عبدیاہ ۱

تفسیر

۱۔ ادوم کا غرور توڑا جائے گا (‏آیات ۱۔۴)‏

عبدیاہ کی کتاب کا آغاز اِس پیش گوئی سے ہوتا ہے کہ ادوم کے گھمنڈ اور غرور کے باعث حملہ آور اُس پر چڑھ آئیں گے اور وہ زوال پذیر ہو گا۔ ایک تصویر پیش کی گئی ہے کہ ایک وفد یا ایلچی ہے جو قوموں کو اُبھار رہا ہے کہ ادوم پر حملہ کریں۔ ادوم کا اہم شہر سیلا یا پترا تھا۔ یہ بحیرۂ مردار کے جنوب میں گلاب کی طرح سرخ چٹانوں کو کھود کر بنایا گیا تھا اور ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ 

۲۔ ادوم کی بربادی (‏آیات ۵۔۹)‏

الف۔ مکمل طور سے لُٹ جانا (‏آیات ۵‏، ۶)‏

ادوم کی تباہی و بربادی کو چوروں اور ڈاکوؤں کا کام شمار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تو جو چاہتے وہی لے جاتے ہیں۔ لٹیرے بھی تنکا تنکا نہ لوٹتے بلکہ ’’کچھ دانے باقی … چھوڑ‘‘ دیتے ہیں‏، لیکن ادوم اس بُری طرح سے لوٹا جائے گا کہ عیسو کے پوشیدہ خزانوں کو بھی تلاش کر لیا جائے گا۔ 

ب۔ ادوم کے اتحادیوں کی غداری (‏آیت ۷)‏

ادوم کے سارے حمایتی یا اتحادی اُس کا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور اُس کو پھنسانے کے لئے جال بچھائیں گے۔ 

ج۔ ادوم کے لیڈروں کی ہلاکت (‏آیات ۸‏،۹)‏

ادوم کو اپنے دانا اور بہادر آدمیوں پر بڑا فخر تھا۔ وہ سب کاٹ ڈالے جائیں گے اور نابود ہو جائیں گے۔ 

۳۔ ادوم کے زوال کے اسباب (‏آیات ۱۰۔۱۴)‏

ادومیوں نے یروشلیم پر حملہ ہوتے دیکھا تو اُنہیں شادمان نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اُنہیں یروشلیم کے لوگوں کی مصیبت پر لاف زنی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ اُن کو لازم نہ تھا کہ شہر کو لوٹنے والوں کی مدد کرتے اور جان بچا کر بھاگنے والے یہودیوں کو قتل کرتے یا باقی ماندہ لوگوں کو پکڑ کر دشمن کے حوالے کرتے۔

یہاں یہ تصویر پیش کی گئی ہے کہ ادومیوں نے خدا کے لوگوں کے ساتھ نہایت بے دردی اور ظلم کا سلوک کیا۔ اُنہوں نے اپنے آپ پر بالکل قابو نہ رکھا۔ ادوم نے قطعاً رحم نہ کیا اور اپنے بھائی یعقوب پر ذرہ بھر ترس نہ کھایا۔ خاندانی رِشتے کے ساتھ یہ غداری ایک وجہ تھی کہ ادوم کی تباہی ایسی مکمل اور قطعی ہو گی۔ 

۴۔ ادوم پر قہر و غضب اُس کے کاموں کا بدلہ ہے (‏آیات ۱۵‏، ۱۶)‏

سب قوموں پر خدا کے قہر اور غضب کا دن آ پہنچا ہے۔ اور ادوم کو اُس سلوک کی سزا ملے گی جو اُس نے یہوداہ کے ساتھ روا رکھا۔ اِس کا بدلہ اُنہی کے سر پر آ پڑے گا۔ یہاں پینے کا استعارہ استعمال ہوا ہے۔ جی۔ ہربرٹ لونگسٹن (‏Herbert Livingston)‏ اِس استعارے کی تشریح کرتا ہے:‏

’’سزا کے ساتھ ایک رنج اور افسوس ہوتا ہے۔ نبیوں نے اِسے بیان کرنے کے لئے اکثر تیز مے پینے کی تشبیہ استعمال کی ہے۔ دیکھئے یرمیاہ ۲۵:‏ ۱۵۔۲۸ جہاں اس کا اطلاق بڑی تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے۔ خدا ادوم کو صرف ایک مثال بنانے کے لئے نہیں چنے گا بلکہ ساری قوموں کو اُن کے گناہوں کی سزا اِسی طرح دے گا۔‘‘

۵۔ اِسرائیل اور یہوداہ کی بحالی اور ادوم کا معدوم ہونا(‏آیات ۱۷۔۲۱)‏

آیات ۱۷‏،۱۸ عبدیاہ کی کتاب کے آخری حصے میں مستقبل میں اِسرائیل کی بحالی کا بیان ہے۔ اِسرائیل اور یہوداہ شعلہ زن آگ ہوں گے جو عیسو کے گھرانے کو بالکل کھا جائے گی۔ ٹیٹ فورڈ (‏Tatford)‏ نے ادوم کے مرمٹنے کی تاریخ کا خلاصہ پیش کیا ہے:‏

’’نباطیوں نے ادومیوں کو اُن کے ملک سے نکال دیا۔ مگر اُنہوں نے نجب پر قبضہ کر لیا۔ یہ علاقہ ادومیہ کے نام سے جانا پہچانا جانے لگا۔ ادومیوں نے یہوداہ کے کچھ حصے پر بھی قبضہ کر لیا جو زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ ۱۸۵ ق م میں یہوداہ مکابی نے ان کو وہاں سے مار بھگایا۔ بعد ازاں گراسہ کے شمعون نے ادومیہ کو ویران اور سنسان کر دیا۔ اور پہلی صدی عیسوی میں ادومیوں کا نام و نشان مٹ گیا۔ یہ سچ ہے کہ پترا مسیحی جاگیر (‏patriarchate)‏ ۱ ؂ کا صدر مقام بھی رہا تاوقت یہ کہ ساتویں صدی عیسوی میں اِس پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔ آج کسی ایسے شخص کا اتا پتا نہیں ملتا جسے ادومی کی حیثیت سے شناخت کیا جا سکے۔ عبدیاہ کی یہ نبوت کامل طور سے پوری ہوئی ہے کہ عیسو کے گھرانے میں سے کوئی نہ بچے گا۔‘‘

آیات ۱۹۔۲۱ ادوم کی سرزمین جنوب کے رہنے والے (‏نجب کے)‏ اِسرائیلیوں کو دے دی جائے گی۔ ساحلی میدان (‏شفیلہ/علاقوں)‏ کے باشندوں کو فلستین کا ملک دیا جائے گا۔ اور بنی اِسرائیل کے لشکر کے سب اسیر کنعانیوں کے ملک کے حصوں پر قابض ہوں گے۔ رہائی دینے والے کوہستانِ عیسو پر حکمرانی کریں گے اور خداوند ساری مملکت پر سلطنت کرے گا۔ 

بعض علما کے مطابق آیت ۲۱ میں مذکور رہائی دینے والے وہ مقدسین ہیں جو مسیح کے ساتھ بادشاہی کریں گے۔

۱ ؂ قبیلہ یا خاندان کے سربراہ کے ماتحت نیم خود مختار علاقہ یا ایسی ریاست جس کا نظم و نسق کسی بشپ کے ہاتھ میں ہو۔

مقدس کتاب

۱ عبدیاہ کی رویا:-ہم نے خُداوند سے خبر سُنی اور قوموں کے درمیان ایلچی یہ پیغام لے گیا کہ چلو اُس پر حملہ کریں۔ خُداوند خُدا اُدوم کی بابت یُوں فرماتا ہے۔
۲ کہ دیکھ میں نے تُجھے قوموں کے درمیان حقیر کر دیا ہے۔ تو نہایت ذلیل ہے۔
۳ اے چٹانوں کے شگافوں میں رہنے والےتیرے دل کے گھمنڈ نے تجھے دھوکا دیا ہے۔تیرا مکان بُلند ہےاور تو دل میں کہتا ہے کون مجھے نیچے اُتارے گا؟۔
۴ خُداوند فرماتا ہے اگرچہ تو عقاب کی مانند بُلند پرواز ہو اور ستاروں میں اپنا آشیانہ بنائےتو بھی میں تجھے وہاں سے نیچے اُتاروں گا۔
۵ اگر تیرے گھر میں چور آئیں یا رات کو ڈاکو آگھُسیں( تیری کیسی بربادی ہے! ) تو کیا وہ حسب خواہش ہی نہ لیں گے؟ اگر انگور توڑنے والے تیرے پاس آئیں تو کیا کُچھ دانے باقی نہ چوڑیں گے؟۔
۶ عیسو کا مال کیسا ڈھونڈ نکالا گیا اور اُس کے پوشیدہ خزانوں کی کیسی تلاش ہوئی!۔
۷ تیرےسب حمایتیوں نے تجھے سرحد تک ہانک دیا ہے اور اُن لوگوں نے جو تجھ سے میل رکھتے تھے تجھے فریب دیا اور مغلوب کیا اور انہوں نے جو تیری روٹی کھاتے تھےتیرے نیچے جال بچھایا اُس میں ذرہ دانائی نہیں۔
۸ خُداوند فرماتا ہے کیا میں اس روز اُدوم سے داناوں کو اور عقلمندی کو کوہستان عیسو سے نابُود نہ کُروں گا؟۔
۹ اے تیمان تیرے بہادُر گھبرا جائیں گےیہاں تک کہ کوہستان عیسو کے باشندوں میں سے ہر ایک کاٹ ڈالا جائے گا۔
۱۰ اُس قتل کے باعث اور اُس ظلم کے سبب سے جو تو نے اپنے بھائی یعقوب پر کیا ہے تو خجالت سے ملُبّس اور ہمیشہ کے لے نیست ہو گا۔
۱۱ جس روز تو اُس کے مُخالفوں کے ساتھ کھڑا تھا جس روز اجنبی اس کے لشکر کو اسیر کر کے لے گے اور بیگانوں نے اس کے پھاٹک سے داخل ہو کر یروشیلم پر قرعہ ڈالا تو بھی اُن کے ساتھ تھا۔
۱۲ تجھے لازم نہ تھا کہ تو اس روز اپنے بھائی کی جلا وطن کو کھڑا دیکھتا رہتا اور نبی یہُوداہ کی ہلاکت کے روز شادمان ہوتا اور مُصیبت کے روز لافزنی کرتا۔
۱۳ تجھے مُناسب نہ تھا کہ تو میرے لوگوں کی مُصیبت کے روز ان کے پھاٹکوں میں گُھستا اور اُن کی مُصیبت کے روزاُن کی بدحالی کو کھڑا دیکھتا رہتا اور اُن کے لشکر پر ہاتھ بڑھاتا ۔
۱۴ تجھے لازم نہ تھا کہ گھاٹی میں کھڑا ہو کراس کے فراریوں کو قتل کرتا اور اس دکھ کے دن میں اس کے باقی ماندہ لوگوں کو حوالہ کرتا۔ خُداوند قوموں کی عدالت کرے گا
۱۵ کیونکہ سب قوموں پر خُداوند کا دن آپُہنچا ہے۔ جیسا تو نے کیا ہے ویسا ہی تجھ سے کیا جائے گا۔ تیرا کیا تیرے سر پر آئے گا۔
۱۶ کیونکہ جس طرح تم نے میرے کوہ مُقدس پر پیا اُسی طرح سب قومیں پیا کریں گی ہاں پیتی اور نگلتی رہیں گی اور وہ ایسی ہوں گی گویا کبھی تھیں ہی نہیں ۔
۱۷ لیکن جو بچ نکلیں گے کوہ صیون پر رہیں گے اور وہ مُقدس ہو گا اور یعقوب کا گھرانا اپنی میراث پر قابض ہو گا۔
۱۸ تب یعقوب کا گھرانا آگ ہو گا اور یوسف کا گھرانا شُعلہ اور عیسو کا گھرانا پُھوس اور وہ اس میں بھڑکیں گے اور اس کو کھا جائیں گےاور عیسو کے گھرانے سے کوئی نہ بچے گا کیونکہ یہ خُداوند کافرمان ہے۔
۱۹ اور جُنوب کے رہنے والے کوہستان عیسواور میدان کے باشندے فلستین کے مالک ہوں گے اور وہ افرائیم اور سامریہ کے کھیتوں پر قابض ہوں گےاور بنیمین جلعاد کا وارث ہو گا۔
۲۰ اور نبی اسرائیل کے لشکر کے سب اسیرجو کنعانیوں میں صارپت تک ہیں اور یروشیلم کے اسیر جو سفاراد میں ہیں جُنوب کے شہروں پر قابض ہو جائیں گے۔
۲۱ اور رہائی دینے والے کوہ صیون پر چڑھیں گےتا کہ کوہستان عیسو کی عدالت کریں اور سلطنت خُداوند کی ہو گی۔+