۳۔ دُنیا کی اِنتہا تک کلیسیا (۹: ۳۲- ۲۸: ۳۱)
الف۔ پطرس غیر قوموں میں اِنجیل کی منادی کرتا ہے (۹: ۳۲- ۱۱: ۱۸)
۹: ۳۲- ۳۴ اب دوبارہ پطرس کا بیان شروع ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ یہودیہ کے مختلف علاقوں کا دَورہ کر کے ایمان داروں سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔ آخر وہ یروشلیم کے شمال مغرب میں اور یافا (آج کل یافو) کو جانے والی شاہراہ پر واقع لُدہ میں پہنچتا ہے۔ وہاں اُسے ایک مفلوج ملا «جو آٹھ برس سے چارپائی پر پڑا تھا»۔ پطرس نے اُس کا نام لے کر کہا کہ «یسوع مسیح تجھے شفا دیتا ہے۔» اَینیاس فوراً اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنی چارپائی بڑھا دی۔ عین ممکن ہے کہ اینیاس کو جسمانی شفا کے ساتھ ہی روحانی شفا بھی مل گئی۔
۹: ۳۵ یہ شفا یافتہ مفلوج لدہ کے شہر میں اور شارون کے سارے ساحلی علاقے میں خداوند کی گواہی ثابت ہوا۔ اِس کے نتیجے میں بہت سے لوگ «خداوند کی طرف رجوع لائے»۔
۹: ۳۶- ۳۸ یافا اُس دَور میں فلستین کی ایک بڑی سمندری بندرگاہ تھا جو یروشلیم سے تقریباً ۴۸ کلومیٹر دُور بحیرۂ روم پر واقع تھا۔ وہاں کے مسیحیوں میں ایک نیک دل خاتون «تبیتا»تھی (’تبیتا‘ ارامی نام ہے جس کو یونانی میں «ڈورقس» کہا گیا ہے۔ مطلب ہے ہرنی)۔ وہ غریبوں کے لئے کپڑے سینے اور خیرات کرنے کے لئے بہت مشہور تھی۔ «وہ بیمار ہو کر مر گئی۔» لگتا ہے کہ اُس کی بیماری اچانک اور نہایت مختصر تھی۔ شاگردوں یعنی ایمان داروں نے «لدہ» میں فوری پیغام بھیج کر پطرس سے درخواست کی کہ بلا تاخیر ہمارے پاس پہنچ۔
۹: ۳۹- ۴۱ وہاں پہنچا تو پطرس نے دیکھا کہ «سب بیوائیں» زار و قطار رو رہی ہیں۔ یہ بیوائیں پطرس کو «وہ کُرتے اور کپڑے» دکھانے لگیں جو تبیتا نے اُن کے لئے بنائے تھے۔ پطرس نے سب سے کمرے سے نکل جانے کی درخواست کی اور پھر «گھٹنے ٹیک کر دعا کی» اور تبیتا کی «لاش … (سے) کہا اے تبیتا اُٹھ»۔ فوراً اُس کی زندگی بحال ہو گئی اور اپنے مسیحی ساتھیوں سے اُس کا دوبارہ میل ہو گیا۔
۹: ۴۲ مردے کو زندہ کرنے کا یہ معجزہ سارے علاقے میں «مشہور» ہو گیا جس کے نتیجے میں «بہتیرے خداوند پر ایمان لائے» __ لیکن آیت ۳۵ اور ۴۲ کا مقابلہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اینیاس کے شفا پانے کے معجزے کے نتیجے میں نسبتاً زیادہ لوگ ایمان لائے تھے۔
۹: ۴۳ پطرس «بہت دن یافا میں شمعون نام دباغ کے ہاں رہا»۔ یہاں شمعون کے پیشے (چمڑا بنانا) کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہودی چمڑا بنانے کو گھٹیا بلکہ بدنام پیشہ سمجھتے تھے کیونکہ دباغ کو مسلسل مُردہ جانوروں کو چھونا ہوتا ہے۔ اِس لئے وہ شرعی طور پر ناپاک رہتا ہے۔ پطرس کا شمعون کے ساتھ رہنا اِس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اِس خاص یہودی رسم کا پابند نہ رہا۔
اکثر اِس بات کی نشان دہی کی جاتی ہے کہ یکے بعد دیگرے تین ابواب میں نوح کے بیٹوں کی نسل کے ایک نہ ایک شخص کے ایمان لانے کا بیان ہے۔ بلاشبہ حبشی خوجہ (باب ۸) حام کی نسل سے تھا۔ ترسیس کا سائول (باب ۹)، سم کی نسل سے تھا اور یہاں باب ۱۰ میں کرنیلیس ہے جو یافت کی اولاد میں سے تھا۔ یہ اِس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ اِنجیل ساری نسلوں اور ساری تہذیبوں اور ثقافتوں کے لئے ہے۔ مسیح میں یہ سارے فطری تفرقات مٹ جاتے ہیں۔ باب ۲ میں پطرس نے بادشاہی کی کنجیوں کو یہودیوں کے لئے ایمان کا دروازہ کھولنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ اُسی طرح باب ۱۰ میں وہ غیر قوموں کے لئے بھی یہ دروازہ کھولتا ہوا نظر آتا ہے۔
۱۰: ۱، ۲ اِس باب کا آغاز قیصریہ میں ہوتا ہے۔ یہ شہر یافا سے کوئی ۴۸ کلومیٹر شمال میں واقع تھا۔کرنیلیس ایک رومی فوجی افسر تھا۔ «صوبہ دار» کے ماتحت تقریباً سو سپاہی ہوتے تھے۔ اُس کا دستہ «اطالیانی» پلٹن کے ساتھ منسلک تھا۔ فوج میں تو اُس کو نمایاں عہدہ حاصل تھا ہی، لیکن اُس کی زیادہ شہرت اپنی دین داری کے باعث تھی۔ وہ «دین دار» تھا، «خدا سے ڈرتا تھا»اور حاجت مند «یہودیوں کو بہت خیرات دیتا»تھا۔ رائری (Ryrie) کا خیال ہے کہ کرنیلیس «پھاٹک کا نومرید تھا یعنی وہ یہودیت کے خدا اور اُس کی بادشاہی پر ایمان رکھتا تھا، لیکن اُس نے پورے طور پر مرید ہونے کے لئے تاحال کوئی قدم نہیں اُٹھایا تھا۔»
یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نجات یافتہ شخص تھا۔ جو کہتے ہیں کہ وہ نجات یافتہ تھا وہ آیت ۲ اور ۳۵ کا حوالہ دیتے ہیں جہاں کرنیلیس کی طرف واضح اِشارہ کرتے ہوئے پطرس کہتا ہے کہ «ہر قوم میں جو اُس (خدا) سے ڈرتا اور راست بازی کرتا ہے، وہ اُس کو پسند آتا ہے۔» جو علما کہتے ہیں کہ وہ نجات یافتہ نہیں تھا، وہ ۱۱: ۱۴ کی طرف متوجہ کرتے ہیں جہاں کہا گیا ہے کہ فرشتہ کرنیلیس سے کہتا ہے کہ پطرس «تجھ سے ایسی باتیں کہے گا جن سے تُو اور تیرا گھرانا نجات پائے گا»۔
ہمارا نظریہ یہ ہے کہ «کرنیلیس» ایک ایسا شخص تھا جو اُس نور کے مطابق زندگی بسر کرتا تھا جو خدا نے اُسے عطا کیا تھا۔ یہ نور اُس کے نجات پانے کے لئے کافی نہیں تھا۔ اِس لئے خدا نے یقینی بندوبست کیا کہ اُسے اِنجیل کا اضافی نور دیا جائے۔ پطرس کے آنے سے پہلے اُس کو نجات کی تسلی حاصل نہ تھی۔ لیکن وہ حقیقی خدا کی پرستش اور عبادت کرنے والوں کے ساتھ ایک قریبی رِشتہ ضرور محسوس کرتا تھا۔
۱۰: ۳- ۸ ایک دن تقریباً ۳ بجے بعد از دوپہر کرنیلیس نے «رُؤیا میں صاف صاف دیکھا کہ خدا کا فرشتہ» اُس کا نام لے کر اُسے مخاطب کر رہا ہے۔ چونکہ وہ غیر یہودی تھا اِس لئے اُس کو فرشتوں کی خدمت کا اِتنا شعور نہیں تھا جو ایک یہودی کو ہو سکتا ہے۔ اُس نے فرشتے کو خداوند سمجھا۔ فرشتے نے اُس کی دل جمعی کرائی کہ خدا نے تیری «دعائوں» اور «خیرات» کو یاد کیا ہے۔ پھر فرشتے نے اُسے کہا کہ «اب یافا میں آدمی بھیج کر شمعون کو جو پطرس کہلاتا ہے بلوا لے۔ وہ شمعون دباغ کے ہاں مہمان ہے۔ جس کا گھر سمندر کے کنارے ہے» (ایک دباغ کے لئے سمندر کے کنارے گھر بنانے میں بڑی مصلحت تھی۔ کھالوں کی دھلائی سے شہر کے اندر صحت و صفائی کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ شہر سے باہر اور سمندر کے کنارے تمام گندا اور بدبودار پانی اور جانوروں کی لاشیں بآسانی سمندر میں بہائی جا سکتی ہیں)۔ کرنیلیس بے چوں و چرا حکم مانتا ہے۔ وہ اپنے «دو نوکروں» اور «ایک دین دار سپاہی» کو یافا کی طرف روانہ کر دیتا ہے۔
۱۰: ۹- ۱۴ «دوسرے دن … پطرس دوپہر کے قریب کوٹھے پر دعا کرنے کو چڑھا۔» یہ یافا میں شمعون دباغ کے گھر کا واقعہ ہے۔ اُس وقت پطرس کو «بھوک لگی اور کچھ کھانا چاہتا تھا۔» لیکن نیچے کھانا ابھی تیار کیا جا رہا تھا۔ اُس کی بھوک نے وہ مناسب حالات پیدا کر دیئے جو تھوڑی دیر میں اُسے پیش آنے کو تھے۔ «اُس پر بے خودی چھا گئی۔ اور اُس نے دیکھا کہ … ایک چیز … چاروں کونوں سے لٹکتی ہوئی … اُتر رہی ہے جس میں سب قسم کے چوپائے اور کیڑے مکوڑے اور … پرندے ہیں۔» اُس میں پاک اور ناپاک __ حلال اور حرام ہر قسم کے جانور موجود تھے۔ آسمان سے ایک آواز نے بھوکے رسول کو ہدایت کی کہ «اُٹھ! ذبح کر اور کھا»۔ یاد رکھیں کہ موسیٰ کی شریعت میں ہر قسم کے «حرام یا ناپاک» جانور کو کھانے کی ممانعت ہے۔ پطرس نے اِعتراض کیا، «اے خداوند! ہرگز نہیں۔» سکروگی (Scroggie) تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ «جو شخص ’ہرگز نہیں‘ کہتا ہے اُس کو ساتھ ’خداوند‘ نہیں کہنا چاہئے کیونکہ جو کوئی سچے دل سے ’خداوند‘ کہتا ہے وہ کبھی ’ہرگز نہیں‘ نہیں کہہ سکتا۔»
۱۰: ۱۵، ۱۶ پطرس نے تاکیدی طور پر بیان کیا کہ مَیں نے زندگی بھر ہمیشہ یہودی شریعت کے مطابق حلال چیزیں کھائی ہیں۔ تو آسمانی آواز نے کہا، «جن کو خدا نے پاک ٹھہرایا ہے تُو اُنہیں حرام نہ کہہ۔» یہ مکالمہ تین دفعہ دُہرایا گیا۔ اِس کے بعد وہ چادر واپس «آسمان پر اُٹھا لی گئی»۔
یہ حقیقت تو صاف نظر آتی ہے کہ اِس رُؤیا کا تعلق صرف کھانے پینے، حلال اور حرام کے ساتھ نہیں تھا۔ اِس کا مطلب بہت گہرا اور اہم تھا۔ یہ سچ ہے کہ مسیحیت کے آنے کے ساتھ خوراک اور کھانے پینے کے یہ ضابطے قائم نہیں رہے، لیکن اِس رویا کی اصل اہمیت یہ ہے کہ خدا غیر اسرائیلیوں پر بھی ایمان کا دروازہ کھولنے کو تھا۔ یہودی ہوتے ہوئے پطرس نے غیر قوموں کو ہمیشہ ناپاک، غیر، بے دین اور بے خدا ہی سمجھا تھا۔ لیکن اب خدا ایک نیا کام کرنے کو تھا۔ غیر قوم (آسمانی چادر میں ناپاک جانور اور پرندے غیر قوموں کی نمائندگی کرتے ہیں) بھی اُسی طرح روح القدس پانے کو تھے جیسے یہودیوں (پاک جانور اور پرندے) نے پایا تھا۔ اب قومی اور مذہبی اِمتیازات ختم اور منسوخ ہونے کو تھے۔ اب سے خداوند یسوع میں تمام ایمان دار مسیحی کلیسیا میں ایک سطح پر ہوں گے۔
۱۰: ۱۷- ۲۳ الف اِدھر پطرس اپنے دل میں اِس رُؤیا پر غور کر رہا تھا، اُدھر کرنیلیس کے نوکر دروازے پر آ پہنچے اور پطرس کا پوچھنے لگے۔ روح کی ہدایت سے پطرس چھت پر سے اُترا اور اُن سے ملا۔ اُس کو اُن کے آنے کا مقصد معلوم ہوا تو وہ اُن کو گھر کے اندر لایا اور رات بھر ٹھہرانے کا بندوبست کیا۔ نوکروں نے اپنے مالک کو خوب خراجِ تحسین پیش کیا کہ وہ «راست باز اور خدا ترس آدمی اور یہودیوں کی ساری قوم میں نیک نام ہے»۔
۱۰: ۲۳ ب – ۲۹ اگلے دن پطرس کرنیلس کے تینوں نوکروں کے ہمراہ قیصریہ کو «روانہ ہوا اور یافا میں سے بعض بھائی اُس کے ساتھ ہو لئے»۔ غالباً وہ سارا دن سفر کرتے رہے کیونکہ «وہ دوسرے روز قیصریہ میں داخل ہوئے»۔
کرنیلیس اُن کے آنے کی راہ دیکھ رہا تھا۔ چونکہ اُسے یقین تھا کہ پطرس ضرور آئے گا، اِس لئے اُس نے «اپنے رِشتہ داروں اور دلی دوستوں کو جمع» کر رکھا تھا۔ پطرس پہنچا تو کرنیلیس نے اُس کی عزت و تعظیم کی خاطر «اُس کے قدموں میں گر کر سجدہ کیا»۔ رسول نے اِس سجدے کو قبول کرنے سے اِنکار کیا اور احتجاج کیا کہ « مَیں بھی تو اِنسان ہوں۔» مناسب اور بجا ہو گا کہ جو لوگ اپنے آپ کو پطرس کا جانشین کہتے ہیں، وہ بھی اُس کی اِنکساری اور حلیمی کی تقلید کریں اور لوگوں کو اپنے سامنے دوزانو ہونے اور گھٹنے ٹیکنے سے منع کر دیں۔
پطرس نے گھر میں «بہت سے لوگوں کو اِکٹھا پایا» تو اُن کو بتایا کہ یہودی ہوتے ہوئے عام حالات میں مَیں کسی غیر قوم کے گھر میں داخل نہ ہوتا۔ لیکن «خدا نے مجھ پر ظاہر کیا» کہ اب سے غیر قوم افراد کو اچھوت نہیں سمجھنا۔ پھر اُس نے پوچھا کہ «مجھے کس بات کے لئے بلایا ہے؟»
۱۰: ۳۰- ۳۳ کرنیلیس نے بڑے شوق سے اپنے اُس رُؤیا کے بارے میں بتایا جو اُس نے چار روز پہلے دیکھا تھا۔ جس میں ایک فرشتے نے اُسے یقین دلایا تھا کہ «تیری دعا سن لی گئی»۔ اور ہدایت کی تھی کہ «پطرس کو … اپنے پاس بلا۔» اِس غیر اِسرائیلی شخص کے دل میں خدا کے کلام کی بھوک قابلِ تعریف ہے۔ اُس نے کہا، «اب ہم سب خدا کے حضور حاضر ہیں تاکہ جو کچھ خدا نے تجھ سے فرمایا ہے اُسے سنیں۔» ایسے کھلے دل والی اور کلامِ مقدس کو قبول کرنے والی روح کو خدا ضرور اپنی ہدایت سے سرفراز کرتا ہے۔ اُسے بڑا اَجر دیتا ہے۔
۱۰: ۳۴، ۳۵ پیغام دینے سے پہلے پطرس نے صاف صاف اِقرار کیا کہ اب تک مجھے یقین تھا کہ خدا کا فضل صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے۔ لیکن اب مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ خدا کسی اِنسان کو اُس کی قومیت کے اعتبار سے عزت نہیں دیتا بلکہ وہ سچے اور شکستہ دل پر نظر کرتا ہے۔ یہ دل یہودی کا ہو یا غیر یہودی کا، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ «بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راست بازی کرتا ہے وہ اُس کو پسند آتا ہے۔»
آیت ۳۵ دو طرح سے سمجھی جا سکتی ہے۔
- بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی سچے دل سے توبہ کرے اور خدا کا متلاشی ہو، تو اگرچہ اُس نے خداوند یسوع کے بارے میں کبھی نہ سنا ہو، تو بھی وہ نجات پائے گا۔ دلیل یہ ہے کہ اگرچہ وہ شخص یسوع کی عوضی قربانی کے بارے میں نہیں جانتا، مگر خدا تو جانتا ہے اور اِس قربانی کی بنیاد پر اُسے نجات دیتا ہے۔ اور جب بھی وہ سچے ایمان تک پہنچتا ہے، خدا مسیح کی قربانی کے فوائد اُس شخص کے نام محسوب کرتا ہے۔
- دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خواہ اِنسان خدا سے ڈرتا ہو اور راست بازی کرتا ہو، وہ اِس وجہ سے نجات نہیں پا سکتا۔ نجات صرف خداوند یسوع مسیح پر ایمان سے ہے۔ لیکن جب کبھی خدا کو کوئی ایسا اِنسان مل جاتا ہے جس نے اُس نور کے مطابق زندگی بسر کی ہو جو خداوند کے بارے میں اُسے عطا کیا گیا ہو تو وہ یقینا بندوبست کرتا ہے کہ وہ اِنسان انجیل سنے اور نجات پانے کا موقع پائے۔
ہمارے خیال میں دوسرا نظریہ صحیح ہے۔
۱۰: ۳۶- ۳۸ اِس کے بعد پطرس اپنے سامعین کو یاد دلاتا ہے کہ اگرچہ اِنجیل کا پیغام پہلے یہودیوں کو دیا گیا، لیکن «یسوع مسیح … سب کا خداوند ہے» __ یعنی وہ یہودی اور غیر قوم سب کا خداوند ہے۔ اُس کے سامعین نے یسوع ناصری کے واقعات ضرور سنے ہوں گے۔ یہ خوش خبری «یوحنا کے بپتسمہ» کے وقت « گلیل» سے شروع ہوئی اور «تمام یہودیہ میں مشہور ہو گئی»۔ اِسی یسوع کو «خدا نے … روح القدس سے … مَسَح کیا»۔ اُس نے دوسروں کی خدمت کے لئے بے لوث اور بے غرض زندگی بسر کی۔ «وہ بھلائی کرتا اور اُن سب کو جو ابلیس کے ہاتھ سے ظلم اُٹھاتے تھے شفا دیتا پھرا۔»
۱۰: ۳۹- ۴۱ رسول «اُن سب کاموں کے گواہ ہیں جو اُس (یسوع) نے … کئے»۔ وہ یروشلیم اور سارے یہودیہ میں اُس کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ اُس (مسیح) کی کامل زندگی کے باوجود «اُنہوں (یہودیوں) نے اُس کو صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا۔ اُس کو خدا نے تیسرے دن» مردوں میں سے «جِلایا» اور اُس کو اُن «گواہوں» نے دیکھا جو «آگے سے خدا کے چنے ہوئے تھے»۔ جہاں تک ہمیں علم ہے اپنے جی اُٹھنے کے بعد خداوند کسی غیر ایمان دار کو دِکھائی نہیں دیا۔ اُن گواہوں نے خداوند کے «ساتھ کھایا پیا۔» اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ نجات دہندہ کا جی اُٹھا بدن مادی تھا، جسے چھوا جا سکتا تھا۔
۱۰: ۴۲ خداوند نے رسولوں کو مقرر کیا کہ منادی کریں کہ خدا کی طرف سے اُسے «زندوں اور مُردوں کا منصف مقرر کیا گیا» ہے۔ یہ بات بہت سے اَور حوالوں سے مطابقت رکھتی ہے جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ باپ نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے (یوحنا ۵: ۲۲)۔ مطلب یہ ہے کہ ابنِ آدم کی حیثیت میں وہ یہودی اور غیر یہودی سب کی یکساں عدالت کرے گا۔
۱۰: ۴۳ لیکن پطرس صرف عدالت کی بات پر ہی زور نہیں دیتا بلکہ وہ اِنجیلی سچائی کا ایک زبردست اور شاندار بیان دیتا ہے۔ وہ وضاحت کرتا ہے کہ ہم اِس عدالت سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔ جیسا کہ پرانے عہدنامے کے «سب نبی گواہی دیتے ہیں» کہ جو کوئی مسیحِ موعود کے نام پر «ایمان لائے گا، اُس کے نام سے گناہوں کی معافی حاصل کرے گا۔» یہ دعوت صرف بنی اِسرائیل کے لئے نہیں، بلکہ ساری دُنیا اِس میں شامل ہے۔ کیا آپ گناہوں کی معافی پانا چاہتے ہیں؟ تو اُس پر ایمان لائیں۔
۱۰: ۴۴- ۴۸ «پطرس یہ باتیں کہہ ہی رہا تھا کہ روح القدس اُن سب پر نازل ہوا۔» یاد رکھیں یہ سامعین غیر قوم اور نامختون تھے۔ اور وہ « طرح طرح کی زبانیں بولتے اور خدا کی تمجید کرتے» تھے۔ غیر زبانیں وہاں موجود سبھوں کے لئے نشان تھیں کہ کرنیلیس اور اُس کے گھرانے کو بھی «روح القدس کی بخشش» عطا ہوئی ہے۔ یافا سے آنے والے یہودی نژاد ایمان دار «حیران ہوئے کہ غیر قوموں پر بھی روح القدس کی بخشش جاری ہوئی» حالانکہ وہ یہودی نومرید نہیں بنے تھے۔ لیکن پطرس یہودی تعصبات سے اِتنا جکڑا ہوا نہیں تھا۔ اُس کو فوراً احساس ہو گیا کہ خدا یہودی اور غیر قوم میں کوئی اِمتیاز نہیں کر رہا۔ چنانچہ اُس نے تجویز کیا کہ کرنیلیس کے گھرانے کو بپتسمہ دیا جائے۔
ذرا اِن الفاظ پر غور کریں کہ « جنہوں نے ہماری طرح روح القدس پایا۔» اِن غیر قوم افراد کو بھی اُسی طرح نجات ملی تھی جس طرح یہودیوں کو __ صرف خالص ایمان سے __یہاں شریعت کی پابندی، دوسرے آئین و احکام کی پیروی یا رسومات اور شعائر کی ادائیگی کا ذکر تک نہیں۔
علاوہ ازیں غیر قوموں کو روح القدس ملنے کے تعلق سے واقعات کی ترتیب پر بھی غور کریں۔
- اُنہوں نے کلام «سنا» یعنی ایمان لائے (آیت ۴۴)۔
- اُن پر «روح القدس … نازل» ہوا (آیت ۴۴، ۴۷)۔
- اُن کو «بپتسمہ» دیا گیا (آیت ۴۸)۔
یہ ترتیب ہے جو موجودہ زمانے میں یہودی اور غیر قوم، سب کے لئے یکساں مقرر ہے۔ جب خدا اپنے نام کی خاطر قوموں میں سے لوگوں کو بلاتا ہے تو یہی ترتیب قائم رہتی ہے۔
خدا کے روح نے قیصریہ میں نہایت پُرفضل کام کیا۔ اب حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ایمان داروں نے پطرس کو مجبور کیا کہ «چند روز ہمارے پاس رہ۔»
۱۱: ۱- ۳ یہ خبر بہت جلد «یہودیہ» پہنچ گئی کہ پطرس نے «غیر قوموں» کو بھی خوش خبری سنائی اور اُنہوں نے بھی نجات پائی ہے۔ اِس لئے «جب پطرس یروشلیم میں آیا تو مختون» بھائیوں نے اُس کو نامختونوں کے ساتھ کھانے پینے پر چیلنج کیا۔ یہاں «مختون» بھائیوں سے مراد یہودی نژاد مسیحیوں سے ہے جو ابھی تک پرانی سوچوں کے قیدی تھے۔ مثلاً وہ یقین رکھتے تھے کہ خداوند سے پوری برکت پانے کے لئے ضرور ہے کہ غیر قوم شخص ختنہ کرائے۔ اُن کا ابھی تک یہی خیال تھا کہ پطرس نے غیر قوموں کے ساتھ کھایا پیا تو غلط کام کیا ہے۔
۱۱: ۴- ۱۴ اپنا دفاع کرتے ہوئے پطرس نے وہ تمام واقعات سنائے جو پیش آئے تھے۔ اِن میں اُس کا رُؤیا، آسمان سے اُترنے والی چادر، کرنیلیس پر فرشتے کا ظاہر ہونا، کرنیلیس کی طرف سے پیغام لے کر آنے والے، روح کا حکم کہ اُن کے ساتھ جا، اور غیر قوموں پر روح القدس کا نزول ساری باتیں شامل تھیں۔ چونکہ خدا نے اِتنے حتمی اور واضح طریقوں سے کام کیا اِس لئے مزاحمت یا مخالفت کرنا یقینا خدا کی مخالفت ٹھہرتا۔
اپنے اِس پیغام میں پطرس نے کئی دلچسپ باتیں بیان کیں۔ یہ باتیں گذشتہ باب میں درج نہیں ہیں۔
- اُس نے بتایا کہ «چادر … آسمان سے اُتر کر مجھ تک آئی» (آیت ۵)۔
- مزید بتایا کہ «اُس پر … مَیں نے غور سے نظر کی» (آیت ۶)۔
- پطرس یہ تفصیل بھی دیتا ہے کہ یافا سے چھے بھائی اُس کے ساتھ قیصریہ گئے تھے (آیت ۱۲)۔
- آیت ۱۴ میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ فرشتے نے کرنیلیس سے وعدہ کیا تھا کہ پطرس«تجھ سے ایسی باتیں کہے گا جن سے تُو اور تیرا سارا گھرانا نجات پائے گا۔» یہ آیت زبردست ثبوت ہے کہ پطرس کے آنے سے پہلے کرنیلس کو نجات نہیں ملی تھی۔
۱۱: ۱۵ پطرس کے بیان کے مطابق غیر قوم افراد پر روح القدس اُس وقت نازل ہوا جب وہ (پطرس) کلام کرنے لگا تھا۔ اعمال ۱۰: ۴۴ سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع ہی میں نہیں بلکہ جب وہ کچھ دیر تک کلام سنا چکا تب نازل ہوا تھا۔ لگتا ہے کہ اُس نے کلام سنانا شروع کیا تھا۔ مگر مزید آگے بڑھنے سے پہلے روح القدس نازل ہوا۔ اُسے غالباً کچھ دیر رُکنا پڑا۔
۱۱: ۱۶ جب غیر قوموں پر روح القدس نازل ہوا تو پطرس کو فوراً پنتکست کا واقعہ یاد آ گیا اور ساتھ ہی اُس کا ذہن خداوند کے اُس وعدے کی طرف گیا جو اُس نے اپنے شاگردوں سے کیا تھا کہ «تم روح القدس سے بپتسمہ پائو گے۔» اُس کو معلوم ہو گیا کہ یہ وعدہ کچھ تو پنتکست کو پورا ہوا اور اب دوبارہ پورا ہو رہا ہے۔
۱۱: ۱۷ اِس کے بعد پطرس نے مختون طبقے کے سامنے یہ سوال اُٹھایا کہ «جب خدا نے» غیر قوموں پر روح القدس اُنڈیلنا پسند کیا، جیسا کہ پہلے ایمان لانے والے یہودیوں پر اُنڈیلا تھا تو « مَیں کون تھا کہ خدا کو روک سکتا؟»
۱۱: ۱۸ اِس بات میں یہ عبرانی مسیحی قابلِ تعریف ہیں کہ جب اُنہوں نے پطرس کا بیان سن لیا تو اُن کو محسوس ہو گیا کہ اِن ساری باتوں میں خدا کا ہاتھ ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنی سوچ اور نظریہ بالکل بدل لیا اور سارے معاملے کو قبول کیا۔ اُن کے سارے اعتراض ختم ہو گئے۔ اُن کی جگہ خدا کی تمجید نے لے لی کہ «خدا نے غیر قوموں کو بھی زندگی کے لئے توبہ کی توفیق دی ہے۔»
ب۔ انطاکیہ میں کلیسیا کا قیام (۱۱: ۱۹- ۳۰)
۱۱: ۱۹ اب بیان واپس اُس وقت کی طرف آتا ہے جب ستفنس کی شہادت کے بعد کلیسیا پر ظلم وستم شروع ہو گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں اگلی آیات کے واقعات کرنیلیس کے ایمان لانے (باب ۱۰) سے پہلے وقوع پذیر ہوئے تھے۔
«پس جو لوگ اُس مصیبت سے پراگندہ ہو گئے تھے»وہ اِنجیل کی خوش خبری کو جگہ جگہ لے گئے۔
- فینیکے: یہ بحیرۂ روم کے شمال مشرقی ساحل کے ساتھ ساتھ تنگ سا علاقہ ہے جس میں صور اور صیدا (سیدون۔ جدید لبنان) کی بندرگاہیں بھی شامل ہیں۔
- کپرس (قبرص): شمال مشرقی بحیرۂ روم میں ایک بڑا جزیرہ۔
- کرینے: افریقہ کے شمالی ساحل (جدید لیبیا)
پر ایک بندرگاہ۔ البتہ وہ «یہودیوں کے سوا اَور کسی کو کلام نہ سناتے تھے»۔
۱۱: ۲۰، ۲۱ لیکن ایمان داروں میں سے کچھ «کپرسی اور کرینی تھے جو انطاکیہ» میں آ گئے۔ وہ یونانیوں)(۱)( کو بھی خوش خبری سناتے تھے۔ خدا اُن کی منادی پر برکت دیتا تھا۔ اور «بہت سے لوگ ایمان لا کر خداوند کی طرف رجوع ہوئے»۔ ایف۔ ڈبلیو۔ گرانٹ (Grant) کہتا ہے کہ «یہ بات نمایاں اور قابلِ غور ہے کہ یہاں افسرانہ نظام کا کوئی ذکر اذکار نہیں بلکہ اِس کی نفی نظر آتی ہے۔ یہاں پوری خدمت کے کام میں کسی کا نام نہیں بتایا گیا۔»
انطاکیہ میں مسیحیت کا متعارف ہونا کلیسیا کے فروغ اور ترقی میں ایک اہم قدم تھا۔ انطاکیہ شام کے ملک میں دریائے اورنتیس (Orontes) کے کنارے واقع تھا۔ شام فلستین کے شمال میں ہے۔ انطاکیہ کو رومی سلطنت کا تیسرا بڑا شہر مانا جاتا ہے۔ آج بھیاِس کو «دُنیائے قدیم کا پیرس» کہا جاتا ہے۔ بعد میں یہاں سے پولس اور اُس کے ساتھی اپنے تبلیغی سفروں پر روانہ ہوئے تاکہ اِنجیل کو غیر قوموں کے درمیان پھیلائیں۔
۱۱: ۲۲- ۲۴ اِس زبردست بیداری کی خبر جب یروشلیم کی کلیسیا کو پہنچی تو فیصلہ کیا گیا کہ رحم دل اور محبت بھرے برنباس کو انطاکیہ بھیجا جائے۔ اِس شخص نے ایک ہی نظر میں دیکھ لیا کہ خداوند اِن غیر قوموں میں بڑی قوت سے کام کر رہا ہے۔ چنانچہ اُس نے «اُن سب کو نصیحت کی کہ دلی ارادے سے خداوند سے لپٹے رہو» اور یوں اُن کی حوصلہ افزائی کی۔ کیسی اچھی بات ہے کہ ایسی نوزائیدہ کلیسیا کے پاس ایسے شخص کو بھیجا گیا جو «نیک مرد اور روح القدس اور ایمان سے معمور تھا»۔ اُس کے وہاں قیام کے دوران «بہت سے لوگ خداوند کی کلیسیا میں آ ملے»۔ مزید برآں یروشلیم کی کلیسیا کے ساتھ بھی اتحاد قائم اور مضبوط ہو گیا۔
۱۱: ۲۵، ۲۶ اب برنباس کو ترسُس کا سائول یاد آیا۔ برنباس ہی نے سائول کو یروشلیم میں رسولوں سے متعارف کرایا تھا۔ اُس وقت سائول کو یہودیوں کی سازِشوں سے بچانے کے لئے جلدی جلدی شہر سے روانہ کیا گیا تھا۔ تب سے وہ اپنے آبائی شہر ترسُس ہی میں قیام پذیر تھا۔ برنباس کو بڑی آرزو تھی کہ خدمت کے کام میں سائول کی حوصلہ افزائی کرے اور انطاکیہ کی کلیسیا اُس کی تعلیم سے فیض یاب ہو جائے۔ اِس لئے برنباس ترسُس کو چلا گیا اور سائول کو انطاکیہ میں لایا۔ یہ شان دار ٹیم سال بھر اُس کلیسیا میں کام کرتی رہی۔ دونوں مل کر «بہت سے لوگوں کو تعلیم دیتے رہے»۔
جے۔ اے۔ سٹوأرٹ (Stewart) یوں تبصرہ کرتا ہے:
«ایف۔ بی۔ مائیر (Meyer) نے کہا ہے، ’انطاکیہ مسیحی تاریخ میں ہمیشہ مشہور رہے گا کیونکہ متعدد گمنام اور غیر مخصوص شدہ شاگرد سائول کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر یروشلیم سے بھاگے اور جرأت کر کے یونانیوں کو خوش خبری سنائی اور یہودیت کی ابتدائی رسم کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایمان داروں کو اکٹھا کر کے کلیسیا تشکیل دی۔‘
اگر یہ ایمان دار کسی جدید کلیسیا سے گئے ہوتے، جس میں خدمت کا کام صرف ایک فردِ واحد کو سونپ دیا جاتا ہے تو کلیسیا کی تاریخ کا یہ فاتحانہ دَور کبھی تحریر نہ کیا جاتا۔ کیسا المیہ ہے کہ اوسط درجے کی کلیسیا میں روح القدس کی خدماتی نعمتیں چھپی اور خوابیدہ پڑی رہتی ہیں کیونکہ ’عام‘ ایمان داروں کو خدمت کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ جب تک ایمان داروں کے ہر گروہ کی نگہبانی کے لئے تنخواہ دار پاسبان موجود ہو گا تب تک ایک بات یقینی ہے کہ اِنجیل کی بشارت پوری دُنیا میں نہیں ہو گی۔ سارے رضاکار سنڈے سکول نگرانوں، سنڈے سکول اور بائبل کلاس کے اُستادوں اور عام مسیحی کارندوں کے لئے خدا کا شکر کریں۔ اگر اُن سب کو اُن کی خدمات کے عوض تنخواہیں دینا پڑتیں، تو بہت تھوڑی کلیسیائیں ہوتیں جو مالی لحاظ سے اپنا بوجھ اُٹھا سکتیں۔»
۱۱: ۲۷- ۳۰ اگرچہ انطاکیہ مرکز بن گیا جہاں سے خوش خبری غیر قوموں تک پہنچی تو بھی اُس نے یروشلیم کی کلیسیا کے ساتھ دلی اور پورے تعلقات ہمیشہ قائم رکھے۔ یروشلیم یہودیوں میں تبلیغ کے لئے مرکز تھا۔ ذیل کا واقعہ اِس اَمر کی وضاحت کرتا ہے۔
« اُنہی دنوں میں چند نبی یروشلیم سے انطاکیہ میں آئے۔» یہ نبی وہ ایمان دار تھے جن کو روح القدس نے یہ نعمت دی تھی کہ خدا کی طرف سے بولیں۔ اُن کو خدا سے مکاشفہ حاصل ہوتا تھا جسے وہ اِنسانوں کو پہنچا دیتے تھے۔ «اُن میں سے ایک نے جس کا نام اَگبُس تھا» پیش گوئی کی کہ «تمام دُنیا میں بڑا کال پڑے گا»۔ اور یہ کال قیصر «کلودیس کے عہد میں» پڑا۔ انطاکیہ کے شاگردوں نے بلا توقف فیصلہ کیا کہ «یہودیہ میں رہنے والے بھائیوں کی خدمت کے لئے کچھ بھیجیں»۔ یقینا یہ اِس بات کی بہت اثر انگیز گواہی تھی کہ یہودی اور غیر یہودی ایمان داروں کے درمیان دیوار گر رہی ہے اور کہ مسیح کی صلیب نے پرانی مخالفتیں مٹا دی ہیں۔ اِن شاگردوں میں خدا کا فضل ظاہر ہوا جنہوں نے یک دل ہو کر، بے ساختہ رضاکارانہ اور «اپنے اپنے مقدور کے موافق» دیا۔ ایف۔ ڈبلیو۔ گرانٹ (Grant) افسوس کے ساتھ کہتا ہے کہ «آج ہر ایک اپنے فاضل مال میں سے تھوڑا سا اور امیر ترین افراد تناسب کے لحاظ سے قلیل ترین مقدار دیتے ہیں۔»
یہ رقم «برنباس اور سائول کے ہاتھ بزرگوں کے پاس» بھیجی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کلیسیا کے تعلق سے بزرگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہودی تو بزرگوں کے تصور سے واقف تھے، اِس لئے کہ اُن کے عبادت خانوں میں بزرگ ہوتے تھے۔ ہمیں کچھ معلومات نہیں کہ یہ آدمی یروشلیم میں بزرگ یا ایلڈر کیسے بنے۔ غیر قوم کلیسیائوں میں بزرگوں کو رسول یا اُن کے نمائندے مقرر کرتے تھے (۱۴: ۲۳؛ ططس ۱: ۵)۔ بزرگوں کی لازمی صفات کا بیان ۱۔تیمتھیس ۳: ۱- ۷ اور ططس ۱: ۶- ۹ میں درج ہے۔
ج۔ ہیرودیس کی طرف سے ظلم و ستم اور اُس کی وفات (۱۲: ۱- ۲۳)
۱۲: ۱، ۲ کلیسیا پر شیطان کے تابڑ توڑ حملے جاری رہے۔ اِس دفعہ ظلم و ستم ہیرودیس بادشاہ کی طرف سے آیا۔ یہ ہیرودیس اگرپا اوّل تھا جو ہیرودیسِ اعظم کا پوتا تھا۔ اِس کو رومی شہنشاہ کلودیس نے یہودیہ کے حاکمِ اعلیٰ کے عہدے پر مامور کیا تھا۔ وہ موسیٰ کی شریعت کا پابند تھا۔ اُس نے یہودیوں کو خوش کرنے کے لئے بہت کچھ کیا۔ اِس پالیسی کی پیروی کرنے کی غرض سے اُس نے کلیسیا میں سے بعض لوگوں کو بہت پریشان کیا، یہاں تک کہ اُس نے «یوحنا کے بھائی یعقوب کو تلوار سے قتل کیا»۔ یہ وہی یعقوب ہے جو پطرس اور یوحنا کے ساتھ اُس پہاڑ پر موجود تھا جہاں خداوند کی صورت بدل کر نہایت جلالی ہو گئی تھی۔ اِسی کی ماں نے درخواست کی تھی کہ جب مسیح اپنی بادشاہی میں آئے تو اُس کے بیٹے اُس کے پہلو میں بیٹھیں۔
اِس باب میں اُن طریقوں کا دلچسپ مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے جو خدا اپنے لوگوں سے روا رکھتا ہے۔ یعقوب کو دشمن نے قتل کر دیا لیکن پطرس معجزانہ طور پر بچ گیا۔ اِنسانی عقل پوچھتی ہے کہ پطرس کی ایسی طرف داری کیوں کی گئی؟ لیکن ایمان خدا کی محبت اور حکمت میں تسلی پاتا ہے، کیونکہ جانتا ہے کہ
«جس بُرائی پر خدا برکت دیتا ہے
وہ ہمارے لئے بھلائی ہے،
اور بے برکت بھلائی، برائی،
اور غلط معلوم ہونے والی وہ
ساری باتیں درست ہیں،
جو خدا کی مرضی کے مطابق ہوں۔
» (فریڈرک ڈبلیو۔ فیبر ۔ Faber)
۱۲: ۳، ۴ یعقوب کے قتل پر یہودیوں نے ایسے جوش اور خوشی کا اِظہار کیا کہ ہیرودیس کو حوصلہ ہوا کہ پطرس کے ساتھ بھی یہی سلوک کرے۔ مگر اِس وقت تک عید فطیر کے دن آ گئے تھے اور مذہبی تہواروں کے دوران موت کی سزا دینا موزوں نہیں تھا۔ علاوہ ازیں یہودی اپنی مذہبی رسومات میں اِتنے مصروف ہوتے کہ اِس حمایت اور طرف داری کے کام کی صحیح قدر نہ کر سکتے۔ چنانچہ ہیرودیس نے حکم دیا کہ اِس اثنا میں پطرس کو قید میں رکھا جائے۔ رسول کو «نگہبانی کے لئے چار چار سپاہیوں کے چار پہروں میں رکھا» گیا، یعنی سولہ سپاہی اُس کی چوکیداری پر مامور تھے۔
۱۲: ۵ اُدھر یروشلیم کی کلیسیا پطرس «کے لئے بدل و جان خدا سے دعا کر رہی تھی»۔ اِس لئے بھی کہ یعقوب کی موت اُن کے ذہنوں میں بالکل تازہ تھی۔ جی۔ سی۔ مورگن (Morgan) کہتا ہے کہ «لڑکھڑاتی ہوئی دل سوز دعا کی قوت ہیرودیس، بلکہ جہنم سے بھی زیادہ طاقتور تھی۔»
۱۲: ۶- ۱۱ «ہیرودیس اُسے پیش کرنے کو تھا تو اُسی رات پطرس دو زنجیروں سے بندھا ہوا دو سپاہیوں کے درمیان سوتا تھا۔» کسی نے اِس نیند کو ’فتح کی جھپکی‘ کہا ہے۔ غالباً پطرس کو خداوند کا وعدہ یاد تھا کہ وہ عمر رسیدہ ہو گا (یوحنا ۲۱: ۱۸) اِس لئے جانتا تھا کہ ہیرودیس مجھے وقت سے پہلے نہیں مروا سکتا۔ اچانک «خداوند کا ایک فرشتہ» ظاہر ہوا۔ فرشتے نے «پطرس کی پسلی پر ہاتھ مار کر اُسے جگایا اور کہا کہ جلد اُٹھ»۔
اُس کی زنجیریں فوراً کھل کر گر پڑیں۔ فرشتے نے تیز اور چھوٹے جملوں میں پطرس سے کہا، «کمر باندھ اور اپنی جوتی پہن لے… اپنا چوغہ پہن کر میرے پیچھے ہو لے۔» پطرس سمجھا کہ رُؤیا دیکھ رہا ہوں۔ مگر فرشتے کے پیچھے ہو لیا۔ وہ قید خانے کے «پہلے اور دوسرے حلقے میں سے نکل» آئے اور «لوہے کے پھاٹک پر پہنچے»۔ «وہ آپ ہی اُن کے لئے کھل گیا۔» وہ چلتے ہوئے شہر کے ایک کوچہ کے سرے پر پہنچے اور فرشتہ نظروں سے غائب ہو گیا۔ اب پطرس کو «ہوش» آیا اور اُسے معلوم ہوا کہ یہ خواب نہیں ہے بلکہ خداوند نے معجزانہ مجھے «ہیرودیس کے ہاتھ سے چھڑا لیا» ہے اور یہودیوں کی سازش سے بچا لیا ہے۔
۱۲: ۱۲ پطرس کھڑا اِن باتوں پر غور کر رہا تھا کہ اُسے احساس ہوا کہ اُس کے ایمان دار ساتھی «اُس یوحنا کی ماں مریم کے گھر» میں «جو مرقس کہلاتا ہے» اُس کے لئے دعا کر رہے ہوں گے۔ یہ رات بھر کی دعائیہ میٹنگ تھی۔ اِس لئے کہ پطرس کے قید خانے سے نکلنے کا واقعہ رات کے آخری پہر میں پیش آیا ہو گا۔
۱۲: ۱۳- ۱۵ «پطرس نے پھاٹک … » کھٹکھٹایا اور کھلنے کا اِنتظار کرنے لگا۔ «رُدی (یونانی- گلاب) نام ایک لونڈی آواز سننے آئی۔» لیکن پطرس کی آواز سن کر اور پہچان کر اِتنی خوش ہوئی کہ دروازہ کھولنا بھول گئی! بلکہ خوشی کی خبر دینے دوڑ کر اندر گئی۔ جو لوگ ساری رات دعا مانگتے رہے تھے اُنہوں نے بھی سمجھا کہ لڑکی کا دماغ چل گیا ہے۔ «لیکن وہ یقین سے کہتی رہی کہ یونہی ہے» یعنی پطرس رسول دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ «اُس کا (نگہبان) فرشتہ ہو گا۔»
اکثر اُن ایمان داروں پر ناراضی کا اِظہار کیا جاتا ہے کہ دعا تو مانگ رہے تھے، لیکن ایمان کے بغیر۔ اور جب اُن کی دعائوں کا جواب ملا تو حیرت زدہ رہ گئے۔ لیکن دوسروں کی تنقید کرنے کے بجائے ہمیں زبردست تسلی ہونی چاہئے کہ خدا ایسی کمزور ایمان کی دعائوں کا بھی جواب دیتا ہے۔ ہم بھی اکثر کم اعتقادی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
۱۲: ۱۶، ۱۷ اِس دوران پطرس دروازہ کھٹکھٹاتا رہا۔ بالآخر جب «اُنہوں نے (پھاٹک کی) کھڑکی کھولی» اور اُس نے اندر قدم رکھا تو اُن کے تمام شکوک رفع ہو گئے اور اُن کی خوشی کی اِنتہا نہ رہی۔ اُس نے اُن کو چپ کرایا اور اپنی معجزانہ رہائی کا مختصر حال سنایا۔ اُن سے کہا کہ «یعقوب اور بھائیوں کو اِس بات کی خبر کر دینا۔» یہ یعقوب غالباً حلفئی کا بیٹا تھا۔ اِس کے بعد وہ وہاں سے «روانہ ہو کر دوسری جگہ چلا گیا۔» یہ جاننا ممکن نہیں کہ اِس موقعے پر وہ کہاں گیا۔
۱۲: ۱۸، ۱۹ جب صبح ہوئی اور سپاہیوں نے دیکھا کہ پطرس غائب ہے تو اُن بدنصیبوں کی جان پر بن آئی۔ ہیرودیس کے لئے بھی یہ زخم آور تجربہ تھا کہ اُس کی ساری چالیں ناکام ہو گئی تھیں۔ پہرے والوں نے جو کچھ بتایا اُس میں سے ایک بات بھی قابلِ یقین نہ تھی بلکہ اُن کے فضول عذروں نے بادشاہ کے غصے کے لئے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ چنانچہ اُس نے «اُن کے قتل کا حکم دیا» اور اپنے زخم سہلانے کے لئے «یہودیہ کو چھوڑ کر قیصریہ میں جا رہا۔»
۱۲: ۲۰ کسی نامعلوم وجہ پر «ہیرودیس صور اور صیدا کے لوگوں سے نہایت ناخوش تھا»۔ یہ دونوں شہر بحیرۂ روم کے ساحل پر تجارتی بندرگاہیں تھیں۔ اِن شہروں کے باشندوں نے ہیرودیس کے قیصریہ میں قیام سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کوشش کی کہ اُس کے ساتھ صلح ہو جائے کیونکہ اُن کو یہودیہ سے گیہوں درآمد کرنے پر اِنحصار کرنا پڑتا تھا۔ اِس مقصد کے لئے اُنہوں نے «بادشاہ (ہیرودیس) کے حاجب (ذاتی خادم) بلستُس» کو اپنے ساتھ ملایا اور اُس کی معرفت سفارتی تعلقات بحال کرنے کی درخواست کی۔
۱۲: ۲۱- ۲۳ ہیرودیس ایک مقررہ دن پوری شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ تخت پر جلوہ افروز ہوا اور لوگوں سے کلام کرنے لگا۔ لوگ دیوانہ وار نعرے لگانے لگے کہ «یہ تو خدا کی آواز ہے، نہ اِنسان کی!» اُس نے اِس الٰہی تعظیم کو قبول کرنے سے قطعاً اِنکار نہ کیا اور «خدا کی تمجید (بھی) نہ کی۔» اِس لئے «اُسی دم خدا کے فرشتہ نے اُسے مارا» یعنی کسی خوف ناک بیماری میں مبتلا کر دیا «اور وہ کیڑے پڑ کر مر گیا۔» یہ ۴۴ء کا واقعہ ہے۔
اِس طرح وہ شخص جس نے یہودیوں کو خوش کرنے کے لئے یعقوب کو قتل کرایا تھا اُس ہستی کے ہاتھوں مارا گیا جو روح اور بدن دونوں کو ہلاک کر سکتا ہے۔ ہیرودیس نے جوبویا سو کاٹا۔
د۔ پولس کا پہلا بشارتی دَورہ: گلتیہ (۱۲: ۲۴- ۱۴: ۲۸)
۱۲: ۲۴ اِسی اثنا میں اِنجیل کی خوش خبری پھیلتی چلی گئی۔ خدا اِنسان کے غضب کو اپنی ستائش کا باعث بناتا اور غضب کے بقیہ سے کمر بستہ ہوتا ہے (زبور ۷۶: ۱۰)۔ «خداوند اُمتوں کے منصوبوں کو ناچیز بنا دیتا ہے۔ خداوند کی مصلحت ابد تک قائم رہے گی» (زبور ۳۳: ۱۰، ۱۱)۔
۱۲: ۲۵ برنباس اور سائول انطاکیہ سے اِمداد لے کر یروشلیم آئے تھے۔ وہ «اپنی خدمت پوری کر کے» انطاکیہ کو لوٹے۔ اور «یوحنا کو جو مرقس کہلاتا» تھا ساتھ لیتے گئے۔ یہ شخص برنباس کے رِشتے کا بھائی تھا۔ اِسی مرقس نے بعد میں دوسری انجیل لکھی۔
یہ جاننا ممکن نہیں کہ یعقوب کے قتل، پطرس کی قید یا ہیرودیس کی موت کے وقت برنباس اور سائول یروشلیم میں تھے یا نہیں۔
بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ باب ۱۳ اعمال کی کتاب میں ایک زبردست موڑ ہے بلکہ بعض ایک تو اِس کو اعمال کی کتاب کی جلد دوم کا آغاز قرار دیتے ہیں۔ اب پولس رسول نے حتمی طور پر نمایاں درجہ حاصل کر لیا تھا۔ اور شام میں انطاکیہ وہ مرکز بن گیا تھا جہاں سے اِنجیل کی شعائیں غیر قوموں تک پھیلنے لگیں۔
۱۳: ۱ جیسا کہ ہم نے باب ۱۱ میں دیکھا تھا کہ «انطاکیہ» میں ایک «کلیسیا» قائم تھی۔ وہاں ایک شخص کو خادمِ دین یا پاسٹر مقرر کرنے کے بجائے، اِس جماعت میں نعمتوں کی کثرت تھی۔ بیان ہوا ہے کہ وہاں کم سے کم پانچ «نبی اور معلم» تھے۔ پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ نبی وہ شخص ہوتا تھا جس کو روح القدس نے یہ نعمت دی ہوتی تھی کہ وہ خدا سے مکاشفہ حاصل کرتا اور اِس کی تعلیم دوسروں کو دیتا تھا۔ «نبی» خدا کے نمائندہ ہو کر کلام کرتے تھے۔ اور کئی دفعہ آنے والے واقعات پہلے ہی بتا دیتے تھے۔ «معلم» وہ شخص ہوتا تھا جس کو روح القدس نے خدا کے کلام کی وضاحت اور تشریح کرنے کی نعمت دی ہوتی تھی۔ وہ سادہ اور قابلِ فہم طریقے سے کلام دوسروں کو سمجھا سکتے تھے۔
کلیسیا کے نبیوں اور معلموں کے نام ذیل میں دیئے جاتے ہیں:
- برنباس: ہمارا اِس سے پہلے بھی تعارف ہو چکا ہے۔ وہ مسیح کا زبردست خادم اور پولس کا وفادار ہم خدمت تھا۔ یہاں اُس کا نام پہلے غالباً اِس لئے دیا گیا ہے کہ وہ ایمان لانے یا مسیح کی خدمت کرنے میں سب سے پرانا تھا۔
- شمعون جو کالا کہلاتا ہے: اِس کے نام سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیدائش کے اِعتبارسے یہودی تھا۔ غالباً وہ افریقہ کی یہودی جماعت سے تعلق رکھتا تھا یا اُس نے نام «کالا» اِس لئے اپنا لیا تھا کہ غیر قوموں کے ساتھ کام کرنے میں سہولت رہتی تھی۔ اور ہو سکتا ہے کہ اُس کی رنگت بھی کالی ہو۔ اُس کے متعلق اَور کچھ معلوم نہیں۔
- لُوکیس کرینی: غالباً یہ کرینے کے اُن آدمیوں میں سے تھا جو پہلے انطاکیہ میں آ کر خداوند یسوع کی منادی کرتے تھے (۱۱: ۲۰)۔
- مناہیم: اِس کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ «چوتھائی ملک کے حاکم ہیرودیس کے ساتھ پلا تھا۔» یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک ایسا شخص جو ہیرودیس اِنتپاس جیسے شریر آدمی کے ساتھ پرورش پاتا رہا وہ مسیحیت کے اِبتدائی نومریدوں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہے۔ «چوتھائی ملک کے حاکم» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کی مملکت کے ایک چوتھائی حصے پر حکومت کرتا تھا۔
- سائول: اگرچہ فہرست میں اُس کا نام آخر میں ہے، مگر یہی سائول مجسم سچائی بن گیا۔ «آخر اوّل ہو جائیں گے۔»
اِن پانچ آدمیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اِبتدائی کلیسیا متحد اور یک دل تھی اور اُن کے درمیان رنگ و نسل کے اِمتیازات کا نام و نشان نہ تھا۔ ایک نیا معیار قائم ہو گیا تھا۔ یہ نہیں کہ تم کون ہو، بلکہ یہ کہ تم کس کے ہو؟
۱۳: ۲ یہ نبی اور معلم کچھ وقت دعا اور روزے میں گزارنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ غالباً وہ ساری کلیسیا کے ساتھ مل کر ایسا کر رہے تھے۔ سیاق و سباق سے واضح ہوتا ہے کہ «خداوند کی عبادت کر رہے تھے» کا مطلب دعا اور شفاعت کرنا ہے۔ روزہ رکھنے میں وہ بدن کی جائز ضرورت سے اِحتراز کرتے تھے تاکہ زیادہ توجہ کے ساتھ روحانی باتوں میں مصروف رہ سکیں۔
وہ دعا مانگنے کو کیوں اکٹھے ہوئے تھے؟ کیا یہ فرض کرنا نامناسب ہو گا کہ اُنہوں نے یہ میٹنگ اِس لئے بلائی کہ منادی اور تبلیغ کے کام کے سلسلے میں اُن کے دلوں پر بڑا بوجھ تھا؟ مندرجات سے تو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ رات بھر کی دعائیہ میٹنگ تھی، لیکن محسوس یہی ہوتا ہے کہ یہ آج کل کی دعائیہ میٹنگ سے زیادہ سنجیدہ اور طویل قسم کی میٹنگ تھی۔
جب وہ دعا مانگ رہے تھے تو روح القدس نے واضح اور حتمی ہدایت کی کہ «برنباس اور سائول کو اُس کام کے واسطے مخصوص کر دو جس کے واسطے مَیں نے اُن کو بلایا ہے۔» ضمناً یہ واقعہ اِس حقیقت کا حتمی ثبوت بھی ہے کہ روح القدس ایک شخصیت ہے۔ اگر وہ صرف ایک ’تاثیر‘ ہوتا تو یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اِس قسم کی زُبان استعمال کرتا۔ روح القدس نے یہ پیغام کس طرح نبیوں اور معلموں کو پہنچایا؟ اگرچہ کوئی صاف جواب نہیں دیا گیا لیکن عین ممکن ہے کہ نبیوں یعنی شمعون، لُوکیس یا مناہیم میں سے کسی ایک کی معرفت بولا ہو۔
یہاں برنباس کا نام پہلے اور سائول کا بعد میں آیا ہے۔ لیکن جب وہ انطاکیہ واپس آئے تو ترتیب اِس کے اُلٹ تھی۔
روح القدس کے کردار کی اہمیت کو واضح کرنے کے سلسلے میں یہ آیت زبردست عملی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ اِبتدائی کلیسیا کی ہدایت اور راہنمائی کرتا تھا اور کہ شاگرد اُس کی راہنمائی کے سلسلے میں کیسے حساس تھے۔
۱۳: ۳ روح القدس کے اِس طرح اپنا ارادہ ظاہر کرنے کے بعد بھی اُن لوگوں نے روزہ اور دعا جاری رکھی۔ پھر اُن تینوں (شمعون، لوکیس اور مناہیم) نے برنباس اور سائول پر ہاتھ رکھے۔ یہ «مخصوصیت» یعنی آرڈینشن (Ordination) کا باضابطہ اور منظور شدہ عمل نہیں تھا جیسا کہ آج کی مسیحی دُنیا میں کیا جاتا ہے کہ کلیسیا کا کوئی بڑا عہدے دار کسی ماتحت یا نائب کو کلیسیائی عہدہ عطا کرتا ہے۔ یہ تو صرف اُن کی باہمی رفاقت کا اظہار تھا کہ روح القدس نے اِن دونوں کو بھی اُسی قسم کے کام کے لئے بلایا تھا جو یہ نبی اور معلم کر رہے تھے۔ نئے عہدنامے میں یہ تصور موجود نہیں کہ مخصوصیت کی خاص رسم ادا کی جائے اور کسی شخص کو کلیسیائی فرائض اور «سیکرامنٹ» ادا کرنے کا ایسا اِختیار عطا کیا جائے کہ اُس کے سوا کوئی دوسرا اُن کو ادا کر ہی نہیں سکتا۔ بارن ہائوس (Barnhouse) اِس نکتے پر یوں تبصرہ کرتا ہے:
«ہمارے دَورِ جدید کے طریقہ کار میں ایک زبردست غلطی یہ ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ قیادت کے لئے لازمی خصائص صرف ایک آدمی میں ہوں۔ اِس طرح ممکن ہے کہ کسی کلیسیا میں سیکڑوں ممبران ہوں مگر پاسبان صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ منادی بھی کرے، تسلی و تشفی بھی دے، وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے متن (رومیوں ۱۲: ۶- ۸) میں آٹھ نعمتوں کا ذکر ہے۔ اور دراصل اِن میں سے سات کو مخصوص شدہ پاسٹر کے کام سمجھا جاتا ہے جب کہ آٹھویں نعمت جماعت کا کام ہے اور یہ جو جماعت کے لئے نعمت بچی ہے وہ کون سی ہے؟ وہ ہے بل ادا کرنا۔ یہاں کوئی گڑبڑ ہے۔
شاید کوئی پوچھے کہ کیا مَیں یہ رائے دے رہا ہوں کہ عام مسیحیوں کو وعظ کرنا چاہئے؟ بے شک۔ اگر کسی عام رُکنِ کلیسیا کو صحائف پر گرفت حاصل ہے تو اُس کو اِس نعمت کو بُروئے کار لا کر ہر موقعے پر منادی کرنی چاہئے۔ عام اراکین کی تحریک کی ترقی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اور یہ صحیح سمت میں ایک قدم ہے یعنی ہم نئے عہدنامے کے طریقے پر کام کرنے کی طرف واپس جا رہے ہیں۔»
یاد رکھنا چاہئے کہ اِس موقعے سے پہلے بھی برنباس اور سائول آٹھ برس سے خداوند کے کام میں مشغول تھے۔ وہ مسیح کی خدمت کرنے میں نوآموز نہیں تھے۔ اُن کو پہلے ہی «زخمی ہاتھوں کی مخصوصیت» کا تجربہ تھا۔ اب انطاکیہ میں اُن کے ہم خدمت بھائی صرف اُن کے ساتھ ایک ہونے کا اِظہار کر رہے تھے کہ اُن کو بھی یہ خاص فرض سونپا گیا تھا کہ اِنجیل کو غیر قوموں تک پہنچائیں۔
«اُنہیں رخصت کیا۔» اِن الفاظ کا اصل مطلب ہے «اُن کو جانے دیا۔» یا اُن کو کام کے لئے «آزاد کر دیا۔»
۱۳: ۴ اِس آیت سے پولس کا پہلا تبلیغی دَورہ شروع ہو جاتا ہے۔ اِس دورے کا بیان ۱۴: ۲۶ تک پھیلا ہوا ہے۔ اِس کا تعلق زیادہ تر ایشیائے کوچک میں تبلیغی کام سے ہے۔ دوسرا تبلیغی دَورہ خوش خبری کو یونان لے گیا۔ تیسرے دورے کے دوران پولس ایشیائے کوچک اور یونان کی کلیسیائوں کے پاس دوبارہ گیا، لیکن اِس کا زیادہ تعلق آسیہ کے صوبے اور اِفسس کے شہر سے تھا۔ پولس کی بشارتی خدمت کا عرصہ پندرہ برسوں پر محیط ہے۔
(پولس کے دَوروں کا بیان کرتے ہوئے وہ جن جن مقامات پر گیا، جب کسی کا ذکر پہلی دفعہ آئے گا تو ہم اُسے جلی حروف میں لکھیں گے)۔
شام کے شہر انطاکیہ سے مسیح کے یہ دونوں بے باک اور جواں مرد خادم سلواکیہ کو گئے۔ یہ انطاکیہ سے کوئی ۲۵ کلومیٹر دُور ایک سمندری بندرگاہ تھی۔ یہاں سے وہ جہاز پر کپرس کے جزیرے کو چلے گئے۔
۱۳: ۵ کپرس کے مشرقی ساحل پر سلمیس کے مقام پر اُترنے کے بعد وہ «یہودیوں کے عبادت خانوں میں خدا کا کلام سنانے لگے»۔ عبادت خانوں کا رواج تھا کہ کسی بھی یہودی آدمی کو کتابِ مقدس (پرانا عہدنامہ) سے پڑھنے یا اِس کی تشریح کرنے کا موقع دیا جاتا تھا۔ اِس وقت یوحنا مرقس اُن کا خادم تھا۔ پہلے یہودی عبادت خانوں میں جا کر برنباس اور سائول خدا کا یہ فرمان پورا کر رہے تھے کہ خوش خبری پہلے یہودی اور پھر غیر قوم کے لئے ہے۔
۱۳: ۶ سلمیس سے شروع کر کے کلام سناتے سناتے وہ جزیرے کے مغربی کنارے پر پافُس کے مقام پر پہنچے۔ سلمیس اُس جزیرے کا سب سے بڑا شہر اور پافس دارالحکومت تھا۔
۱۳: ۷، ۸ یہاں اُن کی ملاقات «ایک یہودی جادو گر اور جھوٹے نبی» سے ہوئی جس کا نام بریسوع (یسوع یا یشوع کا بیٹا) تھا۔ کسی نہ کسی طرح اِس جادُوگر نے جزیرے کے اِنتظامی افسر یا رومی صوبہ دار (لوقا اُس زمانے کی رومی سلطنت کے عہدوں یا منصبوں کے نام ٹھیک ٹھیک بتاتا ہے) سرگیس پولس سے اچھے تعلقات اُستوار کر لئے تھے۔ اِس افسر کو «صاحب ِتمیز» یعنی عاقل اور دانا بتایا گیا ہے۔ اِس صوبے دار نے برنباس اور سائول کو اپنے پاس بلایا کیونکہ وہ خدا کا کلام سننا چاہتا تھا، مگر جادوگر نے مداخلت کر کے روکنے کی کوشش کی۔
آیت ۸ میں اُس کا نام الیماس بمعنی «جادُو گر» یا «عقل مند» دیا گیا ہے۔
۱۳: ۹، ۱۰ سائول کو احساس ہو گیا کہ سرگیس پولس حق کا متلاشی ہے اور جادو گر حق کا دشمن۔ اِس لئے اُس جادُوگر کو کھلے عام اور نہایت سخت الفاظ میں ملامت کی۔ مبادا کسی کو شک ہو کہ سائول جسم کی قوت سے بول رہا ہے، واضح کر دیا گیا ہے کہ اُس نے «روح القدس سے بھر کر» یہ بات کہی۔ اُس نے جادُوگر پر «غور سے نظر کی» اور اُسے جتا دیا کہ « تُو … تمام مکاری اور شرارت سے بھرا ہوا» ہے۔ سائول نے اُس کے نام بریسوع سے بھی دھوکا نہیں کھایا۔ اُس نے الیماس کے چہرے کا نقاب نوچ پھینکا اور بتا دیا کہ یہ «ابلیس کا فرزند» اور «ہر طرح کی نیکی کا دشمن ہے» اور خداوند کی سیدھی راہوں کو بگاڑنے سے باز نہیں آتا۔
۱۳: ۱۱ پھر اُس اِختیار سے بولتے ہوئے جو اُس کو رسول ہونے کے باعث حاصل تھا سائول نے اعلان کیا کہ الیماس اندھا ہو کر «کچھ مدت تک» سورج کو نہ دیکھے گا۔ چونکہ وہ دوسروں کو (مثلاً صوبے دار کو) روحانی تاریکی میں رکھنے کی کوشش کرتا تھا اِس لئے وہ جسمانی اَندھے پن کی سزا پائے گا۔ «اُسی دم کُہر اور اندھیرا اُس پر چھا گیا» اور وہ اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مارنے لگا اور «ڈھونڈتا پھرا کہ کوئی اُس کا ہاتھ پکڑ کر لے چلے»۔
الیماس اسرائیلی قوم کی تصویر پیش کرتا ہے جو نہ صرف خداوند یسوع کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے بلکہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ اِس کے نتیجے میں خدا نے مناسب اور جائز طور پر اسرائیل کو اندھا کر دیا ہے۔ لیکن فقط «کچھ مدت تک»۔ بالآخر قوم کا ایک تائب بقیہ یسوع کی طرف رجوع کر کے اُس کو مسیحِ موعود مان لے گا اور ایمان لائے گا۔
۱۳: ۱۲ صاف معلوم ہوتا ہے کہ صوبہ دار خدا کی طرف سے اِس معجزانہ ضرب سے متاثر ہوا۔ لیکن وہ خداوند کی تعلیم سے زیادہ متاثر ہوا جو اُس کو برنباس اور سائول کی معرفت دی گئی۔ وہ سچے دل سے خداوند یسوع پر ایمان لے آیا۔ یہ پہلے بشارتی دَورے میں فضل کا پہلا پھل تھا۔
غور کریں کہ اِس بیان (آیت ۹) میں لوقا سائول کا غیر یہودی نام پولس استعمال کرنا شروع کرتا ہے۔ اِس نام پولس کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ اِنجیل غیر اقوام کو روز افزوں زیادہ سے زیادہ پہنچنے لگی ہے۔
۱۳: ۱۳ یہ حقیقت کہ اب پولس نے نمایاں جگہ حاصل کر لی ہے، اِس کا اِظہار اِن الفاظ سے کیا گیا ہے کہ «پولس اور اُس کے ساتھی»۔ پافُس سے وہ جہاز میں سوار ہو کر شمال مغرب میں پمفولیہ کے پرگہ میں آئے۔ پمفولیہ ایشیائے کوچک کے جنوبی ساحل پر ایک رومی صوبہ تھا۔ پرگہ اُس کا دارالحکومت تھا اور گیارہ کلومیٹر اندرونِ ملک دریائے سیستروس (Cestrus)پر واقع تھا۔
جب وہ پرگہ میں پہنچے تو یوحنا مرقس اُن سے الگ ہو کر یروشلیم کو واپس چلا گیا۔ شاید اُسے یہ خیال پسند نہیں آیا کہ اِنجیل کو غیر قوموں تک لے جایا جائے۔ پولس نے یوحنا مرقس کے اِس اِنحراف کو ایسی شدت سے محسوس کیا کہ اپنے دوسرے دَورے میں اُس کو ساتھ لے جانے سے اِنکار کیا۔ اِس وجہ سے پولس اور برنباس میں ایسی تکرار ہوئی کہ جہاں تک مستقبل میں مسیحی خدمت کا تعلق ہے دونوں کی راہیں الگ الگ ہو گئیں (دیکھئے ۱۵: ۳۶- ۳۹)۔ آخر وقت آیا کہ مرقس نے پولس کا اعتماد دوبارہ حاصل کر لیا (۲۔تیمتھیس۴: ۱۱)۔
پرگہ میں قیام اور کام کے بارے میں مزید تفاصیل نہیں دی گئیں۔
۱۳: ۱۴، ۱۵ اُن کی اگلی منزل پسدیہ کا انطاکیہ تھی۔ یہ مقام پرگہ سے تقریباً ایک سو ساٹھ کلومیٹر شمال میں تھا۔ صلیب کے اِن دونوں نقیبوں نے ایک دفعہ پھر «سبت کے دن عبادت خانہ» کا رُخ کیا۔ نبیوں کی کتاب کے پڑھنے کے بعد «عبادت خانے کے سرداروں نے» دیکھا کہ یہ یہودی ہیں تو اُن کو بولنے کی دعوت دی کہ «اے بھائیو! اگر لوگوں کی نصیحت کے واسطے تمہارے دل میں کوئی بات ہو تو بیان کرو۔» عبادت خانوں میں اِنجیل کا بیان کرنے کی یہ آزادی زیادہ عرصہ جاری نہیں رہنی تھی۔
۱۳: ۱۶ پولس اِنجیل کی منادی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ چنانچہ اُس نے کھڑے ہو کر عبادت خانے میں موجود لوگوں سے کلام کیا۔ اُس کا عام طریقۂ کار یہ تھا کہ پہلے یہودی تاریخ کو بنیاد بناتا تھا۔ پھر اپنے سامعین کو اُن واقعات تک لاتا تھا جن کا تعلق مسیح کی زندگی اور خدمت سے ہے۔ پھر خاص زور دے کر مسیح کی قیامت کا بیان کرتا تھا۔ اور اعلان کرتا تھا کہ اُسی نجات دہندہ کے وسیلے سے گناہوں کی معافی ہے۔ آخر میں اُس کو ردّ کرنے کے سنگین نتائج سے آگاہ کرتا تھا۔
۱۳: ۱۷ پیغام کا آغاز اِس بات سے ہوتا ہے کہ خدا نے اِسرائیل کو چن لیا کہ زمین پر اُس کی اُمت ہو۔ پھر جلد ہی بیان ہوتا ہے کہ «یہ اُمت ملکِ مصر میں پردیسیوں کی طرح رہتی تھی۔» مگر خدا نے اپنا فضل اُس پر بڑھایا اور اپنے زبردست ہاتھ سے اُسے فرعون کے جبرو استبداد سے چھڑا لایا۔
۱۳: ۱۸ خدا «چالیس برس تک بیابان میں اُن کی عادتوں کی برداشت کرتا رہا۔» جس لفظ کا ترجمہ «برداشت کرتا رہا» کیا گیا ہے، متن اور سیاق و سباق کے لحاظ سے یہ ترجمہ درست ہے مگر یہ لفظ اُس لفظ سے مشتق ہے جو زیادہ مثبت مفہوم رکھتا ہے۔ یعنی کسی کی ضروریات پوری کرنا۔ بنی اِسرائیل کے بڑبڑاتے رہنے کے باوجود خداوند یقینا اُن کی ضروریات پوری کرتا ہے۔
۱۳: ۱۹- ۲۲ «تخمیناً ساڑھے چار سو برس۔» یہاں پولس جس عرصے کا ذکر کرتا ہے وہ ماضی میں بزرگانِ قوم کے زمانے تک پہنچتا ہے اور اِس میں قاضیوں کا دَور بھی شامل ہے۔
ملک ِکنعان میں داخل ہو جانے کے بعد خدا نے «اُن میں قاضی مقرر کئے۔» یہاں تک کہ «سموئیل نبی کا زمانہ» آ گیا۔ اُس وقت بنی اِسرائیل نے دوسری قوموں کی طرح «بادشاہ کے لئے درخواست کی»۔ «خدا نے بنیمین کے قبیلے میں سے ایک شخص سائول قیس کے بیٹے کو چالیس برس کے لئے اُن پر (بادشاہ) مقرر کیا۔» اپنی نافرمانی کی وجہ سے سائول کو تخت سے معزول کر دیا گیا اور اُس کی جگہ دائود کو اُن کا بادشاہ بنایا گیا۔ خدا نے دائود کی بے حد تعریف کی ہے کہ «دائود میرے دل کے موافق» ہے۔ «وہی میری تمام مرضی کوپورا کرے گا۔»
۱۳: ۲۳ دائود کے موضوع سے پولس بڑی آسانی اور تیزی سے یسوع کے موضوع پر آ جاتا ہے اور بتاتا ہے کہ یسوع دائود کی نسل سے تھا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ «پولس کی منادی میں ساری شاہراہیں مسیح تک لے جاتی ہیں۔» غالباً ہم اُس ہمت اور جرأت کی پوری داد نہیں دے سکتے جو اِسرائیل کے سامنے یہ بات کہنے کے لئے درکار تھی کہ «خدا نے اپنے وعدہ کے موافق … ایک نجات دہندہ یعنی یسوع کو بھیج دیا۔» اسرائیلی کبھی بھی یسوع کو اِس روشنی میں نہیں دیکھتے تھے!
۱۳: ۲۴ اِس مختصر سے تعارف کے بعد پولس یوحنا بپتسمہ دینے والے کی خدمت کا بیان کرتا ہے۔ مسیح کے آنے سے پہلے یعنی اُس کی عام اور علانیہ خدمت کے آغاز سے پہلے «یوحنا نے اِسرائیل کی تمام اُمت کے سامنے توبہ کے بپتسمہ کی منادی کی»۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُس نے مسیحِ موعود کے آنے کا اعلان کیا اور لوگوں سے کہا کہ اُس کے آنے کی تیاری کے لئے توبہ کرو اور اِس توبہ کے اِظہار کے لئے دریائے یردن میں بپتسمہ لو۔
۱۳: ۲۵ یوحنا نے لمحہ بھر کو بھی یہ تاثر نہیں دیا تھا کہ وہ مسیحِ موعود ہے۔ اپنی خدمت کے اِختتام تک یوحنا تاکید سے کہتا رہا کہ « مَیں وہ نہیں» جس کے متعلق نبی کہتے آئے ہیں بلکہ اُس کے «پائوں کی جوتیوں کا تسمہ مَیں کھولنے کے لائق نہیں»۔ وہ تو صرف اُس کے آنے کی خبر دے رہا تھا۔
۱۳: ۲۶ اب پولس نے اپنے سامعین کو «اے بھائیو! ابرہام کے فرزندو» کہہ کر مخاطب کیا۔ اِس طرح اُن کو یاد دلایا کہ «نجات کا کلام» پہلے اِسرائیلی قوم کے پاس بھیجا گیا۔ یسوع اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس آیا تھا اور شاگردوں کو بھی ہدایت کی گئی تھی کہ پہلے اِن ہی کو پیغام سنایا جائے۔
۱۳: ۲۷، ۲۸ لیکن «یروشلیم کے رہنے والوں اور اُن کے سرداروں نے اُسے نہ پہچانا» کہ یہی یسوع وہ مسیحِ موعود ہے جس کا قوم مدتوں سے اِنتظار کر رہی تھی۔ اُن کو احساس نہ ہوا کہ یہی یسوع ہے جس کے بارے میں نبیوں نے لکھا تھا۔ وہ ہر سبت کو پاک صحائف میں سے مسیحِ موعود کے بارے میں پیش گوئیاں سنتے تو ضرور تھے، لیکن اُن کو ناصرت کے یسوع کے ساتھ منسلک نہیں کرتے تھے۔ اِس کے برعکس وہ خود اِن نبوتوں کو پورا کرنے کا وسیلہ بنے۔ اِس لئے کہ «اگرچہ اُس (یسوع) کے قتل کی کوئی وجہ نہ ملی تو بھی اُس پر فتویٰ دے کر اُنہوں (اسرائیلیوں) نے پیلاطس سے اُس کے قتل کی درخواست کی» اور اُس کے ہاتھوں یسوع کو صلیب دلا دی۔
۱۳: ۲۹ اِس آیت میں یہودیوں نے یسوع کے ساتھ شروع سے جو سلوک روا رکھا اُس کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اُن کی طرف سے آخری اقدام کا ذکر کیا گیا ہے کہ ارمتیہ کے یوسف اور نیکدیمس نے بڑی محبت سے خداوند یسوع کی لاش کو کفنایا دفنایا۔
۱۳: ۳۰، ۳۱ یہ حقیقت خوب تصدیق شدہ تھی کہ «خدا نے اُسے (یسوع کو) مُردوں میں سے جِلایا۔» جو لوگ گلیل سے یسوع کے ہمراہ یروشلیم میں آئے تھے، وہ تاحال زندہ تھے اور اُن کی گواہی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔
۱۳: ۳۲، ۳۳ اِس کے بعد رسول نے بتایا کہ مسیحِ موعود کے بارے میں پرانے عہدنامے میں «جو وعدہ … باپ دادا سے کیا گیا تھا» وہ یسوع میں پورا ہو چکا ہے۔ پہلے تو یہ وعدہ بیت لحم میں اُس کی پیدائش میں پورا ہوا۔ پولس مسیح کی پیدائش کو زبور ۲: ۷ کی تکمیل سمجھتا ہے جہاں خدا کہتا ہے کہ « تُو میرا بیٹا ہے۔ آج تُو مجھ سے پیدا ہوا۔» اِس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسیح اُس وقت خدا کا بیٹا ہوا جب وہ بیت لحم میں پیدا ہوا تھا۔ وہ ازل سے خدا کا بیٹا ہے۔ لیکن وہ اپنے تجسم میں دُنیا پر خدا کا بیٹا ظاہر ہوا۔ زبور ۲: ۷ کو مسیح کی ازلی اِبنیت کے اِنکار کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
۱۳: ۳۴ اِس آیت میں خداوند یسوع کی قیامت کو منظرِ عام پر لایا گیا ہے۔ خدا نے اُس کو «اِس طرح مردوں میں سے» جِلایا «کہ پھر کبھی نہ مرے۔» اِس کے ساتھ ہی پولس یسعیاہ ۵۵: ۳ سے اِقتباس کرتا ہے کہ « مَیں دائود کی پاک اور سچی نعمتیں تمہیں دوں گا»۔ عام قاری کو یہ اِقتباس سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ یسعیاہ کی اِس آیت اور مسیح کی قیامت میں کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ نجات دہندہ کا جی اُٹھنا دائود کے ساتھ عہد کے ساتھ کیا تعلق رکھتا ہے؟
خدا نے دائود کے ساتھ ایک ابدی تخت اور دائمی بادشاہی کا اور اِس تخت پر ہمیشہ تک بیٹھنے کے لئے نسل کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن «دائود تو مر گیا اور اُس کا بدن خاک میں مل گیا»۔ دائود کے بعد بادشاہی کچھ عرصے تک چلتی رہی، لیکن اب چار سو سال سے بھی زیادہ ہونے کو آئے کہ بنی اِسرائیل کا کوئی بادشاہ نہ تھا۔ دائود کی نسل بھی یسوع ناصری کے زمانے تک چلی آ رہی تھی۔ یسوع (اپنے زمینی باپ) یوسف کے وسیلے سے دائود کے تخت کا قانونی وارث تھا۔ یوسف اُس کا حقیقی نہیں بلکہ قانونی باپ تھا اور خداوند یسوع اپنی ماں مریم کے وسیلے سے دائود کی نسل سے تھا۔
پولس اِس حقیقت پر زور دے رہا ہے کہ «پاک اور سچی نعمتوں» کا وعدہ دائود سے کِیا گیا تھا۔ اب وہ وعدہ مسیح میں پورا ہو چکا ہے۔ وہ دائود کی نسل سے ہے اور اُسے ابھی دائود کے تخت پر بیٹھنا ہے۔ چونکہ وہ «مردوں میں سے جی اُٹھا ہے» اور ایک لااِنتہا زندگی کی قدرت میں جیتا ہے اِس لئے دائود کے ساتھ خدا کے وعدے کی اَبدی خصوصیات مسیح میں یقینی ہو جاتی ہیں۔
۱۳: ۳۵ مندرجہ بالا بات آیت ۳۵ میں مزید تاکیدی ہو جاتی ہے۔ یہاں پولس زبور ۱۶: ۱۰ کا اِقتباس کرتا ہے کہ «تُو اپنے مقدس کے سڑنے کی نوبت پہنچنے نہ دے گا»۔ دوسرے لفظوں میں چونکہ خداوند یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے، اب موت کا اُس پر کوئی اِختیار نہیں۔ وہ دوبارہ نہیں مرنے کا اور نہ اُس کے بدن کے سٹرنے کی نوبت آئے گی۔
۱۳: ۳۶، ۳۷ اگرچہ زبور ۱۶: ۱۰ کے الفاظ دائود نے کہے تھے لیکن وہ اپنے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ «دائود تو اپنے وقت میں خدا کی مرضی کا تابع دار رہ کر سو (مر) گیا» اور دفن ہوا اور اُس کا بدن خاک میں مل گیا۔ لیکن خداوند یسوع تیسرے دن مُردوں میں سے «جی اُٹھا»۔ اور اُس کے بدن کی سڑنے تک نوبت نہ پہنچی۔
۱۳: ۳۸ مسیح کا جی اُٹھنا اُس کے (نجات کے) کام پر مُہرِ صداقت تھا۔ اِسی کام کی بنیاد پر پولس یہ اِعلان کر سکا کہ «گناہوں کی معافی» ایک موجودہ حقیقت ہے۔ اِن الفاظ پر غور کریں کہ «اُسی (مسیح) کے وسیلہ سے تم کو گناہوں کی معافی کی خبر دی جاتی ہے۔»
۱۳: ۳۹ لیکن بات صرف اِتنی ہی نہ تھی۔ پولس اب ساری باتوں سے مفت اور کامل طور سے راست باز ٹھہرائے جانے کا اِعلان بھی کر سکتا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو «موسیٰ کی شریعت» کبھی پیش نہ کر سکتی تھی۔
راست ٹھہرانا خدا کا کام ہے۔ وہ اُن بے دین گنہگاروں کو راست باز قرار دیتا ہے جو اُس کے بیٹے کو خداوند اور نجات دہندہ قبول کرتے اور مانتے ہیں۔ یہ ایک قانونی عمل ہے جو خدا کے ارادے میں وقوع پذیر ہوتا ہے اور جس سے گنہگار کو تمام الزامات سے بری قرار دیا جاتا ہے۔ خدا بجا طور پر قصوروار گنہگار کو بَری کر سکتا ہے کیونکہ صلیب پر خداوند یسوع مسیح کے عوضی کام کے وسیلے سے گناہوں کا پورا کفارہ ادا ہو چکا ہے، یعنی اُن کی پوری سزا اُٹھائی جا چکی ہے۔
سرسری نظر میں معلوم ہوتا ہے کہ «موسیٰ کی شریعت» چند باتوں میں راست باز ٹھہرا سکتی ہے۔ لیکن مسیح کے وسیلے سے اِنسان اَور بہت سی باتوں میں بھی راست باز ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہاں یہ تعلیم ہرگز نہیں دی گئی۔ شریعت کبھی کسی کو راست باز نہیں ٹھہرا سکتی۔ صرف ملزم ٹھہراتی ہے۔ پولس یہاں یہ کہہ رہا ہے کہ مسیح پر ایمان کے وسیلے سے اِنسان ہر اُس قصور اور الزام سے «بری ہوتا ہے» جو اُس پر لگایا جا سکتا ہے __ یہ بریت «موسیٰ کی شریعت» کے ماتحت کبھی حاصل نہ ہو سکتی تھی۔
۱۳: ۴۰، ۴۱ بہت سے لوگ خدا کی اِس بڑی پیش کش کو ٹھکرا دیتے ہیں کہ ابھی نجات پائیں۔ پیغام کے آخر میں رسول ایسے تمام لوگوں کو سنجیدگی سے خبردار کرتا ہے۔ وہ حبقوق ۱: ۵ (اور شاید یسعیاہ ۲۹: ۱۴ اور اَمثال ۱: ۲۴- ۳۱ کے کچھ ٹکڑوں) کا اِقتباس کرتا ہے جہاں خدا اپنے کلام کی «تحقیر کرنے والوں» کو خبردار کرتا ہے کہ تم پر ایسا زبردست غضب نازل کروں گا کہ اگر مَیں تمہیں پہلے سے بتائوں تو تم «کبھی اُس کا یقین نہ کرو گے»۔ پولس کے زمانے میں اِس بات کا اِطلاق یروشلیم کی بربادی پر ہو سکتا تھا۔ جو ۷۰ء میں ہوئی۔ مگر اِس میں خدا کا وہ ابدی غضب بھی شامل ہے جو اُس کے بیٹے کو ردّ کرنے والوں کے لئے ہے۔
۱۳: ۴۲، ۴۳ جب عبادت خانے میں عبادت ختم ہو گئی تو «بہت سے یہودی اور خدا پرست نومرید یہودی پولس اور برنباس کے پیچھے ہو لئے»۔ وہ رسولوں کی باتوں میں گہری دلچسپی لینے لگے تھے۔ خداوند کے دونوں خادموں نے اُن متلاشیوں کی زبردست حوصلہ افزائی کی کہ «خدا کے فضل پر قائم رہو۔»
۱۳: ۴۴ ایک ہفتہ بعد پولس اور برنباس اُسی عبادت خانے میں دوبارہ آئے اور جہاں بات ختم کی تھی وہیں سے دوبارہ شروع کی۔ «تقریباً سارا شہر خدا کا کلام سننے کو اِکٹھا ہوا۔» اِن دو دین دار اور جاں نثار مبلغوں کی خدمت نے بے شمار لوگوں پر گہرا اثر کیا۔
۱۳: ۴۵ لیکن اِس عجیب اور انوکھے پیغام کی مقبولیت سے «یہودی … حسد سے بھر گئے»۔ اُنہوں نے پولس کے پیغام کی کھلم کھلا مخالفت کرنا شروع کر دی۔ یہاں تک کہ اُن کے خلاف نہایت ناشائستہ زبان استعمال کرنے لگے۔
۱۳: ۴۶، ۴۷ پولس اور برنباس خوف زدہ ہونے والے نہ تھے۔ اُنہوں نے دلیری سے بیان کیا کہ ہم کو یہ فرض سونپا گیا ہے کہ یہ پیغام سب سے پہلے یہودیوں کو سنائیں۔ البتہ اب جب کہ تم نے اِس پیغام کو ردّ کر دیا ہے اور اپنے آپ کو مجرم اور «ہمیشہ کی زندگی کے ناقابل» ٹھہرا لیا ہے، اِس لئے اب ہم (رسول) یہی پیغام لے کر «غیر قوموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں»۔ اگر یہودی مذہب سے جدا ہونے کے لئے کسی سند کی ضرورت تھی تو اِس کے لئے یسعیاہ ۴۹: ۶ کے الفاظ کافی ہیں۔ دراصل اِس آیت میں خدا مسیحِ موعود سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ « مَیں نے تجھ کو غیر قوموں کے لئے نور مقرر کیا تاکہ تُو زمین کی اِنتہا تک نجات کا باعث ہو۔» لیکن خدا کا روح مسیحِ موعود کے خادموں کو اِجازت دیتا ہے کہ اِن الفاظ کا اِطلاق اپنے اُوپر کریں۔ اِس لئے کہ وہ اُس کا وسیلہ ہیں کہ غیر قوموں کے لئے نور اور نجات لائیں۔
۱۳: ۴۸ غیر قوموں کے لئے نجات کے اعلان سے جہاں یہودی غضب ناک ہو گئے وہاں «غیر قوم والے» جو وہاں موجود تھے بے حد «خوش ہوئے اور خدا کے کلام کی» جو اُنہوں نے سنا تھا «بڑائی کرنے لگے اور جتنے ہمیشہ کی زندگی کے لئے مقرر کئے گئے تھے ایمان لے آئے۔» یہ آیت خدا کے اِختیارِ کُل کے مطابق اُس کے چنائو کا سادہ سا بیان ہے۔ بائبل مقدس حتمی طور پر سکھاتی ہے کہ بعضوں کو خدا نے اِبتدائے آفرینش سے پیشتر چن لیا کہ مسیح میں ہوں۔ اور ساتھ ہی یکساں زور کے ساتھ یہ بھی سکھاتی ہے کہ اِنسان اخلاقی لحاظ سے آزاد اور خود مختار ہے۔ اگر وہ یسوع مسیح کو خداوند اور نجات دہندہ قبول کر لے تو نجات پائے گا۔ خدا کا چنائو اور اِنسان کی ذمہ داری دونوں ہی پاک کلام کی سچائیاں ہیں اور دونوں پر یکساں زور دینا ضروری ہے۔ ایک کو کم اور دوسری کو بڑھا کر بیان کرنا واجب نہیں۔ اگرچہ دونوں میں تصادم یا تنائو معلوم ہوتا ہے لیکن یہ تنائو صرف اِنسانی ذہن میں ہوتا ہے، خدا کے ذہن میں ہرگز نہیں ہوتا۔
اِنسان اپنے چنائو یا مرضی سے مجرم ٹھہرتا یا ہلاک ہوتا ہے۔ اِس میں خدا کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اگر تمام بنی نوعِ اِنسان کو وہی کچھ ملے جس کے وہ حق دار ہیں تو سب ہلاک ہوں گے۔ لیکن خدا اپنے فضل میں بعضوں کو بچا لیتا ہے۔ کیا اُس کو ایسا کرنے کا حق ہے؟ بے شک ہے۔ الٰہی چنائو کے اِختیارِ کُل کا عقیدہ وہ تعلیم ہے جو خدا کو اُس کا صحیح مقام دیتی ہے کہ وہ کائنات کا حاکم ہے جو جیسا چاہے کر سکتا ہے۔ اور وہ کبھی ایسا کام کرنے کا چنائو نہیں کرتا جو ناراست یا بے رحمی کا کام ہو۔ اگر ہم اَرڈمن (Erdman) کی بات یاد رکھیں تو اِس موضوع پر ہماری بہت سی مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ
«خدا اِختیارِ کل رکھتا ہے۔ لیکن اِسے اُس اِنسان کو مجرم ٹھہرانے کے لئے کبھی استعمال نہیں کیا جاتا جو نجات پانے کے لائق ہو بلکہ اُن اِنسانوں کی نجات کے لئے سرگرمِ عمل ہے جو ہلاک ہونے کے لائق تھے۔»
۱۳: ۴۹، ۵۰ یہودیوں کی مخالفت کے باوجود «اُس تمام علاقہ میں خدا کا کلام پھیل گیا»۔ اِس سے مخالفین اَور بھڑک اُٹھے اور مزید رُکاوٹیں ڈالنے لگے۔ «یہودیوں نے (بعض) خدا پرست اور عزت دار عورتوں …کو اُبھارا۔» یہ عورتیں یہودی مذہب کی نومرید تھیں اور یہودی جماعت میں عزت دار تھیں۔ یہودیوں نے اُن کو مبشروں کے خلاف اُکسایا۔ علاوہ ازیں اُنہوں نے شہر کے رئیسوں کو بھی اپنے شریر مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ اور اِس طرح ظلم و ستم کا ایسا طوفان کھڑا کر دیا کہ «پولس اور برنباس کو» زبردستی «اپنی سرحدوں سے نکال دیا»۔
۱۳: ۵۱، ۵۲ خداوند کی ہدایت (لوقا ۹: ۵؛ ۱۰: ۱۱) کے مطابق رسول «اپنے پائوں کی خاک اُن کے سامنے جھاڑ کر اِکُنیُم کو گئے»۔ لیکن مسیحیوں نے اِس واقعے کو پسپائی یا شکست سے تعبیر نہ کیا کیونکہ لکھا ہے کہ «شاگرد خوشی اور روح القدس سے معمور ہوتے رہے۔» اِکُنیُم کا شہر انطاکیہ سے جنوب مشرق میں ایشیائے کوچک میں واقع تھا۔ آج کل اِس کو قونیہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
۱۴: ۱، ۲ دوسرے مقامات کی طرح جہاں یہودیوں کا عبادت خانہ تھا اِکُنیم میں بھی پولس اور برنباس کو منادی کرنے کی اِجازت دی گئی۔ اُس زمانے میں یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ باہر سے آنے والے کو بولنے کا موقع دیا جاتا تھا۔ خدا کا روح کلام کے ساتھ اِس قوت کے ساتھ موجود تھا کہ «یہودیوں اور یونانیوں (نومریدوں) دونوں کی ایک بڑی جماعت (خداوند یسوع پر) ایمان لے آئی»۔ اِس بات سے اُن «یہودیوں» کو جو ایمان نہیں لائے تھے سخت غصہ اور طیش آیا۔ چنانچہ اُنہوں نے «غیر قوموں کے دلوں میں جوش پیدا کر کے اُن کو بھائیوں کی طرف سے بدگمان کر دیا۔» اعمال کی کتاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان نہ لانے والے یہودی رسولوں کے لئے اکثر و بیشتر مصیبت اور ظلم و ستم کا باعث بنتے رہے۔ اگرچہ کئی دفعہ وہ خود رسولوں کو سزا نہیں دیتے تھے مگر دوسروں کو ضرور اُکساتے اور اُبھارتے رہتے تھے۔ وہ اپنے ناپاک ارادوں کو پورا کرنے کے لئے غیر قوموں کو استعمال کرنے میں اُستاد تھے۔
۱۴: ۳ گو جانتے تھے کہ مشکل اور مصیبت کے بادل اُٹھ رہے ہیں مگر یہ مبلغین «خداوند کے بھروسے پر دلیری سے کلام کرتے» رہے۔ خدا نے اُن کو نشان اور عجیب کام کرنے کی توفیق عطا کی اور یوں تصدیق کر دی کہ یہ کلام اور پیغام اُس کی طرف سے ہے۔ «نشان اور عجیب کام» معجزوں کے لئے دو مختلف الفاظ ہیں۔ لفظ «نشان» کا مطلب ہے کہ معجزہ کوئی سبق سکھاتا ہے جب کہ «عجیب کام» حیرت اور دہشت کا احساس پیدا کرتا ہے۔
۱۴: ۴- ۷ شہر میں ایک تنائو پیدا ہو گیا۔ فطری طور پر کچھ لوگ ایک طرف اور کچھ دوسری طرف ہو گئے۔ «بعض یہودیوں کی طرف ہو گئے اور بعض رسولوں کی طرف۔» بالآخر ایمان نہ لانے والے «غیر قوم والے اور یہودی» مصمم ارادہ کر کے «رسولوں» (یہاں یہ لفظ مبشروں کا مترادف ہے) پر چڑھ آئے۔ سنگساری سے بچنے کے لئے وہ «لکااُنیہ کے شہروں لُسترہ اور دِربے … کو بھاگ گئے۔» لُکااُنیہ وسطی ایشیائے کوچک کا ایک علاقہ تھا۔ لیکن اُن کے جوش، سرگرمی اور اشتیاق میں کوئی کمی نہ آئی۔ وہ اِس سارے علاقے میں «خوش خبری سناتے رہے۔»
جب پولس اور برنباس کو سنگساری کا خطرہ تھا تو وہ « لُکااُنیہ …کو بھاگ گئے۔» لگتا ہے کہ دوسرے موقعوں پر وہ خطرے کے باوجود اُسی جگہ پر رہے۔ کیا وجہ ہے کہ بعض نازک موقعوں پر وہ بھاگ گئے اور دوسرے موقعوں پر ڈٹے رہے؟ کوئی واضح سبب تو نظر نہیں آتا۔ اعمال کی کتاب میں سب سے بڑا کنٹرول کرنے والا اصول تو روح القدس کی ہدایت و راہنمائی ہے۔ یہ مرد خداوند کی گہری اور قریبی رفاقت اور رابطے میں زندگی گزارتے تھے۔ وہ اُس میں قائم تھے۔ اُن کو الٰہی ارادے اور مرضی کی عجیب طور سے خبر ہو جاتی تھی۔ اُن کے نزدیک یہ بات سب سے اہم تھی۔ اُنہیں دینی رسم و رواج اور مرتب ضابطوں کی فکر نہیں ہوتی تھی۔
۱۴: ۸، ۹ لُسترہ میں اِن مبشروں کو ایک ایسا آدمی ملا جو جنم کا لنگڑا تھا۔ وہ پولس کی باتوں کو غیر معمولی دلچسپی سے سن رہا تھا۔ کسی طرح پولس کو اِحساس ہو گیا کہ «اُس میں شفا پانے کے لائق ایمان ہے۔» اگرچہ ہم کو نہیں بتایا گیا کہ پولس کو اِس بات کا کیسے پتا چلا، لیکن ہمارا ایمان ہے کہ سچے مبشر کو یہ توفیق عطا ہوتی ہے کہ جن لوگوں کے درمیان کام کر رہا ہے، اُن کی روحوں کی حالت کا اِمتیاز کر سکے۔ وہ بتا سکتا ہے کہ وہ معمولی طور سے متجسس ہیں یا گناہ کی قائلیت کے باعت اُن کی روح کو واقعی دکھ ہے۔
۱۴: ۱۰- ۱۲ جونہی پولس نے اُس آدمی کو حکم دیا کہ «اپنے پائوں کے بل سیدھا کھڑا ہو جا … وہ اُچھل کر چلنے پھرنے لگا»۔ چونکہ یہ معجزہ سب کے سامنے ہوا تھا، اور چونکہ پولس نے بڑی آواز سے بولنے کے باعث بہت توجہ حاصل کر لی تھی اِس لئے لوگوں پر بے حد اثر ہوا، بلکہ بڑی تحریک چل پڑی کہ «برنباس کو زیوس … اور پولس کو ہرمیس» کے طور پر پوجا جائے اور سجدہ کیا جائے۔ (زیوس اور ہرمیس اُن کے دیوتا تھے)۔ لوگوں کو واقعی یقین ہو گیا کہ اِن مبشروں کی شکل میں ہمارے دیوتا ہمارے پاس اُتر آئے ہیں۔ وجہ تو نہیں بتائی گئی لیکن اُنہوں نے برنباس کو بڑا دیوتا سمجھا۔ چونکہ پولس کلام کر رہا تھا اِس لئے اُسے ہرمیس قرار دیا جو زیوس کا ایلچی مانا جاتا تھا۔
۱۴: ۱۳ یہاں تک کہ «زیوس کے … مندر کا پجاری» بھی قائل ہو گیا کہ دیوتا اُترے ہیں۔ وہ تیزی سے مندر سے نکلا۔ اور بیل اور پھولوں کے ہار لے کر اپنے «شہر … کے پھاٹک» پر پہنچ گیا تاکہ اُن کے لئے بڑی قربانی کرے۔ یہ ساری تحریک ہر قسم کے دبائو اور ظلم سے بھی بڑھ کر مسیحی ایمان کے لئے ایک عیارانہ خطرہ تھی۔ ایک کامیاب مسیحی کے لئے ظلم اور ایذا اِتنا خطرہ نہیں ہوتی جتنا لوگوں کا یہ رُجحان کہ مسیح کے بجائے اُس کے خادم کو توجہ کا مرکز بنا لیا جائے۔
۱۴: ۱۴- ۱۷ پہلے تو برنباس اور پولس سمجھے نہیں تھے کہ بھیڑ کیا کر رہی ہے۔ اِس لئے کہ وہ لکااُنیہ کی بولی نہیں جانتے تھے۔ لیکن جونہی اُن کو سمجھ آئی کہ لوگ ہمیں دیوتا مان کر ہماری پوجا کرنا چاہتے ہیں تو اُنہوں نے «اپنے کپڑے پھاڑے»۔ یہ افسوس اور احتجاج کا برملا اِظہار تھا۔ پھر وہ «لوگوں میں جا کودے» اور اُنہیں ایسی بے وقوفی سے روکنے لگے، اور اُن کو بتانے لگے کہ ہم دیوتا نہیں بلکہ «تمہارے ہم طبیعت اِنسان ہیں» یعنی لکااُنیہ کے دوسرے اِنسانوں کی طرح ہم بھی اِنسان ہیں۔ ہمارا مقصد تو صرف لوگوں کو خوش خبری دینا ہے کہ بے جان بتوں جیسی «باطل چیزوں سے کنارہ کر کے … زندہ خدا کی طرف پھرو»۔
۱۴: ۱۸ اِس پیغام کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ لوگ بادِلِ نخواستہ خداوند کے اِن خادموں کے لئے قربانی کرنے سے باز آئے۔
۱۴: ۱۹- ۲۰ پسدیہ کے اِنطاکیہ اور اکُنیُم سے بعض یہودی پولس اور برنباس کا پیچھا کرتے ہوئے لُسترہ میں آ پہنچے۔ وہ غیر یہودی آبادی کو اِن مبشروں کے خلاف بھڑکانے میں کامیاب ہوئے۔ جو بھیڑ اُن کو دیوتا مان کر تعظیم دینا چاہتی تھی اُسی بھیڑ نے «پولس کو سنگسار کیا اور اُس کو مُردہ سمجھ کر شہر کے باہر گھسیٹ لے» گئی۔
کلام کے اِس حصے پر کیلی (Kelly) کا تبصرہ بالکل برمحل ہے:
«اُس عقیدت اور قدم بوسی سے اِنکار جو اہلِ لُسترہ اُن کی نذر کرنے کو تھے اِنسان کے لئے نہایت ناگوار ہوتا ہے اور اُن کے بارے میں جن کو وہ ابھی ابھی سجدہ کرنے کو تیار تھے نفرت انگیز باتوں کا یقین کرنے پر مائل کرتا ہے۔ اِنسان خود کو اِنسانی مدح اور ستائش سے سرفراز کرتے ہیں۔ اور اگر اِس سے روکیں تو بہت جلد ایسی نفرت پیدا ہوتی ہے جو اُن کی موت پر منتج ہوتی ہے جو خدائے واحد کی تعظیم اور بڑائی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہاں بھی یہی ہوا۔ اہلِ ملیتے (جو پولس کو خونی آدمی سمجھے تھے مگر دیوتا ماننے لگے، اعمال ۲۸: ۶) کی طرح اپنا خیال بدلنے کے بجائے اُنہوں نے یہودیوں کی تہمت پر کان دھرے (حالانکہ عام طور سے وہ یہودیوں کو حقیر اور قابلِ نفرت سمجھتے ہیں) اور اُس شخص کو جھوٹا نبی قرار دے کر سنگسار کیا جس کو ابھی ابھی دیوتا مان کر قربانی پیش کرنا چاہتے تھے۔ اور اُسے مردہ سمجھ کر گھسیٹا اور شہر سے باہر پھینک دیا۔»
کیا سنگساری کے باعث پولس واقعی «مر گیا» تھا؟ اگر یہ وہی واقعہ ہے جس کا ذکر ۲۔کرنتھیوں ۱۲: ۲ میں کیا گیا ہے تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ اُس کی بحالی ایک معجزہ تھی۔ «مگر جب شاگرد اُس کے گردا گرد آ کھڑے ہوئے تو وہ اُٹھ کر شہر میں آیا» یعنی اُن شاگردوں کے ساتھ اِسی لُسترہ شہر میں آ گیا «اور دوسرے دن برنباس کے ساتھ دِربے کو چلا گیا۔»
۱۴: ۲۱ اِن مبشروں کو اپنی ذاتی حفاظت کا کوئی خیال نہیں تھا۔ یہ بات اِس حقیقت سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ «وہ اُس شہر میں خوش خبری سنا کر … لُسترہ … کو واپس آئے۔» لُسترہ وہی جگہ ہے جہاں پولس کو سنگسار کیا گیا تھا۔
یہاں تیمتھیس کا ذکر نہیں آیا، ممکن ہے کہ اِسی موقعے پر وہ پولس کی منادی کے باعث ایمان لایا ہو۔ جب رسول اگلی دفعہ لُسترہ آیا تو تیمتھیس مسیح پر ایمان لا چکا تھا اور «بھائیوں میں نیک نام تھا» (۱۶: ۱، ۲)۔ البتہ پولس بعد میں اُس کو «ایمان کے لحاظ سے میرا سچا فرزند» (۱۔تیمتھیس ۱: ۲) کہتا ہے۔ مگر اِس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ پولس نے اُس کو مسیح کے لئے جیتا تھا۔ وہ پولس کی زندگی اور خدمت کے نمونے کی پیروی کرنے کے باعث بھی سچا فرزند ٹھہر سکتا تھا۔
جب لُسترہ میں اُن کا کام پورا ہو گیا تو یہ مبشر دوبارہ اِکُنیم اور پسدیہ کے اِنطاکیہ میں آئے جہاں پہلے کلیسیائیں قائم کی گئی تھیں۔ اِس دفعہ اُن کا مقصد ایمان داروں کی تقویت کرنا تھا۔ وہ صرف خوش خبری کی منادی کرنے اور روحوں کو نجات دہندہ کے لئے جیتنے پر اِکتفا نہیں کرتے تھے۔ اُن کے لئے یہ تو کام کا صرف آغاز ہوتا تھا۔ اِس کے بعد وہ ایمان داروں کو اپنے نہایت پاک ایمان میں مضبوط کرنے اور تعمیر کرنے پر توجہ دیتے تھے۔ اور خصوصیت سے اُن کو کلیسیا کے بھید اور خد ا کے پروگرام میں اِس کی اہمیت کی تعلیم دیتے تھے۔ اَرڈمن (Erdman) بیان کرتا ہے کہ
«ایک صحیح مبشر کا پروگرام یہ ہوتا ہے کہ ایسی کلیسیائیں قائم کرے جو اپنا اِنتظام خود چلا سکیں، اپنے آپ کو خود سنبھال سکیں اور خود اِنجیل کو پھیلا سکیں۔ پولس کا مقصد اور عمل ہمیشہ یہی رہا۔»
۱۴: ۲۲ ایمان میں نوعمروں کی مزید دیکھ بھال وہ اِسی طرح کرتے تھے کہ «شاگردوں کے دلوں کو مضبوط» کیا جائے اور خدا کے کلام کی تعلیم دے کر مسیحیوں کے ایمان کو پختہ کیا جائے۔ پولس اِس عمل کی تفصیل کُلسیوں ۱: ۲۸، ۲۹ میں بیان کرتا ہے، «ہم ہر ایک شخص کو نصیحت کرتے اور ہر ایک کو کمال دانائی سے تعلیم دیتے ہیں تاکہ ہم ہر شخص کو مسیح میں کامل کر کے پیش کریں۔ اور اِسی لئے مَیں اُس کی اُس قوت کے موافق جاں فشانی سے محنت کرتا ہوں جو مجھ میں زور سے اثر کرتی ہے۔»
دوم، وہ اُن کو نصیحت کرتے تھے کہ «ایمان پر قائم رہو۔» یہ نصیحت اُس زمانے میں وسیع پیمانے پر ایذارسانی کے پیش نظر نہایت باموقع تھی۔ اِس نصیحت کے ساتھ یہ یاددہانی بھی شامل ہوتی تھی کہ «ضرور ہے کہ ہم بہت مصیبتیں سہہ کر خدا کی بادشاہی میں داخل ہوں۔» یہاں خدا کی بادشاہی کی مستقبل کی صورت کی طرف اِشارہ ہے، جب ایمان دار مسیح کے جلال میں شریک ہوں گے۔ ایک شخص نئی پیدائش کے وسیلے سے ہی خدا کی بادشاہی میں داخل ہوتا ہے۔ ظلم و ستم اور مصیبتیں سہنا نجات کا باعث ہرگز نہیں ہے۔ البتہ جو موجودہ وقت میں ایمان کے وسیلے سے خدا کی بادشاہی میں داخل ہوتے ہیں اُن کے لئے وعدہ ہے کہ مستقبل کے جلال کا راستہ مصیبتوں سے بھرا ہوا ہے۔ «ہم اُس کے ساتھ دُکھ اُٹھائیں تاکہ اُس کے ساتھ جلال بھی پائیں» (رومیوں ۸: ۱۷ ب)۔
۱۴: ۲۳ اُس وقت اِن مبشروں نے «ہر ایک کلیسیا میں اُن کے لئے بزرگوں کو مقرر کیا»۔ اِس سلسلے میں کئی مشاہدات پیش کئے جا سکتے ہیں۔
- نئے عہدنامے کے بزرگ (ایلڈر) خدا پرست اور پختہ آدمی ہوتے تھے جومقامی کلیسیا میں روحانی قیادت کو بروئے کار لاتے تھے۔ اُن کو بزرگ اور نگہبان کے نام بھی دیئے گئے ہیں۔
- اعمال کی کتاب میں کلیسیا کے پہلے پہل قیام کے موقعے پر بزرگ مقرر نہیں کئے جاتے تھے بلکہ جب رسول دوسری دفعہ کلیسیا میں جاتے تھے تو اُس وقت یہ کام سرانجام دیا جاتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں اِس درمیانی وقفے میں اُن افراد کو ظاہر اور نمایاں ہونے کا موقع مل جاتا تھا جن کو روح القدس نے بزرگ مقرر کیا ہوتا تھا۔
- بزرگوں کو رسول اور اُن کے نمائندے مقرر کرتے تھے۔ اُس وقت تک ابھی نیا عہد نامہ لکھا نہیں گیا تھا کہ بزرگوں کی اہلیت کے بارے میں واضح ہدایات مل سکتیں۔ رسول اہلیت کے لئے تمام خصوصیات کو جانتے تھے۔ اور وہ اُن آدمیوں کو پہچاننے کے قابل تھے جو کلامِ پاک کی شرائط پر پورا اُترتے تھے۔
- آج رسول موجود نہیں کہ بزرگوں کو مقرر کریں۔ البتہ ۱۔تیمتھیس باب ۳ اورططس باب ۱ میں بزرگوں کی اہلیت کی شرائط موجود ہیں۔ اِس لئے ہر مقامی جماعت کو اِس قابل ہونا چاہئے کہ اُن افراد کو پہچانے جو خدا کی شرائط کو پورا کرتے ہوں کہ بھیڑوں کے نائب گلہ بان مقرر ہو سکیں۔
پولس اور برنباس نے «روزہ سے دعا کر کے اُنہیں (ایمان داروں کو) خداوند کے سپرد کیا»۔ یہ بڑی غیر معمولی بات معلوم ہوتی ہے کہ کلیسیائیں اِتنے تھوڑے عرصے میں قائم کی جا سکتیں۔ اُن کو رسولوں سے تعلیم پانے کا بہت تھوڑا وقت ملا۔ اِس کے باوجود وہ خداوند کے ساتھ اِتنے شاندار طریقے سے چلنے لگیں اور خود مختار ہو کر کام کرنے لگیں۔ اِس کا جواب خدا کے روح القدس کی زبردست قدرت میں ہے۔ یہ قوت اور قدرت پولس اور برنباس جیسے آدمیوں میں ظاہر ہوتی تھی۔ جہاں کہیں وہ جاتے تھے لوگ خدا کے کلام سے متاثر ہوتے تھے۔ لوگوں کو اُن کی زندگیوں میں حقیقت اور سچائی نظر آتی تھی۔ جو منادی وہ کرتے تھے اُس کی توثیق اُن کی اپنی زندگیوں سے ہوتی تھی۔ اور اِس دوہری گواہی کا اثر بے حساب ہوتا تھا۔
آیات ۲۱- ۲۳ رسولوں کے طریقۂ کار کا پتا دیتی ہیں __ خوش خبری کی منادی، نومریدوں کو تعلیم دینا، کلیسیائیں قائم کرنا اور اُن کو مضبوط و مستحکم کرنا۔
۱۴: ۲۴- ۲۶ پسدیہ کے علاقے میں سے گزرنے کے بعد یہ مشنری سفر کرتے ہوئے پمفولیہ میں پہنچے جو جنوب میں ہے۔ اور پرگہ کا دوبارہ دَورہ کرتے ہوئے وہ سمندری بندرگاہ اتلیہ آئے جہاں سے جہاز میں سوار ہو کر شام کے شہر انطاکیہ پہنچے۔ اِس طرح اُنہوں نے اپنا پہلا تبلیغی سفر تمام کیا۔ اِسی انطاکیہ میں وہ «اُس کام کے لئے جو اُنہوں نے اب پورا کیا خدا کے فضل کے سپرد کئے گئے تھے»۔
۱۴: ۲۷ جب اُنہوں نے اِنطاکیہ میں کلیسیا کو جمع کیا اور اپنی تبلیغی کاوشوں کا حال بتایا تو کیسا خوشی کا موقع ہو گا! اِن دونوں عظیم آدمیوں نے مسیحی اِنکساری کے ساتھ بیان کیا کہ «خد نے ہماری معرفت کیا کچھ کیا اور یہ کہ اُس نے غیر قوموں کے لئے ایمان کا دروازہ کھول دیا» ہے۔ بیان یہ نہیں کہ ہم نے خدا کے لئے کیا کِیا ہے بلکہ اُس کو پسند آیا کہ ہمارے وسیلے سے یہ کام سر انجام دے۔
۱۴: ۲۸ انطاکیہ میں «وہ شاگردوں کے پاس مدت تک رہے»۔ اندازہ ہے کہ یہ مدت ایک سے دو سال تک تھی۔
بشارتی خدمت کی حکمت ِعملی
یہ بات کیسی حوصلہ افزا اور ولولہ انگیز ہے کہ دُنیا کے ایک گمنام جیسے کونے میں رہنے والے گمنام سے شاگردوں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے جو دُنیا بھر میں خوش خبری پھیلانے کی رُؤیا سے سرشار تھا اِس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اُن میں سے ہر ایک یہی محسوس کرتا تھا کہ یہ براہِ راست میرا کام ہے اور ہر ایک نے خود کو اِسی مقصد کے لئے پورے طور پر وقف کر دیا۔
تبلیغ کا زیادہ تر کام مقامی ایمان داروں نے سرانجام دیا۔ اور اِس کے ساتھ ساتھ اپنے روزمرہ کے فرائض سے بھی غفلت نہیں برتی۔ وہ اپنے گرد و نواح، پاس پڑوس اور ملنے جلنے والوں سے خوش خبری یوں بیان کرتے تھے جیسے دوستوں میں بات چیت ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں رسول اور دوسرے افراد شہر شہر، علاقہ علاقہ اور ملک ملک گھومتے ، انجیل کی منادی کرتے اور کلیسیائیں قائم کرتے تھے۔ وہ دو دو یا اِس سے ذرا بڑے گروہوں میں نکلتے تھے۔ بعض اوقات کوئی نوجوان رُکن زیادہ عمر والے رُکن کے ہمراہ جاتا تھا، مثلاً تیمتھیس، پولس کے ساتھ گیا تھا۔
بنیادی طور پر دو طریقے اپنائے جاتے تھے، شخصی تبلیغ اور گروہی تبلیغ۔ جہاں تک گروہ، یا عوام الناس کے درمیان منادی کرنے کا تعلق ہے تو یہ اکثر فی البدیہہ ہوتی اور بعض اوقات مقامی صورتِ حال یا بحران کے نتیجے میں ایسا کرنے کا موقع نکل آتا تھا۔
«اعمال کی کتاب میں جتنی بھی منادی اور تبلیغ کا حال درج ہے، وہ ایسے حالات میں ہوئی جو مبشر یا مبلغ کے لئے پہلے سے وعظ کی تیاری کرنے میں مانع تھے۔ اِن میں سے ہر موقع غیر متوقع تھا۔» سی۔اے۔ کوٹس(Coates)۔
ای۔ ایم۔ بائونڈز (Bounds) کے بقول اُن کی بشارت اور تبلیغ ایک گھنٹے کی کارگزاری نہیں تھی بلکہ اُن کی زندگی سے جھلکتی تھی۔
رسول اور اُن کے ہم خدمت روح القدس کی ہدایت اور راہنمائی میں کام کرتے تھے۔ البتہ اِس ہدایت اور راہنمائی کی توثیق اکثر مقامی کلیسیا کی طرف سے ہوتی تھی۔ چنانچہ ہم پڑھتے ہیں کہ انطاکیہ کے نبیوں اور معلموں نے برنباس اور پولس پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں پہلے تبلیغی دَورے پر روانہ کیا (۱۳: ۲)۔ پھر ہم پڑھتے ہیں کہ تیمتھیس کو لُسترہ اور اِکُنیم کے بھائیوں کا اعتماد حاصل تھا اور اِسی اِعتماد کی بنیاد پر وہ پولس کے ساتھ گیا (۱۶: ۲)۔ اور دوسرے تبلیغی دَورے سے پہلے انطاکیہ کی کلیسیا نے پولس اور سیلاس کو خدا کے فضل کے سپرد کیا (۱۵: ۴۰)۔
عام طور سے کہا جاتا ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے اُن کی حکمت ِعملی یہ تھی کہ پہلے بڑے شہروں میں کلیسیائیں قائم کی جائیں اور پھر یہ کلیسیائیں اپنے ارد گرد کے علاقوں میں بشارت دیں اور خوش خبری پھیلائیں۔ غالباً یہ بات کو حد سے زیادہ آسان بنانے کی کوشش ہے۔ بنیادی طور پر اُن کی حکمت ِعملی یہ تھی کہ روح القدس کی ہدایت کی پیروی کی جائے، یہ غرض نہیں تھی کہ وہ بڑے شہر میں بھیجتا ہے یا چھوٹے قصبے میں۔ روح القدس فلپس کو سامریہ شہر کی بیداری سے غزہ کی شاہراہ پر ایک فردِ واحد کے پاس لے گیا (۸: ۲۶- ۴۰)۔ پھر وہ پولس کو بیریہ میں لے گیا (۱۷: ۱۱) جس کو سیسرو (Cicero)نے ایک «الگ تھلگ شہر» (تمام راستوں سے دُور) قرار دیا تھا۔ صاف بات تو یہ ہے کہ اعمال کی کتاب میں ہمیں کوئی لگی بندھی بے لچک جغرافیائی حکمت ِعملی دِکھائی نہیں دیتی بلکہ مطلق العنان روح القدس ہے جو اپنی مرضی اور ارادے کے مطابق عمل اور حرکت کرتا ہے۔
جہاں کہیں لوگوں نے اِنجیل کے پیغام کا مثبت جواب دے کر اِسے قبول کیا وہاں مقامی کلیسیائیں قائم کی گئیں، اِن جماعتوں نے کام کو اِستحکام اور دوام بخشا۔ یہ جماعتیں اپنا اِنتظام و انصرام خود چلاتی تھیں، اپنی مالیات کا بندوبست خود کرتی تھیں اور خود ہی اپنے اِرد گرد اِنجیل کی منادی کرتی تھیں۔ رسول اِن جماعتوں کا دوبارہ دَورہ صرف بھائیوں کو مضبوط کرنے اور اُن کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے کرتے تھے (۱۴: ۲۱، ۲۲؛ ۱۵: ۴۱؛ ۲۰: ۱، ۲)۔ اور بزرگوں کا تقرر بھی کرتے تھے (۱۴: ۲۳)۔
بشارتی دَوروں کے دوران رسول اور اُن کے ساتھی مالی لحاظ سے اکثر خود کفیل ہوتے تھے (۱۸: ۳؛ ۲۰: ۳۴)۔ بعض اوقات کلیسیائیں اور افراد اپنے نذرانوں اور ہدیوں سے اُن کی کفالت کرتے تھے (فلپیوں ۴: ۱۰، ۱۵- ۱۸)۔ پولس محنت مشقت کر کے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے ساتھیوں کی بھی کفالت کرتا تھا (۲۰: ۳۴)۔
اگرچہ اُن کی مقامی کلیسیا اُن کو خدا کے فضل کے سپرد کرتی تھیں اور اُن کی کفالت کرتی تھیں، لیکن مقامی کلیسیائیں اُن کو کنٹرول نہیں کرتی تھیں۔ وہ خدا کی ہدایات اور کلام کی منادی کرنے میں خداوند کا آزاد وسیلہ ہوتے تھے۔ اور جو باتیں «فائدہ کی» ہوتی تھیں اُن کو بیان کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے تھے (۲۰: ۲۰)۔
اپنے تبلیغی دَوروں کے اِختتام پر وہ اپنی کلیسیا میں واپس آ جاتے اور بتاتے تھے کہ «خدا نے ہماری معرفت کیا کچھ کیا» (۱۴: ۲۶- ۲۸؛ ۱۸: ۲۲، ۲۳)۔ یہ اِتنا اچھا نمونہ ہے کہ کلیسیا کے ہر دَور میں مشنریوں کو اِس کی پیروی کرنی چاہئے۔
ہ۔ یروشلیم کی کونسل (۱۵: ۱- ۳۵)
۱۵: ۱ انطاکیہ کی کلیسیا میں ختنے کے بارے میں بحث اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اِس کا بیان گلتیوں ۲: ۱- ۱۰ میں بھی درج ہے۔ دونوں بیانوں کو یکجا کرنے سے ہمیں یہ تصویر حاصل ہوتی ہے: بعض جھوٹے بھائی یروشلیم کی کلیسیا سے چل کر انطاکیہ آئے اور وہاں کی جماعت میں تبلیغ کرنے لگے۔ اُن کے پیغام کا خلاصہ یہ تھا کہ غیر یہودیوں کو بھی ختنہ کرانا لازمی ہے تاکہ نجات پا سکیں۔ اِتنا ہی کافی نہیں کہ وہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان لائیں۔ اُن کو چاہئے کہ موسیٰ کی شریعت کے ماتحت ہو جائیں۔ بے شک یہ خدا کے فضل کی خوش خبری پر براہِ راست سامنے سے حملہ تھا۔ فضل کی حقیقی خوش خبری سکھاتی ہے کہ مسیح نے نجات کے لئے ضروری کام صلیب پر پورا کیا۔ گنہگار کو اب صرف یہ کرنا ہے کہ ایمان سے مسیح کو قبول کر لے۔ جس لمحے اِنسانی اہلیت یا اعمال کو بیچ میں لے آئیں گے تو نجات فضل سے نہیں رہے گی۔ فضل کے ماتحت ہر بات کا اِنحصار خدا پر ہے، اِنسان پر نہیں۔ اگر شرائط عائد کر دی جائیں تو پھر یہ بخشش نہیں، بلکہ قرض بن جائے گی۔ لیکن نجات ایک بخشش ہے۔ یہ اعمال یا اہلیت پر منحصر نہیں۔ کمائی نہیں جا سکتی۔
۱۵: ۲، ۳ پولس اور برنباس نے اِن یہودیت نواز افراد کی پورے زور سے مخالفت کی کیونکہ جانتے تھے کہ یہ لوگ غیر قوم ایمان داروں کو یسوع مسیح میں جو آزادی ہے اُس پر ڈاکہ ڈالنے آئے ہیں۔
یہاں اعمال باب ۱۵ میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انطاکیہ میں بھائیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ «پولس اور برنباس اور … چند اَور اشخاص اِس مسئلے کے لئے رسولوں اور بزرگوں کے پاس یروشلیم جائیں»۔ گلتیوں ۲: ۲ میں پولس کہتا ہے کہ «میرا جانا مکاشفہ کے مطابق ہوا۔» بے شک اِس میں کچھ تضاد نہیں۔ خدا کے روح نے پولس کو مکاشفہ دیا کہ اُسے جانا چاہئے اور انطاکیہ کی کلیسیا کو بھی مکاشفہ دیا کہ چند بھائیوں کو بھیجا جائے۔ یروشلیم کو جاتے ہوئے راستے میں وہ فینیکے اور سامریہ کے مختلف مقامات پر قیام کرتے ہوئے گئے۔ اِن جگہوں پر اُنہوں نے «غیر قوموں کے رجوع لانے کا بیان» بھی کیا جس سے اِن مقامات پر بھائی بہت خوش ہوئے۔
۱۵: ۴ جب پولس یروشلیم پہنچا تو رسولوں اور بزرگوں کے پاس گیا اور اُن کو اُس خوش خبری کا سارا حال بیان کیا جس کی منادی اُس نے غیر قوموں میں کی تھی۔ اُن کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ وہی خوش خبری ہے جو ہم یہودیوں کو سناتے رہے ہیں۔
۱۵: ۵ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ساری کلیسیا کا کھلا اجلاس تھا جس میں بعض فریسیوں نے جو ایمان دار تھے اُٹھ کر یہ جھگڑا شروع کر دیا کہ غیر قوم والوں کا ختنہ کرانا اور اُن کو موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنے کا حکم دینا ضرور ہے تاکہ وہ صحیح معنوں میں مسیحی ٹھہریں۔
۱۵: ۶ اِس آیت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب آخری فیصلہ کیا گیا تو صرف رسول اور بزرگ حاضر تھے۔ البتہ آیت ۱۲ ظاہر کرتی ہے کہ ساری جماعت وہاں موجود تھی۔
۱۵: ۷- ۱۰ جب پطرس کھڑا ہوا تو غالباً مخالف پارٹی نے سوچا کہ یہ ہماری حمایت کرے گا۔ لیکن اُن کی اُمیدیں مایوسی میں بدل گئیں۔ پطرس نے سامعین کو یاد دلایا کہ چند برس پیشتر خدا نے ٹھہرا دیا تھا کہ «غیر قومیں میری زبان سے خوش خبری کا کلام سن کر ایمان لائیں۔» یہ بات کرنیلیس کے گھر میں ہوئی تھی۔ جب خدا نے دیکھا کہ اِن غیر قوموں کے دل ایمان سے میرے پاس آ رہے ہیں تو اُس نے اُن کو بھی اُسی طرح روح القدس دیا جیسے پنتکست کے دن یہودیوں کو دیا تھا۔ اُس وقت خدا نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اِن غیر قوم والوں کا ختنہ کیا جائے۔ یہ حقیقت کہ وہ غیر قوم ہیں کسی فرق کا باعث نہ بنی۔ خدا نے «ایمان کے وسیلہ سے اُن کے دل پاک» کئے۔ چونکہ خدا نے غیر قوموں کو ایمان کے اصول پر قبول کیا، نہ کہ شریعت کی پابندی کرنے کے اصولوں پر، اِس لئے پطرس نے جماعت سے پوچھا کہ اب وہ غیر قوموں کو شریعت کے جوئے تلے رکھنے کا کیوں سوچ رہے ہیں۔ اور جوأ بھی ایسا کہ «جس کو نہ ہمارے باپ دادا اُٹھا سکتے تھے نہ ہم»۔ شریعت نے کبھی کسی کو نجات نہیں دی۔ اُس کا کام تو ملزم ٹھہرانا تھا، راست باز ٹھہرانا نہیں تھا۔ شریعت سے گناہ کا علم ہوتا ہے، گناہ سے نجات نہیں ملتی۔
۱۵: ۱۱ پطرس کا آخری فیصلہ قابلِ غور ہے۔ اُس نے گہری قائلیت کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ «جس طرح وہ (غیر قوم والے) خداوند یسوع کے فضل ہی سے (شریعت کی پابندی سے نہیں) نجات پائیں گے، اُسی طرح ہم (یہودی) بھی پائیں گے»۔ پطرس یہودی تھا۔ اور کیا توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ کہے گا کہ غیر قوم والے بھی یہودیوں کی طرح نجات پائیں گے؟ مگر صاف نظر آتا ہے کہ «فضل» نسلی اِمتیازات پر غالب آ رہا تھا۔
۱۵: ۱۲ پطرس نے بات ختم کی تو برنباس اور پولس نے بیان کیا کہ خدا نے کس طرح غیر قوموں کے درمیان اِنجیل کی خوش خبری کے ساتھ «کیسے کیسے نشان اور عجیب کام ظاہر کئے۔»
۱۵: ۱۳، ۱۴ پطرس نے بتایا تھا کہ «پہلے پہل» خداوند نے اُس کی معرفت کس طرح غیر قوموں پر ایمان کا دروازہ کھولا تھا۔ پولس اور برنباس نے بھی گواہی دی کہ کس طرح خداوند نے اُن کی معرفت غیر قوموں میں بشارت کرائی۔ اب یعقوب حتمی طور پر بیان کرتا ہے کہ موجودہ دَور میں خدا کا مقصد یہ ہے کہ «غیر قوموں … میں سے اپنے نام کی ایک اُمت بنا لے»۔ دراصل مختصراً یہ بھی وہی بات ہے جو شمعون (پطرس) نے ابھی ابھی بیان کی تھی۔
۱۵: ۱۵- ۱۹ اب یعقوب نے عاموس ۹: ۱۱، ۱۲ کا حوالہ دیا۔ غور کریں کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ «غیر قوموں» کی بلاہٹ اِس نبوت کی تکمیل میں ہوئی بلکہ یہ کہ «نبیوں کی باتیں بھی اِس کے مطابق ہیں»۔ جماعت کو تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ خدا نے غیر قوموں کو بھی نجات پانے کا موقع دیا ہے کیونکہ پرانے عہدنامے میں اِس کی واضح نبوت کی گئی تھی۔ خدا نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ «غیر قومیں» غیر یہودی ہوتے ہوئے نجات پائیں گی۔
عاموس سے یہ اِقتباس ہزار سالہ بادشاہت کی طرف دیکھتا ہے، جب مسیح دائود کے تخت پر بیٹھے گا، اور جب «سب قومیں … خداوند کو تلاش کریں» گی۔ یعقوب نے یہ نہیں کہا کہ یہ نبوت اُس کے بولتے وقت پوری ہو رہی تھی بلکہ یہ کہا کہ اُس وقت غیر قوموں کو جو نجات مل رہی تھی وہ عاموس کی باتوں سے موافقت رکھتی تھی۔
یعقوب کی دلیل یہ تھی __ «خدا پہلے پہل غیر قوموں پر» توجہ دے گا تاکہ «اُن میں سے اپنے نام کی ایک اُمت بنا لے»۔ اور یہی اُس وقت ہو رہا تھا (اور اب بھی ہو رہا ہے)۔ ایمان لانے والے غیر قوم ایمان لانے والے یہودیوں کے ساتھ کلیسیا میں شامل کئے جا رہے تھے۔ جو کچھ اُس وقت چھوٹے پیمانے پر ہو رہا تھا (غیر قوموں کی نجات) وہی بعد میں بڑے پیمانے پر ہو گا۔ مسیح واپس آئے گا۔ اِسرائیل کو بلحاظِ قوم بحال کرے گا اور اُن سب غیر قوم والوں کو نجات دے گا جو اُس کے نام سے کہلائیں گے۔
یعقوب اپنے زمانے کے واقعات کو اِس نظر سے دیکھتا ہے کہ خدا نے پہلی دفعہ غیر قوموں پر توجہ کی ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کی یہ پہلی توجہ عاموس کی نبوت کے عین مطابق ہے __کہ مستقبل میں جب مسیح یسوع بادشاہ کی حیثیت سے آئے گا تو غیر قوموں پر توجہ کی جائے گی۔ دونوں واقعات اگرچہ بالکل ایک سے نہیں، لیکن آپس میں مطابقت رکھتے ہیں۔
واقعات کی ترتیب پر غور کریں:
- اِس موجودہ فضل کے زمانہ کے دوران «اپنے نام کی ایک اُمت» بنانے کےلئے غیر قوموں کو الگ کرنا (آیت ۱۴)۔
- مسیح کی دوسری آمد پر اِسرائیلی قوم کے ایمان لانے والے حصے کو بحال کرنا (آیت ۱۶)۔
- اِسرائیل کی بحالی کے بعد غیر قوموں کی نجات (آیت ۱۷)۔ اِن غیر قوموں کی طرف یوں اِشارہ کیا گیا ہے «سب قومیں جو میرے نام کی کہلاتی ہیں»۔
یعقوب کا عاموس ۹: ۱۱، ۱۲ سے یہ اِقتباس پرانے عہدنامے کے مندرجات سے کافی مختلف ہے۔ اِس فرق کی وضاحت کچھ تو اِس حقیقت میں ہے کہ یعقوب نے اِقتباس یونانی زبان میں کیا۔ لیکن یہ اِقتباس ہفتادی ترجمے سے بھی مختلف ہے۔ ایک وضاحت یہ ہے کہ جس روح القدس نے وہ اصل الفاظ الہام سے دیئے تھے، آج وہی روح القدس اُن کو تبدیل کرنے کی اِجازت دیتا ہے تاکہ درپیش مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ دوسری وضاحت یہ ہے کہ عبرانی مسودات میں عاموس باب ۹ کے کئی مختلف مندرجات ہیں۔ ایک عالم الفورڈ یقین سے کہتا ہے کہ یعقوب نے کسی اُس ترجمے سے اِقتباس کیا ہے جو مسلَّمہ عبرانی متن کے قریب ترین ہے، ورنہ فریسی اِس اقتباس کو ثبوت کے طور پر کبھی قبول نہ کرتے۔
«اِن باتوں کے بعد مَیں پھر آ کر» (آیت ۱۶)۔ یعقوب پہلے بتا چکا ہے کہ اِس موجودہ دَور میں خدا کا پروگرام یہ ہے کہ غیر قوموں کے لئے ایمان کا دروازہ کھولا جائے۔ وہ سب تو نجات نہیں پائیں گے، لیکن وہ «اُن میں سے اپنے نام کی ایک اُمت» بنائے گا۔ اب یعقوب کہتا ہے کہ «اِن باتوں کے بعد» یعنی جب کلیسیا کو قوموں میں سے بلا لیا جائے گا (الگ کر لیا جائے گا) خدا واپس آئے گا اور «دائود کے گرے ہوئے خیمہ کو» کھڑا کرے گا اور «پھٹے ٹوٹے کی مرمت» کرے گا۔ «دائود کا خیمہ» ایک استعارہ ہے جو اُس کے گھرانے کو بیان کرتا ہے۔ اِس کی بحالی مثال ہے مستقبل میں شاہی خاندان کی بحالی کی اور دائود کے تخت کے دوبارہ قائم ہونے کی جب مسیح بطور بادشاہ اِس پر بیٹھے گا۔ اُس وقت اسرائیل پوری دُنیا کے لئے برکت کا وسیلہ ہو گا۔ «باقی آدمی یعنی سب قومیں جو میرے نام کی کہلاتی ہیں خداوند کو تلاش کریں» گی۔
عاموس سے اِقتباس کا اِختتام اِن الفاظ سے ہوتا ہے کہ «یہ وہی خداوند فرماتا ہے۔»
چونکہ خدا کا موجودہ مقصد یہ ہے کہ «غیر قوموں» میں سے «اپنے نام کی ایک اُمت» بنائے، اِس لئے یعقوب خبردار کرتا ہے کہ «ہم اُن کو (غیر قوموں کو) تکلیف نہ دیں، » یعنی اُن کو موسیٰ کی شریعت کے ماتحت ہونے پر مجبور نہ کریں۔ جہاں تک نجات کا تعلق ہے تو اِس کے لئے صرف ایمان ہی درکار ہے (اور بس)۔
۱۵: ۲۰ البتہ یعقوب نے یہ رائے دی کہ انطاکیہ کی کلیسیا کو خط لکھیں اور وہاں کے مقدسوں کو نصیحت کریں کہ «بتوں کی مکروہات اور حرام کاری اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں اور لہو سے پرہیز کریں۔» پہلی نظر میں ایسا معلوم ہو سکتا ہے کہ یعقوب اپنی بات بالکل بدل رہا ہے۔ کیا یہ بھی ضابطہ (شریعت) پرستی کی ایک شکل نہیں؟ کیا وہ اُن کو دوبارہ شریعت کے ماتحت نہیں رکھ رہا؟ جواب یہ ہے کہ اِس نصیحت کا نجات کے موضوع کے ساتھ قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ اِس مسئلے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔ مگر اِس نصیحت کا تعلق یہودی اور غیر قوم ایمان داروں کے درمیان ’رفاقت‘ کے ساتھ ہے۔ اِن ہدایات پر عمل نجات کی شرط نہیں لیکن ابتدائی کلیسیا کو ہر طرح کی پھوٹ اور تفرقے اور رخنے سے بچانے کے لئے یہ نصیحت یقینا بڑی اہمیت رکھتی تھی۔
جن چیزوں سے منع کیا گیا، یہ ہیں:
- «بتوں کی مکروہات۔» آیت ۲۹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ کھانے پینے کی وہ چیزیں ہیں جو بتوں کی نذر کی گئی ہوں۔ اگر غیر قوم ایمان دار یہ چیزیں کھاتے رہتے تو اُن کے یہودی بھائی سوچ سکتے تھے کہ اِنہوں نے بت پرستی ترک کی بھی ہے یا نہیں۔ اگرچہ غیر قوم مسیحیوں کو ایسی چیزیں کھانے کی آزادی ہو سکتی تھی لیکن یہ کمزور یہودی بھائیوں کے لئے ٹھوکر ثابت ہو سکتی تھیں۔ اِس لئے درست نہ تھیں۔
- «حرام کاری۔» (بعض علما کا خیال ہے کہ یہ چار ممانعات احبار باب ۱۷ اور ۱۸ کا حوالہ دیتی ہیں۔ جیسا کہ بتوں کی مکروہات (۱۷: ۸، ۹)، حرام کاری جس میں زِنا (۱۸: ۲۰) ہی نہیں بلکہ ہم جنسیت بھی شامل ہے (۱۸: ۲۲) اور جانور سے صحبت (۱۸: ۲۳)، خونی رِشتوں سے بیاہ (۱۸: ۶- ۱۴) بلکہ سسرالی رِشتہ داروں سے بیاہ (۱۸: ۱۵، ۱۶) کی پابندیاں بھی شامل ہیں۔ نیز گلا گھونٹے ہوئے یا غلط طور پر ذبح کئے گئے جانوروں کا گوشت کھانا (۱۷: ۱۵) لہو یا خون کھانا (۱۷: ۱۰- ۱۲)۔ اگر یہودی غیر قوم ایمان داروں کو اِن ضوابط کی خلاف ورزی کرتے دیکھیں گے تو بُرا مانیں گے (اعمال ۱۵: ۲۱) یہ غیر قوموں کا سب سے بڑا گناہ تھا۔ اِس لئے یعقوب کے لئے خاص طور پر ضروری تھا کہ اِس کو بھی مذکورہ موضوعات میں شامل کرتا۔ بائبل مقدس میں «حرام کاری» سے بچنے کے حکم کو کہیں بھی منسوخ نہیں کیا گیا۔ یہ ہر زمانے میں نافذ ہے۔
- «گلا گھونٹے ہوئے جانور۔» یہ ممانعت ماضی میں اُس وقت تک جاتی ہے جب طوفان کے بعد خدا نے نوح سے عہد باندھا تھا (پیدائش ۹: ۴)۔ اِس لئے یہ اِنسانی نسل کے لئے دائمی حکم ہے، صرف بنی اِسرائیل کے لئے نہیں۔
- «لہو۔» یہ ممانعت بھی ماضی میں پیدائش ۹: ۴ تک جاتی ہے۔ اِس لئے موسیٰ کی شریعت سے پہلے کی ہے۔ چونکہ نوح کے ساتھ عہد کو کبھی منسوخ نہیں کیا گیا، اِس لئے یہ قواعد و ضوابط آج بھی نافذ ہیں۔
۱۵: ۲۱ اِس سے وضاحت ہو جاتی ہے کہ آیت ۲۰ کی نصیحت کیوں کی گئی۔ کیونکہ ہر شہر میں یہودی موجود تھے اور اُن کو شروع سے تعلیم دی جاتی رہی ہے کہ مندرجہ بالا باتیں غلط ہیں اِسی لئے یعقوب اُن کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔ اُنہیں سکھایا گیا کہ نہ صرف حرام کاری کا مرتکب ہونا غلط ہے بلکہ بتوں کو نذر کی گئی خوراک کھانا، گلا گھونٹے ہوئے جانوروں کا گوشت کھانا اور خون (لہو) کھانا بھی غلط ہے۔
۱۵: ۲۲ چنانچہ حتمی طور پر فیصلہ ہو گیا کہ غیر قوموں کو نجات پانے کے لئے ختنہ کرانے کی ضرورت نہیں۔ اگلہ قدم یہ تھا کہ اِن باتوں کو لکھ کر انطاکیہ کی کلیسیا کو بھیجا جائے۔ یہ یروشلیم کے «رسولوں اور بزرگوں نے ساری کلیسیا سمیت … یہوداہ کو جو برسبا کہلاتا ہے اور سیلاس کو» اِس مقصد کے لئے نامزد کیا۔ یہ دونوں «شخص بھائیوں میں مقدم تھے» کہ یہ «پولس اور برنباس کے ساتھ» انطاکیہ جائیں۔ یہ سیلاس وہی شخص ہے جو بعد میں «پولس» کا سفری ساتھی بنا۔ اِسے خطوط میں سلوانس کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
۱۵: ۲۳- ۲۹ یہاں خط کا لبِ لباب دیا گیا ہے۔ غور کریں کہ جو جھوٹے بھائی یروشلیم سے انطاکیہ گئے تھے، اُن کو یروشلیم کی کلیسیا سے کبھی قبولیت نہ ملی (آیت ۲۴)۔
آیت ۲۸ سے پتا چلتا ہے کہ شاگرد لمحہ بہ لمحہ روح القدس پر اِنحصار کرتے تھے «کیونکہ روح القدس نے اور ہم نے مناسب جانا …۔»
۱۵: ۳۰، ۳۱ جب یروشلیم سے یہ خط انطاکیہ کی کلیسیا میں پڑھا گیا تو اُن کے لئے بڑی خوشی اور تسلی کا باعث ہوا۔ اب وہاں کے ایمان داروں کو معلوم ہو گیا کہ نجات پانے کے لئے یہودی مذہب کو قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۱۵: ۳۲، ۳۳ یہوداہ اور سیلاس خدمت کے سلسلے میں کچھ عرصہ وہاں رہے۔ اِن میٹنگوں میں اُنہوں نے «بھائیوں کو بہت سی نصیحت کر کے مضبوط کر دیا» یعنی اُن کا ایمان پختہ ہوا۔ اُن کا کافی عرصہ خوش گوار رفاقت اور خدمت میں گزرا۔ پھر وہ انطاکیہ سے واپس یروشلیم کے لئے روانہ ہو گئے۔
۱۵: ۳۴ کئی پرانے نسخوں میں یہ آیت موجود نہیں ہے۔ آیت ۳۳اور آیت ۴۰ میں تضاد محسوس ہوتا ہے۔ غالباً اِس کی وضاحت کرنے کے لئے کسی کاتب نے یہ اِطلاع یہاں درج کر دی ہے۔ اِسی وجہ سے اِسے قوسین میں رکھا گیا ہے۔ آیت ۳۳ میں سیلاس ہمیں یروشلیم کو واپس جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور پھر آیت ۴۰ میں وہ دوسرے بشارتی سفر میں پولس کے ساتھ روانہ ہوتا ہے۔ اِس کا واضح حل یہ ہے کہ سیلاس ضرور واپس یروشلیم آیا۔ لیکن پھر پولس نے اُس کے ساتھ رابطہ کر کے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔
۱۵: ۳۵ اُس وقت «پولس اور برنباس انطاکیہ ہی میںر ہے اور … خداوند کا کلام سکھاتے اور اُس کی منادی کرتے رہے۔» خداوند کے اَور بھی «بہت سے» خادم تھے جو کلیسیا کی خدمت کرتے تھے۔ گلتیوں ۲: ۱۱- ۱۴ میں مذکور واقعہ غالباً اِنہی دنوں پیش آیا تھا۔
و۔ پولس کا دوسرا بشارتی دَورہ: ایشیائے کوچک اور یونان (۱۵: ۳۶- ۱۸: ۲۲)
۱۵: ۳۶- ۴۱ اب دوسرا تبلیغی دَورہ شروع کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ پولس نے اِس موضوع پر برنباس سے بات کی اور مشورہ دیا کہ اُن شہروں میں دوبارہ جائیں جہاں «ہم نے» پہلے «خدا کا کلام سنایا تھا»۔ برنباس نے اِصرار کیا کہ اُس کے رِشتے کے بھائی مرقس کو ساتھ لے چلیں، لیکن پولس نے اِس تجویز کی سختی سے مخالفت کی۔ اُسے اچھی طرح یاد تھا کہ مرقس «پمفولیہ میں کنارہ کر کے» ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ اُسے یقینا ڈر تھا کہ وہ پھر ایسا ہی کرے گا۔ برنباس اور پولس کی یہ تکرار اِتنی شدید ہو گئی کہ خداوند کے یہ دونوں معزز خادم «ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور برنباس مرقس کو لے کر جہاز پر کپرس کو روانہ ہوا»۔ کپرس اُس کی جائے پیدائش تھا اور پہلے تبلیغی دَورے میں پہلی جائے قیام بھی تھا۔ «پولس نے سیلاس کو پسند کیا اور … کلیسیائوں کو مضبوط کرتا ہوا سوریہ اور کلکیہ سے گزرا۔»
آیت ۳۶ اور ۴۱ ہمیں پولس کی پاسبانی روح کے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ایک نامور اور قابلِ قدر اُستاد نے پولس کی محبت بھری فکر مندی اور نگہداشت کا عکس اِن الفاظ میں دکھایا ہے کہ مسیحی زندگی کی شروعات کے لئے سیکڑوں لوگوں کو بلانے کے بجائے خدمت کے کام کے لئے ایک ایمان دار کو تربیت دینے کو ترجیح دوں گا۔
اِس موقعے پر لامحالہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں میں سے کس کا خیال صحیح تھا، پولس یا برنباس کا؟ غالباً غلطی دونوں طرف سے ہوئی۔ برنباس کو فطری طور پر مرقس سے محبت تھی اور اِسی محبت نے اُس کی رائے اور فیصلے پر اثر کیا۔ آیت ۳۹ میں بیان ہوا ہے کہ اُن میں «سخت تکرار» ہوئی۔ «تکبر سے صرف جھگڑا پیدا ہوتا ہے» (اَمثال ۱۳: ۱۰)۔ اِس لئے اِس معاملے میں دونوں تکبر کے قصوروار تھے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ پولس درستی پر تھا، وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اِس واقعے کے بعد برنباس اعمال کی کتاب سے غائب ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ «پولس اور سیلاس … بھائیوں کی طرف سے خداوند کے فضل کے سپرد» ہوئے، جب کہ برنباس اور یوحنا مرقس کے بارے میں یہ بات نہیں کہی گئی۔ خواہ کچھ بھی ہو، یہ بڑی دلجمعی کی بات ہے کہ بالآخر مرقس نے کامیابی حاصل کر لی اور اُس نے پولس کا پورا اعتماد دوبارہ جیت لیا (۲۔تیمتھیس۴: ۱۱)۔
مقامی کلیسیا کی خود مختاری
پہلی نظر میں یروشلیم کی کونسل ایک قسم کی «فرقوں کی سپریم کورٹ» معلوم ہوتی ہے، لیکن حقائق اَور ہیں۔
مسیحیت کے اِبتدائی دَور میں ہر مقامی جماعت خود مختار ہوتی تھی۔ کلیسیائوں کا کوئی وفاق نہیں تھا، نہ کوئی مرکزی اتھارٹی تھی۔ کوئی فرقے نہیں تھے، نہ کوئی فرقوں کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ ہر مقامی کلیسیا براہِ راست خداوند کے سامنے جواب دہ تھی۔ اِس کی تصویر مکاشفہ ۱: ۱۳ میں نظر آتی ہے، جہاں خداوند سونے کے ساتھ چراغ دانوں کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے۔ یہ چراغ دان آسیہ کے صوبے کی سات کلیسیائوں کے نمائندے ہیں۔ نکتہ یہ ہے کہ مقامی کلیسیائوں اور اُن کے عظیم ’سر‘ کے درمیان کوئی حاکم ایجنسی نہیں ہوتی تھی۔ وہ خود براہِ راست ہر ایک کلیسیا کا حاکم تھا۔
یہ بات اِتنی اہم کیوں ہے؟ اوّل، غلطی کو پھیلنے سے روکتی ہے۔ جب کلیسیائیں مشترکہ کنٹرول کے تحت آپس میں منسلک کر دی جاتی ہیں تو آزاد خیالی، غلط تعلیم اور برگشتگی کی قوتیں صرف مرکزی ہیڈ کوارٹر اور فرقہ ورانہ مدارس پر قبضہ کر کے پورے میدان پر قبضہ کر سکتی ہیں۔ جہاں کلیسیائیں الگ الگ ہوں، وہاں دشمن کو متعدد الگ الگ اکائیوں سے نبرد آزما رہنا پڑتا ہے۔
دوم، جب کوئی مخالف حکومت برسراِقتدار ہو تو مقامی کلیسیا کی خود مختاری اہم تحفظ کا کام دیتی ہے۔ اگر کلیسیائوں کا وفاق ہو تو ایک ہمہ گیر حکومت ہیڈ کوارٹر میں چند لیڈروں پر کنٹرول حاصل کر کے ساری کلیسیائوں کو کنٹرول کر سکتی ہے۔ جب کلیسیائیں کسی مرکزی اتھارٹی کو تسلیم کرنے سے اِنکار کرتی ہیں تو ظلم و ستم کے زمانے میں زیادہ آسانی سے زیر زمین جا سکتی ہیں۔
فی زمانہ بہت سی حکومتیں جن میں جمہوری اور آمرانہ حکومتیں سب شامل ہیں کوشش کرتی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی مگر خود مختار کلیسیائوں کو متحد کر دیا جائے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم مقامی اکائیوں کی اِتنی بڑی تعداد سے معاملات طے نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایک مرکزی کمیٹی سے کرنا چاہتے ہیں جو سب کی نمائندہ ہو۔ آزاد حکومتیں کچھ مراعات اور فوائد کی پیش کش کے ذریعے اِس قسم کا اتحاد قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دوسری حکومتیں فرمان کے ذریعے زبردستی اتحاد قائم کرتی ہیں۔ ہٹلر نے یہی حربہ استعمال کیا تھا۔ صورتِ حال کچھ بھی ہو، جو کلیسیائیں اِس دبائو کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہیں، وہ نہ صرف اپنی روحانی خصوصیت کھو بیٹھتی ہیں بلکہ ایذارسانی کے زمانے میں خفیہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو جاتی ہیں۔
بعض لوگ اعتراض کر سکتے ہیں کہ اعمال کی کتاب کی کلیسیائوں کی مرکزی اتھارٹی تو تھی یعنی یروشلیم کی کونسل جس کے بارے میں ہم ابھی ابھی بات کر رہے تھے۔ لیکن اگر ہم زیر نظر آیات کا احتیاط سے مطالعہ کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی باضابطہ ادارہ (آئین اور قواعد و ضوابط کے تحت وجود میں آنے والا) نہیں تھا۔ اور نہ اِس کو اِنضباطی اِختیارات حاصل تھے۔ یہ تو محض رسولوں اور بزرگوں کی ایک مجلس تھی جو صرف مشاورتی حیثیت سے کام کرتی تھی۔
اِس کونسل نے انطاکیہ سے لوگوں کو حکماً نہیں بلایا تھا بلکہ اُنہوں نے خود فیصلہ کیا تھا کہ یروشلیم میں بزرگوں سے صلاح مشورہ کریں۔ کلیسیائوں پر کونسل کے فیصلوں کی پابندی لازمی نہیں تھی بلکہ یہ فیصلے پورے گروہ کی متفقہ رائے کا درجہ رکھتے تھے، اور اِسی حیثیت میں پیش کئے جاتے اور قبول کئے جاتے تھے۔
کلیسیا کی تاریخ اِس کی خود وضاحت کرتی ہے۔ جہاں کہیں بھی کسی مرکزی اتھارٹی کے ماتحت کلیسیائوں کا وفاق قائم ہوا وہاں زوال کی رفتار تیز ہو گئی۔ خدا کی خالص ترین گواہی اُن ہی کلیسیائوں میں قائم رہی ہے جو بیرونی اِنسانی حکومت سے آزاد رہی ہیں۔
۱۶: ۱، ۲ جیسے پرندے شام کو اپنے گھروں میں واپس آتے ہیں ویسے پولس کو پرانی یادیں آئی ہوں گی جب وہ دوسری مرتبہ دربے اور لُسترہ میں پہنچا۔ لُسترہ میں سنگساری کی یاد نے وہاں واپس آنے کو شبہ میں ڈال دیا ہو گا۔ مگر رسول جانتا تھا کہ اِس علاقے میں خدا کے لوگ ہیں۔ ذاتی تحفظ کا کوئی خیال اُس کو روک نہیں سکتا تھا۔
جیسا پہلے کہا گیا، تیمتھیس اُن دِنوں پولس کی خدمت کے نتیجے میں ایمان لایا ہو گا جب یہ رسول پہلی دفعہ لُسترہ آیا تھا (معلوم ہوتا ہے کہ لُسترہ تیمتھیس کا آ بائی شہر تھا)۔ تیمتھیس کی ماں یونیکے اور نانی لوئس دونوں یہودی نژاد مسیحی تھیں (۲۔تیمتھیس ۱: ۵)۔ «اُس کا باپ یونانی تھا۔» لگتا ہے کہ اِس وقت تک اُس کا اِنتقال ہو چکا تھا۔
پولس کو «لُسترہ اور اِکنیم کے بھائیوں» سے یہ جان کر دلی خوشی ہوی کہ تیمتھیس مسیحی ایمان میں خوب ترقی کر رہا ہے۔ پولس نے اُس کو بشارتی دَورے پر اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ ابتدائی دَور کے رسول جوڑا جوڑا ہو کر کام کرتے تھے، اور عمر میں چھوٹے بھائیوں ( تیمتھیس اور مرقس) کو مسیحی خدمت کے عملی پہلوئوں کی تربیت دینے کے لئے ساتھ رکھتے تھے۔ اُن نوجوانوں کو کیسا اعزاز حاصل تھا کہ ایسی حوصلہ آزما تبلیغی خدمت میں تجربہ کار اور پختہ کار افراد کے ساتھ ایک ہی جوئے میں جوتے جاتے تھے۔
۱۶: ۳ روانہ ہونے سے پہلے پولس نے تیمتھیسکا ختنہ کر دیا۔ اُس نے کچھ عرصہ پہلے ططس کا ختنہ کرنے کی سخت مخالفت کی تھی (گلتیوں ۲: ۱- ۵)۔ مگر اب اُس نے ایسا کیوں کیا؟ جواب صرف یہ ہے کہ ططس کے معاملے میں سوال بنیادی مسیحی عقیدے کا تھا جب کہ یہاں ایسی کوئی بات نہ تھی۔ جھوٹے اُستاد متواتر زور دے رہے تھے کہ ططس جیسے نسلی غیر قوم شخص کو نجات پانے کے لئے ختنہ کرانا ضرور ہے۔ پولس نے دیکھ لیا کہ یہ بات مسیح کے کفارے کے کافی ہونے کا اِنکار ہے۔ اِس لئے وہ اِس کی اِجازت دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ اِس علاقے کے لوگ جانتے تھے کہ تیمتھیس ماں کی طرف سے یہودی ہے۔ پولس، سیلاس اور تیمتھیس تبلیغی دَورے پر جانے کو تھے۔ اور اکثر اُن کا پہلا رابطہ یہودیوں سے ہو گا۔ اگر اُن «یہودیوں» کو پتا چلتا کہ تیمتھیس کا ختنہ نہیں ہوا تو شاید وہ سننے سے اِنکار کر دیں۔ اور اگر اُس کا ختنہ ہو چکا ہو تو اُن کی طرف سے اعتراض کا اِحتمال نہیں رہے گا۔ چونکہ اِس موقعے پر یہ اَمر تعلیمی اور اخلاقی اہمیت کا حامل نہیں تھا اِس لئے پولس نے تیمتھیس سے یہ یہودی رسم پوری کروائی۔ وہ سب لوگوں کے لئے سب کچھ بنا ہوا تھا تاکہ کسی طرح سے بعض کو بچا لے (۱۔کرنتھیوں ۹: ۱۹- ۲۳)۔
پولس نے تیمتھیس کا ختنہ اِس لئے کیا تاکہ جب وہ خوش خبری کی منادی کرے تو یہودی سامعین بھی کان لگا کر سنیں۔ یہ وضاحت اِن الفاظ میں مضمر ہے کہ پولس نے «اُس کو لے کر اُن یہودیوں کے سبب سے جو اُس نواح میں تھے اُس کا ختنہ کر دیا، کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ اِس کا باپ یونانی ہے»۔
۱۶: ۴، ۵ جب یہ تینوں مبشر لکااُنیہ کے شہروں میں سے گزرتے تھے تو کلیسیائوں کو وہ احکام پہنچاتے جاتے تھے «جو یروشلیم کے رسولوں اور بزرگوں نے جاری کئے تھے۔» مختصراً یہ احکام یہ تھے:
- جہاں تک نجات کا تعلق ہے، صرف ایمان ضروری ہے۔ ختنہ یا شریعت کی پابندی کو نجات کی شرائط کے طور پر ساتھ نہیں ملانا چاہئے۔
- حرام کاری کی ممانعت سارے ایمان داروں کے لئے اور ہر زمانے کے لئےہے۔ لیکن غالباً یہ بات غیر قوم سے ایمان لانے والوں کو خاص طور پر یاد دلائی جاتی تھی کیونکہ یہ گناہ اُن کو اکثر تنگ کرتا تھا (اور اَب بھی کرتا ہے)۔
- بتوں کی قربانیوں اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں، اور لہو کو کھانے کی ممانعت ہے۔ اِس لئے نہیں کہ یہ نجات کے لئے ضروری ہیں، بلکہ اِس لئے کہ یہودیوں اور غیر قوم ایمان داروں کے درمیان رفاقت و شراکت میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اِن ہدایات میں سے بعض پر بعد میں نظرثانی کی گئی (ملاحظہ کریں ۱۔کرنتھیوں ابواب ۸- ۱۰؛ ۱۔تیمتھیس۴: ۴، ۵)۔
اِن آدمیوں کی خدمت کے نتیجے میں «کلیسیائیں» مسیحی «ایمان میں مضبوط اور شمار میں روز بروز زیادہ ہوتی گئیں»۔
۱۶: ۶- ۸ یہ آیات زبردست اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ ثابت کرتی ہیں کہ رسولوں کی بشارتی حکمت ِعملی میں روح القدس ہدایت اور راہنمائی اور نگرانی کرتا تھا۔ فروگیہ اور گلتیہ کے علاقوں میں کلیسیائوں کا دوبارہ دَورہ کرنے کے بعد اُنہوں نے آسیہ کے صوبے میں جانے کی صلاح کی۔ یہ علاقہ مغربی ایشیائے کوچک میں ہے۔ مگر «روح القدس نے اُنہیں … منع کیا»۔ بتایا نہیں گیا کہ کیوں۔ بعض علما کا خیال ہے کہ الٰہی مشورت میں یہ علاقہ پطرس کے لئے مخصوص کیا گیا تھا (دیکھئے ۱۔پطرس ۱: ۱)۔ کچھ بھی ہو وہ شمال مغرب کو چلے گئے اور موسیہ کے علاقے میں آئے۔ دراصل یہ آسیہ کے صوبے میں شامل تھا، مگر معلوم ہوتا ہے وہاں اُنہوں نے منادی نہیں کی۔ اِس کے بعد اُنہوں نے شمال مشرق میں بتونیہ میں جانے کی کوشش کی۔ یہ جگہ بحیرۂ اسود کے ساحل کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔ مگر «روح نے اُنہیں جانے نہ دیا»۔ چنانچہ وہ سیدھے مغرب کو ہو لئے اور ساحلی شہر تروآس میں آئے۔ یہاں سے یہ مشنری بحیرۂ ایجین کے پار یونان کی طرف دیکھ سکتے تھے جو یورپ کا دروازہ ہے۔ رائری (Ryrie) لکھتا ہے:
«آسیہ کو بائبل مقدس کی ضرورت تھی۔ لیکن ابھی خدا کا وقت نہیں آیا تھا۔ ضرورت اُن کی بلاہٹ کے لئے کافی نہیں تھی۔ وہ ابھی ابھی مشرق سے آئے تھے۔ اُن کو جنوب یا شمال کو جانے سے منع کیا گیا تھا۔ مگر اُن کو خیال نہ آیا کہ خداوند اُنہیں مغرب کو لے جا رہا ہے __ وہ اُس کی واضح ہدایات کا اِنتظار کر رہے تھے۔ صرف منطق ہی بلاہٹ کی بنیاد نہیں ہو سکتا۔»
۱۶: ۹ «پولس نے رات کو رویا میں دیکھا کہ ایک مکدنی آدمی کھڑا ہوا اُس کی منت کر کے کہتا ہے کہ پار اُتر کر مکدنیہ میں آ اور ہماری مدد کر۔» مکدنیہ یونان کا شمالی حصہ ہے اور تروآس سے بالکل مغرب کی طرف ہے۔ مکدنیہ (اور سارے یورپ) کو چھٹکارے کے فضل کی بشارت کی ضرورت تھی۔ خداوند آسیہ کی طرف دروازے بند کر رہا تھا تاکہ اُس کے خادم خوش خبری کو یورپ لے جائیں۔ سٹاکر (Stalker) اِس حقیقت کی تصویر کھینچتا ہے:
«مکدنی آدمی یورپ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اور مدد کے لئے اُس کی پکار یورپ کو مسیح کی ضرورت کی نمائندہ ہے۔ رویا سے پولس نے جان لیا کہ یہ خدا کا حکم ہے۔ اگلے ہی غروبِ آفتاب نے جو اپنی سنہری کرنوں سے آبنائے دانیال کو جگمگا رہا تھا اُس کو ایک جہاز کے عرشے پر بیٹھا دیکھا جس کا رخ مکدنیہ (مقدونیہ) کی طرف تھا۔»
۱۶: ۱۰ یہاں ایک نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے۔ اسمِ ضمیر «وہ» کے بجائے «ہم» استعمال ہونے لگا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ اِس وقت اعمال کی کتاب کا مصنف بھی پولس اور سیلاس کے ساتھ آ ملا۔ چنانچہ اِس کے بعد کے واقعات کو وہ عینی شاہد کے طور پر قلم بند کرتا ہے۔
اِلٰہی راہنمائی
اِس دُنیا میں موثر طور سے کام کرنے کے لئے ابتدائی کلیسیا اپنے اُس سر پر اِنحصار اور اعتماد رکھتی تھی جو آسمان میں ہے۔ لیکن خداوند یسوع اپنی مرضی کو اپنے خادموں پر کس طرح ظاہر کرتا تھا؟
آسمان پر جانے سے پہلے اُس نے عام حکمت ِعملی اُن کو دے دی تھی۔ یہ حکمت ِعملی اُس کے اِن الفاظ میں موجود ہے «تم … یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ میں بلکہ زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہو گے» (اعمال ۱: ۸)۔ آسمان پر جانے کے بعد مسیح اپنی مرضی کو اُن پر کئی طریقوں سے ظاہر کرتا تھا۔
یہوداہ کا جانشین چننے کے سلسلے میں (۱: ۱۵- ۲۶) پطرس اور دیگر شاگردوں کو پرانے عہدنامے کے صحائف (زبور ۶۹: ۲۵) سے راہنمائی ملی۔
کم سے کم پانچ موقعوں پر خداوند نے رُئویا کے ذریعے اُن کی راہنمائی کی: حننیاہ (۹: ۱۰- ۱۶)، کرنیلیس (۱۰: ۳)؛ پطرس (۱۰: ۱۰، ۱۱، ۱۷)؛ پولس (دو دفعہ ۔ ۱۶: ۹، ۱۰؛ ۱۸: ۱۹)۔
دو دفعہ اُس نے نبیوں کی معرفت راہنمائی کی (۱۱: ۲۷- ۳۰؛ ۲۱: ۱۰- ۱۲)۔
دوسرے موقعوں پر مسیحیوں نے حالات سے ہدایت حاصل کی۔ مثال کے طور پر ظلم و ستم نے اُن کو پراگندہ کر دیا (۸: ۱- ۴؛ ۱۱: ۱۹؛ ۱۳: ۵۰، ۵۱؛ ۱۴: ۵، ۶)۔ حکومت کے مقتدر افراد نے پولس اور سیلاس کو فلپی سے نکل جانے کا حکم دیا (۱۶: ۳۹، ۴۰)۔ بعد میں افسرانِ اعلیٰ پولس کو یروشلیم سے قیصریہ لے گئے (۲۳: ۳۳)۔ پولس نے قیصر کو اپیل کی اور اِس کے نتیجے میں اُس کو روم جانا پڑا (۲۵: ۱۱) اور بعد میں جہاز کی تباہی نے وقت اور واقعات کی ترتیب کا تعین کیا (۲۷: ۴۱؛ ۲۸: ۱)۔
بعض اوقات صلاح مشورہ اور دوسرے مسیحیوں کے کسی کام میں پہل کرنے سے بھی راہنمائی حاصل ہوئی۔ یروشلیم کی کلیسیا نے برنباس کو انطاکیہ بھیجا (۱۱: ۲۲)۔ اُگبس نے کال کی پیش گوئی کی۔ اِس سے انطاکیہ کی کلیسیا کو تحریک ہوئی کہ یہودیہ کے مقدسین کے لئے امدادی سامان بھیجیں (۱۱: ۲۷- ۳۰)۔ انطاکیہ کے بھائیوں نے پولس اور برنباس کو یروشلیم بھیجا (۱۵: ۲)۔ یروشلیم کی کلیسیا نے برنباس اور پولس کے ساتھ یہوداہ اور سیلاس کو بھیجا (۱۵: ۲۵- ۲۷)۔ جب پولس اور سیلاس دوسرے تبلیغی دَورے پر روانہ ہوئے تو بھائیوں کو خدا کے فضل کے سپرد کیا (۱۵: ۴۰)۔ لُسترہ سے روانہ ہوتے وقت پولس تیمتھیس کو ہمراہ لے گیا (۱۶: ۳)۔ تھسلنیکے کے بھائیوں نے تشدد کے خطرے کے پیشِ نظر پولس اور سیلاس کو بیریہ بھیج دیا (۱۷: ۱۰)۔ اِسی طرح بیریہ بھائیوں نے اِسی قسم کے خطرے کے باعث پولس کو روانہ کر دیا (۱۷: ۱۴، ۱۵) اور پولس نے تیمتھیس اور اِراستُس کو مکدنیہ بھیج دیا (۱۹: ۲۲)۔
راہنمائی کے مندرجہ بالا طریقوں کے علاوہ کئی ایسے واقعات بھی ہیں جہاں معلوم ہوتا ہے کہ افراد کو خدا کی مرضی کی براہِ راست اِطلاع ملی۔ ایک فرشتے نے فلپس کی حبشی خوجہ تک راہنمائی کی (۸: ۲۶)۔ جب انطاکیہ میں نبی اور معلم روزہ رکھ کر دعا کر رہے تھے تو روح القدس اُن سے ہم کلام ہوا (۱۳: ۱، ۲)۔ روح القدس نے پولس اور تیمتھیس کو آسیہ میں کلام سنانے سے منع کیا (۱۶: ۶)۔ بعد میں اُنہوں نے بتونیہ جانے کی کوشش کی مگر روح القدس نے جا نے کی اِجازت نہ دی (۱۶: ۷)۔
مختصراً یہ کہ ابتدائی دَور کے مسیحی مندرجہ ذیل طریقوں سے راہنمائی حاصل کرتے تھے:
- پاک صحائف سے۔
- رُئویا اور نبوت کے وسیلے سے۔
- حالات سے۔
- دوسرے مسیحیوں کی صلاح و مشورہ اور کسی کام میں پہل کرنے سے۔
- براہِ راست اِطلاع ملنے سے (ممکن ہے یہ کوئی باطنی قائلیت ہو)۔
۱۶: ۱۱، ۱۲ مسیح کے یہ اَن تھک ایلچی «تروآس سے جہاز میں روانہ ہو کر» پہلی رات جزیرہ سمتراکے کے قریب لنگر انداز ہوئے۔ اِس کے بعد نیاپُلس پہنچے جو تروآس سے تقریباً ۱۹۳ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پھر چند کلومیٹر اندرونِ ملک سفر کر کے «فلپی میں پہنچے جو مکدنیہ کا شہر اور اُس قسمت کا صدر» مقام تھا۔
۱۶: ۱۳- ۱۵ معلوم ہوتا ہے کہ فلپی میں کوئی یہودی عبادت خانہ نہیں تھا۔ مگر پولس اور اُس کے ساتھیوں کو معلوم ہوا کہ کچھ یہودی «سبت کے دن شہر کے دروازے کے باہر ندی کے کنارے» جمع ہوتے ہیں۔ وہ اُس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ کچھ عورتیں دعا مانگ رہی ہیں۔ اُن میں لدیہ نام ایک خاتون بھی شامل تھی۔ غالباً وہ غیر قوم سے یہودی ایمان میں شامل ہوئی تھی۔ اُس کا آبائی تعلق تھواتیرہ شہر سے تھا جو مغربی ایشیائے کوچک میں لدیہ کے علاقے میں واقع تھا۔ وہاں سے وہ فلپی آ گئی تھی۔ وہ قرمز بیچنے والی تھی۔ غالباً قرمزی رنگ کا کپڑا بیچتی تھی۔ تھواتیرہ اپنے رنگوں کے لئے مشہور تھا۔
کلام سننے کے لئے نہ صرف اُس کے کان کھلے تھے بلکہ دل بھی کھلا تھا۔ اُس نے خداوند یسوع کو قبول کیا اور «اپنے گھرانے سمیت بپتسمہ لے لیا۔» بلاشبہ بپتسمہ لینے سے پہلے اُس کے گھرانے کے افراد بھی ایمان لائے تھے۔ لدیہ کے شادی شدہ ہونے کا ذکر نہیں۔ اُس گھرانے میں نوکر وغیرہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
لدیہ کو نجات اعمال سے نہیں ملی بلکہ نجات اِس لئے ملی کہ نیک اعمال کرے۔ اُس نے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت دینے کے لئے پولس، سیلاس، لوقا اور تیمتھیس کے لئے اپنے گھر کے دروازے کھول دیئے۔
۱۶: ۱۶- ۱۸ کسی اَور دن جب پولس اور اُس کے رفیقِ کار «دعا کرنے کی جگہ» کو جا رہے تھے تو اُنہیں «ایک لونڈی ملی جس میں غیب دان روح تھی»۔ بدروح گرفتہ ہو کر وہ مستقبل کا حال بتاتی اور کئی اَور حیرت افزا اِنکشافات کرتی تھی اور اِس طرح «اپنے مالکوں کے لئے بہت کچھ کماتی تھی»۔
جب اُس لونڈی نے مسیحی مبشروں کو دیکھا تو اُن کے پیچھے آ کر چِلانے لگی، «یہ آدمی خدا تعالیٰ کے بندے ہیں جو تمہیں نجات کی راہ بتاتے ہیں۔» اور «وہ بہت دنوں تک ایسا ہی کرتی رہی۔» اُس کا کہنا سچ تھا لیکن پولس جانتا تھا کہ بدروحوں کی گواہی قبول کرنا درست نہیں۔ علاوہ ازیں وہ اُس لڑکی کی زبوں حالی پر بھی افسردہ تھا جسے شیطان نے بھی اپنی لونڈی بنا رکھا تھا۔ چنانچہ اُس نے یسوع مسیح کے قادر نام سے بد روح کو حکم دیا کہ اِس میں سے نکل جا۔ وہ لڑکی اِس ہولناک بندھن سے فوراً آزاد ہو گئی۔ وہ ہوش میں آ گئی اور اُس کی عقل بحال ہو گئی۔
معجزات
اعمال کی پوری کتاب کے تانے بانے میں معجزات موجود ہیں۔ چند نمایاں معجزات کی فہرست ذیل میں دی جاتی ہے:
- غیر زبانوں کی نعمت (۲: ۴؛ ۱۰: ۴۶؛ ۱۹: ۶)
- ہیکل کے دروازے پر لنگڑے آدمی کی شفا (۳: ۷)
- حننیاہ اور سفیرہ کی خدا کے غضب کے تحت فوری موت (۵: ۵، ۱۰)
- رسولوں کی قید خانے سے رہائی (۵: ۱۹)
- پولس کا جلالی مسیح سے آمنا سامنا (۹: ۳- ۶)
- پطرس کا اینیاس کو شفا دینا (۹: ۳۴)
- تبیتا کا زندہ کیا جانا (۹: ۴۰)
- پطرس کی رُؤیا کہ آسمان سے چادر اُترتی ہے (۱۰: ۱۱)
- فرشتے کا ہیرودیس کو مارنا (۱۲: ۲۳)
- الیماس جادو گر کا غضب کے تحت اندھا ہو جانا (۱۳: ۱۱)
- لسترہ میں پولس کا مفلوج آدمی کو شفا دینا (۱۴: ۱۰)
- لسترہ میں سنگساری کے بعد پولس کا بحال ہونا (۱۴: ۱۹، ۲۰)
- پولس کا رویا کہ مکدنی آدمی مدد کے لئے بلا رہا ہے (۱۶: ۹)
- فلپی میں پولس کا لونڈی میں سے بدروح کو نکالنا (۱۶: ۱۸)
- فلپی میں سے پولس اور سیلاس کی قید خانے سے رہائی (۱۶: ۲۶)
- یوتخُس کو زندہ کرنا (۲۰: ۱۰، ۱۱)
- اَگبُس کی نبوت (۲۱: ۱۰، ۱۱)
- ملیتے میں سانپ سے چھٹکارا ( ۲۸: ۳- ۶)
- پُبلیُس کے باپ کو بخار اور پیچش سے شفا ( ۲۸: ۸)
- باقی لوگوں کی شفا ( ۲۸: ۹)
بتایا گیا ہے کہ اِن معجزات کے علاوہ بھی رسول نشان اور عجیب کام دِکھاتے تھے (۲: ۴۳)۔ ستفنس لوگوں میں نشان اور عجیب کام دکھاتا تھا (۶: ۸)۔ فلپس نشان اور معجزے دکھاتا تھا (۸: ۶، ۱۳)۔ برنباس اور پولس نشان اور عجیب کام دِکھاتے تھے (۱۵: ۱۲)۔ خدا پولس کے ہاتھ سے معجزات کرتا تھا (۱۹: ۱۱)۔
اعمال کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ «کیا آج بھی معجزات کی توقع کرنی چاہئے؟» اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے دونوں اِنتہائوں سے بچنا چاہئے۔ پہلی صورتِ حال تو یہ ہے کہ چونکہ یسوع مسیح کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے اِس لئے آج بھی وہی معجزے ہونے چاہئیں جو اِبتدائی کلیسیا میں ہوتے تھے۔
دوسری انتہا یہ ہے کہ معجزات کلیسیا کے صرف اِبتدائی زمانے کے لئے تھے لہٰذا آج ہم اِن کی توقع کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔
یہ بات سچ ہے کہ «یسوع مسیح کل اور آج بلکہ اَبد تک یکساں ہے» (عبرانیوں ۱۳: ۸)۔ لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدا کے طریقوں میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ مثال کے طور پر خدا نے جو آفتیں مصر پر نازل کیں، وہ دوبارہ کبھی کسی پر نازل نہ کیں۔ اُس کی قدرت تو وہی ہے۔ وہ اب بھی ہر قسم کے معجزے کر سکتا ہے۔ لیکن اِس کا ہرگز مطلب نہیں کہ ہر زمانے میں ایک ہی قسم کے معجزے کرنا اُس پر لازم ہے۔ وہ تو لااِنتہا تنوعات کا خدا ہے۔
دوسری طرف ہمیں یہ بھی نہیں کہنا چاہئے کہ موجودہ کلیسیائی دَور میں معجزات کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ تو بہت آسان ہے کہ ہم معجزوں کو ایک طرف کر کے خود ایسی زندگیوں پر مطمئن اور قانع ہو کر بیٹھ جائیں جو جسم اور خون کی سطح سے کبھی اوپر نہیں اُٹھتیں۔
ہماری زندگیاں فوق الفطرت قوت سے سرشار ہونی چاہئیں۔ ہمیں ہر وقت دیکھتے رہنا اور سمجھنا چاہئے کہ سارے حالات کا رُخ ایک ہی مرکزی نقطے کی طرف ہے اور اُن کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہے۔ ہمیں کسی پُراسرار اور معجزانہ طریقے سے خدا کی راہنمائی کا تجربہ ہوتے رہنا چاہئے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں ایسے واقعات کا تجربہ ہونا چاہئے جو امکانات کے قاعدہ کلیہ سے ماورا ہوتے ہیں۔ ہمیں احساس اور شعور ہونا چاہئے کہ خدا روابط کا اہتمام کر رہا ہے، دروازے کھول رہا ہے، مخالفت کو غیر موثر بنا رہا ہے۔ ہماری خدمت میں فوق الفطرت کی چاشنی ہونی چاہئے۔
ہمیں دعائوں کے براہِ راست جواب موصول ہونے چاہئیں۔ جب ہماری زندگیاں دوسری زندگیوں کو چھوئیں، تو خدا کے لئے کچھ ہوتا ہوا نظر آنا چاہئے۔ ہمیں بے کاری، تعطل، حادثہ، نقصان اور المیہ میں خدا کا ہاتھ دِکھائی دینا چاہئے۔ ہمیں غیر معمولی مشکلات سے نجات کا تجربہ ہونا چاہئے۔ ہمیں ایسے حوصلہ، قوت، توفیق و ہمت، امن، اِطمینان اور حکمت کا احساس ہونا چاہئے جو ہماری فطری حدود سے ماورا ہے۔
اگر ہماری زندگیاں صرف فطری سطح پر بسر ہوتی رہتی ہیں تو پھر ہم میں اور غیر مسیحیوں میں کیا فرق رہا؟ خدا کی مرضی یہ ہے کہ ہماری زندگیاں فوق الفطرت ہوں، کہ ہم میں سے یسوع مسیح کی زندگی جاری ہو کر دوسروں تک پہنچے۔ جب ایسا ہو گا تو محالات اور ناممکنات پگھل جائیں گے، بند دروازے کھل جائیں گے اور قوت اُمڈنے لگے گی۔ پھر ہم میں روح القدس کی اِتنی قوت بھر جائے گی کہ جب لوگ ہمارے قریب آئیں گے تو روح کے شراروں کو محسوس کریں گے۔
۱۶: ۱۹- ۲۴ اب یہ خاتون بد روح کے چنگل سے آزاد تھی۔ مگر اُس کی آزادی پر شکر گزار ہونے کے بجائے اُس کے مالکوں کو سخت غصہ آیا کہ «ہماری کمائی کی اُمید جاتی رہی» ہے۔ چنانچہ وہ «پولس اور سیلاس کو پکڑ کر حاکموں کے پاس چوک میں کھینچ لے گئے» (یہاں «حاکموں» سے مراد «میجسٹریٹوں» ہے) اور بڑھا چڑھا کر الزام لگانے لگے۔ بنیادی طور پر یہ الزام لگایا کہ یہ یہودی ہیں اور «کھلبلی ڈالتے ہیں»، یعنی رومی طرزِ زندگی کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ «فوج داری کے حاکموں نے اُن کے کپڑے پھاڑ کر اُتار ڈالے اور بینت لگانے کا حکم دیا۔» اِن مبشروں (پولس اور سیلاس) کو پہلے تو خوب بینت لگائے، پھر قید خانہ میں ڈالا اور خصوصی ہدایات جاری کیں کہ «داروغہ… بڑی ہوشیاری سے اُن کی نگہبانی کرے»۔ ایسے سخت حکم کے باعث داروغے نے اُن کو «اندر کے قید خانہ میں ڈال دیا اور اُن کے پائوں کاٹھ میں ٹھونک دیئے۔»
کلام کے اِس حصے میں ہمیں شیطان کے دو بڑے حربے نظر آتے ہیں۔ اوّل، اُس نے جھوٹی دوستی کو آزمایا، یعنی بدروح گرفتہ لڑکی کی گواہی۔ یہ حربہ ناکام ہوا تو کھلم کھلا ظلم و ستم پر اُتر آیا۔ اے۔جے۔ پولوک (Pollock) تبصرہ کرتا ہے کہ:
«ابلیس یہ سوچ کر کیا فاتحانہ بغلیں بجا رہا ہو گا کہ مَیں نے مسیح کے اِن جاں نثار خادموں کے مقصدِ زندگی کو یوں یکایک تباہ کر دیا ہے۔ لیکن اُس کا شادیانے بجانا قبل از وقت تھا۔ اُس کے ساتھ ہمیشہ یوں ہی ہوتا ہے اور ہمیشہ ہو گا بھی۔ زیر نظر معاملے میں سب کچھ ہزیمت اور مایوسی میں بدل گیا اور خداوند کے کام میں افزائش کا باعث بنا۔»
۱۶: ۲۵ «آدھی رات» کے قریب «پولس اور سیلاس دعا کر رہے اور خدا کی حمد کے گیت گا رہے» ہیں۔ اُن کی خوشی اور شادمانی کو دُنیاوی حالات سے کچھ سروکار نہ تھا۔ اُن کے گانے کا سرچشمہ تو اُوپر آسمان کی بلندیوں میں تھا۔
۱۶: ۲۶ دوسرے قیدی اُن کی دعائیں اور خدا کی حمد و ستائش کے گیت سن رہے تھے کہ اِتنے میں ایک غیر معمولی بھونچال نے قیدخانے کو ہلا دیا اور اُس کے «سب دروازے کھل گئے»۔ سارے قیدیوں کی بیڑیاں کھل پڑیں، پائوں کاٹھ سے آزاد ہو گئے۔ لیکن عمارت نہ گری۔
۱۶: ۲۷، ۲۸ داروغہ بھی جاگ اُٹھا۔ اُس نے «قیدخانہ کے دروازے کھلے دیکھے» تو سمجھا کہ «قیدی بھاگ گئے»۔ اُسے اچھی طرح خبر تھی کہ اب میری جان کی بھی خیر نہ ہو گی۔ چنانچہ اُس نے خود کشی کی غرض سے اپنی تلوار کھینچ لی۔ لیکن پولس نے بلند آواز سے پکار کر اُسے روکا اور یقین دلایا کہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ سب قیدی ابھی تک موجود تھے۔
۱۶: ۲۹، ۳۰ اب داروغے کو ایک نئے احساس نے مغلوب کر لیا۔ زندگی اور ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے خوف و خدشے کی جگہ گناہ کی گہری قائلیت اُبھر آئی۔ اب اُسے اِس خوف نے آدبایا کہ مجھے اپنے گناہوں میں خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا۔ وہ پکار اُٹھا، «اے صاحبو! مَیں کیا کروں کہ نجات پائوں؟»
ایمان لانے سے پہلے اِس سوال کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ اِنسان کو جاننا ضروری ہے کہ مجھ پر خدا کا غضب ہے۔ پہلے یہ جانے گا تو نجات پا سکے گا۔ جب تک اِنسان دل سے یہ نہیں کہتا کہ « مَیں تو واقعی جہنم کے لائق ہوں» اُس وقت تک اُسے یہ بتانا قبل از وقت اور بے سود ہے کہ نجات کیسے پا سکتا ہے۔
۱۶: ۳۱ نئے عہدنامے میں اگر کسی کو خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے کو کہا گیا ہے تو صرف اُن گنہگاروں کو جو مانتے تھے کہ ہم گنہگار ہیں۔ جب داروغہ اپنے گناہوں پر پورے طور سے شکستہ دل ہو چکا تھا تو اُس کو بتایا گیا کہ «خداوند یسوع پر ایمان لا تو تُو اور تیرا گھرانا نجات پائے گا۔»
یہاں یہ خیال ہرگز نہیں پایا جاتا کہ اگر داروغہ ایمان لائے گا تو اُس کا گھرانا اپنے آپ نجات پا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ خداوند یسوع پر ایمان لائے گا تو وہ نجات پائے گا اور اُس کا گھرانا بھی اِسی طرح نجات پائے گا: ’ایمان لا … اور تُو نجات پائے گا … اور تیرا گھرانا بھی ایسا ہی کرے۔‘
موجودہ دَور میں بہت سے لوگوں کو یہ جاننے اور سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے کہ ایمان لانے کا مطلب کیا ہے۔ لیکن جب کسی گنہگار کو احساس ہو جاتا ہے کہ مَیں کھویا ہوا، بے کس، نااُمید اور جہنم میں جانے والا ہوں اور اُس سے کہا جاتا ہے کہ مسیح پر ایمان لا کہ وہ خداوند اور نجات دہندہ ہے تو وہ خوب سمجھ جاتا ہے کہ اِس کا مطلب کیا ہے، کیونکہ صرف یہی ایک بات رہ جاتی ہے جو وہ کر سکتا ہے۔
۱۶: ۳۲- ۳۴ پولس اور سیلاس نے گھرانے کو تعلیم دینے میں کچھ وقت گزارا تو داروغے نے عملاً ثابت کیا کہ وہ سچے دل سے ایمان لایا تھا۔ «اُس نے … اُن کے زخم دھوئے» اور بلاتاخیر «بپتسمہ لیا»۔ مزید برآں وہ اُن کو اپنے گھر میں لایا۔ اُنہیں کھانا کھلایا اور «سارے گھرانے سمیت خدا پر ایمان لا کر بڑی خوشی کی۔» وہ سارے خوش تھے کہ ہم کو خداوند مل گیا ہے۔
ہم پھر سے ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ یہاں کوئی ایسی بات درج نہیں جس سے اشارہ ملتا ہو کہ جس گھرانے نے بپتسمہ لیا اُس میں بہت چھوٹے یا شیر خوار بچے بھی تھے۔ وہ سب اِتنے بڑے اور سمجھ دار تھے کہ خدا پر ایمان لا سکتے تھے۔
۱۶: ۳۵ لگتا ہے کہ رات کے دوران ہی فوج داری کے حاکموں کے دل تبدیل ہو گئے تھے۔ اِس لئے کہ جب دن ہوا تو اُنہوں نے حوالداروں کو یہ ہدایت دے کر بھیجا کہ اُن دو قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے۔
۱۶: ۳۶، ۳۷ جب داروغے نے یہ خوش خبری پولس کو سنائی تو رسول نے اِن حالات میں وہاں سے جانے سے اِنکار کر دیا۔ آخر وہ اور سیلاس اگرچہ پیدائش کے لحاظ سے یہودی تھے، لیکن رومی شہری تھے۔ اُن پر بلا جواز مقدمہ چلایا اور پٹوایا گیا۔ اور اب حاکم چاہتے تھے کہ وہ چپکے سے کھسک جائیں جیسے قصوروار تھے اور شرم محسوس کر رہے تھے۔ ہرگز نہیں! پولس نے مطالبہ کیا کہ حاکم آپ آ کر ہمیں باہر لے جائیں، خود آ کر رِہا کریں۔
۱۶: ۳۸- ۴۰ حاکم ضرور آئے، اور معذرت خواہ ہوئے! اُنہوں نے پولس اور سیلاس سے درخواست کی کہ مزید ہلچل یا ہنگامے کے بغیر شہر سے چلے جائیں۔ بادشاہ کے فرزندوں کے سے وقار کے ساتھ خداوند کے خادموں کو قید خانہ سے نکال کر لایا گیا۔ لیکن وہ شہر سے فوراً نہیں چلے گئے۔ پہلے وہ لدیہ کے ہاں گئے۔ وہاں بھائیوں سے بات چیت کی اور اُن کو تسلی دی۔ کیسی خوشی کی بات ہے! جن کو خود تسلی کی ضرورت تھی وہ دوسروں کو تسلی دیتے تھے!
جب فلپی میں اُن کا کام پورا ہو گیا وہ گویا فتح کے جھنڈے لہراتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوئے۔
۱۷: ۱ فلپی سے روانہ ہو کر پولس اور سیلاس نے تقریباً ۵۳ کلومیٹر جنوب مغرب کو سفر کیا اور اِمفپِلس پہنچے۔ اُن کا اگلا قیام اَپلونیہ میں ہوا جو مزید ۴۸ کلومیٹر آگے جنوب مغرب میں تھا۔ وہاں سے وہ مغرب کی طرف ۵۹ کلومیٹر کا سفر کر کے تھسلنیکے میں آئے۔ یہ شہر تجارتی شاہراہوں کے سنگم پر بڑی باموقع جگہ پر واقع تھا اور تجارت کا بہت اعلیٰ مرکز تھا۔ روح القدس نے اِس شہر کو ایک ایسا صدر مقام ہونے کے لئے چن لیا جہاں سے خوش خبری بہت سی اطراف میں پھیلے گی۔ آج یہ شہر سیلونیکی کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔
جب پولس اور سیلاس خداوند کے لئے نئے علاقے فتح کرنے کو فلپی سے روانہ ہوئے تو لوقا وہیں رہ گیا ہو گا۔ یہ اندازہ اِس بات سے ہوتا ہے کہ واقعات بیان کرنے کے انداز میں تبدیلی آ گئی ہے اور «ہم» کے بجائے پھر «وہ» استعمال ہونے لگا ہے۔
۱۷: ۲، ۳ «اپنے دستور کے موافق» اِن مبشروں نے یہودی عبادت خانہ ڈھونڈ نکالا اور وہاں خوش خبری کی منادی کی۔ «پولس نے … تین سبتوں کو کتابِ مقدس سے اُس کے ساتھ بحث کی» کہ نبوت کی گئی تھی کہ «مسیح کو دُکھ اُٹھانا اور مُردوں میں سے جی اُٹھنا ضرور تھا۔» اُس نے یہ باتیں کتابِ مقدس سے ثابت کیں۔ اور پھر بتایا کہ یسوع ناصری ہی مسیحِ موعود ہے جس کا اِتنی مدت سے اِنتظار ہو رہا تھا۔ کیا اُس نے دُکھ نہیں اُٹھایا اور مر کر مُردوں میں سے نہیں جی اُٹھا؟ کیا اِس سے ثابت نہیں ہوتا کہ وہی خدا کا مسیح ہے؟
۱۷: ۴- ۷ یہودیوں میں سے «بعض نے مان لیا اور پولس اور سیلاس کے شریک ہوئے» کہ ہم بھی مسیح پر ایمان لاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ بہت سے یونانی نومرید اور اُس شہر کی «بہتیری شریف عورتیں» بھی ایمان لائیں۔ یہ دیکھ کر ایمان نہ لانے والے یہودی بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے فیصلہ کن اِقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُنہوں نے «بازاری آدمیوں میں سے کئی بدمعاشوں» کو جمع کر کے فساد اور ہنگامہ کھڑا کر دیا اور یاسون کا گھر گھیرے میں لے لیا، کیونکہ پولس اور سیلاس وہیں مہمان تھے۔ جب پولس اور سیلاس کو اِس گھر میں نہ پایا تو «یاسون اور کئی اَور بھائیوں کو (جو اُس کے ہم ایمان تھے) حاکموں کے پاس …کھینچ لے گئے»۔ اُن کا ارادہ اور مقصد تو نہیں تھا لیکن اُنہوں نے پولس اور سیلاس کی بڑی تعریف کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ وہ شخص ہیں «جنہوں نے جہان کو باغی کر دیا» (لفظی ترجمہ: ’جہان کو اُلٹ دیا ہے‘)۔ یہ الزام تو دراصل تعریف تھی۔ پھر الزام لگایا کہ یہ شخص قیصر کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کر رہے ہیں کیونکہ کہتے ہیں کہ «بادشاہ تو اَور ہی ہے، یعنی یسوع۔» یہودیوں کے لئے ایسی بات کرنا واقعی عجیب تھا کہ وہ قیصر کی حکومت کی محافظت میں ایسے شوق اور جذبے کا مظاہرہ کریں۔ بھلا اُن کے دلوں میں رومی سلطنت کے لئے محبت تھی کہاں؟
لیکن کیا اُن کا الزام درست تھا؟ بے شک اُنہوں نے پولس کے منہ سے سنا تھا کہ یسوع دوبارہ آئے گا اور ساری دُنیا پر بادشاہ ہو گا۔ لیکن اِس سے تو قیصر کی حکومت کو کوئی فوری خطرہ نہ تھا کیونکہ مسیح اُس وقت تک واپس نہیں آئے گا جب تک اِسرائیل مِن حیث القوم توبہ نہ کرے۔
۱۷: ۸، ۹ اِن خبروں سے «شہر کے حاکم گھبرا گئے»۔ اُنہوں نے یاسون اور اُس کے ساتھیوں سے تو ضمانت لے لی۔ اور غالباً یہ ہدایت بھی کی ہو گی کہ تمہارے مہمان جلد از جلد شہر چھوڑ جائیں۔ پھر حاکموں نے اُنہیں چھوڑ دیا۔
۱۷: ۱۰- ۱۲ تھسلنیکے کے بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ اِن مبلغوں کو شہر سے روانہ ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ اُنہوں نے پولس اور سیلاس کو «راتوں رات … بیریہ میں بھیج دیا»۔ یہ ناقابلِ تسخیر مبلغین سیدھے «یہودیوں کے عبادت خانہ میں گئے»۔ وہ خوش خبری سنا رہے تھے اور یہودیوں نے بڑی فراخ دلی کا ثبوت دیا۔ وہ پرانے عہدنامے کے صحائف سے تحقیق کرتے، پڑتال کرتے اور اُن کی باتوں کا کلامِ مقدس کی باتوں سے مقابلہ کرتے تھے۔ وہ سیکھنے پر مائل تھے اور ساری تعلیم کو پاک صحائف کی کسوٹی پر پرکھنے پر مُصر رہتے تھے۔ بہت سے یہودی ایمان لے آئے۔ اِس کے علاوہ غیر قوم میں سے «بہت سی عزت دار عورتیں اور مرد ایمان لائے۔»
۱۷: ۱۳، ۱۴ جب یہ اِطلاعات واپس تھسلنیکے پہنچیں کہ پولس اور سیلاس بیریہ میں اپنی خدمت کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں تو وہاں کے یہودی خاص طور پر بیریہ آئے اور رسولوں کے خلاف «لوگوں کو اُبھارا اور اُن میں کھلبلی ڈالی۔» اِس پر بھائیوں نے پولس کو فوراً ساحلِ سمندر کی طرف بھیج دیا اور محافظت کی خاطر چند ایمان دار اُس کے ہمراہ گئے۔
۱۷: ۱۵ بیریہ سے اتھینے تک بہت لمبا سفر تھا۔ یہ بات بیریہ کے مسیحیوں کی دلی محبت اور جاں نثاری کا اِظہار ہے کہ وہ اتھینے تک پولس کے ساتھ گئے۔ جب وقت آیا کہ وہ پولس کو اتھینے میں چھوڑ کر واپس آئیں تو اُس نے اُن کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ «سیلاس اور تیمتھیس … جہاں تک ہو سکے جلد میرے پاس» آئیں۔
۱۷: ۱۶ «جب پولس اتھینے میں اُن کی راہ دیکھ رہا تھا» تو شہر کی بت پرستی دیکھ کر «اُس کا جی جل گیا». اگرچہ اتھینے تہذیب و ثقافت، تعلیم اور فنونِ لطیفہ کا مرکز تھا مگر پولس کو اِن میں سے کسی چیز سے دلچسپی نہ تھی۔ اُس نے یہ وقت شہر کے اہم مقامات اور نظارے دیکھنے میں صرف نہیں کیا۔ آرنوٹ (Arnot) کہتا ہے کہ
«بات یہ نہیں کہ پولس سنگ ِمر مر کے مجسموں کی قدر و قیمت سے واقف نہ تھا بلکہ وہ زندہ اِنسانوں کو زیادہ قیمتی سمجھتا تھا … وہ کمزور نہیں بلکہ ایسا مضبوط اِنسان ہے جو غیر فانی روحوں کو فنونِ لطیفہ سے فائق اور اہم سمجھتا ہے … پولس بت پرستی کو بے ضرر نہیں بلکہ درد انگیز اور تکلیف دِہ مانتا ہے۔»
۱۷: ۱۷، ۱۸ «اِس لئے وہ عبادت خانے میں یہودیوں اور خدا پرستوں سے اور چوک میں جو ملتے تھے اُن سے روز بحث کیا کرتا تھا۔» اِس طرح اُس کا سامنا چند اِپکوری اور ستوئیکی فلاسفروں سے ہو گیا۔ اِپکوری ایک فلاسفر بنام اِپکورس کے پیروکار تھے۔ اُس کی تعلیم تھی کہ زندگی کا بڑا مقصد علم کا حصول نہیں بلکہ خوشی اور مسرت کا حصول ہے۔ ستوئیکی وحدت الوجود (ہمہ اُوست کا عقیدہ) کے معتقد تھے۔ اُن کا عقیدہ تھا کہ حکمت اِس میں ہے کہ اِنسان شدید جذبات سے آزاد ہو، خوشی اور غم کا تاثر نہ لے، اور طبعی قانون کو برضا و رغبت قبول کر لے۔ جب اِن دونوں مکاتب ِفکر کے پیروکاروں نے پولس کی باتیں سنیں تو اُس کو بکواسی قرار دیا۔ «اَوروں نے کہا یہ غیر معبودوں کی خبر دینے والا معلوم ہوتا ہے۔ اِس لئے کہ وہ یسوع اور قیامت کی خوش خبری دیتا تھا۔»
۱۷: ۱۹- ۲۱ «وہ اُسے اپنے ساتھ اریوپگس پر لے گئے۔» اریوپگس سپریم کورٹ کی قسم کا ایک قومی اِدارہ تھا۔ اِس کے ممبران مریخ نامی پہاڑی پر فراہم ہوتے تھے۔ اِس خاص معاملے میں کوئی مقدمہ تو نہیں تھا بلکہ صرف ایک ایسی پیشی تھی جس میں پولس کو موقع دیا گیا کہ اپنی تعلیم کو عدالت کے ممبران اور عام لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ اِس کی کچھ وضاحت آیت ۲۱ میں دی گئی ہے۔ اتھینوی سرِبازار کھڑے ہو کر باتیں کرنا اور دوسروں کی سننا بہت پسند کرتے تھے۔ لگتا ہے اِس کام کے لئے اُن کے پاس وقت کی کوئی کمی نہ تھی۔
۱۷: ۲۲ «پولس نے اریوپگس کے بیچ میں کھڑے ہو کر» وہ باتیں کیں جن کو ’کوہِ مریخ کا خطاب‘ کہا جاتا ہے۔ اِس خطاب کا مطالعہ کرتے ہوئے یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ یہودیوں سے نہیں بلکہ غیر قوم والوں سے مخاطب تھا۔ وہ پرانے عہدنامے سے واقف نہیں تھے۔ اِس لئے پولس کو بات شروع کرنے کے لئے کسی ایسے موضوع کی تلاش تھی جس میں سب کی دلچسپی مشترک ہو۔ اُس نے اِس مشاہداتی رائے سے آغاز کیا کہ اتھینوی بہت مذہبی لوگ («دیوتائوں کے بڑے ماننے والے») ہیں۔ اتھینے کے ایک مذہبی شہر ہونے کی تصدیق اِس حقیقت سے بھی ہوتی تھی کہ مشہور تھا کہ اتھینے میں لوگ کم اور بت زیادہ ہیں۔
۱۷: ۲۳ جب پولس اُن بتوں پر غور کر رہا تھا جو اُس نے شہر میں دیکھے تھے تو اُسے ایک ایسی قربان گاہ یاد آئی جس پر لکھا تھا کہ« نامعلوم خدا کے لئے»۔ اِن الفاظ میں پولس کو وہ نکتہ مل گیا جس سے وہ اپنے پیغام کا آغاز کر سکتا تھا۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ خدا کا وجود ہے۔ اور دوسری یہ کہ اتھینوی اُس کو نہیں جانتے۔ پولس کے لئے یہ فطری بات تھی کہ پیغام کا رُخ موڑ کر اُن کو حقیقی خدا کے بارے میں بتائے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ «پولس نے اُن کی خدا پرستی کے آوارہ دھارے کو موڑ کر درست سمت میں ڈال دیا۔»
۱۷: ۲۴، ۲۵ مبشر کہتے ہیں کہ بت پرستوں کو خدا کے بارے میں تعلیم دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بات کائنات کی تخلیق سے شروع کی جائے۔ اتھینوی لوگوں کے ساتھ پولس نے بالکل یہی طریقہ استعمال کیا۔ اُس نے خدا کا تعارف یوں کرایا کہ خدا وہ ہستی ہے «جس نے دُنیا اور اُس کی سب چیزوں کو پیدا کیا»۔ اپنے ارد گرد اَن گنت مندروں اور بتوں کو دیکھتے ہوئے رسول نے اپنے سامعین کو باور کرایا کہ حقیقی خدا «ہاتھ کے بنائے ہوئے مندروں میں نہیں رہتا» اور « نہ … آدمیوں کے ہاتھوں سے خدمت لیتا ہے» کیونکہ وہ کسی چیز یا کسی شخص کا محتاج نہیں۔ بتوں کے مندروں میں پنڈت اور پجاری وغیرہ اپنے دیوتائوں کے لئے کھانے پینے کی اور دوسری ضروریات کی چیزیں لاتے ہیں۔ لیکن حقیقی خدا اِنسانوں سے کوئی چیز لینے کا محتاج نہیں کیونکہ وہ خود «زندگی اور سانس اور سب کچھ» کا منبع ہے۔
۱۷: ۲۶- ۲۸ الف اِس کے بعد پولس نے اِنسانی نسل اور اصل کے آغاز پر بحث کی۔ ساری قومیں ایک ہی جدِ امجد یعنی آدم کی اولاد ہیں۔ نہ صرف یہ کہ قوموں کو خدا نے پیدا کیا ہے بلکہ یہ بھی ٹھہرا دیا کہ «اُن کی میعادیں اور سکونت کی حدیں» کیا ہوں گی، یعنی اُن کی عمریں کتنی کتنی ہوں گی اور وہ کون کون سے ملک میں رہیں بسیں گی۔ اُس نے اُن پر اَن گنت فضل کئے، بے شمار نعمتیں عطا کیں تاکہ وہ «خدا کو ڈھونڈیں۔» وہ چاہتا ہے کہ قومیں «ٹٹول کر اُسے (خدا کو) پائیں»، حالانکہ حقیقت میں وہ «کسی سے دُور نہیں»۔ یہ حقیقی خدا ہی ہے جس میں ہم سب «جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں»۔ وہ نہ صرف ہمارا خالق ہے بلکہ ہمارا ماحول بھی ہے۔
۱۷: ۲۸بخالق اور مخلوق کے مابین تعلق پر مزید زور دینے کے لئے پولس نے اُن کے بعض شاعروں کا حوالہ دیا جنہوں نے کہا ہے کہ «ہم تو اُس کی (خدا) نسل بھی ہیں۔» یہاں اِنسانوں کی برادری اور خدا کی پدریت کی تعلیم مراد نہیں۔ ہم خدا کی «نسل» اِن معنوں میں ہیں کہ اُس نے ہمیں خلق کیا ہے۔ لیکن ہم اُس کے «فرزند» اُسی صورت میں بنتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان لائیں۔
۱۷: ۲۹ پولس کی دلیل جاری رہتی ہے۔ اگر اِنسان «خدا کی نسل» ہیں تو «ہم کو یہ خیال کرنا مناسب نہیں کہ ذاتِ الٰہی اُس سونے یا روپے یا پتھر کی مانند ہے جو آدمی کے ہنر اور ایجاد سے گھڑے گئے ہیں»۔ اور اِس وجہ سے وہ اِنسان جتنے عظیم نہیں ہیں۔ ایک مفہوم میں یہ بت اِنسان کی نسل ہیں جب کہ سچائی یہ ہے کہ بنی نوعِ اِنسان خدا کی مخلوق ہیں۔
۱۷: ۳۰ بت پرستی کی حماقت کو بے نقاب کرنے کے بعد پولس بیان کرتا ہے کہ صدیوں سے خدا غیر قوم والوں کی جہالت سے چشم پوشی کرتا آیا ہے۔ مگر اب جب کہ اِنجیل کا مکاشفہ آ گیا ہے وہ (خدا) «ہر جگہ حکم دیتا ہے کہ توبہ کریں» یعنی پرانے طور طریقوں کو قطعی طور پر چھوڑ دیں اور نئی راہ اِختیار کریں۔
۱۷: ۳۱ یہ نہایت ضروری پیغام ہے «کیونکہ اُس (خدا) نے ایک دن ٹھہرایا ہے جس میں وہ راستی سے دُنیا کی عدالت اُس آدمی کی معرفت کرے گا جسے اُس نے مقرر کیا ہے۔» اُس آدمی کا اِشارہ خداوند یسوع مسیح کی طرف ہے۔ اور جس عدالت کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اُس وقت ہو گی جب مسیح دوبارہ اِس دُنیا میں آئے گا تاکہ اپنے دشمنوں کا خاتمہ کرے اور ہزار سالہ بادشاہی کا آغاز کرے۔ اِس عدالت کی پکی یقین دہانی اِس حقیقت میں ہے کہ خدا نے خداوند یسوع کو مردوں میں سے جِلایا۔ اِس طرح پولس اپنے سامعین کو اپنے پسندیدہ موضوع یعنی مسیح کی قیامت پر لے آتا ہے۔
۱۷: ۳۲، ۳۳ پولس اپنا پیغام مکمل نہ کر سکا۔ « مردوں کی قیامت» کے تصور پر ٹھٹھا مارنے والوں نے خلل ڈال دیا۔ دوسرے لوگوں نے اُس کا مذاق تو نہیں اُڑایا مگر ہچکچاتے رہے۔ وہ کوئی قدم نہیں اُٹھانا چاہتے تھے۔ اِس لئے کہنے لگے، «یہ بات ہم تجھ سے پھر کبھی سنیں گے۔»
۱۷: ۳۴ لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پولس کا پیغام بے سود ثابت ہوا۔ کم سے کم دیونسی یُس ایمان لایا۔ اور وہ اریوپگُس (عدالت) کا ایک حاکم تھا۔ دَمرِس نام ایک عورت اور بعض دیگر لوگ بھی ایمان لائے جن کے نام نہیں دیئے گئے۔
«اِسی حالت میں پولس اُن کے بیچ میں سے نکل گیا۔» اِس کے بعد ہم اتھینے کا کوئی ذکر نہیں سنتے۔ پولس ایذارسانی کے مراکز میں تو دوبارہ آیا لیکن اتھینے کی فلسفیانہ خوش گفتاری اُسے متاثر کرنے میں ناکام رہی۔ لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ وہ وہاں دوبارہ نہ گیا۔
بعض لوگ پولس کے اِس وعظ پر تنقید کرتے ہیں کہ اُس نے اہلِ اتھینے کی مذہبیت کی تعریف کی ہے حالانکہ وہ سخت بت پرست تھے۔ وہ ایک ایسے کتبے میں خدا کی شناخت دیکھتا ہے جو کسی بت کے لئے نسب کیا گیا تھا۔ اِس وعظ میں اتھینوی لوگوں کے طور طریقوں اور رسومات کا اُس نے زیادہ لحاظ کیا ہے اور یہاں اِنجیل کے پیغام کو اُتنی وضاحت اور زور کے ساتھ پیش نہیں کیا جیسا ہم اُس کے دوسرے پیغامات میں دیکھتے ہیں۔ یہ تنقید بالکل غیر مناسب ہے۔ ہم نے پہلے بھی وضاحت کی ہے کہ پولس کسی ایسے نکتے کی تلاش میں تھا جس سے اُن لوگوں کی توجہ اپنی گرفت میں لے سکے۔ پھر وہ اپنے سامعین کو قدم بہ قدم حقیقی خدا کے عرفان تک لایا، پھر مسیح کے عدالت کے لئے آنے کے پیشِ نظر اُن پر توبہ کی اہمیت واضح کی۔ پولس کی منادی کی اِسی بات سے تصدیق ہوتی ہے کہ اُس کے وسیلے سے لوگ سچے دل سے ایمان لاتے تھے۔
غیر رسمی پُلپٹ
کوہِ مریخ (Mars Hill) پر پولس کی منادی مثال ہے اُن غیر رسمی مقامات کی جہاں سے اِبتدائی دَور کے مسیحیوں نے دُنیا کو خوش خبری کا پیغام دیا۔
ایک پسندیدہ جگہ تو کھلا میدان تھی۔ پنتکست کے دن پیغام گھر سے باہر کھلی جگہ پر دیا گیا ہو گا۔ یہ اندازہ کلام سننے اور ایمان لانے والوں کی تعداد سے ہوتا ہے (اعمال ۲: ۶، ۴۱)۔ کھلی جگہ پر منادی کرنے کی دیگر مثالیں ۸: ۵، ۲۵، ۴۰؛ ۱۳: ۴۴ اور ۱۴: ۸- ۱۸ میں ملتی ہیں۔
کم سے کم دو موقعوں پر ہیکل کے گرد و نواح پیغام سے گونج اُٹھے (۳: ۱- ۱۱؛ ۵: ۲۱، ۴۲)۔ پولس اور اُس کے ہم خدمتوں نے فلپی میں ندی کنارے کلام پیش کیا (۱۶: ۱۳) اور یہاں اتھینے میں اُنہوں نے چوک میں منادی کی (۱۷: ۱۷) اور اِس کے بعد کوہِ مریخ پر خطاب کیا۔ یروشلیم میں پولس نے غصے سے بھرے ہوئے ہجوم سے انتونیہ (Antonia) کے قلعے کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر کلام کیا (۲۱: ۴۰- ۲۲: ۲۱)۔
کم سے کم چار دفعہ یہودی سنہیڈرن کے سامنے پیغام دیا گیا۔ (۱) پطرس اور یوحنا نے (۴: ۸، ۱۹)۔ (۲) پطرس اور دوسرے رسولوں نے (۵: ۲۷- ۳۲)۔ (۳) ستفنس نے (۷: ۲- ۵۳) اور (۴) پولس نے (۲۲: ۳۰- ۲۳: ۱۰)۔
پولس اور اُس کے ساتھیوں کا عام دستور یہ تھا کہ عبادت خانوں میں اِنجیل کی بشارت دیتے تھے (۹: ۲۰؛ ۱۳: ۵، ۱۴؛ ۱۴: ۱؛۱۷: ۱، ۲، ۱۰، ۱۷؛ ۱۸: ۴، ۱۹، ۲۶؛ ۱۹: ۸)۔
کئی دفعہ ذاتی گھروں کو استعمال کیا گیا۔ پطرس نے کرنیلس کے گھر میں منادی کی (۱۰: ۲۲، ۲۴)، پولس اور سیلاس نے فلپی میں جیل کے داروغے کے گھر میں گواہی دی (۱۶: ۳۱، ۳۲)، کرنتھس میں پولس نے عبادت خانے کے سردار کرسپس کے گھر میں منادی کی (۱۸: ۷، ۸)، تروآس میں وہ کسی کے گھر میں آدھی رات تک کلام سناتا رہا (۲۰: ۷)، اِفسس میں وہ گھر گھر جا کر اِنجیل کا پرچار کرتا رہا (۲۰: ۲۰)۔ اور روم میں اپنے کرائے کے مکان میں تعلیم دیتا رہا (۲۸: ۳۰، ۳۱)۔
فلپس نے حبشہ کے ایک خوجہ کو رتھ میں پیغام دیا (۸: ۳۱- ۳۵) اور پولس نے ایک بحری جہاز پر کلام سنایا (۲۷: ۲۱- ۲۶)۔ اِفسس میں وہ ہر روز ایک مدرسے میں بحث کیا کرتا تھا (۱۹: ۹)۔
پولس نے دیوانی عدالتوں میں کلام کی منادی کی۔ فیلکس کے سامنے (۲۴: ۱۰)، فیستُس کے سامنے (۲۵: ۸) اور اگرپا کے سامنے (۲۶: ۱- ۲۹)۔
۸: ۴ میں ہم پڑھتے ہیں کہ ستم رسیدہ ایمان دار جہاں جہاں پراگندہ ہوئے وہاں وہاں «خوش خبری دیتے پھرے۔»
اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہیں سوچتے تھے کہ پیغام کا اعلان کسی خاص «تقدیس شدہ» عمارت کے اندر محدود ہونا چاہئے۔ اُن کو جہاں کہیں لوگ مل جاتے تھے، اُن کے لئے موقع اور دلیل ہوتی تھی کہ مسیح کو رُوشناس کرائیں۔ اے۔بی۔ سمپسن (Simpson)کہتا ہے کہ
«اِبتدائی مسیحی ہر صورتِ حال کو گواہی دینے کا موقع گردانتے تھے، بلکہ جب اُن کو حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے پیش کیا جاتا تھا تو اُن کو خیال تک نہیں گزرتا تھا کہ ہم اِس موضوع سے کنارہ کر کے مسیح کے ساتھ اپنے تعلق کا اِنکار کریں۔ وہ نتائج سے خوف زدہ نہیں ہوتے تھے۔ اُن کے لئے تو یہ بادشاہوں اور حاکموں کو خوش خبری سنانے کا ایک اچھا موقع ہوتا تھا، جن تک وہ کسی اَور طرح پہنچ نہیں سکتے تھے۔ عین ممکن ہے کہ خدا ہر اِنسان کو ہمارا راستہ کاٹنے کی صرف اِس لئے اِجازت دیتا ہے تاکہ ہمیں موقع مل جائے کہ اُس کے راستے میں کوئی برکت چھوڑ جائیں اور اُس کے دل اور زندگی میں کچھ اثر کریں جس سے وہ خدا کے نزدیک آ جائے۔»
خداوند یسوع نے اُن کو مقرر کر کے اِرشاد کیا تھا: «تم تمام دُنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے اِنجیل کی منادی کرو» (مرقس ۱۶: ۱۵)۔ اعمال کی کتاب اِس حکم پر عمل ہوتا دکھاتی ہے۔
ہم یہ کہنا بھی بجا سمجھتے ہیں کہ اعمال کی کتاب میں اکثر و بیشتر منادی بے ساختہ اور بغیر تیاری کے ہوئی۔ اکثر پیغام تیار کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا تھا۔ رسولوں کا پیغام «گھڑی بھر کی کارکردگی نہیں بلکہ زندگی بھر کی تیاری» کا مظہر ہوتا تھا۔ وعظ تیار نہیں ہوتا تھا، واعظین تیار ہوتے تھے۔
۱۸: ۱ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پولس اتھینے سے اِس لئے چلا گیا کہ منادی کے نتائج خاطر خواہ نہیں تھے۔ لیکن ہم اِس خیال کو ترجیح دیتے ہیں کہ روح القدس نے اُسے ہدایت کی کہ مغرب کی طرف کرنتھس جائے۔ یہ شہر اخیہ کا صدر مقام تھا اور حرام کاری کے لئے بدنامِ زمانہ تھا۔ ضرور تھا کہ یہاں اِنجیل کی بشارت دی جائے اور کلیسیا قائم کی جائے۔
۱۸: ۲، ۳ کرنتھس میں پولس نے اکوِلہ اور پرسِکلہ نامی ایک جوڑے سے دوستی بڑھائی جو زندگی بھر قائم رہی۔ اکولہ … ایک یہودی تھا جس کی پیدائش پنطس میں ہوئی تھی۔ پنطس ایشیائے کوچک کا شمال مشرقی صوبہ تھا۔ اِکولہ اور اُس کی بیوی نے رومہ میں رہائش اِختیار کر لی تھی، لیکن قیصر کلودیس کے ایک یہود مخالف فرمان کی وجہ سے اُن کو وہاں سے نکلنا پڑا۔ چونکہ کرنتھس روم سے مشرق کو جانے والی شاہراہ پر واقع تھا اِس لئے اکوِلہ وہاں قیام پذیر ہو گیا اور خیمہ دوزی کا کام کرنے لگا۔ پولس کا پیشہ بھی خیمہ دوزی تھا۔ اِس لئے وہ بھی اُن کے ساتھ رہ کر یہی کام کرنے لگا۔
«زندگی کے بہترین مکاشفات ہم پر اُس وقت ہوتے ہیں جب کہ ہم اپنے فرائض کے میدانوں میں ہوتے ہیں۔ اپنی ہر روز کی روزی کمانے پر توجہ دیں۔ اور اپنی مشقتوں کے دوران آپ کو بڑی بڑی برکات ملیں گی، اور عمدہ عمدہ رویا دیکھیں گے … دُکان یا دفتر یا گودام خدا کے گھر جیسا بن جائے گا۔ اپنا کام فرض شناسی اور تندہی سے کریں اِسی میں آپ کو نایاب روحانی رفاقت ملے گی جیسے اکوِلہ اور پرسکلہ کو ملی تھی !» ڈی۔ٹی۔ینگ (Young)۔
بیان سے پتا نہیں چلتا کہ اکولہ اور پرسکلہ پولس کی ملاقات سے پہلے ہی مسیحی تھے یا وہ اُس کی خدمت کے وسیلے سے نجات پانے والوں میں شامل ہوئے۔ زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ وہ کرنتھس میں آتے وقت مسیحی تھے۔
۱۸: ۴ پولس «ہرسبت کو عبادت خانے میں بحث کرتا اور یہودیوں اور یونانیوں کو قائل کرتا تھا» کہ یسوع واقعی خدا کا مسیح ہے۔ یونانیوں سے مراد وہ یونانی ہیں جنہوں نے یہودی مذہب کو اِختیار کیا ہوا تھا۔
۱۸: ۵ پولس، سیلاس اور تیمتھیس کو بیریہ میں چھوڑ آیا تھا۔ اتھینے سے اُس نے پیغام بھیجا تھا کہ میرے ساتھ آ ملو۔ چنانچہ وہ کرنتھس میں اُس سے آ ملے۔
اُن کی آمد پر «پولس کلام سنانے کے جوش سے مجبور» ہوا۔ مراد یہ ہے کہ خداوند نے اُس کو بڑا بوجھ دیا تھا کہ بڑی جاں فشانی سے کلام سنائے اور «یہودیوں کے آگے گواہی دے …کہ یسوع ہی مسیح ہے»۔ شاید اِس کا مطلب یہ ہو کہ اب رسول خیمہ دوزی میں وقت نہیں لگاتا تھا بلکہ پورا وقت اِنجیل کی منادی پر صرف کرتا تھا۔
تقریباً یہی وقت تھا کہ پولس نے تھسلنیکیوں کو پہلا خط لکھا (تقریباً ۵۲ء)۔
۱۸: ۶ ایمان نہ لانے والے یہودی پولس «کی مخالفت کرنے اور کفر بکنے لگے» یا طعن زَنی کرنے لگے۔ خوش خبری کو ردّ کرنا دراصل خود اپنی مخالفت کرنا ہے۔ ایمان نہ لانے والا کسی دوسرے کو نہیں اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
«پولس نے اپنے کپڑے جھاڑ کر اُن سے کہا، تمہارا خون تمہاری ہی گردن پر۔ مَیں پاک ہوں۔ اب سے غیر قوموں کے پاس جائوں گا۔» کپڑے جھاڑنا ایک اِظہاری عمل تھا جس کا مطلب تھا اب میرا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔ لیکن اِس بات نے اُسے ایک اَور شہر یعنی اِفسس میں عبادت خانے میں جانے سے نہیں روکا (۱۹: ۸)۔
رسول کے الفاظ ہر ایمان دار کے لئے سنجیدہ یاد دہانی ہیں کہ ایک مسیحی تمام اِنسانوں کا مقروض ہے۔ اگر وہ اِنجیل کی منادی نہیں کرتا اور یہ قرض ادا نہیں کرتا تو خدا اُس کو قصوروار ٹھہرائے گا۔ دوسری طرف اگر وہ دیانت داری سے مسیح کی گواہی دیتا ہے مگر اُسے بُری طرح ردّ کیا جاتا ہے تو وہ قصور سے پاک ہے اور مسیح کو ردّ کرنے والا قصور وار ٹھہرتا ہے۔
یہ آیت اِسرائیلی قوم کو الگ رکھنے میں اور غیر قوموں میں اِنجیل کی منادی کرنے میں ایک اَور قدم کی نشان دہی کرتی ہے۔ خدا کا حکم تھا کہ خوش خبری پہلے یہودیوں کے پاس جائے۔ لیکن اعمال کی ساری کتاب میں یہودی قوم اِس پیغام کو ردّ کرتی چلی جاتی ہے۔ اب خدا کا روح بڑے افسوس کے ساتھ اِس قوم سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
۱۸: ۷، ۸ یہودیوں کے ہنگاموں سے دل برداشتہ ہو کر پولس رسول «یوستُس» کے گھر چلا گیا۔ اِس شخص نے غیرقوم سے یہودی مذہب کو قبول کر لیا تھا۔ اُس کا «گھر … عبادت خانے سے ملا ہوا تھا»۔ پولس رسول نے اِس سے اپنی خدمت جاری رکھی۔ اُسے بڑی خوشی ہوئی کہ «عبادت خانے کا سردار کرسپُس اپنے تمام گھرانے سمیت خداوند پر ایمان لایا»۔ اِسی طرح بہت سے کرنتھی بھی نجات دہندہ پر ایمان لائے اور بپتسمہ لیا۔ پولس نے کرسپُس اور چند دوسرے افراد کو بپتسمہ دیا (۱۔کرنتھیوں ۱: ۱۴- ۱۶)۔ لیکن اُس کا عام دستور یہ تھا کہ کسی دوسرے ایمان دار سے بپتسمہ دلواتا تھا۔ اُسے خدشہ تھا کہ لوگ میرے گرد ایک پارٹی بنا لیں گے اور خداوند یسوع کے لئے اُن کے ایمان اور وفاداری میں خلل پڑے گا۔
۱۸: ۹، ۱۰ «خداوند نے رات کو رُئویا میں پولس سے کہا، خوف نہ کر۔» خدا باپ نے اُس کی حوصلہ افزائی کی۔ اُسے یقین دلایا کہ ڈرنے اور خوف کھانے کی کوئی بات نہیں۔ خدا کی حضوری اور تحفظ کے یقین کے ساتھ رسول کو کلام کی منادی کرتے رہنا چاہئے۔ اُس شہر میں … بہت سے لوگ تھے جو خداوند کے تھے __ اِس مفہوم میں کہ وہ اُن کی زندگیوں میں کام کر رہا تھا اور بالآخر وہ اُس پر ایمان لائیں گے۔
۱۸: ۱۱ پولس نے کرنتھس میں ڈیڑھ برس قیام کیا اور اُن کو خدا کا کلام سناتا رہا۔ کرنتھیوں کے نام پہلے اور دوسرے خط میں اِس عرصے کے بارے میں نہایت قیمتی مواد ملتا ہے جس سے سارا پس منظر واضح ہو جاتا ہے۔
۱۸: ۱۲- ۱۶ غالباً پولس کے کرنتھس کے قیام کے آخری دنوں میں (تقریباً ۵۳ء) گلیو کو اخیہ کا صوبہ دار مقرر کیا گیا۔ یہودیوں نے سوچا کہ نیا صوبے دار، ہمارا طرف دار ہو گا۔ چنانچہ وہ «ایکا کر کے پولس پر چڑھ آئے» اور اُسے کرنتھس شہر کے چوک میں گلیو کی عدالت میں پیش کیا۔ اِلزام یہ تھا کہ «یہ شخص لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ (یہودی) شریعت کے برخلاف خدا کی پرستش کریں۔» اِس سے پیشتر کہ رسول کو اپنا دفاع کرنے کا موقع ملتا، گلیو نے بڑی حقارت کے ساتھ عدالت برخاست کر دی۔ اُس نے یہودیوں سے کہہ دیا کہ یہ سراسر تمہاری شریعت کا معاملہ ہے اور ہمارے دائرۂ قانون میں نہیں آتا۔ «اگر کچھ ظلم یا بڑی شرارت کی بات ہوتی» تو گلیو «صبر کر کے» اُن کی سنتا۔ مگر دراصل یہ صرف «لفظوں اور ناموں اور خاص تمہاری شریعت» کا معاملہ تھا۔ صوبے دار کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ ایسی باتوں کا منصف بنے۔ چنانچہ اُس نے مقدمہ خارج کر دیا۔
۱۸: ۱۷ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یونانیوں نے سوستھنیس کو اِس لئے مارا کہ وہ ایسا ہلکا الزام لگا کر پولس کو گلیو کی عدالت میں لایا تھا۔ «گلیو نے اِن باتوں کی کچھ پروا نہ کی تھی۔» مراد یہ نہیں کہ اُسے خوش خبری سے کچھ دلچسپی نہ تھی، حالانکہ یہ بات بھی درست ہے، دراصل وہ یہودی شریعت اور رسم و رواج میں اُلجھنا نہیں چاہتا تھا۔
۱۸: ۱۸ اِن واقعات کے بعد بھی پولس بہت دن کرنتھس میں رہا۔ شاید اِسی دوران اُس نے تھسلنیکیوں کے نام دوسرا خط لکھا۔
بالآخر جب وہ کرنتھس سے رُخصت ہوا تو پرسکلہ اور اَکولہ اُس کے ساتھ تھے۔ وہ جہاز پر سوریہ کو روانہ ہوا۔ اُس کا ارادہ تھا کہ دوبارہ انطاکیہ جائے۔ تبصرہ نگاروں میں اِس بات پر اِختلاف پایا جاتا ہے کہ جس نے کنخریہ میں سر منڈایا وہ پولس تھا یا اکوِلہ (ہمارے اُردو ترجمے میں ایسا ابہام نہیں ہے۔ الفاظ اور بیان کی ترتیب سے صاف واضح ہے کہ وہ پولس ہی تھا۔ مترجم)۔ کنخریہ کرنتھس کی مشرقی بندرگاہ تھی۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مَنّت کا انداز بالکل یہودی تھا اور پولس جیسے روحانی طور سے پختہ شخص کے لئے مناسب نہیں تھا۔ غالباً اِس مسئلے کا کوئی شافی حل پیش نہیں کیا جا سکتا۔
۱۸: ۱۹، ۲۰ جب جہاز اِفسس میں لنگر انداز ہوا تو پرسکلہ اور اکولہ وہیں قیام کرنے کے اِرادے سے اُتر گئے۔ پولس نے جہاز کے مختصر سے قیام سے فائدہ اُٹھایا اور «عبادت خانے میں جا کر یہودیوں سے بحث کرنے لگا»۔ حیرانی کی بات ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ پولس کچھ عرصہ اُن کے پاس ٹھہرے مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔
۱۸: ۲۱ جہاز روانہ ہونے کو تھا۔ مگر پولس نے وعدہ کیا کہ «اگر خدا نے چاہا تو تمہارے پاس پھر آئوں گا»۔ ابھی تو اُسے یروشلیم جانا تھا کیونکہ عید آ رہی تھی۔
۱۸: ۲۲ جہاز کا اگلا پڑائو قیصریہ میں تھا۔ وہاں سے رسول اُتر کر «یروشلیم کو گیا اور کلیسیا کو سلام کر کے انطاکیہ میں آیا۔» اور یہ انطاکیہ میں اُس کا آخری پھیرا ثابت ہوا۔
یوں پولس کا دوسرا تبلیغی دَورہ اِختتام کو پہنچا۔
ز۔ پولس کا تیسرا بشارتی دَورہ: ایشیائے کوچک اور یونان (۱۸: ۲۳- ۲۱: ۲۶)
۱۸: ۲۳ انطاکیہ میں طویل قیام کرنے کے بعد پولس اپنے تیسرے اور وسیع تبلیغی دَورے پر جانے کو تیار ہوا۔ اِس کا بیان ۱۸: ۲۳ سے ۲۱: ۱۶ تک پھیلا ہوا ہے۔
پہلے علاقے جہاں پولس کو جانا تھا گلتیہ … اور فروگیہ تھے۔ رسول ایک ایک کر کے وہاں کی کلیسیائوں میں گیا «اور شاگردوں کو مضبوط کرتا گیا۔»
۱۸: ۲۴- ۲۶ اب منظر بدل کر دوبارہ اِفسس میں آتا ہے جہاں ہم نے اکولہ اور پرسکلہ کو چھوڑا تھا۔ «اپلوس نام ایک … خوش تقریر» مبشر وہاں آ گیا۔ وہ کتابِ مقدس یعنی پرانے عہدنامے کا ماہر تھا۔ پیدائش کے اِعتبار سے وہ اِسکندریہ کا یہودی تھا۔ اِسکندریہ شمالی مصر کا دارالحکومت تھا۔ اگرچہ اپلوس کی منادی میں بڑی قوت تھی اور بڑا جوشیلا تھا، لیکن مسیحی ایمان کے بارے میں اُس کا علم قدرے ادھورا تھا۔ اُس نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی خدمت کے بارے میں خوب تعلیم پائی تھی اور جانتا تھا کہ یوحنا مسیحِ موعود کی آمد کی تیاری کے لئے اسرائیلی قوم کو کس طرح توبہ کی طرف بلاتا تھا۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اُسے مسیحی بپتسمہ یا مسیحی عقیدے کی دوسری باتوں کا کوئی علم نہ تھا۔ جب پرسکلہ اور اکولہ نے عبادت خانے میں اُس کی باتیں سنیں تو جان گئے کہ اُسے اگلی تعلیم کی ضرورت ہے۔ چنانچہ وہ بڑی محبت سے «اُسے اپنے گھر لے گئے اور اُس کو خدا کی راہ اَور زیادہ صحت سے بتائی»۔ اِس خوش تقریر مبشر کے حق میں یہ بات بہت قابلِ تعریف ہے کہ وہ ایک خیمہ دوز اور اُس کی بیوی سے سیکھنے پر آمادہ ہوا۔
۱۸: ۲۷، ۲۸ وہ سیکھنے والی روح رکھتا تھا اِسی وجہ سے اِفسس کے بھائیوں نے اُس کی خواہش کا احترام کیا اور اُس کی ہمت بڑھائی۔ وہ کرنتھس جا کر کلام کی منادی کرنا چاہتا تھا۔ اِفسس کے بھائیوں نے اُس کے لئے ایک تعریفی خط لکھ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کرنتھس کے ایمان داروں کے لئے مددگار ثابت ہوا۔ کیونکہ «وہ کتابِ مقدس سے یسوع کا مسیح ہونا ثابت کر کے بڑے زور شور سے (کرنتھس کے) یہودیوں کو علانیہ قائل کرتا رہا۔»
۱۹: ۱ جب پولس پہلی دفعہ «اِفسس» گیا تھا تو اُس نے یہودیوں سے وعدہ کیا تھا کہ خدا نے چاہا تو مَیں پھر آئوں گا۔ اِس وعدے کو پورا کرنے کے لئے وہ گلتیہ اور فروگیہ کے علاقے سے روانہ ہو کر اور اندرونِ ملک جانے والی اور پہاڑی علاقے میں سے گزرنے والی شاہراہ پر سفر کرتا ہوا اِفسس پہنچا۔ یہ شہر رومی صوبے دار کے زیر اِنتظام ایشیا کے مغربی ساحل پر واقع تھا۔ وہاں اُس کی ملاقات کئی آدمیوں سے ہوئی جو کہتے تھے کہ ہم شاگرد ہیں۔ اُن سے گفتگو کے دوران پولس کو معلوم ہوا کہ مسیحی ایمان کے بارے میں اُن کا ایمان ادھورا اور ناقص ہے۔ اُسے شک پڑ گیا کہ آیا اِن کو کبھی روح القدس بھی ملا ہے یا نہیں۔
۱۹: ۲ چنانچہ اُس نے اُن سے پوچھا کہ «کیا تم نے ایمان لاتے وقت روح القدس پایا؟» اِس آیت میں یہ تصور نہیں کہ روح القدس فضل کا کوئی ایسا کام ہے جو نجات کے بعد ہوتا ہے۔ جونہی کوئی گنہگار نجات دہندہ کا یقین کرتا اور ایمان لاتا ہے وہ روح القدس پاتا ہے۔
اِن شاگردوں کا جواب یہ تھا کہ «ہم نے تو سنا بھی نہیں کہ روح القدس نازل ہوا ہے۔» چونکہ یہ آدمی یوحنا بپتسمہ دینے والے کے شاگرد تھے (آیت ۳) اِس لئے اُن کو پرانے عہدنامے سے روح القدس کا علم ہونا چاہئے تھا۔ اِتنا ہی نہیں، بلکہ یوحنا اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتا تھا کہ جو میرے بعد آتا ہے وہ روح القدس سے بپتسمہ دے گا۔ جس بات کا اِن شاگردوں کو علم نہیں تھا، یہ تھی کہ پنتکست کے دن روح القدس دیا جا چکا تھا۔
۱۹: ۳، ۴ رسول نے بپتسمے کا سوال اُٹھایا تو معلوم ہوا کہ یہ آدمی صرف «یوحنا کے بپتسمہ» سے واقف ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اُن کو صرف اِتنا ہی علم تھا کہ مسیحِ موعود آنے والا ہے۔ اور اُنہوں نے تیاری کی خاطر توبہ کا بپتسمہ لیا تھا کہ جب مسیحِ موعود آئے گا تو ہم اُس کو بادشاہ قبول کریں گے۔ اُن کو تاحال خبر نہ تھی کہ مسیح موا، دفن ہوا، اور مردوں میں سے زندہ ہو کر واپس آسمان پر بھی جا چکا ہے، اور کہ اُس نے روح القدس نازل کیا ہے۔ پولس نے یہ ساری باتیں اُن کو بتائیں اور سمجھائیں۔ پھر اُن کو یاد دلایا کہ یوحنا نے صرف توبہ کا بپتسمہ دیا تھا۔ پھر کہا کہ اب «یسوع (مسیح) پر ایمان لانا۔»
۱۹: ۵ «اُنہوں نے یہ سن کر خداوند یسوع کے نام کا بپتسمہ لیا۔» اعمال کی کتاب کے شروع سے آخر تک زور یسوع کی خداوندیت پر ہے۔ اِس لئے یہاں یوحنا کے شاگردوں کو «یسوع کے نام کا بپتسمہ» دیا گیا۔ یہ علانیہ اِقرار تھا کہ وہ اپنی زندگیوں میں یسوع مسیح کو خداوند مانتے ہیں۔
۱۹: ۶، ۷ «جب پولس نے اُن پر ہاتھ رکھے تو روح القدس اُن پر نازل ہوا۔» اعمال کی کتاب میں یہ چوتھا واضح واقعہ ہے جب «روح القدس» عطا کیا گیا۔ پہلا باب ۲ میں ہے، جب پنتکست کے دن روح القدس نازل ہوا۔ اِس میں بنیادی طور پر یہودی شامل تھے۔ دوسرا واقعہ باب ۸ میں ہے، جب پطرس اور یوحنا کے ہاتھ رکھنے سے سامریوں پر روح القدس نازل ہوا۔ تیسرا واقعے باب ۱۰ میں ہے، جب یافہ میں کرنیلیس کے گھرانے پر یہ فضل ہوا۔ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں ہر واقعہ میں «روح القدس» کے پانے کے واقعات کی ترتیب الگ الگ ہے۔ یہاں باب ۱۹ (چوتھا واقعہ) میں ترتیب ِواقعات یوں ہے:
- ایمان
- دوبارہبپتسمہ
- رسولوںکاہاتھرکھنا
- روحالقدسکاپانا۔
پولس کے ہاتھ رکھنے سے یوحنا کے شاگردوں کو روح القدس دے کر خداوند نے بعد میں اُٹھنے والے اِس اعتراض کی پیش بندی کر دی کہ پولس کسی طرح پطرس، یوحنا یا کسی دوسرے رسول سے کم تر ہے۔
جب یوحنا کے شاگردوں کو روح القدس ملا تو «وہ طرح طرح کی زبانیں بولنے اور نبوت کرنے لگے»۔ نیا عہدنامہ دیئے جانے سے پیشتر کے زمانے میں خدا کا یہ طریقہ تھا کہ ایسی فوق الفطرت قوتیں دیتا تھا۔ آج ہم ایمان لاتے وقت «روح القدس» پاتے ہیں۔ نئے عہدنامے کے صحائف اِس پر گواہی دیتے ہیں۔
جس لمحے کوئی شخص خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتا ہے، اُسی لمحے روح القدس اُس کے اندر سکونت کرنے لگتا ہے، اُس پر پاک روح کی مُہر ہو جاتی ہے، اُس کو روح بیعانہ میں مل جاتا ہے۔ اُس کو روح القدس کا مسح حاصل ہوتا ہے اور وہ روح کے بپتسمے سے مسیح کے بدن میں شامل ہو جاتا ہے۔ البتہ اِن باتوں سے یہ اِنکار مقصود نہیں کہ بعد میں ایمان دار کی زندگی میں روحانی بحران نہیں آتے۔ اِس بات سے بھی اِنکار نہیں کہ بعض اوقات افراد پر روح خاص خاص طریقے سے نازل ہوتا ہے، اُن کو خاص خاص خدمات کی توفیق عطا کرتا ہے، اُن کو ایمان میں جرأت اور دلیری بخشتا ہے، اور لوگوں کے لئے ہمدردی اُن پر اُنڈیلتا ہے۔
۱۹: ۸ پولس اِفسس کے «عبادت خانہ میں جا کر تین مہینے تک دلیری سے بولتا اور خدا کی بادشاہی کی بابت بحث کرتا اور لوگوں کو قائل کرتا رہا»۔ بحث کرنے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ رسول لوگوں کے ذہن اور عقل کو مخاطب کرتا تھا۔ قائل کرنا سے مراد ہے کہ وہ اُن کے ارادے کو متاثر کرتا تھا تاکہ وہ ایمان لائیں کہ یسوع ہی مسیح ہے۔ اُس کی ساری گفتگو کا مرکزی موضوع خدا کی بادشاہی کی باتیں ہوتا تھا۔
۱۹: ۹، ۱۰ جب یہودیوں میں سے بعض سخت دل ہو گئے یعنی اُن کا ذہن اور عقل پولس کی باتوں کو قبول کرنے سے اِنکار کرتی تھی اور نافرمان ہو گئے یعنی ایمان لانے کا اِرادہ نہیں کرتے تھے، جب وہ لوگوں کو پولس کے خلاف اُبھارنے لگے اور اِس طریق کو بُرا کہنے لگے تو پولس نے عبادت خانے سے کنارہ کر لیا، اور شاگردوں کو یہودیوں سے الگ کر لیا۔ وہ اُنہیں ترنُس کے مدرسہ میں لے گیا۔ یہاں اُسے اُن کو ہر روز تعلیم دینے کی آزادی تھی۔ عام خیال کے مطابق ترنُس یونانی تھا۔ وہ فلسفہ اور علمِ بیان کی تعلیم دیا کرتا تھا۔ دو برس تک رسول شاگرد بناتا اور اُنہیں دوسروں کو تعلیم دینے کے لئے بھیجتا رہا۔ اِس کے نتیجے میں «آسیہ کے رہنے والوں، کیا یہودی کیا یونانی سب نے خداوند کا کلام سنا»۔ اِس طرح پولس کے لئے ایک بڑا اور موثر دروازہ کھل گیا، حالانکہ مخالفین بھی بہت تھے (۱۔کرنتھیوں ۱۶: ۹)۔
۱۹: ۱۱، ۱۲ پولس یسوع مسیح کا شاگرد تھا۔ اُس کو نشان اور عجیب کام دکھانے کی توفیق اور قوت حاصل تھی۔ یہ اُس کی رسالت کا ثبوت اور اُس کے پیغام کی تصدیق تھی۔ اُس سے نکلنے والی قوت اِتنی بڑی تھی کہ لوگ «رومال اور پٹکے اُس کے بدن سے چھوا کر» لے جاتے تھے۔ جب وہ «بیماروں پر ڈالے جاتے تھے تو اُن کی بیماریاں جاتی رہتی تھیں اور بُری روحیں اُن میں سے نکل جاتی تھیں»۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی اِن معجزات کو دُہرانا ممکن ہے؟ خدا کا روح القدس اِختیارِ مطلق رکھتا ہے۔ وہ جیسا چاہے کر سکتا ہے۔ البتہ یہ ماننا چاہئے کہ رسولوں اور اُن کے نائبین کو فوق الفطرت قوتیں عطا کی گئی تھیں۔ چونکہ آج لغوی معنوں میں ہمارے درمیان ’رسول‘ موجود نہیں اِس لئے یہ اِصرار کرنا بے سود ہے کہ اُن کے معجزات جاری و ساری ہیں۔
۱۹: ۱۳، ۱۴ جب بھی خدا قدرت کے ساتھ کام کرتا ہے تو شیطان بھی رُکاوٹ ڈالنے اور مخالفت کرنے کو آ موجود ہوتا ہے۔ جب پولس کلام سنا رہا اور معجزات دکھا رہا تھا تو اِفسس میں بعض یہودی تھے جو جگہ جگہ جا کر «جھاڑ پھونک کرتے پھرتے تھے۔» اُنہوں نے یہ طریقہ اِختیار کر لیا کہ «خداوند یسوع کا نام »جادو کے کلیہ کے طور پر استعمال کرتے اور بُری روحوں کو نکل جانے کا حکم دیتے تھے۔ بعض یہودیوں کو بُری روحیں نکالنے کی قوت حاصل تھی۔ اِس بات کو خداوند یسوع نے بھی تسلیم کیا تھا (لوقا ۱۱: ۱۹)۔
اِن جادوگر یہودیوں میں سکوا کے سات بیٹے بھی شامل تھے۔ اِس شخص کو سردار کاہن مقرر کیا گیا تھا۔ ایک دن اُس کے بیٹے کسی میں سے بدروح کو نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اُنہوں نے بدروح سے کہا، «جس یسوع کی پولس منادی کرتا ہے مَیں تم کو اُسی کی قسم دیتا ہوں۔»
۱۹: ۱۵، ۱۶ اُنہوں نے الفاظ تو ادا کر دیئے لیکن اُن کو قوت حاصل نہ تھی لہٰذا بدروح نے تعمیل نہ کی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بُری روح کا جواب بہت آنکھیں کھولنے والا تھا۔ «یسوع کو تو مَیں جانتی ہوں اور پولس سے بھی واقف ہوں مگر تم کون ہو؟»
یہ کیسی دلچسپ بات ہے کہ پاک کلام بُری روح اور وہ شخص جس پر بُری روح تھی (آیت ۱۶) دونوں میں بہت عمدہ اِمتیاز کرتا ہے۔ اُن کو الگ الگ کرتا ہے۔ آیت ۱۵ میں بُری روح بولی۔ لیکن آیت ۱۶ میں «وہ شخص جس پر بُری روح تھی» خود «کود کر» سکوا کے بیٹوں پر «جا پڑا اور دونوں پر غالب آیا۔» اُن کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اُن کو زخمی کر دیا۔
۱۹: ۱۷ شیطانی قوتوں کی اِس شکست کی خبر سارے علاقے میں پہنچی تو لوگوں پر ایک عجیب «خوف چھا گیا اور خداوند یسوع کے نام کی بزرگی ہوئی»۔ غور کریں، پولس کے نام کو جلال نہیں ملا بلکہ پولس کے نجات دہندہ کو۔
۱۹: ۱۸، ۱۹ جادو کے فن کے ماہرین پر خدا کے روح نے ایسی قدرت سے کام کیا کہ بہت سے لوگ مسیح کی طرف رجوع ہوئے۔ اُنہوں نے «آ کر اپنے اپنے کاموں کا اِقرار اور اظہار کیا»۔ یہ کرنے کے بعد اُنہوں نے اپنے ایمان کا عملی مظاہرہ کیا اور «اپنی اپنی (جادو گری کی) کتابیں اکٹھی کر کے سب لوگوں کے سامنے جلا دیں»۔ اُن کتابوں کی قیمت «پچاس ہزار روپے» تھی۔ حساب لگانا مشکل ہے کہ آج کل کے حساب سے کتنی رقم ہو گی، جب کہ افراطِ زر میں ہزاروں گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ بات کروڑوں تک پہنچے گی۔
۱۹: ۲۰ بت پرستی کی رسمیں ترک کرنے کے اِس واقعے کا بہت چرچا ہوا۔ اور نتیجے میں «خداوند کا کلام زور پکڑ کر پھیلتا اور غالب ہوتا گیا»۔ اگر آج کے مسیحی بھی اپنی گھٹیا کتابوں اور رسالوں کو جلا ڈالیں تو خدا کا کلام یقینا غالب ہوتا جائے گا۔
۱۹: ۲۱ اِفسس میں پولس کے قیام کا وقت ختم ہو رہا تھا۔ اُس نے اِرادہ کیا کہ «مکدنیہ اور اخیہ سے ہو کر یروشلیم کو جائوں گا» اور اِس کے بعد رومہ بھی دیکھنا ضرور ہے۔ اُس کا محبت اور ہمدردی بھرا عظیم دل ہمیشہ اُن مراکز تک پہنچنے کی کوشش کرتا تھا جہاں خوش خبری کا پودا لگایا جا سکے اور جہاں سے وہ آگے پھیل سکے۔
۱۹: ۲۲ اُس نے تیمتھیساور اِراستُس کو اپنے آگے مکدنیہ بھیجا۔ مگر «آپ کچھ عرصہ آسیہ میں رہا»۔ غالباً یہی زمانہ تھا جب اُس نے کرنتھیوں کو پہلا خط لکھا (تقریباً۵۶ء)۔
۱۹: ۲۳- ۲۷ پولس کی خدمت کے نتیجے میں بہت سے اِفسی اپنے بتوں کو چھوڑ کر خداوند کی طرف رجوع ہوئے۔ شہر میں روحانی بیداری ایسے وسیع پیمانے پر پھیلی کہ بت تراشوں کا بازار مندا پڑ گیا۔ جو اِس مندے کی زَد میں آئے اُن میں سے ایک شخص دیمیتریُس نام ایک سنار بھی تھا۔ وہ اَرتمس (یہ بے شمار چھاتیوں والی باروری کی دیوی تھی) دیوی کے «رُوپہلے مندر» بنایا کرتا تھا۔ اِس موقعے پر دیمیتریس نے اپنے ہم پیشہ سارے افراد کو اِکٹھا کیا اور اُن کو اُبھارا کہ رسولوں کے خلاف کوئی فیصلہ کن اِقدام کریں۔ وہ اُن کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہا کہ پولس لوگوں کو اِس بات پر قائل کرنے میں کامیاب رہا ہے کہ «جو ہاتھ کے بنائے ہوئے ہیں وہ خدا نہیں۔» اُس نے اپنی اصل نیت کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ «ہمارا پیشہ بے قدر ہو جائے گا۔» ہمارا کاروبار تباہ ہو جائے گا۔ مزید برآں اُس نے اِسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش بھی کی اور ظاہر کرنے لگا کہ اُسے ارتمس اور اُس کے مندر سے بڑی عقیدت ہے۔
۱۹: ۲۸- ۳۱ سناروں کے اِس اجلاس نے فوراً عوامی ہنگامہ اور بلوہ کی صورت اِختیار کر لی اور تمام شہر اِس میں ملوث ہو گیا۔ تمام لوگ چِلّا چِلّا کر کہنے لگے «اِفسیوں کی اَرتمس بڑی ہے!» پھر اُنہوں نے پولس کے دو ہم سفر ساتھیوں «گیس اور اِرسترخس …کو پکڑ لیا اور ایک دل ہو کر تماشا گاہ (اکھاڑا یا بڑا سٹیڈیم) کو دوڑے»۔ بے شک اُن کا ارادہ اِن دونوں کو جان سے مار ڈالنے کا تھا۔ پولس خود مجمع میں جا کر بات کرنا چاہتا تھا مگر شاگردوں اور آسیہ کے حاکموں (منتخب افسران) نے بھی اُسے ایسا کرنے سے روکا (یہ حاکم دیوی دیوتائوں کے اعزاز میں اپنے پلے سے خرچ کر کے تہواروں اور میلوں کا اہتمام کیا کرتے تھے)۔ شہر کے یہ مربی پولس کے دوست بن گئے تھے۔ اُنہوں نے اُسے سمجھایا کہ تمہارا تماشا گاہ میں داخل ہونا نہایت غیر دانش مندانہ اِقدام ہو گا۔
۱۹: ۳۲ اِس وقت تک مجمع بالکل بے قابو ہو گیا تھا۔ اکثر لوگوں کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ ہم یہاں آئے کیوں ہیں۔ ہر طرف سے متضاد آوازیں آ رہی تھیں۔ ہر طرف بے ہنگم شور اور چیخم دھاڑ مچی ہوئی تھی۔
۱۹: ۳۳، ۳۴ اِسکندر نام ایک یہودی نے آگے بڑھ کر مجمع سے خطاب کرنا چاہا۔ یقینا اُس کا مقصد یہ تھا کہ یہودیوں کا دفاع کرے کہ اِس سارے معاملے میں وہ بے گناہ ہیں۔ لیکن «جب اُنہیں معلوم ہوا کہ یہ یہودی ہے» تو اُنہوں نے اِحتجاج کے شور سے آسمان سر پر اُٹھا لیا اور «کوئی دو گھنٹے تک چِلاتے رہے کہ اِفسیوں کی اَرتمس بڑی ہے۔»
۱۹: ۳۵ اِس نازک موقعے پر شہر کا محرر لوگوں کو خاموش کرانے میں کامیاب ہو گیا۔ اُس کی تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ اِفسیوں کو کسی بات سے ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ «اِفسیوں کا شہر بڑی دیوی اَرتمس کے مندر اور اُس مورت کا محافظ ہے۔» اگرچہ ایشیا کے تیرہ شہر اِس مندر میں دلچسپی رکھتے تھے، لیکن اِس مقدس عمارت کی حفاظت اِفسیوں کی مقدس ذمہ داری تھی۔ مزید برآں اُن کو اَرتمس کی مورت کی حفاظت کرنے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ مانا جاتا تھا کہ یہ مورت آسمان سے گری تھی۔
۱۹: ۳۶- ۴۰ یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اِفسیوں کی مذہبی بنیاد مستحکم ہے اور کوئی بات ارتمس کی عبادت کا تختہ نہیں اُلٹ سکتی محرر نے لوگوں کو بتایا کہ ایسا ہنگامہ کرنا نادانی ہے۔ آخر جن آدمیوں کے خلاف وہ نعرہ بازی کر رہے تھے وہ «نہ مندر کو لُوٹنے والے ہیں نہ ہماری دیوی کی بدگوئی کرنے والے … اگر دیمیتریس اور اُس کے ہم پیشہ» افراد کو کسی سے کوئی جائز شکایت ہے «تو عدالت کھلی ہے اور صوبہ دار»اُن کی شکایت سننے کو «موجود ہے۔» اگر لوگوں کو کوئی اَور شکایت ہے یا فیصلہ طلب مسئلہ درپیش ہے «تو باضابطہ مجلس میں فیصلہ ہو گا۔» مگر وہ تو بلوائیوں کی طرح بے ہنگم جمع ہو گئے تھے۔ اور رومی سلطنت ایسی کارروائیوں کو کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تھی۔ اور اگر اِس بلوہ کے بارے میں جواب طلبی ہو جائے تو کوئی اپنا دفاع نہیں کر سکے گا۔ مزید برآں شہر کا محرر جانتا تھا کہ اگر اِس قسم کے بلوہ کی خبر روم پہنچ گئی تو میری ملازمت بلکہ جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔
۱۹: ۴۱ اب مجمع ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اُس نے مجلس کو برخاست کیا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے۔
«عجیب بات ہے کہ مجمع کے بلوہ نے نہیں بلکہ امن و امان کی خاطر شہر کے محرر کی تقریر نے اِفسس شہر میں پولس کی خدمت کو روک دیا۔ جب تک صحت مند مخالفت کا وجود تھا پولس محسوس کرتا رہا کہ اِفسس میں مواقع کا دروازہ کھلا ہوا ہے (۱۔کرنتھیوں ۱۶: ۸، ۹)۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جب سرکاری محافظت آموجود ہوئی تو پولس وہاں سے آگے بڑھ گیا۔»
لفظ «مجلس» (آیت ۳۲، ۳۹، ۴۱) یونانی کے لفظ «اکلیسیا» (ekklesia) کا ترجمہ ہے اور جس کا مفہوم ہے بلائے ہوئے یا الگ کئے گئے لوگوں کی جماعت۔ نئے عہدنامے کے دوسرے حصوں میں اِسی لفظ کا ترجمہ کلیسیا کیا گیا ہے۔ خواہ اِس لفظ سے جیسا کہ یہاں ہے مراد بت پرست مجمع ہو، یا اِسرائیل کی جماعت جیسا کہ اعمال ۷: ۳۸ میں ہے یا نئے عہدنامے کی کلیسیا، اصل مطلب کا تعین سیاق و سباق سے کیا جائے گا۔ اِکلیسیا کا بہتر ترجمہ جماعت (یا اسمبلی) ہے، کلیسیا نہیں۔ لفظ «چرچ» بمعنی کلیسیا یونانی کے لفظ kuriake سے آیا ہے جس کا مطلب ہے «خدا کی ملکیت ہونا۔» جدید استعمال میں اِس کا مفہوم ایک مذہبی عمارت بھی ہے۔ اِسی لئے بہت سے مسیحی لفظ ’جماعت‘ یا اسمبلی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اِس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ کلیسیا (چرچ) بلائے ہوئے یا الگ کئے گئے لوگوں کا گروہ ہے کوئی عمارت یا فرقہ نہیں۔
۲۰: ۱ اِس آیت میں یہ تاثر ملتا ہے کہ پولس رسول اِفسس سے سیدھا مکدنیہ آیا۔ لیکن ۲۔کرنتھیوں سے پتا چلتا ہے کہ وہ پہلے تروآس کو گیا۔ وہاں اُس کو اِنجیل سنانے کے لئے دروازہ کھلا ملا۔ لیکن وہ ططس سے ملنے اور اُس سے معلوم کرنے کا آرزو مند تھا کہ اہلِ کرنتھس نے میرے پہلے خط کو کیسے قبول کیا ہے۔ جب اُسے ططس تروآس میں نہ ملا تو اُس نے شمال مشرقی کونے سے بحیرۂ اخضر کو پار کیا اور مکدنیہ میں آ گیا۔ وہ یقینا نیاپلُس میں جہاز سے اُترا پھر اندرونِ ملک کو سفر کر کے فلپی پہنچا۔جب وہ «مکدنیہ» کے علاقے میں غالباً فلپی میں تھا تو اُس کی ملاقات ططس سے ہوئی۔ اور کرنتھس کے بارے میں خبروں سے اُس کی بہت دل جمعی اور حوصلہ افزائی ہوئی۔ غالباً اِس موقعے (۵۶ء؟) پر اُس نے کرنتھیوں کو دوسرا خط لکھا (دیکھئے ۲۔کرنتھیوں ۱: ۸، ۹؛ ۲: ۱۲- ۱۴؛ ۷: ۵- ۷)۔
۲۰: ۲، ۳ الف مکدنیہ میں کچھ عرصہ خدمت کرنے کے بعد پولس جنوب کی طرف یونان یا اخیہ کو روانہ ہوا۔ اِس علاقے میں اُس کا قیام تین مہینے تک رہا۔ بلاشبہ زیادہ دیر وہ کرنتھس میں قیام پذیر رہا اور اِسی عرصے کے دوران اُس نے رومیوں کی کلیسیا کو خط لکھا۔ بعض علما کو یقین ہے کہ گلتیوں کو بھی اِسی عرصے کے دوران لکھا تھا۔
۲۰: ۳ ب اصل میں پولس کا منصوبہ یہ تھا کہ کرنتھس سے روانہ ہو کر بحیرۂ اخضر کو پار کر کے سوریہ جائے۔ مگر جب اُسے پتا چل گیا کہ یہودی سازش کر رہے ہیں کہ اِس راستے پر کسی مقام پر مجھے ہلاک کر دیں تو اُس نے منصوبہ تبدیل کر کے پھر شمال کا رخ کیا اور دوبارہ مکدنیہ میں سے گزرا۔
۲۰: ۴ اِس موقعے پر ہمارا تعارف پولس کے چند ہم سفر ساتھیوں سے کرایا گیا ہے۔ بیاں ہوتا ہے کہ وہ «آسیہ تک اُس کے ساتھ گئے»۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ اِن میں سے چند ایک اُس کے ساتھ روم تک بھی گئے۔
- بیریہ کا سوپترس: غالباً یہ وہ شخص تھا جس کا ذکر رومیوں ۱۶: ۲۱ میں سوسپطرس کے نام سے کیا گیا ہے اور جو پولس کا رِشتہ دار تھا۔
- ارِسترخُس: یہ تھسلنیکے کا باشندہ تھا۔ اِفسس کے ہنگامہ (اعمال ۱۹: ۲۹) میں اِس کی جان بال بال بچی تھی۔ بعد میں ہم پڑھتے ہیں کہ روم میں یہ پولس کے ساتھ قید بھی تھا (فلیمون آیت ۲۴؛ کلسیوں ۴: ۱۰)۔
- سکندُس: یہ بھی تھسلنیکے کا باشندہ تھا۔ وہ پولس کے ساتھ آسیہ تک اور غالباً تروآس یا ملیتے تک بھی گیا۔
- گیُس: یہ «دِربے» کا رہنے والا تھا۔ اِس کو مکدنی گیس کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہئے جس کو اِفسس کے بلوائیوں نے پکڑ لیا تھا (اعمال ۱۹: ۲۹)۔ ایک اَور گیُس کا ذکر بھی آتا ہے جو کرنتھس میں رہائش پذیر تھا اور پولس کے وہاں قیام کے دوران اُس کا میزبان رہا (رومیوں ۱۶: ۲۳)۔ یوحنا کا تیسرا خط گیُس نام ایک آدمی کو لکھا گیا تھا جو اِفسس کے قریب کسی شہر میں رہتا تھا۔ گیُس ایک مقبولِ عام نام تھا۔
- تیمتھیس: یہ شخص نہ صرف «آسیہ تک» پولس کے «ساتھ گیا» بلکہ اُس کی پہلی گرفتاری اور قید کے دوران روم میں اُس کے ساتھ تھا۔ بعد میں اُس نے پولس کے ساتھ آسیہ کے اُس علاقے کا دَورہ کیا جو صوبے دار کے زیرِ حکم تھا۔ تیمتھیس کے نام اپنے دوسرے خط میں پولس اُس سے دوبارہ ملاقات کرنے کی خواہش کا اِظہار کرتا ہے۔ مگر ہمیں علم نہیں کہ یہ خواہش پوری ہوئی یا نہیں۔
- تُخِکُس: وہ ایشیائے کوچک کا رہنے والا تھا۔ غالباً ملیتے تک رسول کے ساتھ گیا۔ بعد میں وہ روم میں پولس سے آ ملا اور بیان کیا گیا ہے کہ اُس کی دوسری گرفتاری تک اور قید کے دوران وہ پولس کے ساتھ محنت اور مشقت کرتا رہا۔
- تُرُفِمُس: ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غیر یہودی تھا۔ اُس کا گھر ایشیائے کوچک میں اِفسس شہر میں تھا۔ وہ پولس کے ساتھ یروشلیم گیا اور غیر ارادی طور پر رسول کی حراست کا باعث بن گیا۔ اِس کا ذکر ۲۔تیمتھیس۴: ۲۰ میں بھی آیا ہے۔
۲۰: ۵، ۶ لگتا ہے کہ یہ سات بھائی پولس کے آگے آگے سفر کر کے تروآس گئے جب کہ پولس اور لوقا فلپی میں ٹھہرے ہوئے تھے (ہمیں یقین ہے کہ لوقا پولس رسول کے ساتھ تھا کیونکہ آیت ۵ میں اِسمِ ضمیر «ہماری» اور آیت ۶ میں «ہم» استعمال ہوا ہے)۔ «عید فطیر کے دنوں کے بعد» یعنی عید فسح کے بعد پولس اور لوقا مکدنیہ سے جہاز میں سوار ہو کر تروآس کو روانہ ہوئے۔ عام طور سے اِس سفر میں پانچ دن نہیں لگتے تھے۔ تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
۲۰: ۷- ۹ آیت ۶ اور ۷ کا مقابلہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول ارادتاً سات دن تک تروآس میں رُکا رہا تاکہ خداوند کے دن روٹی توڑنے کے وقت وہاں موجود ہو۔ آیت ۷ سے یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی دَور کے مسیحیوں کا دستور تھا کہ« ہفتہ کے پہلے دن» جمع ہوتے تھے تاکہ عشائے ربانی کی رسم ادا کریں۔
«پولس … آدھی رات تک کلام کرتا رہا۔» اِس بات سے ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوتی۔ جب کلیسیا کا روحانی درجہ حرارت بلند ہوتا ہے تو خدا کا روح گھڑیوں کے بندھن سے آزاد ہو کر پوری آزادی سے کام کرتا ہے۔ رات آگے بڑھتی گئی تو بالاخانہ میں گرمی اور حبس میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ غالباً «بہت سے چراغ» بھی اِس اضافے میں اپنا حصہ ادا کر رہے تھے اور لوگوں کی بڑی تعداد کے باعث بھی فضا بوجھل ہو گئی۔ «اور یوتخُس نام ایک جوان (کھلی) کھڑکی میں بیٹھا تھا … وہ نیند کے غلبہ میں تیسری منزل سے گر پڑا۔» اِتنی بلندی سے گرنے کے باعث اُسے ایسی چوٹ آئی کہ مر گیا۔
۲۰: ۱۰ مگر پولس اُتر کر نیچے گیا اور اُس نوجوان کی لاش سے لپٹ گیا۔ یاد رہے کہ پرانے زمانے کے نبی بھی ایسا کرتے تھے۔ پھر وہ لوگوں سے کہنے لگا کہ اِس معاملے میں کوئی شور و غل نہ کریں کیونکہ اب یوتخُس جیتا ہے۔ پولس کی بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کی فکر مندی غیر ضروری تھی کیونکہ وہ جوان مرا نہیں تھا۔ «اِس میں جان ہے۔» لیکن آیت ۹ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ مر چکا تھا۔ ایک رسول کی قوت سے کام لیتے ہوئے پولس نے اُس کی زندگی معجزانہ بحال کی تھی۔
۲۰: ۱۱، ۱۲ پولس بالا خانے میں واپس آیا تو اُنہوں نے روٹی توڑی (آیت ۱۱)۔ یعنی عشائے ربانی کی رسم ادا کی جس کی خاطر وہ باہم جمع ہوئے تھے (آیت ۷)۔ اِس کے بعد اُنہوں نے عام کھانا کھایا جس کو ہم «اگاپے (agape۔ خد اکی محبت) کی دعوت» یا «ضیافت ِمحبت» (بعض کلیسیائیں ہندی نام «پریم بھوجن» بھی استعمال کرتی ہیں) یا «رفاقتی کھانا» کہتے ہیں۔ کلیسیا کے اِبتدائی دَور میں رفاقتی کھانا عشائے ربانی کے ساتھ ہی کھایا جاتا تھا۔ لیکن کچھ خرابیاں در آئیں (۱۔کرنتھیوں ۱۱: ۲۰- ۲۲) اور رفتہ رفتہ یہ دستور ترک کر دیا گیا۔
رات بھر کی میٹنگ کے بعد پولس نے تروآس کے ایمان داروں کو الوداع کہا۔ تروآس کے بھائی اِس میٹنگ کو ساری عمر نہیں بھولے ہوں گے۔
۲۰: ۱۳- ۱۵ تروآس سے پولس پیدل روانہ ہوا اور خاکنائے کا ۳۲ کلومیٹر راستہ پیدل طے کر کے اسُّس پہنچا۔ اُس کے ہم سفر ساتھی «جہاز پر» خاکنائے کے گرد چکر کاٹ کر جنوبی طرف وہاں پہنچے اور اُسے بھی جہاز پر چڑھا لیا۔ اُس نے یہ سفر اکیلے اور پیدل طے کیا۔ غالباً وہ تنہائی میں خدا کے کلام پر غور و خوض کرنا چاہتا تھا۔
ایشیائے کوچک کے ساحل کے ساتھ ساتھ جنوب کو (جہاز میں) سفر کر کے پہلے وہ متلینے آئے جو جزیرہ لسبوس (Lesbos) کا بڑا شہر تھا۔ اگلی رات کو وہ جزیرہ خِیُس کے قریب لنگر انداز ہوئے۔ ایک دن کے اَور سفر کے بعد وہ سامُس کے جزیرہ کے سامنے آئے۔ آخر کار یہ مسافر میلیتُس میں آ گئے۔ یہ بندرگاہ ایشیائے کوچک کے جنوب مغربی ساحل پر اِفسس سے ۵۸ کلومیٹر جنوب میں واقع تھی۔
۲۰: ۱۶ پولس اِرادتاً اِفسس نہیں گیا بلکہ اُس کے پاس سے گزرنے کا ارادہ کیا کیونکہ اُسے خدشہ تھا کہ وہ گیا تو زیادہ وقت لگ جائے گا۔ وہ اِس لئے «جلدی کرتا تھا کہ … پنتکست کا دن یروشلیم میں» منائے۔
۲۰: ۱۷ میلیتُس میں اُترنے کے بعد پولس نے اِفسس کے بزرگوں کو کہلا بھیجا کہ آ کر اُس سے ملیں۔ بے شک اُن تک پیغام پہنچنے میں اور پھر اُن کے جنوب کو سفر کر کے آنے میں بہت وقت لگ گیا۔ تاہم اُن کو اِس کا بڑا اجر ملا کہ اُس عظیم رسول کی زبان سے ایک شاندار پیغام سن سکے۔ اِس پیغام میں اُس نے خداوند یسوع مسیح کے ایک مثالی خادم کی بہت عمدہ تصویر پیش کی ہے۔ ہمیں ایک ایسا آدمی نظر آتا ہے جو دل و جان سے دیوانگی کی حد تک نجات دہندہ کے لئے وقف تھا۔ وہ وقت، بے وقت محنت میں لگا رہتا تھا۔ وہ اَن تھک، مستعد اور کسی سے نہ دبنے والا کارندہ تھا۔ سچی حلیمی اور اِنکساری اُس کا طرۂ اِمتیاز تھا۔ وہ اپنے مقصد کے لئے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار تھا۔ اُس کی خدمت بڑے روحانی بوجھ کا نتیجہ تھی۔ وہ پاکیزہ بے خوفی اور جرأت کا مالک تھا۔ اُس کے لئے مرنا اور جینا کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ اہمیت تھی تو اِس بات کو کہ خدا کی مرضی پوری ہو اور سارے اِنسان خوش خبری سنیں۔ وہ اپنے ہر کام میں بے غرض اور بے لوث تھا۔ وہ لینا نہیں بلکہ دینا پسند کرتا تھا۔ وہ مشکلات سے نہ گھبراتا تھا نہ ڈرتا تھا۔ جس بات کی منادی کرتا تھا اُس پر عمل بھی کرتا تھا۔
۲۰: ۱۸، ۱۹ رسول نے اِفسس کے بزرگوں کو یاد دلایا کہ « مَیں … ہر وقت تمہارے ساتھ کس طرح رہا۔» پہلے ہی دن سے کہ اُس نے «آسیہ میں قدم رکھا» اُس کی زندگی کا انداز کیا تھا۔ وہ «کمال فروتنی سے … خداوند کی خدمت کرتا رہا»۔ اُس نے خود اِنکاری کو کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ خدمت کے سلسلے میں اُس کے دل پر متواتر ایک بوجھ رہتا تھا۔ اُس نے غم میں اور آزمائشوں میں آنسو بہائے۔ «یہودیوں کی سازش کے سبب» اُس نے مسلسل دُکھ اور ظلم سہے۔ مگر تمام ناموافق حالات کے باوجود اُس کی خدمت میں جرأت اور بے باکی تھی۔
۲۰: ۲۰، ۲۱ پولس نے اِفسیوں سے کسی ایسی چیز کا دریغ نہیں کیا، کوئی ایسی بات بچا کر نہیں رکھی جو اُن کی روحانی ترقی اور فلاح کے لئے ضروری تھی۔ وہ اُن کو «علانیہ اور گھر گھر (جا کر) سکھانے سے کبھی نہ جھجکا»۔ مسیح کی محبت اُسے مجبور کرتی تھی۔ اُس کے لئے ضروری نہ تھا کہ مقررہ وقفوں کے بعد میٹنگیں کراتا، بلکہ وہ ہر موقعے سے فائدہ اُٹھاتا تھا تاکہ ایمان داروں کی حوصلہ افزائی اور ترقی کرے۔ وہ قومیت یا مذہبی پس منظر کی بنیاد پر کسی سے اِمتیازی رویہ روا نہیں رکھتا تھا۔ وہ سب کے سامنے گواہی دیتا تھا کہ «خدا کے سامنے توبہ کرنا اور ہمارے خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانا چاہئے»۔ اِنجیل کے دو بنیادی عنصر ہیں۔ حقیقی تبدیلی کے ہر واقعے میں «توبہ» اور «ایمان» دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ یہ اِنجیل کے سِکّے کی دو طرفیں ہیں۔ جب تک کوئی شخص سچی توبہ نہیں کرتا نجات بخش ایمان ناممکن ہے۔ دوسری طرف «توبہ» اُس وقت تک بے فائدہ ہو گی جب تک اِس کے ساتھ خدا کے بیٹے پر «ایمان» نہ لایا جائے۔ «توبہ» کا مطلب ہے پورے طور پر رُخ پھیر لینا۔ اِس طرح گنہگار تسلیم کرتا ہے کہ مَیں کھویا ہوا ہوں اور اپنے قصور کے لئے خدا کی عدالت کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے۔ «ایمان» کا مطلب ہے اپنے آپ کو یسوع مسیح کے سپرد کر دینا کہ وہی خداوند اور نجات دہندہ ہے۔
نئے عہد کے اکثر حصوں میں «ایمان» کو نجات کی واحد شرط بیان کیا گیا ہے۔ لیکن «ایمان» میں پہلے تصور یہ ہے کہ «توبہ» کی گئی ہے۔ جب تک کسی کو احساس اور شعور نہ ہو کہ مجھے نجات دہندہ کی ضرورت ہے وہ یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ کیسے قبول کر سکتا ہے؟ یہ شعور روح القدس کی مجرم ٹھہرانے والی خدمت سے پیدا ہوتا ہے اور «توبہ» پر منتج ہوتا ہے۔
۲۰: ۲۲، ۲۳ پولس اِفسیوں کے درمیان اپنے رویے پر نظرثانی کرنے کے بعد اُن دُکھوں کی طرف دیکھتا ہے جو اُسے پیش آنے کو تھے۔ وہ کہتا ہے کہ « مَیں روح میں بندھا ہوا یروشلیم کو جاتا ہوں۔» اُس کا باطن اُسے مجبور کر رہا تھا کہ وہاں جائے۔ اگرچہ وہ نہیں جانتا تھا کہ یروشلیم میں واقعات کیا رُخ اِختیار کریں گے تاہم اِتنا ضرور جانتا تھا کہ «قید اور مصیبتیں … تیار ہیں۔» روح القدس ہر شہر میں اُس کو اِن باتوں کی ہر روز گواہی دیتا رہا تھا۔ شاید یہ گواہی نبیوں کی خدمت سے ملتی تھی یا شاید باطن میں پُراسرار انداز میں خدا اُسے بتا دیتا تھا۔
۲۰: ۲۴ جب پولس اپنے دل میں اِس منظر پر غور کر رہا تھا تو اپنی جان کا خیال نہیں کرتا تھا۔ اُس کی دلی خواہش خدا کی فرماں برداری کرنا اور اُسے خوش کرنا تھی۔ اگر ایسا کرتے ہوئے اُسے اپنی جان بھی قربان کرنی پڑتی تو ایسا کرنے کو تیار تھا۔ جس نے رسول کے لئے اپنی جان دی اُس کی خاطر کوئی قربانی بھی بڑی نہیں۔ اہمیت تھی تو صرف اِس بات کو کہ وہ اپنی دوڑ ختم کرے «اور وہ خدمت جو خداوند یسوع سے پائی ہے پوری کروں یعنی خدا کے فضل کی خوش خبری کی گواہی دوں»۔ جس خوش خبری کی منادی پولس کرتا تھا اُس کا بیان اِس سے بہتر الفاظ میں نہیں ہو سکتا، یعنی «خدا کے فضل کی خوش خبری»۔ یہ کیسا ولولہ انگیز اور سنسنی خیز پیغام ہے کہ خدا اُن لوگوں پر مہربانی کرتا ہے جو اِس کے بالکل حق دار نہیں بلکہ جو قصوروار ، بے دین اور گنہگار ہیں، جو صرف ابدی جہنم کے لائق ہیں۔ یہ پیغام دینا ہے کہ خدا کا عزیز بیٹا آسمان کے ارفع ترین جلال کو چھوڑ کر آیا تاکہ دُکھ اُٹھائے، خون بہائے اور کلوری پر جان دے تاکہ جو اُس پر ایمان لائیں وہ گناہوں کی معافی اور اَبدی زندگی پائیں۔
۲۰: ۲۵- ۲۷ پولس کو یقین تھا کہ وہ اپنے عزیز اِفسی بھائیوں کو پھر کبھی نہیں دیکھ سکے گا۔ لیکن اُن کو چھوڑتے ہوئے اُس کا ضمیر صاف تھا کیونکہ وہ اُن سے «خدا کی ساری مرضی» بیان کرتا رہا تھا اور اِس میں سے کچھ بھی پیچھے نہیں رکھا تھا۔ اُس نے اُن کو نہ صرف خوش خبری کی بنیادی باتیں بتائیں بلکہ وہ تمام سچائیاں بھی سکھائیں جو خدا پرستی کی زندگی کے لئے ضروری ہیں۔
۲۰: ۲۸ چونکہ اُس کو معلوم تھا کہ اُن بھائیوں کو زمین پر دوبارہ نہیں دیکھ پائے گا اِس لئے وہ بزرگوں کو ایک سنجیدہ ذمہ داری دیتا ہے کہ پہلے اپنی روحانی حالت کی «خبرداری کرو»۔ جب تک وہ خداوند کی رفاقت میں نہیں رہیں گے، اُس وقت تک سارے گلّہ کی مناسب گلّہ بانی نہیں کر سکیں گے۔
بزرگوں کا خاص کام یہ تھا کہ «اُس سارے گلّہ کی خبرداری» کریں «جس کا روح القدس نے» اُن کو «نگہبان ٹھہرایا» تھا۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا نئے عہدنامے میں «نگہبانوں» کو «بزرگ» بھی کہا گیا ہے۔ یہ آیت اِس بات پر زور دیتی ہے کہ بزرگ / نگہبان مقامی جماعت کی طرف سے منتخب یا مقرر نہیں ہوتے اُن کو روح القدس مقرر کرتا ہے۔ اور جن ایمان داروں کے درمیان وہ خدمت کرتے ہیں، چاہئے کہ وہ اُن کو پہچانیں اور تسلیم کریں۔
دوسرے کاموں کے علاوہ اُن کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ «خدا کی کلیسیا کی گلّہ بانی» کریں۔ اِس ذمہ داری کی اہمیت اِن الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے کہ «جسے اُس نے خاص اپنے خون سے مول لیا۔» یہ الفاظ بائبل مقدس کے علما کے درمیان بہت بحث مباحثہ اور اِختلافِ رائے کا باعث بنے رہے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ یہاں یہ تصویر پیش کی گئی ہے کہ خدا نے اپنا خون بہایا حالانکہ خدا روح ہے۔ خون تو خداوند یسوع نے بہایا تھا اور اگرچہ یسوع خدا ہے، تاہم بائبل مقدس کسی اَور جگہ یہ نہیں کہتی کہ خدا نے اپنا خون بہایا، یا وہ موا۔
متعدد نسخہ جات میں یوں لکھا ہے کہ «کلیسیا … جسے خداوند اور خدا نے خاص اپنے خون سے مول لیا» جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِشارہ ذاتِ الٰہی کے اُس اقنوم (خداوند) کی طرف ہے جس نے حقیقت میں خون بہایا تھا۔
۲۰: ۲۹- ۳۰ پولس کو پورا احساس تھا کہ اُس کے «جانے کے بعد» کلیسیا پر نہ صرف باہر سے بلکہ اندر سے بھی حملے ہوں گے۔ جھوٹے اُستاد یعنی بھیڑوں کے بھیس میں «بھیڑیئے» آئیں گے اور گلّے کو بے دردی سے پھاڑیں گے۔ کلیسیا کے اندر ایسے افراد ہوں گے جو اعلیٰ عہدوں کے حصول کے لئے سچائی کو چھوڑ کر «اُلٹی اُلٹی باتیں کہیں گے تاکہ شاگردوں کو اپنی طرف کھینچ لیں۔»
۲۰: ۳۱ اِن ڈرائونے خطرات کے پیشِ نظر بزرگوں کو چاہئے کہ خبردار رہیں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ رسول کس طرح «تین برس تک رات دن آنسو بہا بہا کر ہر ایک کو سمجھانے سے باز نہ آیا۔»
۲۰: ۳۲ اب پولس کی سب سے بڑی تدبیر یہی تھی کہ اُن کو «خدا اور اُس کے فضل کے کلام کے سپرد» کرے۔ غور کریں کہ اُس نے اُن کو دوسرے اِنسانی بزرگوں کے «سپرد» نہیں کیا۔ نہ اُن کے سپرد کیا ہے جو رسولوں کے جانشین ہو سکتے تھے بلکہ اُس نے اُن کو خدا اور بائبل مقدس کے سپرد کیا ہے۔ یہ پاک کلام کی زبردست تصدیق ہے کیونکہ یہی ایمان داروں کی «ترقی کر سکتا ہے اور تمام مقدسوں میں شریک کر کے میراث دے سکتا ہے»۔
۲۰: ۳۳- ۳۵ پیغام کا اِختتام کرتے ہوئے پولس رسول نے اپنی خدمت اور زندگی کے نمونے کو ایک دفعہ پھر بزرگوں کے سامنے رکھا۔ وہ پوری دیانت داری سے کہہ سکتا تھا کہ « مَیں نے کسی کی چاندی یا سونے یا کپڑے کا لالچ نہیں کیا۔» مالی منافع کی اُمید اُسے خداوند کے کام کے لئے تحریک نہیں دیتی تھی۔ جہاں تک مالی چیزوں کا تعلق ہے وہ ضرور غریب تھا۔ لیکن خدا کے تعلق سے وہ دولت مند تھا۔ وہ اپنے ہاتھ اُن کے سامنے بڑھا کر اُن کو یاد دلاتا ہے کہ «اِنہی ہاتھوں» نے محنت اور مشقت کر کے «میری اور میرے ساتھیوں کی حاجتیں رفع کیں۔» اِتنا ہی نہیں، اُس نے کچھ اَور بھی کیا۔ وہ ایک خیمہ دوز کے طور پر محنت کرتا اور «کمزوروں» کو سنبھالتا تھا۔ اِس میں دونوں قسم کے «کمزور» شامل ہیں، جو جسمانی لحاظ سے بیمار اور کمزور تھے اور جو روحانی باتوں میں کمزور تھے۔ لازم ہے کہ بزرگ اِن ساری باتوں کو یاد رکھیں اور دوسروں کی بہتری اور بھلائی کے لئے کوشاں رہیں۔ وہ زور دے کر کہتا ہے کہ «خداوند یسوع … نے خود کہا، دینا لینے سے مبارک ہے۔» یہ نہایت دلچسپ بات ہے کہ ہمارے خداوند یسوع کے یہ الفاظ کسی اِنجیل میں نہیں ملتے۔ بے شک یہ الفاظ اُس کی بہت سی تعلیمات کا نچوڑ پیش کرتے ہیں۔ یہ خداوند کی باتوں پر ایک الہامی اضافہ ہیں۔
۲۰: ۳۶- ۳۸ پیغام کے اِختتام پر پولس نے زمین پر «گھٹنے ٹیکے» اور بزرگوں کے ساتھ «دعا کی»۔ اُن کے لئے بہت رنج و غم کا موقع تھا۔ اُنہوں نے اپنی محبت کا بھرپور اِظہار کیا کہ اُس کے «گلے لگ لگ کر اُس کے بوسے لئے»۔ خاص بات جس نے اُن کو بے حد غمگین کیا پولس کے الفاظ تھے کہ «تم پھر میرا منہ نہ دیکھو گے۔» بھاری دل کے ساتھ اُنہوں نے پولس کو «جہاز تک پہنچایا» تاکہ اپنے یروشلیم کے سفر کو جاری کرے۔
۲۱: ۱- ۴ الف ملیتے سے ایسی محبت اور شفقت بھری الوادع کے بعد پولس اور اُس کے ساتھی کوس میں آئے اور وہاں رات بسر کی۔ دوسرے دن جنوب مشرق کو آگے بڑھتے ہوئے رُدُس کے جزیرے پر آئے۔ جزیرے کے شمالی کونے کو چھوڑ کر اُن کا جہاز مشرق کی سمت چلتا ہوا پترہ پہنچا جو ایشیائے کوچک کے جنوبی ساحل پر لوکیہ کی بندرگاہ ہے۔ پترہ سے وہ دوسرے جہاز میں سوار ہوئے جو سیدھا فینیکے کو جا رہا تھا۔ اُس کا راستہ سوریہ کی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ تھا جس علاقے کا ایک بڑا شہر صور تھا۔ بحیرۂ روم میں سفر کرتے ہوئے اُن کو کپرس نظر آیا۔ مگر اِس جزیرے کو وہ اپنے «بائیں ہاتھ چھوڑ کر» آگے بڑھ گئے۔ سرزمین فلستین کی بڑی بندرگاہ صور میں وہ اُترے «کیونکہ وہاں جہاز کا مال اُتارنا تھا»۔ پولس اور دوسرے مسیحیوں نے وہاں ایمان داروں کو تلاش کیا اور «سات روز وہاں رہے»۔
۲۱: ۴ ب اِنہی دنوں کے دوران شاگردوں نے «روح کی معرفت پولس سے کہا کہ یروشلیم میں قدم نہ رکھنا۔» یہاں وہی سوال پیدا ہوتا ہے جو مدتوں سے پوچھا جاتا رہا ہے کہ کیا پولس جان بوجھ کر نافرمانی کر کے یروشلیم میں جا رہا تھا؟ کیا وہ انجانے میں خداوند کے اِرادے کو سمجھنے میں ناکام رہا؟ یا وہ واقعی خدا کے ارادے کے مطابق وہاں جا رہا تھا؟ آیت ۴ ب کو سرسری طور سے پڑھنے سے شاید یہی معلوم ہو کہ رسول خود سر اور سرکش تھا اور جان بوجھ کر روح کے خلاف کام کر رہا تھا۔ لیکن غور کرنے سے ظاہر ہو گا کہ دراصل پولس کو علم نہ تھا کہ یہ آگاہی روح کی معرفت دی جا رہی ہے۔ تاریخ نویس لوقا اپنے قارئین کو بتاتا ہے کہ صور کے اِن شاگردوں کا یہ مشورہ روح کی تحریک سے تھا۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ آیا پولس رسول کو بھی اِس حقیقت کا پتا تھا یا نہیں۔ زیادہ قرینِ قیاس یہ معلوم ہوتا ہے کہ پولس نے اپنے دوستوں کے مشورے کو اِس بات پر محمول کیا ہو کہ وہ اُسے جسمانی اذیت یا موت سے بھی بچانا چاہتے ہیں۔ اُس کو اپنے ہم وطن یہودیوں سے اِتنی محبت تھی کہ اُن کے مقابلے میں وہ اپنی جسمانی فلاح و بہبود کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا۔
۲۱: ۵، ۶ وہ سات دن گزر گئے تو صور کے ایمان دار سب اِکٹھے ہو کر اِن مبشروں کے ساتھ ساحلِ سمندر تک آئے۔ یہ اُن کی مسیحی محبت کا منہ بولتا مظاہرہ تھا۔ کچھ وقت دعا میں گزارنے اور محبت کے ساتھ الوداع کہنے کے بعد جب جہاز روانہ ہوا تو یہ ایمان دار «اپنے اپنے گھر واپس چلے گئے»۔
۲۱: ۷ اب جہاز پتلمیس میں لنگر انداز ہوا۔ یہ بندرگاہ صور سے کوئی چالیس کلومیٹر جنوب میں تھی۔ آج کل اِس کا نام عکّو ہے جو چیفہ کے نزدیک ہے۔ اِس کا نام بطولمی (Ptolemy) یعنی بطلیموس کے نام پر رکھا گیا تھا۔ یہاں ایک دن کے قیام سے خداوند کے خادم کو مقامی بھائیوں سے ملاقات کا موقع مل گیا۔
۲۱: ۸ دوسرے دن اُن کے بحری سفر کا آخری حصہ شروع ہوا۔ اب اُن کو ۴۸ کلومیٹر جنوب میں قیصریہ پہنچنا تھا جو شارون کے میدان میں واقع تھا۔ یہاں وہ «فلپس مبشر کے گھر» میں ٹھہرے (اِسی نام کا رسول الگ شخص ہے)۔ یہ وہی فلپس ہے جس کو یروشلیم کی کلیسیا نے ڈِیکن (منتظم) ہونے کے لئے چنا تھا اور جو خوش خبری کا پیغام سامریہ میں لے گیا تھا اور اُسی کی تعلیم سے حبشی خوجے نے نجات پائی تھی۔
۲۱: ۹ فلپس کی «چار کنواری بیٹیاں تھیں جو نبوت کرتی تھیں»۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کو روح القدس سے یہ نعمت ملی تھی کہ خداوند سے براہِ راست پیغام وصول کرتی تھیں اور دوسروں تک پہنچاتی تھیں۔ بعض لوگ اِس آیت سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ عورتوں کو کلیسیا میں وعظ کرنے اور تعلیم دینے کی اِجازت ہے۔ لیکن عورتوں کو نہایت واضح طور سے منع کیا گیا ہے کہ وہ مردوں کی مجلس میں نہ وعظ کریں، نہ تعلیم دیں، نہ کوئی عہدہ یا اِختیار رکھیں (۱۔کرنتھیوں ۱۴: ۳۴، ۳۵؛ ۱۔تیمتھیس۲: ۱۱، ۱۲)۔ اِس لئے ہم صرف اِس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ اِن چار کنواری بیٹیوں کی نبوتی خدمت گھر کے اندر یا دیگر غیر کلیسیائی اِجتماع میں ہوتی تھی۔
۲۱: ۱۰، ۱۱ پولس کے قیصریہ میں قیام کے دوران «اگبُس نام ایک نبی یہودیہ سے آیا». یہ وہی نبی ہے جس نے یروشلیم سے انطاکیہ میں آ کر کال کی پیش گوئی کی تھی۔ اور یہ کال کلودیس کے عہدحکومت میں پڑا تھا (اعمال ۱۱: ۲۸)۔ اب «اُس نے … پولس کا کمربند لیا اور اپنے ہاتھ پائوں باندھ کر» ایک نبوت کی۔ اپنے سے پہلے کے کئی نبیوں کی طرح اُس نے بھی یہ ڈرامائی انداز اِختیار کیا اور ایک لحاظ سے عملاً پیغام پیش کیا۔ پھر اُس نے اِس عمل کا مطلب بیان کیا۔ جیسے اُس نے اپنے ہاتھ پائوں باندھے تھے «اِسی طرح یہودی یروشلیم میں» پولس کو «باندھیں گے اور غیر قوموں کے ہاتھ میں حوالہ کریں گے». پولس نے جو خدمت (کمربند اُس کا نشان تھا) یہودیوں کے درمیان کی اِس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہی اُس کو پکڑوائیں گے۔
۲۱: ۱۲- ۱۴ جب قیصریہ کے مسیحیوں اور پولس کے ساتھیوں نے یہ بات سنی تو پولس کی «منت کی کہ یروشلیم کو نہ جائے» لیکن وہ اُن کی فکر مندی کا لحاظ نہ کر سکا۔ اُن کے آنسوئوں نے صرف اُس کا دل توڑنے کا کام کیا۔ کیا زنجیروں اور قیدکا خوف اُسے وہ کام کرنے سے روک لے گا جسے وہ خدا کی مرضی سمجھتا ہے؟ پولس اُن کو بتا دینا چاہتا تھا کہ «مَیں تو یروشلیم میں خداوند یسوع کے نام پر نہ صرف باندھے جانے بلکہ مرنے کو بھی تیار ہوں۔» اُن کی تمام دلیلیں بے سود ثابت ہوئیں۔ وہ وہاں جانے پر تلا ہوا تھا۔ اِس لئے اُنہوں نے صرف اِتنا کہا کہ «خداوند کی مرضی پوری ہو۔»
یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ پولس کے الوداعی الفاظ کسی ایسے آدمی نے کہے تھے جو جان بوجھ کر روح القدس کی ہدایت اور راہنمائی کی نافرمانی کر رہا ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ صور میں شاگردوں نے اُسے یروشلیم جانے سے منع کیا تھا (آیت ۴)۔ لیکن کیا پولس کو علم تھا کہ وہ روح کی معرفت بول رہے تھے؟ اور کیا خدا نے بعد میں اُس کے سفرِ یروشلیم کی منظوری نہیں دی تھی جب اُس نے فرمایا کہ «خاطر جمع رکھ کہ جیسے تُونے میری بابت یروشلیم میں گواہی دی ہے، ویسے ہی تجھے رومہ میں بھی گواہی دینا ہو گا» (۲۳: ۱۱)۔ دو باتیں تو بالکل واضح ہیں: (۱) پولس کے نزدیک خداوند کی خدمت میں اُس کی ذاتی حفاظت کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ (۲) خداوند نے اُن تمام واقعات کو اپنے جلال کے لئے استعمال کیا۔
۲۱: ۱۵، ۱۶ قیصریہ سے یروشلیم تک کا ۸۲ کلومیٹر سفر خشکی کا سفر تھا۔ اُس زمانے میں ذرائع آمد و رفت کی سست رفتاری کے باعث یہ ایک طویل سفر تھا۔ پولس رسول کے ہم سفروں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا تھا کیونکہ «قیصریہ سے بھی بعض شاگرد» اُن کے «ساتھ چلے۔» اور ایک مسیحی بھائی بنام مناسون بھی ساتھ ہو گیا تھا۔ وہ آبائی طور سے کُپرس کا باشندہ اور قدیم شاگردوں میں سے ایک تھا۔ اب وہ یروشلیم میں رہتا تھا۔ پولس کے یروشلیم کی طرف آخری سفر کے دوران مناسون کو رسول اور اُس کے ہم سفروں کی مہمان نوازی کا شرف حاصل ہوا۔
یروشلیم میں آمد کے ساتھ پولس کے تبلیغی دَورے دراصل اِختتام پذیر ہو گئے۔ اعمال کی کتاب کے بقیہ حصے میں اُس کی گرفتاری، مقدمے میں پیشی، روم کے سفر اور وہاں پیشی اور قیدی کے حالات درج ہیں۔
۲۱: ۱۷، ۱۸ یروشلیم پہنچے تو بھائیوں نے بڑی خوشی اور گرم جوشی سے پولس اور اُس کے رفیقوں کا خیر مقدم کیا۔ اگلے دن یعقوب اور سب بزرگوں کے ساتھ ملاقات کا بندوبست کیا گیا۔ ہم کسی طرح بھی معلوم نہیں کر سکتے کہ یہاں کون سے یعقوب کی طرف اِشارہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ خداوند کا بھائی یعقوب ہو یا حلفئی کا بیٹا یعقوب یا اِس نام کا کوئی اَور شخص۔ لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ خداوند کا بھائی یعقوب ہو۔
۲۱: ۱۹، ۲۰ الف پولس نے «جو کچھ خدا نے اُس کی خدمت سے غیر قوموں میں کیا تھا مفصل بیان کیا»۔ اِس بیان سے سب کو بے حد خوشی ہوئی۔
۲۱: ۲۰ب- ۲۲ لیکن یہودی بھائیوں کو کچھ اَندیشہ تھا۔ یہ بات مشہور کر دی گئی کہ پولس شریعت اور موسوی رسموں کے خلاف تعلیم دیتا ہے۔ اِس کا مطلب تھا کہ یروشلیم میں مشکل پیدا ہو سکتی تھی۔
پولس پر خاص الزام یہ تھا کہ وہ دوسرے ملکوں کے «سب یہودیوں کو یہ کہہ کر موسیٰ سے پھر جانے کی تعلیم دیتا ہے کہ نہ اپنے لڑکوں کا ختنہ کرو نہ موسوی رسموں پر چلو»۔ کیا پولس واقعی یہ سکھاتا تھا؟
وہ یہ تعلیم ضرور دیتا تھا کہ ایمان لانے والوں کی راست بازی کے لئے مسیح شریعت کا انجام ہے (رومیوں ۱۰: ۴)۔ البتہ یہ تعلیم بھی ضرور دیتا تھا کہ مسیح کے آنے کے باعث ایمان لانے والے یہودی شریعت کے ماتحت نہیں رہتے۔ وہ سکھاتا تھا کہ اگر کوئی آدمی راست باز ٹھہرائے جانے کی خاطر ختنہ کراتا ہے تو وہ خود کو مسیح یسوع کی نجات سے دُور کر لیتا ہے۔ وہ سکھاتا تھا کہ مسیح کے آ جانے کے بعد عکس اور مثیل کی طرف لوٹنا مسیح کی بے قدری کرنا ہے۔ اِن باتوں کے پیش نظر یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہودی اُسے خطرہ کیوں سمجھتے تھے۔
۲۱: ۲۳، ۲۴ لیکن یروشلیم کے یہودی بھائیوں نے ایک سکیم بنائی۔ اُن کا خیال تھا کہ اِس طرح ہمارے ہم وطن خواہ نجات یافتہ ہوں خواہ نہیں، وہ بھائی پولس کو معاف کر دیں گے۔ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ پولس ایک یہودی مَنّت مانے۔ چار آدمی پہلے ہی یہ کام کر رہے تھے۔ پولس اُن کے ساتھ شامل ہو جائے، «اپنے آپ کو اُن کے ساتھ پاک کرے» اور اُن کے اخراجات بھی ادا کرے تاکہ سب صاف صاف جان لیں کہ اُس کا شریعت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔
ہمیں معلوم نہیں کہ اِس مَنّت میں کیا کچھ شامل تھا۔ تفاصیل پر گہرا پردہ پڑا ہوا ہے۔ لیکن ہمیں صرف یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک یہودی مَنّت تھی۔ اور اگر یہودی پولس کو اِس کی رسومات ادا کرتے ہوئے دیکھتے تو اُن کو یقین ہو جاتا کہ وہ دوسروں کو موسیٰ کی شریعت سے پھر جانے کی تعلیم نہیں دیتا۔ یہودیوں کے لئے یہ ایک نشان ہوتا کہ رسول خود شریعت کو مانتا ہے۔
رسول کے اِس یہودی مَنّت کو اپنے اُوپر لینے کے اِس عمل کی حمایت بھی کی گئی ہے اور اِس پر اعتراض بھی کئے گئے ہیں۔ پولس کے دفاع یا صفائی میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ وہ خود اپنے اصول کے مطابق عمل کرتا تھا کہ مَیں سب آدمیوں کے لئے سب کچھ بنا ہوا ہوں تاکہ کسی طرح سے بعض کو بچائوں (۱۔کرنتھیوں ۹: ۱۹- ۲۳)۔ دوسری طرف پولس پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ یہودیوں کو راضی کرنے کے لئے حد سے آگے نکل گیا اور تاثر یہ پیدا کیا کہ مَیں شریعت کے ماتحت ہوں۔ دوسرے لفظوں میں پولس پر الزام ہے کہ وہ اپنے اِس نظریے کے خلاف چلا کہ ایمان دار نہ تو راست باز ٹھہرائے جانے کے لئے اور نہ روزمرہ زندگی کے معمولات میں شریعت کے ماتحت ہے (گلتیوں باب ۱، ۲)۔ ہم اعتراض کرنے والوں کے ساتھ متفق ہونے کا رُجحان رکھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں رسول کی نیت پر فیصلہ دینے میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔
۲۱: ۲۵ یروشلیم کے بھائیوں نے پولس کو صلاح دی کہ غیر قوم ایمان داروں پر کوئی آئین و ضوابط ٹھونسنے کی ضرورت نہیں سوائے اُن ضابطوں کے جو یروشلیم کی کونسل نے تجویز کئے ہیں یعنی «وہ صرف بتوں کی قربانی کے گوشت سے اور لہو اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں اور حرام کاری سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں۔»
۲۱: ۲۶ پولس نے جو اقدام کئے آج وہ پورے طور پر ہماری سمجھ میں نہیں آتے۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ نذارت کی منت تھی۔ لیکن اگر ایسا بھی تھا ہم اِس رسم کے مختلف مراحل اور اقدام کو نہیں سمجھتے۔
ح۔ پولس کی گرفتاری اور پیشیاں (۲۱: ۲۷- ۲۶: ۳۲)
۲۱: ۲۷- ۲۹ جب مَنّت کے «سارے دن پورے ہونے کو تھے» تو یہودیوں کو راضی کرنے کی پولس کی کوشش بے کار ثابت ہوئی۔ آسیہ کے صوبے کے بعض اُن یہودیوں نے جو مسیح پر ایمان نہیں لائے تھے، اُس کو ہیکل میں دیکھ لیا۔ اُنہوں نے لوگوں کو بھڑکا کر اُس کے خلاف ہلچل مچا دی۔ نہ صرف اُنہوں نے یہ الزام لگایا کہ پولس یہودی «اُمت اور شریعت» کے خلاف تعلیم دیتا ہے بلکہ یہ الزام بھی لگایا کہ غیر یہودیوں کو ہیکل کے اندرونی احاطے میں لا کر ہیکل کو ناپاک کرتا ہے۔ دراصل جو کچھ ہوا اُس کی تفصیل یوں ہے کہ «اُنہوں نے اِس سے پہلے تُرفمس اِفسی کو پولس کے ساتھ شہر میں دیکھا تھا»۔ ترفمس اِفسس کا ایک غیر یہودی شخص تھا جو مسیح پر ایمان لے آیا تھا۔ چونکہ یہودیوں نے اُن دونوں کو اکٹھے دیکھا تھا اِس لئے اُنہوں نے «خیال کیا کہ پولس اُسے ہیکل میں لایا» تھا۔
۲۱: ۳۰- ۳۵ اگرچہ صاف نظر آتا ہے کہ الزام غلط تھا لیکن مخالفین کا مقصد پورا ہو گیا۔ «تمام شہر میں ہلچل پڑ گئی اور لوگ … پولس کو …ہیکل سے باہر گھسیٹ کر لے گئے۔» اُنہوں نے ہیکل کے اندرونی صحنوں کے دروازے بند کر دیئے۔ وہ اُسے «قتل کرنا چاہتے تھے»۔ اِتنے میں رومی پلٹن کے سردار کو خبر پہنچ گئی۔ «وہ اُسی دم سپاہیوں اور صوبہ داروں کو لے کر اُن کے پاس … دوڑا آیا» اور بپھرے ہوئے ہجوم سے پولس کو چھڑا لیا۔ پھر اُسے دو زنجیروں سے باندھا اور لوگوں سے پوچھا کہ «یہ کون ہے اور اِس نے کیا کِیا ہے؟» بے شک ہجوم کے شور شرابے اور چِلانے سے کچھ بات سمجھ میں نہ آئی کیونکہ «بعض کچھ چِلائے اور بعض کچھ»۔ جھنجھلا کر پلٹن کے سردار نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ قیدی کو قلعہ میں لے جائو۔ مقصد یہ تھا کہ وہ بہتر تفتیش کر کے معلوم کر سکے کہ ہو کیا رہا ہے۔ سردار کی اِس کوشش کے دوران بھی بھیڑ نے ایسی زبردستی کی کہ «سپاہیوں کو اُسے (پولس کو) اُٹھا کر لے جانا پڑا»۔
۲۱: ۳۶ جب سپاہی اُسے اُٹھا کر لے جا رہے تھے تو بھیڑ چِلا چِلاکر کہہ رہی تھی کہ «اُس کا کام تمام کر۔» غالباً بعض لوگوں نے یہ الفاظ پہلے بھی سنے ہوں گے۔
۲۱: ۳۷- ۳۹ جب سپاہی اُسے قلعہ کے اندر لے جانے کو تھے تو پولس نے پلٹن کے سردار سے درخواست کی کہ مَیں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ سردار پولس کو یونانی بولتے سن کر چونک گیا۔ اُس کا خیال تھا کہ مَیں نے ایک مصری کو گرفتار کیا ہے جس نے بغاوت کی تھی اور چار ہزار آدمیوں کو جو غازی کہلاتے تھے اپنے ساتھ ملا کر جنگل میں لے گیا تھا۔ پولس نے فوری طور پر اُسے یقین دلایا کہ « مَیں یہودی آدمی کلکیہ کے مشہور شہر ترسُس کا باشندہ ہوں۔» وہ کسی معمولی شہر کا رہنے والا نہیں تھا۔ یہ شہر تہذیب و تمدن، تعلیم اور تجارت کا مرکز تھا۔ اوگسطین نے اِسے آزاد شہر قرار دیا تھا۔ اپنی مخصوص دلیری سے رسول نے لوگوں سے خطاب کرنے کی اِجازت مانگی۔
۲۱: ۴۰ اِجازت ملی تو رومی سپاہی پولس کو گھیرے میں لئے کھڑے تھے۔ رسول نے لوگوں کو ہاتھ کے اِشارہ سے چپ کرایا۔ خاموشی ایسی گہری تھی جیسا اُن کا ہُلڑ زور دار تھا۔ اب وہ یروشلیم کے یہودیوں کے سامنے گواہی دینے کے لئے تیار تھا۔
یہاں عبرانی زبان سے مراد غالباً ارامی زبان ہے جو عبرانی سے بہت مشابہت رکھتی ہے اور اُس زمانے کے اِسرائیلی عام بولتے تھے۔
۲۲: ۱، ۲ یہودی ہجوم سے خطاب کے لئے یونانی کے بجائے اِرامی زبان کا استعمال بہت دانائی کی بات تھی۔ جونہی اُنہوں نے اپنی مادری زبان سنی تو اُن کو خوش گوار حیرت ہوئی۔ اُن کا شور اَور بھی کم ہو گیا۔ کم سے کم تھوڑی دیر کے لئے تو وہ «اَور بھی چپ چاپ ہو گئے۔»
۲۲: ۳- ۵ پولس نے بات اپنی اصل سے شروع کی کہ « مَیں یہودی ہوں اور کلکیہ کے شہر ترسُس میں پیدا ہوا۔» اُس نے مشہور یہودی اُستاد «گملی ایل کے قدموں میں» بیٹھ کر تعلیم پائی تھی۔ اُس نے یہودیت کی عمدہ تعلیم پائی تھی۔ پھر اُس نے خاص زور اِس بات پر دیا کہ یہودی ہونے کے باعث مَیں بہت سرگرم اور جوشیلا تھا۔ وہ مسیحی ایمان رکھنے والوں کو بے حد ستایا کرتا تھا۔ اُس نے یسوع پر ایمان رکھنے والوں کو پکڑ پکڑ کر قید خانے بھر دیئے تھے۔ سردار کاہن اور سنہیڈرن کے اراکین گواہ تھے کہ وہ بڑے بھر پور طریقے سے «مسیحی طریق والوں» کی مخالفت کرتا تھا اور اِنہی بزرگوں سے اختیار کے خط لے کر پولس دمشق کو روانہ ہوا تھا تاکہ وہاں سے مسیحیوں کو «باندھ کر یروشلیم میں سزا دلانے کو» لائے۔
۲۲: ۶- ۸ یہاں تک تو یہودی پولس کی بات کو خوب اچھی طرح سمجھ سکتے تھے۔ اور اگر دیانت سے کام لیتے تو اِتفاق بھی کر سکتے تھے کہ ساری بات بالکل درست ہے۔ اب رسول اُن کو ایک ایسا واقعہ بتانے کو ہے جس نے اُس کی زندگی کے رُخ کو بالکل موڑ دیا۔ فیصلہ کرنا اُن کی ذمہ داری ہو گی کہ یہ واقعہ خدا کی طرف سے تھا یا نہیں۔
پولس بیان کرتا ہے کہ « مَیں سفر کرتا کرتا دمشق کے نزدیک پہنچا تو ایسا ہوا کہ دوپہر کے قریب یکایک ایک بڑا نور آسمان سے میرے گردا گرد آ چمکا۔» یہاں یہ حقیقت پہلی دفعہ قلم بند کی گئی ہے کہ وہ نور دوپہر کو پوری بلندی پر چمکنے والنے سورج سے بھی زیادہ تیز تھا۔ اِس نور کی شدت کے باعث پولس زمین پر گر پڑا۔ اب اِس ستانے والے نے آسمان سے یہ آواز سنی کہ «اے سائول! اے سائول! تُو مجھے کیوں ستاتا ہے؟» سائول نے سوال کیا تو معلوم ہوا کہ یسوع ناصری آسمان سے اُس سے ہم کلام تھا۔ یسوع ناصری مردوں میں سے جی اُٹھا تھا اور اُسے آسمان پر جلال دیا گیا تھا۔
۲۲: ۹ پولس کے ہم سفروں نے «نور تو دیکھا لیکن … آواز نہ سنی۔» اعمال ۹: ۷ سے مقابلہ کریں تو بات بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ پولس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کے ہم سفر آواز تو سنتے تھے مگر سمجھتے نہ تھے کہ کیا کہا جا رہا ہے۔
۲۲: ۱۰، ۱۱ جلال کے خداوند کے ساتھ اِس شخصی ملاقات اور بات چیت کے بعد پولس نے اپنی جان، روح اور بدن کو اپنے نجات دہندہ کے لئے وقف کر دیا۔ یہ بات اُس کے سوال سے ظاہر ہے کہ «اے خداوند! مَیں کیا کروں؟» خداوند یسوع نے اُس سے کہا، «اُٹھ دمشق میں جا۔» وہاں تجھے ہدایات دی جائیں گی۔ پولس مسیح کے جلال کے نور سے اندھا ہو گیا تھا۔ چنانچہ اُس کے ساتھی اُس کا «ہاتھ پکڑ کر دمشق میں لے گئے۔»
۲۲: ۱۲ دمشق میں حننیاہ اُس سے ملنے گیا۔ پولس اُس کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ «شریعت کے موافق دین دار اور وہاں کے سب رہنے والے یہودیوں کے نزدیک نیک نام تھا»۔ پولس کی تبدیلی کے بیان کو ثابت کرنے کے لئے اِس قسم کے آدمی کی گواہی بے حد اہم ہے۔
۲۲: ۱۳ حننیاہ نے پولس کو «بھائی سائول» کہہ کر مخاطب کیا اور کہا، «پھر بینا ہو۔» یہ پہلا موقع تھا کہ پولس نے اُس کو دیکھا۔
۲۲: ۱۴- ۱۶ یہ پہلا موقع ہے کہ ہمیںپتا چلتا ہے کہ حننیاہ نے پولس سے کہا کہ «ہمارے باپ دادا کے خدا نے تجھ کو اِس لئے مقرر کیا ہے کہ تُو اُس کی مرضی کو جانے اور اُس راست باز کو دیکھے اور اُس کے منہ کی آواز سنے۔ کیونکہ تُو اُس کی طرف سے سب آدمیوں کے سامنے اُن باتوں کا گواہ ہو گا جو تُو نے دیکھی اور سنی ہیں۔ اب کیوں دیر کرتا ہے؟ اٹھ بپتسمہ لے اور اُس کا نام لے کر اپنے گناہوں کو دھو ڈال۔»
اِن آیات میں کئی اہم اور دلچسپ نکات سامنے آتے ہیں۔ حننیاہ نے بیان کیا کہ جس نے دمشق کی راہ پر کے واقعات کا اہتمام کیا وہ باپ دادا کا خدا ہے۔ اگر یہودی اِن ساری باتوں کی جو واقع ہوئی تھیں مخالفت اور مزاحمت کرتے ہیں تو دراصل خدا سے جنگ کرتے ہیں۔ دوم، حننیاہ نے پولس سے کہا کہ «تُو سب آدمیوں کے سامنے» خداوند کا «گواہ ہو گا»۔ اِس بات سے یہودیوں کو پولس کے اِس اعلان کے لئے تیار ہو جانا چاہئے تھا کہ اُس کو غیر قوموں کے پاس بھیجا گیا تھا۔ سوم، پولس سے کہا کہ «اُٹھ بپتسمہ لے اور اُس کا نام لے کر اپنے گناہوں کو دھو ڈال۔»
بہت سے لوگ آیت ۱۶ کا غلط استعمال کرتے ہوئے تعلیم دیتے ہیں کہ بپتسمے سے نئی پیدائش ملتی ہے۔ یہ بات عین ممکن ہے کہ اِس آیت کا اِطلاق صرف پولس پر ہوتا ہے کیونکہ وہ یہودی تھا۔ اور اُسے ضرورت تھی کہ خود کو اپنی قوم سے علیٰحدہ کرے کیونکہ وہ مسیح کو ردّ کرتی تھی (۲: ۳۸ پر تبصرہ بھی ملاحظہ کریں)۔
اگر ہم اصل زبان میں جملے کی ساخت کو دیکھیں تو اِس مسئلے کا حل کوئی مشکل نہیں۔ یونانی میں دو دو باتیں اکٹھی بیان کی گئی ہیں۔ اور آیت کے درمیان صفتِ فعلی استعمال ہوئی ہے۔ چنانچہ لفظی ترجمہ کچھ یوں ہو گا۔ «اُٹھ کر، بپتسمہ لے اور اُس (خداوند) کا نام لینے کے وسیلے سے اپنے گناہوں کو دُھلوا لے۔» آیت کا آخری جملہ بائبل مقدس کی عام تعلیم سے مطابقت بھی رکھتا ہے (دیکھئے یو ایل ۲: ۳۲؛ اعمال ۲: ۲۱؛ رومیوں ۱۰: ۱۳)۔
۲۲: ۱۷- ۲۱ اِن آیات میں ہمیں پہلی دفعہ پولس کے ایک تجربے کی خبر دی گئی ہے جو اُس کو اپنی تبدیلی کے بعد پہلی دفعہ یروشلیم آنے پر ہوا تھا۔ وہ «ہیکل میں دعا کر رہا تھا … کہ … بے خود ہو گیا» اور خداوند کو دیکھا کہ اُسے حکم دے رہا ہے کہ «فوراً یروشلیم سے نکل جا» کیونکہ یہاں کے لوگ «میرے (مسیح کے) حق میں تیری گواہی قبول نہ کریں گے»۔ رسول کو یہ بات ناقابلِ یقین لگی کہ اُس کے اپنے لوگ اُس کی سننے سے اِنکار کریں گے۔ آخر وہ جانتے تھے کہ یہ شخص کیسا سرگرم اور جوشیلا یہودی تھا۔ کیسے وہ یسوع کے شاگردوں کو مارتا پیٹتا اور قید کراتا تھا۔ اور کیسے وہ ستفنُس کے قتل پر راضی اور قتل کرنے والوں میں شامل تھا۔ مگر خداوند نے اپنے حکم کو دُہرایا کہ «جا۔ مَیں تجھے غیر قوموں کے پاس دُور دُور بھیجوں گا۔»
۲۲: ۲۲، ۲۳ اب تک تو یہودی پولس کی باتیں خاموشی سے سنتے رہے تھے، لیکن اُس نے خوش خبری کو غیر قوموں کے پاس لے جانے کا ذکر کیا تو وہ حسد اور نفرت سے پاگل ہو گئے۔ وہ بے قابو ہو کر چیخنے چِلانے لگے کہ پولس کو جان سے مار دیا جائے۔
۲۲: ۲۴، ۲۵ جب پلٹن کے سردار نے اُن کی دیوانگی دیکھی تو وہ اِس نتیجے پر پہنچا کہ پولس نے ضرور کوئی سنگین جرم کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ پولس کا پیغام بھی نہیں سمجھ سکا ہو گا کیونکہ ارامی زبان میں دیا گیا تھا۔ چنانچہ اُس نے فیصلہ کیا کہ اُس پر تشدد کر کے اُس سے جرم قبول کروایا جائے۔ چنانچہ اُس نے حکم دیا کہ اُسے قلعہ میں لے جائو اور تسموں سے باندھو تاکہ کوڑے مارے جائیں۔ جب اُس کو کوڑے مارنے کی تیزی سے تیاریاں ہو رہی تھیں تو پولس نے پاس کھڑے صوبے دار سے آہستگی سے پوچھا کہ «کیا تمہیں روا ہے کہ ایک رومی آدمی کے کوڑے مارو اور وہ بھی قصور ثابت کئے بغیر؟» رومی شہری کے کوڑے مارنا بڑا سنگین جرم تھا۔
۲۲: ۲۶ صوبے دار دوڑا دوڑا پلٹن کے سردار کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ پولس کے ساتھ جو کچھ کرنا ہو ہوشیاری سے کرنا کیونکہ یہ تو رومی آدمی ہے یعنی رومی شہری ہونے کے پورے حقوق رکھتا ہے۔
۲۲: ۲۷، ۲۸ اب تو پلٹن کا سردار جلدی سے پولس کے پاس آیا۔ پوچھنے پر اُسے معلوم ہوا کہ پولس واقعی رومی شہری ہے۔ اُس زمانے میں رومی شہریت حاصل کرنے کے تین طریقے تھے۔ اوّل، بعض اوقات کسی شخص کو خصوصی خدمات کے صلے میں شاہی فرمان سے رومی شہریت دی جاتی تھی۔ دوم، بعض پیدائشی لحاظ سے رومی ہوتے تھے۔ سوم، کبھی بھاری قیمت ادا کر کے شہریت خریدنا بھی ممکن ہوتا تھا۔ پولس پیدائشی رومی تھا۔ وہ ترسُس کے آزاد رومی شہر میں پیدا ہوا تھا۔ اُس کا باپ بھی رومی شہری تھا۔ جب کہ «پلٹن کے سردار نے … بڑی رقم دے کر رومی ہونے کا رُتبہ حاصل کیا» تھا۔
۲۲: ۲۹ پولس کی رومی شہریت کا علم ہوا تو اُسے کوڑے لگانے کے سارے منصوبے منسوخ ہو گئے اور افسران گھبرا گئے۔
۲۲: ۳۰ بے شک پلٹن کے سردار کو یہ معلوم کرنے کا اِشتیاق تھا کہ آخر «یہودی اُس پر کیا اِلزام لگاتے ہیں؟» تاہم اُس کا پکا اِرادہ تھا کہ ساری کارروائی مناسب اور قانونی طریقے سے سرانجام پائے۔ اِس لئے یروشلیم کی بھیڑ کی ہنگامہ آرائی کے اگلے دن اُس نے پولس کو قیدخانے سے نکلوایا اور اُسے «سردار کاہن» اور سنہیڈرن کے سامنے پیش کیا۔
۲۳: ۱، ۲ سنہیڈرن (صدر عدالت) کے سامنے کھڑے ہو کر پولس نے اپنے بیان کے آغاز میں بتایا کہ « مَیں نے آج تک کمال نیک نیتی سے … عمر گزاری ہے۔» سردار کاہن حننیاہ اِس بیان پر سخت طیش میں آ گیا۔ بلاشبہ وہ سمجھتا تھا کہ پولس یہودی مذہب سے برگشتہ، تارکِ دین اور زمانہ ساز شخص ہے۔ اور جو شخص یہودیت کو چھوڑ کر مسیحیت میں جا شامل ہوا ہے، وہ ایسی بے گناہی کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟ اِس لئے سردار کاہن نے «حکم دیا کہ اُس کے منہ پر طمانچہ مارو۔» چونکہ کارروائی شروع ہو چکی تھی اِس لئے یہ حکم قطعی غیر منصفانہ تھا۔
۲۳: ۳ پولس نے بھڑک کر حننیاہ کو جواب دیا کہ «اے سفیدی پھری ہوئی دیوار! خدا تجھے مارے گا۔» باہر سے تو سردار کاہن، راست باز اور نیک آدمی لگتا تھا، لیکن باطن میں خراب اور بگڑا ہوا تھا۔ دعویٰ کرتا تھا کہ مَیں دوسروں کا «شریعت کے موافق اِنصاف» کرتا ہوں مگر پولس کو مارنے کا حکم «شریعت کے برخلاف» دیا تھا۔
۲۳: ۴ پاس کھڑے لوگ پولس کی ایسی تباہ کن ڈانٹ پر بھونچکا رہ گئے۔ کیا اُسے علم نہ تھا کہ سردار کاہن سے مخاطب ہے؟
۲۳: ۵ ہم نہیں کہہ سکتے کہ «پولس» کو کیوں احساس نہ ہوا یا وہ کیوں نہ پہچان سکا کہ حننیاہ سردار کاہن ہے۔ سنہیڈرن کو فوری اطلاع پر فراہم کیا گیا تھا اور غالباً حننیاہ اپنے مرتبہ و منصب کا لباس نہیں پہنے ہوئے تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اُس نشست پر نہیں بیٹھا ہوا تھا جو عموماً سردار کاہن کے لئے مخصوص ہوتی تھی۔ وجہ کچھ بھی ہو پولس نے قوم کے باضابطہ سردار کی شان میں دانستہ گستاخی نہیں کی تھی۔ اُس نے اپنے الفاظ پر فوراً معذرت کی اور خروج ۲۲: ۲۸ کا حوالہ دیا کہ «اپنی قوم کے سردار کو بُرا نہ کہہ۔»
۲۳: ۶ کمرۂ عدالت میں ہونے والی گفتگو سے پولس نے اندازہ لگا لیا کہ صدوقیوں اور فریسیوں کے درمیان اِختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ اُس نے اِس دراڑ کو اَور بھی چوڑا کرنے کے ارادہ سے کہا کہ « مَیں فریسی … ہوں» اور مجھ پر اِس لئے مقدمہ چل رہا ہے کہ «مردوں کی قیامت» پر یقین رکھتا ہوں۔ صدوقی تو بے شک قیامت کا اِنکار کرتے تھے۔ اور ساتھ ہی روحوں یا فرشتوں کے وجود کو بھی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ فریسی بہت راسخ العقیدہ لوگ تھے۔ وہ دونوں باتوں پر ایمان رکھتے تھے (دیکھئے ۲۳: ۸)۔
یہاں پولس پر تنقید کی جاتی ہے کہ اُس نے جسمانی مصلحت کے تحت سامعین میں پھوٹ ڈالنے کے لئے یہ گُر استعمال کیا۔
۲۳: ۷- ۹ بہرحال اُس کے الفاظ نے «فریسیوں اور صدوقیوں میں تکرار» کروا دی اور بڑا شور ہوا۔ فریسیوں کے فرقے کے بعض فقیہ پولس کی بے گناہی کی حمایت کرنے لگے۔ اُن کا کہنا تھا کہ «اگر کسی روح یا فرشتہ نے اِس سے کلام کیا ہو تو پھر کیا؟»
۲۳: ۱۰ مخالف دھڑوں میں تکرار میں ایسی گرمی پیدا ہوئی کہ «پلٹن کے سردار نے … فوج کو حکم دیا» کہ قیدی کو کمرے سے نکال کر واپس قلعہ میں لے جائیں۔
۲۳: ۱۱ اُسی رات خداوند یسوع شخصی طور پر پولس پر ظاہر ہوا اور کہنے لگا، «خاطر جمع رکھ کہ جیسے تُو نے میری بابت یروشلیم میں گواہی دی ہے، ویسے ہی تجھے رومہ میں بھی گواہی دینا ہو گا۔» قابلِ غور بات ہے کہ پاک کلام کے اُس حصے میں جہاں اُس کے اعمال کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے وہاں خداوند خود اُس کی تعریف کرتا ہے کہ تُو نے یروشلیم میں بڑی وفاداری سے میری گواہی دی ہے۔ نجات دہندہ نے تنقید یا ملامت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ قطعی تعریف اور اُمید افزائی کا پیغام دیا۔ پولس کی خدمت ابھی ختم نہیں ہوئی، جیسے وہ یروشلیم میں خدمت میں وفادار رہا اُسی طرح رومہ میں بھی مسیح کی گواہی دے گا۔
۲۳: ۱۲- ۱۵ اگلے دن چند یہودیوں نے ایکا کیا کہ پولس رسول کو جان سے مار کر ہی دم لیں گے۔ حقیقت میں وہ چالیس سے زیادہ تھے جنہوں نے لعنت کی قسم کھا کر کہا کہ جب تک اِس دغاباز کو قتل نہ کر لیں «نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے۔» اُن کا منصوبہ یا سازِش یوں تھی۔ وہ سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس گئے اور صلاح دی کہ سنہیڈرن (صدر عدالت) کا ایک اجلاس اِس اعلان کے ساتھ بلایا جائے کہ پولس کے معاملے کی حقیقت زیادہ دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ اور سنہیڈرن پلٹن کے سردار سے درخواست کرے کہ قیدی کو وہاں لائے۔ مگر یہ چالیس قاتل قیدخانہ اور کمرۂ عدالت کی راہ میں کہیں گھات میں بیٹھے ہوں گے۔ جب پولس قریب سے گزرے گا تو وہ اُس پر پِل پڑیں گے اور اُسے مار ڈالیں گے۔
۲۳: ۱۶- ۱۹ خدا کی مشیت سے پولس کے ایک بھانجے نے سازِش کا سارا حال سن لیا اور جا کر اُسے خبر دی۔ پولس یقین رکھتا تھا کہ اپنی جان کی محافظت کے لئے ہر قانونی طریقے سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ اِس لئے اُس نے ساری بات ایک صوبے دار کو بتائی۔ وہ صوبے دار شخصی طور پر «اُس نوجوان کو پلٹن کے سردار کے پاس لے» گیا۔
۲۳: ۲۰، ۲۱ پولس کے بھانجے نے نہ صرف سازِش کا سارا حال بیان کیا بلکہ پُرجوش درخواست بھی کی کہ یہودیوں کے اِس مطالبے کو ہرگز نہ ماننا کہ پولس کو اُن کے پاس لایا جائے۔
۲۳: ۲۲ پلٹن کے سردار نے ساری بات سننے کے بعد اُس جوان کو اِس ہدایت کے ساتھ رُخصت کیا کہ کسی کو نہ بتانا کہ تمہاری میرے ساتھ ملاقات ہوئی ہے۔ سردار کو اَب احساس ہوا کہ مجھے بِلاتاخیر فیصلہ کن اقدام کر کے قیدی کو یہودیوں کے طیش اور غضب سے بچانا ہو گا۔
۲۳: ۲۳- ۲۵ چنانچہ اُس نے جلدی سے دو صوبہ داروں کو بلایا اور حکم دیا کہ فوجی دستہ تیار کریں تاکہ قیدی رسول کو بحفاظت قیصریہ پہنچایا جائے۔ اِس حفاظتی دستے میں «دو سو سپاہی اور ستر سوار اور دو سو نیزہ بردار» شامل تھے۔ یہ سفر رات کی تاریکی کے پردے میں کرنا تھا۔ تقریباً نو بجے رات کو روانہ ہونا تھا۔
اِتنا بڑا حفاظتی دستہ خدا کے اِس ایلچی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ پلٹن کے سردار کا مقصد یہ تھا کہ اپنے اعلیٰ رومی افسران میں اپنی شہرت کو قائم رکھے۔ اگر یہودی پولس کو قتل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو چونکہ وہ رومی شہری تھا اِس لئے ذمہ دار افسر کو اپنی کوتاہی کی خاص جواب دہی کرنی پڑتی۔
۲۳: ۲۶- ۲۸ رومی حاکم فیلکس کو خط لکھتے ہوئے پلٹن کا سردار اپنی شناخت کلودیس لُوسیاس کے نام سے کراتا ہے۔ اِس خط کا مقصد پولس سے متعلقہ صورتِ حال کی وضاحت کرنا تھا۔ یہ بات قدرے مضحکہ خیز ہے کہ لُوسیاس اپنے آپ کو ایک ہیرو اور راستی کے محافظ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ غالباً اُسے خدشہ تھا کہ فیلکس کو یہ رپورٹ دی جائے کہ اُس نے ایک رومی شہری کو الزام ثابت کئے بغیر باندھ رکھا ہے۔ کلودیس یوسیاس کی خوش قسمتی تھی کہ پولس نے اِس بات کا ذکر نہیں کیا۔
۲۳: ۲۹، ۳۰ پلٹن کے سردار نے وضاحت کی کہ میری تفتیش سے ثابت ہوتا ہے کہ پولس بے گناہ ہے اور اِس پر کوئی ایسا الزام نہیں کہ وہ قتل یا قید کے لائق ہو بلکہ سارے غل غپاڑے اور ہنگامے کا تعلق یہودی شریعت کے مسئلوں سے ہے۔ پولس کے خلاف ایک سازش کے باعث مَیں نے موزوں سمجھا کہ اُس کو «قیصریہ» بھیج دوں۔ «مُدَّعی» بھی وہاں آ کر دعویٰ کر سکتے ہیں اور سارا معاملہ فیلکس کے سامنے پیش ہو سکتا ہے۔
۲۳: ۳۱- ۳۵ قیصریہ کے اِس سفر کے دوران وہ تھوڑی دیر کے لئے انتپترس کے مقام پر رُکے۔ یہ شہر یروشلیم سے باسٹھ کلومیٹر اور قیصریہ سے ۳۹ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ چونکہ اِس مقام سے آگے یہودیوں کی گھات اور حملے کا کوئی خطرہ نہیں تھا اِس لئے فوجی یروشلیم کو واپس آ گئے۔ پولس کو بحفاظت قیصریہ پہنچانے کے لئے صرف سواروں کا دستہ ساتھ رہ گیا۔ قیصریہ پہنچ کہ اُنہوں نے لُوسیاس کا خط سے فیلکس کو دے دیا اور «پولس کو بھی اُس کے آگے حاضر کیا۔» اِبتدائی تفتیش فیلکس کو تسلی ہو گئی کہ پولس رومی شہری ہے۔ اُس نے وعدہ کیا کہ «جب تیرے مُدَّعی بھی حاضر ہوں گے تو مَیں تیرا مقدمہ کروں گا۔» اور حکم دیا کہ اِس دوران پولس کو ہیرودیس کے قلعہ یا پریٹوریم میں قید رکھا جائے۔
رومی گورنر فیلکس نے غلام سے بڑی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے رومی گورنر کا عہدہ حاصل کیا تھا۔ اب وہ رومی سلطنت میں اعلیٰ سیاسی رُتبے پر فائز تھا۔ جہاں تک شخصی زندگی کا تعلق ہے، فیلکس بہت بدکار تھا۔ جس وقت اُسے یہودیہ کے صوبے کا گورنر مقرر کیا گیا، وہ تین شاہی خواتین کا شوہر تھا۔ گورنری کے دوران اُس کو اِمیسہ (Emesa) کے بادشاہ ازیزوس (Azizus) کی بیوی درُوسلہ سے محبت ہو گئی۔ یوسیفس کے مطابق شادی کا بندوبست کپرس کے جادو گر شمعون کی معرفت کیا گیا۔
فیلکس ایک ظالم حاکم تھا۔ اِس کا ثبوت اِس واقعے سے بھی ملتا ہے کہ اُس نے یونتن نام ایک سردار کاہن کو مروا دیا تھا کیونکہ اُس نے فیلکس کی بد اِنتظامیوں پر نکتہ چینی کی تھی۔ اور یہی فیلکس تھا جس کے سامنے پولس کو پیش ہونا تھا۔
۲۴: ۱ پولس کے یروشلیم سے قیصریہ آنے کے «پانچ دن کے بعد حننیاہ سردار کاہن» سنہیڈرن کے چند اراکین کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ اُنہوں نے ترطُلُس نام ایک رومی وکیل کو اُجرت پر ساتھ لیا کہ اِستغاثہ کا وکیل ہو۔ اُس کی ذمہ داری تھی کہ فیلکس کے سامنے کھڑا ہو کر پولس کے خلاف الزامات کے حق میں دلائل دے۔
۲۴: ۲- ۴ ترطُلُس نے اِستغاثہ کا آغاز کرتے ہوئے فیلکس کی بے حد خوشامد اور تعریف کی۔ بے شک اِس ساری مبالغہ آرائی میں کچھ نہ کچھ سچائی بھی تھی۔ فیلکس نے ہنگاموں اور بغاوتوں کو کچل کر امن و امان قائم رکھا تھا لیکن ترطلُس کے الفاظ میں صرف اِس حقیقت کا اعتراف ہی نہیں بلکہ اُس نے حد سے آگے بڑھ کر گورنر کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
۲۴: ۵- ۸ اِس کے بعد اُس نے پولس رسول پر چار خصوصی الزام لگائے:
- یہ شخص «مفسد» ہے یعنی فساد پیدا کرنے والا ہے۔
- «سب یہودیوں میں فتنہ انگیز» ہے۔
- «ناصریوں کے بدعتی فرقے کا سرگروہ » ہے۔
- «اِس نے ہیکل کو ناپاک کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔»
۲۴: ۹ ترطُلس نے اِس اعتماد کا اِظہار کیا کہ فیلکس اِن الزامات کے درست ہونے کی تفتیش اور تصدیق کرنے کی قابلیت اور لیاقت رکھتا ہے۔ اِس پر جو یہودی وہاں موجود تھے اُنہوں نے بھی الزامات کے سلسلے میں ترطُلس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
۲۴: ۱۰ گورنر نے پولس کو بولنے کا اِشارہ کیا تو وہ اپنے دفاع کے لئے کھڑا ہوا۔ پہلے تو اُس نے اِطمینان کا اِظہار کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص کے سامنے جواب دہی کا موقع ملا ہے جو بہت برسوں کا تجربہ رکھتا ہے اور یہودیوں کے رسم و رواج اور طور طریقوں سے بخوبی واقف ہے۔ شاید محسوس ہو کہ پولس بھی خوشامد کر رہا ہے لیکن دراصل یہ حقیقت کا مودبانہ بیان تھا۔
اِس کے بعد پولس رسول نے اپنے خلاف الزام کا ایک ایک کر کے جواب دیا۔
۲۴: ۱۱ فسادی ہونے کے الزام کے جواب میں اُس نے بتایا کہ صرف بارہ دن ہوئے ہیں « کہ مَیں یروشلیم میں عبادت کرنے گیا تھا»۔ یہ کوئی فساد کی بات یا وجہ نہیں ہو سکتی۔
۲۴: ۱۲، ۱۳ پھر اِس الزام کی تردید کی کہ اُس نے یہودیوں کو بغاوت کرنے پر اُکسایا تھا۔ مَیں نے «نہ ہیکل میں … نہ عبادت خانوں میں نہ شہر میں» کسی سے بحث کی، نہ کسی کو فساد کرنے یا بغاوت کرنے پر اُکسایا۔ یہ حقائق تھے اور کوئی اِن کو غلط ثابت نہیں کر سکتا تھا۔
۲۴: ۱۴- ۱۷ پولس نے تیسرے الزام کی تردید نہیں کی کہ یہ «ناصریوں کے بدعتی فرقے کا سرگروہ» ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا کہ اِس حیثیت میں مَیں یہودیوں «کے خدا کی عبادت کرتا ہوں اور جو کچھ توریت اور نبیوں کے صحیفوں میں لکھا ہے اُس سب پر میرا ایمان ہے»۔ مَیں سارے راسخ العقیدہ یہودیوں اور خصوصاً فریسیوں کی اُمید میں شریک ہوں کہ «راست بازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت ہو گی۔» آنے والی اِسی قیامت کی روشنی میں پولس کوشش کرتا تھا کہ خداوند اور ساتھی اِنسانوں کے ساتھ ہمیشہ واضح تعلق قائم رہے۔ یہودیوں کو بغاوت پر اُکسانا تو دُور کی بات ہے، وہ تو یروشلیم میں «اپنی قوم کو خیرات پہنچانے اور نذریں چڑھانے آیا تھا»۔ یہاں وہ مکدنیہ اور اخیہ کی کلیسیائوں کی طرف سے اُس چندے وغیرہ کا حوالہ دے رہا ہے جو یروشلیم میں حاجت مند مسیحی مقدسین کے لئے بھیجا گیا تھا۔
۲۴: ۱۸، ۱۹ چوتھا الزام یہ تھا کہ پولس نے ہیکل کو ناپاک کیا تھا۔ پولس نے اِس کا یہ جواب دیا کہ یہودی مَنّت کو پورا کرنے کے لئے جب مَیں ہیکل میں نذریں چڑھا رہا تھا تو آسیہ کے چند یہودی تھے جنہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ پر الزام لگایا کہ مَیں ناپاک غیر قوم والوں کو ہیکل میں لایا تھا۔ بے شک یہ بات درست نہ تھی۔ اُس وقت رسول اکیلا تھا اور رسمی ناپاکی سے طہارت کی حالت میں تھا یعنی پاک تھا۔ آسیہ کے یہ چند یہودی تھے جنہوں نے یروشلیم میں مجھ پر الزام لگایا اور میرے خلاف ہنگامہ کرایا تھا۔ «اگر اُن کا مجھ پر کچھ دعویٰ تھا» تو چاہئے تھا کہ وہ قیصریہ میں آکر فیلکس سے «فریاد» کرتے۔
۲۴: ۲۰، ۲۱ اب پولس نے اُن یہودیوں کو جو وہاں حاضر تھے چیلنج کیا کہ جب وہ «صدر عدالت کے سامنے کھڑا تھا» یعنی یروشلیم میں سنہیڈرن کے سامنے پیش کیا گیا تھا تو اُس پر کون کون سے جرم اور قصور ثابت ہوئے تھے۔ یہ لوگ کچھ بھی ثابت نہیں کر پائے تھے۔یہ صرف اِتنا کہہ سکتے ہیں کہ پولس نے «بلند آواز سے کہا تھا کہ مُردوں کی قیامت کے بارے میں آج مجھ پر تمہارے سامنے مقدمہ ہو رہا ہے»۔
۲۴: ۲۲ فیلکس نے ساری باتیں سنیں تو وہ تذبذب میں پڑ گیا۔ وہ مسیحی ایمان کے متعلق اِتنا کچھ جانتا تھا کہ سمجھ گیا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ اُس کے سامنے جو قیدی کھڑا تھا، صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ بے قصور ہے۔ یعنی اُس نے رومی قانون کے خلاف کوئی جرم نہیں کیا۔ لیکن اگر وہ پولس کو بری کرتا تو یہودیوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنتا۔ سیاسی نقطۂ نگاہ سے اُن کی حمایت حاصل کئے رکھنا بہت ضروری تھا۔ چنانچہ اُس نے اِسی میں مصلحت سمجھی کہ مقدمے کو جاری رکھے۔ چنانچہ اُس نے اعلان کیا کہ «جب پلٹن کا سردار لوسیاس آئے گا تو مَیں تمہارا مقدمہ فیصل کروں گا۔» دراصل یہ ایک تاخیری حربہ تھا۔ ہمیں کچھ خبر نہیں کہ پلٹن کا سردار کبھی قیصریہ آیا یا نہیں۔
۲۴: ۲۳ اِسی پیشی کو ختم کرتے ہوئے فیلکس نے حکم دیا کہ پولس کو قید تو رکھا جائے مگر آرام کے ساتھ اور اُسے معقول حد تک آزادی بھی ہو۔ اور اِس کے دوستوں کو ملاقات کرنے اور اُسے کھانا کپڑا فراہم کرنے کی اِجازت ہو۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گورنر اُس کو قطعی مجرم نہیں سمجھتا تھا۔
۲۴: ۲۴، ۲۵الف مندرجہ بالا پیشی کے چند روز بعد گورنر «فیلکس اور اُس کی بیوی درُوسِلہ» نے پولس رسول کے ساتھ علیٰحدگی میں ملاقات کا بندوبست کیا تاکہ «مسیح یسوع کے دین» کے بارے میں مزید واقفیت حاصل کریں۔ اِس اُڑائو اور مسرف گورنر اور اُس کی زِناکار بیوی کے سامنے پولس نے بڑے بے خوفی اور جرأت کے ساتھ گفتگو کی اور اُن کو «راست بازی اور پرہیز گاری اور آئندہ عدالت» کے بارے میں بتایا۔ وہ شخصی راست بازی یا ضبطِ نفس کے بارے میں اپنی ذاتی زندگی میں یا عوامی زندگی میں عملاً کچھ بھی نہیں جانتے تھے، جیسا کہ اُن کی موجودہ بے ضابطہ شادی سے بھی ثابت ہوتا تھا۔ اِسی طرح وہ پرہیزگاری کے تصور سے بھی ناآشنا تھے۔ ضرورت تھی کہ اُن کو آئندہ عدالت سے خبردار کیا جاتا کیونکہ جب تک یسوع کے خون کے وسیلے سے اُن کے گناہ معاف نہ ہوتے وہ آگ کی جھیل میں ہلاک ہوتے۔
۲۴: ۲۵ب، ۲۶ لگتا ہے کہ دروسلہ کی نسبت فیلکس پر زیادہ اثر ہوا۔ اگرچہ وہ دہشت کھا گیا مگر نجات دہندہ پر ایمان نہ لایا۔ اُس نے مسیح کو قبول کرنے کے فیصلے کو التوا میں ڈال دیا اور کہنے لگا، «اِس وقت تو جا۔ فرصت پا کر تجھے پھر بلائوں گا۔» افسوس کی بات ہے کہ اُس کو یہ فرصت کبھی نہ ملی۔ تو بھی فیلکسکے سامنے یہ پولس کی آخری گواہی نہ تھی۔ اگلے دو سال کے دوران جب کہ رسول قیصریہ میں قید تھا گورنر نے اُسے کئی بار بلایا۔ دراصل فیلکس کو اُمید تھی کہ پولس کے دوست اُس کی رہائی کی خاطر اُسے خاصی بڑی رِشوت دیں گے۔
۲۴: ۲۷ دو برس بعد ۶۰ء میں «پُرکیس فیستُس، فیلکس کی جگہ مقرر ہوا اور فیلکس یہودیوں کو اپنا احسان مند کرنے کی غرض سے پولس کو قید ہی میں چھوڑ گیا»۔ پولس کو قیصریہ میں ہتھکڑیاں ہی لگی رہیں!
۲۵: ۱ قیصر نیرو نے ۶۰ء کے موسمِ خزاں میں پرکیس فیستُس کو یہودیہ کے صوبہ کا گورنر مقرر کیا تھا۔ قیصریہ سوریہ کے رومی صوبے کا سیاسی صدر مقام تھا اور یہودیہ اِس علاقے کا ایک حصہ تھا۔ تین روز کے بعد فیستُس قیصریہ سے یروشلیم کو گیا۔ یروشلیم اُس کے زیرِ حکم علاقہ کا مذہبی صدر مقام تھا۔
۲۵: ۲، ۳ اگرچہ پولس کو قیصریہ میں قید ہوئے دو برس گزر گئے تھے، مگر یہودی اُسے نہیں بھولے تھے۔ نہ اُن کی قاتلانہ نفرت کم ہوئی تھی۔ یہ سوچ کر کہ شاید نئے گورنر سے اُنہیں کچھ سیاسی رعایت مل جائے سردار کاہنوں اور یہودیوں کے رئیسوں نے پولس کے خلاف اُس کے کان بھرے۔ اور درخواست کی کہ «اُسے یروشلیم میں بلا بھیج» اور یہاں اُس پر مقدمہ چلا۔ شاید اُن کا مطلب یہ تھا کہ پولس کو سنہیڈرن کے سامنے پیش کیا جائے۔ لیکن اُن کا اصل منصوبہ یہ تھا کہ گھات لگا کر «اُسے راہ میں مار ڈالیں۔»
۲۵: ۴، ۵ مگر فیستُس کو یقینا اُن کے پہلے منصوبے کی اطلاع تھی۔ اور یہ بھی پتا تھا کہ پلٹن کے سردار نے پولس کو یروشلیم سے قیصریہ پہنچانے کے لئے کیسے سخت اِنتظامات کئے تھے۔ اِس لئے اُس نے یہودیوں کی درخواست منظور نہ کی بلکہ وعدہ کیا کہ اگر وہ قیصریہ آ کر بات کریں تو پولس کے خلاف اُن کے الزام سنے گا۔
۲۵: ۶- ۸ یروشلیم میں آٹھ دس دن قیام کے بعد فیستُس واپس قیصریہ گیا اور دوسرے دن تخت ِعدالت پر بیٹھا یعنی عدالتی کارروائی شروع کی۔ یروشلیم سے یہودی بھی وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ «وہ … اُس پر بہتیرے سخت الزام لگانے لگے» لیکن ایک بھی الزام ثابت نہ کر سکے۔ پولس نے دیکھ لیا کہ اُن کے مقدمے میں کوئی جان نہیں۔ اِس لئے صرف ہر قسم کے جرم اور الزام سے اِنکار کرنے پر اِکتفا کیا اور صرف اِتنا کہا کہ «مَیں نے نہ تو کچھ یہودیوں کی شریعت کا گناہ کیا ہے، نہ ہیکل کا نہ قیصر کا۔» اُس نے کوئی دلیل بازی نہیں کی۔
۲۵: ۹- ۱۱ تھوڑی دیر کے لئے تو محسوس ہوا کہ فیستُس یہودیوں کی درخواست منظور کرلے گا کہ پولس کو سنہیڈرن کے سامنے پیش ہونے کے لئے یروشلیم بھیج دیا جائے۔ لیکن وہ قیدی کی رضامندی کے بغیر ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ظاہر ہے کہ پولس کو احساس تھا کہ اگر مَیں مان گیا تو کبھی زندہ یروشلیم نہیں پہنچوں گا۔ چنانچہ اُس نے یہ کہہ کر یروشلیم جانے سے اِنکار کر دیا کہ قیصریہ کی عدالت ہی مقدمے کی کارروائی کے لئے موزوں جگہ ہے۔ اُس نے مزید کہا کہ اگر مَیں نے سلطنت ِروم کے خلاف کوئی جرم کیا ہے تو مرنے کو تیار ہوں۔ لیکن اگر ایسا گناہ نہیں کیا تو کون سی قانونی بنیاد پر مجھے یہودیوں کے حوالہ کیا جائے گا؟ رومی شہری کی حیثیت سے اپنے حقوق کا پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پولس رسول نے یہ یادگار الفاظ کہے « مَیں قیصر کے ہاں اپیل کرتا ہوں۔»
کیا پولس «قیصر کے ہاں اپیل» کرنے میں حق بجانب تھا؟ کیا اُسے نہیں چاہئے تھا کہ اپنا معاملہ مکمل طور پر خدا پر چھوڑ دیتا اور اپنی زمینی شہریت کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکتا؟ کیا یہ بھی پولس کی کوئی غلطی تھی؟ ہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہمیں صرف اِتنا پتا ہے کہ اِس اپیل نے اُس موقعے پر اُس کی رہائی میں رُکاوٹ ڈال دی۔ اور اگر وہ اپیل نہ بھی کرتا تو کسی اَور طریقے سے ضرور روم پہنچ جاتا۔
۲۵: ۱۲ فیستُس نے اپنے قانونی صلاح کاروں سے مختصر سا مشورہ کیا کہ ایسے معاملات میں لائحہ عمل کیا ہوتا ہے۔ پھر اُس نے غالباً غصے اور گستاخی کے لہجے میں پولس سے کہا کہ « تُو نے قیصر کے ہاں اپیل کی ہے، تُو قیصر ہی کے پاس جائے گا۔»
۲۵: ۱۳ اِن باتوں کے کچھ دن … بعد بادشاہ ہیرودیس اگرپا دوم اور اُس کی بہن برنیکے نئے تقرر پر فیستُس کو مبارک باد دینے کے لئے قیصریہ آئے۔ یہ« اگرپا» ہیرودیس اگرپا اوّل کا بیٹا تھا جس نے یعقوب کو قتل کرایا اور پطرس کو قید میں ڈالا تھا (اعمال باب ۱۲)۔ اُس کی بہن غیر معمولی حُسن و جاذبیت کی مالک تھی۔ اگرچہ تاریخ نویس اُس کی غیر معمولی بدنامی اور اپنے سگے بھائی کے ساتھ ناجائز تعلقات کے بارے میں بہت کچھ بیان کرتے ہیں مگر نیا عہدنامہ اِس عورت کے ذاتی کردار کے بارے میں خاموش ہے۔
۲۵: ۱۴- ۱۶ قیصریہ میں اُنہوں نے خاصا طویل قیام کیا۔ اِس دوران فیستُس نے فیصلہ کیا کہ پولس نام قیدی کے مقدمے کے سلسلے میں جو مشکل ہے وہ اگرپا سے بیان کرے۔ پہلے تو اُس نے بتایا کہ یہودی نامعقول سا مطالبہ کرتے ہیں کہ مقدمے کی باضابطہ کارروائی کے بغیر ہی اُسے سزا کا حکم سنایا جائے۔ اُس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ مناسب قانونی طریقۂ کار کا محافظ ہے اور بتایا کہ اُس نے کس طرح باضابطہ پیشی پر اِصرار کیا تاکہ « مُدَّعا علیہ کو اپنے مُدَّعیوں کے رُوبرو ہو کر دعویٰ کے جواب دینے کا موقع» ملے تاکہ اپنا دفاع کر سکے۔
۲۵: ۱۷- ۱۹ فیستُس نے مزید بتایا کہ جب پیشی ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ قیدی حکومت کے خلاف کسی قسم کے جرم میں ملوث نہیں۔ سارا مقدمہ یہودیوں کے «اپنے دین اور کسی شخص یسوع کی بابت … بحث» کے گرد گھوم رہا ہے۔ یہودی کہتے ہیں کہ یہ یسوع «مر گیا تھا اور پولس اُس کو زندہ بتاتا ہے»۔
۲۵: ۲۰- ۲۲ فیستُس نے یہ بھی بتایا کہ مَیں نے پولس رسول کو یروشلیم بھیجنے کی پیش کش کی تھی، مگر اُس نے اپیل کی کہ «میرا مقدمہ شہنشاہ کی عدالت میں فیصل ہو۔» اِس اپیل سے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا کہ قیدی کو روم بھیجا جائے تو اُس پر الزام کیا لگایا جائے۔ چونکہ اگرپا یہودی تھا اور یہودیت کے مسائل سے خوب واقف تھا، اِس لئے فیستُس کو اُمید تھی کہ وہ کوئی موزوں الزام تراشنے میں مددگار ثابت ہو گا۔
دُنیا کے نجات دہندہ کی بات کرتے ہوئے فیستُس نے «کسی شخص یسوع» کے الفاظ استعمال کئے (۲۵: ۱۹)۔
۲۵: ۲۳ دوسرے دن ایک باقاعدہ سماعت کا بندوبست کیا گیا۔« اگرپا اور برنیکے بڑی شان و شوکت سے پلٹن کے سرداروں اور شہر کے رئیسوں کے ساتھ دیوان خانہ میں داخل ہوئے» اِس کے بعد «پولس حاضر کیا گیا۔»
۲۵: ۲۴- ۲۷ فیستُس نے ایک دفعہ پھر مقدمے کی ساری تاریخ دُہرائی اور بتایا کہ یہودیوں کا سخت اِصرار ہے کہ پولس کو سزائے موت دی جائے۔ «لیکن مجھے معلوم ہوا کہ اُس نے قتل کے لائق کچھ نہیں کیا۔» علاوہ ازیں پولس نے قیصر کے ہاں اپیل کی ہے، لیکن مخمصہ یہ ہے: پولس کی اپیل نے اُسے مجبور کر دیا تھا کہ اُسے قیصر نیرو کے پاس بھیجے، لیکن مقدمے کے لئے مناسب قانونی بنیاد موجود نہ تھی۔ فیستُس نے صاف صاف کہہ دیا کہ اُسے اُمید ہے کہ اگرپا اِس سلسلے میں مدد کر سکے گا کیونکہ یہ بات خلافِ عقل معلوم ہوتی ہے کہ قیدی کو تو بھیجا جائے مگر اُس کے الزامات کی وضاحت نہ کی جائے۔ یہ ساری باتیں مقدمے کی کارروائی نہیں بلکہ زیادہ تر سماعت کی حیثیت سے کی گئیں۔ اِس وقت یہودی موجود نہ تھے کہ رسول پر الزامات عائد کرتے۔ اور یہ توقع نہ تھی کہ اگرپا کوئی حتمی فیصلہ دے گا۔
۲۶: ۱- ۳ کسی نے اِس منظر کی بڑی خوبصورت تصویر کھینچی ہے، «ایک قید و بند میں جکڑا ہوا بادشاہ اور ایک تخت پر جلوہ افروز قیدی۔» روحانی نقطۂ نظر سے اگرپا قابلِ رحم شخص تھا جب کہ پولس رسول ایمان کے پروں پر بلند پروازی کر رہا تھا۔ وہ اپنے ماحول اور حالات سے بے حد بلند تھا۔
اگرپا سے اِجازت ملنے پر «پولس ہاتھ بڑھا کر اپنا جواب یوں پیش کرنے لگا»۔ اُس کا جواب مسیحی تجربے کا موثر اور ولولہ انگیز بیان تھا۔ پہلے تو اُس نے شکریہ ادا کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص کے سامنے جواب دہی کا موقع ملا ہے جو یہودی ہے اور اِس لئے «یہودیوں کی سب رسموں اور مسئلوں سے واقف ہے»۔ اگرپا کا یہ تعارُف پولس کی طرف سے خوشامد نہیں بلکہ مسیحی ادب و اخلاق اور ایک حقیقت کا بیان تھا۔
۲۶: ۴، ۵ جہاں تک پولس کی «شروعِ جوانی » یا اِبتدائی زندگی کا تعلق ہے، وہ ایک مثالی یہودی تھا۔ یہودی «اگر چاہیں تو گواہ ہو سکتے ہیں» کہ پولس نہایت کٹر اور راسخ العقیدہ راہ پر چلتا رہا تھا، کیونکہ وہ ایک وضع دار «فریسی» تھا اور یہ «سب سے زیادہ پابندِ مذہب فرقہ» تھا۔
۲۶: ۶ اور اب اُس پر صرف اِس وجہ سے مقدمہ چل رہا تھا کہ وہ «اُس وعدہ کی اُمید» پر قائم تھا «جو خدا نے … باپ دادا سے کیا تھا»۔ یعنی خدا نے پرانے عہدنامے کے بزرگوں سے جو وعدہ کیا تھا پولس اُس کے پورا ہونے کی اُمید پر قائم تھا۔ یہاں پولس کی دلیل کا سلسلہ یوں چلتا ہے: پرانے عہدنامے میں خدا نے اِسرائیلی قوم کے رہبروں مثلاً ابرہام، اضحاق، یعقوب، دائود اور سلیمان سے کئی وعدے کئے تھے۔ سب سے بڑا وعدہ مسیحِ موعود سے تعلق رکھتا تھا کہ وہ اِسرائیلی قوم کو خلاصی دلانے اور دُنیا پر حکومت کرنے کے لئے آئے گا۔ پرانے عہدنامے کے بزرگان اِس وعدے کی تکمیل کو دیکھے بغیر مر گئے۔ کیا اِس کا مطلب ہے کہ خدا اِن وعدوں کی شقوں کو پورا نہیں کرے گا؟ بے شک وہ پورا کرے گا۔ لیکن کیسے جب کہ بزرگان تو مر چکے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ خدا اُن بزرگوں کو « مُردوں میں سے زندہ کر کے» اپنے وعدے پورے کرے گا۔ اِس طرح پولس نے پرانے عہدنامے کے مقدسین کے ساتھ وعدوں کو مردوں کی قیامت سے منسلک کیا ہے۔
۲۶: ۷ رسول نے اِسرائیل کے بارہ قبیلوں کی تصویر اِس طرح پیش کی ہے کہ وہ «اِسی وعدہ کے پورا ہونے کی اُمید پر … دل و جان سے رات دن عبادت کیا کرتے ہیں»۔ بارہ قبیلوں کا یہ ذکر اِس لئے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ آج کل یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اسیری کے بعد سے دس قبیلے «گم ہو چکے ہیں۔» اگرچہ وہ غیر قوموں کے درمیان تتر بِتر تھے مگر پولس اُن کو ایک علیٰحدہ قوم کے طور پر دیکھتا ہے جس کے افراد خدا کی «عبادت کر رہے ہیں» اور موعودہ مخلصی دینے والے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
۲۶: ۸- ۱۱ پولس دوبارہ اپنے حالاتِ زندگی کی طرف آتا ہے اور اُس وحشیانہ اور بے درد مہم کا ذکر کرتا ہے جو اُس نے مسیحی ایمان پر چلنے والوں کے خلاف چلا رکھی تھی۔ وہ اپنی پوری قوت سے یسوع ناصری کی مخالفت کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا اور «سردار کاہنوں کی طرف سے اِختیار پا کر بہت سے مقدسوں کو قید میں ڈالا»۔ یہ تو تھا یروشلیم کا واقعہ۔ اور جب یروشلیم میں سنہیڈرن کے سامنے اُن کی پیشی ہوتی تو پولس ہمیشہ اُن کے خلاف ووٹ دیتا تھا۔ اور «ہر عبادت خانہ میں اُنہیں سزا دلا دلا کر زبردستی اُن سے کفر کہلواتا تھا»۔ یعنی اُن کو مجبور کرتا تھا کہ خداوند کا اِنکار کریں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کامیاب ہوتا تھا مگر کوشش ضرور کرتا رہتا تھا۔ یسوع کے شاگردوں کی یہ مخالفت پولس کو یروشلیم اور یہودیہ سے غیر شہروں میں بھی لے گئی۔
۲۶: ۱۲- ۱۴ اور غیر شہروں کی ایک ایسی ہی مہم کے دوران پولس کو زندگی بدل دینے والا تجربہ ہوا۔ وہ دمشق جا رہا تھا۔ اُس کے پاس باضابطہ اِختیار نامہ تھا کہ وہاں سے مسیحیوں کو باندھ کر یروشلیم لائے اور سزا دلوائے۔ دوپہر کے وقت ایک جلالی رُؤیا نے اُس کو چندھیا دیا۔ «سورج کے نور سے زیادہ ایک نور آسمان سے» اُس پر چمکا۔ وہ زمین پر گر پڑا اور ایک آواز سنی جس نے بہت گہرا سوال پوچھا کہ «اے سائول! اے سائول! تُو مجھے کیوں ستاتا ہے؟» اِسی آواز نے یہ اِنکشاف کرنے والے الفاظ بھی کہے کہ «پینے کی آر پر لات مارنا تیرے لئے مشکل ہے۔» «پینے کی آر» ایک نوکدار آلہ ہوتا ہے جو اڑیل جانوروں کو ہانکنے اور چلانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پولس اپنے ضمیر کے «پینے کی آر» پر لات مار رہا تھا۔ اور اِس سے بھی اہم بات یہ کہ وہ الزام لگانے والی روح القدس کی آواز کے خلاف چل رہا تھا۔ وہ اُس وقار اور شان کو نہیں بھول سکا تھا جو اُس نے مرتے ہوئے ستفنُس میں دیکھی تھی۔ وہ خود خدا کے خلاف نبرد آزما تھا۔
۲۶: ۱۵ پولس نے پوچھا، «اے خداوند، تُو کون ہے؟» آواز نے جواب دیا، «مَیں یسوع ہوں، جسے تُو ستاتا ہے۔» یسوع؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا یسوع مصلوب ہو کر مر نہیں گیا تھا؟ کیا اُس کے شاگرد اُس کی لاش چرا نہیں لے گئے تھے اور کسی خفیہ جگہ نہیں رکھ دی تھی؟ پھر کیسے ہوا کہ یسوع اب مجھ سے مخاطب ہے؟ بہت جلد پولس کی روح پر سچائی اور حقیقت ظاہر ہو گئی۔ یسوع کو واقعی دفن کیا گیا تھا مگر وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا اور وہ آسمان پر چڑھ گیا اور اب وہاں سے پولس سے مخاطب تھا۔ مسیحیوں کو ستانے میں وہ اُن کے مالک کو ستا رہا تھا۔ اِس طرح وہ اِسرائیل کے مسیحِ موعود کو ستا رہا تھا جو دراصل خدا کا بیٹا ہے۔
۲۶: ۱۶ اِس کے بعد پولس اپنی اِس ذمہ داری کا مختصر بیان کرتا ہے جو زندہ خداوند یسوع مسیح نے اُسے سونپی تھی۔ خداوند نے اُس سے کہا، «اُٹھ اپنے پائوں پر کھڑا ہو۔» اُس کو جلالی مسیح نے یہ خاص مکاشفہ اِس لئے دیا کہ اُسے مقرر کیا گیا تھا کہ خداوند کا خادم ہو اور اِن باتوں کی گواہی دے جو اُس نے اُس روز دیکھی تھیں اور مسیحی ایمان کی اُن عظیم سچائیوں کا بھی گواہ ہو جو اُس پر ظاہر کی جائیں گی۔
۲۶: ۱۷ خداوند یسوع نے وعدہ کیا کہ « مَیں تجھے اِس اُمت اور غیر قوموں سے بچاتا رہوں گا۔» اِس سے مراد ہے کہ جب تک اُس کا کام پورا نہ ہو جائے خداوند اُس کی جان کو محفوظ رکھے گا۔
۲۶: ۱۸ پولس کو خاص طور سے غیر قوموں کے پاس بھیجا جائے گا تاکہ «اُن کی آنکھیں کھول دے تاکہ اندھیرے سے روشنی کی طرف اور شیطان کے اِختیار سے خدا کی طرف رجوع لائیں۔» مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے سے «گناہوں کی معافی اور مقدسوں میں شریک ہو کر میراث پائیں۔» ایچ۔ کے۔ ڈائونی (Downie) بڑی عمدگی سے بیان کرتا ہے کہ آیت ۱۸ اُن ساری باتوں کا انمول خاکہ ہے جو اِنجیل کسی کی زندگی میں کرتی ہے۔
- اندھیرے سے چھڑاتی ہے۔
- شیطان کے اِختیار سے آزاد کرتی ہے۔
- گناہ معاف کرتی ہے۔
- کھوئی ہوئی میراث کو بحال کرتی ہے۔
۲۶: ۱۹- ۲۳ پولس اگرپا کو بتاتا ہے کہ خداوند نے مجھے مقرر کر دیا تو « مَیں اُس آسمانی رُؤیا کا نافرمان نہ ہوا۔ بلکہ پہلے دمشقیوں کو، پھر یروشلیم اور سارے ملک ِیہودیہ کے باشندوں کو اور غیر قوموں کو سمجھاتا رہا کہ توبہ کریں اور خدا کی طرف رجوع لا کر توبہ کے موافق کام کریں۔» اور اپنے کاموں سے اپنی توبہ کی سچائی کو ثابت کریں۔ مَیں یہی خدمت کر رہا تھا کہ «یہودیوں نے مجھے ہیکل میں پکڑ کر مار ڈالنے کی کوشش کی»۔ لیکن خدا نے میری حفاظت اور مدد کی اور مَیں جس سے ملتا رہا اُسی کو گواہی دیتا رہا۔ مَیں اُسی پیغام کی منادی کرتا ہوں جس کی «پیش گوئی نبیوں اور موسیٰ نے بھی کی ہے۔» اور پیغام یہ ہے کہ مسیحِ موعود «کو دُکھ اُٹھانا ضرور ہے اور سب سے پہلے وہی مُردوں میں سے زندہ ہو کر اِس اُمت کو اور غیر قوموں کو بھی نور کا اِشتہار دے گا»۔
۲۶: ۲۴- ۲۶ فیستُس غیر یہودی تھا اور غالباً پولس کی باتوں اور دلائل کو پورے طور پر نہیں سمجھتا تھا۔ پولس روح القدس سے بھرا ہوا تھا۔ فیستُس اُس کی باتوں سے اُلجھن محسوس کرتا تھا۔ چنانچہ اُس نے تندمزاجی سے چِلّا کر کہا کہ «اے پولس! تُو دیوانہ ہے۔ بہت علم نے تجھے دیوانہ کر دیا ہے۔» پولس بالکل خفا نہیں ہوا۔ اُسے قطعاً غصہ نہیں آیا۔ اُس نے بڑی شائستگی کے ساتھ فیستُس کے الزام کی تردید کی اور زور دے کر کہا کہ مَیں «سچائی اور ہوشیاری کی باتیں کہتا ہوں»۔ ساتھ ہی اُس نے اعتماد کا اِظہار کیا کہ «بادشاہ» (اگرپا) اُس کی باتوں کی صداقت کو جانتا ہے۔ پولس کی زندگی اور گواہی کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔ یہودی اِس کے بارے میں سب کچھ جانتے تھے۔ اور بلاشبہ اگرپا کو بھی ساری خبریں پہنچی ہوں گی۔
۲۶: ۲۷ اب پولس نے براہِ راست بادشاہ کو مخاطب کیا: «اے اگرپا بادشاہ، کیا تُو نبیوں کا یقین کرتا ہے؟» پھر پولس نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا، « مَیں جانتا ہوں کہ تُو یقین کرتا ہے۔» دلیل نہایت زور دار ہے۔ پولس کی بات کا مفہوم یہ ہے کہ « مَیں اُن ساری باتوں کا یقین کرتا ہوں جو نبیوں نے پرانے عہدنامے میں کی ہیں اور تُو بھی اُن کی گواہی کا یقین کرتا ہے کہ نہیں، اے اگرپا»؟ تو پھر یہودی مجھ پر کس طرح ایسا الزام لگا سکتے ہیں جس کی سزا موت ہو؟ یا تُو مجھے اِسی بات پر ایمان رکھنے پر کیسے سزا دے سکتا ہے جس پر تُو خود بھی ایمان رکھتا ہے؟
۲۶: ۲۸ اگرپا نے بھی پولس کی باتوں کا زبردست اثر لیا۔ ثبوت اُس کے الفاظ میں ہے کہ « تُو تو تھوڑی ہی سی نصیحت کر کے مجھے مسیحی کر لینا چاہتا ہے۔» البتہ اِس بات میں بہت اختلافِ رائے پایا جاتا ہے کہ اگرپا کا اصل مطلب کیا تھا۔ بعض علما کا خیال ہے کہ اگرپا بادشاہ مسیح کے حق میں فیصلہ کرنے کی دہلیز پر پہنچ گیا تھا۔ اُن کا خیال ہے کہ آیت ۲۹ میں پولس کا جواب اِس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ دوسرے علما کا خیال ہے کہ اگرپا طنز سے کہہ رہا تھا کہ «کیا خیال ہے کہ تھوڑی سی نصیحت سے تُو مجھے مسیحی کر لے گا؟» گویا وہ پولس کی باتوں کو مذاق میں اُڑا رہا تھا۔
۲۶: ۲۹ اگرپا خلوصِ نیت سے بات کر رہا تھا یا مذاق میں اُڑا رہا تھا، مگر پولس کا جواب پوری دل سوزی کا مظہر ہے۔ اُس نے دلی خواہش کا اِظہار کیا کہ تھوڑی نصیحت سے یا بہت سے وہ اگرپا ہی کو نہیں بلکہ جتنے وہاں حاضر تھے وہ سب کے سب مسیحی زندگی کی خوشیوں اور برکتوں میں داخل ہو جائیں تاکہ اُن کو بھی پولس جیسے سارے اِستحقاق اور اعزاز حاصل ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ سب «میری مانند ہو جائیں۔ سوا اِن زنجیروں کے»۔ مورگن (Morgan) رقم طراز ہے کہ
«وہ اگرپا کو بچانے کی خاطر مرنے کو بھی تیار تھا، لیکن نہیں چاہتا تھا کہ اُس کی زنجیریں اگرپا کو پڑیں۔ یہ ہے مسیحیت … وہ اخلاص جو ظلم و ستم ڈھاتا ہے مسیحیت نہیں ہے۔ وہ اخلاص جو چھٹکارا دینے کی خاطر موت کو گلے لگاتا ہے مگر زنجیر نہیں پہناتا، وہ مسیحیت ہے۔»
۲۶: ۳۰- ۳۲ «تب بادشاہ اور حاکم اور برنیکے» اور دوسرے عہدے دار اُٹھ کر کمرے سے نکل گئے اور الگ جا کر صلاح مشورہ کرنے لگے۔ وہ سب ماننے پر مجبور تھے کہ یہ «آدمی ایسا تو کچھ نہیں کرتا جو قتل یا قید کے لائق ہو»۔ شاید کسی قدر پچھتاوے کے ساتھ «اگرپا نے فیستُس سے کہا کہ اگر یہ آدمی قیصر کے ہاں اپیل نہ کرتا تو چھوٹ سکتا تھا»۔
ہمیں قدرتی طور پر خیال آتا ہے کہ «قیصر کے ہاں اپیل» منسوخ کیوں نہ ہو سکتی تھی۔ یہ تبدیل ہو سکتی تھی کہ نہیں مگر ہم اِتنا ضرور جانتے ہیں کہ خدا کی مرضی تھی کہ غیر قوم کا رسول روم جائے اور شہنشاہ کے سامنے پیش ہو (۲۳: ۱۱) اور وہاں اُس کی یہ آرزو پوری ہو کہ موت میں اپنے خداوند کے مشابہ ٹھہرے۔
ط۔ پولس کا سفرِ روم اور جہاز کی غرقابی (۲۷: ۱- ۲۸: ۱۶)
یہ باب پولس کے سنسنی خیز سفر کا حال بیان کرتا ہے جو اُس نے روم جاتے ہوئے قیصریہ سے ملیتے تک کیا۔ اگر پولس اِس جہاز کا مسافر نہ ہوتا تو ہمیں نہ اِس سفر کا حال معلوم ہوتا نہ جہاز کی تباہی کی خبر ہوتی۔ اِس حصے میں بحری زندگی کی کئی اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں لہٰذا سمجھنے میں اکثر مشکل پیش آتی ہے۔
۲۷: ۱ اِس سفر کا آغاز قیصریہ سے ہوا۔ پولس کو شہنشاہی پلٹن کے ایک صوبے دار یولیس کے سپرد کیا گیا۔ اِس صوبے دار کا تعلق آگستن پلٹن سے تھا جو رومی فوج کی ایک اِمتیازی پلٹن تھی۔ نئے عہدنامے میں مذکور دوسرے سارے صوبے داروں کی طرح یولیس بھی مہربانی، اِنصاف پسندی اور دوسروں کا خیال رکھنے میں اعلیٰ کردار کا مالک تھا۔
۲۷: ۲ جہاز پر دوسرے قیدی بھی تھے۔ پولس کی طرح اُن کو بھی مقدمے کے سلسلے میں روم لے جا رہے تھے۔ مسافروں کی فہرست میں ارسترخُس اور لوقا بھی شامل ہیں۔ یہ رسول کے پہلے سفروں میں بھی اُس کے ہمراہ رہے تھے۔ جس جہاز پر یہ لوگ سوار ہوئے اُس کا تعلق ادر متیم سے تھا جو ایشیائے کوچک کے شمال مغربی کونے میں موسیہ کا ایک شہر تھا۔ جہاز کو شمال کی طرف اور مغرب کی طرف جانا اور رومی گورنر کے زیرعنان «آسیہ کے کنارے کی بندرگاہوں» پر لنگر اَنداز ہوتے ہوئے آگے جانا تھا۔ آسیہ ایشیائے کوچک کا مغربی صوبہ تھا۔
۲۷: ۳ جہاز فلستین کے ساحل کے ساتھ ساتھ شمال کو چلا اور قیصریہ سے ۱۱۳ کلومیٹر دُور صیدا میں ٹھہرا۔ صوبہ دار «یولیس نے پولس پر مہربانی کر کے» اُسے ساحل پر «دوستوں کے پاس جانے کی اِجازت دی تاکہ اُس کی خاطر داری ہو»۔
۲۷: ۴، ۵ صیدا سے بحیرۂ روم کو شمال مشرقی رُخ پر کاٹتے ہوئے، اُنہوں نے کُپُرس کو بائیں ہاتھ پر چھوڑا اور جزیرے کی آڑ کا فائدہ اُٹھایا۔ اگرچ ہوا مخالف تھی تو بھی جہاز سمندر کو عبور کر کے ایشیائے کوچک کے جنوبی ساحل پر پہنچا۔ پھر مغرب کا رُخ کر کے کلکیہ اور پمفولیہ کے پاس سے گزرا اور لوکیہ کے شہر مورہ میں لنگر اَنداز ہوا۔
۲۷: ۶ وہاں صوبہ دار نے قیدیوں کو ایک دوسرے جہاز پر بٹھا دیا کیونکہ پہلا جہاز اطالیہ نہیں جا رہا تھا۔ اُسے تو ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرنا تھا۔
دوسرا جہاز افریقہ کے شمالی ساحل پر واقع اِسکندریہ سے تعلق رکھتا تھا۔ مسافر اور عملہ ملا کر اُس میں ۲۷۶افراد سوار تھے۔ اُس پر گیہوں لدا ہوا تھا۔ اِسکندریہ سے یہ جہاز شمالی رُخ پر بحیرۂ روم کو پار کرتا ہوا مُورہ کی بندرگاہ میں آیا تھا اور اب مغرب میں اطالیہ کو جا رہا تھا۔
۲۷: ۷، ۸ مخالف ہوائوں کے باعث بہت دِنوں تک سفر کی رفتار بہت سُست رہی۔ عملہ بڑی مشکل سے جہاز کو کَنِدُس کی بندرگاہ میں لایا۔ یہ بندرگاہ ایشیائے کوچک کے اِنتہائی جنوب مغربی کونے میں واقع تھی۔ چونکہ ہوا مخالف تھی اِس لئے اُنہوں نے جنوب کا رُخ کیا اور کریتے کے جزیرے کے مشرقی کنارے کے ساتھ ساتھ چلے اِس لئے کہ اُس طرف ہوا سے آڑ ملتی تھی۔ سلمونے کے گرد گھوم کر وہ مغرب کی طرف مُڑے۔ اب اُن کو تیز ہوائوں کا سامنا تھا۔ تاہم وہ حسین بندر نام ایک مقام میں پہنچ گئے۔ یہ بندرگاہ لسیہ شہر کی بندرگاہ تھی جو کریتے کے جنوبی ساحل کے وسط میں واقع تھا۔
۲۷: ۹، ۱۰ اب تک ناموافق حالات میں کھیتے کھیتے «بہت عرصہ گزر گیا» تھا۔ موسمِ سرما آ رہا تھا۔ اِس لئے سفر کرنا اَور بھی خطرناک تھا۔ «روزہ کا دن گزر چکا تھا۔» اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستمبر کا اخیر یا اکتوبر کا شروع ہو گا۔ پولس نے عملے کو خبردار کیا کہ اب جہازرانی غیر محفوظ ہو گی۔ اگر اب بھی سفر جاری رکھا تو «تکلیف اور بہت نقصان ہو گا۔ نہ صرف مال اور جہاز کا بلکہ ہماری جانوں کا بھی»۔
۲۷: ۱۱، ۱۲ تاہم «ناخدا اور جہاز کا مالک» آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ صوبہ دار نے اُن کی بات زیادہ مانی، اِس لئے بھی کہ «وہ بندر جاڑوں میں رہنے کے لئے اچھا نہ تھا»۔ اِس لئے جہاز پر کے اکثر لوگوں نے بھی یہی صلاح دی کہ وہاں سے روانہ ہو جائیں «اور اگر ہو سکے تو فینکس میں پہنچ کر جاڑا کاٹیں»۔ فینکس حسین بندر سے ۶۴ کلومیٹر مغرب میں کریتے کی جنوب مغربی نوک پر واقع تھا اور اِس کا «رُخ شمال مشرق اور جنوب مشرق کو» تھا۔
۲۷: ۱۳- ۱۷ «جب کچھ کچھ دَکھنا ہوا چلنے لگی» تو جہاز رانوں نے سوچا کہ ہم فینکس تک کا ۶۴ کلومیٹر کا اضافی فاصلہ طے کر لیں گے چنانچہ اُنہوں نے لنگر اُٹھایا اور ساحل کے ساتھ ساتھ مغرب کو چلے۔ اب شمال مشرق سے آنے والی طوفانی ہوا «جو یُورکلُون کہلاتی ہے» ساحلی چٹانوں پر سے جہاز پر ٹکرانے لگی۔ وہ جہاز کو متوقع راستے پر نہ رکھ سکے اور «لاچار ہو کر اُس کو بہنے دیا»۔ طوفانی ہوا اُن کو جنوب مغرب میں «کودہ نام ایک چھوٹے جزیرہ» کے پاس لے گئی۔ یہ جزیرہ کریتے سے ۳۲ سے ۴۸ کلومیٹر دُور ہے۔ وہ جزیرہ کی آڑ میں پہنچے تو بھی اُن کو «ڈونگی کو قابو میں» لانے میں بڑی مشکل پیش آئی۔ وہ ڈونگی (چھوٹی کشتی) کو جہاز کے پیچھے پیچھے کھینچتے آ رہے تھے۔ لیکن بالآخر اُسے جہاز پر چڑھانے میں کامیاب ہو گئے۔ اِس کے بعد اُنہوں نے «جہاز کی مضبوطی کی تدبیریں کر کے اُس کو نیچے سے باندھا» یعنی جہاز کے پیٹے کو زنجیروں سے باندھ دیا تاکہ بھاری لہریں اُسے توڑ نہ دیں۔ اُن کو زبردست خوف اور خطرہ تھا کہ لہریں اُنہیں بہا کر «سورتس‘ کو لے جائیں گی۔ یہ جگہ افریقہ کے ساحل پر تھی اور خطرناک اور زیرآب ریتوں کے لئے مشہور تھی۔ اِس خطرے سے بچنے کے لئے اُنہوں نے «جہاز کا ساز و سامان (یعنی بادبان وغیرہ) اُتار لیا اور اُسی طرح بہتے چلے گئے۔»
۲۷: ۱۸، ۱۹ ایک پورا دن طوفان کے رحم و کرم پر ہچکولے کھانے کے بعد وہ «جہاز کا مال پھینکنے لگے»۔ تیسرے دن اُنہوں نے «جہاز کے آلات و اسباب بھی پھینک دیئے»۔ بلاشبہ جہاز میں بہت پانی بھر رہا تھا اِس لئے لازم تھا کہ بوجھ ہلکا کیا جائے تاکہ جہاز ڈوبنے سے بچ جائے۔
۲۷: ۲۰ بہت دنوں تک طوفان اُن کو اِسی طرح ہچکولے دیتا اور سمندر پر اُچھالتا رہا۔ اُن کو «نہ سورج نظر آیا نہ تارے۔» وہ معلوم بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کہاں ہیں کیونکہ سمتی زاویہ معلوم نہیں کر سکتے تھے۔ طوفان کی شدت سے آخر اُن کو «بچنے کی اُمید بالکل نہ رہی۔»
۲۷: ۲۱- ۲۶ بھوک نے مایوسی کو اَور بڑھا دیا۔ آدمیوں نے بہت دِنوں سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ وہ یقینا جہاز کے بچائو کی تدبیروں اور پانی باہر نکالنے میں لگے رہتے تھے۔ شاید کھانا پکانے کی کوئی سہولیات باقی نہ رہی تھیں۔ بیماری، خوف اور بے حوصلگی نے اُن کی بھوک اُڑا دی تھی۔ کھانے پینے کی اشیا کی کمی نہ تھی مگر کھانے کی رغبت ماری گئی تھی۔
آخر اُمید کا پیغام لے کر «پولس … اُن کے بیچ میں کھڑا» ہوا۔ پہلے تو اُس نے شائستگی سے اُن کو یاد دلایا کہ «لازم تھا کہ …تم …کریتے سے روانہ نہ ہوتے۔» اِس کے بعد اُن کو یقین دلایا کہ «کسی کی جان کا نقصان نہ ہو گا مگر جہاز کا۔» اُس کو کیسے معلوم ہوا؟ اِسی رات خداوند کا ایک فرشتہ اُس پر ظاہر ہوا تھا اور اُس کو یقین دلایا تھا کہ «ضرور ہے کہ تُو قیصر کے سامنے حاضر ہو۔» خدا نے اپنے رسول کی خاطر اُس کے ساتھ سفر کرنے والوں کی جان بھی بخش دی تھی۔ یہ تھا فرشتے کا پیغام۔ چنانچہ پولس نے اُن سے کہا کہ اِس لئے «خاطر جمع رکھو»۔ پولس کو یقین تھا کہ سب کچھ ٹھیک رہے گا۔ اگرچہ جہاز تباہ ہو جائے گا «لیکن یہ ضرور ہے کہ ہم کسی ٹاپو میں جا پڑیں۔»
اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر (Tozer) بہت بصیرت افروز بات لکھتا ہے:
«جب ’کچھ کچھ دَکھنا ہوا چلنے لگی‘ تو جس جہاز پر پولس تھا وہ خاصے آرام سے چلنے لگا۔ جہاز پر کے لوگوں میں سے کسی کو خبر نہ تھی کہ پولس کون ہے اور یہ شخص جو بظاہر سادہ سا نظر آتا ہے باطن میں کیسے مضبوط کردار کا مالک ہے۔ لیکن جب یورکلون نامی زبردست طوفان اُن پر آ پڑا، تو بہت جلد جہاز پر موجود ہر شخص پولس کی عظمت کی باتیں کرنے لگا۔ رسول اگرچہ خود قیدی تھا مگر اُسی نے جہاز کی کمان سنبھال لی۔ وہی فیصلے کرتا، حکم صادر کرتا تھا۔ گویا اُن کی زندگی اور موت کا دار و مدار اُسی پر تھا۔ میرا خیال ہے کہ اِس بحران نے پولس کی وہ خوبی ظاہر کر دی جس کی شاید اُسے خود بھی خبر نہ تھی۔ اور جب جہاز (ریت میں) پھنس گیا تو ایک خوبصورت نظریے نے ٹھوس اور بلور کی طرح شفاف حقیقت کا رُوپ دھار لیا۔»
۲۷: ۲۷- ۲۹ حسین بندر سے روانہ ہوئے اُن کو چودہ دن ہو چکے تھے۔ اِس وقت وہ بحیرۂ روم کے حصے بحیرۂ ادریہ میں بڑی لاچاری سے ہچکولے کھاتے پھر رہے تھے۔ یہ بحیرۂ یونان، اطالیہ اور افریقہ کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ «آدھی رات کے قریب ملاحوں نے اٹکل سے معلوم کیا کہ کسی ملک کے نزدیک پہنچ گئے» ہیں۔ شاید اُنہیں بڑی بڑی لہروں کے ساحل سے ٹکرانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اُنہوں نے پہلی دفعہ گہرائی ناپی تو «بیس پُرسہ» (تقریباً ۱۲۰ فٹ) پایا۔ تھوڑی دیر بعد پھر ناپی تو «پندرہ پُرسہ» پایا۔ جہاز کو چٹانوں پر چڑھ جانے سے بچانے کی خاطر اُنہوں نے «پیچھے سے چارلنگر ڈالے اور صبح ہونے کے لئے دعا کرتے رہے۔»
۲۷: ۳۰- ۳۲ اپنی جانوں کے خطرے کے پیشِ نظر ملاحوں نے چھوٹی کشتی میں چڑھ کر جہاز پر سے بھاگ جانے کی سازِش کی۔ وہ اِس مقصد کے لئے بہانے سے گلہی سے لنگر ڈال رہے تھے کہ پولس نے صوبے دار کو مطلع کر دیا کہ «اگر یہ جہاز پر نہ رہیں گے تو تم نہیں بچ سکتے۔ اِس پر سپاہیوں نے ڈونگی کی رسیاں کاٹ کر اُسے چھوڑ دیا۔» اِس طرح ملاح مجبور ہو گئے کہ جہاز ہی پر رہ کر اپنی اور دوسروں کی جانیں بچانے کی کوشش کریں۔
۲۷: ۳۳، ۳۴ فلپس آیات ۳۳ تا ۳۷ کو «پولس کی مضبوط عقلِ سلیم» کا نام دیتا ہے۔ اِس وقت کے ڈرامے کو صحیح طور سے سمجھنے کے لئے ہمیں سمندری طوفان کی شدت اور ہولناکی کا کچھ علم ہونا چاہئے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ پولس جہاز کا کپتان نہیں صرف ایک قیدی مسافر تھا۔
پو پھٹنے سے ذرا پہلے «پولس نے سب کی منت کی» کہ کچھ کھا لیں کیونکہ اُنہیں فاقہ کرتے ہوئے چودہ دن ہو گئے تھے۔ اور اُن کی بہتری اِسی میں تھی۔ رسول نے اُن کو یقین دلایا کہ «تم میں سے کسی کے سر کا ایک بال بیکا نہ ہو گا۔»
۲۷: ۳۵ پھر اُس نے خود نمونہ پیش کیا۔ «اُس نے روٹی لی اور … خدا کا شکر کیا اور … کھانے لگا۔» ہم کتنی دفعہ دوسروں کے سامنے دعا مانگنے سے ہچکچاتے ہیں۔ مگر ایسی دعائیں ہماری منادی اور وعظوں سے بڑھ کر بلند ہوتی اور پیغام دیتی ہیں۔
۲۷: ۳۶، ۳۷ اِس طرح اُن کی «خاطر جمع ہوئی» اور وہ سب بھی کھانا کھانے لگے۔ «سب مل کر جہاز میں دو سو چھہتر آدمی تھے۔»
۲۷: ۳۸ – ۴۱ کھانا کھا چکے تو «گیہوں کو سمندر میں پھینک کر جہاز کو ہلکا کرنے لگے»۔ خشکی یعنی زمین نزدیک ہی تھی۔ مگر وہ اُس «ملک کو» پہچان نہ سکے۔ فیصلہ کیا گیا کہ «اگر ہو سکے تو جہاز کو کھاڑی پر چڑھا لیں۔» اُنہوں نے «لنگر کھول کر سمندر میں چھوڑ دیئے۔» اِس کے بعد اُنہوں نے پتوار کھولے جو پہلے اُٹھا دیئے گئے اور اُن کو نیچا کیا۔ پھر «اگلا پال ہوا کے رُخ پر چڑھا کر کنارے کی طرف چلے۔» مگر جہاز ایک ایسی جگہ جا پڑا «جس کی دونوں طرف سمندر کا زور تھا»۔ غالباً کوئی ایسی تنگ خلیج تھی جس کے دونوں طرف جزیرے تھے۔ جہاز کی گلہی تو ریت میں پھنس گئی لیکن بہت جلد «دُنبالہ لہروں کے زور سے ٹوٹنے لگا۔»
۲۷: ۴۲- ۴۴ «سپاہیوں کی یہ صلاح تھی کہ قیدیوں کو مار ڈالیں» مبادا وہ فرار ہو جائیں۔ «لیکن صوبے دار نے پولس کو بچانے کی غرض سے» اُن کی صلاح ردّ کر دی اور «حکم دیا کہ جو تَیر سکتے ہیں پہلے کود کر کنارے پر چلے جائیں»۔ دوسروں سے کہا گیا کہ جہاز کے «تختوں پر اور … اَور چیزوں کے سہارے» جانیں بچا لیں۔ اِس طرح عملہ اور مسافر «سب کے سب خشکی پر سلامت پہنچ گئے»۔
۲۸: ۱، ۲ جزیرے پر پہنچ کر پتا چلا کہ یہ ملیتے کا جزیرہ ہے۔ جزیرے کے بعض باشندوں نے جہاز کو تباہ ہوتے اور طوفان کے شکار افراد کو ساحل پر آنے کے لئے ہاتھ پائوں مارتے دیکھا تھا۔ اُنہوں نے خاص مہربانی کی اور اُن کے لئے آگ جلائی تاکہ بے چارے بھیگے ہوئے، بلکہ تربتر افراد «مینہ کی جھڑی اور جاڑے» سے بچ سکیں۔
۲۸: ۳ پولس نے اُن کی مدد کرتے ہوئے «لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے آگ میں ڈالا تو ایک سانپ گرمی پا کر نکلا اور اُس کے ہاتھ پر لپٹ گیا»۔ مراد یہ نہیں کہ وہ صرف لپٹ گیا تھا بلکہ ڈسا بھی تھا۔
۲۸: ۴- ۶ مقامی لوگوں نے پہلے تو یہ نتیجہ نکالا کہ یہ آدمی خونی ہے۔ اگرچہ طوفان اور جہاز کی تباہی سے تو بچ گیا ہے مگر «عدل اُسے جینے نہیں دیتا۔» وہ منتظر تھے کہ «اِس کا بدن سوج جائے گا یا یہ مر کر یکایک گر پڑے گا۔» لیکن جب پولس پر سانپ کے ڈسنے کا کوئی اثر ظاہر نہ ہوا تو اُن کا خیال بدل گیا اور وہ کہنے لگے کہ «یہ تو کوئی دیوتا ہے»۔ یہ ایک اَور مثال ہے کہ اِنسان کا دل و دماغ کیسا متلون ہے۔ کتنی جلدی بدل جاتا ہے۔
۲۸: ۷ اُن دنوں ملیتے کے جزیرے کی سرکردہ شخصیت پبلیُس تھا۔ جس جگہ تباہ شدہ جہاز کے لوگ اُترے تھے اُس کے آس پاس پبلیُس کی بڑی جاگیر تھی۔ اِس دولت مند رومی افسر نے پولس اور اُس کے ساتھیوں کی «بڑی مہربانی سے مہمانی کی» اور تین دن تک اُن کو قیام و طعام مہیا کیا۔ اِتنی مدت میں اُن کے لئے مستقل قیام گاہ کا اِنتظام ہو سکتا تھا تاکہ وہ جاڑے کا موسم بسر کر سکیں۔
۲۸: ۸ اِس غیر یہودی سردار کی مہربانی اور مہمان داری رائیگاں نہیں گئی۔ اِس کا اجر جلدی مل گیا۔ «اُس کا باپ بخار اور پیچش کی وجہ سے بیمار پڑا تھا۔ پولس نے اُس کے پاس جا کر دعا کی اور اُس پر ہاتھ رکھ کر شفا دی۔»
۲۸: ۹، ۱۰ شفا دینے کے اِس معجزے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔ اگلے تین مہینوں کے دوران جزیرہ کے بیمار پولس کے پاس لائے جاتے اور شفا پاتے رہے۔ ملیتے کے لوگ پولس رسول اور لوقا کی عزت و قدر کرتے تھے۔ وہ اُن کے لئے بہت سے تحفے تحائف لائے اور روم کے سفر کے لئے اُن کو جو کچھ درکار تھا وہ ملیتے کے لوگوں نے جہاز پر رکھ دیا۔
۲۸: ۱۱ موسمِ سرما کے تین مہینے گزر گئے۔ اب جہاز رانی محفوظ تھی۔ چنانچہ صوبے دار نے اپنے قیدیوں کو اسکندریہ کے ایک جہاز پر سوار کرایا۔ یہ جہاز «جاڑے بھر اُس ٹاپو میں رہا تھا۔» اِس جہاز کا نشان «دیُسکُوری» یعنی جڑواں بھائی تھا۔ اِن بھائیوں کے نام کیسٹر (Castor) اور پولکس (Pollux) ہیں۔ بت پرست ملاح اِن بھائیوں کو اپنے سرپرست دیوتا مانتے تھے۔
۲۸: ۱۲- ۱۴ ملیتے سے جہاز میں یہ لوگ کوئی ۱۲۹ کلومیٹر دُور سرکوسہ پہنچے جو سلسلی کا دارالحکومت اور مشرقی ساحل پر واقع تھا۔ جہاز وہاں تین دن ٹھہرا۔ پھر ریگیم کی طرف روانہ ہوا۔ یہ بندرگاہ اطالیہ کے جنوب مغربی کونے پر واقع تھی۔ ایک روز بعد موافق دَکھنا چلنے لگی جس کی مدد سے عملہ جہاز کو اطالیہ کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ ۲۹۰ کلومیٹر دُور پتیلی پہنچانے میں کامیاب رہا جو رومہ سے تقریباً ۲۴۱ کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔ وہاں پولس رسول کو مسیحی بھائی ملے۔ اُس کو اِجازت مل گئی اور وہ سات دن تک اُن کی رفاقت سے لطف اندوز ہوتا رہا۔
۲۸: ۱۵ ہمیں بتایا نہیں گیا کہ پولس کے پتیلی پہنچنے کی خبر روم کیسے پہنچی۔ مگر وہاں سے بھائیوں کے دو گروہ پولس کی ملاقات کو آئے۔ ایک گروہ نے روم سے جنوب مشرق کو ۶۹ کلومیٹر کا سفر کر کے اَپیس کے چوک آ کر اُس کا اِستقبال کیا۔ دوسرے گروہ نے ۵۳ کلومیٹر جنوب مشرق میں «تین سرائے» پہنچ کر اُسے خوش آمدید کہا۔ پولس روم کے اِن مقدسین کی ولولہ انگیز محبت کے ایسے اِظہار سے بہت متاثر ہوا اور اُس کی بے حد حوصلہ افزائی ہوئی۔
۲۸: ۱۶ رومہ پہنچے تو پولس کو اِجازت ہوئی کہ الگ گھر میں «اکیلا اُس سپاہی کے ساتھ رہے جو اُس پر پہرہ دیتا تھا۔»
ی۔ پولس کی نظر بندی اور روم کے یہودیوں کے سامنے گواہی(۲۸: ۱۷- ۳۱)
۲۸: ۱۷- ۱۹ پولس کی پالیسی تھی کہ پہلے یہودیوں کو گواہی دیتا تھا۔ اِس پالیسی کے مطابق اُس نے «یہودیوں کے رئیسوں کو بلوایا»۔ جب وہ پولس کے کرایہ کے مکان میں جمع ہو گئے تو اُس نے اُن کو اپنے مقدمے کے بارے میں بتایا کہ «ہر چند مَیں نے اُمت کے اور باپ دادا کی رسموں کے خلاف کچھ نہیں کیا» تو بھی یروشلیم کے یہودیوں نے مجھے «رومیوں کے ہاتھ حوالہ کیا»ہے تاکہ مجھ پر مقدمہ چلایا جائے۔ غیر قوم افسران اور جہاز کے حاکموں نے مجھ میں کوئی قصور نہ پایا تو مجھے چھوڑ دینا چاہا۔ «مگر جب یہودیوں نے» چِلا چِلا کر «مخالفت کی تو مَیں نے لاچار ہو کر قیصر کے ہاں اپیل کی»۔ اِس اپیل کرنے کا مقصد ہرگز «اپنی قوم پر … الزام» لگانا نہیں ہے بلکہ اپنی صفائی پیش کرنا ہے۔
۲۸: ۲۰ روم کے اِن معزز یہودیوں کو بلانے کا مقصد یہ تھا کہ پولس اُن کو بتانا چاہتا تھا کہ اُس نے یہودی اُمت کے خلاف کوئی جرم نہیں کیا۔ دراصل وہ «اِسرائیل کی اُمید کے سبب سے» زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی واضح کیا گیا «اِسرائیل کی اُمید» اشارہ ہے اُن وعدوں کی تکمیل کی طرف جو یہودی قوم کے آبا و اجداد سے کئے گئے تھے۔ اِن میں مسیحِ موعود کی آمد کا وعدہ خاص الخاص اہمیت کا حامل ہے اور اِن وعدوں کی تکمیل میں مُردوں کی قیامت کی حقیقت بھی مضمر تھی۔
۲۸: ۲۱، ۲۲ یہودی لیڈروں نے اِقرار کیا کہ ہم پولس رسول کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اُنہوں نے کہا کہ «نہ ہمارے پاس یہودیہ سے تیرے بارے میں خط آئے، نہ بھائیوں میں سے کسی نے آ کر تیری کچھ خبر دی۔» بھائیوں سے یہاں مراد اُن کے ساتھی یہودی ہیں۔ البتہ یہ یہودی سردار پولس کے بارے میں مزید جاننے کے خواہش مند تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُس کا تعلق مسیحی ایمان سے ہے اور ہر جگہ لوگ اِس ایمان کے خلاف باتیں کرتے تھے۔
۲۸: ۲۳ چند دنوں کے بعد یہ یہودی کثرت سے پولس کے گھر میں جمع ہوئے تاکہ اُس سے زیادہ باتیں سنیں۔ پولس نے موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے «خدا کی بادشاہی کی گواہی» دی اور «یسوع کی بابت سمجھا سمجھا» کر بیان کیا۔ وہ ساری باتوں کے لئے «توریت اور نبیوں کے صحیفوں سے» حوالے دیتا رہا۔ یہ سلسلہ صبح سے شام تک جاری رہا۔
۲۸: ۲۴ بعض اُس کے پیغام کا یقین کر کے مسیح پر ایمان لائے اور «بعض نے نہ مانا» (یہاں «نہ مانا» بہت زور دار فعل ہے جس کا مفہوم پیغام کو قبول نہ کرنا نہیں بلکہ اِسے رَدّ کرنا ہے)۔
۲۸: ۲۵- ۲۸ جب پولس نے دیکھا کہ مجموعی طور پر یہودی قوم اِنجیل کو رَدّ کر رہی ہے تو اُس نے یسعیاہ نبی (۶: ۹، ۱۰) سے اِقتباس پیش کیا جہاں نبی کو مقرر کیا گیا کہ ایک ایسی اُمت کو پیغام دے جن کے «دل پر چربی چھا گئی ہے۔» جن کے کان بہرے ہو گئے ہیں اور جن کی آنکھیں اَندھی ہو گئی ہیں۔ پولس کو احساس ہوا کہ مَیں اُن لوگوں کو خوش خبری سنانے کی کوشش کر رہا ہوں جو سننا نہیں چاہتے۔ اِس احساس سے رسول کا دل ٹوٹ گیا۔ یہودیوں کی طرف سے پیغام کے اِس طرح رَدّ کئے جانے کے بعد پولس نے اِعلان کیا کہ اب مَیں یہ پیغام غیرقوموں کے پاس لے جائوں گا۔ اور اِس یقین کا اِظہار کیا کہ «وہ اُسے سن بھی لیں گی۔»
۲۸: ۲۹ ایمان نہ لانے والے «یہودی آپس میں بحث کرتے چلے گئے۔» جان کیلون (Calvin) کہتا ہے کہ پولس نے ایک ایسی نبوت کا اِقتباس کیا تھا جس سے ایمان نہ لانے والے اور مسیحِ موعود کو ردّ کرنے والے یہودی ناراض ہو گئے۔ وہ ایمان لانے والے اپنے بھائیوں کے خلاف بھڑک اُٹھے۔ کیلون مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
«اِس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا ناجائز ہو گا کہ مسیح کی اِنجیل جھگڑے اور تکرار پیدا کرتی ہے جب کہ صاف نظر آتا ہے کہ اِن باتوں کا سرچشمہ اِنسان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ خدا کے ساتھ صلح رکھنے کی خاطر ضروری ہے کہ ہم اُن لوگوں کے خلاف جنگ کریں جو اُس کے ساتھ حقارت کا سلوک کرتے ہیں۔»
۲۸: ۳۰ پولس پورے دو برس روم میں «اپنے کرایہ کے گھر میں رہا۔» اُس کے پاس ملاقاتیوں کا تانتا لگا رہتا تھا۔ غالباً اِسی عرصے کے دوران اُس نے اِفسیوں، فلپیوں، کلسیوں اور فلیمون کو خطوط لکھے۔
۲۸: ۳۱ اُس کو بڑی حد تک آزادی حاصل تھی کیونکہ وہ «کمال دلیری سے بغیر روک ٹوک کے خدا کی بادشاہی کی منادی کرتا اور خداوند یسوع کی باتیں سکھاتا رہا»۔
اِن الفاظ کے ساتھ اعمال کی کتاب اِختتام پذیر ہوتی ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ کتاب ایک عجیب طور پر اچانک ختم ہو جاتی ہے۔ بہرحال جس مقصد کا خاکہ شروع میں پیش کیا گیا تھا، وہ اب پورا ہو جاتا ہے۔ خوش خبری یروشلیم، یہودیہ اور سامریہ میں اور اب غیر قوم دُنیا میں پہنچ چکی ہے۔
اعمال کی کتاب کے خاتمے کے بعد پولس کی زندگی میں جو واقعات وقوع پذیر ہوئے اور اُسے جن حالات میں سے گزرنا پڑا وہ صرف اُس کی بعد کی تحریروں سے اخذ کئے جا سکتے ہیں۔
مفسروں کا عام خیال ہے کہ روم میں مذکورہ دو برسوں کے بعد پولس کا مقدمہ قیصر نیرو کے سامنے پیش ہوا اور اُسے بَری کر دیا گیا۔
اِس کے بعد وہ اُس سفر پر روانہ ہوا جس کو «پولس کا چوتھا بشارتی دَورہ» کہا جاتا ہے۔ اِس دَورے کے دوران وہ غالباً مندرجہ ذیل مقامات پر گیا (لیکن ضروری نہیں کہ اِسی ترتیب سے گیا ہو)۔
- کلسے اور اِفسس (فلیمون ۲۲ آیت)۔
- مکدنیہ [مقدونیہ] (ا۔تیمتھیس ۱: ۳؛ فلپیوں ۱: ۲۵؛ ۲: ۲۴)۔
- اِفسس (۱۔تیمتھیس ۳: ۱۴)۔
- سپین (رومیوں ۱۵: ۲۴)۔
- کریتے (ططس ۱: ۵)۔
- کرنتھیس (۲۔تیمتھیس ۴: ۲۰)۔
- میلیتُس (۲۔تیمتھیس ۴: ۲۰)۔
- نیکپُلس۔ یہاں پولس نے موسمِ سرما گزارا (ططس ۳: ۱۲)۔
- تروآس (۲۔تیمتھیس ۴: ۱۳)۔
ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ اُس کو کیوں، کب اور کہاں گرفتار کیا گیا۔ لیکن اِتنا ضرور جانتے ہیں کہ اُسے دوسری دفعہ قیدی بنا کر پھر روم لایا گیا۔ یہ قید پہلی قید سے بہت زیادہ سخت تھی (۲۔تیمتھیس ۲: ۹)۔ اُس کے زیادہ تر دوست اُس کا ساتھ چھوڑ گئے (۲۔تیمتھیس ۴: ۹- ۱۱)۔ وہ جانتا تھا کہ میری موت کا وقت بالکل قریب ہے (۲۔تیمتھیس۴: ۶- ۸)۔
روایت کہتی ہے کہ ۶۷ء یا ۶۸ء میں روم کے باہر اُس کا سر قلم کیا گیا۔ پولس کا قصیدہ اُس کے اپنے الفاظ میں پڑھنے کے لئے دیکھئے ۲۔کرنتھیوں ۴: ۸- ۱۰؛ ۶: ۴- ۱۰ اور ۱۱: ۲۳- ۲۸ (اِن ولولہ انگیز الفاظ کے ساتھ ساتھ ہماری تفسیر بھی پڑھئے)۔
اعمال کی کتاب کا پیغام
اعمال کی کتاب پڑھ لینے کے بعد اِبتدائی دَور کے مسیحیوں کے اُصولوں اور دستور و عمل پر نظر ڈالنا بہت مفید رہے گا۔ ایمان داروں کی اِنفرادی خصوصیات کیا تھیں اور جن مقامی کلیسیائوں کے وہ ممبر تھے اُن کے خصائص کیا تھے؟
اوّل، صاف ظاہر ہے کہ پہلی صدی کے مسیحی سب سے پہلے خداوند یسوع کے لئے زندگی بسر کرتے تھے۔ اُن کے تمام نقطۂ نظر کا مرکز مسیح تھا۔ اُن کے وجود کا اوّلین مقصد نجات دہندہ کی گواہی دینا تھا۔ اور وہ تَن مَن دَھن سے اِس کام میں مگن رہتے تھے۔ دُنیا دیوانہ وار اپنی بقا کی جدوجہد میں مصروف تھی۔ ایسی دُنیا میں مسیحی شاگردوں کا پُرجوش اور سرگرم مضبوط گروہ تھا جو پہلے خدا کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کرتا تھا۔ اُن کے لئے باقی ہر چیز اِس جلالی بلاہٹ کے تابع تھی۔
جووِٹ (Jowett) بڑی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے:
«شاگردوں کو ایک پاک اور دہکتے ہوئے جوش و جذبے سے بپتسمہ ملا تھا جو کہ براہِ راست خدا کی قربان گاہ سے آیا تھا۔ اُن کو وہ مرکزی آگ حاصل تھی جس سے زندگی کا باقی ہر مقصد اور جوہر قوت پاتا ہے۔ رسولوں کی روحوں کے اندر کی یہ آگ ایک بڑے دخانی جہاز کی بھٹی کی آگ کی مانند تھی جو اُس کو طوفانی سمندر میں سے نکال لے چلتی ہے۔ کوئی چیز اُن آدمیوں کو روک نہ سکتی تھی! کوئی چیز اُن کے سدِراہ نہیں ہو سکتی تھی۔ اُن کے تمام کام اور کلام میں ایک قطعی اور زور دار گونج تھی۔ اُن میں گرمی تھی اور اُن میں روشنی تھی اِس لئے کہ وہ روح القدس کی قدرت سے بپتسمہ یافتہ تھے۔»
اُن کے پیغام کا مرکز اور محور خداوند یسوع مسیح کی قیامت اور اُس کا جلال تھا۔ وہ ایک جی اُٹھے نجات دہندہ کے گواہ تھے۔ لوگوں نے مسیحِ موعود کو قتل کر دیا مگر خدا نے اُس کو مُردوں میں سے جِلایا اور آسمان میں اعلیٰ ترین معزز مقام پر سرفراز کیا۔ وہ جلالی آدمی جو خدا کے دہنے ہاتھ ہے، ضرور ہے کہ ہر ایک گھٹنا اُس کے آگے جھکے۔ نجات کا کوئی اَور وسیلہ، کوئی اَور راستہ نہیں ہے۔
نفرت، تلخی اور لالچ کے ماحول میں شاگرد سب کے لئے محبت کا مظہر تھے۔ وہ ظلم اور اذیت کا بدلہ مہربانی سے دیتے اور اپنے ستانے والوں کے لئے دعا مانگتے تھے۔ دوسرے مسیحیوں کے لئے اُن کی محبت دشمنوں کو بھی کہنے پر مجبور کرتی تھی کہ «دیکھو، یہ لوگ ایک دوسرے سے کیسی محبت رکھتے ہیں! »
ہم کو یہ واضح تاثر ملتا ہے کہ وہ اِنجیل کو پھیلانے کی خاطر اِیثار اور قربانی کی زندگی گزارتے تھے۔ وہ مادی اور دُنیاوی مال و ملکیت کو اپنا نہیں سمجھتے تھے بلکہ خدا کی امانت گردانتے تھے۔ جہاں کہیں حقیقی ضرورت ہوتی اُسے پورا کرنے کے لئے بلاتوقف چندے آنے شروع ہو جاتے تھے۔
اُن کے جنگ کے ہتھیار دُنیاوی اور جسمانی نہیں تھے بلکہ خدا کی قدرت سے اِتنے قوی تھے کہ بڑے بڑے قلعوں کو زمین بوس کر دیتے تھے۔ اُن کو احساس تھا کہ وہ مذہبی یا سیاسی لیڈروں کے خلاف نبرد آزما نہیں بلکہ شرارت کی اُن روحانی فوجوں سے لڑ رہے ہیں جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔ اِس لئے وہ دعا اور خدا کے کلام سے مسلح ہو کر آگے بڑھتے تھے۔ مسیحیت طاقت اور تلوار کے بَل بوتے پر نہیں پھیلی۔
ابتدائی دَور کے یہ مسیحی دُنیا سے الگ ہو کر رہتے تھے۔ وہ دُنیا میں ضرور تھے مگر دُنیا کے نہیں تھے۔ جہاں تک گواہی کا تعلق ہے وہ غیر ایمان داروں کے ساتھ نہایت فعال تعلقات قائم رکھتے تھے مگر جہاں مسیح کے ساتھ وفاداری کی بات ہوتی وہ کبھی سمجھوتا کر کے دُنیا کی گناہ آلودہ مسرتوں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ وہ پردیسیوں کی طرح اجنبی ملک میں یوں سفر کرتے تھے کہ سب کے لئے برکت کا باعث ہوں، لیکن خود اُس کی نجاست اور ناپاکی سے بچے رہیں۔
کیا وہ سیاست میں حصہ لیتے اور اپنے زمانے کی سماجی بُرائیوں کا علاج کرنے کی کوشش کرتے تھے؟ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ دُنیا کی ساری بُرائیاں اور بے اعتدالیاں اِنسان کی گناہ آلودہ فطرت سے پیدا ہوتی ہیں۔ بُرائیوں کا علاج کرنے کے لئے اُن کے اَسباب تک پہنچنا چاہئے۔ سیاسی اور سماجی اِصلاحات بیماری کی علامات کا علاج کرنے کی کوشش کرتی ہیں بیماری کی جڑ کو ہاتھ نہیں ڈالتی ہیں۔ صرف اِنجیل ہی معاملے کی تہ تک پہنچ سکتی ہے اور اِنسان کی شریر فطرت کو بدل سکتی ہے۔ چنانچہ وہ دوسرے درجے کے علاجوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ وہ وقت اور بے وقت اِنجیل کی منادی کرتے تھے۔ اور جہاں کہیں اِنجیل کا پیغام گیا سڑے ہوئے گھائو اور زخم اچھے ہو گئے یا کم ہو گئے۔
جب اُن پر ظلم ڈھائے جاتے تو وہ حیرت زدہ نہیں ہوتے تھے۔ اُن کو سکھایا گیا تھا کہ اِس کی توقع کریں۔ بدلہ لینے یا اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے بجائے وہ اپنا معاملہ خدا کے سپرد کرتے تھے جو راستی سے اِنصاف کرتا ہے۔ آزمائشوں اور مشکلوں سے فرار کی راہ ڈھونڈنے کے بجائے وہ جرأت اور حوصلہ کے لئے دعا مانگتے تھے کہ جس کسی کے ساتھ رابطہ ہو اُس کے سامنے مسیح کی منادی کر سکیں۔
شاگردوں کا نصب العین اور مقصدِ زندگی عالم گیر بشارت تھا۔ ساری دُنیا اُن کا میدان تھی۔ وہ صرف روحوں کو مسیح کے پاس لانے پر اِکتفا نہیں کرتے تھے کہ بس لے آئے ہیں، اب خود ہاتھ پیر مارتے رہو بلکہ نومریدوں کو مقامی کلیسیائوں میں اکٹھا کیا جاتا تھا۔ یہاں اُن کو پاک کلام کی تعلیم دی جاتی تھی۔ دعا مانگنے میں پرورش کی جاتی تھی اور ہر لحاظ سے ایمان میں پختہ کیا جاتا تھا۔ پھر اُن کو چیلنج کیا تھا کہ اب اِنجیل کا پیغام دوسروں تک پہنچائو۔
مقامی کلیسیائوں کے قیام سے بشارت کے کام کو دوام حاصل ہوا اور آس پاس کے علاقوں تک پیغام پہنچانے کا اِنتظام ہوا۔ یہ جماعتیں ملکی تھیں۔ اِنتظامی امور میں خود مختار، اپنی ترقی اور وسعت کے معاملے میں خود اِنحصار اور مالی اعتبار سے خود کفیل تھیں۔ ہر جماعت اپنی اپنی جگہ آزاد اور خود مختار تھی۔ تاہم اُن کے درمیان روح کی یگانگی موجود تھی۔ ہر جماعت ملحقہ علاقوں میں اپنے جیسی اَور جماعتیں پیدا کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اور ہر ایک جماعت اپنی مالیات خود پیدا کرتی یا مہیا کرتی تھی۔ کسی مادر تنظیم یا مرکزی خزانے کا کوئی وجود نہ تھا۔
بنیادی طور پر یہ جماعتیں غیر نجات یافتہ لوگوں تک پہنچنے کے مراکز نہیں بلکہ ایمان داروں کے لئے جائے سکون اور پناہ گاہیں ہوتی تھیں۔ کلیسیا کی سرگرمیوں میں روٹی توڑنا، عبادت کرنا، دعا مانگنا، بائبل سٹڈی اور رفاقت وغیرہ شامل تھیں۔ بشارتی اجلاس اِس طرح نہیں ہوتے تھے جیسے آج کل ہوتے ہیں بلکہ جہاں بھی غیر نجات یافتہ لوگوں سے خطاب کرنے کا موقع ملتا وہیں بشارت کا کام کیا جاتا تھا۔ مثلاً یہودی عبادت خانوں میں، چوک اور بازار میں، قیدخانے میں اور گھر گھر۔
کلیسیائیں خاص عمارتوں میں جو اِسی مقصد کے لئے تعمیر کی گئی ہوں فراہم نہیں ہوتی تھیں بلکہ ایمان داروں کے گھروں میں یہ مقصد پورا ہوتا تھا۔ اِس طرح ایذارسانی اور ظلم و ستم کے دوران میں کلیسیا نسبتاً زیادہ نقل پذیر رہتی تھی، اور ضرورت پڑنے پر آسانی سے زیر زمین جا سکتی تھی۔
اِبتدا میں یقینا کوئی فرقے نہیں تھے۔ سارے ایمان داروں کو مسیح کے بدن کے اعضا تسلیم کیا جاتا تھا اور ہر مقامی کلیسیا عالم گیر کلیسیا کی نمائندہ تھی۔
مزید برآں خادمانِ دین اور عام اراکینِ کلیسیا میں بھی کوئی اِمتیاز نہیں ہوتا تھا۔ کسی جماعت میں کسی ایک فرد کو تعلیم دینے، منادی کرنے، بپتسمہ دینے یا عشائے ربانی کی رسم ادا کرنے کا خصوصی اِختیار نہیں ہوتا تھا۔ اِس حقیقت کو تسلیم کیا جاتا تھا کہ ہر ایمان دار کو کوئی نہ کوئی نعمت حاصل ہے، اور اُس نعمت کو بروئے کار لانے کی آزادی ہوتی تھی۔
جن افراد کو رسول، نبی، مبشر، پاسبان اور معلم ہونے کی نعمتیں حاصل تھیں، وہ کلیسیا کے ناگزیر افسران یا عہدے دار بننے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ اُن کا کام یہ تھا کہ مقدسین کو ایمان میں پختہ کریں تاکہ وہ بھی ہر روز خداوند کی خدمت کر سکیں۔ نئے عہدنامے کے زمانے میں جن لوگوں کو روح کی نعمتیں حاصل تھیں، اُنہیں روح القدس کا خاص مسح حاصل ہوتا تھا۔ اِسی وجہ سے اَن پڑھ اور سادہ سے لوگوں نے اپنے دَور کے لوگوں پر اِتنا زبردست اثر کیا۔ وہ کلیسیا کے عام (غیر مخصوص شدہ) اَفراد ہوتے تھے جن پر اُوپر سے رحمت ہوتی تھی۔
اعمال کی کتاب میں پیغام کی بشارت کے ساتھ اکثر معجزات __ نشان اور عجائب اور روح القدس کی مختلف نعمتیں بھی ظاہر ہوتی تھیں۔ ابتدائی ابواب میں اگرچہ یہ معجزات زیادہ نمایاں ہیں، تاہم کتاب کے آخر تک جاری رہتے ہیں۔
جب کوئی کلیسیا قائم ہو جاتی تھی تو رسول یا اُن کے نمائندے «بزرگوں» کو مقرر کرتے تھے __ یہ بزرگ روحانی نگہبان ہوتے تھے۔ یہ گلے کی گلہ بانی کرتے تھے۔ ہر کلیسیا میں کئی بزرگ (ایلڈر) ہوتے تھے۔
ابتدائی دَور کے مسیحی غوطے کے بپتسمے پر عمل کرتے تھے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ایمان لانے کے جلد از جلد بعد بپتسمہ دیا جاتا تھا۔ ہفتے کے پہلے دن شاگرد روٹی توڑ کر خداوند کو یاد کرنے کے لئے جمع ہوتے تھے۔ غالباً یہ عبادت ایسی باضابطہ اور رسمی نہیں ہوتی تھی جیسی آج کل ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِس عبادت کے ساتھ رفاقتی کھانا بھی ہوتا تھا (آج کل بعض کلیسیائیں اِس کو «پریم بھوجن» بھی کہتی ہیں)۔
اِبتدائی کلیسیا دعا مانگنے کی دیوانی تھی۔ اُن کے نزدیک خدا کے ساتھ رفاقت کا دار و مدار دعا پر تھا۔ دعائوں میں دِل سوزی، ایمان اور جوش ہوتا تھا۔ شاگرد روزے بھی رکھتے تھے تاکہ اُن کے سارے قوا روحانی معاملات پر مرتکز ہوں، دھیان اِدھر اُدھر نہ جائے اور سستی اور کاہلی کا شکار نہ ہوں۔ دعا اور روزہ کے بعد ہی انطاکیہ کے نبیوں اور اُستادوں نے برنباس اور سائول کو خاص تبلیغی خدمت کے لئے مخصوص کیا تھا۔ اِس سے پہلے بھی یہ دونوں آدمی خداوند کی خدمت کرتے رہے تھے۔ اُن کا یہ تقرر باضابطہ مخصوصیت (ordination) نہیں تھی، بلکہ انطاکیہ کے لیڈروں نے تسلیم کیا تھا کہ روح القدس نے اُن کو بلایا ہے۔ مزید برآں یہ پورے دل سے رفاقت کا اِظہار تھا کہ ساری جماعت اِس کام میں برنباس اور سائول کی شریک ہے۔
جو افراد بشارتی خدمت کے لئے نکلتے تھے، اُن کی جماعت اُن کو کنٹرول نہیں کرتی تھی۔ وہ آزاد تھے۔ روح القدس کی ہدایت کے مطابق کام کرتے رہیں، لیکن وہ اپنی مادر کلیسیا کو رپورٹ ضرورت دیتے تھے کہ خدا نے اُن کی محنت اور کوشش پر کیسے برکت دی ہے۔
کلیسیا کوئی پیچیدہ تنظیم یا ادارہ نہیں تھا بلکہ زندہ ہیئت ِاجتماعی ہوتی تھی جو خداوند کی ہدایت اور راہنمائی کی مسلسل فرماں برداری کرتی اور اِس کے مطابق چلتی تھی۔ کلیسیا کا سر، مسیح خود ارکان کی راہنمائی کرتا تھا۔ چنانچہ اعمال کی کتاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ عبادت کسی غیر لچک دار نمونے کے مطابق نہیں ہوتی تھی۔ اِس لچک سے عبادت میں ایک تازگی ہوتی تھی۔ مثلاً کوئی قانون قاعدہ نہیں تھا کہ کوئی رسول کتنا عرصہ کسی جگہ میں رہے گا۔ تھسلنیکے میں پولس شاید تین مہینے رہا جب کہ اِفسس میں تین برس تک قیام کیا۔ قیام کا اِنحصار اِس بات پر ہوتا تھا کہ کلیسیا کو قائم کرنے اور مقدسین کو مضبوط کرنے میں کتنا عرصہ لگتا ہے تاکہ وہ مسیحی خدمت کا کام اپنے آپ جاری رکھ سکیں۔
بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ رسول ساری توجہ بڑے شہروں پر مرکوز رکھتے تھے اور وہاں قائم شدہ کلیسیائوں پر اِنحصار کرتے تھے کہ وہ اِرد گرد کے علاقوں میں پھیلیں گی۔ لیکن کیا یہ بات درست ہے؟ کیا رسول کسی ایسی مقررہ اور حتمی حکمت ِعملی پر کاربند رہتے تھے؟ یا کیا وہ روز بروز خداوند سے ہدایات حاصل کرتے تھے کہ بڑے بڑے مراکز میں جائیں یا چھوٹے موٹے دیہات کی طرف متوجہ ہوں؟
اعمال کی کتاب سے ایک تاثر جو بہت نمایاں ہو کر اُبھرتا ہے یہ ہے کہ ابتدائی دَور کے مسیحی خداوند کی راہنمائی کی توقع کرتے اور اُس پر اِنحصار رکھتے تھے۔ اُنہوں نے مسیح کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ اُن کے پاس سوائے خداوند کے کچھ نہ تھا۔ اِس لئے وہ ہر روز کی ہدایت کے لئے اُس کی طرف دیکھتے تھے۔ اور خداوند اُن کو کبھی مایوس نہیں کرتا تھا۔
جو مسیحی گشت کر کے منادی کرتے تھے، لگتا ہے کہ اُن کا دستور تھا کہ دو دو ہو کر جائیں۔ ساتھی عموماً کوئی کم عمر شخص ہوتا تھا۔ اِس طرح وہ سیکھتا تھا۔ رسول وفادار نوجوانوں کی مسلسل تلاش میں رہتے تھے تاکہ اُن کی کلام کی خدمت میں تربیت کریں۔
بعض اوقات خداوند کے خادم خود کفیل ہوتے تھے یعنی اپنی ضروریات خود پوری کرتے تھے۔ پولس خیمہ دوزی کرتا تھا۔ دیگر اوقات میں افراد یا کلیسیائیں اُن کی ضروریات پوری کرتی تھیں۔
دوسری قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ جو روحانی لیڈر تھے، اُن کے ساتھ کام کرنے والے مقدسین اُن کی اِس حیثیت اور مرتبے کو تسلیم کرتے تھے۔ روح القدس اُن کو اِختیار کے ساتھ کلام کرنے کی توفیق دیتا تھا۔ اور یہی روح القدس دوسرے ایمان داروں کو روحانی جبلت عطا کرتا تھا کہ اِن لیڈروں کے اِختیار کو مانیں۔
شاگرد اِنسانی حکومت کے ایک حد تک تابع رہتے تھے۔ یہ حد وہاں ختم ہو جاتی تھی جہاں اُن کو خوش خبری کی منادی کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ پھر وہ اِنسان کی نسبت خدا کا حکم زیادہ مانتے تھے۔ جب سرکاری اہل کار اُن کو سزا دیتے تھے تو وہ بلا مزاحمت برداشت کرتے تھے اور حکومت کے خلاف کبھی کوئی سازش نہیں کرتے تھے۔
انجیل کی خوش خبری پہلے یہودیوں کو سنائی گئی اور جب یہودی قوم نے رد کر دیا تو پھر یہ پیغام غیر قوموں کو سنایا گیا۔ یہ حکم کہ «پہلے یہودی کو» تاریخی طور پر اعمال کی کتاب میں پورا ہوا۔ آج یہودی خدا کے سامنے اُسی سطح پر ہیں جس پر غیر قومیں ہیں __ دونوں میں کوئی فرق نہیں «کیونکہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔»
ابتدائی کلیسیا کی خدمت میں زبردست زور اور قوت تھی۔ لوگ ڈرتے تھے کہ خدا ناراض نہ ہو جائے۔ اِس لئے بِلا وجہ مسیحی ہونے کا اقرار نہیں کرتے تھے۔ اگر کلیسیا میں گناہ ہوتا تو بہت جلد ظاہر ہو جاتا تھا۔ اور بعض حالات میں خدا نے اِس کی نہایت سخت سزا دی، مثلاً حننیاہ اور سفیرہ کے معاملے میں۔
اعمال کی کتاب کے مطالعے سے ایک اَور پختہ قائلیت حاصل ہوتی ہے کہ اگر ہم ایمان، ایثار و قربانی، جاں نثاری اور اَن تھک خدمت میں ابتدائی کلیسیا کی تقلید کریں تو ہمارے ہی زمانے میں ساری دُنیا میں بشارت پھیل جائے گی۔
۱نئے عہدنامے میں «یونانیوں» سے مراد عموماً یونانی یہودی ہیں۔ لیکن یہاں صرف یونانی یعنی غیر قوم بھی مراد ہو سکتا ہے۔ سیاق و سباق پر غور کریں۔ آیت ۱۹: «یہودیوں کے سوا اَور کسی کو کلام نہ سناتے تھے۔» آیت ۲۰ «یونانیوں کو بھی»۔
مقدس کتاب
۱- پطرؔس اور یُوحنّا دُعا کے وقت یعنی تِیسرے پَہر ہَیکل کو جا رہے تھے۔
۲- اور لوگ ایک جنم کے لنگڑے کو لا رہے تھے جِس کو ہر روز ہَیکل کے اُس دروازہ پر بِٹھا دیتے تھے جو خُوب صُورت کہلاتا ہے تاکہ ہَیکل میں جانے والوں سے بِھیک مانگے۔
۳- جب اُس نے پطرؔس اور یُوحنّا کو ہَیکل میں جاتے دیکھا تو اُن سے بِھیک مانگی۔
۴- پطرؔس اور یُوحنّا نے اُس پر غَور سے نظر کی اور پطرؔس نے کہا ہماری طرف دیکھ۔
۵- وہ اُن سے کُچھ مِلنے کی اُمّید پر اُن کی طرف مُتوجہ ہُؤا۔
۶- پطرؔس نے کہا چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں مگر جو میرے پاس ہے وہ تُجھے دِئے دیتا ہُوں۔ یِسُوعؔ مسِیح ناصری کے نام سے چل پِھر۔
۷- اور اُس کا دہنا ہاتھ پکڑ کر اُس کو اُٹھایا اور اُسی دَم اُس کے پاؤں اور ٹخنے مضبُوط ہو گئے۔
۸- اور وہ کُود کر کھڑا ہو گیا اور چلنے پِھرنے لگا اور چلتا اور کُودتا اور خُدا کی حمد کرتا ہُؤا اُن کے ساتھ ہَیکل میں گیا۔
۹- اور سب لوگوں نے اُسے چلتے پِھرتے اور خُدا کی حمد کرتے دیکھ کر۔
۱۰- اُس کو پہچانا کہ یہ وُہی ہے جو ہَیکل کے خُوب صُورت دروازہ پر بَیٹھا بِھیک مانگا کرتا تھا اور اُس ماجرے سے جو اُس پر واقِع ہُؤا تھا بُہت دَنگ اور حَیران ہُوئے۔
۱۱- جب وہ پطرس اور یُوحنّا کو پکڑے ہُوئے تھا تو سب لوگ بُہت حَیران ہو کر اُس برآمدہ کی طرف جو سُلیماؔن کا کہلاتا ہے اُن کے پاس دَوڑے آئے۔
۱۲- پطرؔس نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا اَے اِسرائیِلیو! اِس پر تُم کیوں تعجُّب کرتے ہو اور ہمیں کیوں اِس طرح دیکھ رہے ہو کہ گویا ہم نے اپنی قُدرت یا دِین داری سے اِس شخص کو چلتا پِھرتا کر دِیا؟
۱۳- ابرہامؔ اور اِضحاقؔ اور یعقُوبؔ کے خُدا یعنی ہمارے باپ دادا کے خُدا نے اپنے خادِم یِسُوعؔ کو جلال دِیا جِسے تُم نے پکڑوا دِیا اور جب پِیلاطُسؔ نے اُسے چھوڑ دینے کا قصد کِیا تو تُم نے اُس کے سامنے اُس کا اِنکار کِیا۔
۱۴- تُم نے اُس قُدُّوس اور راست باز کا اِنکار کِیا اور درخواست کی کہ ایک خُونی تُمہاری خاطِر چھوڑ دِیا جائے۔
۱۵- مگر زِندگی کے مالِک کو قتل کِیا جِسے خُدا نے مُردوں میں سے جِلایا۔ اِس کے ہم گواہ ہیں۔
۱۶- اُسی کے نام نے اُس اِیمان کے وسِیلہ سے جو اُس کے نام پر ہے اِس شخص کو مضبُوط کِیا جِسے تُم دیکھتے اور جانتے ہو۔ بیشک اُسی اِیمان نے جو اُس کے وسِیلہ سے ہے یہ کامِل تندرُستی تُم سب کے سامنے اُسے دی۔
۱۷- اور اب اَے بھائِیو! مَیں جانتا ہُوں کہ تُم نے یہ کام نادانی سے کِیا اور اَیسا ہی تُمہارے سرداروں نے بھی۔
۱۸- مگر جِن باتوں کی خُدا نے سب نبِیوں کی زُبانی پیشتر خبر دی تھی کہ اُس کا مسِیح دُکھ اُٹھائے گا وہ اُس نے اِسی طرح پُوری کِیں۔
۱۹- پس تَوبہ کرو اور رجُوع لاؤ تاکہ تُمہارے گُناہ مِٹائے جائیں اور اِس طرح خُداوند کے حضُور سے تازِگی کے دِن آئیں۔
۲۰- اور وہ اُس مسِیح کو جو تُمہارے واسطے مُقرّر ہُؤا ہے یعنی یِسُوعؔ کو بھیجے۔
۲۱- ضرُور ہے کہ وہ آسمان میں اُس وقت تک رہے جب تک کہ وہ سب چِیزیں بحال نہ کی جائیں جِن کا ذِکر خُدا نے اپنے پاک نبِیوں کی زُبانی کِیا ہے جو دُنیا کے شرُوع سے ہوتے آئے ہیں۔
۲۲- چُنانچہ مُوسیٰ نے کہا کہ خُداوند خُدا تُمہارے بھائِیوں میں سے تُمہارے لِئے مُجھ سا ایک نبی پَیدا کرے گا۔ جو کُچھ وہ تُم سے کہے اُس کی سُننا۔
۲۳- اور یُوں ہو گا کہ جو شخص اُس نبی کی نہ سُنے گا وہ اُمّت میں سے نیست و نابُود کر دِیا جائے گا۔
۲۴- بلکہ سموئیل سے لے کر پِچھلوں تک جِتنے نبِیوں نے کلام کِیا اُن سب نے اِن دِنوں کی خبر دی ہے۔
۲۵- تُم نبِیوں کی اَولاد اور اُس عہد کے شرِیک ہو جو خُدا نے تُمہارے باپ دادا سے باندھا جب ابرہامؔ سے کہا کہ تیری اَولاد سے دُنیا کے سب گھرانے برکت پائیں گے۔
۲۶- خُدا نے اپنے خادِم کو اُٹھا کر پہلے تُمہارے پاس بھیجا تاکہ تُم میں سے ہر ایک کو اُس کی بدیوں سے ہٹا کر برکت دے۔