ہ۔ یہودیوں کا غیر قوم بیویوں اور بچوں کو علیٰحدہ کرنے کا عہد (باب ۱۰)
۱۰: ۱۔۵ عزرا کے دعائیہ اِقرار سے لوگ زار زار رونے لگے۔ سکیناہ نے اُن کے نمائندے کی حیثیت سے اُن کے گناہوں کا اِقرار کیا، لیکن عزرا کو یاد دلایا کہ ابھی تک اُمید باقی ہے، بشرط یہ کہ لوگ اِقرار کے بعد ناہموار جوئے سے نکل آئیں۔ اُس نے یہ مشورہ دیا کہ عہد باندھنے میں عزرا اُن کی راہنمائی کرے تاکہ وہ غیر قوم بیویوں اور بچوں کو دُور کریں۔ کاہنوں، لاویوں اور تمام اِسرائیل نے اِس قومی توبہ کی درخواست پر عمل کیا اور قسم کھائی۔
۱۰: ۶۔۸ تمام اسیروں کو علانیہ اِقرار کے لئے ایک خاص وقت پر یروشلیم میں بلایا گیا۔ جو تین دن کے اندر آ کر اِس معاملے کو طے کرنے سے اِنکار کریں، اُن کی یہ سزا مقرر کی گئی کہ اُن کی جائیداد ضبط کر کے اُنہیں خارج کر دیا جائے گا۔
۱۰: ۹۔۱۱ لوگوں کے پاس اِس معاملے کا جواب دینے کے لئے صرف تین دن تھے۔ چنانچہ بنی یہوداہ اور بنی بنیمین بڑی جلدی یروشلیم میں فراہم ہوئے۔ سخت بارش اُن کے لئے رکاوٹ نہ بن سکی کیونکہ بارش کی نسبت یہ معاملہ زیادہ سنگین تھا۔ عزرا نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے اُن کی برائیوں کی نشان دہی کی۔
۱۰: ۱۲۔۱۷ سارے مجمع نے فوری طور پر تسلیم کر لیا کہ ہم نے خدا کی شریعت کی نافرمانی کی ہے، لیکن سخت بارش اور مخلوط شادیوں کے بہت سارے واقعات کی وجہ سے اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ اِنفرادی مقدمات کا شہر بہ شہر فیصلہ کیا جائے۔ چار اشخاص نے اِس منصوبے کی مخالفت کی لیکن وہ ناکام رہے۔ قاضی مقرر کئے گئے اور دو ہفتوں سے کم عرصے میں تفتیش کا آغاز ہو گیا۔ تین ماہ میں یہ سارا معاملہ نپٹا لیا گیا۔
۱۰: ۱۸۔۴۴ جن لوگوں پر الزام عائد کیا گیا اُن کے نام ۱۸۔۴۳ کی فہرست میں مندرج ہیں۔ پہلے کاہن (آیات ۱۸۔۲۲)، پھر لاوی (آیات ۲۳،۲۴) اور پھر اِسرائیل کے باقی لوگ (آیات ۲۵۔۴۳)۔ آیت ۴۴ میں یوں مرقوم ہے: ’’یہ سب اجنبی عورتوں کو بیاہ لائے تھے اور بعضوں کی بیویاں ایسی تھیں جن سے اُن کے اولاد تھی۔‘‘ گو اِس بات کا بیان موجود نہیں لیکن عین ممکن ہے کہ ان بیویوں اور اولاد کی کفالت کے لئے خاطر خواہ اِنتظام کیا گیا۔ اِن خاندانوں کے ٹُوٹنے کے غم کا قوم کی سا لمیت کے قیام کی اہمیت سے موازنہ کیا گیا کیونکہ اِسی قوم سے مسیح نے جنم لینا تھا۔
ناہموار جوئے میں جُتنے کو اب بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے (۲۔کرنتھیوں ۶: ۱۴۔۱۸)۔ خدا کے فرزندوں میں ایسی بات نہیں پائی جانی چاہئے۔ لیکن ۱۔کرنتھیوں ۷: ۱۲،۱۳ میں عہد جدید کا اُن لوگوں کے لئے قانون ہے جو اپنی تبدیلی کے وقت پہلے سے ایک غیر ایمان دار شخص کے ساتھ ازدواجی رِشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ فضل کے تحت، ایمان دار سے یہ تقاضا نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے غیر ایمان دار جیون ساتھی یا اولاد کو چھوڑ دے۔ موخرالذکر ایمان دار کی وجہ سے پاک ٹھہرتے ہیں۔
عزرا کی کتاب بیداری کے موضوع پر ایک بہترین مطالعہ ہے۔ جب لوگ خدا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور اِس کی سچائیوں کا اپنی زندگیوں پر اِطلاق کرتے ہیں، جب مقدسین کے لئے سفارشی مناجات کی جاتی ہے، اور جب گناہوں کا اِقرار کر کے اُنہیں ترک کیا جاتا ہے تو کلیسیا میں خدا کے لئے عظیم کام کرنے کے لئے قوت ہو گی۔
مقدس کتاب
۱ جب عزرا خدا کے گھر کے رو رو کر اور اوندھے منہ گر کر دعا اور اقرار ر رہا تھا تو اسرائیل میں سے مردوں اور عورتوں اور بچوں کی ایک بہت بڑی جماعت اس کے پاس فراہم ہوگئی اور لوگ پھوٹ پھوٹ کر رورہے تھے۔
۲ تب سکنیاہ بن یحی ایل جو بنی عیلام میں سے تھا عزرا سے کہنے لگا ہم اپنے خدا کے گنہگار تو ہوئے ہیں اور اس سرزمین کی قوموں میں اجنبی عورتیں بیاہ لی ہیں تو بھی اس معاملہ میں اب بی ارائیل کے لئے امید ہے۔
۳ سو اب ہم اپنے مخدوم کی اور ان کی صلاح کے مطابق جو ہمارے خدا کے حکم سے کاپنتے ہیں سے بیویوں اور ان کی اولاد کو دور کرنے کے لئے اپنے خدا سے عہد باندھیں اور یہ شریعتے کے مطابق کیا جائے۔
۴ پس اٹھ کیونکہ یہ تیرا ہی کام ہے اور ہم تیرے ساتھ ہیں،ہمت باندھ کر کام میں لگ جا۔
۵ تب عزرا نے اٹھ کر سردار کاہنوں اور لاویوں اور سارے اسرائیل سے قسم لی کہ اس اقرار کے مطابق عمل کریں گے اور انہوں نے قسم کھائی۔
۶ تب عزرا خدا کے گھر کے سامنے سے اٹھا اور یہوحانان بن الیاسب کی کوٹھری میں گیا اور وہاں جا کر نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا کیونکہ وہ اسیری کے لوگوں کی خطا کے سبب سے نماتم کرتا رہا۔
۷ پھر انہوں نے یہوداہ اور یروشلم میں اسیری کے سب لوگوں کے درمیان منادی ک کہ وہ یروشلم میں اکٹھے ہو جائیں۔
۸ اور جو کوئی سرداروں اور بزرگوں کی صلاح کے مطابق تین دن کے اندر نہ آئے اس کا سارا مال ضبط ہو اور وہ خود اسیروں کی جماعت سے الگ کیا جائے۔
۹ تب یہوداہ اور بنیمین کے سب مرد ان تین دنوں کے اندر یروشلم میں اکٹھے ہوئے۔مہینہ نواں تھا اور اس کی بیسویں تاریخ تھی اور سب لوگ اس معاملہ اور بڑی بارش کے سبب سے خدا کے گھر کے سامنے کے میدان میں بیٹھے کانپ رہے تھے۔
۱۰ تب عزرا کاہن کھڑا ہو کر ان سے کہنے لگا کہ تم نے خطا کی ہے اور اسرائیل کا گناہ بڑھانے کو اجنبی عورتیں بیاہ لی ہیں۔
۱۱ پس خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کے آگے اقرار کرو اور اس کی مرضی پر عمل کرو اور اس سرزمین کے لوگوں اور اجنبی عورتوں سے الگ ہو جاؤ۔
۱۲ تب ساری جماعت نے جواب دیا اور بلند آواز سے ہکہا کہ جیسا تو نے کہا ویسا ہی ہم کو کرنا لازم ہے۔
۱۳ لیکن لوگو بہت ہیں اور اس وقت شدت کی بارش ہورہی ہے اور ہم باہر کھڑے نہیں رہ سکتے اور نہ یہ ایک دو دن کاکام ہے کیونکہ ہم نے اس معاملہ میں بڑا گناہ کیا ہے۔
۱۴ اب ساری جماعت کے لئے ہمارے سردار مقرر ہوں اور ہمارے شہروں میں جہنوں نے اجنبی عورتیں بیاہ لی ہیں وہ سب مقررہ وقتوں پر آئیں اور ان کے ساتھ ہر شہر کے بزرگ اور قاضی ہوں جب تک کہ ہمارے خدا کا قہر شدید ہم پر سے ٹل نہ جائے اور اس معاملہ کا تصفیہ نہ ہو جائے۔
۱۵ فقط یونتن بن عساہیل اور یحازیاہ بن تقوہ اس بات کے خلاف کھڑے ہوئے اور سلام اور سبتی لاوی نے ان کی مدد کی ۔
۱۶ پر اسیری کے لوگوں نے ویسا ہی کیا اور عزرا کاہن اور آبائی خاندانوں کے سرداروں میں سے بعض اپنے اپنے آبائی خاندان کی طف سے سب نام بہ نام الگ کئے گئے اور وہ سدویں مہینے کی پہلی تاریخ کو اس بات کی تحقیقات کے لئے بیٹھے۔
۱۷ اور مہینے کے پہلے دن تک ان سب مردوں کے معاملہ کا فیصلہ کیا جہنوں نے اجبنی عورتیں بیاہ لی تھیں۔
۱۸ اور کاہنوں کی اولاد میں یہ لوگ ملے جہنوں نے اجنبی عورتیں بیاہ لی تھیں یعنی بنی یشوع میں سے یوصدق کا بیٹا اور اس کے بھائیمعیاہ اور الیعزر اور یارب اور جدلیاہ۔
۱۹ انہوں نے اپنی بہویوں کو دور کرنے کا وعدہ کیا اور گنہگار ہونے کے سبب سے انہوں نے اپنے گناہ کے لئے اپنے اپنے ریوڑ میں سے ایک ایک مینڈھا قربان کیا۔
۲۰ اور بنی امیر میں سے حنانی اور زبدیاہ۔
۲۱ اور بنی حارم میں سے معیاہ اور الیاہ اور سمعیاہ اور یحی ایل اور عزیاہ ۔
۲۲ اور بنی فشحور میں سےالیوعینی اور معیاہ اور اسمعیل اور نتنی ایل اور یوزباد اورالعسہ۔
۲۳ یوزباد اور سمعی اور فلایاہ (جو قلیتا بھی کہلاتا ہے) فتحیاہ اور یہوداہ اور الیعزر۔
۲۴ اور گانے والوں میں سے الیاسب اور بانوں میں سے سلوم اور طلم اور اوری۔
۲۵ اور اسرائیل میں سے بنی پرغوس میں سے رمیاہ اور یزیاہ اور ملکیاہ اور میامین اور الیعزر اور ملکیاہ اور بنایاہ۔
۲۶ اور بنی عیلام میں سے متنیاہ اور زکریا اور یحی ایل اور عبدی اور یریموت اور الیاہ۔
۲۷ اور بنی زتو میں سے الیوعینی اور الیاسب اور متنیاہ اور یریموت اور زاباد اور عزیزا۔
۲۸ اور بنی ببی میں سے یہوحانان اور حننیاہ اور زبی اور عطلی۔
۲۹ اور بنی بانی میں سے۔ مسلام اور ملوک اور عدایاہ اور یاسوب اور سیال اور یراموت۔
۳۰ اور بنی پخت موآب میں سے عدنا اور کلالی اور بنایاہ اور معیاہ اور منیاہ اور بضلی ایل اور بنوی اور منسی۔
۳۱ اور بنی حارم میں سے الیعزر اور یشیاہ اور ملکیاہ اور سمعیاہ اور شمعون۔
۳۲ بنیمین اور ملوک اور سمریاہ۔
۳۳ اور بنی حاشوم میں سے متنی اور متتاہ اور زایاد اور الیفلط اور یریمی اور منسی اور سمعی۔
۳۴ اور بنی بانی میں سے معدی اور عمرام اور اوایل۔
۳۵ بنایاہ اور بدیاہ اور کلوہ۔
۳۶ اور ونیاہ اور مریموت اور الیاسب۔
۳۷ اور مننیاہ اور متنی اور یعسو۔
۳۸ اور بانی اور بنوی اور سمعی۔
۳۹ اور سلمیاہ اور ناتن اور عدایاہ۔
۴۰ مکندب ساسی ساری۔
۴۱ عزریئلاور سلیمیاہ سمریاہ۔
۴۲ سلوم امریاہ یوسف۔
۴۳ بنی بنو میں سے یعی ایل متتیاہ زاباد زبینایدد اور یوایل بنایاہ۔
۴۴ یہ سب اجنبی عورتوں کو بیاہ لائے تھے اور بعضوں کی بیویاں ایسی تھیں جن سے ان کے اولاد تھی۔