عِبرانیوں کے نام کا خط
تعارُف
’’پاک نِوشتوں کے کِسی حِصّے کے مُصنِّف کے بارے میں اِتنا تنازُع نہیں اور نہ کِسی تصِنیف کےاِلہامی ہونے کے مُتعلق اِتنا اِختلافِ رائے ہے جتنا کہ اِس خط کے مُتعلق‘‘
(کونیؔ بیر اور ہؤسؔن)
ا- فہرستِ مُسَلّمہ میں مُنفرِد مقام
نئے عہد نامہ میں عبرانیوں کے نام کا خط کئی باتوں میں بے مثال ہے۔ گو اس کی اِبتد اخط کی سی نہیں تو بھی اختتام خط کی مانند ہے۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ خط اطاؔلیہ سے یا وہاں رہنے والے غالباً عبرانی مسیحیوں کے نام لِکھا گیا (۱۳:۲۴)۔ کِسی نے یہ خیال پیش کیا ہے کہ دراصل یہ ایک چھوٹی گھریلُو کلیسیا کے نام لِکھا گیا تھا، اِس لئے اِس کے لِکھے جانے اور منزلِ مقصُود کی روایت کو قائم رکھنے کی کوشِش نہیں کی گئی ۔ نئے عہد نامہ میں اِس کا طرزِ تحریر بڑا ادبی ہے۔ اِس کا اَنداز شاعِرانہ ہے اور ہفتادی ترجمہ سے اِقتباسات سے بھَرا ہؤا ہَے۔ اِس کا ذخیرہ الفاظ بُہت وسیع ہے اور اِس میں یُونانی زبان کو بڑے درُست طریقے سے اِستعمال کیا گیا ہے۔ اگرچہ اِس میں یہُودی رنگ نمُایاں ہے (اِس کا مُقابلہ اَحبار کی کتاب سے کیا جاتا ہے) تاہم اس میں یسوع مسیح کی مَوت کی حقیقت کو نظر انداز کر کے مذہب پرستی کی طرف راغب ہونے کے بارے میں جو تنبیہ پائی جاتی ہے اِس کی مسیحی دُنیا کو ہمیشہ ہی ضرورت رہی ہے۔ اِس لِحاظ سے یہ کتاب نہایت اہم ہے۔
ََ۲- مُصَنِّف
اِس خط پر مُصنِّف کا نام نہیں، اگرچہ ’’کنگ جیمز ورژن‘‘ کے بعض اِبتدائی ایڈیشنوں پر پَولُسؔ رسُول کا نام لِکھا ہؤا ہے۔ اِبتدائی مشرقی کلیسیا (دیونُوسؔیاس اور سکنؔدریہ کا کلیمؔینس) پَولُسؔ ہی کو اِس کا مُصنِّف سمجھتی تھی۔ اِس بات پرکافی بحث و تمحیص ہُوئی اوراَثناؔ سُیس کے بعد اِس خیال نے غلبہ حاصِل کر لیا، یہاں تک کہ بالآخر مغربی کلیسیا نے بھی اِس بات کو قبول کر لیا۔ لیکن موجُودہ زمانہ میں چند ایک مُفسِّر ہی اِس سے اتفاق کرتے ہیں۔ مُقدّس اورِغیؔن مانتا تھا کہ متن پَولُسؔ کا ہی لِکھا ہؤا ہے اور اِس میں پَولُسؔ کی جھلکیاں بھی مِلتی ہیں لیکن اِس کا طرز اُس سے بُہت مُختلِف ہے۔ (اِس سے پَولُسؔ کے مُصنِّف ہونے کا اِنکار نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک ادبی دانِشور اپنا طرز بدل سکتا ہے)۔
اِس ضمن میں بُہت سے مُصنِّفین کے نام تجویز کئے گئے ہیں، مثلاً لُوقاؔ جِس کا طرز پَولُسؔ ہی کی مانند ہے اور جواُس کی منادی سے بھی آگاہ تھا۔ پھِر برنؔباس، سؔیلاس، فلپّؔس اور یہاں تک کہ اکولہ اور پرسکِّلہ کے نام بھی لئے جاتے ہیں۔
مارٹن لُوتھر کے خیال میں اِس کا مُصنِّف اپلُّسؔ تھا۔ اِس کا طَرز اور مضمُون اُس سے مُطابقت رکھتا ہے، اور وُہ عہدِ عتیق کا ماہر تھا۔ وُہ ایک فصیحُ البیان شخص تھا، اور سِکندریہ، جو فنِ خطابت میں مشہور تھا، اُس کا شہر تھا۔ لیکن اپلُّسؔ کے خلاف یہ بات جاتی ہے کہ اگر اِسے کسی سِکندریہ کے رہنے والے نے لکھا، تو اِس کا ذِکر سِکندریہ کی روایات میں کیوں نہیں ملتا؟ اَیسا ظاہر ہوتا ہے کہ خُداوند نے کسی وجہ سے اِس کے مُصنِّف کو گُمنام رکھنا ہی مناسب سمجھا۔ ایک رائے یہ ہے کہ لکھا تو اِسے پولُسؔ ہی نے تھا، لیکن اپنے خلاف یہودی تعصّب کی وجہ سے اُس نے دیدہ دانستہ اپنا نام نہیں دیا۔ اگرچہ یہ ممکن ہے، تو بھی اوریجن کے اِن قدیم الفاظ سے بہتر الفاظ نہیں ملتے کہ: ’’اِس خط کو کس نے لکھا، صِرف خُدا ہی یقینی طور پر جانتا ہے۔‘‘
۳- تارِیخِ تصنیف
اِنسانی مُصنِّف کی گُمنامی کے باوجُود اِس خط کی تاریخِ تصنیف کو بیان کرنا مُمکِن ہے۔
خارجی شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پہلی صَدی میں لِکھا گیا کیونکہ روؔمہ کے کلیمؔینس نے اِسے اِستعمال کِیا (قریباً سئہ۹۵)- پالِکاؔرپ اور یُوسطؔین شہید نے بھی اِس کا حوالہ دیا ہے لیکن وُہ مُصنِّف کا نام نہیں بتاتے۔ دیونُوسؔیاس از سکنؔدریہ کہتا ہے کہ اِسے پَولُسؔ نے تحریر کیا اور سکنؔدریہ کا کلیؔمینس یہ کہ پَولُسؔ نے اِسے عبرانی میں لِکھا اور لُوقؔا نے اِس کا ترجمہ یُونانی میں کِیا (لیکن یہ کتاب ترجمہ معلُوم نہیں ہوتی)۔ اِیؔرینُّیس اور ہپاؔلِیت کے خیال میں پَولُسؔ نے اِسے عِبرانی میں نہیں لِکھا اور طرطُلیؔان یہ سمجھتا ہے کہ اِسے برنباس نے لِکھا ہے۔ داخلی طور پر معلُوم ہوتا ہے کہ مُصنِّف پہلی صدی کا کوئی مسیحی ہے (۳:۲؛۱۳:۷)۔ البتہ یہ یعقُوب یا ۱- تھِسلُنِیکیوں ایسی اِبتدائی تصانِیف کے بعد ہی معرضِ وجُود میں آیا (قب ۱۰:۲۳)- چونکہ اِس میں یہُودیوں کی جنگ کا ذِکر نہیں مِلتا جو ۶۶ سنہ میں شُروع ہُوئی اور ہیکل کی قُربانیاں ہنُوز جاری تھیں (۴:٨؛ ۶:٩؛ ۱٢ : ۲۷؛ ۱۰:۱۳) اِس لئے اِس کی تاریِخ تصنیف ۶۶سنہ سے پیشتر اور یروشلیمؔ کی بربادی سے (۷۰سنہ) یقیناً پیشتر ہوگی۔ ایذا رسانی کا ذکر تو ہے (۴:۱۲) لیکن ایمان داروں نے ابھی ایسا مُقابلہ نہیں کیا تھا ’’جِس میں خُون بہا ہو‘‘۔ اگر اِس کی منزلِ مقصود اطؔالیہ ہے تو نؔیرو کی خُونی ایذا رسانی (سنہ ۴۶ء ) اِس خط کا سَنِ تصنِیف کم ازکم سنہ ۴۶ء کے وَسط کا بنا دیتی ہے۔ قیاسِ غالب یہ ہے کہ اِس کی تارِیخ سنہ ۶۳۔۶۵ ہے۔
۴-پَس منظر اور مضامِین
عام طور پر عبرانیوں کے نام خط اُس عظیم جد وجَہد کو بیان کرتا ہے جوایک شخص کو اپنا مذہب چھوڑ کر دُوسرے مذہب کو اِختیار کرتے وقت کرنی پڑتی ہے۔ اُسے پُرانے بندھنوں کو توڑنا اور جُدائی کے تناؤ اور دباؤ کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور اُس پر واپس آنے کے لئے بے حد دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لیکن اِس خط کا مسئلہ ایک مذہب کو چھوڑ کر دُوسرے نئے مذہب کو اِختیار کرنے کا نہیں ہے، بلکہ یہُودیت کو ترک کر کے مسیح کو قبول کرنے کا۔ مُصنِّف دِکھاتا ہے کہ اِس کا مطلب سایہ کو چھوڑ کر حقیقت کو پکڑنا، پہلے کو چھوڑ کر آخر کو پکڑنا، عارضی کو چھوڑ کر مُستقبِل کو پکڑنا ۔ المختصر اچھّے کو چھوڑ کر بہترین کو پکڑنا تھا۔ نِیز، اِس کا مطلب یہ بھی تھا کہ مقبول کی بجائے غیر مقبول، اکثریت کی بجائے اقلیت اور مظلوم بنا جائے۔ اور یہ نہایت سنگین مسائِل کو پَیدا کرنے کا سبب بنا۔ یہ خط اُن لوگوں کو لکھا گیا جو یہُودی پَس منظر رکھتے تھے۔ اِن عبرانیوں نے کلیسیا کے اِبتدائی دِنوں میں رسُولوں اور دُوسروں سے انجیل کا پیغام سُنا تھا اور عظیم معجزات دیکھے تھے جو اُن کے پیغام کی تصدیق کرتے تھے۔ اور اُنہوں نے اِس خوشخبری کوسُن کر اِن تین طرح سے اپنے ردِّ عمل کا اظہار کیا تھا: بعض یسؔوع مسیح پر ایمان لائے تھے اور حقیقتاً تبدیل ہو گئے تھے۔ بعض دِکھاوے کے طور پر مسیحی بننے کا اِقرار کرتے تھے۔ اُنہوں نے بپتسمہ بھی لیا اور جماعت
میں شامل بھی ہُوئے۔ لیکن وُہ خُدا کے رُوح کے وسِیلہ سے نئے سرے سے پَیدا نہیں ہُوئے تھے۔ دِیگر نے کھُلے اَلفاظ میں نجات کے پیغام کو رّد کردیا۔
یہ خط پہلے دو قِسم کے لوگوں سے مُخاطب ہے یعنی حقیقی طور پر تبدیل شُدہ یہُودیوں اور اُن کے بارے میں جِنہوں نے محض مسیحیت کا لُبادہ اوڑھا ہُؤا تھا۔
جب کوئی یہُودی اپنے آبا و اجداد کے اِیمان کو ترک کر دیتا تو اُسے منحرف گردانا جاتا اور اکثر درج ذیل میں سے ایک یا زیادہ سَزائیں دی جاتی تھی:
ـــــ خاندان کی جائیداد سے عاق کر دیا جاتا۔
جب کوئی یہودی اپنے آبا و اجداد کے ایمان کو ترک کر دیتا تو اُسے منحرف گردانا جاتا اور اکثر درجِ ذیل میں سے ایک یا زیادہ سزائیں دی جاتی تھیں:
بے شک بچنے کے طریقے بھی ہمیشہ ہُؤا کرتے ہیں۔ اگروُہ مسیح کا انکار کر دیتا اور یہُودیت کو دوبارہ گلے لگالیتا تو اُسے مزید اذیّت نہیں دی جاتی تھی۔ جب آپ اِس خط کو پڑھیں گے تو
بین الُسّطُور اُن زَبردست دلائِل کو دیکھ سکتے ہیں جو وُہ قارئین کو یہُودیت میں واپس لانے کے لئے استعمال کرتے تھے:
پہلی صدی میں یہُودی اپنے قدیم رسمی مذہب کی اِن جلالی باتوں کو پیش کرتے اور پھر طنزاً پُوچھتے: ’’ہمارے پاس تو یہ کُچھ ہے تم مسیحیوں کے پاس کیا ہے؟ کُچھ بھی نہیں۔ ہاں، ایک بالاخانہ اور ایک میز، جِس پر تھوڑی سی مَے اور روٹی رکھی ہُوئی ہے! کیا تُمہارا مطلب یہ ہے کہ تُم نے یہ سب کُچھ اِسی کی خاطر چھوڑ دیا ہے؟‘‘
عِبرانیوں کا خط درحقیقت اِسی سُوال کا کہ ’’تُمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ جواب ہے۔ ایک لفظ میں اِس کا جواب یہ ہے کہ ’’مسیح‘‘۔ اُس میں ہمیں یہ کُچھ مِلتا ہے:
جِس طرح ستارے، سُورج سے زیادہ جلال کے سامنے ماند پڑ جاتے ہیں، اُسی طرح خُداوند یسؔوع کے کام کے جَلال کے سامنے یہُودیت کا سایہ اور مثالیں بے وُقعت ٹھہرتی ہیں۔
وُہ لوگ جو خُداوند یسؔوع کی پَیروی کرتے، اُنہیں سخت اور جنُونی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا۔ حقیقی ایمان داروں کے لئے یہ حوصلہ شِکنی کا باعث بن سکتا تھا۔ چنانچہ ضرُورت تھی کہ اُن کی خُدا کے وعدوں کے بارے میں حوصلہ افزائی کی جائے۔ ضُرورت تھی کہ وُہ مُتوقع اجروں کے پیشِ نظر برداشت کریں۔
اُن کے لئے جو برائے نام مسیحی تھے اِنحراف کا خطرہ تھا۔ مسیح کو قبُول کرنے کا اِقرار کرنے کے بعد مُمکِن تھا کہ وُہ اُسے رَدّ کر دیں اور اپنے پُرانے رسمی مذہب کی طرف لَوٹ جائیں۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ وُہ خُدا کے بیٹے کو پامال کر رہے، اُس کے خُون کی بے حُرمتی کر رہے اور پاک رُوح کی بے عِزّتی کر رہے ہیں۔ اِس دیدہ دانِستہ گُناہ کی کوئی توبہ یا مُعافی نہیں تھی۔ اِس گُناہ کے بارے میں عبرانیوں کے خط میں بار بار مستنِبّہ کیا گیا ہے۔ ۱:۲ میں اِسے مسیح کے پیغام سے ’’بہ کر دُور‘‘ جانا کہا گیا ہے۔ ۳ : ۷ـ ۱۹میں اِسے بغاوت یا سخت دِلی کا گُناہ بتایا گیا ہے۔ ۶:۶ میں اِسے برگشتہ ہونا کہا گیا ہے۔ ۱۰: ۶ میں اِسے ’’ایک دُوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز‘‘ رہنا کہا گیا ہے۔ ۱۶:۱۲ میں اِسے ’’ایک کھانے کے عِوض اپنے پہلَوٹھے ہونے کا حق‘‘ فروخت کرنا اور ۱۲: ۲۵ میں ’’آسمان پر کے ہدایت کرنے والے سے مُنہ‘‘ موڑنا بتایا گیا ہے۔ لیکن یہ تمام اِنتباہ اُسی ایک گُناہ یعنی اِنحراف کے مُختلِف پہلُوؤں کو بیان کرتے ہیں۔
عِبرانیوں کے خط کا پیغام جِس طرح پہلی صَدی کی کلیسیا کے لئے بر وقت تھا اُسی طرح یہ آج بھی ہے۔ ضرُورت ہے کہ ہمیں متواتر اُن حقُوق اور برکات کے بارے میں بتایا جائے جو ہمیں مسیح میں حاصِل ہیں۔ ہمیں حَوصلہ افزائی کی ضرُورت ہے تاکہ ہم مخالفت اور مُشکِلات کو برداشت کرسکیں۔ تمام حقیقی مسیحیوں کو بھی آگاہ کرنے کی ضرُورت ہے کہ وُہ خُداوند کے مہربان ہونے کا مَزہ چکھنے کے بعد کہیں رسمی مذہب کی طرف مُنہ نہ موڑ لیں۔
| خاکہ | |||
| باب | |||
| ۱- | مسیح افضل ہے | ۱۳:۴-۱:۱ | |
| الف۔ | انبیا سے | ۳-۱:۱ | |
| ب۔ | فرشتوں سے | ۱۳:۴-۱:۳ | |
| ج۔ | مُوؔسیٰ اور یشؔوع سے | ۱۳:۴-۱:۳ | |
| ۲- | مسیح اپنی کہانت میں افضل ہے | ۱۸:۱۰-۱۴:۴ | |
| الف۔ | مسیح کی سردار کاہن کی کہانت ہارُوؔن کی کہانت سےافضل ہے | ۲۸:۷-۴:۱۴ | |
| ب۔ | مسیح کی خِدمت ہارُوؔن سے افضل ہے | باب ۸ | |
| ج۔ | مسیح کی قُربانی عہدِعتیق کی قُربانیوں سے افضل ہے | ۱۸:۱۰-۹:۱ | |
| ۳- | تنبِیہ اور نصیحت | ۱۷:۱۳-۱۹:۱۰ | |
| الف۔ | مسیح کی حقارت کرنے کے بارے میں تنبیہ | ۳۹-۱۰:۱۹ | |
| ب۔ | عہدِعتیق کی مثالوں کے ذریعے ایمان رکھنے کی نصیحت | باب ۱۱ | |
| ج۔ | مسیح میں اُمیّد کی نصیحت | باب ۱۲ | |
| د۔ | مختلِف مسیحی فضائِل کے بارے میں نصیحت | ۱۷-۱:۱۳ | |
| ۴۔ | کلماتِ برکت | ۲۵-۱۸:۱۳ | |