اعمال ۲

۲۔ یہودیہ اور سامریہ میں کلیسیا  (۸: ۱- ۹: ۳۱)

 الف۔ سامریہ میں فلپس کی خدمت  (۸: ۱- ۲۵)

۸: ۱ خدا کا روح ایک دفعہ پھر سائول کا نام متعارف کراتا ہے۔ اُس کے اندر روح کی ایک زبردست کش مکش انگڑائیاں لے رہی تھی۔ بظاہر اُس کی دہشت گردی کی حکمرانی جاری تھی، لیکن مسیحیوں کے دشمن کے طور پر اُس کے دن گنے جا چکے تھے۔ سائول ستفنس «کے قتل پر راضی تھا»۔ مسیحیوں کو ستانے میں سائول سب سے آگے تھا۔ مگر ستفنس کے قتل پر راضی ہو کر وہ اپنی بعد کی تبدیلی کی راہ تیار کر رہا تھا۔

«اُسی دن۔» اِن الفاظ کے ساتھ ایک نئے دَور کا آغاز ہوتا ہے۔ ستفنس کی موت کے ساتھ ہی «کلیسیا پر … ظلم» کے دروازے کھل گئے۔ ایمان دار «یہودیہ اور سامریہ کی اطراف میں پراگندہ ہو گئے۔»

خداوند نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی تھی کہ اپنی گواہی کا آغاز یروشلیم سے کریں۔ اِس کے بعد یہودیہ، سامریہ اور دُنیا کی اِنتہا تک پہنچیں۔ اب تک اُن کی گواہی صرف یروشلیم تک محدود رہی تھی۔ شاید وہ باہر کے علاقوں میں جانے سے ڈرتے تھے۔ اب اُن کو ظلم اور ایذارسانی کے ذریعے سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا گیا۔

رسولوں کے سوا سب پراگندہ ہو گئے۔ رسول شہر ہی میں رہے۔

اِنسانی زاویۂ نگاہ سے ایمان داروں کے لئے یہ تاریک ترین دن تھا۔ اُن کی رفاقت میں سے ایک رُکن کی زندگی ختم کر دی گئی تھی۔ یہودی اُن کی گھات میں تھے، لیکن خدا کی نگاہ میں یہ دن قطعاً تاریک نہیں تھا۔ گیہوں کا ایک دانہ زمین میں بویا گیا تھا، اور آخر اِس سے بہت پھل پیدا ہونے کو تھا۔ مخالفت کی آندھیاں خوش خبری کا بیج دُور دُور مقامات تک بکھیر رہی تھیں۔ تو فصل کی وسعت کا اندازہ کون لگا سکتا تھا؟

۸: ۲ «دین دار لوگ» جنہوں نے ستفنس کو دفن کیا، اُن کی شناخت نہیں کرائی گئی۔ غالباً یہ وہ مسیحی تھے جو ابھی یروشلیم سے نکالے نہیں گئے تھے۔ یا شاید خدا ترس یہودی تھے جن کو شہید میں کوئی ایسی بات نظر آئی جس سے اُن کی نظر میں اُس کی عزت و توقیر ہوئی اور اُنہوں نے اُسے لائق طور سے دفن کرنا مناسب سمجھا۔

۸: ۳ دیکھئے سائول کا نام پھر آیا! وہ اپنی پوری توانائی اور وسائل «کلیسیا کو … تباہ» کرنے اور بدقسمت مظلوموں کو گھروں سے «گھسیٹ» گھسیٹ کر «قید کرانے» میں صرف کر رہا تھا۔ کاش وہ ستفنس کو، اُس کے وقار اور ناقابلِ تسخیر ایمان کو، اُس کے فرشتے جیسے چہرے کو بھول سکتا! اُسی کی یاد کو مٹانے کے لئے وہ ستفنس کے ہم ایمانوں پر حملے پر حملہ کرتا ہے۔

۸: ۴- ۸ مسیحیوں کے تتر بتر ہونے سے اُن کی گواہی خاموش نہیں ہو گئی! وہ جہاں جہاں گئے نجات کی خوش خبری ساتھ لے گئے۔ باب ۶ والا ’ڈیکن‘ فلپس شمال کی طرف شہر سامریہ کو چلا گیا۔ وہ نہ صرف مسیح کی منادی کرتا تھا بلکہ معجزے بھی دکھاتا تھا۔ ناپاک روحیں نکال کر بھگا دی جاتی تھیں۔

«مفلوج اور لنگڑے اچھے کئے گئے۔» لوگ خوش خبری پر کان لگاتے تھے اور «بڑی خوشی ہوئی»۔ کیا ایسے میں کوئی اَور توقع کی جا سکتی تھی؟

ابتدائی کلیسیا یسوع مسیح کے واضح احکام کی تعمیل کرتی تھی۔

  • جس طرح مسیح نکلا اُسی طرح یہ کلیسیا بھی باہر نکلی (یوحنا ۲۰: ۲۱؛ اعمال ۸: ۱- ۴)۔
  • کلیسیا نے اپنا مال و اسباب بیچ کر قیمت غریبوں کو دے دی (لوقا ۱۲: ۳۳؛ ۱۸: ۲۲؛ اعمال ۲: ۴۵؛ ۴: ۳۴)۔
  • کلیسیا نے اپنے ماں باپ اور گھروں کو خیر باد کہا اور کلام کی منادی کرنے ہر جگہ پہنچی (متی ۱۰: ۳۷؛ اعمال ۸: ۱- ۴)۔
  • کلیسیا نے مرید بنائے اور اُن کو کام کرنا اور حکم ماننا سکھایا (متی ۲۸: ۱۸، ۱۹؛ ۱۔تھسلنیکیوں ۱: ۶)۔
  • کلیسیا نے اپنی صلیب اُٹھائی اور مسیح کے پیچھے ہو لی (اعمال باب ۴؛ ۱۔تھسلنیکیوں باب ۲)۔
  • کلیسیا نے ظلم و ستم سہے اور مصیبت میں خوشی منائی (متی ۵: ۱۱، ۱۲؛ اعمال باب ۱۶؛ ۱۔تھسلنیکیوں ۱: ۶- ۸)۔
  • کلیسیا نے مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دیئے اور جا کر اِنجیل کی منادی کی (لوقا ۹: ۵۹، ۶۰)۔
  • کلیسیا نے اپنی پائوں کی گرد اُن لوگوں کے سامنے جھاڑ دی جنہوں نے سننے سے اِنکار کیا (لوقا ۹: ۵؛ اعمال ۱۳: ۵۱)۔
  • کلیسیا نے بیماروں کو شفا دی، ناپاک روحوں کو نکالا، مردوں کو زندہ کیا اور قائم رہنے والا پھل لائی (مرقس ۱۶: ۱۸؛ اعمال ۳: ۱۶)۔

۸: ۹- ۱۱ فلپس کی منادی سننے والوں میں سب سے نامور اور مشہور شخص «شمعون نام» ایک جادو گر تھا۔ اِس سے پہلے اُس نے سامریہ میں اپنے لئے زبردست نام پیدا کر رکھا تھا۔ لوگوں پر اُس کا رعب تھا۔ وہ اُس کی جادوگری کے شعبدوں پر انگشت بدنداں رہتے تھے۔ وہ خود کو ایک «بڑا شخص» قرار دیتا تھا۔ بہت سے لوگ قائل بھی تھے اور «کہتے تھے کہ یہ شخص خدا کی وہ قدرت ہے جسے بڑی کہتے ہیں»۔

۸: ۱۲، ۱۳ لیکن جب بہت سے لوگ فلپس کی منادی کے باعث خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے اور «بپتسمہ لینے لگے» تو «شمعون …بھی» کہنے لگا کہ مَیں ایمان لاتا ہوں (شمعون نے «یقین کیا» اور آیت ۲۴ میں وہ پطرس سے درخواست کرتا ہے کہ «میرے لئے خداوند سے دعا کرو۔» اِس لئے کئی لوگوں کا خیال ہے کہ اُس نے نجات تو پائی تھی، مگر وہ بہت دُنیاوی اور جسمانی شخص تھا) اور وہ بھی « بپتسمہ لے کر فلپس کے ساتھ رہا کِیا۔»

بعد کے واقعات سے یوں لگتا ہے کہ شمعون نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا تھا۔ وہ نجات پانے کا دعویٰ تو کرتا تھا مگر اُس کے پلے کچھ نہیں تھا۔ جو لوگ تعلیم دیتے ہیں کہ بپتسمہ سے نجات ہے، یہاں اُن کو ایک اُلجھن اور پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔ شمعون نے بپتسمہ لیا تھا مگر ابھی تک اپنے گناہوں میں تھا۔

غور کریں کہ فلپس، خدا کی بادشاہی اور یسوع مسیح کے نام کی خوش خبری دیتا تھا۔ خدا کی بادشاہی وہ حلقہ ہے جہاں خدا کی حکمرانی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ موجودہ وقت میں بادشاہ غیر حاضر ہے۔ زمینی بادشاہی کی بجائے اُن سب کی زندگیوں میں جو اُس کے وفادار ہیں ایک نادیدنی روحانی بادشاہی موجود ہے۔ مستقبل میں بادشاہ لفظی معنوں میں بادشاہی قائم کرنے کے لئے زمین پر واپس آئے گا۔ یروشلیم اُس کا دارالحکومت ہو گا۔ بادشاہی کی کسی بھی شکل میں حقیقی معنوں میں داخل ہونے کے لئے ضرور ہے کہ اِنسان نئے سرے سے پیدا ہو۔ «یسوع مسیح کے نام» میں ایمان کا مطلب ہے نئی پیدائش کا تجربہ حاصل کرنا۔ بے شک فلپس کی منادی کا لب ِلباب یہی تھا۔

۸: ۱۴- ۱۷ «سامریوں نے» بڑے شوق سے «خدا کا کلام قبول کر لیا»۔ جب یہ خبر «یروشلیم میں» «رسولوں» کو پہنچی تو اُنہوں نے «پطرس اور یوحنا کو اُن کے پاس بھیجا۔» اُن کے پہنچنے سے پہلے وہ خداوند یسوع کے نام پر بپتسمہ لے چکے تھے۔ لیکن اُن کو روح القدس نہیں ملا تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ خدا کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے ہوئے رسولوں نے دعا کی کہ یہ ایمان دار بھی روح القدس پائیں۔ «پھر اُنہوں نے اُن پر ہاتھ رکھے۔» جونہی ایسا کیا گیا «اُنہوں نے روح القدس پایا»۔

اب فوراً سوال اُٹھ کھڑا ہوا کہ یہاں کے واقعے اور پنتکست کے دن کے واقعے کی ترتیب میں کیوں فرق ہے۔ پنتکست پر یہودیوں نے

  1.  توبہ کی
  2.  بپتسمہ پایا
  3.  روح القدس پایا۔

اِس موقعے پر سامری

  1.  ایمان لائے
  2.  بپتسمہ لیا
  3.  رسولوں نے اُن کے لئے دعا کی اور اُن پر ہاتھ رکھے۔
  4.  روح القدس پایا۔

ایک بات ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سب کو نجات ایک ہی طریقے سے ملی __ یعنی خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے سے __ صرف وہی نجات کا واحد منبع ہے۔ البتہ عبوری دَور میں یہودیت اور مسیحیت کے درمیان پُل بناتے ہوئے، خدا نے ایمان داروں کی مختلف جماعتوں کے بارے میں اپنے شاہی اِختیار کے مطابق جو مناسب جانا سو کِیا۔ یہودی ایمان داروں سے کہا گیا کہ وہ یہودی قوم سے بے تعلق ہونے کے لئے بپتسمہ لیں۔ اِس کے بعد اُن کو روح القدس دیا گیا۔ یہاں ضروری سمجھا گیا کہ سامریوں کے لئے رسول دعا کریں اور اُن پر ہاتھ رکھیں __ لیکن کیوں؟

شاید بہترین جواب یہ ہے کہ اِس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ خواہ یہودیوں پر مشتمل ہو خواہ سامریوں پر، کلیسیا ایک ہی ہے۔ بڑا خطرہ تھا کہ یروشلیم کی کلیسیا اِس خیال میں مبتلا رہے کہ یہودی اعلیٰ و برتر ہیں اور وہ اپنے سامری بھائیوں سے کوئی میل جول رکھنا پسند نہ کریں۔ پھوٹ کی اِس بدعت کو روکنے کے لئے، یا دو کلیسیائوں (ایک یہودی، دوسری سامری) کے تصور کو سر اُٹھانے سے روکنے کے لئے خدا نے رسولوں کو بھیجا کہ سامریوں پر ہاتھ رکھیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خداوند یسوع پر ایمان رکھنے کے اعتبار سے اُن میں کامل رفاقت اور یگانگت ہے۔ وہ سب ایک ہی بدن کے عضو تھے۔ سب یسوع مسیح میں ایک تھے۔

آیت ۱۶ کہتی ہے کہ «اُنہوں نے صرف خداوند یسوع کے نام پر (یا نام میں داخل ہونے کا) بپتسمہ لیا تھا» (اِس کے ساتھ ۱۰: ۴۸ اور ۱۹: ۵ بھی دیکھئے)۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ «باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ» (متی ۲۸: ۱۹) سے کوئی فرق چیز تھی۔ ایک عالم لکھتا ہے کہ «لوقا وہ اصول قلم بند نہیں کر رہا جو استعمال کیا گیا تھا بلکہ صرف ایک تاریخی واقعہ بیان کر رہا ہے۔» دونوں تراکیب وفاداری و اطاعت اور شناخت (یا مسیح کے ساتھ مشابہت) کو ظاہر کرتی ہیں۔ اور سارے سچے ایمان دار بڑی خوشی سے اِقرار کرتے ہیں کہ ہم تثلیث (خدائے ثالوث) اور خداوند یسوع کے ساتھ ایک (ہوئے) ہیں، اور اُس کے وفادار ہیں۔

۸: ۱۸- ۲۱ شمعون جادو گر اِس بات سے بے حد متاثر ہوا کہ «رسولوں کے ہاتھ رکھنے سے روح القدس دیا جاتا ہے»۔ اُس کو اِس بات کے گہرے روحانی مضمرات کی کوئی سمجھ نہ تھی بلکہ وہ اِسے کوئی فوق الفطرت قوت ہی سمجھتا تھا جس سے اُسے اپنے کاروبار میں بہت مدد مل سکتی تھی۔ چنانچہ اُس نے یہ اِختیار خریدنے کے لئے رسولوں کو روپوں کی پیش کش کی۔

پطرس کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمعون حقیقی طور پر تبدیل نہیں ہوا تھا۔ غور کریں:

  1.  «تیرے روپے تیرے ساتھ غارت ہوں۔» کوئی ایمان دار کبھی غارت نہیں ہو گا (یوحنا ۳: ۱۶)۔
  2.  « تیرا اِس اَمر میں نہ حصہ ہے نہ بخرہ۔» دوسرے لفظوں میں وہ اِس رفاقت و شراکت سے باہر یا محروم تھا۔
  3.  «تیرا دل خدا کے نزدیک خالص نہیں۔» یہ ایک غیر نجات یافتہ اِنسان کا موزوں بیان ہے۔
  4.  « تُو پِت کی سی کڑواہٹ اور ناراستی کے بند میں گرفتار ہے۔» کیا یہ الفاظ کسی ایسے شخص پر صادق آ سکتے ہیں جو واقعی نئے سرے سے پیدا ہو چکا ہے؟

۸: ۲۲- ۲۴ پطرس نے شمعون کو تلقین کی: «اپنی اِس بدی سے توبہ کر اور خداوند سے دعا کر» کہ تیرے اِس بُرے خیال کی معافی ہو جائے۔ شمعون نے جواب میں پطرس سے کہا کہ تُو شفاعت کے لئے میرے اور خدا کے بیچ میں درمیانی ہو۔ شمعون نے سچی توبہ نہیں کی تھی۔ اِس کا ثبوت یہ الفاظ ہیں کہ «تم میرے لئے خداوند سے دعا کرو کہ جو باتیں تم نے کہیں اُن میں سے کوئی مجھے پیش نہ آئے۔» اُسے اپنے گناہ پر افسوس نہیں تھا۔ اُسے صرف فکر تھی کہ گناہ کے جو نتائج ہیں اُن سے بچا رہوں۔

۸: ۲۵ پطرس اور یوحنا «گواہی دے کر اور خداوند کا کلام سنا کر یروشلیم کو واپس ہوئے۔» لیکن اب چونکہ اُن کو پائوں جمانے کی جگہ مل گئی تھی اِس لئے وہ «سامریوں کے بہت سے گائوں میں خوش خبری دیتے گئے»۔

 ب۔ فلپس اور حبشی خوجہ(۸: ۲۶- ۴۰)

۸: ۲۶ سامریہ میں اِس زبردست روحانی بیداری کے دَوران یہ بھی ہوا کہ خداوند کے فرشتہ نے فلپس کو خدمت کے ایک نئے میدان میں قدم رکھنے کو کہا۔ اُسے ہدایت ہوئی کہ اُس مقام کو جہاں بہتوں کو برکت مل رہی تھی، چھوڑ کر جائے اور ایک واحد شخص کو کلام سنائے۔ فرشتہ فلپس کو ہدایت تو دے سکتا تھا لیکن اُس کی جگہ اِنجیل کی منادی نہیں کر سکتا تھا۔ یہ اعزاز فرشتوں کو نہیں، صرف اِنسان کو دیا گیا۔

فلپس کی فرماں برداری میں چوں و چرا نہیں تھا۔ چنانچہ وہ سامریہ سے جنوب کی طرف یروشلیم کو گیا اور وہاں سے اُس راہ پر آیا جو غزہ کو جاتی ہے۔ یہ بات واضح نہیں کہ «جنگل میں ہے» کے الفاظ شاہراہ کے لئے استعمال ہوئے ہیں یا غزہ  (فلستین کا ایک قدیم شہر جو مصر کو جانے والی شاہراہ پر، یروشلیم کے جنوب مغرب میں بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع تھا)۔ شہر کے لئے۔ مگر تاثر ایک سا ہے کہ «فلپس» ایک گنجان آباد اور روحانی طور پر پھل دار جگہ کو چھوڑ کر ویران علاقے میں گیا۔

۸: ۲۷- ۳۱ اِس شاہراہ پر جاتے جاتے فلپس ایک کارواں سے جا ملا۔ کاروان کے سب سے عمدہ رتھ پر «حبشیوں کی ملکہ کنداکے (کنداکے غالباً نام نہیں بلکہ فرعون کی طرح لقب تھا) کا وزیر اور اُس کے سارے خزانے کا مختار» سوار تھا۔ یہ بااِختیار شخص «خوجہ» تھا (بڑی بڑی خاتون عہدے داروں کے مرد نوکروں کو اکثر آختہ یعنی مردانہ صفات سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ یہودیت میں خوجے اوّل درجے کے شہری نہیں ہوتے تھے (اِستثنا ۲۳: ۱)۔ اُن کا درجہ صرف «پھاٹک کے نومرید» کا ہوتا تھا۔ لیکن یہاں ایک خوجہ مسیحی کلیسیا کا پورا پورا ممبر بن جاتا ہے)۔ لگتا ہے کہ یہ شخص پہلے یہودیت کو قبول کر چکا تھا، اِس لئے کہ وہ «یروشلیم میں عبادت کے لئے آیا تھا» اور اب واپس اپنے وطن کو جا رہا تھا۔ رتھ آگے بڑھ رہا تھا اور وہ «یسعیاہ نبی کا صحیفہ» پڑھ رہا تھا۔ عین وقت پر «روح نے فلپس» کو ہدایت کی کہ «اُس رتھ کے ساتھ ہو لے۔» یہ بات کیسی تازگی بخش ہے کہ یہاں نسلی تعصب بالکل موجود نہیں۔

۸: ۳۲، ۳۳ کیسی عجیب بات ہے کہ اُس وقت وہ خوجہ یسعیاہ ۵۳ باب پڑھ رہا تھا جس میں مسیحِ موعود کا بے مثل بیان درج ہے! واقعی کیسا عجیب «اتفاق» ہے! فلپس عین اُس وقت کیوں پہنچا جب خوجہ خاص یہ حصہ پڑھ رہا تھا؟

یسعیاہ کا یہ حصہ اُس ہستی کی تصویر پیش کرتا ہے جو اپنے دشمنوں کے سامنے بے زُبان تھا۔ اُس کو بڑی تیزی سے اِنصاف سے دُور لے گئے۔ اُس پر دیانت داری سے مقدمہ بھی نہ چلایا۔ اُس ہستی کو اپنی نسل کی کوئی اُمید نہ تھی کیونکہ اُس کو عین جوانی میں جب کہ اُس کی شادی بھی نہ ہوئی تھی قتل کر دیا گیا۔

۸: ۳۴، ۳۵ وہ خو جہ حیران ہو رہا تھا کہ «نبی یہ کس کے حق میں کہتا ہے؟ اپنے یا کسی دوسرے کے؟» بے شک اِس سوال نے فلپس کو وہ موقع فراہم کر دیا جو وہ چاہتا تھا کیونکہ وہ خو جہ کو بتانا چاہتا تھا کہ اِس صحیفے کی یہ ساری باتیں یسوع ناصری کی زندگی اور موت میں پوری ہوتی ہیں۔ بے شک جب یہ حبشی خو جہ یروشلیم میں تھا تو اُس نے یسوع نام ایک شخص کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا۔ اور بے شک یہ باتیں یسوع کے بارے میں شک و شبہ پیدا کرنے والی تھیں۔ اب خو جہ کو پتا چلتا ہے کہ یسوع ناصری ہی یہوواہ کا دُکھ اُٹھانے والا خادم ہے جس کے بارے میں یسعیاہ نے لکھا ہے۔

۸: ۳۶ معلوم ہوتا ہے کہ فلپس نے اُس حبشی کو مسیحی بپتسمہ کے اعزاز و استحقاق کے بارے میں سمجھایا تھا کہ بپتسمے میں اِنسان خود کو موت، تدفین اور قیامت میں مسیح کے مشابہ ٹھہراتا ہے۔ اور اب جب کہ وہ «چلتے چلتے کسی پانی کی جگہ پر پہنچے» تو خوجے نے بپتسمہ لینے کی خواہش کا برملا اِظہار کیا۔

۸: ۳۷ بپتسمہ لینے کے لئے یہ اِقرار بے شک ضروری ہے کہ «یسوع مسیح خدا کا بیٹا ہے۔»

۸: ۳۸ رتھ روکا جاتا ہے اور فلپس اُس خو جہ کو بپتسمہ دیتا ہے۔ یہ غوطہ (رومن کیتھولک علما کی اکثریت، کیلون اور بہت سے دیگر علما بھی جو خود اُنڈیلنے سے یا چھڑکنے سے بپتسمہ دیتے ہیں، متفق ہیں کہ اِبتدائی دَور میں بپتسمہ غوطہ سے ہوتا تھا لیکن اِنصاف کا تقاضا یہ ہے کہ بتا دیا جائے کہ جن الفاظ کا ترجمہ «میں» اور « میں سے» کیا گیا، اُن کا مطلب «کو» اور «سے» بھی ہے) کا بپتسمہ تھا جیسا کہ اِن الفاظ سے ظاہر ہے کہ وہ «پانی میں اُتر پڑے» اور «پانی میں سے نکل کر اُوپر آئے»۔

جس سادگی سے یہ رسم ادا کی گئی وہ گہرا تاثر پیدا کرتی ہے۔ جنگل بیابان میں سے گزرتی ہوئی ایک شاہراہ پر ایک ایمان دار ایک نومرید کو بپتسمہ دیتا ہے۔ کلیسیا وہاں موجود نہیں، کوئی اَور رسول وہاں موجود نہیں۔ بلاشبہ کارواں میں ہم رکاب ملازمین اپنے مالک کے بپتسمہ لینے کے گواہ تھے۔ اور وہ سمجھ گئے کہ اب ہمارا مالک یسوع ناصری کا پیرو بن گیا ہے۔

۸: ۳۹ جونہی بپتسمہ کی رسم ختم ہوئی «خداوند کا روح فلپس کو اُٹھا لے گیا»۔ اِس سے مراد صرف یہی نہیں کہ روح نے کسی اَور جگہ جانے میں اُس کی ہدایت کی بلکہ فوری اور معجزانہ طور پر دوسری جگہ پہنچانے کا بیان ہے۔ مقصد یہ تھا کہ وہ خو جہ اپنے مسیح پر ایمان لانے کے اِنسانی وسیلے ہی پر متوجہ نہ ہو جائے بلکہ اُس کی توجہ خداوند پر مرکوز ہو جائے۔

خو جہ «خوشی کرتا ہوا اپنی راہ چلا گیا»۔ خداوند کی فرماں برداری کرنے سے وہ خوشی حاصل ہوتی ہے، جس کا مقابلہ اَور کوئی خوشی نہیں کر سکتی۔

۸: ۴۰ اِسی دوران فلپس اشدود میں اپنی تبلیغی خدمت کو دوبارہ شروع کر دیتا ہے۔ یہ شہر غزہ کے شمال اور یروشلیم کے مغرب میں ساحل کے قریب واقع تھا۔ وہاں سے منادی کرتا ہوا وہ قیصریہ کے ساحل تک جا پہنچتا ہے۔

اور خوجے کا کیا ہوا؟ فلپس کو اُس کی بعد کی زندگی کی نگہبانی کرنے کا موقع نہ ملا۔ یہ مبشر صرف اِتنا ہی کر سکا کہ اُس کو خدا اور پرانے عہدنامے کے صحائف کے سپرد کر دے۔ لیکن بالیقین روح القدس کی قوت کے ساتھ یہ نیا شاگرد حبش (ایتھوپیا) میں واپس آیا (افریقہ میں حبش ایتھوپیا واحد ملک ہے جہاں اِنتہائی ابتدائی دنوں سے لے کر آج تک مسیحی کلیسیا تسلسل کے ساتھ قائم ہے۔ فلپس کی وفاداری وہ کنجی تھی جس نے وہاں کلیسیا کا دروازہ کھولا تھا) اور سب کو خداوند یسوع مسیح کے نجات بخش فضل کی گواہی دیتا رہا۔

ایمان داروں کے بپتسمہ کا توضیحی بیان

مندرجہ بالا سطور میں ہم نے حبشی پر غور کیا ہے۔ بپتسمے کا یہ واقعہ اُن بہت سے شواہد کا حصہ ہے جن کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ اِبتدائی کلیسیا بپتسمے کی تعلیم دیتی اور اِس پر عمل کرتی تھی (۲: ۳۸؛ ۲۲: ۱۶)۔ یہ بپتسمہ یوحنا کے بپتسمے جیسا نہیں تھا۔ یوحنا کا بپتسمہ توبہ کو ظاہر کرتا تھا  (۱۳: ۲۴؛ ۱۹: ۴) جب کہ یہ بپتسمہ مسیح کے مشابہ ہونے کا علانیہ اقرار تھا۔

یہ بپتسمہ ہمیشہ ایمان لانے کے بعد دیا جاتا تھا (۲: ۴۱؛ ۸: ۱۲؛ ۱۸: ۸)۔ اور مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے تھا (۸: ۱۲)۔ یہ غیر قوم اور یہودی ہر دو کے لئے تھا (۱۰: ۴۸)۔ بتایا گیا ہے کہ پورا پورا گھرانا بھی بپتسمہ لیتا تھا (۱۰: ۴۷، ۴۸؛ ۱۶: ۱۵؛ ۱۶: ۳۳) لیکن اِن واقعات میں سے کم سے کم دو میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گھرانے کے سارے افراد ایمان لائے تھے۔ کبھی اور کہیں بیان نہیں ہوا کہ شیرخواروں کو بپتسمہ دیا گیا۔

ایمان داروں کو ایمان لانے کے بعد بہت جلد بپتسمہ دیا جاتا تھا (۸: ۳۶؛ ۹: ۱۸؛ ۱۶: ۳۳)۔ لگتا ہے کہ بپتسمہ اُن کے مسیح پر ایمان لانے کے اِقرار کی بنیاد پر دیا جاتا تھا۔ اِقرار کی حقیقت کو ظاہر یا ثابت کرنے کے لئے کسی آزمائشی وقفے کی شرط نہ تھی۔ البتہ ایذارسانی کا خطرہ ہوتا تھا اِس لئے ایمان لانے والے اِقرار کرنے میں ضرور احتیاط برتتے تھے اور پوری ذمہ داری اور آگہی کے ساتھ اِقرار کرتے تھے۔

ہمیں شمعون کے معاملے (۸: ۱۳) سے معلوم ہوتا ہے کہ بپتسمے میں نجات دینے کی خصوصیت نہیں ہے۔ ایمان کا اِقرار کرنے اور بپتسمہ لینے کے بعد بھی وہ «پِت کی سی کڑواہٹ اور ناراستی کے بند میں گرفتار» تھا (۸: ۲۳) اور اُس کا «دل خدا کے نزدیک خالص نہیں تھا» (۸: ۲۱)۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا بپتسمہ غوطے سے دیا جاتا تھا (۸: ۳۸، ۳۹)۔ «فلپس اور خوجہ دونوں پانی میں اُتر پڑے …جب وہ پانی میں سے نکل کر …»۔ آج بھی کئی لوگ جو اُنڈیلنے اور چھڑکنے کے طریقے کی وکالت کرتے ہیں، وہ بھی مانتے ہیں کہ پہلی صدی کے شاگرد غوطے کے بپتسمے پر عمل کرتے تھے۔

دو دفعہ ایسا ہوا کہ بپتسمے کو گناہوں کی معافی سے منسلک کیا گیا ہے۔ پنتکست کے دن پطرس نے کہا، «توبہ کرو، اور تم میں سے ہر ایک اپنے گناہوں کی معافی کے لئے یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے … » (۲: ۳۸)۔ بعد کے ایک واقعے میں حننیاہ نے سائول سے کہا، «اُٹھ، بپتسمہ لے اور اُس (خداوند یسوع) کا نام لے کر اپنے گناہوں کو دھو ڈال» (۲۲: ۱۶)۔ دونوں موقعوں پر ہدایت یہودیوں کو کی گئی تھی۔ کبھی کسی غیر قوم کو گناہوں کی معافی کے لئے بپتسمہ لینے کو نہیں کہا گیا۔ ایمان دار کے بپتسمے کی خاص بات یہ ہے کہ یہودی اُس قوم سے علانیہ قطع تعلق کرتا تھا جس نے مسیحِ موعود کو ردّ اور مصلوب کیا تھا۔ اُس کی معافی کی بنیاد خداوند یسوع پر ایمان تھا۔ اُس کی معافی کی قیمت خداوند یسوع کا خون تھا۔ اور اُس کو معافی پہنچانے کا طریقہ پانی کا بپتسمہ تھا کیونکہ اُس کا بپتسمہ اُسے علانیہ یہودی بنیاد سے اُٹھا کر مسیحی بنیاد پر کھڑا کرتا تھا۔

بپتسمہ دینے کا قاعدہ یا فارمولا «باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے» (متی ۲۸: ۱۹) اعمال کی کتاب میں موجود نہیں۔ سامریوں کو «خداوند یسوع کے نام پر» (۸: ۱۶) بپتسمہ دیا گیا تھا۔ یہی بات یوحنا کے شاگردوں پر صادق آتی ہے (۱۹: ۵)۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ باپ، بیٹے اور روح القدس کے الفاظ استعمال نہیں کئے گئے۔ «خداوند یسوع کے نام پر» (یا ’نام سے‘) کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «خداوند یسوع کے اِختیار سے۔»

یوحنا کے شاگردوں کو دو دفعہ بپتسمہ دیا گیا۔ پہلے یوحنا کا بپتسمہ جو توبہ کے لئے تھا، پھر اُن کے ایمان لانے کے موقعے پر ایمان دار کا بپتسمہ (۱۹: ۳، ۵)۔

یہاں ہمیں «دوبارہ بپتسمہ» کی ایک مثال ملتی ہے کہ جنہوں نے ایمان لانے سے پہلے بپتسمہ لیا تھا، اُن کو دوبارہ بپتسمہ دیا گیا۔

 ج۔ سائول ترسی کا مسیح پر ایمان لانا  (۹: ۱- ۳۱)

۹: ۱، ۲ اعمال کی کتاب کے باب ۹ سے ایک نمایاں موڑ آتا ہے۔ اب تک نمایاں مقام پطرس کو حاصل تھا کہ وہ اِسرائیلی قوم میں منادی کرتا تھا۔ اب سے پولس رسول بتدریج نمایاں شخصیت بن جائے گا اور اِنجیل روز افزوں غیر قوموں تک پہنچے گی۔

اِس موقعے پر «سائول» ترسی غالباً تیس کے پیٹے میں تھا۔ ربی اُس کو یہودی مذہب کا ایک نہایت ہونہار نوجوان سمجھتے تھے۔ جہاں تک جوش و ولولے کا تعلق ہے وہ اپنے سارے ساتھیوں میں ممتاز تھا۔

اُس کو مسیحی ایمان کی ترقی میں اپنے مذہب کے لئے خطرہ نظر آتا تھا۔ مسیحی ایمان کو «طریق» (۱۹: ۹، ۲۳؛ ۲۳: ۴؛ ۲۴: ۱۴، ۲۲ بھی دیکھئے) کہا جاتا تھا۔ چنانچہ وہ بے حد و حساب جوش اور پوری قوت سے اِس مضر اور منحوس فرقے کو مٹانے کے درپے ہو گیا۔ اُس نے سردار کاہن سے اِس اِختیار کا پروانہ لیا کہ شام کے ملک میں دمشق شہر میں یسوع کے پیروکاروں کو تلاش کر کے «اُن کو باندھ کر یروشلیم میں لائے» تاکہ اُن پر مقدمہ چلا کر سزا دی جائے۔

۹: ۳- ۶ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہ «دمشق کے نزدیک پہنچا تو ایسا ہو اکہ یکایک آسمان سے ایک نور اُس کے گردا گرد آ چمکا»۔ اِس نور کی چمک ایسی تیز تھی کہ سائول «زمین پر گر پڑا اور یہ آواز سنی کہ اے سائول! اے سائول! تُو مجھے کیوں ستاتا ہے؟» جب سائول نے پوچھا کہ «اے خداوند! تُو کون ہے؟» تو اُسے بتایا گیا کہ « مَیں یسوع ہوں جسے تُو ستاتا ہے؟»

اِس موقعے پر سائول کے جذبات کا اندازہ لگانے کے لئے یاد رکھنا ضروری ہے کہ اُسے یقین تھا کہ یسوع ناصری مر چکا ہے اور یہودیہ میں ایک قبر میں دفن ہے۔ اور چونکہ اِس فرقے کا لیڈر ہلاک ہو چکا ہے، اِس لئے فرقے کو ختم کرنے کے لئے صرف اُس کے پیروکاروں کو نیست و نابود کرنا ضروری ہے۔ پھر دُنیا اِس سزا سے چھوٹ جائے گی۔

اب سائول کو اچانک معلوم ہو جاتا ہے کہ یسوع تو مردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور آسمان میں خدا کے دہنے ہاتھ پر جلال حاصل کر چکا ہے۔ جلالی نجات دہندہ کا یہ نظارہ تھا جس نے سائول کی زندگی کا رُخ بالکل بدل ڈالا۔

اُس دن سائول کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جب مَیں یسوع کے شاگردوں کو ستاتا تھا تو دراصل خود خداوند کو ستاتا تھا۔ زمین پر جو «بدن» ہے، جو دُکھ درد اُسے پہنچایا جاتا ہے، وہ آسمان میں بدن کے «سر» کو محسوس ہوتا ہے۔

سائول کو پہلے عقیدہ سمجھایا گیا پھر ذمہ داری سونپی گئی۔ پہلے اُس کو یسوع کی ذات کے بارے میں سکھایا گیا، اِس کے بعد اُسے دمشق بھیجا گیا جہاں اُسے آگے بڑھنے کے احکام ملنے تھے۔

۹: ۷- ۹ «جو آدمی اُس کے ہمراہ تھے» وہ بالکل ہکا بکا اور سُنّ سے کھڑے تھے۔ اُنہوں نے آسمان سے آواز تو سنی لیکن سمجھے نہیں۔ اُن کے لئے الفاظ ایسے صاف نہیں تھے (۲۲: ۵)۔ اُن کو خداوند دِکھائی نہ دیا، صرف سائول نے اُسے دیکھا تھا۔ اُس وقت سائول کو رسالت کے لئے بلایا گیا۔

اب اِس مغرور فریسی کو «ہاتھ پکڑ کر دمشق میں لے گئے» جہاں وہ «تین دن تک نہ دیکھ سکا»۔ اِس عرصے میں «نہ اُس نے کھایا نہ پیا»۔

۹: ۱۰- ۱۴ اِس خبر سے دمشق کے مسیحیوں کا جو حال ہوا اُس کا تصور کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اُن کو علم تھا کہ سائول ہمیں گرفتار کرنے آ رہا ہے۔ وہ دعا کرتے تھے کہ خدا مداخلت کرے۔ شاید اُنہوں نے جرأت کر کے یہ دعا بھی کی ہو کہ سائول بھی مسیح پر ایمان لائے۔ اب اُن کو خبر ملتی ہے کہ ہمارے ایمان کا سب سے بڑا دشمن مسیحی ہو گیا ہے۔ اُن کو تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آتا تھا۔

خداوند نے دمشق کے ایک ایمان دار حننیاہ کو ہدایت کی کہ سائول سے ملے۔ حننیاہ نے اُس شخص کے بارے میں دل کے سارے اندیشے خدا کے سامنے رکھ دیئے۔ لیکن جب اُسے یقین دلایا گیا کہ اِس وقت سائول ستانے کے بجائے «دعا کر رہا ہے» تو حننیاہ اُس کوچے میں جو سیدھا کہلاتا ہے یہوداہ کے گھر گیا۔

۹: ۱۵، ۱۶ خداوند کے پاس سائول کے لئے زبردست اور عجیب منصوبے تھے: «یہ … میرا نام ظاہر کرنے کا میرا چنا ہوا وسیلہ ہے۔ اور مَیں اُسے جتا دوں گا کہ اُسے میرے نام کی خاطر کس قدر دُکھ اُٹھانا پڑے گا۔» سائول کو خاص طور پر غیر قوموں کا رسول ہونا تھا۔ اور اِس تقرر کے باعث اُس کو بادشاہوں کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا۔ لیکن وہ اپنے اُن ہم وطنوں کے سامنے بھی منادی کرے گا جو جسم میں اُس کے بھائی ہیں۔ اور یہاں اُس کو شدید ظلم و ستم کا تجربہ ہو گا۔

۹: ۱۷، ۱۸ حننیاہ نے بڑے پیار سے اِس نئے ایمان دار پر ہاتھ رکھ کر اُس کے ساتھ پوری پوری رفاقت کا ثبوت دیا۔ اُس نے اُسے «اے بھائی سائول» کہہ کر مخاطب کیا اور اپنی آمد کا مقصد بتایا۔ مقصد یہ تھا کہ سائول دوبارہ «بینائی پائے اور روح القدس سے بھر جائے»۔

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ سائول کو روح القدس ایک عام شاگرد کے ہاتھ رکھنے کے وسیلے سے دیا گیا۔ مفسروں کے مطابق حننیاہ ایک عام مسیحی (نہ رسول، نہ ڈیکن) تھا۔ یہ حقیقت کہ خداوند ایک ایسے شخص کو استعمال کرتا ہے جو رسول نہیں ہے، اُن لوگوں کے لئے جھڑکی کی حیثیت رکھتی ہے جو روحانی خصوصی حقوق کو صرف «خادمانِ دین» تک محدود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب کوئی شخص واقعی تبدیل ہو جاتا ہے تو چند باتیں ضرور ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ کچھ نشانیاں ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ تبدیلی حقیقی ہے۔ یہ بات ترسیس کے سائول پر بھی صادق آتی ہے۔ یہ نشانیاں کیا ہیں؟ فرانسس ڈبلیو۔ ڈِکسن (Dixon) نے چند ایک بیان کی ہیں:

  1.  اُس کی ملاقات خداوند سے ہوئی اور اُس نے خداوند کی آواز سنی (اعمال ۹: ۴- ۶)۔ اُس کو الٰہی مکاشفہ حاصل ہوا۔ صرف یہ مکاشفہ ہی اُسے قائل کر سکتا تھا اور مسیح کا عقیدت مند پیرو بنا سکتا ہے۔
  2.  وہ خداوند کی فرماں برداری کرنے اور اُس کی مرضی کو پورا کرنے کا زبردست آرزو مند ہو گیا (اعمال ۹: ۶)۔
  3.  وہ دعا کرنے لگا (اعمال ۹: ۱۱)۔
  4.  اُس کو بپتسمہ دیا گیا (اعمال ۹: ۱۸)۔
  5.  وہ خدا کے لوگوں سے رفاقت و شراکت رکھنے لگا (اعمال ۹: ۱۹)۔
  6.  وہ بڑی قوت سے گواہی دینے لگا (اعمال ۹: ۲۰)۔
  7.  وہ فضل میں بڑھتا گیا (اعمال ۹: ۲۲)۔

«عام مسیحی» کی خدمت

(وہ مسیحی جو «خادمانِ دین» نہیں یعنی جن کی رسمی مخصوصیت نہیں ہوئی۔)

 

اعمال کی کتاب سے ہمیں جو سب سے اہم سبق ملتا ہے یہ ہے کہ مسیحیت عام ایمان داروں کی تحریک ہے۔ اور گواہی کا کام کسی خاص طبقے مثلاً پریسٹوں یا خادمانِ دین کے سپرد نہیں کیا گیا۔ گواہی دینا تمام ایمان داروں کی ذمہ داری ہے۔

 

ہارنیک (Harnack) کہتا ہے کہ

«جب ابتدائی دَور میں رومی سلطنت کے زمانے میں کلیسیا نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں، تو ایسا معلمین، یا مبلغین یا رسولوں کی وجہ سے نہیں ہوا تھا بلکہ غیر رسمی مشنریوں کی وجہ سے ہوا تھا۔»

 

ڈِین اِنجے (Dean Inge) رقم طراز ہے کہ

«مسیحیت کا آغاز غیر رسمی نبیوں کے مذہب کے طور پر ہوا۔ اور مسیحیت کے مستقبل کا اِنحصار بھی عام مسیحیوں پر ہے۔»

 

برائن گرین (Bryan Green)کہتا ہے کہ

«مسیحیت کا مستقبل اور باقی دُنیا میں تبلیغ پیشہ ور مسیحی خادموں کے نہیں بلکہ عام مردوں اور عورتوں کے ہاتھوں میں ہے۔»

 

لیٹن فورڈ (Leighton Ford) کا قول ہے کہ

«جو کلیسیا گواہی کی ذمہ داری صرف ماہرین کے سپرد کر دیتی ہے، وہ اپنے ’سر‘ کے ارادے کی خلاف ورزی بھی کرتی ہے اور ابتدائی مسیحیوں کے نمونے کے خلاف بھی چل رہی ہے۔ تبلیغ کرنا صرف چند ’نامی کرداروں‘کا نہیں بلکہ پوری کلیسیا کا کام تھا۔»

 

اور آخر میں جے۔ اے۔ سٹوأرٹ (Stewart) لکھتا ہے کہ

«مقامی جماعت کا ہر فرد مسیح کے لئے روحیں جیتنے کو نکلتا تھا۔ وہ ذاتی تعلق اور رابطے سے روحیں جیتتا اور پھر اُن نوزائیدہ بچوں کو مقامی کلیسیا میں لاتا تھا جہاں اُن کو دین کی تعلیم دی جاتی اور مخلصی دینے والے پر ایمان میں مضبوط کیا جاتا تھا اور پھر وہ بھی ایسا ہی کرنے کو نکل کھڑے ہوتے تھے۔»

سیدھی سی حقیقت یہ ہے کہ رسولی کلیسیا میں نہ کوئی خادمِ دین تھا نہ پریسٹ جو مقامی کلیسیا کی صدارت کرتا تھا۔ عام مقامی کلیسیا مقدسوں، ایلڈروں اور ڈِیکنوں پر مشتمل ہوتی تھی (فلپیوں ۱: ۱)۔ نئے عہدنامے کے مطابق سب کے سب مقدسین خادمانِ دین ہوتے تھے۔ بشپ (نگہبان) وہ بزرگ تھے جنہیں اپنی مقامی کلیسیا میں ذمہ داری سے نگرانی کرنا یا روحانی راہنمائی فراہم کرنا تھی۔ اور ڈیکن وہ خادم تھے جو مقامی کلیسیا کے مالی  معاملات سے متعلق فرائض ادا کرتے تھے۔

بشپ یا بزرگ کلیسیا کے اندر کوئی جداگانہ طبقہ نہیں ہوتے تھے۔ بزرگوں یا ایلڈروں کی ایک جمعیت ہوتی تھی جو مل کر مقامی کلیسیا کی گلہ بانی کرتی تھی۔

لیکن کوئی شخص سوال اُٹھا سکتا ہے کہ رسولوں، نبیوں، مبلغوں، گلہ بانوں اور اُستادوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا وہ ابتدائی کلیسیائوں کا جداگانہ طبقہ نہ ہوتے تھے؟ اِس کا جواب افسیوں ۴: ۱۲ میں ملتا ہے۔ یہ نعمتیں اِس لئے ملتی تھیں تاکہ مقدسین (عام ایمان دار) خدمت کا کام جاری رکھ سکیں اور اِس طرح مسیح کے بدن کو ترقی دیں۔ اُن کا مقصد مقامی کلیسیا پر مستقل عہدے دار بن بیٹھنا نہیں تھا بلکہ اِس طرح کام کرنا تھا کہ وہ دن آ جائے جب مقامی کلیسیا اپنے پائوں پر کھڑی ہو کر ساری ذمہ داری پوری کر سکے۔ پھر وہ آگے بڑھ کر نئی جماعتیں قائم کرتے اور اُن کو مضبوط کرتے تھے۔

کلیسیا کے مورخین کے مطابق باقاعدہ رسمی خادم الدین کا نظام دوسری صدی عیسوی میں اُبھرا۔ اعمال کی کتاب کے زمانے میں اِس نظام کا کوئی وجود نہ تھا۔ اِس نظام سے عالم گیر منادی اور کلیسیا کی وسعت کے کام میں رُکاوٹ پیدا ہوئی ہے کیونکہ اِس نظام میں بہت زیادہ کا اِنحصار چند ہی لوگوں پر ہوتا ہے۔

نئے عہدنامے میں ایمان دار صرف خادم ہی نہیں بلکہ کاہن بھی تھے۔ مقدس کاہن ہونے کے باعث اُن کو خدا کی عبادت کے لئے ہر وقت اور ہمیشہ خدا کی حضوری میں رسائی حاصل ہے (۱۔پطرس ۲: ۵)۔ شاہی کاہن ہونے کے باعث اُن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سب کو اُس ہستی کے بارے میں بتائیں جس نے اُن کو تاریکی سے اپنی عجیب روشنی میں بلایا ہے (۱۔پطرس ۲: ۹)۔ سارے ایمان داروں کی کہانت کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک سرِ بازار منادی کرنے یا تعلیم دینے کا اہل ہے۔ لیکن اِس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ کلیسیا کے اندر کاہنوں کے خصوصی طبقے کا کوئی وجود نہیں جن کو خدمت کے کام اور عبادت کے اِنتظام پر کنٹرول حاصل ہو۔

۹: ۱۹- ۲۵ دمشق میں شاگردوں نے سائول کے لئے اپنے دیدہ و دل فرشِ راہ کر دیئے۔ اُن کے گھروں کے دروازے سائول کے لئے کھل گئے۔ وہ بھی فوراً عبادت خانوں میں جا کر دلیری سے گواہی دینے لگا کہ یسوع «خدا کا بیٹا ہے»۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کے یہودی سامعین میں گھبراہٹ اور حیرانی پھیل گئی۔ اُن کو تو بتایا گیا تھا کہ سائول یسوع کے نام سے عداوت رکھتا ہے۔ اور اب وہ تعلیم دے رہا تھا کہ یسوع خدا ہے! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

اِس پہلے موقعے پر وہ کتنی دیر «دمشق» میں رہا، ہمیں اِس کا علم نہیں۔ البتہ گلتیوں ۱: ۱۷ سے پتا چلتا ہے کہ وہ دمشق کو چھوڑ کر عرب چلا گیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ وہ عرب میں کتنا عرصہ رہا۔ لیکن یہ بتایا گیا ہے کہ وہ دمشق واپس آیا۔ اعمال باب۹ کے بیان میں عرب کا یہ سفر کہاں آنا چاہئے؟ غالباً آیت ۲۱ اور ۲۲ کے درمیان۔

خدا نے اپنے جن خادموں کو بہت زیادہ استعمال کیا، اُن میں سے اکثر کو عرب یا بیابان کا تجربہ ہوا۔ اِس کے بعد ہی خدا نے اُن کو منادی کے لئے بھیجا۔

عرب میں قیام کے دوران «سائول» کو اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور خاص کر خدا کے فضل کی خوش خبری پر غور کرنے کا موقع ملا۔ اور یہ خوش خبری اُن کو خاص طور پر سپرد ہوئی تھی۔ جب وہ دمشق میں واپس آیا (آیت ۲۲) تو عبادت خانوں میں جا کر ثابت کرتا تھا کہ یہی یسوع اسرائیل کا «مسیحِ موعود» ہے۔ یہودی اُس کی تعلیم سے حیرت زدہ رہ جاتے تھے۔ اِسی وجہ سے وہ اُس کے خلاف طیش میں آ گئے اور اُس کو جان سے مار ڈالنے کا مشورہ (سازِش) کرنے لگے کیونکہ پہلے تو وہ اُن کا لیڈر تھا، لیکن اب برگشتہ ہو گیا تھا۔ اب وہ «دین سے پھر جانے والا» اور «زمانہ ساز» بن گیا تھا۔ لیکن سائول بچ کر دمشق سے نکل گیا۔ اُس کے ساتھیوں نے اُسے ایک ٹوکرے میں بٹھا کر شہر کی دیوار (فصیل) پر سے لٹکا کر اُتار دیا۔ یہ فرار اگرچہ رُسوا کن ہے، لیکن سائول تو اب خود شکستہ آدمی تھا۔ وہ مسیح کی خاطر ہر وہ رسوائی برداشت کرنے کو تیار تھا جس سے دوسرے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

۹: ۲۶- ۳۰ اِنسانی زاویۂ نگاہ سے یروشلیم شہر سائول کے لئے سب سے خطرناک جگہ تھی۔ لیکن جب یقین ہو کہ مَیں خدا کی مرضی کے مطابق سب کچھ کر رہا ہوں، تو اِنسان اپنی ذات کے تحفظ سے بڑی حد تک بے نیاز ہو جاتا ہے۔

اِس بات پر اِختلاف ِرائے پایا جاتا تھا کہ مسیحی ہونے کے بعد سائول کا یروشلیم کا یہ پہلا دورہ تھا جو کہ تبدیلی کے تین سال بعد ہوا تھا (گلتیوں ۱: ۱۸)۔ جب وہ پہلی دفعہ یروشلیم آیا تو پطرس اور یعقوب سے تو ملا لیکن کسی اَور رسول سے نہیں ملا۔ آیت ۲۷ میں درج ہے کہ «برنباس … اُسے اپنے ساتھ رسولوں کے پاس» لے گیا۔ اِس کا مطلب پطرس اور یعقوب کے پاس بھی ہو سکتا ہے اور سارے رسولوں کے پاس بھی۔ اگر دوسرا مطلب لیا جائے تو یہ سائول کا یروشلیم کا دوسرا دَورہ ہو گا جس کا کسی دوسری جگہ ذکر نہیں۔

پہلے تو «یروشلیم» میں سارے شاگردوں کو سائول کے اِس دعوے پر شک رہا کہ وہ مسیحی ہو گیا ہے۔ اِس لئے «سب اُس سے ڈرتے تھے» اور اُسے قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ لیکن برنباس» جس کے نام کا مطلب ہے «تسلی کا بیٹا» وہ اِسم بامسمیٰ ثابت ہوتا ہے۔ وہ سائول کی حمایت کرتا ہے۔ اُس کے ایمان لانے کا واقعہ اور دمشق میں دلیری سے گواہی دینے کے حالات دوسرے شاگردوں کو بتاتا ہے۔ اب ایمان داروں کو احساس ہو گیا کہ سائول سچا ہے۔ اور یہ احساس اُس وقت اَور بھی پختہ ہو گیا جب اُنہوں نے اُسے «یروشلیم میں … دلیری کے ساتھ خداوند کے نام کی منادی» کرتے سنا اور دیکھا۔ چند ہی دنوں میں «یونانی مائل یہودی» اُس کے سخت مخالف ہو گئے۔ جب «بھائیوں» نے دیکھا کہ سائول کی زندگی اُن لوگوں کے باعث خطرے میں ہے تو «اُسے قیصریہ میں لے گئے» جو ایک سمندری بندر گاہ ہے اور وہاں سے اُسے ترسُس کو روانہ کر دیا۔ یہ سائول کا اپنا شہر تھا اور ایشیائے کوچک کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع تھا۔

۹: ۳۱ اِس کے بعد فلستین کی کلیسیا یعنی تمام کلیسیائوں «کو چین ہو گیا»۔ اب اُن کو موقع مل گیا کہ کلیسیائوں کو مضبوط کریں اور توجہ دیں کہ رفاقت عددی اور روحانی دونوں لحاظ سے ترقی کرے۔

مقدس کتاب

۱- جب عِیدِ پِنتیکُست کا دِن آیا تو وہ سب ایک جگہ جمع تھے۔
۲- کہ یکایک آسمان سے اَیسی آواز آئی جَیسے زور کی آندھی کا سنّاٹا ہوتا ہے اور اُس سے سارا گھر جہاں وہ بَیٹھے تھے گُونج گیا۔
۳- اور اُنہیں آگ کے شُعلہ کی سی پھٹتی ہُوئی زُبانیں دِکھائی دِیں اور اُن میں سے ہر ایک پر آ ٹھہرِیں۔
۴- اور وہ سب رُوحُ القُدس سے بھر گئے اور غَیر زُبانیں بولنے لگے جِس طرح رُوح نے اُنہیں بولنے کی طاقت بخشی۔
۵- اور ہر قَوم میں سے جو آسمان کے تَلے ہے خُدا ترس یہُودی یروشلِیم میں رہتے تھے۔
۶- جب یہ آواز آئی تو بِھیڑ لگ گئی اور لوگ دَنگ ہو گئے کیونکہ ہر ایک کو یِہی سُنائی دیتا تھا کہ یہ میری ہی بولی بول رہے ہیں۔
۷- اور سب حَیران اور متعجُّب ہو کر کہنے لگے دیکھو! یہ بولنے والے کیا سب گلِیلی نہیں؟
۸- پِھر کیوں کر ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے وطن کی بولی سُنتا ہے؟
۹- حالانکہ ہم پارتھی اور مادی اور عِیلامی اور مسوپتامِیہ اور یہُودیہ اور کپَّدُکیہ اور پُنطُس اور آسِیہ۔
۱۰- اور فرُوگیہ اور پمفیِلیہ اور مِصرؔ اور لِبوآ کے عِلاقہ کے رہنے والے ہیں جو کرینے کی طرف ہے اور رُومی مُسافِر خَواہ یہُودی خَواہ اُن کے مُرِید اور کریتی اور عَرب ہیں۔ [
۱۱- مگر اپنی اپنی زُبان میں اُن سے خُدا کے بڑے بڑے کاموں کا بیان سُنتے ہیں۔
۱۲- اور سب حَیران ہُوئے اور گھبرا کر ایک دُوسرے سے کہنے لگے کہ یہ کیا ہُؤا چاہتا ہے؟
۱۳ -اور بعض نے ٹھٹّھا کر کے کہا یہ تو تازہ مَے کے نَشہ میں ہیں۔
۱۴- لیکن پطرؔس اُن گیارہ کے ساتھ کھڑا ہُؤا اور اپنی آواز بُلند کر کے لوگوں سے کہا کہ اَے یہُودِیو اور اَے یروشلِیم کے سب رہنے والو! یہ جان لو اور کان لگا کر میری باتیں سُنو۔
۱۵- کہ جَیسا تُم سمجھتے ہو یہ نَشہ میں نہیں کیونکہ اَبھی تو پہر ہی دِن چڑھا ہے۔
۱۶- بلکہ یہ وہ بات ہے جو یُواؔیل نبی کی معرفت کہی گئی ہے کہ
۱۷- خُدا فرماتا ہے کہ آخِری دِنوں میں اَیسا ہو گا کہ مَیں اپنے رُوح میں سے ہر بشر پر ڈالوں گا اور تُمہارے بیٹے اور تُمہاری بیٹِیاں نبُوّت کریں گی اور تُمہارے جوان رویا اور تُمہارے بُڈّھے خواب دیکھیں گے۔
۱۸ بلکہ مَیں اپنے بندوں اور اپنی بندِیوں پر بھی اُن دِنوں میں اپنے رُوح میں سے ڈالُوں گا اور وہ نبُوّت کریں گی۔
۱۹- اور مَیں اُوپر آسمان پر عجِیب کام اور نِیچے زمِین پر نِشانیاں یعنی خُون اور آگ اور دُھوئیں کا بادل دِکھاؤں گا۔
۲۰- سُورج تارِیک اور چاند خُون ہو جائے گا۔ پیشتر اِس سے کہ خُداوند کا عظِیم اور جلِیل دِن آئے۔
۲۱- اور یُوں ہو گا کہ جو کوئی خُداوند کا نام لے گا نجات پائے گا۔
۲۲- اَے اِسرائیِلیو! یہ باتیں سُنو کہ یِسُوعؔ ناصری ایک شخص تھا جِس کا خُدا کی طرف سے ہونا تُم پر اُن مُعجِزوں اور عجِیب کاموں اور نِشانوں سے ثابِت ہُؤا جو خُدا نے اُس کی معرفت تُم میں دِکھائے۔ چُنانچہ تُم آپ ہی جانتے ہو۔
۲۳- جب وہ خُدا کے مُقرّرہ اِنتِظام اور عِلمِ سابِق کے مُوافِق پکڑوایا گیا تو تُم نے بے شرع لوگوں کے ہاتھ سے اُسے مصلُوب کروا کر مار ڈالا۔
۲۴- لیکن خُدا نے مَوت کے بَند کھول کر اُسے جِلایا کیونکہ مُمکِن نہ تھا کہ وہ اُس کے قبضہ میں رہتا۔
۲۵- کیونکہ داؤُد اُس کے حق میں کہتا ہے کہ مَیں خُداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے دیکھتا رہا۔ کیونکہ وہ میری دہنی طرف ہے تاکہ مُجھے جُنبِش نہ ہو۔
۲۶- اِسی سبب سے میرا دِل خُوش ہُؤا اور میری زُبان شاد بلکہ میرا جِسم بھی اُمّید میں بسا رہے گا۔
۲۷- اِس لِئے کہ تُو میری جان کو عالَمِ اَرواح میں نہ چھوڑے گا اور نہ اپنے مُقدّس کے سڑنے کی نَوبت پُہنچنے دے گا۔
۲۸- تُو نے مُجھے زِندگی کی راہیں بتائِیں۔ تُو مُجھے اپنے دِیدار کے باعِث خُوشی سے بھر دے گا۔
۲۹- اَے بھائِیو! مَیں قَوم کے بزُرگ داؤُد کے حق میں تُم سے دِلیری کے ساتھ کہہ سکتا ہُوں کہ وہ مُؤا اور دَفن بھی ہُؤا اور اُس کی قبر آج تک ہم میں مَوجُود ہے۔
۳۰- پس نبی ہو کر اور یہ جان کر کہ خُدا نے مُجھ سے قَسم کھائی ہے کہ تیری نسل سے ایک شخص کو تیرے تخت پر بٹھاؤں گا۔
۳۱- اُس نے پیشِین گوئی کے طَور پر مسِیح کے جی اُٹھنے کا ذِکر کِیا کہ نہ وہ عالَمِ اَرواح میں چھوڑا گیا نہ اُس کے جِسم کے سڑنے کی نَوبت پُہنچی۔
۳۲- اِسی یِسُوعؔ کو خُدا نے جِلایا جِس کے ہم سب گواہ ہیں۔
۳۳- پس خُدا کے دہنے ہاتھ سے سر بُلند ہو کر اور باپ سے وہ رُوحُ القُدس حاصِل کر کے جِس کا وعدہ کِیا گیا تھا اُس نے یہ نازِل کِیا جو تُم دیکھتے اور سُنتے ہو۔
۳۴- کیونکہ داؤُد تو آسمان پر نہیں چڑھا لیکن وہ خُود کہتا ہے کہ خُداوند نے میرے خُداوند سے کہا میری دہنی طرف بَیٹھ۔
۳۵- جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں تَلے کی چَوکی نہ کر دُوں۔
۳۶- پس اِسرائیلؔ کا سارا گھرانا یقِین جان لے کہ خُدا نے اُسی یِسُوعؔ کو جِسے تُم نے مصلُوب کِیا خُداوند بھی کِیا اور مسِیح بھی۔
۳۷- جب اُنہوں نے یہ سُنا تو اُن کے دِلوں پر چوٹ لگی اور پطرؔس اور باقی رسُولوں سے کہا کہ اَے بھائِیو! ہم کیا کریں؟
۳۸- پطرؔس نے اُن سے کہا کہ تَوبہ کرو اور تُم میں سے ہر ایک اپنے گُناہوں کی مُعافی کے لِئے یِسُوعؔ مسِیح کے نام پر بپتِسمہ لے تو تُم رُوحُ القُدس اِنعام میں پاؤ گے۔
۳۹- اِس لِئے کہ یہ وعدہ تُم اور تُمہاری اَولاد اور اُن سب دُور کے لوگوں سے بھی ہے جِن کو خُداوند ہمارا خُدا اپنے پاس بُلائے گا۔
۴۰- اور اُس نے اَور بُہت سی باتیں جتا جتا کر اُنہیں یہ نصِیحت کی کہ اپنے آپ کو اِس ٹیڑھی قَوم سے بچاؤ۔
۴۱- پس جِن لوگوں نے اُس کا کلام قبُول کِیا اُنہوں نے بپتِسمہ لِیا اور اُسی روز تِین ہزار آدمِیوں کے قرِیب اُن میں مِل گئے۔
۴۲- اور یہ رسُولوں سے تعلِیم پانے اور رفاقت رکھنے میں اور روٹی توڑنے اور دُعا کرنے میں مشغُول رہے۔
۴۳- اور ہر شخص پر خَوف چھا گیا اور بُہت سے عجِیب کام اور نِشان رسُولوں کے ذرِیعہ سے ظاہِر ہوتے تھے۔
۴۴- اور جو اِیمان لائے تھے وہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور سب چِیزوں میں شرِیک تھے۔
۴۵- اور اپنا مال و اَسباب بیچ بیچ کر ہر ایک کی ضرُورت کے مُوافِق سب کو بانٹ دِیا کرتے تھے۔
۴۶- اور ہر روز ایک دِل ہو کر ہَیکل میں جمع ہُؤا کرتے اور گھروں میں روٹی توڑ کر خُوشی اور سادہ دِلی سے کھانا کھایا کرتے تھے۔
۴۷- اور خُدا کی حمد کرتے اور سب لوگوں کو عزِیز تھے اور جو نجات پاتے تھے اُن کو خُداوند ہر روز اُن میں مِلا دیتا تھا۔