۳۔ نینوہ کے محاصرے کی تفصیل (۲: ۱۔۱۲)
۲: ۱ پہلی دس آیات بابلیوں کی طرف سے نینوہ کے محاصرے کا بیان کرتی ہیں۔ ’’پراگندہ کرنے والا‘‘ سے مراد خدا بھی ہو سکتا ہے اور بابلی بھی۔ افراتفری میں مبتلا شہر کے باشندوں کو طنزاً کہا گیا ہے کہ لڑائی کی تیاری کرو۔ اِس مقصد سے اُنہیں چار حکم دیئے گئے ہیں: (۱) قلعہ کو محفوظ رکھ یعنی وہاں اَور زیادہ آدمی کھڑے کر۔ (۲) راہ کی نگہبانی کر یعنی جاسوس مقرر کر۔ (۳) کمربستہ ہو یعنی فوج کے دستوں کو ہتھیاربند کر۔ (۴) خوب مضبوط رہ یعنی قلعہ بندیاں وغیرہ کر۔
۲:۲ خداوند اپنے لوگوں کو پھر بحال اور مستحکم کرے گا۔ اِسرائیل کی رونق کی کچھ بحالی ہو گی لیکن ضروری نہیں کہ جلد ہو۔ اِس وقت تک جنوبی سلطنت بھی جلاوطن نہیں ہوئی تھی، البتہ خراج ادا کر رہی تھی۔
اِس آیت کا ایک بالکل اُلٹ مفہوم اِس صورت میں ممکن ہے کہ اِسے طنز سمجھا جائے۔ والٹر اے۔ مائیر (Maier) نے ناحوم کی چھوٹی سی نبوت پر ۴۰۰ صفحات (اُردو میں ۶۰۰ سے زائد صفحات کے برابر) کی تفسیر لکھی ہے۔ اُس میں مصنف نے بحال کو بالکل اُلٹ کاٹ ڈالنا کے مفہوم میں اور رونق کو غرور کے مفہوم میں لیا ہے۔ وہ لکھتا ہے:
’’یہ الفاظ کہ خداوند (یہوواہ) نے یعقوب کا غرور کاٹ ڈالا ہے اُس بڑی سزا کا بیان کرتے ہیں جو خدا نے ماضی میں نبی کے گھرانے یعنی یہوداہ کو دی کیونکہ اُس نے بڑے غرور سے قادرِ مطلق __ یہوواہ __ کو ردّ کر دیا تھا۔ ناحوم غالباً اُس تباہی اور غارت گری کے بارے میں سوچ رہا تھا جو سنحیرب نے کی تھی اور پھر بڑے گھمنڈ سے کہا تھا کہ ’’ مَیں نے یہوداہ کو تاخت و تاراج کر دیا ہے۔‘‘
اِسرائیل کو اُجڑے اور ویران تاکستان سے تشبیہ دینا پرانے عہدنامے کے بہت سے حوالوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ دیکھئے زبور ۸۰:۱۲ ومابعد، یسعیاہ ۵:۵،۶؛ یرمیاہ ۱۲: ۱۰؛ ہوسیع ۱۰: ۱۔
۲: ۳۔۶ آیات ۳ اور ۴ میں بابل کے سپاہیوں کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ وہ اپنے مقبول رنگوں کی وردیاں پہنے ہوئے ہیں۔ بابلی سپاہی سرخ اور اُس کے اتحادی مادی قرمزی رنگ کی واسکٹوں میں ملبس ہیں (اسوریوں کا فوجی رنگ نیلا تھا)۔ آیت ۵ میں ٹکریں کھاتے سرداروں سے مراد دِفاع کرنے والے اسوری ہیں مگر سیاق و سباق میں اِشارہ حملہ آور بابلیوں کی طرف ہے۔ نہروں کا پانی شہر میں چڑھ آیا جس سے بنیادوں کو بہت نقصان پہنچا اور محل گر گیا۔
۲: ۷۔۱۰ دشمن ملکہ کو اسیر کر کے لے گئے۔ لوگوں کو پکار پکار کر کہا جاتا ہے کہ ٹھہرو! ٹھہرو! مگر وہ اِس پکار کو خاطر میں نہیں لاتے اور ’’بھاگے چلے جاتے ہیں۔‘‘ نینوہ کا مال، دولت اور خزانہ لُوٹا گیا۔ اُس کا سونا اور چاندی بھی مالِ غنیمت بن گیا۔ اب شہر ویران اور اُجڑا پڑا ہے۔ ہر چہرے پر خوف و ہراس چھایا ہوا ہے۔
۲: ۱۱، ۱۲ اِن آیات کی قدر اور خوبصورتی کو سمجھنے کے لئے یاد رکھنا ضروری ہے کہ مختلف قوموں نے اپنی شناخت کے لئے مختلف نشان مقرر کر رکھے ہیں۔ مثلاً پاکستان کا نشان ہلال اور ستارہ ہے۔ امریکہ کا نشان عقاب ہے۔ اِسی طرح اسوریوں کا اِمتیازی نشان ببر شیر تھا۔ وہ جنون کی حد تک ببر شیروں کے دلدادہ تھے۔ اسوری آرٹ اور سنگ تراشی میں ببر شیر کے دھڑ پر آدمی کے سر والے اور آدمی کے دھڑ پر ببر شیر کے سر والے مجسمے عام ملتے ہیں۔ اِس میں شک نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ببر شیر سمجھتے تھے اور اِسی طرح کا کردار بھی ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
نینوہ کو شیروں کی ماند سے تشبیہ دے کر ناحوم طنز کے نشتر سے اُن کی خود پسندی اور گھمنڈ پر اَور گہرے زخم لگاتا ہے۔ اِس مقصد کے لئے وہ دو آیتوں میں شیروں، جوان ببروں وغیرہ کے لفظ سات دفعہ استعمال کرتا ہے۔
۴۔ خدا کا پکا ارادہ کہ اِس شہر کو برباد کروں گا (۲: ۱۳۔۳:۱۹)
۲: ۱۳ رب الافواج نے نینوہ کی مکمل بربادی کا فرمان جاری کر دیا ہے۔ چونکہ خدا خود اُس کا دشمن ہو گیا ہے اِس لئے شہر کے بچنے کی قطعی گنجائش نہیں۔ اُس کے رتھ آگ کا ایندھن ہوں گے اور اُس کے جوان ببروں (بہادر جوانوں) کو تلوار سے قتل کیا جائے گا۔ اُس کی فوجوں کے قدموں کی آواز پھر سنائی نہ دے گی۔ چنانچہ اُس کا کوئی شکار بھی نہ ہو گا۔
مقدس کتاب
۱ پراگندہ کرنے والا تجھ پر چڑھ آیا ہے۔قلعہ کو محفوظ رکھ۔ راہ کی نگہبانی کر۔ کمر بستہ ہو اور خُوب مضبوط رہ۔
۲ کیونکہ خُداوند یعقوب کی رونق کو اسرائیل کی رونق کی مانند پھر بحال کرے گا اگرچہ غارت گروں نے ان کو غارت کیا ہے اور ان کی تاک کی شاخیں توڑ ڈالی ہیں۔
۳ اس کے بہادروں کی سپریں سُرخ ہیں ۔اس کی تیاری کے وقت رتھ فولاد سے جھلکتے ہیں اور دیودار کے نیزے بشدت ہلتے ہیں۔
۴ رتھ سڑکوں پر تُندی سے دوڑتےاور میدان میں بے تحاشا جاتے ہیں۔ وہ مشعلوں کی مانند چمکتے اور بجلی کی طرح کوندتے ہیں۔
۵ وہ اپنے سردار کو بلاتا ہے۔ وہ ٹکریں کھاتے آتے ہیں۔ وہ جلدی جلدی فصیل پر ڑھتے ہیں اور اڑتلا تیار کیا جاتا ہے۔
۶ نہروں کے پھاٹک کھل جاتے ہیں۔اور قصر گراز ہو جاتا ہے۔
۷ ہُصب بے پردہ ہوئی اور اسیری میں لی گی۔اس کی لونڈیاں قُمریوں کی مانند کراہتی ہوئی ماتم کرتی اور پھاتی پیٹتی ہیں۔
۸ نینوہ تو قدیم سے حوض کی مانند ہے تو بھی وہ بھاگے چلے جاتے ہیں۔ وہ پکارتے ہیں کہ ٹھہرو ٹھہڑو! پر کوئی مڑ کر نہیں دیکھتا۔
۹ چاندی لُوٹو! سونا لُوٹو! کیونکہ مال کی کچھ انہتا نہیں۔ سب نفیس چیزیں کثرت سے ہیں۔
۱۰ وہ خالی سُنسان اور ویران ہے۔ ان کے دل پگھل گئے اور گُھٹنے ٹکرانے لگے۔ ہر ایک کی کمر میں شدت سے درد ہے اور ان سب کے چہرے زرد ہو گے۔
۱۱ شیروں کی مانند اور جو ان ببروں کی کھانے کی جگہ کہاں ہےجس میں شیر ببر اور شیرنی اور ان کے بچے بے خُوف پھرتے تھے۔
۱۲ شیر ببر اپنے بچوں کی خوراک کے لے پھاڑتا تھا اور اپنی شیرینوں کے لے گلا گھونٹتا تھا اور اپنی ماندوں کو شکار سے اور غاروں کو پھاڑے ہووں سے بھرتا تھا۔
۱۳ ربُ الا فواج فرماتا ہے دیکھ میں تیرا مُخالف ہوںاور اس کے رتھوں کو جلا کے دُھواں بنا دوں گا اور تلوار تیرے جوان ببروں کو کھا جائے گی اور میں تیرا شکار زمین پر سے مٹا ڈالوں گا اور تیرے ایلچیوں کی آواز پھر سُنائی نہ دے گی۔