عِبرانیوں کے نام کا خط ۱

تفسیر

۱ـ مسیح افضل ہے (۱:۱ـ۴: ۱۳)

۱ـ مسیح انبیا سے افضل ہے (۱:۱-۳)

۱:۱- نئے عہد نامہ کا کوئی خط بھی اپنے مطلب کو بیان کرنے میں اِتنی جلدی نہیں کرتا جتنی کہ یہ خط ـ یہ سَلام و دُعا اور تعارُف کے بغیر فوراً ہی موضُوع کی طرف آجاتا ہے۔ ایسا معلُوم ہوتا ہے گویا کہ رُوحُ القُدس اُسے مجبُور کر رہا تھا کہ وُہ خُداوند یسؔوع مسیح کے اعلیٰ جلال کا اِنکشاف فوراً ہی کرنے لگے۔ سب سے پہلے وُہ ’’نبیوں‘‘ کی معرفت خُدا کے مکاشفے کا مقابلہ بیٹے میں اُس کے مکاشفہ کے ساتھ کرتا ہے۔ نبی خُدا کے مُلہم نمائندہ تھے۔ وُہ یہؔوواہ کے مُعزّز خادِم تھے۔ اُن کی رُوحانی دَولت عہدِ عتیق میں محفُوظ ہے۔

لیکن اِس کے باوجُود بھی اُن کی خِدمت نامکمل اور جُزوی تھی۔ ہرایک کو ایک خاص حَد تک مکاشفہ بخشا گیا تھا، تاہم بہر صُورت یہ نامکمل ہی تھا۔ اُنہیں نہ صِرف سّچائی حِصّہ بہ حِصّہ دی گئی تھی بلکہ انہوں نے اُسے لوگوں تک پُہنچایا بھی مُختلِف طریقوں سے۔ اُسے شریعت، تارِیخ، نظم اور نبُوّت کے طور پر پیش کِیا گیا۔ بعض اوقات یہ زبانی دی گئی اور بعض اوقات تحریری طور پر۔ بعض اوقات یہ رویاؤں، خوابوں، نِشانوں میں اور بعض اَوقات اشاروں کِنایوں میں دی گئی۔ خواہ کوئی بھی طریقہ اِستعمال کیا گیا، نکتہ یہ ہے کہ بنی اِسرائیل کو جو مکاشفہ پہلے دِیا گیا وُہ اِبتدائی اور بتدریج تھا اور اُسے مُختلِف طریقوں سے لوگوں تک پُہنچایا گیا۔

۲:۱- عہدِ عتیق کی وقتی، جُزوی اور مخصُوص نبُوّتوں پر اَب اُس کے ’’بیٹے‘‘ میں خُدا کا آخری مکاشفہ چھا گیا۔ انبیا صِرف ایک وسیلہ تھے جنکی معرفت کلامِ الہٰی دِیا گیا، جبکہ خُداوند یسؔوع مسیح خُود بنی آدم کے لئے خُدا کا آخری مکاشفہ ہے۔ چنانچہ یُوؔحَنّا رسُول کہتا ہے ’’خُدا کو کِسی نے کبھی نہیں دیکھا۔ اکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اُسی نے ظاہرکیا‘‘ (یُوحَنّا ۱: ۱۸)- خُداوند یسؔوع نے اپنے بارے میں خود فرمایا

’’جس نے مُجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا‘‘ (یُو حنّا ۱۴ : ۹)ـ مسیح خُداوند نہ صِرف خُدا کی طرف سے کلام کرتا ہے بلکہ بطور خُدا کے بھی۔ اِس خط کا مُصنِّف یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ ابنِ خُدا تمام انبیاء سے افضل ہے وُہ پہلے اُسے تمام ’’چِیزوں کے وارِث‘‘ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خُدا نے اُسے یہ کائِنات دی ہے اور وُہ جَلد ہی اِس پر حکُومت کرنے لگے گا۔ اُسی کے ’’وسیلہ سے‘‘ خُدا نے ’’عالَم بھی پیدا کِئے‘‘۔ یسؔوع مسیح تخلیقِ کائِنات میں ایک سرگرم رُکن تھا۔ اُسی نے فضا اور سِتاروں بھَرے آسمانوں کو، زمین کو اور نسلِ اِنسانی کو پَیدا کیا۔ وُہی تمام مخلوُقات کا خواہ وُہ رُوحانی ہیں یا زمینی خالق ہیں۔

۳:۱- وُہ خُدا کے ’’جلال کا پرتَو‘‘ ہے یعنی خُدا باپ میں ہمیں جو کُل کا مِلیّت ملتی ہے وُہ بیٹے میں بھی پائی جاتی ہے۔ وُہ اُس کے جلال کی تابانی و درخشندگی ہے۔ خُدا کی تمام اخلاقی اور رُوحانی جَلالت اُس میں دیکھی جاتی ہے۔

مزِید یہ کہ خُداوند یسؔوع، خُدا کی ذات کا حقیقی ’’نقش‘‘ ہے۔ لیکن اِس کا اِشارہ جِسمانی شکل و شُباہت کی طرف نہیں ہے کیونکہ خُدا اپنی ذات میں رُوح ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح اُن تمام باتوں میں جو اِنسانی سمجھ میں آسکتی ہیں بعین باپ کی مانند ہے۔ اِس سے زیادہ نزدیکی مشابہت اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ بیٹا، خُدا ہوتے ہُوئے اپنے کلام اور کام سے ظاہر کرتا ہے کہ خُدا کِس قِسم کا ہے۔ اور وُہ کُل کائنات کو اپنی ’’قدرت کے کلام‘‘ سے سنبھالتا ہے۔ اِبتدا میں عالَم اُسی کے کہنے سے بنے (عِبرانیوں۱۱: ۳)۔ اب بھی وُہ کلام کرتا ہے اور اُس کا قُدرت کا ’’کلام‘‘ زِندگی دیتا، اور تمام چِیزوں اور کائنات کو درُست نظام میں برقرار رکھتا ہے۔ یہ وُہی ہے جِس میں تمام چِیزیں قائم رہتی ہیں (کلسّیوں ۱: ۱۷)۔ یہاں اُس بات کی جس کے بارے میں سائِنسدان چَکرائے رہتے ہیں سادہ سی تشریح ہے۔ سائِنسدان یہ معلُوم کرنے میں کوشاں ہیں کہ ذرّوں کو کون سی قُوّت باہم قائم رکھّے ہُوئے ہے! یہاں ہمیں معلوُم ہوتا ہے کہ یسؔوع مسیح اِسے اپنے ’’قُدرت کے کلام‘‘ سے سنبھالے ہُوئے ہے۔

لیکن ہمارے نجات دہندہ کا اگلا جلال سب سے زیادہ حیران کُن ہے جبکہ اُس نے ہمارے ’’گُناہوں کو دھویا‘‘۔ خالقِ اور قیّوم ہمارے گُناہ اُٹھانے والا بن جاتا ہے۔ کائِنات کی تخلیق کے لئے اُسے صِرف ’’کُن‘‘ کہنا پڑا اور وُہ وُجُود میں آگئی کیونکہ اِس میں کوئی اخلاقی فتُور حائِل نہ تھا۔ لیکن ہمارے گُناہوں کو ہمیشہ کے لئے دُور کرنے کی خاطر اُسے کلؔوری کی صلیب پر جان دینا پڑی۔ یہ خیال کہ قادرِمُطلق خُداوند قُربانی کا برّہ بن گیا ہمارے لئے ناقابلِ فہم ہے۔

آخر میں ہم اُسے تخت نشین خُداوند کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اُس کی تخت نشینی کا انداز یہ ہے کہ وُہ ’’کِبریا کی دہنی طرف جا بیٹھا‘‘۔ یہ مساعی کے بعد کا آرام نہیں ہے بلکہ اپنے تکمیل شُدہ کام کی تسکین کا آرام ہے۔ یہ اَنداز ظاہر کرتا ہے کہ مخلصی کا کام پایہ تکمیل کو پُہنچ چُکا ہے۔

’’کِبریا کی دہنی طرف بیٹھنا‘‘ ایک ایسا مرتبہ ہے جو عِزّت اور اِستحقاق کو ظاہر کرتا ہے (عبرانیوں ۱:۱۳)۔ خُدا نے اُسے اِس لئے سرفراز کیا کیونکہ اُس نے جَلالی فتح حاصل کی ہے۔ داہنا ہاتھ اختیار(متّی ۲۶ : ۶۴) اور شادمانی و خوشی کو ظاہر کرتا ہے۔ نجات دہندہ اپنے چھیدے ہُوئے ہاتھ میں کُل کائِنات پر حکوُمت کرنے کا عصا پکڑے ہُوئے ہے (۱۔ پطرس ۳:۲۲)۔

ایسا معلوُم ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے خُداوند کے تخلیقِ کائِنات سے کلوؔری اور پھر سرفرازی کے راستے کی پَیروی کرتے ہُوئے انبیاء کو بُھلا ہی دیا ہے۔ اگرچہ وہ بڑے قابلِ احترام ہیں، تاہم وُہ سایہ میں ہٹ گئے ہیں۔ اُنہوں نے آنے والے مسیح کی گواہی دی (اعمال ۴۳:۱۰)۔ اور اب جبکہ وُہ آگیا تو وُہ خُوشی خُوشی منظر سے ہٹ گئے۔

ب۔ مسیح فِرشتوں سے افضل ہے (۱: ۴ـ ۲: ۱۸)

۴:۱- اِس خط میں دُوسرا نکتہ یہ ہے کہ مسیح ’’فرشتوں سے بزرگ‘‘ ہے۔ یہ اِس لئے ضرُوری تھا کیونکہ یہُودی فِرشتوں کی خِدمت کو بُہت بُلند سمجھتے تھے۔ شریعت فرِشتوں ہی کی وساطت سے دی گئی تھی (اعمال ۷: ۵۳؛ گلتیوں ۱۹:۳) اور فرِشتگان خُدا کے قدیم لوگوں کی تاریخ میں مُتعدد بار ظاہر ہوتے رہے تھے۔ غالباً کہا جاتا تھا کہ اگر کوئی مسیح کی خاطر یہُودیت کو ترک کر دیتا ہے تو وُہ اپنی قومی اور دِینی وَراثت سے اہم حِصّے سے کٹ جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسیح کو حاصل کرنے سے وُہ اُس کو جو فرشتوں سے افضل ہے دو معنوں میں حاصِل کر لیتا ہے: پہلے بطور ابنِ خُدا (۱: ۴ – ۱۴) اور دُوسرے ابنِ آدمؔ (۲: ۵ – ۱۸)-

مسیح ’’فرِشتوں سے اسی قدر بزرگ ہو گیا جس قدر اُس نے میراث میں اُن سے افضل نام پایا‘‘۔

یہاں پہلا اشارہ اُس کی اِکتسابی بزُرگی کی طرف ہے اور پھر اُس کی وراثتی بزرگی کی طرف۔ اِکتسابی بزرگی اُس کے جی اُٹھنے، صعُودِ آسمانی اور بطور خُداوند اور مسیح اُس کی سرفرازی کا نتیجہ ہے۔ وُہ اپنے تجسُّم میں تھوڑے عرصہ کے لئے فرشتوں سے کم بن گیا تاکہ موت سہہ سکے (۹:۲)- لیکن خُدا نے اُسے سرفراز کِیا اور بلند ترین جلال پر بٹھایا۔ اُس کی وراثتی بزُرگی کا تعلق اُس کے خُدا کا بیٹا ہونے سے ہے۔ بیٹے کا نام سب سے ’’افضل نام‘‘ ہے۔

۵:۱- یہاں پُرانے عہد نامہ سے دو آیات پیش کی گئی ہیں جن میں المسیح کو بیٹا بتایا گیا ہے۔ پہلی، زبُور۶: ۷ میں خُدا اُسے بطور بیٹا مُخاطب کرتا ہے : ’’تُو میرا بیٹا ہے۔ آج تُو مُجھ سے پَیدا ہؤا‘‘۔

ایک لحاظ سے مسیح ازل سے پَیدا شُدہ بیٹا ہے۔ دُوسرے لِحاظ سے وُہ تجسُّم میں پَیدا ہؤا۔ تیسرے لحاظ سے وُہ جی اُٹھنے میں پَیدا ہؤا۔ مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا (کلسّیوں ۱۸:۱)۔ پَولُسؔ رسُول نے اِس آیت کو پِسؔدیہ کے عبادت خانے میں اِستعمال کیا اور اِس کا اِطلاق مسیح کی پہلی آمد پر کِیا (اعمال ۳۳:۱۳)-

لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خُدا نے کبھی بھی کِسی فرِشتے کو اپنے ’’بیٹے‘‘ کے طور پر مخاطب نہیں کیا۔ فِرشتوں کو مجمُوعی طور پر تو بیٹا کہا گیا ہے (ایُوب ۶:۱؛ زبُور ۸۹: ۶) لیکن اِن سے مُراد محض مخلوُقات ہیں۔ لیکن جب خداوند مسیح کو خُدا کا بیٹا کہا گیا تو اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وُہ خُدا کے برابر ہے۔

دُوسری آیت ۲- سموئیل ۷ : ۱۴ ہے: ’’مَیں اُس کا باپ ہُوں گا اور وُہ میرا بیٹا ہو گا‘‘۔ ممکن ہے الفاظ سے ایسا محسُوس ہو کہ یہاں سلیمؔان کی طرف اِشارہ ہے، تاہم رُوحُ القُدس یہاں اِن کو داؔؤد کے عظیم بیٹے سے منسُوب کرتا ہے۔ یہاں پھر وُہی بات ہے کہ خُدا نے کبھی کِسی فرِشتے کو اِس طرح مُخاطِب نہیں کیا۔

۶:۱- تِیسرا سبَب جِس کی بِنا پر مسیح فرِشتوں سے بڑا ہے یہ ہے کہ وُہ اُن کی پرستِش کا مرکز ہے یعنی وُہ اُس کی پرستش کرتے ہیں، وُہ اُس کے پیغام بردار اور خادم ہیں۔ اِس نکتے کو ثابت کرنے کے لئے مُصنِّف اِستشنا ۳۲ : ۴۳ اور زبُور ۹۷: ۷ کا حوالہ دیتا ہے۔ اِستثنا ۳۲ : ۴۳ مُوسؔیٰ کے گیت کا حِصّہ ہے جِس میں مُستقبِل میں اِسرائیل کے خُداوند کی اپنے دشمنوں پر فتح کی منظر کشی کی گئی ہے۔ عبرانیوں کا مُصنِّف اُس فتح کو المسیح کی طرف مُنتقِل کرتا ہے جبکہ خُدا ’’پہلوٹھے کو دُنیا میں پھرلاتا ہے‘‘۔ بالفاظ دِیگر یہ المسیح کی آمدِثانی کی طرف اشارہ ہے۔ اُس وقت فِرشتے اُس کی کھُلے عام پر ستِش کریں گے۔ اِس کا صِرف ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے کہ وُہ خُدا ہے۔ سچّے خُدا کے سوا کِسی اَور کی پرستِش کرنا بُت پرستی ہے۔

’’پہلوٹھے‘‘ کا مطلب زمانے کے لحاظ سے پہلا (لُوقا ۲:۷) یا مرتبے اور عِزّت کے لحاظ سے پہلا (زبُور ۸۹: ۲۷) ہو سکتا ہے۔ یہاں اور رومیوں ۸:۲۹ اور کُلسّیوں ۱: ۱۵، ۱۸ میں اِس کا موخرالذکر مطلب ہی ہے۔

۷:۱- خُدا اپنے افضل و برتر بیٹے کے مقابلے میں ’’فرِشتوں کو ہوائیں اور اپنے خادِموں کو آگ کے شُعلے بناتا ہے‘‘۔ وُہ ’’فرشتوں‘‘ کا خالِق اور ناظم وراہنما ہے۔ وُہ اُس کی مرضی کو ہَوا کی سی تیزی اور آگ کی سی تُندی سے بجالاتے ہیں۔

۸:۱- آئیے اب ہم جلالوں کی کہکشاں کو دیکھیں جِس میں بیٹا نا قابلِ موازنہ نظر آتا ہے۔ پہلے خُدا اُسے بطور خُدا مُخاطب کرتا ہے۔ زبُور ۴۵: ۶ میں خُدا باپ المسیح کو اِن الفاظ سے پُکارتا ہے ’’اے خُدا! تیرا تخت ابدُالآباد رہے گا‘‘۔ یہاں پھِر مسیح کی الوہیّت میں کوئی شک نہیں رہتا اور جو دلِیلیں دی گئی ہیں وُہ روایتی عبرانی متن سے لی گئی ہیں (عبرانیوں کے خط کے ہر ایک باب میں کم از کم ایک اقتباس عہدِ عقیق سے شامِل کیا گیا ہے)۔

وُہ ابدی حاکم بھی ہے۔ اُس کا تخت ابد تک قائِم رہے گا۔ وُہ راست باز بادشاہ ہے ۔ زبُور نویس کہتا ہے کہ اُس کے ہاتھ میں ’’راستی کا عصا‘‘ ہے۔ یہ، یہ بتانے کے لِئے کہ اِس بادشاہ کی سلطنت قطعی دیانت داری اور عزّت و وقار پر مبنی ہے ایک شاعِرانہ انداز ہے۔

۹:۱- یہاں اُس کی ذاتی راستبازی اِس سے ظاہر ہوتی ہے کہ اُس نے متواتر ’’راست بازی سے محبّت اور بدکاری سے عداوت رکھّی‘‘۔ یہ بِلاشُبہ اُس کی اُس تینتیس سالہ زِندگی کی طرف اِشارہ ہے جو اُس نے زمین پر بَسر کی جِس میں خُدا کی آنکھ کو نہ تو اُس کے کِردار میں اور نہ اُس کے چال چلن میں کوئی نقص نظر آیا۔ اُس نے ثابت کیا کہ وُہ حکوُمت کرنے کے قابل ہے۔

چونکہ اُسے یہ ذاتی فضیلت حاصِل تھی، اِس لئے ’’خُدا نے (اُسے) خُوشی کے تیل سے‘‘ اُس کے ’’ساتھیوں کی نِسبت ۔۔۔ زیادہ مَسح کیا‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خُدا نے اُسے دیگر تمام ہستیوں پر برتری دی۔ یہاں تیل غالباً پاک رُوح کی طرف اشارہ ہے۔ دُوسروں کی نِسبت مسیح کو پاک رُوح دِیا گیا! یُوحَنّا ۳: ۳۴)۔ اُس کے ساتھیوں میں وُہ لوگ بھی شامِل تھے جِن کے ساتھ وُہ خُود رہا تھا مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وُہ اُس کے برابر تھے۔ مُمکن ہے اِن میں فرشتے بھی شامِل ہوں لیکن یہاں زیادہ تراُس کے یہُودی بھائیوں کی طرف اِشارہ ہے۔

۱۰:۱- یسوع مسیح زمین اور آسمان کا خالق ہے اور یہ سچائی زبور ۱۰۲: ۲۵-۲۷ سے واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے، جہاں المسیح دعا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’اے میرے خدا! مجھے میری آدھی عمر میں نہ اٹھا‘‘ (آیت ۲۴)۔ گتسمانی اور کلوری کی اس گہری دعا کا جواب خدا باپ نے یوں دیا کہ ’’تو نے قدیم سے زمین کی بنیاد ڈالی اور آسمان تیرے ہاتھ کی صنعت ہے‘‘۔ اس بات پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ خدا یہاں عبرانیوں کے خط کے پہلے باب (آیت ۱۰) میں پرانے عہد نامے کے یہوواہ سے متعلق کلام کا براہِ راست اطلاق یسوع مسیح پر کرتا ہے، اور یوں وہ اپنے بیٹے کو خداوند یعنی یہوواہ کہہ کر پکارتا ہے، چنانچہ اس الہیاتی نتیجے سے کہ نئے عہد نامہ کا یسوع ہی دراصل پرانے عہد نامہ کا یہوواہ ہے، فرار ممکن نہیں۔

۱۲-۱۱:۱- آیات ۱۱،۱۲ میں مخلوُق کی نا پائیداری کا خالق کی بقا کے ساتھ مُقابلہ کیا گیا ہَے۔ اُس کا کام تو تباہ ہو جائے گا مگر وُہ خُود باقی رہے گا۔ اگر چہ سُورج، چاند، ستارے، سمُندر اور دریا دائِمی نظر آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وُہ معدُوم ہو جائیں گے۔ زبُور نویس اُن کو پوشاک سے تشبِیہ دیتا ہے؛ پہلے وُہ پُرانی ہو جاتی ہے، پھِر اُسے ناقابلِ اِستعمال سمجھ کر تہ کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور پھر اُسے اُس سے بہتر سے تبدیل کر لیا جاتا ہے۔

ذرا بَرف سے ڈھکی پہاڑ کی چوٹیوں کے سلسلے، ڈوبتے ہُوئے شاندار سُورج اور تاروں بھرے آسمان پر نظر دَوڑائیں۔ پھِر اِن الفاظ کے زیروبم کو سُنیں: ’’تُو اُنہیں چادر کی طرح لپیٹے گا اور وُہ پوشاک کی طرح بَدل جائیں گے مگر تُو وُہی ہے‘‘۔

۱۳:۱- ایک اور اقتباس (زبور ۱:۱۱۰) بیٹے کی افضلیّت کو ثابت کرتا ہے۔ اِس زبُور میں خُدا بیٹے کو دعوت دیتا ہے کہ ’’تُو میری دہنی طرف بیٹھ جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں تلے کی چَوکی نہ کر دُوں‘‘۔ اب سُوال یہ ہے کہ کیا خُدا نے اِس قِسم کی بات کِسی فرِشتے کو بھی کہی؟ جواب یہ ہے کہ بے شک نہیں۔

خُدا کی’’دہنی طرف‘‘ بیٹھنا بے حَد عِزّت اور لامحدُود اختیار کو ظاہر کرتا ہَے، اور اپنے دُشمنوں کو اپنے پاؤں کی ’’چوکی‘‘ بنانا یہ کہ وُہ کُل دُنیا کو مغلوُب کرے گا اور اُس کی حکوُمت عالمگیر ہوگی۔

۱۴:۱- فِرشتوں کا کام حکوُمت کرنا نہیں بلکہ خِدمت کرنا ہے۔ وُہ ذی روح ہستیاں ہیں جنہیں خُدا نے ’’نجات کی میراث پانے والوں کی … خِدمت‘‘ کے لئے پیدا کیا ہے۔ ہم اِسے دو طرح سے سمجھ سکتے ہیں: پہلا، فِرشتے اُن کی ’’خِدمت‘‘ کرتے ہیں جو ابھی ایمان نہیں لائے ہیں۔ دُوسرا اُن کی جو گُناہ کی سَزا اور قُوّت سے بچ گئے ہیں لیکن ابھی گُناہ کی موجُودگی سے نہیں بچے یعنی وُہ ایمان دار جو ابھی زمین پر ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وُہ مُحافظ فرشتے ہیں۔ ہمیں اِس قِسم کی سّچائی پر حیران ہونے کی ضرُورت نہیں۔ بَدرُوحوں کی مَوجودگی ایک یقینی بات ہے جو خُدا کے برگُزیدوں سے جنگ میں مصرُوف ہیں (اِفسیوں۶ :۱۲)۔ تو کیا ہمیں پاک فِرشتوں کی موجودگی پر حیران ہونا چاہِئے جو نجات کے لئے بُلائے ہُوؤں کی حفاظت کرتے ہیں؟

آئیے ہم مُحافِظ فرشتوں کو چھوڑ کر اپنے اَصل نکتہ پر غَور کریں جو یہ ہے کہ فرشتے خُدا کے بیٹے سے کم تَر ہیں جیسے خادم یا نوکر عالمگیر حاکم سے کم تَر ہوتے ہیں۔

۱:۲- مُصنِّف نے ابھی اِس بحث کو ختم کیا ہے کہ مسیح فرِشتوں سے افضل ہے کیونکہ وُہ خُدا کا بیٹا ہے۔ یہ دِکھانے سے پیشتر کہ وُہ بطور ابنِ آدؔم بھی افضل ہے وُہ تھوڑے توقف کے بعد افسیوں کے خط میں دی گئی متعدد تنبیہوں میں سے پہلی کو بھی شامِل کرتا ہے۔ یہ تنبیہ انجیل کے پیغام سے بہ کر ’’دُور‘‘ چلے جانے کے بارے میں ہے۔

چُونکہ دینے والا اور اُس کی بخشِش کی عظمت عظیم ہے اِس لئے جو انجیل کا پیغام سُنتے ہیں اُنہیں اِس پر’’اَور بھی دِل لگاکر غور کرنا‘‘ چاہیئے۔ مسیح کی شخصیّت سے ’’دُور‘‘ چلے جانے اور رسُوماتی مذہب میں واپس پھِسل جانے کا خطرہ ہمیشہ ہی موجُود رہتا ہے۔ اِس کا مطلب گمراہی میں پڑ جانا ہے یعنی اَیسے گُناہ میں جِس کے لئے کوئی توبہ نہیں۔

۲:۲- ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ یہُودی اپنی تاریخ میں فرِشتوں کی خِدمت کو خاص اہمیّت دیتے تھے۔ غالباً اِس کی بڑی مثال وُہ ہے جبکہ شریعت دی گئی تو وہاں لا تعداد فرِشتے موجُود تھے (اِستثنا ۳۳:۲؛ زبُور۶۸: ۱۷)- یہ درُست ہے کہ شریعت ’’فرِشتوں کی معرفت‘‘ دی گئی تھی۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ شریعت کا عُدُول کرنے والے کو ٹھیک ٹھیک بدلہ مِلا۔

۳:۲- لیکن اب بحث کم اہمیّت کے حامِل سے زیادہ اہمیّت کے حامِل کی طرف بڑھتی ہے۔ اگر شریعت کو توڑنے والوں کو سَزا مِلتی ہے تو پھر اُن کی قِسمت کا کیا ہو گا جو انجیل کی خوشخبری کو نظر انداز کرتے ہیں؟ شریعت یہ بتاتی ہے کہ اِنسان پر کیا کرنا فرض ہے، جبکہ انجیل یہ کہ خُدا نے کیا کِیا ہے۔ شریعت سے ہمیں گُناہ کا عِلم ہوتا ہے اور انجیل سے ’’نجات‘‘ کا۔

پَس ’’اِتنی بڑی نجات سے غافِل‘‘ رہنا، شریعت کو توڑنے سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ خُدا نے شریعت فرِشتوں کی معرفت مُوسؔیٰ کو دی تھی اور اُس نے آگے اُمّت کو دی۔ لیکن انجیل کی خُوشخبری مسیح خُداوند نے خُود براہِ راست بیان کی۔ اور صِرف یہی نہیں بلکہ اِس کی تصدیق رسُولوں، اور دِیگر نے بھی کی جِنہوں نے اِسے نجات دہندہ سے سُنا تھا۔

۴:۲- اور اِس کے ساتھ خُدا نے خُود بھی اِس کی تصدیق ’’نِشانوں اور عجیب کاموں اور طرح طرح کے معُجزوں اور رُوحُ القُدس کی نعِمتوں کے ذریعہ‘‘ سے کی۔ ’’نشان‘‘ خُداوند مسیح اور رسُولوں کے وُہ مُعجزے تھے جن سے رُوحانی سچائیاں ظاہر ہوتی تھیں۔ مثلاً پانچ ہزار کو کھانا کھِلانا (یُوحَنّا ۶:۱-۱۴) ایک ایسی بُنیاد تھی جِس سے مابعد زِندگی کی روٹی پر گُفتگُو کرنے کا موقع مِلا (یُوحَنّا ۶: ۲۵-۵۹)- ’’عجیب کام‘‘ وُہ مُعجزے تھے جِن کا مقصد لوگوں میں تحّیر پَیدا کرنا تھا، مثلاً لعؔزر کو زِندہ کرنا (یُوحَنّا ۱۱ : ۱-۴۴)

’’مُعجزے‘‘ مافوق الفِطرت قُوّت کا اِظہار تھے جو قانونِ فِطرت کی مزاحمت کرتے تھے۔ ’’روحُ القُدس کی نعمتیں‘‘ جو آدمیوں کو دی گئیں بولنے اور کام کرنے کی وُہ خاص قابلیتّیں تھیں جو اُن کی فِطری قابلیّت سے قطعی بُلند تھیں۔ اِن مُعجزات کا مقصد خُوشخبری کی تصدیق کرنا تھا، خاص طور پر یہُودیوں کے لئے جو کِسی بات پر ایمان لانے سے پیشتر اپنی روایت کے مُطابق نِشان طلب کرتے تھے۔ لیکن ایسی شہادتیں ملتی ہیں کہ جب نیا عہد نامہ تحِریری صُورت میں وُجوُد میں آگیا تو تصدیقی مُعجزات کی ضرُورت ختم ہوگئی۔ تاہم یہ کہنا مشکِل ہے کہ رُوحُ القُدس دُوسرے زمانوں میں اُن مُعجزات کو کبھی نہیں دُہرائے گا۔

یہ الفاظ کہ ’’اپنی مرضی کے مُوافق‘‘ ظاہر کرتے ہیں کہ رُوحُ القُدس یہ مُعجزاتی قُوّتیں ایمان داروں کو اپنی مرضی کے مُطابق دیتا ہے۔ خُدا کی یہ نعمتیں اُس کی آزاد مرضی کے مُطابق دی جاتی ہیں۔ اِنسان اِن کا تقاضا نہیں کرسکتا اور نہ وُہ اپنی دُعا کے جواب کے طور پر اِن کا دعویٰ کر سکتا ہے کیونکہ خُدا نے اِن کا اُن سے کبھی وعدہ نہیں کِیا ہے۔

۵:۲- ہم نے پہلے باب میں دیکھا کہ مسیح خُدا کے بیٹے کے طور پر فرشتوں سے افضل ہے۔ اَب ہم یہ دیکھیں گے کہ وُہ بطورابنِ آدم بھی افضل ہے۔ اگر ہم یہ یاد رکھیں گے کہ یہُودی ذہن کے نزدیک مسیح کا تجُّسم خارج ازقیاس اوراُس کی پَستی باعثِ شرم تھی تو خیالات کے بہاؤ کو سمجھنے میں مَدد مِلے گی۔

یہُودیوں کے نزدیک یسؔوع محض اِنسان تھا اِس لئے وُہ فرِشتوں کی نِسبت کمتر طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ لیکن درج ذِیل آیات بتاتی ہیں کہ ابنِ آدم ہوتے ہُوئے بھی وُہ فِرشتوں سے افضل تھا۔ سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مُستقبِل کے ’’جہان‘‘ کے بارے میں خُدا نے یہ حُکم نہیں دِیا کہ

وُہ ’’فرشتوں‘‘ کے کنٹرول میں ہوگا۔ یہاں ’’آنے والے جہان‘‘ سے مُراد وُہ پُرامن اور خوشحال زمانہ ہے جس کا ذِکر انبیاء عموماً کیا کرتے تھے۔ ہم اِسے ہزار سالہ بادشاہت کہتے ہیں۔

۶:۲- یہاں زبُور ۸ :۴-۶ سے اقتباس یہ دکھانے کے لئے دیا گیا ہے کہ زمین پر بالآخر حکُومت کا اختیارآدمی کو دیا گیا ہے نہ کہ فرشتوں کو۔ ایک لحاظ سے آدمی حقیر سی ہستی ہے لیکن اِس کے باوجُود بھی خُدا ’’اُس کا خیال کرتا ہے‘‘۔ ایک لحاظ سے آدمی کی کوئی اہمیّت نہیں، تو بھی خُدا ’’اُس پر نگاہ کرتا ہے‘‘۔

۷:۲- تخلیق کی دَرجہ بندی میں اِنسان، ’’فرِشتوں سے کُچھ ہی کم‘‘ ہے۔ وُہ اُن کی نِسبت عِلم، حرکت کرنے اور قُوّت میں محدُود ہے، اور پھر یہ کہ وُہ فانی ہے۔ تاہم خُدا کے مقاصد میں ’’اُس پر جَلال اور عِزّت کا تاج رکھا‘‘ گیا ہے۔ اُس کی بَدنی اور ذہنی مجبُوری بُہت حَد تک ختم کر دی جائے گی اور اُسے زمین پر سرفراز کیا جائے گا۔

۸:۲- اُس دِن سب کُچھ ـــــــ فرِشتگان، حیوانات، پرِندے، مچھلیاں، نباتات ـــــــ آدمی کے اختیار کے ’’تابع‘‘ کر دیا جائے گا، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کائِنات کا ہر ایک حِصّہ اُس کے کنٹرول ’’تلے‘‘ آجائے گا۔ اِنسان کے لئے خُدا کا اصل ارادہ یہی تھا۔ مثلاً اُس نے اُسے کہا تھا: ”پھَلو اور بڑھو اور زمین کو معمُور و محکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہَوا کے پرندوں اور کُل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اِختیار رکھو‘‘ ( پَیدائِش ۱: ۱۸)۔

لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم ’’سب چیزیں‘‘ اُس کے ’’تابع‘‘ نہیں دیکھتے؟ جواب یہ ہے کہ اِنسان نے اپنا اِختیار گُناہ کی وجہ سے کھو دیا۔ یہ آدؔم کا گُناہ ہی تھا جِس کی وجہ سے تخلیق پر لعنت آئی۔ فرمانبردار جاندار وحشی بن گئے۔ زمین نے اُونٹ کٹارے اور جھاڑیاں اُگانی شُروع کردیں۔ اِنسان کے فطرت پر کنٹرول کو چیلنج کیا جانے لگا اور محدُود ہو گیا۔

۹:۲- لیکن جب ابنِ آدؔم زمین پر حکوُمت کرنے کے لئے آئے گا تو اِنسان کا اِختیار بحال ہو جائے گا۔ یسؔوع، بحیثیت اِنسان جو کُچھ آدؔم نے گنوا دیا اُسے اور اُس کے عِلاوہ اور بُہت کچھ بھال کر دے گا۔ پَس اَب جبکہ ہم سب کُچھ اِنسان کے کنٹرول میں نہیں دیکھتے تو ہم ’’یسوع کو‘‘ دیکھتے ہیں اور اُس میں ہمیں اِنسان کی بالآخر زمین پر حکُومت کرنے کی کُنجی مِل جاتی ہے۔

تھوڑے عرصہ کے لئے وُہ ’’فرِشتوں سے کُچھ ہی کم کِیا گیا‘‘ خاص طور پر اپنی زمینی زِندگی کے تینتیس ہے سالوں کے لئے ــــــــ اُس کی پَستی کے درجات کو ہم اُس کے آسمان سے بیؔت لحم میں آنے، وہاں سے گتسؔمِنی عدالت کے چبوُترہ، گلگتؔا اور قبر تک دیکھتے ہیں۔ لیکن اب ’’جلال اورعزّت کا تاج اُسے پہنایا گیا‘‘۔ اُس کی سرفرازی اُس کے دُکھ اُٹھانے اور مَوت کا نتیجہ ہے۔ صلیب اُسے تاج تک لے گئی۔ اِس سب میں خُدا کا پُرفضل مقصد یہ تھا کہ مسیح ’’ہر ایک آدمی کے لئے مَوت کا مزہ چکھے‘‘۔ نجات دہندہ ہمارے نمائندہ کے طور پر اور ہمارے بدلے میں مؤا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وُہ بطور آدمی، آدمی کے لئے مُؤا۔ اُس نے گُناہ کے خلاف خُدا کی تمام عدالت کو اپنے بَدن پر صلیب پر سہا تاکہ وُہ لوگ جو اُس پر ایمان لاتے ہیں اُنہیں وُہ کبھی نہ اُٹھانی پڑے۔

۱۰:۲- یہ خُدا کے راست کردار کے عَین مُطابق تھا کہ نجات دہندہ کی تذلیل کے ذریعہ اِنسان کے اِختیار کو پھِر بحال کرے۔ گُناہ نے خُدا کے نظامِ کائِنات کو بگاڑ دیا تھا۔ اِس سے بیشتر کہ اُس نظام کو افراتفری سے نِکالا جائے ضرُوری تھا کہ گُناہ کی راستی سے عدالت کی جائے۔ یہ خُدا کے پاک کِردار کے عین مُطابق تھا کہ گُناہ کو دُور کرنے کے لئے مسیح دُکھ اُٹھائے، خُون بہائے اور مَوت سہے۔ دانِش مند منصُوبہ ساز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وُہ، وُہ تھا ’’جِس کے لئے سب چیزیں ہیں اور جِس کے وسیلہ سے سب چِیزیں ہیں‘‘۔ اّول، وُہ تخلیق کا نصبُ العین تھا۔ تمام چیزیں اُس کے جلال اور خوشی کے لئے پَیدا کی گئیں۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی وُہ تمام تخلیق کا بانی بھی ہے۔ اُس کے بغیر کوئی چیز پیدا نہیں ہُوئی۔

اُس کا عظیم مقصد ’’بُہت سے بیٹوں کو جلال میں داخِل‘‘ کرنا تھا۔ جب ہم اپنے نکمّے پن پرغور کرتے ہیں تو یہ سوچ کر حَیران ہو جاتے ہیں کہ اُسے بھی ہمارے ساتھ تکلیف اُٹھانی پڑی، لیکن یہ اِس لئے تھا کیونکہ وُہ پُر فصل خُدا ہے اور کہ اُس نے ہمیں اپنے ابدی جلال کے لئے بُلایا ہے۔ ہمارے جلال پانے کی قیمت کیا ہے؟ ہمارے ’’نجات کے بانی کو دُکھوں کے ذریعہ سے کامِل‘‘ کیا گیا۔ جہاں تک اُس کے اخلاقی کِردار کا تعلق ہے خُداوند یسؔوع ہمیشہ ہی کامل طور پر بے گناہ تھا۔ اِس سِلسلے میں اُسے کامِل نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ لیکن اُسے ہمارے نجات دہندہ کے طور پر’’کامِل‘‘ بننا پڑا۔ ہمارے لئے اَبدی مخلصی خریدنے کے لئے اُسے وُہ تمام سزا سہنی پڑی جِس کے ہمارے گناہ حق دار تھے۔ ہم اُس کی بے داغ زندگی سے نہیں بچ سکتے تھے، اُس کی عِوضی مَوت ہی بد یہی ضرورت تھی۔ خُدا نے ہمیں بچانے کے لئے ایسا طریقہ اِختیار کیا جو اُس کے شایانِ شان تھا۔ اُس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ہماری جگہ مَرنے کے لئے بھیجا۔

۱۱:۲- اگلی تین آیات یسؔوع کی اِنسانیت کی کاملیّت پر زور دیتی ہیں۔ اگر وُہ اُس اختیار کو جو آدؔم نے گنَوا دیا تھا دوبارہ حاصِل کرنا چاہتا ہے تو اُسے دِکھانا ہوگا کہ وُہ حقیقی اِنسان ہے۔

سب سے پہلے اِس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ ’’پاک کرنے والا اور پاک ہونے والے سب ایک ہی اصل سے ہیں‘‘ یعنی دونوں ہی بشریت رکھتے ہیں یا ’’ایک ہی اصل سے ہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اُن کا خُدا اور باپ ایک ہی ہے۔

مسیح وُہ ہے جو’’پاک‘‘ کرتا ہے یعنی وُہ لوگوں کو خُدا کے لئے دُنیا سے الگ کرتا ہے۔ ایسے لوگ مُبارک ہیں۔

مُقدّس شخص یا شَے وُہ ہے جِسے اُس کے عام اِستعمال سے خُدا کی مِلکیت، استعمال اور لُطف اندوزی کے لئے الگ کِیا گیا ہَے۔ تقدیس کا اُلٹ غیر مُقدّس یا نجس ہونا ہے۔

بائبل میں تقدِیس کے چار پہلُو بیان کئے گئے ہیں۔ تبدیلی سے پہلے تقدیس، پوزیشن یا مقام
کے لِحاظ سے تقدیس، عملی تقدیس اور کامِل تقدیس۔

قارِئین کو عِبرانیوں کے خط میں ایسے حِصّے تلاش کرنے چاہئیں جہاں تقدیس کا بیان کِیا گیا ہے۔ اور یہ دیکھنا چاہئے کہ یہاں کِس قِسم کی تقدیس پیشِ نظر ہے۔

چونکہ وُہ حقیقی اِنسان بنا، اِس لئے وُہ اپنے پَیروکاروں کو ”بھائی کہنے سے نہیں شرماتا‘‘۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اِس کائنات کا ابدی حاکم انسان بنے اور اپنے آپ کو اپنی مخلُوق سے اِس قَدر قریب سمجھے کہ اُنہیں اپنا بھائی کہے؟

۱۲:۲- اِس کا جواب زبُور ۲۲:۲۲ میں مِلتا ہے جہاں وُہ کہتا ہے: ’’تیرا نام مَیں اپنے بھائیوں سے بیان کرُوں گا‘‘۔ یہی آیت اُسے اپنے لوگوں کے ساتھ عام پرستش میں بھی شامِل دِکھاتی ہے : ’’کلیسیا میں تیری حَمد کے گیت گاؤں گا‘‘۔ اپنی جاں کنی کی حالت میں اُس نے اُس دِن کی طرف دیکھا جب وُہ مخلصی یا فتہ لوگوں کے ساتھ خُدا باپ کی حمد کرے گا۔

۱۳:۲- یہ ثابت کرنے کے لئے کہ مسیح حقیقی اِنسان تھا یہُودی صحائف سے مزید دوآیات پیش کی گئی ہیں۔ یَسعیاہ ۸:۱۷ میں وُہ خُدا پر اپنے اِعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہؔوواہ پر کُلّی ’’بھروسا‘‘ ہی حقیقی اِنسانیت کا نشان ہے۔ پھر خُداوند یسَعیاہ ۸:۱۸ میں کہتا ہے ’’دیکھ میں اُن لڑکوں سمیت جنہیں خُدا نے مُجھے دیا‘‘۔ یہاں یہ خیال کار فرما ہے کہ وُہ ایک ہی خاندان کے افراد ہیں جِن کا باپ بھی ایک ہی ہے۔

۱۴:۲- وُہ لوگ جو ابنِ آدؔم کی پستی کو شرم ناک سمجھتے ہیں، لازم ہے کہ وُہ اُن چار برکات پر غور کریں جواُس کے دُکھوں کے نتیجے میں ملیں۔

پہلی، شیطان کی تباہی ہے۔ یہ کیسے وقوع میں آئی؟ خُدا نے اپنے بچّوں کو ایک خاص مفہوم میں پاک کرنے، بچانے اور نجات دینے کے لئے مسیح کو دِیا۔ چونکہ اِن بچّوں کی اِنسانی فطرت تھی اِس لئے خداوند یسؔوع نے بھی خون اور گوشت کا جسم اختیار کیا۔ اُس نے اپنی الوہیّت کے ظاہرا اظہار کو ایک طرف رکّھا اور اپنی ربُوبّیت کو مِٹی کے لباس میں چھُپا لیا۔

لیکن وُہ بیؔت لحم پر رُکا نہیں بلکہ کلوؔری تک پُہنچا کیونکہ وُہ مُجھے پیار کرتا ہے۔

اَپنی ’’مَوت کے وسیلہ سے‘‘ اُس نے اُسے ’’جِسے مَوت پر قُدرت حاصِل تھی یعنی اِبلیؔس کو تباہ‘‘ کر دِیا۔ یہاں تباہ کرنے کا مطلب صفحہ ہستی سے مٹانا نہیں بلکہ بے اثر کرنا ہے۔ شیطان اب بھی اِس دُنیا میں خُدا کے مقصد کی مخالفت کرتا ہے لیکن اُسے صلیب پر بڑا کاری زخم لگا ہے۔ اُس کا وقت کم ہے اور اُس کی عاقبت کا فیصلہ ہو چُکا ہے۔ وُہ ایک شکسَت خُوردہ دُشمن ہے۔

کِن معنوں میں شیطان کو ’’مَوت پر قُدرت حاصِل تھی‘‘؟ غالباً اِس کا سب سے بڑا مطلب یہ ہے کہ وُہ مَوت کا مُطالبہ کر سکتا تھا۔ شیطان کے ذریعہ ہی سب سے پہلے گُناہ دُنیا میں داخِل ہؤا۔ چنانچہ خُدا کی پاکیزگی نے تمام گُنہگاروں پر مَوت کا حُکم لگایا۔ پَس مُخالفت کے طور پر ابلیؔس یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ سزادی جائے۔

بائبل مُقدس میں ہمیں کوئی اَیسا حوالہ نہیں مِلتا جِس سے ظاہر ہو کہ شیطان خُدا کی اِجازت کے بغیر کِسی پر مَوت کا حُکم لگا سکتا ہَے (ایُوب۲: ۶)۔ پس وُہ ایمان دار کی مَوت کا وقت مقرر نہیں کرسکتا۔ تاہم بعض اَوقات اُسے کِسی بَد کار کے ذریعہ ایمان دار کو ہلاک کرنے کی اجازت مِل جاتی ہے۔ لیکن یسؔوع نے اپنے شاگِردوں کو متنبّہ کیا ہے کہ وُہ اُن سے نہ ڈریں جو جِسم کو قتل کر سکتے ہیں بلکہ خُدا سے ڈریں جو بَدن اور رُوح دونوں کو دوزخ میں ڈال سکتا ہے (متّی۱۰: ۲۸)۔

پُرانے عہد نامہ میں حنُوکؔ اور ایلؔیاہ موت کا مزہ چکھّے بغیر ہی آسمان پر چلے گئے۔ بلاشُبہ یہ اِس لئے تھا کہ بطور ایمان دار وُہ مسیح کی مُستقبِل میں مَوت میں مرچُکے تھے۔

جب مسیح بادلوں پر آئے گا تو تمام زِندہ ایمان دار وفات پائے بغیر آسمان پر جائیں گے۔ وُہ اِس لئے نہیں مَریں گے کیونکہ اُن کے بارے میں خُدا کی پاکِیزگی مسیح کی مَوت کے باعث مُطمِئن ہوگی۔ جی اٹھے مسیح سے پاس اَب ’’مَوت اور عالَمِ ارواح کی کُنجیاں‘‘ ہیں (مُکاشفہ۱: ۱۸)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وُہ اِن پر مُکمّل اختیار رکھتا ہے۔

۱۵:۲- مسیح کی پَستی کی دُوسری برکت یہ ہَے کہ ہمیں’’ڈر‘‘ سے رہائی مِلتی ہَے۔ مسیح کی صلیب سے پیشتر لوگ ساری عُمر’’مَوت کے ڈر‘‘ میں مُبتلا رہتے تھے۔ اگرچہ پُرانے عہد نامہ میں کہیں کہیں موت کے بعد زِندگی کی جھَلکیاں مِلتی ہیں، تاہم عام تاثر بے یقینی، خَوف اور اَفسُردگی کا ہی مِلتا ہے۔ جواُس وقت دُھندلا تھا اَب صاف نظر آتا ہے کیونکہ مسیح زِندگی اور بَقا لایا ہَے
(۲ تیمُتھیس۱: ۱۰)۔

۱۶:۲- تیسری زبردست برکت گُناہ کا کفّارہ ہے۔ دُنیا میں آنے سے خُداوند ’’فرشتوں کا نہیں بلکہ ابرؔہام کی نَسل کا ساتھ دیتا ہے‘‘۔ ’’ابرؔہام کی نسل‘‘ سے مُراد اُس کی جِسمانی اَولاد یعنی یہُودی ہو سکتے ہیں یا پھراُس کی رُوحانی اَولاد یعنی ہر زمانہ کے ایمان دار۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ وُہ اِنسان ہیں نہ کہ فرشتے۔

۱۷:۲- پَس یہ ضُروری تھا کہ وُہ ہر لحاظ سے ’’اپنے بھائیوں کی مانند‘‘ بنے۔ اُس نے حقیقی اور کامل اِنسانیت اِختیار کی۔ اُس میں ماسوائے گناہ اِنسانی خواہشات، خیالات، احساسات، اور جذبات پائے جاتے تھے۔ اُس کی اِنسانیت مثالی تھی۔ ہماری اِنسانیت پر ایک خارجی عُنصر یعنی گُناہ نے حَملہ کِیا ہے۔ اُس کی کامِل اِنسانیت اُسے’’اُن باتوں میں جو خُدا سے عِلاقہ رکھتی ہیں ایک رحمدِل اور دیانت دار سردارکاہن‘‘ بننے کے قابل بنا دیتی ہے۔ وُہ اِنسان کے ساتھ ’’رحمدل‘‘ اور خُدا کے ساتھ ’’دیانت دار‘‘ ہو سکتا ہے۔

بطور’’سردار کاہن‘‘ اُس کا سب سے بڑا کام ’’اُمّت کے گُناہوں کا کفّارہ‘‘ دینا تھا۔ اَیسا کرنے کے لئے اُس نے وُہ کام کیا جو کبھی کسی سردار کاہن نے نہیں کیا یا کرہی نہیں سکتا تھا۔ اُس نے خُود کو بےعیَب بَرہّ کی طرح قُربانی کے لئے پیش کیا۔ اُس نے اپنی مرضی سے ہماری جگہ جان دی۔

۱۸:۲- چوتھی برکت ’’آزمائِش‘‘ میں پڑے ہُوئے لوگوں کے لئے مَدد ہے۔ کیونکہ اُس نے خُود بھی ’’آزمائِش کی حالت میں دُکھ اُٹھایا‘‘ اِس لئے ’’وُہ اُن کی بھی مَدد کر سکتا ہے جِن کی آزمائِش ہوتی ہَے‘‘۔ وُہ اُن کی بو آزمائِش سے گُزر رہے ہیں مَدد کر سکتا ہے کیونکہ وُہ خُود بھی اُن میں سے گُزرا ہے۔ یہاں پھر ہم ایک اِستثنائی بات کا اِضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ خُداوند یسؔوع کی آزمائِش باہر کی طرف سے ہُوئی نہ کہ باطن کی طرف سے۔ بیابان میں آزمائِش سے ظاہر ہے کہ وُہ بیرُونی تھی۔ شیطان اُس پر ظاہر ہوتا ہے اور خارجی ترغیبات سے آزمانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن نجات دہندہ کو کبھی بھی باطنی خواہشات اور جذبات سے نہیں آزمایا جا سکتا تھا کیونکہ اُس میں گناہ نہیں تھا اور نہ کوئی ایسی چیز جو گُناہ کے فریب میں آجاتی۔ اُس نے’’آزمائِش کی حالت میں دُکھ اُٹھایا‘‘۔ ہمیں آزمائِش کا مُقابلہ کرنے سے دُکھ ہوتا ہے، جبکہ اُسے آزمائے جانے سے دُکھ ہؤا۔

ج۔ مسیح مؔوسیٰ اور یشوؔع سے افضل ہے (۱:۳-۱۳:۴)

۱:۳- ُوؔسیٰ بنی اِسرائیل کا سب سے بڑا قَومی ہیرو تھا۔ چنانچہ مُصنِّف کی حِکمت عملی میں تِیسرا بُنیادی نُکتہ یہ ہے کہ وُہ مُوؔسٰی پرمسیح کی لامحدُود افضلیّت دِکھاتا ہے۔

یہ پیغام ’’پاک بھائیوں‘‘ کو دیا گیا ہے جو’’آسمانی بُلاوے میں شریک‘‘ ہیں۔ تمام ایمان دار جہاں تک اُن کی حیثیت کا تعلق ہے پاک ہیں اور اُنہیں اپنے عَملوں میں بھی پاک بننا چاہئے۔ مسیح میں وُہ پاک ہیں اوراُنہیں اپنے آپ میں بھی پاک بننا چاہئے۔

اُن کی’’آسمانی بلاہٹ‘‘ بنی اِسرائیل کی زمینی بُلاہٹ سے مختلِف ہے۔ پُرانے عہد نامہ کے بزُرگوں کو مُلکِ مَوعُود میں مادّی برکات کے لئے بُلایا گیا تھا۔ (اگرچہ اُنہیں آسمانی اُمید بھی تھی)- اَب کلیسیائی زمانہ میں ایمان داروں کو آسمانی برکات اور مستقبِل میں آسمانی وراثت کے لئے بُلایا گیا ہے۔

يسؔوع پر’’غور‘‘کرو۔ ہمیں اُس ’’رسُول اور سردار کا ہن‘‘ پر ’’جِس کا ہم اقرار کرتے ہیں‘‘ بڑے اِحترام سے غور کرنا چاہئے۔ جب ہم اُس کا بطور’’رسول‘‘ اِقرار کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمارے سامنے خُدا کو پیش کرتا ہے، اور جب ہم اُس کا بطور’’سردار کاہن‘‘ اِقرار کرتے ہیں تو اِسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وُہ ہمیں خُدا کے حضُور پیش کرتا ہے۔

۲:۳- ایک پہلُو ایسا ہے جِس میں وُہ واقعی مُوؔسیٰ کی مانند ہے۔ وُہ خُدا کے ’’حق میں دیانت دار تھا جِس طرح مُوؔسیٰ اُس کے سارے گھر میں تھا‘‘۔ یہاں ’’ گھر‘‘ سے مُراد صِرف خیمہ اجتماع نہیں ہے بلکہ وہ تمام حلقہ جِس میں مُوؔسیٰ خُدا کی خِدمت کیا کرتا تھا۔ یہ گھر اِسرائیل ہے یعنی خُدا کے قدیم زمینی لوگ۔

۳:۳- لیکن یہاں پر مماثلت ختم ہو جاتی ہے۔ باقی تمام پہلُوؤں میں یسؔوع مُوؔسیٰ سے لا کلام افضل ہے۔ پہلی بات یہ کہ خُداوند یسؔوع ’’مُوؔسیٰ سے … زیادہ عِزّت کے لائق‘‘ ہے کیونکہ ’’گھر کا بنانے والا گھر سے زیادہ عِزّت دار ہوتا ہے‘‘۔ خُداوند یسؔوع خُدا کا گھر بنانے والا تھا جبکہ مُوؔسیٰ گھر کا صِرف ایک حِصّہ تھا۔

۴:۳- دُوسری بات یہ کہ یسؔوع اِس لئے افضل ہے کیونکہ وُہ اِلہٰی ذات ہے۔ ’’ ہر ایک گھر‘‘ کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ہوتا ہے۔ لیکن ’’جِس نے سب چیزیں بنائیں وُہ خُدا ہے‘‘۔ ہم یُوحَنّا۱:۳؛ کُلسیّوں ۱:۱۲ اور عِبرانیوں ۱:۲، ۱۰ سے سیکھتے ہیں کہ تخلِیق کائِنات میں یسؔوع سرگرمِ عمل تھا۔ اِس کا بدیہی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مسیح خُدا ہے۔

۵:۳- تیسرا نکتہ یہ ہے کہ یسؔوع بیٹا ہونے کی وجہ سے افضل ہے ’’مُوؔسیٰ‘‘ وفادار’’خادِم‘‘ تھا جو خُدا کے ’’سارے گھر میں — دیانت دار‘‘ تھا (گِنتی ۱۲ : ۷) اور وُہ لوگوں کی المسیح کی طرف راہنمائی کرتا تھا۔ اُس نے ’’آئِندہ بیان ہونے والی باتوں کی گواہی‘‘ دی یعنی مسیح میں نجات کی خوشخبری کی۔ بدیں وجہ ایک موقع پر یسؔوع نے کہا ’’اگر تُم مُوؔسیٰ کا یقین کرتے تو میرا بھی یقین کرتے۔ اِس لئے کہ اُس نے میرے حق میں لِکھا ہے‘‘ (یُوحَنّا ۵ : ۴۶)- اِمّاؤؔس کی راہ پر اپنے دو شاگِردوں کے ساتھ گفتگُو کے دَوران یسؔوع نے مُوؔسیٰ اور تمام انبیاء سے شُروع کر کے ’’سب نِوشتوں میں جتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی ہیں وُہ اُن کو سمجھا دیں‘‘ (لُوقا۲۷:۲۴)۔

۶:۳- ’’لیکن میسح‘‘ خادِم کے طور پر نہیں بلکہ ’’بیٹے کی طرح‘‘ خُدا کے گھر کا مختار ہے، اور اُس کی نسبت سے بیٹے کا مطلب خُدا کے برابر ہونا ہے۔ خُدا کا گھر، اُس کا اپنا گھر ہے۔

یہاں مُصنِّف یہ بتاتا ہے کہ آج کل خُدا کے ’’گھر‘‘ سے کیا مُراد ہے۔ یہ خُداوند یسؔوع میں تمام ایمان داروں پر مشتمِل ہے: ’’اُس کا گھر ہم ہیں بشرطیکہ اپنی دلیری اور اُمید کا فخر آخر تک مضبُوطی سے قائِم رکھیں‘‘۔ شاید پہلے پہل اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری نجات کا اِنحصار مضبُوطی سے قائم رہنے میں ہے۔ اِس صُورت میں ہماری نجات مسیح کے صلیب پر تکمیل شُدہ کام کی بجائے ہمارے مضبُوطی سے قائم رہنے پر ہوگی ۔ لیکن اِس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جب ہم مضبُوطی سے قائم رہتے ہیں تو ثابت کرتے ہیں کہ ہم خُدا کا حقیقی گھر ہیں۔ قائم رہنا حقیقت کا ثبوت ہے۔ وُہ لوگ جو مسیح پر اور اُس کے وعدوں پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور رسُومات کی طرف لوٹ جاتے ہیں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وُہ کبھی نئے سِرے سے پَیدا نہیں ہوئے تھے۔ درجِ ذیل تنبیہ اِسی قِسم کی گُمراہی کے بارے میں ہے۔

۷:۳- اِس موقع پر مُصنِّف دُوسری تنبیہ کرتا ہے۔ یہ دِل کو سخت کر لینے کے بارے میں ہے۔ اِس کا تجربہ بنی اسرائیل کو بیابان میں ہؤا اور ہمیں بھی ہو سکتا ہے۔ لِہٰذا ’’رُوحُ القُدس‘‘ زبُور ۹۵:۷۔۱۱ کے ذریعہ، اب بھی ہم سے ہمکلام ہے کہ ’’اگر آج تُم اُس کی آواز سُنو‘‘۔

۸:۳- جب خُدا ہمکلام ہوتا ہے تو ہمیں سُننے میں جَلدی کرنی چاہئے۔ اگر ہم اُس کے کلام پر شک کرتے ہیں تو اُسے جھُوٹا ٹھہراتے اور اُس کے غضب کو بھڑکاتے ہیں۔

تاہم اِسؔرائیل کی بیابان میں یہی تارِیخ تھی۔ یہ شکایات، لالچ، بُت پرستی، بے اعتقادی، اور بغاوت پر مشتمِل تھی۔ مثلاً رفیؔدیم کے مقام پر اُنہوں نے پانی کی کمی کی شکایت کی اور اپنے درمیان خُدا کی حضُوری پر شک کیا ( خُروج ۱۷:۱-۱۷)- دشتِ فاؔران میں جب بے اِعتماد جاسُوس حَوصلہ شِکنی اور شک و شبہات کی بُری رپورٹ کے ساتھ واپس آئے (گنِتی۱۳:۲۵۔۲۹) تو لوگوں نے فیصلہ کیا کہ وُہ اپنے غُلامی کے مُلک مِصؔر کو واپس جائیں گے (گنتی ۱۴:۴)۔

۹:۳- خُدا اِس بات سے بے حَد غضب ناک ہُوا اور فیصلہ کیا کہ لوگ بیابان میں چالیس سال بھٹکتے رہیں گے (گِنتی ۱۴:۳۳-۳۴)۔ اُن تمام سپاہیوں میں سے جو مِصؔر سے نِکلے تھے اور جِن کی عُمر بیس سال سے اُوپر تھی اُن میں سے صِرف ۲ کنؔعان میں داخِل ہوں گے۔ اُن میں سے ایک کا نام کالِبؔ اور دُوسرے کا یشوع تھا (گِنتی۱۴:۲۸۔۳۰)-

یہ بات بڑی اہمیّت کی حامل ہے کہ جِس طرح بنی اسرائیل چالیس سال بیابان میں بھٹکتے پھِرے اُسی طرح مسیح کی مَوت کے بعد تقریباً چالیس سال پاک رُوح اِسرائیلی قَوم میں کام کرتا رہا، لیکن اُنہوں نے مسیح کے پیغام کی طرف سے دِل سخت کر لیا۔ یہاں تک کہ سن۷۰ میں یروشلؔیم تباہ کر دیا گیا اور لوگ غیر اقوام میں پراگندہ ہو گئے۔

۱۰:۳- خُدا کی بنی اِسرائیل کے ساتھ بیابان میں گہری ناراضی اِس ملامت کا سبب تھی۔ اُس نے اُن پر الزام لگایا کہ اُن کے دِل ہمیشہ اُس سے دُور رہتے اور وُہ دیدہ دانِستہ اُس کی ’’راہوں‘‘ کو نظر انداز کرتے ہیں۔

۱۱:۳- چُنانچہ اُس نے ’’اپنے غضب میں قَسم کھائی کہ‘‘ وُہ اُس کے ’’آرام میں‘‘ یعنی مُلکِ کنؔعان میں ’’داخِل نہ ہونے پائیں گے‘‘۔

۱۲:۳- پاک رُوح کو اسرائیل کے ساتھ جو تجربہ بیابان میں ہؤا تھا، اِس کا اِطلاق آیات ۱۲-۱۵ میں کِیا گیا ہے۔ عِبرانی روایت کے مُطابق یہاں بھی اُن کو ’’اے بھائیو“ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وُہ سب حقیقی مسیحی تھے۔ پَس تمام ایمان داروں کو ’’بے ایمان‘‘ دِل کے نُقصان کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہئے مبادا وُہ اُنہیں ’’زِندہ خُدا‘‘ سے پھیر دے۔ یہ ایک مُسلسل خطرہ ہے۔

۱۳:۳- اِس کا ایک تریاق باہمی پند و نصائح ہے۔ خاص طور پر مُشکِلات اور مُصیبت کے دِنوں میں خُدا کے لوگوں کو دُوسروں کو’’ہر روز‘‘ نصیحت کرتے رہنا چاہئے کہ وُہ اَیسے مذہب کے لئے جو گُناہ کا موثر طریقے سے علاج نہیں کر سکتا مسیح کو ترک نہ کریں۔

یہ نصیحت صِرف خِدمت گُزاروں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر ایک بھائی کا فرض ہے۔ اِسے اُس وقت تک جاری رہنا چاہئے جِسے’’آج‘‘ کہا جاتا ہے یعنی جب تک خُدا ایمان کے وسِیلے فضل سے نجات کو پیش کرتا رہتا ہے۔ ’’آج‘‘ قبولیت کا وقت ہے۔ یہ نجات کا دِن ہے۔ خُدا سے پھِر جانا ’’گُناہ کے فریب میں آکر سخت دِل‘‘ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گُناہ تصوّرات میں بڑا خوبصُورت نظر آتا ہے۔ یہاں وُہ یسؔوع کی تذلیل سے بچاؤ، پاکیزگی کے کم معیار، شان دار رسُومات اور دُنیاوی فوائِد کی پیشکش کرتا ہے۔ لیکن بعد میں اِس کے دہشت انگیز نتائج نِکلتے ہیں۔ یہ آدمی کو گُناہوں کی مُعافی، قبر سے آگے اُمید، اور توبہ کے اِمکان سے محرُوم کر دیتا ہے۔

۱۴:۳- ایک مرتبہ پھر ہمیں یاد دِلایا جاتا ہے کہ اگر ہم ’’اپنے اِبتدائی بھروسے پر آخر تک مضبُوطی سے قائِم رہیں‘‘ تو ہم ’’میسح میں شرِیک‘‘ ہیں۔ اِس قِسم کی آیات کو اکثر غَلط تعلیم کے لئے اِستعمال کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نجات پانے کے بعد پھِر نجات سے محرُوم ہو سکتا ہے۔ لیکن بائبل میں کثرت سے شہادتیں ملتی ہیں کہ نجات خُدا کے فضل سے مُفت مِلتی ہے، مسیح نے اُسے اپنے خُون سے خریدا ہے اور اُس کا ثبوت نیک کاموں سے مِلتا ہے۔ سچّا اِیمان پائیداری کا حامِل ہوتا ہے۔ ہم اپنی نجات کو قائم رکھنے کے لئے قائم نہیں رہتے بلکہ یہ ایک ثبُوت ہے کہ ہم حقیقتاً بچ گئے ہیں۔ ایمان نجات کی جڑ ہے اور قائِم رہنا پھَل ہے۔ میسح میں کون شامِل ہیں؟ جواب یہ ہے کہ وُہ جو ایمان پر مضبوطی سے جمے رہنے سے ثابت کرتے ہیں کہ وُہ حقیقتاً اُس کے ہیں۔

۱۵:۳- اَب مُصنِّف زبُور ۹۵: ۷، ۸ کے الفاظ دُہراتے ہُوئے اِسرائیل کے افسوس ناک تجربہ کا شخصی اطلاق کرتا ہے:’’اگر آج تُم اُس کی آواز سُنو تو اپنے دِلوں کو سخت نہ کرو جِس طرح کہ غُصّہ دِلانے کے وقت کیا تھا‘‘۔ یہ سخت اپیل جو ایک مرتبہ اِسرائیل سے کی گئی اَب اُس سے کی جاتی ہے جِس پر خوشخبری سے مُنہ موڑ کر شریعت سے رجُوع کرنے کی آزمائِش آتی ہے۔

۱۶:۳- اب کا اِختتام اِسرائیل کی گُمراہی کی تاریخی تفسیر سے ہوتا ہے۔ مُصنّف تین سُوالوں اور اُن کے جوابوں میں اِسرائیل کی بغاوت، غُصّہ دِلانے اور کئے کی سَزا کا کھوج لگاتا ہے۔ اِس کے بعد اختتام کو بیان کرتا ہے۔

بغاوت : باغی وُہ لوگ بتائے گئے ہیں ’’جو مُوؔسیٰ کے وسیلہ سے مِصؔر سے نِکلے تھے‘‘۔ صرف کاؔلب اور یشوؔع ہی اِس سے مُستثنیٰ تھے۔

۱۷:۳- ’’غضب‘‘: یہ وُہی باغی تھے جنہوں نے یہؔوواہ کو’’چالیس برس‘‘ تک اِشتعال دِلایا۔ یہ تقریباً چھ لاکھ تھے اور جب ’’چالیس برس‘‘ ختم ہُوئے تو بیابان میں چھ لاکھ قبریں نظر آتی تھیں۔

۱۸:۳- مکافاتِ عَمل : یہ وہی لوگ تھے جنہیں نافرمانی کی وجہ سے کنؔعان کے مُلک میں داخِل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

سوال و جواب کی اِس سادہ سی تشِریح کو اُن لوگوں کو خبردار کرنا چاہئے جو سچّے مسیحیوں کی چھوٹی سی جماعت کو چھوڑنے اور اکثریتی جماعت میں جو بظاہرمَذہبی ہے لیکن خُدا پرستی کی قُوّت کا اِنکار کرتی ہے شامِل ہونے کی آزمائِش میں ہیں۔ کیا اکثریت ہمیشہ ہی درُست ہوتی ہے؟ اِس باب میں اِسرائیل کی تارِیخ میں صِرف دو درُست تھے جبکہ پانچ لاکھ سے زیادہ غلطی پر تھے۔

اے۔ ٹی۔ پیٹرسؔن اِسرائیل کے گناہ کی سنگینی پریُوں تبصرہ کرتا ہے:

اُن کی بے ایمانی چار طرح سے غُصّہ دِلاتی ہے:

۱۔ یہ خُدا کی سچائی پر حملہ اور اُسے جھُوٹا بنانا تھا۔

۲۔ یہ اُس کی قُوّت پر حملہ تھا کیونکہ وُہ سمجھتے تھے کہ وُہ اُنہیں بچا نہیں سکتا۔

۳۔ یہ اُس کے لا تبدیل ہونے پر حملہ تھا۔ اگرچہ اُنہوں نے یہ کہا تو نہیں تھا، تاہم اُن کی باتوں سے ظاہر تھا کہ خُدا بدلتا رہتا ہے اور وُہ اُن عجائب کو کر نہیں سکتا جو اُس نے پہلے کئے تھے۔

۴۔ یہ اُس کی پِدرانہ وفاداری پر حملہ تھا، گویا کہ وُہ ایسی اُمیّد کی حَوصلہ افزائی کرے گا جِسے وُہ پُورا کرنے کا اِرادہ نہیں رکھتا۔

اِس کے برعکس کالؔب اور یشؔوع نے خُدا کی عِزّت کی۔ اُنہوں نے اُس کے الفاظ کو قطعی درُست، اُس کی قُدرت کو لامحدُود، اُس کی طبیعت کو غیر متغیّر اور اُس کی وفاداری کو ایسا سمجھا کہ وُہ لوگوں میں کسی ایسی اُمید کو بیدار نہیں کرے گا جِسے وُہ پُورا نہیں کر سکے گا۔

۱۹:۳- اِختتام: یہ ’’بے اِیمانی‘‘ ہی تھی جِس نے باغی لوگوں کو مُلکِ موعُود سے باہر رکھّا، اور یہ ’’بے ایمانی‘‘ ہی ہے جو ہر زمانہ میں اِنسان کو خُدا کی وراثت سے محرُوم رکھتی ہے۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے: ’’بے ایمانی‘‘ کے بُرے دِل سے ہوشیار رہیں۔

درجِ ذیل آیات اِس خط میں سب سے مُشکِل ہیں۔ اگرچہ اِس حِصّہ کی مجمُوعی تعلیم کافی حد تک صاف ہے، تاہم مفسِّرین کا اِس بات پر کہ بحث کا حقیقتاً زور کِس پر ہے بُہت کم اِتفاق ہَے۔

۴: ۱۔۱۳ کا مضمُون آرام اور اُسے پُوری کوشِش سے حاصِل کرنا ہے۔ اگر ہم اِس بات کو پیشِ نظر رکھیں کہ بائبل میں کئی ایک آراموں کا ذِکر آیا ہے تو یہ شُروع ہی میں ہمارے لئے مَدد کا باعث ہوگا۔

۱۔ خُدا نے تخلیق کے چھ دِن بعد آرام کِیا ( پَیدائِش ۲:۲)- اِس آرام کا مطلب محنت مشقّت کے بعد آرام نہیں ہے بلکہ اپنے کام سے مُطمئِن ہونا ہے۔ یہ اطمینان کا آرام تھا (پیدائِش ۱: ۳۱)۔ لیکن گُناہ نے دُنیا میں داخِل ہو کر خُدا کے اِس آرام میں رکاوٹ ڈال دی۔ اُس وقت سے وُہ لگا تار کام کر رہا ہے۔

مسیح نے فرمایا: ’’میرا باپ اب تک کام کرتا ہے اور مَیں بھی کام کرتا ہُوں‘‘ (یُوحنّا ۵: ۱۷)-

۲۔ مُلکِ کنؔعان کو بنی اِسرائیل کے لئے آرام کا مُلک ہونا تھا۔ لیکن اِن کی اکثریت اُس میں داخِل نہ ہوسکی اور جواُس میں داخِل ہُوئے اُنہیں بھی وُہ آرام نہ مِل سکا جو خُدا اُن کے لئے چاہتا تھا۔ کنؔعان یہاں خُدا کے آخری اور ابدی آرام کی تصوِیر ہے۔ اُن میں سے بہتیرے جو کنؔعان نہ پہنچ سکے (مثلاً قؔورح، داتؔن اور ابیؔرام) موجُودہ زمانہ کے گُمراہوں کی تصویر ہیں جو اپنی بے اِعتقادی کے سبب سے خُدا کے آرام میں داخِل نہیں ہوتے۔

۳۔ فی زمانہ ایمان داروں کو ضمیر کا آرام حاصِل ہے کیونکہ وُہ جانتے ہیں کہ خُداوند یسؔوع کے کفّارہ بخش کام کے ذریعہ اُن کے گُناہوں کا فِدیہ دِیا جاچُکا ہَے۔ یہ وُہ آرام ہے جِس کا نجات دِہندہ نے وعدہ کیا تھا کہ ’’سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تُم کو آرام دُوں گا‘‘ (متّی ۱۱:۲۸)۔

۴۔ ایمان دار خُداوند کی خِدمت کرنے میں بھی آرام پاتے ہیں۔ اس سے پیشتر کے آرام نجات کے آرام تھے جبکہ یہ آرام خِدمت کا آرام ہے۔ ’’میرا جُؤا اپنے اُوپراُٹھا لو اور مُجھ سے سِیکھو … تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی‘‘ (متّی ۱۱: ۲۹)۔

۵۔ آخری آرام وُہ ہے جو ایمان داروں کا آسمان پر باپ کے گھر میں اِنتظار کر رہا ہے۔ مُستقبِل کے اِس آرام کو سبت کا آرام بھی کہتے ہیں (عبرانیوں ۴:۱۹)- اِس آخری آرام کے باقی تمام آرام یا تو تشبیہ ہیں یا پہلے سے مَزہ چکھنا ہیں۔ یہی آرام ذیل کی آیات کا بڑا موضُوع ہے (عبرانیوں ۴:۱-۱۳)۔

۱:۴- کِسی کو بھی یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اب ’’آرام‘‘ کا وعدہ نہیں رہا۔ ماضی میں یہ کبھی بھی مکمّل طور پر پُورا نہیں ہُؤا اِس لئے یہ پیشکش اَب بھی قائم ہے۔

لیکن وُہ سب جو ایمان دار کہلاتے ہیں اُنہیں یقین ہونا چاہئے کہ نِشان سے ’’رہ‘‘ نہیں گئے ہیں۔ اگراُن کا دعویٰ کھوکھلا ہے تو ہر وقت خطرہ ہے کہ کہیں وُہ مسیح سے مُنہ موڑ کر کسی اَیسے مذہب کو قبول نہ کرلیں جو اُنہیں بچانے کی قدرت نہ رکھتا ہو۔

۴:۲- ہمیں ’’خُوشخبری سُنائی گئی‘‘ ہے یعنی مسیح پر ایمان کے وسیلہ سے اَبدی زِندگی کی خوشخبری۔ اِسرائیلیوں کو بھی خُوشخبری سنائی گئی تھی یعنی مُلکِ کنعؔان میں آرام کی لیکن اُنہوں نے آرام کی خوشخبری سے فائدہ نہ اُٹھایا۔ یُوں بے اِعتقادی نے اُنہیں آرام سے جو خُدا نے مُلکِ موعُود میں اُن کے لئے تیارہ کیا تھا خارج کر دیا۔

۳:۴- اِس آیت میں خیالات کا تَسلسُل مُشکِل بن جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اِس میں تِین سے الگ الگ اورغیرمتعلق شقیں ہیں۔ تو بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اِن میں ایک مُشترکہ لکیر گزرتی ہے یعنی خُدا کے آرام کی لکیر۔

سب سے پہلے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ’’ہم جو ایمان لائے‘‘ وُہ ہیں جو خُدا کے ’’آرام میں داخِل ہوتے ہیں‘‘۔ اِیمان وُہ کُنجی ہے جو دروازہ کھولتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بتلایا ہے فی زمانہ ایماندار ضمیر کے آرام سے لُطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ وُہ جانتے ہیں کہ اُنہیں کبھی بھی اَپنے گُناہوں کی سزا نہیں اُٹھانی پڑے گی (یوحَنّا ۵: ۲۴)۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وُہی جو ایمان لاتے ہیں جلال میں خُدا کے آخری آرام میں داخِل ہوں گے۔ غالباً یہ مُستقبِل کا ہی آرام ہے جِس کی طرف بُنیادی طور پر یہاں اِشارہ کیا گیا ہے۔

دُوسری شِق جِسے منفی انداز میں بیان کیا گیا ہے، وُہ بھی اِس خیال کی تائید کرتی ہے: ’’جِس طرح اُس نے کہا کہ مَیں نے اپنے غضب میں قسم کھائی کہ یہ میرے آرام میں داخِل نہ ہونے پائیں گے‘‘ (یہ زبُور ۹۵: ۱۱ سے اِقتباس ہے)۔ جِس طرح ایمان شامل کرتا ہے اُسی طرح بے اِعتقادی خارِج کرتی ہے، ہم جو مسیح پر ایمان رکھتے ہیں یقیناً آرام میں داخِل ہوں گے، جبکہ ایمان نہ لانے والے یہُودیوں کو اِس کا یقین نہیں تھا، کیونکہ وُہ خُدا کے کلام پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔

تِیسری شِق سب سے زیادہ مُشکِل پیش کرتی ہے۔ وُہ کہتی ہے ’’گو بِنائے عالَم کے وقت اُس کے کام ہو چُکے تھے‘‘۔ اگر ہم اِسے شق ۲ سے منسلک کریں تو شاید تشریح سادہ بن جائے۔ وہاں خُدا اپنے آرام کے لئے فعل مستقبِل استعمال کرتا ہے۔ وُہ ’’میرے آرام میں داخِل نہ ہونے پائیں گے‘‘۔ فعل مُستقبِل ظاہر کرتا ہے کہ خُدا کے آرام میں داخِل ہونے کا اب بھی موقع ہے، حالانکہ بعض اپنی نافرمانی کے باعث اُس کے اہل نہ رہے۔ یہ آرام اِس حقیقت کے باوجُود کہ ’’بنائے عالَم کے وقت سے اُس کے (خُدا کے) کام ہو چُکے تھے‘‘ اب بھی مِل سکتا ہے۔

۴:۴- یہ آیت کلام سے اِس بات کو ثابت کرتی ہَے کہ خُدا نے تخلیق کا کام مُکمّل ہونے کے بعد آرام کیا۔ مُصنِّف کا مُتذکرہ حوالے کو شناخت نہ کرنے کے بارے میں اَبہام اُس کی کِسی لاعِلمی کو ظاہر نہیں کرتا۔ یہ اُس کتاب سے جو اُس زمانہ میں ابواب اور آیات میں تقسیم نہیں کی گئی تھی ایک آیت کو پیش کرنے کا محض ایک اَدبی طریقہ ہے۔ یہ پَیدائش ۲:۲ کے مضمُون کے مُطابق ہے ’’خُدا نے اپنے کام کو جِسے وُہ کرتا تھا ساتویں دِن ختم کیا‘‘۔ یہاں فعل ماضی اِستعمال ہؤا ہے اور مُمکِن ہے کِسی کو یہ محسُوس ہو کہ خُدا کے آرام کا تعلق گُزشتہ زمانے سے ہے، موجُودہ وقت سے اِس کا کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔

۵:۴- اِس خیال کو تقویت دینے کے لئے کہ تخلیق کے بعد خُد ا کے آرام کے حوالہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ایک ختم شُدہ مُعاملہ ہے، مُصنِّف زبُور۹۵: ۱۱ کو پیش کرتا ہے جہاں فعل مُستقبِل اِستعمال کِیا گیا ہے؛ وُہ ’’میرے آرام میں داخِل نہ ہونے پائیں گے‘‘۔ یہاں درحقیقت وُہ کہہ رہا ہے کہ ’’آپ خُدا کے آرام کو جو کُچھ پَیدائِش باب ۲ میں مرقُوم ہے اُس تک ہی محدُود نہ کریں۔ یاد رہے کہ خُدا نے بعد میں بتایا ہے کہ یہ ایک ایسی شے ہے جو اَب بھی مُیّسر ہے‘‘۔

۶:۴- ہم نے اپنی بحث میں اِس مقام تک یہ دیکھا ہے کہ خُدا تخلیق کے وقت سے ہی بنی نوع اِنسان کو آرام کی پیشکش کر رہا ہے۔ داخلے کا دروازہ کھُلا ہُؤا ہے۔

بنی اِسرائیل اپنی ’’نافرمانی کے سبب سے داخِل نہ ہُوئے‘‘۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وَعدہ اَب باقی نہ رہا۔

۷:۴- اگلے قدم کا مقصد یہ دِکھانا ہے کہ اِسرائیلیوں کے کنعؔان میں داخلے کو روک دینے کے ۵۰۰ سال بعد ’’داؤد‘‘ کے مُعاملے میں خُدا آرام میں داخِل ہونے کے دِن کے لئے ’’آج‘‘ کا لفظ اِستعمال کرتا ہے۔ مُصنِّف نے پہلے ہی عبرانیوں ۳: ۷، ۸، ۱۵ میں زبُور ۸،۹۵:۷ سے اقتباس کیا ہے۔ اَب وُہ پھر یہ ثابت کرنے کے لئے اُسے پیش کرتا ہے کہ خُدا کے آرام کا وعدہ بیابان میں اِسرائیلیوں کے ساتھ ہی ختم نہیں ہو گیا تھا۔ دؔاؤد کے زمانہ میں بھی وُہ اپنے پر اِعتماد کرنے اور’’دِلوں کو سخت نہ‘‘ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

۸:۴- یشؔوع کے ساتھ چند اِسرائیلی کنؔعان میں داخِل ہُوئے۔ لیکن وُہ بھی اُس آخری آرام سے لُطف اندوز نہ ہو سکے جِسے خُدا نے اپنے سے پیار کرنے والوں کے لئے تیار کیا ہے۔ کنعؔان میں لڑائی جھگڑے، گُناہ، بیماریاں، دُکھ اور مَوت پائی جاتی تھی۔ اگر آرام کا وعدہ اُن کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ہوتا تو خُدا اُس کی پیشکش دوبارہ داؔؤد کے زمانے میں نہ کرتا۔

۹:۴- مُندرجہ بالا آیات اِس نتیجہ کی طرف لارہی ہیں کہ ’’خُدا کی اُمت کے لئے سبت کا آرام باقی ہے‘‘۔ یہاں مُصنِّف ’’آرام‘‘ کے لئے ایک مختلِف یُونانی لفظ اِستعمال کرتا ہے جِس کا تعلق سبت سے ہے۔ یہ اُس ابدی آرام کی طرف اِشارہ کرتا ہے جس میں وُہ تمام لوگ جو مسیح کے بیش قیمت خُون سے دُھل گئے ہیں داخل ہوں گے۔ ’’سبت‘‘ کا یہ آرام کبھی ختم نہ ہو گا۔

۱۰:۴- جو شخص خُدا سے ’’آرام‘‘ میں داخِل ہوتا ہے اُس کی محنت مشقّت ختم ہو جاتی ہے جَیسے کہ خُدا کی ساتویں دِن ختم ہو گئی تھی۔

مُمکِن ہے کہ اپنے بچنے سے پیشتر ہم نے نجات حاصِل کرنے کے لئے کام کرنے کی کوشِش کی ہو۔ لیکن جب ہمیں احساس ہؤا کہ مسیح نے نجات کا کام کلوری پر مکمّل کر دیا ہے تو اپنی لاحاصِل مساعی کو ترک کر دیا اور جی اُٹھے نجات دہندہ پر ایمان لے آئے۔

اور نجات پانے کے بعد ہم محبّت کے ساتھ اُس کے لئے جِس نے ہم سے محبّت رکھّی اور اپنے آپ کو ہمارے لئے دے دِیا کام کرنے لگے۔ ہمارے نیک کام ہم میں سکوُنت پذیر پاک رُوح کا پھل ہیں۔ اگرچہ ہم اکثراُس کی خِدمت کرتے ہُوئے تھک جاتے ہیں، تاہم اُس سے اکتاتے نہیں۔

خُدا کے اَبدی آرام میں ہماری یہ محنت مشقّت ختم ہو جائے گی۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم آسمان پر بیکار بیٹھے رہیں گے۔ ہم اُس کی پرستش اور خِدمت کریں گے لیکن کوئی تھکاوٹ، پریشانی، عذاب یا دُکھ تکلیف نہیں ہوگی۔

۱۱:۴- مُتذکرہ بالا آیات ظاہر کرتی ہیں کہ خُدا کا آرام اب بھی مِل سکتا ہے۔ اور یہ آیت بتاتی ہے کہ اُس ’’آرام میں داخِل ہونے‘‘ کے لئے ’’کوشِش‘‘ کرنا ضرُوری ہے۔ ہمیں اِس بات کا بڑی احتیاط سے خیال کرنا چاہئے کہ ہماری واحِد اُمیّد خُداوند مسیح ہی ہے۔ ہمیں ہراُس آزمائِش کا جو ہمیں مسیح پر ایسا اِیمان رکھنے کے لئے اکساتی ہے جو مُصیبت اور ایذا رسانی میں اُسے ترک کر دیتا ہے مقابلہ کرنا چاہئے۔

اِسرائیلی بے پَروا تھے۔ وُہ خُدا کے وَعدوں کو بڑے ہلکے پھُلکے انداز میں لیتے تھے۔ وُہ مِؔصر کے جو اُن کی غُلامی کا گھر تھا بڑے آرزُو مند رہتے تھے۔ وُہ خُدا کے وَعدوں کو ایمان سے حاصِل کرنے کی کوشِش نہیں کرتے تھے۔ نتیجتہً وُہ کنؔعان نہ پُہنچ سکے۔ وُہ ہمارے لئے عِبرت کا باعث ہیں۔

۱۲:۴- اگلی دو آیات ہمیں بڑی سنجیدگی سے آگاہ کرتی ہیں کہ بے اِعتقادی چھُپی نہیں رہتی۔ سب سے پہلے اُسے’’خُدا کا کلام‘‘ ظاہر کرتا ہے۔ (یہاں ’’کلام‘‘ کے لئے جو یُونانی لفظ اِستعمال ہؤا ہے وہ ’’لوگوس‘‘ ہے۔ اِسے یُوؔحَنّا رسُول نے اپنی انجیل کی ابتدا میں بھی اِستعمال کیا ہے۔ لیکن اِس آیت میں یہ لفظ زِندہ کلام یسؔوع کی طرف اِشارہ نہیں کرتا بلکہ تحریری کلام بائبل کی طرف)۔ یہ ’’خُدا کا کلام‘‘:

’’زِندہ‘‘ ہےـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مُسلسل سرگرمِ عمل ہے۔

’’موثر‘‘ ہےــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ توانائی عطا کرتا ہے۔

کاٹتا ہے ــــــــــــــــــــــــــــــــــ ’’دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے‘‘۔

’’جُدا‘‘ کرتا ہےـــــــــــــــــــــــــ ’’جان اور رُوح‘‘ کو جو کہ انسان کے دو نا دِیدنی اور غیرفانی حِصّے ہیں جُدا ’’جُدا کر کے گُزر جاتا ہے‘‘۔ ’’بَند بَند اور گُودے گُودے کو‘‘ جُدا کر کے گُزر جاتا ہے۔ ’’بند‘‘ کے ذریعہ ہمارے اعضا حرکت کرتے ہیں اور’’گُودا‘‘ پوشِیدہ ہوتا ہے لیکن ہڈیوں کی اہم زِندگی ہے۔ ’’جانچتا ہے‘‘ـــــــــــــــــــــــــــ یہ ’’دِل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے‘‘۔ یہ کلام ہے جو ہمیں پرکھتا ہے نہ کہ ہم کلام کو پر کھتے ہیں۔

۱۳:۴۔ دُوسرا یہ کہ زِندہ خُداوند بے ایمانی کو معلُوم کر لیتا ہے۔ یہاں اسمِ ضمیر، غیر شخصی کی بجائے شخصی استعمال ہوتا ہے: ’’اُس سے مخلوقات کی کوئی چِیز چھُپی نہیں‘‘۔ اُس کی نظروں سے کوئی چِیز بچ نہیں سکتی۔ وُہ قطعی حاضِر وناظر ہے۔ جو کُچھ کائِنات میں وقوُع پذیر ہوتا ہے وُہ اُس سے مسلسل آگاہ رہتا ہے۔ لیکن متن میں جو اہم نکتہ ہے وُہ یہ ہے کہ وُہ جانتا ہے کہ حقیقی ایمان کہاں ہے اور کہاں محض ذہنی قائِلیت ہَے۔