عزرا ۶

ح۔ دارا کے پُرحمایت فرمان کے باعث ہیکل کی تکمیل(‏باب ۶)‏

بہت تفتیش کے بعد خورس کا فرمان اخمتا سے ملا جو بادشاہ کا صدر مقام تھا (‏باب ۱ میں فرمان کا صرف خلاصہ پیش کیا گیا ہے‏، لیکن یہ بہت تفصیلی فرمان تھا)‏۔ اِس میں ہیکل کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں اور یہ احکام بھی صادر کئے گئے کہ سونے چاندی کے اُن برتنوں کو بھی واپس کیا جائے جو نبوکدنضر لایا تھا۔ 

۶:‏ ۶۔۱۲ دارا نے تتنی اور اُس کے رفیقوں کو یہودیوں کے لئے اُن کی ذمہ داریوں کے بارے میں بتایا۔ اُنہیں کہا گیا کہ وہ ہیکل کے کام میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ ڈالیں بلکہ جمع کئے ہوئے محصولات سے شاہی خزانے میں سے ہیکل کی تعمیر کے لئے اِخراجات دیں۔ ہیکل میں خدمت کی اشیا کاہنوں کی درخواست کے مطابق دی جائیں (‏آیت ۹)‏ تاکہ یہودی خدا کی نظر میں مقبول ٹھہریں اور بادشاہ اور اُس کے خاندان کے لئے دعا کریں۔ دارا نے اِس بات کی بھی وضاحت کر دی کہ اگر کوئی اِس کام میں رُکاوٹ ڈالے تو اِسے سنگین جرم قرار دیا جائے۔ اُس نے خدا سے اِلتجا کی کہ بادشاہوں سمیت اگر کوئی مستقبل میں خدا کے گھر کو غارت کرے‏، تو وہ اُسے غارت کرے۔ 

۶:‏ ۱۳۔۱۵ بادشاہ کے احکام پر فوری عمل ہوا اور ہیکل کی تعمیر کے کام میں کامیابی ہوتی گئی۔ خدا کے انبیا کی حوصلہ افزائی اور دارا کے خزانے سے وسائل کی دست یابی سے ہیکل چار سال کے بعد مکمل ہو گئی۔ لیکن یہ تکمیل سنگِ بنیاد رکھنے کے اُنیس یا بیس سال بعد ہوئی۔ ارتخششتا کا دَور درحقیقت بعد میں ہے‏، اُس نے ہیکل کی تعمیر میں نہیں بلکہ اُس کی دیکھ بھال کے لئے وسائل مہیا کئے۔ 

۶:‏ ۱۶ اِسرائیلیوں اور اُن کے قائدین نے بڑی خوشی سے ہیکل کی رسمِ مخصوصیت ادا کی۔ Dennett لکھتا ہے:‏

’’یہ ایک فطری اَمر تھا کہ وہ ایک ایسے موقعے پر خوشی مناتے کیونکہ اُن کے خدا کا گھر‏، اُن کے لئے عہد کے تحت تمام برکتوں کا اِظہار تھا۔ بالآخر ناکامیوں‏، مشکلات‏، مایوسیوں اور المیوں کے پریشان کُن سالوں کے بعد‏، یہ ہیکل اُن کی آنکھوں کے سامنے مکمل تھی۔ اِسی لئے تو اُنہیں بابل سے لایا گیا تھا‏، اور اگر اُنہوں نے آنسوؤں کے ساتھ بویا تھا‏، اَب خوشی کے ساتھ کاٹا۔‘‘

۶:‏ ۱۷۔۲۲ اُنہوں نے قربانیاں گزرانیں۔ اگر ہم اِس کا سلیمان کی ہیکل کی مخصوصیت سے موازنہ کریں‏، جب عہد کے صندوق کے سامنے بائیس ہزار بیل‏، ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑیں اور بے شمار بیل اور بھیڑیں ذبح کی گئیں (‏۲۔سلاطین ۷:‏ ۵؛ ۵:‏۶)‏ تو یہ اُس کے مقابلے میں بالکل ہیچ نظر آتا ہے۔ خوش قسمتی سے اُن کی نگاہیں صرف اِسی پر مرکوز نہیں تھیں۔ 

آج کل بہت سی کلیسیاؤں‏، رفاقتوں‏، جماعتوں‏، سکولوں اور مملکتوں میں سلیمان سے عزرا کے دَور تک کا زوال نظر آتا ہے۔ Dennett اِس سلسلے میں ایک حوصلہ افزا اطلاق پیش کرتا ہے:‏

’’ایمان کا تعلق اَن دیکھی چیزوں سے ہوتا ہے‏، اور اِس کمزور سے بقیہ کو یاد تھا کہ یہوواہ اب بھی اُسی قدر مہربان اور زور آور ہے جس قدر وہ سلیمان کے ایام میں تھا۔ گو گھر کی حشمت کم تر تھی‏، اور وہ خود بھی ایک غیر قوم بادشاہ کے غریب باج گزار تھے‏، اگر خدا اُن کی طرف تھا‏، اور وہ اُن کی طرف تھا‏، تو ایمان کے لئے دست یاب وسائل پہلے کی طرح بکثرت تھے۔ یہ حقیقت آپ کے ذہنوں کو متاثر کرے کہ مسیح اپنے لوگوں کے مشکلات کے دَور میں بھی وہی ہے جو کہ وہ خوش حالی کے ایام میں تھا۔ اِس قوت کا احساس ہمیں حالات سے بالاتر رکھتا ہے اور مصائب کی راہوں میں بھی ہمیں آگے بڑھنے کے لئے جرأت دیتا ہے۔‘‘

اِس کے بعد عید فسح اور فطیری روٹی کی عید بڑی خوشی سے منائی گئی‏، کیونکہ لوگوں نے بڑی صفائی سے دیکھا کہ دارا کی ساری مہربانیوں کے پیچھے خدا کا ہاتھ کارفرما تھا۔ دارا کو یہاں شاہِ اسور کہا گیا کیونکہ وہ قدیم اسوری سلطنت پر حکمران تھا۔ 

مقدس کتاب

۱ تب دارا بادشاہ کے حکم سے بابل کے اس تواریخی کتب خاانہ میں جس میں خزانے دھرے تھے تفتیش کی گئی
۲ چنانچہ اخمتا کے محل میں جو مادے کے صوبہ میں واقع ہے ایک طومار ملا جس میں یہ حکم لکھا ہوا تھا۔
۳ خورس بادشاہ کے پہلے سال خورس بادشاہ نے خدا کے گھر کی بات جو یروشلم میں ہے حکم کیا کہ وہ گھر یعنی وہ مقام جہاں قربانیاں کرتے ہیں بنایا جائے اور اس کی بنیادیں مضبوطی سے ڈالی جائیں اس کی اونچائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی ساٹھ ہاتھ ہو۔
۴ تین ردے بھاری پتھروں کے اور ایک ردہ نئی لکڑی کا ہو اور خرچ شاہی محل سے دیا جائے ۔
۵ اور خدا کے گھر کے سونے اور چاندی کے برتن بھی جن کو بنوکدنضر اس ہیکل سے جو یروشلم میں ہے نکال کر بابل کو لایا واپس دئے جائیں اور یروشلم کی ہیکل میں اپنی اپنی جگہ پہنچائے جائیں اور تو ان کو خدا کے گھر میں رکھ دینا۔
۶ سو تو اے دریا پار کے حاکم تتنی اور شتر بوزنی اور تمہارے افارسکی رفیق جو دریا پار ہیں تم وہاں سے دور رہو۔
۷ خدا کے اس گھر کے کام میں دست اندازی نہ کرو۔یہودیوں کا حاکم اور یہودیوں کے بزرگ خدا کے گھر کو اس کی جگہ پر تعمیر کریں۔
۸ علاوہ اس کے خدا کے اس گھر کے بنانے میں یہودیوں کے بزرگوں کے ساتھ تم کو کیا کرنا ہے۔سو اس کی بابت میرا یہ حکم ہے کہ شاہی مال میں سے یعنی دریا پار کے خراج میں سے ان لوگوں کو بلاتوقف خرچ دیاجائےتاکہ ان کو ان کو رکنا نہ پڑے۔
۹ اور آسمان کے خدا کی سوختنی قربانیوں کے لئے جس جس چیز کی ان کو ضرورت ہو یعنی بچھڑے اور مینڈھے اور حلوان اور جتنا گہیوں اور نمک اور مے اور تیل وہ کاہن جو یروشلم میں ہیں بتائیں وہ سب بلاناغہ روز بروز ان کو دیا جائے۔(تاکہ وہ آسمان کے خدا کے حضور راحت انگیز قربانیاں چڑھائیں اور بادشاہ اور شاہزادوں کی عمر درازی کے لئے دعا کریں۔
۱۰
۱۱ میں نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ جو شخص اس فرمان کو دل دے اس کے گھر میں سے کڑی نکالی جائے اور اسے اسی پر چڑھا کر سولی دی جائے اور اس بات کے سبب سے اس کا گھر کوڑا خانہ بنا دیا جائے۔
۱۲ اور وہ خدا جس نے اپنا نام وہاں رکھنا ہے سب بادشاہوں اور لوگوں کو جوخدا کے اس گھر کو جو یروشلم میں ہے ڈھانے کی غرض سے اس حکم کو بدلنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھائیں غارت کرے۔ مجھ دارا نے حکم دے دیا اس پر بڑی کوشش سے عمل ہو۔
۱۳ تب دریا پار کے حاکم تتنی اور شتر بوزنی اور ان کے رفیقوں نے دارا بادشاہ کے فرمان بھیجنے کے بب سے بلا توقف اس کے مطابق عمل کیا۔
۱۴ سو یہودیوں کے بزرگ حجی بنی اور زکریا بن عدو کی بنوت کے سبب سے تعمیر کرتے اور کامیاب ہوتے رہے اور انہوں نے اسرائیل کے خدا کے حکم اور خورس اور دارا اور شاہ فارس ارتخششتا کے حکم کے مطابق اسے بنایا اور تمام کیا۔
۱۵ سو یہ مسکن ادار کے مہینے کی تیسری تاریخ میں دارا بادشاہ کی سلطنت کے چھٹے برس تما ہوا۔
۱۶ اور بنی اسرائیل اور کاہنوں اور لاویوں اور اسیری کے باقی لوگوں نے خوشی کے ساتھ خدا کے اس گھر کی تقدیس کی۔
۱۷ اور انہوں نے خدا کے اس گھر کی تقدیس کے موقع پر سو بیل اور دو سو مینڈھے اور چار سو برے اور سارے اسرائیل کی خطا کی اربانی کے لئے اسرائیل کے قبیلوں کے شمار کے مطابق بارہ بکرے چڑھائے۔
۱۸ اور جیسا موسی کی کتاب میں لکھا ہے انہوں نےکاہنوں کو ان کی تقسیم اور لاویوں کو ان کے فریقوں کے مطابق خدا کی عبادت کے لئے جو یروشلم میں ہوتی ہے مقرر کیا۔
۱۹ اور پہلے مہینے کی چودھعیں تاریخ کو ان لوگوں نے جو اسیری سے آئے تھے عید فسح منائی۔
۲۰ کیونکہ کاہنوں اور لاویوں نے ایک تن ہو کر اپنے آپ کو پاک کیا تھا۔وہ سب کے سب پاک تھے اور انہوں نے ان سب لوگوں کے لئے جو اسیری سے آئے تھے اور اپنے بھائی کاہنوں کے لئے اور اپنے واسطے کوذبح کیا۔
۲۱ اور بنی اسرائیل نے جو اسیری سے لوٹے تھے اور ان سبھوں نے جو خداوند اسرائیل کے خدا کے طالب ہونے کے لئے اس سرزمین کی اجنبی قوموں کی نجاستوں سے الگ ہو گئے تھے فسح کھایا۔
۲۲ اور خوشی کے ساتھ سات دن تک فطیری روٹی کی عید منائی کیونکہ خداوند نے ان کو شادمان کیا تھا اور بادشاہ کے دل کو ان کی طرف مائل کیا تھا تاکہ وہ خدا یعنی اسرائیل کے خدا کے مسکن کے بنانے میں ان کی مدد کرے۔