گلتیوں ۳

۳۔ عملی __ پولس روح میں مسیحی آزادی کا دفاع کرتا ہے (‏۵:‏ ۲-‏۶:‏ ۱۸)‏

الف۔ شریعت پرستی کا خطرہ (‏۵:‏ ۲-‏۱۵)‏

۵:‏ ۲ شریعت پرستی مسیح کی قدر و قیمت کو ختم کر دیتی ہے۔ یہودیت نواز زور دیتے تھے کہ غیر قوم ایمان داروں کو نجات کے لئے ختنے کرانا ضروری ہے۔ پولس ایک رسول کے اِختیار سے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ختنہ پر اِنحصار کرنے سے مسیح بے فائدہ ٹھہرتا ہے۔ جیک ہنٹر (‏Hunter)‏ کہتا ہے:‏

«جہاں تک گلتیوں کا تعلق ہے پولس کے لئے ختنہ نہ تو جراحی کا ایک عمل تھا،‏ نہ محض مذہبی رسم کی پابندی،‏ بلکہ یہ نیک اعمال کے وسیلے سے نجات کا نمائندہ تھا۔ یہ ختنہ اِنسانی کوشش کی ایسی خبر کا اعلان کر رہا تھا جس میں خدا کے فضل کا کوئی ہاتھ نہ ہو۔ یہ شریعت تھی جو فضل کو بے دخل کر رہی تھی … مسیح میں کچھ بڑھانا دراصل مسیح میں سے گھٹانا ہے … مسیح واحد نجات دہندہ ہے __ نرالا،‏ تنہا،‏ اختصاصی __ باقی سب خارج ہیں۔ ختنہ کا مطلب ہوتا ہے مسیح سے کٹ جانا۔»

۵:‏ ۳ شریعت پرستی کا تقاضا ہے کہ تمام شریعت پر عمل کیا جائے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ شریعت کے ماتحت لوگ آسان احکام کو تو قبول کر لیں اور دوسروں کو چھوڑ دیں۔ اگر کوئی شخص ختنہ کرا کے خدا کو خوش کرنا چاہتا ہے تو اُس پر فرض عائد ہو جاتا ہے کہ تمام شریعت پر عمل کرے۔ چنانچہ یا تو اِنسان پورے طور پر شریعت کے ماتحت ہو گا،‏ یا بالکل نہیں ہو گا۔ اور صاف ظاہر ہے کہ اگر وہ پورے طور پر شریعت کے ماتحت ہے تو مسیح اُس کے لئے بے فائدہ ہے۔ خداوند یسوع نہ صرف کامل نجات دہندہ ہے،‏ بلکہ اُس کے ساتھ اَور کچھ شامل ہو نہیں سکتا۔ وہ ماسوا ہے۔

اِس آیت میں پولس ایسے افراد کی طرف اِشارہ نہیں کر رہا جن کا ماضی میں ختنہ ہوا ہو،‏ بلکہ اُن کو مخاطب کر رہا ہے جو شاید اِس رسم کی پیروی اِس یقین کے ساتھ کریں گے کہ کامل طور سے راست باز ٹھہرائے جانے کے لئے ختنہ کرانا ضروری ہے۔ اور اُن کو مخاطب کر رہا ہے جو زور دیتے ہیں کہ خدا کی نظر میں مقبول ٹھہرنے کے لئے شریعت کے فرائض پورے کرنا لازمی ہے۔

۵:‏ ۴ راست بازی کے لئے واحد اُمید مسیح ہے۔ مگر شریعت پرستی کا مطلب ہے مسیح کو ترک کر دینا،‏ مسیح سے دست بردار ہو جانا۔ اِس آیت پر بہت بحث مباحثہ ہوتا رہا ہے۔ کئی مختلف تشریحات پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن سارے دلائل کو تین خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

۱۔ بہت سے علما کہتے ہیں کہ پولس یہاں یہ تعلیم دے رہا ہے کہ اِس بات کا امکان ہے کہ ایک شخص حقیقتاً نجات پا لے۔ پھر گناہ میں گر جائے اور فضل سے محروم ہو کر ہمیشہ کے لئے کھو جائے۔

ہمیں یقین ہے کہ یہ تشریح بالکل ناقص اور ناقابلِ قبول ہے۔ اِس کی دو زبردست وجوہ ہیں۔ اوّل،‏ یہ آیت اُن نجات یافتہ افراد کا بیان نہیں کرتی جو گناہ میں گر جاتے ہیں،‏ بلکہ یہاں تو سرے سے گناہ میں گرنے کا بیان ہی نہیں ہے۔ یہ آیت تو اُن لوگوں کا بیان کرتی ہے جو بااخلاق،‏ قابلِ عزت اور راست زندگی گزار رہے ہیں اور اُمید رکھتے ہیں کہ اِس طرح اُن کی نجات ہو جائے گی۔ چنانچہ کلام کا یہ حصہ اُوپر کے نظریے کی حمایت کرنے والوں کی خود ہی تردید کرتا ہے۔ وہ تعلیم دیتے ہیں کہ ایک مسیحی کے لئے ضرور ہے کہ شریعت کی پابندی کرے،‏ کامل زندگی بسر کرے اور ہر طرح سے گناہ کرنے سے اِحتراز کرے تاکہ اُس کی نجات قائم رہے۔ مگر کلام کا یہ حصہ زور دے کر کہتا ہے کہ جو لوگ شریعت کے اعمال سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ فضل سے محروم ہیں۔

دوم،‏ یہ تشریح نئے عہدنامے کی مجموعی تعلیم کی تردید کرتی ہے۔ نیا عہدنامہ مسلسل گواہی دے رہا ہے کہ خداوند یسوع مسیح میں ہر سچا ایمان دار ہمیشہ کے لئے نجات پاتا ہے،‏ کہ مسیح کی کوئی بھیڑ کبھی ہلاک نہ ہو گی اور کہ نجات کا اِنحصار پورے طور پر نجات دہندہ کے کام پر ہے نہ کہ اِنسان کی کمزور کوششوں پر (‏یوحنا ۳:‏۶،‏۳۶؛ ۵:‏ ۲۴؛ ۶:‏۴۷؛ ۱۰:‏ ۲۸)‏۔

۲۔ اِس آیت کی دوسری تشریح یہ کہتی ہے کہ اِس میں اُن افراد کا بیان ہے جنہوں نے شروع میں خداوند یسوع پر ایمان کے وسیلے سے نجات پائی۔ لیکن اپنی نجات کو قائم رکھنے کے لئے یا پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اُنہوں نے بعد میں خود کو شریعت کے ماتحت کر دیا۔ دوسرے لفظوں میں اُنہوں نے نجات پائی تو فضل سے،‏ مگر اب کوشش کرتے ہیں کہ یہ شریعت کے وسیلے سے قائم رہے۔ Philip Mauroکہتا ہے:‏ «اِس صورت میں فضل سے محروم ہونے کا مطلب ہے اُس طریقے سے پھر جانا جو خدا نے مقرر کیا ہے کہ مقدسوں کو روح کے کام سے کامل کیا جائے اور اِس مقصد کو پورا کرنے کے لئے خارجی رسموں،‏ رواجوں اور شعائر کی پابندی کا سہارا لینا۔ اور اِن کی پابندی خدا کے مقدسین اور جسمانی لوگ سبھی کر سکتے ہیں۔»

یہ نظریہ پاک کلام کے خلاف ہے۔ اوّل اِس لئے کہ یہ آیت اُن مسیحیوں کا بیان نہیں کرتی جو پاکیزگی یا تقدیس چاہتے ہیں،‏ بلکہ اُن غیر نجات یافتہ افراد کا بیان کرتی ہے جو شریعت کی پابندی کے وسیلے سے راست باز ٹھہرائے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِن الفاظ پر غور کریں کہ __ «تم جو شریعت کے وسیلے سے راست باز ٹھہرنا چاہتے ہو»۔ دوسرے اِس تشریح میں یہ امکان مضمر ہے کہ نجات یافتہ لوگ بعد میں مسیح سے کٹ سکتے،‏ جدا ہو سکتے ہیں۔ یہ بات خدا کے فضل کے بارے میں درست نظریے سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی۔

۳۔ تیسری تشریح یہ ہے کہ اِس آیت میں پولس اُن لوگوں کا بیان کر رہا ہے جو مسیحی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں،‏ لیکن حقیقتاً نجات یافتہ نہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ شریعت کی پابندی کر کے راست باز ٹھہر جائیں۔ پولس رسول اُن کو بتا رہا ہے کہ تمہارے دو نجات دہندے نہیں ہو سکتے۔ ضرور ہے کہ مسیح اور شریعت میں سے کسی ایک کو چن لو۔ اگر شریعت کو چنتے ہیں تو مسیح سے کٹ جاتے ہیں جو اُن کی راست بازی کی واحد اُمید ہے۔ اور یوں وہ فضل سے محروم ہیں۔

ہوج (‏Hodge)‏ اور وائین (‏Vine)‏ اِس کی بڑی اچھی وضاحت کرتے ہیں:‏

«کسی اِنسان کے لئے مسیح یا تو سب کچھ ہو گا،‏ یا کچھ بھی نہیں ہو گا۔ اُس کو محدود بھروسا یا جزوی اطاعت قبول نہیں۔ جو شخص خداوند یسوع مسیح کے فضل سے راست باز ٹھہرایا گیا ہے وہ مسیحی ہے اور جو شخص شریعت کے اعمال کے وسیلے سے راست باز ٹھہرنے کی کوشش کرتا ہے وہ مسیحی نہیں ہے۔»

۵:‏ ۵ پولس ثابت کرتا ہے کہ سچے ایمان دار کی اُمید شریعت پرست کی اُمید سے بالکل فرق ہے۔ مسیحی راست بازی کی اُمید بر آنے کے منتظر ہیں۔ ایک مسیحی اُس وقت کا اِنتظار کرتا ہے جب خداوند آئے گا،‏ جب اُس کو جلالی بدن ملے گا اور جب وہ مزید گناہ نہیں کرے گا۔ غور کریں کہ آیت یہ نہیں کہتی کہ مسیحی راست بازی کی اُمید کرتا ہے،‏ کیونکہ وہ تو پہلے ہی خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے خدا کے حضور راست باز کا درجہ رکھتا ہے (‏۲۔کرنتھیوں ۵:‏ ۲۱)‏۔ مگر وہ اُس لمحے کا منتظر ہے کہ جب وہ اپنے آپ میں کاملاً راست باز ہو گا۔ اُس کو یہ اُمید نہیں کہ مَیں اِس کو اپنی کوشش سے حاصل کر لوں گا،‏ بلکہ یہ کہ روح کے باعث اور ایمان سے یہ راست بازی حاصل ہو گی۔ یہ سارا کام روح القدس کرے گا اور ایمان دار صرف ایمان کے ساتھ خدا پر نظریں لگائے ہوئے ہے کہ وہ ایسا کرے گا۔ اِس کے برعکس شریعت پرست کو یہ اُمید ہے کہ اپنے اعمال سے شریعت کی پابندی کرنے سے یا مذہبی رسومات کی ادائیگی سے یہ راست بازی کما لے گا۔ یہ اُمید رائیگاں ہے،‏ کیونکہ راست بازی اِس طرح حاصل نہیں ہو سکتی۔

غور کریں کہ اِس آیت میں پولس اسمِ ضمیر «ہم» استعمال کرتا ہے۔ اِس میں سچے مسیحی شامل ہیں۔ مگر آیت ۴ میں وہ اسمِ ضمیر«تم» استعمال کرتا ہے،‏ کیونکہ اُن لوگوں سے مخاطب ہے جو شریعت کے اعمال سے راست باز ٹھہرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

۵:‏ ۶شریعت پرستی سے کچھ حاصل نہیں۔ جہاں تک اُس شخص کا تعلق ہے جو مسیح یسوع میں ہے (‏یعنی مسیحی ہے)‏ ختنہ اُس کو کسی طرح بھی بہتر نہیں بناتا اور نامختونی اُس کو کسی طرح کمتر نہیں بناتی۔ ایمان دار میں جو کچھ خدا دیکھنا چاہتا ہے وہ ہے «ایمان» جو محبت کی راہ سے اثر کرتا ہے۔ خدا پر کامل بھروسے کا نام ایمان ہے۔ ایمان بے عمل یا کامل نہیں ہوتا،‏ بلکہ اِنسان خدا کی بے لوث خدمت میں اپنا اِظہار کرتا ہے۔ یہ ساری خدمت محبت کی نیت سے کی جاتی ہے۔ چنانچہ ایمان محبت کی راہ سے کام کرتا ہے۔ اِس خدمت کی تحریک شریعت سے نہیں محبت سے ہوتی ہے۔ یہ سچائی نوشتوں میں جگہ جگہ پائی جاتی ہے __کہ خدا کو رسومات اور شعائر سے کوئی دلچسپی نہیں،‏ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا پرستی میں حقیقت ہو۔

۵:‏ ۷ شریعت پرستی حق کی نافرمانی ہے۔ گلتیوں نے مسیحی زندگی کا آغاز بہت اچھی طرح کیا تھا۔ لیکن کسی نے اُن کو روک دیا۔ یہ روکنے والے تھے شریعت نواز،‏ شریعت پرست،‏ جھوٹے رسول۔ اُن کی غلط تعلیم کو ماننے سے یہ مقدسین حق یعنی خدا کی سچائی کی نافرمانی کر رہے تھے۔

۵:‏ ۸ شریعت پرستی الہامی تعلیم نہیں ہے۔ یہاں ترغیب کا مطلب ہے اعتقاد یا عقیدہ۔ تمہارے بلانے والے سے مراد ہے خدا۔ چنانچہ یہ اعتقاد یا عقیدہ خدا کی طرف سے نہیں کہ «مسیح پر ایمان» کے ساتھ ختنہ اور شریعت پرستی بھی شامل ہونی چاہئے،‏ بلکہ یہ عقیدہ ابلیس کی طرف سے ہے۔

۵:‏ ۹ شریعت پرستی سے بُرائی اَور بڑھتی ہے۔ پاک کلام میں خمیر بُرائی کی علامت ہے۔ یہاں اِس سے مراد یہودیت نوازوں کا بُرا یا غلط عقیدہ ہے۔ خمیر کی طبعی خاصیت ہے کہ وہ سارے آٹے میں اثر کرتا ہے۔ یہاں اِس خاصیت کو مثال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کہ تھوڑا سا غلط کام مزید غلط کام کی راہیں کھول دیتا ہے۔ بدی کبھی ساکت و جامد نہیں رہتی۔ وہ ایک جھوٹ کا دفاع کرنے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ بولتی چلی جاتی ہے۔ اگر کلیسیا کے اندر معدودے چند لوگ کسی غلط عقیدے پر لگ جائیں،‏ تو وہ دوسروں کو بھی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چل نکلتا ہے،‏ تاوقت یہ کہ اِس کو سختی سے کچلا نہ جائے۔

۵:‏ ۱۰ شریعت پرستی اپنے اُستادوں پر غضب لاتی ہے۔ پولس کو اعتماد تھا کہ گلتی اِس غلط تعلیم کو ردّ کر دیں گے۔ وہ کہتا ہے کہ «مجھے خداوند میں تم پر بھروسا ہے۔» مطلب ہے کہ خداوند نے پولس کو یہ یقین دلایا کہ گلتی راہِ راست پر آ جائیں گے۔ یا مطلب یہ بھی ہے کہ چونکہ وہ خداوند کو جانتا تھا اِس لئے اُس کو بھروسا یعنی یقین تھا کہ وہ عظیم چرواہا اپنی بھٹکی ہوئی بھیڑوں کو بحال کرے گا،‏ اور ممکن ہے کہ اِس خط کے وسیلے سے جو پولس لکھ رہا ہے،‏ ایسا کر دے۔

جہاں تک جھوٹے اُستادوں کا تعلق ہے،‏ خدا اُن کو سزا دے گا۔ غلط تعلیم دینا اور کلیسیا کو برباد کرنا نہایت سنجیدہ اور خطرناک بات ہے (‏۱۔کرنتھیوں ۳:‏ ۱۷)‏۔ مثال کے طور پر خود شراب پینا اِتنا خطرناک نہیں،‏ مگر یہ تعلیم دینا کہ شراب نوشی کی اِجازت ہے زیادہ خطرناک ہے،‏ کیونکہ ایک جھوٹا اُستاد اَور بیسیوں کو اپنی طرح کا بنا لیتا ہے۔

۵:‏ ۱۱ شریعت پرستی صلیب کی ٹھوکر کو مٹاتی ہے۔ اب پولس اِس بے ہودہ الزام کا جواب دیتا ہے کہ بعض اوقات وہ خود تعلیم دیتا ہے کہ ختنہ ضروری ہے۔ یہودی ابھی تک اُس کو ستاتے تھے۔ اگر وہ ختنے کی منادی کرتا تو یہ ایذا رسانی فوراً بند ہو جاتی،‏ کیونکہ اِس کا مطلب یہ ہوتا کہ اُس نے صلیب کی منادی کرنا چھوڑ دیا ہے۔ صلیب اِنسان کے لئے ایک ٹھوکر ہے۔ وہ اِس لئے ٹھوکر کھاتا ہے کہ صلیب یہ بتاتی ہے کہ اِنسان نجات کمانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ صلیب جسم اور اُس کی کوششوں کو کوئی مقام نہیں دیتی۔ صلیب اِنسانی کوششوں کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ اگر پولس ختنے کی منادی کر کے اعمال سے نجات پانے کے عقیدے کی راہ کھول دیتا،‏ تو صلیب کے پورے مطلب و مقاصد کو غارت کر دیتا۔

۵:‏ ۱۲ رسول یہ خواہش کرتا ہے کہ «کاش کہ تمہارے بے قرار کرنے والے اپنا تعلق قطع کر لیتے۔» اِن الفاظ کو مجازی معنوں میں سمجھنا چاہئے۔ پولس چاہتا ہے کہ اِن جھوٹے اُستادوں کا گلتیوں سے قطعِ تعلق ہو جائے۔

فضل کی خوش خبری پر ہمیشہ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ اِجازت دیتی ہے کہ لوگ جیسے چاہیں زندگی بسر کریں۔ لوگ کہتے ہیں اگر نجات صرف ایمان سے ہے،‏ تو پھر بعد میں اِنسان کے کردار پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔ مگر رسول فوراً واضح کرتا ہے کہ مسیحی آزادی گناہ کرنے کا اِجازت نامہ نہیں ہے۔ ایمان دار کا معیار تو خداوند یسوع کی زندگی ہے اور خداوند کی محبت اُسے مجبور کر دیتی ہے کہ گناہ سے نفرت اور پاکیزگی سے محبت رکھے۔

یہاں پولس کے لئے ضروری تھا کہ اپنے قارئین کو کھلی چھٹی سے خبردار کرتا۔ جب لوگ کچھ عرصے تک شریعت کی پابندیوں میں رہتے ہیں،‏ اور پھر اُن کو آزادی ملتی ہے تو ہمیشہ خطرہ ہوتا ہے کہ غلامی کی اِنتہا سے نکل کر غفلت اور بے پروائی کی اِنتہا تک چلے جائیں گے۔ مسیحی اگرچہ شریعت سے آزاد ہے،‏ مگر بے شرع (‏بے قانون)‏ نہیں ہے۔

۵:‏ ۱۳ مسیحی آزادی گناہ کی اِجازت نہیں دیتی،‏ بلکہ محبت بھری خدمت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ سارے مسیحی چال چلن کی محرک محبت ہوتی ہے،‏ جب کہ شریعت کے ماتحت محرک سزا کا خوف ہوتا ہے۔ فنڈلے کہتا ہے محبت کے غلام حقیقی معنوں میں آزاد ہوتے ہیں۔

مسیحی کی آزادی مسیح یسوع میں (‏۲:‏ ۴)‏ہوتی ہے۔ اِس سے یہ خیال قطعاً خارج ہے کہ اِس کا مطلب گناہ کی آزادی بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی آزادی کو کبھی بھی جسمانی باتوں کی بنیاد نہیں بنانا چاہئے۔ ایک حملہ آور فوج ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ دشمن کے کسی علاقے پر قبضہ کر کے اُسے مزید فوجی فتوحات کے لئے بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اِسی طرح اگر جسم کو قدم جمانے کی تھوڑی سی جگہ مل جائے تو وہ اپنے علاقے کو وسیع کرتا چلا جاتا ہے۔

ہماری آزادی کا بہترین استعمال یہ ہے کہ محبت کی راہ سے ایک دوسرے کی خدمت کرو۔ ایک دوسرے کے غلام بننے کے عادی ہو جائو۔

اے۔ ٹی۔ پیئرسن (‏Pierson)‏کہتا ہے:‏

«حقیقی آزادی صرف موزوں پابندیوں کی فرماں برداری میں ہے۔ دریا کو بہنے کی آزادی ہوتی ہے مگر صرف کناروں کے اندر،‏ کناروں سے باہر نکل کر وہ صرف ایک گدلے اور بدبودار جوہڑ کی شکل اِختیار کر لیتا ہے۔ اجرامِ فلک اگر نظم و ضبط سے باہر ہو جائیں تو صرف اپنی اور کائنات کی تباہی کا باعث ہوں گے۔ جو اصول (‏قانون)‏ ہمیں باڑ کے اندر رکھتا ہے،‏ وہی دوسروں کو باڑ کے باہر رکھتا ہے۔ جو پابندیاں ہماری آزادی کو کنٹرول کرتی ہیں،‏ وہی اُن کا تحفظ بھی کرتی ہیں۔»

۵:‏ ۱۴ پورے خط میں پولس اِس بات پر زور دیتا آ رہا ہے کہ ایمان دار شریعت کے ماتحت نہیں۔ اِس لئے عجیب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وہ شریعت پر عمل کرنے کی بات کر رہا ہے۔ لیکن غور کریں وہ اپنے قارئین کو دوبارہ شریعت کی ماتحتی میں جانے کو نہیں کہہ رہا،‏ بلکہ یہ ثابت کر رہا ہے کہ جس بات کا شریعت مطالبہ کرتی ہے،‏ لیکن پیدا نہیں کر سکتی،‏ وہی بات مسیحی آزادی کو بروئے کار لانے سے حاصل ہو جاتی ہے۔

۵:‏ ۱۵ شریعت پرستی کا لامحالہ نتیجہ لڑائی جھگڑا ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ گلتیہ میں یہی کچھ ہو رہا تھا۔ کیسی عجیب بات ہے! یہاں کے لوگ شریعت کے ماتحت آنا چاہتے تھے۔ شریعت کا تقاضا ہے کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھو،‏ مگر یہاں بات اُلٹ ہو رہی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو کاٹتے اور پھاڑے کھاتے تھے۔ یہ کردار اور چلن تو جسمانیت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ جسمانیت شریعت کے باعث اکسائی جاتی ہے۔

ب۔ پاکیزگی کے لئے توفیق (‏۵:‏ ۱۶-‏۲۵)‏

۵:‏ ۱۶ ایمان دار کو چاہئے کہ جسم کے موافق نہیں بلکہ روح کے موافق چلے۔ روح کے موافق چلنے کا مطلب ہے کہ روح کو موقع دینا کہ اپنے طور پر کام کرے۔ اِس کا مطلب ہے مسیح کی گہری رفاقت میں رہنا۔ اِس کا مطلب ہے اُس کی پاکیزگی کی روشنی میں فیصلے کرنا۔ اِس کا مطلب ہے مسیح میں مگن رہنا،‏ کیونکہ روح کی خدمت یہی ہے کہ ایمان دار کو خداوند یسوع کے ساتھ پیوستہ رکھے۔ جب ہم اِس طرح روح کے موافق چلتے ہیں تو جسم یعنی اپنی خواہش کے مطابق زندگی مردہ ہو جاتی ہے،‏ ممکن نہیں کہ ہم ایک ہی وقت میں مسیح کے ساتھ پیوستہ ہوں اور گناہ کے ساتھ بھی پیوستہ ہوں۔ سکوفیلڈ (‏Scofield)‏ کہتا ہے:‏

«مسیحی زندگی کے مسئلے کی بنیاد اِس حقیقت پر ہے کہ جب تک مسیحی اِس دُنیا میں جیتا ہے،‏ تو یوں سمجھئے کہ وہ دو درخت ہے۔ پرانا جسمانی درخت اور الٰہی فطرت والا نیا درخت۔ یہ نئی فطرت نئی پیدائش کے وسیلے سے اِس میں پیوند ہوتی ہے۔ اور مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح پرانے درخت کو بے پھل اور نئے درخت کو پھل دار رکھا جائے۔ یہ مسئلہ روح میں چلنے سے حل ہو جاتا ہے۔»

یہ آیت اَور آگے آنے والی آیات دکھاتی ہیں کہ مسیحی میں جسم یعنی پرانی اِنسانیت ابھی تک موجود ہے۔ اِس طرح گناہ آلود فطرت کے قلع قمع کے نظریہ کی تردید ہو جاتی ہے۔

۵:‏ ۱۷ روح اور جسم مستقلاً ایک دوسرے سے برسرِپیکار ہیں۔ ایمان لاتے وقت خدا ایمان داروں کی جسمانی فطرت کو دُور کر سکتا ہے مگر اُس نے ایسا نہ کیا۔ کیوں؟ وہ چاہتا ہے کہ ایمان داروں کو مسلسل یاد آتا رہے کہ وہ کمزور ہیں۔ اور وہ اپنے شافع اور مددگار پر مسلسل تکیہ کریں۔ نیز اُس ہستی کی بلاناغہ حمد و ستائش کرتے رہیں جس نے ہم جیسے کیڑوں کو نجات دی۔ ہماری پرانی فطر ت کو دُور کرنے کے بجائے خدا نے ہمیں اپنا پاک روح دیا کہ ہمارے اندر سکونت کرے۔ خدا کا روح اور ہماری گناہ آمادہ فطرت متواتر جنگ کرتے رہتے ہیں۔ یہ جنگ اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم اپنے آسمانی وطن میں پہنچ نہیں جاتے۔ اِس جنگ اور کش مکش میں ایمان دار کا حصہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو روح کے سپرد کر دے۔

۵:‏ ۱۸ جو لوگ روح کی ہدایت سے چلتے ہیں،‏ وہ شریعت کے ماتحت نہیں رہے۔ روح کی ہدایت سے چلنے والے لوگ مسیحی ہوتے ہیں۔ چنانچہ کوئی مسیحی شریعت کے ماتحت نہیں۔ وہ اپنی کوششوں پر اِنحصار نہیں کرتے۔ روح ہے جو اُن کے اندر بُرائی کی تحریک کا مقابلہ کرتا ہے،‏ وہ خود نہیں کرتے۔ روح کی ہدایت کا مطلب ہے،‏ جسم سے بالاتر اُٹھایا جانا اور خداوند کے ساتھ پیوستہ ہونا۔ جب کوئی شخص اِس طرح پیوستہ ہو جاتا ہے تو پھر وہ شریعت یا جسم کے مطابق نہیں سوچتا۔ خدا کا روح لوگوں کو یہ ہدایت نہیں کرتا کہ شریعت کو راست باز ٹھہرائے جانے کا وسیلہ سمجھیں،‏ بلکہ وہ اُن کی راہنمائی جی اُٹھے مسیح کی طرف کرتا ہے کہ وہی واحد وسیلہ ہے جس سے خدا ہمیں قبول کرتا ہے۔

۵:‏ ۱۹-‏۲۱ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ شریعت جسم کی قوتوں کا سہارا لیتی ہے۔ اِنسان کی گری ہوئی فطرت کیسے کام کرتی ہے۔ جسم کے کاموں کو پہچان لینا کوئی مشکل نہیں۔ وہ سب پر ظاہر ہیں۔ «حرام کاری »سے مراد ہے ازدواجی زندگی میں بے وفائی۔ «ناپاکی» اخلاقی بُرائی اور شہوانیت ہے۔ «شہوت پرستی» بے شرمی اور فحاشی سے مرکب ہے۔ «بت پرستی» اِس میں صرف بتوں کی پوجا ہی نہیں بلکہ وہ بدکاری بھی شامل ہے جو شیاطین کی پرستش کا ایک حصہ ہے۔ «جادو گری» میں سحر اور افسون وغیرہ شامل ہیں۔ جس یونانی لفظ pharmakeia کا ترجمہ جادوگری کِیا گیا ہے اُس کا تعلق جڑی بوٹیوں یا ادویہ سے ہے۔ چونکہ یہ چیزیں جادوگری میں استعمال کی جاتی تھیں،‏ اِس لئے اِس لفظ کا مطلب بُری روحوں سے روابط رکھنا،‏ یا جادو منتر کرنا ہو گا۔ اِس میں توہم پرستی اور شگون لینا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ «عداوتیں۔» اِس کا مطلب ہے افراد کے خلاف بغض اور کینہ کے جذبات رکھنا۔ «جھگڑا» سے مراد نااتفاقی،‏ لڑائی اور اختلاف ہے۔ «حسد» کسی کی کامیابی سے ناخوش ہونا۔« غصہ۔» گرما گرمی یا جذبات کا شدت سے اِظہار کرنا۔«تفرقے» اور «جدائیاں۔» نااتفاقی اور اِختلافات کی وجہ سے علیٰحدگی،‏ میل ملاپ کا خاتمہ۔ «بدعتیں۔» اپنی رائے اور خود ساختہ نظریات کے پرچار سے نئے نئے فرقے بنا لینا۔ «غض۔» دوسروں کی ترقی اور خوش حالی پر جلنا۔« نشہ بازی۔» منشیات اور نشہ آور مشروبات کا استعمال۔ «ناچ رنگ۔» تفریح طبع کے لئے ہنگامہ خیز اِجتماعات جہاں نشہ بازی بھی ہوتی ہے۔

پولس نے پہلے بھی اپنے قارئین کو خبردار کیا تھا اور دوبارہ خبردار کرتا ہے کہ ایسے کام کرنے والے خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے۔ یہ آیت یہ تعلیم نہیں دیتی کہ کوئی نشہ باز نجات نہیں پا سکتا،‏ بلکہ تعلیم یہ ہے کہ جن لوگوں نے اِس فہرست میں درج جسمانی کاموں کو اپنے مزاج اور طبیعت کا خاصہ بنا لیا ہے وہ نجات یافتہ نہیں۔

پولس کو مسیحیوں کی کلیسیائوں کو اِس انداز میں لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وجہ یہ ہے کہ جتنے نجات یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،‏ وہ سب خدا کے سچے فرزند نہیں ہوتے۔ اِس لئے پورے نئے عہدنامے میں روح القدس عجیب و غریب روحانی سچائیاں پیش کرنے کے ساتھ ہی اُن سب کو بڑی سنجیدگی سے خبردار کرتا ہے جو مسیح کے نام کا دعویٰ کرتے ہیں۔

۵:‏ ۲۲،‏۲۳یہ بہت اہم بات ہے کہ رسول جسم کے کاموں اور روح کا پھل میں اِمتیاز کرتا ہے۔ کام (‏اعمال)‏ اِنسانی طاقت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اور پھل انگور کے حقیقی درخت میں قائم رہنے (‏یوحنا ۱۵:‏ ۵)‏سے پیدا ہوتا ہے۔ اِن میں وہی فرق ہے جو ایک فیکٹری اور ایک باغ میں ہے۔ یہ بھی غور کریں کہ پھل واحد ہے،‏ جمع نہیں۔ روح القدس صرف ایک ہی قسم کا پھل پیدا کرتا ہے اور وہ ہے مسیح کے ساتھ مشابہت۔ جن خوبیوں کی فہرست یہاں دی گئی ہے،‏ وہ خدا کے فرزند کی زندگی کا بیان کرتی ہیں۔ ڈاکٹر سی۔ آئی۔ سکوفیلڈ کہتا ہے کہ اِن میں سے ہر ایک اِنسانی دل کی زمین کے لئے اجنبی ہے۔

«محبت» وہ ہے جو خدا ہے اور ہمیں بھی ہونا چاہئے۔ اِس کو ۱۔کرنتھیوں باب ۱۳ میں اِنتہائی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ اور اِس کی بھرپوری کا اِظہار صلیب پر ہوا ہے۔ «خوشی» سے مراد خدا اور اُس کے حسنِ سلوک پر اطمینان اور قناعت کا نام ہے۔ مسیح نے اِس کا اِظہار یوحنا ۴:‏ ۳۴ میں کیا ہے۔ «اِطمینان۔» اِس میں خدا کا اِطمینان ہی نہیں بلکہ دوسرے مسیحیوں کے ساتھ ہم آہنگ تعلقات بھی شامل ہیں۔ اپنے فدیہ دینے والے کی زندگی میں اِطمینان کے لئے دیکھئے لوقا ۸:‏ ۲۲-‏۲۵۔ «تحمل»،‏ مصیبتوں،‏ دکھوں اور اذیتوں کے دوران صبر ہے۔ اِس کی اعلیٰ ترین مثال لوقا ۲۳:‏۳۴ میں ملتی ہے۔«مہربانی» دوسروں کے ساتھ نرمی اور ملائمت۔ اِس کی بہترین مثال خداوند کا بچوں کے ساتھ رویہ ہے (‏مرقس ۱۰:‏ ۱۴)‏۔ «نیکی» سے مراد ہے دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنا۔ اِس کی عملی تصویر دیکھنے کے لئے لوقا ۱۰:‏ ۳۰-‏۳۵ پڑھیں۔ «ایمان داری»،‏ اِس سے مراد خدا پر یقین اور بھروسا بھی ہو سکتا ہے اور اپنے ساتھی مسیحیوں پر اعتماد،‏ اور اُن کے ساتھ وفاداری بھی۔ اور یہاں غالباً یہی دوسرا مفہوم غالب ہے۔ «حِلم» اِنکساری،‏ فروتنی،‏ کمتر حیثیت اِختیار کر لینا،‏ جیسے خداوند نے اپنے شاگردوں کے پائوں دھو کر اِختیار کی تھی (‏یوحنا ۱۳:‏ ۱-‏۱۷)‏۔ «پرہیز گاری» یا ضبطِ نفس،‏ اپنی خواہشات،‏ شہوتوں اور جذبات پر قابو رکھنا چاہئے۔ ہماری زندگیاں نظم و ضبط کا نمونہ ہونی چاہئیں۔ خواہشات،‏ شہوتوں اور جذبات پر قابو رکھنا چاہئے۔ اِعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوٹنا نہیں چاہئے۔

پولس فہرست کا اِختتام اِس عجیب مقولے سے کرتا ہے کہ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔ بے شک کوئی نہیں! یہ فضائل خدا کو خوش کرتے ہیں،‏ دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور خود ہمارے لئے اچھے ہیں۔ لیکن یہ پھل پیدا کیونکر ہوتا ہے؟ اِنسان کی کوشش سے؟ ہرگز نہیں۔ یہ پیدا ہوتا ہے جب مسیحی خداوند کی رفاقت میں رہتے ہیں۔ جب محبت بھری جاں نثاری سے اُس پر نظر کرتے اور ہر روز اُس کی فرماں برداری میں چلتے ہیں۔ روح القدس عجیب معجزہ کرتا ہے۔ وہ اُن کو مسیح کے مشابہ بنا دیتا ہے۔ وہ اُس کو تکتے تکتے اُس کی مانند بن جاتے ہیں (‏۲۔کرنتھیوں ۳:‏ ۱۸)‏۔ جس طرح شاخ اپنی زندگی اور نشوونما درخت سے حاصل کرتی ہے،‏ اُسی طرح مسیح میں ایمان دار اپنی قوت انگور کے حقیقی درخت سے حاصل کرتا ہے۔ اور اُسے خدا کے لئے پھل دار زندگی گزارنے کی طاقت اور توفیق ملتی ہے۔

۵:‏ ۲۴«اور جو مسیح یسوع کے ہیں اُنہوں نے جسم کو … صلیب پر کھینچ دیا ہے۔» یہاں فعل اپنے زمانے کے لحاظ سے ایک ایسی بات کا بیان کرتا ہے جو ماضی میں حتمی طور پر ہو چکی ہے۔ دراصل یہ بات ہمارے ایمان لاتے وقت وقوع پذیر ہوئی تھی۔ جب ہم نے توبہ کی تو ایک لحاظ سے اپنی پرانی،‏ بُری اور بگڑی ہوئی فطرت کو اُس کی رغبتوں اور خواہشوں سمیت کیلوں سے صلیب پر کھینچ دیا۔ ہم نے عزمِ صمیم کر لیا کہ اب سے ہم اپنی بگڑی ہوئی فطرت کی خدمت نہیں کریں گے۔ اب سے وہ ہم پر غالب نہیں رہے گی۔ بے شک ہماری زندگی میں اِس فیصلے کی مسلسل تجدید کرنی پڑتی ہے۔ ضرور ہے کہ ہم جسم کو مسلسل موت کے مقام پر رکھیں۔

۵:‏ ۲۵ یہاں «اگر» چونکہ کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔ چونکہ روح القدس کے کام کی وجہ سے ہمیں ابدی زندگی حاصل ہے اِس لئے آئو ہم اُسی روح کی طاقت سے نئی زندگی گزاریں۔ شریعت ہرگز زندگی نہ دے سکتی تھی۔ اور اِس کا کبھی مقصد بھی نہ تھا کہ مسیحی کی زندگی کا دستور العمل ہو۔

ج۔ عملی نصیحتیں (‏۵:‏۲۶-‏۶:‏۱۰)‏

۵:‏ ۲۶ اِس آیت میں تین باتوں کا ذکر ہے جن سے بچنا چاہئے:‏

  1. بے جا فخر۔ «ہم بے جا فخر نہ کریں۔» لفظی مطلب ہے (‏اپنے بارے میں)‏ غلط یا جھوٹی رائے۔ خدا نہیں چاہتا کہ مسیحی متکبر،‏ لاف زن اور خود بین ہوں۔ یہ بات فضل سے نجات یافتہ گنہگار کو زیب نہیں دیتی۔ جو لوگ شریعت کے ماتحت زندگی گزارتے ہیں،‏ اکثر وہ اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر پھولنے لگتے ہیں اور جو اُن کے معیار پر پورے نہیں اُترتے اُن کو طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ یہی حال شریعت پرست مسیحیوں کا ہے کہ وہ اُن مسیحیوں کو حقیر جانتے اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں جو اُن کی طرح حد بندیاں نہیں کرتے۔
  2. اِشتعال انگیزی۔ «ہم ایک دوسرے کو نہ چڑائیں۔» ہم اپنے ذاتی نظریات اور معیار مقرر کر لیتے ہیں اور دوسروں کو چیلنج کرتے اور چڑاتے ہیں کہ اِس معیار پر پورے اُترو۔ یہ رویہ روح سے معمور زندگی کی نفی کرتا ہے۔ کوئی شخص بھی دوسرے شخص کے دل کے مسائل اور آزمائشوں کو کبھی نہیں جان سکتا۔
  3. حسد (‏جلن)‏۔ «نہ ایک دوسرے سے جلیں۔» حسد یا جلن،‏ یہ گناہ ہے کہ ہم دوسرے کی چیز کو اپنے لئے چاہتے ہیں،‏ حالانکہ ہمارا اُس پر کوئی حق نہیں ہوتا۔ حسد دوسرے کی اعلیٰ کامیابی،‏ صلاحیتوں،‏ مال ملکیت اور حُسن و جاذبیت پر جلنے کا نام ہے۔ دوسرے کا بُرا چاہنے کا نام ہے۔ جن میں صلاحیت یا لیاقت کم ہوتی ہے،‏ کردار کمزور ہوتا ہے اُن کا رُجحان ایسا ہو سکتا ہے۔ وہ شریعت پر کامیابی سے چلنے والوں سے جلتے ہیں۔ یہ صفات فضل سے کوئی علاقہ نہیں رکھتیں۔ سچا ایمان دار وہ ہے جو دوسرے کو اپنے سے بہتر مانتا ہے۔ شریعت پرست جھوٹی شان چاہتے ہیں۔ سچی عظمت اِس میں ہے کہ نظروں سے اوجھل رہ کر خدمت کی جائے،‏ بن دکھائے محنت کی جائے۔

۶:‏ ۱ یہ نہایت عمدہ نصیحت ہے کہ گناہ میں گر جانے والے کسی ایمان دار سے باقی مسیحی کیسا سلوک کریں۔ بے شک یہ رویہ شریعت کے بالکل برعکس ہے۔ شریعت تو خطاکار پر قہر و غضب کا تقاضا کرتی ہے۔ «قصور میں پکڑا بھی جائے۔» یہ الفاظ ایسے شخص کا بیان کرتے ہیں جس سے گناہ سرزد ہو گیا ہے،‏ مگر وہ گناہ کرنے کا عادی نہیں۔ ایسے شخص سے روحانی مسیحی کیسا سلوک کریں گے؟ اُسے بحال کریں گے۔ دُنیا دار مسیحی سخت اور سرد مہری کا رویہ اپنا سکتا ہے۔ وہ قصور وار شخص کا بھلا کرنے کے بجائے نقصان کرے گا۔ دوسرے یہ بھی حقیقت ہے کہ جس کا خداوند کے ساتھ خود تعلق نہیں اُس کی نصیحت کون سنے گا،‏ کون برداشت کرے گا۔

اِس آیت سے ایک دلچسپ سوال اُٹھتا ہے۔ اگر ایک شخص واقعی روحانی ہے تو کیا وہ اِس کا اقرار کرے گا؟ کیا روحانی لوگ اپنی خامیوں اور کمزوریوں سے گہرے طور پر آگاہ نہیں ہوتے؟ تو پھر بحالی کا کام کون کرے گا؟ کیونکہ اِس طرح کرنے سے تو وہ روحانی مشہور ہو جائے گا۔ کیا اِس طرح حجاب و شائستگی کی کمی کا اظہار نہیں ہو گا؟ جواب یہ ہے کہ کوئی روحانی آدمی کبھی اپنی حالت پر فخر نہیں کرتا،‏ بلکہ اُس کا دل چرواہے کے دل کی طرح نرم اور ہمدرد ہوتا ہے۔ اور وہ دل سے چاہتا ہے کہ خطاکار بحال ہو۔ وہ احساسِ برتری یا فخر کی روح سے کچھ نہیں کرتا،‏ بلکہ حلم مزاجی سے اُس بھائی کو بحال کرتا ہے۔ وہ یاد رکھتا ہے کہ مَیں بھی «آزمائش میں پڑ» سکتا ہوں۔

۶:‏ ۲«بار» بمعنی بوجھ۔ مراد ہے ناکامیاں،‏ آزمائشیں،‏ مشکلات،‏ اِمتحان۔ دُور کھڑے ہو کر تنقید اور اعتراض کرنے کے بجائے ہمیں چاہئے کہ مصیبت زدہ،‏ آزمائش میں گرفتار اور اِمتحان میں پڑے ہوئے بھائی کی فوراً مدد کریں تاکہ وہ بحال ہو۔

«مسیح کی شریعت۔» اِس میں خداوند یسوع کے سارے حکم شامل ہیں۔ اُن کا خلاصہ یہ حکم ہے کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو (‏یوحنا ۱۳:‏ ۳۴)‏اور جب ہم ایک دوسرے کا بار اُٹھاتے ہیں تو اِس حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ مسیح کی شریعت موسیٰ کی شریعت سے بالکل مختلف ہے۔ موسیٰ کی شریعت فرماں برداری کے لئے زندگی کا وعدہ کرتی ہے،‏ لیکن فرماں برداری کی توفیق اور طاقت نہیں دیتی۔ اور فرماں برداری کی حوصلہ افزائی بھی صرف سزا کے خوف سے کرتی ہے۔ اِس کے برعکس مسیح کی شریعت اُن لوگوں کے لئے محبت بھری ہدایت ہے جو پہلے ہی زندگی رکھتے ہیں۔ روح القدس کی قدرت سے ایمان داروں کو اِس کے آئین و احکام کی پابندی کرنے کی توفیق اور طاقت ملتی ہے۔ اور مسیح کے لئے محبت اُن کو تحریک دیتی ہے۔

۶:‏ ۳ ہم سب کو ایک ہی خاک سے بنایا گیا ہے۔ جب ہم کسی بھائی کو گناہ کرتے دیکھیں تو سوچیں کہ ہم بھی اُسی طرح گناہ میں گر سکتے ہیں۔ اگر کوئی ایمان دار احساسِ برتری رکھتا ہے تو خود فریبی میں مبتلا ہے۔ ہمیں کبھی نہیں سوچنا چاہئے کہ دوسرے کا بار اُٹھانا ہماری شان کے خلاف ہے۔

۶:‏ ۴ اِنسان دوسروں کے ساتھ اپنا مقابلہ کرنے کا عادی ہے۔ اِس مقابلے میں وہ اپنے آپ کو تسلی دینے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ یہ آیت اِس عادت کا مقابلہ کرتی ہے۔ پولس رسول توجہ دلاتا ہے کہ مسیح کے تخت ِعدالت کے سامنے ہمارا دوسروں کے ساتھ مقابلہ نہیں ہو گا،‏ بلکہ ہمارا اِمتحان فرداً فرداً ہو گا۔ اِس لئے ہمیں اپنے آپ پر توجہ دینی چاہئے،‏ تاکہ ہم دوسروں کی ناکامیوں پر خوش ہونے کے بجائے اپنے ہی کام پر خوش ہوں۔

۶:‏ ۵ آیت ۲ میں پولس رسول سکھاتا ہے کہ ہم اپنی اِس زندگی میں دوسروں کے دُکھوں،‏ تکلیفوں اور مسائل میں شریک ہوں۔ آیت ۵ میں خیال یہ ہے کہ ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائے گا،‏ یعنی مسیح کے تخت ِ عدالت کے سامنے صرف اپنے ہی لئے ذمہ دار اور جواب دہ ہو گا۔

۶:‏ ۶ ایمان داروں کا فرض اور ذمہ داری ہے کہ اپنے مسیحی اُستادوں کی کفالت کریں۔ «سب اچھی چیزوں میں شریک کرے» مراد ہے اِس دُنیا اور اِس زندگی کی مادی چیزوں میں شریک کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کو دعا اور خدا پرستی کی باتوں سے بھی سہارا دیں۔

۶:‏ ۷ اگر ہم خدا کے خادموں کو نظر انداز کر دیتے ہیں،‏ اُن کی مدد اور حمایت نہیں کرتے تو شاید دوسرے ہماری اِس غفلت کو نہ دیکھ سکیں مگر خدا دیکھتا ہے اور اُسی کے مطابق ہمیں فضل عطا کرتا ہے۔ ہم جو کچھ بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔ بلکہ جتنا بوتے ہیں اُس سے زیادہ مقدار میں کاٹتے ہیں۔ کسان گندم بوتا ہے تو گندم کاٹتا ہے۔ بعض دفعہ تیس گنا،‏ بعض دفعہ ساٹھ گنا اور بعض دفعہ سو گنا۔ سکوفیلڈ کہتا ہے:‏ «یہاں روح گنہگاروں سے اُن کے گناہوں پر بات نہیں کر رہا،‏ بلکہ مقدسین سے اُن کی کنجوسی کی بات کر رہا ہے۔»

بے شک وسیع تر معنوں میں یہ بات درست ہے کہ «جو گناہ کو جوتتے اور دُکھ بوتے ہیں وہی اُس کو کاٹتے ہیں» (‏ایوب ۴:‏ ۸)‏اور «بے شک اُنہوں نے ہوا بوئی وہ گرد باد کاٹیں گے» (‏ہوسیع ۸:‏ ۷)‏۔ مؤرِّخ اے۔ فرائوڈ کہتا ہے،‏ «ایک سبق،‏ اور صرف ایک ہی سبق ہے،‏ جو تاریخ بڑے واضح طور پر دُہراتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اِس دُنیا کی تعمیر اخلاقی بنیادوں پر اُٹھائی گئی ہے۔ اور بالآخر اچھوں کا انجام اچھا اور بُروں کا انجام بُرا ہوتا ہے۔ »

۶:‏ ۸ اگرچہ عام معنوں میں یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم جو کچھ بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔ لیکن غور کریں کہ یہ آگاہی مسیحی خیرات کی نصیحت کے بعد دی گئی ہے۔ اِسی روشنی میں دیکھیں تو جسم کے لئے بونے کا مطلب ہے اپنا روپیہ پیسہ اپنی ذات پر،‏ اپنی خوشیوں اور اپنی آسائشوں پر خرچ کرنا۔ اور روح کے لئے بونا خدا کی بادشاہی کے لئے خرچ کرنا ہے۔

جو لوگ جسم کے لئے بوتے ہیں وہ اِسی دُنیا میں مایوسی اور خسارے کی فصل کاٹتے ہیں کیونکہ جوں جوں اُن کی عمر بڑھتی ہے اُن کو معلوم ہوتا جاتا ہے کہ جس جسم کو وہ خوش کرتے رہے وہ گل سڑ رہا ہے،‏ وہ مر رہا ہے۔ اور پھر آنے والے جہان میں وہ ابدی اجر کا نقصان اُٹھاتے ہیں۔ جو روح کے لئے بوتا ہے وہ روح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹے گا۔ بائبل میں «ہمیشہ کی زندگی» (‏اِسی کا ترجمہ ابدی زندگی بھی کیا گیا ہے)‏ کا لفظ دو طرح سے استعمال ہوا ہے۔

  1. یہ ہر ایمان دار کی ابھی سے ملکیت ہے (‏یوحنا ۳:‏ ۳۶)‏۔
  2. اور ایمان دار اِسے اِس زمینی زندگی کے اِختتام پر پاتا ہے (‏رومیوں ۶:‏ ۲۲)‏۔

جو روح کے لئے بوتا ہے وہ موجودہ جہان میں بھی ہمیشہ کی زندگی سے اِس طرح لطف اندوز ہوتا ہے کہ دوسرے مسیحی نہیں ہو سکتے۔ اِس کے علاوہ جب وہ اپنے آسمانی وطن میں پہنچے گا تو اُس اَجر کی فصل بھی کاٹے گا جو وفاداری کے باعث ملتا ہے۔

۶:‏ ۹ تاکہ کوئی شخص بے حوصلہ نہ ہو جائے۔ پولس رسول اپنے قارئین کو یاد دلاتا ہے کہ اجر یقینی ہیں،‏ البتہ فوری نہیں ہیں۔ آپ گندم کی فصل بیج بونے کے اگلے ہی دن نہیں کاٹتے۔ یہی حال روحانی دُنیا کا ہے۔ اگر وفاداری کے ساتھ بوئیں گے تو اَجر ضرور ملیں گے،‏ لیکن عین وقت پر۔

۶:‏ ۱۰ اہلِ ایمان میں وہ سب شامل ہیں جو نجات یافتہ ہیں،‏ اِس میں فرقہ یا جماعت کا اِمتیاز نہیں۔ ہماری مہربانی،‏ ہمارا حسنِ سلوک صرف ایمان داروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے،‏ لیکن اُن کے لئے ہمارے اِس سلوک میں ایک خصوصیت ہونی چاہئے۔ یہاں بات منفی انداز میں نہیں کہی گئی __ کہ کتنا کم نقصان پہنچائیں __ بلکہ مثبت انداز میں کہی گئی ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہو کہ کتنی زیادہ سے زیادہ نیکی کر سکتے ہیں۔ جان ویسلی (‏Wesley)‏ نے کیا خوب کہا ہے،‏ «جتنی نیکی کر سکتے ہو،‏ جتنے طریقوں سے کر سکتے ہو،‏ جتنے لوگوں سے کر سکتے ہو،‏ جب تک کر سکتے ہو،‏ کرو۔»

د۔ اِختتامیہ (‏۶:‏ ۱۱-‏۱۸)‏

۶:‏ ۱۱ «دیکھو۔ مَیں نے کیسے بڑے بڑے حرفوں میں تم کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔» پولس عام طور سے خط کسی مددگار کو لکھوا دیتا تھا۔ لیکن خلافِ معمول اُس نے گلتیوں کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ بڑے بڑے حرفوں سے اُس کی گہری فکر مندی اور اِحساس کا اِظہار ہوتا ہے جو وہ شریعت پرستوں کا مقابلہ کرنے کے لئے رکھتا تھا،‏ اور کہ وہ یہودیت نوازی یا یہودی پروری کو کس قدر خطر ناک سمجھتا تھا۔ دوسری طرف سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جیسے کئی علما کہتے ہیں پولس کی نظر کمزور تھی اِس لئے اُس نے بڑے بڑے حرفوں میں لکھا۔ ہم بھی اِس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں۔

۶:‏ ۱۲ یہودیت نواز افراد بہت سے لوگوں کو اپنے پیچھے لگا کر جسمانی نمود چاہتے تھے۔ وہ ختنہ کرانے پر زور دے کر ایسا کر سکتے تھے۔ لوگ اکثر و بیشتر رسموں اور شعائر کی پیروی کرنے پر رضامند ہو جاتے ہیں تاوقت یہ کہ اُن کو اپنی عادتیں نہ بدلنی پڑیں۔ آج بھی اگر آپ معیار نیچے لے آئیں تو کلیسیا کے ممبران کی تعداد میں زبردست اضافہ کر سکتے ہیں۔ پولس اِن جھوٹے اُستادوں کی ریاکاری کو بھانپ لیتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ اِس لئے کر رہے ہیں کہ مسیح کی صلیب کے سبب سے ستائے نہ جائیں۔ صلیب جسم اور خدا کو خوش کرنے کے لئے اُس کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔ صلیب جسمانی فطرت اور اِس کی اعلیٰ ترین کوششوں کے لئے پیغامِ موت ہے۔ صلیب کا مطلب ہے بُرائی سے دُوری۔ اِس لئے اِنسان صلیب کے جلالی پیغام کو رد کرتے اور اُس کی منادی کرنے والوں کو ستاتے ہیں۔

۶:‏ ۱۳ شریعت پرستوں کو دراصل شریعت پر عمل کرنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ صرف اِتنا چاہتے تھے کہ لوگوں کو مرید کرنے کا کوئی آسان طریقہ ہاتھ آ جائے تاکہ فخر کر سکیں کہ ہمارے مریدوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔

۶:‏ ۱۴ پولس کے لئے فخر کرنے کی بنیاد اِنسانوں کی کھلڑی نہیں تھی۔ وہ تو صرف اپنے خداوند یسوع مسیح کی صلیب پر فخر کرتا ہے۔ اُس صلیب پر دُنیا پولس کے لئے مر گئی اور پولس دُنیا کے لئے مر گیا۔ جب کوئی اِنسان نجات پاتا ہے تو دُنیا اُس کو خیرباد کہہ دیتی ہے اور وہ دُنیا کو خدا حافظ کہہ دیتا ہے۔ جہاں تک دُنیا کا تعلق ہے وہ شخص خراب ہو گیا ہے۔ اِس لئے کہ اب وہ دُنیا کی عارضی خوشیوں میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔ اُس کے لئے دُنیا ساری دلفریبی کھو دیتی ہے کیونکہ اُسے وہ ہستی مل گئی ہے جو کامل تسلی اور تسکین دیتی ہے۔ فنڈلے (‏Findlay)‏ کہتا ہے:‏ «وہ نہ تو اِس (‏دُنیا)‏ میں یقین رکھ سکتا ہے،‏ نہ اِس پر فخر کر سکتا ہے اور نہ اِس کی قدم بوسی کر سکتا ہے۔ اُس کے لئے دُنیا اپنی شان،‏ اور جادو کرنے کی قوت سے محروم ہو جاتی ہے۔ اب دُنیا نہ اُسے لبھا سکتی ہے نہ اُس پر رُعب جما سکتی ہے۔» چنانچہ صلیب دُنیا اور خدا کے فرزند کے درمیان زبردست رکاوٹ یا خطِ تقسیم بن جاتی ہے۔

۶:‏ ۱۵ اگرچہ پہلی نظر میں معلوم نہیں ہوتا،‏ مگر پورے خط میں یہ آیت مسیحی سچائی کا ایک نہایت اہم بیان ہے۔

ختنہ ایک خارجی رسم تھی۔ ایک مذہبی فریضہ تھا اور یہودی اُستاد ہر بات کو اِس رسم کی ادائیگی پر منحصر قرار دیتے تھے۔ ختنہ یہودیت کی بنیاد تھا۔ پولس ایک ہی وار میں اس کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ نہ ختنہ کوئی چیز ہے نہ رسم،‏ نہ یہودیت،‏ نہ شریعت پرستی (‏رسم پرستی)‏ کسی شمار و قطار میں ہے۔ اور ساتھ ہی پولس کہتا ہے نہ نامختونی کوئی چیز ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اِس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ رسموں کو نہیں مانتے۔ اُن کی پوری عبادت رسم کے خلاف ایک بغاوت ہوتی ہے،‏ یہ بھی بیکار ہے۔

خدا کے نزدیک جس بات کی اہمیت ہے،‏ وہ ہے «نئے سرے سے مخلوق ہونا»۔ وہ ایک تبدیل شدہ زندگی دیکھنا چاہتا ہے۔ فنڈ لے رقم طراز ہے:‏ «حقیقی مسیحیت وہ ہے جو بُرے اِنسان کو اچھا بنا دیتی ہے۔» جو گناہ کے غلاموں کو بدل کر خدا کے فرزند بنا دیتی ہے۔ سارے اِنسان دو میں سے ایک مخلوق ضرور ہیں۔ اِس دُنیا میں پیدا ہونے کے باعث اِنسان گناہ آلودہ،‏ بے بس اور مردُود (‏سزا کے نیچے)‏ ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں،‏ یا اپنی نجات کے لئے خدا کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس مقصد کے لئے نیک اعمال اپناتے ہیں۔ مگر اُن کی یہ ساری کوششیں رائیگاں اور بے سود ہیں کیونکہ وہ تبدیل نہیں ہوتے۔ نئے سرے سے مخلوق کا سر تو مسیح ہے اور اِس میں وہ سارے شامل ہیں جن کے گناہ کا فدیہ دیا گیا ہے۔ جن کو مخلصی دلائی گئی ہے اور جن کو اُس میں نئی زندگی عطا ہوئی ہے۔ «چونکہ نئے سرے سے مخلوق ہونا» شروع سے آخر تک مسیح سے ہے،‏ اِس لئے اُس سے یہ خیال قطعی خارج ہے کہ کردار یا اعمال کے وسیلے سے خدا کی نظر میں مقبول ٹھہر سکتے ہیں۔ پاکیزہ زندگی پیدا ہوتی ہے،‏ مگر رسومات کی پابندی سے نہیں بلکہ خود کو مسیح کے سپرد کرنے سے اور اُس کو موقع دینے سے کہ ایمان دار میں وہ اپنی زندگی بسر کرے۔ یہ نئی پیدائش یا نئے سرے سے مخلوق ہونا،‏ پرانی زندگی میں کوئی اصلاح یا ترقی یا اضافہ نہیں ہوتا،‏ بلکہ قطعی مختلف اور نئی ہوتی ہے۔

۶:‏ ۱۶ یہاں پولس کس قاعدے کا ذکر کر رہا ہے؟ یہ نئے مخلوق کا قاعدہ ہے۔ وہ اُن لوگوں پر «اِطمینان اور رحم» کی دُہری برکت کا اعلان کرتا ہے جو تعلیم کا اِس سوال سے اِمتحان کرتے ہیں کہ__کیا یہ نئی مخلوق کی ہے؟ اور جو نہیں،‏ اُس سب کو ردّ کر دیتے ہیں۔

«اور خدا کے اسرائیل کو …» بہت سے علما اِس کو کلیسیامانتے ہیں۔ مگر خدا کے اِسرائیل سے مراد وہ لوگ ہیں جو طبعی پیدائش کے اعتبار سے یہودی ہیں،‏ لیکن جنہوں نے خداوند یسوع کو مسیحِ موعود مان لیا ہے۔ جو شریعت کے ماتحت چلتے تھے اُن کے لئے نہ اطمینان تھا نہ رحم۔ لیکن اب وہ نئے مخلوق ہیں،‏ اور اِس لئے یہ دونوں اُن کا حصہ اور بخرہ ہیں۔

۶:‏ ۱۷ پولس خود بھی شریعت کا غلام تھا۔ خداوند یسوع نے اُسے اِس غلامی سے رہائی بخشی۔ اب وہ بہ رضا و رغبت خداوند کا غلام ہے۔ جس طرح غلاموں کو اُن کے مالک کے نشان سے داغا جاتا تھا،‏ اُسی طرح پولس کے جسم پر بھی اپنے مالک یسوع کے داغ ہیں۔ یہ داغ کیا تھے؟ زخموں کے وہ نشان جو اُس کے ستانے والوں کے ہاتھوں اُسے ملے تھے۔ اب وہ کہتا ہے کہ کوئی مجھے واپس لے جانے کی کوشش نہ کرے۔ میرے ساتھ ختنے کے مالکی کے داغ کی بات نہ کرے۔ اِس سے شریعت کی غلامی ظاہر ہوتی ہے۔ مَیں اپنے جسم پر اپنے نئے مالک،‏ یسوع مسیح کا داغ لئے پھرتا ہوں۔

۶:‏ ۱۸ اب پولس قلم ہاتھ سے رکھنے کو ہے۔ لیکن خط بند کرنے سے پہلے ایک بات کہنا ضروری ہے۔ وہ کیا؟ فضل۔ یہ وہ لفظ ہے جو خوش خبری کا خاصہ ہے۔ فضل __ شریعت نہیں۔ اِسی مضمون سے اُس نے خط کا آغاز کیا تھا (‏۱:‏ ۳)‏اور اِسی پر اِختتام کرتا ہے۔ «ہمارے خداوند یسوع مسیح کا فضل تمہاری روحوں کے ساتھ رہے۔ آمین۔»

شریعت پرستی

گلتیوں کے خط کا مطالعہ کرنے کے بعد شاید کوئی شخص اِس نتیجے پر پہنچے کہ پولس نے شریعت پرستوں کو ایسی فیصلہ کن شکست دی ہے کہ یہ مسئلہ پھر کبھی کلیسیا کو تنگ نہیں کرے گا۔ مگر تاریخ اور تجربہ بالکل اُلٹ ثبوت پیش کرتے ہیں۔ شریعت پرستی مسیحی دُنیا کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے کہ بہت سے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ یہ مسیحیت میں شامل ہے۔

جی ہاں،‏ شریعت پرست آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم مسیح کے اُن لوگوں کو اَور کیا نام دے سکتے ہیں جو برملا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسیح کے خادم ہیں،‏ لیکن تعلیم یہ دیتے ہیں کہ نجات کے لئے اِستحکام،‏ بپتسمہ یا کلیسیا کی رُکنیت ضروری ہیں،‏ کہ ہم نجات تو ایمان کے وسیلے سے پاتے ہیں،‏ لیکن قائم اعمال کے وسیلے سے رہتے ہیں؟ کیا بعض رسومات اور شعائر کی صورت میں یہودیت کو مسیحیت میں شامل نہیں کر دیا گیا؟ مثلاً اِنسانوں کے مخصوص کردہ خادمانِ دین اور اُن کی اِمتیازی پوشاکیں اور پہناوے،‏ ہیکل کی طرز پر تعمیر کی گئی عمارات،‏ اُن کے اندر کھود کر بنائی گئی الطاریں،‏ اور مسلمہ اور پُر تکلف رسومات،‏ کلیسیائی کیلنڈر مع روزوں کے ایام اور مقررہ تہوار اور عیدیں۔

اور کیا یہ گلتیوں والی بدعت نہیں کہ ایمان داروں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ بالآخر نجات پانے کے لئے تمہیں سبت کا دن ماننا لازم ہے؟ دَورِ جدید میں شریعت پرستی کی تعلیم دینے والے مسیح پر ایمان رکھنے والوں میں گھسنے کے لئے زبردست راہیں بنا رہے ہیں۔ اِس لئے ضروری ہے کہ ہر ایمان دار کو اُن کی تعلیمات سے خبردار کیا جائے اور اُسے سکھایا جائے کہ اُن کو کس طرح جواب دینا ہے۔

سبت کے انبیا عموماً آغاز مسیح پر ایمان کے وسیلے سے نجات کی خوش خبری سے کرتے ہیں۔ وہ بے خبر لوگوں کو پھانسنے کے لئے خوبصورت اِنجیلی اور بشارتی گیت استعمال کرتے ہیں اور ظاہراً پاک کلام پر بہت زور دیتے ہیں۔ لیکن جلد ہی لوگوں کو موسوی شریعت اور خصوصاً سبت کے بارے میں حکم کے ماتحت لے آتے ہیں۔ (‏سبت ہفتے کا ساتواں دن یا سنیچر ہے،‏ اِسی دن کو عام طور سے ہفتہ بھی کہا جاتا ہے)‏۔

پولس نے بالکل واضح تعلیم دی ہے کہ مسیحی تو شریعت کے اِعتبار سے مردہ ہے۔ اِس واضح تعلیم کی روشنی میں یہ لوگ شریعت پرستی کی تعلیم دینے کی کیسے جرأت کرتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ وہ اخلاقی شریعت اور رسوماتی شریعت میں زبردست اِمتیاز کرتے ہیں۔ اخلاقی شریعت دس احکام ہیں۔ رسومات شریعت میں خدا کے دیئے ہوئے دوسرے ضوابط شامل ہیں۔ مثلاً کھانے پینے کی حرام یا ناپاک چیزیں،‏ کوڑھ،‏ خدا کے لئے نذریں اور ہدیئے وغیرہ۔

وہ کہتے ہیں کہ اخلاقی شریعت کبھی منسوخ نہیں ہوئی۔ یہ خدا کی ازلی سچائی کا ظہور ہے۔ بت پرستی،‏ قتل یا زناکاری ہمیشہ خدا کی شریعت کے خلاف رہے گی،‏ البتہ رسوماتی شریعت مسیح میں منسوخ ہو گئی ہے۔ اِس لئے وہ یہ نتیجہ پیش کرتے ہیں کہ جب پولس یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسیحی شریعت کے اعتبار سے مردہ ہے،‏ تو وہ دس احکام کی نہیں بلکہ رسوماتی شریعت کی بات کر رہا ہے۔

اور چونکہ اخلاقی شریعت ابھی تک لاگو ہے اِس لئے مسیحیوں کا فرض ہے کہ اِس کی پابندی کریں۔ شریعت پرست اِس پر بے حد زور دیتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ سبت کو ضرور مانیں اور اِس دن کوئی کام نہ کریں۔ وہ اِس بات کا ذکر خصوصیت سے کرتے ہیں کہ رومن کیتھولک کلیسیا کے ایک پوپ نے سبت کو اتوار سے تبدیل کر دیا ہے اور کہ یہ پاک نوشتوں کی زبردست خلاف ورزی ہے۔

یہ دلیل بازی بڑی معقول معلوم ہوتی ہے اور دل کو لگتی ہے۔ لیکن اِس کی زبردست تردیدی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خدا کے کلام کے قطعی خلاف ہے۔ مندرجہ ذیل نکات پر خاص توجہ دیں:‏

۱۔ ۲۔کرنتھیوں ۳:‏ ۷-‏۱۱ میں دو ٹوک بیان ہے کہ مسیح میں ایمان دار کے لئے دس حکم بے اثر ہو چکے ہیں۔ اس شریعت کو موت کا عہد قرار دیا گیا ہے جس کے حروف پتھروں پر کھودے گئے تھے۔ اِس سے مراد صرف اخلاقی شریعت ہی ہو سکتی ہے رسوماتی شریعت نہیں ہو سکتی۔ صرف دس احکام ہی خدا کی انگلی سے (‏خروج ۳۱:‏ ۱۸)‏پتھروں پر کھودے گئے تھے۔ آیت ۱۱ میں ہم پڑھتے ہیں کہ موت کا یہ عہد اگرچہ

  1. ال والا تھا مگر وہ بے جلال ٹھہرا۔ اِس سے بڑھ کر فیصلہ کن بات اَور کون سی ہو سکتی ہے؟ اب مسیحی پر سبت کا کوئی حق،‏ کوئی دعویٰ نہیں رہا۔
  2. کسی غیر قوم شخص کو سبت کو ماننے کا حکم کبھی نہیں دیا گیا۔ شریعت صرف یہودی قوم کو دی گئی تھی (‏خروج ۳۱:‏ ۱۳)‏۔ اگرچہ خود خدا نے ساتویں دن آرام کیا،‏ لیکن اُس نے کسی اَور کو ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ حکم صرف اُس وقت دیا گیا جب بنی اِسرائیل کو شریعت دی گئی۔
  3. مسیحیوں نے سبت کو چھوڑ کر ہفتے کا پہلا دن کسی پوپ کے فرمان کے باعث اِختیار نہیں کیا۔ ہم نے خداوند کے دن کو اہمیت اِس لئے دی،‏ اور اِس کو عبادت اور خدمت کا دن اِس لئے قرار دیا کیونکہ خداوند اِس دن مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ اور یہ ثبوت ہے کہ کفارہ /مخلصی کا کام مکمل ہو گیا ہے (‏یوحنا ۲۰:‏ ۱)‏۔ مزید برآں ابتدائی دَور کے شاگرد روٹی توڑنے کے لئے اِسی دن اکٹھے ہوتے تھے۔ اور روٹی توڑنا خداوند کی موت کی علامت ہے (‏اعمال ۲۰:‏ ۷)‏۔ نیز خدا نے بھی اِسی دن کو مسیحیوں کے لئے مقرر کیا کہ اپنی آمدنی کے موافق ہدیئے اور نذرانے الگ رکھا کریں (‏۱۔کرنتھیوں ۱۶:‏ ۱،‏ ۲)‏۔ علاوہ ازیں روح القدس بھی ہفتے کے پہلے دن ہی آسمان سے نازل ہوا تھا۔

مسیحی خداوند کے دن کو اِس لئے نہیں مناتے کہ اِس طرح پاکیزگی حاصل کریں گے۔ نہ وہ سزا کے خوف سے یہ دن مناتے ہیں۔ اُنہوں نے اِس دن کو اِس لئے وقف کیا کہ جس ہستی نے اپنے آپ کو ہماری خاطر دے دیا ہم دلی محبت کے سال اُس کی عبادت کریں۔

  1. پولس رسول اخلاقی شریعت اور رسوماتی شریعت کے درمیان کوئی اِمتیاز نہیں کرتا،‏ بلکہ وہ زور دے کر کہتا ہے کہ شریعت ایک مکمل اکائی ہے اور جو لوگ اِس کے وسیلے سے راست بازی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ناکام رہتے ہیں،‏ وہ لعنتی ٹھہرتے ہیں۔
  2. دس حکموں میں سے نو خدا کے فرزندوں کے لئے ہدایات کی صورت میں نئے عہدنامے میں دُہرائے گئے ہیں۔ اِن کا تعلق اُن باتوں سے ہے جو بذاتہٖ درست یا غلط ہیں۔ ایک حکم جو چھوڑا گیا ہے وہ سبت کا حکم ہے۔ کسی دن کو ماننا بذاتہٖ غلط یا درست نہیں۔ مسیحیوں کے لئے سبت کو ماننے کی کوئی ہدایت نہیں۔ بلکہ پاک کلام بالکل صفائی سے بیان کرتا ہے کہ اگر مسیحی کسی دن کو ماننے سے قاصر رہتا ہے تو اُس پر الزام نہیں لگ سکتا (‏کلسیوں ۲:‏ ۱۶)‏۔
  3. پرانے عہد میں سبت کو توڑنے کی سزا موت تھی (‏خروج ۳۵:‏ ۲)‏۔ لیکن آج کل جو لوگ سبت کو ماننے پر اِصرار کرتے ہیں وہ اِس کے قصورواروں کو یہ سزا نہیں دیتے۔ اِس طرح وہ حکم کی تحقیر کرتے اور اُس کے اِختیار کو برباد کر دیتے ہیں،‏ کیونکہ اِس کے تقاضے پورے کرنے پر اصرار نہیں کرتے۔ دراصل وہ کہتے ہیں یہ خدا کا حکم ہے۔ اِس کا ماننا فرض ہے ،‏ لیکن اگر توڑو گے تو کچھ نہیں ہو گا۔
  4. ایمان دار کی زندگی کا دستور العمل شریعت نہیں،‏ بلکہ مسیح ہے۔ ہمیں اُس طرح چلنا ہے جیسے مسیح چلتا تھا۔ یہ معیار تو شریعت کے معیار سے بھی بلند تر اور ارفع تَر ہے (‏متی ۵:‏ ۱۷-‏۴۸)‏۔ روح القدس ہمیں توفیق دیتا ہے کہ پاک زندگی بسر کریں۔ ہم مسیح کی خاطر اپنی محبت کے باعث پاک زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ جس راست بازی کا تقاضا شریعت کرتی ہے،‏ اُسے وہی لوگ پورا کر سکتے ہیں جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں (‏رومیوں ۸:‏ ۴)‏۔

اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان داروں کو یہ تعلیم دینا کہ سبت کی پابندی کریں پاک نوشتوں کے سراسر خلاف ہے (‏کلسیوں ۲:‏ ۱۶)‏۔ یہ فقط اَور طرح کی خوش خبری ہے (‏گلتیوں ۱:‏۷،‏ ۹)‏۔

میری دعا ہے کہ خدا ہر ایک کو یہ دانائی اور سمجھ بخشے کہ وہ شریعت پرستی کی گمراہ کن تعلیم کو پہچان سکے،‏ خواہ یہ کسی رنگ اور کسی انداز میں ظاہر ہو! خدا کرے کہ ہم رسومات اور اِنسانی کوششوں کے سہارے راست باز اور مقدس ٹھہرائے جانے کی کبھی کوشش نہ کریں بلکہ ہر ضرورت کے لئے صرف خداوند یسوع مسیح پر پورا پورا بھروسا اور اِنحصار کریں۔ کاش ہم یاد رکھیں کہ شریعت پرستی خدا کی تحقیر اور بے عزتی ہے،‏ کیونکہ یہ حقیقت کی جگہ سایہ کو رکھ دیتی ہے۔ مسیح کی جگہ رسم پرستی کو رکھ دیتی ہے۔


۱؎ ختنہ معمولی سی جراحی ہے جو مردوں پر کی جاتی ہے۔ اِس میں عضوِ تناسُل کے آگے بڑھی ہوئی کھلڑی کاٹ ڈالی جاتی ہے۔ جب خدا نے ابرہام اور اُس کی نسل کے لئے ختنے کو مقرر کیا تو یہ اُن کے ساتھ عہد کا نشان تھا کہ وہ اُن کا خدا ہو گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے (‏پیدائش ۱۷:‏ ۱-‏۱۱)‏۔ یہ صرف جسمانی نشان نہیں بلکہ روحانی علامت بھی تھا۔ ابرہام کا ختنہ نشان تھا کہ وہ خدا پر ایمان لایا ہے (‏رومیوں ۴:‏۱۱)‏۔ لیکن یہودی روحانی مطلب تو بہت جلد بھول گئے اور صرف رسمی طور پر ختنہ کراتے رہے۔ اِس لئے جہاں تک خدا کا تعلق ہے یہ رسم بے معانی ہو کر رہ گئی تھی۔

۲؎ یروشلیم کی اِس میٹنگ کا تفصیلی بیان اعمال باب ۱۵ میں درج ہے۔ اِس کا مطالعہ بڑے غور سے کرنا چاہئے۔

۳؎ اگرچہ اِس دلیل میں اور اِس حقیقت میں تضاد نظر آتا ہے کہ بعد میں مسیح کو بھی نئے عہد کا درمیانی (‏عبرانیوں ۹:‏۱۲)‏ کہا گیا،‏ لیکن اِن دونوں مقامات پر لفظ درمیانی کو دو مختلف مفاہیم میں استعمال کیا گیا ہے۔ موسیٰ صرف اِس مفہوم میں درمیانی تھا کہ اُس نے خدا سے شریعت حاصل کی اور اسرائیلی قوم کو پہنچا دی۔ وہ لوگوں کا نمائندہ ہونے کی حیثیت میں درمیانی تھا۔ لیکن مسیح اعلیٰ مفہوم میں نئے عہد کا درمیانی ہے۔ اِس سے پیشتر کہ خدا اِس عہد کی برکتیں دے سکتا،‏ خداوند یسوع کو مرنا ضرور تھا۔ جس طرح موت کے بعد ہی کسی شخص کی وصیت یا آخری خواہش نافذ ہوتی ہے،‏ اُسی طرح ضرور تھا کہ نئے عہد پر اُس کے خون سے مُہر کی جاتی ہے۔ ضرور تھا کہ وہ اپنے آپ کو سب کا فدیہ ہونے کے لئے دے دے (‏۱۔تیمتھیس ۲:‏ ۶)‏۔ مسیح نہ صرف اپنے لوگوں کے لئے اِس عہد کی برکتوں کا ضامن ہے بلکہ اپنے عہد کے لوگوں کو ایک ایسی دُنیا میں قائم بھی رکھتا ہے جو اُن سے دشمنی رکھتی ہے۔ یہ کام وہ بحیثیت سردار کاہن اور شافع کرتا ہے۔ اور یہ اُس کے درمیانی ہونے کے کام کا حصہ بھی ہے۔

۴؎ یونانی لفظ paidagogos کے لغوی معانی بچے کا راہنما کے ہیں۔ اِس شخص کی جو کہ اکثر غلام ہوتا تھا ذمہ داری ہوتی تھی کہ بچے کو بحفاظت سکول پہنچائے اور واپس لائے۔ کبھی کبھی وہ بچے کو پڑھاتا بھی تھا۔

۵؎ جسم کی کمزوری کے بارے میں کئی نظریات پیش کئے جاتے ہیں۔ مثلاً آنکھوں کا کوئی مرض۔ اِس کے علاوہ ملیریا،‏ آدھے سر کا درد،‏ مِرگی اور کئی دوسرے امراض کا نام بھی لیا جاتا ہے۔