گلتیوں ۱

۱۔ شخصی:‏ پولس اپنے اِختیار کا دفاع کرتا ہے (‏ابواب ۱،‏۲)‏

الف۔ پولس کا مقصدِ تحریر ( ۱:‏ ۱-‏۱۰)‏

۱:‏ ۱ پولس بالکل آغاز ہی میں اِصرار کرتا ہے کہ رسول ہونے کے لئے میری بلاہٹ خدا کی طرف سے ہے۔ اِس بلاہٹ کا آغاز نہ اِنسانوں کی جانب سے ہوا اور نہ خدا نے کسی اِنسان کے وسیلے سے اِس کی خبر مجھے دی۔ یہ بلاہٹ براہِ راست یسوع مسیح اور خدا باپ کے سبب سے جس نے اُس کو مُردوں میں سے جلایا ہوئی۔ ایسا شخص جس کو خدا ہی نے بلایا ہو،‏ اور جو صرف خدا ہی کے سامنے جواب دہ ہو،‏ اُسی کو آزادی ہوتی ہے کہ اِنسانوں کے سامنے بے خوف و خطر خدا کے پیغام کی منادی کرے۔ چنانچہ پولس اپنے پیغام اور اپنی خدمت دونوں کے اعتبار سے بارہ رسولوں اور ہر دوسرے شخص سے آزاد اور خود مختار تھا۔

بارہ رسولوں کو خداوند یسوع نے اپنی زمینی خدمت کے دوران بلایا۔ اُن کے برعکس پولس کو جی اُٹھے مسیح نے بلایا۔ چنانچہ قیامت ِمسیح پولس کے پیغام کا ایک اہم حصہ بن گئی۔

۱:‏ ۲ پولس اپنے آپ کو اُن سب بھائیوں کے ساتھ شامل کرتا ہے جو اُس کے ساتھ تھے۔ یہ بھائی گلتیوں سے یہ اپیل کرنے میں شریک ہیں کہ خوش خبری کی سچائی کو تھامے رہو۔ گلتیہ کی کلیسیائوں کو یہ خط کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ گرم جوشی کی کمی دانستہ ہے۔ عام طور سے پولس رسول ایمان داروں کو خدا کی کلیسیا،‏ مقدسوں،‏ یا مسیح یسوع میں ایمان دار کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ وہ مسیحیوں کے لئے اکثر شکرگزاری کرتا یا اُن کی خوبیوں کی تعریف کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ کئی افراد کا ذکر نام لے لے کر کرتا ہے۔ مگر اِس خط میں ایسا نہیں۔ گلتیہ کی کلیسیائیں ایک سنجیدہ غلطی کا شکار تھیں۔ اِسی لئے پولس سختی اور سرد مہری کا رویہ اِختیار کرتا ہے۔

۱:‏ ۳ « فضل اور اِطمینان۔» یہ خوش خبری کے دو عظیم اور اہم لفظ ہیں۔ فضل سے مراد خدا کی مہربانی اور کرم ہے جو اُس نے بے خدا گنہگاروں پر کیا جس کے وہ حق دار نہیں تھے۔ خدا کا فضل اِنسان کو یہ نہیں کہتا کہ کچھ کرو بلکہ یہ بتاتا ہے کہ خدا نے کیا کیا ہے اور اِنسان کو دعوت دیتا ہے کہ نجات کے مفت انعام کو قبول کر لو۔ سکوفیلڈ (‏Scofield)‏ کہتا ہے،‏ «فضل نیک اِنسانوں کی تلاش نہیں کرتا جن کو منظور کر سکے،‏ بلکہ وہ مردود،‏ خطاکار،‏ ناچار اور بے بس اِنسانوں کی تلاش کرتا ہے جن کو نجات دے سکے،‏ مقدس کر سکے اور جلال دے سکے۔»

«اِطمینان۔» یہ فضل کا نتیجہ یا پھل ہے۔ جب کوئی گنہگار یسوع مسیح کو قبول کر لیتا ہے تو اُسے خدا کے ساتھ اِطمینان یا میل ملاپ حاصل ہو جاتا ہے۔ اُسے یہ جان کر تسلی ہو جاتی ہے کہ میرے گناہوں کی سزا ادا ہو چکی ہے،‏ میرے سارے گناہ معاف ہو گئے ہیں اور اب مَیں جہنم کی سزا سے ابد تک بَری ہوں۔ لیکن فضل صرف نجات ہی نہیں دیتا،‏ بلکہ سنبھالتا بھی ہے۔ ہمیں صرف خدا کے ساتھ اِطمینان یا میل ملاپ ہی کی ضرورت نہیں،‏ بلکہ خدا کے اِطمینان کی بھی ضرورت ہے۔ خط شروع کرتے ہی پولس اِن برکتوں کی خواہش کرتا ہے۔ گلتیوں کو یقینا ً اِحساس ہو گا کہ یہ برکتیں شریعت سے ہرگز نہیں مل سکتیں۔ شریعت اُن سب کے لئے لعنت لاتی ہے جو اُس کے آئین و احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ شریعت ایک بھی روح کو اِطمینان نہ دے سکی۔

۱:‏ ۴ اب پولس اپنے قارئین کو اُن کی نجات کی بھاری قیمت یاد دلاتا ہے۔ اِن لفظوں پر غور کریں کہ خداوند یسوع مسیح نے «ہمارے گناہوں کے لئے اپنے آپ کو دے دیا»۔ اگر اُس نے گناہوں کے تصفیہ کی خاطر اپنے آپ کو دے دیا تو ہمارے لئے ایسے کام میں اضافہ کرنا غیر ضروری بھی ہے اور ناممکن بھی۔ اور شریعت کے اعمال سے اپنے گناہوں کا کفارہ دینے کی کوشش بھی غیر ضروری اور ناممکن ہے۔ مسیح واحد اور کافی نجات دہندہ ہے۔ مسیح نے ہمیں اِس موجودہ خراب جہان سے خلاصی بخشنے کے لئے جان دی۔ خراب جہان میں ہمارے زمانے کی سیاسی خرابی ہی نہیں بلکہ مذہبی دُنیا کی خرابی بھی شامل ہے۔ مذہبی دُنیا کی خرابی یہ ہے کہ وہ مسیح پر ایمان کے ساتھ مذہبی شعائر اور رسول کی ملاوٹ کرتی ہے۔ اِس لئے پولس گلتیوں کو برموقع یاد دلاتا ہے کہ تم اُسی نظام کی طرف واپس جا رہے ہو جس سے نکالنے اور بچانے کی خاطر مسیح نے اپنی جان دی تھی۔ مسیح نے جو خلاصی بخشی ہے وہ ہمارے خدا اور باپ کی مرضی کے موافق ہے۔ یہ حقیقت نیک نامی اور تعریف کو اُس جگہ رکھتی ہے جہاں ہونی چاہئے۔ یہ نیک نامی اِنسان کی حقیر اور ناچیز کوششوں کی نہیں بلکہ خدا کی آزاد مرضی کی ہے۔ پولس کا یہ مقولہ اِس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ فقط مسیح ہی خدا کی طرف سے نجات کا ذریعہ ہے،‏ دوسرا کوئی نہیں۔

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدا کو اِس دُنیا کو بہتر اور جدید بنانے سے کوئی دلچسپی نہیں،‏ نہ اُسے یہ دلچسپی ہے کہ اِنسان یہاں عیش و آرام سے رہے۔ اُسے دلچسپی ہے تو صرف اِنسان کو اِس سے خلاصی یعنی نجات دینے سے ہے۔ چنانچہ ہماری ترجیحات اُس کی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہئیں۔

۱:‏ ۵ فضل کی خوش خبری کے مطابق اِنسان کی نجات کے لئے تمام تمجید اور جلال خدا باپ اور خداوند یسوع مسیح کے لئے ہے۔ اِنسان شریعت پر عمل کر کے نہ تو نجات دہندہ کا شریک بن سکتا ہے اور نہ اِس تمجید میں حصے دار۔

اِن پانچ آیات کا ایک ایک جملہ نہایت پُرمعانی ہے۔ چند الفاظ میں بڑی سچائی بیان کر دی گئی ہے۔ پولس نے اُن دو اہم موضوعات کا اِختصار پیش کر دیا ہے جو اِس خط کے بقیہ حصے میں زیر بحث رہیں گے۔ اوّل،‏ بحیثیت رسول اُس کا اپنا اِختیار۔ دوم،‏ خدا کے فضل کی خوش خبری۔ وہ درپیش مسئلے پر گلتیوں سے براہِ راست گفتگو کرنے کو تیار ہے۔

۱:‏ ۶ ،‏۷  پولس ایک دَم گلتیوں کا سامنا کرتا ہے کہ وہ ایک غلط بات کو ماننے پر بہت جلد تیار ہو گئے تھے۔ وہ تعجب کا اِظہار کرتا ہے کہ اُنہوں نے خوش خبری کی سچائی کو یوں اچانک چھوڑ دیا۔ وہ بڑی سنجیدگی سے کہتا ہے کہ تمہارا یہ اقدام خدا کو چھوڑ کر ایک جھوٹی خوش خبری کو قبول کرنا ہے۔ خدا نے اُن کو مسیح کے فضل سے بلایا تھا۔ اب وہ خود کو شریعت کی لعنت کے ماتحت لا رہے تھے۔ اُنہوں نے حقیقی اور سچی خوش خبری کو قبول کیا تھا،‏ اب وہ اُسے چھوڑ کر کسی اَور طرح کی خوش خبری کی طرف مائل ہو گئے تھے جو کہ دراصل خوش خبری تھی ہی نہیں۔ یہ تو ایک بگڑا ہوا پیغام تھا۔ یہ تو فضل اور شریعت کا ایک آمیزہ تھا۔

۱:‏ ۸،‏ ۹ پولس دو دفعہ پوری سنجیدگی سے کہتا ہے کہ جو کوئی بھی اَور خوش خبری سناتا ہے وہ «ملعون ہو»۔ گنہگاروں کے لئے خدا کے پاس صرف ایک ہی پیغام ہے۔ وہ شریعت کے اعمال سے بالکل ہٹ کر صرف ایمان کے وسیلے سے فضل سے نجات پیش کرتا ہے۔ جو لوگ نجات کے کسی اَور طریقے / وسیلے کی منادی کرتے ہیں وہ لازماً ملعون ہیں۔ اُن کی سزا کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ایسے پیغام کی منادی کرنا کیسی سنجیدہ بات ہے جس کا انجام روحوں کی ابدی ہلاکت ہے! پولس ایسے جھوٹے اُستادوں کو قطعاً برداشت نہیں کرتا تھا،‏ اور نہ ہمیں ہی برداشت کرنا چاہئے۔ جان سٹاٹ (‏John Stott)‏ خبردار کرتا ہے:‏

«ہماری آنکھیں کلیسیا کے اندر اُستادوں کے منصب یا اُن کی نعمتوں / صلاحیتوں یا اُن کی شخصیت سے چندھیا نہ جائیں جیسا کہ اکثر لوگوں کی چندھیا جاتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بڑے وقار،‏ اِختیار اور علمیت کے ساتھ ہمارے پاس آئیں۔ وہ بشپ ہوں یا آرچ بشپ،‏ یونیورسٹی کے پروفیسر ہوں یا بذاتِ خود پوپ ہوں،‏ اگر وہ اُس خوش خبری کے علاوہ جو رسولوں نے دی ہے اور نئے عہدنامے میں مرقوم ہے کسی اَور خوش خبری کی منادی کرتے ہیں تو ضرور ہے کہ اُنہیں ردّ کیا جائے۔ ہم اُن کو خوش خبری کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں نہ کہ خوش خبری کو اُن کی کسوٹی پر رکھ کر جانچتے ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر ایلن کول نے کہا ہے کہ مبشر کی ظاہری اور خارجی شخصیت پیغام کی صحت کی توثیق نہیں کرتی،‏ بلکہ پیغام کی نوعیت مبشر کے سچے ہونے کی توثیق کرتی ہے۔»

غور کریں کہ رسول خدا کا کوئی فرشتہ نہیں کہتا بلکہ آسمان کا کوئی فرشتہ کہتا ہے۔ فوراً خیال آتا ہے کہ آسمان کا کوئی فرشتہ (‏پڑھئے ۲۔کرنتھیوں ۱۱:‏۱۴؛ اِفسیوں ۶:‏۱۲)‏جھوٹا پیغام لا سکتا ہے،‏ جب کہ خدا کا کوئی فرشتہ ایسا نہیں کر سکتا۔ خوش خبری کی یکتائی کو زبان اِس سے زیادہ فصاحت سے بیان نہیں کر سکتی۔ یہ ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔ اپنی کوشش یا اِنسانی قابلیت کا اِس میں کوئی حصہ نہیں۔ صرف خوش خبری ہی بغیر قیمت یا پیسے کے نجات پیش کرتی ہے۔ اِس کے مقابلے میں شریعت اُن کے لئے لعنت لاتی ہے جو اِس پر عمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں،‏ مگر خوش خبری اُن کے لئے لعنت رکھتی ہے جو اِس کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

۱:‏ ۱۰ غالباً اِس موقعے پر پولس کو یاد آتا ہے کہ اُس کے مخالفین اُس پر الزام لگاتے ہیں کہ اُس نے اپنے سامعین کے مزاج کے مطابق پیغام کو بدل ڈالا۔ چنانچہ وہ پوچھتا ہے کہ یہ اِصرار کرنے میں کہ خوش خبری صرف ایک ہی ہے کیا مَیں آدمیوں کو خوش کرنا چاہتا ہوں __ یا خدا کو؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ آدمیوں کو خوش کرنے کی کوشش نہیں کر رہا،‏ کیونکہ وہ اِس بات کو سخت ناپسند کرتے ہیں کہ آسمان پر جانے کا صرف ایک راستہ ہے۔ اگر پولس آدمیوں کو خوش کرنے کے لئے پیغام کو بدل دیتا تو یقینا مسیح کا بندہ نہ ہوتا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اِس طرح وہ اپنے لئے خدا کے غضب کو دعوت دیتا۔

ب۔ پولس اپنے پیغام اور خدمت کا دفاع کرتا ہے (‏ ۱:‏ ۱۱-‏۲:‏۱۰)‏

۱:‏ ۱۱،‏۱۲ اب رسول اپنے پیغام اور اپنی خدمت کے دفاع میں چھے دلیلیں پیش کرتا ہے۔ اوّل خوش خبری اِنسان کی معرفت نہیں پہنچی،‏ بلکہ خدا نے بلاواسطہ اِس کا مکاشفہ دیا۔ یہ خوش خبری اِنسان کی طرف سے نہیں۔ مراد یہ ہے کہ اِس کا ماخذ یا سرچشمہ اِنسان نہیں۔ لمحہ بھر کو سوچیں تو اِس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ پولس کی خوش خبری سب کچھ خدا کو ٹھہراتی ہے،‏ اِنسان کو کچھ نہیں ٹھہراتی۔ یہ ایسی نجات نہیں جس کو اِنسان اِختراع کر سکے یا جس کی تدبیر اِنسان کر سکے۔ پولس کو یہ خوش خبری اِنسان کی طرف سے نہیں پہنچی اور نہ کتابوں نے سکھائی بلکہ «اُسے براہِ راست یسوع مسیح کی طرف سے … اُس کا مکاشفہ ہوا۔»

۱:‏ ۱۳،‏۱۴ دوم،‏ پولس نے اِس خوش خبری میں یہودی شریعت کو شامل نہیں کیا۔ وجہ یہ نہیں کہ وہ یہودی شریعت (‏طریق)‏ سے ناواقف تھا۔ اپنی پیدائش اور تربیت کے لحاظ سے وہ شریعت میں ڈوبا ہوا تھا اور وہ «کلیسیا کو ستانے والا» مشہور ہوا۔ وہ اپنے بزرگوں کی روایتوں میں نہایت سرگرم تھا،‏ یہاں تک کہ اُس کے زمانے کا کوئی یہودی اِس سرگرمی میں اُس کے برابر نہ تھا۔ اِس لئے جب وہ منادی کرتا کہ نجات شریعت (‏کے اعمال)‏ سے نہیں بلکہ ایمان سے ہے تو اُسے اُس کی شریعت سے لاعلمی پر ہرگز محمول نہیں کیا جا سکتا،‏ تو پھر وہ شریعت کو اپنی منادی سے باہر کیوں رکھتا ہے؟ اُس کی خوش خبری اُس کے پس منظر،‏ اُس کے فطری رجحان اور ساری مذہبی تعلیم کے خلاف کیوں تھی؟ صرف اِس لئے کہ یہ اُس کی اپنی سوچ اور فکر کا نتیجہ نہ تھی،‏ بلکہ براہِ راست خدا سے ملی تھی۔

۱:‏ ۱۵-‏۱۷ سوم،‏ پولس رسول پہلے چند سال دوسرے رسولوں سے الگ ہی خدمت کرتا رہا۔ اب وہ اپنی خوش خبری کے تعلق سے یہ ثابت کرتا ہے کہ میرا اِنحصار دوسرے آدمیوں پر بھی نہیں۔ اپنی تبدیلی (‏ایمان لانے)‏ کے فوراً بعد اُس نے اِنسانی لیڈروں سے صلاح نہیں لی اور نہ یروشلیم کو گیا جہاں دوسرے رسول تھے،‏ «بلکہ فوراً عرب کو چلا گیا۔ پھر وہاں سے دمشق کو واپس آیا»۔ اُس نے یروشلیم نہ جانے کا فیصلہ اِس لئے نہیں کیا کہ اُس کے دل میں اپنے ساتھی رسولوں کی عزت نہ تھی،‏ بلکہ اِس لئے کہ اُسے جی اُٹھے خداوند نے خود مقرر کیا تھا اور اُسے ایک الگ اور بے مثال خدمت سونپی تھی کہ غیر قوموں میں منادی کرے (‏۲:‏ ۸)‏،‏ اِس لئے اُس کی خوش خبری اور خدمت کو اِنسانوں سے اِختیار حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اُس کا اِنحصار کسی طور پر آدمیوں پر نہیں تھا۔

اِن آیات میں کئی باتیں ایسی ہیں جو گہری اور خصوصی توجہ کا تقاضا کرتی ہیں۔ آیت ۱۵ میں اِن الفاظ کو دیکھئے «خدا نے مجھے میری ماں کے پیٹ ہی سے مخصوص کر لیا»۔ پولس کو اِحساس ہے کہ میری پیدائش سے پہلے ہی خدا نے مجھے خاص کام کے لئے الگ کر لیا تھا۔ پھر وہ کہتا ہے کہ خدا نے «مجھے اپنے فضل سے بلا لیا»۔ یہ دمشق کی راہ پر اُس کی تبدیلی کے تجربے کا بیان ہے۔ اگر اُس لمحے اُسے وہ کچھ دیا جاتا جس کے لائق تھا یا جس کا حق دار تھا تو جہنم میں ڈال دیا جاتا۔ لیکن مسیح نے اپنے فضل سے اُس کو بچا لیا۔ اُس کو نجات دی اور اُس ایمان کی منادی کرنے کو بھیج دیا جس کو وہ برباد کرنے کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ آیت ۱۶ میں پولس دکھاتا ہے کہ خدا کی یہ مرضی تھی کہ «اپنے بیٹے کو مجھ میں ظاہر کرے۔» یہاں ہمیں نظر آتا ہے کہ ہمیں بلانے میں خدا کا ایک مقصد ہے کہ «ہم میں» اپنے بیٹے کو ظاہر کرے تاکہ ہم دُنیا میں خداوند یسوع کو پیش کریں۔ ہم اُس کے نمائندے ہوں۔ وہ مسیح کو ہمارے دلوں پر ظاہر کرتا ہے (‏آیت ۱۶)‏ تاکہ ہمارے وسیلے سے مسیح کو دِکھائے (‏آیات ۱۶-‏۲۳)‏تاکہ اِس ظہور سے خدا کو جلال ہو،‏ خدا کی تمجید ہو (‏آیت ۲۴)‏۔ پولس کی خصوصی ذمہ داری یہ تھی کہ غیر قوموں میں مسیح کی منادی کرے۔

آیت ۱۷ میں وہ کہتا ہے کہ مَیں عرب کو چلا گیا۔ خدا کے ہر خادم کو تنہائی،‏ علیٰحدگی اور غور و خوض کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسیٰ چالیس برس تک بیابان کے ایک کونے میں رہا۔ دائود جب یہودیہ کی پہاڑیوں میں بھیڑیں چراتا پھرتا تھا تو خدا کے ساتھ اکیلا ہوتا تھا۔

۱:‏ ۱۸-‏۲۰ چہارم،‏ جب پولس بالآخر یروشلیم گیا تو صرف کیفا (‏پطرس)‏ اور یعقوب سے ملا۔ اِس کے علاوہ یہودیہ کی کلیسیائیں نسبتاً اُس کو بہت کم جانتی تھیں (‏۱:‏ ۲۱-‏۲۴)‏۔ وہ یہ بتا رہا ہے کہ میرا اِنحصار دوسرے رسولوں پر نہیں تھا۔ اِسی بات کو ثابت کرنے کے لئے وہ خصوصیت سے بیان کرتا ہے کہ اپنی تبدیلی کے کم سے کم تین برس بعد تک یروشلیم نہیں گیا۔ اور جب گیا تو اِس لئے کہ پطرس سے واقفیت پید اکرے۔ یہ شخصی ملاقات تھی،‏ باضابطہ ملاقات نہ تھی (‏اعمال ۹:‏ ۲۶-‏۲۹)‏۔ یروشلیم میں قیام کے دوران وہ خداوند کے بھائی یعقوب سے بھی ملا۔ پطرس کے پاس اُس کا قیام صرف پندرہ دن رہا۔ اور یہ کسی قسم کی ٹریننگ کے لئے کافی عرصہ نہیں۔ علاوہ ازیں متن سے واضح ہوتا ہے کہ خدا کے خادموں کے ساتھ اُس کی کامل برابری تھی۔

۱:‏ ۲۱-‏۲۴ اِس کے بعد اُس نے اپنا بہت سا وقت سوریہ اور کلکیہ کے علاقوں میں گزارا،‏ یہاں تک کہ یہودیہ کی کلیسیائیں اُس سے شخصی طور پر واقف نہ تھیں۔ اُن کو صرف اِتنا پتا تھا کہ وہ شخص جو پہلے مسیحیوں کو بُری طرح ستایا کرتا تھا اَب خود مسیحی ہو گیا ہے اور دوسروں کے سامنے مسیح کی منادی کرتا ہے۔ اِس لئے وہ خدا کی تمجید کرتی تھیں کہ خدا نے اُس کی زندگی میں بڑا اور عجیب کام کیا ہے،‏ (‏کیا ہماری زندگیوں میں تبدیلی کے لئے دوسرے لوگ خدا کی تمجید کرتے ہیں)‏؟

۲:‏ ۱ پنجم،‏ جب پولس بعد میں یروشلیم آیا تو رسول قائل ہو گئے کہ اُس کا خوش خبری کا پیغام خدا کی طرف سے ہے (‏۲:‏ ۱-‏۱۰)‏۔ چونکہ کلیسیا کی داغ بیل یروشلیم میں پڑی اور رسولوں نے اِسی شہر کو کم و بیش اپنا ہیڈ کوارٹر بنا لیا تھا،‏ اِس لئے بعض مسیحی سمجھتے تھے کہ وہاں کی کلیسیا «مادر کلیسیا» ہے۔ اِس لئے پولس کو اِس الزام کی مزاحمت کرنا پڑی کہ چونکہ وہ یروشلیم کے رسولوں میں سے نہیں اِس لئے اُس کا درجہ کسی قدر کم ہے۔ وہ یروشلیم میں بعد میں آنے کا حال بڑی تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ دراصل مذکورہ الزام کا جواب دینے کے لئے یہ تفصیل بیان کرنا ضروری ہو گیا تھا۔

«آخر چودہ برس کے بعد۔» یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ چودہ برس اُس کے ایمان لانے کے بعد تھے،‏ یا پہلی دفعہ یروشلیم آنے کے بعد۔ تاہم ہم اِتنا ضرور جانتے ہیں کہ اُس کا یہ جانا «مکاشفہ کے مطابق ہوا۔» خدا نے اُس کو مکاشفہ بھی دیا کہ اپنے ہم خدمت برنباس کو اور نومرید ططس کو اپنے ساتھ لے جائے۔ ططس غیر قوموں میں سے ایمان لایا تھا۔ یہودیت پرست افراد اِصرار کرتے تھے کہ پوری نجات کے لئے ططس کا ختنہ کرانا ضروری ہے۔ پولس رسول نے اِس بات کی سختی سے مخالفت کی کیونکہ اُسے احساس تھا کہ اِس مسئلے میں خوش خبری کی سچائی کو خطرہ ہے (‏بعد میں جب تیمتھیسکا پولس نے خود ختنہ کرایا تو کوئی اہم اُصول ملوث نہ تھا (‏اعمال ۱۶:‏ ۳)‏۔

ای۔ ایف۔ کیون (‏Kevan)‏ کہتا ہے:‏

«پولس دیکھ رہا تھا کہ بے سمجھ لوگ ختنے کو راست باز ٹھہرائے جانے کے لئے ایک ضروری رسم سمجھنے لگیں گے،‏ حالانکہ ایسا نہیں۔ ختنہ کرانے کا مطلب ہے کہ ہم شریعت کے ضابطے پر عمل کر کے راست باز ٹھہرائے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اِس طرح تو فضل کی بنیاد کا اِنکار کرتے ہیں۔»

۲:‏ ۲ یروشلیم پہنچ کر پولس نے «جس خوش خبری کی غیر قوموں میں منادی کرتا» تھا «وہ اُن سے بیان کی،‏ مگر تنہائی میں اُن ہی لوگوں سے جو کچھ سمجھے جاتے تھے تا ایسا نہ ہو» کہ اُس کی «اِس وقت کی یا اگلی دوڑ دھوپ بے فائدہ جائے»۔ پولس نے ساری جماعت سے بات کرنے کے بجائے صرف روحانی لیڈروں سے تنہائی میں بات کیوں کی؟ کیا وہ چاہتا تھا کہ یہ لیڈر میری خوش خبری کی منظوری دیں،‏ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مَیں جھوٹی منادی ہی کرتا رہوں؟ صاف ظاہر ہے کہ وجہ یہ نہیں۔ یہ تو اُن ساری باتوں کے خلاف ہے جو وہ کہتا آ رہا ہے۔ اُس کا اِصرار ہے کہ یہ پیغام مجھے خدا کے مکاشفے سے ملا ہے۔ اُسے کوئی شک نہ تھا کہ جس عقیدے کی وہ تعلیم دیتا ہے وہ سچا ہے۔ اِس بیان کی وضاحت کہیں اَور ہے۔ عام ادب آداب کا تقاضا تھا کہ پہلے لیڈروں سے بات کی جائے۔ اور یہ بھی مناسب تھا کہ لیڈر پورے طور پر قائل ہوں کہ پولس کا پیغام اِنجیل کے مطابق ہے۔ اگر اُن کو کچھ پوچھنا ہو،‏ یا کوئی مشکل ہو تو پولس شروع ہی میں اُن کے سامنے وضاحت کرنا چاہتا تھا۔ پھر وہ دوسرے رسولوں کی پوری حمایت اور تائید کے ساتھ کلیسیا کے سامنے آ سکتا تھا۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہمیشہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ جذباتی باتیں اُن کو بہا لے جائیں۔ اِس لئے پولس چاہتا تھا کہ اپنی خوش خبری پہلے تنہائی میں پیش کرے کیونکہ تنہائی کا ماحول ہیجان انگیزی سے پاک ہو گا۔ اگر پولس ایسا نہ کرتا تو بہت بحث و تمحیص اور جھگڑا اُٹھ کھڑا ہونے کا خدشہ تھا۔ اور ممکن ہے کہ کلیسیا یہودی دھڑے اور غیر قوم دھڑے میں تقسیم ہو جاتی۔ اِس طرح پولس کے یروشلیم آنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اور اُس کا اِس بات سے یہی مطلب ہے کہ میری اِس وقت کی یا اگلی دوڑ دھوپ بے فائدہ ہو جاتی۔

۲:‏ ۳ ططس کے معاملے میں شریعت پرستی کا سارا مسئلہ سامنے آ گیا۔ کیا یروشلیم کی کلیسیا اِس غیر قوم نومرید کو اپنی رفاقت میں قبول کرے گی،‏ یا اِصرار کرے گی کہ پہلے اُس کا ختنہ ۱؎کیا جائے؟ اِس مسئلے پر بہت بحث اور تکرار ۲۲؎؎ کے بعد رسولوں نے فیصلہ دے دیا کہ نجات کے لئے ختنہ ضروری نہیں۔ یہ پولس کی ایک بڑی فتح تھی۔

۲:‏ ۴ پولس کو یروشلیم جانے کی ہدایت کیوں ہوئی؟ آیت ۲ کے شروع کے الفاظنئے عہدنامے میں ختنے کا حکم نہیں ہے کیونکہ اب خدا یہودیوں اور غیر قوموں دونوں سے یکساں طور پر فضل سے پیش آ رہا ہے۔ کلیسیا کے ابتدائی دَور میں یہودی ایمان داروں کا ایک گروہ زور دیتا تھا کہ نجات کے لئے ختنہ ضروری ہے۔ اِس لئے یہ گروہ مختون کہلاتا تھا (‏گلتیوں ۲:‏ ۱۲)‏۔

اور آیت ۴ کے شروع کے الفاظ کو ایک ساتھ رکھیں تو یہ وجہ سمجھ میں آ جاتی ہے۔ «میرا جانا مکاشفہ کے مطابق ہوا … اور یہ اُن جھوٹے بھائیوں کے سبب سے ہوا …۔» یہ بیان ہے اُس بات کا جو انطاکیہ میں پہلے ہو چکی تھی (‏اعمال ۱۵:‏۱،‏ ۲)‏۔ یروشلیم کے کچھ یہودی اُستاد جو اپنے آپ کو مسیحی ظاہر کرتے تھے کسی نہ کسی طرح چھپ کر انطاکیہ کی کلیسیا میں آ گئے تھے اور تعلیم دیتے تھے کہ نجات کے لئے ختنہ ضروری ہے۔

۲:‏ ۵ پولس اور برنباس نے اُن کی زبردست مخالفت کی۔ اِس معاملے کو طے کرنے کے لئے پولس،‏ برنباس اور چند اَور ایمان دار یروشلیم گئے تاکہ وہاں رسولوں اور دوسرے بزرگوں کی رائے دریافت کریں۔

۲:‏ ۶ جو لوگ یروشلیم میں معزز تھے اور کچھ سمجھے جاتے تھے اُن سے پولس کو کچھ حاصل نہ ہوا۔ یعنی نہ تو اپنے پیغام کے لئے اور نہ بحیثیت رسول اپنے لئے اُسے کچھ فائدہ ہوا۔ یہ قابلِ توجہ بات ہے۔ گذشتہ باب میں اُس نے زور دے کر کہا ہے کہ دوسرے رسولوں کے ساتھ اُس کی ملاقات کم سے کم رہی۔ اور اب جب آخر اُن کے ساتھ صلاح مشورہ کیا تو اُنہوں نے اتفاق کیا کہ پولس اُسی خوش خبری کی منادی کرتا ہے جس کی ہم کرتے ہیں۔ یہ کیسا اہم نکتہ ہے! اُن یہودی لیڈروں نے اتفاق کیا کہ اُس کی خوش خبری میں کسی طرح کا کوئی نقص نہیں۔ اگرچہ پولس اُن سے الگ تھا،‏ خود مختار تھا،‏ اُس نے اُن سے تعلیم نہیں پائی تھی تو بھی اُن کی اور اُس کی خوش خبری میں بالکل کوئی فرق نہ تھا۔ (‏پولس کسی صورت میں بھی دوسرے رسولوں کو کم تر ثابت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ صرف یہ کہتا ہے «خواہ وہ کیسے ہی تھے» یعنی خداوند یسوع کی زمینی زندگی میں اُس کے ساتھ رہے تھے تو بھی پولس کی نظروں میں اُن کو کوئی اعلیٰ و برتر اِختیار حاصل نہیں تھا۔ خدا خارجی اور ظاہری اِمتیازات کی بنا پر کسی اِنسان کی ذات یا شخصیت کو قبول نہیں کرتا)‏۔

۲:‏ ۷،‏۸ یروشلیم میں رسولوں نے جان لیا کہ خدا نے جس طرح پطرس کو یہودیوں کو خوش خبری سنانے کے لئے مقرر کیا تھا،‏ اُسی طرح پولس کو کسی اِستحقاق کے بغیر اپنے فضل سے نامختونوں (‏غیر قوموں)‏ میں منادی کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔ دونوں شخص ایک ہی خوش خبری کی منادی کرتے تھے۔ لیکن خصوصیت سے الگ الگ قوموں کے درمیان۔

۲:‏ ۹،‏۱۰ یہاں تک کہ یعقوب اور کیفا (‏پطرس)‏ اور یوحنا جو کہ کلیسیا کے ستون مانے جاتے تھے،‏ اُن کو بھی معلوم ہو گیا کہ خدا پولس کے ذریعے سے کام کر رہا ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے پولس اور «برنباس کو دہنا ہاتھ دے کر» اپنی رفاقت میں شریک کر لیا تاکہ وہ غیر قوموں میں اِنجیل کی منادی کریں۔ یہ کوئی باضابطہ مخصوصیت (‏آرڈینیشن)‏ نہیں تھی،‏ بلکہ اُنہوں نے کمال محبت سے پولس کی خدمت کو تسلیم کیا تھا۔ اُنہوں نے صرف ایک مشورہ دیا کہ وہ اور برنباس غریبوں کو یاد رکھیں۔ پولس کہتا ہے کہ مَیں خود ہی اِسی کام کی کوشش میں تھا۔

ج۔ پولس پطرس کو جھڑکتا ہے (‏۲:‏ ۱۱،‏۲۱)‏

۲:‏ ۱۱ ششم،‏ اپنی رسالت پر اعتراض کے چھٹے اور آخری جواب میں پولس بیان کرتا ہے کہ میرے لئے کیفا (‏پطرس)‏ کو جھڑکنا ضروری ہو گیا تھا __ اِس لئے بہت سے یہودی مسیحی پطرس کو رسولوں میں بڑا مانتے تھے (‏کلام کا یہ حصہ موثر طور سے اِس رائے کی تردید کرتا ہے کہ پطرس کلیسیا کا بے خطا لیڈر تھا)‏۔

۲:‏ ۱۲جب پطرس پہلے انطاکیہ میں آیا تو مسیحی آزادی کا پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ غیر قوم والوں کے ساتھ کھایا کرتا تھا۔یہودی روایت کے مطابق وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد یروشلیم سے یعقوب کی طرف سے چند شخصوں نے انطاکیہ کا دَورہ کیا۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ ہم یعقوب کے نمائندے ہیں۔ لیکن اُس نے اِس بات سے اِنکار کیا (‏اعمال ۱۵:‏ ۲۴)‏۔ غالباً وہ یہودی مسیحی تھے اور ابھی تک بعض شرعی رسموں کی پابندی کرتے تھے۔ وہ انطاکیہ آئے تو پطرس نے غیر قوم والوں کے ساتھ میل جول رکھنا چھوڑ دیا۔ اُسے ڈر تھا کہ میرے اِس برتائو یا کردار کی خبریں یروشلیم میں شریعت نواز طبقے کو پہنچیں گی۔ اِس حرکت سے وہ اِنجیل کی خوش خبری کی ایک عظیم سچائی کا اِنکار کر رہا تھا __کہ مسیح میں سارے ایمان دار ایک ہیں اور قومیت کے اِمتیازات رفاقت پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ فنڈلے کہتا ہے نامختونوں کے ساتھ کھانے سے اِنکار کر کے پطرس گویا تصدیق کر رہا تھا کہ اگرچہ وہ مسیح میں ایمان دار ہیں،‏ لیکن میرے نزدیک وہ کم قدر اور ناپاک،‏ ہیں اور ایمان کی راست بازی کی نسبت موسوی رسمیں زیادہ پاکیزگی بخشتی ہیں۔

۲:‏ ۱۳ برنباس سمیت باقی یہودیوں نے بھی پطرس کی پیروی کی۔ برنباس پولس کا قابلِ قدر ہم خدمت تھا۔ اِس حرکت کی نزاکت اور سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے پولس نے پوری دلیری سے پطرس کو ریاکاری کا مرتکب قرار دیا اور اُسے ملامت کی۔ آیات ۱۴-‏۲۱ میں اِس ملامت کا بیان درج ہے۔

۲:‏ ۱۴ مسیحی ہوتے ہوئے پطرس جانتا تھا کہ اب خدا قومی اِمتیازات کو نہیں مانتا۔ اِس لئے وہ (‏پطرس)‏ غیر قوم والوں کی طرح رہتا تھا اور اُن کے کھانے بھی کھاتا تھا۔ لیکن مندرجہ بالا وجہ (‏آیت ۱۲)‏کی بنا پر اُس نے غیر قوم والوں کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیا۔ اِس طرح گویا وہ ظاہر کر رہا تھا کہ پاکیزگی کے لئے یہودی آئین و ضوابط اور رسومات کی پابندی ضروری ہے۔ لہٰذا غیر قوم ایمان داروں کو یہودیوں کی طرح چلنا پڑے گا۔

۲:‏ ۱۵ یہاں پولس رسول طنز کر رہا ہے۔ کیا پطرس کے کردار سے اِس قائلیت کا اِظہار نہیں ہو رہا تھا کہ یہودی اعلیٰ اور برتر ہیں،‏ اور غیر قوموں کی حیثیت قابلِ تحقیر ہے؟ پطرس کو تو زیادہ خبر ہونی چاہئے تھی کیونکہ خدا نے غیر قوم کرنیلیُس کے ایمان لانے سے پطرس کو سکھایا تھا کہ کسی اِنسان کو حقیر اور ناپاک سمجھنا مناسب نہیں (‏اعمال باب ۱۰ اور ۱۱:‏ ۱-‏۱۸)‏۔

۲:‏ ۱۶ جو یہودی نجات پا چکے تھے وہ جانتے تھے کہ شریعت کے اعمال سے نجات نہیں ملتی۔ جو لوگ شریعت کو کامل طور سے پورا نہیں کر سکتے،‏ اُس کے احکام کی پوری پوری تعمیل کرنے میں ناکام رہتے ہیں،‏ شریعت اُن کو موت کی سزا دیتی ہے۔ چنانچہ سب اُس کی لعنت کے ماتحت ہیں،‏ کیونکہ سب نے اُس کے پاک احکام کو توڑا ہے۔ یہاں یہ حقیقت پیش کی گئی ہے کہ خداوند یسوع مسیح ہی وہ واحد وسیلۂ نجات ہے جس پر ایمان لانا ہے۔ پولس،‏ پطرس کو یاد دلاتا ہے کہ ہم یہودی بھی اِسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آدمی شریعت کے اعمال سے نہیں بلکہ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانے سے راست باز ٹھہرتا ہے۔ اب یہ کہاں کی دانائی ہے کہ پطرس غیر قوموں کو شریعت کے ماتحت لا رہا ہے؟ شریعت لوگوں کو یہ تو بتاتی ہے کہ کیا کرنا ہے،‏ مگر وہی کچھ کرنے کی توفیق نہیں دیتی۔ شریعت تو گناہ کو ظاہر کرنے کے لئے دی گئی وہ نجات نہیں دے سکتی۔

۲:‏ ۱۷ پولس،‏ پطرس اور دوسرے راست باز ٹھہرائے جانے کے لئے مسیح اور صرف مسیح پر ایمان لائے تھے۔ مگر انطاکیہ میں پطرس کے برتائو اور حرکتوں سے یوں ظاہر ہوتا تھا کہ وہ پورے طور پر راست باز نہیں ٹھہرا اور نجات کو کامل کرنے کے لئے اُسے دوبارہ شریعت کے ماتحت ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ بات ہے تو مسیح کافی اور کامل نجات دہندہ نہیں۔ اگر ہمیں گناہوں کی معافی کے لئے مسیح کے پاس جانا ہے،‏ مگر مزید کسی اَور جگہ بھی جانا ضروری ہے تو کیا مسیح گناہ کا باعث نہ ہوا،‏ کیونکہ وہ اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا؟ اِس لئے کہ اگر ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ راست باز ٹھہرنے کے لئے اِنحصار مسیح پر ہے،‏ اور پھر شریعت کی طرف رجوع کرتے ہیں (‏جو کہ ہمیں صرف گنہگار ٹھہراتی ہے)‏ تو کیا ہمارا کردار ایک مسیحی کا کردار ہے؟ کیا ہم اُمید کر سکتے ہیں کہ مسیح ایسے کردار پر قبولیت کی مُہر لگا دے گا حالانکہ ہم تو اُسے گناہ کا باعث ثابت کر رہے ہیں؟ پولس پورے زور سے جواب دیتا ہے کہ ہرگز نہیں۔

۲:‏ ۱۸ پطرس نے مسیح پر ایمان کی خاطر سارے شرعی نظام کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ جہاں خدا کی نظر میں مقبولیت کی بات ہو وہاں وہ یہودی اور غیر قوم میں ہر قسم کے اِمتیاز کو ردّ کرتا تھا۔ لیکن اب غیر قوم والوں کے ساتھ کھانے سے اِنکار کر کے وہ اپنے ڈھائے ہوئے کو دوبارہ بنا رہا تھا،‏ اور اِس طرح خود کو قصوروار ثابت کر رہا تھا۔ یا تو وہ مسیح کی خاطر شریعت کو چھوڑ دینے میں غلطی کر رہا تھا یا اب شریعت کی خاطر مسیح کو چھوڑ دینے میں غلطی کر رہا ہے!

۲:‏ ۱۹ شریعت کی حکم عدولی کی سزا موت ہے۔ بحیثیت گنہگار کے مَیں نے شریعت کو توڑا۔ اِس لئے شریعت نے مجھے موت کی سزا دی۔ لیکن مسیح نے میرے عوض مرکر شریعت کو توڑنے کی سزا ادا کر دی۔ اِس طرح جب مسیح موأ تو مَیں مر گیا۔ وہ شریعت کے اعتبار سے اِس مفہوم میں مر گیا کہ اُس نے شریعت کے سارے جائز مطالبات کو پورا کر دیا۔ چنانچہ مسیح میں مَیں بھی شریعت کے اعتبار سے مر گیا۔

مسیحی «شریعت کے اعتبار سے مر گیا» ہے۔ اب شریعت کے ساتھ اُس کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ تو کیا اِس کا مطلب ہے کہ مسیحی کو حسب ِخواہش دس حکم توڑنے کی آزادی ہے؟ نہیں۔ وہ پاک زندگی گزارتا ہے۔ شریعت کے ڈر سے نہیں بلکہ اُس ہستی کی محبت کی خاطر جس نے اُس کی خاطر اپنی جان دی۔ جو مسیحی شریعت کے ماتحت ہونا چاہتے ہیں،‏ اُن کو معلوم نہیں کہ اِس طرح وہ لعنت کے ماتحت آ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اگر وہ شریعت کی ایک بات کو پورا کرتے ہیں،‏ تو باقی ساری باتوںکے لئے بھی ذمہ دار اور جواب دہ ہوں گے۔ خدا کے اعتبار سے زندہ ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ شریعت کے اعتبار سے مر جائیں۔ شریعت ہرگز پاک زندگی پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ خدا کا اِرادہ بھی نہیں تھا کہ شریعت ایسا کرے۔ اُس کا پاکیزگی کا طریقہ آیت ۲۰ میں بیان ہوا ہے۔

۲:‏ ۲۰ ایمان دار موت میں مسیح کے ساتھ ایک ٹھہرتا ہے۔ نہ صرف مسیح کلوری پر مصلوب ہوا،‏ وہاں مَیں بھی __ اُس میں __ مصلوب ہوا۔ اِس کا مطلب ہے کہ خدا کی نظر میں بطور گنہگار میرا خاتمہ ہو گیا۔ اِس کا مطلب ہے کہ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے میرا خاتمہ ہو گیا جو نیک نامی کی تلاش کرتا پھرتا تھا یا اپنی کوشش سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتا پھرتا تھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ آدم کے فرزند کی حیثیت سے میرا خاتمہ ہو گیا۔ جو شخص شریعت کی لعنت کے ماتحت تھا وہ مر گیا۔ میری پرانی اور نئی پیدائش سے ناواقف ہستی ختم ہو گئی،‏ پرانا شریر مَیں مصلوب ہو گیا۔ اب اُس کا میری روزمرہ زندگی پر کوئی دعویٰ،‏ کوئی حق نہ رہا۔ خدا کے سامنے میری حیثیت کے لحاظ سے یہ بات سچ ہے اور اِس لئے میری روزمرہ زندگی کے لحاظ سے بھی سچ ہونی چاہئے۔

ایمان دار کا ایک شخصیت یا ایک فرد کے طور پر زندہ رہنا ختم نہیں ہو جاتا۔ لیکن اب جو زندہ ہے وہ خدا کی نظر میں وہ نہیں جو مر گیا تھا۔ اب مَیں زندہ نہ رہا،‏ بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے۔ نجات دہندہ میری خاطر اِس لئے نہیں موأ کہ مَیں جیسے چاہوں ویسے زندگی بسر کرتا رہوں،‏ وہ اِس لئے موأ کہ اب سے وہ مجھ میں اپنی زندگی بسر کر سکے۔ اور مَیں جو اب جسم میں زندگی گزارتا ہوں تو خدا کے بیٹے پر ایمان لانے سے گزارتا ہوں۔ ایمان کا مطلب ہے خدا پر یقین یا بھروسا یا اِنحصار۔ ایک مسیحی مسیح پر مسلسل اِنحصار کرتے ہوئے زندگی گزارتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اُس کے سپرد کر دیتا ہے۔ وہ مسیح کو اپنے اندر اپنی زندگی گزارنے دیتا ہے۔

چنانچہ ایک مسیحی کا اُصولِ زندگی شریعت نہیں بلکہ مسیح یسوع ہوتا ہے۔ اب معاملہ دوڑ دھوپ اور کوشش کا نہیں بلکہ ایمان کا ہوتا ہے۔ وہ پاک زندگی سزا کے ڈر اور خوف کی وجہ سے نہیں گزارتا بلکہ خدا کے بیٹے کی محبت کی خاطر «جس نے مجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میرے لئے موت کے حوالے کر دیا»۔

کیا آپ نے کبھی یہ دعا کرتے ہوئے اپنی زندگی خداوند یسوع کے سپرد کی ہے کہ آپ کے جسم میں اُس کی زندگی ظاہر ہو۔

۲:‏ ۲۱«خدا کا فضل» اِس میں ہے کہ اُس نے غیر مشروط طور پر نجات کی بخشش عطا کر دی۔ جب اِنسان اِسے کمانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اِس بخشش کو بے کار یا عبث کر دیتا ہے۔ کیونکہ اگر اِنسان اِس کا حق دار ہو،‏ اِس کے لائق ہو،‏ یا اِسے کما سکے تو پھر یہ فضل نہیں رہتا۔ پولس پطرس کو جو آخری زور دار دلیل دیتا ہے وہ بے حد موثر ہے۔ اگر پطرس یہودی رسومات کی پیروی اور پابندی سے خدا کے حضور مقبولیت حاصل کر سکتا تو «مسیح کا مرنا عبث ہوتا»۔ گویا مسیح نے اپنی زندگی یونہی پھینک دی۔ مسیح اِس لئے موأ کہ اِنسان کسی اَور طریقے سے راست بازی حاصل نہیں کر سکتا تھا __ شریعت کی پابندی سے بھی نہیں۔

کلائو(‏Clow)‏ کہتا ہے:‏

«سب سے بڑی بدعت جو کلیسیائوں کو بگاڑ کر رکھ دیتی ہے،‏ جو عقائد میں بے وقوفی کا خمیر لگا دیتی ہے،‏ جو ہمارے اِنسانی دلوں کو فخر اور گھمنڈ سے موٹا کر دیتی ہے،‏ یہ ہے کہ ’ نجات اعمال سے ہے‘ ۔ جان رسکن (‏John Ruskin)‏ رقم طراز ہے کہ ’ میرا ایمان ہے کہ ہر وہ رخنہ اور ہر وہ بدعت جس نے مسیحی کلیسیا کو نقصان پہنچایا ہے وہ یہی کوشش ہے کہ نجات کو قبول کرنے کے بجائے اِسے کمایا جائے۔ اور ہماری منادی کے اِتنے غیر موثر ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اکثر اوقات یہ کوشش آدمیوں کو کہتی ہے کہ خدا کے لئے کام (‏اعمال)‏ کرو،‏ یہ نہیں کہتی کہ خدا کو اِنسان کے لئے کام کرتے ہوئے دیکھو۔‘ »