرتوں سے ظاہر ہے۔
ایسا معلُوم ہوتا ہے کہ ’’باؔبل‘‘ کو کِسی نہ کِسی طرح عِلم تھاکہ گنہگار اِنسان بہائے گئے خُون کی بُنیاد پر خُدا کے حضُور جا سکتا ہے۔ مُمکِن ہے یہ اُس نے والدین سے سیکھا ہو جِنکی خدا کے ساتھ رفاقت چمڑے کے کُرتے پہننے سے بحال ہو گئی تھی (پیدائش ۲۱:۳)۔ بہر حال، اُس نے خُدا کے حضور خُون کی ’’قُربانی‘‘ لے کر جانے سے ’’ایمان‘‘ کا مظاہرہ کیا۔ قؔائن کی قُربانی پھَلوں اور سبزیوں پرمشتمل تھی اِس لئے خُون کے بغیر تھی۔ ہاؔبل ایمان کی معرفت فضل کے وسیلے سے نجات کو ظاہر کرتا ہے۔ قاؔئِن اِنسان کی اعمالِ حَسنہ سے اپنے آپ کو بچانے کی لاحاصِل کوشِش کی تصویر پیش کرتا ہے۔
جارج کٹؔنگ کہتا ہے: ’’اِس میں ہاؔبل کی کوئی شخصی خُوبی نہیں تھی کہ خُدا نے اسے راست باز گردانا بلکہ وُہ اُس قُربانی کے باعث جو اُس نے خُدا کے حضُور گُزرانی اور اپنے ایمان کے سبب سے مقبُول ٹھہرا‘‘۔ اور یہی حال ہمارا ہے۔ ہم اپنے کِردار یا نیک کاموں کی وجہ سے راست باز نہیں ٹھہرتے بلکہ مکمّل طور پرمسیح کی قُربانی اور ہمارے اُسے قبول کرنے سے۔
قائنؔ نے بابؔل کو قتل کر دیا کیونکہ شریعت فضل سے نفرت کرتی ہے۔ تقویٰ پرست شخص سچائی سے نفرت کرتا ہے۔ وُہ اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔ ضرُور ہے کہ وُہ خُدا کی محبّت اور اُس کی رحمت پر تکیہ کرے۔
لیکن ہابؔل کی گواہی لازوال ہے۔ وُہ اپنے ایمان کے ’’وسیلہ سے اَب تک کلام کرتا ہے‘‘۔
۵:۱۱- خُدا نے حنؔوک کو یہ وَعدہ یقیناً دیا ہو گا کہ وُہ مَوت کا مزہ چکھے بغیر ہی بہشت میں جائے گا۔ اُس وقت تک سب ہی مَر چُکے تھے، کوئی جلد کوئی بدیر۔ کوئی ایسا ریکارڈ نہیں تھا کہ کوئی مَرے بغیر آسمان پر’’اُٹھالیا‘‘ گیا ہو۔ لیکن خُدا نے وعدہ کیا اور حنؔوک اُس پر ایمان لایا۔ اِس سے زیادہ حِکمت والی بات کیا ہوسکتی ہے کہ مخلُوق اپنے خالِق پر ایمان لائے؟
اور ویسا ہی ہُؤا بھی۔ حنؔوک نادیدنی خُدا کے ساتھ تین سو سال تک چلتا رہا (پیدائِش۵: ۲۱۔۲۴) اور پھر وُہ ابدیت میں داخِل ہوگیا۔ ’’اُٹھائے جانے سے پیشتر اُس کے حق میں یہ گواہی دی گئی تھی کہ یہ خُدا کو پسند آیا ہے‘‘۔ اِیمان کی زِندگی ہمیشہ ہی ’’خُدا‘‘ کو خُوش کرتی ہے۔ وُہ اِس بات کو بُہت پَسند کرتا ہے کہ لوگ اُس پر بھروسا کریں۔
۶:۱۱- ’’بغیر ایمان کے اُس کو پَسند آنا نا مُمکِن ہے‘‘۔ ’’اِیمان‘‘ کی کمی کو ہمارے نیک کام خواہ کِتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں پُورا نہیں کر سکتے۔ اِتنا کُچھ کہنے اور کرنے کے بعد بھی جب کوئی خُدا پر ایمان رکھنے سے اِنکار کرتا ہے تو وُہ اُسے جھُوٹا ٹھہراتا ہے: ’’جِس نے خُدا کا یقین نہیں کِیا اُس نے اُسے جھوٹا ٹھہرایا‘‘ (۱- یُوحَنّا۱۰:۵)- خُدا ایسے لوگوں سے جو اُسے جھُوٹا ٹھہراتے ہیں کَیسے خُوش ہو سکتا ہے؟
صِرف ایمان ہی ہے جو خُدا کو اُس کا مناسب مقام دیتا ہے اور ساتھ ہی آدمی کو بھی اُس کی مُناسب جگہ میں رکھتا ہے۔ سی ۔ ایچ ۔ میکنؔٹاش کہتا ہے کہ ’’اِس سے خُدا کو بے حَد جلال مِلتا ہے، کیونکہ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ پر نہیں بلکہ خُدا پر اِعتماد کرتے ہیں‘‘۔
ایمان، نہ صِرف اِس بات کا یقین کرتا ہے کہ خُدا موجُود ہے بلکہ وُہ یہ اِعتقاد بھی رکھتا ہے کہ خُدا ’’اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے‘‘۔ خُدا میں کوئی ایسی بات نہیں جِس سے اِنسان کا اُس پر ایمان لانا ناممکن ہو۔ مُشکل صِرف اِنسان کی مرضی میں ہے۔
۷:۱۱- ’’نؔوح‘‘ کے ’’ایمان‘‘ کی بُنیاد، خُدا کی یہ تنبیہ تھی کہ وُہ دُنیا کو پانی سے طُوفان کے ذریعہ تباہ کر دے گا (پیدائش ۱۷:۶)- اِنسانوں کو سیلاب کا تجربہ نہیں تھا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اَب تک بارِش نہیں ہُوئی تھی ( پیدائِش ۲: ۶،۵)- نوحؔ نے خُدا کا یقین کر کے ایک ’’کشتی‘‘ بنائی حالانکہ وُہ کِشتی رانی کے پانیوں سے بُہت دُور تھا۔ بِلاشُبہ یہ اُس کا تمسخر اُڑانے کا سبب بنا۔ لیکن نوؔح کے ایمان کا اجر مِلا۔ اُس کا ’’گھرانا‘‘ بچ گیا، اُس کی زِندگی اور گواہی سے ’’دُنیا کو مُجرم ٹھہرایا‘‘ گیا اور وُہ ’’اُس راست بازی کا وارث ہؤا جو ایمان سے ہے‘‘۔
ہو سکتا ہے کہ ابتدائی مسیحی جنہیں یہ خط لکھا گیا حیران ہوتے ہوں کہ اگر ہم حق بجانب ہیں تو ہم کیوں اِتنی چھوٹی اقلیت ہیں؟ نُوح انہیں یاد دِلاتا ہے کہ اُس کے زمانہ میں صِرف آٹھ جانیں حق بجانب تھیں اور باقی تمام دُنیا ہلاک ہو گئی۔
۸:۱۱- جب خُدا ’’ابرؔہام‘‘ پر کَسدیوں کے اُوؔر میں ظاہر ہؤا اور اُسے وہاں سے نِکلنے کو کہا تو غالباً وُہ بُت پرست تھا۔ اُس نے ’’ایمان‘‘ کی فرمانبرداری کرتے ہُوئے اپنا گھر اور مُلک چھوڑ دیا حالانکہ وُہ ’’جانتا نہ تھا‘‘ کہ اُس کی منّزِل کیا ہے۔ بِلاشُبہ اُس کے دوستوں نے اُس کی اِس بیوقوفی پراُس کا تمسخر اُڑایا ہو گا لیکن اُس کا رویّہ ایمان پر مبنی تھا۔
ایمان سے چلنا، اکثر، دُوسرے لوگوں کو نا عاقبت اندیشی اور بے پروائی نظر آتا ہے لیکن وُہ شخص جو خُدا کو جانتا ہے، آگے راستہ نہ جانتے ہُوئے بھی آنکھوں پر پٹّی باندھے چلنے پر تیار رہتا ہے۔
۹:۱۱- خُدا نے کنؔعان کا ’’مُلک‘‘ ابرہؔام کو دینے کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ حقیقی معنوں میں وُہ اُسی کا تھا۔ لیکن اِس کے باوجُود بھی اُس نے زمین کا ایک ٹکڑا خِریدا۔ یہ ایک کھیت تھا جِس کے غار میں اُس نے اپنے مُردوں کو دفن کِیا۔ وُہ کِسی مُستقِل جائے رہائِش میں رہنے کی بجائے ’’خیمہ‘‘ میں جو مُسافرت کا نِشان تھا رہنے پر مُطمئِن تھا۔ وقتی طور پر اُس نے کنؔعان میں اَیسے سفر کِیا گویا وُہ ’’غیر مُلک ہے‘‘۔ اُس کے مُسافرت کے ساتھی اُس کا بیٹا اور پوتا تھے۔ اُس کے خُدا پرستی کے نقش نے اُن پر بھی اپنا نقش چھوڑا، اگرچہ وُہ ’’اُس کے ساتھ اُسی وعدہ کے وارِث تھے‘‘ کہ وُہ مُلک اُن کا بھی ہوگا۔
۱۰:۱۱- ابرؔہام کی اپنی مِلکیت پر گرفت اِتنی ڈھیلی کیوں تھی؟ کیونکہ ’’وُہ اُس پایدار شہر کا اُمید وار تھا جِس کا معمار اور بنانے والا خُدا تھا‘‘۔ اُس نے اپنا دِل موجُودہ مادّی اَشیا پر نہ لگایا بلکہ ابدی چِیزوں پر۔ عبرانی میں لفظ شہر اور پایدار سے پہلے حرفِ تعریف ہے جو اُنہیں خاص بنا دیتا ہے۔ ایمان کے سلسلے میں صِرف ایک ہی ’’شہر‘‘ ہے جِس کا نام لیا جا سکتا ہے اور جِس کی بُنیاد ’’پایدار‘‘ ہے۔ اِس آسمانی شہر کا ’’مِعمار‘‘ خُدا ہے۔ یہ ایک مثالی شہر ہے۔ اِس میں نہ تو گَندی بستیاں ہیں، نہ آلُودہ ہَوا اور پانی ، اور نہ دُوسرے مسائل جو ہمارے بڑے بڑے شہروں کو متاثر کرتے ہیں۔
۱۱:۱۱- ’’ایمان ہی سے سؔارہ‘‘ کو ’’حامِلہ ہونے‘‘ کی قُوّقت مِلی جبکہ وُہ ۹۰ برس کی تھی۔ کلام سے صاف ظاہر ہے کہ وُہ ’’سنِّ یاس‘‘ کو پُہنچ چُکی تھی۔ یہ ایسی عُمر ہے جبکہ بچّہ پَیدا نہیں ہوسکتا۔ لیکن وُہ جانتی تھی کہ خُدا نے وَعدہ کیا ہے اور یہ بھی کہ وُہ اپنے الفاظ سے پھرے گا نہیں۔ اُس کا غیر مُتزلزل ایمان تھا، لِہٰذا اُس نے وَعدہ کرنے والے کو ’’سچّا جانا‘‘۔
۱۲:۱۱- جب اِضؔحاق پَیدا ہُؤا تو ابرہؔام ۹۹ برس کا تھا۔ اِنسانی لحاظ سے تو اُس کا باپ بننا ناممکن تھا، لیکن اِس کے باوجود بھی خُدا نے بے شمار اولاد کا وعدہ کِیا۔ اِضؔحاق کے وسیلہ سے اؔبرہام بیشمار زمینی خاندانوں یعنی عِبرانی قوم کا باپ بن گیا۔ مسیح کے وسیلہ سے وُہ ’’بے شمار‘‘ رُوحانی خاندانوں یعنی بعد کے زمانے کے سچّے ایمان داروں کا باپ بن گیا۔ ’’سمُندر کے کنارے کی ریت‘‘ غالباً جسمانی نَسل کی تصویر ہے جبکہ ’’آسمان کے سِتاروں‘‘ سے مُراد رُوحانی اولاد ہے۔
۱۳:۱۱- تمام بزرگ ’’ایمان کی حالت میں مَرے‘‘ وُہ الہٰی ’’وَعدوں‘‘ کو پُورا ہوتے دیکھنے تک زِندہ نہ رہے۔ مثلاً ابرؔہام نے اپنی بے شمار نسل کو نہ دیکھا۔ عبرانی قَوم نے اُس مُلک پر پُورے طور پر کبھی قبضہ نہ کیا جِس کا وَعدہ اُن سے کِیا گیا تھا۔ عہدِعتیق کے مُقدّسین نے بھی المسیح کے بارے میں وعدے کو پُورا ہوتے نہ دیکھا۔ لیکن اُن کے ایمان نے وَعدوں کو قریب آتے ضرُور دیکھا۔
اُنہوں نے محسُوس کیا کہ یہ اُن کا مُستقِل گھر نہیں ہے۔ وُہ ’’پردیسی اور مُسافر‘‘ ہونے پر مُطمِئن تھے۔ اُنہوں نے آرام و آسائِش سے اِنکار کیا۔ اُن کی خواہش تھی کہ وُہ دُنیا کے کِسی بھی کِردار کی چھاپ اپنے اُوپر لئے بغیر گُزر جائیں۔ اُن کے دِل میں مُسافرت تھی (زبُور۸۴: ۵)۔
۱۴:۱۱- اُن کی زِندگیاں صاف ظاہر کرتی تھیں کہ وُہ ’’وطن‘‘ کی تلاش میں ہیں۔ ایمان نے اُن کے دِل میں گھر کی خواہش کو بَسا دیا تھا جو کنؔعان کی خُوشیوں سے کبھی مُطمِئن نہ ہُوئی۔ اُن کے دِلوں میں ایک بہتر مُلک کی آرزُو ہمیشہ بَسی رہتی تھی جِسے وُہ اپنا وطن کہہ سکیں۔
۱۵:۱۱- جب مُصنِّف یہ کہتا ہے کہ وطن کی تلاش میں تھے تو وُہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ وُہ اُن کی پیدائش کے مُلک کی طرف اشارہ نہیں کر رہا ہے۔ اگر ابرہؔام مسوؔپتامیہ واپس جانا چاہتا تو ایسا کر سکتا تھا، لیکن اب وُہ اُس کا گھر نہ رہا تھا۔
۱۶:۱۱- اِس کی درُست تفسیر یہ ہے کہ وُہ ’’آسمانی مُلک‘‘ کی تلاش میں تھے۔ جب ہم یہ یاد کرتے ہیں کہ اِسرائیل کے ساتھ اکثر برکات کے وعدوں کا تعلق زمین سے تھا تو یہ بات اور بھی حیران کُن ہے کہ وُہ آسمانی وطن کی جُستجُو میں تھے۔ لیکن اُن کے پاس آسمانی اُمیّد بھی تھی اور اِس اُمّید نے اُنہیں اِس قابِل بنا دیا تھا کہ وُہ اِس دُنیا کو غیر مُلک سمجھیں۔
مُسافرت کی اِس رُوح سے خُدا خُوش ہُؤا۔ ڈاربؔی لِکھتا ہے کہ’’جِن کا دِل اور بخرہ آسمان میں ہے وُہ اُن کا خُدا کہلانے سے نہیں شرماتا‘‘۔ ’’اُس نے اُن کے لئے ایک شہر تیار کیا‘‘ اور وہاں اُن کو صحیح معنوں میں آرام، تسلّی اور کامل امن و سلامتی مِلتی ہے۔
۱۷:۱۱- اب ہم ابرؔہام کے ’’ایمان‘‘ کی سب سے بڑی آزمائِش کی طرف آتے ہیں۔ خُدا نے اُسے اپنے ’’اکلوتے‘‘ بیٹے اِضؔحاق کو قُربان کرنے کے لئے کہا۔ اُس نے بِلا جھِجک خُدا کی فرمانبرداری کی اور اپنے لختِ جِگر کو خُدا کے حضُور قُربان کرنے کو چل پڑا۔ خُدا نے اُس سے بے شُمار اولاد کا وعدہ کیا تھا۔ اِضؔحاق اُس کا ’’اکلوتا‘‘ بیٹا تھا۔ اب ابؔرہام ۱۱۷ برس کا اور ساؔرہ ۱۰۸ برس کی تھی۔
۱۸:۱۱- اِضحؔاق میں بے شُمار اَولاد کے وعدے کو پُورا ہونا تھا۔ ایمان کی آزمائِش یہ تھی: اگر ابرؔہام اضؔحاق کو قُربان کر دیتا ہے تو وعدہ کیَسے پُورا ہو گا؟ اِضحؔاق اب ۱۷ برس کا تھا اور غیر شادی شُدہ تھا۔
۱۹:۱۱- ابرؔہام جانتا تھا کہ خُدا نے کیا وعدہ کیا ہے۔ وُہ اِس نتیجہ پر پُہنچا کہ گر خُدا اُس کے بیٹے کی قُربانی چاہتا ہے تو وُہ اپنا وعدہ پُورا کرنے کے لئے اُسے ’’مُردوں میں سے‘‘ بھی جِلائے گا۔
اَب تک کلام میں کوئی ایسا واقعہ نِہیں مِلتا جہاں کِسی کو مُردوں میں سے جلایا گیا ہو۔ اِنسانی تجربہ میں اب تک یہ بات نہیں آئی تھی۔ حقیقی معنوں میں مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے خیال کا مُوجد ابرؔہام ہی تھا۔ خُدا کے وَعدہ پر ایمان نے اُسے اِس نتیجہ پر پُہنچایا کہ خُدا کو اُسے زِندہ کرنا پڑے گا۔ ’’تمثیل کے طور پر‘‘ اُسے اضؔحاق ’’مُردوں میں سے‘‘ واپس مِل گیا۔ اُس نے اس حقیقت کو قبُول کر لیا تھا کہ اِضؔحاق ضُرور ہی ذَبح کیا جائے گا۔ خُدا نے اُس کے اِس عمل کو سراہا۔ لیکن جیسے گراؔنٹ بڑے موزوں طریقے سے لِکھتا ہے: ’’خُدا نے ابرؔہام کے دِل کو دَرد اور ٹیسں سے بچا لیا لیکن وُہ اپنے آپ کو نہیں بچائے گا‘‘ ــــــــ اِضؔحاق کی جگہ ایک مَینڈھا مُہیا کیا اور اِکلوتا بیٹا اپنے باپ کے دِل اور گھر کو واپس مِل گیا۔
ہم ایمان کی اِس غیر معمُولی اور نمایاں مِثال کو چھوڑنے سے پیشتر دو نکات بیان کرنا چاہتے ہیں۔ پہلا، یہ کہ خُدا اصل میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ ابرہؔام اپنے بیٹے کو ذبح کرے۔ اِنسانی قُربانی کبھی بھی خُدا کی مرضی کے مُطابق نہیں تھی۔ اُس نے ابرؔہام کے ایمان کو آزما کر اپنے حُکم کو منسُوخ کر دیا۔
دُوسرا، ابرؔہام کا ایمان بے شُمار اولاد کے وعدہ کے سِلسلہ میں ایک سوسال تک آزمایا جاتا رہا۔ بزرگ ۷۵ سال کا تھا جب پہلے پہل اُس سے بیٹے کا وعدہ کیا گیا۔ اُس نے اضحؔاق کی پَیدائِش کے لئے ۲۵ سال اِنتظار کِیا۔ اِضؔحاق ۱۷سال کا تھا جب ابرؔہام اُسے کوہِ موؔریاہ پر خُدا کے حضُور قُربان کرنے کے لئے لے گیا۔ اِضحؔاق ۴۰ سال کا تھا جب اُس کی شادی ہُوئی اور شادی کے بِیس سال بعد اُس کے توام بیٹے پَیدا ہُوئے۔ جب ابرؔہام مَرا تو وُہ ۱۷۵ سال کا تھا۔ اُس وقت اُس کی اولاد میں ایک بیٹا (۷۵ سال) اور ۲ پوتے (۱۵ سال) تھے۔ اِس کے باوجُود بھی اُس نے ’’بے ایمان ہو کر خُدا کے وعدہ میں شک نہ کیا بلکہ ایمان میں مضبُوط ہو کر خُدا کی تمجید کی۔ اور اُس کو کامِل اِعتقاد ہؤا کہ جو کُچھ اُس نے وعدہ کِیا ہے وُہ اُسے پُورا کرنے پر بھی قادر ہے‘‘ (رومیوں۴: ۲۔۲۱)۔
۲۰:۱۱- بعض لوگوں کے لئے یہ سمجھنا مُشکِل ہے کہ اِضؔحاق، یعقوؔب اور یُوسُفؔ کے ایمان میں کونسی غیر معُمولی بات تھی جیسا کہ اگلی تِین آیات میں بیان ہُؤا ہے۔ اضؔحاق مردِ ایمان کی مشہُور فہرست میں اِس لئے شامِل ہؤا کہ اُس نے یعقوؔب اور عیؔسو کو مُستقبل کی برکات دیں۔ لیکن اِس میں کون سی خاص بات تھی؟
بچّوں کی پَیدائِش سے پیشتر خُدانے رِؔبقہ کو بتادیا تھا کہ بچّے دو قَوموں کے باپ ہوں گے اور بڑا
(عِیؔسو) چھوٹے (یعؔقوب) کی خِدمت کرے گا۔ عیؔسو، اِضحؔاق کا چہیتا تھا اور دستُور کے مُطابق بڑا بیٹا ہونے کے باعث وُہ قُدرتی طور پر اپنے باپ سے بہترین حِصّہ پاتا۔ لیکن رِؔبقہ اور یعؔقوب
نے اضؔحاق کو جِس کی نَظر اَب بُہت کمزور تھی دھوکا دیا اور یعقؔوب کو برکات کا بہترین حِصّہ مِل گیا۔ جب منصُوبہ ظاہر ہؤا تو اِضؔحاق شِدّت سے کانپنے لگا۔ لیکن اُسے خُدا کے الفاظ یاد تھے کہ بڑا چھوٹے کی خِدت کرے گا اور عیسؔو سے محبّت کے باوجُود وُہ اِس بات پر قائم رہا کہ خُدا کا فَیصلہ ضرُور ہی قبول کیا جائے۔
۲۱:۱۱- اگرچہ یعقوؔب کی زِندگی کے بُہت سے ابواب افسوس ناک ہیں، تاہم اُسے ایمان کے سُورما کے طور پر عِزّت دی گئی ہے۔ عُمر کے ساتھ ساتھ اُس کا کردار بہتر ہوتا گیا اور بالآخر وُہ پُر جلال ایمان کی حالت میں اِس دُنیا سے رُخصت ہؤا۔ جب اُس نے یُوسُؔف کے بیٹوں اِفرؔائیم اور منّؔسی کو ’’دُعا‘‘ دی تو اُس نے اپنے ہاتھ کو بَدل دیا تا کہ بڑے بیٹے کی برکت چھوٹے بیٹے افؔرائیم کو مِلے۔ یُوسُفؔ کے احتجاج کے باوجود یعؔقوب نے اِصرار کیا کہ برکت قائم رہے گی کیونکہ خُداوند کی ترتیب یہی تھی ۔اگرچہ اُس کی جِسمانی نظر کمزور تھی تاہم اُس کی رُوحانی بصیرت تیز تھی۔ اپنی زِندگی کے آخری منظر میں یعؔقوب ’’اپنے عَصا کے سرے پر سہارا لیکر‘‘ پرستِش کرتا نظر آتا ہے۔
۲۲:۱۱- یُوسُفؔ کا ’’ایمان‘‘ بھی ’’جب وُہ مَرنے کے قریب تھا‘‘۔ وُہ خُدا کے اِس وعدہ پر ایمان رکھتا تھا کہ وُہ ’’بنی اِسرائیل‘‘ کو مصِؔر سے نکالے گا۔ ایمان نے خرُوج کی پہلے ہی منظر کشی کر دی تھی۔ اُس کے نزدیک یہ بات اِتنی یقینی تھی کہ اُس نے اپنے بیٹوں کو ’’اپنی ہڈیوں‘‘ کو وہاں سے نکال کر کنؔعان میں دفن کرنے کی ہدایت کر دی۔ ولیمؔ لنکن لِکھتا ہے : ’’یُوں جبکہ وُہ مصؔر کی شان و شوکت سے گھِرا ہؤا تھا اُس کا دِل وہاں نہیں تھا بلکہ اپنے لوگوں اور اُن کے آئندہ جلال اور برکات میں‘‘۔
۲۳:۱۱- یہاں پر خُود ’’مُوؔسیٰ‘‘ کا نہیں بلکہ اُس کے ’’ماں باپ‘‘ کا ’’ایمان‘‘ پیشِ نظر ہے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ ’’بچّہ خُوبصورت ہے‘‘۔ لیکن یہ خُوبصورتی جسمانی خُوبصورتی سے کہیں زیادہ تھی۔ اُنہوں نے دیکھا کہ یہ بچّہ نصیبوں والا ہے، ایک ایسا جِسے خُدا نے خاص کام کے لئے مقرر کیا ہے۔ اُن کے اِس ایمان سے کہ خُدا کا مقصد پُورا ہو گا اُنہیں ’’بادشاہ کے حُکم‘‘ کو توڑنے اور بچّے کو ’’تین ماہ تک‘‘ چھُپائے رکھنے کے لئے بڑی ہمّت اور حوصلہ مِلا۔
۲۴:۱۱- ’’اِیمان ہی سے مُوؔسیٰ‘‘ نے بُہت مرتبہ اچھّا اِنکار کیا۔ اگرچہ مُوؔسیٰ مِصؔر کے محل کے آرام و آسائِش میں پلا بڑھا تھا اور اِنسان جِس چیز کی خواہش کر سکتا ہے حاصِل کر سکتا تھا لیکن اُس نے سیکھا کہ ’’چیزوں کو حاصِل کرنا نہیں بلکہ اُن کو ترک کرنا آرام کا باعث بنتا ہے‘‘
(جے ۔ گریگوری میؔنٹل)۔
سب سے پہلے اُس نے مِصّر کے باعث جوعِزّت و نام وری اُسے مِلتی اُس سے اِنکار کیا۔ ’’وُہ ’’فرعؔون کی بیٹی‘‘ کا لے پالک بیٹا تھا اِس لئے وُہ اشراف میں شامِل تھا اور مُمکن ہے وُہ فرعؔون کا جانشین بھی بن جاتا۔
لیکن وُہ خُدا کے برگزیدہ لوگوں میں پَیدا ہؤا تھا۔ وُہ مِصؔر کے شاہی مرتبہ کے لئے اِس شرف سے نیچے نہیں اُتر سکتا تھا۔ اپنے جوانی کے دِنوں میں اُس نے اپنا چُناؤ کیا۔ اُس نے چند سالہ زمینی عِزّت کے لئے اپنی حقیقی قومیّت کو نہیں چھپایا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ کِسی گمنام مقبرے پر تصویری تحریر میں چند سُطوُر لکھے جانے کی بجائے اُس کا نام خُدا کی ابدی کتاب میں مرقوم ہؤا۔ کسی عجائب گھر میں مِصری حنُوط شُدہ لاش کے طَور پر رکھے جانے کی بجائے اُس نے مَردِ خُدا کا نام پایا۔
۲۵:۱۱- دُوسرا، اُس نے مؔصر کا ’’لُطف‘‘ اُٹھانے سے اِنکار کیا۔ اپنی اِشتہا کو عارضی تسکین دینے کی بجائے اُس کے نزدیک ’’خُدا کی اُمّت‘‘ کے ہمراہ بَد سلُوکی برداشت کرنے کی زیادہ قدر و قیمت تھی۔ اُس کے نزدیک اپنے لوگوں کی بدسلُوکی میں شرِیک ہونا، فِرعؔون کے دربار کی عیاشی سے کہیں بڑا تھا۔
۲۶:۱۱- تِیسرا، اُس نے ’’مِصؔر کے خزانوں‘‘ کی طرف سے مُنہ پھیر لیا۔ ایمان نے اُسے یہ دیکھنے کے قابل بنا دیا تھا کہ مِصؔر کے بے بَہا خزا نے ابدیت کے مقابلے میں بے قدر ہیں۔ چنانچہ اُس نے اُس ’’لعن طعن‘‘ کو اُٹھانے کو مُنتخب کِیا جو بعد میں المسیح اُٹھانے کو تھا۔ اُس نے فرؔعون کی کُل دولت کے مُقابلے میں خُدا کے ساتھ وفاداری اور اپنے لوگوں کے ساتھ محبّت کو ترجیح دی۔ وُہ جانتا تھا کہ موت کے بعد یہی وُہ چِیزیں ہیں جو قدر و قیمت رکھتی ہیں۔
۲۷:۱۱- پھِر اُس نے مِصؔر کے بادشاہ کا اِنکار کِیا۔ ’’ایمان‘‘ کے ذریعہ دلیر ہونے کے باعث وُہ غُلامی کے گھر سے نِکل کھڑا ہؤا اور ’’بادشاہ کے غُصّہ‘‘ کی پَروا نہ کی۔ یہ دُنیا کی سیاست سے صاف ناتا توڑنا تھا۔ چونکہ وُہ خُدا سے زیادہ ڈرتا تھا اِس لئے وُہ فرعؔون سے نہیں ڈرتا تھا۔ اُس کی آنکھیں اُس پر لگی ہُوئی تھیں جو ’’مُبارک اور واحد حاکِم۔ بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداوندوں کا خُداوند ہے۔
بَقا صِرف اُسی کو ہَے اور وُہ اُس نُور میں رہتا ہے جِس تک کِسی کی رسائی نہیں ہو سکتی۔ نہ اُسے کِسی اِنسان نے دیکھا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔ اُس کی عِزّت اور سلطنت اَبد تک رہے۔ آمین‘‘
(۱۔ تیمُتھیُس ۶: ۱۵۔۱۶)۔
۲۸:۱۱- آخری بات، اُس نے مِصؔر کے مذہب کو ردّ کر دیا۔ اُس نے ’’فَسح‘‘ کو قائِم کرنے اور ’’خُون چھڑکنے‘‘ سے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے مصؔر کی بُت پرستی سے الگ کر لیا۔ اُس کے نزدیک نجات دریائے نؔیل کے پانیوں سے نہیں بلکہ بّرہ کے خُون سے تھی۔ چنانچہ اِسرائیل کے پہلوٹھے چھوڑ دئے گئے جبکہ مصؔر کے پہلوٹھوں کو ہلاک کرنے والے نے ہلاک کر دیا۔
۲۹:۱۱- پہلے پہل ایسا لگتا ہے کہ بحیرہ قُلزم عبرانی پناہ گُزینوں کو ہلاک کر دے گا۔ دُشمن اُن کا تُندی سے تعاقُب کر رہا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ وُہ پھنس گئے ہیں۔ لیکن خُدا کی تابع فرمانی کرتے ہُوئے وُہ آگے بڑھے اور پانی دو ٹکڑے ہو گیا: ’’خُداوند نے رات بھر تُند پُوربی آندھی چلا کراور سُمندر کو پیچھے ہٹا کر اُسے خُشک زمین بنا دیا اور پانی دو حِصّے ہوگیا‘‘ (خروج ۲۱:۱۴)۔ جب ’’مصریوں‘‘ نے اُن کے پیچھے جانے کی کوشِش کی تو اُن کے رتھّوں کے پہیئے نِکل گئے، پانی حسبِ معمُول اپنی جگہ پر آگیا اور فرعؔون کا سارا لشکر ’’ڈوُب‘‘ گیا۔ یُوں بحیرہ قُلزؔم اِسرائیلیوں کے لئے رہائی اور مصریوں کے لئے تباہی کا باعث بنا۔
۳۰:۱۱- کنؔعان کی فتح میں ’’یرؔیحُو‘‘ کا شہر پہلا فوجی ہدف تھا۔ عقل تو یہی دعویٰ کرے گی کہ اِس قِسم کے ناقابلِ تسخِیر قلعہ کو فتح کرنے کے لئے زیادہ برتر فوج کی ضُرورت ہوگی۔ لیکن ایمان کے طریقے مختلِف ہیں۔ خُدا اپنے مقصد کو پُورا کرنے کے لئے ایسے طریقے اختیار کرتا ہے جو آدمیوں کو بے وقوفی نظر آتے ہیں۔ اُس نے لوگوں کو شہر کے گِرد ’’سات دِن‘‘ تک چکر لگانے کو کہا۔ ساتویں دِن وُہ اُس کے گِرد سات مرتبہ پھرے۔ کاہنوں نے اپنے نرسِنگے زور سے پھُونکے، عوام نے نعرے مارے اور’’دیواریں‘‘ گِر پڑیں۔ فوجی ماہرین اِس قسم کے طریقہ کو ’’طِفلانہ‘‘ کھیل کہہ کر ردّ کر دیں گے۔ لیکن دِیواریں گِر پڑیں۔ رُوحانی جنگ کے ہتھیار دُنیاوی نہیں ہوتے، بلکہ وُہ رُوحانی قوت ہوتی ہے جو قلعوں کو ڈھا دیتی ہے (۲- کرنتھیوں ۴:۱۰)۔
۳۱:۱۱- ہمیں یہ علم نہیں کہ ’’راحؔب فاحشہ‘‘ کب یہؔوواہ کی پرستِش کرنے لگی۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ وُہ کرتی تھی۔ اُس نے کنؔعان کے جھُوٹے مذہب کو ترک کر دیا اور یہُودی مذہب کو قبُول کر لیا۔ جب جاسُوس اُس کے گھر آئے تو اُس کے ایمان کو سخت اِمتحان سے گُزرنا پڑا۔ کیا وہ اپنے مُلک اور ہم وطنوں کی وفادار رہے گی یا خُداوند کی؟ اُس نے فیصلہ کیا کہ خواہ اِس کا مطلب اپنے مُلک سے غدّاری کیوں نہ ہو وُہ خُداوند کا اِنکار نہیں کرے گی۔ ’’جاسُوسوں‘‘ کے ساتھ دوستانہ رویّہ اِختیار کرنے کے باعث وُہ اور اُس کا خاندان بچ گئے جبکہ اُس کے نافرمان پڑوسی ہلاک ہو گئے۔
۳۲:۱۱- اِس مقام پر مُصنِّف سُوال کرتا ہے: ’’اب اَور کیا کہُوں؟‘‘ اُس نے عہدِعتیق کے زمانہ سے اُن مَرد و خواتین کی فہرست پیش کی ہے جنہوں نے ایمان اور برداشت کا مظاہرہ کیا تھا۔ وُہ اپنے نکتہ کو واضح کرنے کے لئے کِتنے اور نام پیش کرے؟
اُس کے پاس مثالوں کی تو کوئی کمی نہیں تھی، تاہم وقت کی کمی تھی۔ تفصیل سے بیان کرنے کے لئے بُہت وقت درکار ہوگا اِس لئے وُہ صِرف چند اَور لوگوں کے ایمان کی آزمائِش اور فتح کی مثالیں ہی دیگا۔ اُن میں ’’جِدعَؔون‘‘ بھی شامِل تھا جِس کی فوج کو بتیس ہزار سے کم کر کے تین سو کر دیا گیا۔ پہلے جوتَرساں اور ہراساں تھے اُن کو واپس گھر بھیج دیا اور پھِر اُن کو جو اپنے آرام کا زیادہ خیال رکھتے تھے۔ جِؔدعون نے صِرف چند ہی سخت جان اور حقیقی شاگِردوں کے ساتھ مِدیانیوں کو شکست دی۔
پھر’’برؔق‘‘ تھا۔ جب اُسے کنعانیوں کے خِلاف اِسرائیلیوں کی راہنُمائی کرنے کو کہا گیا تو اُس نے اِس شرط پر قبول کِیا کہ دبؔورہ نبیہ اُس کے ساتھ جائے۔ اگرچہ وُہ اپنے کردار میں کمزور تھا، تاہم خُدا نے اُس میں حقیقی ایمان دیکھا اور اُسے مَردِ ایمان کی فہرست میں شامِل کر لیا۔
’’سمؔسُون‘‘ ایک اَور آدمی تھا جِس میں بُہت کمزوری پائی جاتی تھی۔ اِس کے باوجوُد بھی خُدا نے اُس میں ایمان دیکھا جِس کی مَدد سے اُس نے ایک جوان شیر کو اپنے ہاتھوں سے ہلاک کِیا، اسؔقلون میں تِیس فِلستی قتل کئے، گدھے کے جبڑے سے ایک ہزار فلستیوں کو مارا، غؔزّہ کے پھاٹکوں کو اکھاڑ دیا اور آخر میں دجؔون دیوتا کے مندر کو ڈھا دیا اور اپنی موت میں اِتنے زیادہ فلستیوں کو ہلاک کِیا کہ اتنے اُس نے اپنی ساری زِندگی میں بھی نہیں مارے تھے۔
اگرچہ’’افتؔاہ‘‘ کَسبی کا بیٹا تھا، تاہم اُس نے اپنے لوگوں کو عمُونیوں سے رہائی دلائی۔ وُہ اِس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ایمان، آدمی کو اُس کی پیدائش اور حالات سے بُلند اور خُدا کے لئے تاریخ رقم کرنے کے قابل بنا دیتا ہے۔
’’داؔؤد‘‘ کا ایمان جاتی جولیؔت کے ساتھ جنگ، ساؤؔل کے ساتھ شریفانہ سلُوک، صّؔیون کو فتح کرنے اور دِیگر بے شمار واقعات میں چمکتا ہے۔ مزامیر میں اُس کا ایمان توبہ، حمد وثنا اور پیشین گوئیوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ ’’سموئيل‘‘ اِسرائیلیوں کا آخری قاضی اور پہلانبی تھا۔ جبکہ کہانت رُوحانی تنزلی کا نشان بنی ہوئی تھی تو وُہ اپنی قوم کے لئے خُدا کا بندہ تھا۔ وُہ اِسرائیل کی تارِیخ میں ایک عظیم لیڈر تھا۔ اِس فہرست میں’’نبیوں‘‘ کو بھی شامل کر لیں۔ یہ خُدا کے نمائندوں کی شریف جماعت اور ایسے آدمی تھے جِن کا ضمیر جاگتا تھا اور جو جھُوٹ بولنے کی بجائے مَوت کو ترجیح دیتے اور جو مُجرم ضمیر کے ساتھ زمِین پر رہنے کی بجائے اچھّے ضمیر کے ساتھ آسمان پر جانا پسند کرتے تھے۔
۳۳:۱۱- اب مُصنِّف اِیمان کے سُورماؤں کے نام دینے کی بجائے اُن کے کارناموں کو بیان کرتا ہے۔
اُنہوں نے ’’سلطنتوں کو مغلُوب‘‘ کیا۔ یہاں ہمارا ذہن یشوؔع، قاضیوں (یہ درحقیقت فوجی راہنما تھے)، داؤؔد اور دِیگر کی طرف مُنعطف ہو جاتا ہے۔
اُنہوں نے ’’راست بازی‘‘ کے کام کئے۔ سلاطین مثلاً سلؔیمان، آسؔا، یہُوسؔفط، يوؔآس، حِزؔقياه اور یُوسؔیاہ کے دَورِ حکومت کو اِس لئے یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ اگر چہ وُہ کامِل تو نہ تھے، اُن کی حکُومت ’’راست بازی‘‘ پر مبنی تھی۔
اُنہوں نے ’’وعدہ کی ہُوئی چیزوں کو حاصل کیا‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ خُدا نے اُن کے ساتھ عہد باندھا، جیسے کہ ابؔرہام، مُوؔسیٰ، داؔؤد اور سؔلیمان کے ساتھ یا اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کے ساتھ خُدا کے وعدے پُورے ہوئے اور یُوں خُدا کے کلام کی سچائی ظاہر ہُوئی۔
اُنہوں نے ’’شیروں کے مُنہ بند کِئے‘‘۔ اِس سِلسلے میں داؔنی ایل ایک نُمایاں مثال ہے (دانی ایل ۲۲:۶) لیکن ہمیں سمؔسون (قُضاه۱۴: ۶،۵) اور داؔؤد کو بھی یاد رکھنا چاہئے (۱۔ سموئیل ۳۴:۱۷- ۳۵)۔
۳۴:۱۱- اُنہوں نے ’’آگ کی تیزی کو بُجھایا‘‘۔ آگ کی بھّٹی اُن تین عِبرانی نوجوانوں کی صِرف بیڑیوں ہی کو جلانے میں کامیاب ہُوئی لیکن اُنہیں کوئی ضرر نہ پُہنچا (دانی ایل ۳: ۲۵)۔ یُوں وُہ اُن کے لئے مُصیبت میں برکت ثابت ہوئی۔
وہ ’’تلوار کی دھار سے بچ نکلے‘‘۔ داؔؤد، ساؤؔل کے کینہ پَرور حملوں سے بچ گیا
(سموئیل ۹:۱۹ – ۱۰) ایلؔیاه ایؔزبل کی قاتلانہ عداوت سے محفُوظ رہا (۱- سلاطین ۱:۱۹-۳) اور الیشؔع شاہِ ارؔام سے بچ گیا (۲- سلاطین۶: ۱۹،۱۵)۔
اُنہوں نے ’’کمزوری میں‘‘ قُوّت حاصِل کی۔ ایمان کے واقعات میں ’’کمزوری‘‘ کے بُہت سے نشان مِلتے ہیں۔ اؔہود نے جوبَین ہتّھا تھا موآب کے بادشاہ کو قتل کر دیا (قضاۃ ۱۲:۳ – ۲۱) – یاؔعیل جو صنفِ نازُک کے طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، اُس نے مینچُو سے سؔیرا کو قتل کر دیا (قضاۃ ۴ : ۲۱)- جدؔعون نے مِدیانیوں کو شکست دینے کے لئے مٹّی کے گھڑے اِستعمال کِئے (قضاۃ ۷ :۲۰)۔ سمسؔون نے ایک ہزار فلستیوں کو قتل کرنے کے لئے گدھے کا جبڑا اِستعمال کِیا (قضاۃ ۱۵ : ۱۵)- یہ سب اِس سچّائی کو ظاہر کرتے ہیں کہ خُدا نے طاقتوروں کو شرمندہ کرنے کے لئے کمزور چِیزوں کو چُنا (۱۔ کرنتھیوں ۲۷:۱)۔ وُہ ’’لڑائی میں بہادر بنے‘‘۔ ایمان آدمیوں کو اُن کی فطری طاقت سے کہیں زیادہ قُوّت دیتا ہے اور اُنہیں اپنے سے بڑے مخالفین پر غالب آنے کے قابل بنا دیتا ہے۔ اُنہوں نے ’’غَیروں کی فَوجوں کو بھگا دِیا‘‘۔ اگرچہ اِسرائیل کی فَوجوں کے پاس نا کافی ہتھیار تھے اور
تعداد میں بھی بُہت کم تھیں تو بھی اُنہوں نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصِل کر کے اُنہیں اور دُوسروں کو حیران کر دیا۔
۳۵:۱۱- ’’عورتوں نے اَپنے مُردوں کو پھرزِندہ پایا‘‘۔ یہاں صاؔرپت کی بیوہ (۱۔ سلاطین ۲۲:۱۷) اور شونیمی عورت (۲- سلاطین ۴ :۳۴) پیشِ نظر ہیں۔
لیکن ایمان کا ایک دُوسرا رُخ بھی ہے۔ اُن کے علاوہ جنہوں نے حیران کُن کام انجام دِئے، ایسے لوگ بھی تھے جِنہوں نے بے حَد مُصیبت اُٹھائی۔ خُدا اوّل الذِّکر کی طرح موخرالذّکر کی بھی قدر کرتاہے۔ چونکہ وُہ خُداوند پر ایمان رکھتے تھے اِس لئے اُنہیں ظالمانہ تشدّد کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر وُہ یہؔوواہ کا اِنکار کر دیتے تو رہا ہو جاتے۔ لیکن اُن کے نزدیک زیادہ اچھّا یہ تھا کہ یہاں خُدا کے غدّار کے طور پر زِندگی بَسر کرنے کی نِسبت مَوت قبول کریں اور پھر آسمانی جلال کے لئے زِندہ کِئے جائیں۔ مکابیوں کے زمانہ میں انطاکؔس ایپفنؔیس نے یکے بعد دیگرے ایک دُوسرے کی آنکھوں کے سامنے ایک ماں اور اُس کے سات بیٹوں کو قتل کر دیا۔ اُنہوں نے رہائی منظُور نہ کی تاکہ ’’اُن کو بہتر قیامت نصیب ہو‘‘۔ یہ اِس زمین پر زِندگی بَسر کرتے رہنے سے کہیں اچھّا ہے۔
۳۶:۱۱- ’’بعض‘‘ کا تمسخُر اُڑایا گیا اور اُنہیں قید میں ڈالا گیا۔ خُدا کے ساتھ وفاداری کے باعث یرؔمیاہ بھی اِسی قِسم کی تمام سَزاؤں سے گُزرا (یرمیاہ۲۰: ۱۔۶؛ ۱۵:۳۷)۔ یُوسُفؔ کو بھی قید میں ڈالا گیا کیونکہ اُس نے گناہ کا مُرتکب ہونے کی بجائے دُکھ اُٹھانا قبول کِیا (پَیدائش ۲۰:۳۹)۔
۳۷:۱۱- وُہ ’’سنگسار کئے گئے‘‘۔ یسؔوع نے فقیہ اور فریسیوں کو یاد دلایا کہ اُن کے باپ دادا نے زکرؔیاہ کو مَقدِس اور قربان گاہ کے درمیان اِسی طریقے سے قتل کیا ( متّی۲۳: ۳۵)۔
وُہ ’’آرے سے چِیرے گئے‘‘۔ روایت کے مُطابق منؔسّی نے یَسعیاہ کو قتل کرنے کے لئے یہی طرِیقہ اِستعمال کیا۔
وُہ ’’آزمائِش میں پڑے‘‘۔ غالباً یہ شق اُس زَبردست دباؤ کو بیان کرتی ہے جو ایمانداروں پر بَدی سے سمجھوتا کرنے، گُناہ کرنے یا اپنے خُداوند کا اِنکار کرنے کے لئے ڈالا گیا۔
وُہ ’’تَلوار سے مارے گئے‘‘۔ اورؔیاہ نبی نے یہُؔویقیم بادشاہ کو خُدا کا پیغام وفاداری سے پُہنچانے کے باعث یہ قیمت ادا کی (یرمیاہ ۲۳:۲۶)۔ لیکن یہاں قِرینہ الفاظ قتلِ عام کو ظاہر کرتے ہیں جیسے کہ مکابیوں کے زمانہ میں ہؤا۔
وُہ ’’بھیڑوں اور بکریوں کی کھال اوڑھے ہُوئے مُحتاجی میں، مُصیبت میں، بد سلوکی کی حالت میں مارے مارے پھِرے‘‘۔
مؔورہیڈ لِکھتا ہے :
اگر وہ خُدا کا اِنکار کرتے اور کام کو جھُوٹا سمجھتے تو مکن تھا کہ وُہ ریشم اور کمخواب کا لباس پہنے ہوتے اور بادشاہوں کے محّلوں میں عَیش کرتے ہوتے۔ لیکن وُہ بھیڑوں اور بکریوں کی کھال اوڑھے اِدھر اُدھر پھرتے رہے۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو بھیڑوں اور بکریوں سے بہتر نہ سمجھا بلکہ وُہ اُن کی طرح صِرف ذبح کئے جانے کے قابل ہیں۔ اُنہوں نے بھُوک، تنہائی اور ایذا رسانی برداشت کی۔
۳۸:۱۱- دُنیا نے اُن کے ساتھ اَیسے سلوک کِیا گویا کہ وُہ زِندہ رہنے کے قابِل نہیں ہیں۔ لیکن پاک رُوح یہاں یہ بتاتا ہے کہ درحقیقت بات اِس کے اُلٹ تھی یعنی ’’دُنیا اُن کے لائِق نہ تھی‘‘۔
وُہ ’’جنگلوں اور پہاڑوں اور غاروں اور زمین کے گڑھوں میں آوارہ پھِرا کِئے‘‘۔ اُنہیں اپنے گھر سے نِکلنا پڑا، خاندان سے جُدا ہوئے، جانوروں کی طرح اُن کا پیچھا کیا گیا، سماج سے خارِج کئے گئے اُنہوں نے گرمی اور سَردی، اذیت اور مُشکلات برداشت کِیں، لیکن اپنے خُداوند کا اِنکار نہ کِیا۔
۳۹:۱۱- خُدا نے عہدِعتیق کے اِن سُورماؤں کی گواہی دی ہے لیکن اِس کے باوجُود بھی وہ ’’وعدہ‘‘ کی تکمیل سے پہلے وفات پاگئے۔ وُہ المسیح کی آمد کو جِس کے وُہ مُدّیت سے منتظر تھے نہ دیکھ سکے یا ان برکات سے لُطف اندوزہ نہ ہو سکے جو اُس کی خِدمت سے بہہ نِکلتی تھیں۔
۴۰:۱۱- ’’خُدا‘‘ نے ہمارے لئے ’’بہتر چِیز تجویز‘‘ کی ہے۔ اُس نے ایسا اِنتظام کِیا ہے کہ ’’وُہ ہمارے بغیر کامل نہ کِئے جائیں‘‘۔ جہاں تک گُناہ کا تعلق ہے وُہ کبھی بھی پُر تسکین ضمیر سے لُطف اندوز نہیں ہُوئے۔ اور وُہ اُس وقت تک آسمان میں خلالی جِسم سے پُورے طور پر لُطف اندوز نہیں ہوں گے جب تک کہ ہم سب ہَوا میں اُڑ کر اپنے خُداوند کا استقبال نہیں کریں گے (۱۔ تھسلنیکیوں ۱۳:۴ – ۱۸)- عہدِعتیق کے مُقدّسین کی رُوح خُداوند کی حضُوری میں کامِل ہَے (عبرانیوں ۱۲: ۲۳) لیکن اُن سے جِسم مُردوں میں سے اُس وقت تک نہیں جِلائے جائیں گے جب تک کہ خُداوند اپنے لوگوں کو لینے کے لئے نہیں آتا۔ اُس وقت وُہ جی اُٹھنے کے جلال کی کاملیت سے لُطف اندوز ہوں گے۔
بالفاظِ دیگر عہدعتیق کے ایمانداروں کو ہماری طرح مراعات حاصِل نہیں تھیں۔ لیکن اِس کے باوجُود بھی ذَرا اُن کی سنسنی خیز فتوحات اور آزمائِشوں پر سوچئے! ذرا اُن کے کارہائے عظیم اور صبر پر بھی غور کیجئے۔ وُہ صلیب کے واقعہ سے پہلے زِندہ تھے اور ہم اس کے بعد کے زمانے میں رہتے ہیں۔ لیکن اِس کے با وجود بھی کیا ہماری زِندگیوں کا اُن کی زِندگیوں کے ساتھ مُقابلہ ہو سکتا ہے؟ عِبرانیوں باب ۱۱ کا یہی چیلنج ہے۔
ج۔ مسیح میں اُمّید کے بارے میں نصیحت (باب۱۲)
۱:۱۲- یاد رہے کہ عبرانیوں کا خط اُن کے نام لِکھا گیا تھا جِن کے ساتھ بُرا سلُوک کیا جا رہا تھا۔ چونکہ اُنہوں نے مسیح کی خاطر یُہودیت کو ترک کر دیا تھا اِس لئے اُنہیں سخت مخالفت کا سامنا تھا۔ خطرہ تھا کہ وُہ یہ سمجھنے لگیں کہ اُن کے دُکھ و مصائب خُدا کے ناخوش ہونے کا نشان ہیں۔ امکان تھا کہ وُہ ہّمت ہار بیٹھیں اور مسیحیت ترک کر دیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کہیں وُہ پھِر ہیکل اور اُس کی رسُومات کو نہ اپنالیں۔
اُنہیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اُن کے دُکھ بے مثال تھے۔ باب ۱۱ میں بہتیرے گواہ ایسے ہیں جنہیں خُداوند کے ساتھ اپنی وفاداری کے باعث بے حَد دُکھ اُٹھانا پڑا، لیکن اِس کے باوجُود بھی اُنہوں نے برداشت کِیا۔ اگر اُنہوں نے کم مراعات کے ساتھ اس قدر پُختہ صبر کا مظاہرہ کِیا تو ہمیں جِنہیں مسیحیت کی آمد کے باعث بہتر چِیزیں مِلی ہیں کِس قدر زیادہ کیوں نہیں کرنا چاہئے!
وُہ ہمیں ’’گواہوں‘‘ کے بڑے ’’بادل‘‘ کے طور پر گھیرے ہُوئے ہیں۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وُہ تماشائی ہیں اور یہ دیکھ رہے ہیں کہ زمین پر کیا ہو رہا ہے۔ اِس کے برعکس وُہ ہمارے لئے اپنی ایمان کی زندگی اور صبر سے گواہی پیش کرتے اور ایک اعلیٰ معیار قائم کرتے ہیں تاکہ ہم بھی اُن کے نمُونہ پر چلیں۔
اِس آیت سے یہ سُوال پَیدا ہوتا ہے کہ ’’کیا آسمان میں جو مُقدّسِین ہیں وہ ہماری زمینی زِندگی کو دیکھتے ہیں یا جانتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ صِرف اِتنا ہی یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ جب کوئی گنہگار نجات پاتا ہے تو وُہ جانتے ہیں: ’’مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح ننانوے راست بازوں کی نسبت جو توبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک توبہ کرنے والے گنہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خُوشی ہوگی‘‘-
(لوُقا۷:۱۵)۔
مسیحی زِندگی دَوڑ کی مانند ہے جِس میں نظم و ضبط اور صبر کی ضرُورت ہے۔ ہمیں اُن سب چِیزوں کو جو رُکاوٹ کا سبب بنتی ہیں دُور کرنا ہے۔ بوجھ شاید بذاتہ تو بے ضرر ہو لیکن اِس کے باوجُود بھی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ خاندانی تعلقات، آرام طلبی اورغیر مستقِل مزاجی وغیرہ اِس طرح کا بوجھ ہو سکتے ہیں۔ اولمپک کی دَوڑوں میں اپنے ساتھ کھانا یا مشروب لے جانے کی ممانعت نہیں لیکن اِس طرح کوئی بھی دَوڑ نہیں جِیت سکتا۔
ہمیں ہر’’اُس گُناہ کو جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے‘‘ دُور کرنا ہے۔ اِس کا مطلب کِسی بھی صُورت میں گُناہ ہو سکتا ہے لیکن یہ خاص طور پر بے اعتقادی کا گُناہ ہے۔ ہمیں خُدا کے وعدوں پر اور کہ ایمان کی زِندگی ضرُور ہی فتح مند ہوگی مکمّل بھروسا رکھنا ہے۔
ہمیں اِس خیال کو دِل سے نکال دینا چاہئے کہ دوڑ آسان ہے اور کہ مسیحی زِندگی میں ہر شَے پھُولوں کی سیج ہے۔ ہمیں آزمائِشوں کے ہوتے ہُوئے صبر سے آگے بڑھتے رہنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔
۲:۱۲- ہمیں تمام دَوڑیں دِیگر ہر شے سے نظریں ہٹا کر صرف یسؔوع کو جو سب سے اوّلین دوڑنے والا تھا تکتے رہنا ہے۔ اے ۔ بی ۔ بؔروس لکھتا ہے:
وُہ جو ایمان کے تمام سُورماؤں پر واضح برتری رکھتا ہے … وُہ آدمی جِس نے سب سے پہلے ایمان سے زِندگی بَسر کرنے کے خیال کو کامل طور پر عملی جامہ پہنایا ۔۔۔ وُہ جِس نے بِلا خوف صلیب کی اذیت کو برداشت کِیا اور اُس کی رسُوائی کی پروا نہ کی، ایمان کے باعث اُس کی نظریں آئِندہ کی خُوشی اور جلال پر اِس طرح جمی تھیں کہ موجُودہ دَرد اور شرم کا شعُور جاتا رہا۔
وُہ اِن معنوں میں ہمارے ’’ایمان کا بانی‘‘ یا پیشوا ہے کہ اُس نے ایمان کی زِندگی کا کامِل نمُونہ پیش کیا ہے۔ وُہ ہمارے ایمان کو ’’کامل کرنے‘‘ والا بھی ہے۔ اُس نے نہ صِرف دَوڑ کو شُروع کِیا بلکہ فتح مندی کے ساتھ ختم بھی کیا۔ دوڑ کا راستہ آسمان سے بَیؔت لحم اور پھر گتسؔمنی اور کلؔوری سے ہوتا ہؤا قبر اور پھِر واپس آسمان تک پھَیلا ہؤا ہے۔ وُہ کِسی موقع پر بھی نہ تو لڑکھڑایا اور نہ مُڑا۔ اُس نے اپنی آنکھیں آئِنده جلال پر لگائی ہُوئی تھیں جب تمام نجات یافتہ اُس کے ساتھ جمع کئے جائیں گے۔ اُس کے اِیمان نے اُسے اِس قابِل بنا دیا تھا کہ ’’شرمندگی‘‘ کی پروا نہ کرنے اور دُکھ اور مَوت برداشت کرلے۔ اب وُہ ’’خُدا کے تخت کی دہنی طرف‘‘ بیٹھا ہؤا ہے۔
۳:۱۲- اَب منظر دَوڑ سے گُناہ کے خِلاف جنگ کی طرف مُڑتا ہے۔ ہمارا بے باک و دلیر کپتان خُداوند یسؔوع ہے۔ گُنہگاروں کی طرف سے جِتنی’’مخالفت کی برداشت‘‘ اُس نے کی کِسی نے بھی نہیں کی۔
جب کبھی ہم ’’بے دِل ہو کر ہمّت‘‘ ہار بیٹھیں تو ہم سوچیں کہ اُسے کِن کِن باتوں سے گُزرنا پڑا۔ اگرہم اُس کی آزمائِشوں کا اَپنی آزمائِشوں کے ساتھ مُقابلہ کریں تو معلوم ہوگا کہ وُہ بالکل حقیر اور بے وقعت ہیں۔
۴:۱۲- ہم ’’گُناہ سے‘‘ ختم نہ ہونے والی جنگ کر رہے ہیں۔ تاہم ’’ایسا مُقابلہ نہیں کِیا جِس میں خُون بہا ہو‘‘ یعنی مَوت سہی ہو۔ لیکن اُس نے سہی۔
۵:۱۲- اب مسیحیوں کے دُکھ اُٹھانے کے خیال کو پیش کیا جاتا ہے۔ ایمانداروں کی زِندگی میں بدسُلوکی، آزمارئِشیں، بِیماریاں، دُکھ دَرد، اور مُصیبتیں کیوں آتی ہیں؟ کیا یہ خُدا کی ناخوشی یا ناراضی کا نشان ہیں؟ کیا یہ اِتفاقاً آتی ہیں؟ اِن کے بارے میں ہمارا ردِّ عمل کیا ہونا چاہئے؟
یہ آیات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اِن چیزوں سے خُدا اپنے لوگوں کی تربیت کرتا ہے۔ اگرچہ وُہ خُدا کی طرف سے نہیں، تاہم وُہ اُن کو ہماری بھلائی اور دُوسروں کو برکت کے لئے اِستعمال کرتا ہے۔ مسیحیوں کی زِندگی میں کوئی چِیز بھی اتفاقاً واقع نہیں ہوتی۔ المناک واقعات اپنے میں برکت لئے ہوتے ہیں اور مایُوسیاں اُس کی طرف سے مُقرر ہیں۔ خُدا مُخالف حالات کو ہمیں مسیح کا ہمشکل بنانے کے لئے اِستعمال کرتا ہے۔
پس ابتدائی عبرانی ایمانداروں کو امثال ۳: ۱۱-۱۲ یاد رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے جہاں خُدا اُنہیں اپنے ’’بیٹے‘‘ کہتا ہے۔ وہاں وُہ اُس کی تنبیہ کی حقارت کرنے یا اُس کی ملامت کے باعث مایُوس ہونے کے بارے میں ایمان داروں کو خبردار کرتا ہے۔ اگر وُہ باغی ہو جائیں یا ہمّت ہار بیٹھیں تو وُہ اُن تمام فوائد کو جو اِس سلوک کی وجہ سے اُسے مِلنا تھے گنوا بیٹھیں گے اور اُس کا سبق سیکھنے سے قاصر رہیں گے۔
۶:۱۲- جب ہم ’’تنبیہ‘‘ کے بارے میں پڑھتے ہیں تو غالباً ہمارا خیال گوشمالی کی طرف جاتا ہے۔ لیکن یہاں اِس کا مطلب بچّے کی تربیّت کرنا یا تعلیم دینا ہے۔ اِس میں ہدایت، نظم وضبط، اِصلاح اور خبردار کرنا شامِل ہے۔ اِن سب کا مقصد مسیحی خُوبیاں پیدا کرنا اور بُرائی کو نکالنا ہے۔ اِس حوالہ میں تنبیہ غَلط کام کرنے کی سَزا نہیں تھی بلکہ دُکھوں کے ذریعہ تربیّت۔
امثال کی کتاب میں یہ حوالہ صفائی سے بتاتا ہے کہ خُدا کی تادیب اُس کی محبّت کا ثبُوت ہے۔ اور اُس کا کوئی بھی بیٹا اِس سے بچ نہیں سکتا۔
۷:۱۲- ’’خُدا‘‘ کی ’’تنبیہ‘‘ کے تابع فرمان رہنے کے ذریعہ ہم اُس کی تادیب کو موقع دیتے ہیں کہ ہمیں مسیح کی صُورت پر ڈھالے۔ اگر ہم اُس کی تربیّت سے بچنے کی کوشِش کریں تو ممکن ہے کہ اُسے زیادہ سخت اور زیادہ تکلیف دِہ اور زیادہ لمبی تربیّت سے ہمیں مطلوُبہ سبق سِکھانا ہو۔ خُدا کے مکتب میں درجہ بندی ہے اور ترقی صِرف اُس وقت ہی مِلتی ہے جبکہ ہم اپنے اسباق سیکھ لیتے ہیں۔
پس جب دُکھ تکلیف آئے تو ہمیں معلُوم ہونا چاہئے کہ خُدا ہم سے’’بیٹوں‘‘ کا سا سلوک کر رہا ہے۔ باپ اپنے’’بیٹے‘‘ کو تربیّت دیتا ہے کیونکہ وُہ اُسے پیار کرتا ہے اور اُس کی بہتری چاہتا ہے۔ خُدا بھی ہمیں پیار کرتا ہے، وُہ چاہتا ہے کہ ہم بڑھیں اور پھلیں پھُولیں۔
۸:۱۲- رُوحانی عالم میں جو لوگ خُدا کی تادیب کا تجربہ نہیں رکھتے وُہ ’’حرامزا دے‘‘ ہیں نہ کہ حقیقی ’’بیٹے‘‘۔ ایک باغبان اُونٹ کٹاروں کو نہیں کاٹتا چھانٹتا بلکہ انگوروں کی بیل کو۔ پس جَیسا کہ فِطری باتوں میں ہوتا ہے وَیسا ہی رُوحانی باتوں میں بھی ہوتا ہے۔
۹:۱۲- ہم میں سے اکثر لوگوں کو اپنے ’’جِسمانی باپوں‘‘ کی تادیب کا تجربہ ہے۔ ہم اِس کا کبھی یہ مطلب نہیں لیتے کہ وُہ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ ہم محسُوس کرتے ہیں کہ وُہ ہماری بھلائی میں دِلچسپی رکھتے تھے اور ’’ہم اُن کی تعظیم کرتے رہے‘‘۔
تو پھِر ہمیں تربیّت کے لئے ’’رُوحوں کے باپ کی اِس سے زیادہ‘‘ عِزّت کرنی چاہئے تا کہ ’’ہم زِندہ رہیں‘‘۔ خُدا اُن سب کا جو رُوح ہیں یا رُوح رکھتے ہیں ’’باپ‘‘ ہے۔ آدمی رُوح ہے جو اِنسانی جِسم میں رہتا ہے۔ خُدا کے تابع فرمان ہونے کے باعث، ہم زِندگی سے اِس کے حقیقی معنوں میں لُطف اندوز ہوتے ہیں۔
۱۰:۱۲- ہمارے زمینی باپوں کی تنبیہ و تربیّت کامِل نہیں ہے۔ یہ چند روزہ ہوتی ہے یعنی بچپن سے لے کر جوانی تک۔ اگر وُہ اِس سے کامیاب نہیں ہوتے تو وُہ اور کُچھ نہیں کر سکتے۔ اور وُہ یہ ’’اپنی سمجھ کے موافق‘‘ کرتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات اُن سے اپنی اولاد کی تربیّت کرنے میں غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن خُدا کی تنبیہ و تربیّت ہمیشہ کامِل ہوتی ہے۔ اُس کی محبّت بے حد اور اُس کی حِکمت بے خطا ہے۔ اُس کی تنبیہ مَن کی مَوج کے باعث نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ ہمارے فائدہ کے لئے ہوتی ہے۔ اُس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم ’’اُس کی پاکیزگی میں شامل ہو جائیں‘‘۔ اور خُدا پرستی کبھی بھی خُدا کے مکتب کے عِلاوہ کہیں اور سے حاصِل نہیں کی جاسکتی۔ جو وَؔیٹ لکھتا ہے:
خُدا کی تنبیہ کا مقصد سزا دینا نہیں ہے بلکہ تخلیقی ہے۔ وہ اِس لئے تنبیہ کرتا ہے تا کہ ہم ’’اُس کی پاکیزگی میں شامِل ہو جائیں‘‘۔ ۔۔۔ جو آگ روشن ہے وُہ دہکتا ہؤا الاؤ نہیں ہے جو قیمتی اشیاء کو بھَسم کر دیتا ہے بلکہ یہ پاک صاف کرنے والی آگ ہے، اور پاک کرنے والا پاس بیٹھا ہؤا ہے اور وُہ سختی اور صَبر اور نرمی سے، بے پروائی سے پاکیزگی اور کمزوری سے پائیداری پیدا کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب وُہ فضل کے تارِیک ذرائع استعمال کرتا ہے اُس وقت بھی وُہ تخلیق کرتا رہتا ہے۔ وُہ رُوح کے پھَل اور پھُول پَیدا کر رہا ہے۔ اُس کی محبّت ہمیشہ پیاری باتوں کی تلاش میں رہتی ہے۔
۱۱:۱۲- اِس وقت تو تمام شاگِرد تکلیف میں نظر آتے ہیں۔ ’’مگر جو اُس کو سہتے سہتے پُختہ ہو گئے ہیں اُن کو بعد میں چَین کے ساتھ راست بازی کا پھل بخشتی ہے‘‘۔ سی ۔ ایچ سپؔرجن کی گواہی پر غور کریں:
مُجھے ڈر ہے کہ جو فضل مَیں نے اپنے آرام دِہ اور آسان اور خوشی کے وقت میں حاصل کِیا، ممکن ہے بِالکُل معمُولی ہو۔ لیکن جو اچھّائی مُجھے اپنے دُکھ اور دَرد اور رنج و غم سے مِلی ہے اُس کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ وُہ کون سی شے ہے جو مَیں نے ہتھوڑے، اَہرن اور آگ اور ریتی سے حاصِل نہیں کی؟ میرے گھر میں دُکھ سب سے اچھّا فرنیچر ہے۔
۱۲:۱۲- ایمان داروں کو زِندگی کے مخالف حالات میں خاموش ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہئے کیونکہ مُمکِن ہے کہ اُن کے ایمان کی کمی دُوسروں پر اچھّا اثر نہ ڈالے۔’’ڈِھیلے ہاتھوں‘‘ کو زِندہ مسیح کی خِدمت کے لئے مضبوط بنانا چاہئے۔ ’’سُست گُھٹنوں‘‘ کو دُعا میں جدوجہد کرنے کے لئے طاقتور ہونا چاہئے۔
۱۳:۱۲- لنگڑے ’’پاؤں‘‘ کی مسیحی شاگِردی کے ’’سِیدھے راستے‘‘ پر راہنمائی کرنی چاہئے۔ ولؔیمز لِکھتا ہے:
ُہ تمام جو خُداوند کی پُوری طرح پیروی کرتے ہیں کمزور بھائیوں کے لئے ایمان کا راستہ صاف کرتے ہیں۔ لیکن جو پُوری طرح پَیروی نہیں کرتے دُوسروں کے لئے راستہ مُشکل بنا دیتے ہیں اور رُوحانی لنگڑے پَیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
جی ۔ ایچ ۔ لینگؔ بڑی اچھّی منظر کشی کرتا ہے:
ایک تھکا ماندہ مُسافر جو سڑک پر چلنے اور طُوفان کے مُکّے کھانے سے تھک گیا ہے مایُوس کھڑا ہے۔ اُس کے کندھے جھُکے ہُوئے، ہاتھ لٹکے ہُوئے اورخم زدہ اور کانپتے ہُوئے گُھٹنوں کے ساتھ سفر ترک کرنے اور زمین پر گرنے کو تیار ہے۔ عبرانیوں کے مُصنِّف کے مُطابق خُدا کے مُسافر کا ایسا ہی حال بن سکتا ہے۔
لیکن اُس کے پاس ایک ایسا شخص آتا ہے جو بڑا پُر اعتماد ہے اور اُسے مُسکراتے ہُوئے اور مضبُوط آواز میں کہتا ہے ’’اُٹھو، سِیدھے کھڑے ہو جاؤ اور ہمّت باندھو۔ تُم اِتنی دُور آچُکے ہو اور اب تک جو محنت مُشقّت کر چُکے ہو اُسے ضائع مت ہونے دو۔ سَفر کے اختتام پر ایک نہایت اعلیٰ گھر ہے۔ اُس طرف دیکھو۔ سِیدھی سڑک وہاں تک جاتی ہے۔ سِیدھے چلتے جاؤ۔ اپنے لنگڑے پَن کے لئے اُس عظیم حکیم سے شِفا حاصِل کرو … تُمہارا پیش رَو اِسی ٹوٹی پھُوٹی سڑک سے خُدا کے محل کو گیا۔ تُم سے پہلے بھی کُچھ لوگ کامیاب ہُوئے اور کُچھ لوگ ابھی راستے میں ہیں۔ تُم تنہا نہیں ہو۔ سفر جاری رکھو اور تُم بھی منزِل پر پُہنچ جاؤ گے اور انعام جیت لوگے‘‘۔ مُبارک ہے وُہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ کلام کے ذریعہ تھکے ماندے کو کیسے تسلّی دی جاتی ہے (یَسعیاہ ۴:۵۰)۔ مُبارک ہے وُہ آدمی جو نصیحت کو قبول کرتا ہے (عِبرانیوں ۲۲:۱۳)۔ اور مُبارک ہے وُہ شخص جِس کا ایمان سادہ اور مضبُوط ہے اور جب خُداوند کی تادیب سخت ہوتی ہے تو وُہ ٹھوکر نہیں کھاتا۔
۱۴:۱۲- مسیحیوں کو ہر وقت ’’سب کے ساتھ‘‘ پُراَمن تعلقات رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن اِس نصیحت کی خاص صُورت ایذا رسانی کے وقت ہوتی ہے جبکہ کُچھ لوگ ایمان سے مُنحرف ہو رہے ہوں اور اعصاب مُنتشِر ہوں۔ اَیسے موقعوں پر خطرہ ہے کہ اپنی پریشانی کی وجہ سے اپنے عزیزو اقارب کے لئے مُصیبت کا باعث بن جائیں۔ ہمیں پاکیزگی کا بھی طالب رہنا چاہئے ’’جِس کے بغیر کوئی خُداوند کو نہ دیکھے گا‘‘۔ یہاں کِس قِسم کی ’’پاکیزگی‘‘ کی طرف اشارہ ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں خُود کو یاد دِلاتے رہنا چاہئے کہ نئے عہد نامہ میں ایمان داروں میں پاکیزگی کو تین طرِیقوں سے اِستعمال کیا گیا ہے۔
سب سے پہلے جب کِسی کو نجات مِلتی ہے تو وُہ اپنے مقام یا اپنی حیثیت کے لحاظ سے خُدا کی نظر میں پاک ہو جاتا ہے۔ وُہ خُدا کے لئے دُنیا سے الگ ہو جاتا ہے (۱۔ کرنتھیوں۱: ۲؛ ۶: ۱۱)۔
مسیح کے ساتھ پیوستگی کے باعث وُہ ہمیشہ کے لئے پاک کِیا گیا ہے۔ جب مارٹن لُوتؔھر نے فرمایا کہ ’’میری پاکیزگی آسمان میں ہے‘‘ تو اُس کا یہی مطلب تھا۔ یہاں تک خُدا کی نظر میں ہمارے مقام کا تعلق ہے مسیح ہماری پاکیزگی ہے۔
پھِرعملی پاکیزگی ہے (۱۔ تھسلنیکیوں۴: ۳؛ ۲۳:۵)۔ یہ وُہ ہے جو ہمیں ہر روز ہونا چاہئے۔ ہمیں ہر قسم کی بَدی سے الگ رہنا چاہئے۔ یہ پاکیزگی ترقی پذیر ہے، یعنی ہم خُداوند یسؔوع کے ہمشکل بنتے جائیں۔ آخر میں کامِل پاکیزگی ہے۔ یہ اُس وقت وقُوع میں آئے گی جبکہ ایمان دار آسمان پر جائیں گے۔
اُس وقت وہ ہمیشہ کے لئے گُناہ سے آزاد ہوں گے۔ اُن کی پُرانی فِطرت جاتی رہے گی اور اُن کی حالت مکمّل طور پر اُن کے مقام کے مُطابق ہوگی۔
اب ہمیں کِس پاکیزگی کے ’’طالب‘‘ رہنا ہَے؟ ظاہر ہے کہ وُہ عملی پاکیزگی ہی ہے۔ ہم اپنے مقام کے لحاظ سے پاکیزگی کی تلاش میں نہیں رہتے۔ یہ مسیح میں اُس وقت ہماری بن گئی ہے جب ہم نئے سرے سے پیدا ہُوئے۔ اور ہم کامل پاکیزگی کے پیچھے بھی نہیں بھاگتے۔ وہ اُس وقت ہماری بن جائے گی جب ہم اُس کا چہرہ دیکھیں گے۔ لیکن عملی یا بتدریج پاکیزگی ایک ایسی شے ہے جِس کا تعلق ہماری فرمانبرداری اور تعاوُن سے ہے۔ ہمیں اِس پاکیزگی کی فِکر میں رہنا ہے۔ یہ حقیقت کہ ہمیں اِس کو حاصِل کرنا ہے اِس بات کا ثبُوت ہے کہ ہم اِسے اِس زِندگی میں پُوری طرح حاصِل نہیں کر سکتے۔ (پاکیزگی کے مختلِف پہلُوؤں کے بارے میں زیادہ تفصیل کے لئے دیکھئے ۲: ۱۱ کی تشریح)۔
لیکن ابھی ایک مُشکِل باقی ہے۔ کیا یہ سچ ہے کہ ہم خُداوند کو علی پاکیزگی کے بغیر نہیں دیکھ سکتے؟ ہاں ایک لحاظ سے تو یہ درُست ہے لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکیزہ زِندگی بَسر کرنے سے ہمیں خُداوند کو دیکھنے کا شرف حاصِل ہوتا ہے۔ صِرف یسؔوع مسیح ہی کے باعث ہمیں آسمان پر جانے کا شرف حاصِل ہوتا ہے۔ اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اپنی نئی زِندگی کو ثابت کرنے کے لئے عملی پاکیزگی ضرُوری ہے۔ اگر کوئی شخص پاکیزگی میں ترقی نہ کرے تو وُہ نجات یافتہ نہیں ہے۔ جب پاک رُوح ایک آدمی میں سکونت کرتا ہے تو وُہ اپنی موجُودگی کو پاک زِندگی بَسر کرنے میں ظاہر کرتا ہے۔ یہ عِلّت اور معمُول کا مسئلہ ہے۔ اگر مسیح کو قبول کیا گیا ہے تو پھر زِندہ پانی کی ندیاں ضرُور ہی بہنے لگیں گی۔
۱۵:۱۲- ایسا لگتا ہے کہ اگلی دو آیات چار خاص گُناہوں سے بچنے کے لئے کہتی ہیں۔ لیکن متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اِرتداد کے گُناہ کے خِلاف ایک اَور انتباہ ہے اور کہ یہ چاروں گُناہ اُس سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے اِرتداد ’’خُدا کے فضل‘‘ کو حاصِل کرنے سے قاصِر رہتا ہے۔ ایک شخص، مسیحیوں جَیسا نظر آتا ہے اور اُنہی کی طرح گفتگو کرتا اور اپنے آپ کو مسیحی کہتا ہے لیکن وُہ کبھی بھی نئے سرے سے پَیدا نہیں ہؤا۔ وُہ نجات دہندہ کے نزدیک تو آیا لیکن اُس نے اُسے کبھی قبول نہ کیا۔ اِتنا نزدیک ہوتے ہوئے بھی اِتنا دُور رہا۔
ارتداد ’’کڑوی جڑ‘‘ ہے۔ آدمی خُداوند کا مخالِف بن جاتا اور مسیحی ایمان کو ترک کر دیتا ہے۔ اُس کا اِنحراف مُتعدّی ہے۔ اُس کی شکایات، شکوک اور اِنکار سے دُوسرے ناپاک ہو جاتے ہیں۔
۱۶:۱۲- اِرتداد کا حرامکاری سے بڑا قریبی تعلق ہے۔ نام نہاد مسیحی سنگین اخلاقی گُناہ میں گِر سکتا ہے۔
اور پھِر اپنے گُناہ کا اِقرار کرنے کی بجائے وُہ خُداوند پر اِلزام لگا کر دُور ہو جاتا ہے۔
۲۔ پطرس۱۰:۲، ۱۸،۱۴ اور یہُوداہ ۸، ۱۸،۱۶میں ارتداد اور جِنسی گُناہ میں تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ پھراِرتداد، بے دینی ہے جِس کی تصویر’’عیؔسو‘‘ نے پیش کی ہے۔ اُس کے نزدیک پیدائِشی حق کی کوئی قدروقیمت نہیں تھی۔ اُس نے اپنی بھُوک کو عارضی طور پر تسکین دینے کی خاطر پہلوٹھا ہونے کا حق بڑی خوشی سے داؤ پر لگا دیا۔
۱۷:۱۲- بعد میں عیؔسو کو بڑے بیٹے کا دوگُنا حِصّہ کھو دینے کا بُہت افسوس ہؤا لیکن اَب وقت گُزر چُکا تھا۔ اُس کا باپ برکت کو بَدل نہیں سکتا تھا۔
یہی حال ایک مُرتد کا ہے۔ اُس کے نزدیک رُوحانیت کی کوئی قَدر نہیں ہوتی۔ وُہ بے عِزّتی، دُکھ یا شہادت سے بچنے کے لئے مسیح کا اِنکار کر دیتا ہے۔ اُسے توبہ کے لئے نیا نہیں بنایا جا سکتا۔ مُمکن ہے وہاں افسوس تو ہو لیکن حقیقی توبہ نہیں ہوتی۔
۱۸:۱۲- وُہ لوگ جو شریعت کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں اُنہیں اُن خوفناک حالات کو یاد رکھنا چاہئے جو شریعت دیتے وقت پیش آئے تھے اور اُن سے رُوحانی سبق سیکھنا چاہئے۔ منظر کوہِ سؔینا تھا جِسے چھُونا ممکن تھا اور جو’’آگ‘‘ سے جلتا تھا۔ وُہ کالی گھٹا میں چھپا ہؤا تھا جِس کی وجہ سے ہر شے غیر واضح، مبہم اور دُھندلی نظر آتی تھی۔ ایک زبردست طُوفان اُس کے چوگرد تھا۔
۱۹:۱۲- اِن فِطری حالات کے علاوہ، ایک خوفناک فوق الفطرت ماحول بھی تھا۔ ’’نرسنگے‘‘ کا بے حَد شور تھا اور ایک آواز بڑے زور سے گرجی کہ لوگوں نے اُسے بند کرنے کی درخواست کی۔
۲۰:۱۲- وُہ اِس الہٰی فرمان کے باعث سخت گھبرا گئے کہ ’’اگر کوئی جانور بھی اُس پہاڑ کو چھُوئے تو سنگسار کیا جائے‘‘۔ وُہ جانتے کہ اگر اِس کا مطلب ایک گُونگے اور نا سمجھ جانور کے لئے مَوت ہے تو یقیناً اِس کا مطلب اُن کے لئے جو اِنتباہ کو سمجھتے ہیں کِتنی زیادہ مَوت ہوگا۔
۲۱:۱۲- کُل منظر ایسا ’’ڈراؤنا‘‘ تھا کہ ’’مُوؔسیٰ‘‘ خُود ’’کا نپتا‘‘ تھا۔ یہ سب بڑی فَصاحت سے فطرت اور شریعت کی خِدمت کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ یہ خُدا کے راست تقاضوں کا اِنکشاف اور گُناہ کے خِلاف اُس کا غضب ہے۔ شریعت کا مقصد نجات کا عِلم مہیّا کرنا نہیں بلکہ گناہ کا عِلم پَیدا کرنا تھا۔ یہ گُناہ کے باعث خُدا اور اِنسان کے درمیان فاصلے کو بیان کرتی ہے۔ یہ مُجرم ٹھہرانے، تاریکی اور اندھیرے کی خِدمت ہے۔
۲۲:۱۲- ایمان دار کوہِ سؔینا کی دہشت کے پاس نہیں آئے جِس کے نزدیک جانا منع تھا بلکہ فضل کے خیر مقدم کے پاس۔
’’ہم اصُولی طور پر پہلے ہی وہاں آگئے ہیں جہاں درحقیقت ہم ہمیشہ کے لئے ہوں گے۔ ہمارا مُستقبِل پہلے ہی حال بن چُکا ہے۔ ہمارے آج میں ہمارا کل ہے۔ ہم زمِین پر آسمان رکھتے ہیں‘‘۔
ہم زمین پر چھُونے والے پہاڑ کے پاس نہیں آتے۔ ہمارا حق یہ ہے کہ ہم آسمانی مَقدِس میں داخِل ہوں۔ ہم اِقرار، حمد وتعریف اور دُعا میں خُدا کے پاس جاتے ہیں۔ ہم سال کے ایک دِن تک محدُود نہیں ہیں بلکہ ہم یہ جانتے ہُوئے کِسی وقت بھی پاک ترین مقام میں داخِل ہو سکتے ہیں کہ ہمیں ہمیشہ خوش آمدید کہا جائے گا۔ خُدا اب یہ نہیں کہتا کہ ’’دُور کھڑے رہو‘‘ بلکہ یہ کہتا ہے کہ ’’اعتماد کے ساتھ نزدیک آؤ‘‘۔
شریعت کا کوہِؔ سینا ہے لیکن ایمان کا ’’صیّؔون کا پہاڑ‘‘ ہے۔ یہ آسمانی پہاڑ، فضل کی برکات کا نشان ہے یعنی یسؔوع مسیح کے نجات بخش کام کے وسیلہ سے سب کُچھ ہمارا ہے۔
شِریعت کا زمِینی یروشلؔیم ہے لیکن ایمان کا ’’آسمانی‘‘ دارالحکُومت اُوپر ہے۔ ’’زِندہ خُدا کا شہر‘‘ آسمان میں ہے، ایک ایسا شہر جِس کی بنیادیں ہیں اور جِس کا معمار خُدا ہے۔
جب ہم خُدا کی حضُوری میں داخِل ہوتے ہیں تو ہمیں ایک زبردست بھِیٹرگھیرلیتی ہے۔ سب سے پہلے لاکھوں ’’فِرشتے‘‘ ہوتے ہیں جو اگرچہ گناہ سے آلوُدہ نہیں ہیں، تاہم وُہ ہم میں شامِل نہیں ہو سکتے کیونکہ وُہ اِس خُوشی سے آگاہ نہیں ہوتے جو ہماری نجات لاتی ہے۔
۲۳:۱۲- پھِر ہم ’’اُن پہلوٹھوں کی عام جماعت‘‘ کے ساتھ ہوتے ہیں ’’جِن کے نام آسمان پر لِکھے ہیں‘‘۔ یہ ’’کلیسیا‘‘ کے ممبر ہیں جو مسیح کا بدن اور دُلہن ہے۔ وُہ پنتکُست کے وقت سے مَر چُکے ہیں اور اَب خُداوند کی حضُوری سے لُطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وُہ اُس دِن کے اِنتظار میں ہیں جبکہ اُن کے بدن قبر سے جلالی صُورت میں جی اُٹھیں گے اور پھر اپنی رُوحوں کے ساتھ مِل جائیں گے۔
ایمان ہی سے ہم ’’سب کے مُنصف خُدا‘‘ کو دیکھتے ہیں۔ اب تاریکی اور اندھیرا اُسے چھِپائے ہُوئے نہیں ہے۔ ایمان کی آنکھ کے نزدِیک اُس کا جلال بے حَد ہے۔
عہدِعتیق کے مُقدّسین یعنی ’’کامِل کئے ہُوئے راست بازوں کی رُوحیں‘‘ وہاں ہیں۔ وُہ ایمان سے راست باز ٹھہرے۔ وُہ بےعَیب پاکیزگی میں کھڑے ہیں کیونکہ مسیح کی راست بازی اُن کو منسُوب کی گئی ہے۔ وُہ بھی اِس اِنتظار میں ہیں کہ قبر اپنے قیدیوں سے دستبردار ہو جائے اور اُنہیں بھی جلالی بدن ملے۔
۲۴:۱۲- ’’یسؔوع‘‘ وہاں ہے جو’’نئے عہد کا درمیانی‘‘ ہے۔ پُرانے عہد کے درمیانی مُوؔسیٰ میں اور ’’نئے کے درمیانی یسؔوع‘‘ میں فرق ہے۔ مُوؔسیٰ محض اِس لئے درمیانی تھا کہ اُس کو خُدا کی طرف سے شریعت مِلی اور اُس نے اُسے آگے بنی اِسرائیل کو پُہنچا دیا۔ وُہ درمیانی یا لوگوں کا نمائِندہ تھا جِس نے قُربانیوں کے ذریعہ عہد کی توثیق کی۔
مسیح کہیں زیادہ گہرے معنوں میں ’’نئے عہد کا درمیانی‘‘ ہے۔ اِس سے پیشتر کہ خُدا راستی سے عہد باندھ سکتا، خداوند یسؔوع کو مرنا پڑا۔ اُسے اپنے ہی خُون سے عہد پر مُہر کرنی پڑی اور اُس نے اپنے آپ کو بہتیروں کے فِدیہ کے لئے دے دیا (۱۔ تیمتھیس ۶:۲)۔
اُس نے اپنی مَوت کے ذریعہ نئے عہد کی برکات کو اپنے لوگوں تک پُہنچا دیا۔ وُہ اپنی دائمی زِندگی سے اِن برکات کی ضمانت دیتا ہے۔ اوراب وُہ خُدا کے دہنے ہاتھ بیٹھ کر اپنی موجُودہ خدمت کے باعث اپنے لوگوں کو ایک مخالف دُنیا میں اِن برکات سے لُطف اندوز ہونے دیتا ہے۔ یہ سب اُس کے درمیانی ہونے کی خِدمت میں شامِل ہے۔
اب خُداوند یسؔوع نجات دِہندہ کے طور پر خُدا کے دہنے ہاتھ سرفراز ہے۔
پھِر چھڑکاؤ کا وُہ خُون ہے ’’جو ہاؔبل کے خُون کی نسبت بہتر باتیں کہتا ہے‘‘۔ جب يسؔوع آسمان پر گیا تو اُس نے خُدا کو اُس ’’خُون‘‘ کو جو اُس نے کلورؔی پر بہایا پیش کیا۔ اَیسا کوئی اِشارہ نہیں مِلتا کہ وُہ خُون کو حقیقتاً آسمان میں لے گیا بلکہ اپنی قُربانی کے رُوحانی فوائِد۔
اُس کے قیمتی ’’خُون‘‘ کا مُقابلہ ’’ہاؔبل‘‘ کے خُون سے کیا گیا ہے۔ خواہ ہم اِس خُون کو ہاؔبل کی قُربانی کا خُون سمجھیں یا اُس کا اَپنا جو قائِن نے بہایا تھا، تو بھی یہ درُست ہے کہ مسیح کا خُون زیادہ پُر فضل طریقے سے بات کرتا ہے۔ ہاؔبل کی قُربانی کا خُون کہتا تھا ’’عارضی طور پر ڈھانپ دیا‘‘۔ مسیح کا خُون کہتا ہے ’’ہمیشہ کے لئے مُعاف کر دیا‘‘۔ ہاؔبل کا اپنا خُون پُکارتا تھا ’’انتقام – انتقام‘‘۔ مسیح کا خُون کہتا ہے ’’مُعافی، رحم اور سلامتی‘‘۔
۲۵:۱۲- باب ۱۲ کی اِختتامی آیات میں خُدا کے کوہِ سؔینا پر مُکاشفہ کا مُقابلہ مسیح میں اور اُس کے وسیلہ سے مکاشفہ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مسیحی ایمان کے لاثانی حقُوق اور جلال کو حقیر نہیں جاننا چاہئے۔ خُدا کلام کر رہا، دعوت دے رہا اور اظہارِ محبّت کر رہا ہے۔ اِس کا ’’اِنکار‘‘ کر کے بچ نہیں سکتے۔
وُہ لوگ جو خُدا کی آواز کی جس طرح کہ شریعت میں سُنائی دیتی تھی فرمانبرداری نہیں کرتے تھے تو اُن کو اُس کے مطابق سَزا دی جاتی تھی۔ جب حق بڑا ہوتا ہے تو ذِمّہ داری بھی بڑی ہوتی ہے۔ خُدا نے مسیح میں اپنا بہترین اور آخری مُکاشفہ دیا ہے۔ اَب وُہ لوگ جو اُس کی آواز کو جو خوشخبری میں ’’آسمان‘‘ سے سُنائی دیتی ہے رَدّ کرتے ہیں، اُن کی نسبت زِیادہ ذِمّہ دار ہیں جو شریعت کو توڑتے تھے۔ اُن کا ’’بچ‘‘ نِکلنا نا ممکن ہے۔
۲۶:۱۲- کوہِ سؔینا پر خُدا کی آواز زَلزلہ کا سبب بنی۔ لیکن جب وُہ مستقبِل میں کلام کرے گا تو اُس کی آواز سے آسمان میں زلزلہ آجائے گا۔ بُنیادی طور پھر اِس کی پیشین گوئی حجّؔی نبی نے کی تھی ’’مَیں تھوڑی دیر میں پھر ایک بار آسمان و زمِین اور بحروبَر کو ہِلا دُوں گا‘‘ (حجّؔی ۶:۲)۔
یہ ہِلا دینا مسیح کے بادلوں پر آنے اور اُس کی بادشاہی کے اِختتام کے درمیانی عرصے میں وقُوع میں آئے گا۔ مسیح کے حکُومت کرنے کے لئے آنے سے پیشتر زمین پر اور آسمان پر فطرت میں سخت اِرتعاش پَیدا ہو گا۔ اَجرامِ فلکی اپنے مدار سے ہٹا دِئے جائیں گے جِس کے سبب سے سمُندر میں بھڑکتی اور گرجتی لہریں اُٹھنے لگیں گی۔ پھِر مسیح کی ہزار سالہ حکُومت کے آخر میں زمین اور ستاروں بھرا آسمان سخت تپش سے برباد کر دِئے جائیں گے (۲- پطرس ۱۰:۳۔۱۲)۔
۲۷:۱۲- جب خُدا نے کہا ’’ایک بار پھر‘‘ تو وُہ جانتا تھا کہ یہ آسمان اور زمین ہمیشہ کے لئے ’’ٹل‘‘ جائیں گے۔ یہ واقعہ اِس وہم کو ختم کر دے گا کہ جِن چیزوں کو دیکھ سکتے، چھُو سکتے اور کام میں لا سکتے ہیں وُہ حقیقی ہیں جبکہ اندیکھی چِیزیں غیر حقیقی ہیں۔ جب خُدا چھاننے اور پھٹکنے اور ہلانے کے کام کو ختم کرے گا تو صِرف وُہی جو حقیقی ہے ’’قائِم‘‘ رہے گا۔
۲۸:۱۲- وہ لوگ جو یہُودیت کی ظاہری اور دیدنی رسُومات میں مگن تھے وُہ ایسی چِیزوں سے چِمٹے ہُوئے تھے جو ہلا دی جائیں گی۔ حقیقی ایمان داروں کے پاس ایسی ’’بادشاہی‘‘ ہے جو ’’ہلنے کی نہیں‘‘۔ یہ ہمیں اَور بھی سرگرمی سے عبادت و پرستِش کے لئے اُبھارتا ہے۔
ہمیں اُس کی حمد و تعریف بِلا ناغہ ’’خُدا ترسی اور خَوف کے ساتھ‘‘ کرتے رہنا چاہئے۔
۲۹:۱۲- وُہ لوگ جو خُدائی ہیں سُنتے اُن کے لئے وُہ ’’بھسم کرنے والی آگ ہے‘‘۔ لیکن جو اُس کے ہیں اُن کے دِلوں میں بھی اُس کی عظیم پاکیزگی اور راست بازی سے اُس کی گہری عزّت اور احترام پیدا ہونا چاہئے۔
د۔ مُختلِف مسیحی فضائِل کے بارے میں نصیحت(۱۳: ۱۔۱۷)
۱:۱۳- عِبرانیوں کے خط کے عملی حِصّہ میں اَب فضائل کے بارے میں چھ نصیحتیں آتی ہیں۔ سب سے پہلی خُوبی اپنے بھائیوں سے ’’محبّت‘‘ ہے۔ ہم تمام حقیقی مسیحیوں کے ساتھ ایسے تعلقات رکھیں گویا کہ ایک خاندان ہیں اوراِس قریبی تعلق کا اظہار پُرمحبّت اَلفاظ اور کاموں سے کریں (۱- یُوحَنّا ۳ : ۱۸)۔
۲:۱۳- یہاں اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہم غیروں کی بھی مہمان داری کریں۔ مُمکِن ہے اِس کا اِشارہ بُنیادی طور پر اُن ایمان داروں کی طرف ہو جو اِیذارسانی کے باعِث بھاگ رہے تھے اور اُنہیں خوراک اور رہائِش تلاش کرنے میں سخت مُشکلات کا سامنا تھا کیونکہ اگر کوئی اُن کی مہمان داری کرتا تو خطرہ مول لیتا۔ اِن آیات کو کِسی بھی ضُرورت مند ایمان دار کی خاطر تواضُع کرنے کے لئے عام حوصلہ افزائی سمجھنا چاہئے۔
پھِر اِس بات کا بھی سنسنی خیز امکان ہے کہ ایسا کرتے ہُوئے ہو سکتا ہے کہ ہم
’’بے خبری‘‘ میں ’’فِرشتوں‘‘ کی مہمان داری کریں۔ اِس کا اشارہ درحقیقت اؔبرہام کے تجربہ کی طرف ہے جِس نے تین آدمیوں کی جو درحقیقت فرِشتے تھے خاطر تواُضع کی تھی (پَیدائِش ۱:۱۸ – ۱۵)- اگر حقیقی فِرشتہ نہ بھی ہو تو بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جِن کی موجودگی برکت کا باعث ہو اور جِن کا خُدا پرستانہ اَثر ہمارے خاندان کے لئے اَبدی فوائد کا حامِل ہو۔
۳:۱۳- تیسری نصیحت ایماندار قیدیوں کی خبرگیری کرنے کے بارے میں ہے۔ اِس کا یقیناً اشارہ اُن کی طرف ہے جو مسیح کی گواہی دینے کے باعث قید تھے۔ اُن کو خوراک، گرم کپڑوں، لِکھنے پڑھنے کے سامان اور حَوصلہ افزائی کی ضرُورت تھی۔ دُوسرے ایمان داروں کے لئے آزمائِش تھی کہ وُہ اُن ’’قیدیوں‘‘ کے ساتھ میل جول نہ رکھنے سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشِش میں خطرے سے محفُوظ رہیں۔
اُنہیں ’’یاد‘‘ رکھنا چاہئے کہ ’’قیدیوں‘‘ سے مُلاقات کرنا مسیح سے مُلاقات کرنا ہَے۔
اُن لوگوں سے محبّت کا سلوک کرنا چاہئے جِن کے ساتھ ’’بد سلُوکی‘‘ کی جاتی ہے۔ اِس کا اِشارہ پھِر مظلُوم مسیحیوں کی طرف ہے۔ اِس محبّت کی وجہ سے جو خطرہ پَیدا ہو سکتا ہے، قارئین کو اِسے مول لینے کو تیار ہونا چاہئے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ’’ہم بھی جِسم رکھتے ہیں‘‘ اِس لئے ہم پر بھی ایسی مُصیبت آسکتی ہے۔
۴:۱۳- ’’بیاہ‘‘ تمام لوگوں میں عِزّت کی بات سمجھی جائے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِس جہان میں گُناہ داخِل ہونے سے پیشتر خُدا نے شادی کو مقرر کیا تھا اور کہ یہ بنی آدؔم کے لئے خُدا کی پاک مرضی ہے۔
شادی شُدہ لوگوں کو اُس عہد و پیمان پر قائم رہنا چاہئے جو انہوں نے نِکاح کے وقت کیا تھا تاکہ ’’بِستر بے داغ رہے‘‘۔ حرامکاری ایسا گُناہ ہے جس کی ’’خُدا‘‘ ضُرور ’’عدالت‘‘ کرے گا۔ کِسی بھی قِسم کی حرامکاری بچ نہیں سکتی۔ وُہ اِس کی عدالت جِسمانی بیماریوں، خاندانوں میں جُدائی، ذہنی اور اعصابی تکلیفوں اور شخصیت میں بگاڑ کے ذریعہ کرتا ہے۔ اگر اس کی مُعافی مسیح کے خُون سے نہ ہو تو اِس کی سزا ابدی ہلاکت ہوگی۔
۵:۱۳- چھٹی خُوبی جو ہم میں ہونی چاہئے وُہ قناعت ہے۔ یاد رہے کہ یہُودیت کے پیروکار ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ ’’ہمارے پاس خیمہء اجتماع ہے۔ ہمارے پاس کہانت ہے۔ ہمارے پاس قُربانیاں ہیں۔ ہمارے پاس خوبصُورت رسُومات ہیں۔ تُمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ یہاں مُصنِّف مسیحیوں سے کہتا ہے:
’’زَرکی دوستی سے خالی رہو اور جو تُمہارے پاس ہے اُسی پر قناعت کرو‘‘۔ مَیں یہ کہتا ہُوں کہ جو کُچھ مسیحیوں کے پاس ہے وُہ یہُودیت کی بہترین شَے سے بھی کہیں قیمتی ہے۔ وُہ کیوں نہ ’’قناعت‘‘ کریں؟ اُن کے پاس مسیح ہے اور یہ کافی ہے۔
ایمان دار کے لئے زَر کی دوستی ایک بڑی رُکاوٹ بن سکتی ہے۔ جِس طرح ایک چھوٹا سِکّہ آنکھ کے آگے رکھنے سے وُہ سُورج اور آنکھ کے درمیان آجاتا ہے، اُسی طرح ’’زَر کی دوستی‘‘ خُدا کے ساتھ رفاقت توڑ دیتی ہے اور رُوحانی ترقی میں رُکاوٹ بن جاتی ہے۔
سب سے بڑی دَولت مسیح کو حاصِل کرنے سے مِلتی ہے جِس نے وعدہ کِیا ہے کہ ’’مَیں تُجھ سے ہرگز دستبردار نہ ہُوں گا اور کبھی تُجھے نہ چھوڑوں گا‘‘۔ یُونانی میں کِسی بات کا سختی سے اِنکار کرنے کے لئے دو مرتبه حرفِ نفی اِستعمال کیا جاتا ہے۔ اِس آیت کے الفاظ بڑے زور دار ہیں۔ اِس میں پانچ حرُوفِ نفی آئے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسیح کے لئے اپنوں کو چھوڑنا نا مُمکِن ہے۔
۶:۱۳- زبُور ۱۱۸: ۶ کے اَلفاظ اُس شخص کا جِس کے پاس مسیح ہے پُراعتماد اِقرار ہے: ’’خُداوند میرا مددگار ہے۔ میں خَوف نہ کروں گا۔ انسان میرا کیا کرے گا؟‘‘ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں مسیح میں مکمّل تحفّظ اور مکمّل سلامتی حاصِل ہے۔
۷:۱۳- قارِئین کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے پیشواؤں کو، اپنے مسیحی اُستادوں کو ’’یاد‘‘ رکھیں کہ ’’جنہوں‘‘ نے انہیں ’’خُدا کا کلام‘‘ سُنایا تھا۔ اُن کی ’’زِندگی کا انجام‘‘ کیا نِکلا؟ وُہ پُرانی کہانت کے نظام کی طرف واپس نہیں گئے بلکہ مضبوطی سے آخر تک اپنے اقرار پر قائم رہے۔ ممکن ہے اُن میں سے بعض کو مسیح کی خاطر جامِ شہادت بھی نوش کرنا پڑا ہو! ہمیں اُن کے ایمان کی پیروی کرنی چاہئے کیونکہ اُن کا ایمان ایسا ہے جو مسیح اور مسیحی تعلیمات سے چِمٹا ہُؤا ہے اور جو زِندگی کے ہر کام میں مسیح کو شامِل رکھتا ہے۔ ہم سب کو ایک سی خِدمت کے لئے تو نہیں بُلایا گیا لیکن سب کو ایمان کی زِندگی کے لئے بُلایا گیا ہے۔
۸:۱۳- اِس آیت کا آیت ۷ سے تعلق صاف نہیں ہے۔ شاید اچّھا ہو کہ اُسے اُن پیشواؤں کی تعلیم، منزل اور ایمان کا خُلاصہ سمجھا جائے۔ اُن کی تعلیم کا نچوڑ یہ تھا کہ ’’یسؔوع مسیح کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘۔ اُن کی زِندگی کی منزل مسیح تھا جو ’’کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘۔ اُن کے ایمان کی بُنیاد یہ تھی کہ ’’یسؔوع‘‘ ہی ’’مسیح‘‘ (المسیح) ہے ’’جو آج اور کل بلکہ ابد تک یکساں ہے‘‘۔
۹:۱۳- یہاں شریعت پرستی سے خبردار کِیا گیا ہے۔ یہُودیت کے پیرو کار اِصرار کرتے تھے کہ پاکیزگی کا تعلق خارجی باتوں مثلاً رسُومات اور پاک کھانوں وغیرہ سے ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکیزگی فضل کی پیداوار ہے نہ کہ شریعت کی۔ پاک اور ناپاک کھانوں کی شریعت کا مقصد رسمی پاکیزگی پَیدا کرنا تھا۔ لیکن باطنی پاکیزگی اَور چیز ہے۔ ایک شخص رسمی طور پر پاک ہونے کے باوجُود بھی نفرت اور ریاکاری سے بھَرا ہُؤا ہو سکتا ہے۔ صِرف خُدا کا فضل ہی ایمان داروں کو پاک زِندگی بسر کرنے پر اُبھارتا اور قوّت دیتا ہے۔ نجات دہِندہ کے لئے ہماری محبّت ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ ہم ’’پرہیزگاری اور راست بازی اور دینداری کے ساتھ زِندگی گزاریں‘‘ (طِطُس ۱۲:۲)- بِالا آخر کھانے پینے کے بارے میں لا تعداد قواعد نے اُن کے ماننے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پُہنچایا۔
۱۰:۱۳- ’’ہماری ایسی قُربان گاہ ہے‘‘۔ یہ یہُودیت کے پیروکاروں کے طعن کا مسیحیوں کا پُراعتماد جواب ہیں۔ ہماری ’’قُربان گاہ‘‘ مسیح ہے، لہٰذا اِس میں وُہ تمام برکات شامِل ہیں جو ہمیں مسیح میں ملتی ہیں۔ وُہ لوگ جِن کا کہانتی نظام سے تعلق ہے اُنہیں مسیحیت کی بہتر چِیزوں میں سے ’’کھانے کا اِختیار نہیں‘‘۔ ضرُوری ہے کہ وُہ پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور یسؔوع مسیح پر بطور واحِد خُداوند اور نجات دہِندہ اِیمان لائیں۔
۱۱:۱۳- قُربانیوں کے نظام کے تحت خاص ’’جانور‘‘ ذبح کئے جاتے اور اُن کا خُون ’’سردار کاہن پاک مکان میں گُناہ‘‘ کی قُربانی کے طور پر لے جاتا۔ اور’’اُن کے جسم‘‘ خیمہ گاہ سے دُور لے جا کہ جلا دِئے جاتے۔ ’’خیمہ گاہ کے باہر‘‘ کا مطلب ہے اُس پردے کے باہر جو خیمہء اجتماع کے صحن کا احاطہ کر رہا تھا۔
۱۲:۱۳- وُہ جانور جو خیمہ گاہ کے باہر جلائے جاتے تھے وُہ مثیل تھے جبکہ خُداوند ’’یسؔوع‘‘ اصل تھا۔ ’’یسؔوع‘‘ ’’یروشلیم کے باہر‘‘ مصلُوب کیا گیا۔ یہ مُنظّم یہُودیت کے خیمہ گاہ سے باہر تھا جہاں اُس نے لوگوں کو ’’اپنے خُون سے پاک‘‘ کِیا۔
۱۳:۱۳- اِس خط کے ابتدائی قارئین کے لئے اِس کا مطلب یہ تھا کہ وُہ یہُودیت سے قطعی طور پر رشتہ توڑ لیں۔ وُہ ہیکل کی قُربانیوں کی طرف سے ہمیشہ کے لئے پِیٹھ پھیر لیں، اور مسیح کے تکمیل شُدہ کام کو وافر قُربانی کے طور پر قبول کرلیں۔
آج کل ’’خیمہ گاہ‘‘ وُہ مذہبی نظام ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ نجات کاموں سے، کردار سے، رسُومات سے یا مذہبی ضابطوں پر عمل کرنے سے ہے۔ یہ بِگڑی ہُوئی مسیحیت ہے اور ایک ایسی کلیسیار جِس میں مسیح نہیں ہے۔ خُداوند یسؔوع باہر ہے اور ہمیں ’’اُس کی ذِلّت کو اَپنے اُوپر لئے ہوئے‘‘ ’’اُس کے پاس‘‘ جانا چاہئے۔
۱۴:۱۳- یروشلؔیم اُن کو جوہیکل میں خِدمت کرتے تھے بڑا عِزیز تھا۔ یہ اُن کے ’’خیمہ گاہ‘‘ کا جُغرافیائی مرکز تھا۔ مسیحیوں کا زمین پر ایسا کوئی ’’شہر‘‘ نہیں ہے۔ اُن کا دِل ’’آسمانی شہر‘‘ یعنی نئے یروشلؔیم پر لگا ہُؤا ہے جہاں بّرہ ہی سب کُچھ ہے۔
۱۵:۱۳- نئے عہد میں تمام ایمان دار کاہن ہیں۔ وُہ مُقَدّس کاہن ہیں جو خُدا کی پرستِش کے لئے مَقدِس میں جاتے ہیں (۱۔ پَطرس ۲: ۵) اور وُہ شاہی کاہِن ہیں جو یسؔوع کی گواہی دینے کے لئے دُنیا میں جاتے ہیں (۱ – پَطرس ۹:۲)- کم از کم تین قُربانیاں ایسی ہیں جو ایک اِیمان دار کاہن گزرانتا ہے۔ پہلی اُس کی اپنی شخصیت کی قُربانی ہے (رومیوں ۱:۱۲)۔ پھر یہاں آیت۱۵میں دُوسری ہے ’’حمد کی قُربانی‘‘۔ یہ ’’خُدا‘‘ کو مسیح خُداوند کی وساطت سے پیش کی جاتی ہے۔ ہماری تمام حمد اور دُعائیں مسیح کے وسیلہ سے خُدا باپ کے پاس پہنچتی ہیں۔ ہمارا بڑا سردار کاہن اُس میں سے تمام ناپاکی اور ناکاملیت کو نِکال دیتا اور اپنی خُوبیاں اُس میں شامل کر دیتا ہے۔
’’حَمد کی قُربانی‘‘ اُن ’’ہونٹوں کا پھل‘‘ ہے جو ’’اُس کے نام کا‘‘ اِقرار کرتے ہیں۔ خُدا صِرف اُسی پرستش کو قبُول کرتا ہے جو مخلصی یافتہ ہونٹوں سے نِکلتی ہے۔
۱۶:۱۳- تِیسری، اپنے مال و اِملاک کی قُربانی ہے۔ ہمیں اپنے مادّی ذرائع کو ’’بھَلائی‘‘ اور ضرُورتمندوں کی ضرُورت کو پُورا کرنے کے لئے اِستعمال کرنا چاہئے۔ ’’ایسی‘‘ زِندگی بَسر کرنے سے خُدا ’’خوش ہوتا ہے‘‘۔ یہ اپنے لئے مال جمع کرنے کے برعکس ہے۔
۱۷:۱۳- آیات ۷ اور ۸ میں قارئین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وُہ اپنے اُن پیشواؤں کو جو گُزر چُکے ہیں یاد رکھیں۔ اب یہ ہِدایت دی جاتی ہے کہ وُہ اپنے موجُودہ پیشواؤں کے ’’فرمانبردار‘‘ رہیں۔
غالباً اِس کا اِشارہ بُنیادی طور پر مقامی کلیسیا کے ایلڈروں کی طرف ہے۔ یہ لوگ کلیسیا میں خُدا کے نمائِندہ کے طور پر خِدمت کرتے ہیں۔ اُن کو اختیار دِیا گیا ہے اور ایمان دار اُس اختیار کے ’’فرمانبردار‘‘ رہیں۔ ایک چوپان کی طرح وُہ گلّے کی ’’رُوحوں‘‘ کے فائِدے کے لئے ’’جاگتے‘‘ رہتے ہیں۔ اِس کا اُنہیں آنے والے دِن میں ’’حِساب دینا پڑے گا‘‘۔ اِس کا دارومدار اُن کے گلّے کی رُوحانی ترقی پر ہے کہ وُہ یہ حِساب خُوشی سے دیں گے یا رنجیدہ ہو کر۔ اگر وُہ رنجیدہ ہو کر دیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ایمان دار اپنا اجرکھو دیں گے۔