اعمال ۱

۱۔ یروشلیم کی کلیسیا  (ابواب ۱- ۷)

الف۔ جی اُٹھے خداوند کا روح القدس کے بارے میں وعدہ  ( ۱: ۱- ۵)

 ۱: ۱  اعمال کی کتاب کا آغاز ایک یاد دہانی سے ہوتا ہے۔ پیارے طبیب لوقا نے پہلے بھی «تھیفلس» کے لئے ایک رسالہ لکھا تھا (دیکھئے لوقا ۱: ۱- ۴)۔ اُس تحریر کو ہم «لوقا کی اِنجیل» کے نام سے جانتے ہیں۔ اُس اِنجیل کی آخری آیات میں لوقا نے تھیفلس کو بتایا تھا کہ خداوند یسوع نے آسمان پر جانے سے فوراً پہلے شاگردوں سے وعدہ کیا تھا کہ تمہیں روح القدس کا بپتسمہ دیا جائے گا (لوقا ۲۴: ۴۸- ۵۳)۔

 اب لوقا بیان کو جاری رکھتا ہے۔ چنانچہ اُسی مسرت بخش وعدے کی یاد دلاتا ہے، اور یہ ہے بھی نہایت موزوں بات کیونکہ روح القدس کے اِسی وعدے میں اُن روحانی فتوحات اور کامیابیوں کا بیج چھپا ہوا ہے جن کو اعمال کی کتاب بے نقاب کرتی ہے۔ لوقا اِنجیل کو «پہلا رسالہ» کہتا ہے۔ اُس میں اُس نے اُن باتوں کو درج کیا تھا «جو یسوع شروع میں کرتا اور سکھاتا رہا»۔ اعمال میں وہ اُن باتوں کا بیان کرتا ہے جو یسوع نے صعود کے بعد روح القدس کے وسیلے سے کرنی اور سکھانی جاری رکھیں۔

 غور کریں کہ خداوند کی خدمت دو باتوں یعنی «کرنے» اور «سکھانے» پر مشتمل تھی۔ یہ نہیں کہ عقیدہ ہو اور فرض نہ ہو، یا اصولِ دین ہو اور کردار نہ ہو۔ یسوع اپنی تعلیمات کا جیتا جاگتا نمونہ تھا۔ جس بات کی تعلیم دیتا تھا، اُس پر خود بھی عمل کرتا تھا۔

 ۱: ۲  تھیفلس کو یاد ہو گا کہ لوقا کی پہلی کتاب کا اِختتام نجات دہندہ کے صعود کے بیان پر ہوا تھا۔ یہاں اُس کو «اُوپر اُٹھایا گیا» کہا گیا ہے۔ اُس کو یہ بھی یاد ہو گا کہ خداوند نے جدا ہونے سے پہلے رسولوں کو کیا محبت بھری ہدایات دی تھیں۔

 ۱: ۳  مسیح کے جی اُٹھنے اور صعود فرمانے کے درمیان «چالیس دن» کا وقفہ ہے۔ اِس عرصے کے دوران وہ شاگردوں کو دِکھائی دیتا اور «ثبوتوں» سے ظاہر کرتا رہا کہ مَیں جسمانی طور پر زندہ ہوا ہوں (ملاحظہ کریں یوحنا ۲۰: ۱۹، ۲۶ اور ۲۱: ۱، ۱۴)۔

 اِسی دوران وہ اُن سے «خدا کی بادشاہی» کے معاملات کی باتیں بھی کرتا رہا۔ اُس کو دُنیا کی بادشاہی کی کوئی فکر نہ تھی بلکہ اُس بادشاہی یا مملکت کی فکر تھی جس میں خدا کو بادشاہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

 «بادشاہی» کو کلیسیا سے خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔ خداوند یسوع نے اپنے آپ کو اِسرائیلی قوم کے سامنے بادشاہ کے طور پر پیش کیا۔ مگر اُسے ردّ کر دیا گیا (متی ۲۳: ۳۷)، اِس لئے دُنیا میں لغوی معنوں میں اُس کی سلطنت ملتوی کر دی گئی۔ اب وہ اُس وقت قائم ہو گی جب بنی اِسرائیل توبہ کریں گے اور اُس کو مسیحِ موعود قبول کریں گے۔

 اِس وقت بادشاہ غیر حاضر ہے۔ دُنیا میں اُس کی ایک نادیدنی بادشاہی تو یقینا موجود ہے (کلسیوں ۱: ۱۳)۔ یہ بادشاہی اُن سارے افراد پر مشتمل ہے جو اُس کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں (متی ۲۵: ۱- ۱۲)۔ ایک لحاظ سے اِس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو اپنے آپ کو مسیحی کہتا ہے۔ یہ اِس کا خارجی پہلو ہے (متی ۱۳: ۱- ۵۲)۔ مگر داخلی حقیقت میں صرف وہی شامل ہیں جو نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں (یوحنا ۳: ۳، ۵)۔ «بادشاہی» کی موجودہ حالت اور شکل و شباہت کی وضاحت متی باب ۱۳ کی تمثیلوں میں کی گئی ہے۔

 کلیسیا ایک بالکل نئی چیز ہے۔ یہ پرانے عہدنامے کی پیش گوئیوں کا موضوع نہیں تھی (اِفسیوں ۳: ۵)۔ یہ اُن تمام ایمان داروں سے تشکیل پاتی ہے جنہوں نے پنتکست اور خداوند کے ہوائی اِستقبال (۱۔تھسلنیکیوں ۴: ۱۷) کے درمیانی عرصے میں اُسے قبول کیا ہو گا۔ کلیسیا مسیح کی دلھن ہے اور ہزار سالہ بادشاہی میں وہ اُس کے ساتھ بادشاہی کرے گی، اور ہمیشہ تک اُس کے جلال میں شریک رہے گی۔

 خداوند مسیح ہزار سال تک یروشلیم سے حکمرانی کرے گا۔ اگرچہ اُس کا یہ دیدنی راج صرف ایک ہزار سال کے لئے ہو گا (مکاشفہ ۲۰: ۴) لیکن یہ بادشاہی اِس لحاظ سے ہمیشہ کی بادشاہی ہے کہ خدا کے سارے مخالفین اور دشمن بالآخر ہمیشہ کے لئے نیست ہو جائیں گے۔ اور وہ آسمان میں ہمیشہ کے لئے بادشاہی کرے گا۔ اب اُسے کسی مخالفت یا رُکاوٹ کا سامنا نہیں ہو گا (۲۔پطرس ۱: ۱۱)۔

 ۱: ۴  اب لوقا یسوع اور شاگردوں کی ایک ملاقات کا ذکر کرتا ہے۔ شاگرد یروشلیم میں ایک کمرے میں جمع تھے کہ یہ ملاقات ہوئی۔ جی اُٹھے مسیح نے اُن کو حکم دیا تھا کہ یروشلیم میں ٹھہرے رہنا۔ شاید وہ تعجب کرتے ہوں کہ آخر یروشلیم ہی میں کیوں؟ اُن کے لئے تو یہ شہر ظلم و تشدد، ایذا رسانی اور نفرت کا شہر تھا۔

 ہاں، «باپ کے اُس وعدے» کی تکمیل یروشلیم ہی میں ہونی تھی۔ روح القدس کا نزول اُسی شہر میں ہونا ضرور تھا جس میں نجات دہندہ کو مصلوب کیا گیا تھا۔ وہاں روح القدس کی موجودگی سے گواہی ہو گی کہ ابنِ خدا کو ردّ کیا گیا تھا۔ سچائی کا روح دُنیا کو گناہ اور راست بازی اور عدالت کے بارے میں ملزم ٹھہرائے گا اور یہ بات سب سے پہلے «یروشلیم‘ میں ہو گی۔ اور شاگرد اُسی شہر میں روح القدس پائیں گے جس میں اُنہوں نے خود خداوند کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور اپنی جانیں بچانے کو بھاگ گئے تھے۔ اُن کو اُسی جگہ طاقتور اور بے خوف بنایا جائے گا جہاں اُنہوں نے اپنی کمزوری اور بُزدلی کا مظاہرہ کیا تھا۔

 یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ شاگردوں نے نجات دہندہ کے منہ سے خدا «باپ کے وعدے» کا ذکر سنا تھا۔ اپنی ساری خدمت کے دوران اور بالا خانے میں گفتگو کے وقت خصوصی طور پر وہ اُن کو اُس مددگار کے بارے میں بتاتا رہا تھا جو آنے کو تھا (دیکھئے لوقا ۲۴: ۴۹؛ یوحنا ۱۴: ۱۶، ۲۶؛ ۱۵: ۲۶؛ ۱۶: ۷، ۱۳)۔

 ۱: ۵  اب شاگردوں کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کے دوران یسوع اِس وعدے کو دُہراتا ہے۔ اگر سارے نہیں تو اُن میں سے کچھ یوحنا بپتسمہ دینے والے سے پانی کا بپتسمہ پا چکے تھے۔ مگر یوحنا کا بپتسمہ ظاہری اور جسمانی تھا، لیکن زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ اُن کو روح القدس سے بپتسمہ» دیا جائے گا۔ اور یہ بپتسمہ باطنی اور روحانی ہو گا۔ پہلے بپتسمے نے اُن کو ظاہری طور پر اسرائیلی قوم کے اُس حصے میں شامل کر دیا تھا جس نے توبہ کی تھی۔ دوسرا بپتسمہ اُن کو مسیح کے بدن یعنی کلیسیا میں ملا دے گا اور اُن کو خدمت کے لئے قوت اور اِختیار دے گا۔

 یسوع نے وعدہ کیا تھا کہ تم «تھوڑے دنوں کے بعد روح القدس سے بپتسمہ پائو گے» مگر آگ سے بپتسمہ (متی ۳: ۱۱، ۱۲؛ لوقا ۳: ۱۶، ۱۷) کا ذکر نہیں۔ آگ کا بپتسمہ عدالت (غضب) کا بپتسمہ ہے جو بے ایمانوں کے لئے ہے اور مستقبل میں ہو گا۔

 ب۔ آسمان پر جاتے ہوئے خداوند کا شاگردوں کو فرمان  (۱: ۶- ۱۱)

 ۱: ۶  یہاں مرقوم واقعہ غالباً بیت عنیاہ کے بالمقابل کوہِ زیتون پر واقع ہوا تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے خداوند یسوع واپس آسمان پر چلا گیا تھا (لوقا ۲۴: ۵۰، ۵۱)۔

 شاگرد روح القدس کے نزول کے بارے میں سوچا کرتے تھے۔ اُن کو یاد تھا کہ مسیحِ موعود کے جلالی دَورِ حکومت کے سلسلے میں یوایل نبی نے روح القدس کے نازل ہونے کا ذکر کیا تھا (یوایل ۲: ۲۸)۔ اِس لئے وہ نتیجہ اخذ کرتے تھے کہ خداوند بہت جلد اپنی بادشاہی قائم کرنے کو ہے کیونکہ اُس نے پہلے کہا تھا کہ «تھوڑے دنوں کے بعد …» اُن کے سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک یہی توقع کر رہے تھے کہ وہ لفظی معنوں میں فوراً دُنیاوی بادشاہی قائم کرے گا۔

 ۱: ۷  وہ لغوی معنوں میں بادشاہی کی آس لگائے بیٹھے تھے، لیکن خداوند نے اِس معاملے میں اُن کی تصحیح نہیں کی۔ ایسی اُمید اُس وقت بھی درست تھی اور آج بھی درست ہے۔ اُس نے اُن کو بتا دیا تھا کہ تم جان نہیں سکتے کہ میری بادشاہی کب آئے گی۔ تاریخ کا تعین باپ نے اپنے «اِختیارِ» کلی کے مطابق کیا ہوا ہے، لیکن اُس نے بتانا مناسب نہیں سمجھا۔ یہ خبر صرف باپ کو ہے۔

 «وقتوں اور میعادوں» کی اِصطلاح بائبل مقدس میں کئی واقعات کے تعلق سے استعمال ہوئی ہے۔ خدا نے اِن واقعات کے بارے میں بتا رکھا ہے کہ یہ اِسرائیلی قوم کے تعلق سے وقوع پذیر ہوں گے۔ چونکہ شاگرد یہودی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے اِس لئے وہ سمجھ سکتے تھے کہ یہاں اِس اصطلاح کا تعلق آخری ایام سے ہے، جب دُنیا میں مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی قائم ہو گی۔

 ۱: ۸  خداوند نے اُن کے تجسس کو دبا دیا اور اُن کی توجہ فوری اہمیت کی باتوں کی طرف مبذول کرائی، مثلاً اُن کی خدمت کی نوعیت اور اُس کا حلقہ۔ نوعیت یہ ہے کہ وہ گواہ ہوں گے اور حلقہ ہے «یروشلیم اور تمام یہودیہ اور سامریہ … بلکہ زمین کی اِنتہا تک»۔

 لیکن ضرور ہے کہ پہلے وہ قوت __ روح القدس کی قوت پائیں۔ مسیحی گواہی کے لئے یہ «قوت» ناگزیر ہے۔ ہو سکتا ہے کسی اِنسان میں اعلیٰ ترین صلاحیت ہو، عمدہ تربیت یافتہ ہو اور وسیع تجربہ رکھتا ہو، لیکن روح کی «قوت» کے بغیر بے اثر رہے گا۔ دوسری طرف ہو سکتا ہے کوئی آدمی اَن پڑھ ہو، اُس میں کوئی کشش نہ ہو، تربیت یافتہ بھی نہ ہو، مگر اُسے روح القدس کی «قوت» حاصل ہو تو دُنیا دیکھنے کو ٹُوٹ پڑے گی کہ وہ خدا کے لئے کیسا جوش و جذبہ رکھتا ہے۔ خوف زدہ شاگردوں کو گواہی دینے کے لئے اِسی «قوت» اور اِنجیل کی منادی کرنے کے لئے پاکیزہ جرأت کی ضرورت تھی۔

 اُن کی گواہی کا آغاز «یروشلیم» سے ہونا تھا۔ خدا کے فضل نے یہ بامعنی اِنتظام کر رکھا تھا۔ جس شہر نے ہمارے خداوند کو مصلوب کیا تھا، ضرور تھا کہ پہلے اُسی کو توبہ کرنے اور ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔

 اِس کے بعد یہودیہ کی باری تھی۔ فلسطین کے اِس جنوبی علاقے میں یہودیوں کی زبردست آبادی تھی اور یروشلیم اِس کا سب سے بڑا شہر تھا۔

 اور پھر سامریہ کی باری تھی۔ فلسطین کے اِس وسطی حصے میں دو نسلے یہودی بستے تھے۔ خالص الاصل یہودی اِن سے نفرت کرتے اور کسی قسم کا میل جول نہیں رکھتے تھے۔

 سامریہ کے بعد «زمین کی اِنتہا»__ یعنی اُس وقت کی معلومہ دُنیا کی باری تھی ـ__ یعنی غیر یہودی ممالک۔ جہاں تک مذہبی مراعات کا تعلق ہے یہ قومیں اور علاقے اِس سے محروم تھے۔ گواہی کا یہ حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جاتا ہے اور اعمال کی کتاب میں مرقوم تاریخ میں ہمیں اِس کا خاکہ نظر آتا ہے۔

  1.  «یروشلیم» میں گواہی (ابواب ۱- ۷)
  2.  «یہودیہ اور سامریہ» میں گواہی (ابواب ۸: ۱- ۹: ۳۱)
  3.  «زمین کی اِنتہا» تک گواہی (ابواب ۹: ۳۲- ۲۸: ۳۱)

 ۱: ۹  نجات دہندہ اپنے شاگردوں کو گواہی کی خدمت پر مقرر کر چکا تو وہ آسمان پر «اُٹھا لیا گیا»۔ پاک کلام میں اِتنا ہی لکھا ہے کہ «وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے اُوپر اُٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چھپا لیا۔» اِتنا بڑا اور شاندار منظر! لیکن اِس کا بیان اِتنا مختصر اور سادہ ! بائبل مقدس کے مصنفین واقعات کو قلم بند کرنے میں جس ضبط سے کام لیتے ہیں، اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ الہام سے ہوا۔ ورنہ اِنسان ایسے واقعات کو ایسی سادگی سے بیان کرنے کا عادی نہیں۔

 ۱: ۱۰  لوقا پھر کسی حیرانی یا تعجب کا اِظہار کئے بغیر بیان کرتا ہے کہ «دو مرد سفید پوشاک پہنے اُن کے پاس آ کھڑے ہوئے»۔ یہ فرشتے تھے جن کو اہلیت دی گئی تھی کہ زمین پر «اِنسانی صورت میں» ظاہر ہوں۔ شاید یہ وہی فرشتے تھے جو مسیح کے جی اُٹھنے کے بعد قبر پر ظاہر ہوئے تھے (لوقا ۲۴: ۴)۔

 ۱: ۱۱  فرشتوں نے شاگردوں کو «اے گلیلی مردو» کہہ کر مخاطب کیا۔ جہاں تک ہمیں علم ہے سوائے یہوداہ اِسکریوتی کے تمام شاگرد گلیل کی جھیل کے مغربی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔

 اور جب وہ آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے تو فرشتوں نے اُن کو گہری سوچ سے جگایا۔ تم آسمان کی طرف اِتنے غور سے کیوں دیکھ رہے ہو؟ کیا وہ غم میں ڈوبے ہوئے تھے؟ یا پرستش کے جذبات سے مغلوب تھے؟ یا حیرانی اور تعجب سے سکتے میں آ گئے تھے؟ بلاشبہ تینوں قسم کے جذبات یکجا تھے، لیکن شاید رنج و غم غالب تھا۔ اِس لئے اُن کو تسلی دی گئی کہ مسیح جو آسمان پر گیا، دوبارہ آئے گا۔

 یہاں خداوند کی آمدثانی اور زمین پر بادشاہی کرنے کا وعدہ بالکل واضح ہے۔ یہاں فضائی استقبال کی طرف اِشارہ نہیں بلکہ بادشاہی قائم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

 

۱۔ وہ کوہِ زیتون سے آسمان پر گیا (آیت ۱۲) ۱۔ وہ کوہِ زیتون پر واپس آئے گا (زکریاہ ۱۴: ۴)
۲۔ اُس نے شخصی طور پر صعود فرمایا ۲۔ وہ شخصی طور پر واپس آئے گا (ملاکی ۳: ۱)
۳۔ وہ دیدنی طور پر آسمان پر گیا ۳۔ وہ دیدنی طور پر واپس آئے گا (متی ۲۴: ۳۰)
۴۔ بادل نے اُسے چھپا لیا (آیت ۹) ۴۔ وہ آسمان کے بادلوں پر آئے گا (متی ۲۴: ۳۰)
۵۔ اُس نے جلال کے ساتھ صعود فرمایا ۵۔ وہ بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آئے گا۔(متی ۲۴: ۳۰)

 ج۔ شاگرد یروشلیم میں دعا کے ساتھ اِنتظار کرتے ہیں  (۱: ۱۲- ۲۶)

 ۱: ۱۲  لوقا ۲۴: ۵۲ کے مطابق شاگرد «بڑی خوشی سے یروشلیم کو لوٹ گئے»۔ خدا کی محبت کی روشنی نے اِن آدمیوں کے دلوں کو روشن کر دیا۔ اور مصیبتوں کے سمندر میں گھرے ہونے کے باوجود اُن کے چہرے چمکنے لگے۔

 وہ پہاڑ جو زیتون کا کہلاتا تھا شہر سے زیادہ دُور نہیں تھا۔ ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلہ تھا۔ پہلے قدرون کی وادی میں اُترتے اور پھر اُوپر چڑھ کر شہر میں آ جاتے تھے۔ پرانے عہدنامے کے زمانے میں ایک یہودی «سبت» کے دن زیادہ سے زیادہ اِتنا ہی سفر کر سکتا تھا۔

 ۱: ۱۳  شہر میں داخل ہو کر وہ اُس بالاخانہ میں چلے گئے جہاں اُن کا خیال تھا۔ یہاں خدا کا روح چوتھی اور آخری مرتبہ شاگردوں کے نام درج کرتا ہے (متی ۱۰: ۲- ۴؛ مرقس ۳: ۱۶- ۱۹؛ لوقا ۶: ۱۴- ۱۶)۔ لیکن ایک نام __ یہوداہ اِسکریوتی __ نمایاں طور پر فہرست سے خارج ہے۔ وہ دھوکے باز اپنے مناسب انجام کو پہنچ چکا تھا۔

 ۱: ۱۴  یہ شاگرد ایک دل ہو کر جمع ہوتے تھے۔ یہ اِصطلاح اعمال کی کتاب میں گیارہ دفعہ استعمال ہوئی ہے۔ یہ وہ کنجی ہے جو برکت کے بھید کو کھولتی ہے۔ جہاں بھی بھائی ایک دل ہوتے ہیں، خدا برکت یعنی ہمیشہ کی زندگی کا حکم دیتا ہے (زبور ۱۳۳)۔

 ایک اَور کنجی کا ذکر اِن الفاظ میں کیا گیا ہے کہ «دعا میں مشغول رہے»۔ اُن دنوں کی طرح آج بھی جب لوگ دعا مانگتے ہیں تو خدا کام کرتا ہے۔ لیکن خدا کا تازہ کرنے والا، طاقت اور قوت دینے والا روح صرف اُسی وقت نازل ہوتا ہے جب ہم ایمان اور دل سوزی اور التجائوں کے ساتھ خدا کے حضور میں ٹھہرتے ہیں۔

 اِس حقیقت پر جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے کہ یک دلی اور دعا ہی پنتکست کی تیاری تھی۔

 شاگردوں کے «ساتھ چند عورتیں» بھی جمع تھیں۔ اُن کے نام نہیں دیئے گئے۔ شاید یہ وہی عورتیں تھیں جو یسوع کے ساتھ ساتھ رہتی تھیں۔ اُن کے علاوہ «یسوع کی ماں مریم اور اُس کے بھائی « بھی وہاں موجود تھے۔ یہاں کئی دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں۔

  1.  یہ آخری موقع ہے کہ نئے عہدنامے میں مقدسہ مریم کا بنام ذکر آیا ہے۔ یقینا یہ مریم پرستی کے خلاف خاموش اِحتجاج ہے۔ شاگرد اُس سے نہیں بلکہ اُس کے ساتھ دعا مانگ رہے تھے۔ وہ بھی اُن کے ساتھ روح القدس کا انعام پانے کا اِنتظار کر رہی تھی۔
  2.  مریم کو «یسوع کی ماں» کہا گیا ہے، «خدا کی ماں» نہیں کہا گیا۔ ہمارے خداوند کا بشریت کا نام یسوع ہے۔ چونکہ بطور بشر وہ «مریم» سے پیدا ہوا اِس لئے مناسب اور بجا ہے کہ اُسے «یسوع کی ماں» کہا جائے۔ مگر بائبل مقدس میں اُسے کبھی بھی «خدا کی ماں» نہیں کہا گیا۔ بے شک یسوع حقیقی خدا ہے، لیکن عقیدے کے لحاظ سے یہ کہنا غلط اور مضحکہ خیز بات ہے کہ خدا اِنسانی ماں رکھتا ہے۔ بحیثیت خدا یسوع ازل سے موجود ہے۔
  3.  مریم کا ذکر کرنے کے بعد «یسوع کے بھائیوں» کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ اغلباً مریم کے حقیقی بیٹے اور یسوع کے سوتیلے بھائی تھے۔ زیرِ نظر آیت کے علاوہ بھی چند حوالہ جات ہیں جو اِس نظریے کی تردید کرتے ہیں کہ مریم دائمی کنواری ہے اور کہ یسوع کی پیدائش کے بعد اُس سے اَور کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا تھا (مثلاً دیکھئے متی ۱۲: ۴۶؛ مرقس ۶: ۳؛ یوحنا ۷: ۳، ۵؛ ۱۔کرنتھیوں ۹: ۵؛ گلتیوں ۱: ۱۹ اور زبور ۶۹: ۸)۔

 ۱: ۱۵  ایک دن جب «تخمیناً ایک سو بیس» شاگرد جمع تھے پطرس کو تحریک ہوئی کہ اُنہیں پرانے عہدنامے کی وہ باتیں یاد دلائے جن کا تعلق اُس شخص سے ہے جو مسیحِ موعود کو پکڑوانے والا ٹھہرا۔

 ۱: ۱۶، ۱۷  آغاز ہی میں پطرس واضح کرتا ہے کہ دائود نے «یہوداہ کے حق میں» جو پیش گوئی کی تھی اُس کا «پورا ہونا ضرور» ہے۔ لیکن پاک کلام کا اِقتباس کرنے سے پہلے وہ یاد دلاتا ہے کہ اگرچہ یہوداہ بارہ شاگردوں کے ساتھ شمار کیا گیا اور اُس نے رسولی خدمت میں سے حصہ پایا تو بھی وہ خداوند مسیح کو «پکڑنے والوں کا راہنما» بن گیا۔ غور کریں کہ اُس نامراد کام کا بیان کرتے ہوئے پطرس کیسے اعتدال سے کام لیتا ہے۔ یہوداہ دانستہ عمل سے غدار بن گیا، اور یوں اُس نے وہ پیش گوئیاں پوری کیں جو کہتی ہیں کہ ایک شخص خداوند کو دشمنوں کے ہاتھ بیچ ڈالے گا۔

 ۱: ۱۸، ۱۹  یہ دو آیات پطرس کے پیغام کا حصہ نہیں بلکہ لوقا کی طرف سے جملۂ معترضہ ہیں۔ یہ آیات یہوداہ کی موت تک کے تواریخی واقعات کے بیان کی تکمیل ہیں اور اُس کے جانشین کے تقرر کا راستہ تیار کرتی ہیں۔

 متی ۲۷: ۳- ۱۰  میں بھی بتایا گیا ہے کہ یہوداہ کیسی موت مرا۔ اُس بیان اور موجودہ بیان میں کوئی تضاد نہیں۔ متی بیان کرتا ہے کہ چاندی کے تیس سکے بزرگوں اور سردار کاہنوں کو واپس دینے کے بعد یہوداہ چلا گیا اور اُس نے اپنے آپ کو پھانسی دی۔ سردار کاہنوں نے اُن سکوں سے قبرستان کے لئے جگہ خریدی۔

 یہاں اعمال میں لوقا کہتا ہے کہ یہوداہ نے ساُن پیسوں سے «ایک کھیت حاصل کیا اور (وہ) سر کے بل گرا اور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی سب انتڑیاں نکل پڑیں»۔

 دونوں بیانوں کو یکجا کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھیت خریدنے کا سودا سردار کاہنوں نے کیا۔ اور یہوداہ نے اِس مفہوم میں کھیت خریدا کہ رقم اُس کی تھی اور وہ صرف اُس کے ایجنٹ تھے۔ اُس نے قبرستان میں ایک کھیت پر اپنے آپ کو پھانسی دی۔ غالباً رسا ٹوٹ گیا، اُس کا بدن نیچے آ پڑا اور «پیٹ پھٹ گیا»۔

 جب یہ واقعہ یروشلیم میں مشہور ہوا تو اُس کھیت کا نام ارامی زبان میں «ہقل دما» یعنی «خون کا کھیت» پڑ گیا۔

 ۱: ۲۰  لوقا کے وضاحتی بیان کے بعد پطرس کا پیغام جاری رہتا ہے۔ پہلے وہ بیان کرتا ہے کہ زبور ۶۹: ۲۵ میں دائود یسوع کو دھوکے سے پکڑوانے والے کا ذکر کرتا ہے کہ «اُس کا گھر اُجڑ جائے اور اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہے۔»

 بعد ازاں وہ اُس پیش گوئی کا ذکر کرتا ہے جس کو اِس وقت پورا ہونا تھا کہ «اُس کا عہدہ دوسرا لے لے» (زبور ۱۰۹: ۸)۔ پطرس سمجھتا تھا کہ یہوداہ کی برگشتگی کے بعد اُس کے «عہدہ» کو سنبھالنے کے لئے کسی دوسرے شخص کو مقرر کرنا ضروری ہے۔ کتنی اچھی بات ہے کہ پطرس نے خدا کے کلام کی تعمیل کرنے کا سوچا۔

 ۱: ۲۱، ۲۲  جو بھی چنا جاتا اُس کے لئے دو شرائط پر پورا اُترنا ضروری تھا۔

  1.  وہ مسیح کی تین سالہ زمینی خدمت، یعنی «یوحنا» سے «بپتسمہ» لینے سے صعود تک شاگردوں کے ساتھ رہا ہو۔
  2.  اور خداوند کے جی اُٹھنے کا معتبر گواہ ثابت ہو۔

 ۱: ۲۳- ۲۶  دو آدمیوں کے نام پیش ہوئے جو اِن شرائط کو پورا کرتے تھے۔ «ایک یوسف … جس کا لقب یوستُس ہے۔ دوسرا متیاہ۔» لیکن کس کو چنا جائے؟ رسولوں نے معاملہ خداوند کے ہاتھ میں دے دیا اور درخواست کی کہ وہی ظاہر کرے کہ کس کو چنا جائے۔ جب اُنہوں نے قرعہ ڈالا تو ظاہر ہوا کہ «متیاہ» یہوداہ کا صحیح جانشین ہے۔ یہوداہ تو «اپنی جگہ» یعنی اَبدی ہلاکت کو پہنچ چکا تھا۔

 یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں:

  1.  کیا متیاہ کا نام پیش کرنا مناسب تھا؟ کیا شاگردوں کو اِنتظار نہیں کرنا چاہئے تھا حتیٰ کہ خدا پولس رسول کو برپا کرتا کہ وہ اِس عہدے پر فائز ہوتا؟
  2.  کیا خدا کا اِرادہ معلوم کرنے کے لئے قرعہ ڈالنا مناسب تھا؟

 جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے، کہیں بھی درج نہیں کہ شاگردوں کا یہ فعل غلط تھا۔ اُنہوں نے کافی دیر دعا میں گزاری۔ وہ پاک کلام کی تعمیل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور یہوداہ کا جانشین منتخب کرنے پر سب متفق تھے۔ علاوہ ازیں پولس کی خدمت اُن بارہ کی خدمت سے بالکل الگ اور فرق نوعیت کی تھی اور کہیں کوئی اِشارہ تک موجود نہیں کہ اُسے یہوداہ کی جگہ لینے کو برپا کیا گیا تھا۔ اِن بارہ کو یسوع نے اپنی زمینی زندگی کے دوران مقرر کیا تھا کہ بنی اِسرائیل کو خوش خبری سنائیں جب کہ پولس کو اُس نے اپنے جلال میں داخل ہونے کے بعد مقرر کیا اور غیر قوموں کے پاس بھیجا تھا۔

 جہاں تک قرعہ ڈالنے کا تعلق ہے، الٰہی مرضی معلوم کرنے کا یہ پرانے عہدنامے میں مسلمہ طریقہ تھا۔ «قرعہ گود میں ڈالا جاتا ہے پر اُس کا سارا اِنتظام خداوند (یہوواہ) کی طرف سے ہے» (اَمثال ۱۶: ۳۳)۔

 ظاہر ہوتا ہے کہ خداوند نے منظور کیا کہ قرعہ کے ذریعے متیاہ کا اِنتخاب ہو کیونکہ اِس کے بعد شاگردوں کو «اُن بارہ» کہا گیا ہے (اعمال ۶: ۲)۔

 

اعمال کی کتاب میں دعا

 اعمال کی کتاب کامیاب دعا کی تشریح ہے۔ ہم پہلے باب میں دیکھ چکے ہیں کہ شاگردوں نے دو مختلف موقعوں پر دعا مانگی۔ مسیح کے صعود کے بعد وہ بالا خانے میں دعا مانگتے تھے۔ اِس دعا کا جواب پنتکست کی صورت میں ملا۔ اُنہوں نے یہوداہ کا جانشین چننے کے لئے ہدایت اور راہنمائی کے لئے دعا مانگی۔ اِس کا جواب متیاہ کے نام قرعہ نکلنے کی صورت میں ملا۔ اِس پوری کتاب میں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جو لوگ پنتکست کے دن ایمان لائے تھے وہ «دعا میں مشغول رہے» (۲: ۴۲)۔ اِس کے بعد کی آیات (۴۳- ۴۷) اُس مثالی صورتِ حال کا بیان کرتی ہیں جو دعائیہ رفاقت سے حاصل ہوتی اور قائم رہتی ہے۔

 پطرس اور یوحنا کی رہائی کے بعد ایمان دار دلیری (۴: ۲۹) کے لئے دعا مانگتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں وہ مکان ہل گیا اور وہ روح القدس سے بھر گئے اور «خدا کا کلام دلیری سے سناتے رہے» (۴: ۳۱)۔

 اِن بارہ نے مشورہ دیا کہ معاشی اور مالی معاملات کی دیکھ بھال کے لئے سات افراد چن لئے جائیں تاکہ وہ خود اپنا وقت کلام کی خدمت اور دعا مانگنے کے لئے وقف کر سکیں (۶: ۳، ۴)۔ اِس کے بعد رسولوں نے دعا کے ساتھ اُن سات افراد پر ہاتھ رکھے (۶: ۶)۔ اگلی آیات میں درج ہے کہ اِنجیل کو کیسی شاندار نئی کامیابیاں حاصل ہوئیں (۶: ۷، ۸)۔

 ستفنس نے شہید ہوتے ہوئے دعا مانگی (۷: ۶۰) تو باب ۹ میں اِس دعا کا جواب درج ہے کہ اُس کی شہادت کا ایک تماشائی یعنی سائول ترسی ایمان لایا۔

 پطرس اور یوحنا نے ایمان لانے والے سامریوں کے لئے دعا مانگی، اور نتیجے میں اُن کو روح القدس حاصل ہوا (۸: ۱۵- ۱۷)۔

 اپنی تبدیلی کے بعد سائول ترسی نے یہوداہ کے گھر میں دعا مانگی۔ خدا نے اُس کی دعا کا جواب دیا اور حننیاہ کو اُس کے پاس بھیجا (۹: ۱۱- ۱۷)۔

 یافا میںپطرس نے دعا مانگی تو تبیتا مردوں میں سے جی اُٹھی (۹: ۴۰)۔ اِس کے نتیجے میں بہت سے لوگ خداوند پر ایمان لائے (۹: ۴۲)۔

 غیر قوم صوبے دار کرنیلیس نے دعا مانگی (۱۰: ۲)۔ اُس کی دعائیں «یادگاری» کے لئے خدا کے حضور پہنچیں (۱۰: ۴)۔ ایک فرشتے نے رُؤیا میں اُس پر ظاہر ہو کر اُسے ہدایت کی کہ آدمی بھیج کر شمعون پطرس نام شخص کو بلا لے (۱۰: ۵)۔ اگلے روز پطرس نے دعا مانگی (۱۰: ۹)۔ جواب میں اُسے آسمانی رُؤیا ملا جس نے اُسے تیار کیا کہ کرنیلیس اور دوسرے غیر قوم لوگوں پر بادشاہی کے دروازے کھول دے (۱۰: ۱۰- ۴۸)۔

 جب پطرس کو قید خانے میں ڈال دیا گیا تو مسیحی دل سوزی سے اُس کے لئے دعا مانگنے لگے (۱۲: ۵)۔ جواب میں خدا نے پطرس کو معجزانہ رہائی بخشی۔ اور دعا مانگنے والے بھی حیران رہ گئے (۱۲: ۶- ۱۷)۔

 انطاکیہ میں نبیوں اور معلموں نے روزے رکھ کر دعائیں مانگیں (۱۳: ۳)۔ اِس کے نتیجے میں پولس اور برنباس کا پہلا تبلیغی دَورہ شروع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ «یہ دعا کے ذریعے سے سب سے زبردست تبلیغی کام تھا کیونکہ خوش خبری زمین کی اِنتہا تک جا پہنچی۔ اور پولس اور برنباس جو مشنری تھے اُن کے وسیلے سے ہم تک بھی پہنچی۔»

 واپسی دَورے پر لسترہ، اکنیم اور انطاکیہ میں پولس اور برنباس نے ایمان لانے والوں کے لئے دعا مانگی (۱۴: ۲۳)۔ اُن میں سے ایک شخص تیمتھیس تھا۔ کیا اِنہی دعائوں کا نتیجہ تھا کہ دوسرے تبلیغی دَورے کے وقت تیمتھیس بھی پولس اور سیلاس کے ہمراہ تھا؟

 فلپی کے قیدخانے میں پولس اور سیلاس آدھی رات کو دعا مانگ رہے تھے۔ جواب میں زلزلہ آیا اور جیل کا داروغہ اور اُس کا خاندان خداوند پر ایمان لایا (۱۶: ۲۵- ۳۴)۔

 میلیتُس میں پولس نے اِفسس کے بزرگوں کے ساتھ مل کر دعا مانگی (۲۰: ۳۶) تو اُنہوں نے بھرپور جذبات کے ساتھ پولس کے لئے اپنی محبت اور اُلفت کا مظاہرہ کیا۔ اور اِس بات پر رنجیدہ اور غمگین ہوئے کہ اِس زندگی میں اُسے دوبارہ نہیں دیکھیں گے۔

 صور کے مسیحیوں نے ساحلِ سمندر پر پولس کے ساتھ دعا مانگی (۲۱: ۵)۔ یقینا یہ دعائیں روم اور جلاد کے تختے تک اُس کے ساتھ گئیں۔

 جہاز کی غرقابی سے پہلے پولس نے سب کے سامنے علانیہ دعا مانگی اور کھانے کے لئے خدا کا شکر ادا کیا۔ اِس سے نااُمید ملاحوں اور مسافروں میں خوشی اور حوصلے کی لہر دوڑ گئی (۲۷: ۳۵، ۳۶)۔

 مِلِتے کے جزیرے پر پولس نے وہاں کے حاکم کے باپ کے لئے دعا مانگی تو اُسے شفا ملی (۲۸: ۸)۔

 چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی کلیسیا دعا کی فضا میں سانس لیتی تھی۔ اور جب مسیحی دعا مانگتے تھے تو خدا عجیب و غریب کام کرتا تھا۔

 د۔ پنتکست کا دن اور کلیسیا کا آغاز  (۲: ۱- ۴۷)

۲: ۱ «عید پنتکست» روح القدس کے اُنڈیلے جانے کی تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ عید پہلے پھلوں کی عید کے پچاس دن بعد منائی جاتی تھی اور پہلے پھلوں کی عید مسیح کے جی اُٹھنے کی یاد دلاتی ہے۔ اِس خاص عید ِپنتکست کے دن شاگرد یک دل ہو کر «ایک جگہ جمع تھے»۔ اُن کی گفتگو کا خاص اور موزوں موضوع پرانے عہدنامے کے وہ حوالے ہوں گے جن میں عید ِپنتکست کا ذکر آتا ہے (مثلاً احبار ۲۳: ۱۵، ۱۶)۔ ممکن ہے وہ زبور ۱۳۳ گا رہے ہوں کہ

 «دیکھو! کیسی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی باہم مل کر رہیں»۔

۲: ۲ روح القدس کے نزول کے وقت کچھ سنائی دیا، کچھ دیکھا گیا اور ایک معجزے کا تجربہ ہوا۔ یہ آسمان سے آنے والی آواز تھی جس کا سناٹا ایسا زور دار تھا کہ «سارا گھر …گونج گیا»۔ ہوا روح القدس کی سیال مثیلوں (تیل، آگ، پانی) میں سے ایک ہے جو اُس کے اِختیارِ اعلیٰ کی تصویر پیش کرتی ہے کہ اُس کے عمل و حرکت کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔

۲: ۳ قابلِ دید منظر یہ تھا کہ «آگ کے شعلہ کی سی پھٹتی ہوئی زبانیں» تھیں جو شاگردوں میں سے «ہر ایک پر آ ٹھہریں»۔ غور کریں کہ یہ نہیں کہا گیا کہ «آگ کی زبانیں» بلکہ «آگ جیسی زبانیں» تھیں۔

اِس عجیب عمل کو آگ کے بپتسمہ کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔ اگرچہ روح القدس اور آگ کے بپتسمہ کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے (متی ۳: ۱۱، ۱۲؛ لوقا ۳: ۱۶، ۱۷) لیکن یہ دونوں الگ الگ اور اِمتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ روح القدس کا بپتسمہ برکت کا اور آگ کا بپتسمہ عدالت یا غضب کا بپتسمہ ہے۔ اوّل الذکر ایمان داروں کو متاثر کرتا ہے جب کہ موخرالذکر بے ایمانوں کو متاثر کرے گا۔ اوّل الذکر کے وسیلے سے ایمان داروں کو قوت ملتی اور وہ اُن کے اندر سکونت کرتا ہے۔ اور اِسی کے وسیلے سے کلیسیا کی تشکیل ہوئی۔ موخرالذکر کے وسیلے سے بے ایمانوں کو ہلاک کیا جائے گا۔

جب یوحنا بپتسمہ دینے والا ایک ملی جلی جماعت (تائب اور غیر تائب۔ دیکھئے متی ۳: ۶، ۷) سے مخاطب تھا تو اُس نے کہا کہ مسیح روح القدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا (متی ۳: ۱۱)۔ لیکن جب وہ حقیقی تائب لوگوں سے مخاطب تھا تو اُس نے کہا کہ وہ تم کو روح القدس سے بپتسمہ دے گا (مرقس ۱: ۸)۔

چنانچہ اعمال ۲: ۳  میں «آگ کے شعلہ کی سی پھٹتی ہوئی زبانیں» کا کیا مطلب ہے؟ زبانیں تو بلاشبہ بولنے کا اِشارہ ہیں اور غالباً غیر زبانوں میں بولنے کی معجزانہ نعمت کی تصویر ہیں جو اِس موقع پر شاگردوں کو حاصل ہوئی۔ اور آگ روح القدس کا اِشارہ ہے جو اِس نعمت کا سرچشمہ ہے اور شاید اِس حقیقت کی وضاحت کرتی ہے کہ بعد میں وہ دلیری، جوش اور آتشین ولولے کے ساتھ منادی کریں گے۔

جوش اور ولولے سے بولنے کا خیال بہت موزوں معلوم ہوتا ہے، کیونکہ جوش اور سرگرمی روح سے معمور زندگی کی معمول کی حالت ہوتی ہے جس کا لازمی نتیجہ گواہی ہوتا ہے۔

۲: ۴ اور پنتکست کے موقعے پر معجزے کا تجربہ یہ ہے کہ وہ «روح القدس سے بھر گئے اور غیر زبانیں بولنے لگے»۔

اُس وقت تک خدا کا روح شاگردوں کے ساتھ تھا، مگر اب اُس نے اُن کے اندر سکونت اِختیار کر لی (یوحنا ۱۴: ۱۷)۔

پنتکست کے دن روح القدس نہ صرف شاگردوں کے اندر سکونت کرنے لگا بلکہ وہ اُس سے معمور ہو گئے۔ جس لمحے ہم نجات پاتے ہیں اُسی لمحے سے خدا کا روح ہمارے اندر سکونت کرنے لگتا ہے۔ لیکن روح القدس کی معموری حاصل کرنے کے لئے ضرور ہے کہ ہم کلام کا مطالعہ کریں، گیان دھیان اور دعا میں وقت گزاریں اور خداوند کی فرماں برداری میں زندگی بسر کریں۔ اگر یہ ضمانت ہوتی کہ آج روح القدس کی معموری خود بخود حاصل ہو جائے گی تو یہ نصیحت نہ کی جاتی کہ «روح سے معمور ہوتے جائو» (اِفسیوں ۵: ۱۸)۔

پنتکست کے دن روح القدس کے نزول سے ایمان دار ایک کلیسیا یعنی مسیح کا بدن بن گئے۔ «کیونکہ ہم سب نے، خواہ یہودی ہوں خواہ یونانی، خواہ غلام خواہ آزاد، ایک ہی روح کے وسیلہ سے ایک بدن ہونے کے لئے بپتسمہ لیا» (۱۔کرنتھیوں ۱۲: ۱۳)۔ اب سے ایمان لانے والے یہودی اور غیر قوم سب مسیح یسوع میں ایک نیا اِنسان اور ایک ہی بدن کے اعضا ہوں گے (اِفسیوں ۲: ۱۱- ۲۲)۔

سارے شاگرد «روح القدس سے بھر گئے اور غیر زبانیں بولنے لگے جس طرح روح نے اُنہیں بولنے کی طاقت بخشی»۔ اگلی آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اُن کو وہ غیر زبانیں بولنے کی معجزانہ طاقت بخشی گئی جو اُنہوں نے کبھی سیکھی نہیں تھیں۔ وہ کوئی بے معنی زبانیں نہیں بول رہے تھے، نہ بے خود ہو کر آوازیں نکال رہے تھے بلکہ وہ زبانیں بول رہے تھے جو اُس زمانے میں دُنیا کے مختلف حصوں میں واقعی بولی جاتی تھیں۔ «غیر زبانوں» کی یہ نعمت اُن عجیب نشانوں میں سے ایک تھی جس کو خدا گواہی کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ جب رسول منادی کرتے تھے تو اکثر اِسی نشان کے وسیلے سے خدا اُن کے پیغام کی سچائی کی گواہی دیتا تھا (عبرانیوں ۲: ۳، ۴)۔ اُس وقت نیا عہدنامہ ابھی تحریر نہیں ہوا تھا۔ چونکہ خدا کا مکمل کلام اب تحریری شکل میں موجود ہے اِس لئے اِن نشانوں اور نعمتوں کی ضرورت بڑی حد تک ختم ہو گئی ہے (تاہم خدا کا روح اگر چاہے تو اب بھی استعمال کر سکتا ہے)۔

پنتکست کے دن غیر زبانیں بولنے کی طاقت بخشی گئی۔ لیکن اِس واقعے کو یہ بات ثابت کرنے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے کہ روح کی نعمت کے ساتھ غیر زبان کا ملنا لازمی ہے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر مندرجہ ذیل واقعات کے ساتھ غیر زبانوں کا ذکر کیوں نہیں؟

  1.  ۰۰۰، ۳ افراد کا ایمان لانا (اعمال ۲: ۴۱)۔
  2.  ۰۰۰، ۵ افراد کا ایمان لانا (اعمال ۴: ۴)۔
  3.  سامریوں پر روح القدس کا نزول (اعمال ۸: ۱۷)۔

اعمال کی کتاب میں غیر زبانوں کا مزید ذکر صرف اِن موقعوں پر آتا ہے:

  1.  کرنیلیس کے گھر میں غیر قوم افراد کا ایمان لانا (اعمال ۱۰: ۴۶)۔
  2.  اِفسس میں یوحنا کے شاگردوں کا دوبارہ بپتسمہ لینا (اعمال ۱۹: ۶)۔

یہاں یہ بتا دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ روح القدس کے بپتسمہ کے موضوع پر علما میں بہت اِختلاف ِرائے پایا جاتا ہے۔ نہ تو وہ اِس کی تعداد پر متفق ہیں نہ اِس کے نتائج یا اثرات پر۔

تعداد کے بارے میں بعض افراد کا خیال یہ ہے کہ:

  1.  یہ بپتسمہ صرف ایک ہی دفعہ یعنی پنتکست کے دن ہوا۔ اُس وقت مسیح کے بدن (کلیسیا) نے تشکیل پائی اور سارے ایمان دار بپتسمے کی برکت میں شامل ہیں۔
  2.  یہ بپتسمہ تین یا چار مرحلوں میں ہوا۔ پنتکست پر (اعمال باب ۲)، سامریہ میں (باب ۸)، کرنیلیس کے گھر پر (باب ۱۰) اور افسس میں (باب ۱۹)۔
  3.  جب بھی کوئی شخص نجات پاتا ہے تو اُسے روح القدس کا بپتسمہ ملتا ہے۔

جہاں تک افراد کی زندگیوں میں روح القدس کی تاثیر کا تعلق ہے، بعض لوگ اِسے «فضل کا دوسرا کام» مانتے ہیں جو عموماً ایمان لانے کے بعد کسی وقت وقوع پذیر ہوتا ہے اور کم و بیش کامل طور پر مقدس ٹھہرائے جانے پر اِختتام پذیر ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا روح القدس کا بپتسمہ وہ عمل ہے جس سے ایمان دار :

  1.  کلیسیا میں شامل ہوتے یا کلیسیا کا حصہ بن جاتے ہیں (۱۔کرنتھیوں ۱۲: ۱۳)۔
  2.  قوت حاصل کرتے ہیں (اعمال ۱: ۸)

۲: ۵- ۱۳ اُس وقت کی معلومہ دُنیا کے تمام حصوں سے «خدا ترس یہودی یروشلیم میں » جمع تھے۔ وہ عید پنتکست منانے کے لئے آئے تھے۔ جب اُنہوں نے سنا کہ کیا ہوا ہے تو وہ اُس مکان کے گردا گرد جمع ہو گئے جس میں شاگرد تھے۔ خدا کا روح کام کرتا ہے تو آج بھی لوگ اِسی طرح کشش محسوس کرتے ہیں۔

جب «بھیڑ» اُس گھر تک پہنچی تو شاگرد غیر زبانیں بول رہے تھے۔ لوگ یہ دیکھ کر سخت حیران ہوئے کہ یہ گلیلی شاگرد طرح طرح کی غیر زبانیں بول رہے ہیں۔ یہ معجزہ سننے والوں پر نہیں بلکہ بولنے والوں پر واقع ہوا تھا۔ سننے والوں میں پیدائشی یہودی اور نومرید یہودی (وہ لوگ جنہوں نے یہودی مذہب اِختیار کر لیا تھا) شامل تھے، جو مشرق، مغرب، شمال اور جنوب کے دُور دراز علاقوں سے آئے تھے۔ وہ سب «اپنی اپنی زبان میں اُن سے خدا کے بڑے بڑے کاموں کا بیان سنتے» تھے۔ جس لفظ کا ترجمہ «زبان» کیا گیا ہے، اِس کا مطلب «بولی» ہے۔

یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ پنتکست کے دن غیر زبانوں کی نعمت کا ایک مقصد یہ تھا کہ مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کو ایک ساتھ خوش خبری سنائی جائے، مثلاً ایک مصنف لکھتا ہے کہ «خدا نے اپنی شریعت تو ایک ہی زبان میں ایک ہی قوم کو دی، مگر اپنی خوش خبری ساری زبانوں میں ساری قوموں کو دی۔»

لیکن زیر نظر متن اِس بات کی تصدیق نہیں کرتا۔ غیر زبانیں بولنے والے تو «خدا کے بڑے بڑے کاموں کا بیان» کر رہے تھے (۲: ۱۱)۔ یہ بنی اِسرائیل کے لئے ایک نشان تھا (۱۔کرنتھیوں ۱۴: ۲۱، ۲۲) تاکہ وہ حیران اور متعجب ہوں۔ اِس کے برعکس پطرس نے اُس زبان میں پیغام دیا جسے اگر سارے نہیں تو سامعین میں سے اکثر سمجھ سکتے تھے۔

اِس معجزے کا اثر مختلف لوگوں پر مختلف ہوا۔ بعض نے بڑی دلچسپی دکھائی جب کہ بعض نے شاگردوں پر الزام لگایا کہ «یہ تو تازہ مے کے نشہ میں ہیں»۔ بے شک شاگرد ایک ایسی تاثیر کے زیر اثر تھے جو اُن کے اِختیار سے باہر تھی۔ مگر یہ «مے» کی نہیں روح القدس کی تاثیر تھی!

جن لوگوں کو نئی پیدائش کا تجربہ نہیں ہوا وہ روحانی باتوں کی طبعی تشریح کرنے کو ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ ایک دفعہ جب آسمان سے خدا کی آواز سنائی دی تو کسی نے کہہ دیا کہ بادل گرجا ہے (یوحنا ۱۲: ۲۸، ۲۹)۔ اِس موقعے پر بھی بے ایمان لوگ مذاق اُڑاتے اور روح القدس کی پیدا کردہ زندہ دلی کو «تازہ مے» کا اثر قرار دینے لگے۔ ایک مفسر کہتا ہے کہ «دُنیا چمکیلی چیزوں کو داغ دار کرنا اور سرفراز ہونے والوں کو خاک میں گرانا پسند کرتی ہے۔»

۲: ۱۴ وہ شاگرد جس نے قسم کھا کر اپنے خداوند کا اِنکار کیا تھا اب آگے بڑھا اور بھیڑ سے مخاطب ہوا۔ اب وہ بز دِل اور ڈانواں ڈول شاگرد نہیں رہا تھا بلکہ جرأت مند اور شیر دل بن گیا تھا۔ پنتکست نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اب پطرس روح سے معمور تھا۔

قیصریہ فلپی کے مقام پر خداوند نے پطرس کو آسمان کی بادشاہی کی کنجیاں دینے کا وعدہ کیا تھا (متی ۱۶: ۱۹)۔ یہاں اعمال باب ۲ میں ہم اُسے یہ کنجیاں استعمال کرتے اور یہودیوں پر دروازہ کھولتے دیکھتے ہیں۔ باب ۱۰ میں وہ یہی دروازہ غیر قوموں پر کھولے گا۔

۲: ۱۵ شاگرد پہلے یہ واضح کرتا ہے کہ آج کا یہ واقعہ تازہ مے کا نتیجہ نہیں کیونکہ «ابھی تو» صبح کے نو ہی بجے ہیں اور ایسا تو کبھی سنا بھی نہیں گیا کہ اِتنے لوگ اِتنی صبح نشے میں آئے ہوں۔ علاوہ ازیں عید کے روز جو یہودی عبادت خانے کی رسومات میں شامل ہوتے تھے وہ کم سے کم دس بجے صبح تک، بلکہ دوپہر تک (یہ اِس پر منحصر ہوتا تھا کہ قربانی کس وقت چڑھائی گئی) بھی کھانے پینے سے پرہیز کرتے تھے۔

۲: ۱۶- ۱۹ حقیقت یہ تھی کہ جیسا خدا نے «یوئیل نبی کی معرفت» فرمایا تھا اُس نے اپنا روح القدس نازل کیا تھا (یوایل ۲: ۲۸ ومابعد)۔

دراصل پنتکست کے واقعات سے نبوت کی پوری تکمیل نہیں ہوئی تھی۔ آیات ۱۷- ۲۰ میں مذکور باتوں میں سے اکثر تا حال واقع نہیں ہوئی تھیں۔ لیکن پنتکست پر جو کچھ بھی ہوا، وہ اُن باتوں کی جھلک تھی جو «خداوند کے عظیم اور جلیل دن» کے آنے سے پہلے «آخری دنوں میں» واقع ہوں گی۔ اگر پنتکست نے یوایل کی پیش گوئی پوری کر دی تھی تو بعد میں یہ وعدہ کیوں دیا گیا (۳: ۱۹) کہ اگر اِسرائیلی قوم توبہ کرے اور اُس ہستی کو قبول کرے جس کو مصلوب کیا تھا تو وہ واپس آئے گا اور خداوند کے دن کا آغاز کرے گا؟

یوایل سے اِقتباس دُہرے حوالے کے اصول کا نمونہ ہے، یعنی بائبل مقدس کی نبوت کی پہلے کسی وقت جزوی اور بعد میں پوری تکمیل ہوتی ہے۔

پنتکست پر خدا کا روح نازل کیا گیا، لیکن لفظی طور پر «ہر بشر» پر نہیں۔ نبوت کی آخری اور پوری تکمیل «بڑی مصیبت کے دنوں» کے اخیر میں ہو گی۔ مسیح کی جلالی آمد سے پہلے آسمان پر «عجیب کام» اور زمین پر «نشانیاں» ظاہر ہوں گے (متی ۲۴: ۲۹، ۳۰)۔ اُس وقت خداوند یسوع مسیح زمین پر ظاہر ہو گا اور دشمنوں کو نیست کر کے اپنی بادشاہی قائم کرے گا۔ اُس کی ہزار سالہ بادشاہی کے آغاز میں یہودی اور غیر قوم «ہر بشر» پر روح اُنڈیلا جائے گا اور ہزار سالہ دَور کے دوران یہ حالت قائم رہے گی۔ عمر، جنس اور معاشرتی رُتبے کا لحاظ کئے بغیر روح القدس کے طرح طرح کے ظہور دئیے جائیں گے۔ «رُئویا» اور «خواب» ہوں گے جو علم و عرفان حاصل کرنے کی علامت ہیں۔ نبوت ہو گی جو ظاہر کرتی ہے کہ یہ علم و عرفان دوسروں کو پہنچایا جا رہا ہے۔ اِس طرح مکاشفہ اور ابلاغ کی نعمتیں ایک شہادت ہوں گے۔ یہ سب کچھ یوایل کے مطابق «آخری دِنوں» میں واقع ہو گا۔ بے شک اِس سے مراد کلیسیا کے نہیں بلکہ اِسرائیل کے آخری دن ہیں۔

۲: ۲۰ یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ یہ فوق الفطرت نشان «خداوند کے دن» کے آنے سے پیشتر ظاہر ہوں گے۔ متن کے مطابق «خداوند کا دن» سے مراد ہے کہ جب خداوند شخصی طور پر زمین پر واپس آئے گا، اپنے دشمنوں کو نیست کر کے بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ حکمرانی کرے گا۔

۲: ۲۱ یوایل سے اِقتباس کو پطرس اِس وعدے کے ساتھ ختم کرتا ہے کہ «جو کوئی خداوند کا نام لے گا نجات پائے گا۔» یہ ہے وہ خوش خبری جو سارے زمانوں کے لئے ہے کہ خداوند پر ایمان کے اصول پر سارے لوگوں کو نجات کی پیش کش کی جاتی ہے۔ «خداوند کا نام» ایک اصطلاح ہے جس کے مفہوم میں خداوند کی پوری شخصیت شامل ہے۔ چنانچہ خداوند کا نام لینے سے مراد خود اُس کو پکارنا ہے کہ نجات کا واحد راستہ وہی ہے۔

۲: ۲۲- ۲۴ مگر خداوند ہے کون؟ پطرس چونکا دینے والا اعلان کرتا ہے کہ یہی یسوع جس کو اُنہوں نے مصلوب کیا تھا، وہی خداوند بھی ہے اور مسیح بھی۔ پطرس پہلے یسوع کی زندگی کا بیان کرتا ہے، پھر اُس کی موت، جی اُٹھنے اور آسمان پر جانے کا ذکر کرتا ہے اور آخر میں خدا کے دہنے ہاتھ پر جلال پانے کی بات کرتا ہے۔ اگر اُن کو ابھی تک یہ غلط فہمی ہو کہ یسوع ابھی تک کسی یہودی قبر میں پڑا ہوا ہے تو پطرس بہت جلد اُن کے ذہن صاف کر دے گا۔ اُن کو بتانا ضروری ہے کہ جسے تم نے قتل کر ڈالا تھا، وہ آسمان میں ہے اور ضرور ہے کہ تم اُسے مانو۔

چنانچہ رسول کا استدلال یوں چلتا ہے کہ __ بہت سے کاموں اور معجزوں سے ظاہر کیا گیا کہ یسوع ناصری خدا کی طرف سے ہے (آیت ۲۲)۔ خدا نے اپنے «مقررہ اِنتظام اور علمِ سابق کے موافق» اُسے یہودی لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیا۔ اُنہوں نے اُسے غیر قوموں (یعنی بے شرع لوگوں) کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اُسے «مصلوب کر کے مار ڈالیں» (آیت ۲۳)۔ لیکن «خدا نے موت کے بند کھول کر اُسے جلایا کیونکہ ممکن نہ تھا کہ وہ اُس کے قبضہ میں رہتا»۔ موت اُسے اپنی قید میں نہیں رکھ سکتی تھی۔ اِس لئے کہ :

  1.  خدا کا کردار اُس کو زندہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ مر گیا، یعنی بے گناہ گنہگاروں کی خاطر مر گیا۔ ضرور ہے کہ خدا اُسے زندہ کرے کیونکہ اُس کا زندہ کیا جانا ثبوت ہے کہ مسیح نے اپنے فدیے کے کام سے خدا کے سارے تقاضے پورے کر دیئے ہیں۔
  2.  پرانے عہدنامے کی پیش گوئیاں اُس کے جلائے جانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ اگلی آیات میں پطرس خاص اِسی نکتے پر زور دیتا ہے۔

۲: ۲۵- ۲۷ زبور ۱۶ میں دائود نے نبوت سے خداوند کی زندگی، موت، قیامت اور جلال پانے کے بارے میں لکھا تھا۔ اُس کی زندگی کے بارے میں لکھتے ہوئے دائود بیان کرتا ہے کہ اُس کو بے کراں اِعتماد اور یقین حاصل تھا کیونکہ باپ کے ساتھ اُس کی ایسی رفاقت تھی جس میں کوئی خلل نہیں آتا تھا۔ اُس کا دل، زبان اور جسم ، غرض یہ کہ پورا وجود اُمید اور خوشی سے سرشار تھا۔

اور اُس کی موت کے بارے میں دائود نے نبوت سے دیکھ لیا تھا کہ خدا اُس کی «جان کو عالمِ ارواح میں نہ چھوڑے گا اور نہ اپنے مقدس کے سڑنے کی نوبت پہنچنے دے گا۔» دوسرے لفظوں میں خداوند یسوع کی روح بے بدن حالت میں نہ رہے گی اور نہ اُس کا جسم گلے سڑے گا۔ (اِس آیت کو یہ بات ثابت کرنے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے کہ خداوند یسوع موت کے وقت روحوں کے کسی قید خانے میں گیا تھا جو زمین کے اِنتہائی نچلے حصے میں واقع ہے __ اُس کی روح تو آسمان پر گئی تھی (لوقا ۲۳: ۴۳) اور جسم قبر میں رکھا گیا تھا)۔

۲: ۲۸ اور اُس کی قیامت کے بارے میں دائود کو یقین تھا کہ خدا اُسے زندگی کی راہ دِکھائے گا۔ زبور ۱۶: ۱۱ میں وہ لکھتا ہے کہ « تُو مجھے زندگی کی راہ دکھائے گا۔» اعمال ۲: ۲۸ میں پطرس نے اِسی کا اِقتباس کیا، « تُو نے مجھے زندگی کی راہیں بتائیں»۔ پطرس نے فعل مستقبل کو بدل کر فعل ماضی استعمال کیا۔ ظاہر ہے کہ روح القدس نے اُسے ایسا کرنے کی ہدایت کی کیونکہ اُس وقت مسیح جی اُٹھا تھا۔

نجات دہندہ کے موجودہ جلال کی پیش گوئی کرتے ہوئے دائود کہتا ہے کہ « تُو مجھے اپنے دیدار کے باعث خوشی سے بھر دے گا۔» اِس بات کو زبور ۱۶: ۱۱ میں وہ یوں بیان کرتا ہے، «تیرے حضور میں کامل شادمانی ہے۔ تیرے دہنے ہاتھ میں دائمی خوشی ہے۔»

۲: ۲۹ پطرس دلیل دیتا ہے کہ دائود یہ باتیں اپنے حق میں نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ اُس کا بدن تو گل سڑ گیا۔ اُس زمانے کے لوگ اُس کی قبر کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ اُن کو معلوم تھا کہ دائود کو جلایا نہیں گیا تھا۔

۲: ۳۰، ۳۱ دائود نے یہ زبور نبوت سے لکھا۔ اُسے یاد تھا کہ خدا نے وعدہ کر رکھا ہے کہ میرے جانشینوں میں سے وہ ایک ہستی کو زندہ کرے گا تاکہ ہمیشہ تک میرے «تخت پر بیٹھے»۔ دائود کو معلوم تھا کہ یہ مسیحِ موعود ہو گا۔ اور اگرچہ وہ مر جائے گا لیکن اُس کی روح بے بدن حالت میں نہیں رہے گی اور نہ اُس کا بدن گلے سڑے گا۔

۲: ۳۲، ۳۳ اب پطرس ایک ایسے اعلان کو دُہراتا ہے جس سے اُس کے سامعین چونک اُٹھے کہ جس مسیح کا ذکر دائود نے نبوت سے کیا ہے وہ ناصرت کا یسوع ہے۔ خدا نے اُسے مُردوں میں سے جلایا اور شاگرد سب اِس کے گواہ ہیں کیونکہ وہ عینی شاہد ہیں۔ زندہ کئے جانے کے بعد اُسے «خدا کے دہنے ہاتھ سے سر بلند» کیا گیا اور اب جیسا باپ نے وعدہ کیا تھا، روح القدس نازل ہوا ہے۔ یہ اُن ساری باتوں کی وضاحت تھی جو یروشلیم میں کچھ دیر پہلے واقع ہوئی تھیں۔

۲: ۳۴، ۳۵ کیا دائود نے مسیحِ موعود کی سربلندی اور سرفرازی کی نبوت نہیں کی تھی؟ وہ زبور ۱۱۰: ۱ میں اپنے بارے میں نہیں کہہ رہا تھا بلکہ وہ بتا رہا تھا کہ یہوواہ مسیحِ موعود سے کہتا ہے کہ «میری دہنی طرف بیٹھ، جب تک مَیں تیرے دشمنوں کو تیرے پائوں تلے کی چوکی نہ کر دوں» (غور کریں کہ آیات ۳۳- ۳۵ اِنتظار کے وقت کی نبوت ہے۔ مسیح کے جلال پانے اور دوبارہ آ کر دشمنوں کو نیست کر کے بادشاہی قائم کرنے کے درمیان انتظار کا وقفہ ہے)۔

۲: ۳۶ ایک دفعہ پھر وہی بات دُہرائی جاتی ہے جس سے یہودیوں کے دل ہل جاتے ہیں کہ «خدا نے اُسی یسوع کو جسے تم نے مصلوب کیا خداوند بھی کیا اور مسیح بھی»۔ یونانی لفظوں کی ترتیب میں «جسے تم نے مصلوب کیا» آخر میں آتا ہے۔ بینگل کہتا ہے کہ ساری بات میں نشتر آخر میں رکھا گیا ہے، یعنی یہی یسوع «جسے تم نے مصلوب کیا»۔ اُنہوں نے خدا کے ممسوح کو مصلوب کیا تھا۔ اور روح القدس کا نزول گواہی تھی کہ یسوع آسمان میں سربلند کیا گیا ہے (ملاحظہ کریں یوحنا ۷: ۳۹)۔

۲: ۳۷ روح القدس نے اُن کو اِتنی شدت سے جھنجھوڑا کہ سامعین نے اُسی وقت ردِعمل کا اِظہار کیا۔ پطرس نے نہ تو اپیل کی نہ اُن کو دعوت دی تو بھی وہ پکار اُٹھے کہ «ہم کیا کریں؟» گہرے احساسِ گناہ کے باعث یہ سوال اُن کی زبان پر آ گیا۔ اُنہوں نے جان لیا کہ جس یسوع کو ہم نے قتل کیا تھا وہ خدا کا پیارا بیٹا تھا۔ اُسی یسوع کو مُردوں میں سے جلایا گیا اور اب وہ آسمان میں سربلند ہے۔ ایسی صورت میں یہ قصوروار قاتل خدا کے غضب سے کس طرح بچ سکتے تھے؟

۲ : ۳۸  پطرس نے جواب دیا کہ «توبہ کرو اور تم میں سے ہر ایک اپنے گناہوں کی معافی کے لئے یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے»۔ اوّل، توبہ کرو، یعنی اپنے قصور اور گناہ کو مانو اور خود اپنے خلاف خدا کے ساتھ کھڑے ہو۔

دوم، اپنے گناہوں کی معافی کے لئے بپتسمہ لو۔ پہلی نظر میں معلوم ہوتا ہے کہ اِس آیت میں بپتسمہ کے وسیلے سے نجات کی تعلیم پائی جاتی ہے۔ اور بہت سے لوگ اِسی مفہوم پر اصرار بھی کرتے ہیں، لیکن مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر یہ تشریح ناممکن ہے۔

  1.  نئے عہدنامے میں درجنوں حوالے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ نجات خداوندیسوع مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے سے ہے (یوحنا ۱: ۱۲؛ ۳: ۱۶، ۳۶؛ ۶: ۴۷؛ اعمال ۱۶: ۳۱؛ رومیوں ۱۰: ۹ چند مثالیں ہیں)۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی آیت ایسی زبردست گواہی کی تردید کرتی ہے۔
  2.  صلیب پر ڈاکو کو بپتسمہ کے بغیر نجات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ (لوقا ۲۳: ۴۳)
  3.  کہیں بیان نہیں کہ نجات دہندہ نے کسی کو بپتسمہ دیا ہو۔ اگر نجات کے لئے بپتسمہ ہی ضروری ہے تو ایسے بیان کا نہ ہونا بہت عجیب بات ہے۔
  4.  پولس رسول شکر کرتا ہے کہ مَیں نے صرف چند ایک کرنتھیوں کو بپتسمہ دیا ہے۔اگر بپتسمہ نجات کا باعث ہوتا تو یہ شکر گزاری کی عجیب ہی وجہ معلوم ہو گی (۱۔کرنتھیوں ۱: ۱۴- ۱۶)۔

یہ غور کرنا بھی اہم ہے کہ صرف یہودیوں ہی کو گناہوں کی معافی کے لئے بپتسمہ لینے کو کہا گیا (دیکھئے اعمال ۲۲: ۱۶)۔ ہمارے خیال میں یہ حقیقت اِس حوالے کو سمجھنے کا بھید ہے۔ اِسرائیلی قوم نے جلال کے خداوند کو مصلوب کیا تھا۔ اور یہودیوں ہی نے چِلّا چِلّا کر کہا تھا کہ «اِس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر!» (متی ۲۷: ۲۵)۔ اِس طرح اسرائیلی قوم مسیحِ موعود کی موت کے قصور کو تسلیم کرتی تھی۔

اب اِن میں سے کچھ یہودیوں نے اپنی غلطی کا احساس کیا۔ توبہ کرنے سے اُنہوں نے تسلیم کیا کہ ہم نے خدا کا گناہ کیا ہے۔ اور خداوند یسوع کو نجات دہندہ ماننے کے وسیلے سے اِن کو نئی پیدائش اور گناہوں کی ابدی معافی حاصل ہوئی۔ پانی سے علانیہ بپتسمہ لینے سے اُنہوں نے اُس قوم سے قطع تعلق کر لیا جس نے خداوند کو مصلوب کیا تھا، اور مسیح کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔ بپتسمہ ظاہری نشان تھا کہ مسیح کو ردّ کرنے کا گناہ (اور دوسرے سارے گناہ بھی) دُھل گیا ہے۔ بپتسمے نے اُن کو یہودی بنیاد سے نکال کر مسیحی بنیاد پر قائم کر دیا۔ مگر اُنہیں نجات بپتسمے نے نہیں دی۔ نجات صرف مسیح پر ایمان کے باعث ملتی ہے۔ جو کوئی اِس کے خلاف تعلیم دیتا ہے وہ «کوئی اَور خوش خبری» سناتا ہے اور اِس وجہ سے ملعون ہے (گلتیوں ۱: ۸، ۹)۔

گناہوں کی معافی کے لئے بپتسمہ کے بارے میں رائری (Ryrie) یہ تشریح پیش کرتا ہے:

«اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اِس کے باعث گناہوں کی معافی ملتی ہے کیونکہ نئے عہدنامے میں ہر جگہ مسیح پر ایمان کے نتیجے میں گناہ معاف ہوئے ہیں، نہ کہ بپتسمہ کے نتیجے میں۔ جس یونانی حرفِ جار (eis) کا ترجمہ ’کے لئے‘ کیا گیا ہے اِس کا یہاں مطلب ہے ’کی وجہ سے‘۔ نہ صرف یہاں بلکہ دیگر مقامات پر بھی یہی مفہوم ہے۔ مثلاً متی ۱۲: ۴۱ جہاں مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ ’اُنہوں نے یوناہ کی منادی کی وجہ سے توبہ کر لی۔‘ توبہ سے پنتکست کے اِس گروہ کو گناہوں کی معافی ملی۔ اور گناہوں کی معافی کی وجہ سے اُنہوں نے بپتسمہ پانے کی درخواست کی۔»

پطرس نے اُن کو یقین دلایا کہ اگر تم توبہ کرو اور بپتسمہ لو تو روح القدس اِنعام میں پائو گے۔ اِس بات پر اِصرار کرنا کہ آج اِسی ترتیب کا اِطلاق ہوتا ہے، ظاہر کرتا ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ کلیسیا کے اِبتدائی دنوں میں خدا اِنتظامی معاملات میں کس طرح کام کرتا تھا۔ ایچ۔پی۔ بارکر (Barker) اپنی تصنیف « The Vicar of Christ» میں بڑی خوبی سے بیان کرتا ہے کہ اعمال کی کتاب میں ایمان داروں کی چار جماعتیں ہیں، اور ہر ایک کے لئے روح القدس حاصل کرنے کی ترتیب الگ الگ ہے۔

یہاں اعمال ۲: ۳۸ میں ہم یہودی مسیحیوں کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ اُن کے لئے ترتیب یوں تھی:

  1.  توبہ
  2.  پانی کا بپتسمہ
  3.  روح القدس کا حاصل ہونا۔

اعمال ۸: ۱۴- ۱۷ میں سامریوں کے ایمان لانے کا بیان درج ہے۔ وہاں واقعات کی ترتیب یوں ہے:

  1.  ایمان لائے 
  2.  پانی سے بپتسمہ لیا
  3.  رسولوں نے اُن کے لئے دعا کی۔
  4.  رسولوں نے اُن پر ہاتھ رکھے۔  
  5.  اُن کو روح القدس ملا۔

اعمال ۱۰: ۴۴- ۴۸ میں غیر قوم افراد ایمان لائے۔ وہاں ترتیب یوں ہے:

  1.  ایمان
  2.  روح القدس حاصل کرنا
  3.  پانی کا بپتسمہ

ایمان داروں کا چوتھا گروہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کے شاگرد تھے ( اعمال ۱۹: ۱- ۷)۔ اِس موقعے پر ترتیب یوں ہے:

  1.  وہ ایمان لائے
  2.  اُن کو بپتسمہ دیا گیا  
  3.  پولس رسول نے اُن پر ہاتھ رکھے۔
  4.  اُن کو روح القدس ملا۔

تو کیا اِس کا مطلب ہے کہ اعمال کی کتاب میں نجات پانے کے چار طریقے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ نجات خداوند پر ایمان لانے سے ہے اور ہمیشہ ہو گی۔ اعمال کی کتاب میں ایک عبوری دَور کا بیان ہے۔ اُس وقت خدا کو پسند آیا کہ روح القدس کے پانے کے واقعات میں ردّ وبدل کرے۔ اِس کی وجہ صرف وہی جانتا ہے۔

اِن میں سے کون سی ترتیب کا اِطلاق ہم پر ہوتا ہے؟ چونکہ اِسرائیلیوں نے قومی سطح پر مسیحِ موعود کو ردّ کر دیا ہے اِس لئے اُن کی وہ خاص مراعات جو اُنہیں حاصل تھیں رُک گئی ہیں۔ آج خدا غیر قوم میں سے اپنے نام کے لئے لوگوں کو بلا رہا ہے (اعمال ۱۵: ۱۴)۔ چنانچہ آج کے لئے وہ ترتیب ہے جو اعمال باب ۱۰ میں پائی جاتی ہے یعنی

  1. ایمان
  2.  روح القدس پانا
  3.  پانی کا بپتسمہ

ہمیں یقین ہے کہ آج کے زمانے میں اِس ترتیب کا اطلاق یہودیوں اور غیر یہودیوں سب پر ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے پہلی نظر میں یہ بے وجہ اور زبردستی کی بات معلوم ہو۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اعمال ۲: ۳۸ کی ترتیب یہودیوں کے لئے موقوف ہو گئی اور اعمال ۱۰: ۴۴- ۴۸ کی ترتیب کب سے نافذ ہوئی۔ بے شک کوئی حتمی تاریخ تو نہیں بتائی جا سکتی، لیکن اعمال کی کتاب میں ہمیں یہودیوں کے بارے میں ایک تدریجی عمل نظر آتا ہے۔ خوش خبری پہلے یہودیوں کو پیش کی گئی۔ یہودیوں نے اِسے بار بار ردّ کیا۔ پھر یہ غیرقوموں کو پیش کی گئی۔ اعمال کی کتاب کے آخر تک پہنچتے پہنچتے اِسرائیلی قوم کو بڑی حد تک ایک طرف کر دیا گیا۔ اپنی بے اعتقادی کے باعث وہ خدا کی برگزیدہ قوم ہونے کا دعویٰ کرنے کا حق کھو بیٹھے۔ کلیسیائی زمانے کے دوران انجیل کی خوش خبری غیر قوموں سے منسوب کی جائے گی۔ اِس لئے غیر قوموں والی ترتیب جس کا خاکہ اعمال ۱۰: ۴۴- ۴۸ میں موجود ہے، اِسی کا اِطلاق ہو گا۔

۲: ۳۹ اِس کے بعد پطرس اُن کو یاد دلاتا ہے کہ روح القدس کا «وعدہ تم اور تمہاری اولاد (یہودی قوم) اور اُن سب دُور کے لوگوں (غیر اقوام) سے بھی ہے جن کو خداوند ہمارا خدا اپنے پاس بلائے گا»۔

جن لوگوں نے کہا تھا کہ «اِس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر»، اُن ہی کو یقین دلایا گیا ہے کہ اگر تم خداوند پر ایمان لائو تو تم پر فضل ہو گا۔

بعض اوقات اِس آیت سے یہ تعلیم اخذ کی جاتی ہے کہ ایمان دار والدین کی اولاد یقینی طور سے وعدہ کی مراعات حاصل کرتی، یا کہ اولاد بھی نجات یافتہ ہوتی ہے۔ یہ تعلیم غلط ہے۔ اِس سلسلے میں سپرجن (Spurgeon) کہتا ہے کہ:

«کیا خدا کی کلیسیا کو علم نہیں کہ ’جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہوا ہے روح ہے؟‘ (یوحنا ۳: ۶)، ’ناپاک چیز میں سے پاک چیز کون نکال سکتا ہے؟‘ (ایوب ۱۴: ۴)۔

طبعی پیدائش سے فطری پلیدگی ملتی ہے۔ یہ پیدائش اِطمینان نہیں دے سکتی۔ ہمیں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ نئے عہد کے تحت خدا کے فرزند ’نہ خون سے، نہ جسم کی خواہش سے، نہ اِنسان کے ارادہ سے بلکہ خدا سے پیدا ہوئے‘ (یوحنا ۱: ۱۳)۔»

اہم اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ «یہ وعدہ (صرف) تم اور تمہاری اولاد» ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ اُن «دُور کے لوگوں سے بھی ہے جن کو خداوند ہمارا خدا … بلائے گا۔» اِس میں سارے اُسی طرح شامل ہیں جس طرح «جو کوئی … » (یوحنا ۳: ۱۶) والی خوش خبری کی دعوت میں۔

۲: ۴۰ اِس باب میں پطرس کا پورا پیغام درج نہیں۔ البتہ باقی حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اُس کی سننے والے یہودی اپنے آپ کو اُس «ٹیڑھی قوم» سے بچائیں جس نے خداوند یسوع کو ردّ کیا اور قتل کر ڈالا۔ اُس سے بچنے کے لئے وہ یسوع کو مسیحِ موعود اور نجات دہندہ قبول کریں اور مسیحی بپتسمے کے وسیلے سے علانیہ اِقرار کریں کہ اب اُس خطاکار قوم کے ساتھ ہمارا کوئی واسطہ نہیں۔

۲: ۴۱ لوگوں میں ایک لہر دوڑ گئی۔ وہ چاہنے لگے کہ ہم بپتسمہ لیں جو ظاہری نشان ہو کہ ہم نے خوشی سے قبول کیا ہے کہ پطرس کی باتیں خداوند کا کلام ہیں۔ اُس دن تقریباً تین ہزار آدمی ایمان داروں کی جماعت میں مل گئے۔ اگر روحوں کی تبدیلی روح القدس کے کام کا بہترین ثبوت ہے تو یقینا پطرس کی خدمت اِسی قسم کی تھی۔ بے شک گلیل کے اِس ماہی گیر کو خداوند یسوع کی بات یاد آئی ہو گی کہ « مَیں تم کو آدم گیر بنائوں گا» (متی ۴: ۱۹) اور شاید نجات دہندہ کی یہ بات بھی کہ « مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا، بلکہ اِن سے بھی بڑے کام کرے گا کیونکہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں» (یوحنا ۱۴: ۱۲)۔

یہ بات سبق آموز اور قابلِ توجہ ہے کہ ایمان لانے والوں کی تعداد کیسی احتیاط سے درج کی گئی ہے۔ «تین ہزار آدمیوں کے قریب۔» خداوند کے سارے خادموں کو «مسیح کے پاس آنے کے مبینہ فیصلوں» کا شمار ایسی ہی احتیاط سے کرنا چاہئے۔

۲: ۴۲ حقیقت کا ثبوت «ایمان کو جاری رکھنے» یا «مشغول رہنے» میں ہے۔ اِن نومریدوں نے سچے ایمان کا ثبوت دیا۔ وہ بڑے اِستقلال سے مشغول رہے:

  1.  وہ  رسولوں سے تعلیم پانے میں مشغول رہے۔ مراد ہے وہ تعلیم جو شاگردوں کو الہام سے حاصل ہوتی تھی۔ پہلے وہ زبانی دی جاتی تھی، اب وہ نئے عہدنامے میں تحریری شکل میں موجود ہے۔
  2.  وہ رفاقت رکھنے میں مشغول رہے۔ نئی زندگی کا یہ ایک اَور ثبوت تھا۔ یہ نومریدخدا کے لوگوں کے ساتھ رہنا اور اُن کی ساری باتوں میں شریک ہونا چاہتے تھے۔
  3.  وہ روٹی توڑنے میں مشغول رہے۔ نئے عہدنامے میں روٹی توڑنے کی اصطلاح عشائے ربانی اور عام کھانا کھانے دونوں کے لئے استعمال ہوئی ہے۔ متن کے مطابق مطلب لینا چاہئے۔ یہاں صاف معلوم ہوتا ہے کہ مطلب عشائے ربانی سے ہے کیونکہ یہ کہنا مضحکہ خیز ہو گا کہ وہ عام کھانا کھانے میں مشغول رہے۔ اعمال ۲۰: ۷ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی مسیحی ہفتے کے پہلے دن روٹی توڑاکرتے تھے۔ کلیسیا کے ابتدائی زمانے میں عشائے ربانی کے تعلق سے «محبت کی ضیافت» (دیکھئے یہوداہ ۱۲ آیت؛ ۲۔پطرس ۲: ۱۳؛ ۱۔کرنتھیوں ۱۱: ۲۰- ۲۲) بھی ہوتی تھی جس سے مقدسین کی باہمی محبت کا اِظہار ہوتا تھا۔ لیکن خامیاں / خرابیاں در آئیں تو یہ رسم ترک کر دی گئی۔
  4.  وہ دعا کرنے میں مشغول رہے۔ یہ چوتھی بڑی رسم یا بڑا اصول تھا جو ابتدائی کلیسیا میں جاری تھا، جس سے یہ اظہار ہوتا تھا کہ کلیسیا عبادت، ہدایت و راہنمائی، ایمان میں قائم رہنے اور خدمت کے لئے خداوند پر کامل تکیہ کرتی تھی۔

۲: ۴۳ ہر شخص پر عقیدت بھرا «خوف چھا گیا»۔ روح القدس کی زبردست قوت ایسی نمایاں تھی کہ دل مغلوب ہو گئے۔ اُنہوں نے رسولوں کو «عجیب کام اور نشان» دِکھاتے دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ عجیب کام وہ معجزے تھے جو حیران اور متعجب کرتے تھے۔ اور نشان وہ معجزے تھے جن کا مقصد تعلیم دینا تھا۔ ایک ہی معجزہ عجیب کام اور نشان بھی ہو سکتا ہے۔

۲: ۴۴، ۴۵ ایمان دار متواتر «ایک جگہ رہتے اور سب چیزوں میں» ایک دوسرے کو «شریک» کرتے تھے۔ اُن کے دلوں میں خدا کی محبت ایسی قدرت کے ساتھ چھا گئی کہ وہ اپنی مادی چیزوں کو اپنی نہیں سمجھتے تھے (۴: ۳۲)۔ ساتھیوں میں سے کسی کو بھی حقیقی طور پر ضرورت ہوتی تو وہ «اپنی جائیداد» بیچ کر رقم بانٹ دیتے تھے۔ اِس طرح اُن میں مساوات قائم ہو گئی تھی۔

ایف۔ ڈبلیو۔ گرانٹ (Grant) کہتا ہے:

«ایمان لانے والوں میں دل اور مقاصد کا اتحاد تھا۔ یہ اتحاد فطری خود غرضی کو نگل گیا تھا۔ الٰہی محبت کے احساس نے اُن میں ایسی بھرپور محبت پیدا کر دی تھی۔ وہ باہم اِس طرح مل گئے تھے کہ اُن کا سب کچھ مشترکہ ہو گیا تھا۔ اور ایسا کسی خارجی شریعت کے دبائو کے تحت نہیں ہوتا، ورنہ سب کچھ بگڑ کر رہ جاتا۔ بلکہ یہ اِس شعور کے تحت ہوا کہ ہم مسیح کے نزدیک کیا ہیں، اور مسیح نے ہم میں سے ہر ایک کے لئے کیا کچھ کیا ہے۔ وہ مسیح کی اُس برکت سے مالا مال ہو گئے تھے جسے کوئی چیز کم نہیں کر سکتی، بلکہ جتنا اُسے استعمال کرتے تھے، اُتنا ہی بڑھتی جاتی تھی۔ ’اور اپنی جائیداد اور اسباب بیچ بیچ کر ہر ایک کی ضرورت کے موافق سب کو بانٹ دیا کرتے تھے۔‘ »

آج بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ابتدائی ایمان داروں کی اِس رسم کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر تو یہ کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ہمیں اپنے پڑوسیوں سے اپنے برابر محبت کرنے کی ضرورت نہیں۔ روح القدس سے معمور زندگیوں کا ناگزیر پھل یہ تھا کہ وہ اپنی شخصی چیزوں اور جائیداد میں سب کو شریک کرتے تھے۔ کسی نے کہا ہے کہ «حقیقی مسیحی برداشت نہیں کر سکتا کہ اُس کے پاس تو بہت کچھ ہو جب کہ دوسروں کے پاس بہت کم ہے۔»

۲: ۴۶ یہ آیت مذہبی اور گھریلو زندگی پر پنتکست کے اثر کو ظاہر کرتی ہے۔

مذہبی زندگی کے سلسلے میں ہم یاد رکھیں کہ یہ اِبتدائی مسیحی یہودی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ کلیسیا قائم ہو گئی تھی، لیکن ہیکل سے تعلقات فوری طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ یہودیت کا کفن اُتارنے کا عمل اعمال کی پوری کتاب کے زمانے میں جاری رہا۔ اِس لئے ایمان دار ہیکل کی عبادات میں بھی حاضر ہوتے رہے۔ وہاں پرانا عہدنامہ پڑھا جاتا اور اِس کی تفسیر پیش کی جاتی تھی۔ پھر وہ گھروں میں اُس مقصد کے لئے جمع ہوتے تھے جس کا بیان آیت ۴۲ میں ہوا ہے۔

اُن کی گھریلو زندگی کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ «گھروں میں روٹی توڑ کر خوشی اور سادہ دلی سے کھانا کھایا کرتے تھے»۔ یہاں صاف معلوم ہوتا ہے کہ عام کھانا کھانے کی بات ہو رہی ہے۔ نجات کی خوشی زندگی کی ہر بات سے چھلکتی تھی۔ دُنیاوی باتوں میں بھی جلال کی جھلک تھی۔

۲: ۴۷ تاریکی کے اِختیار سے رہائی پانے والوں کے لئے زندگی حمد و ستائش کا نغمہ اور شکرگزاری کا زبور بن گئی تھی کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کی محبت کی بادشاہی میں آ گئے تھے۔

آغاز ہی سے ایمان دار «سب لوگوں کو عزیز تھے»۔ مگر یہ حالت زیادہ دیر تک قائم نہ رہی۔ مسیحی ایمان کی نوعیت ہی کچھ ایسی ہے کہ بالآخر لوگ اِس کی مخالفت کرنے لگتے ہیں۔ نجات دہندہ نے اپنے شاگردوں کو خبردار کیا تھا کہ مقبولیت سے ہوشیار رہیں (لوقا ۶: ۲۶) اور یہ بھی کہا تھا کہ تم کو دُکھوں، مصیبتوں اور ایذارسانی کا سامنا ہو گا (متی ۱۰: ۲۲، ۲۳)۔ چنانچہ یہ ہر دل عزیزی عارضی ثابت ہوئی۔ بہت جلد اُن کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

«اور جو نجات پاتے تھے اُن کو خداوند ہر روز اُن میں ملا دیتا تھا۔» نئے ایمان لانے والوں کے باعث مسیحیوں کی جماعت میں ہر روز اضافہ ہو رہا تھا۔ جو لوگ خوش خبری سنتے تھے اُن کی ذمہ داری تھی کہ اپنی مرضی سے یسوع مسیح کو قبول کریں۔ خداوند کے چننے اور ایمان داروں میں شامل کرنے سے اِنسانی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔

اِس باب میں روح القدس کے اُنڈیلے جانے کا بیان، پطرس کا یادگار خطاب جو اُس نے یہودیوں کے سامنے پیش کیا درج ہے۔ پھر بڑی بھیڑ کے ایمان لانے کا ذکر اور اِبتدائی مسیحیوں کی زندگی کا مختصر حال مرقوم ہے۔

اِنسا ئیکلو پیڈیا برٹینکا (Encyclopaedia Brittanica) کے تیرھویں ایڈیشن میں «تاریخِ کلیسیا» کے زیر عنوان اِس کا مختصر حال بڑی خوبصورتی سے درج کیا گیا ہے:

«ابتدائی مسیحیوں کی زندگی کی نمایاں بات یہ تھی کہ اُن کو واضح شعور تھا کہ ہم خدا کے لوگ ہیں۔ اُس نے ہمیں بلایا اور مخصوص کیا ہے۔ اُن کے خیال میں مسیحی کلیسیا اِنسانی نہیں بلکہ الٰہی ادارہ تھا۔ اِس کی بنیاد خدا نے رکھی اور وہی اِسے کنٹرول کرتا ہے۔ یہاں تک کہ دُنیا بھی اُسی کی خاطر خلق کی گئی ہے … یہ نظریہ ابتدائی مسیحیوں کی اِنفرادی اور سماجی پوری زندگی کو کنٹرول کرتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم باقی دُنیا سے الگ اور خاص بندھنوں سے باہم بندھے ہوئے ہیں۔ ہم آسمانی وطن کے شہری ہیں۔ اور جن اصولوں اور قوانین کے مطابق ہم زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اُوپر سے ہیں۔ یہ دُنیا بالکل عارضی ہے اور ہماری حقیقی زندگی مستقبل میں ہے۔ مسیح بہت جلد واپس آنے کو ہے اور اِس زندگی کی مصروفیات، مشقتیں اور خوشیاں بے حقیقت ہیں … مسیحیوں کی روزمرہ کی زندگی میں روح القدس کام کرتا تھا اور تمام مسیحی فضائل اِس کا پھل تھے۔ اِس اعتقاد کے نتیجے میں اُن کی زندگیوں میں مخصوص سرگرمی اور جوش و جذبہ پایا جاتا تھا۔ اُن کے تجربات روزمرہ کی معمولی زندگی کے تجربات نہیں تھے بلکہ اُن لوگوں کے تجربات تھے جو اپنے آپ سے بھی بلند ہو گئے تھے اور اعلیٰ اور اُونچی فضائوں میں رہتے تھے۔»

اِس مقالے کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج کل کی کلیسیا اپنے اصلی جوش اور استحکام سے کتنی پیچھے ہٹ چکی ہے۔

ہائوس چرچ

یہ پہلا موقع ہے کہ اعمال کی کتاب میں کلیسیا کی صورت نظر آنے لگتی ہے (اعمال ۲: ۴۷)۔ اِس لئے ہم کچھ وقت اِس بات پر غور کرنے پر صرف کریں گے کہ ابتدائی مسیحیوں کی سوچ میں کلیسیا کو کیا مقام حاصل تھا۔

اعمال کی کتاب میں اور نئے عہدنامے کے بقیہ حصے میں کلیسیا ایسی تھی جسے ہائوس چرچ کہا جاتا ہے۔ ابتدائی مسیحی عمارتوں کی بجائے گھروں میں جمع ہوا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مذہب مخصوص مقدس مقامات سے آزاد ہو کر عالم گیر سکونتی جگہ یعنی گھر میں مرکوز ہو گیا۔ اُنگر کہتا ہے کہ دو صدیوں تک گھر مسیحیوں کے جمع ہونے کے مراکز کا کام دیتے رہے۔

ہو سکتا ہے کہ ہم یہ سوچنے لگیں کہ معاشی ضرورت سے مجبور ہو کر وہ مسیحی گھروں میں جمع ہوتے تھے اور کہ اِس میں روحانی خیال یا سوچ کا عمل دخل نہیں تھا۔ ہم گرجا گھروں کے اِتنے عادی ہو گئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ خدا کے نزدیک یہ مثالی مقام ہیں۔

لیکن بڑی مضبوط دلیل ہے کہ پہلی صدی کے ایمان دار شاید ہم سے زیادہ دانا اور عقل مند تھے۔

دُنیا میں غربت اور محتاجی اِتنی زیادہ ہے کہ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ایسی شان دار اور پُرتعیش عمارات پر لاکھوں روپیہ خرچ کرنا مسیحی ایمان اور محبت کے اصول کے منافی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہائوس چرچ ہر تہذیب اور ہر ملک کے لئے موزوں ہے۔ اور اگر ہم ساری دُنیا پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ کلیسیائوں کے جتنے اجتماعات گھروں میں ہوتے ہیں اَور کہیں نہیں ہوتے۔ آج ہم نے بڑے شاندار اور کیتھڈرل، گرجے اور چیپل بنا رکھے ہیں۔ اِن کے علاوہ اِتنی تنظیمیں ہیں جن کا شمار بھی ممکن نہیں۔ اِن کے برعکس اعمال کی کتاب میں رسولوں نے خداوند کے کام کے لئے کسی قسم کی تنظیم بنانے کی کوشش نہیں کی۔ مقامی کلیسیا ہی زمین پر خدا کی ایک جماعت ہوتی تھی جو ایمان کو پھیلاتی اور مشتہر کرتی تھی اور شاگرد اِسی اِنتظام کے اندر رہ کر کام کرتے تھے۔

حالیہ سالوں میں مسیحی دُنیا میں جب بھی کسی ایمان دار کو مسیح کے کام میں ترقی کے لئے کوئی خیال سوجھتا ہے تو وہ کوئی نیا مشن یا ادارہ بنا لیتا ہے۔

اِس کا ایک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لائق معلموں اور مبشروں کو بنیادی خدمت سے ہٹا کر ناظم (ایڈمنسٹریٹر) بنا دیا جاتا ہے۔ کاش یہ تمام حضرات تبلیغی میدان میں خدمات انجام دیں!

تنظیموں کی بھرمار کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بالائی اخراجات میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے اور اِنجیل کی بشارت کے فنڈ اِن اخراجات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ بہت سی مسیحی تنظیموں کو ملنے والی رقوم کا بیشتر حصہ اِس تنظیم کو چلانے اور اِس کی نگہداشت و پرداخت پر لگ جاتا ہے، اور جس بنیادی مقصد کے لئے تنظیم بنائی گئی تھی اِس کے لئے بہت تھوڑا حصہ بچتا ہے۔

تنظیموں کی بھرمار کا نتیجہ اکثر سازِشوں، دھڑے بندیوں، حسد اور مقابلہ بازی کی شکل میں نکلتا ہے جس سے مسیح کی گواہی کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔

یہ بھی غور کریں کہ اِن میں سے کتنی تنظیمیں صرف اِنسانی دھڑے بندیوں اور مقابلہ بازی کے باعث وجود میں آئی ہیں۔ حالانکہ لوگوں کے سامنے دعوے کئے جاتے ہیں کہ خدا کی مرضی سے بنی ہیں۔

اور اکثر یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ جب اِن تنظیموں کی افادیت ختم ہو جاتی اور اِن کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو اِس کے بعد بھی طویل عرصے تک یہ اپنے وجود کو قائم رکھتی ہیں۔ بانیوں کا رُؤیا ختم ہو جاتا ہے۔ بھلا دیا جاتا ہے۔ لیکن اِس کے پہئے کھڑکھڑاتے ہوئے چلتے رہتے ہیں۔ ایک جوشیلی اور ولولہ انگیز تحریک کی شان رُخصت ہو جاتی ہے، لیکن تنظیم کمبل کی طرح چمٹی رہتی ہے۔ غیر متمدن سادگی نے نہیں، بلکہ روحانی حکمت تھی جس نے اِبتدائی مسیحیوں کو خداوند کا کام کرنے کے لئے تنظیمیں بنانے سے بچائے رکھا۔ جی۔ایچ۔ لینگ (Lang) لکھتا ہے کہ:

«ایک تیز فہم مصنف نے کہا ہے کہ ’ہم نے مشنوں کی بنیادیں رکھیں جب کہ شاگردوں نے کلیسیائیں تشکیل دیں‘۔ یہ فرق بالکل درست اور معنی خیز ہے۔ رسولوں نے کلیسیائوں کی بنیادیں رکھیں۔ اُنہوں نے کسی اَور چیز کی بنیاد نہیں رکھی کیونکہ جو مقصد اُن کے سامنے تھا اِس کے لئے نہ کسی اَور چیز کی ضرورت تھی اور نہ کوئی اَور چیز موزوں ہو سکتی تھی۔ جس مقام پر بھی وہ محنت کرتے تھے وہ ایمان لانے والوں کی مقامی جماعت بنا دیتے تھے۔ وہاں بزرگوں __ ہمیشہ بزرگوں __ ایک بزرگ نہیں __ بلکہ بزرگوں کو مقرر کر دیتے تھے (اعمال ۱۴: ۲۳؛ ۱۵: ۶، ۲۳؛ ۲۰: ۱۷؛ فلپیوں ۱: ۱) تاکہ اُن کی راہنمائی کریں، اُن پر اِختیار رکھیں اور اُن کی پاسبانی کریں۔ اور یہ ایسے لوگ ہوتے تھے جن کو خدا توفیق اور لیاقت دیتا تھا۔ اور مقدسین اُنہیں تسلیم کرتے تھے (۱۔کرنتھیوں ۱۶: ۱۵؛ ۱۔تھسلنیکیوں ۵: ۱۲، ۱۳؛ ۱۔تیمتھیس ۵: ۱۷- ۱۹)۔ اِن کے علاوہ جماعتیں خادموں (ڈیکنوں) کو مقرر کرتی تھیں (اعمال ۶: ۱- ۶؛ فلپیوں ۱: ۱)۔ یہ اہم دُنیاوی معاملات کا بندوبست اور خصوصاً جماعت کے فنڈز کی تقسیم کا اِنتظام کرتے تھے۔ تنظیمی لحاظ سے رسول صرف اِتنا کرتے تھے کہ جو شاگرد جمع ہو جاتے تھے اُن کی ایسی ہی جماعتیں بنا دیتے تھے۔ نئے عہدنامے میں مقامی جماعتوں کے علاوہ ہمیں اَور کوئی تنظیم نظر نہیں آتی بلکہ ایسا بیج بھی نظر نہیں آتا۔»

ابتدائی مسیحی اور اُن کے رسولی راہنمائوں کے نزدیک مقامی کلیسیا ہی وہ یونٹ تھی جس کے وسیلے سے خدا کام کرتا تھا اور جس کو دوام بخشنے کا وعدہ اُس نے کیا ہے۔

 ہ۔ ایک لنگڑے آدمی کی شفا اور پطرس کا اِسرائیلی قوم پر الزام               (۳: ۱- ۲۶)

۳: ۱ کوئی تین بجے سہ پہر کا وقت تھا۔ پطرس اور یوحنا یروشلیم میں ہیکل کو جا رہے تھے۔ جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کلیسیا کے قیام کے بعد بھی کچھ عرصے تک یہودی مسیحی ہیکل میں عبادتوں میں شریک ہوتے رہے۔ یہ عبوری دَور تھا جس میں بہت سی باتوں کا تصفیہ کیا جا رہا تھا۔ یہ لوگ یہودیت سے یک دم علیٰحدہ نہیں ہوئے تھے۔ لیکن آج مناسب نہیں ہو گا کہ ایمان دار اُن مسیحیوں کی تقلید کریں کیونکہ ہمارے پاس نئے عہد کا پورا مکاشفہ موجود ہے اور ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ «اُس کی ذلت کو اپنے اوپر لئے ہوئے خیمہ گاہ سے باہر اُس کے پاس چلیں» (عبرانیوں ۱۳: ۱۳، مزید ملاحظہ کریں ۲۔کرنتھیوں ۶: ۱۷، ۱۸)۔

۳: ۲ وہ ہیکل کے نزدیک پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ لوگ ایک معذور بھکاری کو اُٹھا کر لا رہے ہیں۔ اُنہوں نے اُسے معمول کی جگہ یعنی اُس دروازہ پر بٹھا دیا «جو خوبصورت کہلاتا» تھا۔ اُس آدمی کی بے بسی دیکھئے کہ وہ «جنم کا لنگڑا» تھا۔ اِس کے بالمقابل خوبصورت دروازہ کی دلکشی اور جاذبیت اور ہیکل کی شان و شوکت کا تصور کیجئے۔ اِس سے ہمیں یاد آتا ہے کہ بڑے بڑے اور عظیم الشان کیتھڈرلوں کے سائے میں کیسی غربت اور جہالت موجود ہے۔ اور خطرہ ہے کہ زبردست کلیسیائی نظام جسمانی اور روحانی معذوروں کی مدد کرنے سے قاصر رہیں۔

۳: ۳ لگتا ہے کہ یہ لنگڑا صحت یاب ہونے سے مایوس ہو چکا تھا۔ چنانچہ اِسی بات پر صابر اور قانع تھا کہ بھیک مانگتا رہے۔

۳: ۴ پطرس نے اُس آدمی کو بے بس، ناچار اور بدبخت سمجھنے کے بجائے اُس کو ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جس میں خدا کی زبردست قدرت کا مظاہرہ ہو سکتا تھا۔ اگر ہم روح کی راہنمائی میں چلیں تو بلند بانگ دعوے نہیں کریں گے، ہوائی قلعے نہیں بنائیں گے، بلکہ ہماری نظریں اُن لوگوں پر مرکوز ہوں گی جن کو خدا برکت دینا چاہتا ہے۔

«ہماری طرف دیکھ۔» پطرس کے اِس حکم کا مقصد اپنی اور یوحنا کی شہرت اور تشہیر نہ تھا بلکہ وہ اُس فقیر کی پوری پوری توجہ چاہتا تھا۔

۳: ۵، ۶ اُس معذور آدمی کو اُن سے سوائے مالی امداد کے اَور کوئی اُمید نہ تھی۔ وہ اِسی «اُمید پر اُن کی طرف متوجہ ہوا»۔ مگر اُس نے وہ بیان سنا جو بیک وقت مایوس کن تھا اور سنسنی خیز بھی۔ جہاں تک بھیک دینے کا سوال تھا پطرس کے پاس دینے کو کچھ نہ تھا۔ لیکن اُس کے پاس دینے کو کچھ بہتر چیز تھی۔ اُس نے یسوع مسیح ناصری کے اِختیار سے لنگڑے کو حکم دیا کہ اُٹھ اور «چل پھر»۔ ایک فہیم اور چٹکلے باز مبلغ کہتا ہے، «اُس لنگڑے نے بھیک مانگی اور اُس کو لاتیں ملیں۔»

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ تھامس اکوِیناس (Aquinas) پوپ سے ملنے گیا۔ اُس وقت بڑی بڑی رقمیں گنی جا رہی تھیں۔ پوپ نے بڑے فخر سے کہا، «اب ہمیں پطرس کے ساتھ یہ کہنے کی ضرورت نہیں رہی کہ ’چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں‘۔» اکوِیناس نے برجستہ جواب دیا، «اور نہ آپ پطرس کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’ اُٹھ اور چل پھر‘! »

۳: ۷ پطرس نے اُس آدمی کا ہاتھ پکڑ کر «اُس کو اُٹھایا» تو جو «پائوں اور ٹخنے» اب تک بے کار تھے، اُن میں قوت دوڑنے لگی اور وہ «مضبوط ہو گئے۔» یہاں ہمیں پھر یاد دلایا جا رہا ہے کہ روحانی زندگی میں الٰہی قوت اور اِنسانی عمل عجیب طور سے ملا ہوا ہے۔ پطرس اُس آدمی کو پائوں پر کھڑے ہونے میں مدد دیتا ہے اور خدا شفا دیتا ہے۔ جو کچھ ہم کر سکتے ہیں وہ ہمیں کرنا چاہئے۔ پھر جو ہم نہیں کر سکتے وہ خدا کرے گا۔

۳: ۸ شفا کا معجزہ بتدریج نہیں بلکہ فوری تھا۔ غور کریں کہ خدا کا روح عمل و حرکت کے الفاظ کو کس طرح بڑھاتا ہے: «کود کر …کھڑا ہو گیا … چلنے پھرنے لگا … چلتا اور کودتا ہوا۔»

ایک شیرخوار کا چلنا سیکھنے کا عمل کیسا سُست اور تکلیف دِہ ہوتا ہے۔ اِس مشاہدے کے پیش نظر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اِس آدمی کا تجربہ کیسا تعجب انگیز ہے جو زندگی میں پہلی دفعہ فوراً چلنے اور کودنے لگا۔

یہ معجزہ جو یسوع کے نام میں کیا گیا، اِسرائیلی قوم کے لئے ایک اَور گواہی تھا کہ جس ہستی کو اُنہوں نے مصلوب کر دیا تھا وہ زندہ ہے۔ اور وہ اُن کا شفا دینے والا اور نجات دہندہ بننا چاہتا ہے۔

۳: ۹، ۱۰ یہ حقیقت ہے کہ اِس بھکاری کو ہر روز ہیکل کے دروازے پر ڈال دیا جاتا تھا۔ اِس لئے سارے لوگ اُس سے واقف تھے۔ اور جب وہ شفا پا گیا تو یہ معجزہ بھی لازماً مشہور ہو گیا۔ لوگ اِنکار نہیں کر سکتے تھے کہ ایک بڑا معجزہ ہوا ہے۔ لیکن اِس سارے معاملے کا مطلب کیا تھا؟

۳: ۱۱ وہ شفا یافتہ آدمی پطرس اور یوحنا کو یوں پکڑے ہوئے تھا جیسے وہ اُس کے طبیب تھے۔ «تو سب لوگ … اُس برآمدہ کی طرف جو سلیمان کا کہلاتا ہے اُن کے پاس دوڑے آئے۔» یہ برآمدہ ہیکل کے احاطے کا ایک حصہ تھا۔ اُن کی حیرت اور تعجب نے پطرس کو منادی کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔

۳: ۱۲ پہلے تو پطرس نے لوگوں کی توجہ اُس شفا یافتہ آدمی اور اپنی طرف سے ہٹائی۔ اُس نے بتایا کہ معجزے کی قدرت کا تعلق کسی طرح بھی ہمارے ساتھ نہیں ہے۔

۳: ۱۳- ۱۶ پطرس فوری طور پر لوگوں کو معجزے کے اصل سرچشمے یعنی خداوند یسوع مسیح سے متعارف کراتا ہے۔ وہ وضاحت کرتا ہے کہ یہ وہی یسوع ہے جس کو تم نے ردّ کر دیا تھا، جس کا تم نے اِنکار کر دیا تھا، جس کو تم نے قتل کیا اُس کو «خدا نے مردوں میں سے جِلایا» اور آسمان میں «جلال دیا»۔ اور اب اُسی پر ایمان کے وسیلے سے اِسی آدمی کو اِس کی ناچاری اور بے بسی سے شفا ملی ہے۔

اسرائیل کے لوگوں کو الزام دینے میں پطرس کی یہ پاکیزہ جرأت نہایت قابلِ تعریف ہے۔ اُس نے اُن پر یہ الزام لگائے:

  1.  تم نے یسوع کو «پکڑوا دیا» (مقدمہ چلانے کے لئے غیر قوموں کے حوالے کیا)۔
  2.  جب پیلاطس نے «اُسے چھوڑ دینے کا قصد کیا تو تم نے اُس کے سامنے اُس (یسوع) کا اِنکار کیا۔»
  3.  تم نے «اُس قدوس اور راست باز کا اِنکار کیا» اور ایک «خونی» (بَراَ بّا) کوچھوڑنے کی «درخواست کی»۔
  4.  تم نے «زندگی کے مالک کو قتل کیا»۔

 

اِس کے برعکس غور کریں کہ خدا نے یسوع کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

  1.  «خدا نے اُسے مُردوں میں سے جِلایا» (آیت ۱۵)۔
  2.  اُس نے « اپنے خادم یسوع کو جلال دیا» (آیت ۱۳)۔

آخر میں وہ مسیح پر ایمان پر زور دیتا ہے کہ ایمان ہی اِس معجزے کا باعث ہوا (آیت ۱۶)۔ دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی «نام» پورے شخص کی نمائندگی کرتا ہے۔ چنانچہ اُس کے نام پر ایمان کا مطلب ہے مسیح پر ایمان۔

۳: ۱۷ اِس آیت میں پطرس کے لہجے میں نمایاں تبدیلی ہے۔ اِسرائیلی قوم پر خداوند یسوع کی موت کا الزام لگانے کے بعد اب وہ اُن کو یہودی بھائیو کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور بڑی شفقت سے کہتا ہے کہ «تم نے یہ کام نادانی سے کیا۔» وہ اُن کو اُبھارتا ہے کہ توبہ کریں اور ایمان لائیں۔

پطرس کی یہ بات خاصی متضاد سی معلوم ہوتی ہے کہ یہودیوں نے خداوند کو نادانی سے مصلوب کیا تھا۔ کیا وہ پورے ثبوتوں اور اَسناد کے ساتھ نہ آیا تھا کہ مَیں مسیحِ موعود ہوں؟ کیا اُس نے اُن کے درمیان حیرت افزا معجزے نہیں کئے تھے؟ کیا اُس نے خدا کے برابر ہونے کا دعویٰ کر کے اُن کو طیش نہیں دلایا تھا؟ ہاں۔ یہ ساری باتیں درست ہیں۔ تو بھی وہ اِس حقیقت سے ناواقف تھے کہ یسوع مسیح مجسم خدا ہے۔ اُن کو توقع تھی کہ مسیحِ موعود ایسی حقیر اور پست حالت میں نہیں آئے گا بلکہ ایک زبردست فوجی ہو گا جو اُنہیں غیر قوموں کے غلبے اور تسلط سے رہائی دلائے گا۔ وہ یسوع کو مکار اور فریبی سمجھتے تھے۔

وہ نہیں جانتے تھے کہ یسوع واقعی خدا کا بیٹا ہے۔ اُن کا تو یہ خیال تھا کہ اُسے قتل کر کے ہم خدا کی خدمت کر رہے ہیں۔ اِسی لئے نجات دہندہ نے صلیب پر کہا کہ «یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں» (لوقا ۲۳: ۳۴)۔ اور بعد میں پولس نے بھی لکھا کہ «جسے اِس جہان کے سرداروں میں سے کسی نے نہ سمجھا کیونکہ اگر سمجھتے تو جلال کے خداوند کو مصلوب نہ کرتے» (۱۔کرنتھیوں ۲: ۸)۔

یہ سب کچھ اِس لئے تجویز ہوا کہ اِسرائیلی لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ اُن کے گناہ، خواہ کتنے بڑے ہوں، خدا کے فضل سے معاف ہو سکتے ہیں۔

۳: ۱۸ اُن کو گناہ سے معذور رکھے بغیر پطرس ثابت کرتا ہے کہ خدا نے اپنی حاکمیت سے یہ سب کچھ اِس طرح ہونے دیا کہ اُس کے مقصد اور ارادے پورے ہوئے۔ پرانے عہدنامے کے نبیوں نے نبوت کی تھی کہ مسیحِ موعود «دُکھ اُٹھائے گا» اور یہودی قوم ہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اُس کو ہر طرح کے دُکھ دیئے۔ مگر اب وہ خود کو اُن کے خداوند اور نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اُس کے وسیلے سے وہ اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔

۳: ۱۹ ضرور ہے کہ اِسرائیلی «توبہ کریں اور رجوع لائیں»۔ ایسا کریں گے تو اُن کے «گناہ مٹائے جائیں» گے «اور اِس طرح خداوند کے حضور سے تازگی کے دن آئیں» گے۔

یاد رکھیں کہ اِس پیغام کے مخاطبین اسرائیلی ہیں (آیت ۱۲)۔ یہاں زور دیا گیا ہے کہ قومی بحالی اور برکت سے پہلے قومی توبہ ضروری ہے۔ «خداوند کے حضور سے تازگی کے دن» یہ اِشارہ ہے مسیح کی مستقبل کی بادشاہی اور برکت کی طرف جس کا بیان اگلی آیت میں ہوا ہے۔

۳: ۲۰ قوم توبہ کرے گی تو خدا مسیح یعنی یسوع کو بھیجے گا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اِس سے مراد مسیح کی دوسری آمد ہے جب وہ زمین پر اپنی ہزار سالہ بادشاہی قائم کرے گا۔

۳: ۲۱ یہاں لازماً یہ سوال اُٹھتا ہے کہ «اگر اِسرائیل اُس وقت توبہ کر لیتا جب پطرس کہہ رہا تھا تو کیا خداوند یسوع دُنیا میں واپس آ جاتا؟» خدا کے لوگوں میں اِس موضوع پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض زور دے کر کہتے ہیں کہ ہاں، وہ واپس آ جاتا، ورنہ وہ وعدہ سچا نہ ہوتا۔ دوسرے علما کلام کے اِس حصے کو نبوتی مانتے ہیں کہ یہ اُن باتوں کا بیان ہے جو واقعی وقوع پذیر ہوں گی۔ یہ سوال خالصتاً نظری اور قیاسی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بنی اِسرائیل نے توبہ نہیں کی اور خداوند یسوع واپس نہیں آیا۔ آیت ۲۱ سے واضح ہوتا ہے کہ خدا نے پیش بینی سے دیکھ لیا تھا کہ اِسرائیلی مسیح کو ردّ کریں گے اور فضل کا موجودہ دَور آئے گا جو مسیح کی آمدثانی تک چلے گا۔ «ضرور ہے کہ وہ (مسیح) آسمان میں اُس وقت تک رہے گا جب تک کہ وہ سب چیزیں بحال نہ کی جائیں۔» سب چیزوں کی بحالی کا وقت ہزار سالہ بادشاہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اِس سے مراد عالم گیر نجات کا وقت نہیں ہے۔ ایسی تعلیم بائبل مقدس سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی بلکہ یہ اِشارہ اُس وقت کی طرف ہے جب مخلوقات فنا کے قبضے سے آزاد ہو گی اور مسیح راست بازی کے ساتھ حکومت کرے گا اور ساری دُنیا کا بادشاہ ہو گا۔ پرانے عہدنامے کے نبیوں نے «بحالی کے وقت » کی خبر دی ہے۔

بعض علما آیت ۲۱ کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فضائی اِستقبال بڑی مصیبت سے پہلے نہیں ہو گا۔ اُن کی دلیل یہ ہے کہ اگر ضرور ہے کہ ہزار سالہ بادشاہی کے شروع ہونے تک مسیح آسمان میں رہے تو وہ اِس سے پہلے نہیں آ سکتا تاکہ کلیسیاکو آسمانی وطن میں لے جائے۔ جواب یہ ہے کہ یہاں پطرس اِسرائیلی لوگوں سے مخاطب ہے (آیت ۱۲)۔ وہ اسرائیل کے ساتھ بحیثیت قوم خدا کے سلوک اور برتائو کا ذکر کر رہا ہے۔ «جہاں تک اِسرائیلی قوم کا تعلق ہے» وہ آسمان ہی میں رہے گا اور بڑی مصیبت کے بعد بادشاہی کرنے آئے گا۔ لیکن وہ یہودی جو موجودہ کلیسیائی دَور میں فرداً فرداً مسیح پر ایمان لائیں گے، وہ کلیسیا کے فضائی اِستقبال میں غیر یہودی ایمان داروں کے ساتھ شریک ہوں گے۔ اور یہ فضائی اِستقبال کسی لمحے بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ مزید برآں یہ کہ فضائی استقبال میں خداوند آسمان کو نہیں چھوڑتا بلکہ ہم ہوا میں اُس کے پاس جائیں گے۔

۳: ۲۲ پرانے عہدنامے کی نبوتیں مسیح کے شاندار دَورِ حکومت کا پتا دیتی ہیں۔ مثال کی خاطر پطرس اُن میں سے ایک نبوت کا اِقتباس کرتا ہے جو اِستثنا ۱۸: ۱۵، ۱۸، ۱۹ میں پائی جاتی ہے۔ یہ حوالہ خداوند یسوع کی تصویر پیش کرتے ہوئے اُس کو اِسرائیل کے سنہری زمانے میں ایک نبی کے طور پر دکھاتا ہے۔ یہ نبی خدا کے ارادے اور شریعت کا اعلان کرتا ہے۔

جب موسیٰ نے کہا کہ «خداوند خدا تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے مجھ سا ایک نبی پیدا کرے گا» تو اِس سے مراد لیاقت اور کردار کی مشابہت نہیں بلکہ اِس مناسبت سے تھی کہ دونوں کو «خدا نے برپا کیا ہے»۔ «وہ اُس کو ویسے ہی برپا کرے گا جیسے مجھے برپا کیا ہے۔»

۳: ۲۳ اِس زمین پر مسیح کی حکمرانی کے دوران جو کوئی اُس کی نہ سنے گا اور نہ مانے گا، اُس کو «نیست و نابود» کر دیا جائے گا۔ بے شک جو اُس کو آج ردّ کرتے ہیں اُن پر بھی اَبدی غضب ہو گا۔ لیکن اِس حوالے میں بنیادی اور اوّلین تصور یہ ہے کہ ابھی مسیح کو لوہے کے عصا سے حکومت کرنا ہے۔ اور جو لوگ اُس کی نافرمانی کریں اور اُس سے بغاوت کریں گے اُن کو بلا توقف ہلاک کیا جائے گا۔

۳: ۲۴ بحالی کے وقت کے بارے میں نمایاں نبوت کی گئی ہے۔ اِس بات پر زور دینے کے لئے پطرس مزید کہتا ہے کہ «سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے کلام کیا اُن سب نے اِن دنوں کی خبر دی ہے۔» مراد ہے مسیح کی بادشاہی کے زمانے کی خبر دی ہے۔

۳: ۲۵ اب پطرس اپنے یہودی سامعین کو یاد دلاتا ہے کہ برکت کے اِس زمانے کا وعدہ تم سے کیا گیا ہے کیونکہ «تم نبیوں کی اولاد» اور ابرہام کی نسل ہو۔ آخر «خدا نے … ابرہام سے» وعدہ کیا تھا کہ «تیری اولاد سے دُنیا کے سب گھرانے برکت پائیں گے۔» ہزار سالہ برکات کے تمام وعدے «اولاد» یعنی مسیح میں مرتکز ہوتے ہیں۔ اِس لئے چاہئے کہ وہ خداوند یسوع کو مسیحِ موعود مان لیں اور اُسے قبول کر لیں۔

۳: ۲۶ «خدا نے» پہلے ہی «اپنے خادم کو اُٹھا» کھڑا کیا تھا (۳: ۱۳) اور پہلے اُسے اِسرائیلی قوم کے پاس بھیجا تھا۔ اِس بات کا اِشارہ ہمارے خداوند کے تجسم اور زمینی زندگی کی طرف ہے، اُس کے جی اُٹھنے کی طرف نہیں۔ اگر وہ اُسے قبول کر لیں تو خدا اُن میں سے «ہر ایک کو اُس کی بدیوں سے پھیر کر برکت دے» گا۔

پطرس نے یہ وعظ اِسرائیلی لوگوں کے سامنے کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِس میں نظر کلیسیا پر نہیں بلکہ «بادشاہی» پر ہے۔ اور زور فرد پر نہیں بلکہ قوم پر ہے۔ خدا کا روح تحمل اور رحم کے ساتھ اسرائیل پر منڈلا رہا ہے، اور خدا کی قدیم قوم سے درخواست کرتا ہے کہ جلال یافتہ خداوند یسوع کو مسیحِ موعود قبول کر لو، اور اِس طرح زمین پر مسیح کی بادشاہی لانے میں جلدی کا باعث بنو۔

لیکن اسرائیل نہیں سنتا، پر نہیں سنتا۔

 و۔ کلیسیا کی ایذارسانی اور ترقی  (۴: ۱- ۷: ۶۰)

۴: ۱- ۴ نوزائیدہ کلیسیا کی پہلی ایذارسانی شروع ہونے والی تھی۔ حسب ِمعمول اِس کا آغاز بھی مذہبی لیڈروں کی طرف سے ہوا۔ «کاہن اور ہیکل کا سردار اور صدوقی اُن (رسولوں) پر چڑھ آئے۔»

سکراگی (Scroggie) کہتا ہے کہ کاہن مذہبی عدم رواداری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اور ہیکل کا سردار سیاسی دشمنی کا نمائندہ ہے، جب کہ صدوقی قیامت کے عقیدے کا اِنکار کرتے ہیں۔ چونکہ شاگردوں کی منادی کا مرکزی نقطہ قیامت یعنی مردوں کا جی اُٹھنا تھا اِس لئے صدوقی اُن کی کھلم کھلا مخالفت کرتے تھے۔ سپرجن  (Spurgeon) کو یہاں ایک مطابقت نظر آتی ہے۔

«جیسا کہ سب جانتے ہیں صدوقی آزاد خیال، ترقی پسند مفکرین یا اپنے زمانے میں جدید سوچ رکھنے والے لوگ تھے۔اگر آپ تلخ طعن یا ظالمانہ عمل چاہتے ہیں تو مَیں سفارش کروں گا کہ آپ اُن وسیع القلب صدوقی شرفا کے پاس جائیں۔ وہ ہر ایک کے ساتھ آزاد خیالی سے پیش آتے ہیں، سوائے اُن کے جو سچائی پر قائم رہتے ہیں۔ اُن کے لئے صدوقیوں کے پاس ایسی خالص تلخی ہے جو پِت اور ناگدونے سے بھی بڑھ کر ہے۔ وہ اپنے ساتھی خطا پسندوں کے ساتھ ایسے فیاض ہیں کہ انجیلی ایمان والوں کے لئے ذرا تحمل اور برداشت اُن کے پاس نہیں ہے۔»

یہ لیڈر اِس حقیقت سے چڑتے اور خار کھاتے تھے کہ رسول لوگوں کو تعلیم دیتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ تو صرف ہمارا خصوصی حق ہے۔ اِس کے ساتھ اُن کو یہ بات بھی غصہ دلاتی تھی کہ رسول «یسوع کی نظیر دے کر مردوں کے جی اُٹھنے کی منادی کرتے تھے»۔ اگر «یسوع … مردوں» میں سے «جی اُٹھا ہے»، تو صدوقی جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔

آیت ۲ میں «مردوں کے جی اُٹھنے» کے الفاظ بے حد اہم ہیں کیونکہ اِن سے اُس عام تصور کی نفی ہوتی ہے کہ دُنیا کے آخر میں مردوں کی عام قیامت ہو گی۔ کلام کا یہ حصہ اور کئی دیگر حصے مردوں میں سے جی اُٹھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کچھ مردے زندہ کئے جائیں گے جب کہ باقی (یسوع پر ایمان نہ لانے والے) مردے کسی بعد کے وقت تک قبروں ہی میں رہیں گے۔

لیڈروں نے فیصلہ کیا کہ رسولوں کو اگلے دن تک گھر میں نظر بند رکھا جائے۔ اِس لئے کہ «شام ہو گئی تھی» (باب ۳ میں شفا دینے کا معجزہ تقریباً ۳ بجے بعد از دوپہر ہوا تھا)۔

باضابطہ مخالفت کے باوجود بہت سے لوگ خداوند کی طرف پھرے۔ «یہاں تک کہ مردوں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہو گئی» یعنی اِتنے مرد مسیحی رفاقت میں شامل ہو گئے۔ مفسرین میں اِس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ اِس تعداد میں پنتکست کے دن ایمان لانے والے تین ہزار افراد بھی شامل ہیں یا نہیں۔ البتہ اِس تعداد میں عورتیں اور بچے شامل نہیں۔

۴: ۵، ۶ «دوسرے دن» مذہبی کونسل جس کو سنہیڈرن کہا جاتا تھا تفتیش کرنے کے لئے فراہم ہوئی۔ ارادہ یہ تھا کہ عام لوگوں میں گڑ بڑ پھیلانے والوں کا قلع قمع کر دیا جائے۔ اُن کو کامیابی ہوئی تو صرف اِتنی کہ رسولوں کو مسیح کی گواہی دینے کا ایک اَور موقع فراہم کر دیا۔

نہ صرف اُمت کے سردار اور بزرگ اور فقیہ جمع ہوئے بلکہ اُن کے ہمراہ ذیل کے لوگ بھی تھے:

  1.  «سردار کاہن حنا۔» اِسی کے سامنے خداوند کی پہلے پیشی ہوئی تھی۔ وہ ریٹائرسردار کاہن تھا۔ مگر اب غالباً اخلاقاً ہی اُسے ’سردار کاہن‘ کہا جاتا تھا۔
  2.  « کیفا۔» یہ حنا کا داماد تھا۔ اُس نے خداوند کے مقدمے کی صدارت کی تھی۔
  3.  «یوحنا اور اسکندر»۔ اِن کے متعلق اَور کچھ معلوم نہیں۔
  4.  «اور جتنے سردار کاہن کے گھرانے کے تھے» یعنی کاہنوں کی بلند مرتبہ اولاد۔

۴: ۷ مقدمے کا آغاز رسولوں سے اِس سوال کے ساتھ ہوا کہ «تم نے یہ کام کس قدرت اور کس نام سے کیا؟» «یہ کام» مراد لنگڑے کے شفا دینے کا معجزہ ہے۔ پطرس نے آگے بڑھ کر مسیح کی گواہی دی۔ یروشلیم میں یہ پطرس کا مسلسل تیسرا وعظ تھا۔ اُس نے علانیہ مسیح کا اِقرار کیا۔ اُس کو انمول موقع مل گیا تھا کہ مذہبی اِنتظامیہ کے سامنے اِنجیل کی منادی کرے۔ اور اُس نے بے دھڑک ہو کر جوش کے ساتھ اِس موقعے سے فائدہ اُٹھایا۔

۴: ۸- ۱۲ پہلے تو اُس نے اُن کو یاد دلایا کہ تم اِس لئے ناراض ہو کہ «ایک ناتواں آدمی» «اچھا ہو گیا»۔ اگرچہ پطرس نے یہ بات نہیں کہی، لیکن اِشارہ ضرور موجود ہے کہ وہ لنگڑا آدمی ہر روز ہیکل کے دروازے پر بھیک مانگا کرتا تھا لیکن اِن سرداروں نے اُسے کبھی شفا نہیں دی۔ وہ اِس قابل ہی نہ تھے۔ اِس کے بعد پطرس نے گویا بجلی گرا دی کہ اُن سے برملا کہا کہ «یسوع مسیح ناصری … کے نام سے یہ شخص تمہارے سامنے تندرست کھڑا ہے»۔ اور اِس یسوع ناصری کو «تم نے صلیب دی اور خدا نے (اُسے) مُردوں میں سے جِلایا»۔ یہودیوں کے تعمیراتی منصوبہ میں یسوع کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔ اِس لئے اُنہوں نے اُس کو «حقیر جانا» اور «صلیب دی۔» لیکن «خدا نے (اُسے) مردوں میں سے جلایا» اور آسمان پر سربلند کیا۔ اِس طرح ردّ کیا ہوا پتھر «کونے کے سرے کا پتھر» بن گیا۔ یعنی وہ ناگزیر پتھر بن گیا جس کے بغیر تعمیراتی ڈھانچا کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اور یسوع ہے ہی ناگزیر۔ اُس کے بغیر نجات نہیں «کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلے سے ہم نجات پا سکیں۔» ہم صرف اِسی نام سے نجات پا سکتے ہیں۔

آیات ۸- ۱۲ کو پڑھتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ الفاظ اُسی شخص نے کہے جس نے لعن طعن اور قسم کے ساتھ تین بار خداوند کا اِنکار کیا تھا۔

۴: ۱۳ خشک اور نمائشی مذہب کبھی بھی ولولہ انگیز اور جاندار تبلیغ کو برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ دلوں اور زندگیوں میں اثر پیدا کرتی ہے۔ لیڈر «اَن پڑھ اور ناواقف» آدمیوں کو معاشرے پر اثر انداز ہوتے دیکھ کر تعجب کرنے لگتے ہیں۔ اِس لئے کہ وہ خود اپنی ساری حکمت اور علم کے باوجود «گوشت اور خون (جسمانیت) سے اُوپر نہیں اُٹھ سکتے۔»

جیمز اے۔ سٹوأرٹ (Stewart) کہتا ہے:

«نئے عہدنامے میں خادمانِ دین اور کلیسیا کے عام اراکین کے درمیان کوئی اِمتیاز نہیں۔ یہ امتیاز رومن کیتھولک مذہب کا تاریخی بقیہ ہے۔ چیکو سلواکیہ میں جان حص (Huss) نے اِسی عقیدے کے لئے لڑتے ہوئے جان دی کہ سارے ایمان دار کاہن ہیں۔ اور آج تک حَص کا نشان کھلی بائبل مقدس کے اوپر عشائے ربانی کا پیالہ ہے۔ ابتدائی کلیسیا میں روحانی قوت ِمحرکہ یہی سچائی تھی کہ ہم سب شاہی کاہن ہیں اور ہر ایمان دار گواہ ہے۔ اُس وقت نہ جدید سازو سامان موجود تھا، نہ ذرائع نقل و حمل تھے، نہ پاک کلام کا کوئی ترجمہ نہ کتابی صورت میں اِشاعت کی سہولت مہیا تھی، لیکن خدا کے فضل کی خوش خبری نے ساری سلطنت ِ رومہ بلکہ قیصر کے گھرانے کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ خدا ہم کو اُسی قدیم اور ابتدائی مسیحیت میں بُلا رہا ہے۔»

سنہیڈرن «پطرس اور یوحنا کی دلیری» دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی۔ وہ تو چاہتے تھے کہ اُن کو گلیل کے «اَن پڑھ اور ناواقف» مچھیرے کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ لیکن اُن کے ضبطِ نفس، قوت سے بھرپور زندگیوں اور جرأت اور بے خوفی نے اُن عالموں کو اُس موقعے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا جب یسوع پر مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔ اُنہوں نے رسولوں کی دلیری کو اِس حقیقت سے منسوب کیا کہ «یہ یسوع کے ساتھ رہے ہیں»۔ لیکن اصل وضاحت یہ ہے کہ اب وہ روح القدس سے معمور تھے۔

۴: ۱۴- ۱۸ پھر کمرۂ عدالت میں وہ شفا یافتہ آدمی بھی موجود تھا جو پہلے معذور تھا۔ اُس کی موجودگی بھی اِن سرداروں کے لئے گھبراہٹ اور پریشانی کا باعث تھی۔ اِنکار کرنا ممکن ہی نہ تھا کہ معجزہ ہوا ہے۔

جے۔ ایچ۔ جووئٹ (Jowett) رقم طراز ہے کہ:

«لوگ دلیل بازی اور تیز فہمی میں آپ سے بازی لے جا سکتے ہیں۔ ذہنی بحث میں آپ بآسانی مات کھا سکتے ہیں۔ لیکن مخلصی یافتہ زندگی کی دلیل ایسا وار ہے جسے روکنا ممکن نہیں۔ ’اُس آدمی کو جو اچھا ہوا تھا اُن کے ساتھ کھڑا دیکھ کر کچھ خلاف نہ کر سکے۔‘ »

اپنی حکمت ِعملی وضع کرنے کے لئے اُنہوں نے پطرس اور یوحنا کو تھوڑی دیر کے لئے کمرۂ عدالت سے باہر بھیج دیا۔ اُن کا اَن حل مسئلہ یہ تھا کہ وہ مہربانی اور بھلائی کا کام کرنے پر رسولوں کو سزا نہیں دے سکتے تھے۔ لیکن اگر وہ اِن مذہبی جنونیوں کو نہیں روکتے تو اُن کے اپنے مذہب کو زبردست خطرہ ہے کہ ارکان کی تعداد کم ہو جائے گی۔ چنانچہ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ پطرس اور یوحنا کو حکم دیا جائے کہ «پھر یہ (یسوع کا) نام لے کر کسی سے بات نہ کریں، » یعنی نہ تو شخصی گفتگو میں یسوع کا ذکر کریں نہ لوگوں میں اُس کی عام منادی کریں۔

۴: ۱۹، ۲۰ پطرس اور یوحنا ایسی پابندی کیسے قبول کر سکتے تھے؟ اُن کی پہلی وفاداری اور ذمہ داری خدا کے ساتھ تھی، اِنسان کے ساتھ نہیں تھی۔ اگر وہ سچے تھے، تو سرداروں کو یہ بات ماننا تھی۔ رسولوں نے مسیح کی قیامت اور صعود دیکھا تھا۔ وہ ہر روز اُس کے قدموں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے رہے تھے۔ وہ اپنے خداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی گواہی دینے کے ذمہ دار تھے۔

۴: ۲۱، ۲۲ مذہبی سرداروں کی حالت بے حد کمزور تھی۔ یہ کمزوری اِس حقیقت سے صاف ظاہر ہے کہ وہ رسولوں کو سزا نہیں دے سکتے تھے۔ «یروشلیم کے سب رہنے والوں پر روشن ہے کہ اُن سے ایک صریح معجزہ ظاہر ہوا۔» شفا یافتہ آدمی «چالیس برس سے زیادہ کا تھا»۔ سب لوگ اُسے جانتے تھے، کیونکہ ایک عرصے سے اُس کی افسوس ناک حالت کو دیکھتے رہے تھے۔ چنانچہ سنہیڈرن صرف یہ کر سکی تھی کہ رسولوں کو مزید ڈرا دھمکا کر چھوڑ دے۔ اُن کو اِسی پر اکتفا کرنا پڑا۔

۴: ۲۳ رسولوں کو طبعی طور پر احساس تھا کہ ہم خدا کے فرزند ہیں اور آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ وہ افسران سے چھوٹ کر سیدھے اپنے ساتھی ایمان داروں کے پاس گئے۔ اُن کی رفاقت اُس گروہ کے ساتھ تھی جس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں، جو ڈرے سہمے گلّے کی مانند تھا۔ جس کا جرم صرف مسیح تھا۔ چنانچہ ہر دَور میں ایک مسیحی کے کردار کا ایک اِمتحان یہ ہوتا ہے کہ اُس کی صحبت اور رفاقت کہاں اور کن لوگوں کے ساتھ ہے۔

۴: ۲۴- ۲۶ مقدسین نے جونہی یہ واقعہ سنا وہ بلند آواز سے دعا کے ساتھ خداوند کو پکارنے لگے۔ اُنہوں نے خدا کو ایک ایسے لقب سے پکارا جس کا مطلب ہے «اے مالک ِمطلق»۔ یہ لفظ نئے عہدنامے میں بہت ہی کم استعمال ہوا ہے۔ پہلے تو اُنہوں نے اُس کی حمد و ستائش کی کہ وہ ساری چیزوں کا خالق ہے (اِس لئے اُن اِنسانوں سے اعلیٰ و برتر ہے جو اُس وقت اُس کی مخالفت کر رہے تھے)۔ پھر اُنہوں نے زبور ۲ میں «دائود» کے الفاظ کو اپنایا جو اُس نے روح القدس کی تحریک سے مخالف حکومتی طاقتوں کے سلسلے میں فرمائے تھے کہ وہ «خداوند اور اُس کے مسیح کی مخالفت» کرتی ہیں۔ دراصل یہ زبور اُس زمانے کی طرف اِشارہ کرتا ہے جب مسیح اپنی بادشاہی قائم کرنے کے لئے آئے گا۔ اور کہ «زمین کے بادشاہ … اور سردار» اِس مقصد کو ناکام کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن ابتدائی دَور کے مسیحیوں کو بھی احساس تھا کہ ہمارے زمانے میں بھی صورتِ حال ویسی ہی ہے۔ چنانچہ وہ اِن الفاظ کا اطلاق اپنے حالات پر بھی کرتے تھے۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ وہ بڑی مہارت سے پاک نوشتوں کو اپنی دعائوں کے تانے بانے میں شامل کر لیتے تھے۔ یہ اُن کی حقیقی روحانیت کا ثبوت ہے۔

۴: ۲۷، ۲۸ یہاں زبور کے الفاظ کا اطلاق دکھایا گیا ہے۔ وہیں یروشلیم میں رومیوں اور یہودیوں نے مل کر خدا کے «پاک خادم یسوع» کے خلاف سازِش کی تھی۔ ہیرودیس یہودیوں کی اور «پیلاطُس» غیر قوموں کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن آیت ۲۸ کا اِختتام تعجب انگیز ہے۔ توقع تو یہ ہو گی کہ کہا جائے گا کہ اُنہوں نے باہم مل کر وہ کچھ کیا جو اُن کے شریر دلوں نے تجویز کیا تھا۔ لیکن اِس کے برعکس کہا یہ گیا ہے کہ «تاکہ جو کچھ پہلے سے تیری قدرت اور تیری مصلحت سے ٹھہر گیا تھا وہی عمل میں لائیں۔»

میتھیسن (Matheson) اِس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے:

«اُن کی کوشش تھی کہ الٰہی مرضی اور ارادے کی مخالفت کریں، لیکن یہ کوشش اُسی مرضی کے ساتھ اتحاد ثابت ہوئی۔ وہ مسیح کے خلاف ایک جنگی مشورت میں اکٹھے ہوئے، لیکن لاشعوری طور پر اُنہوں نے مسیح کے جلال کے فروغ کے لئے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔»

ہمارا خدا اپنے خلاف اُٹھنے والے طوفان کی تندی کو کم نہیں کرتا بلکہ وہ اُس پر سوار ہوتا اور اُس کے وسیلے سے کام کرتا ہے۔

۴: ۲۹، ۳۰ خدا کی سب پر حاوی قدرت پر اعتماد کا اِظہار کرنے کے بعد مسیحیوں نے تین واضح درخواستیں کیں۔

  1.  «اُن کی دھمکیوں کو دیکھ۔» اُنہوں نے خدا کو یہ بتانا مناسب نہ سمجھا کہ وہ اِن شریر لوگوں کے ساتھ کیا کرے بلکہ اُنہوں نے صرف معاملہ اُس پر چھوڑ دیا۔
  2.  «اپنے بندوں کو یہ توفیق دے۔» اُن کی اپنی شخصی محافظت کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی۔سب سے اہم بات کلام کی منادی کرنے کے لئے دلیری اور بے خوفی تھی۔
  3.  «تُو اپنا ہاتھ شفا دینے کو بڑھا۔» ابتدائی دَور میں خدا اِنجیل کی منادی کی توثیق معجزات سے کرتا تھا۔ یہ معجزے اور عجیب کام یسوع کے نام سے ظہور میں آتے تھے۔ یہاں ایمان دار خدا سے التماس کرتے ہیں کہ ہماری خدمت کی توثیق اِسی طرح کرتا رہ۔

۴: ۳۱ «جب وہ دعا کر چکے تو … مکان … ہل گیا۔» یہ وہاں موجود روحانی قوت کا جسمانی اِظہار تھا۔

«اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے» جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خداوند کے فرماں بردار تھے، نور میں چلتے تھے، اُس کی اطاعت کرتے تھے۔ وہ «خدا کا کلام دلیری سے سناتے رہے»۔ یہ آیت ۲۹ میں اُن کی دعا کا واضح جواب تھا۔

اعمال کی کتاب میں سات دفعہ آیا ہے کہ وہ روح القدس سے بھر گئے۔ اِس کے نتائج یا مقاصد پر غور کریں۔

  1.  بولنے کے لئے  (۲: ۴؛ ۴: ۸ اور یہاں)۔
  2.  خدمت کرنے کے لئے  (۶: ۳)۔
  3.  پاسبانی کرنے کے لئے (۱۱: ۲۴)۔
  4.  جھڑکنے کے لئے (۱۳: ۹)۔
  5.  مرنے کے لئے  (۷: ۵۵)۔

۴: ۳۲- ۳۵ جب دلوں میں مسیح کی محبت شعلہ زن ہو تو اُن میں ایک دوسرے کے لئے محبت بھی سُلگتی ہے۔ اِس محبت کا اِظہار دینے سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ابتدائی دَور کے مسیحی مسیح میں اپنی مشترکہ زندگی کی حقیقت یوں ظاہر کرتے تھے کہ اپنے مال و اسباب کو ساری جماعت کے لئے مشترک سمجھتے تھے۔ ذاتی املاک پر خود غرضی سے قبضہ جمائے رکھنے کے بجائے وہ سمجھتے تھے کہ یہ سب کی مشترکہ ملکیت ہے۔ جب بھی کوئی ضرورت ہوتی وہ اپنی زمینوں یا گھروں کو بیچتے اور قیمت لا کر رسولوں کے سپرد کر دیتے تاکہ وہ «ہر ایک کو اُس کی ضرورت کے موافق بانٹ» دیں۔ اِس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ وہ اُسی وقت بانٹتے تھے جب کوئی ضرورت ہوتی تھی۔ وہ کسی خاص وقت پر بلا وجہ یا یوں ہی سب کو برابر برابر نہیں بانٹ دیتے تھے۔

ایف۔ ڈبلیو۔ گرانٹ (Grant) وضاحت کرتا ہے کہ :

«یہ ذاتی ملکیت سے عام دست برداری نہ تھی بلکہ وہ محبت تھی جو دوسرے کی ضرورت کے وقت کچھ بھی پیچھے نہیں رکھتی۔ یہ دلوں کا طبعی احساس تھا جس نے اُس مقام میں حقیقی ملکیت تلاش کر لی تھی جس میں مسیح نے صعود کیا تھا۔»

ایف۔ ای۔ مارش (Marsh) ایک جدید متوازی خاکہ پیش کرتا ہے، جو اگرچہ طنزیہ ہے، مگر افسوس ہے کہ ہے درست۔ ملاحظہ کیجئے:

«آج کی مسیحیت کا ابتدائی کلیسیا کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے کسی نے کہا ہے کہ کیا یہ سنجیدہ خیال نہیں ہے کہ اِنجیل نویس لوقا ابتدائی مسیحیت کی بجائے اگر موجودہ دَور کی مسیحیت کا بیان کرتا تو اُس کو اعمال ۴: ۳۲- ۳۵ کے الفاظ و بیان کو کچھ یوں بدلنا پڑتا … ’اور ایمان داروں کی جماعت سخت دل اور سنگین روح کی مالک تھی۔ اور ہر کوئی کہتا تھا کہ میرا سارا مال و اسباب میرا اپنا ہی ہے۔ اُن کی ساری چیزیں فیشن کے مطابق تھیں اور وہ بڑی قدرت سے دُنیا کی دل کشی اور دلچسپیوں کی گواہی دیتے تھے۔ اور اُن سب میں بڑی خود غرضی تھی۔ اُن میں بہت سے ایسے تھے جو محبت سے خالی تھے کیونکہ جو لوگ زمینوں اور گھروں کے مالک تھے وہ اَور زمینیں اور گھر خریدتے تھے، اور کبھی کبھار تھوڑا بہت عام لوگوں کی بھلائی کے لئے بھی دے دیتے تھے تاکہ اُن کے ناموں کی اخبارات میں تشہیر ہو۔ اور تعریف و توصیف ہر ایک کو اُس کی مرضی کے مطابق بانٹ دی جاتی تھی‘۔»

جو زندگیاں پورے طور پر خداوند کے لئے وقف ہوتی ہیں، اُن میں ایک پُراسرار قوت ہوتی ہے۔ اِس لئے محض اتفاق نہیں ہے کہ آیت ۳۳ میں ہم پڑھتے ہیں کہ «اور رسول بڑی قدرت سے خداوند یسوع کے جی اُٹھنے کی گواہی دیتے رہے اور اُن سب پر بڑا فضل تھا»۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب خدا کو ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو اپنا مال و اسباب اُس کی خاطر دے دینے کو تیار ہوتے ہیں تو وہ اُن کی گواہی میں نمایاں اور قابلِ بیان دلکشی اور قوت پیدا کر دیتا ہے۔

بہت سے لوگ دلیل دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کو اپنی چیزوں میں شریک کرنے کا یہ عمل اِبتدائی کلیسیا میں ایک عارضی مرحلہ تھا۔ اِس کا مقصد ہمارے لئے ایک نمونہ پیش کرنا نہیں تھا۔ ایسی دلیل بازی صرف ہماری روحانی غربت اور افلاس کو بے نقاب کرتی ہے۔ اگر ہمارے دل میں پنتکست کی قوت ہو تو ہماری زندگی میں پنتکست کے پھل بھی ہوں گے۔

رائری (Ryrie) توجہ دلاتا ہے کہ :

«یہ کوئی ’مسیحی اشتراکیت‘ نہیں ہے۔ ملکیت کی فروخت بالکل رضاکارانہ تھی (آیت ۳۴)۔ ملکیت رکھنے کے حق کو ختم نہیں کیا گیا تھا۔ جماعت روپے پیسے پر اُس وقت تک کنٹرول نہیں کرتی تھی جب تک وہ رضاکارانہ رسولوں کو نہیں دیا جاتا تھا۔ تقسیم برابر برابر نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق ہوتی تھی۔ یہ اشتراکی اصول نہیں ہیں۔ یہ مسیحی محبت کا بہترین اِظہار تھا۔»

آیت ۳۳ میں کسی عظیم کلیسیا کے دو نشان دیکھیں __ «بڑی قدرت» اور «بڑا فضل»۔ ایک عالم نے چار مزید نشان بتائے ہیں۔ بڑا خوف (۵: ۵، ۱۱)، بڑا ظلم (۸: ۱)، بڑی خوشی (۸: ۸؛ ۱۵: ۳)، ایمان لانے والوں کی بڑی تعداد (۱۱: ۲۱)۔

۴: ۳۶، ۳۷ یہ آیات باب ۵ کے لئے تمہیدی کڑی ہیں۔ یہاں «برنباس» کی فیاضی اور حننیاہ کی ریاکاری میں زبردست تقابل نظر آتا ہے، «یوسف جس کا لقب برنباس … تھا۔» وہ ایک لاوی تھا۔ عام دستور کے مطابق وہ زمین کا مالک نہ ہو سکتا تھا۔ خداوند ہی لاویوں کا حصہ اور بخرہ تھا۔ اُس نے یہ زمین کیوں اور کیسے حاصل کر لی تھی، اِس بات کا ذکر نہیں۔ لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ محبت کے اصول نے «نصیحت کے بیٹے» میں ایسا زبردست کام کیا کہ اُس نے «کھیت … بیچا اور قیمت لا کر رسولوں کے پائوں میں رکھ دی»۔

۵: ۱- ۴ جب خدا اپنی قدرت سے کام کرتا ہے، تو شیطان بھی آ موجود ہوتا ہے تاکہ بطالت اور بگاڑ کو پھیلائے اور مقابلہ کرے۔ لیکن جہاں حقیقی روحانی طاقت موجود ہوتی ہے وہاں دھوکے، فریب اور ریاکاری سے پردہ اُٹھا دیا جاتا ہے۔

لگتا ہے کہ برنباس اور دوسرے ایمان داروں کی فیاضی اور فراخ دلی نے «حننیاہ … اور سفیرہ» پر بہت اثر کیا۔ غالباً وہ بھی مہربانی کے کسی ایسے ہی کام کے صلے میں لوگوں سے تعریف چاہتے تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے بھی جائیداد بیچی اور قیمت کا ایک حصہ لا کر رسولوں کو دیا۔ اُن کا گناہ یہ تھا کہ دیا تو «ایک حصہ» لیکن تاثر یہ دیا کہ ہم ساری قیمت دے رہے ہیں۔ کسی نے اُن سے جائیداد بیچنے کو نہیں کہا تھا۔ جب بیچی گئی تو اُن پر کوئی فرض نہیں تھا کہ ساری قیمت رسولوں کو دے دیتے۔ لیکن اُنہوں نے دکھایا تو یہ، بہانہ کیا تو یہ کہ ہم سب کچھ وقف کر رہے ہیں۔ حالانکہ کچھ حصہ اُنہوں نے خود رکھ لیا تھا۔

پطرس نے … حننیاہ کو موردِ الزام ٹھہرایا کہ تُو نے آدمیوں سے نہیں بلکہ روح القدس سے جھوٹ بولا۔ اور روح القدس سے جھوٹ بولنے میں اُس نے خدا سے جھوٹ بولا، اِس لئے کہ روح القدس خداہے۔

۵: ۵، ۶ «یہ باتیں سنتے ہی حننیاہ گر پڑا» اور مر گیا۔ اور جوان اُسے کفنانے دفنانے کو اُٹھا کر لے گئے۔ اِبتدائی کلیسیا کو تنبیہ کرنے کے لئے یہ خدا کے ہاتھ کا نہایت سنجیدہ کام تھا۔ اِس سے حننیاہ کی نجات یا اُس کے ابدی تحفظ کے بارے میں کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا بلکہ اِس واقعے سے خدا نے اپنی کلیسیا میں پہلے بگاڑ پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ ایک مفسر لکھتا ہے کہ وہاں یا تو روح القدس رہ سکتا تھا یا حننیاہ۔ اُس ابتدائی کلیسیا کی پاکیزگی نہایت دہکتے انگاروں کی مانند ایسی سفید تھی کہ اِس قسم کا جھوٹ اُس کے اندر رہ نہیں سکتا تھا۔

۵: ۷- ۱۱ «قریباً تین گھنٹے گزر جانے کے بعد» حننیاہ کی بیوی سفیرہ آئی تو پطرس نے اُس کو بھی ملزم ٹھہرایا کہ اپنے شوہر کے ساتھ «خداوند کے روح کو آزمانے کے لئے ایکا کیا» ہے۔ اُس نے سفیرہ کو بتا دیا کہ اُس کے شوہر کا کیا حشر ہوا اور کہ اُس کا حشر بھی یہی ہو گا۔ اُسی دم وہ بھی ڈھیر ہو گئی اور جوان اُس کو بھی دفن کرنے کو لے گئے۔

رسولوں کو خصوصی معجزانہ طاقت عطا کی گئی تھی، اور پطرس نے اِس جوڑے کو جو سزا سنائی وہ اِس بات کا ثبوت ہے۔ شاید یہ خدا کے اُس وعدے کی تکمیل ہے کہ «جن کے گناہ تم قائم رکھو اُن کے قائم رکھے گئے ہیں» (یوحنا ۲۰: ۲۳)۔ مزید برآں اِس میں ہمیں پولس کو دی گئی وہ توفیق بھی نظر آتی ہے کہ ایک قصوروار مسیحی کو جسم کی ہلاکت کے لئے شیطان کے حوالے کر دیتا ہے (۱۔کرنتھیوں ۵: ۵)۔ یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں کہ رسولوں کے زمانے کے بعد بھی یہ اِختیار جاری رہا۔

ہم تصور کر سکتے ہیں کہ اِس واقعے سے کلیسیا پر ہی نہیں بلکہ سارے سننے والوں پر کیسی ہیبت طاری ہو گئی۔

۵: ۱۲- ۱۶ حننیاہ اور سفیرہ کی موت کے بعد بھی رسول اور دوسرے ایمان دار «سلیمان کے برآمدہ میں جمع ہوا کرتے تھے» اور «نشان اور عجیب کام» دکھاتے تھے۔ اُن کے گرد جمع ہونے والے لوگ حیران ہوتے تھے۔ خدا کی حضوری اور قدرت کا احساس اِتنا گہرا اور واضح ہوتا تھا کہ لوگ نہ تو اُن کے ساتھ غیر سنجیدگی سے ملتے تھے، نہ غلط ڈر سے ایمان کا دعویٰ کرتے تھے۔ «لوگ اُن کی بڑائی کرتے تھے»، اور بہت سے لوگ خداوند یسوع پر دل سے ایمان لاتے تھے۔ لوگ اپنے بیماروں کو «چارپائیوں اور کھٹولوں» پر ڈال کر اُن سڑکوں اور راستوں پر رکھ دیتے تھے جہاں سے رسولوں کو گزرنا ہوتا تھا تاکہ «پطرس … کا سایہ ہی اِن میں سے کسی پر پڑ جائے …اور وہ سب اچھے کر دیئے جاتے تھے۔» ہر کسی کو نظر آ رہا تھا کہ رسولوں کی زندگیوں میں حقیقت اور قدرت ہے، اور وہ ذریعہ تھے جس سے خدا دوسروں کو برکت دے رہا تھا۔ یروشلیم کے آس پاس کے علاقوں سے بیمار اور بدروح گرفتہ لوگ آتے اور سب کے سب شفا پاتے تھے۔

عبرانیوں ۲: ۴ سے واضح ہوتا ہے کہ اِس قسم کے معجزات اور نشان رسولوں کی خدمت پر خدا کی طرف سے مہر تصدیق یا گواہی تھے۔ جب نیا عہدنامہ تحریری شکل میں مکمل ہو گیا تو ایسے نشانوں کی ضرورت بڑی حد تک نہ رہی۔ جہاں تک دورِ جدید کی شفا کی مہموں کا تعلق ہے تو اِتنا جان لینا ہی کافی ہے کہ جتنے بیمار اور معذور رسولوں کے پاس لائے جاتے تھے «وہ سب اچھے کر دیئے جاتے تھے» لیکن «ایمان سے شفا دینے والے» کہلانے والوں میں یہ بات کہیں نظر نہیں آتی۔

۵: ۱۷- ۲۰ روح القدس سے کی جانے والی حقیقی خدمت جہاں ایک طرف لوگوں کو ایمان لانے پر اُبھارتی ہے تو دوسری طرف اِس کی زبردست مخالفت بھی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ سردار کاہن (غالباً کائفا) اور «ساتھی … صدوقیوں» کے غصے کی آگ بھڑک اُٹھی کہ یسوع کے یہ کٹر شاگرد لوگوں میں اِس قدر اثر و نفوذ حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ مذہبی قیادت صرف ہمارا ہی حق ہے، اور وہ اِس حق کے خلاف کسی خطرے کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اور اُن کو اِس بات سے تو سخت چڑ تھی کہ بدن کی قیامت کی منادی کی جائے۔ وہ تو قیامت کا سراسر اِنکار کرتے تھے۔

اب وہ رسولوں کو سوائے ظلم و تشدد کے اَور کسی طرح روک نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ اُن کو «پکڑ کر عام حوالات میں رکھ دیا»۔ اُس رات «خداوند کے ایک فرشتہ نے» رسولوں کو قیدخانہ سے نکال لیا اور اُن سے کہا کہ «جائو، ہیکل میں کھڑے ہو کر اِس زندگی کی سب باتیں لوگوں کو سنائو۔» لوقا بغیر کسی حیرت اور تعجب کے فرشتہ کی اِس معجزانہ مداخلت کا بیان کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ خود رسول حیران اور بھونچکا  رہ گئے ہوں۔ لیکن بیان میں اِس کا کوئی اِظہار موجود نہیں۔

فرشتہ نے بجا طور پر مسیحی ایمان کو اِس زندگی کہا۔ یہ کوئی عقیدہ یا عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی ہے۔ یہ خداوند یسوع کی جی اُٹھی زندگی ہے اور جتنے اُس پر ایمان لاتے ہیں اُن سب کو عطا ہوتی ہے۔

۵: ۲۱ دن نکلا تو رسول ہیکل میں تعلیم دے رہے تھے۔ اِسی اثنا میں «سردار کاہن … نے صدر عدالت (سنہیڈرن) … اور بزرگوں» کا اجلاس طلب کیا۔ وہ اِنتظار میں تھے کہ قیدیوں کو اُن کے سامنے لائیں۔

۵: ۲۲- ۲۵ حیران پریشان پیادوں کو آ کر عدالت کو بتانا پڑا کہ «قید خانہ» میں یوں تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے، صرف قیدی غائب ہو گئے ہیں۔ دروازے بالکل مقفّل تھے، «پہرے والے» اپنی اپنی جگہ چوکسی سے پہرہ دے رہے تھے، لیکن قیدیوں کا کچھ پتا نہیں۔ کیسی دُکھی کرنے والی رپورٹ تھی! اب «ہیکل کے سردار اور سردار کاہنوں» کو یہ فکر کھانے لگی کہ آخر «اِس کا کیا انجام ہو گا»؟ «یہ مقبولِ عام تحریک کہاں تک چلے گی؟» لیکن اُن کے اِستفسارات میں ایک ایلچی آمخل ہوا جس نے خبر دی کہ فرار ہونے والے قیدی «ہیکل میں» واپس اپنے ٹھکانے پر موجود ہیں __ اور «لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں»! ہم اُن کی جرأت اور دلیری کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اور ضرور ہے کہ ہمارے اندر بھی ابتدائی کلیسیا کی یہ صلاحیت اور خوبی پیدا ہو کہ اپنے ایمان اور عقیدے کے لئے ہر قیمت ادا کرنے اور ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار ہوں۔

۵: ۲۶ پیادوں نے اُن کو صدر عدالت میں واپس لانے میں زبردستی نہیں کی «کیونکہ لوگوں سے ڈرتے تھے» کہ اگر ہم نے بھرے بازار اُن سے زیادتی کی تو «لوگ ہم کو سنگسار نہ کریں»۔ اب لوگ یسوع کے اِن پیروکاروں کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

۵: ۲۷، ۲۸ تب سردار کاہن نے سب کی نمائندگی کرتے ہوئے رسولوں سے کہا «ہم نے تو تمہیں سخت تاکید کی تھی کہ یہ نام لے کر تعلیم نہ دینا۔» اُس نے جان بوجھ کر خداوند یسوع کا نام نہیں لیا۔ «مگر دیکھو تم نے تمام یروشلیم میں اپنی تعلیم پھیلا دی۔» یوں سردار کاہن نے انجانے میں اور بلا ارادہ رسولوں کی تعریف کر دی کہ اُن کی خدمت اِتنی موثر ثابت ہو رہی تھی۔ تم «اُس شخص کا خون ہماری گردن پر رکھنا چاہتے ہو»۔ مگر یہودی لیڈر تو اُس کا خون پہلے ہی اپنی گردن پر لے چکے تھے، جب چِلا چِلا کر کہا تھا کہ «اِس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر!» (متی ۲۷: ۲۵)۔

۵: ۲۹- ۳۲ اِس سے پہلے رسولوں نے دعا مانگی تھی کہ ہمیں کلام سنانے کی دلیری عطا ہو۔ اُن کو اُوپر سے یہ دلیری اور جرأت مل گئی تھی۔ اِس لئے اب وہ اپنا فرض ادا کرنے پر زور دیتے ہیں کہ «آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے»۔ اُنہوں نے صاف صاف اعلان کیا کہ «خدا نے یسوع کو جِلایا» جسے بنی اِسرائیل نے «صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا تھا، » لیکن «اُسی کو خدا نے مالک اور نجات دہندہ ٹھہرا کر اپنے دہنے ہاتھ سے سربلند کیا»۔ اور اِس حیثیت میں وہ تیار ہے کہ «اِسرائیل کو توبہ کی توفیق اور گناہوں کی معافی بخشے»۔ اور آخر میں مزید زور دینے کے لئے رسولوں نے کہا کہ «ہم اِن باتوں کے گواہ ہیں اور روح القدس بھی جسے خدا نے اُنہیں بخشا ہے جو اُس کا حکم مانتے ہیں۔» مراد یہ ہے کہ جو حکم مان کر بیٹے پر ایمان لاتے ہیں۔

«خدا نے یسوع کو جِلایا» (آیت ۳۰)۔ اِس میں اُس کی قیامت کے ساتھ ساتھ اُس کے تجسم کی طرف بھی اِشارہ ہے۔

۵: ۳۳- ۳۷ اُن کی آواز میں زبردست قائلیت تھی۔ اِتنی زبردست کہ یہودیوں کے سرداروں نے رسولوں کو قتل کرنا چاہا۔ وہ اُن کے قتل کی سازِش کرنے لگے۔ اِس مرحلے پر گملی ایل نے مداخلت کی۔ وہ بنی اِسرائیل کے تمام ربیوں میں ممتاز اور معزز تھا۔ وہ ترسیس کے سائول کا معلم بھی تھا۔ اُس کے صلاح و مشورے سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ بھی مسیحی تھا یا مسیحیوں کا طرف دار تھا، بلکہ اُس کی باتیں اور دلیل دُنیاوی عقل پر مبنی ہیں۔

رسولوں کو تھوڑی دیر کے لئے کمرۂ عدالت سے باہر نکال کر گملی ایل نے سنہیڈرن کو پہلے تو یاد دلایا کہ اگر یہ تحریک (تدبیر یا کام) خدا کی طرف سے نہیں تو خود ہی دم توڑ دے گی۔ اِس اصول کی حمایت اور توثیق میں دو مثالیں پیش کی گئیں :

  1. تھیوداس ایک خود ساختہ لیڈر تھا۔ اُس نے «تخمیناً چار سو آدمی» اپنے ساتھ ملا لئے تھے۔ «مگر وہ مارا گیا» اور اُس کے ساتھی «سب پراگندہ ہوئے»۔
  2. یہوداہ گلیلی ایک اَور مذہبی جنونی تھا۔ اُس نے بھی یہودیوں کو بغاوت پر اُبھارا تھا۔ مگر «وہ بھی ہلاک ہوا» اور اُس کے ساتھی بھی «سب پراگندہ ہو گئے»۔

۵: ۳۸، ۳۹ اگر یہ مسیحی مذہب «خدا کی طرف سے» نہیں تو سب سے اچھی بات یہی ہے کہ اِس سے «کچھ کام نہ رکھو»۔ یہ بہت جلد خود ہی مٹ جائے گا۔ اگر اِس کا مقابلہ کریں گے تو یہ قائم رہنے کی زیادہ مصمم کوشش کرے گا۔ (یہ دلیل بڑی حد تک درست نہیں ہے۔ کئی بے خدا ادارے اور تنظیمیں صدیوں سے پھل پھول رہے ہیں بلکہ اِن کے پیرو سچائی کے پیروکاروں سے زیادہ ہیں۔ لیکن جہاں تک خدا کے مقاصد کا سوال  ہے یہ دلیل درست ہے)۔

گملی ایل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دوسری طرف اگر یہ تحریک «خدا کی طرف سے ہے» تو یہودی کیا کوئی بھی «اِن لوگوں کو مغلوب نہ» کر سکے گا۔ اِس کا تختہ نہیں اُلٹ سکے گا بلکہ بڑی پریشان کن صورتِ حال کا سامنا ہو گا کہ تم «خدا سے لڑنے والے ٹھہرو» گے۔

۵: ۴۰  یہ دلیل سرداروں کے دل کو لگی۔ چنانچہ اُنہوں نے رسولوں کو پاس بلا کر پہلے تو اُن کو پٹوایا پھر حکم دیا کہ «یسوع کا نام لے کر بات نہ کرنا۔» پٹوانا ناجائز ہی نہیں بلکہ احمقانہ بات بھی تھی۔ دراصل یہ متعصب دلوں کا خدا کی سچائی کے خلاف نامعقول مظاہرہ تھا۔ پٹوانے کے ساتھ جو حکم دیا گیا وہ بے وقوفانہ اور لاحاصل تھا۔ یہ تو ایسے ہی تھا کہ وہ سورج کو نہ چمکنے کا حکم دیتے۔ بھلا رسول یہ حکم کیسے مان سکتے تھے کہ «یسوع کا نام لے کر بات نہ کرنا»۔

۵: ۴۱، ۴۲ رسولوں کو پٹوانے کے دو غیر متوقع نتائج نکلے۔ اوّل، رسول «خوش ہو کر چلے گئے کہ ہم اُس نام کی خاطر بے عزت ہونے کے لائق تو ٹھہرے»۔ وہ اِس نام سے اِتنی محبت رکھتے تھے۔ دوم، اُن میں ایک نیا جوش اور ولولہ اور اِستقلال پیدا ہوا۔ چنانچہ وہ ہیکل میں اور گھروں میں ہر روز تعلیم دیتے تھے کہ« یسوع ہی مسیح ہے»۔ یوں ایک دفعہ پھر شیطان اپنی ہی چالوں سے مات کھا گیا۔

مسیحی اور حکومت

ابتدائی دَور کے مسیحی انجیل کا پیغام لے کر آگے بڑھے تو صاف نظر آنے لگا کہ سرکاری اہلکاروں اور خاص طور پر مذہبی لیڈروں کی طرف سے ضرور مخالفت اور مزاحمت ہو گی۔ اُس زمانے میں مذہبی لیڈر بھی حکومتی معاملات میں بڑا عمل دخل رکھتے تھے۔ ایمان دار اِس کے لئے تیار تھے۔ جب بھی موقع آتا تھا وہ بڑی وضع داری اور باوقار انداز سے ردِعمل ظاہر کرتے تھے۔

عمومی لحاظ سے اُن کی پالیسی یہ تھی کہ حاکموں کی عزت اور فرماں برداری کی جائے کیونکہ وہ خدا کی طرف سے مخصوص اور مقرر ہوتے ہیں اور خدا کے خادم ہیں تاکہ عام لوگوں کی بھلائی اور فلاح کو فروغ دیں۔ چنانچہ ایک دفعہ جب انجانے میں پولس نے سردار کاہن کو جھڑک دیا تھا اور اُس کی جواب طلبی ہو گئی تھی تو اُس نے فوراً معافی مانگی اور خروج ۲۲: ۲۸ کا حوالہ پیش کیا کہ « … اور نہ اپنی قوم کے سردار پر لعنت بھیجنا» (اعمال ۲۳: ۵)۔

لیکن جب اِنسانی قوانین خدا کے احکام سے ٹکراتے تھے تو اُس وقت مسیحیوں کی پالیسی یہ ہوتی تھی کہ حکومت کی نافرمانی کرو اور خواہ کچھ بھی ہو نتائج برداشت کرو۔ مثال کے طور پر جب پطرس اور یوحنا کو خوش خبری سنانے سے منع کیا گیا تو اُن کا جواب تھا کہ «تم ہی اِنصاف کرو۔ آیا خدا کے نزدیک یہ واجب ہے کہ ہم خدا کی بات سے تمہاری بات زیادہ سنیں۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ جو ہم نے دیکھا اور سنا ہے وہ نہ کہیں» (۴: ۱۹، ۲۰)۔ اور جب پطرس اور دوسرے رسولوں کو یسوع کے نام سے تعلیم دینے کی پاداش میں عدالت میں پیش کیا گیا تو پطرس کا جواب تھا کہ «آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے» (۵: ۲۹)۔

ایسا کوئی اِشارہ نہیں ملتا کہ اُنہوں نے کبھی حکومت کا تختہ اُلٹنے والوں کا ساتھ دیا ہو، خود ایسی کوشش کرنا تو دُور کی بات ہے۔ ایذارسانی، ظلم و ستم اور ہر طرح کی مخالفت کے باوجود وہ ہمیشہ اپنے حاکموں کی بہتری ہی کے خواہاں رہتے تھے (۲۶: ۲۹)۔

یہ بات کہنے کی تو حاجت ہی نہیں کہ حکومت سے سہولیات یا مراعات لینے کے لئے وہ بے ایمانی پر اُتر سکتے تھے۔ مثال کے طور پر گورنر فیلکس پولس سے رِشوت ملنے کا اِنتظار کرتا رہا لیکن اُسے کچھ نہ ملا (۲۴: ۲۶)۔ دوسری طرف وہ اپنے شہری حقوق کو استعمال کرنا کسی طرح بھی اپنی مسیحی بلاہٹ سے متصادم نہیں سمجھتے تھے (۱۶: ۳۷؛ ۲۱: ۳۹؛ ۲۲: ۲۵- ۲۸؛ ۲۳: ۱۷- ۲۱؛ ۲۵: ۱۰، ۱۱)۔

لیکن وہ خود اِس دُنیا کی سیاست میں ملوث نہیں ہوتے تھے۔ کیوں؟ کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ لیکن اِتنی بات ضرور واضح ہے کہ اُن کی نگاہیں صرف ایک مقصد پر لگی رہتی تھیں __کہ مسیح کی خوش خبری کی منادی کریں۔ وہ پوری لگن سے، اور دُنیا سے بے تعلق ہو کر اِسی مقصد کے حصول میں لگے رہتے تھے۔ اُن کو یقین تھا کہ یہ خوش خبری ہی اِنسان کے مسائل کا جواب یا حل ہے۔ یہ قائلیت اِتنی مضبوط اور زبردست تھی کہ اُن کو کسی ادنیٰ کام سے مثلاً سیاست سے تسلی ہی نہ ہوتی تھی۔

۶: ۱ اگر ابلیس باہر سے حملہ آور ہو کر کلیسیا کو نیست نہیں کر سکتا تو وہ کوشش کرتا ہے کہ اندر نااتفاقی اور پھوٹ پیدا کر کے اپنا مقصد حاصل کر لے۔ اگلی چند آیات میں اِسی بات کا بیان ہے۔

ابتدائی کلیسیا میں دستور تھا کہ کلیسیا میں اُن بیوائوں کو جن کا کوئی اَور سہارا نہیں ہوتا تھا ہر روز اُن کی ضرورت کے مطابق خرچ دے دیا جاتا تھا۔ کچھ ایمان دار یونانی بولنے والے یہودی تھے۔ اُنہوں نے شکایت کی کہ ہماری بیوائوں کی خبر گیری میں «غفلت ہوتی» ہے۔ «عبرانیوں» سے مراد یروشلیم اور یہودیہ سے تعلق رکھنے والے ایمان دار ہیں۔

۶: ۲، ۳ اُن بارہ شاگردوں کو احساس ہوا کہ کلیسیا کی روز افزوں ترقی کے ساتھ ساتھ ان کاروباری معاملات کو نمٹانے کے لئے کچھ اِنتظامات کرنے پڑیں گے۔ وہ خود «کلام کی خدمت» سے دست بردار ہو کر مالی معاملات کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے تھے۔ اِس لئے اُنہوں نے صلاح دی کہ کلیسیا سات ایسے افراد کو مقرر کرے جو «نیک نام …روح اور دانائی سے بھرے ہوئے ہوں» تاکہ وہ کلیسیا کے دُنیاوی معاملات کا اِنتظام کریں۔

اگرچہ بائبل مقدس میں اُن افراد کا نام «ڈیکن» نہیں دیا گیا مگر اُنہیں اِس نام سے یاد کرنا ناواجب نہیں ہو گا۔ جس لفظ کا ترجمہ «کھانے پینے کا اِنتظام کریں» کیا گیا ہے، وہ اصل زبان میں اُس فعل سے مشتق ہے جس سے ہمیں انگریزی کا لفظ «ڈیکن» حاصل ہوا ہے۔

اُن میں تین خوبیوں کا ہونا لازم تھا:

 

۱۔ «نیک نام» ۱۔ اچھی شہرت رکھتے ہوں۔
۲۔ «روح سے بھرے ہوئے» ۲۔ روحانی ہوں۔
۳۔ «دانائی سے بھرے ہوں» ۳۔ عملی افراد ہوں۔

اُن کی ضروری خوبیوں کی مزید تفصیل ۱۔تیمتھیس ۳: ۸- ۱۳ میں درج ہے۔

۶: ۴ رسولوں نے کہا کہ «ہم تو دعا میں اور کلام کی خدمت میں مشغول رہیں گے۔» یہاں ترتیب بہت اہمیت کی حامل ہے۔ پہلے «دعا» پھر «کلام کی خدمت۔» اُنہوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ اِنسانوں سے خدا کی بات کرنے سے پہلے خدا سے اِنسانوں کی بات کریں گے۔

۶: ۵، ۶ جن آدمیوں کو چنا گیا، اُن کے ناموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثریت یونانی بولنے والے یہودیوں کی تھی۔ یہی گروہ تھا جنہوں نے شکایت کی تھی۔ اُن کو اِتنی رعایت دینا بڑی فراخ دلی کا ثبوت ہے۔ اِس کے بعد اُن کی طرف داری کا الزام نہیں لگایا جائے گا۔ جب اِنسانوں کے دل خدا کی محبت سے معمور ہوتے ہیں تو خود غرضی اور جھوٹے پن پر فتح پا لیتے ہیں۔

ڈِیکنوں میں صرف دو ہیں جن کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ اوّل ستفنس جو کلیسیا کا پہلا شہید ہوا۔ دوسرا فلپس جو مبشر تھا اور بعد میں اِنجیل کو سامریہ میں لے گیا، حبشی خوجے کو مسیح کے لئے جیتا اور قیصریہ میں پولس کی خدمت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

دعا مانگنے کے بعد رسولوں نے کلیسیا کے ساتھ رفاقت کا اِظہار کرنے کے لئے اُن ساتوں پر اپنے ہاتھ رکھے۔

۶: ۷ اگر اِس آیت کو گذشتہ آیات کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ کاروباری معاملات کی دیکھ بھال کے لئے ڈِیکنوں کے چنائو سے اِنجیل کے پھیلائو میں بڑی تیزی آئی۔

«اور خدا کا کلام پھیلتا رہا» اور «یروشلیم میں» بہت سے شاگرد ہو گئے۔ اِسی طرح یہودی «کاہنوں کی بڑی گروہ» بھی خداوند یسوع کی پیرو ہو گئی۔

۶: ۸ اب بیان ایک ڈِیکن ستفنُس پر مرتکز ہو جاتا ہے۔ یہ یونانی نام ہے جس کا مطلب ہے «ہار» یا «فتح کی مالا / سہرا»۔ خدا نے ستفنُس کو معجزے دکھانے اور کلام کی منادی کے لئے بڑی قدرت کے ساتھ استعمال کیا۔ رسولوں کے علاوہ وہ پہلا شخص ہے جس نے اعمال کی کتاب کے مطابق معجزے کئے۔ وہ ایک وفادار ڈِیکن تھا۔ کیا اِس وفاداری کے نتیجے میں اُسے معجزوں کی اعلیٰ خدمت عطا ہوئی؟ یا ایک اضافی خدمت اُسے تفویض ہوئی جسے وہ دوسری خدمت کے ساتھ ساتھ سرانجام دیتا تھا؟ متن سے اِس بات کا فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔

۶: ۹ ستفنس کی پُراثر خدمت کی مخالفت کا آغاز عبادت خانے سے ہوا۔ عبادت خانے وہ جگہیں تھیں جہاں یہودی شریعت کی تعلیم پانے کے لئے ہر سبت کو جمع ہوا کرتے تھے۔ اِن عبادت خانوں کے نام وہاں فراہم ہونے والے لوگوں کی مناسبت سے رکھے جاتے تھے۔ «لبرتینوں» کا مطلب ہے «آزاد کئے ہوئے»۔ شاید یہ وہ یہودی تھے جن کو رومیوں نے اپنی غلامی سے آزاد کر دیا تھا۔ کرینے شمالی افریقہ کا ایک شہر تھا۔ غالباً وہاں کے کچھ یہودی آ کر یروشلیم میں آباد ہو گئے تھے۔ «اسکندری» وہ یہودی تھے جو مصر میں اسکندریہ نامی سمندری بندرگاہ سے آئے تھے۔ کلکیہ ایشیائے کوچک کا جنوب مشرقی صوبہ تھا۔ اور آسیہ بھی ایشیائے کوچک کا ایک صوبہ تھا جو تین علاقوں کو ملا کر تشکیل دیا گیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِن ساری جماعتوں کے عبادت خانے یروشلیم میں یا اِس کے گردو نواح میں تھے۔

۶: ۱۰- ۱۴ اِن عبادت خانوں کے جوشیلے یہودی اُٹھ کر ستفنس سے بحث کرنے لگے۔ لیکن اُس کا «مقابلہ نہ کر سکے۔» جو لفظ اُس نے بولے اور جس قوت کے ساتھ بولے، اِس کا مقابلہ کرنا ممکن نہ تھا۔ لیکن یہودی اُسے خاموش کرنے پر تُل گئے۔ چنانچہ اُنہوں نے خفیہ طور پر جھوٹے گواہ تیار کئے تاکہ ستفنُس پر الزام لگائیں کہ «ہم نے اِس کو موسیٰ اور خدا کے برخلاف کفر کی باتیں کرتے سنا»۔ (الفاظ کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودیوں کو خدا کی نسبت موسیٰ کی عزت کی زیادہ غیرت تھی)۔ بہت جلد سنہیڈرن کے سامنے اُس کی پیشی ہوئی۔ اُس پر الزام تھا کہ یہ پاک مقام یعنی ہیکل اور شریعت کے خلاف بولتا ہے۔ اُنہوں نے یہ جھوٹا الزام بھی لگایا کہ یہ کہتا ہے «کہ وہی یسوع ناصری اِس مقام (ہیکل) کو برباد کرے گا» اور اُس سارے نظام کو «بدل ڈالے گا جو موسیٰ» نے بنی اِسرائیل کو دیا ہے۔

۶: ۱۵ سنہیڈرن نے یہ الزامات سنے، مگر جب اُنہوں نے ستفنس پر «غور سے نظر کی» تو اُن کو کسی شیطان یا بدروح کا چہرہ نہیں بلکہ «فرشتہ کا سا چہرہ» نظر آیا۔ اُنہیں اُس زندگی کی پُراسرار خوبصورتی اور دلکشی نظر آئی جو پورے طور پر خداوند کے تابع ہوتی ہے، جس نے سچائی کا اعلان کرنے اور بشارت دینے کا پختہ عزم کر رکھا ہوتا ہے اور جس کو اِنسان کی باتوں کی نہیں بلکہ خدا کی باتوں کی فکر ہوتی ہے۔ اُن کو مسیح کے ایک جاں نثار پیرو کے روشن چہرے میں مسیح کے جلال کا عکس دکھائی دیا۔

باب ۷ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ستفنس ماہر اُستاد کی طرح اپنا دفاع کرتا ہے۔ وہ بڑے اِطمینان سے بات شروع کرتا ہے۔ یہودی تاریخ پر مختصر نظر ڈالتا ہے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ دو افراد یعنی یوسف اور موسیٰ پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اُن کو خدا نے برپا کیا، اِسرائیل نے اُن کو ردّ کیا، مگر خدا نے اُنہی کو چھڑانے والوں اور نجات دینے والوں کی حیثیت سے سربلند کیا۔ اگرچہ ستفنس اُن کے تجربات کا براہِ راست مسیح کے تجربات سے مقابلہ نہیں کرتا لیکن مشابہت بالکل واضح ہے۔ آخر میں ستفنس یہودی لیڈروں پر تباہ کن حملہ کر کے اُن پر الزام لگاتا ہے کہ وہ روح القدس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اُن کو «اُس راست باز» یعنی یسوع کے قاتل ٹھہراتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ وہ خدا کی شریعت پر عمل کرنے سے قاصر رہے۔

ستفنس کو علم ہو گا کہ اُس کی جان خطرے میں ہے۔ جان بچانے کے لئے اُس کو صرف ایک معذرت خواہانہ اور مفاہمت آمیز تقریر کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن اُس نے اپنے پاکیزہ ایمان کو دائو پر لگانے کے بجائے مرنا گوارا کیا۔ اُس کی ہمت و جرأت واقعی قابلِ تعریف ہے۔

۷: ۱- ۸ ستفنس کے پیغام کا اِفتتاحی حصہ ہمیں عبرانی قوم کی ابتدا تک لے جاتا ہے۔ یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ ابرہام کی تاریخ کی اِتنی تفصیل کیوں دی گئی۔ البتہ اِس کے تین مقاصد ہو سکتے ہیں:

  1.  یہ دکھانا کہ ستفنس اسرائیلی قوم سے واقف اور مانوس ہے اور اُس سے محبت رکھتا ہے۔
  2.  یوسف اور موسیٰ کے واقعات تک پہنچنا کیونکہ دونوں مسیح کے ردّ کئے جانے کے مثیل ہیں۔
  3.  یہ ثابت کرنا کہ ابرہام نے خدا کی قابلِ قبول عبادت کی، حالانکہ اُس کی عبادت کسی خاص جگہ تک محدود نہ تھی (ستفنس پر ہیکل کے خلاف بولنے کا الزام تھا۔ «اِس پاک مقام …»)۔

ابرہام کی سوانحِ حیات کے نمایاں نکات یہ ہیں:

  1.  مسوپتامیہ میں خدا کی طرف سے اُس کی بلاہٹ (آیات ۲، ۳)۔
  2.  حاران اور پھر کنعان کی طرف اُس کا سفر (آیت ۴)۔
  3.  خدا کا وعدہ کہ مَیں تجھ کو ایک ملک دوں گا، حالانکہ قوم کے اِس جدِامجد کو ملک کا ایک ٹکڑا بھی نہ دیا گیا (آیت ۵)۔ یہ بات یوں ثابت ہوتی ہے کہ اپنے مُردے دفن کرنے کے لئے اُس کو مکفیلہ میں ایک غار خریدنا پڑا (پیدائش باب ۲۳)۔ اِس وعدے کو ابھی مستقبل میں پورا ہونا ہے (عبرانیوں ۱۱: ۱۳- ۴۰)۔
  4.  خدا نے بہت پہلے بتا دیا کہ اسرائیل مصر میں غلام ہو گا، اور بالآخر رِہا  کیا جائے گا (آیات ۶، ۷)۔ اِس پیش گوئی کے دونوں حصے اُن افراد کے ذریعے پورے ہوئے جن کو قوم نے ردّ کر دیا تھا۔ ایک یوسف (آیات ۹- ۱۹) دوسرا موسیٰ (آیات ۲۰- ۳۶)۔ آیت ۶ اور پیدائش ۱۵: ۱۳ میں مذکور «چار سو برس» وہ عرصہ ہے جب یہودی قوم مصر میں مصیبت اور دُکھ میں رہی۔ خروج ۱۲: ۴۰ اور گلتیوں ۳: ۱۷ میں درج چار سو تیس برس، یعقوب اور اُس کے خاندان کے مصر میں آنے اور شریعت کے دیئے جانے کے عرصے پر محیط ہیں۔ مصر میں پہلے تیس برسوں کے دوران اِسرائیلیوں پر کوئی ظلم و ستم نہیں کیا گیا تھا بلکہ اُن کے ساتھ تو نہایت عمدہ سلوک روا رکھا جاتا تھا۔
  5.  «ختنہ کا عہد»  (آیت ۸)۔
  6.  اضحاق کی پیدائش۔ اِس کے بعد «یعقوب اور … بارہ قبیلوں کے بزرگوں»کی پیدائش (آیت ۸ ب)۔ اِس طرح تاریخ ہمیں یوسف تک لے آتی ہے جو یعقوب کے بارہ بیٹوں میں سے ایک تھا۔

۷: ۹- ۱۹ پرانے عہدنامے میں مسیح کے جتنے مثیل ہیں اُن میں سے یوسف سب سے زیادہ واضح اور پیارا ہے، گو کہیں بھی صاف لفظوں میں کہا نہیں گیا۔ ستفنس نے یوسف کی زندگی کے حالات ایک ایک کر کے گنوائے تو بے شک یہودیوں کو یاد آتا ہو گا کہ ہم نے یسوع ناصری کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا اور اُن کے دلوں پر قائلیت کے تِیر چلتے ہوں گے۔ یوسف کی زندگی کے بڑے بڑے واقعات جو ستفنس نے بیان کئے یہ ہیں:

  1.  بھائیوں نے یوسف کو بیچا کہ مصر پہنچ جائے (آیت ۹)۔
  2.  ردّ کیا ہوا شخص مصر میں عزت اور مقبولیت حاصل کر گیا (آیت ۱۰)۔
  3.  کال نے یوسف کے بھائیوں کو مصر آنے پر مجبور کیا۔ لیکن وہ اپنے بھائی کو پہچان نہ سکے (آیات ۱۱، ۱۲)۔
  4.  «دوسری بار یوسف اپنے بھائیوں پر ظاہر ہو گیا۔» پھر جس کو ردّ کیا گیا تھا وہ اپنے خاندان کو بچانے والا بن گیا (آیات ۱۳، ۱۴)۔ یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ آیت ۱۴ میں « پچہتر جانیں» کہا گیا ہے جب کہ پیدائش ۴۶: ۲۷ اور خروج ۱: ۵ کے یونانی ترجمہ میں تعداد پچہتر ہے، عبرانی متن میں تعداد ستّر ہے۔ یہ کوئی نازک مسئلہ نہیں، بلکہ یعقوب کے خاندان کے افراد کے شمار کرنے میں الگ الگ طریقہ استعمال ہوا ہے۔ ایک جگہ مصر میں پیدا ہونے والے منسی اور افرائیم کے پانچ بیٹوں کو (۱۔تواریخ ۷: ۱۴- ۲۷) بھی شامل کیا گیا۔ جب کہ دوسری جگہ ایسا نہیں ہوا۔ مصنفین کا ایسی آزادی سے کام لینا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ستفنس نے یونانی ترجمے کی پیروی کی ہے۔
  5.  بزرگانِ قوم کی وفات اور ملکِ کنعان میں اُن کی تدفین (آیات ۱۶، ۱۷)۔ اِس آیت میں بھی ایک مشکل نظر آتی ہے۔ یہاں کہا گیا ہے کہ «ابرہام نے» ایک جگہ «بنی ہمور سے» خریدی تھی، پیدائش ۲۳: ۱۶، ۱۷ کے مطابق ابرہام نے حبرون میں مکفیلہ کا غار بنی حت سے خریدا تھا جب کہ بنی ہمور سے سکم میں زمین یعقوب نے خریدی تھی (پیدائش ۳۳: ۱۹)۔ یہاں کئی باتیں ممکن ہیں۔ (۱) ہو سکتا ہے کہ ابرہام نے حبرون کے علاوہ سکم میں بھی جگہ خریدی ہو۔ اور بعد میں شاید اِسی قطعہ زمین کو یعقوب نے دوبارہ خریدا ہو۔ (۲) ستفنس نے ابرہام کے بجائے اُس کی نسل، ’یعقوب‘ کا نام استعمال کیا ہو۔ (۳) ستفنس نے اِختصار کی خاطر ابرہام اور یعقوب کے سودوں کو یکجا کر دیا ہو۔
  6.  یوسف کی موت کے بعد مصر میں یعقوب کے خاندان کا بڑھ کر اُمت بن جانا (آیات ۱۷- ۱۹)۔ یہ بات ہمیں ستفنس کی بحث میں اگلے قدم کے لئے تیار کرتی ہے __ یعنی وہ سلوک جو قوم کے ہاتھوں موسیٰ کو برداشت کرنا پڑا۔

۷: ۲۰- ۴۳ ستفنس بڑی کاٹ دار دلیری سے ثابت کر رہا ہے کہ یہودی قوم کم سے کم دو گذشتہ موقعوں پر قصوروار ہوئی کہ اُنہوں نے اپنے نجات دہندوں کو ردّ کر دیا، جن کو خدا نے اُن کی رہائی کی خاطر برپا کیا تھا۔ اُس کا دوسرا ثبوت موسیٰ ہے۔

ستفنس پر موسیٰ کے خلاف کفر بکنے کا الزام لگایا گیا تھا (۶: ۱۱)۔ وہ ثابت کرتا ہے کہ قصوروار فریق تو اِسرائیلی قوم ہے جس نے خدا کے چنے ہوئے اُس شخص کو ردّ کر دیا تھا۔ ستفنس موسیٰ کی زندگی پر یوں نظر ثانی کرتا ہے:

  1.  پیدائش، ابتدائی زندگی اور مصر میں تعلیم (آیات ۲۰- ۲۲)۔ «کلام … میں قوت والا۔» یہ الفاظ موسیٰ کی تحریروں کی طرف اِشارہ کرتے ہوں گے۔ کیونکہ موسیٰ نے خود کہا تھا کہ مَیں فصیح نہیں (خروج ۴: ۱۰)۔
  2.  اپنے بھائیوں کی طرف سے پہلی دفعہ ردّ کیا جانا۔ جب وہ ایک مصری کے خلاف اُن کی حمایت کر رہا تھا (آیات ۲۳- ۲۸)۔ آیت ۲۵ پر غور کریں۔ وہ کس طرح یاد دلاتا ہے کہ مسیح کو بھی اپنوں نے ردّ کیا تھا۔
  3.  مدیان کے ملک میں اُس کی جلاوطنی (آیت ۲۹)۔
  4.  جلتی ہوئی جھاڑی میں خدا کا اُس پر ظاہر ہونا اور اُس کو چھڑانے والا بنا کر واپس مصر بھیجنا (آیت ۳۰- ۳۵) تاکہ قوم کو رہائی دلائے۔
  5.  وہ قوم کو چھڑانے والا ہوا (آیت ۳۶)۔
  6.  آنے والے مسیحِ موعود کے بارے میں اُس کی نبوت (آیت ۳۷) («مجھ سا»کا مطلب ہے جس طرح مجھ کو برپا کیا تھا)۔
  7.  ’بیابان کی کلیسیا‘ کو شریعت دینے والا بنا (آیت ۳۸)۔
  8.  قوم نے موسیٰ کو دوسری بار ردّ کیا اور سونے کا بچھڑا پوجنے لگی (آیت ۳۹- ۴۱)۔ اسرائیل کی بت پرستی کی مزید تفاصیل آیات ۴۲، ۴۳ میں دی گئی ہیں۔ یہودی دعوے تو کرتے تھے کہ ہم خداوند کو «ذبیحے اور قربانیاں» چڑھاتے ہیں، مگر اصل میں «مولک کے خیمہ … کو لئے پھرتے تھے»۔ یہ قدیم زمانے کی سب سے زیادہ نفرت انگیز قسم کی بت پرستی تھی۔ اِس کے ساتھ وہ «رفان دیوتا» کو سجدہ کرتے تھے۔ رفان ستاروں کا دیوتا تھا۔ اِس گناہ کے باعث خدا نے اُن کو خبردار کیا تھا کہ تم بابل کی اسیری میں جائو گے۔

 

«تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔ ہر پشت میں ہمیں وہی باتیں نظر آتی ہیں۔ جب خدا کے پیغام کا سامنا ہوتا ہے وہ سمجھتے نہیں (۲۵)۔ جب صلح اور امن سے رہنے کو کہا جاتا ہے وہ سننے سے اِنکار کر دیتے ہیں (۲۷)۔ جب خدا کا بھیجا ہوا چھڑانے والا بھیجا جاتا ہے تو وہ رحیم خدا پر بے کار بتوں کو ترجیح دیتے ہیں (۴۱)۔ یہ ہے اِنسانی فطرت __ باغی، ناشکری، بے وقوف __ خدا لاتبدیل اور یکساں ہے۔ جو خدا موسیٰ سے ہم کلام ہوا، وہی خدا تھا جس نے اُس کے آبا و اجداد سے کلام کیا تھا (۳۲)۔ جب لوگ پریشان ہوتے ہیں تو یہ خدا اُن کی سنتا ہے (۳۴)۔ وہ چھڑانے کو آتا ہے (۳۴)۔ وہ اپنے لوگوں کو موت سے نکال کر زندگی میں لے آتا ہے (۳۶)۔ جو جان بوجھ کر اُس کو ردّ کرتے ہیں، اُن کو وہ اُن ہی کی خواہشوں کے حوالے کر دیتا ہے (۴۲)۔ یہ ہے ہمارا عظیم خدا __ رحیم، قادر، قدوس __ وہ ہمیشہ یکساں ہے۔ کچھ بھی ہو جائے وہ لاتبدیل ہے (ملاکی ۳: ۶)۔ ستفنس کے سامعین کے لئے یہ ایک تنبیہ تھی کہ خدا کو حقیر نہ جانیں۔ اور یہ یقین دہانی بھی ہے کہ خدا کا ہر وعدہ پکا اور قائم ہے۔»(Scripture Union Daily Notes)

۷: ۴۴- ۴۶ ستفنسپرہیکل کے خلاف بولنے کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔ وہ جواب میں ماضی کے اُس زمانے کا بیان کرتا ہے جب بنی اِسرائیل کے پاس «بیابان میں شہادت کا خیمہ» تھا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب قوم «آسمانی فوج» کو بھی پوجتی تھی۔ جب یشوع اسرائیلیوں کو ملکیت یعنی ملک ِ کنعان میں لے آیا اور بت پرست باشندوں کو وہاں سے نکال دیا گیا تو اُسی خیمہ کو ملک ِکنعان میں لایا گیا اور «وہ دائود کے زمانہ تک رہا»۔ باپ دادا نے درخواست کی تھی کہ «یعقوب کے خدا کے واسطے مسکن تیار» کیا جائے۔ اور یوں اُن پر «خدا کی طرف سے فضل ہوا»۔

۷: ۴۷- ۵۰ دائود کو ہیکل بنانے کی آرزو تھی۔ لیکن خدا نے اُس کی درخواست منظور نہ کی «مگر سلیمان نے اُس کے لئے گھر بنایا»۔

اگرچہ ہیکل خدا کی قوم کے درمیان خدا کا مسکن تھی۔ لیکن وہ اِسی عمارت تک محدود نہ تھا۔ جب ہیکل کی تقدیس ہوئی تو سلیمان نے اِس بات کو بالکل واضح کر دیا تھا (۱۔سلاطین ۸: ۲۷)۔ یسعیاہ نے بھی قوم کو خبردار کیا تھا کہ خدا عمارتوں کو اہمیت نہیں دیتا، بلکہ قوم کی اخلاقی اور روحانی حالت کو دیکھتا ہے (یسعیاہ ۶۶: ۱، ۲)۔ وہ خستہ اور شکستہ دلوں پر نظر کرتا اور اُس آدمی پر فضل کرتا ہے جو اُس کا کلام سن کر کانپتا ہے۔

۷: ۵۱- ۵۳ یہودی لیڈروں نے ستفنس پر شریعت کے خلاف بولنے کا الزام لگایا تھا۔ اب وہ بڑے مختصر لیکن جچے تُلے الفاظ میں الزام کو غلط ثابت کرتا ہے۔ دراصل وہ خود «گردن کش اور دل اور کان کے نامختون» تھے۔ وہ اُن کو غیر قوموں کی طرح دل اور کان کے نامختون ہونے کے باعث جھڑکتا ہے۔

وہ روح القدس کی مخالفت کرنے میں اپنے باپ دادا جیسے تھے۔ اُن کے باپ دادا نے مسیح «کے آنے کی پیش خبری دینے والوں (نبیوں) کو قتل کیا»۔ اور اَب اُنہوں نے «اُس راست باز» کو پکڑوا کر قتل کر دیا تھا۔ بحیثیت ِقوم وہ شریعت پر عمل کرنے سے قاصر رہے تھے، حالانکہ اُن کو یہ شریعت «فرشتوں کی معرفت» ملی تھی۔

اِس کے بعد اَور کچھ کہنے کی حاجت نہ تھی! دراصل کہنے کو کچھ رہ بھی نہیں گیا تھا! اُنہوں نے ستفنس کو اپنا دفاع کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر اب وہ مُدَّعی ثابت ہوا اور یہودی لیڈر ملزم ٹھہرے۔ اُس کا پیغام ایک لحاظ سے یہودی قوم کے لئے خدا کی طرف سے آخری پیغام تھا۔ اِس کے بعد اِنجیل وہاں سے نکل کر غیر قوموں میں پھیلنے لگی۔

۷: ۵۴- ۶۰ ستفنس نے گواہی دی کہ « مَیں آسمان کو کھلا … دیکھتا ہوں۔» اِس کے ساتھ ہی لوگوں نے اُس کی مزید کوئی بات سننے سے اِنکار کر دیا اور گلے پھاڑ پھاڑ کر چِلّانے لگے۔ اُس پر پِل پڑے اور گھسیٹ کر شہر کی فصیل سے باہر لے گئے اور «اُس کو سنگسار کرنے لگے»۔

یوں لگتا ہے کہ گویا روح القدس نے ایک نوجوان کا نام اتفاقیہ درج کروا دیا۔ یہ جوان کھڑا ستفنس کو سنگسار کرنے والوں کے کپڑوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ اُس کا نام سائول ہے۔ لگتا ہے روح ہم سے کہہ رہا ہے کہ ’یہ نام یاد رکھنا۔ تم اِس کے بارے میں پھر سنو گے‘۔

ستفنس کی موت ہمارے خداوند کی موت سے بہت مشابہت رکھتی ہے:

  1.  اُس نے دعا مانگی: «اے خداوند یسوع! میری روح کو قبول کر» (آیت ۵۹)۔ یسوع نے دعا مانگی تھی کہ «اے باپ! مَیں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں» (لوقا ۲۳: ۴۶)۔
  2.  اُس نے دعا مانگی: «اے خداوند! یہ گناہ اِن کے ذمہ نہ لگا» (آیت ۶۰)۔ یسوع نے دعا مانگی تھی کہ «اے باپ! اِن کو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں» (لوقا ۲۳: ۳۴)۔

کیا اِس سے پتا نہیں چلتا کہ خداوند کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے سے ستفنس خداوند کے روح کے وسیلے سے «اُسی جلالی صورت میں درجہ بدرجہ» بدل گیا تھا (۲۔کرنتھیوں ۳: ۱۸)۔

یہ دعا مانگنے کے بعد ستفنس «سو گیا»۔ جب نئے عہد میں موت کے حوالے سے لفظ «سونا» استعمال کیا جاتا ہے تو اِشارہ روح کی طرف نہیں بلکہ بدن کی طرف ہوتا ہے۔ موت کے وقت ایمان دار کی روح مسیح کے پاس چلی جاتی ہے (۲۔کرنتھیوں ۵: ۸)۔ تصور یہ ہے کہ بدن سو رہا ہے۔

عام حالات میں یہودیوں کو موت کی سزا پر عمل درآمد کرنے کی اجازت نہ تھی۔ یہ حق رومی حاکموں کے لئے مخصوص تھا (یوحنا ۱۸: ۳۱ ب)۔ لیکن جب ہیکل کو خطرہ درپیش ہوتا تو رومی اِس حکم میں رعایت کر جاتے تھے۔ ستفنس پر ہیکل کے خلاف بولنے کا الزام تھا، اگرچہ یہ الزام بے بنیاد تھا، مگر یہودیوں نے پھر بھی اُسے موت کی سزا دے دی۔ یسوع پر بھی ہیکل کو برباد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا (مرقس ۱۴: ۵۸) لیکن اُس وقت گواہوں کے بیانات میں تضاد تھا۔

مقدس کتاب

۱- اَے تھِیُفِلُس! مَیں نے پہلا رِسالہ اُن سب باتوں کے بیان میں تصنِیف کِیا جو یِسُوعؔ شرُوع میں کرتا اور سِکھاتا رہا۔
۲- اُس دِن تک جِس میں وہ اُن رسُولوں کو جِنہیں اُس نے چُنا تھا رُوحُ القُدس کے وسِیلہ سے حُکم دے کر اُوپر اُٹھایا گیا۔
۳- اُس نے دُکھ سہنے کے بعد بُہت سے ثبُوتوں سے اپنے آپ کو اُن پر زِندہ ظاہِر بھی کِیا۔ چُنانچہ وہ چالِیس دِن تک اُنہیں نظر آتا اور خُدا کی بادشاہی کی باتیں کہتا رہا۔
۴- اور اُن سے مِل کر اُن کو حُکم دِیا کہ یروشلِیم سے باہر نہ جاؤ بلکہ باپ کے اُس وعدہ کے پُورا ہونے کے مُنتظِر رہو جِس کا ذِکر تُم مُجھ سے سُن چُکے ہو۔
۵- کیونکہ یُوحنّا نے تو پانی سے بپتِسمہ دِیا مگر تُم تھوڑے دِنوں کے بعد رُوحُ القُدس سے بپتِسمہ پاؤ گے۔
۶- پس اُنہوں نے جمع ہو کر اُس سے یہ پُوچھا کہ اَے خُداوند! کیا تُو اِسی وقت اِسرائیلؔ کو بادشاہی پِھر عطا کرے گا؟
۷- اُس نے اُن سے کہا اُن وقتوں اور مِیعادوں کا جاننا جِنہیں باپ نے اپنے ہی اِختیار میں رکھّا ہے تُمہارا کام نہیں۔
۸ -لیکن جب رُوحُ القُدس تُم پر نازِل ہو گا تو تُم قُوّت پاؤ گے اور یروشلِیم اور تمام یہُودیہ اور سامرؔیہ میں بلکہ زمِین کی اِنتِہا تک میرے گواہ ہو گے۔
۹- یہ کہہ کر وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے اُوپر اُٹھا لِیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چُھپا لِیا۔
۱۰- اور اُس کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غَور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مَرد سفید پَوشاک پہنے اُن کے پاس آ کھڑے ہُوئے۔
۱۱- اور کہنے لگے اَے گلِیلی مَردو! تُم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟ یِہی یِسُوعؔ جو تُمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے اِسی طرح پِھر آئے گا جِس طرح تُم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔
۱۲- تب وہ اُس پہاڑ سے جو زَیتُوؔن کا کہلاتا ہے اور یروشلِیم کے نزدِیک سَبت کی منزِل کے فاصِلہ پر ہے یروشلِیم کو پِھرے۔
۱۳- اور جب اُس میں داخِل ہُوئے تو اُس بالاخانہ پر چڑھے جِس میں وہ یعنی پطرؔس اور یُوحنّا اور یعقُوبؔ اور اندرؔیاس اور فِلِپُّس اور توؔما اور برتُلماؔئی اور متّی اور حلفئی کا بیٹا یعقُوبؔ اور شمعُوؔن زیلوتیس اور یعقُوبؔ کا بیٹا یہُوداؔہ رہتے تھے۔
۱۴- یہ سب کے سب چند عَورتوں اور یِسُوعؔ کی ماں مریمؔ اور اُس کے بھائِیوں کے ساتھ ایک دِل ہو کر دُعا میں مشغُول رہے۔
۱۵- اور اُن ہی دِنوں پطرؔس بھائِیوں میں جو تخمِیناً ایک سَو بِیس شخصوں کی جماعت تھی کھڑا ہو کر کہنے لگا۔
۱۶- اَے بھائِیو اُس نوِشتہ کا پُورا ہونا ضرُور تھا جو رُوحُ القُدس نے داؤُد کی زُبانی اُس یہُوداؔہ کے حق میں پہلے سے کہا تھا جو یِسُوع کے پکڑنے والوں کا رہنُما ہُؤا۔
۱۷- کیونکہ وہ ہم میں شُمار کِیا گیا اور اُس نے اِس خِدمت کا حِصّہ پایا۔
۱۸- (اُس نے بدکاری کی کمائی سے ایک کھیت حاصِل کِیا اور سر کے بَل گِرا اور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی سب انتڑِیاں نِکل پڑِیں۔
۱۹- اور یہ یروشلِیم کے سب رہنے والوں کو معلُوم ہُؤا۔ یہاں تک کہ اُس کھیت کا نام اُن کی زُبان میں ہَقَل دؔما پڑ گیا یعنی خُون کا کھیت)۔
۲۰- کیونکہ زبُور میں لِکھا ہے کہ اُس کا گھر اُجڑ جائے اور اُس میں کوئی بسنے والا نہ رہے اور اُس کا عُہدہ دُوسرا لے لے۔
۲۱- پس جِتنے عرصہ تک خُداوند یِسُوعؔ ہمارے ساتھ آتا جاتا رہا یعنی یُوحنّا کے بپتِسمہ سے لے کر خُداوند کے ہمارے پاس سے اُٹھائے جانے تک جو برابر ہمارے ساتھ رہے۔
۲۲- چاہئے کہ اُن میں سے ایک مَرد ہمارے ساتھ اُس کے جی اُٹھنے کا گواہ بنے۔
۲۳- پِھر اُنہوں نے دو کو پیش کِیا۔ ایک یُوسفؔ کو جو برسبّا کہلاتا اور جِس کا لقب یُوؔستُس ہے۔ دُوسرا متّیاؔہ کو۔
۲۴- اور یہ کہہ کر دُعا کی کہ اَے خُداوند! تُو جو سب کے دِلوں کی جانتا ہے۔ یہ ظاہِر کر کہ اِن دونوں میں سے تُو نے کِس کو چُنا ہے۔
۲۵- کہ وہ اِس خِدمت اور رِسالت کی جگہ لے جِسے یہُوداؔہ چھوڑ کر اپنی جگہ گیا۔
۲۶- پِھر اُنہوں نے اُن کے بارے میں قُرعہ ڈالا اور قُرعہ متّیاؔہ کے نام کا نِکلا۔ پس وہ اُن گیارہ رسُولوں کے ساتھ شُمار ہُؤا۔